28. Surah Al-Qasas

القصصThe Stories · 88 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 28:28–29

قَالَ ذٰلِكَ بَیْنِیْ وَ بَیْنَكَ١ؕ اَیَّمَا الْاَجَلَیْنِ قَضَیْتُ فَلَا عُدْوَانَ عَلَیَّ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى مَا نَقُوْلُ وَكِیْلٌ۠ Open ayah 28:28 in the Quran reader

موسیٰ نے جواب دیا کہ چلو یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پوری کر دوں اس کے بعد مجھ پر کوئی زیادتی نہ ہو اور اللہ گواہ ہے اس قول وقرار پر جو ہم کر رہے ہیں (3)

فَلَمَّا قَضٰى مُوْسَى الْاَجَلَ وَ سَارَ بِاَهْلِهٖۤ اٰنَسَ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ نَارًا١ۚ قَالَ لِاَهْلِهِ امْكُثُوْۤا اِنِّیْۤ اٰنَسْتُ نَارًا لَّعَلِّیْۤ اٰتِیْكُمْ مِّنْهَا بِخَبَرٍ اَوْ جَذْوَةٍ مِّنَ النَّارِ لَعَلَّكُمْ تَصْطَلُوْنَ Open ayah 28:29 in the Quran reader

پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کردی اور اپنے گھر والوں کو لے کر چل پڑے تو راستے میں ایک موقع پر ان کو طور کی جانب سے ایک آگ سی دکھائی دی تو آپ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ تم ذرا ٹھہرو میں نے ایک آگ دیکھی ہے شاید میں وہاں سے تمہارے پاس کوئی خبر لے آؤں یا آگ کا کوئی انگارہ تمہارے لئے اٹھا لاؤں جس سے تم تاپ سکو (4)

37 تکمیل مدت کے مرحلے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر جب موسیٰ نے وہ مدت پوری کرلی ان کے درمیان جو مقرر کی گئی تھی تو موسیٰ اپنے گھر والوں کو لے کر وہاں سے واپس چل دیے۔ اور روایات کے مطابق آپ نے بڑی مدت یعنی دس سال پورے کئے کہ یہی تقاضا ہے اس حسن خلق اور خوش معاملگی کا جس کی تعلیم دین حق دیتا ہے۔ اور جس کو قرآن حکیم نے اپنے اس ایک معجزانہ جملے میں سمو دیا ہے ۔ { وَلا تَنْسَوُوا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ } ۔ (البقرۃ : 237) یعنی " تم لوگ آپس میں احسان اور مہربانی کا معاملہ کرنے کی خو کو کبھی نہیں بھولنا "۔ سو حضرت موسیٰ نے دس سال تک حضرت شعیب کے پاس رہنے کے اور اتنا عرصہ گلہ بانی کرنے کے بعد اور دس سال کی اس صحبت سے مستفید ہونے کے بعد جب مجاہدئہ و ریاضت کی مطلوبہ منزلیں طے کرلیں اور آپ چالیس کی عمر کو پہنچ گئے تو آپ نے واپس مصر کی طرف کوچ کرنے کا اردہ اور پروگرام بنالیا۔ تو راستے میں یہ مرحلہ پیش آیا جس میں حضرت واہب مطلق جل جلالہ کی طرف سے آنجناب کو شرف نیوت و رسالت سے نوازا گیا جس کا قصہ یہاں ذکر فرمایا جا رہا ہے۔ 38 حضرت موسیٰ کے سفر اور نبوت سے سرفرازی کا ذکر : سو اس سے حضرت موسیٰ کے مدین سے واپسی کے سفر اور اس دوران میں عطائے نبوت کے مرحلے کو ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ مقررہ مدت پوری کرنے کے بعد اپنے گھر والوں کو لیکر مدین سے چل پڑے۔ یعنی واپس مصر کی طرف کہ وہاں پر اپنے لوگوں سے مل سکیں۔ اور اتنی مدت میں فرعونی لوگ اس قبطی کے قتل کا قصہ بھی بھول چکے ہوں گے۔ اور اس لئے کہ دعوت حق اور اپنی قوم کو غلامی سے نجات دلانے کا عظیم الشان کام بھی آپ نے وہیں واپس جا کر انجام دینا تھا۔ سو آپ اپنے بال بچوں سمیت واپس مصر کی طرف روانہ ہوگئے۔ تو جب جبل طور کے قریب پہنچے، رات سخت اندھیری تھی۔ اس سخت اندھیرے میں راستے کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ تو اتنے میں طور کی جانب سے آگ کی ایک چمک سی دکھائی دی۔ تو آپ نے اپنے بیوی بچوں سے فرمایا کہ تم یہیں ٹھہرو میں وہاں جاتا ہوں جہاں یہ آگ دکھائی دے رہی ہے۔ شاید مجھے وہاں کوئی آدمی مل جائے تو اس سے راستہ پوچھ لوں یا وہاں سے کوئی انگارہ ہی لے آؤں تاکہ تم آگ تاپ سکو۔ اور اس طرح تمہارے لیے اس سردی سے حفاظت اور بچاؤ کا سامان ہو سکے۔
Ayahs 28:30–31

فَلَمَّاۤ اَتٰىهَا نُوْدِیَ مِنْ شَاطِئِ الْوَادِ الْاَیْمَنِ فِی الْبُقْعَةِ الْمُبٰرَكَةِ مِنَ الشَّجَرَةِ اَنْ یّٰمُوْسٰۤى اِنِّیْۤ اَنَا اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 28:30 in the Quran reader

مگر جب آپ وہاں پہنچے تو اس وادی کی دائیں جانب اس مبارک خطے میں ایک درخت سے آپ کو آواز آئی کہ اے موسیٰ یقینی طور پر میں اللہ ہوں سارے جہانوں کا پروردگار (1)

وَ اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ؕ فَلَمَّا رَاٰهَا تَهْتَزُّ كَاَنَّهَا جَآنٌّ وَّلّٰى مُدْبِرًا وَّ لَمْ یُعَقِّبْ١ؕ یٰمُوْسٰۤى اَقْبِلْ وَ لَا تَخَفْ١۫ اِنَّكَ مِنَ الْاٰمِنِیْنَ Open ayah 28:31 in the Quran reader

اور ڈال دو اپنی لاٹھی کو زمین پر اسے موسیٰ ! پھر جب موسیٰ نے زمین پر ڈالنے کے بعد اس کو دیکھا تو وہ اس طرح بل کھا رہی تھی جیسے کوئی باریک پھرتیلا سانپ ہو تو آپ مارے خوف کے بھاگ کھڑے ہوئے پیٹھ پھیر کر اور مڑ کر بھی نہ دیکھا ارشاد ہوا اے موسیٰ پلٹ آؤ اور ڈرو مت بیشک تم امن والوں میں سے ہو

39 حضرت موسیٰ کی معجزئہ عصا سے سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ موسیٰ کو حکم ہوا کہ اپنی لاٹھی کو ڈال دو زمین پر۔ سو آپ نے اس کو زمین پر ڈال دیا۔ پھر یکایک عصائے موسوی ایسے بل کھا رہا تھا جیسے وہ کوئی باریک سانپ ہو۔ یعنی چلنے اور پھرتی میں تو وہ { جان } ۔ " پتلے باریک سانپ " کی طرح تھا مگر جسم میں خوفناک اژدھے کی طرح۔ جیسا کہ دوسری جگہ اسے { ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ } فرمایا گیا۔ اور ان دو متضاد صفتوں کو اس میں یکجا ہوجانا اس کی انفرادی شان ہی کا ایک پہلو تھا۔ بہرکیف یہ پہلا معجزہ تھا جس سے حضرت موسیٰ کو نوازا گیا کہ اللہ کے حکم و ارشاد سے آپ نے اپنے عصا کو زمین پر ڈال دیا اور زمین پر پڑتے ہی وہ ایک باریک پھرتیلے سانپ کی طرح ادھر ادھر دوڑنے لگا اور یکایک اور خلاف توقع یہ منظر دیکھنے پر حضرت موسیٰ سخت دہشت زدہ ہوگئے۔ اور اس طرح بھاگ کھڑے ہوئے کہ پیچھے مڑنے کی ہمت بھی نہ کرسکے۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر کو نبوت ملنے سے پہلے اس کا کوئی سان و گمان تک بھی نہیں ہوتا کہ ان کو اس شرف سے نوازا جائے گا۔ سو نبوت و رسالت خالص اللہ تعالیٰ کا عطیہ و احسان ہوتا ہے۔ اس میں بندے کے کسب و اکتساب کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ یہ محض اللہ تعالیٰ کا انتخاب ہوتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ } - 40 پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل : سو اس سے اس امر کی تصریح فرمائی گئی کہ عصائے موسوی کے سانپ بن جانے سے حضرت موسیٰ اس سے ایسے گھبرا اٹھے کہ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوئے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھا۔ سو یہ طبعی خوف تھا جو شان نبوت کے منافی نہیں۔ یہاں سے ایک مرتبہ پھر یہ حقیقت واضح اور آشکارا ہوگئی کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں اور نہ مختار کل۔ جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا ہے۔ ورنہ حضرت موسیٰ اپنے ہاتھ کی لاٹھی سے نہ اس طرح ڈرتے، نہ خوف کھاتے۔ ان حضرات کو غیب کی بس وہی خبریں معلوم ہوتی ہیں جو ان کو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے دی جاتی ہیں جو ان کے منصب کے لئے ضروری ہوتی ہیں اور بس۔ اور غیب کی ان خبروں کی اللہ پاک کے علم لامتناہی کے مقابلے میں وہ نسبت بھی نہیں جو ایک ذرہ کو سمندر سے ہوسکتی ہے۔ جیسا کہ قصہ خضر و موسیٰ کے ضمن میں اس کی تصریح بھی فرمائی گئی ہے۔ اور جب موسیٰ جیسے اولوا العزم پیغمبر کا یہ حال ہے تو پھر کسی ولی وبزرگ کی غیب دانی کا سوال ہی کیا پیدا ہوسکتا ہے ؟ مگر اس قدر تاکید و تکرار کے باوجود اہل بدعت اس حقیقت کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ وہ نبیوں کیلئے " عالم ماکان ومایکون " ہونے کا شرکیہ عقیدہ رکھتے ہیں۔ اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ ہر ولی بزرگ کو بھی عالم غیب مانتے ہیں۔ اور اس کے لئے وہ طرح طرح کے ڈھکوسلوں اور خود ساختہ مفروضوں سے کام لیتے اور قرآن و سنت کی نصوص طیبہ میں طرح طرح کی تحریفات وتلبیسات سے کام لیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف حضرت موسیٰ کے اس قصے سے واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں نہ مختار کل۔ پس اختیار کل اور علم غیب اللہ تعالیٰ ہی کا اختصاص ہے۔ 41 اللہ تعالیٰ کی طرف سے حضرت موسیٰ کو تسلی : سو اس موقعہ پر حضرت موسیٰ سے فرمایا گیا کہ " لوٹ آؤ اور ڈرو مت کہ بیشک تم امن والوں میں سے ہو "۔ یعنی ان لوگوں سے جو ہمیشہ امن میں رہیں گے اس دنیا میں بھی، موت کے وقت بھی اور عالم برزخ و آخرت میں بھی۔ کوئی آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ کیونکہ جملہ اسمیہ اختیار فرمایا گیا ہے جو کہ دوام و استمرار پر دلالت کرتا ہے۔ اور وہ بھی { ان } کی تاکید کے ساتھ۔ اور ظاہر ہے کہ جس کو اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس طرح امن کی نوید سنائے جو کہ قادر مطلق اور مالک کل ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ تو پھر اس کے لئے کسی خوف کا کیا سوال ؟۔ بہرکیف اس طرح حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے حضرت موسیٰ کو تسلی دی گئی اور اپنی خاص رحمت و عنایت سے ان کو اطمینان دلایا کہ موسیٰ آگے بڑھو اور اس کو اٹھا لو۔ اس سے ڈرو نہیں۔ تمہارے لیے اس میں خوف و خطر کی کوئی بات نہیں۔ تم تو ہر قسم کے خطرہ سے امن وامان میں اور بالکل محفوظ ہو۔ یہ خطرہ اگر ہے تو تمہارے دشمنوں کیلئے ہے۔ تم تو ہمارے رسول ہو اور ہمارے رسولوں کیلئے ڈرنے کی کوئی وجہ نہیں ہوتی۔ اور اپنے رسولوں کو ہم اس طرح کے خاص اسلحہ سے مسلح کرتے ہیں۔ سو ان سے جو خطرہ پیش آتا ہے وہ ہمارے دشمنوں کیلئے ہوتا ہے نہ کہ ہمارے رسولوں کیلئے۔ جیسا کہ سورة نمل میں فرمایا گیا ۔ { یَا مُوْسٰی لَا تَخَفْ اِنِّی لَا یَخَافُ لَدَیَّ الْمُرْسَلُوْنَ } ۔ (النمل :10) ۔
Ayah 28:32

اُسْلُكْ یَدَكَ فِیْ جَیْبِكَ تَخْرُجْ بَیْضَآءَ مِنْ غَیْرِ سُوْٓءٍ١٘ وَّ اضْمُمْ اِلَیْكَ جَنَاحَكَ مِنَ الرَّهْبِ فَذٰنِكَ بُرْهَانٰنِ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 28:32 in the Quran reader

اور مزید یہ کہ ڈالو اپنا ہاتھ گریباں میں وہ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی بیماری اور عیب کے اور سکیڑ لو اپنا ہاتھ گریباں یا بغل کی طرف خوف کو رفع کرنے کے لئے سو یہ دو بڑی سندیں ہیں آپ کے رب کی جانب سے فرعون اور اس کے درباریوں کی طرف بیشک وہ بڑے بدکار لوگ ہیں (2)

42 حضرت موسیٰ کے لیے ید بیضا کا معجزہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو وہ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی ۔ عیب اور۔ اور بیماری کے "۔ { من غیر سوئ } نکرہ تحت النفی عموم کا فائدہ دیتا ہے۔ یعنی کسی بھی قسم کا کوئی عیب نہیں ہوگا جیسا کہ برص وغیرہ کی شکل میں ہوتا ہے اور نہ ہی کسی درد تکلیف وغیرہ کا کوئی سوال ہوگا جیسا کہ کسی تبدیلی کے وقت عام طور پر ہوجاتا ہے۔ سو معجزئہ عصا کے بعد یہ یدبیضا کے دوسرے معجزے کا ذکر فرمایا گیا جس سے حضرت موسیٰ کو بطور خاص نوازا گیا تھا۔ اور طریقہ اس کا یہ بتایا گیا کہ مقابلہ اور خوف کے کسی ایسے موقعہ پر تم اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈال دو وہ سفید چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی قسم کی بیماری اور کسی طرح کے عیب کے۔ سو اپنے رب کی طرف سے بخشی گئی ان دو عظیم الشان نشانیوں اور معجزوں سے لیس ہو کر اپنے دشمن کے مقابلے میں نکلو ۔ سبحان اللہ ۔ حضرات انبیاء و رسل کو قدرت کی طرف سے جس طرح وہ خود دوسری تمام مخلوق کے مقابلے میں ممتاز و منفرد مرتبہ و مقام کے مالک ہوتے ہیں۔ اسی طرح ان کے اسلحے اور ہتھیار بھی منفرد اور بےمثال ہوتے ہیں ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین ۔ سو عصا اور ید بیضا حضرت موسیٰ کے دو بڑے معجزے تھے۔ 43 خوف کو رفع کرنے کے طریقے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اپنے ہاتھ کو اپنی طرف سکیڑ لیا کرو خوف کو رفع کرنے کیلئے۔ یعنی تاکہ ہاتھ کے یکایک اس طرح چمک اٹھنے سے پیدا ہونے والا خوف ختم ہوجائے۔ اور قرآن کی بلاغت کے قربان جائیں۔ یہاں " یدک " نہیں { جناحک } فرمایا گیا ہے۔ جس کے معنیٰ " پر " کے آتے ہیں۔ کہ پرندہ جب خوف اور پریشانی میں ہو تو پر پھیلا دیتا ہے اور جب اطمینان و سکون میں ہو تو انہیں سیکڑ لیتا ہے۔ لہذا حضرت موسیٰ کو ارشاد فرمایا گیا کہ آئندہ بھی جب کبھی کسی خوف و پریشانی کا موقعہ ہو تو اپنے دل کی مضبوطی اور اطمینان کے لئے اپنا ہاتھ اپنے سینے پر رکھ دیا کرو۔ اور عام مشاہدہ و تجربہ بھی یہی ہے کہ ایسے موقعہ پر آدمی خود بھی یونہی کرتا ہے۔ اور حضرت ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے کہ جو بھی کوئی خوف کے وقت ایسا کرے گا اس کا خوف زائل ہوجائے گا اور اسے اطمینان و سکون نصیب ہوجائے گا۔ اور حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ حضرت موسیٰ کا جب فرعون سے سامنا ہوتا تو آپ اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کر یوں دعا کرتے ۔ " أللّٰہُمَّ اِنِّیْ أَدْرِئُ بِکَ فِیْ نَحْرِہ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّہٖ " ۔ " اللہ میں تیری مدد سے اس کو دفع کرتا ہوں اور اس کے شر سے تیری پناہ چاہتا ہوں "۔ اس سے نہ صرف حضرت موسیٰ کو اطمینان نصیب ہوجاتا بلکہ اس لعین پر بھی آپ (علیہ السلام) کا ایسا رعب پڑتا کہ اسکا پیشاب نکل جاتا۔ (جامع البیان، المراغی، المحاسن، روح المعانی اور ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو یہ ہے اللہ تعالیٰ کے نام پاک کی عظمت وبرکت کا کرشمہ مگر کلمہ گو مشرک پھر بھی غیروں کو پکارتا ہے۔ 44 حضرت موسیٰ کے لیے دو سندوں کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ دو سندیں ہیں آپ کے رب کی طرف سے جن سے اس نے اپنے فضل و کرم سے آپ کو نوازا ہے۔ اور جو اس بات کی کھلی سندیں اور واضح نشانیاں ہیں کہ آپ (علیہ السلام) اپنے دعوائے رسالت میں سچے ہیں اور اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے۔ جو چاہے اور جیسے چاہے کرے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ آپ کے رب کی طرف سے آپ کو یہ دو عظیم الشان سندیں عطا فرمائی گئی ہیں کہ ان کے ساتھ مسلح ہو کر آپ فرعونیوں کے پاس جائیں کہ وہ بڑے بدکار لوگ ہیں۔ لہذا ان کے پاس جا کر ان کو کلمہ حق کی دعوت دو اور ان کو پیغام حق پہنچاؤ۔ ان کو ان کی سرکشی کے ہولناک انجام سے آگاہ کرو اور ان دونوں سندوں اور روشن دلیلوں سے ان پر حجت تمام کردو تاکہ وہ باز آجائیں اپنی سرکشی اور طغیانی سے۔ نہیں تو آخری اور ہولناک انجام کے لیے تیار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 28:33–34

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ قَتَلْتُ مِنْهُمْ نَفْسًا فَاَخَافُ اَنْ یَّقْتُلُوْنِ Open ayah 28:33 in the Quran reader

(موسیٰ نے عرض کیا میرے مالک حکم سر آنکھوں پر) لیکن میں نے تو ان کا ایک آدمی قتل کیا ہوا ہے جس سے میں ڈرتا ہوں کہ کیں وہ لوگ مجھے دیکھتے ہی قتل نہ کردیں

وَ اَخِیْ هٰرُوْنُ هُوَ اَفْصَحُ مِنِّیْ لِسَانًا فَاَرْسِلْهُ مَعِیَ رِدْاً یُّصَدِّقُنِیْۤ١٘ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یُّكَذِّبُوْنِ Open ayah 28:34 in the Quran reader

اور میرے بھائی ہارون مجھ سے زیادہ زبان آور ہیں سو ان کو بھی میرے ساتھ بھیج دیجئے رسول بنا کر میرے مددگار کے طور پر تاکہ وہ میری تصدیق کریں مجھے سخت اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلا دیں گے

45 راہ حق میں معاون و مددگار کے لیے دعا و درخواست : سو اس سے حضرت موسیٰ کی طرف سے اپنے رب کے حضور اپنے لیے ایک مددگار و معاون کی دعا و درخواست کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو حضرت موسیٰ حکم الہی کی تعمیل میں اس عظیم الشان مہم پر روانگی کے لیے تیار ہوگئے لیکن اس کے ساتھ ہی اس بارے اپنے ایک خدشے کا بھی اظہار کیا کہ میں نے ان لوگوں کا ایک آدمی قتل کیا ہوا ہے جس کی بنا پر مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ وہ مجھے دیکھتے ہی قتل کردیں گے۔ اور دوسری عرض اپنے رب کے حضور آپ نے یہ پیش کی کہ میرے بھائی ہارون چونکہ مجھ سے زیادہ فصیح ہیں اس لیے ان کو میرا معین اور مددگار مقرر فرمایا جائے تاکہ وہ میری معاونت کریں۔ اور ضرورت پڑنے پر اپنے زور بیان کو حق کی نصرت و تائید میں صرف کریں۔ اور اس طرح میرے کام میں میرے مددگار بنیں۔ جیسا کہ سورة طہ میں بھی بیان فرمایا گیا۔ حضرت ہارون کو میرا معاون و مددگار بنادیا جائے۔ تاکہ ہم دونوں مل کر تیری بہت بہت تسبیح کریں اور تیرا بہت ذکر کریں ۔ { کَیْ نُسَبِّحَکَ کَثِیْرًا وَنَذْکُرَکَ کَثِیْرًا } ۔ (طہ : 33-34) اس لیے آپ نے اپنے رب کے حضور اپنے بھائی ہاروں کو بھی نبوت سے نوازنے کی درخواست کی جو قبول فرما لی گئی۔
Ayah 28:35

قَالَ سَنَشُدُّ عَضُدَكَ بِاَخِیْكَ وَ نَجْعَلُ لَكُمَا سُلْطٰنًا فَلَا یَصِلُوْنَ اِلَیْكُمَا١ۛۚ بِاٰیٰتِنَاۤ١ۛۚ اَنْتُمَا وَ مَنِ اتَّبَعَكُمَا الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 28:35 in the Quran reader

ارشاد ہوا کہ ہم نے مضبوط کردیا تمہارے بازو کو تمہارے بھائی کے ذریعے اور ہم تم دونوں کو ایک ایسا غلبہ بھی عطا کئے دیتے ہیں کہ وہ لوگ تمہارے قتل وغیرہ تک پہنچنے بھی نہ پائیں گے ہماری نشانیوں کے سبب یا ہماری نشانیوں کے ساتھ جاؤ تم دونوں فرعونیوں کی طرف غلبہ بہرحال تم دونوں ہی کا اور انہی لوگوں کا رہے گا جو تمہاری پیروی کریں گے (1)

46 حضرت موسیٰ کی دعا کی قبولیت کا مژدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم تم دونوں کو ایسا غلبہ عطا کیے دیتے ہیں کہ وہ بدبخت تم دونوں تک پہنچنے ہی نہیں پائیں گے "۔ چناچہ بعد کے حالات و واقعات نے اس وعدہ و پیشنگوئی کو روز روشن کی طرح واضح کردیا کہ فرعون باوجود اتنے بڑے لاؤ لشکر کے اور اس قدر قوت و طاقت رکھتے ہوئے بھی حضرت موسیٰ کا بال بھی بیکا نہ کرسکا (علیہ الصلوۃ والسلام) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا کو شرف قبولیت سے نوازتے ہوئے آپ کو غلبہ عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا تھا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم دونوں میری نشانیوں کے ساتھ جاؤ۔ غلبہ بہرحال تم دونوں کا اور تمہارے پیروکاروں ہی کا ہوگا کہ حق پر تم ہی ہو اور غلبہ حق ہی کا ہوتا ہے۔ سو اس طرح حضرت موسیٰ کو خوشخبری پر خوشخبری سے نوازا گیا کہ اس وحدہ لا شریک رب عزیز و کریم کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 28:36

فَلَمَّا جَآءَهُمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَا بَیِّنٰتٍ قَالُوْا مَا هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّفْتَرًى وَّ مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِیْۤ اٰبَآئِنَا الْاَوَّلِیْنَ Open ayah 28:36 in the Quran reader

پھر جب پہنچ گئے موسیٰ ان لوگوں کے پاس ہماری کھلی نشانیوں کے ساتھ تو انہوں نے کہا کہ یہ تو محض ایک جادو ہے گھڑا گھڑایا اور یہ کچھ تو ہم نے اپنے اگلے باپ دادوں کے وقت میں بھی کبھی نہیں سنا

47 فرعونیوں کے کفر و انکار کا ذکر : سو اس فرعونیوں کی طرف سے کفر وانکار اور معجزات موسیٰ کو جادو قرار دینے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ فرعونیوں کی طرف سے جواب ملا کہ یہ تو ایک جادو ہے گھڑا گھڑایا۔ جو یہ خود سیکھ اور بنا کر اور گھڑ کر لائے ہیں کہ ایسے ایسے کرتب دکھائیں اور شعبدہ بازیاں پیش کریں۔ البتہ ان میں تاثیر ضرور جادو کی سی ہے۔ سو حضرت موسیٰ جب حق و ہدایت سے متعلق کھلی اور روشن آیتیں لیکر ان لوگوں کے پاس پہنچے تو انہوں نے اس کو قبول کرنے اور حق کی طرف رجوع کرنے کی بجائے الٹا ان کو ایک من گھڑت جادو قرار دیا اور کہا کہ اس جادو کے بارے میں رعب جمانے کیلئے یہ کہتے ہیں کہ یہ معجزات ہیں جو انہیں خدا کی طرف سے دیئے گئے ہیں اور جس توحید کی دعوت یہ لوگوں کو دے رہے ہیں وہ تو ہم نے اپنے پہلے باپ دادوں میں کبھی نہیں سنی۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب حضرت موسیٰ ان روشن دلائل اور ناقابل تردید نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے پاس پہنچے تو ان بدبختوں نے آنجناب کے معجزات کو تو جادو کا کرشمہ قرار دیا اور آپ کی دعوت توحید کے خلاف یہ پروپیگنڈہ کیا کہ یہ ہمارے آباء و اَجداد کی روایات کے خلاف ہے۔ اس لیے ہم ان کو کسی قیمت پر ماننے کے لیے تیار نہیں ۔ والعیاذ باللہ - 48 حضرت موسیٰ کی دعوت حق کو اچنبھا قرار دینا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ حضرت موسیٰ کی دعوت حق و ہدایت کے بارے میں ان لوگوں نے کہا کہ یہ کچھ تو ہم نے اپنے اگلے باپ داداوں میں کبھی نہیں سنا کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک بلاشرکت غیرے تنہا ایک ہی خدا ہے۔ اور یہ کہ ہم نے مرنے کے بعد پھر زندہ ہو کر اٹھنا ہے اور اپنے کئے کرائے کا بدلہ پانا ہے۔ اور یہ کہ اس کے کوئی پیغمبر بھی ہوتے ہیں جن کو وہ مبعوث کرتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ سو یہی تینوں بنیادی مسائل پہلے بھی لوگوں کو سمجھنے مشکل تھے اور یہی آج بھی سمجھنے مشکل ہیں۔ یعنی توحید رسالت اور آخرت جو کہ بنیادی عقائد ہیں اور جن کو اصول ثلاثہ کہا جاتا ہے۔ بہرکیف انہوں نے کہا کہ یہ باتیں ہم نے اپنے پہلے باپ دادوں میں کبھی نہیں سنیں۔ یہ ان کا بالکل اپنا گھڑا گھڑایا جھوٹ ہے۔ (المراغی، المدارک، المعارف اور الخازن وغیرہ) ۔ سو ان لوگوں نے دعوت حق کو اچنبھا قرار دیتے ہوئے اس کا انکار کردیا اور کہا کہ یہ اور اس طرح انسان نور حق و ہدایت سے محروم ہو کر ہلاکت و تباہی کے دائمی گڑھے میں جا گرتا ہے۔ اس لیے ہم ان کی اس دعوت کو ماننے اور قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ایسے بدبختوں کا یہ قول اس طرح نقل فرمایا گیا ہے ۔ { مَا سَمِعْنَا لِہٰذَا فِی الْمِلَّۃِ الآخِرَۃِ اِنْ ہٰذَا الاَّ اخْتِلَاق } (ص :7) ۔ سو یہ نتیجہ ہوتا ہے تکبر و سرکشی اور عناد و ہٹ دھرمی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسوئٍ وانحرافٍ-
Ayah 28:37

وَ قَالَ مُوْسٰى رَبِّیْۤ اَعْلَمُ بِمَنْ جَآءَ بِالْهُدٰى مِنْ عِنْدِهٖ وَ مَنْ تَكُوْنُ لَهٗ عَاقِبَةُ الدَّارِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 28:37 in the Quran reader

اور موسیٰ نے جواب میں فرمایا کہ میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون ہدایت لے کر آیا اس کی طرف سے اور کس کے لئے ہے اچھا انجام آخرت کے اس حقیقی اور ابدی گھر کا یہ امر بہرحال قطعی ہے کہ ظالم فلاح نہیں پاسکیں گے

49 ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک ظالم کبھی فلاح نہیں پاس کیں گے۔ سو حضرت موسیٰ نے ان کے جواب میں اور ان کے لیے چیلنج کے انداز میں فرمایا کہ تم لوگ مجھے مفتری قرار دے رہے ہو تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ میرا رب خوب جانتا ہے کہ کون اس کے یہاں سے ہدایت لے کر آیا اور کون جھوٹا اور مفتری ہے۔ اور یہ کہ انجام کار کامیابی کس کو حاصل ہونے والی ہے اور کون ناکام و نامراد ہوگا ؟ سو حضرت موسیٰ نے اپنے اس جواب میں ایک بڑے بلیغ انداز اور شستہ اسلوب میں ان لوگوں کے سامنے اس حقیقت کو واضح فرما دیا کہ میں اور میرے ساتھی ہی انشاء اللہ غالب اور فائز المرام ہوں گے۔ اور تم لوگ ذلیل و خوار ہو کر ہلاکت و تباہی کے انتہائی ہولناک اور دائمی گڑھے میں گرو گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اصل حقیقت حال کو میرا رب خوب جانتا ہے اور اسی کا جاننا کافی ہے۔ بہرحال اتنی بات یقینی ہے کہ ظالم لوگ فلاح یعنی حقیقی کامیابی کبھی نہیں پاسکیں گے۔ اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی ہدایت کی تکذیب کرتے اور اس کو جھٹلاتے ہیں وہ ظالم ہیں۔ جو ظلم کرتے ہیں اپنے خالق ومالک کے حق میں۔ اس کے حقِّ اطاعت و بندگی سے منہ موڑ کر۔ اور جو ظلم کرتے ہیں اپنے رسول کے حق میں ان کی اطاعت و اتباع کے حق واجب سے منہ موڑ کر۔ اور جو ظلم کرتے ہیں خود اپنی جانوں پر کہ ان کو نور حق و ہدایت سے محروم کرکے دارین کی تباہی کی راہ پر ڈالتے ہیں۔ سو ایسے ظالموں کو ڈھیل جتنی بھی ملے وہ بہرحال فلاح کبھی نہیں پاسکیں گے۔ انہوں نے بہرحال اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 28:38

وَ قَالَ فِرْعَوْنُ یٰۤاَیُّهَا الْمَلَاُ مَا عَلِمْتُ لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرِیْ١ۚ فَاَوْقِدْ لِیْ یٰهَامٰنُ عَلَى الطِّیْنِ فَاجْعَلْ لِّیْ صَرْحًا لَّعَلِّیْۤ اَطَّلِعُ اِلٰۤى اِلٰهِ مُوْسٰى١ۙ وَ اِنِّیْ لَاَظُنُّهٗ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 28:38 in the Quran reader

اور فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا اے درباریو میں اپنے سوا تمہارے لئے کسی خدا کو نہیں جانتا پس تم میرے لئے خاص طور پر اینٹیں پکواؤ اے ہامان پھر ان سے میرے لئے ایک ایسا اونچا محل بنواؤ کہ میں اس پر چڑھ کر موسیٰ کے خدا کو خود جھانک کر دیکھ سکوں میں تو اس کو قطعی طور پر جھوٹا سمجھتا ہوں (2)

50 فرعونی ذہنیت کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے نور ایمان سے محروم فرعونی ذہنیت کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے اور اس سے فرعون کے استہزاء اور نور ایمان سے محروم لوگوں کی مادہ پرستانہ ذہنیت کا ایک مظہر اور نمونہ سامنے آتا ہے کہ ایسے لوگ کتنے اندھے اور کس قدر اوندھے اور بدبخت ہوتے ہیں۔ سو اس طرح اس بدبخت نے حق کے ساتھ استہزاء اور اپنی مادہ پرستانہ ذہنیت اور حماقت و سفاہت کا ایک اور ثبوت پیش کیا۔ سو یہی ہے منکرین حق مادہ پرستوں کی وہ مادہ پرستانہ ذہنیت جو آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے کے اس زمانے میں پائی جاتی تھی۔ اور یہی آج بھی جوں کی توں موجود ہے۔ اس میں انگشت کے برابر نہ فرق آیا نہ کمی واقع ہوئی۔ البتہ ان کے مادی ذرائع ضرور مختلف ہیں ورنہ تکنیک اور اساس ان دونوں کی ایک ہی ہے کہ اس دور کے وہ اندھے بےایمان مادہ اور مادیت ہی کو سب کچھ سمجھتے اور اسی اعتبار سے دیکھتے تھے۔ چناچہ اسی بنا پر اس دور میں فرعون نے ایسا محل بنانے کیلئے کہا تاکہ اس کے ذریعے اوپر جاکر وہ خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خدا کو جو کہ حقیقی خدا اور اس کائنات کا خالق ومالک ہے اس کو وہ جھانک کر دیکھ سکے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اسی بنا پر آج کے روسی کمیونسٹ اپنے لیونک اور اسٹینک وغیرہ سیارے خلاء میں چھوڑنے کے بعد کہتے ہیں کہ ہمیں خدا کہیں نظر نہیں آیا۔ سو ذہنیت دونوں کی ایک ہے مگر عقل کے ان اندھوں سے کوئی پوچھے کہ تم سے کس نے کہا کہ اہل ایمان جس خدا کو مانتے ہیں، اور جو کہ معبود برحق ہے وہ کوئی مادی وجود رکھتا ہے۔ اور چند ہزار یا چند لاکھ فٹ اوپر کہیں کسی مکان میں بیٹھا ہوا ہے ؟ جو کوئی ایسا کہتا اور سمجھتا ہوگا وہ دراصل اپنے ذہن کے اندر موجود کسی بت کے بارے میں ایسا ہی کہتا اور سمجھتا ہوگا۔ اہل ایمان کا خدا جو کہ اس ساری کائنات کا خالق ومالک ہے وہ ایسے تمام تصورات سے بالاتر اور وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کو تم صرف عقل اور دل کی آنکھوں سے اور اس کی قدرت کے ان نشانات سے دیکھ اور پاسکتے ہو جو اس کائنات میں چاروں طرف پھیلے اور بکھرے ہوئے ہیں۔ اور اللہ پاک کی ہستی کو اس دنیا میں اور ان مادی آنکھوں سے دیکھنا تو دور کوسوں دور کی بات ہے اور دائرہ امکان سے خارج شے ہے۔ تم لوگ ذرا اپنی اس روح کو دکھا کر بتلا دو جو اس قادر مطلق کی بیشمار مخلوقات میں سے ایک مخلوق ہے اور جو خود تمہارے اپنے جسموں کے اندر موجود ہے۔ جس سے تم لوگ خود زندگی کا دم بھرتے ہو۔ سارے قدیم و جدید کمیونسٹ اور دہریے مل کر اپنے جسم کے اندر موجود اس روح کے بارے میں بتادیں کہ وہ کیسی ہے ؟ کس شکل و سائز کی ہے ؟ اور جسم کے کس حصے میں رہتی بستی ہے ؟ اور اگر وہ اپنے جسم کے اندر موجود اس حقیقت کے دیکھنے دکھانے اور اس کی تعیین و تحدید سے بھی عاجز و قاصر ہیں اور یقینا عاجز و قاصر ہیں تو پھر وہ خداوند عالم کو دیکھنے کی بات کس برتے پر کرتے ہیں ؟ ۔ شرم تم کو مگر نہیں آتی ۔ بہرکیف خداوند قدوس مادیت اور اس کے ہر شائبہ سے پاک اور وراء الوراء ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کو صرف انہی تعلیمات کے ذریعے اور انہی کی روشنی میں مانا جاسکتا ہے جو اس نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے اپنے بندوں کو دی ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جو قرآن وسنت کی صورت میں آج تک موجود ہیں اور قیامت تک موجود رہیں گی۔
Ayahs 28:39–40

وَ اسْتَكْبَرَ هُوَ وَ جُنُوْدُهٗ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ اِلَیْنَا لَا یُرْجَعُوْنَ Open ayah 28:39 in the Quran reader

اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہوا وہ بھی اور اس کے لشکر بھی اللہ کی زمین میں ناحق طور پر اور وہ اپنی بدبختی کے باعث یہ سمجھ بیٹھے کہ انھیں نے کبھی ہماری طرف لوٹ کر نہیں آنا۔

فَاَخَذْنٰهُ وَ جُنُوْدَهٗ فَنَبَذْنٰهُمْ فِی الْیَمِّ١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 28:40 in the Quran reader

آخرکار اپنی گرفت میں لے لیا ہم نے اس کو بھی اور اس کے سب لشکروں کو بھی پھر پھینک دیا ہم نے ان سب کو سمندر میں سو دیکھو کیسا ہوا انجام ظالموں کا

51 فرعون اور اس کے لشکروں کے ہولناک انجام کا ذکر : سو اس سے فرعون اور اس لشکروں کے انتہائی ہولناک اور عبرتناک انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخرکار اٹھا کر پھینک دیا ہم نے فرعون کو بھی اور اس کے تمام لشکروں کو بھی سمندر میں "۔ جس طرح کوڑا کرکٹ اور کچرا اٹھا کر پھینک دیا جاتا ہے۔ معلوم ہوا کہ ایمان اور حق پرستی کے جوہر کے بغیر انسان کوڑا کرکٹ، بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر گھٹیا اور فروتر ہے۔ اور وہ لوگ یوں بھی اس سزا کے زیادہ لائق اور مستحق تھے کہ انہوں نے بڑی سرکشی اختیار کی تھی اور اپنے آپ کو کوئی بڑی چیز سمجھ رکھا تھا۔ اس لیے ان کو ایک ایسے ہولناک عذاب میں دھر لیا گیا جسکی کوئی نظیر و مثال نہیں مل سکتی۔ جبکہ اصل عذاب تو آخرت کا عذاب ہے ۔ { کَذَالِکَ الْعَذَابُ وَلَعَذَاب الاٰخِرَۃِ اکبر، لو کانوا یعلمون } ۔ (القلم :23) ۔ یعنی " اسی طرح ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں بڑھ کر ہوگا کاش کہ یہ لوگ جان لیتے " اس حقیقت کو اپنے وقت پر۔ سو استکبار یعنی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں حق سے منہ موڑنے کا آخری نتیجہ و انجام بہرحال ہولناک تباہی اور دائمی ہلاکت ہے۔ پس تم دیکھ لو کہ کیسا ہوا انجام ظالموں کا کہ یہی اصل مقصد ہے ان قصوں کے سنانے اور بیان کرنے کا کہ ان سے انسان عبرت پکڑے اور راہ حق و صواب کو اپنا کر خود اپنے بھلے کا سامان کرے۔ سو اس ارشاد میں حضرت امام الانبیائ ﷺ اور آپ ﷺ کے توسط سے ہر داعی حق کیلئے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ انجام کار کامیابی بہرحال حق اور اہل حق ہی کی ہے۔ نیز اس میں تنبیہہ و تذکیر ہے وقت کے ان فرعونوں کیلئے جو حق کو قبول کرنے کی بجائے اس کا راستہ روکنے اور اس کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کو یاد رکھنا چاہیئے کہ اگر وہ مخالفتِ حق کی اپنی اس روش سے باز نہ آئے تو ان کا حشر و انجام بھی وہی ہوگا جو حضرت موسیٰ کا مقابلہ کرنے والے اس فرعون اور اس کے اعوان و اَنصار کا ہوچکا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ کہ اللہ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے یکساں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 28:41

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّدْعُوْنَ اِلَى النَّارِ١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ لَا یُنْصَرُوْنَ Open ayah 28:41 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو ان کے اپنے سوء اختیار کی بنا پر ایسے پیشوا بنادیا جن کا کام ہی دوزخ کی طرف بلانا رہ گیا تھا اور اس کے نتیجے میں ان کو قیامت کے روز کوئی مدد نہیں مل سکے گی

52 منکرین حق دوزخیوں کے امام و پیشوا ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کو ایسے پیشوا بنادیا تھا جو بلاتے تھے دوزخ کی طرف " اور " ہم نے بنایا " کا مطلب یہ ہے کہ ہمارا قانون و دستور اور ضابطہ یہ ہے کہ ہم ایسوں کو اسی طرح ڈھیل دیتے ہیں جس سے وہ اپنے کفر و سرکشی میں اور بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ ورنہ ہم اگر ان کو جبراً روکنا چاہتے تو روک دیتے کہ ہماری مشیت کے بغیر ہماری اس کائنات میں کوئی پتہ بھی حرکت نہیں کرسکتا۔ مگر ایسا جبری ایمان و ہدایت تو ہماری مشیت کا تقاضا ہی نہیں کہ امتحان اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ ہر کسی کو ارادئہ و اختیار کی آزادی حاصل ہو۔ سو { جعلنا } یہاں پر " امہلنا " کے مفہوم پر متضمن و مشتمل ہے۔ سو اس سے یہ لوگ بےفکر و لاپرواہ ہوگئے اور انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ ہم سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اور اس سے وہ اتنے مست و مگن اور متکبر ہوگئے کہ دوزخ کی طرف بلانے والے لیڈر بن گئے اور اس کے نتیجے میں یہ خود دوزخیوں کے امام اور دوزخ کا ایندھن بن گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ وہاں ان کی کوئی مدد نہیں ہوگی اور جن کے یہ امام و پیشوا بنے ہوئے تھے وہ سب ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ ہر ایک پر نفسا نفسی کی حالت طاری ہوگی۔ نہ لیڈر پیرؤوں کے کچھ کام آسکیں گے اور نہ پیرو لیڈروں کے۔ سو اہل کفر و باطل کو جو مہلت اور ڈھیل ملتی ہے وہ ان کے لیے کوئی رضائے الہی کا سرٹیفیکیٹ اور اس کی خوشنودی کا تمغہ نہیں ہوتا بلکہ وہ دراصل ان کے عذاب میں اضافے کا سامان ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 28:42–43

وَ اَتْبَعْنٰهُمْ فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا لَعْنَةً١ۚ وَ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ هُمْ مِّنَ الْمَقْبُوْحِیْنَ۠ Open ayah 28:42 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے پیچھے لگا دی لعنت اس دنیا میں تاکہ قیام قیامت اور قیامت کے روز یہ بڑے ہی بدحال لوگوں میں سے ہوں گے (1)

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَهْلَكْنَا الْقُرُوْنَ الْاُوْلٰى بَصَآئِرَ لِلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:43 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ کو بھی وہ کتاب دی تھی اس کے بعد کہ ہم نے ہلاک و برباد کردیا تھا پہلی قوموں کو بصیرتوں کے سامان کے طور پر لوگوں کے لیے اور ہدایت دینے کے لئے اور رحمت کا ذریعہ بنا کر تاکہ وہ لوگ نصیحت حاصل کریں

53 کتاب الہی بصیرتوں کا سامان اور ہدایت و رحمت کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پہلی قوموں کی ہلاکت کے بعد ہم نے موسیٰ کو وہ کتاب عطا کی جو کہ لوگوں کے لیے بصیرتوں کا مجموعہ تھی سراسر ہدایت اور عین رحمت بنا کر تاکہ وہ لوگ سبق لیں اور اس کی روشنی میں اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کریں "۔ سو بصیرتوں کے اس سامان پر اگر وہ لوگ غور کرتے اور اس کو سچے دل سے اپناتے اور قبول کرتے اور اس پر ایمان لے آتے تو اس سے ان کو حق کی وہ راہ ملتی اور ہدایت کی وہ روشنی نصیب ہوتی جس سے یہ دارین کی سعادتوں اور فوز و فلاح سے سرفراز اور مشرف ہوتے۔ مگر انہوں نے اس سے منہ موڑ کر اور حق کا انکار کرکے اپنے آپ کو دائمی ہلاکت اور تباہی کے گڑھے میں ڈال دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کتاب الہی بہرحال بصیرتوں کا سامان ہوتی ہے۔ بصیرت باطن کی روشنی کو کہا جاتا ہے جس سے انسان کے دل و دماغ روشن ہوتے ہیں۔ سو کتاب الہی کی روشنی اور نور حق و ہدایت کی برکت سے انسان کے دل و دماغ کی صلاحیتوں اور تعقل و تفکر کی قوتوں کو جلا ملتی ہے۔ سو انسان جب جلا بخشنے والی ان آیتوں کو صدق دل سے اپناتا اور اختیار کرتا ہے تو کتاب الہی اس کیلئے ہدایت اور نور بن جاتی ہے۔ اور وہ اس کیلئے راہ حق کو روشن اور واضح کردیتی ہے۔ اور پھر اس کو رحمت سے نوازتی ہے جس کی آخری صورت جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی ہے۔ سو بصیرت اور ہدایت و رحمت کی یہ تینوں صفتیں اپنے دور میں تورات میں بھی موجود تھیں۔ اور اب یہ اپنی آخری اور کامل شکل میں قرآن حکیم کی اس کتاب کامل میں پائی جاتی ہیں ۔ والحمد للہ ۔ سو جو لوگ اس پر ایمان سے محروم ہیں وہ سراسر اندھیروں کے اندر ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 28:44

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الْغَرْبِیِّ اِذْ قَضَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسَى الْاَمْرَ وَ مَا كُنْتَ مِنَ الشّٰهِدِیْنَۙ Open ayah 28:44 in the Quran reader

اور آپ اے پیغمبر ! اس وقت طور کی مغربی جانب موجود نہ تھے جب کہ ہم نے موسیٰ کی طرف اپنا فرمان بھیجا وحی کے ذریعے اور اپنے احکام کی صورت میں اور نہ ہی آپ سرے سے ان لوگوں میں ہی شامل تھے جو اس زمانے میں موجود تھے

54 پیغمبر ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں ہوتے : سو ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ ۔ اے پیغمبر ! ۔ اس وقت طور کی مغربی جانب موجود نہ تھے جبکہ ہم نے موسیٰ کی طرف اپنا فرمان بھیجا۔ اور نہ ہی آپ سرے سے ان لوگوں میں ہی شامل تھے جو اس زمانے میں موجود تھے "۔ کہ اس بنا پر آپ وہاں کے اور ان لوگوں کے حالات دیکھ کر اس طرح بیان کرتے۔ کچھ نہیں بلکہ یہ سب کچھ آپ (علیہ السلام) کو آپ (علیہ السلام) کے رب نے وحی کے ذریعے بتایا جو آپ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کی واضح وصریح دلیل اور آپ کی حقانیت کا کھلاثبوت ہے۔ (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر، جامع البیان، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو بغیر کسی سے سیکھے پڑھے کے صدیوں پہلے کے ان واقعات کو اس قدر تفصیل اور اتنی باریکیوں کے ساتھ بیان کرنا بلاشبہ نبی امی کا ایک عظیم الشان معجزہ ہے جس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے آپ کو نوازا ہے۔ اور بعض حضرات نے یہاں پر { شاہدین } سے وہ ستر اشخاص مراد لئے ہیں جو حضرت موسیٰ کے ساتھ کوہ طور پر تحقیق کرنے کی غرض سے گئے تھے۔ (روح، المراغی وغیرہ) ۔ مدعا اس صورت میں بھی وہی رہتا ہے کہ ان مشاہدین کے ساتھ اور اس موقعہ پر موجود نہ ہونے کے باوجود ان کے بارے میں اس طرح خبر دینا آپ کی نبوت و رسالت کا کھلا ثبوت اور قطعی دلیل ہے۔ سو اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر ہر جگہ موجود اور حاضر اور ناظر نہیں ہوتے۔ جس طرح اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے۔ بلکہ ہر جگہ موجود اور حاضر و ناظر ہونا اللہ وحدہ لاشریک ہی کی صفت و شان ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ -
Ayahs 28:45–46

وَ لٰكِنَّاۤ اَنْشَاْنَا قُرُوْنًا فَتَطَاوَلَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ۚ وَ مَا كُنْتَ ثَاوِیًا فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ تَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِنَا١ۙ وَ لٰكِنَّا كُنَّا مُرْسِلِیْنَ Open ayah 28:45 in the Quran reader

لیکن ہم ہی نے اس دوران بہت سی نسلیں پیدا کیں پھر ان پر بھی بہت زمانہ گزر گیا اور نہ ہی آپ مدین والوں میں قیام پذیر تھے کہ ان لوگوں کو ہماری آیتیں ٹھیک ٹھیک سنا رہے ہوتے بلکہ یہ سب کچھ آپ کو ہماری وحی سے معلوم ہوا کہ ہم ہی ہیں پیغمبر بنا کر بھیجنے والے

وَ مَا كُنْتَ بِجَانِبِ الطُّوْرِ اِذْ نَادَیْنَا وَ لٰكِنْ رَّحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ لِتُنْذِرَ قَوْمًا مَّاۤ اَتٰىهُمْ مِّنْ نَّذِیْرٍ مِّنْ قَبْلِكَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 28:46 in the Quran reader

اور نہ ہی آپ طور کی جانب میں موجود تھے اس وقت جب کہ ہم نے موسیٰ کو پکارا تھا لیکن اس سب کا علم بھی آپ کو اپنے رب کی ایک خاص رحمت کے سبب ہوا تاکہ آپ خبردار کریں غفلت میں پڑے ان لوگوں کو جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں (2)

56 اور نہ ہی آپ طور کے پاس موجود تھے جبکہ ہم نے موسیٰ کو پکارا : بلکہ آپ کو اس سب کا علم اپنے رب کی خاص رحمت کی بنا پر ہوا۔ چناچہ ہم نے اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم اور اپنے انتخاب سے آپ کو اس منصب کے لئے چنا اور آپ کو وحی کے ذریعے ان تمام تفصیلات سے آگہی بخشی۔ ورنہ نہ تو ان گزشتہ واقعات کو صحیح طور پر اس طرح جاننے کا اور کوئی ذریعہ آپکے پاس موجود تھا اور نہ ہی آپ کے بس میں تھا کہ آپ ازخود ان کو اس قدر تفصیلات اور ان باریکیوں کے ساتھ بیان کریں۔ سو یہ آپ ﷺ کی حقانیت کی صاف وصریح دلیل اور قطعی ثبوت ہے۔ (روح، قرطبی، مراغی، محاسن، ابن کثیر، صفوہ، فتح اور معارف وغیرہ وغیرہ) ۔ ان آیات کریمات میں { وَمَا کُنْتَ } { وَمَا کُنْتَ } کے اعادئہ و تکرار سے یہ حقیقت پوری طرح واضح اور موکد ہوجاتی ہے کہ پیغمبر ہر جگہ حاضر و ناظر نہیں ہوتے جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا ہے۔ بلکہ ہر جگہ حاضر و ناظر ہونا صرف اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ خاص ہے۔ اور یہ اسی کی صفت ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس طرح کے ارشادات سے اہل بدعت کے حاضر و ناظر کے شرکیہ عقیدے کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ والحمدللہ ۔ مگر تعجب ہوتا ہے کہ اس قدر صاف وصریح نصوص کے باوجود اور عقل و نقل کے کھلے تقاضوں کے برعکس یہ لوگ اس طرح کے نا معقول عقیدوں کو کس طرح اپنائے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فکر وعمل کی ہر کجی اور ہر قسم کے انحراف سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر ثابت و مستقیم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 57 پیغمبر کی بعثت کا بڑا اور اہم مقصد انذار : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آپ کو آپ کے رب نے اپنی وحی اور نبوت و رسالت کے اس شرف عظیم سے اس لیے نوازا کہ آپ خبردار کریں غفلت میں پڑے ان لوگوں کو جن کے پاس آپ سے پہلے کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تاکہ یہ لوگ سبق لیں اور اس کے نتیجے میں یہ کفر و انکار اور ہلاکت و تباہی کے راستے سے باز آجائیں۔ یعنی آپ ﷺ کے رب نے محض اپنی رحمت بےپایاں سے یہ قرآن حکیم نازل فرمایا جس میں پوری نوع انسانیت کی صلاح و فلاح اور دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے۔ تاکہ یہ لوگ اس کی تعلیمات مقدسہ کی روشنی میں اپنے لئے دارین کی فوز و فلاح اور سعادت و سرخروئی کا سامان کرسکیں۔ مگر انہوں نے ناشکری اور بےقدری سے کام لے کر اس سے منہ موڑا اور اعراض برتا۔ اور اس طرح انہوں نے خود اپنے لئے ہلاکت و تباہی کا سامان کیا ۔ اِلاَّ مَا شَآئَ اللّٰہُ ۔ وَالْعَیَاذ باللّٰہِ الْعَظِیْمِ ۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ﷺ پر وحی نازل کرنے کا یہ اہتمام و انتظام اس لیے فرمایا گیا کہ آپ لوگوں کو خبردار کریں ان کے انجام سے اور ان کو بتائیں کہ ان کی زندگی کا اصل مقصد کیا ہے۔ ان کو کیا کرنا چاہیئے اور کیا نہیں کرنا چاہیئے۔ ان کی فلاح اور نجات کس میں ہے اور ہلاکت و تباہی کس میں ہے۔ سو یہ تمہارے رب کی طرف سے ایک عظیم الشان رحمت اور بےمثال کرم ہے جس سے اس نے دنیا کو نوازا ہے۔ پس اگر یہ لوگ اس کی قدر نہیں کریں گے تو اس کا سخت بھگتان انکو بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال وسوء وانحراف۔
Ayah 28:47

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ فَیَقُوْلُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ وَ نَكُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 28:47 in the Quran reader

اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ ان لوگوں کو آپہنچتی کوئی مصیبت ان کے اپنے کرتوتوں کے باعث پھر یہ یوں کہتے کہ اے ہمارے رب تو نے کیوں نہ بھیجا ہماری طرف کوئی رسول کہ ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی اور ہم ہوجاتے ایمانداروں میں سے سو اگر یہ بات نہ ہوتی تو ہم ایسے ناشکرے اور ہٹ دھرموں کے پاس اپنا رسول بھیجتے ہی نہ

58 رسول کی بعثت اتمام حجت کیلئے : کہ ان لوگوں پر اگر کوئی مصیبت آپہنچتی ان کے اپنے کرتوتوں کی بنا پر تو اس وقت یہ لوگ یوں کہنے لگتے کہ اے ہمارے رب تو نے کیوں نہ بھیجا ہماری طرف کوئی رسول کہ ہم پیروی کرتے تیری آیتوں کی اور ہم ہوجاتے ایمان والوں میں سے۔ سو اگر ایسی بات نہ ہوتی تو ہم ایسے نا شکرے اور ہٹ دھرم لوگوں کے پاس اپنا رسول بھیجتے ہی نہ کہ انہوں نے ماننا جب نہیں اور ہمیں اپنے علم ازلی و ابدی کی بنا پر پتہ تھا کہ انہوں ماننا نہیں تو پھر ان کے پاس رسول بھیجنے کا فائدہ ہی کیا ؟ لیکن اس صورت میں ان کے لئے حیلے بہانے اور عذر کرنے کی گنجائش بہرحال باقی رہتی۔ اور یہ لوگ یوں کہتے کہ اگر ہمارے پاس کوئی رسول بھیجا جاتا تو ہم ضرور اس پر ایمان لے آتے اور اس کی اتباع و پیروی کرتے۔ سو اب ان کے لئے اس طرح کے کسی عذر کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ سو رسولوں کا بھیجنا دراصل اتمام حجت اور قطع عذر کے لئے ہے کہ ماننے والے مان کر دارین کی سعادت اور فوز و فلاح سے فیضیاب و ہمکنار ہوجائیں اور نہ ماننے والوں کے لئے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { لِئَلاَّ یَکُوْنَ للنَّاسِ عَلَی اللّٰہِ حُجَّۃٌ بَعْدَ الرُّسُلِ } ۔ (النساء : 165) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ہم چاہتے تو بغیر کسی رسول کی بعثت کے ان کو پکڑ لیتے لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا تاکہ یہ لوگ یہ عذر نہ کرسکیں کہ اگر اللہ ہمارے پاس کوئی رسول بھیجتا تو ہم ضرور اللہ کی آیتوں کی پیروی کرتے اور ایمانداروں میں سے ہوجاتے۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل و فطرت کی جو روشنی بخشی ہے وہ بھی انسان کو گمراہی اور بدعملی کی زندگی سے روکنے کیلئے کافی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ محض اس فطری ہدایت کی بنا پر لوگوں کو ان کی گمراہی اور بدعملی پر سزا دیتا تو یہ بات عدل کے خلاف نہ ہوتی۔ لیکن اس نے قطع حجت کیلئے رسول بھی بھیجے اور صرف عقل و خرد کی روشنی پر اکتفاء نہیں فرمایا۔ سو یہ اس کا کرم بالائے کرم ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 28:48

فَلَمَّا جَآءَهُمُ الْحَقُّ مِنْ عِنْدِنَا قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُوْتِیَ مِثْلَ مَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى١ؕ اَوَ لَمْ یَكْفُرُوْا بِمَاۤ اُوْتِیَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ١ۚ قَالُوْا سِحْرٰنِ تَظٰهَرَا١ٙ۫ وَ قَالُوْۤا اِنَّا بِكُلٍّ كٰفِرُوْنَ Open ayah 28:48 in the Quran reader

مگر جب ان کے پاس آگیا حق ہماری طرف سے تو یہ ناشکرے لوگ اس کو ماننے کی بجائے یوں کہنے لگے کہ ان کو بھی وہی کچھ کیوں نہ دیا گیا جو موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ کیا یہ لوگ اس سے پہلے اس کا بھی انکار کرچکے جو کہ موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ اور انہوں نے پوری ڈھٹائی سے کہا کہ یہ دونوں جادو ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ان دونوں میں سے ہر ایک کے منکر ہیں (1)

59 انسان کی بےقدری اور ناشکری کا ایک نمونہ و مظہر : سو حق تعالیٰ نے دنیا کو نور حق و ہدایت کی نعمت عظمیٰ سے نوازا لیکن لوگوں کی طرف سے اس کا انکار اور کفران نعمت ہی سامنے آیا ۔ الا ما شاء اللہ ۔ یعنی ان کو کرم بالائے کرم سے نوازا گیا مگر انہوں نے اس کا جواب کفران نعمت اور ناشکری ہی سے دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ حق و ہدایت کی روشنی جو سب نعمتوں سے بڑھ کر نعمت ہے اس سے ان کو نوازا گیا۔ اور وہ بھی اس وقت اور ایسے دور میں جب کہ کتب سابقہ اور ان کی پاکیزہ تعلیمات کو مٹا اور مسخ کر کے کچھ کا کچھ بنادیا گیا تھا۔ اور چار سو اندھیرا ہی اندھیرا تھا۔ اور یہ لوگ خود کہا کرتے تھے اور رہ رہ کر کہا کرتے تھے کہ اگر ہمارے پاس کوئی کتاب حق و ہدایت ہوتی تو ہم ضرور اس کی پیروی کرتے۔ تو ایسی فضا اور اس طرح کی صورت حال میں جب نور حق و ہدایت اپنی کامل اور آخری شکل میں حضرت وھاب مطلق ۔ جل و علا ۔ کی بےپایاں رحمت و عنایت سے ان لوگوں کے پاس خود پہنچ گیا تو انہوں نے اس کو ماننے اور اپنانے کی بجائے اس کے ساتھ کفر کیا۔ اور یہ الٹا اس کے راستے کو روکنے کے لئے کو شاں ہوگئے۔ اور اس کے لئے یہ اس طرح کی لایعنی باتوں اور فضول و بےمقصد حجت بازیوں سے کام لینے لگے۔ سو یہ کس قدر بےانصافی، کتنی بےقدری و ناشکری اور کس قدر ظلم ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ کفران نعمت اور نا شکری سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ثابت و مستقیم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 60 منکرین کا پیغمبر پر ایک لچر اور بےمعنیٰ اعتراض : سو منکرین کا اعتراض یہ تھا کہ " اس پیغمبر کو وہی کچھ کیوں نہیں دیا گیا جو کہ موسیٰ کو دیا گیا تھا۔ " یعنی عصا اور یدبیضا وغیرہ کے معجزات اور تورات کی طرح قرآن پاک کا بھی یکجا طور پر نازل ہونا وغیرہ۔ (ابن کثیر، مراغی وغیرہ) ۔ یہ اعتراض اگرچہ بظاہر کفار قریش کی طرف سے کیا جارہا تھا لیکن اس کے پیچھے اصل میں یہودی ذہنیت کارفرما تھی۔ وہی ان کے اندر یہ پھونک مار رہے تھے کہ ان صاحب سے پوچھو کہ اگر آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو پھر آپ بھی وہی معجزات کیوں نہیں پیش کرتے جو اس سے پہلے موسیٰ نے پیش کیے۔ اور جب آپ اس طرح کے معجزات پیش نہیں کرتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپنے دعوائے نبوت میں سچے نہیں ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور کفار قریش یہود کے اکسانے سکھلانے پر یہ اعتراض آگے پھیلا رہے تھے۔ قرآن حکیم میں یہاں پر اسی کا جواب دیا گیا ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ " جب آگیا ان کے پاس حق ہماری طرف سے تو انہوں نے کہا کہ اس پیغمبر کو بھی ویسا ہی کچھ کیوں نہیں دیا گیا جو کہ اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا "۔ یہاں پر حق کا لفظ رسول اور کتاب دونوں پر مشتمل ہے کہ ان میں سے ہر ایک حق بھی ہے اور ایک دوسرے کو مستلزم بھی۔ ان میں سے ایک کا ماننا دوسرے کے ماننے کو مستلزم ہے اور ایک کا انکار دوسرے کے انکار کو۔ سو یہ دونوں آپس میں لازم و ملزم ہیں اور { من عندنا } کا ارشاد اس کی عظمت شان کو واضح کرنے کے لیے ہے۔ سو ایسے میں ان لوگوں کا یہ اعتراض کرنا محض بہانہ بازی اور حیلہ جوئی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ زیغ وضلال کی ہر قسم اور ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 61 منکرین کے اعتراض کا جواب : سو ان لوگوں کے اس اعتراض کی تردید اور اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان لوگوں نے اسکا انکار نہیں کیا جو کہ اس سے پہلے موسیٰ کو دیا گیا تھا ؟ "۔ یعنی آج تو یہ لوگ یوں کہتے ہیں کہ اس پیغمبر پر وہی کچھ کیوں نہیں اترا جو اس سے پہلے موسیٰ پر اتر چکا ہے۔ گویا کہ اگر ایسے ہوجاتا تو یہ ضرور ایمان لے آتے۔ حالانکہ اس سے پہلے اس کا بھی ان لوگوں نے انکار کیا جو ان کے پیشرو تھے اور جن کے نقش قدم پر یہ لوگ آج چل رہے ہیں۔ سو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اترنے والے حق کا اسی طرح انکار کیا تھا جس طرح آج یہ کر رہے ہیں۔ تو انکار حق میں یہ سب شریک اور ہمرنگ ہیں۔ اس لئے ان موجودہ کفار سے فرمایا جا رہا ہے کہ کیا اس وقت کے کفار نے بھی حق کا انکار اسی طرح نہیں کیا تھا جس طرح کہ آج تم کر رہے ہو ؟- { تَشَابَہَتْ قُلُوْبُہُمْ } ۔ وَالْعَیَاذ باللّٰہِ ۔ سو آج کے ان منکروں کے دلوں میں بھی وہی رعونت ہے جو کل کے ان فرعونوں کے دلوں میں تھی۔ اور ان کا عمل بھی گویا انہی کا عمل ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا - 62 ماضی کے ان منکرین کا حق پر اعتراض : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " انہوں نے کہا کہ یہ دونوں بڑے جادوگر ہیں جن کا باہم گٹھ جوڑ ہے "۔ اور ان دونوں میں ایک ہی کی طرح کی باتیں ہیں۔ یعنی تورات اور قرآن میں۔ جبکہ { سحران } کو اپنے ظاہر پر رکھا جائے۔ اور اگر " سحر " کو " ساحر " کے معنیٰ میں لیا جائے۔ جیسا کہ دوسری قراءت میں { ساحران } ہی آیا ہے تو اس صورت میں اس سے مراد حضرت موسیٰ اور حضرت محمد ہوں گے۔ یا حضرت موسیٰ و ہارون ۔ علی جمیعہم الصلوۃ والسلام ۔ (روح، ابن کثیر، معالم، مدارک، کبیر وغیرہ وغیرہ) ۔ اور اس صورت میں " سحر " کا اطلاق " ساحر " پر بطور مبالغہ ہوگا۔ جیسا کہ " زید عدل " میں پایا جاتا ہے۔ یعنی یہ دونوں بڑے جادوگر ہیں۔ نبوت و رسالت کی بات یہ دونوں محض اپنی دھونس جمانے کے لیے کہتے ہیں۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ ان لوگوں کا یہ اعتراض محض لچر اور بالکل بےحقیقت ہے۔ جس کی نہ کوئی اصل ہے نہ اساس سوائے حیلہ جوئی اور خواہ مخواہ کی حجت بازی کے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ثابت و مستقیم رکھے اور ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 28:49

قُلْ فَاْتُوْا بِكِتٰبٍ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ هُوَ اَهْدٰى مِنْهُمَاۤ اَتَّبِعْهُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 28:49 in the Quran reader

ان سے کہو کہ اچھا تو تم خود ہی لے آؤ کوئی ایسی کتاب اللہ کے یہاں سے جو ان دونوں سے بڑھ کر ہدایت بخشنے والی ہو میں خود بھی اس کی پیروی کرلوں گا اگر تم سچے ہو

63 منکرین سے قطع حجت کیلئے ایک فیصلہ کن مطالبہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سے کہو کہ اچھا تو پھر تم ہی کوئی ایسی کتاب اللہ کے یہاں سے لے آؤ جو ان دونوں یعنی قرآن اور تورات سے بڑھ کر ہدایت بخشنے والی ہو۔ میں بھی اسی کی پیروی کروں گا۔ اگر تم لوگ سچے ہو "۔ اپنے قول وقرار اور الزام و اتہام میں۔ تو تم ایسی کوئی کتاب ہدایت لے آؤ ہم بھی اسی کی پیروی کریں گے۔ کیونکہ اصل مقصد تو بہرحال حق و ہدایت کی پیروی ہی ہے۔ مگر ان کے لئے ایسا کرنا کہاں اور کیسے ممکن ہوسکتا ہے جبکہ اس کتاب عظیم قرآن حکیم سے بہتر کوئی کتاب نہ موجود ہے نہ ممکن ہوسکتی ہے۔ بہرکیف اس سے قطع حجت کیلئے ان لوگوں سے یہ فیصلہ کن مطالبہ فرمایا گیا کہ اگر تمہاری اس بات کے اندر سچائی کا کوئی شائبہ بھی موجود ہے تو تم ایسی کوئی کتاب لے آؤ جو ان دونوں یعنی قرآن اور تورات سے بڑھ کر ہدایت دینے والی ہو۔ میں اسی کی پیروی کرونگا۔ اور جب تم ایسا نہیں کرسکتے اور یقینا نہیں کرسکتے تو پھر تم صدق دل سے اس قرآن پر ایمان لاکر اپنے لیے سعادت دارین سے سرفرازی کا سامان کرو۔ ورنہ ہمیشہ کی محرومی اور ہولناک انجام کیلئے تیار ہوجاؤ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 28:50

فَاِنْ لَّمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَكَ فَاعْلَمْ اَنَّمَا یَتَّبِعُوْنَ اَهْوَآءَهُمْ١ؕ وَ مَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوٰىهُ بِغَیْرِ هُدًى مِّنَ اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 28:50 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ آپ کا یہ مطالبہ پورا نہ کرسکیں تو یقین جان لو کہ یہ لوگ محض اپنی خواہشات کی پیروی کرتے ہیں اور اس سے بڑھ کر گمراہ اور بدبخت اور کون ہوسکتا ہے ؟ جو اپنی خواہشات ہی کے پیچھے چلتا ہو ؟ بغیر اللہ کی کسی ہدایت کے بیشک اللہ ہدایت کی دولت سے سرفراز نہیں فرماتا ایسے ظالم لوگوں کو۔ (2)

64 ظالم لوگ نور حق و ہدایت سے سرفراز نہیں ہوسکتے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک اللہ تعالیٰ ہدایت کی دولت سے نہیں نوازتا ظالم لوگوں کو "۔ کیونکہ وہ ربِّ رحمن و رحیم ہدایت کی نعمت عظمیٰ سے نوازتا اسی کو ہے جس کے دل میں حق اور ہدایت کی طلب ہو۔ اور وہ طلب ایسے ظالموں کے پاس ہوتی نہیں۔ اس لئے یہ ہدایت کے نور سے سرفراز و فیضیاب نہیں ہوسکتے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ تمہارے اس چیلنج کے جواب میں نہ کوئی ایسی کتاب پیش کرسکتے ہیں جو ان دونوں یعنی قرآن اور تورات سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو اور نہ ہی یہ ان دونوں کی پیروی کیلئے تیار ہوتے ہیں تو اس کا صاف اور واضح مطلب یہی ہے کہ یہ لوگ حق اور ہدایت کی پیروی کرنا چاہتے ہی نہیں۔ بلکہ یہ اللہ کی ہدایت سے منہ موڑ کر محض اپنی خواہشات کی اتباع اور پیروی کرنا چاہتے ہیں۔ اور اس سے بڑھ کر ظالم اور محروم شخص اور کوئی نہیں ہوسکتا جو نور حق و ہدایت سے منہ موڑ کر محض خواہشات نفس کی پیروی کرنے میں لگ جائے۔ سو ایسے ظالموں کو اللہ تعالیٰ نور حق و ہدایت سے سرفراز نہیں فرماتا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو راہ حق و ہدایت سے آگاہی بخشنے اور ان کو صراط مستقیم کی اس شاہراہ اعظم سے نوازنے کی ہدایت کی روشنی نازل فرمائی جو کہ انسان کو دارین کی سعادت و سرفروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والی واحد راہ ہے۔ مگر لوگوں نے اس کے برعکس اس سے منہ موڑ کر اہواء و خواہشات نفس کی اس راہ کو اپنایا جو کہ انسان کو انسانیت کے منصہ شرف سے گرا کر حیوانیت محضہ کے قعر مذلت میں ڈال دینے والی ہے۔ سو اس طرح ایسے لوگ ظالم بن کر نور حق و ہدایت سے محروم ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 28:51

وَ لَقَدْ وَصَّلْنَا لَهُمُ الْقَوْلَ لَعَلَّهُمْ یَتَذَكَّرُوْنَؕ Open ayah 28:51 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم پے درپے بھیجتے رہے اپنا کلام ان لوگوں کے (بھلے) لئے تاکہ یہ نصیحت حاصل کریں

65 ہدایت کے تسلسل کا ذکر وبیان : سو ہدایت سے سرفرازی کے لیے قدرت کی طرف سے غیر منقطع انتظام فرمایا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لوگوں کی ہدایت کی خاطر اس بات کا خاص اہتمام فرمایا گیا کہ تعلیم و تذکیر کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہونے پائے۔ سو اسی بنا پر حضرت موسیٰ پر اتاری گئی کتاب یعنی تورات کو اس کے حاملوں نے فراموش کردیا تو اللہ تعالیٰ نے نبی امی پر اس کتاب حکیم یعنی قرآن کریم کو نازل فرمایا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ ہم پے در پے بھیجتے رہے لوگوں کے لیے اپنا کلام تاکہ یہ نصیحت حاصل کریں۔ سو تورات کے بعد قرآن حکیم کو اتارا گیا۔ سو اس کے بارے میں بھی ارشاد فرمایا گیا کہ ہم یہ قرآن حکیم پے درپے ان کے پاس بھیجتے رہے اور ان کو اپنے احکام سناتے رہے۔ اور ایک کے بعد دوسری آیت ان کے لئے اتارتے گئے تاکہ یہ ہدایت پاسکیں اور راہ راست پر آسکیں۔ اور حق کو ان کے لئے طرح طرح سے واضح کردیا جائے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، زاد المسیر اور المراغی وغیرہ) ۔ سو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی ہدایت و راہنمائی کیلئے اپنے کلام مبارک کے اتارنے کا سلسلہ کبھی منقطع نہیں فرمایا بلکہ اس تسلسل کو باقی اور قائم رکھا۔ تاکہ لوگ نور حق و ہدایت سے ہمیشہ فیضیاب ہوتے رہیں۔
Ayahs 28:52–53

اَلَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِهٖ هُمْ بِهٖ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 28:52 in the Quran reader

جن لوگوں کو ہم نے اس قرآن سے پہلے کتاب دی ہے وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں

وَ اِذَا یُتْلٰى عَلَیْهِمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِهٖۤ اِنَّهُ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا مِنْ قَبْلِهٖ مُسْلِمِیْنَ Open ayah 28:53 in the Quran reader

اور جب یہ ان کو پڑھ کر سنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے یہ تو قطعی طور پر حق ہے ہمارے رب کی طرف ہم تو اسے پہلے ہی مانتے تھے

67 ہم تو اس کو پہلے ہی مانتے تھے : یعنی ہمارا تو کام ہی حق کو ماننا اور اس کے آگے سر تسلیم خم کردینا ہے اور بس۔ سو جب پیغام حق و ہدایت اس سے پہلے تورات و انجیل کی شکل میں ہمارے پاس آیا تو ہم نے اس کو قبول کرلیا تھا۔ اور اب جبکہ وہ قرآن پاک کے ابدی اور آخری پیغام کی شکل میں اترا تو ہم اس پر ایمان لے آئے۔ نیز ہم پہلی کتابوں پر اپنے ایمان کے ضمن میں بھی اس پر پہلے سے ہی ایمان رکھتے تھے۔ کیونکہ ان کتابوں کے اندر اس کا تذکرہ موجود تھا۔ اور یوں بھی تمام کتابوں کا مرکزی پیغام ہمیشہ ایک ہی رہا۔ یہودیت اور نصرانیت وغیرہ کے ناموں سے اس پر جو اضافے کئے گئے وہ لوگوں نے اپنی طرف سے بعد میں کئے۔ ورنہ اٹل حقیقت یہی ہے کہ ۔ { إنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الاَسْلام } ۔ کہ دین حق تو اللہ کے یہاں ہمیشہ ایک ہی رہا یعنی اسلام۔ اس لئے ہم پہلے قرآن حکیم پر ضمنی اور اجمالی طور پر ایمان رکھتے تھے اور اب اس پر صریح، واضح اور تفصیلی طور پر ایمان لے آئے ہیں۔ لفظِ { مسلمین } سے یہ بات نکلتی ہے کہ ہم پہلے سے ہی اپنے آپ کو اس کتاب موعود اور اس رسول خاتم کے حوالے کردینے کے منتظر تھے۔ چناچہ جب ہم نے ان کو پایا اور ان کو پرکھ کر دیکھا اور اطمینان کرلیا کہ یہ وہی پیغمبر ہیں جن کے ہم منتظر تھے تو ہم فوراً اور بغیر کسی لیت و لعل کے ان پر ایمان لے آئے۔ اور یہی شان ہوتی ہے سلیم الطبع لوگوں کی۔
Ayah 28:54

اُولٰٓئِكَ یُؤْتَوْنَ اَجْرَهُمْ مَّرَّتَیْنِ بِمَا صَبَرُوْا وَ یَدْرَءُوْنَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 28:54 in the Quran reader

ایسے لوگوں کو ان کا دوہرا اجر دیا جائے گا اس بناء پر کہ انہوں نے صبر واستقامت سے کام لیا اور یہ برائی کا جواب بھلائی سے دیتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہوتا ہے اس میں سے ہماری رضا کے لئے خرچ کرتے ہیں

68 ایسے لوگوں کو دوہرے اجر سے نوازا جائے گا : ایک اجر اس پر کہ وہ اپنے پیغمبر اور اپنی کتاب پر ایمان لائے۔ اور دوسرا اس پر کہ وہ نبی آخر الزمان اور ان کی کتاب یعنی قرآن مجید پر بھی صدق دل سے ایمان لے آئے اور اپنے اس ایمان پر سچے دل سے قائم اور ثابت قدم رہے۔ اور اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات و مصائب کو انہوں نے استقلال و استقامت سے برداشت کیا اور اپنے سینوں اور اپنے بواطن کو نور ایمان و یقین سے منور و معمور رکھا اور سعادت دارین سے سرفرازی و بہرہ مندی کا سامان کیا۔ سو ایمان و عقیدہ اور ثبات و استقامت ہی شاہ کلید ہے صلاح و فلاح کی۔ اور صحیح بخاری و مسلم کی روایات میں فرمایا گیا کہ تین شخصوں کو ان کے اعمال کا دوہرا اجر ملتا ہے۔ ایک وہ اہل کتاب جو اپنی کتاب پر ایمان رکھتا تھا اور پھر قرآن پر بھی ایمان لایا۔ دوسرا وہ غلام جو اپنے رب کا حق بھی ادا کرے اور اپنے آقا کا بھی۔ اور تیسرا وہ شخص جس کے پاس ایک ایسی باندی ہو جس سے وہ وطی کرسکتا تھا مگر اس نے اس کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرلیا۔ بہرکیف یہاں پر ان مومنین مخلصین کی ان بعض اہم صفات کو ذکر فرمایا گیا ہے جو ان کے اندر پائی جاتی ہیں اور جو ہر مومن صادق کے اندر پائی جانی چاہئیں۔ جن میں سب سے پہلے جس صفت کو بیان فرمایا گیا وہ ہے صفت صبر جو کہ بمنزلہ اساس و بنیاد کے ہے۔ اور بعد والی دوسری صفات دراصل اسی پر مبنی و متفرع ہیں۔ اس سے صبر و استقامت کی عظمت و اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اسی لئے نبی اکرم ﷺ نے اس کے بارے میں ارشاد فرمایا ۔ { قُلْ اٰمَنْتُ باللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ } ۔ کہ " اٰمَنْتُ باللّٰہِ " کہو اور پھر اس پر پکے رہو۔ سو صدق ایمان اور استقامت اصل اور اساس ہے دارین کی فوز و فلاح کی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 69 جو برائی کا جواب بھلائی سے دیتے ہیں : کہ سب و شتم اور گالی گلوچ کے جواب میں صبر و برداشت سے کام لیتے اور کلمہ حق و انصاف کہتے ہیں۔ برائی کے بدلے میں بھلائی سے کام لیتے اور بدخواہی کے بدلے میں خیر خواہی کو اپنا شعار بناتے ہیں۔ اور اس طرح یہ لوگ اپنے بلند کردار اور اعلیٰ اخلاق کے ذریعے دنیا کے دلوں کو جیتتے ہیں۔ اور یہی مسلمان کی شان ہے ۔ اللہ ہم سب کو اس کی توفیق نصیب فرمائے ۔ آمین۔ بہرکیف اہل کتاب کے ان مومنین صادقین نے جب اپنے قبول اسلام کا اظہار و اعلان کیا تو ان کی اپنی قوم نے بھی ان پر طعن وتشنیع سے کام لیا اور ان کو اپنے آبائی دین کا دشمن اور ملت کا غدار قرار دیا۔ اور دوسرے اعدائے حق نے بھی ان کو اپنے لعن طعن کا ہدف بنایا۔ مگر ان مومنین مخلصین نے ان سب کے جواب میں مومنانہ شرافت اور کریمانہ عفو و درگزر ہی سے کام لیا ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف برائی کا جواب اچھائی سے دینا ہے تو بڑا کٹھن اور مشکل کام لیکن اس کی آثار وثمرات بڑے عظیم الشان اور جلیل القدر ہیں ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے اور ہمیشہ ایسے مکارم سے سرفراز و سرشار رکھے ۔ آمین ۔ بیدہ ازمۃ التوفیق وہو الہادی الی سواء السبیل -