Ayah 24:3682 نور ایمان سے سرفرازی کے مواقع کی نشاندہی : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان و یقین کا یہ نور ملتا ہے ایسے گھروں میں جنکی تعظیم کا حکم اللہ نے دیا ہے۔ مراد ان گھروں سے مسجدیں ہیں جن کو حدیث میں " اَحَبُّ الْبُقَاعِ اِلَی اللّٰہِ " ۔ " اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے پاکیزہ اور مقدس جگہیں " فرمایا گیا ہے۔ اور جن کے بارے میں حضرت ابن عباس ۔ ؓ ۔ فرماتے ہیں کہ وہ آسمان والوں کے لئے اس طرح چمکتی ہیں جس طرح کہ زمین والوں کے لئے آسمان کے ستارے۔ (ابن کثیر، صفوۃ اور مراغی وغیرہ) ۔ یعنی ایمان کا یہ نور ہر قلب میں نہیں بلکہ قلوب سلیمہ میں پایا جاتا ہے۔ اور قلب سلیم قلب مومن ہی ہوسکتا ہے جو نور ایمان سے منور و معمور ہوتا ہے۔ اور قلب سلیم ہر قالب میں نہیں پایا جاتا بلکہ خاص خاص قوالب میں پایا جاتا ہے۔ اور ایسے قوالب سلیمہ ہر جگہ نہیں مل سکتے۔ بلکہ ان کے ملنے کی اصل جگہ وہ مساجد اور مراکز ہیں جہاں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور اس کی عبادت و بندگی ہوتی ہے۔ (المراغی، الکشاف وغیرہ) ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
83 نور ایمان سے منور و معمور خوش نصیبوں کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی مساجد و معابد میں ایسے بندگان خدا مصروف ذکر و فکر رہتے ہیں جنکو کوئی بھی چیز اللہ کی یاد سے غافل نہیں کرتی۔ ان کی قوت ایمان و یقین کی بنا پر۔ کیونکہ وہ یقین رکھتے ہیں کہ دنیا کی ان عارضی اور فانی نعمتوں کی آخرت کے مقابلے میں کوئی حیثیت اور حقیقت ہی نہیں۔ اور زندگی اصل میں آخرت ہی کی زندگی ہے ۔ { وَ اِنَّ الدَّار الاٰخِرَۃَ لِہِیَ الْحَیَوَانُ لَوْکَانُوْا یَعْلَمُوْنَ } ۔ اور اس ایمان و یقین کی قوت کی بناء پر ان بندگان صدق و صفا کی زندگی کی راہیں دوسروں سے الگ ہوجاتی ہیں۔ اور ان کو ہر موقع پر اور ہر حال میں خدا کی یاد ہی سب سے زیادہ مطلوب و مرغوب ہوتی ہے۔ اور ایسی اور اس حد تک کہ دنیاوی مشاغل میں سے کوئی بھی چیز ان کیلئے اس راہ میں رکاوٹ اور آڑ نہیں بن سکتی اور وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی اور اس کی یاد دلشاد میں محو اور مست و مگن رہتے ہیں۔ اور اس طرح ابدی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی راہ میں آگے بڑھتے رہتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 24:3784 خوف و خشیت خداوندی بندگان خدا کی خاص صفت : سو ان بندگان صدق و صفا کی خاص صفات کے بیان کے ضمن میں ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ڈرتے رہتے ہیں ایک ایسے ہولناک دن سے جس میں الٹ دیئے جائیں گے دل اور پتھرا جائیں گی آنکھیں۔ اس کے شدت ہول کی وجہ سے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّماَ یُؤَخِّرُہُمْ لِیَوْمٍ تَشْخَصُ فِیْہِ الاَبْصَارُ } ۔ سو ایسے حضرات باوجود اس قدر عبادت و بندگی کے کسی عجب اور خود پسندی کا شکار نہیں ہوتے بلکہ وہ اس دن کی ہولناکی سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں کہ اس میں اٹھ کر اپنے رب کے یہاں حساب دینا ہے۔ سو اس ہولناک دن کے خوف کی بناء پر ایسے حضرات کی زندگیاں دوسرے غافل لوگوں سے یکسر مختلف ہوتی ہیں اور ایسے اور اس حد تک کہ یہ اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی آخرت کے باسی بنے ہوتے ہیں۔ اور اس بناء پر یہ ہمیشہ اپنے خالق ومالک کی یاد دلشاد میں محو و مگن ہوتے ہیں اور کوئی بھی چیز اس راہ میں انکے لیے رکاوٹ نہیں بن سکتی۔ اور اس طرح یہ بہتر سے بہتر کی طرف بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ سو ایمان و یقین کی دولت مٹی کو بھی سونا بنا دینے والی دولت ہے ۔ فالحمد للہ الذی شرفنا بنعمۃ الایمان والیقین ۔ اللہم فزدنا منہ وثبتنا علیہ یا ذا الجلال والاکرام ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 24:38–3985 ایمان والوں کے لیے آخرت کے بہترین بدلے کی خوشخبری : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے سچے ایماندار جو کچھ کرتے ہیں آخرت کے اندیشے کی بنا پر اور اللہ کی رضا کے لیے کرتے ہیں۔ تاکہ اللہ ان کو نوازے انکے اعمال کے بہترین بدلے سے کہ ایک نیکی کا ثواب کم از کم دس گنا اور اس سے بھی بڑھ کر سات سو گنا تک اور اس سے بھی زیادہ اور پھر ان کو ایسی ایسی نعمتوں سے نوازے گا جو نہ کہ کسی آنکھ نے دیکھی ہوں گی نہ کسی کان نہ سنی ہوں گی اور نہ کسی دل پر ان کا گزر ہی ہوا ہوگا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول اور دیدار الہی کے شرف سے سرفرازی کی جو معنوی اور روحانی نعمتیں انکو حاصل ہوں گی وہ ان سب سے کہیں بڑھ کر ہوں گی ۔ اَللّٰہُمَّ ارْزُقْنَا اِیَّاہَا بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو ایسے لوگ جو یوم آخرت کے اس ہولناک دن کے خوف کی بناء پر اور اللہ تعالیٰ کی رضاء و خوشنودی کیلئے عمل کرتے ہیں وہ بڑے خوش نصیب اور راست رو لوگ ہیں۔ اور یہ اپنی اس نیک نیتی اور صحیح روش کی بنا پر اور اس کی نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے یہاں اور اس کی طرف سے بہترین صلہ و بدلہ سے سرفراز و سرشار ہوں گے۔ سو { لیجزی } کا لام علت کے لیے نہیں بلکہ یہ عاقبت و انجام اور نتیجہ کے لیے ہے۔ جیسا کہ ۔ { فَالْتَقَطَہُ آلُ فِرْعَوْنَ لِیِکُوْنَ لَہُمْ عَدُوًّا وَّحَزَنًا } ۔ ( القصص :8) میں ہے یعنی " آل فرعون نے حضرت موسیٰ کو اٹھا لیا تاکہ انجام کار وہ ان کے لیے دشمن اور باعث غم بنے۔ سو دولت ایمان دائمی سعادت سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا -
86 اللہ تعالیٰ کی عطاء و بخشش بےحساب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ جس کو چاہتا ہے عطاء فرماتا ہے بغیر حساب کے۔ کہ نہ اس کے خزانوں کی کوئی حدو انتہاء ہے اور نہ اس کی عطاء و بخش کی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ عز سلطانہ و جل برہانہ ۔ بغیر حساب کے دو مطلب ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ حساب کا لفظ اپنے معروف معنی میں ہو تو اس وقت اس کا معنیٰ و مطلب یہ ہوگا کہ اللہ جس کو وہاں کے اجر سے نوازے گا انکو ناپ تول کر بالکل برابر برابر نہیں دے گا بلکہ اس کے استحقاق سے کہیں بڑھ کر دے گا کہ اس کی طرف سے معاملہ صرف عدل اور برابری کا نہیں ہوگا بلکہ اس سے بڑھ کر فضل اور احسان کا ہوگا۔ جیسا کہ یہاں پر اسی آیت کریمہ میں فرمایا گیا۔ یعنی اللہ ان کو اپنے فضل سے بھی نوازے گا۔ اور دوسرا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ حساب کے لفظ کو یہاں پر حسبان کے معنی میں لیا جائے۔ تو اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ جسکو چاہتا ہے اس کے سان و گمان سے بھی کہیں بڑھ کر عطا فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ نصیب فرمائے اور اپنی شان کرم کے مطابق نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 24:4089 اہل کفر و باطل کے باطنی اندھیروں کی تمثیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ ایسے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوبا رہتا ہے کہ اگر اپنا ہاتھ نکالے تو اس کو بھی دیکھنے نہ پائے۔ جس کا دیکھنا عام حالات میں سب سے زیادہ سہل اور آسان ہوتا ہے کہ وہ اس کی نگاہوں کی دسترس سے زیادہ قریب ہوتا ہے۔ سو جب وہ اس کو بھی نہیں دیکھ سکتا تو اور کس کو دیکھے گا ؟ اسی طرح کافر و منکر اپنے باطن کے طرح طرح کے اندھیروں میں ڈوبا رہتا ہے۔ حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ کافر تین اندھیروں میں غرق رہتا ہے۔ عقیدئہ و باطن کا اندھیرا۔ قول وقرار کا اندھیرا اور عمل و کردار کا اندھیرا۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ والعیاذ باللہ جل و علا ۔ اور حضرت قتادہ ؓ اور ابی بن کعب ؓ وغیرہ فرماتے ہیں کہ کافر پانچ اندھیروں میں غرق رہتا ہے۔ اس کا کلام اندھیرا، اس کا کام اندھیرا، اس کا آنا اندھیرا، اس کا جانا اندھیرا اور اس کا انجام اندھیرا در اندھیرا۔ اور پھر دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ ۔ والعیاذ باللہ ۔ (ابن جریر، ابن کثیر، محاسن، مراغی اور معارف وغیرہ) ۔ سو ان دونوں میں سے پہلی مثال ان کفار کی ہے جو فی الجملہ سزا و جزاء کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ اس لئے وہ اپنے طور پر کچھ نہ کچھ نیک اعمال بھی اپنے حساب سے کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ کل ان کو کام آئیں گے۔ مگر ان کا انجام وہی ہوگا جو سراب کو پانی سمجھنے والے کا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور دوسری مثال ان لوگوں کی ہے جو ایسا کوئی عقیدہ بھی نہیں رکھتے بلکہ وہ نفسانی خواہشات ہی کے لئے جیتے اور انہی کیلئے مرتے ہیں اور وہ ان ہی میں مستغرق رہتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگوں نے حق و ہدایت کے نور مبین سے منہ موڑ کر اپنے آپ کو طرح طرح کے اندھیروں کے گہرے سمندر اور ایسے ہولناک غار میں دھکیل دیا ہے جہاں اندھیرے ہی اندھیرے ہیں۔ کفر و باطل کا اندھیرا، ظلم و جہل کا اندھیرا، شک و ریب کا اندھیرا، ہویٰ و ہوس کا اندھیرا وغیرہ وغیرہ۔ (المحاسن وغیرہ) ۔ سو دین حق سے اعراض و سرتابی اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ باطن کا بھی اندھیرا، ظاہر کا بھی اندھیرا۔ انکے دل بھی سیاہ چہرے بھی سیاہ اور ان کی زندگی کی راہیں بھی اندھیروں سے اٹی اور ڈھکی ہوئی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
90 ایمان کی روشنی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے مل سکتی ہے : اور اللہ تعالیٰ اس نور سے ان ہی کو نوازتا ہے جو اس کے لیے اپنے اندر طلب صادق رکھتے ہیں۔ اور جو طلب صادق سے محروم ہوتے ہیں وہ ایمان و یقین کی اس دولت سے بھی محروم رہتے ہیں کہ ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے دستور کے اور اس کی سنت اور قانون کی زد میں آئے ہوتے ہیں۔ اسی حقیقت کو یہاں پر اس طرح بیان فرمایا گیا اور جس کو اللہ نور سے نہ نوازے اس کیلئے کہیں سے بھی کوئی نور نہیں ہوسکتا۔ اور اللہ کا نور یعنی نور ایمان و یقین انہی خوش نصیبوں کو ملتا ہے جن کی فطرت صحیح اور سالم ہوتی ہے اور وہ طلب صادق اور رجوع الی اللہ کی دولت سے سرشار اور مالا مال ہوتے ہیں۔ اور ایسے ابنائے کفر و باطل جب اس واہب مطلق ۔ جل وعلا ۔ کی طرف سے منہ موڑ کر۔ والعیاذ باللہ ۔ اپنے کفر و باطل ہی پر اڑے رہتے ہیں تو پھر ان کو حق و ہدایت کی روشنی آخر کیسے اور کیونکر نصیب ہوسکتی ہے ؟ ایسے لوگ تو اپنے اس اعراض و روگردانی کی بناء پر اپنے نور فطرت سے بھی محروم ہوجاتے ہیں۔ اور اس طرح یہ تہ در تہ اندھیروں میں ڈوب کر رہ جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو انسان کی صلاح و فلاح اور اس کے بناؤ بگاڑ کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب و باطن ہی سے ہوتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ -
Ayah 24:4191 کائنات کی ہر شے اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول و منہمک ہے : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ کائنات کی ہر شے اللہ تعالیٰ کی تسبیح میں مشغول و منہمک ہے اور اللہ پوری طرح جانتا ہے ان تمام کاموں کو جو یہ لوگ کررہے ہیں۔ کوئی بھی چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہوسکتی۔ سو اپنے اسی علم کامل و محیط کی بناء پر وہ ہر کسی کو اس کی اس سزا و جزا سے نوازے گا جس کا وہ مستحق ہوگا۔ (ابن کثیر، صفوۃ، معارف، بیان القرآن وغیرہ) ۔ سو انسان کو ہمیشہ اسی بات کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہیئے کہ اس خالق کل، مالک مطلق، ربِّ کائنات کے ساتھ میرا معاملہ صحیح ہو ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا اور تحضیض و تحریک کے لیے استفہامیہ انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی کے لیے تسبیح کرتا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین کی اس وسیع کائنات میں موجود ہے۔ اور یہ پرندے بھی جو صف بستہ اڑتے پھرتے ہیں اس فضا میں۔ اللہ تعالیٰ ان میں سے ہر ایک کی نماز کو بھی جانتا ہے اور اس کی تسبیح کو بھی۔ پس جو لوگ اللہ تعالیٰ کی عنایت و بندگی اور اس کی تسبیح و تقدیس سے مشرف و سرفراز ہیں اللہ تعالیٰ کی ساری کائنات ان کی ہمنوا اور ہم سفر ہے۔ اور جو اپنے اس خالق ومالک سے منہ موڑے ہوئے ہیں وہ اس کائنات سے ٹکرانے کی راہ پر گامزن ہیں جس سے اس کی زندگی کٹھن اور سخت گھٹن میں مبتلا رہتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 24:4292 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو اس ارشاد سے اس اہم حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ سب کی واپسی اللہ ہی کی طرف ہوگی اور بالآخر سب نے اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ خواہ کوئی چاہے یا نہ چاہے۔ مانے یا نہ مانے۔ تسلیم کرے یا نہ کرے۔ ایسا بہرحال ہو کر رہے گا۔ اور ہر کسی کو لوٹ کر اللہ پاک کے پاس بہرحال جانا ہے تاکہ وہاں پہنچ کر وہ اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا بھرپورصلہ و بدلہ پاس کے جس کے بعد کامیاب ہونے والے خوش نصیبوں کو جنت کی سدابہار اور ابدی نعمتوں سے سرفرازی نصیب ہوگی۔ اور ناکام ہونے والے بدبختوں کو دوزخ میں جانا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کی بادشاہی اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے۔ نہ اس کائنات کی تخلیق اور اس کے نظام میں کسی اور کا کوئی عمل دخل ہے اور نہ اس کے بعد آخرت کے اس ابدی جہاں میں اس کے سوا اور کوئی مرجع و ماویٰ بن سکتا ہے۔ تو جب یہاں اور وہاں سارا اختیار و اقتدار اللہ وحدہ لا شریک ہی کا ہے تو پھر تسبیح و عبادت اس کے سوا اور کسی کی کس طرح ہوسکتی ہے ؟ سو ہر قسم کی عبادت و بندگی اور تسبیح وتحمید اسی کا اور صرف اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے ۔ سبحانہ وتعالی -
Ayah 24:4393 باران رحمت میں دعوت غور و فکر : سو اس ارشاد سے آسمان سے برسنے والی باران رحمت اور اس کی کرشمہ سازی کی طرف التفات و توجہ اور اس میں غور کا درس دیا گیا ہے۔ جس سے تمہیں طرح طرح کے فوائد و منافع حاصل ہوتے ہیں۔ پس اس میں اس کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے عظیم مظاہر بھی ہیں اور اس کی بےپایاں رحمت و عنایت کے عالی شان نمونے بھی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس کی رحمت بھی اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے اور اس کی نقمت بھی۔ وہ جب اور جیسے چاہے کسی کو اپنی نعمت اور رحمت سے سرفراز فرما دے یا کسی پر اپنی نقمت اور عذاب کا کوڑا برسا دے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہی ہے جو مردہ پڑی زمین کی زندگی اور اس کی سرسبزی و شادابی اور اپنے بندوں اور دوسری طرح طرح کی مخلوق کے لیے قسما قسم کے فوائد و منافع کو وجود میں لانے کے لیے اپنی ہواؤں کے ذریعے بادلوں کو ہانک کر لاتا ہے اور ان کے مختلف ٹکڑوں کو باہم جوڑ کر اور ان کو تہ بہ تہ کر کے کثیف بادلوں کی شکل دے دیتا ہے۔ پھر ان سے ابر رحمت کو برساتا اور ساری زمین کو جل تھل کردیتا ہے جس سے خشک اور مردہ پڑی زمین پھر سے جی اٹھتی ہے۔ اسی طرح وہ وحی کی باران رحمت سے دلوں کی مردہ کھیتی کو زندگی بخشتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
94 رحمت کے ساتھ ساتھ نعمت کی طرف توجہ : سو اس کی رحمت کے ساتھ ساتھ اس کی نقمت بھی اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سو وہی بادلوں کے پہاڑوں سے اولے برساتا ہے۔ یعنی بادلوں سے جو کہ پہاڑوں کی طرح نظر آتے ہیں۔ اور وہ پانی کے ذخائر کے ذخائر لئے فضاؤں میں اڑے پھرتے ہیں۔ جو کہ عظیم الشان مظہر ہے قدرت و عنایت اور حکمت و رحمت خدا وندی کا۔ (ابن کثیر، فتح القدیر، روح، اور قرطبی وغیرہ) ۔ سو انہی بادلوں سے وہ جن کیلئے چاہتا ہے باران رحمت برساتا ہے۔ جس سے ساری زمین جل تھل ہوجاتی ہے اور لوگوں کو طرح طرح کے فوائد و منافع حاصل ہوتے ہیں۔ اور انہی سے وہ جس کیلئے چاہتا ہے اولوں کے پہاڑوں سے سنگ باری کرکے ان کو تباہ و برباد کردیتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس فضائے بسیط میں اڑتے پھرتے ان بادلوں میں اس کی رحمت و نقمت کے دونوں پہلو موجود ہیں۔ وہ جس کے لیے چاہے ان سے باران رحمت برسا کر طرح طرح کے فوائد و منافع کا سامان کر دے اور جس کے چاہے ان کے اندر سے اولوں کے پہاڑ برسا کر ان کی ہلاکت و تباہی کا سامان کر دے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو انسان ہمیشہ اس کی امید بھی رکھے اور اس کی گرفت و پکڑ سے ڈرتا بھی رہے۔
95 نفع و نقصان اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا وہ ان کو جن پر چاہتا ہے گرا دیتا ہے۔ جس سے ان کو طرح طرح کے نقصانات اٹھانا پڑتے ہیں اور جس کو چاہتا ہے اس سے محفوط رکھتا ہے اپنی رحمت و عنایت سے۔ سو نفع و نقصان سب اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور کائنات کی ہر چیز اپنے نفع و ضرر میں اسی کے حکم و ارشاد کے تابع ہے۔ وہ جس چیز کو جس کیلئے چاہے رحمت و نعمت بنادے اور جس کے لیے چاہے باعث نقمت اور عذاب بنا دے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اس کے سوا کسی کی یہ مجال نہیں کہ وہ ایسی کسی آفت سے اپنے آپ کو یا کسی دوسرے کو بچا لے۔ سو اس میں موسم سرما کے ان بادلوں کی طرف اشارہ ہے جو تیزو تند ہواؤں، شدید گرج و چمک اور ہولناک ژالہ باری کے ساتھ نمودار ہوتے ہیں اور جن سے ہونے والی ژالہ باری سے بستیوں کی بستیاں ڈھک جاتی ہیں۔ چناچہ اس وقت بھی جبکہ راقم آثم یہ سطور تحریر کر رہا ہے۔ یعنی 24 دسمبر 2002 اس وقت چین کے شمالی علاقے ایسی ہولناک ژالہ باری میں دبے ہوئے ہیں کہ جن کی مثال کہتے ہیں کہ گزشتہ پچاس برسوں میں نہیں ملتی۔ اور جہاں آدھے آدھے کیلو کا ایک ایک اولہ گر رہا ہے اور عین اسی وقت برازیل کے بعض علاقوں میں شدید بارشوں کے نتیجے میں مٹی کے تودے گرنے سے کتنے ہی لوگ زندہ دفن ہوگئے ہیں اور جن کی لاشوں کو نکالنے کا کام جاری ہے۔
Ayah 24:4496 دن رات کا بدلنا قدرت کا ایک اور حیرت انگیز کرشمہ : سو قدرت کے اس عظیم الشان اور حیرت انگیز کرشمے میں غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ " وہی ادلتا بدلتا رہتا ہے رات اور دن کو "۔ کہ ایک آ رہا ہے اور دوسرا جا رہا ہے۔ اور کبھی یہ چھوٹا وہ بڑا اور کبھی اس کے برعکس۔ اور یہ سب کچھ کمال حکمت و عنایت کے ساتھ ہورہا ہے۔ سو کتنے غافل اور بےانصاف ہیں وہ لوگ جو ان ہمہ وقتی نشانہائے قدرت میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے اور وہ اس واہب مطلق ۔ جل و علا ۔ کے حضور جھکنے اور دل و جان سے جھکنے کے شرف سے مشرف نہیں ہوتے جس نے ان کو محض اپنے فضل و کرم سے ان عظیم الشان نعمتوں اور عنایتوں سے سرفراز ومالا مال فرمایا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو غور و فکر سے کام لینے والوں کے لیے سلسلہ شب و روز میں عظیم الشان دلائل قدرت و حکمت موجود ہیں۔
97 سامان عبرت و بصیرت کی نشاندہی : سو اس سے آنکھوں والوں کے لیے سامان عبرت و بصیرت کی نشاندہی فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اس میں بڑا سامان عبرت ہے آنکھوں والوں کیلئے۔ یعنی ان کیلئے جو آنکھیں کھول کر ان عظیم الشان مظاہر قدرت کو دیکھتے ہیں اور وہ اپنی عقل و فکر سے صحیح طرح سے سوچتے ہیں کہ وہ کون ہے جو رات اور دن کے اس عظیم الشان اور حکمت بھرے نظام کو اس قدر پابندی اور باقاعدگی سے چلا رہا ہے۔ وہ کیسا قادر مطلق، کیسا حکیم مطلق اور کس قدر وہاب و کریم ہے اور اس کا ہم پر کیا حق ہے ؟ سو ایسے لوگ اس سے اس وحدہ لاشریک کی قدرت بےپایاں، رحمت بےنہایت اور وحدانیت مطلقہ اور حکمت بالغہ پر استدلال کرتے ہیں اور گوہر مقصود تک رسائی حاصل کرتے ہیں اور اپنی مادی اور روحانی دونوں ضرورتوں کی تکمیل کرتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 24:4598 ہر جاندار کا وجود نشان عبرت و بصیرت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ہی نے پیدا فرمایا ہر جاندار کو پانی ۔ کے جوہر عظیم ۔ سے " اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے۔ سو پانی کے اس ایک جوہر سے جو کہ ہر جگہ اور ہمیشہ ایک ہی رہا ہے ایسی بےحد و حساب اور مختلف انواع و اقسام کی ان مخلوقات اور قسما قسم کے ان جانوروں کو پیدا فرمانا اور ان کو مختلف النوع وجود بخشنا کس قدر عظیم الشان خلاقی ہے اس قادر مطلق اور واہب مطلق کی ۔ جل و علا شانہ ۔ پھر اس پانی سے وہ نطفہ بھی مراد ہوسکتا ہے جس سے ہر جاندار کی براہ راست تخلیق ہوتی ہے۔ سو یہ بھی اس کی عظیم الشان قدرت اور حکمت کی ایک عظیم الشان نشانی ہے۔ (ابن کثیر، محاسن التاویل، حازن وغیرہ) ۔ اور ان مختلف انواع و اقسام کی تخلیق و پیدائش جہاں اس کی بےمثال قدرت اور بےنہایت حکمت کی نشانی ہے وہیں یہ اس کی وحدانیت مطلقہ اور یکتائی کا ثبوت بھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اگر صحیح طریقہ سے دیکھا جائے اور غور وفکر سے کام لیا جائے تو نظر آئے گا کہ ہر جاندار کا وجود قدرت کا ایک عظیم الشان نشان عبرت و بصیرت ہے۔
99 جانوروں کی مختلف قسموں میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ان میں سے کچھ پیٹ کے بل چلتے ہیں جیسے سانپ مچھلی اور دوسرے مختلف حشرات۔ پھر ان میں بھی آگے مختلف انواع و اقسام ہیں۔ ان میں سے کچھ کے پاؤں سرے سے ہوتے ہی نہیں اور کچھ کے نظر نہیں آتے۔ پھر ان میں سے ہر ایک کے چلنے کا انداز الگ، ان کی خوراک مختلف، ان کی زندگی کے تقاضے، ان کے رہنے کی جگہیں اور طریقے مختلف وغیرہ وغیرہ۔ سو یہ اس قادر مطلق ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کی کتنی عظیم الشان قدرت اور کیسی بےمثال حکمت ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس ارشاد سے جانوروں کی ان مختلف قسموں میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے جو عموما انسان کی نگاہوں کے سامنے رہتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
100 اور کچھ دو پاؤں پر چلتے ہیں : جیسا کہ انسان اور پرندے جبکہ وہ زمین پر چل رہے ہوتے ہیں۔ سو اس سب میں اسی وحدہ لاشریک کا ارادہ و اختیار کارفرما ہے۔ کسی کی مجال نہیں جو اس میں دم مارسکے۔ وہ مالک مختار جو چاہے کرے۔ اور ان مختلف جانوروں کے وجود میں بالواسطہ یا بلا واسطہ انسان کے لیے طرح طرح کے فوائد و منافع پائے جاتے ہیں جن میں سے کچھ کو انسان جانتا ہے اور کچھ ابھی تک اس کے علم میں نہیں آسکے ہیں۔ سو حیوانات اور طبیعیات کے ماہرین ان کے ایسے ایسے خواص اور آثار بیان کرتے ہیں کہ انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ سو انسان سوچے کہ آخر یہ سب کچھ کس کی قدرت و حکمت اور رحمت و عنایت کا نتیجہ وثمرہ ہے ؟ سو وہی ہے اللہ رب العالمین جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو غور کرنے والوں کے لیے جانداروں کی ان مختلف قسموں میں بڑے سامان عبرت و بصیرت ہیں۔
101 اور کچھ چار پر : جیسے اونٹ، گائے، بیل اور گھوڑے وغیرہ دوسرے مختلف درند چرند۔ سو جب یہ سب اپنے وجود اور اپنی تخلیق وتکوین میں اسی وحدہ لاشریک کے ارادئہ و اختیار اور اسی کی مشیت ومرضی کے تابع ہیں تو انسان کو چاہیئے کہ وہ اپنے دائرہ اختیار میں بھی اسی کے ارادئہ و مشیت کے تابع ہو۔ خاص کر اس اعتبار سے کہ حضرت انسان کو عقل کے جس جوہر امتیاز سے نواز کر ایک ارادئہ و اختیار کی آزادی دی گئی ہے اس کا تقاضا یہی ہے۔ اور اسی میں اس کا سارا امتحان ہے کہ وہ دل و جان سے اور بارادئہ و اختیار خود اپنے اس خالق ومالک کے حضور جھک جائے جس نے اس کو طرح طرح کی ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازا ہے اور دوسری تمام مخلوق طرح طرح سے اس کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ سو اس کا تقاضا یہ ہے کہ انسان باقی مخلوق سے طرح طرح کے فائدے اٹھا کر اس کے شکر میں اپنے خالق ومالک کے سامنے جھک جائے اور اس طرح اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرے کہ یہ سب کچھ انسان کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور انسان اپنے خالق ومالک کی عبادت و بندگی اور اس کی رضا و خوشنودی کے لیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من لاحوال -
102 اِبداع و تخلیق اللہ تعالیٰ ہی کی صفت و شان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے "۔ اپنی حکمت و عنایت کے مطابق کہ نہ اس کی قدرت کی کوئی حد و انتہاء ہے اور نہ اس کے عطاء و نوال کی۔ ہر لحظہ اس کی عطاء بےحساب جاری وساری ہے ۔ { کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَانٌ} ۔ سبحانہ وتعالی ۔ سو وہ اس کے علاوہ ایسے جاندار بھی پیدا کرسکتا ہے جن کی ٹانگیں چار سے بھی زیادہ ہوں اور بالفعل پیدا کرتا بھی ہے جیسے مکڑی، ہشت پا اور کنکھجورا وغیرہ وغیرہ۔ اور اس کے علاوہ اور بھی وہ کیا کچھ پیدا کرتا ہے ؟ کیا پیدا کرسکتا ہے ؟ اور کیا کچھ پیدا کرے گا ؟ اس کا علم و احاطہ بھی اس وحدہ لاشریک کے سوا کیلئے ممکن نہیں ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَیِخْلُقُ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ } ۔ (النحل : 8) ۔
103 اللہ تعالیٰ کی قدرت مطلقہ کا حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے "۔ پس وہ جو چاہے، جب چاہے اور جیسے چاہے کرے ۔ جل جلالہ و عم نوالہ ۔ اس کیلئے نہ کچھ مشکل ہے اور نہ اس کی قدرت سے باہر۔ بلکہ سب کچھ اس کے احاطہ قدرت اور دائرہ علم کے اندر ہے۔ آسمان و زمین کی اس پوری کائنات میں سے ذرہ کے برابر کوئی چیز بھی اس کے علم سے مخفی اور اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لاَ یَعْزُبُ عَنْہُ مِثْقَالُ ذَرَّۃٍ فِی السَّمٰوٰاتِ وَ لَا فِی الاَرْضِ وَلَا اَصْغَرَ مِنْ ذَالِکَ وَلَا اَکْبَرَ الاَّ فِیْ کِتَابٍ مُّبِیْنٍ } (سبا :8) ۔ سو اس وحدہ لاشریک کے ساتھ کسی کو بھی اس کی عبادت و بندگی میں شریک جاننا کتنا بڑا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جس خداوند قدوس کی قدرت مطلقہ اور اس کے احاطہ علم کا عالم یہ ہو اس کو دنیاوی بادشاہوں پر قیاس کر کے اس کے لیے مختلف خود ساختہ وسیلے اور واسطے گھڑنا جس طرح کہ اہل بدعت کرتے ہیں کتنا بڑا ظلم اور کس قدر ناانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 24:46–47104 آیات بینات اور ان کا تقاضا ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہم نے اتاریں کھول کر بیان کرنے والی عظیم الشان آیتیں "۔ جو پوری طرح واضح کردیتی ہیں حق و باطل اور صحیح و غلط کو، اور ہماری قدرت کاملہ، وحدانیت و انفراد اور حق و صواب کو۔ سو ہم نے تو حق کو واضح کردینے والی ایسی آیات بینات اتار دیں جو آنکھیں کھولنے والی اور راہ حق و صواب کو پوری طرح واضح کردینے والی ہیں۔ لیکن آگے ان سے حق و ہدایت کی دولت سے سرفراز ہونے کیلئے معاملہ بندوں کے اپنے اوپر ہے۔ پس جو اس نعمت کی قدر کریں گے اور نور حق و ہدایت کے طالب بن کر اس کی طرف رجوع کریں گے، انکو حق و ہدایت کی روشنی سے سرفرازی نصیب ہوگی اور جو اس کی ناقدری کرکے اس سے اعراض و روگردانی کا رویہ اپنائیں گے وہ محروم ہو کر اندھیروں میں ڈوبتے چلے جائیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ان آیات بینات کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ لوگ صدق دل سے ان پر لبیک کہتے اور ان پر ایمان لا کر اور ان کے مقتضیٰ پر عمل کر کے اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے بہرہ مندی اور سرخروئی کا سامان کرتے۔ مگر انہوں نے اعراض و روگردانی سے کام لے کر اپنے خسارے میں اضافے کا سامان کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین -
105 ہدایت سے سرفرازی کا انحصار مشیت خداوندی پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ جس کو چاہتا ہے سیدھے راستے کی ہدایت سے نوازتا ہے "۔ کہ وہ لوگوں کی نیتوں اور دلوں کی دنیا سے واقف ہے اور پوری طرح جانتا ہے کہ کس کے دل میں حق و ہدایت کے لئے طلب صادق موجود ہے اور کس کے دل میں نہیں۔ اسی کے مطابق وہ نوازتا ہے اور اپنا فیصلہ فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جو لوگ طلب صادق سے محروم ہوتے ہیں وہ حق و ہدایت کی دولت سے بھی محروم ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو نور حق و ہدایت سے نوازنا اور صراط مستقیم سے سرفراز فرمانا اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ اور یہ اسی کی مشیت پر موقوف ہے۔ اور اس کی مشیت اس کی حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔ پس جو نور حق و ہدایت کے طالب ہوں گے اور وہ صدق دل سے اس واہب مطلق ۔ جل جلالہ ۔ کی طرف رجوع کریں گے ان کو ہدایت کی اس نعمت عظمیٰ سے نوازا جائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (الشوریٰ ۔ 13) اور جو راہ حق و ہدایت سے منہ موڑے گا اس کو ادھر ہی دھکیل دیا جائے گا۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { نُوَلِّہ مَا تَوَلّٰی وَ نُصْلِہ جَہَنَّمَ وَسَآئَتْ مَصِیْرًا } ۔ (النسائ : 115) ۔ سو اس ارشاد سے ہدایت و ضلالت کے بارے میں سنت الہی اور دستور خداوندی کو بیان فرما دیا گیا ہے کہ راہ حق و ہدایت کو واضح کرنے والی آیات بینات اتار دی گئی ہیں۔ انسان کو عقل کی روشنی سے نواز کر کائنات کی اس کھلی کتاب کو اس کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ اب جو ہدایت کے لیے اپنے اندر طلب صادق رکھتے ہوں گے اور اپنی عقل و فکر سے صحیح طریقے سے کام لیں گے ان کو نور حق و ہدایت سے سرفراز فرمایا جائے گا اور جو اس سے اعراض و روگردانی برتیں گے وہ محروم رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے یہ حقیقت ایک مرتبہ پھر واضح ہوجاتی ہے کہ انسان کے بناؤ بگاڑ اور اس کی صحت و فساد کا اصل تعلق اس کے اپنے قلب وباطن سے ہے اور معاملے کا دار و مدار انسان کے اپنے ارادے اور اس کی نیت سے ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 24:48107 اللہ اور اس کے رسول کے فیصلے سے منہ موڑنا کفر ونفاق ہے ۔ والعیاذ باللہ -: سو اس ارشاد سے واضح فرمایا دیا گیا کہ " اللہ اور اس کے رسول کے حکم و فیصلے سے کنی کترانے والے منافق ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگ اللہ اور اس کے رسول کی بارگاہ رسالت میں حاضری و داد خواہی سے کنی کتراتے ہیں۔ جس سے ایسے لوگوں کے دعوائے ایمان کی قلعی کھل جاتی ہے۔ روایات کے مطابق یہ آیت کریمہ ایک یہودی اور منافق کے باہمی جھگڑے کے بارے میں نازل ہوئی۔ جس میں یہودی حق پر تھا۔ اس لئے وہ چاہتا تھا کہ ہم یہ معاملہ آنحضرت ﷺ کے پاس لے جائیں۔ کیونکہ اس جھگڑے میں وہ حق پر تھا۔ اور آنحضرت ﷺ پر ایمان نہ لانے کے باوجود اس یہودی کو یہ یقین تھا کہ وہاں فیصلہ میرے حق میں ہوگا۔ کیونکہ میں حق پر ہوں۔ اور حضور کے یہاں فیصلہ یقینی طور پر حق و صداقت اور عدل و انصاف کے مطابق ہی ہوتا ہے۔ جبکہ اس نام نہاد مسلمان ۔ منافق ۔ کا کہنا تھا کہ ہم اپنا معاملہ یہود کے سردار کعب بن اشرف کے پاس لے جائیں کہ اس کو یہ امید تھی کہ وہاں جا کر میں اپنی چالاکی اور چرب لسانی اور دوسرے ذرائع و وسائل سے فیصلہ اپنے حق میں کروا لوں گا۔ جبکہ آنحضرت ﷺ کی بارگہ عدل و انصاف میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (روح، ابن کثیر، جامع البیان، خازن، اور فتح القدیر وغیرہ وغیرہ) ۔ لیکن الفاظ کا عموم قیامت تک پیش آنے والے ایسے ہر معاملہ کو شامل ہے اور یہ قرآن حکیم کی ایک امتیازی اور اعجازی شان ہے کہ اس کے الفاظ اور کلمات کریمہ قیامت تک پیش آنے والے اس نوعیت کے تمام واقعات کو عام اور شامل ہوتے ہیں۔ سو اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے منہ موڑنا اور کنی کترانا مومن کا کام نہیں ہوسکتا۔ بلکہ یہ منافق کی نشانی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ نفاق کے ہر شائبہ سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 24:49108 دولت ایمان سے محروم لوگوں کے لیے دنیا ہی سب کچھ ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے لوگوں کے نزدیک اصل چیز دنیاوی مفاد ہی ہے اور بس۔ یہ اپنے دنیاوی مفاد اور اغراض نفس کی خاطر ہی جیتے اور اسی کے لیے مرتے ہیں کہ یہی کچھ ان لوگوں کا اصل مطلوب و مقصود ہوتا ہے۔ اس کے سوا حق و ہدایت کی طلب و تلاش ان کے یہاں سرے سے ہوتی ہی نہیں یا دوسرے درجے میں ہوتی ہے بلکہ ایسے لوگ دنیائے فانی کیلئے ہی جیتے اور اسی کیلئے مرتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 24:50109 ایسے لوگ ظالم ہیں ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ایسے لوگ ظالم ہیں "۔ سو حق سے منہ موڑنا ظلم اور بےانصافی ہے۔ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے حق میں کہ انہوں نے اس کے بندے ہونے کے باوجود اس کے احکام صدق ترجمان سے منہ موڑا۔ حالانکہ حقِّ عبدیت و بندگی کا تقاضا یہ تھا اور یہ ہے کہ بندہ صدق دل سے اپنے خالق ومالک کے آگے جھک جائے۔ نیز یہ ظلم ہے اس کے رسول صدق و صفا کے حق میں کہ انہوں نے اس کی اطاعت و اتباع سے منہ موڑا جو کہ اس رسول صادق و امین کا حق ہے اس کی امت کے ہر فرد پر کہ وہ سچے دل سے اس کی اطاعت و اتباع کرے۔ نیز یہ ظلم ہے خود انسان کے اپنے حق میں کہ اس طرح اس نے اپنے آپ کو عذاب الیم و شدید کا مستحق بنادیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ نیز یہ ظلم ہے اس پوری کائنات کے حق میں کہ اپنے خالق ومالک کی اس کائنات میں رہنے بسنے کے باوجود یہ اس کے اوامرو ارشادات سے منہ موڑتا ہے اور اس کی طرح طرح کی اور بےحد و حساب نعمتوں سے فائدہ اٹھانے کے باوصف اس نے بغاوت و سرکشی کی راہ کو اپنایا۔ اور اس طرح وہ اس کے دمار و خراب اور تباہی و فساد کا سبب بنا ۔ وَالعیاذ باللّٰہِ العظیم مِنْ کُلِّ شَائِبَۃِ مِنْ شَوَائِبِ الظُّلْمِ وَالْاِنْکَارِ-
Ayah 24:51110 سچے مسلمانوں کی صفت وشان : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سچے مسلمانوں کی شان سمع و اطاعت کی شان ہوتی ہے۔ اس سے واضح فرمایا دیا گیا کہ منافقوں کے برعکس سچے مسلمانوں کی شان یہ ہوتی ہے کہ جب انکو کسی معاملے کے فیصلے کیلئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ صدق دل سے کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا۔ سو ایسے ہی سچے مسلمان فوز و فلاح پانے والے ہیں جو اپنے پختہ ایمان و یقین اور سچے عمل و کردار کی بنا پر دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہوتے ہیں ۔ اَللّٰہُمَّ اجْعَلْنَا مِنْہُم بمحض منک وکرمک یا ارحم الراحمین -
Ayah 24:52111 سچے مسلمانوں کا انعام فوز و فلاح سے سرفرازی : سو ارشاد فرمایا گیا اور حصر کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے ہی لوگ ہیں کامیاب ہونے والے کہ یہ دوزخ سے بچ گئے اور جنت کی سدا بہار نعمتوں سے بہرہ ور و سرفراز ہوگئے۔ اور رضائے خدا وندی کے شرف سے مشرف ہوگئے۔ اور یہی ہے حقیقی اور سب سے بڑی کامیابی۔ روایات میں ہے کہ اس آیت کریمہ کو سن کر روم کے بعض پادری اسلام میں داخل ہوگئے اور انہوں نے کہا کہ اس میں تورات اور انجیل کی سب تعلیمات کا خلاصہ اور نچوڑ پیش کردیا گیا۔ (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ سو ایسی سچی اور حقیقی کامیابی ہی کو مسلمان اصل مقصد اور اپنا نصب العین بنانا چاہیئے ۔ { لِمِثْلِ ہٰذَا فَلْیَعْمَلِ الْعَامِلُوْنَ } ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 24:53112 منافقوں کی ایک عمومی نشانی جھوٹی قسمیں کھانا ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے منافقوں کی نفسیات کا ایک عمومی مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے۔ یعنی زور و شور سے قسمیں کھانا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو یہ منافق لوگوں کی نفسیات کا ایک عمومی مظہر ہے کہ وہ قسمیں زیادہ کھاتے ہیں کہ وہ اپنے اندرونی نفاق کی وجہ سے خود اپنے آپ کو بےاعتبارا سمجھتے ہیں ۔ والعیا ذباللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگ پیغمبر کے سامنے بڑی زوردار اور کڑی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ آپ ﷺ اگر ہمیں جہاد کیلئے نکلنے کو اور اپنا گھربار چھوڑنے کو کہیں گے تو ہم ضرور بالضرور نکل کھڑے ہوں گے۔ مگر جب جہاد میں نکلنے کا موقعہ آتا تو یہ لوگ اپنی ایسی کڑی اور سخت قسموں کے باوجود جھوٹے نکلتے۔ سو ایمان و یقین سے محرومی اور منافقت ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہر خیر سے محرومی ہے۔ ایسے لوگ خود اپنی نظروں میں بھی جھوٹے ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
113 منافقوں کے منافقانہ دعو وں کا ایک نمونہ و مظہر : سو ان لوگوں کا دعویٰ تھا کہ اگر آپ ہمیں گھر بار چھوڑنے کا حکم دیں گے تو ہم ضرور نکل کھڑے ہوں گے۔ روایات میں ہے کہ جب منافقین کے اس کردار اور اعراض کا حال بیان ہوا تو انہوں نے آ کر آنحضرت ﷺ کے سامنے قسمیں کھانی شروع کردیں کہ صاحب ! ہم ایسے نہیں بلکہ ہم تو ایسے اور ایسے ہیں کہ اگر آپ ﷺ ہمیں حکم دیں تو ہم اپنے گھروں اپنے مال و دولت اور اپنے بال بچوں کو چھوڑ کر نکل پڑیں گے۔ اور اگر جہاد کا حکم ہوگا تو ہم سب سے بڑھ کر اس میں حصہ لیں گے۔ تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (روح المعانی، ابن کثیر، فتح القدیر وغیرہ) ۔ تو اس کے جواب میں ان سے فرمایا گیا کہ زیادہ قسمیں کھانے کی ضرورت نہیں بلکہ اصل مقصود سچی اطاعت و فرمانبرداری ہے۔ وہ اگر نہیں تو محض زبانی کلامی دعوے کرنے اور جھوٹی قسمیں کھانے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ خالی خولی اور جھوٹی قسمیں کھاکر آخر تم لوگ کب تک اپنے عمل و کردار پر پردہ ڈالے رہ سکو گے ؟ اور اس طرح تم لوگ اپنی منافقت کو کب تک چھپائے رکھ سکو گے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ کفر ونفاق کے ہر شائبے سے ہمشہ محفوظ رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
114 اصل مقصود اطاعت و فرمانبرداری ہے : اور سچی اطاعت و فرمانبرداری کوئی ڈھکی چھپی چیز نہیں۔ سو اخلاص والی جو اطاعت و فرمانبرداری مطلوب ہے وہ بھی سب کو معلوم ہے اور منافقت والی جس اطاعت کا دعویٰ و اظہار تم لوگ کر رہے ہو وہ بھی سب پر عیاں ہے۔ اس لئے جھوٹی قسمیں کھا کر یقین دلانے کی ضرورت نہیں بلکہ تم لوگ اپنے عقیدئہ و باطن کی اصلاح کرو جو کہ اصل مطلوب ہے۔ ورنہ قسمیں عمل کا متبادل نہیں ہوسکتیں۔ اور سچی اطاعت و فرمانبرداری میں خود تمہارا ہی بھلا ہے کہ یہ چیز انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والی ہے ورنہ ڈانواں ڈول اطاعت اور دو رخی پالیسی پر عمل کرنے والے شخص کو مثال اس شخص کی سی ہے جو بیک وقت دو کشتیوں پر سوار ہونا چاہتا ہے۔ اور ایسے شخص کا انجام بہرحال ہلاکت و غرقابی ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ فکر وعمل کے ہر انحراف سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
115 اللہ تعالیٰ سے کسی کا کوئی عمل چھپ نہیں سکتا : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ پوری طرح باخبر ہے تمہارے ان کاموں سے جو تم لوگ کر رہے ہو۔ کہ تمہارے خبایا و نوایا میں سے کوئی بھی چیز اس سے اوجھل نہیں ہے۔ پس تم جھوٹی قسمیں کھانے کی بجائے اس سے اپنا معاملہ ٹھیک کرو کہ یہی اصل مقصود ہے کہ وہاں محض ظاہر داری کسی بھی طرح نہیں چل سکے گی۔ سو جھوٹی قسمیں کھاکر تم لوگ دنیا والوں کو تو دھوکہ دے سکتے ہو مگر اس علام الغیوب سے اپنے عمل و کردار کو کس طرح چھپا سکو گے جو تمہارے ظاہر و باطن کو ایک برابر جانتا ہے۔ اور اپنے کیے کرائے کا حساب تم نے اسی کے یہاں دینا ہے۔ اور یہ ایک ایسی اہم اور بنیادی حقیقت ہے کہ اگر یہ صحیح طور پر انسان کے قلب و باطن میں راسخ و جاگزیں ہو تو اس کی زندگی میں خود بخود انقلاب آسکتا ہے اور وہ بہتر سے بہتر کی طرف بڑھتا اور ترقی کرتا چلا جاتا ہے ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر ثابت و مستقیم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 24:54–56116 رسول کے ذمے تبلیغِ حق اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " رسول کے ذمے بس وہی کچھ ہے جسکی ذمہ داری ان پر ڈالی گئی "۔ یعنی حق کی تبلیغ جو کہ انہوں نے فرما دی۔ اور اپنی ذمہ داری سے وہ پوری طرح سبکدوش ہوگئے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ ۔ سو تم لوگ اگر سچے دل سے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کرو گے تو خود تمہارا اپنا ہی بھلا ہوگا۔ اور اگر تم نے اعراض و روگردانی سے کام لیا تو خود اپنا ہی نقصان کرو گے۔ رسول کا بہرحال اس میں کوئی نقصان نہیں کہ انکے ذمے تبلیغِ حق کا جو کام تھا وہ انہوں نے پورا کرلیا۔ اب اگر تم لوگوں نے رسول کی اطاعت نہ کی تو خدا تعالیٰ کے یہاں جوابدہی تم ہی لوگوں کو کرنی ہے کہ تم نے رسول کی بات کیوں نہ مانی اور ان کی اطاعت کیوں نہ کی۔ تبلیغ کے بعد راہ حق پر ڈال دینا نہ رسول کے ذمے ہے اور نہ ہی انکے بس میں ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
117 بندوں کی ذمہ داری خود ان پر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہارے ذمے ہے وہ کچھ جسکی ذمہ داری تم پر ڈالی گئی "۔ یعنی حق کو سننے اور ماننے کی ذمہ داری۔ اگر تم نے اس کو پورا کیا تو خود تمہارا ہی بھلا ہے کہ یہی چیز درحقیقت مفتاح اور کنجی ہے دونوں جہانوں کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی اور حقیقی کامیابی کی۔ اور اگر تم نے اس سے اعراض برتا اور روگردانی کی تو اس کا نقصان بھی خود تم ہی لوگوں کو ہوگا۔ سو ماننے یا نہ ماننے کا نفع و ضرر جو بھی کچھ ہے وہ تمہاری ہی طرف لوٹتا اور تم ہی لوگوں کو پہنچتا ہے۔ اب تم لوگ اپنے بارے میں خود ہی دیکھ اور سوچ لو کہ تم ان دونوں میں سے کونسا طریقہ اپناتے ہو۔ نفع کا یا نقصان کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ہر قسم کے زیغ و ضلال سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
118 رسول کے ذمے پہنچا دینا ہے اور بس : سو ارشاد فرمایا گیا اور نفی اور اثبات کے حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ رسول کے ذمے تو صاف طور پر پہنچا دینا ہے پیغام حق و ہدایت کو اور بس۔ کہ تبلیغِ حق ہی ان کی اصل ذمہ داری ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر لوگوں سے حق بات کو منوالینا نہ ان کے بس میں ہے اور نہ ہی ان کی ذمہ داری ہے۔ پس پیغمبر کی اطاعت میں تمہارا اپنا ہی بھلا اور فائدہ ہے کہ اس سے تمہیں ہدایت جیسی نعمت سے سرفرازی نصیب ہوگی۔ اور اس سے منہ موڑنے میں خود تمہارا اپنا ہی نقصان ہے کہ اس طرح تم لوگ حق و ہدایت کے نور مبین کی دولت بےمثال و لازوال سے محروم ہوؤ گے جو کہ سب سے بڑا خسارہ اور نقصان ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اگر تم لوگ رسول کی اطاعت و فرمانبرداری کرو گے تو دولت حق و ہدایت سے بہرہ ور و سرفراز ہوجاؤ گے۔ ورنہ اپنے اعراض و روگردانی کا خمیازہ خود تم لوگوں کو بھگتنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 24:57122 کافر اور منکر لوگ اللہ کی گرفت و پکڑ سے کبھی باہر نہیں ہوسکتے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور کافروں کے بارے میں تم کبھی یہ گمان بھی نہ کرنا کہ وہ ہمیں عاجز کریں گے ہماری اس زمین میں "۔ کہ وہ ہماری گرفت اور پکڑ سے بھاگ نکلیں گے۔ ہرگز نہیں۔ ہم جب چاہیں اور جہاں اور جیسے چاہیں ان کو پکڑ سکتے ہیں۔ ہماری گرفت اور ہماری قدرت کی حدود سے کوئی باہر نہیں نکل سکتا۔ ہم نے جو ان کو ڈھیل دے رکھی ہے تو وہ ہماری حکمت کا تقاضا ہے تاکہ اسطرح ایسے لوگ اپنے پیمانہ جرم کو لبریز کریں اور اس کے نتیجے میں یہ بالآخر اپنے آخری اور ہولناک انجام کیلئے تیار ہوجائیں اور اپنے کیے کرائے کا پورا بدلہ پاکر رہیں۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { وَاُمْلِی لَہُمْ اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ} ۔ " اور میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں بیشک میری چال بہت مضبوط ہے " (الاعراف : 183، والقلم : 45) ۔ نیز ارشاد فرمایا گیا { وَلاَ یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ خَیْرٌ لِاَنْفُسِہِمْ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ لِیَزْدَادُوْ اِثْمًا وَّلَہُمْ عَذَابٌ مُّہِیْنٌ } ۔ (آل عمران :178) ۔ یعنی " کافر لوگ کبھی یہ گمان نہ کریں کہ ان کو ہم جو ڈھیل دے رہے ہیں وہ ان کے لیے بہتر ہے بلکہ ہم تو ان کو یہ ڈھیل اس لیے دے رہے ہیں کہ وہ اپنے گناہوں میں اضافہ کرتے جائیں اور ان کے لیے ایک بڑا رسوا کن عذاب ہے "۔ مطلب اس ارشاد کا یہ ہے کہ یہ ہماری سنت کا مقتضیٰ ہے کہ ایسے لوگ ہماری طرف سے دی گئی مہلت کو غلط استعمال کر کے اپنے گناہوں کے انبار میں اضافہ کرتے جاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
123 کافروں کا انجام بہت ہی برا ۔ والعیاذ باللہ -: سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے وہ "۔ اتنا برا کہ اس کا کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے فاسق و بدکار لوگ اس دنیا میں بھی ہماری گرفت و پکڑ سے باہر نہیں۔ اور اگر ان کو یہاں پر ہماری حکمت کے تقاضوں کے مطابق ڈھیل اور چھوٹ ملی ہوئی ہے تو اس سے کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ ان کیلئے آخرت کے اس ابدی جہاں میں دوزخ کا عذاب بہرحال طے اور مقرر ہے جس سے ان کے بچنے کی کوئی صورت نہ ہوگی۔ اور وہ بڑا ہی برا اور انتہائی ہولناک ٹھکانہ ہے جہاں اس طرح کے لوگوں نے بہرحال لوٹ کر پہنچنا ہے اور اپنے کفر و انکار کی پاداش میں ہمیشہ کے لیے وہاں رہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 24:58124 مملوکوں اور نابالغوں کے لیے خاص ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے غلاموں اور نابالغ بچوں کیلئے تین اوقات میں اجازت لینا ضروری ہے۔ کیونکہ یہ تینوں وہ خاص اوقات ہیں جن میں انسان تخلیہ اور تنہائی سے کام لیتا ہے۔ اوپر آیت نمبر 31 میں ارشاد فرمایا گیا کہ گھروں میں داخلے کیلئے اجازت لینے کی جو شرط عائد کی گئی ہے اس سے نابالغ بچے اور تمہارے اپنے غلام مستثنی ہیں۔ اب ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ ان تین وقتوں میں یہ بھی بغیر اجازت لیے گھر میں داخل نہیں ہوسکتے۔ کیونکہ یہ اوقات خاص تخلیے کے اوقات ہوتے ہیں ۔ سبحان اللہ ۔ دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ میں دوسروں کے آرام و راحت اور ان کی سہولت و آسانی کا کس قدر خیال رکھا گیا ہے اور کس قدر باریکیوں پر مبنی تعلیمات سے نوازا گیا ہے ؟ ۔ فالحمد للہ رب العالمین ۔ سو اساس و بنیاد جملہ مکارم کی یہ ہے کہ آپ سے دوسروں کو آرام پہنچے، نقصان نہ پہنچے۔
125 اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت کا ذکر اور اس کا تقاضا : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اللہ بڑا ہی علم والا نہایت ہی حکمت والا ہے "۔ اس لیے اس کا ہر حکم و ارشاد کمال علم و حکمت پر مبنی ہے۔ پس اس کے احکام و ارشادات میں تمہارے لئے سراسر خیر اور بھلائی ہے۔ اور اس کے احکام و فرامین کا کوئی بدل ممکن نہیں کہ وہ کامل علم اور حکمت و رحمت پر مبنی ہیں۔ پس اس علیم و حکیم خدائے ذوالجلال کے اوامرو ارشادات کو صدق دل سے اپنانے اور ان کو حرز جان بنانے اور ان پر صحیح طریقے سے عمل پیرا ہونے ہی میں انسان کی بھلائی ہے۔ دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو جب وہ ذات اقدس و اعلیٰ کمال علم و حکمت سے موصوف و متصف ہے اور یہ شان اس وحدہ لا شریک کے سوا اور کسی کی نہ ہے نہ ہوسکتی ہے تو اس کے کسی بھی حکم و ارشاد کا کوئی متبادل نہ ہے نہ ہوسکتا ہے۔ سو اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کے ہر حکم وارشاد کو صدق دل سے اپنایا اور رو بعمل لایا جائے کہ اسی میں انسان کا بھلا ہے دنیا کی اس عارضی اور محدود زندگی میں بھی اور آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں بھی ۔ وباللہ التوفیق ۔ جبکہ اس سے اعراض و روگردانی میں خسارہ ہی خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 24:59126 بلوغ کے بعد بچوں کے لیے بھی بڑوں کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور جب تمہارے وہ نابالغ لڑکے حدِّ بلوغ کو پہنچ جائیں "۔ یعنی جب وہ بالغ ہوجائیں یا بلوغ کے قریب پہنچ جائیں تو اس وقت ان کیلئے بھی وہی عام احکام ہیں جو کہ دوسرے بالغ مردوں کیلئے ہیں۔ اور محض اس بنا پر کہ یہ بچپن میں آیا جایا کرتے تھے ان کیلئے کوئی رعایت نہیں ہوگی۔ اور یہ اجازت لینے کی قید سے مستثنیٰ صرف اسی وقت تک تھے جب تک کہ یہ چھوٹے اور نابالغ تھے اور بس۔ بالغ ہوجانے کے بعد ان پر بھی وہ تمام پابندیاں عائد ہوجائیں گی جو دوسروں کے لیے مذکور ہوئی ہیں۔ ان میں ان کے لیے کسی طرح کا کوئی استثناء نہیں ہوگا۔ کہ بڑے ہوجانے کے بعد ان کا حکم بھی بڑوں ہی کا ہے۔
127 دین حنیف کے احکام کی انفرادی اور امتیازی حیثیت : سو اس سے دین حنیف کے احکام واوامر کی امتیازی حیثیت اور انفرادی نوعیت واضح ہوجاتی ہے کہ یہ سب اللہ کی طرف سے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ اس طرح کھول کر بیان فرماتا ہے تمہارے لیے اپنے احکام۔ تاکہ تم لوگ ان پر عمل کر کے دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہو سکو۔ کیونکہ یہ احکام اس خدائے رحمن و رحیم کی طرف سے ہیں جس کا علم بھی کامل اور اس کی حکمت بھی کامل ہے۔ اس لیے ان کا کوئی بھی متبادل ممکن ہو ہی نہیں سکتا۔ سو اس سے دین حنیف کے احکام واوامر کی امتیازی حیثیت اور انفرادی نوعیت واضح ہوجاتی ہے کہ ان کی وضع و ترتیب میں کسی انسانی فکر وعمل کا کوئی دخل نہیں۔ بلکہ یہ خالص اللہ تعالیٰ کے تعلیم کردہ اور ارشاد فرمودہ ہیں۔ اور یہ اس کے کمال علم و حکمت پر مبنی ہیں۔ اور انسان کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا مدارو انحصار انہی پر ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ اسی طرح کھول کر بیان کرتا ہے اپنے احکام کو۔ اور اللہ بڑا ہی علم والا اور کمال حکمت والا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -