24. Surah An-Noor

النورThe Light · 64 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 24:28

فَاِنْ لَّمْ تَجِدُوْا فِیْهَاۤ اَحَدًا فَلَا تَدْخُلُوْهَا حَتّٰى یُؤْذَنَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ قِیْلَ لَكُمُ ارْجِعُوْا فَارْجِعُوْا هُوَ اَزْكٰى لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌ Open ayah 24:28 in the Quran reader

پھر اگر تم کو ان گھروں میں کوئی اجازت دینے والا نہ ملے تو تم ان میں داخل نہ ہوا کرو یہاں تک کہ تم کو اجازت دی جائے، اور اگر کبھی تم سے کہہ دیا جائے کہ واپس چلے جاؤ تو تم واپس چلے جایا کرو یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، اور اللہ پوری طرح جانتا ہے ان سب کاموں کو جو تم لوگ کرتے ہو

45 اجازت نہ ملنے کی صورت میں واپسی کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم کو ان گھروں کے اندر کوئی نہ ملیجو تمہیں داخلے کی اجازت دے سکے کہ یا تو ان میں سرے سے کوئی موجود ہی نہ ہو یا اجازت دینے کے قابل نہ ہو۔ جیسے کوئی بچہ وغیرہ تو تم ان گھروں کے اندر داخل نہ ہوا کرو۔ یہاں تک کہ تم کو اجازت دی جائے۔ اور اگر کبھی کوئی کہے کہ واپس ہوجاؤ تو تم واپس ہوجایا کرو۔ اس کے بعد خواہ مخواہ دروازوں کے اوپر جم کے بیٹھ جانا اور اجازت کی انتظار کرنا یا دروازوں کے سوراخوں سے جھانک جھانک کر دیکھنا سب غلط اور تہذیب کے خلاف ہے ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی کیسی باریکیاں اور نزاکتیں ہیں اسلام کی ان مقدس تعلیمات میں ۔ فالحمد للہ رب العالمین - 46 دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کی پیروی سراسر خیر ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ یہ چیز تمہارے لیے بہتر اور سراسر خیر ہے۔ کہ اس سے نہ تو تم پر کوئی حرف آئے اور نہ اگلے کو تمہاری وجہ سے کوئی تکلیف اور پریشانی لاحق ہو وغیرہ وغیرہ۔ اور پتہ نہیں کہ صاحب خانہ کس حال میں ہیں جو اجازت نہیں دے رہے اور ان کو کیا مجبوری درپیش ہے کہ وہ تمہارے استئذان کا کوئی جواب نہیں دے رہے۔ پس تم لوگوں کو ایسے مواقع پر اس طرح کی کسی بات کو اپنے وقار کا مسئلہ نہیں بنانا چاہیئے بلکہ صاحب خانہ کے مصالح و مفادات کو زیادہ پیش نظر رکھنا چاہیئے۔ اسی میں سب کا بھلا اور شیطان کے فتنوں سے امان ہے۔ اور اللہ تمہارے سب کاموں کو پوری طرح سے جانتا ہے۔ اس لیے تم لوگ ہمیشہ اسی کی کوشش کیا کرو کہ اس سے تمہارا معاملہ صحیح رہے۔ سو دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کی اتباع و پیروی میں انسان کے لیے بہرحال اور ہر اعتبار سے خیر ہی خیر ہے کہ یہ سب اس ذات علیم وخبیر اور رحمان و رحیم کی طرف سے ہیں جس کے علم و حکمت اور رحمت و عنایت کا کوئی کنارہ نہیں۔ اس لیے اس کے کسی بھی حکم وارشاد کا کوئی بدیل و متبادل ممکن نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
Ayah 24:29

لَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ مَسْكُوْنَةٍ فِیْهَا مَتَاعٌ لَّكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَ مَا تَكْتُمُوْنَ Open ayah 24:29 in the Quran reader

تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم ایسے مکانوں میں بلا اجازت داخل ہوجاؤ جن میں کوئی بستا نہیں اور تمہیں بھی ان کے برتنے کا حق ہے اور اللہ کو ایک برابر معلوم ہے وہ سب کچھ جو تم لوگ ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔2

47 بیوت غیر مسکونہ سے مراد ؟ : یعنی ایسے مکانات جو رہائشی مقاصد کیلئے نہ بنائے گئے ہوں اور ان میں کسی کے بال بچے نہ رہتے ہوں کہ وہ ہوتے ہی سب کے لئے ہیں۔ جیسے ہوٹل، مسجد اور دکان وغیرہ کہ ایسی جگہوں میں داخلے کیلئے اذن عام ہوتا ہے۔ اس لیے ان میں داخلے کیلئے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ان میں آدمی بغیر اذن کے بھی جاسکتا ہے ۔ { فِیْہَا مَتَاعٌ لَّکُمْ } ۔ کی قید سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ ایسے مکانات ہوں جن میں دوسروں کی طرح تمہاری بھی منفعت کا سامان ہو۔ جیسے دکانیں، سرائے اور ہوٹل وغیرہ۔ سو ایسے عمومی اور غیر رہائشی مکانوں میں داخلے کی لیے استئذان کی ضرورت نہیں۔ ان میں آدمی بغیر اذن کے بھی جاسکتا ہے کہ ان کی حیثیت الگ ہے۔ 48 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ایک برابر جانتا ہے وہ سب کچھ جو تم لوگ ظاہر کرتے ہو اور جو تم چھپاتے ہو۔ پس اس وحدہ لاشریک کے ساتھ ظاہری اعمال کے ساتھ ساتھ اپنے دلوں اور نیتوں کا معاملہ بھی درست رکھو کہ اس کے یہاں صرف ظاہر داری نہیں چل سکتی۔ بلکہ وہاں ظاہر سے پہلے انسان کے باطن کا معاملہ صحیح ہونا چاہیئے ۔ اَللّٰہُمَّ اِیَّاکَ نَسْألُ التَّوِفِیقَ وَالسَّدَادَ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی ۔ سو اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا استحضار ہی وہ اصل چیز ہے جو انسان کے قلب و باطن اور اس کے ہر زاویہ نگاہ کو درست کرسکتی ہے۔ ورنہ وہ طرح طرح کے حیلوں حوالوں سے اپنے لیے گریز و فرار کی راہیں نکال سکتا ہے۔ اسی لیے یہاں پر اس وحدہ لا شریک کے کمال علم کے اس پہلو کے ذکر سے تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ تمہارا معاملہ اپنے اس خالق ومالک سے ہے جس سے تمہارے ظاہر و باطن کی کوئی حالت مخفی نہیں رہ سکتی۔
Ayah 24:30

قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 24:30 in the Quran reader

کہہ دو ! ایماندار مردوں سے اے پیغمبر کہ وہ بچا کر رکھیں اپنی نگاہوں کو اور حفاظت کریں اپنی شرمگاہوں کی حرام سے یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے۔ بلاشبہ اللہ کو پوری خبر ہے ان سب کاموں کی جو یہ لوگ کرتے ہیں3

49 حفظ نظر اور غضِّ بصر کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایماندار مردوں سے کہو کہ وہ اپنی نگاہوں کو بچا کر رکھیں کہ کہیں وہ غلط جگہ پڑ کر ان کے لئے لغزش اور گناہ کا باعث نہ بن جائیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حفظ نظر اور غضِّ بصر کی یہ ہدایت بڑی اہم ہدایت ہے۔ کیونکہ نگاہ ہی درحقیت مرد اور عورت کے درمیان اولین قاصد اور بنیادی رابطے کا کام دیتی ہے۔ جیسا کہ کسی نے کہا اور خوب کہا ۔ برق نگاہ یار میرا کام کرگئی ۔ اور حدیث میں اس کو ابلیس کے زہر آلود تیروں میں سے ایک تیر قرار دیا گیا ہے۔ اس لیے دین حنیف نے اس کی حفاظت کیلئے بڑی اہم اور پاکیزہ تعلیمات دی ہیں۔ اور ایسی کہ اگر صدق دل سے ان پر عمل کیا جائے اور ایمانداری کے ساتھ اپنی نگاہوں پر پہرہ بٹھا دیا جائے تو شیطان کے بہت سے فتنوں سے امن وامان نصیب ہوجاتا ہے اور یہاں پر اس ہدایت کا آغاز۔ { قُلْ لِلْمُوْمِنِیْنَ } ۔ کے کلمات کریمہ سے فرمایا گیا ہے۔ جس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایمانداری کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حفظ نظر، غضِّ نظر اور حفظ فروج کا بطور خاص اہتمام کرے کہ نظر بد برائی کی ابتداء ہے اور فرج حرام اس کی اتنہائ۔ والعیاذ باللہ ۔ عربی کے مشہور شاعر احمد شوقی مرحوم نے کیا خوب کہا ۔۔ نظرۃ فابتسامۃ ثم سلام ثم کلام واللقاء ۔ یعنی پہلے نظر پڑتی ہے، پھر مسکراہٹ آتی ہے، پھر سلام ہوتا ہے، پھر بات چلتی ہے اور پھر ملاقات کا مرحلہ آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور عربی کا ایک اور شاعر کہتا ہے ۔ کل الحوادث مبدأہا من النظر۔ ومعظم النار من مستصغر الشرر۔ یعنی تمام حوادث و مصائب کا آغاز نظر ہی سے ہوتا ہے اور بڑی آگ چھوٹی سی چنگاری ہی سے بھڑکتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لیے حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ پہلی نظر کے بعد دوسری نظر نہیں ڈالنا کہ پہلی جو غیر اختیاری طور پر ہوگی وہ تمہیں معاف ہے لیکن دوسری معاف نہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔ 50 مومن مردوں کو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کہو ایماندار مردوں سے کہ وہ حفاظت کریں اپنی شرمگاہوں کی "۔ ہر اس موقعہ اور اس صورت سے جس کو دین حق نے حرام قرار دیا ہو۔ نیز اس سے بھی کہ ان پر کسی کی نظر پڑے کہ حفاظت کا حکم ان دونوں ہی صورتوں کو شامل ہے۔ اور حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ اپنے ننگیز کی حفاظت کرو سوائے اپنی بیوی اور اپنی باندی کے۔ اس لیے اسلام ایسے لباس کی تعلیم و تلقین کرتا ہے جو شرم و حیا کے تقاضوں کی پاسداری کرتا ہو۔ سو جو لباس ستر کے تقاضے پورے نہ کرتا ہو وہ اسلام کی نظر میں لباس نہیں بلکہ ننگا پن ہے۔ جیسا کہ مشہور حدیث میں ایسی عورتوں کو جو بظاہر لباس پہنے ہوں مگر وہ ستر عورت کے تقاضے پورے نہ کرنے کی وجہ سے ننگی ہوں، دوزخی قرار دیا گیا ہے اور انکو کاسیات عاریات فرمایا گیا ہے۔ یعنی " جو لباس پہننے کے باوجود ننگی " ہونگی ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 24:31

وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ١۪ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِیْۤ اَخَوٰتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرٰتِ النِّسَآءِ١۪ وَ لَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِهِنَّ١ؕ وَ تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ جَمِیْعًا اَیُّهَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 24:31 in the Quran reader

اور مومن عورتوں سے بھی کہہ دو کہ وہ بچا کر رکھیں اپنی نگاہوں کو اور حفاظت کریں اپنی شرمگاہوں کی اور ظاہر نہ کریں اپنی زینت کو مگر جو خود ظاہر ہوجائے اور اپنی اوڑھنیوں کے آنچلوں کو وہ اپنے سینوں پر ڈال دیا کریں اور اپنا بناؤ سنگھار ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں کے سامنے یا اپنے باپوں کے سامنے یا اپنے خاوندوں کے باپوں کے سامنے یا اپنے بیٹوں کے سامنے یا اپنے خاوندوں کے بیٹوں کے سامنے یا اپنے بھائیوں کے سامنے یا اپنے بھتیجوں کے سامنے یا اپنے بھانجوں کے سامنے یا اپنی دین شریک عورتوں کے سامنے یا ان مملوکوں کے سامنے جن کے مالک ہوچکے ہوں ان کے داہنے ہاتھ یا ان ماتحت مردوں کے سامنے جنہیں عورتوں کی حاجت نہ ہو یا ان لڑکوں کے سامنے جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہ ہوں1 اور وہ زمین پر اس طرح زور سے پاؤں مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو وہ ظاہر ہونے لگے اور تم سب توبہ کرو اللہ کے حضور ایمان والو تاکہ تم فلاح پا سکو۔

51 مومن عورتوں کو بھی اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کہو ایماندار عورتوں سے کہ وہ حفاظت کریں اپنی شرمگاہوں کی "۔ ہر طرح کی غلط کاری سے۔ نیز اس طرح کہ ان کو مستور و محفوظ رکھیں تاکہ کسی دوسرے کی نظر بھی ان پر نہ پڑنے پائے۔ سو اس ارشاد عالی سے واضح فرما دیا گیا کہ صرف یہی بات کافی نہیں کہ مرد اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، بلکہ مردوں کی طرح عورتوں کیلئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں، تاکہ ان کی نگاہ کسی اجنبی اور غیر محرم شخص پر نہ پڑے۔ اور وہ بھی اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ہر طرح کی بدکاری سے۔ سنن ابوداؤد اور ترمذی وغیرہ میں ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں اور میمونہ دونوں حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر تھیں کہ اتنے میں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم ۔ مشہور نابینا صحابی ۔ آگئے تو حضور ﷺ نے ہم دونوں سے فرمایا کہ تم دونوں پردے میں ہوجاؤ۔ میں نے عرض کیا وہ تو نابینا ہیں۔ ہمیں دیکھ نہیں سکتے۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم دونوں تو اندھی نہیں ہو کہ تم ان کو نہ دیکھ سکو۔ سو غضِّ بصر اور حفظ فروج مومن مردوں اور مومن عورتوں دونوں سے مطلوب ہے۔ اور اس ضمن میں غضِّ بصر یعنی اپنی نگاہوں کی حفاظت کی ہدایت بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ کیونکہ نگاہ ہی درحقیقت مرد اور عورت کے درمیان اولین قاصد کا کام دیتی ہے۔ اگر اس کی پوری حفاظت کی جائے اور ایمانداری کے ساتھ اس پر پہرہ بٹھا دیا جائے تو شیطان کے بہت سی مداخل بند ہوجاتے ہیں اور انسان اس کے فتنوں سے امن وامان میں ہوجاتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ وہو الہادی الی سواء السبیل - 52 ایماندار عورتوں کو ابدائِ زینت کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہ اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو خود ظاہر ہوجاتا ہو "۔ جیسے ان کے لباس کے اوپر والا ظاہری حصہ۔ یا یہاں پر زینت سے مراد مواضع زینت ہیں۔ یعنی وہ اپنی زینت کی جگہوں کو بھی چھپا کر رکھیں اور ان میں سے بھی کسی جگہ کو ظاہر نہ کریں بجز ان مواضع کے جو خودبخود ظاہر ہوجائیں کہ زینت کی ایسی جگہوں کو ظاہر کرنے میں کوئی حرج نہیں جو خود بخود ظاہر ہوجائیں۔ اور ان کے ظاہر کرنے کی ضرورت پڑتی ہو جیسے چہرہ اور ہاتھ وغیرہ۔ مگر اس بارے میں دو باتیں بطور خاص قابل لحاظ ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا تعلق حجاب سے نہیں ستر سے ہے۔ جس کا تعلق اندرون خانہ اور اپنے محرم افراد سے ہوتا ہے۔ جبکہ حجاب جس کا تعلق اجانب سے ہوتا ہے اس کا ذکر سورة احزاب میں فرمایا گیا ہے۔ اور دوسری بات یہ یاد رکھنے کی ہے کہ ابداء و اظہار زینت کی یہ اجازت بھی اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ اس سے کسی طرح کے فتنے اور فساد کا خدشہ و اندیشہ نہ ہو۔ ورنہ اس کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ پس اگر فتنے کا اندیشہ و خوف ہو تو پھر چہرہ وغیرہ کو ننگا کرنے کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ (روح، مدارک، مراغی، ابن کثیر، خازن، معارف للکاندھلوی (رح) و معارف للدیوبندی (رح) ) ۔ مگر یہ سب اس صورت پر مبنی ہے جبکہ زینت سے مواضع زینت مراد لئے جائیں۔ جیسا کہ بعض اہل علم نے کہا۔ جو کہ اس کا مجازی معنیٰ ہے۔ جبکہ اصل یہ ہے کہ لفظ کو مجازی نہیں بلکہ اس کے حقیقی معنی پر معمول کیا جائے۔ بلکہ اس سے بھی بڑھ کر بات یہ ہے کہ زینت دراصل کہا ہی اس چیز کو جاتا ہے جو کہ اعضائے زینت کے علاوہ اور ان سے زائد چیز ہو۔ مواضع زینت کو زینت کہنا اصل وضع اور لغت کیخلاف ہے۔ سو اس اعتبار سے چہرے کو زینت کا مصداق قرار دینا ہی سرے سے غلط ہے۔ لہذا چہرے کو پردے سے مستثنیٰ قرار دینا درست نہیں۔ اور اصل حقیقت کے اعتبار سے فتنے کا مدار تو اصل میں چہرے ہی پر ہے۔ تو اس کو اگر ستر و حجاب سے مستثنیٰ قرار دیا جائے تو پھر پردے کے حکم کا اصل مقصد ہی فوت ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ - 53 ایماندار عورتوں کو اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالنے کی حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ان کو چاہیئے کہ وہ اپنی اوڑھنیوں ۔ کے آنچلوں ۔ کو اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں "۔ تاکہ اس سے ان کی عزت و حشمت کا بھی اظہار ہو۔ ان کے سینے کے ابھار بھی ظاہر نہ ہونے پائیں اور ان کی زینت اور مواضع زینت بھی مستور رہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ ۔ ؓ ۔ فرماتی ہیں کہ مہاجر خواتین پر اللہ کی رحمتیں ہوں کہ انہوں یہ حکم نازل ہوتے ہی اپنی چادروں کو پھاڑ کر اپنے سینوں پر ڈال دیا۔ (روح، ابن کثیر، مدارک، فتح وغیرہ) ۔ سو اسلام کی ان مقدس تعلیمات کو بھی سامنے رکھا جائے اور آج کی ان ماڈرن مسلمان عورتوں کے اطوار کو بھی دیکھ لیا جائے جو کہ اپنے ایمان و اسلام کے بلندو بانگ دعو وں کے باوجود عریانیت کے طرح طرح کے مظاہر پیش کرتی اور دوسروں کو دعوت نظارہ دیتی ہیں۔ اور پھر فیصلہ کیا جائے کہ اسلام کیا کہتا ہے اور کیا چاہتا ہے اور ایسی حیا باختہ عورتوں کا حال کیا ہے ؟ انہوں نے تو اپنی اوڑھنیوں کے آنچلوں کو اپنے سینوں پر ڈالنے کی بجائے ان کو اپنے سروں ہی سے اتار دیا۔ اور مزید یہ کہ انہوں نے اپنے سینوں کو ننگا کرکے لوگوں کے سامنے رکھنے کیلئے ایسے نت نئے طریقے اپنائے اور برابر اپنائے جا رہی ہیں کہ اس سے وہ " کاسیات عاریات " کا مصداق بن گئیں۔ اور وہ چھاتی تان کر سینہ کس کر عریانیت کے نت نئے طریقوں کو اپنا کر اور ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر اجنبی اور غیر محرم مردوں کے سامنے ایسے بیٹھیں گی کہ گویا وہ خواتین نہیں کچھ اور ہی مخلوق ہیں ۔ الا ماشاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَکٰی ۔ بہرکیف اس ارشاد ربانی سے ایک طرف تو یہ بات ظاہر اور واضح ہوجاتی ہے کہ اوڑھنی اور دوپٹہ مسلمان خواتین کے لباس کا ایک اہم اور ضروری جزو ہے اور دوسری بات اس ارشاد سے یہ معلوم ہوئی کہ مسلمان خواتین کسی غیر محرم کی موجودگی میں اپنے سر اور اپنی کمر کی طرح اپنے سینوں کو بھی ڈہانپ لیں اور اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈال دیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 54{ نسائہن } ۔ ان کی اپنی عورتوں ۔ سے مراد ؟ : سو اس سے مراد دین شریک اور ایماندار عورتیں ہیں۔ پس غیر مسلم اور بدکردار عورتوں کے سامنے ابدائِ زینت جائز نہیں کہ وہ اجنبی مردوں کی طرح ہیں۔ جیسا کہ { نسائھن } کی قید کا مقتضیٰ ہے۔ اور جیسا کہ حضرت مکحول، عبادہ ابن نسی اور حضرت عمر ؓ وغیرہ اکابر اہل علم و فضل نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ اور حضرت عمر بن عبد العزیز ؓ نے حضرت ابو عبیدہ کو لکھا تھا کہ ذمی عورتوں کو مسلمان عورتوں کے ساتھ حمامات میں داخل ہونے سے منع کردو (روح، قرطبی، ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو ہر طرح کی بےحیا اور بد اخلاق اور بےدین عورتوں کے سامنے اپنی زینت کو ظاہر کرنا فتنے اور خطرے سے خالی نہیں۔ پس سلامتی اس سے بچ رہنے ہی میں ہے۔ پتہ نہیں وہ کس فتنے میں مبتلا کردیں۔ اسی لیے حضرت عمر ؓ ، ابن عباس اور مجاہد (رح) وغیرہ سے مروی ہے کہ کافرہ عورت مسلمان عورت کے حق میں بمنزلہ اجنبی مرد کے ہے۔ اسی لیے صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کے نزدیک مسلمان عورت کو کافر عورت سے پردہ کرنا واجب ہے۔ (معارف وغیرہ) ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دین حنیف کی تعلیمات مقدسہ کی رو سے مسلمان عورت کا مقام کتنا اونچا ہے۔ اور اس کے مرتبہ و مقام اور اس کی عزت و عظمت کی حفاظت کا کس قدر خیال رکھا گیا ہے۔ سو ان کی پابندی ہی میں لوگوں کا بھلا اور فائدہ ہے ۔ وباللہ التوفیق - 55 یا اپنے مملوکوں کے سامنے : { مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُنَّ } سے مراد بعض کے نزدیک صرف باندیاں ہیں۔ کیونکہ غلام اجنبی مردوں کی طرح ہیں۔ جبکہ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ یہ عام ہے۔ باندی کی طرح غلام کو بھی شامل ہے۔ جبکہ وہ نیک دین دار ہو۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ لیکن جب یہاں پر " امائہن " کی بجائے { اَوْمَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُنَّ } کے الفاظ استعمال فرمائے گئے ہیں تو اس سے ظاہر یہی ہے کہ اس حکم میں غلام اور باندی دونوں ہی داخل ہیں ۔ والعلم عند اللہ تعالیٰ ۔ سو ان کے سامنے ابداء زینت میں کوئی حرج نہیں ۔ والحمد للہ جل وعلا ۔ 56 یا ان مردوں کے سامنے جن کو عورت کی حاجت نہ ہو : بلکہ ان کو صرف اپنے کھانے پینے سے غرض ہو اور بس۔ یا تو اس لیے کہ ان کو فطری طور پر عورتوں کی خواہش نہیں ہوتی یا اس لیے کہ وہ اپنی کبرسنی وغیرہ دوسرے عوارض کی بناء پر اس عمر سے گزر چکے ہوتے ہیں۔ جیسے بڑے بوڑھے نابینا وغیرہ وہ معذور لوگ جو جنسی جذبات و احساسات سے عاری ہوچکے ہوں۔ وہ اگر کسی کی کفالت پر ہوں تو اسی کی کفالت و سرپرستی میں اس کے گھر میں رہتے سہتے ہیں۔ سو وہ بھی ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہیں جو دوسروں کے بارے میں اوپر بیان ہوچکی ہیں کہ ان سے کسی ناشدنی کا کوئی خطرہ نہیں۔ اس لیے ان کے بارے میں اس رعایت کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا - 57 بےشعور بچوں کے استثناء کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " یا ان بچوں کے سامنے جو ابھی تک عورتوں کی پردے کی چیزوں سے واقف نہ ہوں "۔ اپنی صغر سنی کی وجہ سے۔ یعنی وہ بچے جن کے اندر ابھی تک جنسی شعور نہ پیدا ہوا ہو۔ اور وہ عورتوں کے صنفی اعضاء کو اس نظر سے نہیں دیکھتے جس نظر سے ان کو ایک مرد دیکھتا ہے۔ سو ایسے بےسمجھ بچوں کے سامنے بھی ابدائِ زینت میں کوئی حرج نہیں۔ ہاں جب یہ سمجھدار اور بڑے ہوجائیں تو ان کا یہ حکم بھی بدل جائیگا۔ لیکن اس سے پہلے ان کا حکم الگ ہے ان کی صغر سنی کی بنا پر۔ 58 زینت کی آواز کے اظہار کی بھی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ زمین پر اس طرح پاؤں مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ ان کی مخفی زینت کا اس طرح اظہار ہو " کہ زینت کی آواز بعض اوقات زینت سے بھی بڑھ کر شہوانی جذبات کو انگیخت کرنے والی ہوتی ہے ۔ کَمَا قَالَہ الزجاج وغیرہ ۔ (معارف، صفوۃ، ابن کثیر وغیرہ) ۔ اس لیے ایماندار عورتوں کو اس کی ہدایت فرمائی گئی کہ ان کو اپنے گھروں کے اندر بھی اگر کبھی غیر محرموں کی موجودگی میں جانا پڑے تو اس طرح زمین پر زور سے پاؤں مار کر نہ چلیں کہ ان کی زینت ظاہر ہو اور انکے زیورات کی جھنکار سنائی دے۔ کہ اس طرح کرنے سے ان کے جنسی جذبات میں کوئی ہیجان پیدا ہو ۔ والعیاذ باللہ - 59 ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور توبہ کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا " اور تم سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے ایمان والو تاکہ تم فلاح پاس کو "۔ کیونکہ یہ انسان ضعیف البنیان خطاء و تقصیر کا پتلا ہے۔ اس لئے کوتاہیوں سے بچنا اس کے لئے بہت مشکل ہے ۔ اِلّا مَنْ عَصِمَہُ اللّٰہ ۔ اس لئے توبہ و استغفار سے گناہوں کے ازالہ و صفائی کا سامان کرتے رہا کرو اور اللہ پاک سے قبولیت اور فلاح کی امید رکھو کہ وہ بڑا ہی کرم والا ہے۔ یہ ہدایات چونکہ پورے مسلم معاشرے کی اصلاح کیلئے دی جارہی ہیں اس لیے سب کو خطاب کرکے رجوع الی اللہ کی دعوت دی گئی ہے کہ سب مل کر اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کی اصلاح کرو اور زندگی گزارنے کا وہ طریقہ اختیار کرو جسکی دعوت تمہیں قرآن دے رہا ہے۔ اور یہی راستہ اور طریقہ ہے فوز و فلاح سے سرفرازی کا ۔ اللہ توفیق بح سے اور ایسی کہ جو اس کی رضا کا ذریعہ و وسیلہ ہو ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 24:32

وَ اَنْكِحُوا الْاَیَامٰى مِنْكُمْ وَ الصّٰلِحِیْنَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَ اِمَآئِكُمْ١ؕ اِنْ یَّكُوْنُوْا فُقَرَآءَ یُغْنِهِمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 24:32 in the Quran reader

اور نکاح کرا دیا کرو تم لوگ ان کے جو تم میں سے بےنکاح ہوں اور اپنے ان غلام اور لونڈیوں کے بھی جو صالح ہوں، اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ ان کو غنی و مالدار بنا دے گا اپنے فضل و کرم سے اور اللہ بڑی ہی کشائش والا سب کچھ جانتا ہے2

60 بےنکاحوں کو نکاح کرنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور نکاح کرا دیا کرو تم اپنے میں سے بےنکاحوں کے "۔ " اَیَامٰی " جمع ہے " ایم " کی جس کے معنیٰ بےنکاح کے آتے ہیں۔ خواہ وہ مرد ہو یا عورت۔ چناچہ " ایم " اس مرد کو بھی کہا جاتا ہے جس کی بیوی نہ ہو اور اس عورت کو بھی جس کا شوہر نہ ہو۔ اور خواہ اس نے سرے سے نکاح کیا ہی نہ ہو یا ہونے کے بعد کسی وجہ سے ختم ہوگیا ہو۔ (روح، ابن جریر، قرطبی، مراغی اور محاسن وغیرہ) ۔ سو اس سے اسلام کی تعلیمات مقدسہ کا مزاج واضح ہوجاتا ہے کہ اسلام کی روشنی میں مسلم معاشرے میں کسی مرد یا عورت کا بےنکاح رہنا ایک معیوب امر ہے۔ کیونکہ اس سے آگے طرح طرح کے مفاسد جنم لیتے ہیں۔ کیونکہ جب معاشرے میں بےنکاح مرد اور بےنکاح عورتیں زیادہ ہوں وہاں ناجائز تعلقات کے امکانات بھی زیادہ ہوجاتے ہیں اور شریر قسم کے لوگوں کو تہمتیں پھیلانے کے مواقع بھی زیادہ ملتے ہیں۔ اور عام اور سادہ لوح قسم کے لوگ اس طرح کے ماحول میں تہمتیں پھیلانے والے ایسے لوگوں کی الزام تراشی کی مہم اور تہمتیں پھیلانے کی گرم بازاری سے متاثر بھی زیادہ ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسے مفاسد کے راستے روکنے اور ان کے دروازے بند کرنے کے لیے بےنکاحوں کے نکاح کرنے کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے۔ سو اللہ تعالیٰ کے ہر حکم وارشاد میں خیر ہی خیر ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا - 61 صالح غلام اور باندیوں کے نکاح کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اپنے ان غلام باندیوں کے نکاح بھی کرا دو جو اس کی صلاحیت رکھتے ہوں "۔ اور صلاحیت شرعی لحاظ سے یا جسمانی اعتبار سے دونوں کو شامل ہے۔ تاکہ وہ حقوق زوجیت صحیح طور پر ادا کرسکیں۔ خود بھی پاکیزہ زندگی گزار سکیں اور اپنی اولاد کی بھی صحیح طور پر نگہداشت کرسکیں۔ (روح، کبیر، مراغی وغیرہ) ۔ کیونکہ جس معاشرے کے اندر بہت سے مرد بیویوں سے محروم ہوں اور بہت سی عورتیں شوہروں سے محروم ہوں اس معاشرے میں اخلاقی مفاسد کے پھیلنے اور شیطان کی دراندازیوں کے در آنے کیلئے ایک وسیع دروازہ کھل جاتا ہے۔ اس میں ناجائز تعلقات کے پھیلنے بڑھنے کے امکانات اور خدشات بہت زیادہ ہوجاتے ہیں۔ شریر قسم کے لوگوں کو تہمتیں پھیلانے کے مواقع ہاتھ لگ جاتے ہیں اور اس سے آگے اور طرح طرح کے مفاسد اور فتنے پھیلنے لگتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں بھی اس بارے میں گزر چکا ہے ۔ اللہ ہمشہ اپنی اطاعت اور اپنے رسول کی اتباع نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 62 بےنکاحوں کے نکاح پر ان کے لیے مالداری کا وعدہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ اپنے میں سے بےنکاحوں کے نکاح کرا دیا کرو۔ اگر وہ محتاج ہوں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو اپنے فضل و کرم سے مالدار بنا دے گا۔ اور اس وعدہ کو مزید موکد کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے " واسع " اور " علیم " کا حوالہ دے کر ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ بڑا ہی وسعت والا سب کچھ جانتا ہے۔ کہ نہ اس کے خزانوں کی کوئی حد ہے اور نہ اس کی عطاء و بخشش کی کوئی انتہاء۔ مگر وہ اپنے علم محیط و کامل کی بناء پر جانتا ہے کہ کس کے لئے کیا مفید ہے اور کس طور پر۔ اس لئے وہ ہر ایک کے ساتھ اسی کے مناسب معاملہ فرماتا ہے ۔ جل شانہ و عز سلطانہ ۔ پس تم لوگ اے ایمان والو، غربت اور ناداری کو کسی کے نکاح کیلئے رکاوٹ اور آڑ نہ بننے دو ۔ بےنکاحوں کے نکاح کردیا کرو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے ان دونوں کے حالات کو خیر اور بہتری سے بدل دے گا۔ یہ اس کا وعدہ و ارشاد بھی ہے اور ان طبعی و فطری خواص کا اثر و نتیجہ بھی جو کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مرد اور عورت کے اندرودیعت فرما رکھے ہیں۔ کیونکہ بیوی کے بغیر انسان ایک قسم کا خانہ بدوش سا اور غیر ذمہ دار شخص بنا رہتا ہے۔ اور اس کی بہت طبعی اور فطری صلاحیتیں سکڑی اور دبی ہوئی رہتی ہیں۔ اس طرح عورت بھی جب تک شوہر سے محروم رہتی ہے اس کی حیثیت اس بیل کی سی ہوتی ہے جو سہارا نہ ملنے کے باعث پھیلنے اور پھلنے پھولنے سے محروم ہوتی ہے۔ لیکن جب یہ دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوجاتے ہیں تو ان دونوں کی وہ فطری اور دبی ہوئی صلاحیتیں ابھرنے لگتی ہیں اور ان دونوں کی مشترکہ جدوجہد کو اللہ تعالیٰ ایسی بابرکت بنا دیتا ہے کہ انکے حالات بدل جاتے ہیں۔ اور تجربہ و مشاہدہ اس کا شاہد ہے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ تم لوگ اپنے بےنکاحوں کے نکاح کراؤ۔ اللہ تعالیٰ اس پر مالدار کرنے کے اپنے وعدے کو پورا فرمائے گا۔ اور حضرت ابن مسعود نے اسی آیت کریمہ کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ۔ " التمسو الغنی فی النکاح " ۔ یعنی " تم لوگ مالداری کو نکاح میں تلاش کرو " اور حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ تم لوگ اللہ کے حکم کو پورا کرو یعنی بےنکاحوں کے نکاح کراؤ۔ وہ مالدار کرنے کے اپنے وعدے کو پورا فرمائے گا۔ اور حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تین آدمیوں کی مدد کرنا اللہ پر ان کا حق ہے۔ ان میں سے ایک کے بارے میں فرمایا " الناکح الذی یرید العفاف " یعنی " وہ شخص جو پاکدامنی کی خاطر نکاح کرتا ہے " ۔ رواہ الترمذی واحمد وغیرہم ۔ ( ابن کثیر اور مراغی وغیرہ) ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی عظیم الشان تعلیمات ہیں اس دین حنیف کی جو فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں۔
Ayah 24:33

وَ لْیَسْتَعْفِفِ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ نِكَاحًا حَتّٰى یُغْنِیَهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یَبْتَغُوْنَ الْكِتٰبَ مِمَّا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ فَكَاتِبُوْهُمْ اِنْ عَلِمْتُمْ فِیْهِمْ خَیْرًا١ۖۗ وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ لَا تُكْرِهُوْا فَتَیٰتِكُمْ عَلَى الْبِغَآءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ مَنْ یُّكْرِهْهُّنَّ فَاِنَّ اللّٰهَ مِنْۢ بَعْدِ اِكْرَاهِهِنَّ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 24:33 in the Quran reader

اور جو لوگ نکاح کی قدرت نہیں رکھتے ان کو چاہیے کہ وہ پاک دامن رہیں یہاں تک کہ اللہ ان کو غنی اور مالدار بنا دے اپنے فضل و کرم سے اور تمہارے مملوکوں میں سے جو لوگ مکاتب ہونے کی خواہش کریں تم ان کو مکاتب بنادیا کرو اگر تم ان میں بہتری کے آثار پاؤ اور ان کو اللہ کے اس مال میں سے دیا کرو جو اس نے تم کو عطا فرما رکھا ہے اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور نہ کیا کرو، بالخصوص جب کہ وہ خود پاک دامن رہنا چاہتی ہوں اور تم یہ ذلیل حرکت محض اس لیے کرو کہ تم دنیا کا کچھ مال حاصل کرسکو پھر یاد رکھو کہ جو ان کو مجبور کرے گا تو اللہ ان کے مجبور ہونے کے بعد ان کی بخشش فرما دے گا کہ بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا انتہائی مہربان ہے1

63 بےنکاحوں کو پاکدامن رہنے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا اور جو لوگ نکاح کی قدرت نہیں رکھتے ان کو چاہیئے کہ وہ پاکدامن رہیں۔ یہاں تک کہ اللہ انکو غنی بنادے اپنے فضل سے اور وہ شادی کرنے کے قابل ہوجائیں۔ واضح رہے کہ یہاں پر قدرت نہ رکھنے سے مراد ہے مالی اعتبار سے قدرت و طاقت نہ رکھنا ہے۔ جیسا کہ ظاہر اور واضح ہے۔ اور اکثر حضرات اہل علم نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ نیز یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ غنی اور مالدار بنادینا بھی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ ہی کی شان اور اسی کا کام ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر حصر و تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاَنَّہ ھُوَ اَغْنٰی وَ اَقْنٰی } ۔ (النجم : 48) ۔ سو کس قدر بہکے بھٹکے اور بگڑے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اس کے سوا اوروں کے آگے جھکتے اور جگہ جگہ جھک کر اور جھک مار کر اپنی تذلیل کا سامان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اوپر والی آیت کریمہ میں معاشرے کے ذمہ دار لوگوں کو یہ ہدایت فرمائی گئی تھی کہ اپنے میں کے بےنکاحوں کے نکاح کردیں۔ اور اب یہ ہدایت براہ راست ایسے بےنکاح افراد کے لیے ہے کہ وہ اپنی عفت و پاکدامنی کی حفاظت کریں کہ افراد کی اخلاقی ذمہ داری تو بہرحال انہی پر ہے۔ سو کوئی شخص اگر نکاح کی قدرت نہیں پا رہا اور اس کو اس کے لیے ضروری وسائل میسر و دستیاب نہیں تو اس کا یہ مطلب بہرحال نہیں ہوسکتا کہ یہ چیز اس کے لیے بدکاری کا عذر اور وجہ جواز بن گئی ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ اپنے اوپر کنٹرول کرے اور ضبط نفس سے کام لے۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا انتظار کرے۔ اور جو کوئی اپنے ایمان و اخلاق کی حفاظت کے لیے ایسا جہاد کرے گا اور صبر و استقامت سے کام لے گا تو اللہ تعالیٰ ضرور اس کے لیے آسانی کی راہیں کھولے گا کہ اس کا اپنا صاف وصریح اور واضح و قطعی ارشاد ہے ۔ { فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا } ۔ ( الانشراح : 5-6) ۔ 64 مکاتبت کے خواہاں غلاموں کو مکاتب بنا دینے کا حکم و ارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے مملوکوں میں سے جو مکاتب بننا چاہیں ان کو مکاتب بنادیا کرو اگر تم ان کے اندر بھلائی دیکھو۔ یعنی اگر تم دیکھو کہ وہ اس کے بعد معاشرے میں نیک اور صالح افراد بن کر رہیں گے۔ نیز وہ ایسی صلاحیت کے حامل ہوں کہ دیانت و امانت سے کام لیں گے۔ اور بدل کتابت اپنے وعدہ وقرار کے مطابق ادا کردیں گے۔ (روح، معالم، مدارک، خازن، صفوہ، معارف، ابن کثیر وغیرہ) ۔ تو ایسی صورت میں تم ان کو مکاتب بنادو۔ کتاب اور مکاتبت ایک شرعی اصطلاح ہے جس کا مفہوم و مطلب یہ ہے کہ کوئی غلام اپنے آقا سے اس بات کا خواہاں ہو کہ اگر وہ اتنی مدت کے اندر اس کو اتنی رقم ادا کر دے یا فلاں معین خدمت انجام دے دے تو وہ اس کو آزاد کر دے۔ ایسے غلام کو مکاتب کہا جاتا ہے اور اس معاملے کو مکاتبت یا کتابت۔ اور اس مال وغیرہ کو بدل کتابت۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تمہارے غلاموں میں سے کوئی مکاتب بننا چاہے تو تم اس کو مکاتب بنادیا کرو۔ عام علماء کے نزدیک یہ حکم مندوب و مستحب کے حکم میں ہے لیکن حضرت عمر ابن سیرین اور داؤد وغیرہ نے اس کو وجوب کے معنیٰ میں لیا ہے۔ اور بعض اہل علم نے انہی حضرات کے قول کو ترجیح دی ہے ۔ والعلم عند اللہ ۔ جو بھی ہو بہرکیف اس میں ایسے غلاموں کو مکاتب بنادینے کا ارشاد فرمایا گیا ہے۔ 65 ضرورت مندوں کی مدد کرنے کی ترغیب وتحریض : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم ان کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تم لوگوں کو عطاء فرما رکھا ہے "۔ محض اپنے کرم اور عنایت سے کہ اس کی شان ہی عطاء و بخشش اور کرم فرمانا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس میں تمہارے لئے سخت ابتلاء و آزمائش بھی ہے کہ اگر تم نے اس کے بخشے ہوئے اس مال و دولت کو اس واہب مطلق کی رضاء و خوشنودی کے حصول کے لئے وجوہ خیر میں خرچ کیا تو یہ تمہارے لئے خیر و برکت اور جنت کی سدا بہار نعمتوں کا ذریعہ بن جائے گا۔ اور بصورت دیگر یہ تمہارے لئے باعث و بال ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ یہاں پر یہ ارشاد اگرچہ مکاتب کی امداد کے سلسلے میں فرمایا گیا ہے لیکن اپنے الفاظ و کلمات کے عموم کے مطابق یہ خیر کے ہر موقعہ و محل کو شامل ہے۔ اور { مِنْ مَال اللّٰہِ الَّذِیْ آتَاکُمْ } کے کلمات کریمہ کے تحریض و ترغیب کے کئی پہلو ہیں۔ مثلا یہ کہ یہ سب مال و متاع اللہ تعالیٰ ہی کا دیا بخشا اور اسی کا عنایت فرمودہ ہے۔ اس بنا پر یہ سب اسی کے لیے اور اسی کا مال ہے۔ مگر وہ تم لوگوں سے اس کا کچھ ہی حصہ خرچ کرنے کو کہتا ہے نہ کہ سب کا سب۔ اور پھر اس کے نام پر اور اس کی رضا کے لیے خرچ کیا جانے والا مال تم ہی لوگوں کو کام آئے گا جو اس کھاتے میں جمع ہونے کے بعد تمہارے لیے محفوظ ہوجائے گا اور کئی گنا بڑھا کر تم لوگوں کو واپس دیا جائے گا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 66 اپنی باندیوں کو بدکاری پر مجبور کرنے کی ممانعت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر مجبور مت کرو جبکہ وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں "۔ یعنی اس صورت میں جبکہ وہ پاک دامن رہنا چاہیں ان کو بدکاری پر مجبور کرنا اور بھی زیادہ برا اور سخت جرم ہوگا۔ ورنہ برائی پر جبر واکراہ ہر صورت میں اور بہرحال برا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ روایات میں وارد ہے کہ رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بن سلول کی چھ باندیاں تھیں جن سے وہ کسب کرایا کرتا تھا معادۃ مُسیکۃ اُمَیْمۃ عمرہ، اروی اور قتیلہ۔ ان میں سے مسیکہ اور امیمہ نے اس بارے آنحصرت ﷺ سے شکایت کی تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (ابن کثیر، مدارک، صفوہ اور فتح وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے قحبہ گری اور باندیوں سے کسب کرانے کی ممانعت فرما دی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ فواحش و منکرات کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 67 باندیوں کو بدکاری پر مجبور کرنے کے جرم کی سنگینی کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جو کوئی ان کو مجبور کرے گا تو بیشک اللہ ان کے مجبور کرنے کے بعد بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ اس لیے وہ اپنے فضل و کرم سے ان کے گناہ کو معاف فرما دے گا۔ کیونکہ ان سے مجبور کر کے جرم کرایا گیا۔ اسی لئے روایات میں وارد ہے کہ حضرت حسن بصری ۔ (رح) ۔ جب اس آیت کریمہ کی تلاوت فرماتے تو کہتے " لَہُنَّ وَاللّٰہِ لَہُنَّ وَاللّٰہِ " ہاں قسم بخدا اللہ ضرور ان مجبور کردہ عورتوں کے گناہ کو بخشنے والا اور ان پر رحم فرمانے والا ہے۔ (محاسن، ابن کثیر، مراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اکراہ کی صورت میں اللہ تعالیٰ ان باندیوں کی تو بخشش فرما دے گا کہ وہ مجبور و لاچار تھیں مگر وہ لوگ اپنے انجام کے بارے میں خود سوچ لیں جو ان کی عفت کے ساتھ اس طرح کا گھناؤنا کھیل کھیلتے ہیں اور وہ قحبہ گری اور کسب حرام کی اس خبیث کمائی سے اپنے پیٹ کے جہنم کو بھرنے کی سعی نامراد کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 68 مجبور و لاچار کے لیے مغفرت و بخشش خداوندی کی بشارت : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جن پاکدامن باندیوں کو اس برائی پر مجبور کیا گیا ان کی تو اللہ بخشش فرما دے گا کہ بیشک اللہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت ہی مہربان ہے۔ اتنا بڑا کہ نہ اس کی مغفرت و بخشش کی کوئی حد و انتہاء ہے اور نہ ہی اس کی رحمت و عنایت کی ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس بندے کا کام ہمیشہ اس کی طرف رجوع رہنا اور اس سے اس کی مغفرت و بخشش کی دعا و درخواست کرنا ہے۔ سو بندہ اپنے بس کی حد تک برائی سے بہرحال بچے اور جو امر بس سے باہر ہوگا اس کی اللہ بخشش فرما دے گا۔
Ayah 24:34

وَ لَقَدْ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ اٰیٰتٍ مُّبَیِّنٰتٍ وَّ مَثَلًا مِّنَ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَ۠ Open ayah 24:34 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم نے تمہاری طرف کھلے کھلے احکام بھی اتار دئیے (اے لوگو ! ) اور کچھ عبرت انگیز واقعات بھی ان لوگوں کے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اور ایک عظیم الشان نصیحت بھی پرہیزگاروں کے لیے۔2

69 قرآن حکیم کی واضح ہدایات کو اپنانے کی تعلیم و تلقین : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم نے اتارے تمہارے لیے کھلے کھلے احکام "۔ تاکہ ان پر عمل کر کے تم لوگ پاکیزہ زندگی گزار سکو۔ اور دارین کی سعادتوں سے بہرہ ور ہو سکو کہ ان کھلے اور واضح احکام کے ذریعے تم لوگ اپنے خالق ومالک کا حق پہچان سکو گے۔ صحیح اور غلط اور طیب و خبیث کے درمیان فرق وتمیز کرسکو گے اور اس کے نتیجے میں تم خبیث اور غلط سے بچ کر صحیح اور طیب کو اپنا سکو گے۔ اور اس طرح تم لوگ طیب اور پاکیزہ انسان بن کر دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز ہوسکو گے۔ سو اس ارشاد میں احسان و امتنان کا پہلو بھی ہے کہ تم کو ایسی عظیم الشان نعمت سے نوازا گیا ہے اور اس میں تنبیہ و تہدید بھی ہے کہ جو اس سے منہ موڑیں گے وہ خود اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان کریں گے اور سخت خسارے میں مبتلا ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 70 قرآن کے درسہائے عبرت و بصیرت سے سبق لینے کی ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے اس میں عبرت انگیز واقعات بھی اتارے تاکہ تم لوگ ان سے عبرت حاصل کرو " اور اپنی عقل و فکر کی غذا کا سامان کرسکو۔ اور تم یہ دیکھ کر سبق حاصل کرسکو کہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو توڑنے والے آخرکار کس انجام سے دوچار ہوئے۔ سو قرآن حکیم میں ایسی عظیم الشان آیات بھی ہیں جو ان احکام و آداب کو کھول کر بیان کرتی ہیں جن کی تم لوگوں کو اپنی زندگی میں ضرورت ہے اور اس میں ایسی امثال و اخبار بھی ہیں جن میں بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے۔ اور اسی حقیقت کو حضرت علی سے مروی و منقول اس مشہور اثر میں بیان فرمایا گیا ہے جس میں آپ نے فرمایا " فیہ حکم ما بینکم و خبر ما قبلکم و نبا ما بعدکم وہو الفصل لیس بالہزل من ترکہ من جبار قصمہ اللہ ومن ابتغی الہدی من غیرہ اضلہ اللہ " ۔ ( ابن کثیر، المراغی اور المحاسن وغیرہ) ۔ 71 تقویٰ و پرہیزگاری ذریعہ نجات و سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقویٰ و پرہیزگاری سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے کہ اس سے فائدہ وہی اٹھاتے ہیں جو متقی و پرہیزگار ہیں۔ ورنہ یہ عظیم الشان و بےمثل نعمت سب لوگوں کے لئے عام ہے اور حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا کرم سب ہی کے لئے ہوتا ہے۔ مگر جو اس کی طرف رجوع ہی نہ کریں اور وہ حق بات سننے اور ماننے کو تیار ہی نہ ہوں تو انکو ان سے کوئی فائدہ بھلا کس طرح اور کیونکر پہنچ سکتا ہے۔ سو تقویٰ و پرہیزگاری اور خوف خداوندی اور رجوع الی اللہ اصلاح احوال کی سب سے اہم اور اصل بنیاد ہے۔ اور یہ سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ اور اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ دارین کی سعادت سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ایسے لوگ جن کے سینے خوف خداوندی سے خالی ہوں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور وہ تقویٰ و پرہیزگاری کی دولت سے محروم ہوں ان میں پند و نصیحت اور نصح و خیرخواہی کی کوئی بھی بات اثر نہیں کرسکتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ تقویٰ و پرہیزگاری سے سرشار رکھے ۔ آمین۔
Ayah 24:35

اَللّٰهُ نُوْرُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ مَثَلُ نُوْرِهٖ كَمِشْكٰوةٍ فِیْهَا مِصْبَاحٌ١ؕ اَلْمِصْبَاحُ فِیْ زُجَاجَةٍ١ؕ اَلزُّجَاجَةُ كَاَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّیٌّ یُّوْقَدُ مِنْ شَجَرَةٍ مُّبٰرَكَةٍ زَیْتُوْنَةٍ لَّا شَرْقِیَّةٍ وَّ لَا غَرْبِیَّةٍ١ۙ یَّكَادُ زَیْتُهَا یُضِیْٓءُ وَ لَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ١ؕ نُوْرٌ عَلٰى نُوْرٍ١ؕ یَهْدِی اللّٰهُ لِنُوْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ یَضْرِبُ اللّٰهُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌۙ Open ayah 24:35 in the Quran reader

اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے کہ ایک طاق ہو اس میں ایک چراغ ہو، وہ چراغ ایک فانوس میں ہو، وہ فانوس ایسا کہ گویا کہ وہ موتی جیسا چمکتا ہوا ایک ستارہ ہے وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ مشرقی ہو نہ مغربی اس کا تیل بھی ایسا صاف و شفاف ہو کہ وہ خود بخود بھڑکا پڑتا ہو، اگرچہ آگ نے اس کو چھوا تک بھی نہ ہو (بس) نور پرنور ہے اللہ اپنے اس نور کی طرف ہدایت کی توفیق و عنایت سے نوازتا ہے جس کو چاہتا ہے اور وہ بیان فرماتا ہے لوگوں کے لیے طرح طرح کی اور عمدہ عمدہ مثالیں اور اللہ ہر چیز کا پورا پورا علم رکھتا ہے

72 اللہ نور ہے آسمانوں اور زمین کا : کہ اسی نے اپنے کرم لامتناہی، رحمت ِبے نہایت اور قدرت لامحدود سے ان کو خلعت وجود سے نوازا۔ سو وجود نور ہے اور عدم ظلمت و اندھیرا۔ پھر اسی نے اپنی قدرت بےپایاں سے زمین و آسمان کی اس مخلوق میں ظاہری و باطنی اور حسی و معنوی نور اور روشنیوں کے طرح طرح کے سامان رکھ دئیے جن میں سب سے بڑی سب سے اہم اور سب سے عظیم الشان روشنی ایمان و یقین کی وہ روشنی ہے جو دلوں کی دنیا کو روشن کرنے والی اور انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح سے سرفراز کرنے والی ہے۔ اس لئے اللہ پاک کے نور کے ذکر کے بعد اسی کا ذکر فرمایا گیا۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { مَثَلُ نُوْرِہ } ۔ اسی لئے حضرات اہل علم اس کی تشریح و توضیح میں فرماتے ہیں ۔ " مَثَلُ نُوْرِ مَنْ اٰمَنَ بِہ " ۔ (ابن کثیر، ابن جریر، روح، قرطبی، معالم وغیرہ) ۔ اور { نورہ } کی ضمیر میں دو احتمال اور دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ اس کا مرجع اللہ ہے جو کہ آیت کریمہ کے شروع میں مذکور و موجود ہے۔ تو اس صورت میں معنیٰ ہوگا ۔ " اَیْ مَثَلَ ہُدَاہُ فِیْ قَلْبِ الْمُؤْمِن " ۔ یعنی اس کے اس نور ایمان و ہدایت کی مثال جو کہ اس نے قلب مومن میں ودیعت فرمایا ہے یہ ہے کہ جیسے ایک طاقچہ ہو وغیرہ۔ اور دوسرا احتمال اس میں یہ ہے کہ اس کا مرجع مومن ہو جو کہ سیاق کلام سے مفہوم ہوتا ہے۔ (ابن کثیر وغیرہ) ۔ سو آگے اسی نور مومن کی تشریح و توضیح ہے۔ سو اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ نے آسمان و زمین کی اس عظیم الشان کائنات کو نور وجود سے نواز کر اس میں طرح طرح کی ایسی عظیم الشان حسی اور معنوی روشنیاں اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے رکھ دیں جو اس کی وحدانیت ویکتائی، اس کے کمال و جمال اور اس کے عطاء و نوال اور اس کی عنایتوں اور کار سازیوں اور تصرف و تدبیر کی پکار پکار کر گواہی دیتی ہیں۔ اور اسی نے اپنی ان آیات کونیہ کے ساتھ ساتھ آیات قرآنیہ بھی نازل فرمائیں جو اس کی معرفت و رضاء اور اس تک وصول اور حقیقی فوز و فلاح کی راہیں کھولتی ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس مثال سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان نور اور روشنی بلکہ روشنیوں کی روشنی اور کفر اندھیرا بلکہ اندھیروں کا اندھیرا ہے ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا - 73 نور ایمان کی تمثیل اور اس کی عظمت شان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے نور کی مثال یعنی اس کے اس نور حق و ہدایت کی مثال جس سے وہ اپنے بندہ مومن کو اپنے کرم سے نوازتا ہے ۔ اَیْ مَثَلَ ہُدَاہ فِیْ قَلْبِ الْمُؤْمِنِ- (ابن جریر، قرطبی، ابن کثیر وغیرہ) اور یہ اس لئے کہ نور ہدایت ہی اصل اور سب نوروں سے بڑھ کر نور ہے۔ اور یہی اس واہب مطلق کی وہ سب سے بڑی عنایت وعطاء ہے جس سے وہ اپنے خاص بندوں کو نوازتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کیونکہ نور حق و ہدایت سے اس کیلئے اس کی زندگی کی سب راہیں روشن ہوجاتی ہیں۔ وہ اپنی زندگی کے آغاز و انجام اور مقصد حیات اور طریق حیات اور آداب زندگی، سب سے پوری طرح واقف و آگاہ ہوجاتا ہے۔ اس کے نور ایمان کی برکت سے ہر چیز اور اس کا ہر پہلو اس کے لیے روشن اور واضح ہوجاتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا کہ " میں تم لوگوں کو ایک ایسی واضح شاہراہ پر چھوڑ چلا ہوں جس کی رات بھی اس کے دن کی طرح روشن اور واضح ہے۔ اور اس سے منحرف نہیں ہوگا مگر وہی شخص جسکے نصیب میں ہی ہلاکت لکھی ہے "۔ جبکہ نور ایمان سے محروم انسان کیلئے یہ پوری کائنات ہی عالم ظلمات ہے۔ نہ اس کو اپنی زندگی کے آغاز و انجام کا کچھ پتہ نہ اپنے خالق ومالک کی معرفت کی کچھ خبر اور نہ ہی اس کو اپنی زندگی کے مقصد اور نصب العین سے کچھ آگاہی۔ بلکہ وہ ان تمام امور سے غافل و لاپرواہ حیوان محض بن کر رہ جاتا ہے۔ بلکہ اس سے بھی کہیں برا اور بدتر۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو نور حق و ہدایت سے محروم ایسا انسان اس اندھے بھین سے کی طرح ہوجاتا ہے جو اندھیروں میں بھٹکتا رہتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ ہلاکت و تباہی کے کسی گڑھے میں گر کر اپنے انجام کو پہنچ کر رہتا ہے۔ جبکہ مومن صادق کے لیے اس کائنات کی ایک ایک چیز اس کے نور ایمان میں اضافے کا ذریعہ بنتی جاتی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 74 نور ایمان کی عظمت شان کی توضیح و تمثیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جیسا کہ ایک طاقچہ ہو کہ اس کی روشنی مجتمع اور یکجا ہونے کی وجہ سے خاص طور پر زیادہ زور دار اور تیز ہوتی ہے۔ سو مشکوۃ سے مراد مومن کا دل ہے جس کو چراغ رکھنے کے طاق یا چراغ داں سے تشبیہہ دی گئی ہے۔ کیونکہ چراغ کیلئے عام قاعدہ یہ ہوتا ہے کہ اس کو گھر میں کسی اونچے مقام اور طاقچہ وغیرہ میں رکھا جاتا ہے تاکہ اس کی روشنی پورے گھر کے اندر پھیلے اور انسان کے اندر دل ہی ایسی عظمت اور بلندی والی چیز ہے کہ اس کی روشنی انسانی جسم کے ظاہر اور باطن سب پر پھیل جاتی ہے اور انسان کا یہ خاکی پتلہ کچھ کا کچھ بن جاتا ہے۔ اس لیے ایمان و یقین کی قندیل کے لیے دل کے اس طاقچے ہی کو چنا گیا اور دل کی اسی اہمیت کی بنا پر صحیح اور مشہور حدیث میں دل کی زندگی کو انسانی جسم کی زندگی اور اس کی موت کو ۔ والعیاذ باللہ ۔ انسانی زندگی کی موت قرار دیا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " جسم کے اندر گوشت کا ایک ایسا ٹکڑا ہے کہ اگر وہ ٹھیک ہوا تو سارا جسم ٹھیک اور اگر وہ بگڑا تو سارا جسم بگڑ گیا۔ آگاہ رہو کہ وہ ٹکڑا دل ہے " ۔ " الا وہی القلب " ۔ اللہ تعالیٰ سلطنت دل کو ہمیشہ معمور ومنور رکھے ۔ آمین ثم آمین - 75 نور ایمان کے لیے بےمثال اور عظیم الشان فانوس کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ فانوس ایسا ہو جیسا کہ ایک چمکتا ہوا ستارہ۔ اپنی غایت درجہ کی صفائی اور ستھرائی کی وجہ سے۔ اور یہی مثال ہے بندہ مومن کے قلب صافی کی۔ سو وہ طاقچہ بھی عظیم الشان اور بےمثال اور اس کا شیشہ بھی عظیم الشان اور بےمثال۔ کیونکہ شیشہ اگر صاف نہ ہو تو وہ نہ صرف یہ کہ روشنی میں کوئی اضافہ نہیں کرتا بلکہ وہ اس کیلئے حجاب بن جاتا ہے۔ سو اس طرح ایمان کی روشنی قلب مومن کو ہر قسم کی کثافت سے پاک کرکے ایسے بےمثال آئینے کی طرح صاف کردیتی ہے۔ سو جب روشنی اس طرح کے فانوس کے اندر ہوتی ہے تو وہ ہوا کے جھونکوں سے متاثر نہیں ہوتی۔ اور ایسے چراغ کی لو ہوا کے جھونکوں سے منتشر نہیں ہونے پاتی بلکہ ایک مرکز پر مرتکز رہتی ہے جس سے اس کی تابانی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اور یہی حال قلب مومن کا ہوتا ہے کہ فیض ایمان سے اس کی تابانی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ ڈانواں ڈول ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔ خواہ کیسے ہی حالات پیش آئیں وہ ہر حال میں راضی اور مطمئن رہتا ہے۔ ایسے ہی دل کو قرآن حکیم میں نفس مطمئنۃ سے تعبیر فرمایا گیا۔ اور یہ سب سے بڑی دولت ہے جس سے انسان کو اس کے ایمان کی بدولت نوازا جاتا ہے۔ 76 بےمثال چراغ کا تیل بےمثال و مبارک درخت سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ چراغ زیتون کے ایسے مبارک درخت سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی۔ بلکہ ایسی کھلی اور بلند جگہ پر ہو جہاں اس کو سورج کی روشنی اور گرمی صبح سے شام تک برابر پہنچتی ہو کہ ایسے درخت کا تیل خاص طور سے زیادہ صاف ستھرا، پاکیزہ اور عمدہ ہوتا ہے۔ سو یہی مثال ہے مومن صادق کے شجرہ صدق و اخلاص کی کہ وہ نہ مشرقی ہوتا ہے نہ مغربی۔ بلکہ وہ جنت کا ایک ایسا عمدہ اور پاکیزہ درخت ہوتا ہے جو ہر وقت ہرا بھرا اور ترو تازہ رہتا ہے اور ہر وقت پاکیزہ پھل دیتا رہتا ہے ۔ { تُؤْتِیْ اُکُلَہَا کُلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّہَا } ۔ (ابراہیم : 25) ۔ سو اس طرح نور ایمان ان لوگوں کے سینوں کو اپنا نشیمن بناتا ہے جن کی فطرت ہر قسم کے فساد اور بگاڑ سے پاک اور محفوظ ہوتی ہے اور ان کی فطرت کا تیل غیر فطری ملاوٹوں سے ایسا پاک اور صاف ہوتا ہے کہ دعوت حق کی ذرا سی رگڑ سے پھڑک اٹھتا ہے۔ اور اس طرح فطرت کے نور کے اوپر ایمان اور ہدایت کے نور سے مومن کا سینہ نور علی نور ہوجاتا ہے۔ جس طرح کہ زیتون کے عمدہ درخت کا عمدہ تیل اپنی صفائی کی بنا پر آگ کے چھوئے بغیر ہی بھڑک اٹھتا ہے۔ 77 بےمثال چراغ کا تیل بھی بےمثال : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس چراغ کا تیل بھی ایسا عمدہ اور پاکیزہ کہ خود ہی بھڑک پڑتا ہے۔ اگرچہ اس کو آگ نے چھوا بھی نہ ہو۔ اپنی پاکیزگی اور صفائی و ستھرائی کی وجہ سے۔ سو یہی مثال ہے مومن کی فطرت سیلمہ اور حسن استعداد کی اس عظیم و بےمثل اور پاکیزہ دولت کی جو حضرت واہب مطلق ۔ جل و علا شانہ ۔ کی طرف سے اس کو عطا فرمائی جاتی ہے اور جس کو ۔ { فِطْرَۃَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَ النَّاسَ عَلَیْہَا } ۔ (الروم :30) کے ارشاد ربانی اور " کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُّوْلَدَ عَلَی الْفِطْرَۃِ " کے فرمان نبوی میں بیان فرمایا گیا ہے کہ یہی فطرت سیلمہ اور حسن استعداد اس کے چراغ معرفت کی اصل اساس ہے۔ اور اپنے اسی نور فطرت کی بنا پر مومن بسا اوقات اپنی داخلی شہادت اور فطری پکار کی بناء پر نور حق و معرفت تک رسائی حاصل کرلیتا ہے اگرچہ ابھی تک اس کو نور وحی و ہدایت کا علم نہ پہنچا ہو۔ پھر نور وحی سے یہ نور فطرت و وجدان اور بھی چمک اٹھتا ہے ۔ سبحان اللہ ۔ حضرت خالق ۔ جل مجدہ ۔ نے کیا کیا عجائب وغرائب رکھ دئیے اس انسان میں اور اس کون و مکان میں۔ اور اپنے اس عالی شان کلام حق ترجمان میں۔ سو انسان کو اللہ پاک نے اپنے کرم بےپایاں سے دو عظیم الشان نوروں سے نوازا ہے۔ ایک وہ نور فطرت جو اس کی طبیعت وجبلت میں ودیعت و پیوست فرمایا گیا ہے اور دوسرا وہ نور حق و ہدایت جس کو وہ وحی کے ذریعے عنایت فرماتا ہے۔ جس سے اس نور فطرت کی چمک دمک دوچند ہوجاتی ہے۔ ورنہ انسان کی غفلت سے نور فطرت کا اصل سرمایہ بھی ضائع ہوجاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّہٖ وَیَتْلُوْہُ شَاہِدٌ مِّنْہُ } ۔ (ھود : 17) ۔ سو نور ایمان کی فیض رسانی سے مومن صادق کا دل ڈانواں ڈال ہونے سے محفوظ ہوجاتا ہے اور اس پر خواہ کیسے ہی حالات آئیں وہ راضی و مطمئن رہتا ہے۔ اور ایسے ہی دل کو قرآن حکیم میں نفس مطمئنہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔ اور یہ سب سے بڑی دولت ہے جو انسان کو ایمان کی بدولت نصیب ہوتی ہے۔ سو ایمان صادق کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنی والی واحد دولت ہے۔ 78 نور علی نور کا مصداق : سو یہ نور علی نور یعنی نور پر نور کا مصداق ہے کہ ایک تو وہ اصل نور فطرت جو انسان کی فطرت وجبلت میں قدرت نے اپنی فیاضیوں سے ودیعت فرمایا ہوتا ہے اور دوسرا نور حق و ہدایت جو وحی خداوندی کے ذریعے انسان کو عطا فرمایا جاتا ہے۔ جس سے اس نور فطرت کو مزید جلا ملتی ہے۔ اور تیسری طرف وہ نور خداوندی جو انسان کو اس کائنات میں ہر طرف پھیلی بکھری آیات تکوینیہ و تشریعیہ میں صحیح غور و فکر سے ملتا ہے۔ جس سے اس کی قوت ایمان و یقین کو مزید جلا ملتی اور قوت حاصل ہوتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ حق کو اس کے اظہار وبیان سے پہلے ہی پہچان لیتا ہے۔ جیسا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا " اِتَّقُوْا فِرَاسَۃَ الْمُؤْمِنَ فَاِنَّہُ یَنْظُرُ بِنُوْرِ اللّٰہِ " (المراغی وغیرہ) ۔ اور اس طرح مومن صادق اپنے ایمان و یقین کی لذت سے ہمیشہ فیضیاب اور شاد کام ہوتا رہتا ہے اور اس کے پاکیزہ پھلوں سے وہ برابر اور لگاتار مستفید ہوتا رہتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { تُوْتِیْ اُکَلَہَا کَلَّ حِیْنٍ بِاِذْنِ رَبِّہَا } ۔ اور یہاں پر اس کی توضیح و تشریح کے لئے جو یہ عظیم الشان مثال بیان فرمائی گئی ہے اس میں بھی اس کی پوری وضاحت اور بیان ہے کہ جیسے ایک چراغ ہو عمدہ قسم کا جس میں تیل جلتا ہو زیتون کے مبارک درخت کا اور یہ درخت بھی ایسا عمدہ ہو کہ جو نہ شرقی ہو نہ غربی۔ سورج کی دھوپ و گرمی اور تازہ ہوا اس کو برابر ملتی ہو۔ پھر وہ چراغ بھی ایسے عمدہ فانوس اور قندیل میں ہو جو ایک چمکتے دمکتے تارے کی مانند ہو۔ جس میں اس کی روشنی اور تیز ہوجاتی ہے اور وہ فانوس اور قندیل بھی ایسے طاقچے میں رکھا ہو جہاں اسکی روشنی مجتمع اور یکجا ہونے کی وجہ سے اور بھی زیادہ تیز اور روشن ہوجاتی ہو تو ایسے نور اور روشنی کی عظمتوں کے کیا کہنے ؟ کیا نور علی نور کی اس سے بڑھ کر کوئی اور مثال ہوسکتی ہے ؟ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، کبیر، معارف اور صفوہ وغیرہ) ۔ سو مومن صادق قلب و باطن ہر اعتبار سے منور اور نور ایمان و یقین سے سرفراز و سرشار ہوتا ہے ۔ فالحمد للہ جل وعلا - 79 نور ہدایت کی دولت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ اپنے نور کی طرف ہدایت سے نوازتا ہے جس کو چاہتا ہے کہ وہی ہے جو پوری طرح جانتا ہے کہ کس کی صلاحیت و استعداد کیا ہے۔ اس کے خبایا و نوایا کیا ہیں ؟ کون کس لائق ہے اور کون اپنے اندر حق و ہدایت کے لئے طلب صادق رکھتا ہے اور کون طلب صادق کی اس دولت سے محروم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس واہب مطلق کے یہاں کی تقسیم کوئی اندھی بانٹ نہیں بلکہ وہ نہایت ہی کامل علم و حکمت پر مبنی ہوتی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ہدایت کا صلہ جب دل پہ آجاتا ہے جیسا کہ یہاں پر ہے تو اس وقت یہ لفظ توفیق اور فیض بخشی کے معنیٰ کو بھی متضمن ہوجاتا ہے۔ ہم نے اپنے ترجمے کے اندر اس مفہوم کو بین القوسین کے لفظوں سے ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ والحمدللہ ۔ سو جو لوگ ہدایت فطرت کی قدر اور اس کی حفاظت کرتے ہیں اور وہ صدق دل سے نور حق و ہدایت کے طالب اور متلاشی ہوتے ہیں، اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اپنی فیض بخشی سے ان کو نور حق و ہدایت سے نوازتا اور سرفراز فرماتا ہے۔ اور اس کے برعکس جو لوگ اس سے اعراض برتتے، منہ موڑتے اور اس کی ناقدری کرتے ہیں انکا نور فطرت بھی بجھ کر رہتا ہے۔ جسکے نتیجے میں ایسے لوگ نور علی نور کے منصہ شرف سے گر کر۔ { ظُلُمَاتٌ بَعْضُہَا فَوْقَ بَعْضٍ } ۔ کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں ڈوب کر رہ جاتے ہیں۔ اور اس کی واضح مثال یہود و نصاریٰ ہیں جنہوں نے دین حق کے قبول کرنے سے انکار و اعراض کیا۔ اور اس پر ہٹ دھرمی سے کام لیا جس کے نتیجے میں یہ لوگ قبول اسلام کی سعادت اور نور حق سے سرفرازی میں نمونہ اور قدوہ بننے کے شرف سے ہمیشہ کیلئے محروم ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم و ثابت قدم رکھے اور اپنی رضا و خوشنودی سے سرفراز ومالا مال فرمائے ۔ آمین۔ 80 توضیحِ حق کے لیے ضرب الامثال کا اہتمام : یعنی توضیحِ حق کے لیے تمثیلوں کا اہتمام چونکہ ادب و بلاغت کا ایک معروف اسلوب ہے اس لیے قرآن حکیم میں بھی اس کا اہتمام فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ لوگوں کیلئے طرح طرح کی مثالیں بیان فرماتا ہے۔ تاکہ معاملہ پوری طرح واضح ہوجائے اور اس طرح لوگ حق اور حقیقت تک رسائی حاصل کرسکیں اور معنوی وغیر محسوس چیزوں کو ان کے لئے ایسی مثالوں کے ذریعے ممکنہ حد تک محسوسات کے قریب اور سمجھنے کے لئے آسان کردیا جائے۔ اور ایسی مثالیں وہی وحدہ لاشریک بیان فرما سکتا ہے کہ وہی ہے جو حقائقِ اشیاء سے پوری طرح واقف اور آگاہ ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو وہ طرح طرح کی ایسی عظیم الشان مثالیں بیان فرماتا ہے جس سے لوگ حق اور حقیقت کو پہچان سکیں تاکہ وہ ایمان و یقین کے نور سے منور ہو کر اپنے لیے سعادت دارین کا سامان کرسکیں۔ سو تمثیلیں حق اور حقیقت کو واضح کرنے کا سب سے عمدہ اور موثر و کارگر طریقہ ہوتا ہے۔ جو لوگ اس کے بعد بھی حق کو قبول کرنے اور اپنی اصلاح کے لیے آمادہ اور تیار نہیں ہوتے وہ بڑے ہی محروم اور بدبخت لوگ ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 81 کمال علم اللہ تعالیٰ ہی کی شان ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : اس لیے کہ وہی وحدہ لا شریک سب کا خالق اور مالک ہے۔ اس لیے وہی پوری طرح جانتا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے۔ اس لئے اسی کی بیان فرمودہ مثالیں غیبی حقائق اور معنوی امور کی صحیح طور پر ترجمانی اور عکاسی کرسکتی ہیں۔ اور وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ کون کس لائق ہے اور کس کو کتنا اور کس درجے تک نوازا جائے اور اس کی مشیت اس کے علم و حکمت پر مبنی ہوتی ہے۔ وہ ہر ایک کے ظاہر اور باطن کو پوری طرح اور ایک برابر جانتا ہے۔ اور وہ ہر ایک کے ساتھ وہی معاملہ فرماتا ہے جس کا وہ اہل اور مستحق ہوتا ہے۔ اور یہ شان چونکہ صرف اسی وحدہ لاشریک کی ہے اس کے سوا اور کسی کیلئے ایسا ہونا ممکن ہی نہیں۔ اس لیے اس وحدہ لاشریک کے کسی حکم و ارشاد کی دوسری کوئی نظیر و مثال اور اس کا کوئی متبادل ممکن ہی نہیں۔ سو کمال علم اللہ تعالیٰ ہی کی صفت و شان ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اور محض اپنے فضل وکرم سے نور معرفت سے مالامال فرمائے ۔ آمین۔