Ayah 22:73135 شرک کی تردید کیلئے ایک حقیقت افروز تمثیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اے لوگو ایک عظیم الشان مثال بیان کی گئی ہے۔ پس اس مثال کو تم لوگ غور سے سنو اور کان لگا کر سنو تاکہ شرک اور مشرکوں کی حقیقت اور ان کے حال کو تم اچھی طرح جان اور پہچان سکو۔ سو جن کو تم اے مشرکو اپنا حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر پوجتے پکارتے ہو۔ وہ اتنے عاجز اور اس قدر بےبس ہیں کہ مکھی جیسی حقیر مخلوق بھی نہیں پیدا کرسکتے، اگرچہ وہ سب اس کیلئے مل کر بھی کوشش کریں اور مکھی پیدا کرنا درکنار ان کی بےبسی کا تو یہ عالم ہے کہ اگر کوئی مکھی ان کے پاس رکھی ہوئی مٹھائی وغیرہ نذر و نیاز میں سے کچھ چھین لے، تو یہ اس کو بھی اس سے چھڑا اور بچا نہیں سکتے، تو پھر ایسی بےحقیقت چیزوں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ کر پوجنا پکارنا کس قدر حماقت اور کتنی بڑی عقل دشمنی ہے، والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو تم لوگ اپنے خود ساختہ معبودوں اور فرضی مشکل کشاؤں اور حاجت رواؤں کی بےحقیقتی کے بیان سے چڑنے اور غصہ کرنے کی بجائے اس تمثیل کو کان لگا کر اور توجہ سے سنو تاکہ ان کی اصل حقیقت تمہارے سامنے واضح ہوجائے اور اس کے نتیجے میں تم کو حق کے سمجھنے اور اس کی طرف رجوع کرنے کی سعادت نصیب ہو سکے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
136{ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } کے عموم و شمول کا ذکر وبیان : سو ۔ { اَلَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہ } ۔ کا عموم ہر معبود من دون اللہ کو شامل ہے۔ خواہ وہ لکڑی پتھر وغیرہ کی کوئی بےحقیقت مورتیاں اور بےجان بت ہوں یا زندہ و مردہ دوسری کوئی ایسی ہستیاں جن کو تم نے حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر خدائی منصب پر بٹھارکھا ہو۔ کیونکہ ۔ { اَلّذِیْنَ تَدْعُوْنَ } ۔ " جن کو تم لوگ پکارتے ہو " اور { مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ } " اللہ کے سوا " کا عموم ان سب ہی کو شامل ہے ‘ نیز تجربہ و مشاہدہ اور امر واقع بھی اسی کی تائید و توثیق کرتا ہے ‘ کہ مکھی پیدا کردینا ان میں سے کسی کے بھی بس میں نہیں ‘ اس لئے اس ارشاد ربانی کے صرف بتوں میں منحصر قرار دینے کی کوئی وجہ نہیں ‘ جس طرح کہ عام طور سمجھا اور کہا جاتا ہے ‘ شاید اسی لئے یہاں پر ما کا لفظ نہیں اختیار نہیں فرمایا گیا ‘ جو کہ اصل میں اور عام طور پر غیر ذوی العقول کے لئے آتا ہے ‘ بلکہ اس کے برعکس یہاں پر الذین کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے ‘ جو کہ اصل میں اور عموماً ذوی العقول ہی کے لئے آتا ہے ۔ والعلم عند اللّٰہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اسی لئے مشہور حنفی عالم اور جلیل القدر مفسر علامہ محمود آلوسی بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ اس میں ان لوگوں کی بھی تقبیح اور مذمت ہے جو اولیاء اللہ کی محبت میں غلو کرتے ہیں ‘ اور مشکلات میں وہ ان کو اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کیلئے پکارتے ہیں ‘ اور وہ ان کیلئے نذرو نیاز پیش کرتے ہیں ‘ اور اس طرح وہ بتوں کے پجاریوں کے مشابہ قرار پاتے ہیں ‘ اور وہ کہتے ہیں کہ یہ بزرگ ہماری غائبانہ مدد کرتے ہیں ‘ اور اس کے لئے وہ مختلف شکلوں میں اپنی قبروں سے نکل آتے ہیں ‘ اور قبروں سے ہو کر بھی تصرف کرتے ہیں ‘ وغیرہ والعیاذ باللہ العظیم ‘ سو یہ سب باطل ہے ‘ جس کی نہ کتاب و سنت میں کوئی اصل ہے ‘ اور نہ سلف امت کے کلام میں ‘ یہ سب کچھ ان گمراہ لوگوں کی طرف سے افتراء ہے ‘ اور ان کی خود ساختہ و من گھڑت خرافاتَ ‘ جس سے انہوں نے لوگوں کے دین کو خراب کرنا کیا ‘ والعیاذ باللہ (روح المعانی ‘ ج 17 ص 112‘ 113 بحوالہ جواہر القرآن ج 2 ص 748) ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
137 معبودان من دون اللہ کی بےبسی کی تصویر : سو معبودان من دون اللہ کی بےبسی کی تصویر پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ اگر وہ مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے تو یہ اس کو اس سے چھڑا بھی نہیں سکتے : قدیم مفسرین کرام کا کہنا تھا کہ یہاں پر مکھی کا ذکر اس کی حقارت و مہانت کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ حالانکہ بات صرف اتنی ہی نہیں۔ ورنہ حقارت اور مہانت میں تو اور بھی کئی چیزیں اس سے بھی بڑھ کر ہوسکتی ہیں ‘ بلکہ اس میں اور بھی کئی حکمتیں اور عبرتیں ہیں ‘ جن کا احاطہ اللہ پاک کے سوا اور کوئی نہیں کرسکتا ‘ چناچہ انہی میں سے ایک یہ بھی ہے جیسا کہ اور آج کی سائنس کہتی ہے کہ مکھی کے اندر خاص طور پر یہ خاصیت پائی جاتی ہے کہ جو کچھ یہ کھاتی ہے وہ فوری طور پر اس کے اندر تحلیل ہو کر ایسا گم ہوجاتا ہے کہ اس کو اس سے اس کے نکالنے کی کوئی صورت باقی نہیں رہتی ‘ یہاں پر اعجاز قرآنی کا یہ منفرد پہلو بھی واضح رہے کہ قرآن حکیم بعض اوقات بلکہ بسا اوقات ایسا باریک اور جامع کلمہ ارشاد فرماتا ہے کہ وہ اپنے ظاہری اور عام مفہوم کے اعتبار سے ‘ صدیاں پہلے کے اس دور اور اس انسان کیلئے بھی قابل قبول اور باعث اطمینان ہوتا تھا ‘ لیکن اپنی گہرائی اور گیرائی کے اعتبار سے وہ صدیاں بعد کے اس دور اور آج کے انسان کیلئے بھی اطمینان اور قناعت کا موجب ہوتا ہے ‘ اسی کا ایک مظہر اور نمونہ یہ ارشاد خداوندی بھی ہے ۔ { وَاِنْ یَّسْلُبْہُمْ الذُّبَابُ شَیْئًا لَّا یَسْتَنْقِذُوْہُ مِنْہُ } ۔ جو کہ اپنے ظاہری اور عمومی مفہوم کے اعتبار سے صدیاں پہلے کے اس سیدھے سادھے انسان کیلئے بھی قابل فہم اور موجب اطمینان تھا لیکن اپنی گہرائی اور گیرائی کے اعتبار سے یہ آج کے ترقی یافتہ انسان کیلئے بھی موجب قناعت و اطمینان ہے ‘ فَسُبْحَانَ مِنْ کَلامِ رَبِّنَا مَا اَعْظَمَ شَانُہ ‘ وَمَا اَدَقَّ بْرَہَانُہ وبیانہ ‘ بہرکیف اس تمثیل سے ہر معبود من دون اللہ کے عجز اور ان کے بےبسی کو پوری طرح آشکار فرما دیا گیا، فالحمدللہ ۔ سو جن کی عاجزی اور بےبسی کا یہ عالم ہے کہ وہ ایک مکھی بھی نہیں پیدا کرسکتے اگرچہ وہ سب اس کے مل کر کوشش بھی کریں اور مکھی پیدا کرنا تو دور کی بات ہے ان کے اندر اس کی بھی سکت نہیں کہ اگر مکھی ان کی کوئی چیز ان سے چھین لے تو یہ اس کو اس سے چھڑا سکیں۔ تو پھر کتنے اندھے اور اوندھے ہیں وہ لوگ جو اس سب کے باوجود ایسوں کو اپنا معبود مانتے ہیں اور ان کو اپنا حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر پوجتے پکارتے ہیں۔ سو مت ماری کا نتیجہ یہی ہوا کرتا ہے کہ ان کو اتنی موٹی حقیقت اور اس قدر واضح بات بھی سمجھ نہیں آسکتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
138 کتنا کمزور ہے طالب : یعنی عابد مشرک ‘ جو کہ ایسی کمزور اور بےحقیقت چیزوں کو معبود قرار دیکر ان کے آگے جھکتا ہے ‘ اور ان کو حاجت روا و مشکل کشا جان کر ان کو اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے بلاتا پکارتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور بعض نے کہا کہ طالب سے مراد ہیں ان کے خودساختہ اور بےحقیقت معبود، جو مکھی جیسی حقیر مخلوق کو پیدا کرنا تو درکنار اس سے اپنی چھینی ہوئی مٹھائی بھی واپس نہیں لے سکتے، اور مطلوب سے مراد مکھی ہے جس سے ان کی چھینی ہوئی مٹھائی واپس لینا مطلوب ہوتی ہے، علامہ زمحشری (رح) نے اسی احتمال کو اختیار کیا ہے، (المراغی، المحاسن وغیرہ) جبکہ دوسرا قول جو کہ متبادر ہے یہ ہے کہ طالب سے مراد عابد مشرک ہے، اور مطلوب سے مراد ان کے یہ خودساختہ معبود ہیں، جن کو یہ لوگ اپنا حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر پوجتے پکارتے ہیں، (معارف و محاسن وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد میں نہایت لطیف اور بلیغ اشارہ و تلمیح ہے اس اہم اور بنیادی حقیقت کی طرف کہ انسان کسی کو معبود مانتا ہے تو اس وجہ سے مانتا ہے کہ اس سے اس کے ضعف و ناتوانی کا مداوا ہو سکے۔ لیکن ان نادانوں نے اپنا معبود ان کو بنایا جو اپنی عاجزی اور بےبسی میں ان سے بھی بڑھ کر ہیں۔ یہ اپنی خستگی کی داد اور اپنی کمزوری میں مدد ان سے چاہتے ہیں جو بیچارے اپنے اوپر سے مکھی کو بھی نہیں ہانک سکتے۔ سو کیسے وہمی اور بےبنیاد ہیں یہ لوگ ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم -
139 اور کتنا کمزور ہے مطلوب : یعنی یہ معبود من دون اللہ ‘ جو مکھی سے اپنی چھینی ہوئی چیز بھی واپس نہیں لے سکتا ‘ تو جس کا خود اپنا یہ حال ہو ‘ وہ اپنے پوجنے پکارنے والوں کے کیا کام آسکتا ہے ‘؟ سو کیسی مت مار دی گئی ان لوگوں کی جو اپنے اس قادر و قوی خالق ومالک کو چھوڑ کر جو کہ مختار کل ہے ان بےجان اور بےحقیقت ہستیوں کو اپنی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لئے پکارتے ہیں ‘ اور ان کے لئے طرح طرح کی نذریں مانتے ‘ نیازیں دیتے اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں ‘ والعیاذ باللہ العظیم سو جو لوگ ایسی بےحقیقت چیزوں کو اپنا حاجت روا و مشکل کشا مانتے ہیں، جو کہ خود اپنے اوپر سے مکھی بھی نہیں اٹھا سکتے وہ کس قدر احمق اور کتنے بدبخت ہیں، والعیاذ باللہ ۔ سو کفر و شرک کی نحوست سے انسان کی مت ایسی مار دی جاتی ہے کہ وہ ایسے جلی اور واضح حقائق کے فہم و ادراک سے بھی عاجز اور قاصر ہوجاتا ہے اور یہاں تک کہ وہ مکر و فریب اور کذب و زور کی وکالت کرنے لگ جاتا ہے اور اس طرح وہ اپنی بدبختی کے داغ کو اور پکا کرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 22:74140 اللہ جل جلالہ کی قدر نہ کرنے کا نتیجہ مہالک شرک میں گرنا ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اللہ کی قدر نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق تھا۔ ورنہ یہ اس طرح کی ان عاجز اور بےحقیقت ہستیوں کو اس کی شریک ماننے کی جسارت کبھی نہ کرتے ۔ سُبْحَانَہ ‘ وَتَعَالٰی عَمَّا یَقُوْلَُ الظَّالِمُوْنَ عُلوًّا کَبِیْرًا ۔ سو وہ ایسا قوی اور قادر مطلق ہے کہ جو چاہے کرے اور ایسا عزیز اور زبردست ہے کہ جو کچھ کرنا چاہے یا جس کو پکڑنا چاہے، نہ کوئی اس کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے اور نہ اس کے کسی ارادہ میں حائل ہوسکتا ہے، سو ایسے قادر مطلق اور قوی و عزیز رب ذوالجلال کا ایسی بےحقیقت چیزوں کو شریک ٹھہرانا کس قدر بےانصافی اور کتنا بڑا ظلم ہے، والعیاذ باللہ العزیز۔ سو اللہ تعالیٰ کی قدر اس طرح نہ پہچاننا جیسا کہ اس کا حق ہے ایسی محرومی اور بدبختی ہے کہ اس کا نتیجہ و انجام بڑا ہی ہولناک اور نہایت تباہ کن ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 22:75141 اللہ چنتا ہے اپنے پیغمبروں کو : پس رسالت و پیغمبری محض اس کا عطیہ و احسان ہے ‘ جس سے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے کہ وہی وحدہ لاشریک جانتا ہے کہ اس کی مخلوق میں سے کون ہے جو اس منصب جلیل کا اہل ہوسکتا ہے ‘ اور اس کی عظیم الشان اور جلیل القدر ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھا سکتا ہے ‘ اور باحسن وجو اس کو نبھا سکتا ہے ‘ اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہ ‘ پس اس میں بندے کے کسب و اختیار کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا ‘ بلکہ حضرات انبیا کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو نبوت ملنے تک اس کا پتہ بھی نہیں ہوتا کہ ان کو شرف نبوت سے سرفراز فرمایا جانے والا ہے ‘ جیسا کہ حضرت موسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کے قصہ سے واضح وعیاں ہے کہ حضرت موسیٰ تو کوہ طور پر آگ لینے کے لئے تشریف لے گئے ‘ مگر آگے قدرت کی فیاضیوں نے آپ کو شرف نبوت کے تاج مقدس سے سرفراز فرما دیا جیسا کہ کسی نے کہا اور خوب کہا ؎ خدا کی دین کے موسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھئے احوال ۔ آگ لینے جائیں پیغمبری مل جائے، بہرکیف اللہ تعالیٰ اپنی پیغام رسانی کیلئے اپنے رسولوں کو چنتا اور ان کو شرف نبوت و رسالت سے سرفراز فرماتا ہے، تاکہ وہ دنیا کو اپنے خالق ومالک رب ذوالجلال کی صحیح معرفت سے سرفراز کرسکیں، ورنہ محض اپنی عقل سے اور نور وحی کی روشنی کے بغیر شوائب کفر و شرک سے بچ کر رہنا اور اپنے رب کی معرفت حاصل کرلینا انسان کیلئے ممکن نہیں، سو جو لوگ نور وحی سے محروم ہیں وہ سراسر اندھیروں میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین۔
142 حضرات انبیاء و رسل اللہ کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ چنتا ہے اپنے پیغمبر فرشتوں سے بھی اور انسانوں سے بھی۔ پس انبیاء و رسل اس کی چنی ہوئی ہستیاں اور اس کے خاص بندے ہوتے ہیں ‘ جو پیغام رسانی پر مامور ہوتے ہیں ‘ نہ کہ اس کی کسی صفت و اختیار میں اس کے شریک وسہیم ‘ لہذان کو کسی خدائی صفت کا حامل قرار دے کر ان کو پوجنا پکارنا گمراہی کے سوا کچھ نہیں ‘ والعیاذ باللہ سو جن لوگوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں قرار دے کر ان کی پوجا کی، انہوں نے بڑا ہی ظلم ڈھایا اور کھلے شرک کا ارتکاب کیا۔ پس فرشتے اور حضرات انبیاء و رسل اللہ تعالیٰ کی مخلوق اور اس کے برگزیدہ بندے ہوتے ہیں، نہ کہ خدا اور خدائی صفات میں سے کسی صفت میں شریک وہ ایسے تمام تصورات سے پاک اور اعلی وبالا ہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جن نادانوں نے فرشتوں کو خدا کی بیٹیاں سمجھ کر ان کی پوجا کی یا کر رہے ہیں وہ سراسر حماقت و سفاہت میں مبتلا ہیں اور یہ ان کی جہالت اور خداوند قدوس کی شان سے بیخبر ی کا نتیجہ ہے۔ سو فرشتے اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں نہیں اس کے بندے ہیں۔ ان کو اگر کوئی مرتبہ و مقام حاصل ہے تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی پیغام رسانی کے لیے چنتا اور منتخب کرتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ جس سے ایسے حضرات کا مرتبہ و مقام تمام مخلوق میں سب سے بلند ہوجاتا ہے۔
Ayah 22:76143 اللہ تعالیٰ کے کمال علم کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ ایک برابر جانتا ہے وہ سب کچھ جو کہ ان کے آگے ہے اور جو کچھ کہ ان کے پیچھے ہے "۔ جگہ و مکان کے اعتبار سے بھی اور وقت و زمان کے لحاظ سے بھی ‘ سو اس کے بندوں اور اس کے رسولوں سے احوال میں سے کچھ بھی اس مالک الملک سے مخفی اور پوشیدہ نہیں، فرشتے نوری مخلوق میں سے بھی ہوتے ہیں اور بشر و انسان میں سے بھی، بس وہ ہوتے بہرحال انسان ہی ہیں، ان میں کسی خدائی صفت کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا، خداوند قدوس ایسے تمام شوائب سے پاک اور اعلی وبالا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے اللہ تعالیٰ کے کمال علم کے ایک پہلو کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے۔ سو فرشتے یا دوسری کوئی بھی مخلوق نہ اللہ تعالیٰ کے علم میں کسی طرح کا کوئی اضافہ کرسکتی ہی اور نہ کسی کا کوئی قول و فعل خداوند قدوس کی نگرانی اور اس کی بازپرس سے بالا ہوسکتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
144 اور اللہ ہی کی طرف لوٹائے جاتے ہیں سب کام : پس جو ہوتا ہے اسی کے اذن اور مشیت اور اسی کے حکم وارشاد سے ہوتا ہے۔ تو پھر تم لوگ اس کے سوا اوروں کے در پر ہاتھ کیوں پھیلاتے ہو ؟ پس ہوتا وہی ہے جو اس کو منظور ہوتا ہے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت میں ہے، اس کے سوا دوسرے تم کو کیا دیں گے ان کے پاس بےبسی کے سوا اور کیا ہے،۔ سو تمام امور کا رجوع اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہوتا ہے نہ کہ کسی اور کی طرف۔ خود فرشتے بھی اسی کے مامور اور اسی کے حکم کے تحت ہوتے ہیں اور جو کام ان کو تفویض ہوتے ہیں ان کی رپورٹ بھی ان کو خداوند قدوس کے حضور پیش کرنا ہوتی ہے۔ سو وہ اس وحدہ لا شریک کی خدائی میں کسی بھی درجے میں شریگ نہیں بلکہ عباد مکرمون کے شرف سے مشرف ہیں۔
Ayah 22:77145 رب کی عبادت و بندگی کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم سب اپنے رب ہی کی بندگی کرو : کہ معبود برحق وہی ہے اور ہر طرح کی عبادت و بندگی کا حق دار ‘ وہی اور صرف وہی وحدہ لاشریک ہے ‘ اور ہر کسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی بھی وہی قادر مطلق کرتا ہے ‘ اور اس کی رحمت سب کو اپنی آغوش میں لئے ہوئے ہے ‘ پس اس کے در کو چھوڑ کر اور کسی طرف جھکنا اپنے لیے ذلت اور تباہی کا سامان کرنا ہے، والعیاذ باللہ العزیز۔ بہرکیف اس آیت کریمہ میں پہلے رکوع و سجود کا حکم و ارشاد فرمایا گیا جو کہ نماز کی تعبیر ہے کہ یہ دونوں نماز کے اہم ترین ارکان ہیں اور نماز کو اس کے معروف لفظ الصلاۃ سے تعبیر کرنے کی بجائے ان دو لفظوں سے تعبیر کرنے میں یہ بلاغت ہے کہ ان سے صرف پنج وقتہ نمازوں کو انہماک کی طرف بھی اشارہ ہوتا ہے اور خاص طور پر ان سے تہجد کی نمازیں مراد ہوتی ہیں جن کا اہتمام بندہ مومن کو ان خاص ذمہ داریوں کی ادائیگی کا اہل بنانے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ جو اس کی ایمان و عقیدہ اور اس کے فرائض منصبی کی بنا پر اس پر عائد ہوتی ہیں اور ان دونوں کے ذکر کے بعد عبادت کا ذکر تخصیص کے بعد تعمیم کے قبیل سے ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 22:78146 دین حنیف میں کوئی تنگی نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس نے دین کے معاملے میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ جس سے تمہیں دین کے کسی بھی حکم پر چلنا مشکل ہو ‘ جیسا کہ پہلی امتوں میں تھا ‘ بلکہ اس نے تمہارے لئے اس دین حق میں طرح طرح کی آسانیاں رکھی ہیں ‘ سفر میں نماز آدھی کردی ‘ روزہ چھوڑنے کی اجازت دے دی ‘ بیماری کی حالت میں نماز کا قیام معاف فرما دیا ‘ اور بیٹھ کر پڑھنے کی اجازت دے دی ‘ اور اگر اس کی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹ کر اور اشارہ سے بھی ادا کرسکتے ہو ‘ پانی نہ ملنے یا استعمال نہ کرسکنے کی صورت میں تیمم کی اجازت دے دی وغیرہ وغیرہ، پس تم لوگ ہمیشہ اپنے اسی خالق ومالک کے حضور جھکے رہو اور دل و جان سے اس کی طرف رجوع کیے رہو، اور رکوع و سجود اور قیام وغیرہ کی ہر عبادت اسی وحدہ لاشریک کیلئے بجا لاؤ، سبحانہ و تعالیٰ
147 ملت ابراہیمی کی پیروی کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پیروی کرو تم لوگ اپنے باپ ابراہیم کے دین اور ان کی ملت کی۔ یعنی ملۃ کا عامل محذوف ہے جو کہ اَلْزَمُوْایا اِتَّبَعُوْا جیسا کوئی بھی امر ہوسکتا ہے، سو باپ کی ملت اور وہ بھی ابراہیم جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر باپ کی ملت سے بڑھ کر اس کی اولاد کیلئے اچھی اور محبوب ملت اور کس کی ہوسکتی ہے، پس تم لوگ اپنے باپ ابراہیم کی اس ملت صادقہ کو دل و جان سے اپناؤ کہ یہی راہ حق ہے، اور اسی میں تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے،۔ یہاں پر یہ امر بھی ملحوظ رہے کہ یہاں پر خطاب بنی اسماعیل سے ہے جو نہ صرف یہ کہ حضرت ابراہیم کی اولاد تھے بلکہ ان کو حضرت ابراہیم کی اولاد ہونے پر بڑا فخر وناز تھا۔
148 اسی اللہ نے تمہارا نام مسلمان رکھا : یعنی سما فعل کا فاعل لفظ جلالہ ہے سبحانہ و تعالیٰ (صفوۃ البیان ‘ ابن کثیر ‘ جامع البیان ‘ صفوۃ التفاسیر ‘ وغیرہ) اور بعض نے اس کا فاعل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے ‘ لیکن راحج قول پہلا ہی ہے، لیکن مروی حضرات اہل علم سے یہ دونوں ہی قول ہیں، اور جنہوں نے دوسرے قول کو اپنایا ہے ان کا کہنا ہے کہ یہ دراصل تذکیر و یاددہانی ہے حضرت ابراہیم کی اس دعا کی جو آپ (علیہ السلام) نے اپنی اولاد کیلئے فرمائی تھی، اور جو سورة بقرہ میں اس طرح وارد ہے، (البقرۃ۔ 118) اور اس نام اور اس دعا کے یاد کرانے سے مقصد مسلمانوں کو تحریک کرنا ہے کہ وہ اپنے مقصد اور اپنی ذمہ داری کو پہچانیں، لیکن اس سے کسی کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیئے کہ اسلام یا مسلمان کا لفظ سب سے پہلے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی نے استعمال فرمایا تھا، بلکہ اسلام تو تمام کائنات کی فطرت ہے،۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ولہ اسلم من فی السموات والارض طوعا و طرہا والیہ یرجعون (آل عمران : 83) ۔
149 پہلے بھی اور اس (دین) میں بھی : پس تم اپنے اس نام کی لاج رکھو اور دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک رب رحمن و رحیم کے فرمانبردار اور اس کے بندے بن کر رہو اللّھُمَّ ارْزُقْنَا التّوُفِیْقِ لِذَالِکَ وَالسَّدَادَ وَاشَّاتَ عَلَیْہِ بِکُلِّ حَالٍ مِّنَ الْاَحْوَال یامُجِیْبَ الرَّعُوَاتِ ‘ بہرکیف اسلام ہی دین حق ہے اور یہی دین فطرت ہے، جو اس پوری کائنات کا دین ہے اسی سے تمہارے رب نے تمہیں سرفراز فرمایا، اور اسی سے سرفرازی کیلئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے تمہارے لیے دعا فرمائی اور اس کا حاصل اور خلاصہ ہے صدق دل سے اپنے اس خالق ومالک کے حضور جھک جانا اور اس کا مطیع فرمان بن جانا، جس نے تمہیں نعمت وجود سے سرفراز فرمایا اور حکمتوں اور نعمتوں بھری اس کائنات کو تمہارے لیے پیدا فرمایا، اور اسی کے حضور صدق دل سے جھکنے ہی میں تمہارے لیے سعادت دارین سے سرفرازی کا سامان ہے، ورنہ محرومی ہی محرومی ہے والعیاذ باللہ العظیم،
150 شہادت علی الناس کا شرف و منصب اور اس کے تقاضے : یعنی اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو شہادت حق کے عظیم الشان منصب سے سرفراز فرمایا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ تمہارے پیغمبر تم پر گواہ ہوں اور تم سب لوگوں پر گواہی دینے والے بنو۔ سو اس طرح اس نے اپنے فضل و کرم سے تم کو خیر الامم کے شرف و منصب سے نوازا ‘ اور سب سے بہترین امت بنایا ‘ پس تمہیں ہر طرح سے اور ہر موقع پر اس کی لاج رکھنی چاہیئے ‘ کہ اس نے پہلی امتوں کو اس منصب عظیم سے معزول کرکے تم کو اس سے مشرف اور سرفراز فرمایا ہے، پس جس طرح اللہ کا رسول تم پر اللہ کے دین کی گواہی دے، اسی طرح تم لوگوں پر دین حق کے گواہ بن جاؤ، اپنی زبان وبیان سے بھی اور اپنے عمل و کردار سے بھی، کیونکہ اب قیامت تک شہادت حق کی یہ ذمہ داری تمہاری ہی ذمہ داری ہے، اور یہی تمہارے وجود کا مقصد اور تمہارے اصفاء و اجتباء کی غرض و عنایت ہے، پس تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو تاکہ اس طرح تم لوگ اپنے خالق ومالک کی ان عظیم الشان نعمتوں کا حق شکر بھی کسی حد تک ادا کرسکو، جس نے تم کو ان عظیم الشان اور جلیل القدر نعمتوں سے نوازا ہے، اور اس کے نتیجے میں تم اس کے مزید انعامات سے مشرف ہوسکو، اور تمہارا تعلق اپنے خالق اور اس کی مخلوق سب سے درست ہوسکے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
151 اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور مضبوط پکڑو اللہ [ کی رسی ] کو "۔ اس کی رسی یعنی قرآن حکیم کو مضبوطی سے تھام کر ‘ اور جملہ امور میں اس سے مدد مانگ کر (صفوۃ التفاسیر ‘ وغیرہ) کہ یہ کتاب حکیم جو اس وہاب مطلق نے محض اپنے فضل و کرم سے نازل فرمائی ہے، تمہارے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے، اور یہی وہ حبل متین ہے جسکو مضبوطی کے ساتھ تھامنے سے انسان تمام مہالک سے بچ کر اپنے خالق ومالک تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، اور دارین کی سعادت و سرفرازی اور فوز و فلاح سے بہرہ ور ہوسکتا ہے، ورنہ اندھیرے ہی اندہیرے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
152 اللہ کارساز ہے سب لوگوں کا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہی کارساز ہے تم سب لوگوں کا۔ پس بھروسہ ہمیشہ اسی وحدہ لاشریک کی حاجت روائی کارسازی پر رکھو فَکُنِ اللّٰہُمَّ لَنَا وَاجْعَلْنَا لَکَ بَکُلِّ حَالٍ مِّنَ الْاَحْوَالِ وَفِیْ کُلِّ مَوْطِنٍ مِّنَ الْمَوَاطِنِ فِی الْحَیَاۃِ ‘ فَاَنْتَ مَوْلٰنَا وَنِعْمَ الْمَوْلٰی وَنِعْمَ النَّصِیْرِ سو اس کی کارسازی ہی اصل اور حقیقی کارسازی ہے، اور کائنات کی ہر چیز کا نفع و نقصان اسی وحدہ لاشریک کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، اور بڑے خسارے اور دھوکے میں ہیں وہ لوگ جو اس وحدہ لاشریک کا در چھوڑ کر دوسرے طرح طرح کے خودساختہ اور من گھڑت حاجت رواؤں اور مشل کشاؤں کے آگے جھکتے، ذلیل ہوتے اور اپنے ہاتھوں اپنی ہلاکت کا سامان کرتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین -