Ayah 28:75103 ہر امت سے ایک گواہ لانے کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور نکال لائیں گے ہم ۔ اس روز۔ ہر امت سے ایک گواہ "۔ یعنی انکے نبی کو یا جو اس کے قائم مقام ہوگا جس نے انکو حق کا پیغام پہنچایا ہوگا۔ (فتح وغیرہ) ۔ سو اس روز ہر پیغمبر اپنی امت پر گواہی دے گا کہ اس نے ان کو حق ہی کی دعوت دی تھی اور ان کو توحید ہی کی تعلیم و تلقین فرمائی تھی۔ اس طرح مشرکوں پر حجت قائم ہوجائے گی اور واضح ہوجائے گا کہ شرک کے ہولناک جرم کا ارتکاب ان لوگوں نے خود کیا تھا اور پیغمبر کی تعلیمات کیخلاف کیا تھا۔ اور ان کے نام پر کیا جانے والا کاروبار شرک انہوں نے انکے رخصت ہوجانے کے بعد کیا تھا۔ سو اس طرح ان لوگوں کا جرم ثابت اور مزید واضح ہوجائے گا اور اس حد تک اور اس طور پر کہ ان کے لیے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ اور اس کے نتیجے میں ان کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کے بھگتان کے حوالے کردیا جائے گا۔
104 مشرکوں سے دلیل کا مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ہم مشرکوں سے کہیں گے کہ لاؤ تم لوگ اپنی دلیل اپنے ان عقائدِ باطلہ پر جن کو تم نے دنیا میں اپنا رکھا تھا اور جن کی بنا پر تم نے راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ رکھا تھا اور فرصت عمر کو طرح طرح کی شرکیات کی نذر کر رکھا تھا۔ اور اپنی گمراہی اور بےراہ روی کے لئے تم لوگ طرح طرح کی حجت بازیوں اور سخن سازیوں سے کام لیا کرتے تھے۔ سو اب پیش کرو اپنی دلیل۔ یعنی پیغمبر نے تو اپنا موقف بیان کردیا اور تمہاری شرکیات سے اپنی براءت و بیزاری کا اعلان کردیا۔ اب تم لوگ بتاؤ کہ تمہارا موقف کیا ہے اور تمہارے پاس اپنے شرکیہ موقف کی سند اور اس کی دلیل کیا ہے ؟ سو اس طرح ان لوگوں پر حجت قائم ہوجائے گی اور انکے پاس کوئی عذر باقی نہیں رہے گا۔ اور ان کو انکے ہولناک انجام میں دھر لیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
105 حق قطعی طور پر اللہ ہی کے لیے ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس وقت ان کے سامنے واضح ہوجائے گا کہ حق اللہ ہی کیلئے ہے اور یہ بات کھل کر ان کے سامنے آجائے گی کہ مالک و مختار اور حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی اور صرف وہی ہے ۔ اِنّ الْحَقّ لِلّٰہِ فِی الالوہِیّۃِ لَا یُشَارِکُہٗ سُبْحَانَہ وتعالی فِیْہِ اَحَدٌ- (روح، ابن کثیر، مدارک، صفوہ وغیرہ) ۔ سو اس وقت حق ان کے سامنے پوری طرح واضح ہوجائے گا اور یہ اس کا صاف اور صریح طور پر اقرار و اعتراف کریں گے۔ لیکن بےوقت کے اس اقرار و اعتراف سے ان کو کسی طرح کا کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوگا سوائے ان کی آتش یاس و حسرت میں اضافے کے۔ اور ان کے وہ خودساختہ مفروضے، من گھڑت فلسفے اور طرح طرح کے ڈھکوسلے سب کے سب ان سے کھو چکے ہوں گے۔ جس کے بعد ان کیلئے کسی لب کشائی کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔ یہاں پر یہ امر ملحوظ رہے کہ ہر امت اور ہر گروہ اپنے کاروبار شرک و بدعت کی تایید میں اپنے نبیوں اور رسولوں اور اپنے بڑوں اور بزرگوں ہی کا حوالہ دیتا ہے کہ ہم یہ سب کچھ انہی کی تعلیمات اور ہدایات کے مطابق کرتے ہیں۔ سو اس روز حضرات انبیاء و رسل اور شہدائے حق کی ایسی گواہی سے اصل حقیقت پوری طرح کھل کر سامنے آجائے گی جس سے ایسے لوگوں پر حجت تمام ہوجائے گی جس کے بعد ان کے لیے کسی حیل و حجت، قیل وقال اور عذر و معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی اور ان کو اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 28:76106 قارون اور اس کی سرکشی کی داستان عبرت کا بیان : سو یہاں سے طغیان و سرکشی کے دوسرے سبب یعنی دنیوی مال و دولت کا ذکر فرمایا جا رہا ہے جبکہ اس سے قبل اس کے پہلے عامل و باعث یعنی نشہ اقتدار کو بیان فرمایا گیا ہے۔ روایات کے مطابق قارون حضرت موسیٰ کا چچا زاد بھائی تھا۔ اس نے اپنی قوم کے خلاف فرعون سے مل کر خوب خوب نفع اٹھایا۔ فائدے حاصل کئے اور دولت کمائی۔ پھر غرق فرعون کے بعد جب یہ حضرت موسیٰ کے ساتھ بچ نکلا تو بظاہر اگرچہ یہ مسلمان بنا ہوا تھا مگر اندر سے سامری کی طرح یہ بھی منافق اور منکر تھا۔ تاآنکہ جب حضرت موسیٰ نے بنی اسرائیل کو زکٰوۃ کا حکم سنایا تو یہ نفاق کے پردے سے نکل کر کھلے کفر کی شکل میں سامنے آگیا۔ اپنے کچھ حواریوں کو جمع کر کے کہا کہ موسیٰ کی باتیں اس سے پہلے تو ہم سب مانتے اور برداشت کرتے رہے مگر اب تو اس نے ہم سے ہمارے مالوں کا مطالبہ بھی شروع کردیا ہے۔ تو کیا تم لوگ اس کی یہ بات بھی مان لو گے ؟ ان ٹوڈیوں نے جواب دیا کہ جیسے جناب کی رائے ہو ہم ویسے ہی کریں گے۔ تو اس نے کہا میں تو کبھی بھی اس کے لئے تیار نہیں ہوں گا۔ انہوں نے کہا پھر ہم بھی ایسا ہی کریں گے۔ اس کے بعد اس نے ایک سازش تیار کی کہ ایک فاحشہ عورت کو بہت سا روپیہ پیسہ دے کر اس بات پر آمادہ کرلیا کہ جب موسیٰ بھرے مجمع میں تقریر کر رہے ہوں تم اٹھ کر ان پر زنا کی تہمت لگا دینا۔ چناچہ اس طے شدہ پروگرام کے مطابق اس فاحشہ عورت کو ایک ایسے مجمع میں لایا گیا جہاں حضرت موسیٰ نے خطاب فرمانا تھا۔ اور آپ نے دوران خطاب جب زنا کی سزا بیان فرمائی تو قارون نے کہا کہ موسیٰ یہ قانون سب کے لئے ہے ؟ یا صرف ہمارے لئے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا " نہیں سب کے لئے ہے "۔ تو اس نے کہا ! اگرچہ آپ بھی کیوں نہ ہوں ؟ حضرت موسیٰ نے فرمایا ہاں اگرچہ میں بھی کیوں نہ ہوں۔ اس پر اس ملعون نے کہا کہ لو اب سنو کہ فلاں عورت آپ کے بارے میں کیا کہتی ہے ؟ اس پر اس نے اس عورت کو مجمع میں کھڑا کردیا۔ موسیٰ نے جب اس عورت کو خدا کو واسطہ دے کر پوچھا تو وہ کانپ گئی۔ اور صاف بتادیا کہ مجھے قارون نے بھاری لالچ کے عوض اس الزام و اتہام کے لئے تیار کیا تھا۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ نے بارگاہ خداوندی میں قارون کے لئے بد دعا کی جس سے وہ ملعون اپنے مال و دولت سمیت زمین میں دھنس گیا اور ہمیشہ کے لئے فی النار والسقر ہوگیا۔ اور رہتی دنیا کے لئے درس عبرت بن گیا ۔ والعیاذ باللہ تعالیٰ ۔ (روح، قرطبی، ابن کثیر، خازن، معارف، مراغی، جامع اور فتح وغیرہ وغیرہ) ۔ اللہ تعالیٰ ایسے اشرار و اَعداء کے شر سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
107 قارون کے مال و دولت کا حال : " مفاتیح "، " مفتح " کی جمع بھی ہوسکتی ہے جس کے معنیٰ خزانے کے آتے ہیں اور " مفتاح " کی جمع بھی جس کے معنیٰ چابی اور کنجی کے آتے ہیں۔ اس لئے بعض حضرات نے اگرچہ اس لفظ کو پہلے معنیٰ میں لے کر کہا کہ اس کے خزانے اتنے تھے کہ ایک طاقتور جماعت کے لئے بھی ان کا اٹھانا مشکل تھا۔ مگر اکثر کے نزدیک یہاں پر یہ لفظ مفتاح کی جمع ہے جس کے معنی چابی کے آتے ہیں۔ یعنی اس کے خزانوں کی چابیاں اتنی تھیں کہ ایک طاقتور جماعت کے لئے بھی ان کا اٹھانا مشکل ہوتا تھا۔ اور سیاق وسباق کے اعتبار سے یہی قول راحج لگتا ہے کہ اس میں جو معنویت ہے وہ پہلے قول و احتمال میں نہیں۔ اور یہ کوئی مبالغہ نہیں بلکہ امر واقع ہے۔ کیونکہ اس زمانے میں خزانوں کی حفاظت کیلئے اس طرح کی تجوریاں، آہنی الماریاں اور سیف نہیں ہوتے تھے جس طرح کہ آج ہمارے اس دور میں پائے جاتے ہیں۔ اور نہ ہی اس زمانے میں اس طرح کے سیل کردہ قفل اور ایسی چابیوں کا رواج تھا جو آج ہمارے سامنے اور ہمارے اس دور میں پائی جاتی ہیں۔ بلکہ اس زمانے کے سرمایہ دار بالعموم زمین دوز خزانے بناتے اور ان کی حفاظت کیلئے ان کے پھاٹکوں میں بڑے بڑے آہنی کنڈے لگا کر ان میں لوہے کے بڑے بڑے اڑنگے ڈال دیتے جو خاص انہی اغراض و مقاصد کیلئے تیار کیے جاتے تھے۔ سو ان اڑنگوں کو پھنسانا، کھولنا، بند کرنا بڑا مشکل کام ہوتا تھا اور ان کے تمام لوازم مل ملا کر اتنے بڑے اور اس قدر بھاری بوجھ بن جاتے کہ ان کو ہٹانے یا اٹھانے کا کام ایک طاقتور جماعت کیلئے بھی ایک مشکل اور کھٹن امر ہوتا تھا۔ جیسا کہ اس طرح کا طریقہ شہر پناہوں کی حفاظت اور قلعوں کے آہنی دروازوں کو بند کرنے کیلئے اختیار کیا جاتا ہے۔ اور اس طرح کی یادگاریں اب بھی بعض مقامات پر پائی جاتی ہیں۔ سو آیت کریمہ میں اسی طرح کی کنجیوں کی طرف اشارہ ہے۔ سو جس طرح عربوں کے یہاں بڑی بڑی دیگوں کا پایا جانا ان کی سخاوت و فیاضی کی دلیل سمجھا جاتا ہے اسی طرح بڑی چابیوں کو مالداری کی نشانی سمجھا جاتا تھا۔ بہرکیف وہ بدبخت اپنے دور کا بہت بڑا مالدار شخص تھا۔ اور اتنا کہ اس کی مالداری ضرب المثل بن گئی تھی۔
108 اکڑنے اترانے کی ممانعت : سو جب اس بدبخت نے تمردو سرکشی کی روش اختیار کی تو اس کی قوم کے دانش مند لوگوں نے اس سے کہا کہ تم اتراؤ نہیں کہ اترانے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ یعنی نفس خوشی و مسرت کی ممانعت نہیں کہ وہ تو ایک طبعی اور فطری امر ہے بلکہ وہ تو ایک حد تک محمود و مطلوب بھی ہے۔ تاکہ اس سے اللہ پاک کی نعمتوں کی قدر دانی ہو سکے اور ان کے حقِّ شکر کی ادائیگی کی توفیق وسعادت نصیب ہو سکے۔ بلکہ اس فرح سے مراد وہ اکڑنا اترانا اور حد سے بڑھنا ہے جو کہ انسان کے اندر تکبر اور غرور کی وہ صفات ذمیمہ پیدا کر دے جن سے آگے طرح طرح کے مفاسد و مفاتن جنم لیتے ہیں اور قسما قسم کی وہ ہولناک برائیں ابھرتی اور پھیلتی ہیں جو انسان کو دائمی ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیتی ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دنیاوی مال و دولت کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوتا ہے کہ ایسا انسان اسی کو اپنا مقصد بناکر آخرت کو بھول جاتا ہے اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈال دیتا ہے جو کہ خساروں کا خسارہ اور سب سے بڑا نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لیے نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کو ہدایت فرمائی ۔ " لا تتخذوا الضیعۃ فترغبوا " ۔ یعنی " تم لوگ ضرورت سے زیادہ جائیدادیں بنانے کی پیچھے نہ پڑا کرو کہ پھر تم دنیا ہی کے ہو کے رہ جاؤ گے " ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف قارون کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا کہ تم خداوند قدوس کی بخشی ہوئی نعمتوں کی بنا پر اور ان کے نشے اور غرور میں اسی کے خلاف اکڑنے اترانے کی حماقت کا ارتکاب مت کرو کہ وہ اکڑنے اترانے والوں کو کبھی پسند نہیں کرتا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ مگر مال و دولت کے باعث اکڑنے والے قارونی دماغوں پر ایسی باتوں کا کوئی اثر نہیں تھا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 28:77109 مال و دولت کا صحیح مصرف اور حقیقی فائدہ : سو مال و دولت کا صحیح مصرف یہ ہے کہ اس کو راہ حق میں اور حق تعالیٰ کی تعلیمات وارشادات کے مطابق خرچ کر کے اسے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ بنایا جائے۔ چناچہ اس کی قوم کے ان دانش مندوں نے اس کو مزید نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ مال و دولت تجھے اللہ نے دے رکھا ہے اس سے تو آخرت کے اپنے اصل اور حقیقی گھر کو بنانے کی فکر کرو۔ یہ ہے مال و دولت کا اصل مصرف کہ اس کو راہ حق میں خرچ کرکے اس سے آخرت کی کمائی کا سامان کیا جائے۔ اور اس طرح اسے دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ بنایا جائے۔ اس صورت میں وہ دولت ایک نعمت بن جائے گی۔ جیسا کہ حدیث پاک میں فرمایا گیا ۔ " نِعْمَ الْمَال الصَّالِحُ للرَّجُلِ الصَّالحِ " ۔ " کہ وہ مال جو نیک انسان کو نیک طریقے سے ملے وہ بڑی نعمت ہے "۔ اسی لئے قرآن پاک میں مال کو خیر کے لفظ سے بھی تعبیر فرمایا گیا ہے۔ پس مال و دولت فی نفسہ کوئی بری چیز نہیں، بلکہ اس کی اچھائی برائی کا مدارو انحصار دراصل انسان کی نیت و ارادے اور اس کے کسب و انفاق پر ہے۔ اگر وہ اس کو جائز اور حلال طریقے سے کما کر اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور خلق خدا کی خدمت اور بہتری کے لیے خرچ کرے گا تو وہ اس کے لیے خیر ہی خیر اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ بنے گا۔ ورنہ وہ اس کے لیے دنیا و آخرت کی تباہی کا باعث ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
110 اُخروی زندگی کی کامیابی کے لیے فکر و کوشش کا درس : سو اس سے اپنی اخروی زندگی کو یاد رکھنے اور اس کے لیے فکر و کوشش کرنے کے بارے میں ایک نہایت حکیمانہ تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا کہ " تم دنیا سے اپنے حصے کو مت بھولو "۔ عام طور پر مفسرین کرام نے اس ارشاد کا مطلب یہ لیا ہے کہ تم اس دنیا میں بھی اپنا حصہ نظرانداز نہ کرو۔ یعنی اپنے کھانے پینے اور رہنے سہنے وغیرہ کی ضروریات ترک نہیں کرنا کہ تمہاری جان کا بھی تم پر حق ہے۔ اس صورت میں { لا تنس } بمعنی " لا تترک " ہوگا۔ اور یہ نہی کراہت تنزیہہ کے معنیٰ میں ہوگی۔ عام طور پر حضرات مفسرین نے اس کا یہی مطلب بیان کیا ہے لیکن یہ بات کچھ دل کو لگتی نہیں کیونکہ دنیاوی فوائد و منافع حاصل کرنا کوئی ایسا مقصد نہیں کہ قرآن حکیم اس کے بارے میں اس طرح تاکیدی حکم دے۔ بلکہ یہ دنیا تو قرآن و سنت کی روشنی میں کسی اعتبار کے لائق ہے ہی نہیں کہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے۔ پس اس ارشاد کا مقصود و مدعا یہ معلوم ہوتا ہے کہ دنیا سے آخرت کے لئے توشہ لے جانا نہیں بھولنا کہ یہ دنیا دراصل آخرت کی کمائی کے لئے مزرعہ اور کھیتی ہے۔ اور آج اس کا موقعہ ہے کہ انسان اپنی مرضی اور اپنے قصد و ارادے سے اس کو وجوہ خیر میں صرف و خرچ کرکے آخرت کی اپنی اصل اور حقیقی زندگی کیلئے سامان کرے۔ ورنہ فرصت حیات کے ہاتھ سے نکل جانے کے بعد اس کا کوئی موقعہ نہیں رہے گا۔ اور { مِنَ الدُّنْیَا } " دینا سے " کے کلمہ کریمہ سے بھی اسی مفہوم کی تصدیق و تائید ہوتی ہے۔ ورنہ اوپر والا مفہوم جو کہ عام طور پر سمجھا اور بیان کیا جاتا ہے اس کے مناسب { من الدنیا } نہیں بلکہ " فی الدنیا " کی تعبیر ہے۔ اور یوں بھی ان ابنائے دنیا کو جو کہ دنیا ہی کیلئے جیتے اور مرتے ہوں اور جن کا مطمح نظر اور مقصود حیات ہی دنیاوی مال و دولت کے مزے لوٹنا اور تن وتوش کی مادی ضرورتوں کی تکمیل کرنا ہو ان کیلئے اس ہدایت و ارشاد کے کوئی معنیٰ نہیں رہ جاتے کہ تم اپنے کھانے پینے اور رہنے سہنے کی ضرورتوں کا بھی خیال رکھنا کہ ان کا تو جینا مرنا ہی دنیا کیلئے ہے۔ اس لئے ہمارے نزدیک اس ارشاد ربانی کا صحیح اور دل لگتا مفہوم و مطلب یہی ہے کہ اس دنیوی مال و دولت سے جو آج تمہیں میسر ہے اپنی آخرت اور وہاں کی حقیقی اور ابدی زندگی کیلئے توشہ لے جانا نہ بھولنا۔ یہی مطلب وقیع بھی ہے اور دل کو لگنے والا بھی۔ اور آیت کے کلمات کریمہ سے ظاہر اور متبادر بھی ۔ والحمد للّہ الّذی اَلْہمَنِیْہِ ۔ بہرکیف قارون کی قوم کے سمجھدار اور اس کے خیر خواہ لوگوں نے اس سے کہا کہ دنیاوی مال و دولت کی بنا پر اترانے کی بجائے اس کو اپنی آخرت کی کمائی کا ذریعہ بناؤ کہ اس دنیا کی ہر چیز فانی اور آنی جانی ہے۔ اس کی کسی بھی چیز کیلئے بقا اور دوام نہیں۔ اصل چیز ہے آخرت کی وہ زندگی جو کہ حقیقی بھی ہے اور دائمی اور ابدی بھی۔ سو اس دنیا میں تمہارے کام وہی چیز آئے گی جو تم اللہ کی راہ میں اور اس کی رضا کیلئے خرچ کرو گے۔ ورنہ تمہارا یہ مال و دولت تمہارے کچھ کام نہیں آئے گا بلکہ یہ الٹا تمہارے لیے ہلاکت و تباہی کا باعث بن جائے گا۔ مگر اس نے اپنی بدبختی کی بنا پر نصیحت و خیرخواہی کی کسی بات پر کان نہ دھرا اور بالآخر وہ اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
111 زمین میں فساد مت پھیلاؤ : بیشک اللہ فساد پھیلانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ سو قارون کی قوم کے ان دانشمندوں نے اس بگڑے ہوئے انسان سے مزید کہا کہ تو زمین میں فساد مچانے کے درپے مت ہو اور اس میں فساد مت پھیلا اللہ کے حکم سے سرتابی کرکے اور اس کی عبادت و بندگی سے منہ موڑ کر کہ یہی چیز اصل میں فساد و بگاڑ اور ہلاکت و تباہی کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس کا باعث انسان کا وہ غلو و استکبار ہوتا ہے جس سے بندہ حدود بندگی سے نکل کر خدائی حدود اور اس کے حقوق میں مداخلت کرنے لگتا ہے جسکے نتیجے میں وہ دائمی ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں جاگرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو فساد فی الارض صرف چوری ڈکیتی اور راہزنی وغیرہ ہی کا نام نہیں۔ یہ تو اس کے محض بعض مظاہر ہیں۔ فساد فی الارض جیسا کہ ابھی عرض کیا گیا اصل میں علو واستکبار ہے جس سے انسان حدود بندگی سے نکل کر خداوند قدوس کی حدود اور اس کے حقوق میں مداخلت کرنے لگتا ہے۔ اور جو لوگ اس جرم کے مرتکب ہوتے ہیں وہ مفسدین فی الارض میں شامل ہیں خواہ وہ اصلاح و خیرخواہی کے کتنے ہی بلند بانگ دعوے کیوں نہ کرتے ہوں۔ اور خواہ وہ اپنا کام کتنی ہی دانش فروشیوں سے کیوں نہ کرتے ہوں۔ اور ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کو خداوند قدوس کیسے پسند کرسکتا ہے۔ سو ایسے فسادی عناصر کی حیثیت اس کے چمن میں خود رو جھاڑیوں اور اس کے خوان کرم پر ناخواندہ و ناپسندیدہ مہمانوں کی ہے۔ بالآخر وقت آنے پر وہ ان خود رو جھاڑیوں کو اکھاڑ پھینکے گا اور ان ناپسندیدہ عناصر کو بری طرح کھدیڑ دیا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 28:78112 قارون کا غرور وتکبر بھرا جواب : سو قوم کے دانشمندوں کی ان مخلصانہ نصیحتوں کے جواب میں قارون نے کہا کہ یہ سب کچھ تو مجھے اپنے علم و ہنر کی بنا پر ملا ہے۔ سو یہ ہے مومن و کافر کے درمیان ایک واضح اور کھلا فرق کہ مومن اپنی ہر نعمت کو اللہ پاک کا فضل و احسان قرار دیتا ہے جبکہ کافر و منکر اس کو اپنی قابلیت اور محنت و کاوش کا نتیجہ وثمرہ بتاتا ہے اور وہ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ قابلیت جو مجھے ملی ہوئی ہے اور جس کا گھمنڈ میں رکھتا ہوں یہ مجھے بخشی کس نے ؟ اور اس بخشنے والے کا مجھ پر حق کیا ہے ؟ ۔ تبارک و تعالیٰ ۔ سو قارون نے اپنے کبر و غرور کے نشے میں کہا کہ یہ سب کچھ مجھے اپنے علم و ہنر، حسن تدبیر، قابلیت اور مہارتِ فن کی بنا پر ملا۔ اس میں کسی اور کا کوئی دخل نہیں۔ اس لیے مجھے کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں اور تمہارے اس وعظ کی میرے نزدیک کوئی قدر و قیمت نہیں۔ پس تم جاکر یہ وعظ کسی اور کو سناؤ میں اس سے متاثر ہونے والا نہیں ہوں۔ سو یہی نتیجہ ہوتا ہے ان لوگوں کی ہٹ دھرمی کا جن کا انجام بد قریب آلگا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
113 پہلی امتوں کی ہلاکت سے درس لینے کی تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا اس کو اس بات کا علم نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے پہلے کتنی ہی ایسی قوموں کو ہلاک کرچکا ہے جو قوت میں بھی اس سے کہیں زیادہ سخت تھیں اور تعداد کے اعتبار سے بھی ان سے کہیں زیادہ تھیں مگر وقت آنے پر ان کی وہ مادی قوت، مال دولت کی وہ کثرت اور جمعیت وغیرہ ان کے کچھ کام نہ آسکی۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ دنیاوی مال و دولت کا مل جانا اللہ پاک کے یہاں مقبول ہونے کی دلیل نہیں ورنہ ان لوگوں کا یہ حشر نہ ہوتا۔ اور اگر دنیاوی مال و دولت کا کسی کو مل جانا اس کے اللہ تعالیٰ یہاں محبوب و مقبول ہونے کی دلیل ہوتا تو یہ دولت قارون کی بجائے موسیٰ کو ملتی۔ بہرکیف اس ارشاد میں گزشتہ قوموں کی ہلاکت اور ان کے انجام سے عبرت پکڑنے کے لیے تنبیہ و تذکیر ہے۔ تاکہ انسان اس سے سبق لے کر اپنی روش کی اصلاح کرے مگر غافل انسان اس سے لاپرواہ ہے ۔ الا ماشاء اللہ -
114 مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھنے کی ضرورت نہیں ہوگی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ مجرموں سے انکے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا کہ اس عالم الغیب والشہادۃ کے یہاں اس کی ضرورت نہ ہوگی کہ اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سے ان کی کوئی چیز اور کوئی کیفیت مخفی اور پوشیدہ نہیں۔ وہ ان کے سب کئے کرائے کو پوری طرح جانتا اور سب کچھ دیکھتا ہے۔ بلکہ وہ ان کی نیتوں اور انکے دلوں کی چھپی باتوں کو بھی جانتا ہے۔ اور اس کی شان ہے ۔ " لاتَخْفٰی عَلَیْہِ خَافِیہ " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو قیامت کے روز مجرموں کے جرائم کے بارے میں کسی تحقیق و تفتیش کی ضرورت پیش نہیں آئیگی۔ ہر مجرم کی پیشانی اسے ہاتھ پاؤں اور اس کے اعضاء وجوارح خود اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ اور اس سے پہلے بھی جب اللہ تعالیٰ ان کے عذاب کا فیصلہ کرلیتا ہے تو ان کو اتنی مہلت نہیں دی جاتی کہ ان سے ان کے جرم کے بارے میں کچھ پوچھ لیا جائے اور ان کے پاس کوئی جواب ہو تو اس کو سن لیا جائے۔ بلکہ ایسوں کو ان کا عذاب فورا دبوچ لیتا ہے اور قیامت کے دن بھی خدا تعالیٰ کو کسی کے جرائم کے بارے میں کسی تحقیق و تفتیش کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ ہر مجرم کی پیشانی اور اس کے اعضاء وجوارح اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمَاہُمْ فَیُوْخَذُ بالنَّوَاصِیِّ وَالاَقْدَامِ } ۔ ـ (الرحمن :41) ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 28:79115 قارون کے ایک بڑے جلوس کا ذکر : سو قاروں جب اپنی زیب وزینت کے اظہار اور دکھلاوے کے لیے ایک جلوس کی شکل میں نکلا تو ان لوگوں نے جن کے سامنے دنیا اور اس کے مادی ٹھاٹھ باٹھ ہی سب کچھ ہیں انہوں نے قارون کے ٹھاٹھ باٹھ کو دیکھ کر کہا کہ کاش کہ ہمیں بھی وہ کچھ مل جاتا جو قارون کو ملا ہے۔ یقینا وہ بڑا ہی نصیبے والا ہے۔ سو یہ ابنائے دنیا کی للچائی ہوئی نگاہوں کا ایک مظہر ہے۔ دنیا داروں اور دولت پرستوں کا یہی حال کل تھا اور یہی آج ہے کہ دنیا کی چمک دمک سے ان کی رال فوراً ٹپک پڑتی ہے اور ان کے منہ میں پانی بھر آتا ہے کہ بس یہی ٹھیک اور یہی سب کچھ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وہ اس کو دیکھنے اور جاننے سے قاصر اور عاجز ہوتے ہیں کہ اس ظاہر کے پیچھے اصل حقائق کیا ہیں اور اس ظاہر کا انجام کیا ہونے والا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے معلوم ہوا کہ اسی دوران قارون نے اپنی شان و شوکت کے اظہار اور اس کے مظاہرئہ و نمائش کے لیے کوئی بڑا جلوس نکالا تاکہ اس طرح وہ موسیٰ اور ان کے ساتھیوں کو مرعوب اور اپنی جمعیت میں اضافہ کرسکے۔ اور اس کے لیے اس نے اپنی دولت اور حشمت کا خاص طور پر مظاہرہ کیا جیسا کہ { فی زینتہ } کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اور یہی چیز عوام کالانعام کو سب سے زیادہ متاثر و مرعوب کرتی ہے۔ اور قارون کی یہ حرکت بعینہ اسی طرح کی حرکت ہے جس طرح کہ ہمارے ملک کے لیڈر صاحبان اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے اور عوام کے اندر اپنی مقبولیت دکھانے کے لیے مختلف شہروں اور قصبوں وغیرہ میں آئے دن کرتے رہتے ہیں۔ اور اس کے لیے وہ طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں ۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 28:80116 علم حقیقی کی روشنی ہی اصل روشنی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں کو حق اور حقیقت کے علم کی روشنی بخشی گئی تھی انہوں نے ان لوگوں سے کہا کہ آخرت کا ثواب ایمان والوں کے لیے اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ سو وہ لوگ راہ حق پر ثابت قدم رہتے ہیں اور کسی بھی لالچ یا خوف سے ان کے قدم ڈگمگانے نہیں پاتے۔ پس اصل علم وہی علم ہے جو انسان کو حق اور حقیقت سے آگہی بخشتا ہے اور اس علم حقیقی کی روشنی ہی وہ اصل اور حقیقی روشنی ہے جو انسان کیلئے اصل حقائق کو روشن کرتی اور اس کو مہالک سے آگہی بخشتی ہے۔ یہ علم اگر کسی کو حاصل نہ ہو تو وہ سراسر اندھیروں میں ہے اگرچہ وہ اپنے آپ کو بہت کچھ کہتا اور سمجھتا ہو اور خواہ دوسرے علوم میں وہ کتنا ہی ماہر اور شاطر کیوں نہ ہو۔ اور اس نے کتنی ہی بڑی ڈگریاں کیوں نہ اٹھا رکھی ہوں۔ بلکہ یہ علم الٹا اس کے لیے وبال اور اس کی محرومی میں اضافے کا باعث بن جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو { اولوا العلم } میں علم سے مراد علم حقیقی ہے۔ یعنی خداوند قدوس کی معرفت اور آخرت سے آگہی بخشنے والا علم۔ یہی وہ علم ہے جس سے انسان کو روشنی حاصل ہوتی ہے۔ اور جن کو یہ علم حاصل نہیں وہ سراسر اندھیروں کے اندر ڈوبے ہوئے ہیں خواہ وہ روشنی اور علم و ہنر کے کتنے ہی بلند بانگ دعوے کیوں نہ کرتے ہوں۔ بلکہ وہ الٹا جہل مرکب میں مبتلا ہو کر اور بھی گہرے اندھیروں میں ڈوب جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 28:81–82117 روزی کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو روزی کے بسط و قبض کا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالی ۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ روزی کی تنگی اور کشادگی کا معاملہ اللہ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے کہ وہ وحدہ لاشریک ہی بہتر جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے اور کس کو کیا اور کتنا دیا جائے ؟ اور کب اور کس طرح دیا جائے ؟ پس نہ تو رزق کی کشائش و فراوانی اللہ تعالیٰ کے یہاں محبوب و مقبول ہونے کی دلیل و علامت ہوسکتی ہے اور نہ اس کی تنگی اس کے یہاں غیر مقبول ہونے نشانی۔ بلکہ اس ضمن میں اللہ پاک کی کچھ دوسری ہی حکمتیں اور مصلحتیں کارفرما ہوتی ہیں جن کا احاطہ و ادراک بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا کوئی نہیں کرسکتا۔ لیکن ایک عام اور بڑی حکمت یہ ہے کہ یہ سب کچھ آزمائش کے لئے ہوتا ہے۔ کسی کو وہ دنیا دے کر آزماتا ہے اور کسی سے دنیا چھین کر۔ کسی کے صبر کی آزمائش ہوتی ہے اور کسی کے شکر کی۔ لہذا اس کو معیار قبولیت اور فضیلت قرار دینا بالکل غلط اور بےبنیاد چیز ہے۔ سو جن لوگوں نے دنیائے دوں کے وقتی اور مادی فائدوں ہی کو سب کچھ سمجھ لیا وہ بڑے خطاکار ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر قسم اور ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
118 ابنائے دنیا کی خام خیالی اور زودپشیمانی کا ایک مظہر و نمونہ : سو قارون کے اس عبرتناک انجام سے ان لوگوں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان کے سامنے واضح ہوگیا کہ دنیا کی عارضی اور چند روزہ نعمتوں سے متمتع ہوجانا اور بات ہے لیکن ہمیشہ کی اور اصل کامیابی کافروں کو کبھی نصیب نہیں ہوسکتی جس کا ایک ثبوت قارون کا یہ انجام بھی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ ابنائے دنیا کی خام خیالی اور زود پیشمانی کا یہ ایک عام نمونہ ہے جو یہاں پر واضح فرمایا گیا ہے کہ وہ جب کسی دنیا دار کے پاس مال و دولت اور اقتدار دیکھتے ہیں تو اس پر رشک سے مرنے لگتے ہیں۔ اور سمجھتے ہیں کہ یہی ٹھیک ہے۔ اور اس کا یہ مال و دولت اور جاہ و اقتدار ہمیشہ رہے گا۔ انکو لاکھ سمجھاؤ کہ یہ سب کچھ فانی ہے وہ نہیں سمجھتے۔ تاآنکہ جب ایسا کوئی شخص اپنے ہولناک انجام کو پہنچتا ہے تو اس وقت یہ لوگ کہتے ہیں کہ اہل علم نے ٹھیک کہا تھا جنہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ رزق و فضل کا سارا معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے زیادہ دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے نپا تلا دیتا ہے۔ اور یہ کہ دنیاوی مال و دولت کا مل جانا کسی کے اللہ تعالیٰ کی یہاں مقبول ہونے کی علامت نہیں ہوسکتا۔ ورنہ قارون اس ہولناک انجام سے دوچار نہ ہوتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر گامزن رہنے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔
Ayah 28:83119 دار آخرت کے حق داروں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ آخرت کا یہ گھر انہی لوگوں کیلئے ہے جو نہ زمین میں فساد چاہتے ہیں اور نہ ہی وہ استکبار سے کام لیتے ہیں۔ یعنی وہ تکبر اور اپنی بڑائی نہیں چاہتے بلکہ اللہ کی زمین میں اللہ ہی کی عظمت کے ذکر و احساس سے اس کے حضور دل کی گہرائیوں سے جھکے جھکے رہتے ہیں۔ اور تکبر و سرکشی کی بجائے وہ عبدیت و بندگی کے طور طریقوں کو اپنا شعار بنائے رکھتے ہیں۔ سو اس علو اور سرکشی سے مراد یہ ہے کہ کوئی حق سے سرکشی کرے اور دوسروں کو اپنے سے حقیر سمجھے ورنہ محض اچھا لباس پہننا وغیرہ اس میں داخل نہیں۔ (ابن کثیر، معارف وغیرہ) کہ اچھا کھانا اور اچھا پہننا سرے سے تکبر میں داخل ہی نہیں جبکہ ایسا کرنا صحیح نیت کی بنا پر اور جائز حدود کے اندر ہو۔ بلکہ یہ اس اعتبار سے ایک درجہ میں مطلوب و محمود ہے تاکہ اس طرح انسان اپنے خالق ومالک کی بخشی ہوئی اور اس کی عطا فرمودہ نعمتوں پر اس واہب مطلق کا شکر ادا کرے جو کہ اصل مقصود ہے۔ اس امر کو مختلف نصوص کریمہ میں طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ دار آخرت کے مستحق اور اس کے حقدار وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی اس زمین میں نہ فساد چاہتے ہیں نہ سرکشی۔
120 انجام کار کامیابی پرہیزگاروں ہی کیلئے ہے : جو ڈرتے اور بچتے رہتے ہیں ہر اس کام سے جو ان کے خالق ومالک کی ناراضگی کا باعث ہو ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو وہ اللہ کی زمین میں فساد و استکبار سے کام لینے کی بجائے اپنے خالق ومالک کے حضور عاجزی اور بندگی کرنے والے بندے بن کر رہتے ہیں۔ اس کی مقرر فرمودہ حدود کے اندر رہتے ہیں اور اللہ کی زمین میں اپنی اہواء و اَغراض کے مطابق چلنے کی بجائے وہ اس نظام حق و عدل کے حامی و علمبردار بن کر رہتے ہیں جسکو انکے خالق ومالک نے اپنے بندوں کیلئے مقرر کیا اور پسند فرمایا ہے۔ سو یہی لوگ متقی و پرہیزگار ہیں اور انجام کار فوز و فلاح انہی لوگوں کیلئے ہے۔ سو انسان کے باطن کا استکبار کے جراثیم سے پاک ہونا اور اعمال کا فساد سے محفوظ رہنا حقیقی فوز و فلاح کی اصل اور اساس ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
Ayah 28:84121 نیکی کرنے والے کیلئے بہتر بدلے کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بدلہ ہے " اور وہ کتنا اچھا ہوگا ؟ اس کی کوئی حد بیان نہیں فرمائی گئی۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ بدلہ اس سے کتنا اچھا ہوگا۔ دوسری نصوص میں اس کی تصریح اس طرح ہے کہ وہ کم سے کم دس گنا، سو گنا، سات سو گنا اور اس سے بھی کہیں بڑھ کر ہوگا ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ سو نیکوکاروں کے ساتھ وہاں پر معاملہ صرف عدل و انصاف پر نہیں بلکہ فضل و کرم اور انعام و احسان کی بنیاد پر ہوگا کہ یہ بدلہ اکرم الاکرمین کی طرف سے ہوگا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
122 برے اعمال والوں کیلئے برائی کا بدلہ اسی کے برابر : سو نیکی کا بدلہ تو کم سے کم دس گنا مگر برائی کا بدلہ برائی کے برابر اور بس۔ اور یہ اس اکرم الاکرمین ۔ جل جلالہ ۔ کی شان کرم و احسان کا ایک عظیم الشان مظہر ہے کہ نیکی کا بدلہ تو وہ دس گنا، سو گنا، سات سو گنا اور اس سے بھی کہیں زیادہ عنایت فرماتا ہے مگر برائی کا بدلہ صرف اتنا ہی ہوتا ہے جتنی کہ وہ ہوتی ہے ۔ فَلَہُ الحمْدُ ولہ الشکر عَلَی کَرَمِہٖ وَإِحْسَانِہٖ جل و علا شانہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے نیکی اور بدی کے بارے میں وہ اصول بیان فرما دیا گیا ہے جس کے مطابق اللہ تعالیٰ آخرت میں نیکوں اور بدوں کے ساتھ معاملہ فرمائے گا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 28:85123 لفظِ " معاد " سے مقصود و مراد ؟ : اس " معاد " سے کیا مراد ہے ؟ اس بارے حضرت علمائے کرام کے مختلف اقوال ہیں۔ مثلاً یہ کہ اس سے مراد ہے فتح مکہ یا موت یا آخرت اور قیامت۔ (ابن کثیر، قرطبی، معارف للکاندھلوی (رح) ، معارف للدیوبندی (رح) وغیرہ) اور " معاد " کے لفظ کا عموم ان سب ہی صورتوں کو عام اور شامل ہے۔ چناچہ اس کے کچھ ہی عرصہ بعد آپ ﷺ ایک خاص اعزاز اور شان کے ساتھ مکہ مکرمہ میں فاتحانہ داخل ہوئے اور اس کے بعد ہر موقعہ پر آپ (علیہ السلام) کو خاص عنایات سے نوازا گیا اور نوازا جائے گا کہ آپ کے لئے ہر بعد والی حالت پہلی حالت سے اچھی ہی ہوگی۔ جیسا کہ آپ سے آپ کے رب کا صاف وصریح وعدہ ہے ۔ { وَلَلْاٰخِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الاُوْلٰی } ۔ سو معاد کے اصل معنیٰ مرجع، غایت اور انجام کار کے ہیں۔ اور تنوین یہاں پر تعظیم اور تفخیم کیلئے ہے۔ یعنی شاندار انجام اور اعلیٰ مرجع اور اللہ پاک نے اپنے پیغمبر کو اس سے نوازا۔ بہرکیف اس سے آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کو تسلی دی گئی ہے کہ اس قرآن کو آپ نے کوئی اپنے خدا سے مانگ کر تو نہیں لیا اور خود نہیں اتروایا بلکہ خداوند قدوس نے اس کو آپ پر خود اپنے کرم سے اور اپنے انتخاب کے مطابق اتارا ہے۔ اور اس کی تعلیم و تبلیغ کی ذمہ داری آپ پر عائد فرمائی ہے۔ سو آپ کو اس ذمہ داری کی فکر میں اس قدر تکلیف اٹھانے کی ضرورت نہیں کہ آپ اس کی وجہ سے گھلے جائیں۔ بلکہ جس ذات اقدس و اعلیٰ نے اس کو آپ پر اتارا ہے وہی اس کی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں آپ کی مدد فرمائے گی۔ اور وہی آپ کو کامیابی کی منزل تک پہنچائے گی۔ اس لیے آپ ان مخالفین کی ذرہ برابر پرواہ نہ کریں۔ اپنی دعوت پر جمے رہیں۔ یہ لوگ خواہ کتنا ہی زور لگائیں آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے اور نہ آپ کا راستہ روک سکیں گے۔ اللہ آپ کے ساتھ ہے۔ اس لیے آپ اسی پر بھروسہ رکھیں اور اپنے موقف میں ذرہ برابر تبدیلی یا لچک نہ آنے دیں۔ آپ بہرحال حق پر ہیں ۔ { اِنَّکَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیْنَ ، عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ } ۔ (یس :3-4) ۔ (علیہ السلام) -
Ayah 28:86124 نبوت خالص عطیہ الہی اور موہبت ربانی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ اس بات کی کوئی امید نہیں رکھتے تھے کہ آپ پر اس کتاب کو اتارا جائے گا "۔ سو آپ ﷺ کو جو شرف نبوت اور اس کتاب عزیز کی نعمت عظمیٰ سے سرفراز فرمایا گیا تو یہ محض اللہ پاک کی رحمت اور اس کی عنایت کی بنا پر ہوا۔ ورنہ آپ کو تو اس سے پہلے اس کی کوئی امید تک نہ تھی۔ پس اس کے شکریے میں آپ کبھی کافروں کی پشت پناہی نہ کیجئے گا۔ یہ مطلب نہیں کہ آپ سے اس کا کوئی احتمال تھا۔ نہیں بلکہ یہ دراصل آپ کو خطاب کر کے دوسروں کو سنانا مقصود ہے جس سے ان کو یہ بتایا جا رہا ہے کہ جب پیغمبر کو بھی کافروں کی پشت پناہی اور ان کا ساتھ دینے کی اجازت نہیں تو پھر تم لوگوں کو کیسے ہوسکتی ہے ؟ اور کفار کو یہ بتلایا جا رہا ہے کہ تم لوگ جو پیغمبر کو اپنے آبائی دین کی طرف بلا رہے ہو تو تمہارا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو سکے گا۔ سو یہاں سے ایک بات تو یہ معلوم ہوئی کہ نبوت خالصتاً اللہ پاک کا عطیہ و احسان ہوتا ہے۔ بندے کے کسی کسب و اختیار کا اس میں کوئی دخل نہیں ہوتا۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ اہل بدعت اور دوسرے محرفین کا یہ کہنا کہ آپ ﷺ کو نبوت بچپن ہی سے مل گئی تھی، بالکل غلط اور بےبنیاد بات ہے، جو ارشادات کتاب و سنت سے متعارض و منافی ہے۔ قرآن پاک تصریح فرما رہا ہے کہ نبوت کا ملنا تو درکنار آپ کو ایسی کوئی امید بھی نہ تھی۔ ہاں اللہ پاک کے علم میں آپ کو خلق آدم سے بھی پہلے نبوت سے سرفراز فرما دیا گیا تھا۔ جیسا کہ ۔ " کَنْتُ نَبِیًّا وَاٰدَمُ بَیْنَ الْمآئِ وَالطِّیْنِ " ۔ والی روایت میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ لیکن خارج میں بالفعل آپ ﷺ کو نبوت چالیس سال کی عمر شریف گذارنے کے بعد ہی ملی۔ جیسا کہ اس کا واقعہ مشہور و معروف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نبوت ملنے سے پہلے پیغمبر کے ہاتھ پر جو خرق عادت قسم کے امور صادر ہوتے ہیں ان کو معجزہ نہیں کہا جاتا بلکہ انکو " ارہا صات " کہا جاتا ہے۔ بہرکیف شرف نبوت ایک خالص عطیہ الہی اور موہبت ربانی ہوتا ہے جس سے اللہ پاک جسکو چاہتا ہے اپنے فضل و کرم سے نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
125 دعوت حق پر استقامت اور ثابت قدمی کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کبھی روکنے نہ پائیں یہ لوگ آپ کو اللہ کی آیتوں سے اس کے بعد کہ ان کو اتار دیا گیا آپ کی طرف۔ پس آپ ان بدبختوں کی کوئی بات نہیں ماننا اور ان کی کسی بات پر کبھی توجہ نہیں دینا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ کافروں اور منافقوں کی کوئی بات نہیں ماننا اور نہ ان کی ایذاء رسانیوں کو خاطر میں لانا اور بھروسہ ہمیشہ اللہ ہی پر رکھنا۔ اور اللہ کافی ہے کارسازی کے لیے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ { فَلاَ تُطِعِ الْکٰفِرِیْنَ وَالْمُنَافِقِیْنَ وَدَعْ اَذَاہُمْ وَتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ وَکَفٰی باللّٰہِ وَکِیْلاً } (الاحزاب : 48) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ مخالفین خواہ کتنا ہی زور لگائیں ان کی کسی بات پر کان نہیں دھرنا۔ اور یہ آپ کو اللہ کی ان آیتوں سے روکنے نہ پائیں۔ اور یہ بدبخت جن باتوں سے چڑتے ہیں ان کو برملا کہو اور ڈنکے کی چوٹ پر کہو۔ کیونکہ خداوند تعالیٰ کی طرف سے جو بات نازل ہوچکی ہے وہ اب نہ واپس ہوسکتی ہے اور نہ اس کو کسی طرح دبایا جاسکتا ہے۔ وہ بہرحال حق و صدق ہے اور اسی میں بھلا ہے لوگوں کا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور ان کا کوئی متبادل ممکن نہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 28:87126 مشرکوں سے احتراز و اجتناب کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ کبھی مشرکوں سے نہ ہوجانا "۔ خطاب اگرچہ آپ ﷺ کو ہے لیکن سنانا دراصل دوسروں کو ہے کہ آپ سے تو اس طرح کا کوئی احتمال ہی نہ تھا۔ بہرکیف وحی خداوندی کے اولین اور اصل مخاطب چونکہ آپ ہی ہیں اس لیے آپ سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ " اپنے رب کی طرف بلاتے رہو اور مشرکوں سے نہیں ہوجانا " اور کفار قریش کو چونکہ زیادہ چڑ دعوت توحید ہی سے تھی اس لیے زیادہ زور اسی پر دیا گیا کہ اس میں مداہنت شرک ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف مشرکین کو اصل چڑ چونکہ عقیدئہ توحید ہی سے ہوتی ہے۔ کل کے مشرکوں کا حال بھی یہی تھا اور آج کے مشرکوں کا حال بھی یہی ہے۔ اس لیے عقیدئہ توحید کے بیان ہی پر زیادہ زور دیا گیا۔
Ayah 28:88127 معبود برحق اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پکارنا نہیں اللہ کے ساتھ کسی بھی اور ۔ خودساختہ ۔ معبود کو " کہ اس وحدہ لاشریک کے سوا اور کوئی بھی ہستی ایسی نہیں ہے جس کو اس طرح کا کوئی حق پہنچتا ہو کہ معبود برحق بہرحال وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے۔ اور عبادت کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا حق اور اسی کے ساتھ مختص ہے۔ سو اس طرح شرک کی تردید کیلئے یہ مزید تاکید فرما دی گئی کہ اس کے سوا کسی بھی اور معبود کو نہیں پکارنا تاکہ اس طرح مداہنت کی ہر قسم کا سدِّ باب ہوجائے۔ مگر افسوس کہ اس قدر تاکید و تکرار کے باوجود غیر اللہ کے پکارنے کے اس ہولناک جرم کا ارتکاب آج تک کیا جا رہا ہے اور دھڑلے سے کیا جا رہا ہے۔ کھلے مشرکوں کے علاوہ کلمہ گو مشرک بھی اس جرم میں کھلے عام شریک اور ملوث ہیں۔ ان کو اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے اللہ کو پکارنے اور " یا اللہ مدد " کہنے کی توفیق نہیں ملتی۔ لیکن مخلوق میں سے طرح طرح کے خود ساختہ مشکل کشاؤں اور حاجت رواؤں کو وہ اعلانیہ پوجتے پکارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم والی اللہ المشتکیٰ -
128 کوئی معبود نہیں سوائے اس وحدہ لاشریک کے : جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا اور صرف اسی کا حق ہے۔ اس کے سوا اور کسی بھی ہستی کیلئے کسی بھی طرح کی عبادت بجا لانا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس قیام اسی کیلئے، رکوع و سجود اسی کیلئے، طواف اسی کیلئے، نذر و نیاز اسی کیلئے اور غائبانہ حاجت روائی و مشکل کشائی کیلئے پکارنا اسی کا اور صرف اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ معبود برحق بہرحال وہی ہے۔ پس بھروسہ و اعتماد ہمیشہ اور ہر حال میں اسی وحدہ لاشریک پر رکھو۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { رَبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لاَ اِلٰہَ الاَّ ہُوَ فَاتَّخِذْہُ وَکِیْلاً } ۔ (المزمل : 9) ۔
129 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر اور حصر کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ تم سب کو ۔ اے لوگو ۔ بہرحال اسی کی طرف لوٹایا جائے گا۔ آخرت میں تو ہر طرح سے اور اس دنیا میں بھی تکوینی امور میں اس کے سوا کسی کے حکم و فرمان کا کوئی دخل نہیں۔ لہٰذا تشریعی امور میں بھی فرماں روائی کا حق اسی کا ہے۔ اگر کوئی اس کو نہیں مانے گا تو اپنا ہی نقصان کرے گا۔ حاکم بہرکیف وہی اور صرف وہی ہے اور ہر چیز کا رجوع بہرحال اسی کی طرف ہے۔ اور ہر شے کی باگ ڈور اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اسی نے باقی رہنا ہے۔ اس کے سوا ہر چیز فانی ہے اور اس نے بہرحال اپنے وقت پر فنا کے گھاٹ اتر کر رہنا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { کُلُّ مَنْ عَلَیْہَا فَانٍ وَّیَبْقٰی وَجْہُ رَبِّکَ ذَو الْجَلَالِ وَالاِکْرَامِ } ۔ (الرحمن : 27-26) اور حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ سب سے سچی بات وہ ہے جو لبید شاعر نے کہی۔ یعنی " اللہ تعالیٰ کے سوا ہر چیز فانی اور بےحقیقت ہے "۔ بہرکیف سب کو اس حیّ وقیوم کے حضور لوٹ کر حاضر ہونا ہے اور وہاں پر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا صلہ و ثمر اور بدلہ پانا ہے۔ لہذا ہر کوئی دیکھ لے کو وہ وہاں کیلئے کیا کرکے جارہا ہے اور وہ کس چیز کی توفیق رکھ سکتا ہے ؟ ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف { الیہ ترجعون } کے اس مختصر سے جملے سے کئی اہم اور بنیادی حقائق کو واضح فرما دیا گیا ہے جس سے کفر و شرک سمیت ہر بد دینی اور بےدینی کے مداخل و منافذ کو یکسر بند کردیا گیا ہے۔ مثلا یہ کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم مر مٹ کر یونہی ختم ہوجائیں گے کوئی حساب نہیں ہوگا۔ سو اس سے ایسے لوگوں کی اس گمراہی اور غلط فہمی کی جڑ نکال دی گئی کہ تم لوگ کوئی کیڑے مکوڑے یا برسات کی مینڈکیں نہیں ہو کہ یونہی مر مٹا کر ختم ہوجاؤ اور بس۔ بلکہ تم تو انسان اور ایک نہایت ذمہ دار مخلوق ہو۔ تم نے بہرحال دوبارہ اٹھ کر اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا اور بھگتان بھگتنا ہے۔ اسی طرح اس ارشاد سے ان لوگوں کی گمراہی کی جڑ بھی نکال دی گئی جو کہتے ہیں کہ ہم اس کے بعد نئے جون میں آجائیں گے۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نہیں یہ سب تمہاری اپنی من گھڑت باتیں اور خود ساختہ مفروضے ہیں جن کی نہ کوئی اساس ہے نہ بنیاد۔ تم سب کو بالآخر اسی کی طرف لوٹنا ہے۔ اس کے سوا تمہارا نہ کوئی ماویٰ ہے نہ مرجع۔ پھر لفظِ " رجوع " کے اندر اس کے لیے ایک دلیل بھی مخفی ومستور ہے۔ کیونکہ اس کے معنیٰ لوٹنے کے آتے ہیں۔ اور لوٹنا وہیں اور اسی کی طرف ہوتا ہے جہاں سے کوئی آیا ہوتا ہے۔ سو جب تم لوگ اسی وحدہ لاشریک کی تخلیق وتکوین کا نتیجہ وثمرہ ہو اور تمہارا وجود اسی کی تخلیق و عنایت کا نتیجہ ہے تو تم سب کو بالآخر اور بہرحال اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ پھر { ترجعون } کا صیغہ بھی مجہول کا صیغہ ہے جس کا مطلب ہے کہ تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاتے ہو اور لوٹائے جاؤ گے۔ تم چاہو یا نہ چاہو ایسا بہرحال ہوتا ہے اور ہو کر رہے گا۔ سو جس طرح تمہارا اس دنیا میں آنا تمہاری اپنی مرضی اور اختیار سے نہیں تھا ایسے ہی تمہارا یہاں سے جانا اور اس کی طرف لوٹنا بھی نہ تمہاری مرضی پر ہے اور نہ تمہارے ارادئہ و اختیار کا اس میں کوئی عمل دخل ہوسکتا ہے ۔ سبحاناللہ ۔ { الیہ ترجعون } کے اس مختصر سے اور سیدھے سادے جملے میں کتنے اہم اور جس قدر عظیم الشان درس ہیں ہر اس شخص کے لیے جس کا سینہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب کے فہم کے لیے کھول دے ۔ فالحمد للہ رب العالمین -