Ayah 21:6889 حضرت ابراہیم کو جلا دینے کا حکم : سو آخرکار مشرکوں کی طرف سے حضرت ابراہیم کو جلا ڈالنے کا حکم جاری کردیا گیا۔ سو انہوں نے کہا کہ " جلا ڈالو اس کو " اور عقل کے ماروں کا آخری جواب تشدد کی دھمکی اور ظلم و زیادتی ہی ہوتا ہے۔ سو یہ ایسے ظالموں کا ہمیشہ کا وطیرہ ہوتا ہے کہ وہ جب حجت وبرہان کے میدان میں عاجز آجاتے ہیں تو قوت اور ظلم کی زبان پر اتر آتے ہیں۔ بقول شاعر ۔ چوں حجت نماند جفا جوئے را ۔ پرخاش برہم کشد روئے را ۔ سو ان ظالموں نے بھی حضرت ابراہیم کے اس قول حق و صدق کے جواب میں ایسا ہی کیا اور ان کی معقول باتوں اور دردمندانہ نصیحتوں پر کان دھرنے کی بجائے اپنے فرعونی لب و لہجہ میں کہا کہ ان کو پکڑو اور آگ میں ڈال دو تاکہ حق کی یہ آواز ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ان لوگوں نے اپنے چیلوں چانٹوں کو اکساتے ابھارتے ہوئے کہا کہ آگ میں جلا دو اس شخص کو اگر تم نے واقعی اس کے خلاف کوئی کارروائی کرنی ہے اور اپنے بتوں کی حفاظت کرنی ہے۔ ورنہ تمہارا دین مٹ جائے کا اور تمہاری تاریخ و ثقافت ختم ہوجائے گی۔
90 مشرکوں کی مت ماری کا ایک اور مظہر اور نمونہ : سو انہوں نے اپنے ماتحتوں سے کہا کہ " مدد کرو تم اپنے معبودوں کی "۔ سو یہ ان کی مت ماری کی ایک کھلی مثال اور کھلا نمونہ و مظہر تھا۔ سو عقل کے ان ماروں کی منطق ملاحظہ ہو کہ بجائے اس کے کہ ان کے یہ معبود ان کی حفاظت و مدد کرتے، یہ خود ان کی مدد کے لیے ایک دوسرے کو پکارتے ہیں۔ چناچہ انہوں نے ایک ہولناک آگ تیار کر کے ابراہیم خلیل کو اس میں جھونک دیا۔ سو ہمیشہ یہی حال رہا مشرکوں اور باطل پرستوں کا۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو یہ مت ماری کی ایک کھلی مثال ہے کہ پجاری اپنے معبودوں کی مدد کے لیے ایک دوسرے کو پکارتے ہیں اور ان کی کھوپڑی میں یہ بات نہیں آتی کہ جو خود اپنے آپ کو نہیں بچا سکتے اور وہ خود اپنی حفاظت کے لیے ان کی مدد کے محتاج ہیں وہ ان کے معبود اور حاجت روا و مشکل کشا آخر کیسے ہوسکتے ہیں ؟ مگر کفر و شرک کی نحوست سے جب انسان کی مت مار دی جاتی ہے تو اس کو ایسی واضح اور جلی حقیقت بھی سمجھ نہیں آتی ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 21:69–7091 آتش نمرود کا حضرت ابراہیم کے لیے سراسر سلامتی بن جاتا : سو حضرت ِحق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے آگ کو حکم ہوا کہ " ٹھنڈی ہوجا تو اے آگ اور سلامتی والی بن جا ابراہیم پر "۔ یعنی اتنی زیادہ ٹھنڈی بھی نہ ہوجانا کہ ابراہیم ٹھٹھر جائیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اگر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے یہ ارشاد نہ ہوا ہوتا تو وہ آگ اتنی ٹھنڈی ہوجاتی کہ حضرت ابراہیم اس میں ٹھٹھر کر رہ جاتے اور اس ٹھنڈک سے ان کی موت واقع ہوجاتی۔ اور اگر { علی ابراہیم } نہ فرمایا جاتا تو اس ارشاد ربانی کی تعمیل میں دنیا بھر کی تمام آگیں سب لوگوں کے لیے اور ہمیشہ کے لیے ٹھنڈی ہو کر رہ جاتیں۔ ( ابن کثیر، فتح القدیر اور مدارک التنزیل وغیرہ) ۔ سبحان اللہ ۔ اللہ پاک کی دوسری تمام مخلوق اللہ پاک کی کس قدر فرماں بردار اور اطاعت گزار ہے مگر یہ انسان ہے کہ اپنے خالق ومالک کی اطاعت و فرمانبرداری سے منہ موڑے ہوئے بغاوت و سرکشی کی زندگی گزارتا ہے اور اللہ پاک کے حلم وکرم اور اس امہال و انظار کی وجہ سے یہ دھوکے میں پڑا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ۔ ﷺ ۔ نے ارشاد فرمایا کہ جب حضرت ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ نے اللہ پاک کے حضور عرض کیا اے اللہ تو ہی یکتا اور معبود برحق ہے آسمان میں۔ اور میں تیرا ایک ہی بندہ ہوں زمین میں جو تیری عبادت و بندگی کرتا ہوں۔ اور حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ سب سے پہلی بات جو آپ نے اس موقعہ پر فرمائی وہ تھی ۔ حسبی اللہ ونعم الوکیل ۔ یعنی " کافی ہے مجھے اللہ جو سب سے بہتر کارساز ہے " اور حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ اس موقعہ پر حضرت جبریل نے حاضر ہو کر حضرت ابراہیم سے عرض کیا کہ کیا آپ کو کوئی ضرورت ہے یعنی میں آپ کی کوئی مدد کرسکتا ہوں ؟ تو حضرت ابراہیم نے فرمایا یعنی آپ کی طرف میری کوئی حاجت نہیں۔ تو جبریل نے عرض کیا کہ میں آپ کی درخواست اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کر دوں تو آپ نے فرمایا ۔ " علمہ بحالی اغنانی عن سوالی " ۔ یعنی " جب وہ میرے حال کو خود جانتا ہے تو اس کا جاننا ہی مجھے کافی ہے "۔ مجھے اس کے حضور سوال پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ ( ابن جریر، ابن کثیر، مراغی، قرطبی اور فتح القدیر وغیرہ) ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی قوت ہے یہ ایمان و یقین کی قوت اور کس قدر بےمثال قوت و اعتماد سے نوازتی ہے یہ انسان کو ۔ اللہ ہمیں بھی اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین ویا اکرم الاکرمین -
Ayah 21:7193 حضرات انبیائے کرام بھی اللہ ہی کے محتاج : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرات انبیائے کرام کے حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔ اور وہ سب بھی اپنی بےمثال عظمت شان کے باوجود اسی وحدہ لا شریک کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی ہوتے ہیں ۔ علیہم الصلاۃ والسلام ۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم ہی نے نجات دی ان کو بھی اور لوط کو بھی " کہ نجات دینا اور مشکلات و مصائب سے بچا نکالنا ہمارا ہی کام اور ہماری ہی شان ہے کہ حاجت روا اور مشکل کشا سب کے ہم ہی ہیں۔ اولیائے و صالحین اور انبیاء ومرسلین تک سب کے سب ہمارے ہی محتاج ہیں۔ اور جب ابو الانبیاء حضرت ابراہیم خلیل اللہ ۔ (علیہ السلام) ۔ بھی مصائب و مشکلات سے رہائی اور خلاصی کے لیے ہمارے ہی محتاج ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جس کو حاجت روا و مشکل کشا کہا جاسکے۔ سو بڑے گمراہ اور بہکے بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اللہ وحدہ لا شریک کے سوا اس کی مخلوق میں سے کسی کو حاجت روا و مشکل کشا کہتے اور مانتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور یہ ایک طبعی اور معقول امر ہے۔ کیونکہ ما فوق الاسباب طور پر کسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی اسی ذات کی شان اور اسی کا خاصہ ہوسکتا ہے جس کو نہ کوئی حاجت پیش آئے اور نہ وہ کسی مشکل میں مبتلا ہو۔ اور وہ صرف اللہ وحدہ لاشریک ہے جو سب کا حاجت روا و مشکل کشا ہے۔ سب کچھ اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے۔ سب اسی کے محتاج ہیں۔ حضرات انبیائے و رسل یہاں تک کہ امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ اور ابو الانبیاء حضرت ابراہیم خلیل بھی اسی کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کے محتاج ہیں۔ اور جب ان عظیم الشان اور بےمثال ہستیوں میں سے بھی کوئی حاجت روا و مشکل کشا نہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ -
94 حضرت ابراہیم کی ہجرت کا ذکر وبیان : سو اس سے حضرت ابراہیم اور لوط کی ارض مبارک کی طرف ہجرت کا ذکر وبیان فرمایا گیا۔ سو جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اور حضرت ابراہیم کا اپنے وطن میں ٹکنا ناممکن ہوگیا تو آپ کو وہاں سے ہجرت کا حکم فرما دیا گیا۔ سو ارشاد ہوتا ہے " اور ہم ہی نکال لائے ان کو اس برکتوں والی زمین کی طرف " یعنی سرزمین شام و فلسطین کی طرف کہ اس میں بیشمار انبیائے کرام تشریف لائے اور ان کے ذریعے دنیا بھر کو پیغام حق و صداقت پہنچا۔ اور ان روحانی اور معنوی برکات کے علاوہ اس سرزمین میں طرح طرح کی ظاہری اور حسی برکات بھی رکھ دیں۔ اس لیے یہ سرزمین ارض مقدس اور ارض مبارک کہلاتی ہے۔ سو ہم نے حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کو بچا کر اس برکتوں والی زمین میں پہنچا دیا۔ یہاں پر قرآنی بلاغت کا یہ خاص اور منفرد اسلوب بھی ملاحظہ ہو کہ اس میں { نجینہ } کے فعل کے بعد " الی " کا صلہ لایا گیا جس میں اس بات کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے کہ اس فعل میں ایصال وغیرہ جیسے کسی ایسے مفہوم کی تضمین پائی جاتی ہے جس کا صلہ " الی " آتا ہے۔ اور اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ تھوڑے لفظوں میں زیادہ معنیٰ و مفہوم ادا ہوجاتا ہے جو کہ بلاغت کی جان ہے۔ سو مطلب یہ ہوا کہ ہم نے ابراہیم اور لوط دونوں کو وہاں سے نکال کر برکتوں بھری زمین تک پہنچا دیا۔ ہم نے اپنے ترجمے کے اندر اس مفہوم کو واضح کردیا ہے ۔ والحمد للہ -
Ayahs 21:72–7595 انبیائے کرام کو بھی اولاد اللہ ہی دیتا ہے : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اولاد دینا اللہ تعالیٰ ہی کا کام اور اسی کی صفت و شان ہے۔ حضرات انبیاء ورسل بھی اسی کے محتاج ہیں۔ یہاں پر ان انعامات کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے جن سے حضرت ابراہیم کو ہجرت کے بعد نوازا گیا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم ہی نے ابراہیم کو اسحاق جیسے عظیم الشان بیٹے اور یعقوب جیسے عظیم الشان پوتے سے نوازا " کہ بیٹے پوتے بخشنا اور اولاد کی نعمت سے نوازنا بھی ہمارا ہی کام اور ہماری ہی شان ہے۔ اور حضرت ابراہیم جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی ہمارے ہی محتاج ہیں۔ سو کتنے گمراہ اور کیسے بہکے بھٹکے ہیں وہ لوگ جو اولاد کی نعمت کو مانگنے کے لیے ہمارے در کو چھوڑ کر دوسری طرح طرح کی فرضی اور وہمی ہستیوں اور خود ساختہ سرکاروں کی طرف جھکتے ہیں۔ اور وہ اپنے خالق ومالک کی طرف سے ملی ہوئی اولادوں کے نام بھی شرکیہ رکھتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف حضرت ابراہیم نے جب اللہ کی رضا کے لیے اور اسی کی خوشنودی کی خاطر اپنی قوم، قبیلہ اور خویش و اقارب سب کو چھوڑا تو اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عظیم الشان اولاد سے نوازا ۔ فالحمد للہ -
Ayah 21:7697 حضرت نوح نے بھی اللہ ہی کو پکارا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور نوح نے بھی ہم ہی کو پکارا تو ہم نے سن لیا ان کی پکار کو۔ اور حضرت نوح کی اس دعا و پکار کو دوسرے مقام پر اس طرح ذکر فرمایا گیا ہے ۔ { فَدَعَا رَبَّہ اَنِّیْ مَغْلُوْبٌ فَانْتَصِرْ } ۔ (القمر :10) سو انہوں نے ہم ہی سے مدد مانگی اور ہمارے ہی حضور عرض کیا کہ مصیبت زدوں کی پکار سننا ہمارا ہی کام ہے۔ اور حاجت روا و مشکل کشا سب کے ہم ہی ہیں۔ انبیاء و رسل بھی ہمارے ہی محتاج ہیں۔ اور جب حضرات انبیاء و رسل بھی ہمارے ہی محتاج ہیں اور وہ اپنی مشکلات و مصائب میں ہم ہی کو پکارتے ہیں تو پھر اور کون ہے جو کسی کا حاجت روا و مشکل کشا ہو سکے سوائے اللہ وحدہ لا شریک کے۔ سو غلط کہتے اور شرک کا ارتکاب کرتے ہیں وہ لوگ جو اللہ وحدہ لا شریک کے سوا اوروں کو حاجت روا و مشکل کشا سمجھ کر پوجتے پکارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
98 نوح کے نجات دہندہ بھی اللہ تعالیٰ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نوح کی حاجت روائی اور مشکل کشائی بھی اللہ تعالیٰ ہی نے فرمائی۔ چناچہ اس بارے ارشاد فرمایا گیا اور صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا " سو ہم ہی نے ان کو نجات دی اس کرب عظیم سے " جس میں آپ اپنی قوم کی تکذیب اور ان کے انکار کی بنا پر صدیوں سے مبتلا تھے۔ نیز غرقابی کے اس عذاب و انجام سے جس سے بالآخر ان کی یہ قوم دوچار ہوئی تھی۔ کرب عظیم کے یہ دونوں مطلب بیان کیے گئے ہیں اور کرب عظیم کے الفاظ کا عموم ان دونوں ہی کو شامل ہے۔ ( ابن کثیر، روح، کبیر اور صفوۃ وغیرہ ) ۔ سو جب حضرت نوح جیسے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر بھی ہمارے ہی محتاج ہیں تو پھر مخلوق میں اور کون ایسا ہوسکتا ہے جو مافوق الاسباب کسی کی حاجت روائی و مشکل کرسکے ؟
Ayahs 21:77–7899 کفر و انکار کا نتیجہ وانجام ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے قوم نوح کی ہولناک اور عبرت انگیز ہلاکت کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی جس سے واضح ہوجاتا ہے کہ کفر وانکار اور تکذیبِ حق کا نتیجہ و انجام بہرحال ہولناک تباہی اور ہلاکت ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان سب کو غرقاب کردیا کہ وہ حق کا انکار اور اللہ کے بھیجے ہوئے رسول اور ان کی پیش کردہ تعلیمات مقدسہ کی تکذیب کرتے تھے " جو کہ جڑ بنیاد ہے تمام برائیوں اور مفاسد کی اور جو راستہ ہے ہلاکت و تباہی کا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حق سے کفر و انکار اور اس کی تکذیب کا نتیجہ و انجام بہرحال ہولناک تباہی اور ابدی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس تکذیب و انکار کے اس جرم کے مرتکبین کو جو قدرت کی طرف سے ڈھیل اور مہلت ملتی ہے اس سے کبھی کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف قوم نوح کے ان منکروں کو ان کے کفر و انکار اور ان کی سنگدلی اور حق دشمنی کی بالآخر یہ سزا ملی کہ پوری قوم کی قوم کو غرقاب کردیا گیا کیونکہ اپنے کفر وانکار کے جرم مسلسل کی بنا پر وہ لوگ غلاظت اور گندگی کا ایسا ڈھیر بن گئے تھے جس سے خداوند قدوس کی اس دھرتی کو پاک وصاف کرنا ضروری ہوگیا تھا۔ سو اللہ تعالیٰ نے زمین کے سمندروں اور آسمان کے بادلوں کو حکم دیا کہ وہ سب مل کر اس ناہنجار قوم کے ناپاک وجود سے اس دھرتی کو پاک کردیں۔ سو طوفان نوح نے اس زمین کو دھوکر اس کافر و منکر قوم کے وجود سے بالکل پاک کردیا ۔ والحمد للہ رب العالمین -
Ayahs 21:79–81101 حضرت داؤد اور سلیمان دونوں کے لیے علم و حکمت کی نوازش : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے ان دونوں ہی کو علم و حکمت کی دولت سے نوازا تھا " کہ وہ دونوں ہی ہمارے پسندیدہ اور چنے ہوئے بندے تھے۔ سو ان دونوں میں سے ہر ایک کا فیصلہ صحیح اور درست تھا۔ اور ہر ایک کا فیصلہ ایک صحیح حجت اور درست نکتہ نظر پر مبنی تھا۔ حضرت داؤد نے بکریوں والے کی بکریوں کی ملکیت کو زائل کر کے ان کو کھیت والے کی ملکیت میں دے دیا تھا کہ ان کی شریعت میں اصل حکم یہی تھا۔ جیسا کہ حضرت یوسف کے قصے میں وارد ہے کہ جب حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں سے پوچھا کہ تمہارے دین و مذہب میں چور کی سزا کیا ہے ؟ تو انہوں نے کہا یہ کہ چور کو ہی ان کے حوالے کردیا جائے جس کی اس نے چوری کی ہو (یوسف :75) ۔ جبکہ حضرت سلیمان کا فیصلہ مصالحانہ نوعیت کا تھا کہ اس میں کسی کی ملکیت کا ازالہ نہیں تھا بلکہ ہر ایک کی رعایت کو ملحوظ رکھا گیا تھا اور اس میں حضرت داؤد کی کسی تنقیص کا کوئی پہلو نہیں نکلتا بلکہ یہ بھی بالواسطہ ان ہی کی عظمت شان کا ایک ثبوت تھا کہ آپ کے اس ننھے سے بیٹے کو جس کی عمر اس وقت کوئی دس گیارہ سال تھی کی بات کو قبول فرما لیا اور اپنی رائے کو چھوڑ دیا۔ سو یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ آپ کا بیٹا اپنے باپ کی خلافت کا اہل ہے۔ اور ظاہر ہے کہ باپ کے لیے اپنے بیٹے کی ایسی اہلیت و صلاحیت سے بڑھ کر خوشی و مسرت کا سامان اور کیا ہوسکتا ہے ؟ ( معارف، محاسن اور مراغی وغیرہ ) ۔ بہرکیف اس سے حضرت داؤد کی شان عبدیت و تواضع اور انابت و رجوع الی اللہ اور اخلاص و للہیت کا ایک عظیم الشان مظہر سامنے آتا ہے۔ جیسا کہ ابھی اوپر کے حاشیے میں بھی گزرا۔ سو شان عبدیت وانابت کا تقاضا یہی ہے ۔ وباللہ التوفیق -
102 حضرت داؤد کے لیے پہاڑوں اور پرندوں کی تسخیر کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ داؤد کے ساتھ ہم نے پہاڑوں کو بھی مسخر کردیا تھا جو تسبیح کرتے تھے اور پرندوں کو بھی۔ سو آپ کی تلاوت سے پہاڑ بھی وجد میں آجاتے اور پرندے بھی آپ کی تلاوت سن کر فضا میں کھڑے ہوجاتے اور آپ کی آواز کے ساتھ آواز ملا کر پڑھنا شروع کردیتے۔ (ابن کثیر وغیرہ ) ۔ اسی لیے لحن داؤدی ضرب المثل قرار پا گیا۔ اور روایات میں وارد ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ۔ ﷺ ۔ کہیں سے گزر رہے تھے تو آپ نے حضرت ابوموسی الاشعری ۔ ؓ ۔ کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا تو آپ اس کو سننے کے لیے وہیں رک گئے اور کافی دیر تک ان کی قراءت سنتے رہے اور فرمایا ۔ " لقد اوتی مزمارا من مزامیر آل داؤد " ۔ کہ " ان کو تو آل داؤد کے مزامیر میں سے ایک مزمار مل گیا "۔ حضرت ابوموسیٰ کو جب بعد میں اس کا علم ہوا تو فرمایا اگر مجھے اس کا علم ہوتا تو میں اور بھی اچھا کر کے پڑھتا۔ ( ابن کثیر وغیرہ ) ۔ بہرکیف یہ ایک امتیازی شان اور خصوصی معجزہ تھا جس سے حضرت داؤد کو حق تعالیٰ کی طرف سے بطور خاص نوازا گیا تھا۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت داؤد کو بادشاہی میں فقیری کی کس قدر انفرادی نوعیت کی عظیم الشان سعادت و عنایت سے نوازا گیا تھا۔ کہ ایک طرف تو آنجناب کو تخت سلطنت و حکومت پر بٹھایا گیا جس کے تقاضے میں آپ پوری بیدار مغزی اور کامل بےنفسی کے ساتھ خدمت خلق انجام دیتے اور رعایا کو عدل و انصاف سے سرفراز کرتے۔ اور دوسری طرف تعلق مع اللہ اور سوز دروں کا یہ عالم تھا کہ جب آپ زبور کی تلاوت فرماتے تو پہاڑوں جیسی ٹھوس اور جامد مخلوق بھی آپ کی ہمنوا ہوجاتی اور فضاؤں میں اڑتے پرندے بھی رک جاتے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہ وعلی سائر الانبیاء والمرسلین -
103 یہ سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے تھا : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور یہ سب کچھ ہم ہی کرنے والے تھے " اور ہم جو چاہیں کریں کہ ہم ہر چیز پر پوری قدرت رکھتے ہیں اور ہماری شان ۔ علی کل شیء قدیر ۔ کی شان ہے۔ پس معجزہ پیغمبر کے اپنے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کا فعل اور اسی کے اپنے اختیار میں ہوتا ہے۔ وہ جب چاہے اور جیسے چاہے اپنے بندوں میں سے کسی بندئہ خاص پر ظاہر فرمائے۔ جیسا کہ دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَاکَانَ لِرَسُوْلٍ اَنْ یَّاتِیَ بآیَۃٍ الاَّ بِاِذْنِ اللّٰہِ } ۔ (الرعد : 38) اور جب معجزہ پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہوتا تو پھر کرامت ولی کے اختیار میں کس طرح ہوسکتی ہے ؟ سو اس سے اہل بدعت کی بہت سے شرکیات کی جڑ کٹ جاتی ہے ۔ والحمد للہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ سب کام ہمارے ہی کرنے کے تھے کسی اور کے نہیں۔ اور یہ سب کچھ ہم ہی نے کیا تھا۔ کسی اور نے نہیں۔ اور ہم جو چاہیں اور جیسا چاہیں کریں۔ ہم جس کے لیے چاہیں شجر و حجر، چرند و پرند اور پہاڑو دریا وغیرہ جس چیز کو بھی چاہیں اس کے پیچھے لگا دیں۔ سو یہ سب نعمتیں اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں اور اسی کی عطاء و بخشش سے مل سکتی ہیں۔ کوئی ان کو اپنے زور و اقتدار سے نہیں حاصل کرسکتا بلکہ جو ملتا ہے اللہ تعالیٰ ہی کے کرم و احسان اور اسی کی عطاء و عنایت سے ملتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 21:82–85106 حضرت سلیمان کے لیے تیز ہواؤں اور جنوں کی تسخیر کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے سلیمان کے لیے تیز ہواؤں اور جنوں کو بھی ان کے تابع کردیا تھا " تاکہ تند و تیز ہوا ان کے تخت کو اپنے کندھوں پر لے کر چلے اور جنوں کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ وہ غوطے لگا کر ان کے لیے ہیرے اور موتی وغیرہ نکال کرلے آئیں۔ سو شیطان سے یہاں پر مراد جن ہیں اور شیطان کا اطلاق ہر سرکش پر ہوتا ہے خواہ وہ کوئی جن ہو یا انسان یا حیوان۔ ( مفردات راغب ) ۔ سو اس میں یہ عظیم الشان اور انقلاب آفریں درس ہے کہ جو اللہ کا ہوجاتا ہے اور وہ اس سے صحیح معنوں میں ڈرتا ہے تو ہر چیز اس کی ہوجاتی ہے اور اس سے ڈرتی اور اس کے تابع بن جاتی ہے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے ۔ ہر کہ ترسید از حق وتقویٰ گزید ۔ ترسد از وے جن و انس و ہر کہ دید ۔ پس اللہ والا بن جانا ایسی شاہ کلید ہے کہ ہر خیر کا دروازہ اس سے کھلتا ہے ۔ اللہم ارزقنا التوفیق و زدنا منہ ۔ آمین ثم آمین۔ نیز یہاں سے ایک اور حقیقت یہ واضح ہوگئی کہ حضرت سلیمان کے لیے جنوں کی تسخیر آپ کے اپنے کسی عمل کا نتیجہ نہیں تھا۔ بلکہ یہ قدرت کی طرف سے ایک خاص عطیہ تھا جو آپ کو عطا ہوا تھا۔ اور قدرت نے اپنی رحمت و عنایت سے جنوں کی اس سرکش مخلوق کو آنجناب کے تابع فرمان کردیا تھا اور ان کو آپ کے لیے کام میں لگا دیا تھا۔ سو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی عنایت سے تھا۔
107 حضرت سلیمان کے لیے جنوں کی خدمات : سو ارشاد فرمایا گیا کہ شیاطین یعنی جنوں میں سے بھی بہت سے ایسوں کو ہم نے ان کے کام میں لگا دیا تھا جو ان کی لیے غوطے لگاتے اور وہ اس کے علاوہ ان کے لیے اور بھی کئی طرح کے کام کرتے تھے۔ سو جن حضرت سلیمان کے لیے طرح طرح کی خدمات انجام دیتے۔ وہ ان کے لیے غوطہ خوری کرتے، موتی مونگے وغیرہ نکالتے اور وہ ان کے لیے اور بھی طرح طرح کے کام کرتے تھے۔ جیسے بڑی بڑی عمدہ عمارتیں بنانا، مختلف شہر تعمیر کرنا اور دوسرے ایسے بڑے بڑے کام کرنا جو عام لوگوں کی قوت و دسترس سے باہر تھے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَالشّیَاطِیْنَ کُلَّ بَنَّائٍ وَّ غَوَّاصٍ وَآخَرِیْنَ مُقَرَّنِیْنَ فِی الْاَصْفَادِ } ۔ (ص :37-38) سو اس طرح حضرت سلیمان ان مفسد اور سرکش و فسادی عناصر سے تعمیر و ترقی اور رفاہ عامہ کے طرح طرح کے کام کراتے تھے۔ اور ان کی خرق قوتوں سے کام لیتے تھے۔
108 دور حاضر کے سائنس دانوں کے لیے ایک تنبیہ و تذکیر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ہی انکے نگہبان تھے ورنہ حضرت سلیمان کے بس میں نہیں تھا کہ وہ ان کو از خود اس طرح اپنے قابو میں کرلیتے۔ سو اصل حکم تو ہر چیز پر ہمارا ہی چلتا ہے ورنہ ایسے سرکش جنوں کو قابو کرنا کس کے بس میں ہوسکتا ہے ؟ اور ہمارے حکم کے باعث ان میں سے کسی میں بھی اس کی مجال نہ تھی کہ وہ حضرت سلیمان کے حکم سے سرمو تجاوز یا سرکشی کرسکے۔ سو حضرت سلیمان کے لیے جنوں کی تسخیر محض اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک انعام تھا نہ کہ ان کے کسی عمل کا نتیجہ۔ جیسا کہ عام لوگوں نے سمجھ رکھا ہے۔ سو اگر ہم ان کے نگران نہ ہوتے تو یہ بےقابو ہو کر طرح طرح کے خطرات اور آفتوں کا سبب بن سکتے تھے۔ سو اس ارشاد میں بڑی تنبیہ ہے ان لوگوں کے لیے جو قدرت کی بعض قوتوں کی تسخیر سے یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ اب ہم ان کے مالک ہوگئے۔ کوئی ان کو ہم سے چھیں نہیں سکتا۔ اور نہ ہی یہ قوتیں ان کے خلاف کوئی بغاوت کرسکتی ہیں۔ سو یہ محض انسان کی تنگ ظرفی اور جہالت کا نتیجہ ہے۔ آج انسان بھاپ، گیس، بجلی اور ایٹم وغیرہ کی جن قوتوں کی تسخیر سے طرح طرح کے کام لیتا اور فائدے اٹھاتا ہے تو یہ سب اللہ تعالیٰ ہی کے فضل و کرم سے ہو رہا ہے۔ اسی نے ان عظیم الشان قوتوں کو انسان کے قابو میں کردیا۔ اور یہ اسی وقت تک انسان کے قابو میں رہیں گی جب تک کہ اللہ چاہے گا۔ اگر اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی بھی قوت کی باگ ذرا بھی ڈھیلی چھوڑ دے تو یہی عظیم الشان نفع بخش قوتیں انسان کو تباہ کردیں۔ چناچہ اس کے کچھ نمونے آج بھی جگہ جگہ اور طرح طرح سے نمودار ہوتے رہتے ہیں جیسا کہ ابھی چند ہی سال قبل روس میں چرنوبل کا جوہری حادثہ پیش آیا تھا۔ جس میں تابکاری مواد رسنے سے یکایک ہزاروں لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے اور ہزارہا اپاہج اور ناکارہ ہوگئے اور ایک بہت بڑے ایریے میں بےحساب جانور مر گیے۔ نیاتات تک اجڑ گئیں اور زندگی کے آثار مٹ گئے وغیرہ وغیرہ۔ اسی طرح ہندوستانی ریاست بھوپال میں ایک کارخانے سے زہریلی گیس خارج ہوجانے سے ہزاروں لوگ لقمہ اجل بن گئے اور ہزاروں اپاہج اور معذور ہو گیے۔ اور ہفتہ عشرہ قبل چین کے ایک علاقے میں گیس کے ایک کنویں میں آگ لگنے سے سینکڑوں لوگ موت کے گھاٹ اتر گئے اور چالیس ہزار لوگوں کو ان کے گھروں سے نکال کر دور دراز علاقوں میں منتقل کیا گیا وغیرہ وغیرہ۔ سو اس طرح کے نمونے جگہ جگہ اور طرح طرح سے پیش آتے رہتے ہیں مگر غافل انسان ان سے سبق لینے اور اپنی آنکھوں کو کھولنے کے لیے تیار نہیں ہوتا ۔ الا ما شاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 21:86112 صبر واستقامت ذریعہ ظفر و کرامت : سو حضرت اسماعیل، ادریس اور ذو الکفل تینوں کے بارے فرمایا گیا کہ یہ تینوں صابر تھے۔ نیز فرمایا گیا کہ ہم نے ان کو بھی داخل فرمایا اپنی خاص رحمت میں کہ دنیا میں ان کو نبوت کے شرف سے مشرف فرمایا جو کہ اللہ پاک کی طرف سے ملنے والا سب سے بڑا شرف و اعزاز ہے اور آخرت میں ان کو جنت اور اس کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی بخشی گئی جو کہ ہماری رحمت کا آخری اور کامل مظہر ہے۔ ( جامع البیان، محاسن التاویل وغیرہ ) ۔ سو ان تینوں حضرات نے صبر و استقامت کے بڑے نادر نمونے پیش فرمائے۔ حضرت اسماعیل نے تو اس راہ میں اپنی جان کو بھی قربان ہونے کے لیے پیش فرما دیا اور ابتدائی دور میں مکہ مکرمہ میں بھی آپ نے خاص طور پر بہت تکلیفیں اور مشقتیں برداشت کیں۔ اور حضرت ادریس ترک طعام و شراب میں اتنے آگے نکل گئے تھے کہ فرشتوں کے ساتھ ملحق ہوگئے تھے۔ ( معارف للکاندھلوی وغیرہ) ۔ اور اسی طرح تیرے صاحب یعنی حضرت ذو الکفل بھی بڑے صابر و شاکر انسان تھے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان سب کو اپنی خاص رحمتوں اور عنایتوں سے نوازا۔ سو راہ حق و ہدایت پر صبر و استقامت ذریعہ ظفر و کرامت ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وکما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 21:87113 مچھلی والے یعنی حضرت یونس کے قصے کی تذکیر و یاددہانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ذو النون یعنی مچھلی والے کو بھی یاد کرو جبکہ وہ غصے ہو کر چلا گیا اور اس نے سوچا کہ ہم اس پر کوئی دار و گیر نہیں کریں گے اور ان کے فیصلے پر ان کی کوئی باز پرس نہ کریں گے اور ان سے کسی تنگی کا معاملہ نہ کریں گے " ای لن نضیق علیہ بالعقوبۃ " (ابن کثیر، قرطبی، خازن، کبیر، محاسن التاویل اور صفوۃ وغیرہ ۔ کما روی ذالک عن ابن عباس) ۔ یعنی { نقدر } یہاں پر " قدرت " سے نہیں " قدر " بمعنیٰ تنگی سے ماخوذ ہے۔ جیسا کہ ارشاد ربانی { وَمَنْ قُدِرَ عَلَیْہِ رِزْقُہُ } میں ہے " ای ضیق علیہ فیہ " کیونکہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت کی نفی کا عقیدہ رکھنا تو کفر ہے۔ وہ آنجناب سے کس طرح متصور ہوسکتا ہے ؟ ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف مچھلی والے یعنی حضرت یونس جب اپنی قوم سے ناراض ہو کر وہاں سے چلے گئے اور یہ سمجھا کہ ہم اس پر کوئی باز پرس اور دار و گیر نہیں کریں گے تو اس کے نتیجے میں وہ مچھلی کے پیٹ میں پہنچ گیے۔ اسی لیے حضرت خاتم الانبیاء کو صبر کا حکم دیا گیا اور آپ کو تلقین فرمائی گئی کہ " مچھلی والے کی طرح نہیں ہوجانا "۔ (القلم :48) ۔ یعنی ان کی طرح بےصبری کا مظاہرہ نہیں کرنا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
114 حضرت یونس نے بھی اللہ ہی کو پکارا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے تہ در تہ اندھیروں کے اندر پکارا کہ [ اے میرے رب ] تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ تو پاک ہے۔ بیشک میں قصورواروں میں سے ہوں۔ سو حضرات انبیاء و رسل کا مشکل کشا اور حاجت روا بھی اللہ ہے۔ سو اس سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ حضرات انبیاء و رسل کا حاجت روا و مشکل کشا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اس لیے حضرت یونس نے بھی تہ در تہ اندھیروں کے اندر اپنے رب ہی کو پکارا۔ رات کا اندھیرا، سمندر کا اندھیرا اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔ سو ان تہ در تہ اندھیروں کے اندر سے اٹھنے والی آواز کو سننا بھی اسی وحدہ لا شریک کا کام اور اسی کی شان ہے۔ پس کس قدر غلط اور گمراہ کن عقیدہ ہے ان جاہلوں کا جو یہ کہتے ہیں کہ اللہ ہماری نہیں سنتا جب تک کہ ہم کسی اور کا اس کے حضور وسیلہ نہ پکڑیں اور اس غلط نظریے کی بنا پر ایسے لوگ طرح طرح کی شرکیات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ اور اسی طرح بڑے ہی گمراہ ہیں وہ لوگ جو مشکلات میں اللہ کی بجائے اوروں کو پکارتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ حضرات انبیاء و رسل بھی اپنی حاجات اور مشکلات میں اسی وحدہ لا شریک کو پکارتے ہیں ۔ علیہم الصلاۃ والسلام ۔ کہ سب کا حاجت روا و مشکل کشا وہی وحدہ لا شریک ہے۔ سب اسی کے محتاج ہیں اور براہ راست اسی کو پکارتے ہیں۔ اور اسی کا درس ہر مومن کو دیا گیا ہے۔ اور وہ اپنی ہر نماز میں ۔ { ایاک نعبد وایاک نستعین } ۔ کے کلمات کریمہ سے براہ راست اس کے حضور اپنی عرض والتجاء پیش کرتا ہے تو پھر بیچ میں یہ وسیلے اور واسطے کہاں سے آگئے ؟ ۔ اللہ تعالیٰ فکر و عمل ہر اعتبار سے راہ حق و ہدایت پر رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 21:88115 ایمان والوں کے لیے نجات کی خوشخبری : پس ایمان والوں کو چاہیے کہ وہ شدائد و مصائب اور مشکلات و مضائق میں ہمیشہ ہماری ہی طرف رجوع کریں اور ہم ہی کو پکاریں تاکہ وہ گوہر مقصود سے فیضیاب و شادکام ہو سکیں کہ مشکلات سے بچانا اور مضائق میں مدد کرنا ہمارا ہی کام اور ہماری ہی شان ہے۔ اور ہم نے جس طرح حضرت یونس کو ان تہ در تہ اندھیروں سے نکالا اور وہاں ان کی مدد فرمائی اسی طرح جو بھی مسلمان صدق دل سے ہماری طرف رجوع کرے گا ہم اس کو اس طرح اپنی نصرت و امداد اور نجات سے نوازیں گے اور مختلف احادیث و روایات میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو بھی کوئی مصیبت زدہ اپنی مصیبت میں حضرت یونس کی یہ دعا پڑھے گا اللہ تعالیٰ اس سے اس کی اس مصیبت کو دور فرما دے گا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ سو اس میں پیغمبر اور آپ کے صحابہ کرام کے لیے اور ان کے توسط سے جملہ اہل حق کے تسلیہ و تسکین کا سامان ہے کہ وہ ہمیشہ اطمینان رکھیں۔ حالات خواہ کتنے ہی تاریک اور کیسے ہی مایوس کن کیوں نہ ہوں۔ دل برداشتہ نہیں ہونا اور حوصلہ نہیں چھوڑنا۔ اللہ تعالیٰ تمہاری فریادوں کو سنتا جانتا ہے۔ وہ اپنے ایماندار بندوں کو اسی طرح نجات دیتا ہے جس طرح کہ اس نے یونس کو نجات دی۔ سو ایک دن ایسا آئے گا اور ضرور آئے گا جس میں وہ تمام تاریکیاں چھٹ جائیں گے جن میں آج تم لوگ گھرے ہوئے ہو۔ اور حق کا بول بالا ہو کر رہے گا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ وہو العزیز الوہاب۔
Ayahs 21:89–90116 حضرت زکریا کی اپنے رب سے اولاد کی دعا : سو آپ نے اپنے رب کے حضور عرض کیا کہ " مالک مجھے لاوارث نہیں رکھنا " پس مجھے صالح اور پاکیزہ اولاد عطا فرما کہ اولاد کی نعمت سے نوازنا بھی تیرا ہی کام اور تیری ہی شان ہے۔ اور جب حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلاۃ والسلام ۔ بھی اسی کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی ہیں اور وہ بھی اپنے لیے اولاد کی نعمت اسی وحدہ لا شریک سے مانگتے اور اسی کے حضور دست دعا وسوال دراز کرتے ہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو کسی کا حاجت روا و مشکل کشا ہو سکے ؟ اور اس کو اولاد کی نعمت سے سرفراز کرسکے ؟۔ سو کتنے گمراہ اور کس قدر بہکے بھٹکے ہوئے ہیں وہ لوگ جو اس قادر مطلق، مالک حقیقی کو چھوڑ کر جو کہ سب کا حاجت روا و مشکل کشا اور کارساز و کارفرما ہے دوسرے خود ساختہ اور فرضی و وہمی سہاروں کو ڈھونڈتے، من گھڑت سرکاروں کے گرد چکر لگاتے اور ان کے پھیرے مانتے ہیں۔ اور ان سے اولاد وغیرہ مانگتے ہیں۔ اور اس طرح وہ جگہ جگہ اور طرح طرح سے ذلیل و خوار ہوتے ہیں ؟ اور طرح طرح کی شرکیات سے آلودہ ہوتے اور اپنی متاع ایمان کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اولاد کی نعمت سے نوازنا اور ہر کسی کی اور ہر طرح کی حاجت روائی اور مشکل کشائی کرنا اسی وحدہ لا شریک کی صفت و شان ہے۔ سب اسی کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی ہیں یہاں تک کہ حضرات انبیاء و رسل کی مقدس ہستیاں بھی ۔ علیہم الصلاۃ والسلام ۔ اس لیے ہمیشہ اسی سے مانگنا اور اسی کی طرف رجوع کرنا چاہیے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 21:91118 حضرت مریم بتول کا ذکر جمیل : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس پاک دامن خاتون کا بھی ذکر کرو جس نے اپنی عصمت و ناموس کو محفوظ رکھا۔ پھر ہم نے اس کے گریبان میں پھونک ماری تھی جس سے ان کو بغیر کسی مرد کے چھوئے حمل قرار پا گیا تھا۔ اور حضرت عیسیٰ جیسے پاکیزہ بچے نے معجزانہ طور پر بغیر باپ کے ان کے بطن سے جنم لیا تھا۔ سو حضرت عیسیٰ ایک پاکیزہ انسان تھے جو ایک پاکیزہ والدہ ماجدہ کے بطن سے بغیر والد کے واسطے کے محض حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی خاص قدرت و عنایت سے پیدا ہوئے تھے۔ پس جن یہود بےبہبود نے آنجناب کے نسب طاہر میں طعن کا ارتکاب کیا انہوں نے کفر کو اپنا کر اپنے لیے جہنم کا سامان کیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اس کے برعکس جن نصاریٰ نے آپ کی اس معجزانہ ولادت کی بنا پر آپ کو خدا اور خدا کا بیٹا قرار دیا انہوں نے بھی کفر و شرک کا ارتکاب کر کے اپنے لیے جہنم کا سامان کیا۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ خدا تعالیٰ کے پاکیزہ بندے اور اس کے سچے رسول تھے۔ سو نفخ روح سے یہاں پر مراد یہ ہے کہ اللہ پاک کے کلمہ کن کے ذریعے ان کے اندر ایک مولود کی روح ڈال دی گئی۔ حضرت عیسیٰ کا استقرار چونکہ آپ کی والدہ ماجدہ کے بطن طاہر میں عالم اسباب کے عام اور معروف ضابطے کے بغیر صرف اللہ تعالیٰ کے کلمہ " کن " سے ہوا تھا۔ اس لیے اس بات کو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے ڈالی ہوئی روح سے تعبیر فرمایا۔ اسی بنا پر حضرت عیسیٰ کو کلمۃ اللہ " فرمان الہی " کہا جاتا ہے۔ اور اسی بنا پر آپ کو اور آپ کی والدہ ماجدہ کو اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک عظیم الشان نشانی قرار دیا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اس کو اور اس کے بیٹے کو ایک عظیم الشان نشانی بنادیا سب جہان والوں کے لیے۔
119 حضرت عیسیٰ اور مریم قدرت کی ایک عظیم الشان نشانی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان دونوں کو عظیم الشان نشانی بنادیا دنیا جہاں کے لیے " کہ اسباب کی اس دنیا میں بھی ہم اسباب کے بغیر بھی اپنی قدرت کاملہ سے جو چاہیں کرسکتے ہیں۔ جس کا ایک زندئہ جاوید نمونہ یہ ہے کہ حضرت مریم قدیسہ کے بطن سے باپ کے توسط کے بغیر اور ظاہری اور عمومی سبب کے بدوں حضرت عیسیٰ جیسی مقدس ہستی نے جنم لیا۔ سو وہ قادر مطلق جو چاہے اور جیسا چاہے کرے۔ اس کے لیے نہ کچھ مشکل ہے اور نہ کوئی دقت و دشواری ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ واضح رہے کہ یہاں پر یہ نہیں فرمایا گیا کہ حضرت عیسیٰ کو الگ نشانی بنایا گیا اور حضرت مریم کو الگ۔ اور نہ ہی یہ فرمایا گیا کہ ان دونوں کو دو نشانیاں بنایا گیا بلکہ یہ فرمایا گیا کہ ان دونوں کو ایک نشانی بنایا گیا۔ یعنی وہ دونوں مل کر ایک عظیم الشان نشانی قرار پاتے ہیں۔ سو اس کی صورت یہی ہے کہ حضرت مریم بغیر کسی مرد کے چھونے کے قدرت خداوندی سے حاملہ ہوگئیں اور حضرت عیسیٰ بغیر باپ کے توسط کے پیدا ہوئے اور پھر معجزانہ کلام بھی فرمایا۔
Ayah 21:92120 لفظ " امت " کا معنیٰ و مفہوم اور حضرات انبیاء کے ایک امت ہونے کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا اور تاکید کے ساتھ فرمایا گیا کہ " بیشک ۔ ان حضرات کی ۔ یہ امت جس کا ذکر ہوا ایک ہی امت ہے "۔ " امت " اس جماعت اور گروہ کو بھی کہا جاتا ہے جو ایک ہی عقیدہ و دین رکھتے ہوں۔ جیسا کہ سورة اعراف میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمِمَّنْ خَلَقْنَا اُمَّۃٌ یَّہْدُوْنَ بالَحَقِّ وَبِہ یَعْدِلُوْنَ } ۔ (الاعراف :181) ۔ یا جیسا کہ سورة آل عمران میں فرمایا گیا ۔ { وَلْتَکُنْ مِنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ } ۔ (آل عمران :104) اسی طرح " امت " کے اس لفظ کا اطلاق اس گروہ کے مقتدا و پیشوا پر بھی ہوتا ہے۔ جیسا کہ حضرت ابراہیم ۔ (علیہ السلام) ۔ کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { اِنَّ اِبْرَاہِیْمَ کَانَ اُمَّۃً قَانِتًا لِلّٰہِ } ( النحل :120) ۔ اسی طرح " امت " کے لفظ کا اطلاق اس طریقہ و دین پر بھی آتا ہے جس پر ایسے لوگ چلتے ہوں جیسا کہ سورة زخرف میں فرمایا گیا ۔ { اِنَّا وَجَدْنَا آبَائَ نَا عَلٰی اُمَّۃٍ } ۔ ( الزخرف : 22) یا جیسا کہ سورة مومنون میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِنَّ ہٰذِہ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَاحِدَۃً وَاَنَا رَبُّکُمْ فَاتَّقُوْنِ } ( المومنون :52) نیز " امت " کا لفظ مدت کے معنی میں بھی آتا ہے۔ جیسے سورة ہود میں ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَئِنْ اَخَّرْنَا عَنْہُمُ الْعَذَابَ اِلٰی اُمَّۃٍ } ۔ ( ہود :8) یا جیسے سورة یوسف میں فرمایا گیا ۔ { وَادَّکَرَ بَعْدَ اُمَّۃٍ } ۔ (یوسف :45) اور یہاں پر یعنی سورة انبیاء کی اس آیت کریمہ میں " امت " سے مراد جمہور اہل علم کے نزدیک طریقہ اور ملت ہی کے معنیٰ ہیں۔ یعنی ان تمام حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلاۃ والسلام ۔ کا جن کا ذکر اوپر آیا ہے سب کا طریقہ ایک ہی طریقہ تھا۔ اور ان سب کی ملت ایک ہی ملت تھی۔ یعنی توحید خداوندی۔ اور یہ تمام حضرات اسی ایک طریقے پر قائم تھے کہ حق اور ہدایت کا طریقہ ہمیشہ یہی ایک طریقہ رہا ہے کہ عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اللہ وحدہ لا شریک ہی کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ کہ معبود برحق بہرکیف وہی اور صرف وہی وحدہ لا شریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اسی لیے فرمایا گیا ۔ { اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلَام } ۔ (آل عمران :19) ۔ یعنی دین تو اللہ تعالیٰ کے یہاں صرف اسلام ہی ہے۔ ( روح، ابن کثیر، قرطبی، مراغی اور محاسن وغیرہ ) ۔ پس جن لوگوں نے یہودیت اور عیسائیت وغیرہ کے مختلف ناموں سے جو مختلف دین بنا لیے وہ ان سب کی اپنی کارستانی اور دین حق سے بغاوت و سرکشی اور انحراف ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر ثابت قدم رکھے اور زیغ وضلال کی ہر قسم سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
121 تمام انبیاء و رسل کا دین ایک ہی دین تھا : یعنی اسلام جس کے معنیٰ اللہ کے آگے جھکنے اور اسی کے ہو کر رہنے کے ہیں۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور دین تم سب لوگوں کا ایک ہی دین ہے جس میں نہ کوئی تعدد ہے نہ اختلاف۔ اصول سب کے ایک ہی ہیں اور جو کچھ فرق ہوتا ہے وہ ان فروع میں ہوتا ہے جن کا تعلق خاص حالات اور خاص ازمنہ و اوقات سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لِکُلِّ جَعَلْنَا مِنْکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْہَاجًا } ۔ ( المائدۃ : 48) ۔ اور { امۃ } کا نصب یہاں پر حالیت کی بنا پر ہے۔ ( ابن کثیر، جامع البیان وغیرہ ) ۔ سو دین تم سب لوگوں کا ایک ہی دین ہے جس کی اصل و اساس توحید خداوندی ہے کہ معبود برحق تم سب کا ایک ہی معبود ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک۔ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی وحدہ لا شریک کا حق ہے۔ پس تم سب اسی کی بندگی کرو اور ہمیشہ اور ہر حال میں اسی کے آگے جھکو اور دل و جان سے جھکو کہ اسی میں تمہارا بھلا ہے۔ یہی تمہاری شان عبدیت کے لائق اور اس معبود حقیقی کا حق ہے جو تم سب پر اس کی مخلوق اور اس کے بندے ہونے کے اعتبار سے عائد اور واجب ہوتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف یہاں پر اوپر جملہ انبیاء و رسل کے ذکر کے بعد اب آخر میں خلاصہ بحث کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ان تمام حضرات کی دعوت ایک ہی دعوت تھی۔ یہ سب ایک ہی امت ہیں اور میں تم سب کا رب ہوں۔ پس اگر کسی نے ان انبیاء و رسل کے درمیان کسی طرح کی کوئی تفریق کی اور ان کے پیش فرمودہ دین کے اندر کسی طرح کی کسی تحریف یا آمیزش و ملاوٹ کا ارتکاب کیا تو اس کی ذمہ داری خود اسی پر ہوگی۔ ان حضرات انبیاء و رسل کا دامن اس سے پاک ہے ۔ علیہم الصلاۃ والسلام -
122 عبادت و بندگی اللہ وحدہ لا شریک ہی کا حق ہے : کہ معبود برحق وہی وحدہ لا شریک ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " میں رب ہوں تم سب لوگوں کا "۔ پس تم سب لوگ میری ہی بندگی کرو اور میرے ساتھ کسی کو بھی، کسی بھی طور پر حقِّ عبادت و بندگی میں شریک نہیں ٹھہرانا۔ نہ لکڑی پتھر وغیرہ کے کسی بت کو اور نہ کسی زندہ یا مردہ انسان کو اور نہ کسی فرشتے یا پیغمبر کو۔ ( المراغی، المحاسن، الروح وغیرہ ) ۔ سو عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لا شریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ اور اس کے سوا اور کسی کے لیے بھی عبادت و بندگی کی کوئی بھی قسم کسی بھی شکل میں بجا لانا شرک ہے جو کہ ناقابل معافی جرم اور ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ لیکن افسوس کہ ظالم انسان نے اس ظلم عظیم کا ارتکاب ہمیشہ کیا اور طرح طرح سے کیا۔ پہلے بھی کیا اور اب بھی کر رہا ہے۔ اور کھلے مشرکوں کے علاوہ کلمہ گو مشرک بھی اس کا ارتکاب جگہ جگہ اور طرح طرح سے کر رہا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ چناچہ جگہ جگہ غیر اللہ کے لیے سجدے ہو رہے ہیں۔ خود ساختہ اور من گھڑت سرکاریں گھڑی اور کھڑی کی جا رہی ہیں۔ انکے گرد چکر لگائے جا رہے ہیں۔ طواف کیے جا رہے ہیں۔ پھیرے مانے جا رہے ہیں۔ ان کے نام کی ڈالیاں مانی اور پیش کی جا رہی ہیں اور ان کو غائبانہ طور پر حاجت روائی اور مشکل کشائی کے لیے پکارا بلایا جاتا ہے اور ان سے استعانت و استمداد اور استغاثہ کے شرک کا ارتکاب کیا جا رہا ہے ۔ { فَاِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ شرک کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 21:93123 خداوند قدوس کے دین میں تفریق کا شکوہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس سب کے باوجود لوگوں نے آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کردیا اپنے دین کو ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اپنی اپنی اہوا و اَغراض کے مطابق انہوں نے دین کے نام سے طرح طرح کے طریقے ایجاد کرلیے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس بنیادی حقیقت کو انہوں نے پس پشت ڈال دیا کہ دین سب لوگوں کا ایک ہی دین تھا جو کہ توحید خداوندی کی اساس پر قائم و استوار ہے۔ اور اس بنیادی حقیقت کو بھلا کر اور اس کو پس پشت ڈال کر انہوں نے اپنی اہوا واغراض کے مطابق دین فطرت کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہر گروہ اپنی مرضی کے ٹکڑے لے کر چل پڑا اور سی پر مست و مگن ہوگیا۔ اور اس طرح وہ دارین کی ہلاکت و تباہی کی راہ پر گامزن ہوگیا۔ اور وہ اپنے اختیار کردہ اور من پسند دین کی حمایت میں حضرات انبیائے کرام کے لائے ہوئے اس دین حق کی مخالفت کر رہا ہے جس کو اب قرآن حکیم اور خدا کے آخری رسول اپنی اصل اور کامل شکل میں دنیا کے سامنے " اسلام " ہی کے اس اصل نام سے پیش فرما رہے ہیں اور ایسے بگڑے ہوئے لوگ اس دین حق کے خلاف طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ راہ حق پر مستقیم اور ثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
124 خدا کے دین میں تفریق کرنے والوں کے لیے تنبیہ و تذکیر : کہ ان کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان بہرحال بھگتنا ہوگا۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سب نے بالآخر ہمارے ہی پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس سے کوئی بھی نہیں بچ سکتا تاکہ وہاں پہنچ کر ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پا سکے۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے اپنی کامل اور آخری شکل میں پورے ہو سکیں۔ سو اہل حق اور اصحاب صدق و صفا تو خوشی خوشی آئیں گے تاکہ وہ جنت کی ابدی اور سدا بہار نعمتوں سے سرفراز ہو سکیں اور اہل زیغ و ضلال کو مجبوری اور لاچاری سے آنا پڑے گا تاکہ وہ اپنے کفر و باطل کے نتیجے میں دوزخ کے ہولناک عذاب کا مزہ چکھ سکیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس ہر کوئی اپنے بارے میں خود دیکھ لے اور اپنا جائزہ خود لے لے کہ وہ کس راہ پر چل رہا ہے اور اس کے نتیجے میں وہ کیسے انجام اور کس نتیجے کا مستحق ہے۔ اور اپنے بارے میں غور کر کے اپنی اصلاح کرلے قبل اس سے کہ فرصت حیات اس کے ہاتھ سے نکل جائے۔ نہیں تو وہ اپنے اس ہولناک انجام کے لیے تیار ہوجائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد میں جہاں ایک طرف حضرت امام الانبیاء ۔ ﷺ ۔ اور آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کے لیے تسکین وتسلیہ کا سامان ہے کہ آپ ان منکرین و مخالفین کی پرواہ نہ کریں کہ انہوں نے بالآخر ہمارے ہی پاس آنا ہے جہاں انہوں نے اپنے کیے کرائے کا پورا پورا بھگتان بہرحال بھگتنا ہے وہیں اس میں دوسری طرف منکرین و مخالفین کے لیے تنبیہ و تذکیر بھی ہے کہ وہ باز آجائیں اپنی اس باغیانہ روش سے ورنہ اپنے ہولناک انجام کے لیے تیار ہوجائیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 21:94–95125 ایمان باللہ قبولیت عند اللہ کے لیے اولین شرط : سو ایمان کے بغیر کسی کا کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں۔ کیونکہ ایمان و عقیدہ بنیادی شرط ہے اعمال کی قبولیت کے لیے۔ اس کے بغیر کسی بھی عمل کی اللہ پاک کے یہاں کوئی قدر و قیمت نہیں ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس کی مثال یوں سمجھی جائے کہ جس طرح اکیلے صفر کی کوئی قدر و قیمت نہیں ہوسکتی خواہ وہ کتنے ہی صفر کیوں نہ ہوں لیکن جب ان کے ساتھ کوئی ہندسہ لگ جائے تو وہ سب ہی صفر قیمتی بن جاتے ہیں۔ سو ایسے ہی ایمان و عقیدے کے بغیر کسی بھی عمل کی کوئی قدر و قیمت نہیں لیکن ایمان و عقیدہ کے بعد سب ہی اعمال قیمتی بن جائیں گے ۔ سبحان اللہ ۔ کیسی عظیم الشان دولت ہے یہ ایمان و یقین کی دولت جس سے انسان کا ہر عمل قیمتی، قابل قبول اور لائقِ اجر وثواب بن جاتا ہے۔ جبکہ اس کے بغیر کسی بھی عمل کی کوئی حقیقت اور حیثیت ہی نہیں۔ سو دولت ایمان و یقین سے سرفرازی دارین کی سعادت و سرخروئی ہے اور اس سے محرومی ۔ والعیاذ باللہ ۔ دنیا و آخرت کی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
126 کسی کی محنت کی ناقدری نہیں ہوگی : اور ناقدری اور ظلم و زیادتی اور حق تلفی کے کیا معنیٰ وہاں تو کرم ہی کرم اور عنایت ہی عنایت ہے۔ اور بندے کو تو حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی طرف سے اس کے استحقاق سے بھی کہیں زیادہ اور اس کے اندازہ و گمان سے بھی کہیں بڑھ کردیا جاتا ہے اور دیا جائے گا۔ ایک ایک عمل کا بدلہ دس دس گنا بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ دیا جائے گا کہ یہ صلہ و بدلہ اس وہاب مطلق کی طرف سے ہوگا جس کی شان ہی نوازنا اور کرم فرمانا ہے۔ اور اس اکرم الاکرمین ۔ جل جلالہ ۔ کے فضل و کرم کا کوئی کنارہ نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کا اپنا ارشاد ہے ۔ { ثُمَّ یُجْزَاہُ الْجَزَائَ الْاَوْفَی } ۔ (النجم :41) ۔ پس بندے کا کام ہے اس پر ایمان و یقین کے ساتھ اس کے بھروسہ و اعتماد پر اور اسی کی رضا و خوشنودی کے لیے کام کیے جائے اور لگاتار کیے جائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے نور ایمان سے سرفرازی کے ساتھ اعمال صالحہ کی پونجی جمع کی ہوگی اس کی خداوند قدوس کے یہاں ناقدری نہیں ہوگی۔ بلکہ اس کی پوری پوری قدردانی کی جائے گی اور اس کو اس کے اس اجر وثواب سے نوازا جائے گا جس کا وہ مستحق ہوگا اور جو اس کے صدق و اخلاص کے لائق ہوگا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
127 انسان کے اعمال لکھے جا رہے ہیں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم یقینی طور پر اس کے لیے لکھتے جا رہے ہیں تاکہ اس کے کیے کرائے کا پورا ریکارڈ موجود و محفوظ ہو اور تاکہ اس طرح وہ اپنے کیے کرائے کا پورا صلہ و بدلہ پا سکے۔ اور اس کا کوئی عمل بدلہ دینے سے رہ نہ جائے۔ پس تم لوگ تو اپنے کیے کرائے کو بھول سکتے ہو اور بھول جاتے ہو مگر تمہارا رب نہ بھولتا ہے نہ تمہارے کسی عمل کو ضائع ہونے دیتا ہے۔ اور اس کا صاف وصریح ارشاد ہے ۔ { اَحْصَاہ اللّٰہُ وَنَسُوْہُ } ۔ ( المجادلۃ :6) ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ یعنی یہ لوگ تو اپنے کیے کرائے کو بھول چکے ہوں گے مگر اس نے اس سب کو محفوظ رکھا ہوگا ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے تصریح فرما دی گئی کہ جو لوگ نیک عمل کریں گے بشرطیکہ وہ ایمان رکھتے ہوں اور توحید پر قائم ہوں تو ان کی سعی و کوشش رائیگاں نہیں جائیگی بلکہ ان کو ان کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے گا۔ ان کے ایک ایک عمل اور ایک ایک نیکی کو ہم لکھتے اور محفوظ کرتے جا رہے ہیں۔ پس ان کو اس بات کا کوئی خدشہ اور اندیشہ نہیں ہونا چاہیے کہ ان کا کوئی عمل ضائع ہوجائے گا۔
Ayahs 21:96–97129 یاجوج ماجوج کے غلبہ و ظہور کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ ایسے ہی رہیں گے یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج نکل پڑیں گے "۔ یعنی قیامت کے اس وقت موعود تک ایسے تباہ شدہ لوگ ایسے ہی رہیں گے۔ اور قیامت کی قریبی علامتوں میں سے ایک علامت یاجوج ماجوج کا خروج ہے جس کے بعد قیامت کا وقوع ایسے ہوجائے گا جیسا کہ وہ حمل دار مادہ جس کا وقت پورا ہوچکا ہو۔ اور کوئی پتہ نہیں کہ وہ کس وقت بچے کو جنم دے دے ۔ کما روی ذالک عن ابن مسعود ۔ (زاد المسیر) ۔ واللہ المسؤل لکل ما یحب ویرضاہ جل وعلا ۔ سو کسی قوم کی ہلاکت کے فیصلے کے بعد یا اس کے ہلاک ہوجانے کے بعد قیامت تک کسی کیلیے اس دنیا میں لوٹ آنا ممکن نہیں۔ ( ابن کثیر، المراغی اور المعارف وغیرہ ) ۔ پس حیات دنیا کی اس فرصت مستعار کو غنیمت جان کر آخرت کے لیے تیاری کرلو۔ نیز یہاں پر اس کے ذکر سے یہ دکھلانا اور بتلانا مقصود ہے کہ جو لوگ آج قرآن پر ایمان لانے کے لیے مختلف قسم کی نشانیوں، فرمائشی معجزوں اور عذاب کے مشاہدے کا مطالبہ کر رہے ہیں یہ عناد اور ہٹ دھرمی پر آئے ہوئے ہیں۔ اس لیے ان کو منہ لگانے اور ان کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے انکے پیچھے لگ کر اپنا وقت ضائع مت کرو۔ یہ لوگ اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی بنا پر عقل و فطرت کے ان دلائل سے قائل اور رام ہونے والے نہیں جو قرآن ان کے سامنے پیش کر رہا ہے۔ بلکہ یہ اسی وقت ایمان لائیں گے جب قیامت ان کے سر پر آ کھڑی ہوگی مگر اس وقت کے اس ایمان سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا کہ اس وقت ایمان لانا نہ لانا دونوں برابر ہوں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ عناد اور ہٹ دھرمی کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔