Ayahs 22:41–4587 فریضہ نماز کی عظمت و اہمیت : سو اس سے معلوم ہوا کہ فریضہ ٔ نماز سب سے اہم فریضہ اور اولین عبادت ہے، اسی لیے زمین میں اقتدار ملنے کے بعد سب سے پہلی ذمہ داری اسی کے بارے میں عائد ہوتی ہے، اور یہ اللہ پاک کا ارشاد فرمودہ اور عائد کردہ ایک ایسا عظیم الشان فریضہ ہے جو کہ ایمان لانے کے بعد ایک مومن پر سب سے پہلے عائد ہوتا ہے، اور اس کی محافظت مومن کی اولین ذمہ داری، اور اس کے عقیدہ و ایمان کا بنیادی تقاضا ہے، اسی لئے حضرت عمر ؓ نے منصب خلافت سنبھالنے کے بعد اپنے ولاۃ امور کو اس کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا تھا، اَلَا اِنَّ اَہَمَّ اُمُوْرِکُمْ عِنْدِیْ الصَّلٰوۃُ فَمَنْ حَافَظَ عَلَیْہَا فَہُوَ لَغَیْرِہَا اَحْفَظُ وَمَنْ ضَیَّعَہَا فَہُوَ لِغَیْرَہَا اَضْیَعَ ، نیز یہی وہ عبادت ہے جس میں انسان اپنے ظاہر و باطن کے اعتبار سے اور اپنے جسم و جان اور قلب و زبان سب کے ساتھ، اپنے رب کی عبادت و بندگی میں مشغول ہوتا ہے، اور اسی سے اس کو اس کی نصرت و امداد خداوندی نصیب ہوتی ہے، اور اسی سے اس کا اپنے خالق و املک کے ساتھ صحیح تعلق اور رابطہ قائم ہوتا ہے، جو کہ اولین اساس و بنیاد ہے، فرد و معاشرے کی اصلاح، اور دارین کی فوز و فلاح کی، اس آیت کریمہ کو حضرات علماء کرام آیت تمکین کہتے ہیں کہ اس میں حضرات صحابہ کرام ؓ سے تمکین فی الارض کا وعدہ فرمایا گیا ہے، اور اس میں خلافت راشدہ کی طرف اشارہ ہے، (معارف وغیرہ)
88 فریضہ زکوٰۃ کی عظمت و اہمیت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ زمین میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہ ادائیگی زکاۃ کا اہتمام کریں جس سے ایک طرف تو مال والوں کے مال پاک ہوں گے، اور دوسری طرف ان کے دل پاک و صاف ہوں گے دنیا کی محبت سے، جو کہ جڑ ہے ہر فساد کی، والعیاذ باللہ، اور تیسری طرف اس سے پورا معاشرہ پاک ہوگا حسد اور عداوت وغیرہ کی بیماریوں سے، نیز اس سے صحتمند معاشرے کی تشکیل و تکمیل میں مدد ملے گی، اور مال جو ملت کے اجتماعی وجود کیلئے خون اور مایہ الحباۃ کی حیثیت رکھتا ہے وہ صحیح طور سے تقسیم ہوگا، چند ہاتھوں میں مرکوز ہو کر نہیں رہ جائے گا اور اس کا فائدہ سب ہی کو پہنچے گا، اور غریبوں کی وہ دعائیں امیروں کو ملیں گی، اور ان کی دلی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہونگی، سو فریضہ زکوٰۃ ایک اہم فریضہ ہے اور جیسے بدنی عبادتوں میں فریضہ نماز سب سے اہم فریضہ ہے، اسی طرح مالی عبادتوں میں فریضہ زکوٰۃ سب سے اہم ہے،۔ اس لیے اسلامی حکومت کو ان دونوں فریضوں کا اہتمام کرنا اس کی اولین اور سب سے اہم ذمہ داری ہی اور اسی میں صلاح و فلاح ہے فرد و معاشرہ اور دنیا و آخرت دونوں کی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال -
89 امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی عظمت و اہمیت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ حکم دیں گے نیکی کا اور روکیں گے برائی سے۔ تاکہ اس طرح پورا معاشرہ برائیوں سے پاک، اور امن و سکون کا گوہارہ بن جائے، سو ان خوبیوں کے حامل اقتدار پانے والے حضرات کا اولیں مصداق حضرات مہاجرین و انصار ہیں، اور پھر ان کی اتباع و پیروی کرنیوالے وہ تمام حضرات جو وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُمْ بِاِحْسَانٍ کے زمرے میں آتے ہیں، کما روی ذالک عن ابن عباس وغیرہ، پس یہ آیت کریمہ خلافت راشدہ کی صحت اور حقانیت کی دلیل ہے، کہ یہ چاروں حضرات مہاجرین اولین میں سے تھے، اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے مطابق ان کو زمین میں تمکین نصیب فرمائی، اور وہ چاروں ان چاروں صفات کے ساتھ بدرجہ تمام و کمال موصوف تھے، سو یہ آیت کریمہ چاروں خلفاء کرام کی خلافت کے حق ہونے کی دلیل ہے، (معارف وغیرہ) اور معروف و منکر وہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے معروف و منکر قرار دیا اور کس کو یہ حق نہیں پہنچ سکتا کہ وہ اپنی طرف سے ان میں کوئی تغییر و تبدیلی کرے۔
90 سب کچھ اللہ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں : سو ارشاد فرمایا گیا اور اللہ ہی کے اختیار میں ہیں سب امور کہ اس دنیا میں جو بھی کچھ ہوتا ہے اسی وحدہ لاشریک کے اذن و حکم سے ہوتا ہے، اور آخرت میں بھی سب امور کا رجوع اسی کی طرف ہوگا، تاکہ وہ ان کے بارے میں آخری اور عملی فیصلہ صادر فرمائے، تاکہ ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ پا سکے، سو ہوتا سب کچھ اللہ پاک ہی کے حکم و ارشاد سے ہے، بندے کا عمل دخل اس کے اپنے ارادہ و اختیار سے ہے، اگر اس نے نیت صحیح رکھی اور ارادہ نیک ہوا تو وہ نیکی کی توفیق اور اس کی سعادت سے سرفراز ہوگا، اور اگر نیت بری رکھی تو برے انجام سے دو چار ہوگا اور خود اپنا ہی نقصان کرے گا، والعیاذ باللہ پس انسان کو چاہیئے کہ وہ محنت تو اپنی طرف سے بہرحال کرے، اور اپنی ہمت و بساط کے مطابق پوری کرے لیکن بھروسہ و اعتماد ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہی پر رکھے، کہ ہوگا وہی جو اس وحدہ لاشریک کو منظور ہوگا کہ سب امور کا رجوع اسی کی طرف ہے، اور سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اللہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ پس مومن صادق کا کام یہ ہے کہ وہ اپنے اس خالق ومالک کے ساتھ اپنا تعلق صحیح رکھے اور دل کا بھروسہ ہمیشہ اسی پر رکھے اور اس کی رضا و خوشنودی کے حصول کے مقصد کو سب سے مقدم رکھے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 22:4697 عبرت پذیری کی دعوت و ترغیب : سو عبرت پذیری کی دعوت و ترغیب کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ چلے پھرے نہیں (عبرتوں بھری) اس زمین میں۔ یہ استفہام تحفیض و تقریع کے لئے ہے، یعنی ان لوگوں کو چل پھر کر ایسے کھنڈرات دیکھنے چاہئیں تاکہ یہ سبق لے سکیں اور عبرت پکڑسکیں، مگر افسوس کہ انسان کی حالت ہمیشہ یہی رہی ہے کہ اس نے ایسے مقامات پر عبرت کی آنکھیں بالعموم بند کر رکھی ہوتی ہیں، کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے، چناچہ آج بھی جو لوگ موہنجو ڈارو، ہڑپہ اور ٹیکسلا وغیرہ کے آثار قدیمہ دیکھنے جاتے ہیں، وہ محض تفریح، کھیل تماشا، اور فوٹو گرافی وغیرہ کے لئے جاتے ہیں، عبرت پزیری کی کوئی بات ان کے حاشیہ خیال میں بھی نہیں ہوتی، الا ماشاء اللہ وہ یہ نہیں سوچتے کہ یہ کھنڈارت جن لوگوں کے ہیں وہ کون تھے ؟ اور ان کے ساتھ یہ سب کچھ کیوں ہوا ؟ کس نے کیا ؟ اور اس میں ہمارے لئے کیا کچھ درسہائے عبرت و بصیرت ہیں ؟ وغیرہ وغیرہ سو غفلت و لاپرواہی کا مرض ام الامراض ہے، والعیاذ باللہ العظیم ورنہ یہ لوگ اگر غور و فکری اور عبرت پذیری کی غرض سے ایسے مقامات پر جاتے تو ان کی نگاہیں وا ہوجاتیں، ان کے کان گوش حق نیوسن بن جاتے، اور ان کے دل و دماغ سامان عبرت و بصیرت سے مالا مال ہوجاتے، مگر غفلت و لاپرواہی نے ان کی مت مار دی، والعیاذ باللہ العظیم
98 دلوں کا اندھا پا سب سے بڑا اور ہولناک اندھاپا ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایسے لوگوں کی بصارت اگرچہ برقرار ہوتی ہے مگر ان کی بصیرت ختم ہوجاتی ہے، اور بصیرت کا اندھا پن ہی دراصل خطرے اور نقصان کا باعث اور ہلاکت کا موجب ہوتا ہے، والعیاذ باللہ سو سر کی اور ظاہری آنکھیں ایسے لوگوں کی صیح وسالم ہوتی ہیں، وہ بڑی باریک باریک چیزیں دیکھتے ہیں اور مادی اور ظاہری امور میں ان کی رسائی بڑی دور تک ہوتی ہے، لیکن ان کے دلوں کی آنکھیں اندھی ہوجاتی ہیں والعیاذ باللہ جس کے باعث ان کو کچھ سوجھ کے ہی نہیں دیتا، اور اصل اعتبار جو دل کی آنکھوں ہی کا ہوتا ہے، اور دل کی اسی روشنی ہی سے ظاہری آنکھوں کو بھی جلا ملتی ہے، ورنہ محض ظاہری اور سر کی آنکھوں کا دیکھنا تو حیوان کا دیکھنا ہوتا ہے، سو ایسے لوگ جو دل کی روشنی سے محروم ہوجاتے ہیں، محض حیوان بن کر رہ جاتے ہیں بلکہ ان کا حال اس سے بھی کہیں بدتر ہوجاتا ہے، والعیاذ باللہ ۔ سو دنیا کی اصل آفت یہ نہیں کہ سروں میں لگی ہوئی آنکھیں اندھی ہوجاتی ہیں بلکہ اصل اور حقیقی آفت یہ ہے کہ سینوں کے اندر جو دل ہیں وہ اندھے ہوجاتے ہیں جس سے ایسے لوگ حق اور حقیقت کو سمجھنے اور اپنانے کے لیے تیار ہی نہیں ہوتے۔ سو اگر سروں کی آنکھوں کی بصارت جاتی رہے لیکن سینوں کے اندر کے دل بیدار ہوں تو آدمی نابینا ہو کر بھی تمام حقائق کا ادراک و مشاہدہ کرلیتا ہے لیکن اگر کسی کی دل کی آنکھیں چپاٹ ہوجائیں تو اس کا حال یہ ہوجاتا ہے کہ وہ دیکھنا تو سب کچھ ہے لیکن اس کو سوجھتا کچھ بھی نہیں اور یہی ہے اصل محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ فکر و نظر کے ہر زیغ و ضلال اور بصیرت و بصارت کے ہر قسم کے اندھاپے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی امان وپناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین وانہ سبحانہ وتعالی سمیع قریب مجیب وعلی ما یشاء قدیر -
Ayah 22:4799 منکرین کے استعجال کا ذکر وبیان : سو اس سے منکرین کی طرف سے استعجال، یعنی عذاب کے لیے جلدی مچانے کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ آپ سے عذاب کی جلدی مچاتے ہیں "۔ استہزاء و تکذیب کے طور پر ‘ کہ کب آئے گا وہ عذاب جس کی دھمکیاں آپ ہمیں دے رہے ہیں ؟ وہ ہم پر آتا کیوں نہیں ؟ اس کو کس نے روک رکھا ہے ؟ اس کو لا کر دکھاؤ ‘ وغیر ذالک آخر وہ کب لنگرانداز ہوگا، سو کفر و انکار کی نحوست سے انسان کی مت ایسے ہی مار دی جاتی ہے، اور وہ اسی طرح لاپرواہ اور غیر ذمہ دار ہوجاتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور وہ عذاب سے بچنے کی فکر و کوشش کی بجائے اس کے لیے جلدی مچانے لگتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
100 اللہ کے وعدے نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ اللہ خلاف ورزی نہیں فرماتا اپنے وعدے کی۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کبھی خلاف ورزی نہیں فرماتا اور نہیں فرمائے گا اپنے وعدے کی۔ اس لئے اس کے وعدے کے مطابق وہ عذاب ان پر بہرحال آ کر رہے گا ‘ مگر اس کا ایک وقت مقرر ہے ‘ جس کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے ‘ سبحانہ و تعالیٰ سو عقل و خرد اور ہوشمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس ہولناک عذاب کیلئے جلدی مچانے اور اس کا مطالبہ کرنے کی بجائے اس سے بچنے کی فکر اور کوشش کی جائے، کیونکہ اس کے آچکنے کے بعد پھر اس سے بچنے کی کوئی صورت ایسے لوگوں کیلئے کبھی ممکن نہ ہوگی، والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے ۔ { لِکُلِّ نَبَأٍ مَسْتَقَرٌّ } ۔ اللہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
101 خدائی دنوں کے پیمانے کی عظمت کا بیان : سو خدائی دنوں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " تمہارے رب کے یہاں کا ایک دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار برس کا ہوتا ہے "۔ اس لئے سینکڑوں ہزاروں برس کی جس مدت کو تم لوگ بہت لمبی مدت سمجھتے ہو ‘ وہ اللہ پاک کے حساب میں اور اس کے پیمانہ کے مطابق ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصہ ہوتی ہے ‘ بلکہ اس سے بھی کم ‘ تو پھر یہ جلد بازی کیسے اور کیوں ؟ سو لوگوں کے حساب سے اور ان کی سمجھ کے اعتبار سے وہ دن اگرچہ بہت دور ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کے حساب سے وہ بہت نزدیک ہے ۔ { اِنَّہُمْ یَرَوْنَہ بَعِیْدًا وَّنَرَاہُ قَرِیْبًا } ۔ (المعارج : 6-7) سو عذاب کی تاخیر سے کسی کو غلط فہمی میں نہیں پڑنا چاہیے اور اللہ پاک سبحانہ وتعالی کے وعدوں اور اس کے پیمانوں کو اپنے حساب سے نہیں دیکھنا چاہیے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 22:48–50102 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب کو بالآخر اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ سب کو آخرکار ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے جہاں پر ہر کسی نے اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا حساب دینا اور بدلہ پانا ہے ‘ پس جلد بازی کی بجائے اس عذاب سے بچنے کی فکر کرنے کی ضرورت ہے ‘ اور دنیا کی اس عارضی اور محدود فرصت میں اگر کوئی عذاب سے بچ بھی گیا تو بھی کیا ہوا، کہ آخرکار تو ان سب کو لوٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے، اور یہاں پہنچ کر ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ بہرحال پاکر رہنا ہے،۔ سو اس ارشاد ربانی سے عذاب کے لیے جلدی مچانے والوں کو جواب دیا گیا کہ ان کو خداوند قدوس کی طرف سے دو ڈھیل اور مہلت ملی ہوئی ہے اس سے یہ لوگ مست اور مغرور نہ ہوں اور یہ تاریخ سے سبق لیں کہ کتنی ہی قومیں ایسی گزر چکی ہیں جن کو ان کے کفر و شرک کے باوجود ڈھیل دی گئی لیکن جب انہوں نے اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا تو آخر کار ان کو دبوچ لیا گیا اور اس موقعہ پر کوئی بھی انکو ہماری گرفت و پکڑ سے چھڑانے والا نہ بن سکا۔ سو یہی حشر تمہارا بھی ہونے والا ہے اے دور حاضر کے منکرو۔ اگر تم نے اپنی روش نہ بدلی اور تمہاری اکڑی ہوئی گردنوں میں خم نہ آیا۔ اور اس حقیقت کو بھی یاد رکھنا کہ بالآخر تم سب کی واپسی ہماری ہی طرف ہونی ہے۔ تمہارے مزعوم و من گھڑت شرکاء و شفعاء اور تمہارے اعوان و انصار میں سے کوئی بھی تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جن لوگوں نے از خود اس طرح کے تصورات قائم کر رکھے ہیں وہ سب بےبنیاد ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 22:51–52104 حق کا مقابلہ کرنے والوں کی ہولناک انجام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ کی آیتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے والے یار ہیں دوزخ کے۔ اور جس طرح ایک یار اپنے یار سے الگ نہیں ہوتا ‘ بلکہ اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے ‘ اسی طرح دوزخ کی وہ ہولناک آگ نہ ان لوگوں کو چھوڑے گی اور نہ ہی یہ اس سے کبھی الگ ہوسکیں گے ‘ والعیاذ باللہ سو اس طرح ایسے لوگ اپنے مونہوں کی پھونکوں سے حق کے چراغ کا تو کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے ‘ البتہ وہ خود دوزخ کا ایندھن بن جائیں گے ‘ والعیاذ باللہ سو اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کی آیتوں کو قبول کرنے کی بجائے ان کا مقابلہ کرنا، اور ان کو نیچا دکھانے کیلئے دوڑ دھوپ کرنا ایک بڑا ہی ہولناک اور انتہائی سنگین جرم ہے، جس کا انجام بڑا ہی برا اور نہایت ہی المناک ہے، والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ اس کی برعکس سلامتی کی راہ اور انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والا طریقہ اور انسان کی عبدیت و بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان صدق دل سے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کے سامنے جھک جائے اور ان کا مقابلہ کرنے کی بجائے ان کو اپنے لیے مشعل راہ بنائے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 22:53108 شیطان کی خلل اندازی باعث فتنہ و ابتلاء : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ شیطان کی خلل اندازی دل کے روگیوں اور سنگدلوں کیلئے فتنہ اور آزمائش کا ذریعہ ہے کہ شیطان کے القاء اور اس کی خلل اندازی کا شکار اصل میں ایسے ہی لوگ ہوتے ہیں ‘ والعیاذ باللہ العظیم سو یہ اللہ پاک کی سنت اور اس کا دستور ہے جو اس کائنات میں کارفرما ہے، جسکے مطابق ہر کسی کو اس کے ارادہ و اختیار کی آزادی ہے کہ وہ اپنے ارادہ ومرضی کے مطابق جونسا راستہ و طریقہ چاہے اختیار کرے، اور اسی بنا پر وہ ثواب یا عقاب کا مستحق قرار پاتا ہے، اور یہاں پر دل کے روگیوں سے مراد منافق لوگ ہیں جن کے دلوں میں نفاق کا روگ ہے، اور قاسیۃ القلوب یعنی سنگدلوں سے مراد کھلے کفار اور مشرکین وغیرہ ہیں، سو ایسے لوگ شیطان کے ان شکوک و شبہات کے ذریعہ حق اور اہل حق کیخلاف طرح طرح سے پروپیگنڈے کرتے تھے،۔ بہرکیف اللہ تعالیٰ نے ابتلاء و آزمائش اور کھرے کھوٹے کے درمیان فرق وتمیز کے لیے اس دنیا میں حق کے ساتھ باطل کو بھی مہلت دی رکھی ہے جس سے اسی ابتلاء و آزمائش کے تقاضے پورے ہوتے ہیں۔ اور کھرے کھوٹے کے درمیان تمیز ہوجاتی ہے ۔ والامر الی اللہ -
109 عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو یہ سنگدلوں کے لیے آزمائش ہے۔ جو کہ ایک طبعی نتیجہ اور لازمی اثر ہے ان کے اپنے کفر و باطل پر اڑے رہنے ‘ اور ضد و ہٹ دھرمی سے کام لینے کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایسے لوگ شیطان کے ایسے وسوسوں اور خلل اندازیوں کو حق اور اہل حق کیخلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں، اور اس طرح ایسے لوگوں کا عناد اور ان کی ہٹ دھرمی انکو حق سے اور دور لے جاتی ہے، اور ان کی محرومی اور پکی ہوجاتی ہے والعیاذ باللہ، سو عناد اور ہٹ دھرمی محرومیوں کی محرومی ہے، والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حق اور اہل حق کے دشمنوں اور ہٹ دھرموں کو مہلت اور ڈھیل دی گئی تاکہ وہ ان کی خلاف اپنی زور آزمائی کرلیں اور جو کھیل وہ ان کے خلاف کھیلنا چاہتے ہیں وہ کھیل لیں تاکہ اس کے نتیجے میں اہل حق ابتلاء و آزمائش کی بھٹی سے نکل کر اور چمک اٹھیں اور ان کی صداقت و حقانیت میں مزید نکھار آجائے اور اہل باطل کے کفر و نفاق کے میل ان پر اور جم جائے تاکہ اس کے نتیجے میں وہ دوزخ کا ایندھن بن کر رہیں ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
110 ظالموں کی محرومی اور ہٹ دھرمی کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک ایسے ظالم لوگ بہت دور کی مخالفت (اور ہٹ دھرمی) میں پڑے ہیں۔ ایسی دور کی مخالفت میں جہاں سے بظاہر اسباب حق و صداقت کی طرف ان کی واپسی اور رجوع بہت مشکل اور بعید ہے ‘ جو کہ نتیجہ ہے ان کی اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کا ‘ والعیاذ باللہ سو اس میں پیغمبر کیلئے یہ اشارہ ہے کہ اب ان لوگوں سے خیر کی توقع نہ رکھو، ان کو انکے اپنے حال پر چھوڑ دو یہ اپنے انجام کو پہنچ کر رہیں گے، کہ یہ اب سنت الہی کی زد میں آئے ہوئے ہیں، والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں قلوب مریضہ اور قلوب قاسیہ رکھنے والے ان دونوں گروہوں کے ظلم اور ان کی محرومی اور ہٹ دھرمی کا ذکر فرمایا گیا ہے اور یہ کہ ان کی اس محرومی کا باعث ان کا اپنا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ ظلم وتعدی اور عناد وہٹ دھرمی کے ہر شائبے سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 22:54111 باطل کو مہلت ملنے کی ایک اور حکمت و فائدہ : سو اس سے حق کے مقابلے میں باطل کو مہلت دیئے جانے کی دوسری حکمت واضح فرمائی گئی ہے۔ پس کوئی مانے یا نہ مانے ‘ حق اور حقیقت بہرحال یہی ہے کہ حق یہی کلام و پیغام ہے جو آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے ‘ سو یہ حق کے مقابلے میں باطل کو مہلت دیئے جانے کی دوسری حکمت بیان فرمائی گئی ہے، کہ اس طرح وہ لوگ جن کو قرآن اور کتاب الہی کا علم ملا ہوتا ہے، وہ اپنے علم میں پوری طرح راسخ ہوجاتے ہیں کہ جو علم ان کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے ملا ہے وہ قطعی طور پر حق اور صدق ہے، اور ان کے علم کی اس پختگی سے ان کے ایمان و یقین کو اور بھی رسوخ حاصل ہوجاتا ہے ۔ اللہ ہر فتنے اور آزمائش سے محفوظ رکھے ۔ آمین۔
112 ابتلاء و آزمائش اہل علم کے لیے مزید پختگی ایمان کا ذریعہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر وہ اس پر مزید پختگی سے ایمان لے آئیں "۔ اور اس طرح القا شیطانی اور اس کے ازالہ رحمانی سے ان کا ایمان و یقین اور زیادہ مستحکم و مضبوط ہوجاتا ہے ‘ کیونکہ قاعدہ اور ضابطہ یہ ہے کہ اشد کی اصل حقیقت ان کی اضداد ہی سے واضح ہوتی ہے، سو شیطان کی ایسی دخل اندازی سے ایسے لوگ اس چیز کے ہر پہلو سے واقف و آگاہ ہوجاتے اور ان کا ایمان اور مضبوط اور پختہ ہوجاتا ہے،۔ اور ظاہر بات ہے کہ جن کا علم راسخ اور مبنی بر حکمت و بصیرت ہوگا ان کا ایمان بھی تقلیدی نہیں ہوگا جو ہر جھونکے سے متزلزل ہوجائے بلکہ صحیح اور راسخ علم سے پیدا ہونے والا علم بھی صحیح اور راسخ ہوگا اور اسی راسخ ایمان سے وہ اسلام اور اخبات وجود میں آتا ہے جو ایمان کی اصل روح ہے اور جس کے بغیر ایمان خدا کی میزان میں کوئی وزن نہیں رکھتا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال فی الحیاۃ -
113 اللہ ہدایت دیتا ہے ایمان والوں کو سیدھی راہ کی : اس سیدھی راہ کی طرف جس پر چل کر ایسے لوگ دارین کی سعادت و سرخروئی ‘ اور حقیقی فوز و فلاح سے بہرہ ور اور سرفراز ہوں گے ‘ اللہ نصیب فرمائے ‘ آمین بہرکیف اوپر ارشاد فرمایا گیا تھا کہ ظالم لوگ دور کی مخالفت اور ہٹ دھرمی میں پڑے ہیں، اب اس کے مقابلے میں ایمان والوں کو یہ بشارت دی جارہی ہے کہ شیطانوں کے القاء واضلال کے باوجود اللہ تعالیٰ ان کو سیدھی راہ کی توفیق و ہدایت سے نوازے گا،۔ سو شیاطین تو ان کو راہ حق سے ہٹانے کی بہت کوششیں کریں گے لیکن اللہ تعالیٰ ان کے ایمان کو ضائع نہیں ہونے دے گا بلکہ اپنی عنایت اور توفیق بخشی سے وہ ان کی صراط مستقیم ہی کی طرف راہنمائی فرمائے گا ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 22:55–57114 منحوس دن سے مراد ؟ : یعنی جو کہ منحوس ہوگا ان منحوسوں کے حق میں ‘ جنہوں نے راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ کر باغیانہ زندگی گزاری تھی ۔ والعیاذ باللہ ۔ اس سے مراد ہے قیامت کا دن۔ یا ان لوگوں پر آنے والے فیصلے کن عذاب کا دن اور اس کو عقیم اس لئے بھی فرمایا گیا کہ اس کے بعد کوئی اور دن نہیں آئے گا کہ اس کی رات ہی نہ ہوگی جس کے بعد دن آئے ‘ اس طرح اس عذاب سے مراد بھی ان لوگوں کے لیے فیصلہ کن عذاب یا قیامت ہی کا عذاب ہے جو کہ سب سے بڑا اور ہولناک عذاب ہوگا ‘ والعیاذ باللّٰہ الْعَظِیْمِ و فِیْہِ اَقْوَالٌ اُخْرٰی (ابن کثیر ‘ صفوۃ ‘ جامع ‘ خازن وغیرہ) اور یہ دن اس لیے بھی عظیم ہوگا کہ اس کے بعد عمل اور آخرت کیلئے کمائی کا کوئی دن انسان کو پھر کبھی نہیں مل سکے گا، کہ اس کے بعد فرصت عمل ہمیشہ ہمیش کیلئے ختم ہوچکی ہوگی،۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہر شر و فساد سے ہمیشہ محفوظ رکھے -
Ayah 22:58115 ہجرت کی عظمت و فضیلت کا بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جنہوں نے ہجرت کی اللہ کی راہ میں "۔ اور انہوں نے اپنے گھر اور وطن کو اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کی خاطر چھوڑا تو وہ اطمینان رکھیں کہ ان کیلئے کامیابی ہی کامیابی ہے، وہ اس راہ میں مارے جائیں تو بھی اور طبعی موت مرجائیں تو بھی، کہ اس راہ میں پہلا قدم بھی منزل کا درجہ رکھتا ہے،۔ سو ان کو اگر دار الہجرت پہنچنے سے پہلے ہی قتل کردیا گیا یا ان کو موت آگئی تو ان کو بہرصورت شہادت کا درجہ و مرتبہ نصیب ہوگیا اور اللہ ان کو اپنے رزق حسن سے نوازے گا جیسا کہ سورة آل عمران کی آیت نمبر 169 میں بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ کی راہ میں مارے جانے والے مرتے نہیں بلکہ زندہ ہوتے ہیں اور وہ اپنی برزخی زندگی میں بھی خاص اپنے رب کے خوان نعمت سے رزق پاتے ہیں۔
116 روزی رساں سب کا اللہ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور بیشک اللہ ہی ہے سب سے بہتر روزی رساں۔ اور اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے کہ وہ ہر کسی کو، ہر جگہ، ہر حال میں اس کی طبیعت اور اس کے حال اور مزاج کے مطابق روزی بہم پہنچاتا ہے ‘ سبحانہ و تعالیٰ اور رزق کے اصل معنی عطاء و بخشش کے ہیں سو وہ ایسے سچے اور مخلص ایمانداروں کو جن انعامات سے نوازے گا، ان کا اندازہ کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں کہ اس کی شان ہی نوازنا ہے، اور حب وہ خیر الرازقین ان کو اپنی عطاء و بخشش سی نوازے گا تو پھر کون اندازہ کرسکتا ہے کہ وہ ان لوگوں کو کیا کچھ عطا فرمائے گا جو محض اس کی رضا و خوشنودی کی خاطر اپنا گھر در سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوں کہ وہ تو شکور اور بڑا ہی قدرداں بھی ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 22:59117 ایسے خوش نصیبوں کے لیے ایک اور خوش خبری : سو ارشاد فرمائے گا کہ " اللہ ان کو ضرور داخل فرمائے گا ایک عظیم الشان جگہ میں "۔ یعنی جنت میں (ابن کثیر) اور جہاں ان کو وہ ایسی ایسی نعمتوں سے نوازے گا جو ان کے خواب و خیال میں بھی کبھی نہ گزری ہوں گی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین سو اللہ کی راہ میں ہجرت اور اللہ کی رضا کیلئے قربانی دینا ایک ایسی عظیم الشان سعادت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرتی ہے، یہاں تک کہ اس راہ میں طبعی موت مرنا بھی شہادت کا درجہ رکھتا ہے، جیسا کہ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی راہ میں قتل ہونے والا اور بغیر قتل کے یونہی مرجانے والا دونوں اجر میں ایک برابر ہیں، (المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ان کو ایسی عظیم الشان جگہ میں داخل فرمائے گا جس کو یہ پسند کریں گے۔ اس میں ان کی ہر خواہش پوری ہوگی۔ اور اس سے بھی بڑھ کر ان کو وہاں پر وہ کچھ ملے گا حس کا اس جہاں میں کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 22:60118 اللہ اپنے بندوں کی پشت پر ہے : پس وہ اپنے بندوں کی مدد ضرور فرمائے گا کہ ہر کسی کی مدد کرنے والا اور حاجت روا و مشکل کشا وہی وحدہ لاشریک ہے، سو اگر کسی مسلمان پر ظلم ہوا تو اس کو اپنے ظلم کا برابر بدلہ لینے کا حق ہے، اور اس کو اس کی اجازت ہے، اگر اس کے بعد بھی اس پر زیادتی کی گئی تو دشمنان اسلام یاد رکھیں کہ اللہ اپنے ایسے مظلوم بندوں کی پشت پر ہے، وہ ان مظلوموں کا ضرور انتقام ضرور لیگا، سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو مظلوم مسلمان اگر اپنی جان و مال کی مدافعت میں برابر سرابر کا کوئی اقدام کروں تو ان کو اس کا حق ہے۔ اور ان کو اس کی اجازت دی جاتی ہے۔ سو اگر اس کے بعد ان پر کوئی زیادتی کی گئی تو ان کے دشمن یاد رکھیں کہ خدا اپنے بندوں کی پشت پر ہے اور وہ ان کی ضرور مدد فرمائے گا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ پس بندے کا تعلق اپنے رب سے صحیح ہونا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
119 اللہ تعالیٰ کی شان عفو و درگزر کا حوالہ و ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ بلاشبہ اللہ بڑا ہی درگزر کرنے والا انتہائی بخشش والا ہے۔ پس اگر سہو اور غلطی سے کوئی قصور ہوجائے تو اس گرفت نہیں فرمائے گا ‘ اور سچی توبہ پر وہ سب گناہ معاف فرما دے گا ‘ نیز اس میں مسلمانوں کیلئے یہ درس بھی ہے کہ وہ حتی المقدور عفور و درگزر سے کام لیں، کہ جب اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہونے کے باوجود لوگوں کو ان کی خطاؤں پر فورا نہیں پکڑتا بلکہ عفو و درگزر ہی سے کام لیتا ہے تو تم لوگوں کو بھی اے ایمان والو دوسروں کے ساتھ عفو و درگزر ہی کا معاملہ کرنا چاہیے۔ سو رب تعالیٰ کی صفات کریمہ کا عکس تمہارے اندر بھی آنا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 22:61120 اللہ کی قدرت کا ایک عظیم الشان مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ ہی داخل کرتا ہے رات کو دن میں اور وہی داخل کرتا ہے دن کو رات میں۔ سو رات اور دن کا یہ عظیم الشان ادل بدل اللہ پاکی کی قدرت وحکمت اور اس کی رحمت و عنایت کا ایک عظیم الشان مظہر ہے جو دنیا کے سامنے آتا ہے اور لگاتار اور پوری پابندی کے ساتھ آتا ہے اور اپنی زبان بےزبانی میں ان کو دعوت غور و فکر دیتا ہے مگر غافل دنیا ہے کہ اس طرف توجہ ہی نہیں کرتی اور وہ اپنی غفلت سے چونکنے کا نام ہی نہیں لیتی ۔ الا ما شاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا ۔ سو ایسا قادر مطلق جو چاہے کرے اس کی قدرت سے کوئی چیز خارج نہیں ‘ نیز رات دن کے اس ہیر پھیر اور ادل بدل میں تمہارے لئے یہ عظیم الشان اور بصیرت افروز درس بھی ہے کہ اس کی کارستانی و کارفرمائی اور توجہ و عنایت اس کائنات میں ہر لحظہ جاری اور برابر جاری رہتی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ورنہ یہ سارا کارخانہ ہست و بود مٹ کر رہ جائے، پس بندے کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ اور ہر حال میں اسی کی طرف رجوع کرے اور ہمیشہ رجوع رہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 22:62121 یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے : اور اس کے سوا باقی سب باطل ‘ اور بےحقیقت ہیں اور یہ پوری کائنات اور جو کچھ اس کے اندر ہے وہ سب اسی وحدہ لاشریک کے وجود باجود کا رہین منت، اور اس کی عظمت و وحدانیت کا ثبوت اور اس کا گواہ ہے، اور اس کے سوا جن کو یہ مشرک لوگ پوجتے پکارتے ہیں وہ سب باطل اور بےحقیقت ہے، پس کوئی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ ان مخالفین کی پشت پر بھی کوئی طاقت ہے، ایسا سمجھنا پرلے درجے کی حماقت اور سراسر دھوکہ اور خودفریبی ہے، والعیاذ باللہ ۔ سو کائنات کا وجود اور اس کا یہ پر حکمت نظام اس بات کا قطعی ثبوت اور واضح دلیل ہے کہ معبود برحق اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ وہ جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ نہ اس کے لیے کچھ مشکل ہے اور نہ اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ۔ اور نہ ہی وہ اسباب و وسائل کا محتاج ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
122 اللہ تعالیٰ کی عظمت شان کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یقینا اللہ بڑا ہی بلند وبالا اور برتر و عظیم الشان ہستی ہے "۔ سو کس قدر خسارے میں ہیں وہ لوگ جو اس عظمت بےپایاں اور اعلیٰ شان والے معبود برحق کو چھوڑ کر ‘ ان دوسرے خود ساختہ معبودوں کو پوجتے پکارتے ہیں ‘ جن کی نہ کوئی اصل اور حقیقت ہے اور نہ ہی وہ کسی نفع و نقصان کا اختیار رکھتے ہیں ‘ والعیاذ باللہ ان خودساختہ اور بےحقیقت چیزوں کی اس وحدہ لاشریک کے سامنے حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ سو یہ سب کچھ محض دھوکے کا سامان ہے والعیاذ باللہ، سو اللہ تعالیٰ کے سوا جن دوسری چیزوں اور مختلف ہستیوں وغیرہ کو لوگ پوجتے پکارتے ہیں وہ سب محض اوہام اور فریب اور دھوکے کا سامان ہیں۔ اس کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف اور فرمانروا و کارفرمائے حقیقی صرف اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے اور اللہ تعالیٰ بڑی ہی عظیم الشان اور بلند وبالا ہستی ہے جس کی عظمتوں کا کوئی کنارہ نہیں ۔ اللہم فکن لنا وخذ بنواصینا الی ما فیہ حبک ورضاک ۔ سو اس کے حکم وارشاد سے منہ موڑنا سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 22:63123 مظاہر قدرت میں غور و فکر کی دعوت و ترغیب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا " تم دیکھتے نہیں قدرت کے ان عظیم الشان مظاہر میں "۔ یعنی ان میں غور و فکر سے کام نہیں لیتے ‘ تاکہ تم اس وحدہ لاشریک کی عظمت ‘ قدرت ‘ اور بےپایاں رحمت کے جابجا بکھرے اور نکھرے آثار و نشانات دیکھ سکو ‘ اور اس کی معرفت سے سرشار ہو کر دارین کی سعادت اور حقیقی فوز و فلاح سے سرفراز ہو سکو ‘ سو اگر تم کائنات کی اس عظیم الشان اور کھلی کتاب کے انہی چند و مظاہر کو دیکھو، اور ان میں غور و فکر سے کام لو جو ہر وقت تمہاری آنکھوں کے سامنے رہتے ہیں، یعنی آسمان سے پانی اتارنے کے اور اس کے ذریعے مردہ پڑی زمین کو زندگی بخشنے، اور اس سے طرح طرح کی پیداواریں نکالنے اور خوشنما فصلوں، کھیتوں اور باغوں کے لہلہا اٹھنے ہی کو دیکھ لو، اور ان میں صحیح طریقے سے غور و فکر سے کام لو تو تمہیں نظر آئے گا کہ تمہارا وہ خالق ومالک جسکی قدرت اور رحمت و عنایت کے یہ عظیم الشان مظاہر تمہارے سامنے رہتے ہیں، کیسی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور رحمت شاملہ کا مالک ہے، تو تم اس کی وحدانیت کیلئے دل سے پکار اٹھو اور دل سے اس کے حضور جھک جاؤ،۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وعلی الدوام والتابید -
124 مردہ زمین کا جی اٹھنا قدرت کا ایک اور عظیم الشان مظہر : سو مردہ پڑی زمین کا جی اٹھنا قادر مطلق کی قدرت کاملہ اور رحمت شاملہ کا ایک عظیم الشان نمونہ و مظہر ہے۔ سو تم دیکھتے ہو کہ وہ زمین جو بالکل مردہ پڑی ہوئی تھی بارش کے حیات آفریں قطرات کے پڑتے ہی زندہ ہوجاتی ہے۔ اور اس میں قسما قسم کی وہ انگوریاں نکل آتی ہیں جن سے تم طرح طرح کے فائدے اٹھاتے اور منافع کماتے ہو ‘ مگر اس کے باوجود تم لوگ اے غافلو اس واہب مطلق کو بھولے ہوئے ہو ‘ والعیاذ باللہ سو یہ کتنی بڑی بےانصافی اور کس قدر ناشکری ہے والعیاذ باللہ، مگر اس کے باوجود اس کے طرف سے یہ ڈھیل ؟ اسی وحدہ لاشریک کی شان ہوسکتی ہے سبحانہ و تعالی، نیز اس آفاقی دلیل کی شہادت سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و عنایت کی گھٹا کسی بھی وقت اور کسی بھی طرف سی ظاہر ہوسکتی ہے۔ لہذا نہ تو کوئی اس کو بعید سمجھے اور نہ اس سے مایوس ہو بلکہ ہمیشہ اس کی امید بھی رکھے اور اس واہب مطلق ۔ جل جلالہ ۔ کی طرف دل وجان سے متوجہ بھی رہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
125 بلاشبہ اللہ بڑا ہی مہربان نہایت ہی باخبر ہے : جو اپنے بندوں کو ایسی عظیم الشان اور بیشمار نعمتوں سے نوازتا ہے ‘ اور اس قدر پر حکمت نظام کے تحت نوازتا ہے ‘ سبحانہ و تعالیٰ اور ایسا کہ اس کی ان عنایات اور نوازشات کا یہ سلسلہ برابر اور لگاتار جاری ہے، اور یہ سب کچھ اس قدر لطافت اور باریک بینی سے انجام پاتا ہے کہ انسان اس کے ادراک و احاطہ سے عاجز ہے، سو ایسے لطیف وخبیر خداوند قدوس سے منہ موڑنا اور اس کے حق اطاعت و بندگی سے غفلت برتنا اور اس سے بڑھ کر یہ کہ ان دوسری بےبنیاد اور بےحقیقت چیزوں کو اس کا شریک قرار دیا جائے، جن کا ان نعمتوں کو عطا کرنے میں سرے سے کوئی عمل دخل ہی نہ ہو کس قدر ظلم ہے، والعیاذ باللہ العظیم ۔ نیز وہ اپنے بندوں کے تمام احوال و کو ائف اور ظواہر و بواطن سے پوری طرح باخبر ہے اور ایسا کہ جو کچھ ماضی کے پردوں میں چھپا ہوا ہے وہ اس سے پوری طرح باخبر و آگاہ ہے اور جو کچھ مستقبل کی اوٹ میں ہے وہ اس سے بھی پوری طرح واقف و آگاہ اور باخبر ہے ۔ { اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ } ۔ پس بندے کا کام ہے کہ وہ ہمیشہ اسی کی طرف متوجہ رہے اور اس سی ہر خیر کی توقع اور امید رکھے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 22:64126 کائنات میں جو کچھ ہے وہ سب اللہ ہی کا ہے : سو ارشاد فرمایا گیا اور اسلوب حصر وقصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ آسمانوں اور زمین میں ہے کہ اس سب کا خالق بھی وہی ہے اور مالک بھی وہی۔ اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی اور دنیا کے ظاہری اسباب کے دائرے میں اس کائنات کی جس چیز پر بھی کسی کو ملکیت اور حکم و تصرف کا جو کوئی حق کسی بھی درجے میں ملا ہوا ہے ‘ وہ بھی اسی کی بخشش وعطاء سے ملا ہوا ہے ‘ کہ اسی کی شان ہے ۔ { تُؤْتِی الْملْکَ مَنْ تَشَائُ وَتَنْزِعُ الْمُلْکِ مَّنْ تَشَائُ } ۔ جب کہ ظاہری اسباب کے بغیر کوئی بھی اس دنیا میں کسی بھی چیز کا مالک نہیں ہوسکتا ‘ کہ یہ دنیا ہے ہی اسباب و وسائل کی دنیا ‘ سو کس قدر غلط اور بےبنیاد ہیں ان لوگوں کے وہ دعوے ‘ جن کے مطابق انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس کائنات کے ازخود حصے بخرے کر کے مختلف ہستیوں کے لئے مختص کر رکھے ہیں ‘ اور ان کو انہوں نے انہی کے ناموں سے منسوب کر رکھا ہے ‘ کسی کو وہ داتا کی نگری قرار دیتے ہیں اور کسی کو خواجہ اجمیر کی۔ اور کسی کو پیر بابا کا ایریا ‘ اور کسی کو کسی اور کا ‘ جس کے لئے نہ اللہ کے فرمان سے کوئی دلیل ہے ‘ اور نہ اس کے رسول کے فرمان سے کوئی سند ‘ اور نہ ہی خود ان بزرگ ہستیوں میں سے کسی نے کبھی ایسا کوئی دعویٰ اور اعلان ہی کیا ‘ مگر اس سب کے باوجود ایسے برخود غلط لوگوں نے اس طرح کی خود ساختہ تقسیموں اور خانہ ساز ناموں سے جابجا شرک و بدعت کے کاروبار شروع کر رکھے ہیں ‘ فِالَی اللّٰہ الَمُشْتکٰی وَ ہُوَ المستعان فی حِیِ واٰنِ وفی دَفْع کُلِّ شَرٍّ و طُغْیَانٍ بہرکیف قرآن حکیم جابجا اس حقیقت کی تصریح کرتا ہے کہ زمین و آسمان کی اس ساری کائنات کا خالق ومالک بھی تنہا وہی ہے، اور اس میں حاکم و متصرف بھی وہی ہے سبحانہ و تعالی،۔ اس میں دوسری کوئی بھی ہستی کسی بھی درجے میں اس کے شریک وسہیم نہیں۔ اس لیے اس حقیقت کے برعکس لوگوں نے جو طرح طرح کے مفروضے گھڑ رکھے ہیں وہ سب بےبنیاد ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 22:65127 کچھ اور مظاہر قدرت میں دعوت غور و فکر : سو اس ارشاد سے قدرت خداوندی کے کچھ اور مظاہر میں غور و فکر کی دعوت دی گئی ہے کہ جب ان تمام عظیم الشان نعمتوں کے پیدا کرنے اور ان کے عطاء فرمانے، اور ان میں تصرف کرنے میں کوئی اس وحدہ لاشریک کا شریک وسہیم نہیں ‘ تو پھر اس کی عبادت و بندگی میں کوئی اس کا شریک کیسے اور کیونکر ہوسکتا ہے ‘؟ سو قیام و رکوع ‘ سجود و طواف ‘ اور نذر و نیاز وغیرہ ‘ عبادت کی ہر قسم اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کے ساتھ مختص ہے ۔ { اَلا لَہُ الْخَلْقُ وَ الاَمْرُ تَبَارَکَ اللّٰہُ رَبُّ الْعَالَمِیْنَ } ۔ (الاعراف : 54) پس کسی بھی قسم کی عبادت کا اس وحدہ لاشریک کے سوا کسی اور کے لئے بجا لانا شرک ہوگا ‘ جو کہ بہت بڑا گناہ اور ظلم عظیم ہے ‘ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور جب آسمان و زمین کی ہر چیز انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے اور اس طور پر کہ اس کے بغیر انسان کی بقاء اس دنیا میں ایک لمحہ کے لیے بھی ممکن نہیں تو پھر یہ بات کس طرح ممکن ہوسکتی ہے کہ کائنات کی ہر چیز تو انسان کی خدمت کے لیے ہو اور خود انسان کا وجود بےمقصد اور عبث و بیکار ہو ؟ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ اسی کا مخلوق اور اسی کا مملوک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 22:66128 واقعی انسان بڑا ناشکرا ہے : جو ان اور ان عظیم الشان نعمتوں کے باوجود اپنے خالق ومالک سے منہ موڑے ہوئے ہے ‘ والعیاذ باللہ نہ وہ ان کا حق شکر ادا کرتا ہے اور نہ وہ اپنے منعم حقیقی کی طرف متوجہ ہوتا ہے، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ وہ دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتا ہے، ان کو جن کا ان نعمتوں کی عطاء و بخشش میں کوئی حصہ سرے سے ہی نہیں اور ہوسکتا ہی نہیں، سو ناشکری اور بےقدری بیماریوں کی بیماری ہے، والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد سے سرکشی کی اصل علت کو آشکارا فرما دیا گیا ہے۔ سو جہاں تک قرآن حکیم اور رسول کریم کی باتوں کا تعلق ہے وہ تو بالکل واضح ہیں۔ ان میں کسی بحث و نزاع کی کوئی گنجائش نہیں لیکن لوگوں کی ناقدری اور نا شکری ہے کہ وہ ان کی محرومی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنے ذکر و شکر سے سرشار و سرفراز رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 22:67–69129 بیشک آپ قطعی طور پر سیدھی راہ پر ہیں : سو کوئی مانے یا نہ مانے ‘ تسلیم کرے یا نہ کرے ‘ راہ حق و صواب بہرحال وہی اور صرف وہی ہے ‘ جس پر آپ اپنے رب کے فضل و کرم سے گامزن ہیں ‘ اور جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے ہمکنار کرنے والی راہ ہے ‘ اب جو کوئی صدق دل سے اس راہ کو اپنائے گا وہ اپنے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا سامان کریگا، اور اس کے برعکس جو کوئی اس سے اعراض کریگا اور منہ موڑے گا والعیاذ باللہ وہ یقینا اپنا ہی نقصان کرے گا، والعیاذ باللہ العظیم ۔ پس آپ راہ حق پر گامزن رہو اور اسی کی دعوت دنیا کو دیتے رہو جو حق اور حقیقت کے طالب ہوں گے وہ اس دعوت کو قبول کریں گے اور اس راہ کو اپنا لیں گے اور جو اس سے اعراض اور روگردانی برتیں گے ان کو ان کے حال پر چھوڑ دو ۔ وہ اپنے کیے کرائے کا بھگتان خود بھگتیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 22:70130 ہر کسی کا ریکارڈ پوری طرح محفوظ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ یہ سب کچھ ثبت و مندرج ہے ایک عظیم الشان کتاب میں "۔ یعنی لوح محفوظ میں۔ (ابن کثیر، مدارک، معالم، خازن، جلالین، جمل، صفوۃ وغیرہ) اور اس کو محفوظ اسی لئے کہا جاتا ہے کہ وہ ہر قسم کی تحریف و تغییر اور انسانی دسترس و رسائی سے محفوظ ہے اور اس میں قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے وہ سب محفوط و مندرج ہے ‘ جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ اس کائنات میں قیامت تک جو کچھ ہونے والا ہے ‘ وہ سب اسمیں ثبت و مندرج ہے ‘ اور اس کائنات کی پیدائش سے پچاس ہزار برس قبل یہ سب کچھ لکھ دیا گیا تھا (ابن کثیر ‘ وغیرہ) سو کوئی یہ نہ سمجھے کہ یہ کوئی یونہی ہوائی بات ہے بلکہ یہ ایک قطعی حقیقت ہے کہ اللہ پاک نے ہر شخص کا پورا ریکارڈ محفوظ کر رکھا ہے، اور کوئی معاملے کو اپنے اوپر قیاس کرکے یہ نہ سمجھے کہ ایسا کس طرح ہوسکتا ہے کہ یہ سب کچھ اللہ کیلئے بہت ہی آسان ہے، کہ اس کی قدرت کی کوئی حد ہی نہیں سبحانہ و تعالی،۔ سو اشرار اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال اور پوری طرح بھگت کر رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 22:71131 اللہ تعالیٰ کے سوا کسی بھی معبود کی کوئی حقیقت نہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ ایسی بےحقیقت چیزوں کی پوجا کرتے ہیں جن کے بارے میں اللہ نے کوئی سند نہیں اتاری "۔ اپنی کسی بھی وحی اور آسمانی کتاب میں کہ تمام آسمانی کتابوں نے توحید ہی کا درس دیا ہے ‘ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ‘ اور حصر و تاکید کے ساتھ فرمایا گیا ‘ وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِیٓ اِلَیْہِ اَلّہ ‘ لاَ اِلٰہَ اِلَّا اَنَا فَاعْبُدُوْنِ (الانبیاء -25) سو شرک کیلئے کوئی دلیل ممکن ہی نہیں نہ عقلی نہ نقلی، اور جب اس وحدہ لاشریک کا کوئی شریک نہ واقع میں کہیں ہے، اور نہ ہی ممکن ہوسکتا ہے تو پھر اس کیلئے کوئی دلیل ممکن ہی کیسے ہوسکتی ہے ؟ (المومنون۔ 117) ۔ پس توحید اساس ہے سارے دین کی۔
132 اور ظالموں کیلئے کوئی مددگار نہیں : ایسا مددگار جو ان کو اللہ کے عذاب سے بچا سکے، جنہوں نے اللہ وحدہ لاشریک کے ساتھ اوروں کو شریک مانا اور ظلم عظیم کا ارتکاب کیا کہ شرک سب سے بڑا ظلم ہے ۔ { اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ } ۔ سو ایسوں کیلئے کوئی مددگار نہیں، کیونکہ جن کو انہوں نے مددگار سمجھ رکھا تھا وہ سب وہمی، فرضی اور بےحقیقت تھے۔ اور اللہ وحدہ لا شریک جو کہ مالک حقیقی اور سب کا معین و مددگار ہے اس کے ساتھ ان بدبختوں نے لو لگائی نہیں تو پھر ان کا کوئی مددگار کہاں سے اور کیسے ہوسکتا ہے ؟ سو شرک انسان کے لیے دنیا و آخرت کی ہلاکت و تباہی اور ذلت و رسوائی کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل شائبۃ من شوائب الظلم والشرک۔
Ayah 22:72133 سماعِ حق سے ابنائے کفر و شرک کے چہروں پر ناگواری کے آثار : سو اس سے تصریح فرما دی گئی کہ اللہ کی کھلی آیتیں سننے سے کفار و مشرکین کے چہروں پر ناگواری کے آثار ابھرتے اور ظاہر ہوتے ہیں۔ یعنی ان آیات کے سننے پر۔ جن میں عقائد حقہ اور خاص کر توحید خدا وندی کا بیان ہوتا ہے ‘ (ابن کثیر ‘ صفوۃ التفاسیر ‘ جامع البیان وغیرہ) اور یہی حال ایسے لوگوں کا آج بھی ہے ‘ کہ عقیدہ توحید کے ذکر وبیان سے ان کو آج بھی اسی طرح ناگواری ہوتی ہے ‘ والعیاذ باللہ العظیم سو ان کی محرومی اور قساوت قلبی کا عالم یہ ہے کہ جن فرضی اور وہمی خودساختہ معبودوں کی پوجا پاٹ میں یہ لوگ لگے ہوئے ہیں، ان کے بارے میں عقل و نقل کی کوئی دلیل نہ ہونے کے باوجود ان کی جاہلانہ جمیت کا یہ عالم ہے کہ یہ کھلی اور واضح آیات سننے پر ایسے سیخ پا اور آگ بگولہ ہوجاتے ہیں، اور اہل حق پر پل پڑنے کو تیار ہوجاتے ہیں،۔ سو ابنائے کفر و شرک کے لیے حق کا سننا بڑا گراں ہوتا ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
134 کافروں کیلئے ان کے نہایت ہی انجام کی خبر : یعنی ان کافروں کیلئے جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر و باطل پر، اور وہ اس سے باز آنے کو تیار نہیں ‘ پس تم اے کفر و باطل کے پرستارو ! اہل حق پر غصہ ہونے کی بجائے دوزخ کی اس ہولناک آگ سے بچنے کی فکر کرو کہ اس کا وقت یہی دنیا کی زندگی ہے جو ہاتھ سے نکلا جا رہا ہے، سو آج تو تم لوگ قرآن حکیم کی ان آیات بینات کو سننے سے ناک بھوں چڑھاتے ہو، اور اہل حق پر پل پڑنے کو تیار ہوجاتے ہو، حالانکہ یہ آیات ایک ٹھوس اور واضح احکام و دلائل پر مبنی و مشتمل ہوتی ہیں، اور وہ خود تمہارے ہی بھلے کیلئے تم لوگوں کو سنائی جاتی ہیں اور تمہارے چہرے بگڑ جاتے ہیں، سو آؤ میں تم لوگوں کی ایک ایسی چیز کی خبر دوں جو ان سے کہیں بڑھ کر تمہارے چہروں کو بگاڑنے والی ہے، اور جس سے لازماً تم لوگوں کو سابقہ پڑنا ہے اور اس کا مزہ تم نے بہرحال چکھنا ہے، اور وہ دوزخ کی وہ ہولناک آگ، جس کا یہاں کسی کیلئے تصور کرنا بھی ممکن نہیں سو وہ بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے جو نتیجہ ہوگا تمہارے اپنے ہی اختیار کردہ اس کفر و باطل کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور پھر اس انجام بد سے خلاصی پانے کی کوئی صورت بھی تمہارے لیے ممکن نہ ہوگی ۔ والعیاذ باللہ -