24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 24:60

وَ الْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَآءِ الّٰتِیْ لَا یَرْجُوْنَ نِكَاحًا فَلَیْسَ عَلَیْهِنَّ جُنَاحٌ اَنْ یَّضَعْنَ ثِیَابَهُنَّ غَیْرَ مُتَبَرِّجٰتٍۭ بِزِیْنَةٍ١ؕ وَ اَنْ یَّسْتَعْفِفْنَ خَیْرٌ لَّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:60 in the Quran reader

اور وہ خانہ نشیں بوڑھی عورتیں جو کو نکاح کی کوئی امید باقی نہ رہی ہو ان پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ وہ اپنے زائد کپڑے اتار کر رکھ دیں4 بشرطیکہ وہ کسی زینت کی نماز کرنے والی نہ ہوں، اور اس رخصت کے باوجود اگر وہ بھی بچ کر رہیں تو یہ ان کے حق میں بہرحال بہتر ہے اور اللہ ہر کسی کی سنتا سب کچھ جانتا ہے۔

128 بوڑھی عورتوں کے لیے خاص ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بوڑھی خانہ نشین عورتوں پر زائد کپڑے اتار دینے میں کوئی حرج نہیں۔ کہ اس میں عموماً ان کے لئے کسی فتنے اور فساد میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہیں ہوتا جو کہ پردے کے احکام سے اصل مقصود ہے۔ سو وہ اگر اپنے گھروں میں اوڑھنیوں وغیرہ کا اہتمام نہ کریں جو دوسری عورتوں سے مطلوب ہے تو ان پر اس میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ وہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں کہ وہ اب نکاح کی عمر سے گزر چکی ہیں۔ سو اوپر آیت 31 میں عورتوں کے لیے جو خاص ہدایت فرمائی گئی تھی کہ وہ اپنے گھروں کے اندر بھی کسی غیر محرم کی موجودگی میں اپنے دوپٹوں کے آنچلوں سے اپنے گریبانوں کو ڈھانک لیا کریں تو اس حکم عام سے یہاں پر ان بوڑھی خانہ نشین عورتوں کو مستثنیٰ کردیا گیا ہے جو اب نکاح کی عمر سے گزر چکی ہوں۔ 129 بوڑھی عورتوں کے لیے بہتر صورت کی نشاندہی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسی بوڑھی عورتیں اگر اپنی اوڑھنیوں کے بارے میں ایسا اہتمام نہ کریں تو اس میں کوئی حرج نہیں لیکن اگر وہ اس سے بچ کر رہیں تو یہ ان کیلئے بہرحال بہتر ہے۔ کہ اس میں ان کی عزت و حشمت اور وقار بھی ہے اور تہمت کے مواقع سے حفاظت و اجتناب بھی۔ کہ عربی کی مشہور مثل " لِکُلِّ سَاقِطٍ لاقِطٌ " کے مطابق لغزش کا خطرہ بہرحال رہتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو بڑی بوڑھیوں کیلئے یہ ایک رعایت ہے جو ان کی سہولت اور آسانی کیلئے ان کو دی گئی ہے لیکن اس میں بھی فتنے کا ایک پہلو بہرحال موجود رہتا ہے۔ کیونکہ جس طرح بعض مردوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ بوڑھے ہونے کے باوجود ان کی پرانی عادتیں نہیں بدلتیں اور ان کی ناک لگی ہی رہتی ہے اسی طرح بعض عورتوں کا حال بھی یہ ہوتا ہے کہ بوڑھی ہوجانے کے باوجود ان کے اندر سے زیورات کی نمائش اور اپنی دولت و ثروت کی شوبازی کا شوق پوری طرح سے نکلتا نہیں بلکہ بعض اوقات تو بڑھاپے میں ایسے خدشات زیادہ ہوجاتے ہیں۔ جیسا کہ عربی کہاوت میں کہا گیا ہے ۔ " لکل ساقطۃ لاقطۃ " ۔ سو اسی بنا پر خالق فطرت نے اپنے کلام حکمت التیام میں یہاں پر اس بارے تنبیہ فرما دی۔ تاکہ اس رخصت سے وہ کوئی غلط فائدہ نہ اٹھائیں ۔ والعیاذ باللہ من کل سوء وشر۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 24:61

لَیْسَ عَلَى الْاَعْمٰى حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْاَعْرَجِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلَى الْمَرِیْضِ حَرَجٌ وَّ لَا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَنْ تَاْكُلُوْا مِنْۢ بُیُوْتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اٰبَآئِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اُمَّهٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اِخْوَانِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخَوٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَعْمَامِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ عَمّٰتِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ اَخْوَالِكُمْ اَوْ بُیُوْتِ خٰلٰتِكُمْ اَوْ مَا مَلَكْتُمْ مَّفَاتِحَهٗۤ اَوْ صَدِیْقِكُمْ١ؕ لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَاْكُلُوْا جَمِیْعًا اَوْ اَشْتَاتًا١ؕ فَاِذَا دَخَلْتُمْ بُیُوْتًا فَسَلِّمُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ تَحِیَّةً مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ مُبٰرَكَةً طَیِّبَةً١ؕ كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ۠ Open ayah 24:61 in the Quran reader

نہ اندھے پر کوئی حرج و تنگی ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ ہی بیمار پر، اور نہ خود تم پر اس بات میں کہ تم لوگ کھاؤ پیو اپنے گھروں سے یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا ان گھروں سے جن کی کنجیاں تمہارے حوالے ہوں، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے پھر اس میں بھی خواہ تم سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ تم پر کوئی حرج نہیں،1 پھر یہ بھی یاد رہے کہ جب تم داخل ہونے لگو گھروں میں تو سب سے پہلے سلام کیا کرو اپنے لوگوں کو، اللہ کی طرف سے تعلیم فرمودہ ایک حیات آفریں اور پاکیزہ دعا کے طور2 پر اسی طرح اللہ کھول کر بیان کرتا ہے تمہارے لیے اپنے احکام تاکہ تم لوگ سمجھو اور عقل سے کام لو

130 معذوروں کے لیے رخصت و رعایت کا ذکر و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اندھے، لنگڑے اور بیمار پر کوئی حرج نہیں "۔ اس بات میں کہ وہ صحت مند لوگوں کے ساتھ مل کر کھائیں۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت کریمہ ۔ { وَلا تَأکُلُوْا اَمْوالَکُمْ بَیْنَکُمْ بالْبَاطِلِ } ۔ (البقرۃ : 188) نازل ہوئی تو صحابہ کرام ؓ نے ان معذور حضرات کے ساتھ مل کر کھانے میں حرج محسوس کیا۔ کہ اس طرح کہیں ان معذوروں کا حق نہ مارا جائے کہ اندھا بیچارا اپنی معذوری کی بناء پر دیکھ نہیں سکتا۔ لنگڑا اپنے عذر کی بنا پر حسب رغبت ہاتھ بڑھا کر اپنی مرغوب چیز لے نہیں سکتا۔ اور مریض اپنی بیماری کے باعث پورا کھا نہیں سکتا۔ ادھر ان معذور حضرات کو بھی یہ خیال گزرنے لگا کہ کہیں ہماری وجہ سے دوسرے ساتھیوں کو تکلیف نہ پہنچتی ہو کہ اندھے کا ہاتھ اپنی معذوری کی بناء پر کہیں دوسرے کے آگے اور اس کے حصے میں نہ پہنچ جاتا ہو۔ اور لنگڑا شخص اپنے عذر کی بنا پر زیادہ جگہ لینے کا محتاج اور ضرورت مند ہوتا ہے۔ اور بیمار سے کچھ لوگوں کو طبعی طور پر گھن محسوس ہوتی ہے اور اس طرح ان حضرات نے خوف و خشیت خداوندی کی بنا پر باہم مل کر کھانے پینے میں حرج اور کوفت محسوس کی۔ تو اس پر یہ آیات کریمہ نازل ہوئیں اور ان میں بتایا گیا کہ ایسے تمام حضرات کے باہم مل کر کھانے میں کوئی حرج اور گناہ نہیں۔ آیت کریمہ کا یہ مفہوم سیاق وسباق سے ظاہر و واضح ہے۔ اور اسی کو اختیار کیا ہے طبری (رح) اور رازی (رح) وغیرہ نے۔ جبکہ دوسرا مطلب اس کا بعض حضرات اہل علم نے یہ بیان کیا ہے کہ ان حضرات اعذار کے جہاد وغیرہ میں شریک نہ ہونے میں ان پر کوئی گناہ نہیں کہ یہ سب لوگ معذور ہیں۔ اور یہ قول حضرت حسن، (رح) عطاء اور زید بن اسلم وغیرہ کا ہے۔ اور اسی کو صاحب بحر اور کشاف نے اختیار کیا ہے۔ سو ان حضرات کے نزدیک یہ آیت کریمہ توبہ کی آیت نمبر 91- { لَیْسَ عَلَی الضَّعَفَائِ وَلَا عَلَی الْمَرْضٰی وَلاَ عَلَی الَّذِیْنَ لاَ یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ مِنْ حَرَجٍ } ۔ نیز سورة فتح کی آیت نمبر 17 کی طرح ہے جس میں فرمایا گیا ہے ۔ { لَیْسَ عَلَی الاَعْمٰی حَرَجٌ وَلَا عَلَی الْمَرِیْضِ حَرَجٌ } ۔ (روح، ابن جریر، ابن کثیر، خازن، محاسن اور مراغی وغیرہ) ۔ الفاظ قرآنی بہرحال عام ہیں جو دونوں صورتوں کو محتمل اور ان کو شامل ہیں ۔ وَالْعِلْمُ عِنَدَ اللّہ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی ۔ یہاں سے اس امر کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جب انسان کا دل خوف و خشیت خداوندی سے معمور و سرشار ہوتا ہے اس وقت انسان کیسا ہوتا ہے۔ کہ وہ ایسی چھوٹی چھوٹی چیزوں کے بارے میں بھی اپنے خالق ومالک سے ڈرتا ہے۔ اور جب وہ اس سے محروم ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو اس وقت اس کا حال کیا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ فَالْحَمْدُ لِلّٰہِ الِّذِیْ شَرَّفَنَا بِنِعْمَۃِ الْاِیْمَانِ وَلَذَّتِہٖ ۔ اللّٰھُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وثبتنَا عَلَیْہِ ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے اصحاب اعذار کے لیے خاص رعایت کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ 131 باہمی اکل و شرب سے متعلق بعض آداب کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور تم لوگوں پر اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے گھروں سے کھاؤ پیو "۔ یعنی اپنی بیویوں اور اپنی اولاد کے گھروں سے کہ وہ بھی اصل میں تمہارے ہی گھر ہیں۔ اور ان کا مال بھی تمہارا ہی مال ہے (المراغی، المحاسن، ابن کثیر، صفوہ وغیرہ) ۔ کیونکہ حدیث شریف میں فرمایا گیا ہے ۔ " اَنْتَ وَمَالُکُ لِاَبِیْکَ " ۔ " کہ تو اور تیرا مال تیرے باپ ہی کی ملکیت ہے "۔ نیز فرمایا گیا " اِنَّ اَطْیَبَ مَا یَأکُلُ الرَّجُلُ مِنْ کَسْبِہ وان ولدہ من کسبہ " یعنی " سب سے پاکیزہ روزی جو انسان کھاتا ہے وہ اس کی اپنی کمائی کی روزی ہے، اور اس کی اولاد بھی اس کی کمائی میں سے ہے "۔ (المراغی، ابن کثیر، المحاسن وغیرہ) ۔ سو اپنے گھروں میں اپنے اہل و عیال اور آل و اولاد کے گھر بھی آگئے۔ (المعارف وغیرہ) ۔ پس ایسے گھروں میں کھانے پینے میں کوئی حرج نہیں کہ یہ بھی اصل میں تمہارے اپنے ہی گھر ہیں۔ سو دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ اور آداب عالیہ کا مقصد معاشرتی تعلقات و روابط کو کاٹنا نہیں بلکہ ان کو جوڑنا اور ان کو صحیح خطوط پر استوار کرنا ہے۔ تاکہ سب کے لیے سکون و اطمینان اور آرام و راحت کا سامان ہو۔ 132 رشتہ داروں کے یہاں سے کھانے پینے کی اجازت و آزادی : " اور اپنے رشتہ داروں کے گھروں سے کھانے میں بھی کوئی حرج نہیں "۔ کہ ان سب لوگوں کے ساتھ تمہارے خاص رشتے اور تعلق ہیں۔ اور یہ تمہارے کھانے پینے سے تنگ بھی نہیں ہوتے۔ اور ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد ان گھروں سے بلا اجازت کھانا ہے۔ (الکبیر، المراغی وغیرہ) ۔ سو استئذان یعنی اجازت لیکر اور سلام کرکے گھروں میں داخل ہونے کی پابندی سے یہ مقصد نہیں کہ تمہارے اپنے ان رشتہ داروں سے تعلقات و روابط منقطع ہوجائیں، بلکہ استئذان کی اس پابندی سے مقصود معاشرے کی بہتری اور اصلاح ہے۔ تاکہ نہ کسی پر کوئی حرج اور تنگی ہو اور نہ کسی فتنے و فساد کا کوئی خدشہ و اندیشہ۔ ورنہ اپنے ان رشتہ داروں کے گھروں میں جانے کی کوئی ممانعت نہ ہے اور نہ ان کے یہاں سے کھانے پینے کی کوئی پابندی۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جب تم ان گھروں میں داخل ہوا کرو تو اجازت لیکر اور سلام کرکے داخل ہوا کرو جو کہ ایک بڑی مبارک دعا ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تم لوگوں کو تعلیم وارشاد فرمائی گئی ہے تاکہ تم اس کی خیرات و برکات سے مستفید و مالامال ہو سکو۔ اور یہ طریقہ تمہارے لیے خیر و برکت سے سرفرازی کا ذریعہ بنے ۔ وباللہ التوفیق ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 133 زیر تولیت گھروں کا استثناء : سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہ ہی ان گھروں کے بارے میں تم پر کوئی حرج اور تنگی ہے جنکی چابیاں تمہارے حوالے ہوں "۔ کیونکہ چابیاں تمہارے حوالے کرنے سے ظاہر ہے کہ ان کو تمہارا کھانا پینا ناگوار نہیں۔ ایسے گھروں کا مصداق وہ گھر ہیں جو کسی شخص کی تولیت اور اس کی نگرانی میں ہوں۔ جیسے کوئی کسی گھر کا متولی و نگران ہو۔ سو ایسے شخص کو وہاں سے کوئی پھل وغیرہ کھالینے میں یا وہاں کے کسی جانور کا دودھ پی لینے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن نہ تو وہاں سے کچھ اٹھا کر اپنے گھر لے جائے اور نہ ہی اس کو اپنے لیے ذخیرہ کرے۔ اور یہ بھی اس صورت میں ہے جبکہ وہ اس نگرانی اور تولیت پر کوئی اجرت نہ لیتا ہو۔ ورنہ اس کیلئے یہ بھی جائز نہیں۔ (المراغی، المعارف وغیرہ) ۔ سبحان اللہ ۔ دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ میں کیسی کیسی باریکیوں کا خیال رکھا گیا ہے تاکہ نہ کسی کا کسی طرح کا کوئی نقصان ہو نہ کسی کا کوئی حق مارا جائے اور نہ کسی کے لیے کوئی مشکل پیدا ہو۔ بلکہ باہمی الفت وترابط میں استحکام پیدا ہو ۔ فالحمد للہ ۔ 134 دوستوں کے گھروں کا استثناء : سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہ ہی تمہارے دوستوں کے گھروں کے بارے میں اس طرح کی کوئی ممانعت اور پابندی ہے۔ قتادہ ؓ کہتے ہیں کہ جب تم اپنے دوست کے گھر داخل ہوگئے تو اس کے گھر سے بلا اجازت کچھ کھا پی لینے سے تم پر کوئی گناہ نہیں۔ (ابن کثیر، صفوہ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو مطلب یہ ہوا کہ ان لوگوں کے گھروں سے کچھ کھاپی لینے پر کوئی حرج اور تنگی نہیں اگرچہ وہ وہاں پر موجود نہ ہوں جبکہ ان کی طرف سے اس کی رضامندی کا علم ہوجائے۔ خواہ صریح لفظ سے خواہ کسی قرینے سے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو ان لوگوں کے گھروں سے کھا پی لینے میں بھی تم پر کوئی تنگی اور حرج نہیں۔ اور اس طرح کا کوئی کھانا پینا اس کا حق کھانے پینے کی زمرے میں نہیں آتا جس کی ۔ { لاَ تَاکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بالْبَاطِلِ } ۔ کے ارشاد خداوندی میں ممانعت فرمائی گئی ہے۔ سو اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ نے اپنے فضل و کرم اور اپنی رحمت و عنایت سے ان آیات کریمات کے ذریعے واضح فرما دیا کہ ان صورتوں میں تم پر کوئی تنگی اور حرج نہیں بلکہ آزادی و اباحت ہے ۔ فالحمد للہ - 135 انفرادی اور اجتماعی دونوں صورتوں میں کھانے پینے کی اجازت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور تم پر اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ سب مل کر کھاؤ یا الگ الگ "۔ کہ ان میں سے ہر صورت جائز ہے۔ اور مل کر کھانے میں تم اس بات کا اندیشہ نہ کرو کہ کس نے کم کھایا اور کس نے زیادہ۔ اور مل کر کھانے میں جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے خاص برکت ہے۔ چناچہ حضرت عمر ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تم سب اکٹھے مل کر کھایا کرو۔ الگ الگ نہ ہوا کرو کہ برکت یقینا جماعت کے ساتھ ہے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو جماعت کے ساتھ اور مل کر کھانا اگرچہ زیادہ اچھا اور بہتر ہے کہ یہ زیادہ خیر و برکت کا باعث ہے لیکن اکیلا کھانا بھی جائز ہے۔ اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔ 136 باہمی سلام کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب تم لوگ گھروں میں داخل ہونے لگو تو سب سے پہلے سلام کہا کرو کہ باہمی سلام اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک حیات آفریں اور مبارک طریقہ ہے "۔ " تحیہ " جس میں امن و سلامتی کی دعا بھی ہے اور اگلے کے لئے خوشی و انبساط کا سامان بھی۔ اور باہم ملنے کے وقت تمہارے رب کی جانب سے یہ ایسی عمدہ اور پیاری دعا تلقین فرمائی گئی ہے جس کا دوسرا کوئی نعم البدل نہیں ہوسکتا۔ سو یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک بڑا مبارک اور پاکیزہ طریقہ تحیۃ وسلام ہے جس سے باہمی تعلقات کی خوشگواری میں اضافہ ہوتا ہے اور خیر و برکت کی دعائیں ملتی ہیں۔ اور یہ طریقہ حسنات اور نیکیوں میں اضافے کا ایک بڑا اہم ذریعہ ہے۔ جیسا کہ بزاز نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضور ﷺ نے جو خاص وصیتیں فرمائی تھیں ان میں ایک یہ تھی کہ جس سے بھی ملو اس کو سلام کرو۔ اس سے تمہاری نیکیاں بڑھیں گی۔ نیز فرمایا کہ تم جب اپنے گھر میں داخل ہوؤ تو اپنے گھر والوں کو سلام کہا کرو۔ اس سے تمہارے گھر کی خیر و برکت میں اضافہ ہوگا۔ (ابن کثیر، مراغی وغیرہ) ۔ سو اس طرح گھروں میں داخل ہونا باعث خیر وبرکت بھی ہے اور موجب فرحت و انبساط بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 137 عقل سے کام لینے کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ اسی طرح کھول کر بیان کرتا ہے تمہارے لیے اپنے احکام تاکہ تم لوگ عقل سے کام لو "۔ اپنے رب کے ارشاد فرمودہ ان پاکیزہ احکام و آداب کے بارے میں اور ان مقدس ہدایات و ارشادات کو سچے دل سے اپنا کر تم دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہو سکو۔ اور تم لوگ عقل سے کام لو اور سوچو کہ خداوند قدوس کی طرف سے ارشاد وتعلیم فرمودہ یہ احکام کس قدر اہم اور کتنے پاکیزہ ہیں اور ان کی پابندی میں خود تمہارا ہی بھلا ہے۔ دنیا میں بھی آخرت میں بھی۔ سو اس تنبیہ سے واضح فرما دیا گیا کہ جن لوگوں نے ان ہدایات کو ناروا پابندیوں پر محمول کیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ انہوں نے اپنی عقل سے صحیح طور پر کام نہیں لیا ورنہ وہ اس طرح کی حماقت کا ارتکاب نہ کرتے۔ سو جو اس بارے عقل سے صحیح طور پر کام لیتے ہیں ان پر ان احکام کی افادیت اور ان کی برکات اچھی طرح واضح ہوجاتی ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 24:62

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ اِذَا كَانُوْا مَعَهٗ عَلٰۤى اَمْرٍ جَامِعٍ لَّمْ یَذْهَبُوْا حَتّٰى یَسْتَاْذِنُوْهُ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ۚ فَاِذَا اسْتَاْذَنُوْكَ لِبَعْضِ شَاْنِهِمْ فَاْذَنْ لِّمَنْ شِئْتَ مِنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:62 in the Quran reader

مومن تو حقیقت میں وہی لوگ ہیں جو (دل و جان سے) ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پر اور جب وہ کسی اجتماعی کام میں رسول کے ساتھ ہوں تو اس وقت تک نہ جائیں جب تک کہ وہ ان سے اجازت نہ لے لیں اے پیغمبر جو لوگ آپ سے اجازت مانگتے ہیں بلاشبہ وہی ہیں جو ایمان و یقین رکھتے ہیں اللہ پر اور اس کے رسول پر پس جب یہ لوگ اپنے کسی کے لیے آپ سے اجازت مانگا کریں تو آپ ان میں سے جس کے لیے چاہیں اجازت دے دیا کریں اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعاء بھی کیا کریں بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔3

138 آنے کی طرح جانے کے لیے بھی استئذان کی تعلیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایمان والے تو وہی لوگ ہیں جو ایمان لاتے ہیں اللہ پر اور اس کے رسول پر جب وہ اللہ کے رسول کے ساتھ کسی اجتماعی کام میں ہوتے ہیں "۔ جیسے جنگ یا نماز یا باہمی مشاورت وغیرہ۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ تو ایسے کسی موقعہ پر سچے اہل ایمان منافقوں کی طرح چپکے سے کھسک نہیں جاتے بلکہ ضرورت پڑنے پر وہ اجازت لیکر جاتے ہیں۔ سو اس میں اہل ایمان کا یہ طریقہ بتایا گیا اور اس کی ہدایت فرمائی گئی کہ جب وہ آتے ہیں تو بھی اجازت لے کر حاضر ہوتے ہیں اور جب جاتے ہیں تو بھی اجازت لے کر جاتے ہیں۔ اور یہی صحیح اور صدق و اخلاص والا طریقہ ہے جیسا کہ حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ جب تم لوگ مجلس میں آؤ تو سلام کر کے آؤ اور جب جاؤ تو سلام کر کے جاؤ۔ " فلیست الاولی باحث من الآخرۃ " ۔ یعنی پہلی مرتبہ کا سلام دوسری مرتبہ کے سلام سے زیادہ اہم نہیں۔ سو یہ دین حنیف اور اس کی مقدس تعلیمات اول تا آخر سلامتی ہی سلامتی ہیں۔ 139 استئذان کا ذکر ایمان کی علامت و نشانی کے طور پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو لوگ آپ سے اجازت مانگتے ہیں اے پیغمبر وہی ایمان رکھتے ہیں اللہ اور اس کے رسول پر "۔ سو یہ ایمان کی ایک نشانی ہے۔ یعنی یہ ان کے ایمان و یقین اور صدق و صفا کی نشانی اور علامت ہے۔ سو اللہ اور اس کے رسول پر سچا پکا ایمان ہی اصل بنیاد اور شاہ کلید ہے دارین کی سعادت و سرخروئی کی۔ یہاں پر " انما " کے کلمہ حصر سے بیان فرمایا گیا کہ مومن لوگ اصل میں یہی ہیں جو اجتماعی کاموں کے موقعہ پر اجازت لیے بغیر وہاں سے نہیں جاتے۔ پس جو لوگ ایسا نہیں کرتے وہ مومن نہیں ہیں۔ کہ ان کا عمل تقاضائے ایمان کے خلاف ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 140 اِذن و اجازت کا دار و مدار پیغمبر کی مرضی پر : سو ایسے لوگوں کو اجازت دینا پیغمبر پر ضروری نہیں بلکہ یہ چیز آپ کی مرضی پر ہے۔ یعنی اجازت دینا یا نہ دینا آپ کی مرضی اور آپ ﷺ کے اختیار پر ہے۔ اور یہ معاملہ آپ کی صوابدید پر موقوف ہے ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وَسَلامُہ عَلَیْہِ ۔ کیونکہ آپ ﷺ ہی بہتر جانتے ہیں کہ اس اجتماعی کام کی نوعیت کیسی ہے اور اس کی اہمیت کس درجے کی ہے۔ اور اجازت مانگنے والے کا عذر کس درجے کا ہے اور کیا وہ اجازت کا مستحق ہے یا نہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اپنی کسی مجبوری اور ضرورت کی بنا پر آپ سے اجازت مانگیں تو آپ ان میں سے جس کے لیے چاہیں اجازت دے دیا کریں۔ اور ایسوں کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت و بخشش کی دعا بھی کیا کریں۔ بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی بخشش اور رحمت کے سائے میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 24:63–64

لَا تَجْعَلُوْا دُعَآءَ الرَّسُوْلِ بَیْنَكُمْ كَدُعَآءِ بَعْضِكُمْ بَعْضًا١ؕ قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ یَتَسَلَّلُوْنَ مِنْكُمْ لِوَاذًا١ۚ فَلْیَحْذَرِ الَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ اَمْرِهٖۤ اَنْ تُصِیْبَهُمْ فِتْنَةٌ اَوْ یُصِیْبَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 24:63 in the Quran reader

ایمان والو، خبردار کہیں تم رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کو بلانے کی طرح نہ سمجھ لینا۔1 یقینا اللہ پوری اور اچھی طرح جانتا پہچانتا ہے ان لوگوں کو جو تم میں کھسک جاتے ہیں آنکھ بچا کر سو ڈرنا اور اپنے ہولناک انجام سے بچنا چاہیے ان لوگوں کو جو خلاف ورزی کرتے ہیں اس وحدہ لاشریک کے حکم و ارشاد کی اس بات سے کہ کہیں اچانک اس دنیا ہی میں آن پڑے ان پر کوئی ہولناک آفت یا آپکڑے ان کو آخرت کا دردناک عذاب

اَلَاۤ اِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ قَدْ یَعْلَمُ مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ١ؕ وَ یَوْمَ یُرْجَعُوْنَ اِلَیْهِ فَیُنَبِّئُهُمْ بِمَا عَمِلُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 24:64 in the Quran reader

آگاہ رہو کہ بیشک اللہ ہی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے وہ پوری طرح جانتا ہے اس حال کو جس پر تم لوگ ہو اور یاد رکھو اس دن کو جس دن کہ ان سب کو اسی کی طرف پھیر لایا جائے گا پھر وہ ان کو وہ سب کچھ ٹھیک ٹھیک بتادے گا جو انہوں نے زندگی بھر کیا کرایا ہوگا اور اللہ ہر چیز کو پوری طرح جانتا ہے۔2

141 پیغمبر کی دعا و پکار کے بارے میں اہل ایمان کو ایک خاص ہدایت و تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ اے ایمان والو رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کے بلانے کی طرح نہ سمجھنا "۔ کہ جس طرح تم لوگ آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہو ایسے حضور کو صریح نام کے ساتھ نہ پکارنا۔ یعنی آپ کو " یا محمد " یا " یا عبد اللہ " کہہ کر نہ پکارنا۔ (ابن کثیر، محاسن، صفوہ وغیرہ) کہ اس طرح آپ ﷺ کو نام لیکر پکارنا درست نہیں۔ بلکہ آپ ﷺ کو کسی و صف کے ساتھ پکارا کرو۔ جیسے " یا رسول اللہ "، " یانبی اللہ " وغیرہ کے صریح نام کے ساتھ پکارنا ایک طرح کا گنوار پن اور ادب کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ چناچہ پورے قرآن حکیم میں کہیں ایک بار بھی آنحضرت ﷺ کو نام کے ساتھ نہیں پکارا گیا۔ یعنی " یا محمد " نہیں فرمایا گیا۔ بلکہ ۔ { یا اَیُّہَا الرَّسُوْلُ } ۔ { یَا اَیُّھَا النَّبِیُّ } ۔ { یَا اَیُّھَا الْمُزمِّلُ } اور { یَا اَیُّھَا الْمُدَّثِرُ } وغیرہ جیسے اوصاف و اَلقاب سے پکارا گیا ہے۔ سو قرآن پاک کی اس نورانی تعلیم اور ربانی ہدایت کو دیکھو اور پھر ہمارے پنجاب کے بدعتی ملاں کو دیکھو کہ وہ اس کے برعکس دھڑلے سے کہتا ہے کہ " اسیں یا محمد کہندے رہنا اے " ۔ فِالَی اللّٰہِ الْمُشتَکٰی ۔ نیز اس ارشاد ربانی کا ایک دوسرا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب پیغمبر تمہیں کسی کام کے لئے بلائے تو تم اس کو عام لوگوں کی پکار کی طرح نہیں سمجھنا کہ چاہے مان لیا جائے اور چاہے نہ مانا جائے۔ سو ایسا نہیں کرنا بلکہ پیغمبر کی دعوت و پکار کو سننا اور ماننا لازم اور ضروری ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { اِسْتَجِیْبُوْا لِلّٰہِ وَلِلرَّسُوْلِ اِذَا دَعَاکُمْ لِمَا یُحِیِیْکُمْ } ۔ (الانفال :24) ۔ نیز اس کا ایک اور مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پیغمبر کی دعا کو آپس کی دعا کی طرح نہ سمجھنا کہ پیغمبر کی دعا تو بہرحال مقبول و مستجاب ہے۔ لہذا ہمیشہ محتاط رہنا کہ کہیں کسی کو آپ کی بددعا نہ لگ جائے جس سے وہ ہلاک اور تباہ و برباد ہوجائے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بلکہ اس کے برعکس ہمیشہ اس فکر اور کوشش میں رہو کہ آپ ﷺ کی دعائیں تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ ملیں کہ وہ بہرحال ایک عظیم الشان سرمایہ ہے ۔ وَبِاللّٰہِ التَوْفِیْقِ- (روح، قرطبی، ابن کثیر، مدارک، محاسن، مراغی اور صفوہ وغیرہ) ۔ سو آیت کریمہ کے الفاظ میں ان تینوں معنوں کی گنجائش ہے۔ اور تینوں ہی مراد ہوسکتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک مطلوب ہے اور ان میں باہم کوئی تضاد بھی نہیں۔ اور اپنی جگہ یہ تینوں ہی صحیح اور مقصود و مطلوب ہیں۔ اور ان تینوں میں سے ہر قول و احتمال ایک عظیم الشان درس اور تعلیم پر مشتمل ہے ۔ سبحان اللہ ۔ کیا کہنے قرآن حکیم کی اس عظمت اور جامعیت شان کے ۔ والحمدللہ رب العالمین ۔ اور کیا کہنے پیغمبر کی عظمت شان کے۔ اللہ اس کو پہچاننے اور اس کا حق ادا کرنے کی توفیق بخشے اور ہمیشہ اپنی تعلیمات و ہدایت کی اتباع و پیروی نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ 142 اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کے لیے تنبیہ وتحذیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیئے اس بات سے کہ آپہنچے ان پر کوئی ہولناک آفت یا کوئی دردناک عذاب۔ اور حرف یا کی یہ تردید بطور منع خلو کے ہے۔ پس ان دونوں سزاؤں کا اجتماع بھی ہوسکتا ہے۔ (خازن، معارف وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یعنی ان دونوں عذابوں میں سے کوئی ایک بھی تم کو پہنچ سکتا ہے اور یہ دونوں بھی پہنچ سکتے ہیں۔ سو جان بوجھ کر اللہ تعالیٰ کے حکم و ارشاد کی خلاف ورزی اور اس سے گریز و فرار کی راہ اختیار کرنے کا نتیجہ و انجام بہت برا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ یہاں پر { یخالفون } کے فعل کے بعد جو " عن " کا صلہ آیا ہے اس سے اس میں گریز و فرار کا مفہوم پیدا ہوجاتا ہے۔ سو اس خالق ومالک کے اوامرو ارشادات سے گریز و فرار کی راہ اختیار کرنے کا طریقہ بھی بہت سنگین جرم ہے۔ اور یہاں جن منافقین کا ذکر ہوا ہے ان کے جرم کی نوعیت بھی اسی گریز و فرار ہی کی تھی۔ اور اللہ کے حکم کی طرح اللہ کے رسول کے حکم کی خلاف ورزی کا بھی یہی حکم ہے کہ رسول کا حکم بھی اصل میں اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہوتا ہے۔ کیونکہ رسول جو بھی کہتے اور کرتے ہیں وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کے حکم وارشاد سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی کہ رسول اللہ کے حکم کے بغیر بولتے بھی نہیں۔ ان کا ہر قول وقرار اللہ تعالیٰ کی وحی کی بنا پر ہی ہوتا ہے ۔ { وَمَا یَنْطِقُ عَنِ الْہَویٰ اِنْ ہُوَ الاَّ وَحْیٌ یُّوْحٰی } (النجم : 3-4) ۔ سو خیر سب کی سب اتباع میں ہے ۔ وباللہ التوفیق -