Ayah 34:1441 حضرت سلیمن (علیہ السلام) کی وفات کا قصہ اور ایک عبرت انگیز درس : روایات کے مطابق جب حضرت سلیمٰن (علیہ السلام) کی موت کا وقت قریب آیا تو آپ نے یہ چاہا کہ کسی طرح جنوں کو آپ کی موت کا علم نہ ہونے پائے تاکہ تعمیر بیت المقدس وغیرہ کے جن عظیم الشان کاموں میں ان کو لگایا گیا تھا ان کی تکمیل ہوجائے۔ اور جن سرکشی کر کے آپ (علیہ السلام) کے بعد ان کو چھوڑ نہ دیں۔ اس کے لئے آپ ایک لاٹھی کے سہارے اپنے عبادت خانے میں کھڑے ہوگئے اور اسی دوران آپ (علیہ السلام) کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔ شیشے کے اس مکان میں جہاں آپ (علیہ السلام) تشریف فرما تھے، باہر سے دیکھنے سے یونہی معلوم ہوتا تھا کہ آپ (علیہ السلام) عبادت میں مصروف ہیں۔ کسی کو قریب جا کر پوچھنے اور معلوم کرنے کی ہمت نہ تھی۔ کیونکہ قدرتی رعب کے علاوہ یوں بھی آپ (علیہ السلام) کا معمول عام طور پر یہ ہوتا تھا کہ آپ (علیہ السلام) مہینوں مہینوں عبادت کے لئے اپنے خلوت خانوں میں مشغول رہتے تھے۔ اس لئے جن آپ کو زندہ سمجھتے ہوئے برابر کام میں لگے رہے۔ یہاں تک کہ جب ادھر کام مکمل ہوگیا اور ادھر حضرت سلیمٰن کی لاٹھی جس کو دیمک نے کھالیا تھا ٹوٹ گئی اور حضرت سلیمٰن گرپڑے، تب جنوں کو آپ (علیہ السلام) کی موت کا علم ہوا۔ اور دیمک کے لاٹھی کو کھانے کا اندازہ جو لگایا گیا تو معلوم ہوا کہ حضرت سلیمٰن کو فوت ہوئے ایک سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ لوگ جنوں کو غیب دان سمجھتے تھے جیسا کہ آج بھی بہت سے لوگ ایسا سمجھتے ہیں جس سے جنوں کی سرکشی اور بڑھ گئی تھی اور وہ خود بھی اپنی غیب دانی کے زعم میں مبتلا ہوگئے تھے۔ جیسا کہ سورة جن میں فرمایا گیا ۔ { فَزَادَہُمْ رَہَقًا } ۔ مگر اس واقعہ سے ان کی غیب دانی کی قلعی کھل گئی۔ اسی بات کو یہاں پر۔ { تَبَیَّنَتِ الْجِنُّ } ۔ سے بیان فرمایا گیا ہے جس کے معنیٰ خوب کھل جانے اور واضح ہونے کے ہیں۔ مراد یہ ہے کہ جنوں کی حقیقت کھل گئی کہ اگر وہ غیب جانتے ہوتے تو اس طرح ذلت کے ساتھ اتنا عرصہ کام میں نہ لگے رہتے۔ (روح، مدارک، معارف، جواہر، قرطبی اور کبیر وغیرہ وغیرہ) ۔ سو اس طرح حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی وفات کے اس قصے سے ایک بڑا عبرت انگیز درس دیا گیا اور واضح فرما دیا گیا کہ جن غیب نہیں جانتے لیکن اس کے باوجود آج بھی کتنی ہی دنیا ہے جو جنوں کی غیب دانی کی قائل ہے ۔ اللہ تعالیٰ فکر و نظر کے ہر زیغ و انحراف سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 34:1542 قوم سبا کی داستان عبرت کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا " بلاشبہ قوم سبا کیلئے ان کے اپنے وطن میں ایک بڑی نشانی تھی "۔ نشانی اس پر کہ کس طرح انہوں نے اتنا عرصہ عروج پایا اور پھر کس طرح اس قدر زوال سے ہمکنار ہوئے۔ قدرت نے ان کو کس طرح نوازا۔ پھر ان کی ناشکری کی بنا پر کس طرح ان کی گرفت فرمائی۔ سو یہ حضرت داؤد و سلیمان جیسے شکر گزاروں کے مقابلے میں منکرین و کافرین کا نمونہ پیش فرمایا جا رہا ہے تاکہ پتہ چل سکے کہ جس طرح شکر وانابت سے انسان کا اپنا ہی فائدہ ہے کہ اس سے اللہ پاک کی بخشی ہوئی نعمتوں میں اضافہ و دوام نصیب ہوتا ہے۔ اسی طرح کفر و انکار کا وبال و نقصان بھی خود اسے ہی پہنچتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ { مَنْ شَکَرَ فَاِنَّمَا یَشْکُر لِنَفْسِہ وَمَنْ کَفَرَ فان رَبِّیْ غَنِیٌّ کَرِیْمٌ } ۔ (النمل : 40) ۔ قوم سبا عرب کی ایک قدیم دولت مند اور شہرئہ آفاق قوم تھی جو یمن کے علاقے میں آباد تھی۔ اور یہ اپنے ایک دادا سبا بن تشجب بن قحطان کی طرح منسوب ہے۔ جیسا کہ امام احمد، ترمذی، اور ابن جریر وغیرہ نے آنحضرت ۔ ﷺ ۔ سے روایت نقل فرمائی ہے۔ ان لوگوں کا مرکز مآرب تھا جو یمن کے موجودہ دارالحکومت صنعاء سے کوئی ساٹھ میل مشرق کی جانب واقع ہے جس کے کھنڈرات آج بھی اس قوم کی عظمت اور اس کے تمدن اور اس کی داستان عبرت کا پتہ دے رہے ہیں۔ پہلے تو یہ ایک مشرک قوم تھی لیکن جب اس کی ملکہ ۔ بلقیس ۔ نے حضرت سلیمٰن کے ہاتھ پر اسلام قبول کرلیا تو اس قوم کی غالب اکثریت بھی مسلمان ہوگئی۔ لیکن بعد میں خدا جانے کب اور کس طرح ان میں شرک و بت پرستی کی مہلک بیماری عود کر آئی اور اس پوری قوم پر چھا گئی۔ اور انہوں نے مختلف قسم کے بت بنا کر ان کی پوجا پاٹ شروع کردی۔ اس قوم کا دور عروج گیارہ سو قبل مسیح سے لے کر 300 ء تک کوئی ڈیڑھ ہزار برس پر پھیلا ہوا ہے۔ اس کی ترقی و دولت مندی اور عروج و عیش پرستی کے بارے میں اسڑابو، پلینی اور آرٹی میڈورس وغیرہ جیسے قدیم مغربی مورخین نے جو کچھ لکھا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ علاقہ سرسبز و شاداب باغوں، لہلہاتی کھیتیوں اور قسما قسم کے مویشیوں سے اٹا پڑا تھا۔ یہ لوگ سونے اور چاندی کے برتن استعمال کرتے، مکانوں کی چھتوں، دیواروں اور دروازوں تک میں ہاتھی دانت اور سونے چاندی کے علاوہ جواہرات استعمال کرتے تھے، جلانے کے لئے عام لکڑی کی بجائے دار چینی، صندل اور دوسری خوشبو دار لکڑیاں استعمال کرتے۔ ان کے سواحل کے قریب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں تک کو خوشبو کی لہریں پہنچتی تھیں اور اسی قوم نے تاریخ میں پہلی مرتبہ صفا کے بلند پہاڑی مقام پر " قصر غمدان " کے نام سے وہ فلک بوس عمارت ۔ Sky Scraper۔ تیار کی جو صدیوں تک اس کی عظمت کا پتہ دیتی رہی۔ جس کی مورخین کے بیان کے مطابق بیس منزلیں تھیں اور ہر منزل چھتیس فٹ بلند تھی۔ اس قوم کی ترقی و عروج کے بنیادی طور پر دو بڑے سبب تھے۔ ایک زراعت جس کے لئے انہوں نے ایک عظیم الشان بند تعمیر کر کے آبپاشی کا ایک بہترین نظام قائم کر رکھا تھا اور پورا ملک جو کہ کم و بیش کوئی تین سو میل کے علاقہ میں پھیلا ہوا تھا سرسبز و شاداب تھا۔ اور دوسرا بڑا سبب تھا تجارت۔ کیونکہ قدرت نے ان کو جغرافیائی طور پر ایک ایسا محلِّ و قوع عطا فرما رکھا تھا جس سے مشرق و مغرب کی تجارت پر ان کی گویا مکمل اجارہ داری قائم تھی۔ بحر احمر اور مضیق باب المندب کے سواحل پر آباد ہونے کی وجہ سے ایک طرف تو یہ لوگ اپنے ملک کے اندر پیدا ہونے والی قیمتی اشیائ، جیسے لوبان، عود، عنبر، مشک، مر اور قرفہ وغیرہ مصر، شام اور روم و یونان وغیرہ کو بیچتے۔ اور دوسری طرف چین کا ریشم، انڈونیشا و ملیشا وغیرہ کے گرم مسالے، ہندوستان کے کپڑے اور تلواریں، مشرقی افریقہ کے زنگی غلام، بندر، شتر مرغ کے پر اور ہاتھی دانت وغیرہ سامان خریدتے۔ ان کو مصر و شام کی منڈیوں تک پہنچاتے جہاں سے یہ سامان روم و یونان وغیرہ کو سپلائی کیا جاتا۔ اور بحیرئہ احمر (Red Sea) کے بحری راستے کے علاوہ بری راستے پر بھی انہی لوگوں کا قبضہ تھا جو کہ عدن و حضرموت سے مآرب میں جا کر ملتا اور وہاں سے ایک شاہراہ مکہ، جدہ، یثرب، تبوک اور ایلہ سے گزرتی ہوئی پیڑا تک پہنچتی تھی اور کم و بیش دو ہزار میل کے اس پورے راستے پر جگہ جگہ ایسی بستیاں آباد تھیں جن میں یہ لوگ دوران سفر آرام کرتے اور فائدہ اٹھاتے۔ اس طرح اپنی تجارت کے لئے یہ لوگ بحری اور بری دونوں راستوں سے بھرپور طریقے سے بہرہ ور اور لطف اندوز ہوتے۔ مگر یہ سب کچھ اسی وقت تک تھا جب تک کہ فضل خداوندی ان کے شامل حال تھا۔ اور جب تک کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے ان کو اس طرح رکھنا منظور تھا۔ اور جب تک کہ وہ لوگ کفران نعمت کے مرتکب نہیں ہوتے تھے۔ مگر جب انہوں نے کفران نعمت سے کام لینا شروع کیا تو اول اول ان کو چھوٹ ملی رہی۔ جیسا کہ سنت الٰہی اور دستور خداوندی کا تقاضا ہے۔ لیکن جب یہ لوگ شرک میں بری طرح مبتلا ہوگئے، گناہوں کی دلدل میں پھنس گئے، اپنے خالق ومالک اور خدائے منعم و وہاب کو بھول گئے اور روایات کے مطابق ان میں تیرہ ایسے بندگان خدا بھیجے گئے جنہوں نے ان کو توحید خداوندی کا بھولا بسرا سبق پھر یاد دلایا تو انہوں نے کفر و انکار سے کام لیا۔ سنی ان سنی کردی اور یہ لوگ شرک اور بت پرستی میں بڑھتے ہی چلے گئے۔ یہاں تک کہ فضل و عنایت خداوندی نے ان سے منہ موڑ لیا۔ نقبت و ادبار کی گھٹائیں ان پر چھا گئیں اور بالآخر وہی بند جو ان کی شادابی و خوشحالی کا ذریعہ تھا ٹوٹ کر ان کے لئے تباہی کا باعث بن گیا اور انکا سب کچھ خاک میں مل گیا۔ قیمتی باغوں اور تجارتی راستوں پر پہلے یونانیوں اور پھر رومیوں اور حبشیوں نے مل کر قبضہ کرلیا یہاں تک کہ تاریخ کی یہ اپنے دور کی سب سے بڑی ترقی یافتہ، دولت مند اور متمدن قوم کم و بیش ڈیڑھ ہزار برس تک اپنی عظمتوں کے ڈنکے بجانے کے بعد اس طرح تتر بتر ہوگئی اور قصہ پارینہ بن کر رہ گئی کہ افسانوں کہانیوں کے سوا ان کا کوئی وجود باقی نہ رہا۔ ۔ فصدق اللہ تعالیٰ القائل ۔ { فَجَعَلْنٰہُمْ اَحَادِیْثَ وَ مَزَقّْنَاہُمْ کُلَّ مُمَزَّقٍ } ۔ یہاں تک کہ یہ قوم تفرق و انتشار کے لئے ضرب المثل بن گئی۔ چناچہ عرب کہتے ہی " تَفَرَّقُوْا اَیَادِیْ سَبَا " یعنی " فلاں قوم کے لوگ اس طرح منتشر ہوگئے جس طرح قوم سبا کے ناز پروردہ لوگ منتشر ہوئے تھے "۔ سو یہ ہوتا ہے مآل و انجام کفر و شرک اور اپنے خالق ومالک سے بغاوت و سرکشی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس کفر و معاصی اور بغاوت و سرکشی پر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے ملنے والی ڈھیل پر کبھی مست اور مگن نہیں ہونا چاہیئے بلکہ ہمیشہ اسی کی طرف رجوع رہنا چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
43 قوم سبا کے باغوں کی عظمت شان کا ذکر : سو اس بارے ارشاد فرمایا گیا کہ دو رویہ باغ تھے دائیں اور بائیں۔ یعنی { جنتان } سے یہاں پر مراد صرف دو باغ نہیں بلکہ دو رویہ باغوں کی وہ کثرت وبہتات ہے جو اس ملک میں کسی بھی جگہ کھڑے ہونے والے شخص کو اپنے دائیں بائیں ہر طرف نظر آتی تھی۔ روایات کے مطابق اس کے پھلوں کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ اگر ایک عورت خالی ٹوکرا اپنے سر پر رکھ کر ان باغوں کے نیچے سے گزرتی تو وہ ٹوکرا خود گرنے والے پھلوں سے ازخود بھر جاتا۔ بہرکیف { جنتان } سے مراد یہاں پر دو باغ نہیں بلکہ یہ کنایہ ہے کثرت اور بہتات سے کہ وہاں ہر طرف باغ ہی باغ تھے۔ (روح، ابن کثیر، حاشیہ بیضاوی : ج 3 ص 85، صفوۃ ج 2 ص 55 وغیرہ) ۔ سو یہ اس نشانی کی وضاحت ہے جو ان کیلئے انکے اپنے ملک کے اندر پائی جاتی تھی۔ دائیں اور بائیں دونوں طرف باغ کی دو رویہ قطاریں تھیں۔ سو ان لوگوں کیلئے انکے علاقے میں خدا تعالیٰ کی رحمت و ربوبیت، فضل و کرم اور انعام و احسان کی بہت بڑی نشانی موجود تھی لیکن انہوں نے اس کی قدر نہیں کی۔ شکرگزاری کی بجائے ناشکری سے کام لیا اور جو سبق انکو حاصل کرنا چاہیئے تھا وہ انہوں نے حاصل نہیں کیا۔ یہاں تک کہ یہ اپنے ہولناک اور عبرتناک انجام سے دوچار ہو کر رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہی نتیجہ و انجام ہوتا ہے ان لوگوں کا جو نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر اندھے اور بہرے بن جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف { جنتان } کا لفظ یہاں پر تثنیہ کے معنیٰ میں نہیں تکثیر کے معنی میں ہے۔ اور عربی زبان میں تثنیہ کا استعمال تکثیر کے معنی میں بہت پایا جاتا ہے جیسا کہ ۔ { فَارْجِعِ الْبَصَرَ کَرَّتَیْنِ } ۔ میں موجود ہے۔ اور آج بھی عرب لوگ آپس کی ملاقاتوں میں " مرحبتین " کا لفط اسی مفہوم میں استعمال کرتے ہیں اور اس قوم کے خود اپنے اندر پائی جانے والی اس عظیم الشان نشانی سے ان کو جو درس عبرت و بصیرت ملتا تھا اس کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ۔ { کُلُوْا مِنْ رِزْقِ رَبِّکُمْ وَاشْکُرُوْا لَہ } ۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے عظیم الشان فضل و کرم سے ملنے والی یہ عظیم الشان رحمت و رفاہیت اپنی زبان حال سے ان کو یہ درس دے رہی تھی کہ اپنے رب کی رحمت و عنایت سے بچھے ہوئے اس عظیم الشان خوان کرم سے فائدہ اٹھاؤ اور اس واہب مطلق کا دل و جان سے شکر ادا کرو۔
44 قوم سبا کی زمین کی خوبی اور عمدگی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا ۔ { بَلَدَۃٌ طَیِّبَۃٌ } ۔ یعنی پاکیزہ اور شاداب سرزمین آب و ہوا کے لحاظ سے ایسا پاکیزہ اور اس قدر صاف ستھرا کہ روایات کے مطابق اس میں جوں اور کھٹمل وغیرہ جیسی کوئی موذی چیز بھی موجود نہ تھی " کان اَرْخَصَ البلدان وَاَطْیَبَہَا فی الہواء ولم یکن فیہا ذباب و لا شیء من الہوام "۔ (جامع البیان : ج 2 ص 178) ۔ بلکہ بعض دوسری روایات کے مطابق اگر باہر سے آنے والے کسی شخص کے جسم میں کوئی جوں وغیرہ ہوتی تو وہ بھی وہاں پہنچ کر ختم ہوجاتی۔ (ابن کثیر، روح، مدارک، خازن وغیرہ) ۔ سبحان اللہ ! ۔ کیا کہنے اس ربِّ غفور کی بخشش و عطا اور رحمت و عنایت کے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اپنے بندوں کو وہ کس کس طرح سے نوازتا اور کیسی کیسی رحمتوں اور عنایتوں سے سرفراز فرماتا ہے۔ مگر کس قدر ناشکرا اور ناسپاس ہے یہ انسان جو اس واہب مطلق ۔ عز و جل ۔ سے منہ موڑتا اور دوسروں کے آگے جھکتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پھر یہاں پر اس کی اس بخشش و عطا کا یہ پہلو بھی ملاحظہ ہو کہ آج کے ہمارے اس دور میں مادی اور دنیوی ترقی کے ہزار دعو وں کے باوجود حال یہ ہے کہ کسی بڑے عمدہ اور پر فضا باغ میں لوگ محض سیر و تفریح کے لئے چلے جانے اور کچھ دیر وہاں رہنے اور رکنے کو بھی بڑی چیز سمجھتے ہیں مگر ان لوگوں کی تو رہائش اور سکونت اور بود و باش ہی ایسے عظیم الشان باغوں اور پرفضا ماحول میں تھی جو کہ ان پر قدرت کا خاص انعام واحسان تھا۔
45 رب کی مغفرت و بخشش کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ زمین پاکیزہ اور رب ہے بخشنے والا۔ ایسا غفور اور اس قدر بخشش فرمانے والا کہ اس کی مغفرت و بخشش کا کوئی ٹھکانا اور کنارہ نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس تم لوگ سیدھے راستے پر چلتے اور اس کا شکر ادا کرتے رہو تو وہ تمہیں دنیا کی ان نعمتوں کے ساتھ ساتھ آخرت کی دائمی اور ابدی نعمتوں سے بھی نوازے گا۔ اور اگر کبھی بتقاضائے بشریت کوئی گناہ و خطا ہو بھی جائے تو سچی توبہ کرنے پر وہ اس کو بالکل معاف فرما دے گا کہ وہ غفور اور بڑا ہی بخشنہار ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو " بلدۃ طیبۃ " اور " رب غفور " کے ان دونوں کلمات کریمہ کے اقتران سے دراصل یہ درس عظیم دیا گیا ہے کہ اگر یہ لوگ کھلی آنکھوں سے اپنے اس ملک کو دیکھتے اور اس وسیع خوان کرم پر پھیلی بکھری ان عظیم الشان نعمتوں کے بارے میں غور کرتے تو یہ سوچتے کہ یہ کس کے کرم کا نتیجہ وثمرہ ہے کہ اس نے ان طرح طرح کی عظیم الشان نعمتوں کو اس بےمثال سلیقے و قرینے اور اس قدر بہتات و کثرت سے ہمارے لیے چن دیا۔ اور وہ کیسا کریم اور ستار و غفور ہے جس نے بلا کسی استحقاق کے اور ہماری ناقدریوں اور ناشکریوں کے باوجود ہمارے لیے ان نعمتوں کے اس طرح انبار لگا دیئے۔ اور اس کا کیا حق بنتا ہے ہم پر ؟ سو نعمت پاکر شکر خداوندی کے شعور کا پیدا ہونا انسانی فطرت کا ایک بدیہی تقاضا ہے۔ اور یہ چیز حیوانات کی جبلت میں بھی داخل ہے۔ اگر کوئی انسان اس شعور سے عاری ہے تو وہ حیوانات سے بھی بدتر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 34:16–1746 بدبخت قوم کی ناشکری کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ اس ناشکری اور بدبخت قوم نے شکر کی بجائے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بےقدری اور نا شکری کا ارتکاب ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر بھی ان لوگوں نے سرتابی ہی سے کام لیا اور اپنے خالق ومالک کی بخشی ہوئی نعمتوں کی بےقدری اور نا شکری کا ارتکاب کیا "۔ سو انہوں نے اپنے رب وحدہ لاشریک کی عبادت و بندگی کی بجائے انہوں ٖ نے شرک کو اپنایا۔ اس کی نعمتوں پر شکر کرنے کی بجائے کفر و ناشکری سے کام لیا۔ اور وہب کی روایت کے مطابق ان لوگوں نے ان تیرہ انبیائے کرام کی تکذیب کی جو ان کی طرف بھیجے گئے تھے۔ (حاشیہ جامع البیان : ج 2 ص 178) ۔ سو اس طرح انہوں نے اپنے آپ کو عذاب کا مستحق بنادیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انہوں نے اللہ پاک کی نعمتوں پر اس کا شکر ادا کرنے کی بجائے اس کی ناشکری کا ارتکاب کیا اور وہ انابت و رجوع الی اللہ کی بجائے تمردو سرکشی اور طغیان و فساد میں مبتلا ہوگئے۔ اور اس کے نتیجے میں وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے اور ہمیشہ کیلئے داستان عبرت اور قصہ پارینہ بن گئے ۔ والعیاذ باللہ الذی لا الہ الا ہو جل وعلا ۔ سو انکار و تکذیبِ حق اور تمردو سرکشی کا نتیجہ وانجام بڑا ہی ہولناک اور عبرتناک ہوتا ہے۔ لیکن ایسے لوگوں کو جو ڈھیل ملی ہوتی ہے اس سے یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں، یہاں تک کہ وہ اپنے آخری اور ہولناک انجام کو پہنچ کر رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
47 کفران نعمت باعث نکالو عذاب ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر و انکار کے نتیجے میں نعمت نقمت اور باعث عذاب بن جاتی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس کے نتیجے میں ہم نے چھوڑ دیا ان پر سیلاب اس بند کا " یعنی ان کے اسی بند کا جو کہ ان کے ملک کے لئے سرسبزی و شادابی کا ذریعہ تھا۔ سو معلوم ہوا کہ کفران نعمت پر اپنی راحت کا سامان بھی انسان کیلئے عذاب کا باعث بن جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ ہم آئے دن یہاں اور وہاں ہر طرف دیکھتے ہیں کہ عمدہ گاڑی خریدی مگر اگلے ہی قدم پر وہ موت کا پیغام بن گئی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بڑی کوشش اور چاہت سے مکان بنایا مگر وہی موت کا ذریعہ بن گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ ٹرین اور ہوئی جہاز کی آرام دہ سواریوں میں بیٹھے مگر آگے چل کر لقمہ اجل بن گئے وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ سو کسی نعمت سے فائدہ اٹھانا اور اس سے مستفید اور لطف اندوز ہونا بھی اللہ پاک ہی کی توفیق و عنایت پر موقوف ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لئے بندے کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ اور ہر موقع پر اللہ پاک کی طرف جھکا ہوا اور اسی کی طرف متوجہ رہے اور اس سے ہمیشہ خیر اور بہتری ہی کا طلب گار اور دعا گو رہے۔ " عرم " کے لفظ کے بارے میں اہل لغت کے دو قول ہیں۔ ایک معنیٰ اس کے اہل لغت نے زوردار بارش کے لکھے ہیں۔ اور بعض نے کہا کہ یہ " عرمہ " کی جمع ہے جسکے معنیٰ تہ بہ تہ اکھٹے کیے ہوئے پتھروں کے آتے ہیں۔ پھر یہیں سے یہ لفظ اس سد یا بند کیلئے استعمال ہونے لگا جو کسی وادی کے درمیان پانی کو روکنے کیلئے بنایا جاتا ہے۔ سو جس طرح ہمارے یہاں منگلا اور تربیلا کے نام سے دو بڑے بند پائے جاتے ہیں اسی طرح ان لوگوں کے یہاں اسطرح کا ایک بڑا عظیم الشان بند پایا جاتا تھا۔ تاریخوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اہل سبا کا یہ بند کئی میل لمبا چوڑا تھا جو ان کی سیلاب کے خطرات سے بھی حفاظت کرتا تھا اور اس سے ان لوگوں کی آبپاشی کیلئے بھی بقدر ضرورت پانی حاصل ہوتا تھا جس سے ان کی زرعی ضرورتیں پوری ہوتی تھیں۔ اور تاریخوں میں اسکا ذکر سدِّ مآرب کے نام سے آتا ہے۔ اور مآرب قوم سبا کا دار الحکومت تھا۔ سو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت و عنایت سے ان لوگوں کو ان عظیم الشان نعمتوں اور عنایتوں سے نوازا تھا اور وہ ایک عرصہ دراز تک ان سے مستفید و فیضیاب ہوتے رہے۔ لیکن جب وہ ان نعمتوں کو پا کر اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بننے اور اس کے آگے جھکنے اور سرِنیاز و تسلیم خم کرنے کی بجائے طغیان و فساد اور عناد و سرکشی میں مبتلا ہوگئے تو دستور خداوندی کے مطابق ان کو جو ڈھیل ملنا تھی وہ پوری ہوگئی تو آخرکار ان کو انکے اپنے کیے کرائے کے انجام میں دھر لیا گیا اور قدرت کی بخشی ہوئی نعمتیں ان کے لیے ذریعہ عذاب اور باعث نکالو وبال بن گئیں۔ اور وہ بدبخت لوگ اپنے ہمیشہ کے ہولناک انجام کو پہنچکر رہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 34:1848 " قُرٰی مبارکہ " سے مقصود و مراد ؟ : مراد ہیں شام کی وہ بستیاں جن کو قرآن پاک میں کئی جگہ مبارک اور مقدس وغیرہ الفاظ سے ذکر فرمایا گیا ہے کہ ان کو اللہ پاک نے ظاہری و باطنی طرح طرح کی نعمتوں اور برکتوں سے مالا مال فرمایا تھا۔ مگر واضح رہے کہ ایسے مواقع پر شام سے مراد آج کا وہ شام نہیں ہوتا جسے آج کل " سوریا " یا " سیریا " کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بلکہ اس مراد ازمنہ سابقہ کا وہ شام ہے جو موجودہ سوریا، فلسطین اور اردن وغیرہ کے سب ہی علاقوں کو شامل تھا۔ سو اہل سبا کے شام وغیرہ کے ان لوگوں سے تجارتی تعلقات تھے اور ایسے زرخیز علاقوں سے ان لوگوں کے تجارتی تعلقات ان کیلئے مزید رفاہیت کا باعث تھے۔ اور " قری ظاہرہ " سے وہ شہر اور قصبات مراد ہیں جو ان لوگوں کے اس بلدہ طیبہ سے لے کر شام و فلسطین کی اس مبارک سرزمین تک کی اس طویل شاہراہ کے کناروں پر واقع تھے۔ اور وہ ان لوگوں کے لیے منزلوں کا کام دیتے تھے اور یہ ان میں بےخوف و خطر ٹھہرتے، آرام کرتے اور تازہ دم ہو کر آگے کے سفر کو نکلتے تھے۔ اس طرح اپنے اس سفر سے یہ لوگ طرح طرح کے تجارتی فوائد و منافع بھی حاصل کرتے اور سیر و تفریح اور پکنک سے بھی لطف اندوز ہوتے۔ اور اس طرح یہ لطف بالائے لطف سے بھی مستفید و فیضیاب ہوتے مگر پھر بھی غفلت اور ناشکری کا ارتکاب کرتے۔ جیسا کہ غافل اور خرمست دنیا کا آج بھی یہی حال ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
49 قوم سبا کی ایک خاص سفری سہولت کا ذکر وبیان : سو اس سے قوم سبا کے سفر کے لیے ایک خاص سفری سہولت یعنی مختلف منزلوں کے درمیان مناسب فاصلوں کی تعیین کی نعمت کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور انکے درمیان کی مسافتیں بھی ہم نے ایک مناسب انداز سے رکھی تھیں "۔ تاکہ وہ لوگ اپنی ضروریات کے مطابق ان میں آرام کرسکیں اور سفر کی تھکان وغیرہ کا ازالہ کرسکیں۔ یہاں پر ذرا رک کر خود اپنے بارے میں بھی سوچئے کہ ایسی نعمتیں آج ہمیں بھی اپنے بحری، بری اور ہوائی سفروں میں کس کس طرح حاصل اور میسر ہیں۔ چناچہ دبی سے ابو ظہی، العین یا مکہ و مدینہ تک کہیں بھی جاتے ہوئے یا وہاں سے واپس آتے ہوئے آپ کو جگہ جگہ عمدہ قسم کے ہوٹل ملیں گے جو ان راستوں پر دونوں طرف نہایت مناسب مسافتوں پر واقع ہیں جہاں کھانے پینے کی ہر شئی میسر ہے۔ بہترین پختہ اور کشادہ سڑکوں پر شاہراہوں کے دونوں طرف عمدہ صاف ستھری ائیرکنڈیشن والی مسجدیں دستیاب، وضو وغیرہ ضروریات کے لئے بہترین انتظامات موجود، ائیرکنڈیشند گاڑیوں کی سہولت میسر، ہر طرح کا امن وامان اور سکون و اطمینان، خود اپنے ملک میں آپ ایک کونے سے دوسرے کونے تک جہاں بھی جائیں اس طرح کی تمام ضرورتیں اور سہولتیں حاصل و میسر۔ ہوائی سفر میں تو انسان گویا ہاتھ کی ہتھیلی پر بیٹھا ہوا کے دوش پر محو سفر ہوتا ہے اور ہر طرح کا آرام اس کو حاصل و میسر ہوتا ہے مگر کتنے ایسے خوش نصیب ہوں گے جن کو اپنے ان سفروں کے دوران حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی ان نعمتوں کی قدر دانی اور ان کے شکر کی توفیق وسعادت نصیب ہوتی ہوگی۔ بلکہ اس کے برعکس ان سفروں کے دوران طرح طرح سے ذنوب و معاصی کا ارتکاب کیا جاتا ہے۔ شراب نوشیاں اور دوسری طرح طرح کی خرمستیاں کی جاتی ہیں۔ سو ناشکرے انسان کا حال کل کی طرح آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی ناشکری اور بےقدری سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
50 آسائشوں کا تقاضا ان کی زبان حال سے : سو ان عظیم الشان آسائشوں کے تقاضے کو ان کی زبان حال سے تعبیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " چلو تم لوگ ان میں رات اور دن امن و سکون کے ساتھ "۔ یعنی ان کے لئے امن و سکون اور راحت و آرام کا یہ سب سامان اس طرح مہیا کردیا گیا تھا کہ وہ دن و رات میں جب چاہیں ان میں سفر کرسکیں۔ نہ کوئی خوف نہ خطرہ نہ دقت نہ دشواری۔ اور نہ کسی طرح کی کوئی رکاوٹ و پریشانی۔ اور یہ نعمتیں ان کیلئے اس طرح چن دی گئی تھیں کہ گویا وہ اپنی زبان حال سے پکار پکار کر ان سے کہہ رہی تھیں کہ تم لوگ ان سے پورا پورا فائدہ اٹھا کر اپنے رب کا شکر ادا کرو جو کہ اس کا تم پر حق بھی ہے اور اسی میں خود تمہارا اپنا بھلا اور فائدہ بھی ہے۔ مگر انہوں نے اس کے برعکس اس کی ناشکری کی جس سے وہ لوگ بالآخر اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہاں پر یہ حقیقت بھی ملحوظ رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان تمام آسائشوں اور رفاہیتوں کو براہ راست اپنی طرف منسوب فرمایا ہے جس سے یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ اس دنیا میں انسان کو جو بھی فتوحات حاصل ہوتی ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم سے حاصل ہوتی ہیں، لیکن انسان انکو اپنی ناشکری کے باعث اپنی سعی و تدبیر کا کرشمہ سمجھنے لگتا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان نعمتوں اور آسائشوں کے تقاضے کی ان کی زبان حال سے تعبیر فرما دی گئی کہ قدرت نے یہ سارا اہتمام کر کے گویا ہر منزل پر یہ کتبہ لگا دیا کہ تمہاری خاطر ہم نے یہ اہتمام اس لیے کیا کہ تم لوگ راتوں میں بھی اور دنوں میں بھی بےخوف و خطر سفر کرسکو اور طرح طرح کی ان عظیم الشان نعمتوں اور آسائشوں سے متمتع و مستفید ہو سکو۔ جس کا طبعی تقاضا اور لازمی نتیجہ حضرت واہب مطلق ۔ جل و علا ۔ کا شکر بجا لانا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
Ayah 34:1951 ناشکروں کی بےانصافی اور ناشکری کا ذکر ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا " مگر ان لوگوں نے کہا اے ہمارے رب دوری ڈال دے ہمارے سفروں کے درمیان "۔ ضروری نہیں کہ یہ بات انہوں نے اپنی زبان قال سے کہی ہو، بلکہ وہ اپنی زبان حال سے ایسا کہہ رہے تھے۔ یعنی جب وہ لوگ اللہ پاک کی ان نعمتوں میں مست ہوگئے اور اترانے لگے تو گویا اپنی زبان حال سے انہوں نے یہ کہہ دیا کہ اے اللہ ! اپنی یہ نعمتیں ہم سے اٹھا لے کہ ہم ان کے اہل نہیں رہے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ انہوں نے اپنی زبان قال سے اور صراحت کے ساتھ بھی اس طرح کہا ہو جس طرح کہ بنی اسرائیل نے من وسلویٰ کی بجائے تھوم پیاز اور کھیرے ککڑی وغیرہ کی درخواست کردی تھی۔ اسی طرح ان لوگوں نے بھی ایسے کہا ہو۔ اور یہ اس لئے بھی قرین قیاس ہے کہ مہم جوئی کے شوق اور Adventure کی تلاش کا جذبہ جو کہ آج بھی فرنگی اقوام میں جنون اور مرض کی حد تک پہنچ چکا ہے ان لوگوں میں بھی موجود رہا ہو۔ اور اسی بنا پر انہوں نے کہا ہو کہ جب اس سفر میں کوئی تکلیف و مشقت نہیں تو پھر اس سفر کا مزہ کیا۔ مزہ تو جب ہے کہ بھوک پیاس سے سابقہ پڑے، تھکاوٹ چور کر دے، سامان سفر کندھوں اور پیٹھ پر لادا ہو وغیرہ وغیرہ۔ نیز اس لئے کہ تاکہ اس طرح ہم دولت مندوں کا غریبوں محتاجوں سے امتیاز ہو سکے جو کہ سامان سفر نہ ہونے کی وجہ سے ایسے سفر پر نہیں نکل سکتے وغیرہ۔ (جامع البیان، کبیر، صفوہ، معارف وغیرہ) ۔ جب انسان کی مت ماری جاتی ہے اور برے دن اس کا مقدر بن جاتے ہیں اور بدبختی کی نحوست اس پر منڈلانے لگتی ہے تو اس کے لچھن کچھ اسی طرح کے ہوجاتے ہیں ۔ وَالْعیَاذ باللّٰہِ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَ شَرٍّ ، وَ مِن کُلِّ زَیْغٍ وَّ انْحِرَافٍ وَ زَلَلٍ وَ فَسَادٍ ۔ جیسا کہ دور حاضر میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو شہری زندگی اور وہاں کی آسائشوں کو چھوڑ کر جھونپڑیوں اور چھپروں میں رہتے ہیں۔ بجلی کے بلبوں اور قمقموں کی بجائے وہ دیے اور لالٹین استعمال کرتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال -
52 صبر و شکر کی صفتیں دو عظیم الشان صفتیں ہیں : سو اسی حقیقت کو اجاگر اور آشکارا کرنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں ہر بڑے صابر اور شاکر انسان کیلئے "۔ کہ اللہ پاک اپنی نعمتوں سے کس طرح قوموں کو نوازتا اور عروج پر پہنچاتا ہے۔ اور پھر ان کی ناقدری و ناشکری پر کس طرح ان کی گرفت فرماتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ مگر اس سے سبق وہی لوگ لے سکتے ہیں جو ہمیشہ صبر و شکر سے کام لینے کے عادی ہوں ۔ اللہ توفیق بخشے ۔ آمین۔ سو قوم سبا کی اس داستان عبرت میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس دنیا میں جو بھی نعمتیں کسی کو ملتی ہیں وہ محض اللہ پاک کی عطا و بخشش کا نتیجہ وثمرہ اور اس کا انعام و احسان ہوتی ہیں۔ انسان ان کو پاکر اگر اللہ تعالیٰ کا صحیح معنوں میں شکر ادا کرے گا تو وہ اس کیلئے مزید خیر کا ذریعہ اور نور علی نور کا مصداق بن جاتی ہیں۔ ورنہ وہ باعث وبال و نکال اور موجب خسران ہوجاتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ نیز یہ کہ اس دنیا میں جو بھی کوئی نعمت کسی کو ملتی ہے وہ اس کو اس کے کسی استحقاق کی بنا پر نہیں ملتی بلکہ محض اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ملتی ہے جس سے اصل مقصود انسان کی آزمائش ہوتی ہے کہ کون اس پر اس کا شکر ادا کرتا ہے اور کون ناشکری کرتا ہے۔ اور یہ کہ ناشکری کرنے والی قوموں کو ان کی ناشکری کی سزا اسی دنیا میں مل کر رہتی ہے۔ پھر آخرت میں ہر شخص کے سامنے اس کا انجام اس کی اپنی انفرادی حیثیت ہی سے اس کے سامنے آئے گا۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح ہوجاتا ہے کہ صبر و شکر کی یہ دو صفتیں عظیم الشان صفتیں ہیں۔ اور ان دونوں کا بیک وقت پایا جانا مطلوب ہے۔ یہ دونوں توام اور باہم لازم و ملزوم کی نوعیت کی صفتیں ہیں جس کے اندر صبر نہ ہو وہ شکر کا حق ادا نہیں کرسکتا۔ اور جس کے اندر شکر نہ ہو وہ صبر نہیں کرسکتا۔ اور دنیا کے اس دار الامتحان میں ہر قدم پر بندے کا امتحان ان دونوں ہی چیزوں میں ہوتا رہتا ہے۔ اور اسی امتحان میں اس کی اخروی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا مدارو انحصار ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayahs 34:20–2153 ناشکروں کو ان کے ہولناک انجام کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ سچ کر دکھایا ابلیس نے لوگوں کے بارے میں اپنا گمان "۔ یعنی { علیہم } کی ضمیر کا مرجع جملہ نبی آدم ہیں نہ کہ صرف قوم سبا۔ جیسا کہ متبادر ہے۔ اس لئے جمہور اہل علم اور مفسرین کرام نے بھی یہی مراد لیا ہے۔ کیونکہ ابلیس کا وہ گمان صرف قوم سبا کے لئے نہیں تھا بلکہ جملہ نبی آدم کے لئے تھا ۔ کَلام السَّلَف دَالٌّ عَلٰی اَنَّ ضَمِیْرَ عَلَیْہِمْ لِبَنِیْ اٰدَمَ لا لاہْلِ سَبَا خَاصَّۃً ۔ (جامع البیان وغیرہ) ۔ سو ابلیس نے بنی آدم کے بارے میں اپنا گمان سچا کر دکھایا اور ان کی اکثریت کو گمراہ کرکے چھوڑا جسکی ایک واضح مثال یہی قوم سبا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف یہاں پر اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ابلیس نے جو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی بارگہ اقدس و اعلیٰ میں کڑی قسم کھا کر اور چیلنج کے طور پر کہا تھا ۔ { وَلاَ تَجِدُ اَکْثَرَہُمْ شَاکِرِیْنَ } ۔ کہ " اے اللہ تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہیں پائے گا " وہ اس نے سچ کر دکھایا۔ اور ایسے ناشکرے لوگوں نے اس لعین کی توقعات کو پورا کردیا۔ سو یہاں پر اس لعین کی اس بات کا حوالہ دینے سے مقصود ایسے ناشکرے اور بدبخت لوگوں کے ہولناک انجام کی طرف اشارہ کرنا ہے کہ جب ابلیس نے ایسوں کے بارے میں اپنا گمان سچ کر دکھایا تو لازما ان کو اپنے اس انجام سے بھی سابقہ پیش آئے گا جس کی اللہ تعالیٰ نے اس موقعہ پر تصریح فرمائی تھی کہ میں ضرور بالضرور جہنم کو بھر کر رہوں گا تجھ سے بھی اور تیرے ان سب پیروکاروں سے بھی جو تیرے پیچھے چلے ہوں گے۔ خواہ وہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے۔ سو ایسے ناشکروں کو اپنے اس ہولناک انجام کے بارے میں بھی سوچ اور دیکھ لینا چاہیے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
54 ابلیس کے گمان سے مراد ؟ : اس سے مراد اس لعین کا وہی گمان ہے جس کا اس نے اپنے مردود ہونے کے بعد علی الاعلان اللہ پاک کے سامنے اظہار کیا تھا کہ میں اولاد آدم میں سے تیرے تھوڑے سے خاص بندوں کے علاوہ باقی سب کو گمراہ کر کے رہوں گا۔ اکثریت گمراہوں کی ہوگی اور تھوڑے سے بندوں کے سوا آپ ان کو اپنا شکر گزار نہیں پائیں گے ۔ { قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لاُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ، اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ } (صٓ: 82-83) ۔ { وَلا تَجِدُ اَکْثَرَہُمْ شٰکِرِیْنَ } ۔ (الاعراف :17) ۔ سو اس کا یہاں پر حوالہ دینے سے مقصد یہ ہے کہ جب ان لوگوں نے اپنے بارے میں شیطان کا گمان سچا کر دکھایا تو یقیناً انکے سامنے انکا وہ انجام بھی آئیگا جس کا اظہار وبیان اللہ تعالیٰ نے ابلیس کی اس دھمکی کے جواب میں فرما دیا تھا کہ میں تیری پیروی کرنے والوں سے جہنم کو بھر دونگا خواہ وہ جنوں میں سے ہوں یا انسانوں میں سے۔ سو اسی کے مطابق قوم سبا کے یہ منکر اور کافر لوگ دنیا میں سیلاب کے عذاب سے دوچار ہوئے جبکہ اصل عذاب آخرت کا ہے جس میں انہوں نے ہمیشہ کے لیے مبتلا رہنا ہے جس جیسا اور جس سے بڑھ کر اور کوئی خسارہ ممکن ہی نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 34:2257 مشرکوں کو کھلا چیلنج : سو مشرکوں کو صاف وصریح طور پر اور کھلا چیلنج دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ بلا لو تم ان سب کو جن کا تم لوگ گھمنڈ رکھتے ہو اللہ کے سوا ۔ { مِنْ دُوْنِ اللّٰہ } ۔ " اللہ کے سوا " عام ہے خواہ وہ کوئی بت ہو یا انسان یا فرشتہ جس کی بھی پرستش کی جاتی ہو۔ وہ سب اس میں داخل ہے اور ۔ { مِنْ دُوْن اللّٰہ } ۔ کا عموم ان سب کو شامل ہے ۔ " اَیْ الاٰلِہَۃُ الَّتِیْ عُبِدَتْ مِنْ دُوْنِہٖ " ۔ (ابن کثیر : ج 3 ص 536) ۔ " مِنَ الاصنام والْمَلٓئِکَۃِ " ۔ (کشاف : ج 3 ص 287) ۔ " مِنَ الْمَلٓئِکَۃِ وَالاَصْنَامِ " ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 180) مگر اس سب کے باوجود اہل بدعت کے بعض بڑوں کا کہنا ہے کہ یہ صرف بتوں کے لئے ہے۔ انبیاء و اولیاء رب کی عطا سے رب کی ہر چیز کے مالک ہیں ۔ استغفر اللہ العظیم ۔ اللہ پاک تو حضرت خاتم الانبیاء ۔ ﷺ ۔ کو حکم فرماتا ہے کہ تم اعلان کردو کہ اللہ کے سوا کوئی بھی نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ اور خود میں اپنی جان کے لئے بھی نہ کسی نفع کا مالک ہوں نہ نقصان کا مگر جو اللہ چاہے۔ کہ جو وہ چاہے وہی ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو سورة مائدہ : آیت نمبر 76، اعراف : آیت نمبر 188، یونس : آیت نمبر 49 اور سورة جن : آیت نمبر 21 وغیرہ وغیرہ۔ نیز اللہ پاک فرماتا ہے کہ اگر وہ پکڑنے پہ آجائے اور مسیح بن مریم اور ان کی والدہ کو بھی ہلاک کردینے کا ارادہ فرمالے تو کون ہے جو اس میں رکاوٹ ڈال سکے۔ (المائدۃ : 17) وغیرہ وغیرہ۔ مگر اس سب کے باوجود اہل بدعت کے ان ہٹ دھرموں کا یہ کہنا کس قدر مکابرہ اور سینہ زوری ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حیرانگی ہوتی ہے کہ یہ لوگ اس حد تک قعر ضلالت میں آخر کیوں اور کیسے گرگئے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے مشرکوں کو کھلا اور صاف وصریح طور پر چیلنج دیا گیا ہے کہ جن کو تم لوگوں نے خدا کا شریک سمجھ رکھا ہے اور ان کا تم لوگ بڑا زعم اور گھمنڈ رکھتے ہو ذرا ان کو بلاؤ تو سہی۔ ہم بھی ان کی شکل دیکھ لیں وہ کیسے اور کہاں ہیں ؟ اور اس قسم کا چیلنج مخاطب کو اس وقت دیا جاتا ہے جب اس کا دعویٰ بالکل ہی بےبنیاد ہوتا ہے اور ہر اعتبار سے اس پر حجت قائم کی جا چکی ہوتی ہے۔ یہی انداز آگے آیت نمبر 27 میں اختیار فرمایا گیا ہے جہاں ارشاد فرمایا گیا ۔ { قُلْ اَرُوْنِیْ الَّذِیْنَ اَلْحَقْتُمْ بِہ شُرَکَائَ } ۔ سو اس سے مشرکوں کو تعجیز اور ان کی تجہیل و تحمیق کو آشکارا فرما دیا گیا ہے۔
58 حاجت روا و مشکل کشا سب کا اللہ ہی ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ ہی سب کا حاجت روا و مشکل کشا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن کا یہ لوگ زعم اور گھمنڈ رکھتے ہیں اللہ کے سوا وہ ذرہ برابر کسی چیز کا کوئی اختیار نہیں رکھتے۔ نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں اور نہ ہی ان کا ان دونوں میں کوئی حصہ ہے اور نہ ہی ان میں سے کوئی ان کا معاون و مددگار ہے "۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ کسی کی مدد کرنے کی تین ہی صورتیں ممکن ہوسکتی ہیں۔ یا تو وہ خود مالک و مختار ہو جو چاہے کرے یا اس کا کچھ حصہ و اشتراک ہو یا وہ کسی کا ایسا معاون و مددگار اور منہ چڑھا تعلق دار ہو کہ اگلا اس کی بات کو ٹال نہ سکے اور اس کے ماننے پر مجبور ہوجائے۔ آیت کریمہ میں ان تینوں صورتوں کی نفی فرما دی گئی کہ اللہ پاک کے سوا آسمان و زمین کی اس کائنات میں نہ کسی کی کوئی ملکیت و حصہ داری ہے اور نہ کسی طرح کا کوئی اختیار اور ساجھا اور اشتراک۔ اور نہ ہی کوئی اس کا اس طرح کا یار و مددگار ہے جو اڑ کے بیٹھ جائے اور منوا کر چھوڑے کہ ایسی پوزیشن اس کے یہاں کسی کی بھی نہیں ہوسکتی۔ پس اس خدائے وحدہ لاشریک کے سوا نہ کسی کو پکارنا پوجنا جائز ہے اور نہ کسی کو مشکل کشا و حاجت روا سمجھنا کہ یہ سب کچھ اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ ٔ قدرت و اختیار میں اور اس کی صفات خاصہ میں سے ہے۔ دوسرے کسی کا اس کی خدائی میں کوئی حصہ و اشتراک نہیں۔ نہ پیدا کرنے میں نہ اس کی ملکیت میں اور نہ اس کے حکم و تصرف میں ۔ لاخَلْقًا وَلا مِلْکًا وَلا تَصَرُّفًا ۔ (محاسن التاویل : ج 14 ص 19) ۔ البتہ اسباب کے درجے میں جس قدر عارضی تصرف اور عارضی وفانی ملکیت کی ضرورت انسان کو ہوسکتی تھی اس کی اجازت حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اسے خود مرحمت فرما دی ہے کہ یہ دنیا ہے ہی " دارالاسباب "۔ لیکن مافوق الاسباب تصرف و ملکیت اسی وحدہ لاشریک کے ساتھ مختص ہے۔ پس وہی سب کا حاجت روا و مشکل کشا ہے اور وہی ہے جو اس پوری کائنات کا بلاشرکت غیرے خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کسی اور کو اس میں اس کا شریک ماننا شرک ہے جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 34:23–2459 مشرکانہ تصور شفاعت کی نفی و تردید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی سفارش کسی کو کچھ کام نہ دے سکے گی بجز اس کے جس کو اللہ خود اجازت دے "۔ یعنی اس کی بارگاہ اقدس میں سفارش کا بھی کسی کو یارا نہیں جب تک کہ اس کی طرف سے اذن نہ مل جائے۔ کیونکہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کون سفارش کے قابل ہے اور کس کا جرم قابل معافی ہے کہ وہی علام الغیوب سب ظاہر اور پوشیدہ باتوں کو جاننے والا اور ایک برابر جاننے والا ہے۔ سو اس سے اس مشرکانہ تصور شفاعت کی نفی و تردید فرما دی گئی جو مشرک قوموں کے اندر پایا جاتا تھا۔ پہلے بھی موجود تھا اور آج بھی ہے۔ سو ایسے مشرک لوگوں کا اپنے مزعومہ شفعاء کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ خدا تعالیٰ کے ایسے چہیتے، پیارے اور لاڈلے ہیں کہ جو چاہیں اس سے منوا لیں۔ چناچہ مشرکین مکہ کا فرشتوں کے بارے میں کہنا تھا کہ یہ اللہ کی بیٹیاں ہیں۔ اللہ سے جو چاہیں منوا سکتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے مشرکین کا اپنے خودساختہ شفعاء کے بارے میں کہنا اور ماننا تھا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس طرح کی کسی شفاعت اور سفارش کی وہاں کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ وہاں شفاعت وہی کرسکے گا جس کو اجازت ملے گی اور اسی کیلئے کرسکے گا جس کیلئے اجازت ملے گی۔ سو نہ تو کوئی خدائے پاک کے اذن کے بغیر کسی کی شفاعت و سفارش کرسکے گا اور نہ ہی کسی ایسے شخص کے لیے سفارش کے لیے زبان کھول سکے گا جس کی سفارش کے لیے اس کو اجازت نہ ملی ہو۔ سو مشرکانہ تصور شفاعت کی وہاں کوئی گنجائش نہیں ہوسکتی ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔
60 قیامت کے روز فرشتوں کے عجز و درماندگی کی تصویر : سو مشرکین تو فرشتوں وغیرہ سے متعلق اپنے مشرکانہ تصور شفاعت پر مست و مگن ہیں مگر وہاں کا حال یہ ہوگا کہ اس روز سفارش کرنے والے اور سفارش چاہنے والے سب امید و انتظار میں رہیں گے یہاں تک کہ جب اس کے لئے اجازت ملے گی تو رعب کے مارے ان پر ایک گھبراہٹ طاری ہوجائے گی۔ پھر جب وہ گھبراہٹ دور ہوگی تو وہ ایک دوسرے سے کہیں گے تمہارے رب نے کیا فرمایا ؟ وہ جواب دیں گے حق ہی فرمایا۔ یعنی شفاعت کی اجازت مل گئی۔ تب ان کی جان میں جان آئے گی۔ تو جس ذات بےہمتا کی عظمت شان اور ہیبت مقام کا یہ عالم ہو وہاں ازخود سفارش کے لئے دم مارنے کی مجال اور کس کو ہوسکتی ہے ؟ (محاسن التاویل : ج 14 ص 60، صفوۃ التفاسیر : ج 2 ص 553، المراغی : ج 22 ص 778 و جامع البیان : ج 2 ص 180 ۔ وفیہ اقوال اخری ۔ والبحث فی المطولات ۔ بہرکیف فرشتوں سمیت سب کی شان عبدیت کا اس روز یہ عالم ہوگا کہ وہ مارے خوف اور دہشت کے بات بھی نہیں کرسکیں گے۔ اور جو لوگ ایسے مشرکانہ تصور شفاعت کی بنا پر نچنت ہیں وہ بڑے ہی خسارے میں پڑے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو مشرکانہ تصور شفاعت کی اس روز کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ بلکہ معاملہ سب کا سب اللہ وحدہ لا شریک ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہوگا ۔ { والامر یومئذ للہ } -
61 اس روز کی گھبراہٹ کے بعد ایک دوسرے سے سوال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور کردی جائے گی تو وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ کیا فرمایا تمہارے رب نے ؟۔ مراد ہے سفارش کی اجازت کے بارے میں کیا ارشاد فرمایا ۔ " وَہُوَ اْلاِذْنُ بالشَّفَاعَۃِ لِمَنِ ارْتَضٰی " ۔ (جامع البیان، المراغی، محاسن التاویل، الصفوۃ وغیرہ) ۔ سو قیامت کے روز فرشتوں وغیرہ کا ناز و تدلل سے کسی کے حق میں سفارش کرنا تو دور کی بات ہے اس دن تو ان پر بھی دوسری مخلوق کی طرح ایسا ہول طاری ہوگا کہ انہیں بھی اس کی کوئی خبر نہیں ہوگی کہ لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے یہاں سے کیا حکم صادر ہوا۔ اس لیے جب ان کی دہشت اور گھبراہٹ دور ہوگی تو وہ ایک دوسرے سے پوچھیں گے کہ تمہارے رب کی طرف سے کیا حکم صادر ہوا ؟ تو وہ انکو جواب دیں گے کہ بالکل حق اور بجا فرمایا۔ سو ایسے میں مشرکانہ تصور شفاعت کی کیا گنجائش ہوسکتی ہے ؟ " الحق " منصوب ہے اور اس کا ناصب محذوف ہے۔ اور یہ جواب ان لوگوں کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے جن کے معاملات کا اس دن فیصلہ ہوگا۔ اس لیے کہ اس روز حق اس طرح واضح ہوچکا ہوگا کہ کسی کے لیے یہ کہنے کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی کہ اس کے ساتھ کوئی ناانصافی ہوئی ہے۔ اور اس بات کا بھی امکان ہے کہ یہ جواب ان لوگوں کی طرف سے ہو جن کو قدرت کی طرف سے اس دن کے ہول سے محفوظ رکھا گیا ہوگا اور جن کا استثناء سورة زمر کی آیت نمبر 68 میں { الا من شاء اللہ } کے کلمات کریمہ سے فرمایا گیا ہے۔ سو جب اصل حقیقت یہ ہے تو پھر وہ کون ہوسکتے ہیں جن پر مشرکین اپنے مشرکانہ تصور شفاعت کی بنا پر تکیے کیے بیٹھے ہیں ؟۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
62 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہی ہے بلند شان والا سب سے بڑا۔ پس اس کے اذن کے بغیر اس کے یہاں کسی کو بھی دم مارنے کی ہمت نہیں ۔ " وَلَیْسَ لاَحَدٍ اَنْ یَّتَکَلَّمَ اِلَّامِنْ بَعْدِ اِذْنِہ " ۔ (المراغی : ج 22 ص 79) ۔ سو اس کی ذات اقدس و اعلیٰ ایسی عظمت شان اور جبروت و مہربانی والی ہے کہ کسی کی مجال نہیں کہ اس کے حضور بات کرنے کیلئے اپنی زبان کھول سکے۔ اور نہ کسی کے بس میں ہوسکتا ہے کہ وہ ازخود اس کے حضور رسائی حاصل کرسکے۔ پس اس سے تعلق اور اس کے حضور رسائی کی صرف وہی صورت ممکن ہوسکتی ہے جسکی تعلیم وہ خود دے۔ اپنی کتاب حکیم کی تعلیمات مقدسہ کے ذریعے یا جیسا اس کے بارے میں اس کا رسول بتائے۔ سو بڑے بہکے اور بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اس ذات اقدس و اعلیٰ کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کر کے طرح طرح کے وسیلے اور واسطے گھڑتے اور طرح طرح کے مشرکانہ تصورات پیش کرتے ہیں۔ سو وہ ذات اقدس و اعلیٰ ایسے تمام تصورات سے پاک اور ان سے کہیں اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کو اسی طرح ماننا ضروری ہے جس طرح اپنے بارے میں وہ خود بتائے یا اس کا رسول بتائے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 34:2564 اللہ تعالیٰ کے یہاں مسؤلیت کی تذکیر و یاددہانی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ " ہر کسی سے اس کے کئے کرائے کے بارے میں پوچھ ہوگی "۔ پس تم ہم پر اعتراض کرنے کی بجائے خود اپنی فکر کرو اور حسن ادا ملاحظہ ہو کہ اجرام کی نسبت اپنی طرف فرمائی جاتی ہے اور عمل کی نسبت مخالف کی طرف۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں یہ عظیم الشان درس دیا گیا ہے کہ انسان کو دوسروں کے پیچھے پڑنے کی بجائے خود اپنی فکر کرنی چاہیئے کہ ہر کسی نے اپنے کئے کرائے کا حساب خود دینا اور اس کا بدلہ پانا ہے۔ اور ہر کسی سے اس کے اپنے کیے کرائے کے بارے میں ہی پوچھ ہوگی۔ ہر کوئی اپنے ہی بارے میں مسؤل اور ذمہ دار و جوابدہ ہے نہ کہ کسی دوسرے کا۔ ہمارے ذمے تو حق کی تبلیغ ہے اور بس۔ اور وہ ہم کرچکے۔ اب اس کے بعد مزید بحث مباحثہ اور جدال و مناقشہ سے کوئی فائدہ نہیں۔ تم لوگ اپنی راہ چلو ہم اپنی راہ چلتے ہیں۔ کل قیامت کے یوم فصل و تمییز میں فیصلہ ہوگا اور اس وقت تم لوگ خود دیکھ لو گے کہ حق پر کون ہے اور باطل پر کون ؟ یہی مضمون سورة شوری کی آیت نمبر 15 میں پوری صراحت سے بیان فرمایا گیا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں حاضری اور پیشی کا اعتقاد و یقین اصلاح احوال کی اصل اساس ہے۔
Ayah 34:2665 قیامت کے یوم الفصل کی تذکیر و یاددہانی : سو قیامت کے یوم الفصل کی تذکیر و یاددہانی کراتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ جمع فرمائے گا ہمارا رب تم ہم سب کو "۔ پس ہم سب کو جمع اور حشر کے اس یوم عظیم کی فکر و تیاری کرنی چاہیئے کہ وہاں کیا بنے گی اور کیا صورت پیش آئے گی کہ وہاں سے لوٹ کر پھر کسی نے آنا نہیں اور کمائی کا پھر کوئی موقع پانا نہیں کہ کمائی کی جگہ اور فرصت یہی دنیا اور اس کی یہ زندگی ہے اور بس۔ سو اصل حقیقت بہرحال یہی ہے لیکن تم لوگ آج اگر ہماری بات ماننے کو تیار نہیں ہو تو تمہاری مرضی۔ تم بیشک نہ مانو لیکن یہ یاد رکھو کہ ایک دن بہرحال ایسا آنے والا ہے جس میں ہمارا رب تم ہم سب کو جمع فرمائے گا اور پھر تمہارے اور ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق و انصاف کے ساتھ فیصلہ فرمائے گا کہ کون حق پر تھا اور کون باطل پر۔ اور اس کے مطابق ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگتنا ہوگا۔ اور تم لوگ مانو یا نہ مانو حق بہرحال یہی ہے۔ اور تم چاہو یا نہ چاہو قیامت کے اس یوم الفصل نے اپنے وقت پر بہرحال آ کر اور برپا ہو کر رہنا ہے اور وہاں تمہارے اور ہمارے درمیان آخری اور قطعی فیصلہ عملی طور پر ہو کر رہے گا۔ اب تم خود دیکھ لو کہ اس دن کے لیے کیا تیاری کر رہے ہو ؟
66 آخری اور قطعی فیصلہ اللہ ہی کا ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و تاکید کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ہے سب سے بڑا فیصلہ فرمانے والا سب کچھ جانتا "۔ پس اسی کا فیصلہ صحیح اور حق و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق ہوگا کہ اس کا علم بھی کامل ہے اور اس کا فیصلہ بھی صاف وصریح اور بغیر کسی لاگ و لوث کے ہوتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس نہ تو اس فتاح وعلیم خداوند کریم کے فیصلہ میں کسی کیلئے کسی طرح کی دھاندلی مچانے کا کوئی امکان ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کے کسی فیصلے کیخلاف کہیں کسی اپیل کی کوئی گنجائش ہوسکتی ہے۔ اور نہ ہی اس کے کسی فیصلے میں کسی غلطی کا کوئی امکان ہوسکتا ہے کہ وہ سب کچھ جاننے والا اور پوری طرح جاننے والا علیم وخبیر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 34:2767 مشرکوں سے تحقیر اور تہدید آمیز خطاب : سو مشرکوں سے تحقیر اور تہدید کے طور پر خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ ذرا مجھے دکھا تو دو ان ہستیوں کو جن کو تم لوگوں نے اس ۔ وحدہ لاشریک۔ کے ساتھ ملا رکھا ہے اس کا شریک بنا کر "۔ تاکہ میں دیکھ اور جان سکوں کہ تم نے کس بنیاد پر ان کو معبود اور حاجت روا و مشکل کشا بنا رکھا ہے۔ سو اس ارشاد عالی سے مقصود ان لوگوں کی گمراہی کو آشکارا کرنا ہے اور اس میں ان کی توبیخ و تقریع ہے کہ آخر تم لوگ طرح طرح کی ان بےحقیقت چیزوں کی پوجا پاٹ کر کے اپنے ہاتھوں خود اپنی تذلیل و تحقیر اور ہلاکت و بربادی کا سامان کیوں اور کس بنیاد پر کرتے ہو ؟۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَزَیْغٍ وَضَلالٍ بَتَوْفِیْقِہ وَعِنَایَتِہ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی وَہُوَ الْکَبِیْرُ الْمُتَعَالُ ۔ بہرکیف مشرکوں سے ان کی تحقیر و تذلیل اور طنز وتشنیع کے انداز میں فرمایا گیا کہ مجھے ذرا انکو دکھلاؤ تو سہی جنکو تم نے اللہ وحدہ لاشریک کا ساتھی قرار دیکر اس کے ساتھ چپکا رکھا ہے۔ آخر وہ کون ہیں اور کہاں ہیں جو ایسی عالی شان کے مالک ہیں کہ تم نے انکو خدا کی خدائی میں ساجھی اور شریک قرار دے رکھا ہے ؟ اور ظاہر ہے کہ ایسا کوئی ہے ہی نہیں تو پھر یہ دکھائیں کیسے اور کہاں سے ؟
68 اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک ممکن ہی نہیں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی شریک نہ ہے نہ ہوسکتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " ہرگز نہیں اس کا کوئی شریک " نہ اس کی ذات وصفات میں نہ اس کے حقوق و اختیارات میں اور نہ اسکی عبادت و بندگی میں۔ وہ ہر لحاظ اور ہر اعتبار سے یکتا اور وحدہ لاشریک ہے ۔ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی فَنَعُوْذُ بِہ جَلَّ وَعَلا مِنْ کُلِّ شَائِبَۃِ من شوائب الشِّرْکِ وَالاِنْحِرَافِ ۔ بہرکیف { کلا } کے کلمہ زجر و تنبیہ کے ساتھ اس سے ہر قسم کے شرک اور ہر مشرک کی نفی فرما دی گئی اور اس نفی کی دلیل میں اس کی دو صفتوں کو بیان فرمایا گیا یعنی عزیز اور حکیم۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس وحدہ لا شریک ربِّ عزیز و حکیم کا نہ کوئی شریک ہے نہ ہوسکتا ہے۔ وہ ہر لحاظ سے وحدہ لا شریک ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
69 عزت اور حکمت اللہ ہی کے لیے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر و تاکید کے اسلوب و انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " نہیں بلکہ وہی اللہ ہے سب پر غالب نہایت ہی حکمت والا "۔ پس نہ تو اس کو کسی شریک وسہیم کی حاجت ہے اور نہ تمہارے ان خود ساختہ معبودوں میں اس ذات بےہمتا کا شریک بننے کی کوئی اہلیت و صلاحیت ہی کسی بھی درجے میں ممکن ہوسکتی ہے۔ سو ان دو صفتوں کے ذکر سے واضح فرما دیا گیا کہ ہرگز کسی کا بھی یہ درجہ و مرتبہ نہیں ہوسکتا کہ اس کو اس اللہ وحدہ لاشریک کا شریک قرار دیا جاس کے کہ وہ عزیز ہے۔ یعنی سب کی رسائی سے بالاتر اور ہر چیز پر غالب و مقتدر ہے۔ نیز وہ حکیم ہے اس لیے اس کا ہر حکم و ارشاد اور ہر قول و فعل غایت درجہ علم و حکمت پر مبنی ہوتا ہے۔ اور ان دونوں صفتوں کا ذکر یہاں پر حصر کے انداز وا سلوب میں فرمایا گیا ہے جس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ ان دونوں صفتوں سے وہ بدرجہ تمام و کمال متصف ہے۔ اور جب وہ ان دونوں صفتوں سے بدرجہ کمال متصف ہے تو پھر اس سے کسی شرک کا کوئی جوڑ ممکن ہی کس طرح ہوسکتا ہے ؟ کیونکہ کسی کو اگر اس کا شریک اس اعتبار سے ٹھہرایا جائے کہ وہ کائنات کی تخلیق اور اس کی تدبیر میں اس کا محتاج ہے تو یہ اس کے عزیز ہونے کی نفی ہے۔ اور اگر کسی کو اسکا شریک اس اعتبار سے مانا جائے کہ وہ اس کے یہاں سے اپنے تقرب اور اپنی رسائی کی بنا پر اس کے بےلاگ عدل و انصاف پر اثرانداز ہوسکتا ہے تو یہ اس کے حکیم ہونے کی نفی ہوگی۔ اور یہ امر یہاں پر واضح رہے کہ مشرکین کے شرک میں اصل عامل کی حیثیت انہی دو غلط فہمیوں کو حاصل تھی۔ اس لیے یہاں پر اللہ پاک نے اپنی دو صفتوں کا حوالہ دے کر ان دونوں غلط فہمیوں کی جڑ نکال دی۔ پس اس کا کوئی شریک نہ ہے نہ ہوسکتا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شریک اور ہر شائبہ شرک سے پاک اور بری ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -