28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 28:55

وَ اِذَا سَمِعُوا اللَّغْوَ اَعْرَضُوْا عَنْهُ وَ قَالُوْا لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١٘ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١٘ لَا نَبْتَغِی الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 28:55 in the Quran reader

اور جب بےہودہ بات کان میں پڑجائے تو یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے اعمال ہیں اور تمہارے لئے تمہارے اعمال تم کو سلام ہے ہم جاہلوں کو منہ لگانا نہیں چاہتے

70 مخالفین کے طعن وتشنیع کے جواب میں سلامتی کے بول ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ مخالفین سے کہتے ہیں ہمارے لیے ہمارے اعمال اور تمہارے لیے تمہارے اعمال "۔ تم لوگوں کو سلام ہے اور یہ سلام سلام متارکت کہلاتا ہے۔ یعنی تمہارا راستہ الگ ہمارا الگ۔ (المحاسن، البحر وغیرہ) ۔ اور یہ بھی ان حضرات کے مکارم اخلاق کا ایک نمونہ ہے کہ جاہلوں سے الجھنے کی بجائے سلامتی کا کلمہ کہہ کر ان سے الگ ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم نے کیا تھا کہ اپنے باپ کو پوری ہمدردی اور دلسوزی سے سمجھانے اور کلمہ حق پیش کرنے کے بعد جب دیکھا کہ وہ اپنے کفر و باطل کو ترک کرکے راہ حق و ہدایت کو قبول کرنے والا نہیں تو یہی سلامتی کا بول بول کر آپ نے اس سے علیحدگی اختیار کرلی۔ سو ہٹ دھرم قسم کے لوگوں سے جان چھڑانے اور ان سے علیحدگی اختیار کرنے کا یہ نہایت سنجیدہ، شائستہ، مہذب اور مبارک طریقہ ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 71 جاہلوں سے الجھاؤ سے احتراز و اجتناب کا درس : سو ان بندگان صدق وصفا کے بارے میں فرمایا گیا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم جاہلوں سے الجھنا نہیں چاہتے کہ جاہلوں سے الجھنا ہمارا طریقہ اور شیوہ نہیں۔ اور جب ایسے لوگ ہماری بات سننے ماننے کو بھی تیار نہیں تو ان کے ساتھ گھل مل کر رہنا بھی ہماری شان نہیں کہ ان سے علیحدگی اور کنارہ کشی کی اس راہ میں ہی سکون و اطمینان ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ بہرکیف { لا نبتغی الجاھلین } کا یہ جملہ ان حضرات کے باطن کی کیفیت کا عکاس و آئینہ دار اور انکے اعلان بیزاری کی تعبیر ہے۔ یعنی یہ حضرات اپنے دل میں یہ سوچتے اور سمجھتے ہیں کہ جب ایسے ہٹ دھرم لوگ کسی بات کو سننے اور ماننے ہی کیلئے تیار نہیں تو پھر ان سے بات کرنے اور ان سے الجھنے کا کیا فائدہ ؟۔ لہذا یہ سوچ کر ان سے علیحدگی اختیار کرلیتے ہیں۔ اور یہی سلامتی کی راہ ہے کہ اس طرح مومن صادق جاہلوں کی دلآزاریوں اور ان کی ایذارسانیوں سے بھی محفوظ رہتا ہے اور اپنے وقت کی متاع گرانمایہ کو بھی ضیاع سے بچا لیتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 28:56

اِنَّكَ لَا تَهْدِیْ مَنْ اَحْبَبْتَ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 28:56 in the Quran reader

بیشک آپ اے پیغمبر ! ہدایت نہیں دے سکتے جس کو آپ پسند کریں بلکہ اللہ ہی ہدایت کی دولت سے نوازتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ خوب جانتا ہے ان لوگوں کو جو ہدایت پانے والے ہوتے ہیں (1)

72 راہ حق و ہدایت پر ڈال دینا پیغمبر کے اختیار میں نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک آپ ۔ اے پیغمبر !۔ ہدایت نہیں دے سکتے جسکو آپ چاہیں " بلکہ یہ معاملہ اللہ تعالیٰ ہی کے اختیار میں ہے۔ یہ آیت کریمہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے چچا ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضور ﷺ کی خدمت تو بہت کی تھی اور ہمیشہ آپ ﷺ کا ساتھ بھی دیا تھا مگر آپ پر ایمان لانے کی سعادت اور توفیق ان کو نصیب نہیں ہوئی تھی۔ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے اپنی عظیم الشان ہمدردی اور شفقت کی بناء پر اس کی بہت کوشش فرمائی کہ کسی طرح آپ کے چچا کلمہ پڑھ کر اسلام کے حظیرہ قدس میں داخل ہوجائیں اور دوزخ کے عذاب سے بچ جائیں۔ چناچہ ان کی موت کے موقعہ پر آپ ﷺ بذات خود ان کے پاس تشریف لے گئے اور نہایت ہی ہمدردی کے ساتھ ان کو ایمان لانے کی دعوت دی تاکہ وہ مرتے وقت کلمہ پڑھ کر دوزخ کی آگ سے بچ سکیں اور آپ ﷺ نے ان کی خدمت میں نہایت اخلاص و دلسوزی سے عرض کیا کہ چچا جان آپ ایک مرتبہ کلمہ پڑھ لیں تاکہ کل قیامت کے روز میں اس کو اللہ کی بارگہ اقدس و اعلیٰ میں پیش کرسکوں۔ چناچہ ابو طالب اس کے لئے تیار ہوگئے مگر ابو جہل وغیرہ سرداران قریش نے جب انکو عار دلاتے ہوئے کہا کہ ہوں اب مرتے وقت بھتیجے کے کہنے پر کلمہ پڑھنے لگے ہو ؟ اور اس کے اصرار پر اس کا دین قبول کر کے ہماری ناک کٹوانے لگے ہو ؟ دنیا کیا کہے گی ؟ وغیرہ۔ تو اس پر ابو طالب نے اس وقت بھی کلمہ پڑھنے سے انکار کردیا اور کفر ہی کی حالت پر اپنی جان جان آفریں کے سپرد کردی۔ اور اس پر اس نے وہ مشہور اشعار بھی پڑھے جو تفسیر و سیر کی کتابوں میں مسطور و مذکور ہیں۔ جن کا حاصل اور خلاصہ یہ ہے کہ " میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ محمد ﷺ کا لایا ہوا دین قطعی طور پر حق اور سچ ہے۔ لیکن میں کلمہ اس لئے نہیں پڑھتا کہ مجھے اپنے بارے میں ملامت اور بد گوئی کا خطرہ ہے کہ بعد میں لوگ مجھے برا کہیں گے اور مجھے طعنے دیں گے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں یقیناً کھلے دل سے کلمہ پڑھ لیتا "۔ روایات میں آتا ہے کہ اس نے آتش دوزخ کو اپنانا اور اختیار کرلینا تو پسند کرلیا لیکن عار کو برداشت نہ کیا ۔ " اِخْتَار النَّارَ عَلَی الْعَارِ " ۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اس میں بتایا گیا کہ اے پیغمبر ہدایت آپ ﷺ کے اختیار میں نہیں۔ اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ وہ جسے چاہے اس سے نوازے۔ سب ہی مفسرین کرام نے اس آیت کریمہ کا شان نزول یہی قرار دیا ہے۔ اور احادیث میں بھی اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ (روح قرطبی، محاسن، ابن کثیر، الکبیر، جامع البیان، صفوۃ البیان، صفوۃ التفاسیر، خازن اور معارف وغیرہ) ۔ لہذا جمہور اہل علم کا اس پر اجماع و اتفاق ہے کہ ابو طالب ایمان نہیں لائے تھے۔ اور علامہ ابوحیان نے اپنی تفسیر " البحرالمحیط " میں اس پر سب کا اجماع نقل کیا ہے اور مختلف روایات میں مذکور ہے کہ حضور ﷺ بار بار ان کو کلمہ توحید پیش کرتے رہے مگر ابو طالب ان سرداران قریش کے کہنے پر اس کا انکار ہی کرتے گئے۔ یہاں تک کہ آخری کلمہ جس پر انہوں نے جان دی یہ تھا ۔ " اموت علی ملۃ عبد المطلب " ۔ یعنی " میں عبدالمطلب کے دین پر ہی مرتا ہوں " اور اس نے ۔ { لا الہ الا اللہ } ۔ کہنے سے انکار کردیا۔ (محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اسباب النزول اور حدیث کی تمام کتابوں میں بھی یہی مذکور ہے۔ جیسے صحیح بخاری : کتاب التفسیر، سورة القصص، صحیح مسلم : کتاب الایمان، سنن ترمذی : کتاب التفسیر وغیرہ۔ اور علامہ ابن حجرفتخ الباری میں کہتے ہیں کہ اس بارے ناقلین و محدثین کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے کہ یہ آیت کریمہ ابوطالب ہی کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور یہ کہ وہ آخری دم تک ایمان نہیں لائے۔ سو اس سب کے باوجود اگر کوئی ابوطالب کے ایمان لانے کا قائل ہوتا ہے تو دیکھ لیا جائے وہ کس قدر سینہ زوری اور ہٹ دھری سے کام لیتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور بعض صوفیہ وغیرہ سے جو ان کے ایمان لانے کے بارے میں مروی و منقول ہے وہ سب بےاصل ہے۔ اس کی نہ کوئی سند ہے نہ ثبوت۔ بلکہ ایسا کہنا اس آیت کے سراسر خلاف ہے۔ نیز محققین اہل حق کا کہنا ہے کہ اس سے زیادہ ابو طالب کے ایمان کے بارے میں بحث مباحثہ سے گریز ہی کرنا چاہیئے اور خواہ مخواہ اس کو نہیں چھیڑنا چاہئے۔ یہاں پر اس قصہ سے یہ حقیقت بھی روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ ہدایت اللہ پاک ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے نہ کہ پیغمبر کے اختیار میں۔ پیغمبر کا کام ہے راہ حق کی راہنمائی کرنا۔ اس کی دعوت دینا اور سیدھا راستہ دکھلا دینا اور بس۔ اس سے آگے کسی کو راہ حق پر ڈال دینا اور اس پر چلا دینا نہ آپ ﷺ کے بس اور اختیار میں ہے اور نہ ہی یہ آپ ﷺ کی ذمہ داری ہے۔ نیز اس سے یہ بھی صاف اور واضح ہوگیا کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے۔ جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ ورنہ آنحضرت ﷺ کی اس قدر کوشش کے باوجود ابوطالب اس طرح ایمان سے محروم نہ رہتے اور کلمہ توحید اور ملت ابراہیمی سے منہ موڑ کر ملت عبدالمطلب ہی پر دنیا سے رخصت نہ ہوتے۔ سو اللہ ہی ہدایت سے نوازتا ہے جس کو چاہتا ہے کہ وہی جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے اور کس کے باطن کی کیفیت کیا ہے۔ وہ اسی کے مطابق فیصلہ فرماتا ہے اور اسی کا حکم و فیصلہ برحق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayah 28:57

وَ قَالُوْۤا اِنْ نَّتَّبِعِ الْهُدٰى مَعَكَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا١ؕ اَوَ لَمْ نُمَكِّنْ لَّهُمْ حَرَمًا اٰمِنًا یُّجْبٰۤى اِلَیْهِ ثَمَرٰتُ كُلِّ شَیْءٍ رِّزْقًا مِّنْ لَّدُنَّا وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 28:57 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ ناشکرے) لوگ کہ اگر ہم نے ہدایت کی پیروی کی آپ کے ساتھ تو اس کے نتیجے میں ہمیں اچک لیا جائے گا اپنی سرزمین سے کیا ہم نے ان کو ٹھکانا نہیں دیا ایسے پر امن حرم میں جس کی طرف کھچے چلے آتے ہیں ہر قسم کے پھل اور پیداواریں اپنی طرف سے خاص روزی سانی کے طور پر ارض حرم کے باشندوں کے لئے لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں حق اور حقیقت کو

73 منکرین و مشرکین کی مت ماری اور ٹیڑھی منطق کا ایک نمونہ : سو یہ منکرین حق اور مشرکین مکہ کی مت ماری کا ایک نمونہ ہے کہ اگر ہم نے حق کی پیروی کی تو ہمیں اپنی اس سرزمین سے اچک لیا جائے گا۔ کیونکہ ان کا کہنا اور ماننا یہ تھا کہ ہماری تمام تر خیرات و برکات کا ذریعہ اور ہمارے حاجت روا و مشکل کشا ہماری یہ دیویاں اور دیوتا ہیں۔ سو اگر ہم نے توحید کی اس دعوت کو قبول کرلیا جو محمد پیش کر رہے ہیں تو ایک طرف تو ہماری یہ دیویاں اور دیوتا ہم سے ناراض ہوجائیں گے اور دوسری طرف عرب کے تمام مشرک لوگ ہمارے خلاف ہوجائیں گے۔ پورا عرب ہمارے خلاف اٹھ کھڑا ہوگا اور اس طرح ہمیں اس ملک سے اکھاڑ پھینکا جائے گا۔ سو یہ ان جاہلوں اور مشرکوں کا حق قبول نہ کرنے کے بارے میں ایک عذر لنگ تھا کہ اگر ہم نے آپ ﷺ کے ساتھ۔ اے پیغمبر !۔ حق کو قبول کرلیا تو عرب کے تمام قبائل ہمارے دشمن ہوجائیں گے اور ہمیں اپنے گھروں سے نکال باہر کردیں گے۔ چناچہ حارث بن عثمان بن نوفل نے ایک مرتبہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ ﷺ جو کچھ کہتے ہیں وہ حق ہے۔ اور ہمارے لئے دنیاوی سیادت اور اخروی سعادت کا ذریعہ ہے۔ لیکن ہمیں ڈر اور خطرہ اس بات کا ہے کہ اگر ہم اس کو قبول کرلیں اور آپ ﷺ کی پیروی کرنے لگ جائیں تو تمام عرب ہمارے دشمن ہوجائیں گے اور ہمیں اپنے گھروں سے نکال باہر کردیں گے۔ (روح، صفوۃ اور معارف وغیرہ) ۔ تو اس کا جواب ان آیات کریمہ میں دیا گیا۔ یہاں سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ کافر و مشرک انسان جو ایک اللہ سے نہیں ڈرتا وہ ہر کسی سے اور ہمیشہ ڈرتا رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس پر خوف و خطر کے طرح طرح کے بادل چھائے رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 74 بیت اللہ کی بعض برکات کا ذکر : سو اس سے بیت اللہ کی بعض برکات کا ذکر فرمایا گیا اور منکروں و مشرکوں کے دلوں پر ایک دستک دی گئی۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور منکرین و مشرکین کے دلوں پر دستک دینے کے لیے بطور استفہام فرمایا گیا کہ کیا ہم نے انکو ایک نہایت پرامن حرم میں جگہ نہیں دی ؟۔ یعنی ضرور دی۔ اور جب ہم نے تمہیں کفر و شرک کی حالت میں بھی حرم کی ان خیرات و برکات سے محروم نہیں کیا تو کیا اب جبکہ تم ایمان و یقین کے حظیرہ قدس میں داخل ہوجاؤ گے تو ہم تمہیں محروم کردیں گے ؟ یہ کیونکر ہوسکتا ہے ؟ کیا ان بیخبرے ناشکروں کو اسکا پتہ اور علم نہیں کہ جب ابراہیم نے اپنی ذریت کو اس وادی بےآب وگیاہ میں بسایا تھا تو اس وقت نہ تو یہاں پر ضروریات زندگی اور وسائلِ معیشت میں سے کچھ موجود تھا اور نہ کسی جان کیلئے کوئی امن وامان۔ مگر ابراہیم نے اللہ کی عبادت کیلئے اس گھر کو بسایا اور اس کے ساکنوں اور مکینوں کیلئے امن وامان اور رزق و روزی کی دعا کی۔ تو آپ کی اس دعا کے نتیجے میں اور اس مبارک گھر کی خیرات و برکات کے سبب یہ خطہ امن وامان کا ایسا گہوارہ بن گیا جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال پوری روئے زمین میں نہ کبھی پائی گئی اور نہ آئندہ تا قیام قیامت کبھی پائی جانی ممکن ہوسکتی ہے۔ اور دوسری طرف اس کیلئے دنیا بھر کے ہر خطے اور ہر علاقے سے ہر قسم کی پیداوار کچھی چلی آرہی ہے۔ تو کیا جس ابراہیم کی دعا کی برکت سے تم لوگوں کو یہ سب اور طرح طرح کی نعمتیں کفر و شرک کی حالت میں بھی ملیں اور برابر ملتی رہیں تو وہ اب تم کو ملنا بند ہوجائیں گی ؟ اور تم سے چھن جائیں گی ؟ جبکہ تم لوگ اسی ابراہیم کی ملت کی پیروی کرو گے جو اس قرآن کی صورت میں آج تمہارے سامنے ہے اور جس کی طرف یہ نبی آخرالزمان ﷺ تمہیں بلا رہے ہیں۔ تو کیا اب تم کو تباہ کردیا جائے گا ؟ تم لوگوں کو کیا ہوگیا ؟ تمہاری مت کیوں مار دی گئی ؟ اور تمہاری کھوپڑیاں کیوں اور کیسے اوندھی ہوگئیں ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 75{ ثمرات کل شیئ } سے مراد ؟ : سو واضح رہے کہ یہاں پر " ثمرات کل شجر " نہیں فرمایا گیا بلکہ { ثَمَرَاتُ کُلِّ شَیْئٍ } فرمایا گیا ہے۔ جس سے معلوم ہوا کہ بات صرف درختوں کے پھلوں ہی کی نہیں۔ جس طرح کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے بلکہ یہ ہر قسم کے پھل کو عام ہے۔ کیونکہ پھل کے معنیٰ نتیجہ و حاصل کے بھی آتے ہیں۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے " فلاں شخص تو اپنی محنت کا پھل کھا رہا ہے "۔ " اپنی نیت کا پھل کھا رہا ہے "۔ " اپنے کئے کا پھل پا رہا ہے " وغیرہ وغیرہ۔ اور امر واقعہ بھی یہی ہے کہ حرم پاک کی برکت سے وہاں پر دنیا بھر کی ہر عمدہ نعمت آج بھی میسر ہے اور ہمیشہ اور ہر موسم میں میسر ہے۔ سو اس بےآب وگیاہ مقام اور وادی غیر ذی ذرع کو ایسا عمدہ اور اس قدر عظیم الشان اور بےمثال مرکز بنادینا قدرت و عنایت خدا وندی کا ایک عظیم الشان اور بےمثال مظہر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو یہ حرم امن صرف یہی نہیں کہ خود محفوظ و مامون ہے اور یہ دوسروں کی حفاظت کا محتاج نہیں بلکہ یہ خود دوسروں کا محافظ اور ان کو امن بخشنے والا ہے ۔ اللہم فزدہ تعظیما و تشریفا و تکریما و زد من کرمہ و شرفہ حجہ او اعتمرہ تعظیما و تشریفا و تکریما واجعلنا منہم یا ذا الجلال والاکرام - 76 اپنی طرف سے روزی رسانی کے طور پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ سب کچھ ہم نے اپنی طرف سے خاص روزی رسانی کے طور پر کیا " یعنی { رِزْقًا } نکرہ اور اس کی تنوین بھی تعظیم و تفخیم کے لئے ہے۔ اور پھر { مِنْ لَّدُنَّا } ۔ " اپنی طرف سے " کے اضافے سے اس کی مزید عظمت شان کا اظہار فرما دیا گیا۔ سو اس طرح حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے حرم پاک کے اس بقعہ مبارکہ اور اس ارض بےآب وگیاہ کے باسیوں کے لئے روزی رسانی کا جو انتظام فرمایا ہے وہ واقعی بےمثل و لاجواب ہے ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ یحییٰ بن سلام اس کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ جب تم لوگ میرا دیا ہوا رزق کھا کر دوسروں کی پوجا کرتے تھے تو میں نے تمہاری روزی بند نہیں کی تو اب جبکہ تم مجھ پر ایمان لاکر میری بندگی کرو گے میں روزی کیوں بند کردونگا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو روزی رساں سب کا اللہ ۔ وحدہ لا شریک۔ ہی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ ـ 77 اکثر لوگ جاہل ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا " لیکن اکثر لوگ جانتے نہیں "۔ اور ان کی محدود و قاصر نگاہیں ظواہر و اسباب ہی میں اٹک کر اور الجھ کر رہ جاتی ہیں اور وہ حقیقتوں کی حقیقت اور اس اصل الاصول تک رسائی نہیں حاصل کرسکتے کہ سب کچھ دراصل اس خالق ومالک حقیقی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے جس کا دست قدرت و عنایت ہی اسباب و ظواہر کے اس سلسلے کے پیچھے کار فرما ہے۔ پس نگاہ حقیقت کو ہمیشہ اسی چیز کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور بھروسہ اسی قادر مطلق اور مسبب الاسباب پر کرنا چاہیئے۔ اور قوموں کی تاریخ سے انہی اہم اور بنیادی حقائق کی تاکید و توثیق ہوتی ہے۔ اور قرآن حکیم میں ان تاریخی واقعات کو اسی غرض کے لیے جا بجا اور طرح طرح سے بیان کیا جاتا ہے مگر دنیا کی اکثریت ہے کہ اس سے غافل و لاپرواہ ہے۔ وہ اس سے سبق لینے کی طرف متوجہ ہی نہیں۔ سو اس ارشاد میں ایسے لوگوں کے اس رویے پر اظہار افسوس ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 28:58

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَرْیَةٍۭ بَطِرَتْ مَعِیْشَتَهَا١ۚ فَتِلْكَ مَسٰكِنُهُمْ لَمْ تُسْكَنْ مِّنْۢ بَعْدِهِمْ اِلَّا قَلِیْلًا١ؕ وَ كُنَّا نَحْنُ الْوٰرِثِیْنَ Open ayah 28:58 in the Quran reader

اور کتنی ہی ایسی بستیوں کو ہم نے ہلاک کر کے رکھ دیا جن کے باشندے بڑے نازاں تھے اپنے سامان عیش و عشرت پر سو یہ ہیں ان کے مکان جو کھنڈرات کی صورت میں سامان عبرت بنے ہوئے موجود ہیں جن میں ان کے بعد کوئی رہا بسا نہیں مگر بہت تھوڑا اور آخرکار ہم ہی ان کے وارث ہو کر رہے

78 دنیاوی مال و دولت پر اترانا ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کتنی ہی ایسی بستیوں کو ہم نے ہلاک کر کے رکھ دیا جو بڑی اترایا کرتی تھیں اپنے سامان عیش و عشرت پر "۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ نہ تو دنیاوی مال و دولت کوئی فخر و ناز کی چیز ہے اور نہ ہی اس کا مل جانا حق و صداقت کی کوئی دلیل۔ ورنہ ماضی کی یہ قومیں جن کو اپنے دنیاوی مال و متاع پر اتنا ناز اور اس قدر گھمنڈ تھا اور جنہوں نے دنیاوی اور مادی اعتبار سے واقعتا ترقی بھی بہت کی تھی وہ اس طرح تباہ و برباد نہ ہوتیں اور صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح ہمیشہ کے لئے مٹا کر نہ رکھ دی جاتیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دنیاوی مال و دولت پر اترانا اور اس کی بنا پر حق سے منہ موڑنا ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 79 درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس سے ہلاک شدہ قوموں کے انجام سے درس عبرت لینے کی ہدایت اور تعلیم و تلقین فرمائی گئی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ ہیں ان قوموں کے کھنڈرات جن میں ان کے بعد کوئی نہیں ٹھہرا مگر بہت تھوڑا "۔ یعنی کوئی چلتا مسافر یا راہ گیر کسی قدر سستانے کے لئے لمحہ بھر کیلئے ٹھہر گیا یا کوئی نگاہ عبرت ڈالنے کے لئے کچھ رک گیا، تو رک گیا۔ ورنہ ان قوموں کے ان تباہ شدہ کھنڈارت میں رہنے بسنے کے لئے کوئی قوم کبھی تیار نہ ہوئی۔ بس کھنڈرات ہی کھنڈرات رہ گئے جو اپنی زبان حال سے دنیا کو درس عبرت و بصیرت سنا رہے ہیں تاکہ جس نے نصیحت پکڑنا ہو پکڑ لے۔ (ابن کثیر، صفوہ، مراغی وغیرہ) ۔ سو یہ کفار قریش اور انکے بعد ہر دور کے ان منکرین کیلئے انذار و تنبیہ ہے جو دنیاوی مال و دولت پر اتراتے ہیں اور خداوند قدوس کے فضل و کرم کو بھول کر وہ اس کو اپنی عقل و تدبیر کا نتیجہ وثمرہ قرار دیتے ہیں۔ سو ان کو یہ درس عبرت دیا جا رہا ہے کہ یہ رفاہیت جو تم لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے نصیب ہوئی ہے، اس پر اترانے اور تکبر کرنے کی بجائے اس واہب مطلق کا شکر ادا کرو جس نے تم کو اس سے نوازا ہے۔ ورنہ ان ہلاک شدہ قوموں کے عبرتناک انجام کو دیکھ لو جن کے یہ کھنڈرات تمہارے سامنے موجود ہیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " جب وہ لوگ اپنے کیے کرائے کے نتیجے میں فنا ہو کر مٹ مٹا گیے۔ ان کی وہ دولت جس پر ان کو بڑا فخر و ناز تھا اور ان کے وہ اسباب عیش و عشرت جن پر یہ بڑے مست و مگن تھے اور انہی میں محو و منہمک رہتے تھے وہ سب کچھ یونہی دھرے کا دھرا رہ گیا۔ کوئی نہیں تھا جو ان کی وراثت کا دعویٰ کرسکے۔ وہ سب کچھ ہماری ہی میراث میں آگیا ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 80 سب کچھ اللہ ہی کے لیے رہ جائے گا : سو ارشاد فرمایا گیا اور آخرکار ہم ہی وارث بن کر رہے کہ ان میں سے کوئی بچا ہی نہ جو کہ ان کا وارث بن سکتا اور ان کا وہ تمام مال و متاع جس پر ان کو بڑا ناز اور گھمنڈ تھا یونہی پڑا رہ گیا۔ اور جب کسی چیز کا کوئی مالک نہ رہ جائے تو اس کو اللہ ہی کی میراث کہا اور قرار دیا جاتا ہے کہ سب کا مالک بہرحال وہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے فرمایا گیا کہ ان سب کی میراث ہماری ہی طرف لوٹ آئی کہ آسمان و زمین کی اس پوری کائنات کے خالق ومالک اور وارث حقیقی ہم ہی ہیں۔ سو بڑے تنگ ظرف اور خطاکار ہیں وہ لوگ جو ہم سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔
Ayahs 28:59–60

وَ مَا كَانَ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرٰى حَتّٰى یَبْعَثَ فِیْۤ اُمِّهَا رَسُوْلًا یَّتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۚ وَ مَا كُنَّا مُهْلِكِی الْقُرٰۤى اِلَّا وَ اَهْلُهَا ظٰلِمُوْنَ Open ayah 28:59 in the Quran reader

اور آپ کا رب ایسا نہیں اور یہ اس کی شان نہیں کہ وہ ان بستیوں کو یونہی ہلاک کردیتا جب تک کہ ان کے مرکز میں کوئی ایسا رسول نہ بھیج دے جو ان کو پڑھ کر سنائے ہماری آیتیں اور احکام اور اس کے بعد بھی فوراً ہی ہم ان بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں مگر اس حالت میں کہ وہاں کے باشندے ظلم ہی پر کمر بستہ ہوجائیں (2)

وَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتُهَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 28:60 in the Quran reader

اور جو بھی کچھ تمہیں دیا گیا ہے اے لوگو ! تو وہ سب محض دنیاوی زندگی کا چند روزہ سامان اور اس کی زینت ہے اور بس اور جو کچھ اللہ کے پاس اس جہان میں رکھا ہے وہ اس سے کہیں بڑھ کر اچھا بھی ہے اور ہمیشہ رہنے والا بھی تو کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟ (1)

83 متاع دنیا سب فانی اور عارضی : سو ابنائے دنیا کو ایک صاف اور کھلی تنبیہ و تذکیر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جو بھی کچھ تمہیں دیا گیا ہے اے لوگو وہ سب اس دنیاوی زندگی ہی کا چند روزہ سامان ہے اور بس۔ سو کتنے کوتاہ نظر اور محروم و بدنصیب ہیں وہ لوگ جو دنیا کے اس چند روزہ سامان زیست اور اس کی عارضی اور فانی ٹیپ ٹاپ اور زیب وزینت میں الجھ کر رہ جائیں اور اپنے انجام کو اور اپنی آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کو بھول جائیں۔ اور اس طرح وہ ابدی خسارے کا شکار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ایسے لوگوں کو براہ راست خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ دنیاوی مال و دولت اور رفاہت و خوشحالی جو بھی کچھ تمہیں حاصل ہے اے لوگو وہ اسی دنیائے فانی کا چند روزہ سامان ہے اور بس۔ سو اس متاع فانی اور عارضی زیب وزینت اور چہل پہل پر ریجھ کر اپنی آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی اور اس کے تقاضوں سے غافل و لاپرواہ نہ ہوجانا کہ یہ خساروں کا خسارہ اور ہلاکتوں کی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 84 عقل سے کام لینے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا اور غافلوں کے ضمیروں کو جھنجوڑنے کے لیے استفہام کے اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟ "۔ کہ آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی اور اس کی بےمثل نعمتوں سے منہ موڑ کر اور ان کو بھول کر دنیا کی اس عارضی اور فانی زندگی ہی کے لئے جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہو۔ اور اسی کے عیش و عشرت کو اپنا مقصد حیات بناتے ہو ؟ ۔ والعیاذ باللہ مِنْ کُلِّ سُوْئٍ وَّزَیْغ ۔ حالانکہ جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ " خیر " بھی ہے اور " ابقیٰ " بھی۔ یعنی وہ کم و کیف ہر اعتبار سے دنیاوی زندگی کی ان تمام نعمتوں سے کہیں بڑھ کر بہتر اور عمدہ بھی ہے اور ہمیشہ رہنے والا بھی۔ پھر دنیا کی ان عارضی، فانی اور وقتی نعمتوں کی بنا پر اس سے غافل و لاپرواہ ہوجانا کتنے بڑے خسارے کا سودا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کیا کسی عقلمند کی عقل اگر وہ صحیح و سلامت ہو ایسے خسارے کو گوارہ کرسکتی ہے ؟ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر دنیا کو آخرت پر ترجیح کس طرح دی جاسکتی ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 28:61–62

اَفَمَنْ وَّعَدْنٰهُ وَعْدًا حَسَنًا فَهُوَ لَاقِیْهِ كَمَنْ مَّتَّعْنٰهُ مَتَاعَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا ثُمَّ هُوَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مِنَ الْمُحْضَرِیْنَ Open ayah 28:61 in the Quran reader

تو کیا وہ شخص جس سے ہم نے وعدہ کر رکھا ہو عمدہ وعدہ پھر وہ اس کو پانے والا بھی ہو کہیں اس وہ شخص کی طرف ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف دنیاوی زندگی کا سامان دے رکھا ہو پھر قیامت کے روز وہ گرفتار شدہ لوگوں میں سے ہو ؟ (2)

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:62 in the Quran reader

اور یاد کرو لوگوں اس ہولناک دن کو کہ جس دن اللہ ان کو پکارے گا پھر وہ ان سے پوچھے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم بڑا دعوی کرتے تھے ؟

87 مشرکوں کی تذلیل کا ایک منظر اور ایک تحریف کا جواب : سو اس سے مشرکوں کی تذلیل و تحقیر کے ایک منظر کو پیش فرمایا گیا ہے اور اس سے متعلق اہل بدعت کی ایک تحریف کا جواب بھی دیا جاتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یاد کرو اس دن کو کہ جس دن اللہ ان کو پکار کر پوچھے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم لوگوں کو بڑا گھمنڈ تھا "۔ کہ وہ ہمیں عذاب سے چھڑا دیں گے۔ { شرکائ } کا لفظ عام ہے۔ ہر شریک کو شامل ہے۔ خواہ اس کا تعلق بتوں اور بےجان مورتیوں سے ہو یا انسانوں، جنوں اور پیغمبروں، فرشتوں وغیرہ سے۔ جس کسی کو بھی کسی نے خدائی صفات و اختیارات میں شریک ٹھہرایا ہوگا وہ سب اس میں داخل ہیں۔ اور یہی قول جمہور مفسرین کرام کا قول ہے۔ مگر ہمارے دور کے اہل بدعت کا کہنا ہے کہ اس قسم کی آیات میں { شرکاء } سے مراد صرف بت ہیں۔ تاکہ اس طرح ایسے لوگوں کے لئے کاروبار شرک و بدعت پر زد نہ پڑنے پائے اور ان کے لئے قبر پرستی اور مخلوق پرستی کے چور دروازے کھلے رہیں۔ اور ان کے بعض بڑوں نے خوف خدا سے عاری ہو کر اپنے تفسیری ۔ بلکہ تحریفی ۔ حواشی میں اس مقام پر یہاں تک لکھ دیا ہے کہ " دیو بند کے فضلاء اس جیسی تمام آیات کو اولیاء اللہ اور مشائخِ عظام پر چسپاں کرتے ہیں کہ ان کے مریدوں سے کہا جائے گا کہ اپنے پیروں کو بلا لو۔ حالانکہ یہ آیت بتوں سے اور مشرکوں سے متعلق ہے " اب ذرا آپ یہاں پر چند حوالے بھی ملاحظہ فرما لیں کہ اسلاف کرام اور جمہور مفسرین کا اس بارے کیا کہنا ہے اور یہ صاحب کیا کہتے ہیں ؟ سو جمہور علماء و مفسرین کرام کی تصریحات اس بارے اس طرح ہیں ۔ " أیْ شَیَاطِیْنُھُمْ وَسَادَتُھُمْ فِی الضَّلَال " ۔ (جامع البیان : ج 2، 921) ۔ أیْ الاْصْنَام والْاَنْدادُ الّذین عَبْدَتُّمْوُھم مِنْ دُوْنِیْ ۔ (صفوۃ : ج 2، 144 و مختصر ابن کثیر ج 3 21) ۔ " وَالْمَرَادُ کُلُّ مَنْ عُبِدَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِّنْ مَّلَکٍ أوْ جِنٍّ أَوْ إِنْسِ أَوْ کَوْکَبٍ أَوْ صَنَمِ أَوْ غیر ذالک " ۔ (روح المعانی : ج 2 ، 100 البحر : ج 20 100 و المراغی ج 20 ص 81 وغیرہ ) ۔ ان مختصر حواشی میں اس سے زیادہ کی گنجائش نہیں اگر اللہ پاک کی توفیق سے مفصل تفسیر لکھنے کی سعادت نصیب ہوگئی تو انشاء اللہ وہاں پورے شرح و بسط سے اس کو بیان کیا جائے گا۔ بہرحال یہاں اتنا ہی کافی ہے۔ تو کیا صدیاں پہلے گزرنے والے یہ اعلام المفسرین سب دیوبند کے فضلاء تھے ؟ سو جب کوئی اپنی آنکھوں پر تعصب اور ہٹ دھرمی کی سیاہ پٹی باندھ لے تو اس کا حشر یہی ہوتا ہے جس کا نمونہ اہل بدعت کے ان بڑے صاحب نے اپنے ان تحریفی حواشی میں پیش کیا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ثقہ مفسرین کرام کے ان حوالوں سے ظاہر اور واضح ہوگیا کہ " شرکائ " سے مراد عام ہے۔ جس کسی مخلوق کو بھی حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پوجا پکارا جائے وہ سب اس میں داخل ہے خواہ وہ کچھ بھی ہو اور کوئی بھی ہو۔ باقی رہ گئے وہ اللہ والے جن کی پرستش ان کی مرضی کے بغیر بلکہ اس کے خلاف کی گئی ہوگی جیسے حضرت عزیر (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جن کو خدا کا بیٹا کہا گیا اور حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ۔ (رح) ۔ جن کو اہل بدعت غوث ۔ فریاد رس ۔ بلکہ غوث اعظم کہہ کر پکارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تو ایسی تمام پاکیزہ ہستیاں بلاشبہ اس طرح کے ہر شرک سے بری اور پاک ہیں کہ ان کا اس میں کوئی قصور نہیں۔ اس لئے ان پر کوئی الزام نہیں۔ انہوں نے تو ساری عمر توحید ہی کا درس دیا اور سب کو ایک اللہ ہی کی عبادت کی دعوت دی اور تبلیغ فرمائی۔ لیکن بعد میں ظالموں نے انہی کے نام پر طرح طرح سے شرک کا کاروبار کیا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 28:63

قَالَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَغْوَیْنَا١ۚ اَغْوَیْنٰهُمْ كَمَا غَوَیْنَا١ۚ تَبَرَّاْنَاۤ اِلَیْكَ١٘ مَا كَانُوْۤا اِیَّانَا یَعْبُدُوْنَ Open ayah 28:63 in the Quran reader

اس پر بول اٹھیں گے وہ لوگ جن پر پکی ہوچکی ہوگی ہماری بات کہ اے ہمارے رب یہی ہیں وہ لوگ جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا ہم نے ان کو اسی طرح گمراہ کیا تھا جس طرح کہ ہم خود گمراہ تھے ہم آپ کے سامنے براءت کا اظہار کرتے ہیں یہ لوگ ہماری بندگی نہیں کرتے تھے (3)

88 مشرکوں اور ان کے لیڈروں کے درمیان جوتا بازی کا ایک منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تب بول اٹھیں گے وہ لوگ جن پر پکی ہوچکی ہوگی ہماری بات "۔ یعنی ہماری یہ بات کہ ہم نے جہنم کو جنوں اور انسانوں سے بھرنا ہے ۔ { لاَمْلَئَنَّ جَہَنَّمْ مِنَ الْجِنَّۃِ و النَّاسِ اَجْمَعِیْنِ } ۔ یہاں پر اس سے مراد ہیں وہ مشرک لوگ جن پر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ عذاب صادر ہوچکا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کے روز یہ مشرک لوگ اپنے آخری عذاب کے طور پر اپنے گمراہ کن لیڈروں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا۔ اگر یہ لوگ ہمیں گمراہ نہ کرتے تو ہم گمراہ نہ ہوتے۔ تو اس کے جواب میں ان کے وہ گمراہ کن لیڈر کہیں گے کہ ہم نے ان کو اسی طرح گمراہ کیا جس طرح ہم خود گمراہ تھے۔ یعنی جو کچھ ہم خود تھے وہی کچھ ہم نے ان کو بتایا۔ لیکن اصل قصور ان کا خود اپنا ہے۔ یہ خود شامت زدہ اور بدبخت تھے جنہوں نے ازخود ہماری بات کو مانا۔ یہ اس آیت کریمہ کی تفسیر کا ایک احتمال اور قول ہے۔ اور یہ قول سورة اعراف کی آیت نمبر 38 اور 39 کے مضمون کے مطابق ہے۔ جبکہ دوسرا قول و احتمال اس بارے یہ ہے کہ اس میں { الذین حق علیہم القول } ۔ سے مراد مشرک نہیں بلکہ ان کے لیڈر ہیں۔ وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب یہ ہیں وہ لوگ جنکو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ کچھ مفسرین کرام نے اسی قول و احتمال کو اپنایا ہے۔ مآل اور مدعا کے اعتبار سے ان دونوں باتوں میں کوئی خاص فرق بہرحال نہیں پڑتا۔ بہرکیف اس کے بعد انکے وہ لیڈر کہیں گے کہ ہم تیرے حضور ان کے اعمال سے اپنی براءت کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہماری پوجا نہیں کرتے تھے بلکہ یہ خود اپنی خواہشات کی پوجا کرتے تھے۔ اور اسی بنا پر یہ ہمارے پیچھے چلتے تھے۔ اس لیے ہم پر ان کی گمراہی کی کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ بلکہ اپنی گمراہی کے ذمہ دار یہ خود ہیں۔ 89 مجرموں کی طرف سے اقرار جرم کا ذکر وبیان : سو اس سے گمراہ کن لیڈروں کی طرف سے اپنے جرم ضلال واضلال کے اقرار و اعتراف کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس موقعہ پر وہ گمراہ کن لیڈر اپنے جرم کا اقرار و اعتراف کرتے ہوئے صاف اور صریح طور پر کہیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ جس طرح ہم خود گمراہ تھے اسی طرح ہم نے ان کو گمراہ کیا۔ یعنی جس طرح ہم لوگ اپنے ارادئہ و اختیار سے خود گمراہ ہوئے اسی طرح یہ لوگ بھی کسی جبر واکراہ کے بغیر باختیار خود گمراہ ہوئے۔ پس ہم دونوں برابر ہیں۔ سوال ہوگا چیلوں سے اور بول پڑیں گے ان کے گرو کہ اپنے کئے کا انہیں خوب پتہ ہوگا۔ بہرکیف اس طرح وہ گرو اور لیڈر اپنے گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کے جرم کا اقرار و اعتراف کریں گے جس کے نتیجے میں ان کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگتنا ہوگا۔ سو قرآن حکیم کا یہ دنیا پر کتنا بڑا احسان ہے کہ اس نے غیب کے اس جہاں میں پیش آنے والے ان حقائق کو اس قدر صراحت و وضاحت کے ساتھ اتنا پیشگی اس دنیا ہی میں بتادیا جن کے جاننے کا دوسرا کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں۔ تاکہ جس نے بچنا ہو بچ جائے۔ لیکن ناشکری اور بےانصاف دنیا ہے کہ وہ اس کے باوجود خواب غفلت میں پڑی ہے۔ نہ اس کو اس کتاب حکیم کے اس احسان بےمثال کا کوئی احساس ہے اور نہ اپنے مآل و انجام کی کوئی فکر و پرواہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔ 90 گمراہ کن لیڈروں کا اپنے پیرؤوں کی پرستش کا انکار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ گمراہ کن لیڈر حق تعالیٰ کے حضور عرض کریں گے کہ ہم تیرے حضور ان لوگوں کے اعمال سے اپنی براءت کا اظہار و اعلان کرتے ہیں۔ یہ لوگ ہماری پوجا نہیں کرتے تھے۔ بلکہ یہ سب اپنی خواہشات کے پیچھے چل رہے تھے۔ اور اپنی خواہشات کی تکمیل ہی کے لئے انہوں نے اس طرح کے ہتھکنڈے اختیار کر رکھے تھے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اپنی خواہشات کی تکمیل کا سامان چونکہ ان کو ہماری پیروی اور پوجا ہی میں ملتا تھا اس لیے یہ حق سے منہ موڑ کر ہمارے پیچھے چلتے اور ہماری پوجا کرتے تھے جو کہ اصل میں ان کی اپنی ہی خواہشات کی پوجا اور پرستش تھی۔ لہذا ہمارے اوپر ان کی کوئی ذمہ داری نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے جو کچھ کیا اپنے آزادی ومرضی اور اپنی خواہش اور پسند کے مطابق کیا۔ اس لیے اپنے کیے کرائے کے ذمہ دار یہ لوگ خود ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 28:64

وَ قِیْلَ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ رَاَوُا الْعَذَابَ١ۚ لَوْ اَنَّهُمْ كَانُوْا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 28:64 in the Quran reader

اور اس کے بعد کہا جائے گا مشرکوں سے ان کی تذلیل کے لئے کہ اب پکار تم اپنے شریکوں کو چناچہ وہ انھیں پکاریں گے پر وہ ان کو کوئی جواب نہ دیں گے اور یہ لوگ دیکھ لیں گے اس عذاب کو جو ان کو ملنے والا ہوگا اور یہ رہ رہ کر افسوس کریں گے کہ کاش کہ انہوں نے راہ راست کو اپنایا ہوتا

91 مشرکوں کی تعجیز و تذلیل کا ایک اور منظر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہا جائے گا کہ اب پکارو تم لوگ ان اپنے خودساختہ شریکوں کو جن کا تم کو بڑا گھمنڈ اور زعم تھا کہ یہ بڑی پہنچیں ہوئی سرکاریں ہیں۔ ہماری بگڑی بنادیں گی اور مشکل وقت میں ہمیں کام آئیں گی۔ سو اب ان کو پکار دیکھو۔ اس طرح مشرکوں کی مزید تذلیل ہوگی۔ سو یہاں سے اندازہ کیجئے کہ اس کتاب حکیم قرآن مجید کا دنیا پر کس قدر احسان ہے کہ اس نے عالم آخرت اور غیب کی یہ باتیں اس قدر صراحت اور وضاحت کے ساتھ اس دنیا میں بتادیں تاکہ لوگ اس انجام بد سے بچ سکیں جسکے جاننے کا اور کوئی ذریعہ ممکن ہی نہیں۔ مگر دنیا ہے کہ پھر بھی خواب غفلت میں پڑی ہے اور اس کو پرواہ تک نہیں ۔ الا ماشاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے مشرکوں کی تذلیل و تخجیل کا ایک اور منظر بیان فرمایا گیا ہے کہ جب یہ لوگ اپنے لیڈروں اور اپنے بڑوں کے اس صاف اور صریح اعلان براءت و بیزاری کو سن لیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ اب تم لوگ اپنے ان خودساختہ شریکوں اور معبودوں کو مدد کیلئے پکارو جن پر تم لوگوں کو بڑا گھمنڈ تھا۔ سو وہ ان لوگوں کو پکاریں گے مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملے گا۔ تب ان کی حسرت کی کوئی حد اور انتہاء نہیں ہوگی کہ عذاب ان کے سامنے ہوگا اور جنکی شفاعت و سفارش کی یہ آس لگائے بیٹھے تھے اور جنکی امیدوں پر یہ جئے اور مرے ان کو پکارنا صدا بصحرا ثابت ہوا۔ اور جو عذاب ان کو اپنے کئے کرائے کے نتیجے میں بھگتنا ہوگا وہ ان کے سامنے ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 28:65

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ مَا ذَاۤ اَجَبْتُمُ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 28:65 in the Quran reader

اور یاد دہانی کراؤ ان کو اس ہولناک دن کی جس دن کہ وہ ان کو پکارے گا پھر کہے گا ان سے ان کی تذلیل وتوبیخ کے لئے کہ کیا جواب دیا تھا تم لوگوں نے میرے بھیجے ہوئے رسولوں کو ؟

92 مشرکوں کی تذلیل و تخجیل کے ایک اور منظر کا ذکر : سو اس سے قیامت کے روز مشرکوں کی تذلیل و تخجیل کا ایک اور منظر پیش فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاددہانی کراؤ ان کو قیامت کے اس ہولناک دن کی جس دن کہ اللہ ان لوگوں کو پکار کر پوچھے گا کیا جواب دیا تھا تم نے اپنے رسولوں کو۔ جن کو تمہاری ہدایت و راہنمائی کے لئے دنیا میں بھیجا جاتا رہا۔ تاکہ وہ تمہارے سامنے حق و ہدایت کی اس راہ کو واضح کرسکیں جس پر چل کر تم لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور ہو سکو۔ سو اس روز ہر امت کو پکار کر اس سے پوچھا جائے گا کہ تم لوگوں نے کیا جواب دیا تھا ہمارے بھیجے ہوئے رسولوں کو۔ اور ظاہر ہے کہ ان سے یہ سوال انکے جرم کی سنگینی کو ظاہر کرنے اور ان پر حجت قائم کرنے کیلئے کیا جائے گا کہ تمہارے رب نے جو تمہاری ہدایت و راہنمائی اور تمہاری بہتری اور بھلائی کیلئے یہ اہتمام فرمایا تھا کہ اپنے وہ رسول بھیجے جنہوں نے راہ حق و صواب کو تمہارے لیے واضح کردیا۔ سو اب تم بتاؤ کہ تم نے اس عظیم الشان نعت کی کیا قدر کی اور ان کو کیا جواب دیا تھا۔ سو اس کے جواب میں ان سے کوئی بات نہیں بن سکے گی۔ ان سب منکروں پر ایسا ہول طاری ہوگا اور اس قدر بدحواسی چھائی ہوگی کہ کسی سے کوئی بات بنائے نہ بن سکے گی اور وہ ایسی سراسیمگی میں مبتلا ہوں گے کہ اس سوال کے جواب میں وہ کسی سے کچھ پوچھ پاچھ بھی نہیں کرسکیں گے ۔ { فَہُمْ لاَ یَتَسَائَ لُوْنَ } -
Ayahs 28:66–67

فَعَمِیَتْ عَلَیْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ یَوْمَئِذٍ فَهُمْ لَا یَتَسَآءَلُوْنَ Open ayah 28:66 in the Quran reader

سو اس دن گم ہو کر رہ جائیں گی ان کی یہ تمام سخن سازیاں جن سے یہ لوگ آج کام لے رہے ہیں پھر نہ تو ان کو خود کچھ سوجھے گا اور نہ ہی یہ آپس میں ایک دوسرے سے کچھ پوچھ سکیں گے

فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ مِنَ الْمُفْلِحِیْنَ Open ayah 28:67 in the Quran reader

البتہ جس نے سچی توبہ کی ہوگی اور اس نے صدق دل سے ایمان لا کر کام بھی نیک کئے ہوں تو ایسا شخص امید ہے فلاح پانے والوں میں سے ہوگا

93 ایمان والوں کیلئے فوز و فلاح کی بشارت : { عَسیٰ } یعنی " امید ہے " کا یہ ارشاد ربانی یقین سے بھی کہیں بڑھ کر یقینی ہے۔ کیونکہ یہ ارحم الراحمین اور اصدق القائلین ۔ جل و علا ۔ کے کلام صدق نظام میں واقع ہوا ہے۔ جہاں اتنی یقین دہانی بھی بہت بڑی چیز ہے۔ اور یوں بادشاہوں کے تکلم و تخاطب کا انداز بھی اسی طرح کا ہوتا ہے۔ تو پھر بادشاہوں کے بادشاہ رب العالمین حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی شان اقدس و اعلیٰ کے کہنے ہی کیا ؟ اسی لئے مفسرین کرام کا کہنا ہے کہ ۔ " التّرجّی فی القرآن بمعنی التّحقیق لِاَنّہٰ وَعْدٌ کَرِیْمٌ مِنَ رَّبٍ رَّحِیْمٍ وَ مِنْ شَانِہٖ سُبْحَانَہٗ وَتعالٰی اَنَہٗ لَا یُخْلِفُ وَعَدُہٓ ۔ " (صفوۃ، مراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ سو حضرت حق ۔ جل جلالہ ۔ کے کلام صدق نظام میں جو " عسٰی " اور " لعل " جیسے کلمات ترجی سے امیدیں دلائی گئی ہیں وہ اس کے بندوں کے لئے بڑا سہارا ہیں۔ دوسری بات اس ضمن میں یہاں پر یہ بھی پیش نظر رہے کہ اس سے ہمیں یہ سبق بھی مل رہا ہے کہ اپنے اعمال پر کبھی مست نہیں ہونا چاہیئے بلکہ مومن صادق کو ہمیشہ ڈرتے ہی رہنا چاہیئے کیونکہ اس کا وعدہ تو بلاشبہ ہر لحاظ سے اور سب سے زیادہ پختہ و قوی ہے۔ مگر کیا ہمارے اعمال اس قابل ہیں بھی کہ اس کی بارگاہ اقدس و اعلیٰ میں شرف قبولیت پاس کیں ؟ سو خطرہ اور خدشہ اگر ہے تو اسی اعتبار سے ہے۔ لہذا ہمیشہ اپنی نیت اور اپنے عمل کی اصلاح کی فکر میں لگے رہنا چاہیئے ۔ اللہ تعالیٰ توفیق و عنایت سے نوازے ۔ آمین۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی میں ان خوش نصیب لوگوں کیلئے فوز و فلاح کی عظیم الشان بشارت ہے جو اپنے خالق ومالک کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ایمان اور عمل صالح کی دولت سے سرفراز ہوتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 28:68

وَ رَبُّكَ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ وَ یَخْتَارُ١ؕ مَا كَانَ لَهُمُ الْخِیَرَةُ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 28:68 in the Quran reader

اور تمہارا رب پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے اور چنتا اور برگزیدہ کرتا ہے جس کو چاہتا ہے یہ اختیار ان لوگوں کا کام نہیں اللہ پاک اور برتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں (1)

94 خلق و اختیار حق تعالیٰ ہی کی شان ہے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور تمہارا رب پیدا فرماتا ہے جو چاہتا ہے اور چتنا ہے جو چاہتا ہے "۔ پس جس طرح اس کی صفت خلق و ایجاد میں کسی کا کوئی دخل و اختیار نہیں وہ جو چاہے اور جیسا چاہے پیدا کرے اسی طرح اس کی صفت عطاء و اختیار میں بھی کسی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوسکتا۔ وہ جو احکام چاہے صادر فرمائے اور جس کو چاہے شرف نبوت سے سرفراز فرمائے۔ لہذا کفار قریش کا نبوت محمدیہ پر یہ اعتراض بھی لغو اور باطل ہے کہ یہ نعمت مکہ اور طائف کے کسی سردار کو کیوں نہ بخشی گئی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وقالوا لولا نُزِّلَ ہذَا الْقُرْآنُ عَلٰی رَجُلٍ مِّنَ الْقَرْیَتَیْنِ عَظِیْمٍ } ۔ (الزخرف : 31) ۔ کیونکہ اللہ پاک سب کچھ خوب جانتا ہے کہ رسالت کے شرف سے کس کو نوازا جائے اور کون اس کے لائق اور اس کا اہل ہے ۔ { اللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثٌ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ } ۔ (الانعام :125) ۔ سو فرشتوں کو یا کسی اور مخلوق کو جو بھی کوئی شرف و مرتبہ حاصل ہے وہ سب اسی کی عطا و بخشش سے ہے نہ کہ کسی کا کوئی ذاتی کمال یا شخصی استحقاق۔ سو اس کا یہ مطلب نہیں کہ کسی کو خدائی اختیارات شرکت یا حصہ داری کا کوئی حق حاصل ہوگیا۔ ایسوں کے لیے کوئی اختیار نہیں۔ سب اختیار اسی وحدہ لا شریک کو حاصل ہے ۔ سو خلق و اختیار حق تعالیٰ ہی کی شان اور اسی کا اختصاص ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ - 95 اللہ تعالیٰ کی شان تنزیہہ کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ پاک ہے اس شرک سے جو لوگ کرتے ہیں "۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہا جائے کہ وہ پاک اور بالاو برتر ہے ان تمام شریکوں سے جنہیں یہ لوگ اس کا شریک ٹھہراتے ہیں۔ مدعا و مقصود اور نتیجہ و مآل دونوں صورتوں اور دونوں تعبیروں کا بہرحال ایک ہی رہتا ہے کہ وہ وحدہ لاشریک ہر طرح کے شرک اور ہر قسم کے شریکوں سے پاک اور برتر ہے۔ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ مانگو تو اسی سے مانگو اور رجوع کرو تو ہر حال میں اسی کی طرف کرو۔ جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشادات سے طرح طرح سے اس کی تصریح و توضیح فرمائی ہے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ سو نہ کوئی اس کی ذات وصفات میں اس کا شریک وسہیم ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کے حقوق و اختیارات میں۔ وہ ہر لحاظ سے یکتا اور وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے عبادت گزار بندے ہیں اور بس۔ کسی خدائی صفت میں ان کی شرکت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 28:69

وَ رَبُّكَ یَعْلَمُ مَا تُكِنُّ صُدُوْرُهُمْ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 28:69 in the Quran reader

اور تمہارا رب خوب اور ایک برابر جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ پوشیدہ ہے ان کے سینوں میں اور وہ سب کچھ جس کو یہ لوگ ظاہر کرتے ہیں

96 اِبطال شرک علم الہی کے کمال کی رو سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہارا رب خوب اور ایک برابر جانتا ہے وہ سب کچھ جس کو یہ لوگ پوشیدہ رکھتے ہیں اپنے سینوں کے اندر اور جس کو یہ ظاہر کرتے ہیں "۔ اور جس اللہ کی یہ شان ہے اس کو دنیاوی بادشاہوں کی طرح سمجھ کر اور اس کو ان پر قیاس کرکے اس کے لئے خود ساختہ وسیلے ڈھونڈنا کس درجہ حماقت اور کتنی بڑی جہالت ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس کمال علمی کے بیان سے واضح ہوجاتا ہے کہ کوئی اس کا شریک وسہیم نہ ہوسکتا ہے اور نہ اس کی کوئی ضرورت و حاجت ہے۔ کیونکہ وہ جب لوگوں کی ان باتوں کو پوری طرح اور ایک برابر جانتا ہے جن کو وہ اپنے سینوں میں چھپاتے ہیں اور جن کو وہ ظاہر کرتے ہیں تو پھر اس کو اس کی ضرورت ہی کیا ہے کہ وہ کسی کو اپنا شریک وسہیم ٹھہرائے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نیز جب یہ شان اسی وحدہ لاشریک کی ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں کے اندر چھپی باتوں کو اور ان کی ظاہر کردہ باتوں کو ایک برابر جانتا ہے تو پھر اس کا کوئی شریک ہو ہی کس طرح سکتا ہے ؟۔ سو وہ اپنی ذات وصفات اور اپنے حقوق و اختیارات میں ہر لحاظ سے وحدہ لا شریک ہے ۔ ان میں دوسری کوئی بھی ہستی کسی بھی درجے میں اس کی شریک وسہیم نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 28:70

وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَهُ الْحَمْدُ فِی الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ لَهُ الْحُكْمُ وَ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:70 in the Quran reader

یہ اور وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اسی کے لئے ہے ہر تعریف دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اس کی حکومت ہے اور اسی کی طرف بہرحال لوٹ کر جانا ہے تم سب کو (2)

97 ہر تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ وہی ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی کیلئے ہے ہر تعریف دنیا میں بھی آخرت میں بھی "۔ آخرت میں تو بہرحال اسی کی حمد و ثنا کے غلغلے ہوں گے اس دنیا میں بھی جس کسی کی تعریف اس کی کسی خوبی کی بنا پر کی گئی یا کی جاتی ہے یا کی جائے گی، وہ سب بھی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے اسی وحدہ لاشریک کی تعریف ہے۔ کہ ہر خوبی و کمال اسی کو سزاوار، اسی کے لائق اور اسی کی طرف سے ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ دنیا میں جو بھی کوئی نعمت کسی کو ملتی ہے یا ملے گی وہ سب اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وما بکم من نعمۃ فمن اللہ } ۔ (النحل :53) یعنی " جو بھی کوئی نعمت تم لوگوں کو حاصل ہے وہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے "۔ اور آخرت میں بھی جو بھی کوئی نعمت کسی کو حاصل ہوگی وہ بھی اسی وحدہ لاشریک کی طرف سے ہوگی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کسی دوسرے کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے ہر تعریف کے لائق اور اس کا مستحق وہی وحدہ لاشریک ہے۔ ہر ایک کا فیصلہ اسی کے اختیار میں ہے اور ہر کسی نے لوٹ کر بہرحال اسی وحدہ لاشریک کے یہاں جانا اور اپنے کیے کرائے کا پھل پانا ہے۔ اور جب ہر نعمت اور خوبی اسی کی طرف سے ہے اور ہر تعریف کا حق دار بھی وہی تو معبود برحق بھی وہی ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل صرف اور صرف اسی کا حق ہے ۔ سبحانہ وتعالی ٰ - 98 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تم سب کو اے لوگو ! تاکہ وہاں پہنچ کر ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پھل پا سکے "۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طریقے سے پورے ہو سکیں۔ سو ہر کسی کو آخرکار اور بہرحال لوٹ کر اسی کے یہاں جانا اور اس کے حضور حاضر ہونا ہے۔ مومن صادق تو خوشی خوشی جائے گا تاکہ وہاں پہنچ کر اس کے یہاں کے بےمثال انعامات سے سرفراز ہو سکے۔ اور کافر بندھا بندھایا اور مجبور و لاچار ہو کر اس طرح جائے گا جس طرح کوئی قیدی اور مجرم قیدخانے جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ تب ہر کسی کو معلوم ہوجائے گا کہ معبود وہی وحدہ لاشریک ہے اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور ہر قسم کی حمد و ثنا اور تعریف و توصیف کا حق دار وہی وحدہ لا شریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس سے ان لوگوں کی بھی تردید ہوجاتی ہے جو " تناسخ " اور " آواگون " کے قائل ہیں کہ ہم مر کر دوسرے جون میں آجائیں گے اور ان کی بھی جو کہتے ہیں کہ ہم مرنے کے بعد یونہی کیڑے مکوڑوں کی طرح مٹ مٹا کر ختم ہوجائیں کے اور بس۔ سو اس سے ایسے سب لوگوں کی تردید ہوجاتی ہے اور یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ تم لوگ کوئی کیڑے مکوڑوں کی طرح عبث اور بیکار مخلوق نہیں ہو کہ تم یونہی مر مٹا کر ختم ہوجاؤ بلکہ تم لوگ ایک ذمہ دار اور کائنات کی مخدوم و متاع مخلوق ہو۔ تم نے بہرحال دوبارہ اٹھ کر اور اپنے خالق ومالک کی بارگہ اقدس واعلیٰ میں حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ سو تم لوگ چاہو یا نہ چاہو اور مانو یا نہ مانو ایسا بہرحال اور ہر قیمت پر ہو کر رہے گا۔ سو یہ ایک اہم اور بنیادی عقیدہ ہے جس سے زندگی کے دھارے بدل جاتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 28:71

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِضِیَآءٍ١ؕ اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ Open ayah 28:71 in the Quran reader

اے لوگو ! ان سے کہو کہ کیا تم لوگوں نے کبھی اس پر بھی غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک ہمیشہ کے لئے تم پر رات ہی طاری کر دے تو پھر کون سا معبود ایسا ہوسکتا ہے اللہ کے سوا جو تمہیں روشنی کی ایک کرن لا دے ؟ تو کیا تم لوگ سنتے نہیں ہو ؟

99 دن اور رات کی دو عظیم الشان نعمتوں کے بارے میں دعوت غور و فکر : سو اس ارشاد سے دن رات کے ادلنے بدلنے میں قدرت کے بعض عظیم الشان دلائل قدرت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ { سرمد } کے معنیٰ ہیں ہمیشہ رہنے والا ۔ " الدائم المتصل " ۔ سو دن رات کے اس اختلاف اور ہیرپھیر میں اگر انسان غور کرے تو اللہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کے عظیم الشان دلائل نظر آئیں گے۔ سو جب دائمی دن رات کو اللہ پاک کے سوا بدل دینے والا کوئی نہیں تو پھر اس کے سوا عبادت و بندگی کا حق بھی کسی کو نہیں پہنچ سکتا۔ (المراغی، ابن کثیر، صفوہ وغیرہ) ۔ سو منکروں اور مشرکوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے ہوئے اور ان کے دل و دماغ پر دستک دیتے ہوئے ان سے خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگ سوچو تو سہی اور قدرت کے ان دو واضح نشانات کے بارے میں غور و فکر تو کرو۔ اگر وہ قادر مطلق خالق کل اور مالک مختار تم پر قیامت تک کیلئے سیاہ رات کی چادر تان دیتا اور تم اس کے سیاہ اندھیروں کے اندر ڈوب کر رہ جاتے تو پھر کون ہے جو تمہیں دن کی روشنی یا اس کی کوئی کرن دکھا سکے ؟ جس میں تم لوگ دیکھ سکو اور اپنے کاروبار چلا سکو۔ اور اسی طرح اس کے برعکس اگر وہ تم لوگوں پر قیامت کے دن تک اجالا اور اس کی تیز روشنی مسلط کردیتا تو پھر کون ہے جو تمہارے لیے اس سیاہ رات کا انتظام کرسکتا جس میں تم لوگ آرام و سکون کی نیند سوتے۔ سو جب کائنات کے اس تصرفات میں جن پر ساری مخلوق کی زندگی اور ان کی بقا کا انحصار ہے ان میں تمہارے ان خودساختہ معبودوں، دیویوں، دیوتاؤں اور فرضی " سرکاروں " کا کوئی عمل دخل نہیں۔ تو پھر تم لوگ ان کی خدائی کا دعویٰ آخر کس طرح کرتے ہو ؟ ، اور ان کے آگے مراسم عبودیت کس طرح اور کیونکر بجا لاتے ہو ؟ اور شرک کی دلدل میں آخر کیوں پھنستے اور اپنی تباہی کا سامان کرتے ہو ؟ کیا تم لوگوں کو اتنی واضح حقیقت بھی سمجھ نہیں آتی ؟ نیز تم لوگ سوچو کہ جس خالق ومالک کی ایسی عظیم الشان نعمتوں اور عنایتوں سے تم لوگ ہمیشہ ہر جگہ اور ہر حال میں مستفید و فیضیاب ہوتے رہتے ہو اس کا تم پر کیا حق ہے اور اس کا وہ حق واجب کس طرح ادا کیا جاسکتا ہے۔ اور ایسے مالک مہربان اور ربِّ رحیم و رحمان سے منہ موڑنا اور روگردانی برتنا کتنا بڑا ظلم ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہم فہذہ نواصینا بین یدیک فخدنا بہا الی ما فیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال وفی کل لحظۃ من اللحظات فی الحیاۃ یا ذا الجلال والاکرام ۔ یا من بیدہ ملکوت کل شیئ۔
Ayahs 28:72–73

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَیْكُمُ النَّهَارَ سَرْمَدًا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ اِلٰهٌ غَیْرُ اللّٰهِ یَاْتِیْكُمْ بِلَیْلٍ تَسْكُنُوْنَ فِیْهِ١ؕ اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ Open ayah 28:72 in the Quran reader

نیز ان سے کہو کہ کیا تم لوگوں نے کبھی اس پر بھی غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک ہمیشہ کے لئے تم پر دن ہی طاری کر دے تو پھر کون سا معبود ایسا ہوسکتا ہے اللہ وحدہ لا شریک کے سوا جو لے آئے تمہارے پاس ایسی رات جس میں تم سکون حاصل کرسکو ؟ کیا تم لوگوں کو کچھ سوجھتا نہیں ؟

وَ مِنْ رَّحْمَتِهٖ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ لِتَسْكُنُوْا فِیْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 28:73 in the Quran reader

اور اس نے اپنی رحمت و عنایت سے تمہارے لئے رات بھی بنائی اور دن بھی تاکہ رات کو تو تم آرام کرسکو اور دن کو اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور تاکہ تم شکر ادا کرسکو اس کی ان نعمتوں کا (3)

100 سلسلہ روز و شب میں عظیم الشان دلائل قدرت : سو رات اور دن کے یہ دونوں سلسلے اس کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت کے دو عظیم الشان نشان ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے اپنی رحمت و عنایت سے تمہارے لیے رات بھی بنا لی اور دن بھی۔ تو کیا جس ذات اقدس و اعلیٰ نے تمہارے جسمانی آرام و سکون کا اس قدر انتظام فرمایا ہے کیا اس نے تمہارے لئے دوزخ کی آگ سے بچاؤ کا کوئی انتظام نہیں فرمایا ہوگا ؟ ضرور اور بالضرور فرمایا ہے۔ اور اسی لئے اس نے تمہیں دین حق کی اس نعمت عظمی سے نوازا ہے تاکہ اس کی روشنی میں تم لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہو سکو۔ پس تم پر لازم ہے اے لوگو کہ تم لوگ دل و جان سے اس کی قدر کرو اور اپنے آپ کو اس دین حق کے سانچے میں ڈھال کر دنیا و آخرت کی سعادت اور فوز و فلاح کا سامان کرو۔ سو رات اور دن کے یہ دونوں سلسلے اس کی قدرت و حکمت، رحمت و عنایت اور اس کی وحدانیت مطلقہ کے عظیم الشان نشان اور کھلے دلائل ہیں۔ لیکن ان سے مستفید و فیضیاب وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو ان میں صحیح طریقے سے غور و فکر سے کام لیتے ہیں۔ ورنہ جانوروں کے لیے ان میں کوئی سامان عبرت و بصیرت نہیں ہوسکتا ۔ والعیاذ باللہ - 101 روزی اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان کا نتیجہ : یہاں بھی روزی کو فضل ۔ مہربانی ۔ سے تعبیر فرمایا گیا ہے کہ یہ محض تمہاری سعی و کوشش کا نتیجہ وثمرہ نہیں بلکہ اللہ پاک کی بخشش و عطا اور اس کی مہربانی و عنایت کا نتیجہ و ثمر ہے۔ پس تم لوگ روزی کے حصول کے لئے کوشش تو بیشک کرو مگر دل کا بھروسہ ہمیشہ اپنے خالق ومالک ہی پر رکھو کہ تمہیں ملے گا بہرحال وہی جو وہ واہب مطلق اپنے فضل و کرم سے تمہیں عطا فرمائے گا۔ پس روزی کے سلسلے میں تم لوگ دل کا بھروسہ بھی ہمیشہ اسی پر رکھو اور اس کے ملنے پر شکر بھی اسی وحدہ لاشریک کا ادا کرو۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ دن اور رات کو اس پر حکمت طریقے سے لانا اسی قادر مطلق خدائے رحمان و رحیم کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت کا نتیجہ ہے۔ نہ اس میں اور کسی کا کوئی عمل دخل ہے اور نہ تمہارا کسی طرح کا کوئی استحقاق۔ سو تم لوگ دیکھو کہ وہ کس قدر حکمت اور اہتمام سے تمہارے لیے رات لاتا ہے جو تمہارے لیے راحت و سکون کا ایک عظیم الشان بستر بچھا دیتی ہے۔ اور پھر وہی تمہارے لیے روز روشن کے طلوع کا سامان کرتا ہے جس سے تمہارے لیے تلاش رزق کے راستے کھل جاتے ہیں اور عظیم الشان میدان گرم ہوجاتا ہے تاکہ تم اس کا شکر ادا کرو۔
Ayah 28:74

وَ یَوْمَ یُنَادِیْهِمْ فَیَقُوْلُ اَیْنَ شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ Open ayah 28:74 in the Quran reader

اور یاد دھانی کراؤ ان کو اس ہولناک دن کہ وہ ان کو پکار کر فرمائے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم لوگ دعوی اور گھمنڈ رکھتے تھے ؟

102 روز قیامت کی تذکیر و یاددہانی اور مشرکوں کو تنبیہ و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یاددہانی کراؤ ان کو اس ہولناک دن کی جس دن وہ ان کو پکار فرمائے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم لوگ بڑا دعویٰ اور گھمنڈ رکھا کرتے تھے۔ کہ وہ ہمیں مشکل وقت میں کام آئیں گے اور ہمارا کام بنادیں گے کہ یہ بڑی پہنچی ہوئی " سرکاریں " ہیں۔ " ہماری ان کے آگے اور ان کی اس کے آگے " وغیرہ وغیرہ۔ قرآن حکیم آخرت کے اس ہولناک منظر کا ذکر جگہ جگہ اور طرح طرح سے فرماتا ہے تاکہ لوگ ایسے خود ساختہ مفروضوں اور من گھڑت ڈھکوسلوں سے بچ سکیں اور ان خودساختہ معبودوں کی پوجا پاٹ سے باز آجائیں اور ارتکاب شرک سے اپنی تباہی کا سامان نہ کریں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس ہولناک دن میں مشرکوں کو پکار کر اس طرح کہا جائے گا جس سے ان کی تحقیر و تذلیل کا ایک اور منظر سامنے آئے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -