22. Surah Al-Hajj

الحجThe Pilgrimage · 78 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 22:25

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ الَّذِیْ جَعَلْنٰهُ لِلنَّاسِ سَوَآءَ اِ۟لْعَاكِفُ فِیْهِ وَ الْبَادِ١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ فِیْهِ بِاِلْحَادٍۭ بِظُلْمٍ نُّذِقْهُ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۠ Open ayah 22:25 in the Quran reader

اس کے برعکس جو لوگ اڑے رہے تھے اپنے کفر وباطل پر، اور جو روکتے ہیں اللہ کے راستے سے اور اس مسجد حرام سے جس کو ہم نے اس شان کا بنایا کہ اس میں ایک برابر ہیں وہاں کا رہنے والا اور باہر سے آنے والا دونوں تو ایسے لوگ یقینا اپنے کئے کا بدلہ پا کر رہیں گے1 اور مسجد حرام تو ایسی بےمثال عظمت کی جگہ ہے کہ جو کوئی اس میں کسی بےدینی کے کام کا ارادہ بھی کرے گا ظلم و زیادتی کے ساتھ تو ہم اس کو مزہ چکھائیں گے دردناک عذاب کا۔

54 اللہ کی راہ سے روکنا ایک سنگین اور ہولناک جرم ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر اور وہ روکتے ہیں اللہ کی راہ سے۔ اور اس طرح یہ لوگ ضلال کے ساتھ اضلال کا بھی ارتکاب کرتے ہیں اور اس طرح یہ دوہرے جرم کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور ان کے اس جرم کی سنگینی کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں پر۔ { الذین کفروا } ۔ کی خبر ذکر نہیں فرمائی گئی جو کہ عربی زبان و بلاغت کا ایک معروف اسلوب ہے۔ اور بلاغت کے اس اسلوب میں یہ درس پنہاں ہوتا ہے کہ وہ خبر اتنی ہولناک اور اس قدر خطیر ہے کہ الفاظ گویا اس کا احاطہ نہیں کرسکتے اور اس کو سامع کے فہم اور اس کے اختیار پر چھوڑ دیا جاتا ہے کہ وہ جتنے سخت اور ہولناک الفاظ چاہے مقدر مان سکتا ہے۔ سو ایسے لوگوں کیلئے بڑی ہی سخت اور انتہائی ہولناک سزا مقدر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لیکن اس غافل دنیا میں کتنے ہی بدبخت ایسے ہیں جو اس ہولناک جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور دھڑلے سے کرتے ہیں۔ کل بھی کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں اور وہ طرح طرح کے ہتھکنڈوں سے دنیا کو راہ حق سے روکتے اور نور حق و ہدایت سے محروم کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے اور طرح طرح کے ابلیسی ہتھکنڈوں سے کام لیتے ہیں ۔ خذلہم اللہ وقاتلہم وجعل کیدہم فی نحورہم ۔ اللہ تعالیٰ ایسوں کے شرور سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔ 55 مسجد حرام کا مقیم اور باہر سے آنے والا ایک برابر ہیں : یعنی مسجد حرام کے اندر عبادت کرنے میں یا پورے حرم میں رہنے سہنے کے اعتبار سے یہ دونوں ایک برابر ہیں۔ حضرات اہل علم سے اس بارے یہ دونوں قول مروی و منقول ہیں۔ اور اسی بناء پر مکہ کی زمین اور وہاں کی دکانوں، مکانوں کے بیچنے خریدنے اور کرایہ لینے کے بارے میں بھی حضرات اہل علم کے درمیان اختلاف ہے۔ اور اس بارے ان کے دو قول ہیں۔ بعض کے نزدیک یہ جائز ہے اور بعض کے نزدیک یہ جائز نہیں۔ بلکہ بعض روایات میں اس بارے سخت تشدید وارد ہوئی ہے۔ مثلاً حضرت عبداللہ بن عمرو ؓ سے مرفوعاً مروی ہے کہ جس نے مکہ کے گھروں کا کرایہ کھایا اس نے آگ کھائی۔ اس لئے حضرت عمر ؓ نے مکہ مکرمہ میں گھروں کے دروازے لگانے سے منع فرمایا دیا تھا۔ اس لئے شروع میں وہاں پر گھروں کے دروازے نہیں ہوتے تھے تاکہ حاجی صاحبان جہاں چاہیں اتریں اور جہاں چاہیں ٹھہریں۔ لیکن بعد میں جب چوریاں چکاریاں ہونے لگیں تو سب سے پہلے سہیل بن عمرو نامی ایک شخص نے اپنے گھر کے دروازے لگا دئیے۔ حضرت عمر۔ ؓ ۔ کو جب اس کا علم ہوا تو آپ ؓ نے اس شخص سے باز پرس کی اور فرمایا کہ کیا تم اس حرم کی حدود میں مکان بند کرتے ہو جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ " اس میں وہاں کا رہنے والا اور باہر سے آنے والا دونوں ایک برابر ہیں " ؟ تو اس شخص نے جواب دیا کہ نہیں حضرت بلکہ میں نے یہ کام اس لئے کیا تاکہ ان حضرات کے سامان کی حفاظت ہو سکے۔ اس کے بعد دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا دیکھی اپنے گھروں کے دروازے لگانے شروع کر دئیے۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، وجیز، خازن، جمل اور جامع وغیرہ) ۔ بہرکیف یہ مسئلہ اختلافی ہے ۔ والتفصیل مع ترجیح الراجح فی التَّفْسِیْرِ المفصَّل ان شاء اللّٰہ والعلم عند اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ جس مسجد حرام کی عظمت شان کا عالم یہ ہو اس سے لوگوں کو روکنا کتنا بڑا جرم ہے۔ مگر کتنے ہی بدبخت ایسے ہیں جنہوں نے اس جرم کا ارتکاب کیا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اور ہر طرح سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 22:26

وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِیْمَ مَكَانَ الْبَیْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِیْ شَیْئًا وَّ طَهِّرْ بَیْتِیَ لِلطَّآئِفِیْنَ وَ الْقَآئِمِیْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ Open ayah 22:26 in the Quran reader

اور وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ جب ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اس گھر یعنی خانہ کعبہ کی نشاندہی کردی تھی اس کے حکم کے ساتھ کہ میرے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہیں ٹھہرانا اور پاک رکھنا میرے گھر کو اس کے گرد طواف کرنے والوں قیام کرنے والوں اور رکوع وسجود کی عبادات بجا لانے والوں کے لئے

56 بیت اللہ کو پاک رکھنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور پاک رکھنا میرے گھر کو "۔ ظاہری اور باطنی ہر طرح کی نجاستوں سے۔ چناچہ اللہ پاک کا یہ گھر جو ہزاروں سال سے دنیا بھر کا مرکز و مرجع بنا ہوا ہے اور جس میں دن رات کے چوبیس (24) گھنٹے لگاتار و مسلسل اور ہر طرح سے اللہ تعالیٰ کی عبادت و بندگی ہوتی رہتی ہے آج تک ظاہری و باطنی ہر طرح کی نجاستوں سے پاک و صاف ہے۔ نہ اس میں کسی طرح کی کوئی ظاہری ناپاکی پائی جاتی ہے نہ کفر و شرک وغیرہ کی کوئی باطنی ناپاکی۔ جیسا کہ ہمارے برصغیر کے مختلف ملکوں کی خانقاہوں اور درگاہوں میں ہوتا ہے۔ جہاں طرح طرح کے شرکیہ امور کا ارتکاب ہوتا ہے جو کہ سب سے بڑی معنوی اور باطنی گندگی ہے۔ اور اس کے علاوہ وہاں پر طرح طرح کی حیا سوز حرکتیں کی جاتی ہیں۔ جہاں چرس پی جاتی ہے۔ بھنگ کے رگڑے لگتے ہیں۔ مختلف قسم کے نشوں کے مرغولے اٹھتے ہیں اور غلاظت میں ڈوبے چرسیوں اور بھنگیوں کے ٹھٹھ لگے ہوتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ اور یہ سب کچھ اس کثرت اور کھلے عام کیا جاتا ہے کہ گویا کہ یہ بزرگی و ولایت کے لوازم میں سے ہے ۔ الا ماشاء اللہ والعیاذ باللہ جل علا ۔ مگر حرم شریف کا بقعہ طاہرہ اس طرح کی تمام آلائشوں اور ان کے جملہ شوائب تک سے پاک و صاف ہے۔ آج تک ایسے ہی ہے اور انشاء اللہ العزیز قیامت تک ایسے ہی رہے گا ۔ والحمدللہ رب العالمین ۔ بہرکیف حضرت ابراہیم کو جب اس خانہ مطہرہ کی نشاندہی حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے فرمائی گئی تو ان کو بطور خاص ہدایت فرمائی گئی کہ میرے ساتھ کسی طرح کا کوئی شرک نہیں کرنا اور میرے اس گھر کو ہمیشہ پاک صاف رکھنا اس کا طواف کرنے والوں کے لیے۔ اور وہاں پر قیام اور رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے۔ سو اس سے ایک طرف تو شرک کی خطورت اور اس کی سنگینی واضح ہوجاتی ہے کہ آنجناب کو سب سے پہلے اسی سے متعلق یہ ہدایت فرمائی گئی اور دوسری طرف اس سے طہارت اور پاکیزگی کی عظمت و اہمیت واضح ہوجاتی ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ وہو العزیز الوہاب جل جلالہ وعم نوالہ -
Ayah 22:27

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍۙ Open ayah 22:27 in the Quran reader

اور اعلان کردو لوگوں کے درمیان حج کا، کہ اسکے نتیجے میں وہ تمہارے پاس چلے آئیں گے پیدل بھی اور طرح طرح کی ان پتلی دبلی اونٹنیوں اور دوسری قسما قسم کی سواریوں پر بھی جو چلی آئیں گی ہر دور دراز مقام سے2

57 حضرت ابراہیم کو اعلانِ حج کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور اعلان کردو لوگوں کے درمیان حج کا "۔ یعنی اس بات کا کہ لوگوں کے ذمے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے اس گھر کا حج فرض ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَلِلّٰہِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعِ اِلَیْہِ سَبِیْلاً } ۔ (آل عمران : 97) ۔ روایات میں ہے کہ اس موقع پر حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے عرض کیا کہ مالک، میری آواز کہاں تک پہنچے گی۔ فرمایا تم آواز لگاؤ پہنچانا ہمارے ذمے ہے۔ چناچہ آپ (علیہ السلام) نے جبل ابوقبیس پر چڑھ کر آواز لگائی تو اللہ پاک نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے یہ آواز تمام بنی نوع انسان کو پہنچا دی۔ اور اس طرح پہنچائی کہ قیامت تک آنے والے جن جن خوش نصیبوں کو حج کی سعادت نصیب ہونا تھی ان سب نے اس پر لیبک کہا۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح، قرطبی، مدارک، خازن، فتح القدیر، صفوۃ التفاسیر اور معارف وغیرہ) ۔ اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں نے اپنی معروف ذہنیت اور طبعی افتاد کے مطابق اس موقع پر یہ گوہر افشانی کی کہ اس سے معلوم ہوا کہ دور سے غائبانہ ندا جائز ہے۔ لہذا ہم " یا رسول اللہ " کہہ سکتے ہیں۔ دیکھا کہاں کی بات کہاں جا کر جوڑی ؟ اس کو کہتے ہیں " ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ " اور اس کو کہتے ہیں " بھوکے کی صدا دو اور دو چار روٹیاں " اور اس کو کہتے ہیں " کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، بھان متی نے کنبہ جوڑا "۔ بھلا ان سے کوئی پوچھے کہ کیا حضرت ابراہیم (علیہ الصلوۃ والسلام) کا یہ پکارنا استغاثہ و استمداد کیلئے تھا ؟ اور کیا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حج کی فرضیت کے اس اعلان کے ذریعے دنیا بھر کے لوگوں سے مدد مانگ رہے تھے ؟ اور جب ایسا نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر اس کو اہل بدعت کی اس مشرکانہ نداء و پکار سے کیا نسبت اور کیا تعلق ہوسکتا ہے جس سے وہ اللہ تعالیٰ کے سوا اوروں سے استغاثہ و استمداد کے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں ؟ اگر تمہیں اتنا بھی پتہ نہیں اور تم ان دونوں نداؤں کے درمیان موجود اس بون بعید اور بعد المشرقین کو بھی نہیں جانتے تو تمہیں کیا حق پہنچتا ہے کہ تم قرآن حکیم کی تفسیر کی جرات کرو اور اپنے تئیں بڑے بڑے القاب کا دعوی کرو۔ اور اگر تم نے جان بوجھ کر اتنا بڑا دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے تو یہ کس قدر ظلم اور خیانت ہے ؟ اور تحریف معنوی کی یہ کتنی بڑی اور کس قدر کھلی مثال ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 58 حضرت ابراہیم کی دعوت و پکار کا نتیجہ : یعنی تم تو کہتے ہو کہ میری آواز کہاں اور کیسے پہنچے گی اور سوچتے ہو کہ اس غیر آباد و بیابان وادی بےآب وگیاہ ۔ { غیر ذی زرع } ۔ میں کون آئے گا۔ کیوں آئے گا اور کیسے آئے گا۔ لیکن ہم کہتے ہیں کہ تم آواز لگاؤ پھر ہماری قدرت کی کرشمہ سازی دیکھو کہ یہ آواز کہاں پہنچتی ہے اور یہاں پر کہاں کہاں کی اور کیسی کیسی دنیا کھچ کھچ کر آتی ہے اور کس قدر شوق و محبت اور وارفتگی کے ساتھ آتی ہے اور ہمیشہ آتی رہے گی۔ چناچہ ایسے ہی ہوا۔ حضرت ابراہیم خلیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اپنے رب کے حکم کے مطابق جبل ابوقبیس یا کسی اور بلند پہاڑی پر ۔ علی اختلاف الاقوال ۔ چڑھ کر بغیر لاؤڈ سیپکر وغیرہ کے کسی ظاہری اور مصنوعی آلہ کے سہارے کے آواز لگائی تو ربِّ قدیر کی قدرت مطلقہ سے وہ آواز وہاں وہاں پہنچی جہاں ہمارا تصور بھی نہیں پہنچ سکتا۔ سو دیکھو کہ حضرت قادر مطلق کی قدرت کاملہ کی کرشمہ سازی اور اس کے اس وعدئہ و ارشاد کی صداقت کس کس طرح چمک دمک کر سامنے آئی اور ہزاروں سال سے آج تک برابر آرہی ہے کہ وہ خانہ خدا دن رات کے چوبیس گھنٹے کے دوراینے میں کبھی ایک منٹ سکینڈ اور لمحہ و پل بھر کے لئے بھی عشاقان دید و زیارت سے خالی نہیں ہوتا اور ہزاروں سال پہلے کے اونٹوں کی معروف واصیل سواری کے علاوہ زمانہ حال کی ترقی کے مطابق بسوں، کاروں، ریل گاڑیوں اور ہوائی و بحری جہازوں کے ذریعے اطراف و اَکناف عالم سے ایک دنیا کی دنیا بصد شوق و اضطراب کچھی کی کچھی وہاں چلی آرہی ہے۔ اور ایسی کہ پورا سال یہ سلسلہ جاری وساری رہتا ہے۔ اور اس حد تک کہ حج کے دنوں میں مکہ کی گلیوں بازاروں میں، منٰی کی پہاڑیوں اور گزرگاہوں میں اور عرفات و مزدلفہ کے میدانوں میں کہیں قدم رکھنے کی جگہ نہیں ملتی۔ ایک دنیا ہے کہ ننگے پاؤں، برہنہ سر اور پرا گندہ بال امڈی چلی آرہی ہے ۔ سبحان اللہ ۔ کیا سوز و گداز اور کس قدر صدق و اخلاص اور کیسی کشش و تاثیر تھی حضرت ابراہیم خلیل ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ۔ کی اس سیدھی سادی آواز میں جس سے انہوں نے اپنے خالق ومالک کے حکم کی تعمیل میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے اس گھر کی حاضری و زیارت کی دعوت دی ؟ اور کیا شان ہے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے نوازنے اور کرم فرمانے کی۔ کیسے کیسے طریقوں اور کس کس طرح سے وہ اپنے بندوں کو اپنی رحمتوں اور عنایتوں سے نوازتا ہے ۔ جل جلالہ وعم نوالہ ۔ مالک اپنے اس بندئہ ظلوم و جہول، عاصی و خجول، کاتب سطور کو بھی اپنی شان کریمی سے حضرت ابراہیم خلیل کے اس صدق و اخلاص اور اپنی اس بخشش وعطاء کے کسی شمے سے نواز دے کہ تیری تو شان ہی نوازنا ہے۔ لگاتار و مسلسل نوازنا۔ بےحد و حساب اور بےگمان نوازنا ۔ تو عطاء من گدا تو کجا من کجا ۔ اے میرے رب جو کہ حَیِّی وسِتّیر اور کریم و وہاب ہے میرے ہاتھوں کو خالی نہ لوٹانا ۔ اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں کی چادر میں لپیٹ دے مجھے بھی اور میرے بیوی بچوں کو بھی اور دوسرے خصوصی تعلقداروں کو بھی ۔ آمین ثم آمین ۔ یا اَرْحم الراحمین و یا اکرم الاکرمین ۔ { بِیَدِہٖ مَلَکُوْتُ کُلِّ شَیْئٍ وَہُوَ یُجِیْرُ وَلاَیُجَارُ عَلَیْہِ } ۔ بہرکیف حضرت ابراہیم کو ارشاد ہوا کہ آپ لوگوں کے درمیان حج کی فرضیت اور اس کیلئے بیت اللہ کی حاضری کی آواز لگاؤ۔ دنیا خود تمہارے پاس کھچی کی کھچی چلی آئیگی۔ اور ایسے ہی ہوا اور ہورہا ہے۔ سو بندے کا کام ہے کہ بےچوں وچرا اپنے رب کے حکم وارشاد پر عمل کرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 59 لفظِ { ضامر } کا معنیٰ و مفہوم ؟ : " ضامر " کا اطلاق مذکر و مونث دونوں پر ہوتا ہے۔ (جلالین، جمل وغیرہ) ۔ اسی لئے بعض حضرات نے اس کا ترجمہ اونٹوں سے کیا ہے اور بعض نے اونٹنیوں سے۔ دونوں ترجمے درست اور صحیح ہیں۔ ہم نے اپنے ترجمہ میں دوسرے احتمال کو اختیار کیا۔ ایک تو اس کے بعد آنے والے لفظ { یاتین } کی رعایت سے جو کہ مونث کا صیغہ ہے۔ اور دوسرے بین القوسین اپنے اضافہ کردہ لفظ سواریوں کی مناسبت سے۔ اور " ضامر " کو مذکر یعنی اونٹوں کے معنی میں لیا جائے تو اس صورت میں صیغہ " یاتین " کی صفت معنیٰ کے اعتبار سے ہوگی۔ کیونکہ { کل ضامر } جماعت کے معنیٰ میں ہے جو کہ ظاہر ہے مونث ہے۔ اور دوسری قراءت میں " یاتون " بھی آیا ہے جو کہ مذکر کا صیغہ ہے۔ اس صورت میں یہ صفت ہوگی " رجال " و " رکبان " کی یا " ناس " کی۔ (محاسن، جمل، فتح وغیرہ) ۔ اور " ضامر " اس اونٹ یا گھوڑے کو کہتے ہیں جو کہ دور دراز کی سفری مشقت وغیرہ کی وجہ سے کمزور ہوگیا ہو۔ سو دنیا ہر طرف سے اس کی طرف کھنچتی چلی آر ہی ہے۔ 60 بیت اللہ کی شان محبوبیت کا عالم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابراہیم ایسی مختلف سواریاں ہر طرف سے دور دراز کی مختلف مسافتیں طے کر کے وہاں پہنچیں گی۔ اپنے اس ایمان و یقین اور شوق و ذوق کی بناء پر جو کہ ان کے دلوں میں موجود و موجزن ہوگا اور جسکے لئے حضرت ابراہیم نے دعا کی تھی ۔ { فَاجْعَل افَْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیْ اِلَیْھِمْ } ۔ (ابراہیم :37) سو اس دعائے ابراہیمی کے نتیجہ میں بیت اللہ کو ایسی شان محبوبیت نصیب ہوگئی اور لوگوں کے دل اس کے ایسے گرویدہ ہوگئے کہ چاروں طرف سے اس کی طرف کھچے چلے آتے ہیں اور ہر قسم کی سواری کے ذریعے وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس راہ میں پیش آنے والی ہر صعوبت و پریشانی اور مشکل و رکاوٹ کو وہ خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں اور یہ سلسلہ ہزاروں سال پہلے سے لیکرآج تک ایک برابر قائم اور جاری وساری ہے۔ اور ہر سال حج کے موقعہ پر ایک ایسا عجیب و غریب روح پرور منظر دنیا کو دیکھنے کو ملتا ہے کہ پوری روئے زمین پر اس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ پائی جاتی ہے اور نہ پائی جانی ممکن ہے۔ اور زیارت بیت اللہ کا یہ سلسلہ مطہرہ سال کے بارہ مہینے اور مہینے کے تیس دنوں میں اور دن کے چوبیس گھنٹوں میں ہمیشہ اور ہر موسم میں بغیر کسی انقطاع کے لگاتار جاری رہتا ہے ۔ فالحمد للہ رب العالمین -
Ayah 22:28

لِّیَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ یَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِیْۤ اَیَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآئِسَ الْفَقِیْرَ٘ Open ayah 22:28 in the Quran reader

اور یہ لوگ وہاں اس لئے آئیں گے تاکہ یہ آموجود ہوں طرح طرح کے اپنے ان فائدوں کے لئے جو ان کے لئے وہاں رکھے گئے ہیں اور تاکہ یہ اللہ کا نام لیں چند مقررہ دنوں ان چوپایوں پر جو کہ اس نے اپنے فضل وکرم سے ان کو عطاء فرمائے ہیں پس کھاؤ تم لوگ ان کے گوشت میں سے خود بھی اور کھلاؤ ان میں سے تنگ حال محتاجوں کو بھی

61 حج کی دنیوی برکات و منافع کا ذکر : سو حج کی دنیاوی برکات و منافع کے ذکر کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ یہ سب حاضر ہوں اپنے طرح طرح کے فائدوں کیلئے جو کہ دنیوی بھی ہیں اور اخروی بھی۔ دنیوی یہ کہ اس میں طرح طرح کی تجارت کے بڑے مواقع ہوتے ہیں جو کہ بالا جماع جائز ہے۔ جبکہ تجارت کو مقصود اصلی نہ بنایا جائے۔ بلکہ یہ اس لحاظ سے مستحسن بھی ہے کہ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں۔ اور اس میں مسلمانوں کی اقتصادی قوت کے حصول کے مواقع بھی ہیں۔ نیز اس میں دنیا بھر سے آئے ہوئے اپنے مسلمان بھائیوں سے ملنے ان سے متعارف ہونے اور ان کے دکھ درد سننے اور احوال جاننے کا موقع ملتا ہے۔ نیز قربانیوں کے گوشت کھانے کھلانے اور اس طرح ثواب کمانے کا موقع بھی ملتا ہے۔ اور حج کی اس عظیم الشان عبادت سے بہرہ ور ہونے کی سعادت نصیب ہوتی ہے جو کہ بدنی اور مالی دونوں عبادتوں اور ان کی برکات کی جامع عبادت ہے اور اخروی فوائد یہ کہ اپنے گناہوں کی بخشش اور رب کی رضا مندی نصیب ہوتی ہے جو کہ سب بڑا، حقیقی اور اصلی مقصد ہے کہ انسان گناہوں سے پاک صاف ہوجاتا ہے ۔ والمزید من التفصیل ِفی المفصَّل ان شاء اللّٰہ - 62 ایام معلومات ۔ مقررہ دنوں ۔ سے مقصود و مراد ؟ : اکثر حضرات اہل علم کے نزدیک ان مقررہ دنوں سے مراد عشرہ ذی الحجہ کے دس دن ہیں۔ اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد ایام تشریق ہیں۔ اور کچھ دوسرے اقوال بھی ہیں۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان خاص دنوں کے اندر وہ اللہ کے نام پر اور اسی کی رضا کیلئے قربانی کریں۔ سو جس طرح دنیاوی کاموں میں سے بہت سے کاموں کیلئے مختلف اوقات اور موسم مقرر ہوتے ہیں اور انہی اوقات و مواسم میں ان کاموں کو بجا لانے سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔ جیسے فصلوں کی بیجائی کا خاص مواسم اور خاص اوقات میں انجام دینا وغیرہ۔ اگر ان خاص اوقات اور مواسم کا لحاظ نہ رکھا جائے تو مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوسکتے۔ اسی طرح قربانی کے مطلوبہ نتائج بھی پوری طرح تب ہی حاصل ہوسکتے ہیں جبکہ اس کو انہی مقرر دنوں میں ادا کیا جائے جو قدرت نے اس کیلئے مقرر فرمائے ہیں۔ 63 قربانی کا گوشت خود کھانے اور دوسروں کو کھلانے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " پس تم ان سے خود بھی کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ "۔ تاکہ اس طرح اللہ کی بخشی ہوئی نعمتوں کی قدر دانی بھی ہو اور رسوم جاہلیت اور رہبانیت مخترعہ کی تردید بھی۔ کیونکہ رہبانیت میں ایسے تمام لذائذ سے اپنے آپکو محروم اور دور رکھنا ضروری ہوتا ہے۔ اور مشرک لوگ اپنے بتوں کے نام پر ذبح کیے گئے جانوروں کا گوشت خود نہیں کھایا کرتے تھے۔ اس لیے فرمایا کہ تم قربانی کے ان جانوروں کے گوشت میں سے خود بھی کھاؤ اور دوسرے ضرورتمندوں اور محتاجوں کو بھی کھلاؤ۔ سو قربانی کے گوشت میں سے کھانا مستحب ہے لازم و واجب نہیں۔ اور اسکا گوشت صرف غریبوں ہی کو کھلانا ضروری نہیں، امیر بھی اس میں سے کھاسکتے ہیں۔ (معارف وغیرہ) ۔ اور ارشاد فرمایا گیا کہ اس بنا پر کہ وہ ان کو اللہ ہی نے دیے بخشے ہیں اور جب بخشش وعطاء اسی وحدہ لاشریک کی ہے تو ان کو ذبح بھی اللہ ہی کے نام سے کرو کسی اور کے نام سے ان کو ذبح کرنا جائز نہیں کہ ایسا کرنا اللہ تعالیٰ کی ناشکری اور شرک ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 22:29–30

ثُمَّ لْیَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْیُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْیَطَّوَّفُوْا بِالْبَیْتِ الْعَتِیْقِ Open ayah 22:29 in the Quran reader

پھر قربانی کے بعد لوگوں کو چاہیے کہ وہ دور کریں اپنا میل کچیل، اور طواف کریں رحمتوں اور برکتوں بھرے اس قدیم گھر کا یہ بات جو کہ حج کے بعض احکام سے متعلق ہوچکی

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَیْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ وَ اُحِلَّتْ لَكُمُ الْاَنْعَامُ اِلَّا مَا یُتْلٰى عَلَیْكُمْ فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَ اجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِۙ Open ayah 22:30 in the Quran reader

اور اب مزید سنو کہ جو کوئی تعظیم و تکریم کرے گا اللہ کی قائم کردہ حدوں کی تو وہ خود اسی کے لئے بہتر ہوگا اس کے رب کے یہاں1 اور حلال قرار دے دئیے گئے تمہارے لئے سب چوپائے جو اس نے اپنے کرم سے تمہیں بخشے ہیں سوائے ان چند ایک کے جو تمہیں پڑھ کر سنائے جاتے ہیں پس تم لوگ بچو اور دور رہو بتوں کی گندگی سے اور بچو جھوٹی بات سے2

64 پھر وہ دور کریں اپنے میل کچیل کو : جو کہ احرام کی پابندیوں کی وجہ سے ان پر چڑھ گئی تھی۔ سو حلق و قصر کرا کر اپنی زلفیں اور ناخن وغیرہ ترشوا کر اور نہا دھو کر اس تمام میل کچیل سے صاف ہوجائیں۔ اور امید رکھیں کہ انشاء اللہ ان سے گناہوں کی میل بھی اسی طرح صاف ہوگئی ہوگی جس طرح کہ جسمانی میل صاف ہوگئی ہے۔ کہ حج بیت اللہ کی اس عظیم الشان عبادت کی اس خاصیت اور تاثیر کے بارے میں حضرت نبی ٔ معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) نے تصریح فرمائی ہے کہ حج سے پچھلے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں ۔ " الحَجُّ یَہْدِمُ مَا کَانَ قَبْلَہ " ۔ اور اسی بناء پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ حج مبرور کی جزاء جنت کے سوا کچھ نہیں ۔ " الحجُّ الْمَبْرُوْرُ لَیْسَ لَہ جَزَائٌ اِلَا الْجَنَّۃ " ۔ بہرکیف حج کے دنوں میں چونکہ انسان احرام کی پابندیوں کی وجہ سے میلا کچیلا رہتا ہے اور یہی بات اللہ تعالیٰ کو پسند بھی ہے کہ ان خاص دنوں میں انسان میلا کچیلا ہی رہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں ارشاد فرمایا گیا ۔ " الحج الشعث التفل " ۔ کہ " حج نام ہی پراگندہ بال اور میلا کچیلا رہنے کا ہے " لیکن حج کی پابندیوں سے فارغ ہونے کے بعد انسان نہا دھو کر صاف ستھرا ہوجائے۔ اسی لیے یہاں پر اس کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے ۔ والحمد للہ جل وعلا - 65 بیت عتیق کے طواف کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور وہ طواف کریں اس قدیم گھر کا " جو کہ روئے زمین پر سب سے پہلے اللہ پاک کی عبادت و بندگی کے لئے بنایا گیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّ اَوَّلَ بَیْتٍ وُّضِعَ للنَّاسِ لَلَّذِیْ بِبَکَّۃَ مُبَارَکًا وَّہُدًی لِّلْعَالَمِیْنَ } ۔ (آل عمران : 96) یہ " عتیق " کا ایک معنیٰ ہے جبکہ اس کے دوسرے معنیٰ " آزاد " کے بھی آتے ہیں۔ اور یہ معنیٰ بھی یہاں مراد لئے جاسکتے ہیں کہ اللہ پاک نے اپنے اس مقدس گھر کو ہر قسم کے ظالم اور جابر حکمرانوں کے غلبہ و تسلط اور ظلم وعدوان سے ہمیشہ محفوظ اور پاک و صاف رکھا اور جس کسی نے بھی کبھی اس کی طرف بری نیت سے قدم اٹھایا اس کا ایسا حشر کیا کہ جو ہمیشہ کے لئے دوسروں کے لئے درس عبرت بن گیا۔ جیسا کہ اصحاب الفیل کے نام و عنوان سے ایسے بدبختوں کا قصہ اور ان کا ہولناک اور عبرت انگیز انجام مشہورو معروف ہے۔ اور مسلمان حکمرانوں میں سے جس کو بھی اس کی خدمت کا موقع ملا اس نے اس کو اپنے لئے فخر اور سعادت دارین کا ذریعہ سمجھا۔ یہاں تک کہ سعودی عرب کے موجودہ فرماں روا ملک فہد بن عبد العزیز نے اپنے آپ کو " جلالۃ الملک " کی بجائے " خادم الحرمین الشریفین " کہلانا ہی زیادہ پسند کیا۔ چناچہ آپ کو اسی وصف و لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ نیز اس گھر کو " عتیق " اس لئے بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا طواف کرنے والے دوزخ کی آگ سے آزاد ہوجاتے ہیں۔ بہرکیف لفظِ " عتیق " کا اطلاق ان دونوں معنوں پر ہوتا ہے۔ قدیم اور آزاد۔ اور یہ دونوں ہی اس بیت مقدس پر صادق آتے ہیں اور اس پر منطبق ہوتے ہیں۔ حضرات مترجمین کرام میں سے کسی نے ایک معنیٰ کو اختیار کیا ہے اور کسی نے دوسرے کو۔ بہرکیف یہاں پر حجاج کرام کو حکم وارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہ اس گھر کا طواف کریں اور یہ طواف زیارت اور طواف افاضہ کہلاتا ہے جو کہ حج کا ایک اہم رکن ہے۔
Ayah 22:31

حُنَفَآءَ لِلّٰهِ غَیْرَ مُشْرِكِیْنَ بِهٖ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَكَاَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآءِ فَتَخْطَفُهُ الطَّیْرُ اَوْ تَهْوِیْ بِهِ الرِّیْحُ فِیْ مَكَانٍ سَحِیْقٍ Open ayah 22:31 in the Quran reader

اس طور پر کہ تم خاص اللہ کے ہو کر رہو اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ کہ شرک بغاوت اور ناقابل معافی جرم ہے اور جس نے شرک کیا اللہ کے ساتھ تو وہ گویا گرگیا آسمان کی بلندیوں سے اور اس کو بوٹی بوٹی کرکے اچک لیا پرندوں نے یا اس کو پھینک دیا ہوا نے کسی ایسی دور دراز جگہ میں جہاں اس کے چیتھڑے اڑ جائیں

66 شرک کی ہلاکت و تباہی کی ایک واضح اور عبرتناک تمثیل : سو مشرک آسمان توحید کی بلندیوں سے گر کر شرک کے قعر مذلت میں اس بری طرح سے اوندھے جا پڑتا ہے کہ خواہشات نفس مردار خور پرندوں کی طرح اس کی بوٹیاں نوچ نوچ کر کھاتی ہیں۔ اور اس کو گھسیٹ گھسیٹ کر کبھی کسی کھڈے میں جا گراتی ہیں اور کبھی کسی میں۔ اور یہ جگہ جگہ اور طرح طرح سے ذلتوں پر ذلتیں اٹھاتا ہے۔ اور دوسری طرف شیطانی اوہام و وس اس اور شکوک و شبہات کی تند و تیز ہوائیں اس کو دور دراز کی کبھی کسی وادی میں اور کبھی کسی گھاٹی میں اس بری طرح پٹختی ہیں کہ اس کے چیتھڑے اڑ جاتے ہیں اور یہ نور حق و ہدایت سے کلی طور پر محروم ہو کر دائمی ہلاکت و تباہی کے ہاوئے میں جا گرتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ مشرک کی زبوں حالی اور اس کی ہلاکت و تباہی کی ایک بڑی واضح اور موثر تمثیل ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو آدمی شرک کا ارتکاب کر کے اپنے مرکز سے کٹ جاتا ہے اور جب وہ مرکز سے کٹ گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو پھر کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کس شیطان کے ہتھے چڑھ کر ہلاکت و تباہی کے کس گہرے کھڈے میں جا گرتا ہے۔ وہ ایک بےلنگر کے جہاز کی طرح ہوجاتا ہے جو ہر چٹان سے ٹکراتا ہے۔ وہ ایک کٹی ہوئی پتنگ کی طرح ہوجاتا ہے جس کو ہوا اڑا کر جگہ جگہ پٹختی ہے۔ سو توحید سے محرومی کے بعد انسان اسی طرح جگہ جگہ ذلیل و خوار ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ شرک کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayah 22:32

ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ یُّعَظِّمْ شَعَآئِرَ اللّٰهِ فَاِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوْبِ Open ayah 22:32 in the Quran reader

یہ بات بھی بطور ایک قاعدہ کلیہ کے ہوچکی اور مزید سنو کہ جس نے تعظیم و تکریم کی اللہ کے مقررہ کردہ شعائر اور اس کی قائم فرمودہ یادگاروں کی تو یقینا یہ بات دلوں کے تقوی میں سے ہے۔

67 " شعائر اللہ " کا مفہوم اور اس سے مراد ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا " جس نے تعظیم کی اللہ کے شعائر کی " یعنی ایسی مقدس یادگاروں کی جو ایک طرف تو اس وحدہ لاشریک کی عظمت شان اور جلالت قدر کا پتہ دیتی ہیں اور دوسری طرف وہ اس کے بندوں کو اپنے خالق ومالک کے حضور صدق و اخلاص اور خشوع و خضوع کے ساتھ جھک جانے کا درس دیتی ہیں۔ " شعائر "، " شعیرہ " یا " شعارہ " کی جمع ہے۔ (الجمل وغیرہ) جس کے معنیٰ علامت اور نشانی کے آتے ہیں۔ اور شعائر اللہ سے مراد ہر وہ چیز ہے جس کے کرنے اور بجالانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہو اور اس سے اس نے اپنے بندوں کو باخبر کردیا ہو۔ (صفوۃ البیان فی معانی القرآن) ۔ سو دین حق کے وہ تمام احکام جو اس کے لئے علامت کی حیثیت رکھتے ہوں " شعائر اللہ " میں داخل ہیں۔ اور ان کی تعظیم کا مطلب یہ ہے کہ ان کو اسی طرح بجا لایا جائے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہو۔ (صفوۃ البیان، معارف القرآن، فتح القدیر وغیرہ) ۔ اہل بدعت کے بعض تحریف پسندوں نے اپنی معروف ذہنیت کے مطابق یہاں پر اس طرح گوہر افشانی کی ہے کہ " بزرگوں کی قبریں بھی شعائر اللہ ہیں " حالانکہ پیغمبر۔ (علیہ الصلوۃ والسلام) ۔ نے قبروں کو پکا کرنے اور ان پر عمارت بنانے سے صاف وصریح طور پر منع فرمایا ہے۔ جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت جابر۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے قبر کو پکارنے، اس پر بیٹھنے اور میلہ لگانے اور اس پر عمارت کھڑی کرنے سے منع فرمایا ہے ۔ " نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَی اللّٰہُ عَلَیْہِ وسََلَّم اَنْ یُّجَصَّصَ الْقَبْرُ وَاَنْ یُّقْعَدَ عَلَیْہِ وَاَنْ یُّبْنٰی عَلَیْہِ " ۔ ( رواہ مسلم، مشکوۃ، باب دفن المیت، فصل اول) ۔ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی ۔ ؓ ۔ کو اس مہم پر اور اس کام کے لئے بھیجا کہ جو بھی کوئی مجسمہ اور مورتی تم دیکھو اسے مٹا دو اور جو بھی کوئی اونچی قبر تمہیں نظر آئے اس کو زمین کے برابر کردو۔ (نفس المرجع) ۔ سبحان اللہ ۔ کہاں یہ حقیقت کہ اللہ کے رسول ﷺ قبر کو پکا کرنے اور اس پر عمارت بنانے سے منع فرما رہے ہیں۔ اور شیر خدا علی مرتضٰی ۔ ؓ ۔ کو باقاعدہ طور پر اس مہم پر بھیجتے ہیں کہ جو بھی کوئی اونچی قبر پاؤ اس کو زمین کے برابر کردو۔ اور کہاں اہل بدعت کے یہ تحریف پسند ہیں کہ ان بنی ٹھنی قبروں اور طرح طرح کے جبوں قبوں کو جہاں کہ نت نئے طریقوں سے شرک و بدعت کے کاروبار چلائے جاتے ہیں اور طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور شعائر اللہ میں سے مان کر اور ان کی تعظیم کو دین کا تقاضا قرار دے رہے ہیں۔ اور پھر بھی دعویٰ ہے اہل سنت اور عاشق رسول ہونے کا اور اپنی ایسی من گھڑت باتوں کو قرآن پاک کی تفسیر کے نام سے اس کے حواشی پر لکھنے کی جرأت و جسارت کرتے ہیں۔ سو اس سے بڑھ کر سینہ زوری اور کتاب اللہ کی معنوی تحریف کی صاف وصریح مثال اور کیا ہوسکتی ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وبِہٖ نَسْتَعِیْنُ وَاِلَیْہِ الْمُشْتَکٰی جَلَّ و علا وہو الہادی الی سواء السبیل وبیدہ ازمۃ الہدایۃ والتوفیق ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ 68 تقویٰ اور پرہیزگاری کا اصل تعلق دل سے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے اللہ کے شعائر کی تعظیم کی تو [ وہ مراد کو پہنچ گیا کہ ] یقینا یہ بات دلوں کے تقویٰ میں سے ہے "۔ یہاں پر تقویٰ کو دلوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ تقویٰ و پرہیزگاری اور فسق و فجور کا اصل تعلق سلطنتِ دل ہی سے ہوتا ہے کہ جسم و جان کا اصل حاکم و بادشاہ تو دل ہی ہے۔ اعضاء وجوارح تو اس کے کارندے اور اس کے امر و ارشاد کے تابع ہیں۔ اگر سلطنتِ دل پر قبضہ و غلبہ تقویٰ و پرہیزگاری اور خوف و خشیت خداوندی کا ہوگا تو ظاہری اعضا وجوارح بھی یقیناً اپنے خالق ومالک کے حضور جھکے ہوئے اور خشوع و خضوع کا مظہر بنے رہیں گے۔ اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہوا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو انسان کے ظاہر پر بھی اسی کے آثار و نتائج نمایاں ہوں گے۔ اسی حقیقت کے اظہار وبیان اور تشریح و توضیح کے لئے نبی اکرم ﷺ نے اپنے سینہ مبارکہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین مرتبہ ارشاد فرمایا ۔ " التقْوٰی ہٰہُنَا، التقْوٰی ہٰہُنَا، التقْوٰی ہٰہُنَا " ۔ " تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے، تقویٰ یہاں ہے " ۔ صَلَوَات اللّٰہِ وسَلَامُہُ عَلَیْہِ ۔ اَللّٰہُمَّ عَمِّرْ قُلُوْبَنَا بَخَشْیَتِکَ وَتَقْوَاکَ کَمَا تُحِبُّ وَتَرْضٰی ۔ اَللّٰہُمَّ نَحْنُ رَاضُوْنَ عَنْکَ مِنْ أعْمَاقِ قُلُوْبِنَا فَارْضَ عَنَّا بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ فَاِنَّ رَضَاکَ ہُوَ ہَدَفُنَا وَغَایَۃُ جُہْدِنَا الْقُصْوٰی ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم و تکریم کا تعلق دل کے تقویٰ اور پرہیزگاری سے ہے۔ سو " شعائر " کی تعظیم کا حق محض ظاہر داری سے ادا نہیں ہوسکتا بلکہ اس کے لیے دل کا تقویٰ مطلوب ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 22:33

لَكُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَاۤ اِلَى الْبَیْتِ الْعَتِیْقِ۠ Open ayah 22:33 in the Quran reader

تمہارے لئے قربانی کے ان جانوروں میں طرح طرح کے فائدے ہیں ایک مقرر وقت تک پھر ان کے قربان کرنے کی جگہ اس قدیم گھر کے پاس ہے3

69 قربانی کی جانوروں سے منافع حاصل کرنے کی اجازت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہارے لیے قربانی کے ان جانوروں میں کئی فائدے ہیں ایک مقررہ وقت تک "۔ یعنی ان کے نحر و ذبح تک۔ (محاسن التاویل وغیرہ) اور ان مختلف منافعوں اور طرح طرح کے فائدؤں میں ان کے دودھ ان کی روؤں اور بالوں اور حسب ضرورت ان کی سواری وغیرہ کے سب منافع اور فائدے شامل ہیں۔ جیسا کہ صحیحین وغیرہ میں حضرت انس ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے کہ آنحضرت ۔ ﷺ ۔ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اونٹ کو لے جا رہا ہے تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا " ارکبہ " ۔ " اس پر سوار ہوجاؤ " ۔ تو اس نے کہا " اِنَّہَا بُدْنَۃٌ " ۔ " یہ تو قربانی کا جانور ہے " ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا " اس پر سوار ہوجا " اور دوسری یا تیسری مرتبہ فرمایا " وَیْحَکَ " ۔ " تیرا ناس ہو "۔ (بخاری، کتاب الحج، باب رکوب البدن، مسلم، کتاب الحج، حدیث نمبر : 373) بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ تمہارے لیے قربانی کے ان جانوروں سے ایک مقررہ وقت یعنی انکے نحر و ذبح تک فائدہ اٹھانے کی اجازت ہے۔ اور اس اباحت واجازت میں دراصل مشرکین کے مشرکانہ مزاعم کی تردید فرمائی گئی ہے۔ کیونکہ ان کے یہاں جس جانور کو ہدی اور نیاز مقرر کردیا جاتا اس سے ان کے یہاں انتفاع جائز نہیں سمجھا جاتا تھا۔ سو قرآن حکیم نے اپنے اس ارشاد سے ان کی اس جاہلانہ رسم کی اصلاح فرما دی اور اس بات کو واضح فرما دیا کہ یہ چیز شعائر اللہ کی تعظیم کے منافی نہیں۔ سو اس امر کی تصریح فرما دی گئی کہ تم ان سے فائدہ اٹھا سکتے ہو جب تک کہ ان کی قربانی کا وقت نہ آجائے۔ اس انتفاع سے ان کی عظمت و حرمت میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ 70 ہدی کی قربانی کی جگہ ارض حرم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ان کے قربان ہونے کی جگہ اس قدیم گھر کے پاس ہے "۔ یعنی حدود حرم کے اندر کہ اس سے باہر ان کو ذبح کرنا جائز نہیں۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { ہَدْیًا بَالِغَ الْکَعْبَۃِ } ۔ (المائدۃ : 95) اور " محل "، " حلول " سے بھی ہوسکتا ہے جس کے معنی اترنے، پہنچنے اور ٹھہرنے کے آتے ہیں کہ ان سب قربانیوں اور ان کے لانے والوں سب کو وہیں اترنا پہنچنا اور ٹھہرنا ہوتا ہے۔ اور یہ لفظ حلال سے بھی ہوسکتا ہے جو کہ ضد ہے منع اور حرام کی۔ کیونکہ ان تمام قربانیوں کے ذبح اور حلال ہونے کی جگہ بھی وہی ہے۔ یعنی حرم۔ نیز حاجی صاحبان بھی حج وعمرہ کے احکام اور احرام کی ممنوعات اور ان کی پابندیوں سے وہیں پر حلال اور آزاد ہوتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس ۔ ؓ ۔ سے مروی ہے ۔ " مَاطَافَ اَحَدٌ بالْبَیْتِ اِلِّا حَلَّ " ۔ (محاسن، فتح وغیرہ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جب ان کی قربانی کا وقت آجائے تو تم ان کو اللہ کے اس قدیم گھر کے پاس لے جا کر ان کو اللہ ہی کے لیے قربان کردو۔ سو اگر ان کو کسی اور تھان یا استھان پر لے جا کر ذبح کیا یا اللہ کے سوا کسی اور نام پر ذبح کیا گیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو اس سے ان کی حرمت برباد ہوجائے گی اور یہ قربانیاں ثواب کی بجائے عذاب کا باعث بن جائیں گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 22:34

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَۙ Open ayah 22:34 in the Quran reader

اور ہم نے ہر امت کے لئے قربانی کا ایک خاص طریقہ مقرر کیا ہے تاکہ وہ لوگ چوپایوں کی قسم کے ان مخصوص جانوروں کی قربانی کے موقع پر اللہ کا نام لیں جو اس نے ان کو بخشنے ہیں پس معبود تم سب کا اے لوگوں ایک ہی معبود ہے یعنی اللہ تعالیٰ پس تم سب دل وجان سے جھک جاؤ اسی وحدہ لا شریک کے حضور اور خوشخبری سنا دو اے پیغمبر ! ان عاجزی کرنے والوں کو

71 قربانی کی اصل روح اللہ کا ذکر : سو قربانی کی اصل روح کی تذکیر و یاددہانی کی طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ تاکہ وہ ان جانوروں پر اللہ کا نام لیں۔ تاکہ اس طرح اس واہب مطلق ۔ جل و علا ۔ کی بخشی ہوئی ان عظیم الشان نعمتوں کا کسی قدر حق شکر ادا ہو سکے۔ سو کس قدر ظالم اور کتنے بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اللہ پاک کی بخشی ہوئی ان نعمتوں کو اس کی بجائے غیر اللہ کی طرف منسوب کرتے، ان کے نام کی نذریں مانتے، نیازیں دیتے اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ وہ نہیں سوچتے کہ یہ سب کچھ دیا کس نے اور نام کس کا لیا جا رہا ہے ؟۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف عقل و نقل اور عدل و انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ جب یہ جانور بخشے ہوئے اللہ وحدہ لاشریک ہی کے ہیں تو ان کو ذبح بھی اسی کے نام پر کیا جائے۔ سو اللہ پاک۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ نے قربانی کی اس خاص عبادت کو اپنی شکر گزاری کے لیے مشروع فرمایا ہے تاکہ اس طرح لوگ اس کے عطا فرمودہ جانوروں کو اس کی رضا و خوشنودی کی طلب و تلاش میں قربان کریں اور اس کی بخشی ہوئی اس نعمت پر صدق دل سے اس کا شکر بجا لائیں۔ سو قربانی کی مشروعیت کی اصل روح یہی ہے جو تمام ادیان سماویہ میں بطور قدر مشترک موجود رہی۔ اس میں اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کو بھی شریک اور شامل کیا گیا تو اس کی مشروعیت کا مقصد ہی فوت ہوگیا اور یہ الٹا عذاب بن جائے گی ۔ والعیاذ باللہ - 72 { مخبتین } کے لیے خوشخبری سنانے کا حکم وارشاد : سو اس سے " مخبتین " یعنی عاجزی کرنے والوں کے لیے خوش خبری سنانے کا حکم وارشاد فرمایا گیا ہے۔ چناچہ سو ارشاد فرمایا گیا " اور خوشخبری سنا دو عاجزی کرنے والوں کو "۔ کہ اصل میں کامیاب وفائز المرام یہی اور صرف یہی لوگ ہیں جو اپنے ایمان و یقین کی بنا پر اپنے خالق ومالک کے حضور صدق دل سے جھکتے اور عاجزی کرتے ہیں ۔ اِخبات کے معنیٰ عاجزی، انکساری اور فروتنی اختیار کرنے کے ہیں۔ اور یہی دراصل شان ہے بندے کی۔ اور یہی لائق ہے اس کی عبدیت کے کہ وہ ہر حال میں اور دل و جان سے اپنے اس خالق ومالک کے حضور جھکا رہے جس نے اس کو وجود بخشا اور جس کی نعمتوں، عنایتوں اور رحمتوں میں وہ سر تا پا ڈوبا ہوا ہے۔ اسی میں اس کی عظمت شان، رفعت مقام اور فوز و فلاح کا سامان ہے اور بندہ مومن اپنے اسی اخبات اور عاجزی و فروتنی کا اظہار اس کے حضور اپنے رکوع و سجود سے کرتا ہے۔ سو جو اس صفت اخبات سے محروم رہا وہ ہر خیر سے محروم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اسلام کی اصل روح یہی اخبات اور عاجزی و فروتنی ہے۔ یعنی ظاہری طور پر نہیں بلکہ اس کا دل بھی اللہ تعالیٰ کے حضور جھک جائے۔ پس جن لوگوں کے اندر اخبات کی یہ صفت پائی جاتی ہوگی وہی ہیں حقیقی مومن و مسلم ہوں گے اور ان ہی کے لیے خداوند قدوس کے یہاں سے رضوان اور جنت کی بشارت ہے ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین۔
Ayahs 22:35–36

الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِرَ اللّٰهُ وَ جِلَتْ قُلُوْبُهُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَصَابَهُمْ وَ الْمُقِیْمِی الصَّلٰوةِ١ۙ وَ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 22:35 in the Quran reader

جن کا حال یہ ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جائے تو کانپ اٹھیں ان کے دل اور جو صبر و تسلیم سے کام لیتے ہیں ہر اس مصیبت پر جو ان پر پہنچتی ہے اور جو قائم رکھنے والے ہیں نماز کو اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہوتا ہے اس میں سے وہ خرچ کرتے ہیں1

وَ الْبُدْنَ جَعَلْنٰهَا لَكُمْ مِّنْ شَعَآئِرِ اللّٰهِ لَكُمْ فِیْهَا خَیْرٌ١ۖۗ فَاذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلَیْهَا صَوَآفَّ١ۚ فَاِذَا وَجَبَتْ جُنُوْبُهَا فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْقَانِعَ وَ الْمُعْتَرَّ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرْنٰهَا لَكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 22:36 in the Quran reader

اور قربانی کے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے اللہ کی نشانیوں میں سے بنایا ہے تمہارے لئے ان میں بہت بڑی بھلائی ہے پس تم انھیں ذبح یعنی نحر کرتے وقت ان پر اللہ کا نام لو ان کو کھڑا کرکے پھر ذبح یعنی نحر کے بعد جب وہ گرجائیں اور ٹھنڈے ہوجائیں تو تم ان میں سے خود بھی کھاؤ اور ان کو بھی کھلاؤ جو قناعت کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کو بھی جو سوال کے ذریعے اپنی حاجت پیش کرتے ہیں اسی طرح ہم نے ان جانوروں کو تمہارے قابو میں کردیا تاکہ تم شکر ادا کرو اپنے خالق ومالک کا

73 { مخبتین } کی پہلی اور اہم صفت خوف و خشیت خداوندی : سو " مخبتین " کی تعریف و توصیف کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ جب ان کے سامنے اللہ کا نام لیا جاتا ہے اور اس کی آیتیں اس کو پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو خوف و خشیت خداوندی سے ان کے دل دہل جاتے ہیں۔ اپنے خالق ومالک کی عظمت بےپایاں اور اس کے حقوق واجبہ کے تصور سے۔ اور اس احساس و تصور سے کہ میں نے اس کے حضور حاضر ہو کر اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا جواب دینا اور صلہ و بدلہ پانا ہے۔ بہرکیف یہ { مخبتین } کی پہلی صفت ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو اس کی خشیت سے ان کے دل کانپ اٹھتے ہیں۔ اور یہ دل و جان سے اس کی طرف رجوع ہوجاتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
Ayah 22:37

لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللّٰهَ عَلٰى مَا هَدٰىكُمْ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 22:37 in the Quran reader

اور یاد رکھو کہ اللہ کو نہ تو ان جانوروں کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ہی ان کے خون بلکہ اس کے یہاں تو صرف تمہاری پرہیزگاری اور اخلاص نیت کی پونجی ہی پہنچتی ہے اسی طرح اس نے اپنے فضل وکرم سے ان کو تمہارے لئے مسخر کردیا تاکہ تم لوگ اللہ کی بڑائی کرو اپنے قول وفعل سے کہ اس نے نوازا ہے تم کو حق و ہدایت کی عظیم الشان دولت سے اور خوشخبری سنا دو اے پیغمبر ! نیکوکاروں کو2

78 اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف تقویٰ مطلوب ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اللہ تعالیٰ کو نہ ان جانوروں کے گوشت پہنچتے ہیں اور نہ ان کے خون "۔ بلکہ یہ سب کچھ یہیں رہ جاتا ہے اور خود تم ہی لوگوں کے کام آتا ہے۔ وہ وحدہ لاشریک ہر حاجت اور ضرورت سے پاک اور بالا و برتر ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وہ تم لوگوں کو یہ احکام اس لئے دیتا ہے تاکہ خود تمہارا ہی بھلا ہو کہ ان ہدایات وتعلیمات کی پابندی سے ایک طرف تو تمہیں دنیا میں پاکیزہ و پرسکون اور باوقار زندگی ملے اور دوسری طرف اس سے تمہیں آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی میں دائمی کامیابی نصیب ہو۔ اور یہ اس کی رحمت کا تقاضا ہے کہ وہ رحمن بھی ہے اور رحیم بھی ۔ سبحاَنہ و تعالیٰ ۔ سو اس کے یہاں ان میں سے کوئی بھی چیز نہیں پہنچتی بلکہ اس کے یہاں تمہارے دلوں کا اخلاص اور صدق نیت کا سرمایہ پہنچتا ہے اور بس ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 79 نیکو کاروں کو خوش خبری سنانے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا " اور خوشخبری سنا دو نیکوکاروں کو "۔ جن کے ایمان و عقیدے بھی درست اور پختہ ہوں اور وہ عمل و کردار کے لحاظ سے بھی صاف اور کھرے ہوں۔ اور وہ صدق و اخلاص کی دولت سے بھی سرشار ومالا مال ہوں۔ ان کو خوشخبری سنا دو کہ اصل اور حقیقی کامیابی ایسے ہی خوش نصیبوں کی ہے خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں کہ ایسوں کو اپنے اس صدق و اخلاص اور عمل و کردار کی بناء پر دارین کی سعادت و سرخروئی نصیب ہوگی۔ کہ اس سے ان کو اس دنیاوی زندگی میں خیر و برکت والی پاکیزہ زندگی نصیب ہوگی اور آخرت میں یہ جنت کی سدابہار نعمتوں سے بہرہ مند و سرشار ہوں گے۔ اور یہی ہے اصل اور حقیقی کامیابی جو انسان کا مطمح نظر اور مقصود و اصل ہونی چاہیئے نہ کہ دنیائے دوں کا متاع فانی اور حطام زائل ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 22:38

اِنَّ اللّٰهَ یُدٰفِعُ عَنِ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ كُلَّ خَوَّانٍ كَفُوْرٍ۠ Open ayah 22:38 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ مدافعت کرتا ہے ان لوگوں سے جو ایمان لائے بیشک اللہ تعالیٰ پسند نہیں فرماتا کسی بھی دغا باز ناشکرے کو

80 " اللہ پسند نہیں فرماتا کسی بھی دغاباز ناشکرے کو " : بلکہ ایسے لوگ اپنے کفر و خیانت کی بناء پر اس کے یہاں مبغوض وممقوت ہیں۔ اس لئے وہ اہل حق کے مقابلے میں کبھی غلبہ اور سچی عزت نہیں پاسکتے کہ انہوں نے اللہ سے خیانت کی اور اس کے اوامرو نواہی کی خلاف ورزی کرکے۔ اور انہوں نے کفر اور کفران نعمت کا ارتکاب کیا اس کی بخشی ہوئی ان نعمتوں کے جواب میں جن میں یہ سر تا پا ڈوبے ہوئے ہیں۔ اور انہوں نے ان بےحقیقت چیزوں کی پوجا پاٹ کی جن کی پوجا پاٹ کا سرے سے کوئی حق بنتا ہی نہیں۔ اور ان کے ہاتھ میں نفع یا نقصان کا کوئی اختیار نہیں مگر انہوں نے ان کو خدائے واحد کا شریک قرار دیا۔ (المراغی، المحاسن، المعارف وغیرہ) ۔ سو انسان کی اصل قدر و قیمت اس کے ایمان و یقین اور عمل و کردار سے ہے۔ جتنا کسی کا ایمان و یقین پکا اور پختہ ہوگا اور جتنا اس کا عمل و کردار نیک صالح اور عمدہ ہوگا اتنا ہی اس کا درجہ و مرتبہ اونچا اور بڑا ہوگا۔ اور جس قدر وہ اس دولت سے عاری اور خالی ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اتنا ہی وہ پست اور بےقدر و قیمت ہوگا۔ سو دغاباز اور ناشکرے انسان کی اس کے یہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ہوسکتی۔ بلکہ وہ اس کے یہاں مبغوض اور ممقوت ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 22:39

اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّهُمْ ظُلِمُوْا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى نَصْرِهِمْ لَقَدِیْرُۙ Open ayah 22:39 in the Quran reader

جہاد کی اجازت دے دی گئی ان ستم رسیدہ لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جا رہی ہے اس وجہ سے کہ ان پر ظلم کیا گیا اور بیشک اللہ ان کی مدد پر بہرحال پوری قدرت رکھتا ہے

81 مظلوموں کو جہاد کی اجازت : یعنی چونکہ ان پر ظلم ہوتا رہا اس لیے ان کو اس ظلم کیخلاف جہاد کی اجازت دی جاتی ہے، (مدارک، کبیر، اور صفوۃ وغیرہ) ابن عباس ؓ کہتے ہیں کہ یہ پہلی آیت کریمہ ہے جس میں جہاد کی اجازت دی گئی، اور ان مظلوموں سے مراد آنحضرت ﷺ اور آپ کے وہ صحابہ کرام ہیں جو کہ اپنے دین و ایمان کے باعث کفار کے طرح طرح کے مظالم کا شکار ہو رہے تھے، جن کو ان کے گھروں سے بےگھر کیا گیا اور وہ حضور سے جب اپنی مظلومیت پیش کرکے جہاد کی اجازت مانگتے، تو آپ ﷺ ان کو صبر و ضبط ہی سے کام لینے کی ہدایت فرماتے، یہاں تک کہ ہجرت مدینہ کے بعد یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، اور اس میں ان کو جہاد کی اجازت مرحمت فرمائی گئی، (ابن کثیر، مدارک، خازن، صفوۃ، اور معارف وغیرہ) اور اس سے پہلے ان کو اس حیات آفریں اور کیف آور خوشخبری سے نوازا گیا کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کی طرف سے مدافعت فرماتا ہے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ ان کی مدد کی پوری قدرت رکھتا ہے، سبحان اللہ کیسی عظیم الشان دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت جس سے سرفرازی کے بعد انسان اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کی ایسی عظیم الشان نعمتوں اور بشارتوں کا اہل بن جاتا ہے، اور اللہ پاک جو کہ قادر مطلق ہے وہ ان ایمان والوں کی طرف سے دفاع فرماتا ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ کمال ایمان و یقین سے سرشار رکھے ۔ آمین۔ 82 وعدئہ خداوندی کی توفیق وتقویت : سو اوپر والے وعدئہ خداوندی کی توفیق وتقویت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے : پس اس قادر مطلق کی نصرت و امداد اور پشت پناہی جسے حاصل ہوگی اس پر کوئی غالب نہیں آسکتا، پس شرط یہ ہے کہ اہل ایمان کا تعلق اور معاملہ اس خالق ومالک کے ساتھ صحیح ہو، کہ ایمان و یقین بھی پختہ ہو اور اس پر بھروسہ اور اعتماد بھی کامل ہو، اور حضرات صحابہ کرام ؓ چونکہ اس میں کامل تھے اس لیے ان کو اس نے اپنی اس خاص نصرت و امداد سے نوازا، جس سے وہ فتح و نصرت کی بلندیوں کو پہنچے اور ان کے دشمن ان کے ہاتھوں ذلیل و خوار ہوئے، (المراغی وغیرہ) ۔ سو اس ارشاد ربانی میں مذکورہ وعدئہ مدافعت کی توفیق بھی ہے اور کفار قریش کے لیے ایک سخت قسم کی تہدید بھی۔ یعنی کوئی یہ نہ سمجھے کہ ن مٹھی بھر مسلمانوں کی کیا حیثیت ہے اور کوئی ان کی مدد کر کے ان کو کیا تقویت پہنچا سکتا ہے۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ ہیں تو اگرچہ مٹھے بھر لیکن ان کی پشت پر خدا تعالیٰ کی مدد ہے جو کہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ اللہم فکن لنا ولا تکن علینا بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ -
Ayah 22:40

اِ۟لَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّاۤ اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا دَفْعُ اللّٰهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَّهُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَ بِیَعٌ وَّ صَلَوٰتٌ وَّ مَسٰجِدُ یُذْكَرُ فِیْهَا اسْمُ اللّٰهِ كَثِیْرًا١ؕ وَ لَیَنْصُرَنَّ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ Open ayah 22:40 in the Quran reader

جن کو نکال باہر کیا گیا ان کے گھروں سے بغیر کسی حق کے ان کا کوئی جرم و قصور نہیں سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں کہ ہمارا رب اللہ ہے1 اور اگر اللہ تعالیٰ اپنی قدرت و عنایت سے لوگوں کو ایک دوسرے سے ہٹاتا اور اس طرح ان کا زور توڑتا نہ رہتا تو مسمار کردی جاتیں تمام خانقاہیں گرجے، کین سے، اور وہ مسجدیں جن میں بکثرت نام لیا جاتا ہے اللہ وحدہ لا شریک کا2 اور یقینا اللہ مدد فرماتا ہے اس کی جو مدد کرتا ہے اس کے دین کی بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑا ہی قوت والا نہایت ہی زبردست ہے3

83 جرم بےگناہی کی سزا ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کا کوئی جرم و قصور نہیں تھا سوائے اس کہ وہ کہتے تھے ہمارا رب اللہ ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کوئی جرم اور گناہ نہیں بلکہ یہ تو سب سے بڑی نیکی اور تمام نیکیوں اور خوبیوں کی اساس و بنیاد ہے، سو کتنے ظالم اور کس قدر بدبخت اور منحوس ہیں یہ لوگ جو محض اس بناء پر اہل حق کو ستاتے اور تنگ کرتے ہیں، پس ایسے بدبختوں کو اپنے کئے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا، جو اہل حق کو جرم بیگناہی کی بناء پر تنگ کرتے اور ستاتے ہیں، کہ ان کے ظلم کی شدت اور زیادہ ہوجاتی ہے، والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے کفار و مشرکین کی مت ماری کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اہل ایمان کا یہ کہنا کہ ہمارا رب اللہ ہے جو سب سے بڑی نیکی بلکہ جملہ نیکیوں کی اساس و بنیاد ہے وہی ان بدبختوں کے نزدیک سب سے بڑا گناہ بن گئی جس سے یہ لوگ ان کے درپے آزار ہوگئے اور اس بنا پر ان کو اس قدر ستایا اور تنگ کیا گیا کہ ان مظلوموں کو اپنا گھر بار بھی چھوڑنا پڑا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو مسلمان کا یہی جرم و قصور کل تھا اور یہی آج ہے اور اسی کی بنا پر وہ کل بھی ظلم سہہ رہا تھا اور آج بھی سہہ رہا ہے۔ اور آج اس کے دلفگار مناظر جگہ جگہ اور طرح طرح سے سامنے آ رہے ہیں ۔ فالی اللہ المشتکی وہو المستعان ۔ اللہ ان مظلوموں کی مدد فرما اور ظالموں کو نیست ونابود فرمایا ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ۔ 84 مشروعیت جہاد برائے دفع شر و فساد : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اصل مقصد اور اس مشروعیت جہاد کی ایک عظیم الشان اور بڑی حکمت، قوی شرو فساد کی سرکوبی ہے۔ صوامع، جمع ہے صومعۃ کی، جس کے معنی عیسائی راہبوں کی خانقاہ اور خلوت خانے کے ہیں اور بَیْعٌ جمع بِیَعَۃٌ کی جس کے معنی عیسائیوں کی عبادت گاہ یعنی گرجا کے ہیں، اور صلوت جمع ہے صلوۃ کی جو کہ دراصل عبرانی لفظ صلوتا کا معرب ہے، جس کے معنی ہیں یہودیوں کی عبادت گاہ یعنی کنیسہ، اور مساجد مسجد کی جمع ہے جو کہ مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے، جو کہ آج بھی اسی نام سے مشہور و معروف ہے، جہاں مسلمان اپنے خالق ومالک کے حضور سجدہ ریز ہونے اور اس کی رضاء و خوشنودی کی خاطر اپنی پیشانیاں زمین پر رکھنے کے شرف سے مشرف ہوتے ہیں، اور جہاں پر صحیح معنوں میں اللہ کی عبادت و بندگی ہوتی ہے، (مراغی، محاسن، خازن اور صفوۃ وغیرہ) سو اس ارشاد ربانی میں جہاد کی ایک عظیم الشان حکمت کو ذکر وبیان فرمایا گیا ہے، کہ اگر جہاد کی اجازت نہ ہوتی اور اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے قوی شرو فساد کی سرکوبی کا انتظام نہ فرماتا، تو قوی شر و فساد غالب آجاتے، فساد پھیل جاتا اور اس سے ایسے عبادت خانے بھی محفوظ نہ رہتے، سو جہاد کی مثال سرجن کی اس سرجری کی سی ہے جسکے ذریعے وہ جسم کے فاسد مواد کو خارج کرکے باقی جسم اور دیگر اعضاء وجوارح کی حفاظت کا سامان کرتا ہے، تاکہ وہ فساد کے اثرات سے محفوظ رہیں، فالحمدللہ رب العالمین ورنہ فاسد عناصر سب کی تباہی کا باعث بن جائیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 85 اللہ کی مدد کے مستحقین کی نشاندہی : سو اللہ تعالیٰ کی نصرت و امداد کے مستحقین کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ مدد فرماتا ہے اس کی جو مدد کرتا ہے اس (کے دین) کی۔ یعنی مَنْ یَّنْصُرُ ہُ میں مضاف محذوف ہے اصل میں ہے مَنْ یَّنْصُرُ دِیْنَہ، (بیضاوی، کبیر، خازن، صفوہ اور محاسن وغیرہ) پس جس کے ساتھ اس قوی و عزیز وحدہ لاشریک کی مدد ہوگی وہ کبھی مغلوب نہیں ہوگا، چناچہ صحابہ کرام نے اپنی ایمانی قوت اور خداوندی نصرت و امداد کی بناء پر ظاہری اسباب و وسائل کی قلت و فقدان کے باوجود تھوڑے ہی عرصے میں کفار قریش کے متکبر صنادید کا غرور خاک میں ملا دیا، قیصر و کسریٰ کی کمر توڑ کر رکھ دی، اور وہ روم وفارس کے اموال وبلاد کے مالک و مختار بن گئے، اور ایک دنیا پر ان کی دہاک بیٹھ گئی، اور ایمان و یقین کی اس قوت قاہرہ کے مختلف نمونے اور مظاہر آج ہم اپنے اس دور مادیت میں بھی یہاں اور وہاں، مشرق و مغرب میں، جا بجا دیکھ رہے ہیں اور اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، چناچہ دور حاضر کی سب سے بڑی شیطانی سپر پاور روس نے (جو کہ لفظ سور کا مقلوب ہے) اپنی بھرپور فوجی قوت اور جدید ترین اسلحہ اور سامان حرب و ضرب کے ساتھ افغانستان پر حملہ کیا تو اس کے مقابلے میں افغانستان کے نہتے مسلمان اسی قوت ایمانی کے بل بوتے پر لاٹھیوں اور کلہاڑیوں کی قسم کے سامان اور ہتھیاروں کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے، اور چند ہی سالوں کی لڑائی میں اس کو ایسا سبق سکھایا کہ صرف روس کیا پوری دنیائے کفر یاد رکھے گی، اور اس کو ایسی کاری ضرب لگائی کہ اس کا وجود تک صفحہ ہستی سے مٹ گیا اور پھر دینی مدارس کے سیدھے سادھے اور معصوم طلبہ کی جماعت " طالبان، ، نے اٹھ کر ایسی چومکھی لڑائی لڑی اور روس کے گماشتوں اور اس کے اخلاف سمیت مختلف کافرانہ طاقتوں کو انہوں نے ایسے درس ہائے عبرت سکھائے کہ ایک دنیا کی دنیا ورطہ حیرت میں ڈوب کر رہ گئی، پھر وسط یورپ میں واقع مسلم جمہوریہ بوسنیا و ہر زگوینا اور کو سوو و میں کفر و باطل کے مقابلے میں اہل ایمان نے جو جوہر دکھلائے، پھر جمہوریہ چیچنیا نے روس کے کفر کو جس ذلت و رسوائی سے دوچار کیا اور کشمیر میں کارگل کے محاذ پر ابھی چند ہی ہفتے قبل گنتی کے کچھ مجاہدین نے جو ستر ہزار ہندوستانی فوجوں کو سبق سکھائے، اور اس وقت جبکہ راقم آثم اپنی اس تفسیر کی پروف ریڈنگ کے دوران ان سطور کا اضافہ کررہا ہے، روسی جمہوریہ داغستان میں پچھلے کم و بیش ایک ماہ سے روسی فوجوں کو ہر طرح کے اور جدید ترین اسلحہ سے لیس ہونے کے باوجود تھوڑے سے مجاہدین کی ایک مختصر سی تعداد جس طرح ان روسیوں کو لوہے کے چنے چبوا رہی ہے، اس سے دنیا محو حیرت اور انگشت بدندان ہے، فَصَدَقَ اللّٰہُ الْقَائِلِ وَ لَیَنْصُرنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرہُ ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 86 اللہ کے وعدے کی توثیق وتقویت : سو اللہ تعالیٰ کے وعدے کی توثیق وتقویت کے لیے اس کی دو صفتوں یعنی قوت اور عزت کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ بڑی ہی قوت والا نہایت ہی زبردست ہے۔ سو اپنی قوت بےنہایت سے اس نے اس ساری مخلوق کو بلاشرکت غیرے خود پیدا فرمایا، اور چونکہ وہ سب پر عزیز و غالب بھی ہے، اس لئے کوئی اس کے مقابلے میں غالب نہیں ہوسکتا، (ابن کثیر، صفوہ وغیرہ) سو وہ قوی و عزیز جس کو چاہے اپنی نصرت و عنایت سے نواز کر دم کے دم میں کہیں سے کہیں پہنچا دے، اللہ نصیب فرمائے اور وہ اگر کسی کو ذلیل کرنا چاہے والعیاذ باللہ تو پھر اگر کوئی بھی عزت نہیں دے سکتا جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { اِنْ یَنْصُرْکُمَ اللّٰہُ فَلاَ غَالِبَ لَکُمْ ، وَاِنْ یَخْذُلْکُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُکُمْ مِنْ بَعْدِہ وَعَلَی اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُوْمِنُوْنَ } ۔ یعنی " وہ اگر تمہاری مدد نہ کرتے تو پھر کون ہوسکتا ہے جو تمہاری مدد کرے اس کے بعد ؟ پس مومن کا بھروسہ بہرحال اللہ وحدہ لاشریک ہی پر ہونا چاہیئے، (آل عمران۔ 160) وباللہ التوفیق ۔ سو وہ قوی و عزیز کسی کی مدد کا محتاج نہیں۔ پس جو لوگ اس کی مدد کرتے ہیں وہ دراصل اپنی ہی مدد کرتے ہیں اور جب اس کی نصرت و امداد حاصل ہوجائے تو پھر کسی سے ڈرنے کا کوئی سوال نہیں کہ ایسے میں مسلمانوں کی قلت تعداد اور دشمن کی بھاری جمعیت اصل چیز نہیں رہ جاتی کہ مسلمانوں کی پشت پر اس قوی و عزیز کی نصرت و مدد ہوتی ہے۔ سو کفار کو اپنی کثرت اور مسلمانوں کی قلت پر مست و مگن نہیں ہونا چاہیے کہ اس قوی و عزیز خداوند قدوس کی نصرت و امداد سے یہی ذرے پہاڑ اور یہی قطرے سمندر بن سکتے ہیں ۔ اللہ فکن لنا واجعلنا لک وخذنا بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک یا ذا الجلال والاکرام ۔ اللہ ہمیشہ اپنی نصرت و امداد سے سرفراز و سرشار رکھے ۔ آمین ثم آمین۔