Ayahs 34:28–2970 پیغمبر کا کام انذار وتبشیر اور بس : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا اصل کام اور اس کی ذمہ داری انذار وتبشیر ہے اور بس۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے تو آپ کو صرف بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے "۔ پس جب آپ ہمارے فرستادہ اور رسول ہیں تو جو لوگ آپ کی نبوت و رسالت کا انکار کرتے ہیں وہ دراصل ہمارے حکم و ارشاد کے منکر ہیں۔ جیسے جملہ کفار و مشرکین۔ اور جب ہم نے آپ ﷺ کو تمام لوگوں کے لئے مبعوث فرمایا ہے تو پھر جو لوگ اس کے بعد بھی دوسرے کسی اور دین کی تبلیغ کرتے اور آپ ﷺ کے بعد کسی اور کو نبی مانتے ہیں وہ پکے گمراہ اور پرلے درجے کے فسادی ہیں۔ جیسے عیسائیت وغیرہ دیانات محرفہ کی تبلیغ کرنے والے اہل کتاب وغیرہ۔ یا جیسے مسیلمہ کذاب اور مسیلمہ پنجاب جیسے دجال۔ جنہوں نے آپ کے بعد جھوٹی نبوتوں کا دعوی کیا اور اس سے بھی بڑھ کر خطرناک نظریہ امامت کے قائل وہ رافضی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارے اماموں کا وہ مقام ہے جس کو نہ کوئی فرشتہ پہنچ سکتا ہے نہ کوئی نبی ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ روا فض کی کتابوں میں امامت کے اس نظریہ و عقیدہ کی تصریح موجود ہے۔ یہاں تک کہ ان کے حالیہ امام خمینی کی کتابوں میں بھی اس کی تصریح موجود ہے۔ اور جب ہم نے آپ کو محض بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے تو آپ دعوت حق کو قبول کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیں اور منکروں کو خبردار کردیں کہ آپ ﷺ کا کام تو صرف انذار اور تبشیر ہے اور بس۔ اس سے آگے آپ ﷺ کا نہ کوئی زور و اختیار ہے، اور نہ ہی اس کی کوئی ذمہ داری کہ آپ لوگوں سے اس حق کو منوا لیں اور دعوت حق ان کے دلوں میں اتار دیں۔ سو وہ لوگ بھی گمراہ ہیں جو آپ ﷺ کو مختار کل مانتے ہیں کہ جو چاہیں کریں۔ جیسا کہ دور حاضر کے اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ پس یہ سب لوگ راہ ہدایت سے دور اور گمراہی میں مبتلا ہیں۔ گو ان کے درجات و مراتب میں تفاوت و اختلاف ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا اصل کام انذار اور تبشیر ہے اور بس۔
71 علم حقیقی سے محرومی ہر خیر سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو لوگوں کی بدبختی پر اظہار افسوس کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں "۔ اس لئے نور علم سے محروم لوگوں کی یہ اکثریت طرح طرح کی گمراہیوں کا شکار ہے۔ یہاں سے پھر اس حقیقت پر تنبیہ ملی کہ عوام کی اکثریت حقانیت و صداقت کی دلیل نہیں ہوسکتی۔ جس طرح کہ مغربی جمہوریت کے پجاریوں کا کہنا ہے۔ اور جس طرح کہ اہل بدعت کا ماننا ہے۔ حق بہرحال وہی اور صرف وہی ہے جو اللہ اور اس کا رسول فرمائے خواہ دنیا ساری ہی اس کے خلاف کیوں نہ ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور باطل وہ ہے جس کو اللہ اور اس کا رسول باطل قرار دے اگرچہ دنیا ساری ہی اس کی تائید و حمایت میں کیوں نہ ہو۔ سو علم کا نور وہ سب سے بڑا نور ہے جو دنیا کو حق اور ہدایت کی روشنی سے آگہی بخشتا ہے ورنہ اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔ اور علم سے مراد وہ علم حقیقی ہے جو انسان کو راہ حق و ہدایت پر ڈالے اور اس کو اس کے خدا سے ملائے نہ کہ اس عام معنیٰ میں جس کو دنیا علم کہتی ہے کہ وہ صرف کاروبار حیات چلانے کیلئے ہے۔ سو اس کو اگر نیک نیتی سے اور خلق خدا کی نفع رسانی کیلئے حاصل کیا جائے تو وہ نیکی ہے ورنہ وہ شر ہے۔ سو اس کے حصول میں نیکی یا بدی ہونے کا دارومدار انسان کی نیت پر ہے۔ لیکن وہ اصل اور حقیقی علم کا مصداق بہرحال نہیں بن سکتا۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے تو پیغمبر کو خبردار کرنے والا اور خوش خبری دینے والا بنا کر بھیجا تاکہ لوگ ان کی اتباع اور پیروی کر کے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہو سکیں۔ مگر یہ ہیں کہ ان سے اعراض اور روگردانی برت کر اپنے لیے دارین کی شقاوت و بدبختی کی راہ اپنا رہے ہیں اور اللہ کی ابدی رحمت کی بجائے اس کے دائمی عذاب کے طلب گار بن رہے ہیں جو کہ خساروں کا خسارہ اور ناقابل تلافی وتدارک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 34:3072 استہزا کرنے والوں کو جواب : سو اس سے استہزاء کرنے والوں کو جواب دیا گیا کہ عذاب کا وقت مقرر ہے۔ سو قیامت اور آخرت کے بارے میں استہزا کرنے والوں کے جواب کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ تمہارے عذاب کا وقت بہرحال مقرر ہے "۔ یعنی اللہ پاک کی اس انتہائی محکم اور حکیمانہ کائنات میں ہر چیز اپنے خاص نظام اور مخصوص وقت سے مربوط و مرتبط ہے۔ اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتی۔ جس طرح آج ایک شخص شادی کر کے کہے کہ کل ہی میرے گھر بچہ پیدا ہوجائے تو یہ بات نہیں ہونے کی اگرچہ وہ اس کے لئے ہر جتن کرے اور ہر حربہ استعمال کرے۔ یا جس طرح آج ایک شخص کے گھر بچہ پیدا ہو اور وہ کہے کہ یہ میرا بچہ آج ہی جوان ہوجائے تو یہ عادۃً ایک ناممکن بات ہے۔ یا جیسے آج ایک شخص اپنے بچے کو مدرسہ و سکول میں داخل کرائے اور چاہے کہ وہ آج ہی یا کل ہی محدث و مفسر اور عالم و گریجویٹ بن جائے۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کرلے وغیرہ۔ تو یہ بات عقلاً اور واقعتہً ناممکن ہے اگرچہ وہ اس کے لئے دنیا بھر کی دولت بھی کیوں نہ خرچ کر ڈالے۔ یا کوئی اگر یہ چاہے کہ آج کے دن شروع ہونے والا موسم خزاں آج ہی ختم ہوجائے یا اس وقت جو دن شروع ہو رہا ہے یہ ابھی فوراً ختم ہوجائے اور ابھی طلوع کرنے والا یہ سورج فوری طور پر ڈوب جائے وغیرہ وغیرہ۔ تو یہ سب ان ہونی باتیں ہیں۔ اللہ پاک کی قدرت سے تو کوئی بھی چیز باہر نہیں۔ وہ جو چاہے کرسکتا ہے کہ اس کی صفت ہے ۔ { عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ} ۔ مگر " کُلُّ اَمْرٍ مَرْہُوْنٌ بِوَقْتِہٖ " کے جس حکیمانہ اسلوب و نظام پر اس قادر مطلق نے اس کارخانہ ہست و بود کو استوار کیا اور قائم فرما رکھا ہے اس کے پیش نظر عادۃً ایسا ہونا ناممکن و محال ہے۔ سو اسی طرح قیامت کا بھی ایک خاص وقت اس علیم و قدیر خالق ومالک نے مقرر فرما رکھا ہے جس پر وہ بہرحال آکر رہے گی۔ اس میں پل بھر کی کوئی تقدیم یا تاخیر نہیں ہوسکتی۔ پس جلدی مچانے کی بجائے تم لوگ اس کے لئے تیاری کرو کہ اس کے لئے کمائی کی جو فرصت آج تمہیں میسر ہے وہ ہاتھ سے نکلنے کے بعد پھر ملنے والی نہیں۔ اور اپنی آخرت کو سنوارنے اور بنانے کا جو موقع دنیا کی اس زندگی میں آج تم لوگوں کو حاصل ہے وہ پھر کبھی نہیں مل سکے گا ۔ وَاللّٰہُ الْمُوَفِّقُ وَالْمُعِیْنُ وِبِہٖ نَسْتَعِیْنُ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے استہزا کرنے والوں کو ٹھوس جواب دیا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 34:3173 کفار و منکرین کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر : کہ " ہم نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس سے پہلے نازل ہونے والی کتابوں پر "۔ سو یہ ہے ضد وعناد اور ہٹ دھرمی کا وہ شاخسانہ جس میں مبتلا ہو کر ایک شخص پوری ڈھٹائی کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیتا ہے اور کسی ناصح کی کسی نصیحت کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوتا کہ " میں نہ مانوں " (I never agree) کا تو کوئی علاج ہی نہیں۔ اسی کو " مہر لگنے " سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اسی میں آج کے جملہ باطل فرقے خاص کر غالی اہل بدعت بری طرح سے مبتلا ہیں کہ یہ لوگ بھی حق کے وضوح اور اس کے جاننے کے باوجود اس کو ماننے اور قبول کرنے کے لئے تیار اور آمادہ نہیں ہوتے ۔ { یَعْرِفُوْنَ نِعْمَۃَ اللّٰہِ ثُمَّ یُنْکِرُوْنَہَا و اَکْثَرَہُمُ الْکٰفِرُوْنَ } ۔ (النحل : 83) کہ اللہ کی نعمت کو جانتے بوجھتے اس کا انکار کرتے ہیں کہ ضد اور ہٹ دھرمی کے شاخسانے ایسے ہی ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ان ہٹ دھرم کفار نے صاف اور صریح طور پر کہہ دیا کہ ہم نہ اس قرآن پر ایمان لائیں گے اور نہ اس پر جو اس سے آگے ہے ۔ جو اس سے آگے ہے ۔ سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے دو قول اور احتمال ہیں۔ ایک یہ کہ اس سے مراد وہ آسمانی کتابیں ہیں جو اس سے پہلے آچکی ہیں۔ اور یہی قول زیادہ مشہور بھی ہے اور واضح اور متبادر بھی۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ اس سے مراد آگے آنے والا وہ عذاب ہے جس سے ان لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے۔ اور یہ قول سیاق وسباق سے زیادہ مطابقت رکھتا ہے۔ ہم نے اپنے ترجمہ کے اندر ان دونوں کی گنجائش رکھی ہے ۔ وباللہ التوفیق والحمد للہ جل و علا ۔ بہرکیف اس سے ہٹ دھرموں کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ پیش فرمایا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
74 قیامت میں پیشواؤں اور ان کے پیرؤوں کے درمیان تو تکار کا ایک منظر : سو یہ ہے گمراہ لیڈروں اور پیشواؤوں اور انکے پیرؤوں کے درمیان توتکار کا ایک منظر جو اس جہاں میں پیش آئے گا۔ سو پیرو یعنی چیلے، چانٹے اور سادہ لوح پیروکار اور نعرے باز مرید وغیرہ جن کا کام آنکھیں بند کرکے ان کے پیچھے چلنا اور ان کی پیروی کرنا تھا اور بس۔ نہ ان کی کوئی رائے تھی نہ اثر نہ وزن۔ نہ سوچنے سمجھنے کی کوشش نہ فکر و تدبر کی کوئی صلاحیت۔ سو دنیا میں یہ احمق قسم کے پیروکار جو آنکھیں بند کرکے اپنے ان بڑوں کے پیچھے چلا کرتے تھے یہاں تک کہ اس سلسلے میں یہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی بھی پروا نہیں کرتے تھے اس دن یہ اپنے ان بڑوں اور لیڈروں سے کہیں گے کہ یہ تم ہی ہو کہ تمہاری وجہ سے ہم نور حق و ہدایت سے محروم اور اس شقاوت و بدبختی سے دوچار ہوئے۔ ورنہ اگر تم نہ ہوتے اور تم ہمارے لیے سدِّراہ نہ بنتے تو ہم ضرور ایمان لے آتے۔ مگر تم ہو کہ تم نے ہماری راہ مار دی۔ مطلب یہ کہ حق تو ہم سے مخفی نہیں تھا اور ہمارے اندر اس کو قبول کرنے کا جذبہ بھی موجود تھا لیکن تمہارے دباؤ نے ہمیں اس سے محروم کیے رکھا۔ جسکے نتیجے میں آج ہمیں یہ انجام بد دیکھنا پڑا ۔ اللہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
75 گمراہ لیڈروں کا اپنے چیلوں کو جواب : یعنی گرو گمراہ لیڈر و پیر اور علمائے سوء وغیرہ وغیرہ جنہوں نے ایسے سادہ لوح عوام کو دبا کر اور طرح طرح کے جھانسے دے کر اپنے پیچھے لگا رکھا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وہ اس دن اپنے ان بپھرے ہوئے پیروکاروں کے الزام کے جواب میں کہیں گے کہ تمہارا الزام بالکل غلط ہے کہ ہم نے تم لوگوں کو راہ حق سے روکا تھا۔ سو ایسے نہیں بلکہ اصل مجرم تم خود ہو۔ { استکبروا } کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے۔ یعنی جو اپنے آپ کو بڑا اور بہت کچھ سمجھتے تھے۔ اور یہی تھی جڑ بنیاد ساری خرابی اور محرومی کی۔ سو بڑا ہونا اور چیز ہے اور بڑائی کے زعم اور گھمنڈ میں مبتلا ہونا اور چیز۔ والعیاذ باللہ ۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا زعم و گھمنڈ انسان کے باطن کو ایسا بگاڑ کر رکھ دیتا ہے کہ وہ حق کو سننے ماننے اور اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتا جس سے وہ محروم کا محروم ہی رہتا ہے۔ بھلا جو مریض اپنے مرض کو اپنی صحت قرار دیتا ہو وہ ڈاکٹر کی طرف رجوع ہی کیوں کرے گا۔ اور اس کی دی ہوئی دوائی اور اس کے لکھے ہوئے نسخے کی طرف توجہ ہی کیوں دے گا۔ تو پھر ایسے میں اس کی صحت کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کا زعم و گھمنڈ محرومی کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 34:3276 گمراہ پیشواؤں کی اپنے پیرؤوں کو مزید ڈانٹ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ گمراہ پیشواؤوں سے کہیں گے کہ نہیں بلکہ اصل مجرم تم لوگ خود تھے۔ پس اصل قصور وار تم خود تھے۔ بلکہ ہمیں خراب و گمراہ کرنے میں بھی تمہارا ہی ہاتھ تھا کہ اگر تم لوگ ہمیں آسمان پر نہ چڑھاتے تو ہمارے دماغ اتنے خراب نہ ہوتے کہ ہم اپنی خدائی کے زعم میں مبتلا ہوجاتے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے ۔ پیراں نہ می پرند مریداں می پرانند ۔ " پیر خود نہیں اڑتے مرید ان کو اڑاتے ہیں " ورنہ تم لوگ اگر حق و ہدایت کو اپناتے اور اس کے نور مبین کو قبول کرتے جبکہ وہ تمہارے پس پہنچ چکا تھا تو تمہیں اس سے کون روک سکتا تھا۔ پس حق سے منہ موڑ کر اور باطل کو اپنا کر تم نے خود ہی جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ سو اب اپنے کئے کا مزہ تم خود چکھو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اس جہاں میں معبود ان باطلہ اور ان کے گمراہ پیروکاروں کے درمیان ہونے والے اس جھگڑے اور ان کی اس تو تکار کو اپنی کتاب حکیم کے ذریعے اس دنیا میں ہی اس صراحت و وضاحت کے ساتھ بیان فرما دیا ہے تاکہ لوگ اس انجام بد اور اس ذلت و رسوائی اور ہمیشہ کی ہلاکت و تباہی سے بچنے کا سامان کرسکیں۔ لیکن افسوس کہ اس سب کے باوجود آج دنیا میں کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو قرآن حکیم کی ان تعلیمات مقدسہ سے منہ موڑے ذلت و رسوائی اور ہلاکت و بربادی کی اسی راہ پر چلے جا رہے ہیں۔ اور اس بارے وہ سنی کو ان سنی کردیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وَلا حَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِہٖ جَلَّ وَعَلا ۔ سو نور حق و ہدایت سے محرومی دنیا و آخرت کی ہر خیر سے محرومی ہے کہ ایسا شخص اندھیروں میں مستغرق رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 34:3377 پیرؤوں کی طرف سے پیشواؤں کے قول کی تردید : سو اس سے پیرؤوں کی طرف سے بیشواؤں کی مکاریوں اور چالبازیوں کو ذمہ دار بنانے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ پیشواؤں کے اس جواب کی تردید میں ان کے پیرو اور چیلے ان سے کہیں گے کہ نہیں بلکہ یہ تمہاری دن رات کی مکاری تھی جس نے ہمارا بیڑا غرق کیا۔ تمہاری مکاری یعنی مکر کا مضاف الیہ محذوف ہے۔ اس کو حذف کر کے ظرف کو اس کے قائم مقام کردیا گیا۔ سو تقدیر عبارت یوں ہوگی " مَکْرُکُمْ بِنَا بَاللَّیْلِ وَ النَّہَارِ " (ابو المسعود : ج 7 ص 23) ۔ اَیْ مَکْرُکُمْ فِیْہِمَا و اِغْراَؤُکُمْ ۔ (محاسن التاویل : ج 14 ص 28) ۔ مطلب یہ ہے کہ چیلے اپنے گرؤوں سے اور دم چھلے بنے رہنے والے چھوٹے اپنے بڑوں سے کہیں گے کہ تم نے دن رات مکر و فریب کا جو جال بچھا رکھا تھا، طرح طرح کے جو ہتھکنڈے تم لوگوں نے اپنی دکانوں کو سجانے اور اپنے کاروبار کو چمکانے کے لئے اپنا رکھے تھے۔ چمک دمک، ٹھاٹھ باٹھ اور کروفر کے جو نظر فریب مظاہر تم نے قائم کر رکھے تھے انہی کی وجہ سے تو ہم گمراہ ہوئے اور تمہارے کہنے میں آئے۔ ورنہ ہم تمہارے جال میں کبھی نہ پھنستے۔ پس تم کس طرح کہہ سکتے ہو کہ ہمارے بہکانے میں تمہارا کوئی عمل دخل نہیں۔ اہل بدعت کہتے ہیں کہ ایسی آیتیں صرف کفار کے لئے ہیں تاکہ اس طرح ان کے کاروبار شرک و بدعت پر زد نہ پڑے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب قرآن پاک میں خود " الَّذِیْنَ " کے کلمات عامہ استعمال فرمائے گئے تو پھر تم لوگ ان کو کافروں کے ساتھ خاص کس طرح قرار دیتے ہو ؟ پس صحیح اور حق یہ ہے کہ یہ کلمات اپنے ظاہر اور عموم پر ہیں۔ اور ہر اس شخص کو شامل ہیں جو دوسروں کو گمراہ کرے اور ان کو راہ حق و ہدایت سے پھیرے خواہ وہ کوئی کھلم کھلا کافر و منافق شخص ہو یا کوئی بدعتی پیر یا گمراہ ملاں وغیرہ۔ اسی لئے جمہور مفسرین کرام نے ان کلمات کی تفسیر و تشریح اتبْاع وَ مَتُبوْعِیْن کے کلمات عامہ سے فرمائی ہے، خواہ وہ کوئی بھی ہوں ۔ " ہُمُ الاتْبَاعُ وَسَادَتْہُمْ وَقَادَتُہُمْ " ۔ (محاسن التاویل : ج 14 ص 27) ۔ " اَیْ یَقُوْلُ الاَتْبَاعُ لِسَادِتِہِمْ " ۔ (المراغی : ج 22 ص 85) ۔ " یَقُوْلُ الاَتْبَاع للرُؤُسَائِ " ۔ (صفوۃ التفاسیر : ج 2 ص 555) ۔ " اَلاَتْبَاعُ وَالْمَتْبُوْعِیْنَ " ۔ (جامع البیان : ج 2 ص 181) ۔ اب ان اہل بدعت سے کوئی پوچھے کہ حضرات مفسرین کرام تو ان کلمات کو اپنے عموم پر رکھ رہے ہیں کہ حق کے خلاف جو بھی کوئی کسی کی پیروی کرے گا اور کرائے گا وہ اس میں داخل ہے۔ خواہ کوئی بھی ہو اور کہیں کا بھی ہو۔ تو پھر تم لوگ ان کو کفار کے ساتھ خاص کس طرح قرار دیتے ہو ؟ اور تمہارے پاس اس کی دلیل کیا ہے ؟ بہرکیف۔ { یَرْجِعُ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ الْقَوْلَ } ۔ کے اس ارشاد سے ان گمراہ لیڈروں اور ان کے پیروکاروں کی اس تو تکار کا نقشہ پیش فرما دیا گیا جو آخرت کے اس جہان غیب میں ان کے درمیان پیش آئیں گی۔ مطلب یہ کہ آج تو یہ گمراہ لیڈر اور ان کے یہ اندھے پیرو حق اور اہل حق کے خلاف ایک جٹ بنے ہوئے ہیں اور لیڈر اپنے پیروؤں کو طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے یہ باور کرا رہے ہیں کہ ان ہی کی پالیسی ٹھیک ہے۔ لہذا وہ انہی پر اعتماد کریں اور خیر و شر کی ذمہ داری انہی پر ہے اور عوام کالانعام آنکھیں بند کر کے ان کے پیچھے چل رہے ہیں کہ کوئی خطرہ پیش آیا تو ہمارے یہ لیڈر ہمیں اس سے بچا لیں گے۔ لیکن کل جب یہ کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہان غیب میں پہنچیں گے جہاں ہر چیز اپنی اصلی شکل اور حقیقی رنگ میں سامنے آئے گی۔ تو اس وقت ان کو سب پتہ لگ جائے گا اور اس وقت ان میں سے ہر ایک دوسرے کو اپنی گمراہی کا باعث اور ذمہ دار قرار دے گا اور اس پر تو تکار کے تیر برسائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔
78 پیرؤوں کا اپنے گرؤوں پر مزید حملہ اور الزام : سو وہ ان سے کہیں گے کہ جب تم لوگ دنیا میں ہم سے کہا کرتے تھے کہ ہم اللہ کے ساتھ کفر کریں اور اس کے ساتھ دوسرے طرح طرح کے شریک اور ہمسر ٹھہرائیں۔ یعنی جب تم ہمیں ایمان و توحید کی راہ سے ہٹا کر کفر و شرک کی راہ پر چلنے کی تلقین کیا کرتے تھے اور اپنے قول و فعل سے ہمیں یہ بتایا کرتے تھے کہ اللہ پاک کے ساتھ فلاں فلاں بتوں، پتھروں اور ہستیوں اور آستانوں وغیرہ کو بھی مشکل کشا و حاجت روا سمجھو کہ یہ بھی خدا کی خدائی میں شریک اور حصے دار ہیں۔ اور یہ کہ خدائے پاک نے ان کو بھی اختیارات سونپ رکھے ہیں۔ اور یہ ہمارے ذریعے، وسیلے اور یہ اس کے یہاں ہمارے سفارشی ہیں ۔ { ہٰؤُلآئِ شُفَعَائُ نَا عِنْدَ اللّٰہِ } ۔ فَنَعُوْذُ باللّٰہِ مِنْ اَنْ نُشْرِکَ بِہ شَیْئًا نَعْلَمُہ وَنَسْتَغْفِرُہ لِمَا لَا نَعْلَمُہْ سُبْحَانَہ وَ تَعَالٰی ۔ بہرکیف اس سے واضح ہوا کہ وہ پیرو اپنے لیڈروں اور پیشواؤں سے کہیں گے کہ یہ تم لوگوں کی دن رات کی سازشیں اور تمہاری پراپیگنڈہ مہم تھی کہ ہم لوگ حق کی پیروی سے محروم رہے اور تم لوگ ہمیں سکھاتے سمجھاتے رہے تھے کہ ہم حق و ہدایت کی پیروی سے منہ موڑ کر برابر کفر و شرک پر جمے رہیں۔ سو ان کے اس جواب سے یہ بات نکلتی ہے کہ حق ان کے سامنے واضح ہوگیا تھا لیکن وہ اس وجہ سے اس کی پیروی نہ کرسکے کہ ان کے لیڈروں کی دن رات کی سازشوں اور ان کی پروپیگنڈا مہم نے ان کا راستہ روک رکھا تھا اور ان کا یہ پروپیگنڈا اتنا سخت تھا کہ اس نے ان کو راہ حق سے محروم کردیا تھا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
79 باطل پرستوں کے گلوں کے طوقوں کا ذکر وبیان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ باطل پرستوں اور منکرین و مشرکین کے گلوں میں محرومی و بدبختی کے طوق پڑے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اللہ پاک کی اس سنت اور دستور کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ڈال دیئے طوق انکے گلوں میں "۔ " ڈال دئیے ہیں " ماضی کا صیغہ استعمال فرمایا گیا ہے جس سے ایک طرف تو اس کے تحقق وقوع یعنی قطعی اور یقینی ہونے کی طرف اشارہ ملتا ہے۔ اور دوسری طرف اس سے یہ پتہ بھی چلتا ہے کہ جو لوگ حق کے انکار میں پوری ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے ہیں ان کے گلوں میں یہ طوق دراصل آج اور ابھی سے پڑے ہوتے ہیں مگر وہ اس وقت نظر نہیں آ رہے۔ کل قیامت کے روز جب حقائق بےنقاب ہوجائیں گے تو ان کو انہی طوقوں کے ذریعے گھسیٹ کر دوزخ میں ڈالا جائے گا ۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ وَ لَاحَوْلَ وَ لَا قُوَّۃَ اِلَّا بِہٖ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی ۔ سو ان لوگوں نے اپنی عقلوں اور اپنے ضمیروں کو معطل کرکے جو دوسروں کی غلامی اور ان کی اندھی تقلید کے طوق اپنے گلوں میں ڈال رکھے تھے کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہاں میں وہ سب اپنی اصل اور حقیقی شکل میں سامنے آجائیں گے۔ اور دوزخ کے داروغے انکو انہی سے پکڑ کر اور گھسیٹ کر انکے منہ کے بل دوزخ میں ڈالیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { یَوْمَ یُسْحَبُوْنَ فِی النَّارِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ ذُوْقُوْا مَسَّ سَقَر } ۔ (القمر : 47) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
80 انسان کو اس کے اپنے ہی اعمال کا بدلہ ملے گا : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں کو بدلہ نہیں دیا جائے گا مگر ان کے اپنے ان کاموں کا جو یہ کرتے رہے تھے "۔ یعنی اپنی دنیاوی زندگی میں۔ پس ہم نے ان پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ وہ اپنے ہی کئے کرائے کا بدلہ پائیں گے۔ لہذا انہیں کسی شکایت کا کوئی حق نہیں۔ سو انسان اس دنیا میں بھلا برا جو بھی کوئی عمل کرتا ہے وہ اپنے ہی لئے کرتا ہے کہ اس کا صلہ و بدلہ خود اسی کو ملے گا۔ وہ جیسا کرے گا ویسا بھرے گا۔ سو ان لوگوں کی گردنوں میں جو یہ طوق ڈالے جائیں گے تو یہ انکے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی بلکہ یہ انکا اپنا ہی وہ کیا کرایا ہوگا جو انہوں نے دنیا میں کیا ہوگا۔ اور انہوں نے دوسروں کی غلامی کے جو قلادے اپنی گردنوں میں ڈال کر اپنے رب کی نافرمانی کی تھی ۔ والعیاذ باللہ ۔ وہی اغلال اور طوق ان کی گردنوں میں اس روز سامنے آجائیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انسان بھلا برا جو بھی کچھ کرتا ہے وہ خود اپنے ہی لیے کرتا ہے جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ مثلا ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے ۔ { مَنْ عَملَ صَالِحًا فَلِنَفْسِہ وَمَنْ اَسَائَ فَعَلَیْہَا وَمَا رَبُّکَ بِظَلَّام لِلْعَبِیْد } ۔ ( حم السجدہ : 46) ۔
Ayah 34:3481 دنیاوی مال ودولت باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرمایا گیا کہ مالدار اور عیش پرست طبقہ ہمیشہ حق اور اہل حق کا مخالف اور ان کا دشمن ہی رہا ۔ الا ما شاء اللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے جس بستی میں بھی کوئی خبردار کرنے والا بھیجا اس کے عیش پرست لوگوں نے یہی کہا کہ ہم قطعی طور پر منکر ہیں اس پیغام کے جس کے ساتھ تم کو بھیجا گیا ہے "۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ دنیا کا مالدار اور عیش پرست طبقہ ہمیشہ حق اور اہل حق کا مخالف اور ان کا دشمن رہا ۔ الا ماشاء اللہ ۔ پس آپ کیخلاف اے پیغمبر ! رؤسائے قریش اور کفار مکہ آج جو کچھ کررہے ہیں یہ کوئی ایسی بات نہیں جو اس سے پہلے کبھی نہ ہوئی ہو۔ اس لئے اس پر نہ تعجب کرنے کی ضرورت ہے نہ دلگیر ہونے کی کہ یہ پہلے سے ہوتا چلا آرہا ہے کہ ہر پیغمبر کے مقابلے میں ان کی قوم کے عیش پرست لوگوں نے یہی کیا۔ سو یہاں ایک مرتبہ پھر اس حقیقت پر روشنی پڑتی ہے کہ دعوت حق کی مخالفت میں پیش پیش ہمیشہ خوشحال و عیش پرست اور کھاتا پیتا طبقہ ہی رہا ہے۔ کل بھی یہی حال تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ اِلا مَا شَآئَ اللّٰہُ ۔ اور یہ دنیاوی مال و دولت کی ضرر رسانی کا ایک بڑا خطرناک پہلو ہے کہ اس کی بنا پر ابنائے دنیا اپنے آپ کو حق پر سمجھنے لگتے ہیں۔ اور اس طرح وہ حق اور ہدایت کی دولت سے ہمیشہ محروم رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 34:3582 ابنائے دنیا کی ایک مشترکہ غلط فہمی : سو ابنائے دنیا ہمیشہ اسی غلط فہمی میں رہے کہ ہمارے پاس مال و دولت بھی زیادہ ہے اور جتھا اور پارٹی بھی بڑی۔ لہذا ہمیں کوئی عذاب نہیں ہوگا۔ ایسے لوگوں کے یہاں یہی غلط فہمی اس وقت بھی پائی جاتی تھی اور یہی آج بھی پائی جاتی ہے کہ عام طور پر اہل دنیا کے یہاں مال و دولت کی کثرت وبہتات کو حق و صداقت کی دلیل سمجھا جاتا ہے۔ مال دار طبقے کا کہنا اور سمجھنا یہ تھا اور آج بھی یہی ہے کہ جب ہمیں دنیا اس قدر ملی ہوئی ہے تو ہم ہی صحیح اور درست لوگ ہیں۔ ورنہ ہمیں یہ سب کچھ کیوں ملتا۔ قیامت وغیرہ کوئی چیز نہیں بلکہ یہی دنیا کی عیش و عشرت ہے اور بس۔ اور اگر بالفرض قیامت ہوئی بھی تو وہاں بھی ہمیں ہی نوازا جائے گا اور ہمیں عذاب وغیرہ کوئی نہیں ہونا ۔ { وَلَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰی رَبِّیْ اِنَّ لِیْ عِنْدَہ لَلْحُسْنٰی } ۔ (حمٓ السجدۃ : 50) اور اس طرح ایسے لوگ حق و ہدایت کی عظیم الشان دولت اور بےمثال نعمت سے ہمیشہ محروم رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دنیاوی مال و دولت کا یہ پہلو بڑا خطرناک ہے کہ اہل کفر و باطل اس کی بنا پر اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ ہم ٹھیک ہیں اور ہمارا طریقہ و راستہ درست ہے۔ اور اس طرح وہ نور حق و ہدایت کی دولت سے اور دور اور محروم سے محروم تر ہوتے جاتے ہیں۔ حالانکہ یہ سراسر دھوکہ ہوتا ہے جو ایسے بدبختوں کو لگتا ہے۔ کیونکہ جس دنیا کی حیثیت نصِّ صریح کے مطابق اللہ تعالیٰ کے یہاں پرکاہ ۔ مچھر کے پر کے برابر ۔ بھی نہیں اس میں سے اگر کسی کو کچھ کروڑ یا کچھ ارب و کھرب مل گئے تو بھی اس کو کیا ملا۔ خاص کر ایسی صورت میں کہ جب اس کے نتیجے میں اس کو ہمیشہ کے لیے دوزخ کے عذاب میں رہنا پڑے گا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اصل چیز دنیاوی مال و دولت نہیں بلکہ دین و ایمان کی دولت ہے۔ جس کے بعد دنیا ملے تو بھی خیر اور نہ ملے تو بھی خیر۔ جبکہ دین و ایمان سے محرومی کی صورت میں دنیا ملے تو بھی عذاب اور نہ ملے تو بھی عذاب۔ مگر دنیا کے کوتاہ بیں متوالوں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 34:3683 روزی کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ روزی کی تنگی اور کشادگی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ پس نہ تو روزی کی کشائش محبوبیت کی دلیل ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کی تنگی مبغوضیت کی علامت۔ بلکہ دنیا میں روزی کی تنگی و کشائش کچھ دوسری ہی حکمتوں پر مبنی ہوتی ہے جن کو اللہ پاک ہی بہتر جانتا ہے۔ ہمیں تو بس اس کی قضا و قدر پر راضی رہنا چاہیئے۔ کیونکہ وہ حاکم ہے۔ لہذا اپنی مخلوق میں جو چاہے حکم فرمائے۔ مگر اس کے ساتھ ہی ساتھ وہ چونکہ حکیم بھی ہے لہذا اس کا کوئی فعل بھی حکمت سے خالی نہیں ہوسکتا خواہ وہ ہمیں سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ پس ہمارا کام ہے اس کی رضا پر راضی رہنا اور جو وہ کرے اسی پر مطمئن ہوجانا اور ہمیشہ اس کی عبادت و بندگی میں مشغول رہنا اور اس کی رضا کے حصول کی کوشش کرنا ۔ اللہ توفیق دے ۔ سو اصل چیز دنیاوی مال و دولت نہیں بلکہ حق و ہدایت اور ایمان و یقین کی دولت ہے جو دارین میں کام آنے والی اور رب کی رضا و خوشنودی سے سرفرازی کا ذریعہ ہے۔ اس کے بعد اگر دنیاوی دولت ملے تو بھی خیر اور نہ ملے تو بھی خیر۔ کیونکہ ایسی صورت میں یعنی ایمان و یقین کی دولت سے سرفرازی کی صورت میں انسان کو اگر دولت ملتی ہے تو وہ اس پر اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور اس کو اپنے خالق ومالک کی رضا و خوشنودی کے حصول کیلئے خرچ کرتا ہے جس سے وہ اس کیلئے خیر بالائے خیر اور نور علی نور کا مصداق بن جاتی ہے۔ اور اگر اس کو دنیا نہیں ملتی تو اس پر وہ صبر و برداشت سے کام لیتا ہے جس سے وہ بھی اس کیلئے خیر کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ سو اصل چیز دنیاوی مال و دولت نہیں بلکہ ایمان و یقین کی دولت ہے جو سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
Ayah 34:3784 سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ ایمان وعمل صالح : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان اور عمل صالح سعادت دارین کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور اس سے یہ بھی واضح فرما دیا گیا کہ اللہ پاک کے یہاں اصل قدر و منزلت جس چیز کی ہے وہ ہے ایمان اور عمل صالح۔ اس کے ساتھ مال و اولاد بھی اگر مل جائے تو یہ چیزیں بھی اس کے لئے قدر و منزلت میں اضافے کا ذریعہ بن جائیں گی۔ کیونکہ مومن صالح ان میں اللہ پاک کے احکام و ہدایات کے مطابق عمل کرکے اس کی رضا و خوشنودی سے سرفراز ہونے کا سامان کرتا ہے جس سے اس کی دنیا بھی اس کیلئے دین اور نیکی بن جاتی ہے۔ سو ایمان و یقین کے ساتھ دنیا ملے تو بھی خیر اور نہ ملے تو بھی خیر۔ اور اس کے بغیر دنیا ملے تو بھی عذاب اور اگر نہ ملے تو بھی عذاب۔ سو اصل چیز اور سب سے بڑی دولت ایمان و یقین کی دولت ہے ۔ اَللّٰہُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَ ثَبِّتْنَا عَلَیْہِ ۔ پس مال و اولاد ایسی چیزیں نہیں ہیں جو کسی کیلئے خدا تعالیٰ کے یہاں وجہ قربت بن سکیں بلکہ یہ چیزیں اللہ تعالیٰ ابتلاء و آزمائش کے طور پر دیتا ہے کہ کون انکو پاکر خدا تعالیٰ کا بندہ بنتا اور اس کے شکر وسپاس میں اس کے آگے جھکتا ہے اور ایمان و عمل صالح کی راہ اختیار کرتا ہے۔ اور کون ان کی بنا پر تمردو سرکشی کی راہ اپناتا اور ناشکری کرتا ہے۔ سو اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے یہاں تقرب کا ذریعہ مال و اولاد نہیں بلکہ ایمان و یقین اور عمل صالح ہے۔ اگر کسی نے ایمان اور عمل صالح کی کمائی نہیں کی تو اس کیلئے مال و اولاد کی زیادتی صرف اس کے وبال میں اضافہ کرے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
85 ایمان والوں کیلئے اجر مضاعف کی خوشخبری : سو ایسے خوش نصیبوں کے لیے جو کہ ایمان و یقین اور عمل صالح کی دولت سے سرفراز و سرشار ہوں گے ان کے لیے کئی گنا بدلہ اور اجر وثواب ہے۔ دنیا میں کوئی ایسے نیک بندوں کی قدر و منزلت پہچانے یا نہ پہچانے اللہ پاک کے یہاں ان کا بہرحال بڑا مرتبہ و مقام ہے اور وہاں ان کو اپنے کئے کرائے کا صلہ و بدلہ کئی گناہ بڑھا کردیا جائے گا۔ ضعف کے معنیٰ کسی شئی کے مثل یا امثال کے آتے ہیں (معارف وغیرہ) ۔ سو ایسے خوش نصیب اور فائز المرام لوگوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دس گنا، سو گنا، سات سو گنا اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر ملے گا ۔ والحمد للہ ۔ صاحب اقرب الموارد لفظ ضعف کی تشریح میں لکھتے ہیں کہ اس کا اطلاق ایک مثل پر بھی آتا ہے اور کئی امثال پر بھی۔ سو اس ارشاد عالی میں ان لوگوں کیلئے بڑی بشارت اور خوشخبری ہے جو ایمان و عمل صالح کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق ۔ پس یہاں پر ضعف کے لفظ کو دوگنے اجر کے محدود معنیٰ میں نہ لیا جائے بلکہ جیسا کہ صاحب اقرب الموارد نے تصریح کی ہے کہ یہ لفظ کسی چیز کی مثل کے لیے بھی آتا ہے اور اس کے امثال کے لیے بھی۔ سو اس اعتبار سے اس جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ ایمان اور عمل صالح کی دولت رکھنے والوں کے لیے ان کے اعمال کا بدلہ اور ان کا اجر و صلہ مضاعف اور کئی گنا ہوگا ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
86 مومنین مخلصین کے لیے جنت کے عظیم الشان انعام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہ جنت کی عالیشان عمارتوں میں پورے امن کے ساتھ رہ رہے ہوں گے "۔ سو ان کو وہاں پر ہر طرح کا امن و سکون نصیب ہوگا۔ نہ تو وہاں کی ان نعمتوں کے ختم اور زائل ہوجانے کی فکر ہوگی اور نہ وہاں سے نکالے جانے کا کوئی ڈر اور خطرہ۔ سو اس دنیا میں تو مال و اولاد کیلئے ہر وقت طرح طرح کے خطرات درپیش رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور کوئی بھی اپنے آپ کو ان خطرات سے محفوظ نہیں سمجھتے۔ لیکن جو لوگ مال و دولت کو فلاح اخروی کا ذریعہ بناتے ہیں انکو اس کے صلے اور بدلے میں وہاں پر کامل امن و سکون نصیب ہوگا۔ اور ایسا کہ انکو اس بارے پھر کوئی تشویش کبھی لاحق نہیں ہوگی۔ سو ایسے خوش نصیبوں کو آخرت کے اس " دار الجزاء " میں جس اجر و صلہ سے نوازا جائے گا وہ ابدی اور لازوال ہوگا۔ اور اس باب میں ان کو پھر کبھی کوئی فکر و تشویش لاحق نہیں ہوگی۔ سو یہی ہے اصل اور حقیقی کامیابی جس کے لیے انسان کو محنت اور کوشش کرنی چاہیے { لِمِثْلِ ہٰذٰا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ ) ۔ اللہ توفیق بحشے ۔ آمین ثم آمین۔ بہرکیف ایمان و اخلاص کی دولت ہی اصل دولت ہے نہ کہ دنیاوی مال و متاع۔
Ayahs 34:38–3987 منکر اور سرکش لوگوں کے انجام کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس برعکس جو لوگ ہماری آیتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں ان کو اللہ کے عذاب میں پکڑ اور جکڑ کر لایا جائے گا۔ سو جو لوگ اللہ کی آیتوں کو نیچا دکھلانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ ان میں شکوک و شبہات پیدا کرتے اور اپنے اثر و وسائل کی حد تک لوگوں کو ان سے روکتے اور ورغلاتے ہیں اور وہ اپنے طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ اس طرح یہ لوگ نور حق کو اپنے مونہوں کی پھونکوں سے بجھا دیں گے اور ہماری گرفت و پکڑ سے بچ نکلیں گے وہ بڑے ہی خسارے کی راہ پر چل رہے ہیں۔ سو ان سب کو کل قیامت کے روز ہمارے فرشتے گرفتار کر کے دوزخ میں ڈالیں گے۔ تب ان کے خود ساختہ سہاروں میں سے کوئی بھی ان کے کام نہیں آئے گا۔ (المراغی، الصفوۃ، المعارف وغیرہ) ۔ سو جن لوگوں نے مال و اولاد کی کثرت کے زعم اور گھمنڈ کی بنا پر اللہ کی آیتوں کو جھٹلانے اور انکو نیچا دکھانے کی کوشش کی ان کا انجام بڑا ہی برا اور نہایت ہی ہولناک ہوگا۔ ان کو اللہ کے عذاب میں پکڑ کر لایا جائے گا تاکہ وہ اپنے کبر و غرور اور عناد و سرکشی کی سزا بھگتیں۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہو سکیں۔ اور { محضرون } کے لفظ میں ایسے بدبختوں کی تصویر پیش فرما دی گئی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی عنایت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 34:4090 حشر کے روز فرشتوں سے ایک سوال کا ذکر : سو اس ارشاد میں روز حشر کی تذکیر و یاددہانی اور اس ضمن میں فرشتوں سے ایک سوال کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ چناچہ اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ اس روز اللہ تعالیٰ فرشتوں سے پوچھے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری عبادت کیا کرتے تھے ؟ سو فرشتوں سے یہ سوال اس لیے کیا جائے گا تاکہ اس طرح حق اور حقیقت پوری طرح واضح ہوجائے۔ کیونکہ دنیا میں فرشتوں کے نام سے بھی بہت شرک کیا گیا اور مختلف ناموں کی دیویوں اور دیوتاؤں کی پوجا کی گئی اور مشرکین تو قرآن کی تصریح کے مطابق فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں مانتے تھے۔ جیسا کہ قرآن پاک میں دیگر متعدد مقامات میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اور یہ پوچھ صرف فرشتوں سے نہیں بلکہ ان سب سے ہوگی جن کی اللہ پاک کے سوا پوجا کی گئی ہوگی۔ جیسا کہ سورة مائدہ اور سورة فرقان وغیرہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس طرح کے سوال سے مقصود صرف پوچھنا نہیں ہوگا بلکہ اس سے اصل مقصود ان مشرکین کی توبیخ و تقریع ہوگی جنہوں نے ان کی پوجا کی ہوگی۔ نیز تاکہ اس طرح ان پر حجت قائم کی جاس کے۔ (المراغی، الصفوۃ وغیرہ) ۔ سو اس موقع پر مشرکین کی تذلیل اور ان کی یاس و حسرت کی انتہا نہ ہوگی کہ جن کی وہ زندگی بھر اس امید پر پوجا کرتے رہے تھے کہ یہ مشکل وقت میں انکے کام آئیں گے اس روز وہ ان کی اس پوجا کی صاف اور صریح طور پر تردید کردیں گے۔ اور اس سے واضح ہوجائے گا کہ انکو سرے سے ان کی اس عبادت و بندگی اور پوجا پاٹ کی خبر تک نہیں تھی اور وہ ان کی اس پوجا پاٹ کا صاف طور پر انکار کردیں گے۔ تب جو ان مشرک پجاریوں پر گزرے گی اس کا اندازہ ہی کون کرسکتا ہے۔ سو یہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا دنیا پر کس قدر فضل و کرم اور کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے اپنی کتاب حکیم کے ذریعے عالم غیب کے ان عظیم الشان حقائق سے اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ خبردار کردیا ہے۔ تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے قبل اس سے کہ عمر رواں کی یہ فرصت محدود اس کے ہاتھ سے نکل جائے اور اس کو ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ ایسا خسارہ ہوگا جس کے تدارک کی پھر کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 34:4191 شرک کی خطورت اور سنگینی کے اظہار کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے شرک کی خطورت کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے کہ فرشتے اس سوال کے جواب میں فورا اللہ پاک کی تنزیہ اور پاکیزگی بیان کرتے ہوئے اس سے اپنی براءت و بیزاری کا اعلان کردیں گے۔ یعنی آپ ہر قسم کے شرک سے پاک ہیں اے ہمارے رب اور ہمارے معبود کہ معبود برحق تو بہرحال آپ ہی ہیں۔ ہم کس طرح کسی اور کی عبادت و بندگی کے روادار ہوسکتے تھے۔ پس جو کچھ شرک وغیرہ ان لوگوں نے کیا اس سے ہم ہر طرح سے بری و بیزار ہیں۔ یہ اپنے کئے کرائے کے خود ہی ذمہ دار ہیں۔ سو فرشتوں کے اس جواب سے ایک حقیقت تو یہ واضح ہوجاتی ہے کہ شرک ایک نہایت گھناؤنا جرم اور سنگین گناہ ہے۔ اس لیے فرشتے اس کا ذکر سنتے ہی فوری طور پر اس سے اپنی براءت و بیزاری کا اظہار کریں گے اور اللہ پاک کی تسبیح و تقدیس کریں گے۔ اور دوسری بات یہ کہ فرشتے اس کو اپنے اوپر ایک تہمت خیال کریں گے کہ ان ظالموں نے ہمیں شرک کی اس گندگی میں ملوث کرنے کی کوشش کی۔ اور تیسری بات یہ کہ جن احمقوں نے شرک کے اس سنگین جرم کا ارتکاب کیا اس کی تمام تر ذمہ داری خود انہی پر ہے۔ فرشتے اور اسی طرح اللہ تعالیٰ کے دوسرے تمام نیک، صالح اور پاکیزہ بندے اس سے بری ہیں کہ وہ کسی کو اپنی عبادت و بندگی کا حکم دیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس موقعہ پر فرشتے ۔ { اَنْتَ وَلِیُّنَا مِنْ دُوْنِہِمْ } ۔ سے اپنے رب کے حضور اپنا استغاثہ پیش کریں گے کہ ان ظالموں کے مقابلے میں جنہوں نے ہمیں شرک جیسے اس سنگین اور ہولناک جرم میں ملوث کرنے کی کوشش کی آپ ہی اے ہمارے رب ہمارے مولیٰ و مرجع اور ہمارے یاور و ناصر ہیں۔ ہم ان لوگوں سے اور ان کی اس تہمت سے بری ہیں۔ پس تو ہمیں ان کی اس تہمت سے بری فرما۔ سو شرک محرومی اور ذلت و رسوائی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
92 غیر اللہ کے پجاری دراصل شیطان کی پوجا کرتے ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلکہ یہ لوگ تو جنوں کی پوجا کرتے تھے اور ان کی اکثریت ان پر ایمان رکھتی ہے "۔ سو انہی کے کہنے پر یہ لوگ غیر اللہ کی پوجا کرتے تھے۔ معلوم ہوا کہ اللہ پاک کے حکم کے خلاف کسی اور کے حکم پر چلنا دراصل اس کی پوجا کرنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور انہوں نے لات، عزی اور منات وغیرہ کے نام سے جو بت تراش رکھے تھے وہ سب فرضی اور وہمی تھے جن کا حقیقت میں کوئی مسمیّٰ کہیں موجود نہیں تھا بلکہ انہوں نے اپنے کاہنوں، جنوں اور شیطانوں کی تسویل و تزیین کی بنا پر انکو اپنا معبود قرار دے رکھا تھا اور ان کی اکثریت انہی پر ایمان رکھتی تھی۔ اور اسی بنا پر یہ لوگ جنوں کے بارے میں یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ وہ غیب کی خبروں کے لانے والے اور بذات خود نفع و نقصان کا اختیار رکھتے ہیں وغیرہ۔ سو توحید خداوندی سے محروم اور کفر و شرک کے اندھیروں میں بھٹکنے والے لوگ دراصل ابلیس کی پوجا کرتے ہیں مگر ان کو اس کا احساس و شعور نہیں کہ وہ کتنی بڑی ہلاکت اور تباہی میں مبتلاء ہو رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 34:4293 فرشتوں کے پجاریوں کے لیے مایوس کن اعلان : سو فرشتوں کے اس جواب کے بعد ان کے پجاریوں سے کہا جائے گا کہ فرشتوں کا صاف جواب تم نے خود سن لیا۔ سو اب نہ تم میں سے کوئی کسی کے نفع کا اختیار رکھتا ہے نہ نقصان کا۔ یعنی تم نے جو سمجھ رکھا تھا کہ ہم اللہ کے ان پیاروں کی عبادت و بندگی کرتے رہیں گے اور یہ کل ہمیں اللہ تعالیٰ کے یہاں چھڑوا دیں گے کہ ان کی بات کو وہ رد نہیں کرتا تو آج اس طرح کی کوئی چیز بھی تمہیں نصیب نہ ہوسکی۔ آج سب معاملہ اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ اس کے اذن کے بغیر کوئی کچھ بھی نہیں کرسکتا۔ (المراغی، وغیرہ) ۔ سو فرشتوں کے اس جواب اور اس اظہار براءت کے بعد ان پجاریوں سے کہہ دیا جائے گا کہ اب تم میں سے نہ کوئی کسی کے نفع کا مالک ہوسکتا ہے نہ نقصان کا۔ پس اب تم اپنے کیے کرائے کا بھگتان خود بھگتو۔ نہ فرشتے تمہارے کچھ کام آسکتے ہیں اور نہ تم لوگوں کو کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں اور نہ تم ان کو کوئی نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہو۔ اب تم لوگ اپنے کیے کرائے کا بھگتان خود بھگتو ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 34:43–4494 منکرین و معاندین کی ہٹ دھرمی کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب ان لوگوں کو ہماری کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص تم کو اپنے باپ دادا کے طریقوں سے روکنا چاہتا ہے "۔ یہ ہے نتیجہ وثمرہ، عناد و مکابرہ اور ضد و ہٹ دھرمی کا کہ حق کے پوری طرح واضح ہوجانے کے باوجود یہ لوگ اس سے اس طرح منہ موڑتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جب انکو ہماری ایسی کھلی آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں جن سے حق پوری طرح واضح ہوجاتا ہے تو یہ اس کو ماننے اور قبول کرنے کی بجائے الٹا داعی حق کیخلاف اپنے عوام کو بھڑکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاکہ اس طرح ایسے لوگ اپنی محرومی کے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی محروم کریں اور اس طرح یہ ضلال کے ساتھ ساتھ اضلال کے بھی مرتکب ہوتے ہیں اور اس کے نتیجے میں یہ اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کو بھی فی النار والسقر کرتے ہیں اور اس طرح ایسے لوگ اپنے ہاتھوں خود اپنی ہلاکت کے سامان میں اضافہ کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
95 ہٹ دھرمی کا ایک اور نمونہ، حق کو جادو قرار دینا ۔ والعیاذ باللہ -: سو اس سے منکرین و معاندین کے عناد اور ان کی ہٹ دھرمی کا ایک اور نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے کہ یہ حق کو جادو قرار دیتے ہیں۔ یعنی ہے تو یہ " اِفْکِ مُفْتَرٰی " ۔ " من گھڑت جھوٹ " مگر اس میں بلا کی جو تاثیر پائی جاتی ہے جس سے یہ دلوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے تو وہ محض جادو کا اثر ہے کہ یہ ایک کھلا ہوا جادو ہے۔ سو دیکھا آپ نے کہ کیسی مت مار دی جاتی ہے ایسے ہٹ دھرم لوگوں کی اور ان کو حقائق کس طرح الٹے نظر آنے لگتے ہیں۔ قرآن پاک کی بےمثال تاثیر اور بےکیف حلاوت کے قائل ہونے کے باوجود یہ لوگ اس کو من جانب اللہ وحی ماننے کی بجائے اسے من گھڑت جھوٹ اور کھلا جادو قرار دیتے ہیں۔ اور یہی حال دور حاضر کے متعصب مستشرقین کا ہے کہ وہ بھی قرآن پاک کی عظمتوں کے بارے میں بہت کچھ جاننے کے باوجود اس پر ایمان لانے سے محروم ہی رہتے ہیں۔ اور اسے وحی خداوندی ماننے کی بجائے محمد ﷺ کی طباعی اور ذہانت و عبقریت کا نتیجہ قرار دیتے ہیں ۔ وَالْعَیَاذ باللّٰہِ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَ زَیْغٍ وَ ضَلالٍ ۔ سو یہ ان منکرین و معاندین کے عناد و مکابرہ اور ان کی ہٹ دھرمی کا ایک اور نمونہ و مظہر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 34:4597 پیغمبر کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان : سو پیغمبر کی تسکین وتسلیہ کے طور پر ارشاد فرمایا گیا " اور ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی جھٹلایا ۔ حق اور حقیقت کو ۔ "۔ پس آج کے ان منکروں کی تکذیب کوئی نئ چیز نہیں۔ پس اس پر نہ تو تعجب کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ملول خاطر اور دل برداشتہ ہونے کی کہ یہ کوئی نئی اور انوکھی بات نہیں جس سے صرف آپ ﷺ ہی کو واسطہ پڑا ہو اے پیغمبر ! بلکہ ایسا اس سے پہلے بھی ہوتا آیا ہے۔ پہلے کی باغی اور سرکش قوموں نے بھی اسی طرح حق اور دعاۃِ حق کو جھٹلایا۔ پس آپ ﷺ بھی اے پیغمبر اسی طرح صبر و برداشت اور استقلال سے کام لیں جس طرح کہ گزشتہ انبیائے کرام نے لیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { فَاصْبِرْ کَمَا صَبَرَ اُوْلُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَّہُمْ } ۔ (الاحقاف : 35) ۔ نیز اس میں رسول کی تکذیب کرنے والے منکرین و معاندین کیلئے بھی درس عبرت ہے کہ اللہ کے بھیجے ہوئے " نذیر " کی تکذیب کا لازمی نتیجہ اور آخری انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس میں پیغمبر کے لیے اور پیغمبر کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کے لیے صبر و برداشت اور استقلال و استقامت کا درس ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
98 تکذیب رسل کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان لوگوں نے میرے رسولوں کو جھٹلایا تو پھر دیکھو کیسا تھا میرا عذاب ؟ "۔ یعنی ان لوگوں کو جس قدر مال و دولت، قد و قامت اور قوت و طاقت وغیرہ سے نوازا گیا تھا آج کے یہ منکرین حق اس کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچتے۔ تو جب وہ لوگ حق کی تکذیب و مخالفت کی وجہ سے ہماری گرفت اور پکڑ سے نہیں بچ سکے تو یہ پھر یہ کس باغ کی مولی اور کس برتے کے مالک ہیں کہ اپنے کئے کرائے کے انجام بد سے بچ سکیں ؟ اور ان کی حقیقت اور حیثیت ہی کیا ہے۔ کیا پدی کیا پدی کا شوربا ؟ پس ان کو چاہیئے کہ یہ ہوش کے ناخن لیں اور حق کی تکذیب و مخالفت سے بچیں اور اپنی اس روش سے باز آجائیں کہ یہ ہلاکت اور تباہی کی روش اور ابدی خسارے کا راستہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو تکذیب رسل کا جرم ایسا ہولناک اور اس قدر سنگین جرم ہے کہ اس کا آخری نتیجہ و انجام بہرحال دائمی ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس ایسے لوگوں کو ملنے والی مہلت سے کبھی دھوکا نہیں کھانا چاہیے۔
Ayah 34:4699 منکرین و معاندین کو دعوت غور وفکر : سو اس سے منکرین و معاندین کو ایک پرسوز انداز کی نصیحت اور دعوت غور و فکر دی گئی ہے کہ تم لوگ تعصب اور ہٹ دھرمی سے پاک وبالا تر ہو کر سوچو اور غور کرو تو تمہیں راہ حق و ہدایت نصیب ہوسکتی ہے۔ ورنہ محرومی ہی رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد ربانی میں منکرین و معاندین کو ایک نہایت پردرد اور دلدوز انداز میں دعوت غور و فکر دی گئی ہے کہ تم لوگ تعصب وعناد، ضد اور ہٹ دھرمی اور کبر و غرور کی آلائشوں سے پاک و صاف اور خالی الذہن ہو کردو دو اور ایک ایک کی صورت میں اٹھو اور معاملے پر سنجیدگی سے سوچو اور غور و فکر سے کام لو۔ اور نفس و شیطان کی تابعداری سے بچ کر صرف اللہ کی خاطر اور اس کی رضا جوئی اور خوشنودی کے حصول کیلئے سوچو۔ اور اللہ کی خاطر دوسرے تمام دواعی و محرکات سے آزاد ہو کر حق اور حقیقت کے فہم و ادراک کی خاطر اٹھو۔ تاکہ تم راہ حق و صواب سے سرفراز و فیضیاب ہوسکو اور ہلاکت و تباہی سے بچ سکو۔ کیونکہ راہ حق سے محرومی و انحراف کا لازمی نتیجہ ہلاکت و تباہی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
100 غور و فکر کے ایک خاص انداز کی نشاندہی : یعنی " تم ایک ایک اور دو دو ہو کر سوچو اور غور کرو " کہ اس سے زیادہ میں شور و غوغائیت اور ذاتی انا و تعصب وغیرہ امور جنم لے لیتے ہیں جس کی وجہ سے صحیح معنوں میں غور و فکر نہیں ہوسکتا۔ سو اس طرح غور کرنے سے تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ تمہارے ان صاحب اور ساتھی کی ہر بات حق و صداقت کے عین مطابق ہے اور یہ قطعی طور پر حق پر ہیں۔ اور ان کی بات ماننے اور ان پر ایمان لانے میں خود تمہارا اپنا بھلا ہے۔ دنیاوی زندگی کی اس عارضی فرصت میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی جبکہ اس سے اعراض کرنے اور منہ موڑنے میں تمہارے لئے دارین کا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے غور وفکر کے ایک خاص انداز و اسلوب کی نشاندہی فرمائی گئی کہ تم ایک ایک اور دو دو ہو کر سوچو۔ کیونکہ بھیڑ بھاڑ اور شور و غوغا کا ذہن حقائق کو سوچنے سمجھنے کا اہل نہیں ہوتا۔ لہذا تم لوگ شور اور غوغائیت کے طریقے کو چھوڑ کر سنجیدگی سے غور کرو تاکہ تم حق اور حقیقت کو سمجھ سکو ۔ وباللہ التوفیق ۔
101 منکرین کے دلوں پر ایک دستک : سو منکرین کے دلوں پر دستک کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ سوچو کہ تمہارے ساتھی میں جنون کی آخر کونسی بات ہے ؟۔ یعنی تمہارے ان صاحب اور ساتھی میں جنہوں نے اس سے پہلے زندگی کا ایک بڑا حصہ خود تمہارے اندر اور تمہارے سامنے گزارا ہے۔ ان کی حیات طیبہ کا کوئی گوشہ تم سے اوجھل اور پوشیدہ نہیں۔ اور ان کے دعوائے نبوت اور دعوت توحید سے پہلے تم لوگ خود ان کو صادق و امین مانتے رہے۔ آخر اب ان میں کسی جنون کا کوئی شائبہ کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو ایک طرف تو تمہارے ان ساتھی کی صاف ستھری زندگی ایک صاف و شفاف آئینے کی طرح تمہارے سامنے موجود ہے اور دوسری طرف ان کی وہ پاکیزہ دعوت ہے جو عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اور جو تمہیں اپنے اس سب سے بڑے اور اہم تقاضے کی یاددہانی کراتی ہے جو تمہارے رب کی معرفت اور اس کے حقِّ بندگی سے متعلق تم پر عائد ہوتا ہے۔ تو پھر اس میں کسی جنون کا آخر کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔ سو جنون ان میں نہیں بلکہ خود تمہارے اپنے اندر ہے۔ اور خود تمہاری عقلوں پر پردہ پڑا ہوا ہے جو تم انکے مقابلے کیلئے صف بندی کرنے میں لگے ہوئے ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جو سب سے بڑے عاقل اور خیر خواہ کو دیوانہ کہے اس سے بڑھ کر دیوانہ اور کون ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ -
102 پیغمبر کا اصل کام انذار یعنی خبردار کرنا ہے اور بس : آنے والے ایسے ہولناک خطرے سے جس کی خبر پیغمبر کے سوا کسی کو نہیں ہوسکتی۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ تو محض ایک خبردار کرنے والا ہے تمہارے لیے ایک بڑے ہی سخت عذاب سے پہلے "۔ تو کیا یہ بھی دشمنی اور مخالفت کی کوئی وجہ ہوسکتی ہے کہ وہ تمہیں آنے والے ایک سخت عذاب اور ہولناک انجام سے خبردار کرے تاکہ تم اس میں پکڑے جانے سے پہلے اور پیشگی طور پر اس سے بچنے کے لئے تیاری کرسکو ؟ کیا نیکی کا صلہ اور خیر خواہی کا بدلہ یہی کچھ ہوا کرتا ہے جو تم لوگ ان کو دے رہے ہو ؟ اور کیا اس سے بڑھ کر کوئی بھلائی اور خیر خواہی ہوسکتی ہے جو یہ پیغمبر تم سے کر رہے ہیں ؟ تو پھر تم لوگ کتنے بےانصاف اور کیسے قدر ناشناس ہو جو ان کی بات ماننے کی بجائے الٹا ان کی تکذیب اور مخالفت کرتے ہو ؟ سو تمہارے اپنے کرتوتوں کی بنا پر جو عذاب تمہارے سروں پر منڈلا رہا ہے پیغمبر تمہیں اس سے خبردار کررہا ہے تاکہ تم اس سے بچنے کی فکر کرسکو۔ سو اس کی ساری بیقراری تمہارے ہی بھلے کیلئے ہے ورنہ اس سے ان کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ نہیں۔ صرف تم ہی لوگوں کی بھلائی اور خیرخواہی مطلوب ہے۔