Ayah 21:98134 معبودان باطلہ اور انکے پجاری دونوں جہنم میں ۔ والعیاذ باللہ : سو ان مشرکوں کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا اور کلمات تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ بیشک تم بھی اے مشرکو اور تمہارے وہ معبود بھی جنکی پوجا تم لوگ اللہ کے سوا کرتے ہو سب جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ تم سب کو اس میں ایک ساتھ جلنا ہوگا اور تمہیں تو اے کافرو اور مشرکو اس میں جلنا ہوگا اپنے اس کفر و انکار اور شرک و بغاوت اور حق اور اہل حق سے عناد و سرکشی کی بنا پر جس کو تم نے زندگی بھر اپنائے رکھا تھا۔ اور تمہارے خود ساختہ معبودوں کو دوزخ کی اس دہکتی آگ میں اس لیے ڈالا جائے گا تاکہ اس سے تمہارے غم واندوہ اور حسرت و افسوس میں اور اضافہ ہو کہ جن کو تم اپنا معین و مددگار اور حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر پوجا پکارا کرتے تھے وہ آج عاجزی و بیکسی کی تصویر بنے تمہارے ساتھ جل رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور وہاں تم دیکھو گے کہ جن خود ساختہ معبودوں کی تم لوگ زندگی بھر پوجا پاٹ کرتے رہے آج انہی کی وجہ سے تم دوزخ میں جل رہے ہو اور وہ بھی تمہارے ساتھ جل رہے ہیں اور تمہارے لیے آتش دوزخ کی تیزی اور شدت کا باعث بن رہے ہیں۔ سو اس سے ان بدبختوں کے اس عذاب کی شدت دوچند ہوجائے گی ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 21:99135 کفار و مشرکین کو دوزخ میں ہمیشہ ہمیش رہنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ تم سب کو اس میں ہمیشہ رہنا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تمام کافروں اور مشرکوں کو بھی اور معبودان باطلہ اور ان کے عابدوں کو بھی۔ تاکہ ان کو اپنے ساتھ آگ میں پڑا دیکھ کر ان کے غم اور عذاب میں اور اضافہ ہوتا جائے کہ وہ جن کی شفاعت کی آس لگائے بیٹھے تھے اور یہ گھمنڈ رکھتے تھے کہ مشکل وقت میں ہمارے یہ خود ساختہ معبود ہمارے کام آئیں گے وہ آج ان کے ساتھ دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ میں جل رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ وہ ان کے کیا کام آتے وہ الٹا خود ان کے ساتھ دوزخ کی آگ کا ایندھن بن کر اس آگ کو اور بھڑکا رہے ہیں اور ان کے عذاب میں اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ سو حیات دنیا کی فرصت محدود کو انہوں نے چونکہ کفر و شرک اور الحادو بےدینی کی ظلمتوں ہی میں گزار دیا ہوگا ۔ والعیاذ باللہ ۔ تو اب ان کے لیے کمائی اور تلافی ما فات کا کوئی ذریعہ و وسیلہ ممکن نہیں ہوگا۔ اس لیے اس روز ان سے کہا جائے گا کہ اب تم لوگ روؤ اور فریاد کرو یا صبر اور خاموشی اختیار کرو اس سے کوئی فرق پڑنے والا نہیں۔ اب تم لوگوں نے بہرحال اور ہمیشہ کے لیے اسی میں رہنا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا کہ دوزخی وہاں پر خود کہیں گے کہ برابر ہے کہ ہم جزع فزع اور چیخ و پکار کریں یا صبر و برداشت سے کام لیں۔ اب ہمارے لیے رہائی اور چھٹکارے کی بہرحال کوئی صورت نہیں ۔ { سَوَائٌ عَلَیْنَا اَجَزِعْنَا اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ } ۔ (ابراہیم :21) ۔ اللہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 21:100136 دوزخیوں کے حال بد کی منظر کشی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی وہاں پر چیخیں ہی چیخیں ہوں گی وہاں کے ہولناک منظر کی سختی اور شدت ہول و خوف کی وجہ سے۔ ( محاسن، مراغی وغیرہ ) ۔ نیز اس لیے کہ کبھی سننے سے بھی آدمی کو کسی قدر تخفیف اور راحت مل جاتی ہے۔ اس لیے ان کو اس سے بھی محروم کردیا جائے گا۔ (قرطبی وغیرہ) اور ان کو اندھے، گونگے اور بہرے کر کے اٹھایا جائے گا۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَنَحْشُرُہُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَلٰی وُجُوْہِہِمْ عُمْیًا وَّبُکْمًا وَّ صُمًّا } ۔ ( بنی اسرائیل :97) ۔ سو اس طرح یہ لوگ دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ میں جلتے اور چیختے چلاتے رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دنیا میں انہوں نے اپنے آپ کو جو حق کے سننے دیکھنے اور اپنانے سے اندھا بہرا اور گونگا بنا رکھا تھا اسی کا نتیجہ ان کے سامنے اس ہولناک شکل میں آئے گا۔ سو دوزخی دوزخ میں اس ہولناک انجام سے دوچار ہوں گے اور مدد کے لیے فریاد کریں گے مگر کوئی ان کی مدد اور فریاد رسی کرنے والا نہیں ہوگا۔ کیونکہ مالک حقیقی سے انہوں نے منہ موڑے رکھا تھا اور جن کو وہ پوجتے پکارتے تھے انکے اندر اس کی کوئی اہلیت و صلاحیت ہوگی ہی نہیں ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 21:101–102137 اچھے انجام والوں کے لیے عظیم الشان بشارت و خوش خبری : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے انداز و اسلوب میں ارشاد فرمایا گیا کہ جن لوگوں کے لیے ہماری طرف سے بھلائی کا فیصلہ پہلے ہی ہوچکا ہوگا ان کو اس ۔ دوزخ۔ سے بہت دور رکھا گیا ہوگا۔ یعنی اس عظیم الشان حسنیٰ اور بھلائی کا کہ ان کے لیے ابدی سعادت اور دائمی کامیابی ہے ان کے صدق و اخلاص کی بنا پر جس کے نتیجے میں انجام کار یہ لوگ جنت کی اس بڑی حسنیٰ اور عظیم الشان بھلائی سے سرفراز ہوں گے جو تمام بھلائیوں اور سعادتوں کی جامع ہوگی ۔ اللہم اجعلنا من اہلہا ۔ سو ان کا معاملہ الگ ہوگا اور ان کو دوزخ کی اس آگ سے دور بہت دور رکھا جائے گا اور وہ اپنے رب کی خاص رحمتوں اور عنایتوں کے سائے میں ہوں گے۔ کیونکہ ان کی اگر بعد کے لوگوں نے پوجا کی ہوگی تو ان حضرات کا اس میں کوئی قصور نہیں ہوگا بلکہ ایسا ان لوگوں نے ان کی مرضی کے بغیر اور ان کی ہدایات وتعلیمات کے خلاف کیا ہوگا۔ اور اس اچھے انجام کا ذکر اوپر آیت نمبر 94 میں فرما دیا گیا ہے کہ یہ وہی خوش نصیب لوگ ہوں گے جو ایمان لائے ہوں گے اور اعمال صالحہ " نیک عمل " بھی کیے ہوں گے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 21:103138 اہل ایمان کے لیے فزع اکبر سے حفاظت کی بشارت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان کو اس فزع اکبر سے کوئی گھبراہٹ لاحق نہیں ہوگی جو وہاں سب پر چھائی ہوگی اور جو سب گھبراہٹوں سے بڑی گھبراہٹ ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَیَوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ فَفَزِعَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَمَنْ فِی الْاَرْضِ الاَّ مَنْ شَائَ اللّٰہُ } ۔ (النمل :87) ۔ سو نفخ صور کی اس ہولناک آواز سے آسمان و زمین کے سب لوگ خوف میں مبتلا ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ کے ایسے پاکیزہ بندے اس سے محفوظ ہوں گے۔ ( المعارف، المراغی وغیرہ ) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ نفخ صور کے بعد جب لوگ اپنی اپنی قبروں سے نکل کر اپنے حساب کتاب کے لیے میدان حشر کی طرف چلیں گے تو ان کو اس فزع اکبر یعنی سب سے بڑی گھبراہٹ سے کوئی پریشانی لاحق نہیں ہوگی بلکہ وہ امن وامان اور سکون و اطمینان کی دولت سے مالا مال ہوں گے ۔ جعلنا اللہ منہم ۔ سو ایمان و یقین کی دولت دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے ۔ والحمد للہ -
139 ایسوں کے لیے فرشتوں کے استقبال کی خوشخبری : سو فرشتوں کی طرف سے ایسے پاکیزہ بندوں کے لیے خوشخبری ہوگی دنیا میں حضرات انبیاء و رسل کے ذریعے۔ سو آج کے دن کی یہ عظیم الشان اور سب کامیابیوں سے بڑھ کر کامیابی تمہیں مبارک ہو ۔ جعلنا اللہ منہم ۔ آمین۔ بہرکیف فرشتے آگے بڑھ بڑھ کر ان نیک اور پاکیزہ بندوں کو یہ خوشخبری سنا رہے ہوں گے کہ یہ ہے آپ لوگوں کا وہ عظیم الشان دن جس کا دنیا میں تم سے حضرات انبیائے کرام کے ذریعے وعدہ کیا جاتا تھا۔ سو وہ دن آج پہنچ گیا۔ اور آج تمہارے لیے کامیابی و انعام واکرام کی خوشخبری ہے۔ سو فرشتوں کی نوری مخلوق " اہلا و سہلا و مرحبا " کے ترحیبی نعروں سے ان کا استقبال کرے گی کہ آپ لوگوں کو ابدی کامرانی اور دائمی بادشاہی سے سرفرازی کی یہ سعادت مبارک ہو جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور رسولوں کے ذریعے تم سے دنیا میں کیا جاتا تھا۔ سو یہی ہے اصل اور حقیقی کامیابی ۔ { وَذَالِکَ ہُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْم } ۔ اور اسی کے لیے مسابقہ اور منافسہ کرنا چاہیے نہ کہ دنیائے دوں کے متاع فانی اور حطام زائل کے لیے ۔ { وَفِیْ ذَالِکَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَ } ۔ اور یہی تقاضا ہے عقل سلیم اور طبع مستقیم کا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 21:104140 جس دن آسمان کی بساط کو لپیٹ دیا جائے گا : سو قیا مت کی ہولناکی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ جس دن کہ آسمان کو لکھے ہوئے کاغذ کی طرح لپیٹ دیا جائے گا۔ سو اس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی عظمت شان کا کسی قدر اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اسی مضمون سے متعلق دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدْرِہ وَالْاَرْضُ جَمِیْعًا قَبْضَتُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَالسَّمٰوٰتُ مَطْوِیَّاتٌ بِیَمِیْنِہ سُبْحَانَہ وَتَعَالٰی عَمَّا یُشْرِکُوْنَ } ۔ (الزمر :67) سو کتنے ظالم اور کس قدر بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس ذات اقدس و اعلیٰ ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ کے ساتھ اس کی عاجز مخلوق کو شریک ٹھہراتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز آسمان کی بساط کو اس کے کواکب وغیرہ سمیت ایسے لپیٹ کر رکھ دیا جائے گا جس طرح کہ طومار کو اپنے مضامین کے ساتھ لپیٹ دیا جاتا ہے۔ اور اس کے بدلے میں دوسرا آسمان لے آیا جائے گا ( المراغی، المحاسن وغیرہ ) ۔ اور اس طرح ایک نیا جہاں آباد کیا جائے گا جو نئے نوامیس و قوانین کے ساتھ قائم ہوگا۔ جہاں بقاء ہوگی فنا نہیں ہوگی۔ وہ بدلہ اور جزا کا جہاں ہوگا عمل و آزمائش کا نہیں۔ جہاں کی جزا و سزا ہمیشہ کی ہوگی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا کہ اس روز زمین و آسمان کی اس تمام بساط کو تبدیل کردیا جائے گا اور سب لوگ خدائے واحد وقہار کے حضور پیش ہوں گے۔ (ابراہیم :48) ۔ واضح رہے کہ " سجل " اس " دفتر "، " طومار " یا " فائل " کو کہا جاتا ہے جس میں لکھے ہوئے اوراق و مضامین کو محفوظ کیا جاتا ہے۔ سو ارشاد کا مطلب یہ ہوا کہ جس دن ہم اس پھیلے ہوئے آسمان کو اس طرح لپیٹ کر رکھ دیں گے جس طرح طومار میں کاغذات کو لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے اور ایک نیا جہان سامنے لے آئیں گے۔
141 ایک نئے جہان کی تخلیق وتکوین : سو اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ اس روز اس آسمان کی بساط کو لپیٹ کر ایک نئے جہان کو پیدا کیا جائے گا جس طرح کہ ہم نے اس کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا بغیر کسی اصل و مادہ اور بدون کسی نمونہ و مثال کے۔ محض اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے۔ اور بغیر کسی شریک وسہیم کے۔ تو پھر ایسے وحدہ لا شریک قادر مطلق کا کوئی شریک وسہیم آخر کیسے اور کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو وہ ہر طرح کے تمام مشرکانہ تصورات سے پاک اور ہر شائبہ شرک سے اعلیٰ وبالا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو جس طرح ہم نے تم سب کو اے لوگو عدم محض سے نکال کر وجود بخشا اور تمہیں نیست سے ہست کیا اسی طرح ہم تمہیں پیدا کریں گے تاکہ تم اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا صلہ و بدلہ پا سکو۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہو سکیں ۔ { لِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ بِمَا تَسْعَی } ۔ ( طہ : 15) ۔ سو فیصلے کے اس یوم عظیم کے قیام اور ایک نئے جہان اور اس کے لیے نئے نوامیس و قوانین کے تحت ایک نئے جہان کی تخلیق وتکوین فرمائی جائے گی اور اس کے لیے نئے آسمان و زمین کو وجود بخشا جائے گا۔ جہاں ہمیشگی ہوگی کبھی موت و فنا نہیں ہوگی۔ جہاں کی جنت اور اس کی نعمتیں بھی ابدی ہونگی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ اور جہاں کی دوزخ اور اس کے عذاب بھی دائمی ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 21:105–107142 ذکر اور زبور سے مقصود و مراد : یہاں پر ذکر سے مراد لوح محفوظ اور الزبور سے مراد وہ تمام آسمانی کتابیں ہیں جو مختلف انبیائے کرام پر نازل فرمائی گئیں۔ (ابن کثیر، مراغی، محاسن اور صفوہ وغیرہ ) ۔ تو مطلب اس صورت میں یہ ہوا کہ ہم نے یہ مضمون اول لوح محفوظ میں لکھا اور پھر تمام آسمانی کتابوں میں بھی اس کو لکھ دیا۔ سو اس سے اس کی عظمت و اہمیت اور قطعیت واضح ہوجاتی ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ زبور سے مراد زبور داؤد ہے اور ذکر سے مراد تورات۔ لیکن پہلا قول و احتمال زیادہ اہم اور اوفق بالمراد ہے ۔ والعلم عند اللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے علم ازلی میں یہ چیز لکھ دی اور طے کردی اور اس کو اپنی تمام کتب سماویہ میں ذکر فرما دیا کہ جنت کی اس پاکیزہ اور مقدس زمین کی وراثت انہی لوگوں کو ملے گی جو اپنے عقیدئہ و عمل کے لحاظ سے اس کے اہل اور قابل ہوں گے نہ کہ کسی کی خاندانی وجاہت یا نسلی برتری کی بنا پر۔ جیسا کہ یہود و نصاریٰ کا کہنا تھا کہ جنت میں ان کے سوا کوئی نہیں داخل ہوگا ۔ { وَقَالُوْا لَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ الاَّ مَنْ ہُوْدًا اَوْ نَصَاریٰ } ( البقرۃ : 111) ۔ سو ایسے نہیں ہوگا بلکہ وہاں پر دار و مدار اپنے ایمان و عقیدہ پر ہوگا۔ ایسے کہنے اور سمجھنے والے محض خیالی پلاؤ پکا رہے ہیں ۔ { تِلْکَ اَمَانِیُّہُمْ } ۔ یعنی یہ سب کچھ محض ان کی خود ساختہ اور من گھڑت آرزوؤں پر مبنی ہے ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و ضلال ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب کرے اور نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
143 نیک لوگوں کے لیے ارض جنت کی وراثت کی خوش خبری : سو الارض سے یہاں پر مراد جنت کی زمین ہے۔ یعنی ایسے خوش نصیب وارث ہوں گے جنت کی سرزمین کے جو کہ سب سے اعلیٰ و افضل اور عمدہ و اکمل زمین ہے نہ کہ دنیا کی یہ فانی و ناقص زمین جس کی ارض جنت کے مقابلے میں کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں۔ اس لیے اس دنیاوی زمین کے وارث ومالک تو نیک بھی رہے ہیں اور بد بھی۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ بخلاف ارض جنت کے کہ اس کی وراثت صرف اہل ایمان وتقویٰ ہی کو نصیب ہوگی۔ یہی قول ابن عباس اور مجاہد کا ہے اور اسی کو قرطبی وغیرہ جیسے اکابر مفسرین نے ترجیح دی ہے۔ اور اسی پر سورة زمر میں مذکور و موجود یہ ارشاد ربانی بھی دلالت کرتا ہے ۔ { وَقَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَہ وَاَوْرَثَنَا الْاَرْضَ } ۔ ( الزمر :74) اور اسی پر سیاق وسباق بھی دلالت کرتا ہے۔ رہ گئی دنیا میں زمین کی تقسیم و میراث تو وہ اس بنیاد پر سرے سے ہے ہی نہیں بلکہ اس کی تقسیم و میراث ابتلاء و آزمائش کی بنا پر ہے۔ اس لیے وہ مومن و کافر اور صالح و فاجر سب ہی کو ملتی ہے کہ اس میں ان سب کی آزمائش ہے۔ جیسا کہ دوسری آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَیَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاَرْضِ فَیِنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ } ۔ (الاعراف :129) ۔ سو جن لوگوں نے سورة انبیاء کی اس آیت کریمہ میں زمین سے مراد یہ دنیاوی زمین لی ہے اور اس بنا پر انہوں نے صالحون کو بھی دوسرے معنی پہنائے ہیں انہوں نے سخت ٹھوکر کھائی ہے اور انہوں نے اس لفظ کا وہ مفہوم بیان کیا جس کے مطابق مادہ پرست کافر و منکر بھی صالح قرار پاتے ہیں جو کہ صریح نصوص قرآن وسنت کے معارض اور انکے خلاف ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ و ضلال وسوء و انحراف ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
144 صالحون سے مراد اللہ تعالیٰ کے نیک بندے : یعنی یہاں پر صالحون کے معنیٰ وہ نہیں ہیں جو ان ٹیڑھے لوگوں نے بیان کیے ہیں جن کا ذکر اوپر کے حاشیے میں ہوا ہے۔ بلکہ یہاں پر صالحون سے مراد اس کے معروف و متبادر معنیٰ ہی ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو ایمان و عقیدہ اور عمل صالح کی دولت سے سرشار و مالامال ہوں گے خواہ وہ کوئی بھی ہوں اور کہیں کے بھی ہوں کہ معیار و مدار صحت عقیدئہ و عمل پر ہے نہ کہ حسب و نسب اور رنگ و نسل وغیرہ کے ان خود ساختہ و مصنوعی فوارق پر جو لوگوں نے مختلف ناموں سے از خود گھڑ رکھے ہیں۔ کہ وہ نہ تو شرف و فضیلت کے لیے حقیقی معیار اور مدار بن سکتے ہیں اور نہ ہی وہ انسان کے اپنے بس اور اختیار میں ہوسکتے ہیں۔ بلکہ اصل معیار تقویٰ و پرہیزگاری ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ } ۔ ( الحجرات :13) سو جنت کی اس مقدس اور پاکیزہ سرزمین کی وراثت اللہ کے ایسے ہی صالح اور نیک بندوں کو نصیب ہوگی جن کا ایمان و عقیدہ بھی صحیح ہوگا اور ان کا عمل و کردار بھی درست ہوگا۔ اور انہوں نے زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے لیے اور اسی کی ہدایت وتعلیمات کے مطابق گزاری ہوگی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر ثابت قدم رکھے اور ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 21:108146 تسلیم و رضا کی تعلیم و تلقین : سو اس سے اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کرنے کی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور نہایت موثر اور زوردار انداز میں اور استفہام و تحضیض کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا تم لوگ اس کے حضور سر تسلیم خم کرتے ہو ؟ "۔ یعنی ضرور کرنا چاہیے کہ معبود برحق وہی وحدہ لا شریک ہے۔ سو یہ استفہام بمعنی امر ہے " ای فلہ اسلموا " جیسے ۔ { فہل انتم منتہون } ۔ میں ہے " اَیْ فانتہوا " ( روح، قرطبی، صفوۃ وغیرہ ) ۔ پس تم لوگ اپنے اسی خالق ومالک کے حضور دل وجان سے جھک جاؤ اور ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کے لیے بجا لاؤ کہ یہ اس کا تم لوگوں پر حق واجب بھی ہے اور اسی میں خود تمہارا بھلا بھی ہے۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ تم ان کو خبردار کرو اور ان سے صاف طور پر کہہ دو کہ مجھ پر جو وحی آئی ہے وہ یہی ہے کہ معبود برحق تم سب لوگوں کا بہرحال ایک ہی معبود ہے۔ اس کا کوئی بھی شریک وسہیم نہیں۔ پس تم اسی کے آگے جھکو اور اسی کی عبادت و بندگی بجا لاؤ اور خوامخواہ کے من گھڑت اور بےبنیاد سہاروں کے پیچھے لگ کر اپنی عاقبت برباد نہ کرو ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 21:109–111147 مشرکوں اور منکروں کو آخری اور فیصلہ کن تنبیہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر یہ لوگ اس کے بعد بھی پھرے ہی رہیں تو ان سے کہہ دو کہ میں نے تو یقینا تم سب کو خبردار کردیا اور سب کو برابر طور پر اور پوری صراحت و وضاحت کے ساتھ بتادیا کہ تمہارا راستہ الگ اور ہمارا الگ۔ اور اب ہماری تمہاری دونوں کی جنگ ہے۔ یہ نہیں کہ کچھ کو بتایا ہو اور کچھ سے چھپایا ہو۔ بلکہ سب کو ایک برابر بتا کر آئندہ کے بارے میں خبردار کردیا ہے۔ نیز ایسا واضح طور پر اور کھول کر بتادیا ہے کہ اس میں تم اور میں ایک برابر ہوگئے۔ ( روح، ابن کثیر، قرطبی وغیرہ ) ۔ سو اب ہمارا تم سے کوئی تعلق نہیں بلکہ ہم تم سے بری اور تم ہم سے بری۔ ہماری تم سے جنگ اور تمہاری ہم سے جنگ۔ سو یہ کفار و مشرکین کو آخری جواب ہے اور یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ لِیْ عَمَلِیْ وَلَکُمْ عَمَلُکُمْ اَنْتُمْ بَرِیْئُوْنَ مِمَّا اَعْمَلُ وَاَنَا بَرِی ئٌ مِمَّا تَعْمَلُوْنَ } ۔ (یونس :41) ۔ سو اس میں متکبروں اور منکروں کے لیے فیصلہ کن تنبیہ ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔
148 آئندہ سے متعلق معاملات اللہ تعالیٰ ہی کے حوالے : کہ وہی جانتا ہے کہ آئندہ اور کب اور کیا ہونے والا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " میں نہیں جانتا کہ وہ چیز جس کا وعدہ تم سے کیا جا رہا ہے قریب ہے یا دور "۔ یعنی حق و اہل حق کا غلبہ اور کفر اور اس کے علمبرداروں کی ناکامی و رسوائی اور قیامت کا وہ وقت جس میں سب باتوں کا فیصلہ آخری اور کامل شکل میں چکا دیا جائے گا۔ سو ان تمام امور سے متعلق جو وعدے تم لوگوں سے کیے گئے ہیں ان کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ قریب ہیں یا دور۔ کیونکہ ان سب امور کا تعلق مستقبل اور غیب سے ہے۔ اور یہ سب غیبی امور ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے کہ عالم غیب وہی اور صرف وہی وحدہ لا شریک ہے۔ ( روح، قرطبی، ابن کثیر، جامع اور محاسن وغیرہ ) ۔ سو ان سب کاموں نے بہرحال ہونا ہے اور اپنے وقت پر بہرحال ہو کر رہنا ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ ایسا کب ہوگا۔ اس کا علم اللہ وحدہ لا شریک ہی کو ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اسی طرح وہ عذاب جس سے تم لوگوں کو خبردار کیا جا رہا ہے اس کے بارے میں بھی اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ کب اور کس شکل میں تم لوگوں پر آئے گا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ وہ قریب ہے یا دور۔ یہ سب کچھ اللہ وحدہ لا شریک ہی کے علم میں اور اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سو { ما تو عدون } کا عموم ان سب ہی صورتوں کو شامل ہے۔ سو آئندہ کا معاملہ اللہ ہی کے حوالے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 21:112149 پیغمبر کی دعا اور منکرین کو وداع : سو پیغمبر نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ " ہمارے درمیان فیصلہ فرما دے حق کے ساتھ " اور ہمارا رب ہی اس لائق ہے کہ اس سے مدد مانگی جائے ہر مشکل و مصیبت کے پیس آتے وقت اور اس کے دفعیے کے لیے کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی اور صرف وہی وحدہ لا شریک ہے۔ اور سب اس کے اور صرف اسی کے محتاج ہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو تمہارے کفر و شرک، ظلم و بغاوت اور عناد و ہٹ دھرمی وغیرہ سب باتوں کے جواب میں ہم اسی وحدہ لا شریک سے مدد مانگتے ہیں۔ سو مدد ہمیشہ اور ہر حال میں اسی وحدہ لا شریک سے مانگنی چاہیے کہ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد میں پیغمبر کی اپنے رب کے حضور دعا بھی ہے کہ وہ فیصلہ فرما دے حق کے ساتھ تاکہ کھرا کھوٹا الگ ہوجائے اور حق اور باطل کے درمیان فرق وتمیز کھل کر سب کے سامنے آجائے کہ حق و باطل کی کشمکش میں صحیح اور مبنی برحق فیصلہ وہی وحدہ لا شریک کرسکتا ہے۔ اور ساتھ ہی اس میں منکرین و مکذبین کو وداع بھی ہے کہ تم لوگ اگر حق کو سننے اور ماننے کے لیے تیار نہیں ہو تو تمہاری مرضی۔ میں اس معاملے کو اللہ ہی کے حوالے کرتا ہوں۔ وہی فیصلہ فرمائے گا حق کے ساتھ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
150 پیغمبر بھی اللہ ہی کی مدد کے محتاج ہیں : سو پیغمبر کی زبان سے ارشاد فرمایا گیا کہ " ہمارا رب رحمن ہی ہے جس سے مدد مانگی جاتی ہے " ان تمام باتوں کے جواب میں جو تم لوگ بناتے ہو حق اور اہل حق کے خلاف۔ جھوٹ موٹ اور افتراء علی اللہ کا ارتکاب کرتے ہوئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور قرآن حکیم میں " وصف " کا لفظ جھوٹ کے معنیٰ میں بکثرت استعمال ہوا ہے مثلا ۔ { وَلَکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُوْنَ } ۔ (الانبیائ : 18) ۔ نیز ارشاد فرمایا گیا ۔ { سَیَجْزِیْہِمْ وَصْفَہُمْ اِنَّہُ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ} ۔ (الانعام :140) ۔ سو حق اور اہل حق کے خلاف تمہاری باتوں اور تمہارے جھوٹوں کے مقابلے میں ہم اپنے ربِّ رحمن ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ وہ تم سے خود نمٹ لے گا اور خوب اچھی طرح اور عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق نمٹے گا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین -