21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 21:33

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ وَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ١ؕ كُلٌّ فِیْ فَلَكٍ یَّسْبَحُوْنَ Open ayah 21:33 in the Quran reader

اور وہ اللہ وہی تو ہے جس نے پیدا فرمایا رات و دن اور سورج وچاند کے اس عظیم الشان نظام کو اور اس قدر عمدہ تقدیر اور بہترین انداز کے ساتھ کہ سب اپنے اپنے فلک میں تیرتے جا رہے ہیں

42 ہر کرہ اپنے فلک میں تیرے جا رہا ہے : اور اس قدر پر حکمت نظام کے تحت کہ نہ وہ ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں اور نہ اپنی مقررہ حدود سے باہر نکلتے ہیں۔ سو اس سب میں مخلوق کے لئے طرح طرح کے اور عظیم الشان فوائد و منافع بھی ہیں اور اس کے خالق ومالک کی عظمت، قدرت اور وحدانیت کے کھلے اور روشن دلائل بھی۔ سو زمین و آسمان اور سورج و چاند جیسے ایسے عظیم الشان کروں میں سے ہر ایک کا اپنے فلک اور دائرے میں اس قدر عمدگی اور پابندی سے برابر چلتے اور گردش کیے جانا حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدرت بےپایاں، حکمت بےنہایت اور عنایت بےغایت کے عظیم الشان مظہر ہیں۔ اور اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ اس کی کارفرمائی اور حکمرانی اس کی اس عظیم الشان کائنات میں ہر وقت اور ہر لحظہ برابر جاری وساری ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور سورج و چاند وغیرہ کے یہ عظیم الشان کرے اسی کی قدرت وحکمت سے اپنے اپنے معین مدار میں پوری پابندی سے رواں دواں ہیں۔ مجال نہیں کہ سرِ مو اس سے انحراف کرسکیں۔ اگر یہ ذرہ برابر بھی ادھر ادھر ہوجائیں تو سارے نظام عالم میں خلل واقع ہوجائے۔ سو ان سب کا منٹ سیکنڈ کی پابندی و حساب کے ساتھ اپنی ڈیوٹی ادا کرنا اور کسی ادنی توقف و تخلف کے بغیر ادا کرنا اس بات کی واضح اور کھلی شہادت ہے کہ یہ سب حاکم کائنات کے محکوم اور اسی کے ہاتھ میں مسخر ہیں۔ سو کتنے احمق ہیں وہ لوگ جو ان عظیم الشان نشانہائے قدرت سے درس عبرت لینے کی بجائے الٹا انہی کی پوجا کرتے ہیں۔ اور اس طرح وہ اپنی ہلاکت و تباہی کا سامان اپنے ہاتھوں کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 21:34

وَ مَا جَعَلْنَا لِبَشَرٍ مِّنْ قَبْلِكَ الْخُلْدَ١ؕ اَفَاۡئِنْ مِّتَّ فَهُمُ الْخٰلِدُوْنَ Open ayah 21:34 in the Quran reader

اور ہم نے آپ سے پہلے اے پیغمبر ! کسی بھی انسان کے لئے ہمیشگی نہیں رکھی تو کیا آپ اگر اپنے وقت پر مرگئے تو یہ ہمیشہ رہیں گے1

43 اس دنیا میں خلود و دوام کسی کے لیے ممکن نہیں : بلکہ ہر ایک نے یہاں سے بہرحال کوچ کرنا ہے۔ تو پھر منکرین کے لیے پیغمبر کی موت سے خوشی کا آخر کونسا مقام ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا تو کیا آپ اگر مرگئے تو یہ ہمیشہ رہیں گے ؟۔ اور جب نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر آپ کے وصال و انتقال سے ان دشمنان دین حق کے لئے خوشی و مسرت کا آخر کیا موقع ہوسکتا ہے ؟ جو آپ کی موت کے انتظار میں ہیں اور کہتے ہیں ۔ { نَتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ } ۔ کہ " ہم ان صاحب کی موت کی انتظار میں ہیں "۔ کفار کہا کرتے تھے کہ ان صاحب کا یہ دین تو بس ان کی زندگی تک ہی ہے۔ اس لیے ان کی موت تک انتظار کرلو۔ اس کے بعد ان کا یہ دین خودبخود ختم ہوجائے گا۔ اس لیے وہ بدبخت آپ کی موت کے انتظار میں تھے۔ تو اس پر یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اس میں ان کیلئے خوشی کا کیا مقام ہوسکتا ہے۔ کیا آپ اگر اے پیغمبر اپنے وقت پر مرگئے تو یہ اس دنیا میں ہمیشہ رہیں گے۔ جب نہیں اور یقینا نہیں کہ موت لازمہ بشریت ہے تو پھر یہ بدبخت آخر کسی بنیاد پر خوش ہو رہے ہیں۔ سو خوش نصیب ہیں وہ جنکی موت راہ حق و ہدایت پر آتی ہے۔ کہ ان کے لیے آخرت کے اس جہان غیب میں ہمیشہ ہمیش کی کامیابی ہے۔
Ayah 21:35

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ نَبْلُوْكُمْ بِالشَّرِّ وَ الْخَیْرِ فِتْنَةً١ؕ وَ اِلَیْنَا تُرْجَعُوْنَ Open ayah 21:35 in the Quran reader

موت کا مزہ تو ہر جاندار کو بہرحال چکھنا ہے اور ہم نے دنیا کی یہ چند روزہ زندگی بھی تمہیں اے لوگو ! اس لئے دی کہ ہم تمہاری آزمائش کرتے رہیں جانچنے کیلئے برے حالات سے بھی اور اچھے حالات سے بھی اور آخرکار تم نے لوٹ کر بہرحال ہمارے ہی پاس آنا ہے

44 موت کا مزہ ہر جاندار نے بہرحال چکھنا ہے : اپنے اپنے وقت پر۔ کوئی اس سے بچ نہیں سکتا۔ تو پھر کسی کی موت سے کسی دوسرے کے لئے خوشی کا کوئی موقع آخر کس طرح ہوسکتا ہے کہ موت کا یہ کڑوا گھونٹ تو اس نے بھی بالآخر بھرنا ہے ؟ اس لیے عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دوسروں کی موت کا انتظار کرنے کی بجائے خود اپنی اصلاح پر توجہ دے اور اپنے انجام کیلئے تیاری کرے۔ سو ان منکرین و مکذبین کے لیے اس بارے اگر خوشی و مسرت کا کوئی موقعہ ہوسکتا ہے تو صرف اس صورت میں ہوسکتا ہے جبکہ یہ زندگی جاوداں لے کر آئے ہوں۔ تو اس وقت ان کے لیے ایسا کہنے کی گنجائش ہوسکتی تھی کہ ہم جب حیات ابدی کے مالک ہیں تو پھر ایک انسان کو کس طرح رسول مان لیں اور ان کی اطاعت و ابتاع کیونکر کریں۔ جب ایسی کوئی بات نہیں اور نہیں ہوسکتی تو پھر ان کا پیغمبر کی موت پر خوش ہونا پرلے درجے کی حماقت ہے ۔ والعیاذ باللہ - 45 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب نے اللہ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور تم سب نے لوٹ کر بہرحال ہمارے ہی پاس آنا ہے "۔ تاکہ ہر کوئی اپنی زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ پا سکے۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے بھرپور طور پر پورے ہو سکیں اور ایسا بہرحال ہو کر رہے گا۔ اور تم سب کو اے لوگو بہرحال لوٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے اور وہاں اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا صلہ اور بدلہ بہرحال پانا ہے۔ سو اصل کام جو کرنے کا ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنے اس مصیر محتوم اور انجام موعود کیلئے تیاری کرے۔ اور دنیا کی اس عارضی وفانی زندگی اور محدود و مختصر فرصت کو اپنی آخرت کی حقیقی اور ابدی زندگی کو بنانے کی فکر وسعی میں صرف کرے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 21:36

وَ اِذَا رَاٰكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ یَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ١ۚ وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 21:36 in the Quran reader

اور جب دیکھتے ہیں آپ کو وہ لوگ جو اڑے ہوئے ہیں اپنے کفر وباطل پر تو مذاق اڑانے کے سوا ان کا کوئی کام ہی نہیں رہ جاتا کہتے ہیں کہ کیا یہی ہیں وہ صاحب جو تمہارے معبودوں کا نام لینے کی جسارت کرتے ہیں ؟ اور خود ان کا اپنا حال یہ ہے کہ یہ خدائے رحمان کے ذکر کے منکر ہیں

46 اہل کفر و باطل کا کام اہل حق کا مذاق اڑانا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جب یہ کفر و باطل والے آپ کو دیکھتے ہیں تو ان کا کام مذاق اڑانے کے سوا کچھ نہیں ہوتا " اور اہل حق سے بغض وعناد اور ان کا مذاق اڑانا باعث ہلاکت و تباہی ہے جو کہ کھلا ثبوت ہے ان کے عناد و ہٹ دھرمی کا۔ کہ بجائے اس کے کہ آپ کو دیکھ کر یہ لوگ خوشی و مسرت میں ڈوب جاتے اور آپ کی پیش فرمودہ تعلیمات مقدسہ کو صدق دل سے اپنا کر، اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی اور فوز و فلاح کا سامان کرتے۔ یہ الٹا آپ ﷺ کا مذاق اڑا کر اپنے کفر کی سیاہی اور بدبختی کو اور پکا کرتے اور اپنے لئے دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ میں اضافہ کرتے ہیں۔ اور ان کو اس امر کا احساس و شعور تک نہیں کہ اس طرح یہ لوگ اپنے لئے کس قدر خسارے کا سودا کرتے ہیں۔ سو یہی حال ہوتا ہے حق اور اہل حق سے بغض وعناد اور ہٹ دھرمی کا کہ اس سے انسان کا دل سیاہ اور اس کی عقل ماؤف ہوجاتی ہے اور اس کی مت اس طرح مار کر رکھ دی جاتی ہے کہ اس کو خود اپنے نفع و نقصان کی تمیز بھی نہیں رہتی۔ اور اس کا حال بد سے بدتر ہوتا چلا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اہل کفر و باطل کا اہل حق کے ساتھ ہمیشہ اسی طرح کا معاملہ رہا۔ یعنی ایسے لوگ اہل حق اور انکے ذریعے پہنچنے والے پیغام حق و ہدایت کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ اور آج کے اس دور میں جبکہ مادی ترقی اور ملحدانہ فلسفہ اپنے عروج پر ہے ان لوگوں کے طنز و مذاق اور طعن وتشنیع نے طرح طرح کی اور نت نئی صورتیں اختیار کرلی ہیں۔ قسما قسم کی فلمیں، ڈرامے اور کارٹون بنا کر یہ لوگ حق اور اہل حق کا مذاق اڑا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 47 مشرکوں کی مشرکانہ حمیت کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے مشرکوں کے اپنے خود ساختہ معبودوں کے لیے غیرت مندی اور مشرکانہ حمیت کا ایک مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے۔ سو یہ لوگ پیغمبر کے لیے کہتے ہیں کہ کیا یہی صاحب ہمارے معبودوں کا نام لیتے ہیں ؟۔ اور ان کی مذمت و برائی کرتے ان کو مشکل کشا و حاجت روا ماننے سے انکار کرتے ہیں۔ اور ان کو یہ بےحقیقت قرار دیتے ہیں اور ان کی پوجا پاٹ کو یہ شرک قرار دیتے اور دوزخی بتاتے ہیں۔ اور اپنے لیے خدا کا رسول ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ کیا خدا نے انہی کو رسول بنا کر بھیجنا تھا ۔ { واذا راوک ان یتخذونک الا ہزوا، اہذ الذی بعث اللہ رسولا } ۔ (الفرقان : 41) ۔ سو اس سے مشرکوں اور بت پرستوں کے ان کے اپنے من گھڑت اور خود ساختہ معبودوں کے لیے غیرت مندی اور مشرکانہ حمیت کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے کہ یہ لوگ پیغمبر کو دیکھتے ہی ان کا مذاق اڑاتے اور تحقیر و نفرت کے انداز میں کہتے ہیں کہ کیا یہی ہیں وہ صاحب جو تمہارے معبودوں کا مذاق اڑاتے اور ان کو برا کہتے ہیں۔ اور ۔ { یَذْکُرُ اٰلِہَتَکُمْ } ۔ میں ضمیر خطاب اپنے عوام کو بھڑکانے کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ یعنی یوں نہیں کہتے کہ یہ ہمارے معبودوں کی برائی کرتا ہے۔ بلکہ یوں کہتے ہیں کہ یہ صاحب تمہارے معبودوں کے خلاف اس گستاخی کا ارتکاب کرتے ہیں۔ سو ان دونوں اسلوبوں کے درمیان بلاغت کے لحاظ سے بڑا فرق ہے۔ 48 مشرکوں کی خدائے رحمان کے بارے میں بےحسی : سو اس سے مشرکوں کی خدائے رحمان کے بارے میں بےحسی اور بےغیرتی کا ایک نمونہ و مظہر سامنے آتا ہے۔ اپنے من گھڑت اور خود ساختہ معبودوں کے بارے میں تو یہ اتنے غیرت مند اور پرجوش ہیں لیکن معبود حقیقی یعنی خدائے رحمن کے ذکر کے ساتھ یہ کفر کرتے ہیں۔ اور ان کو اس کا احساس تک نہیں کہ جس خدائے رحمان کی گوناں گوں کی رحمتوں میں یہ سرتاپا ڈوبے ہوئے ہیں اس کے ساتھ کفر و انکار کرکے یہ کتنے بڑے ظلم اور کس قدر ہولناک جرم کا ارتکاب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ انسان جب راہ حق و ہدایت سے منہ موڑ لیتا ہے تو وہ کتنا اندھا اور اوندھا ہوجاتا ہے اور کس قدر بدل جاتا ہے۔ اور کتنا ناشکرا بن جاتا ہے۔ اپنے خود ساختہ اور بےحقیقت بتوں کا تو اس کو اس قدر خیال ہوتا ہے کہ ان سے متعلق بیان حقیقت اور اظہار واقع کو بھی وہ ان کے حق میں گستاخی اور بےادبی قرار دیتا ہے مگر جس خدائے رحمن کی رحمتوں میں یہ انسان سرتاپا ڈوبا ہوا ہے اس کی اس کو پرواہ تک نہیں۔ بلکہ اس کے حق میں یہ کفر و ناشکری کا مرتکب ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اسی مہلک بیماری کے جراثیم آج کے کلمہ گو مشرکوں میں بھی آپ کو جگہ جگہ اور طرح طرح سے نظر آئیں گے۔ مثلاً یہ کہ ایسے لوگ مسجدوں میں جو کہ اللہ تعالیٰ کے گھر ہیں اور یہ خود بھی ان کو ایسا ہی جانتے اور مانتے ہیں، وہاں تو ایسے لوگ اپنے جوتے اپنے ہاتھوں میں اٹھائے صف اول تک بھی لے جائیں گے، مگر کسی قبر یا آستانے کا جب معاملہ آئے گا تو جوتے دور اتار کر رکھ لیں گے اور ننگے قدم تک چلیں گے۔ اور ایسے لوگ مسجدوں کے پاس سے ایسے لوگ گاتے بجاتے بےفکری و لاپرواہی سے گزر جائیں گے مگر جب کس قبر وغیرہ کے پاس سے گزریں گے تو سب کچھ یہ بند کردیں گے اور اپنے ہاتھوں اور اشاروں سے قبر کو سلام کرتے ہوئے وہاں سے گزریں گے۔ کوئی بندہ خدا اگر خالص توحید بیان کرے گا تو ان لوگوں کو برا لگے گا اور یہ اس پر طرح طرح کے الزامات عائد کریں گے۔ اور اگر وہ شرک اور شرکیات سے روکے گا تو اس کے خلاف یہ ہنگامہ کھڑا کردیں گے کہ یہ شخص بزرگوں کا منکر اور ان کی توہین کا مرتکب ہے وغیرہ وغیرہ۔ اور اپنے شرک و شرکیات اور قبروں آستانوں پر اپنی سجدہ ریزی کے جواز کے لئے دلائل تک پیش کرنے کی تگ و دو میں لگ جائیں گے۔ سو کیسی مشابہت ہے کل کے ان کھلے مشرکوں اور آج کے ان کلمہ گو مشرکوں کے درمیان ؟- { تَشَابَہَتْ قُلُوْبُہُمْ } ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 21:37–38

خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ١ؕ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ Open ayah 21:37 in the Quran reader

انسان کی جلد بازی کا یہ عالم ہے کہ گویا اس کا خمیر ہی جلد بازی سے بنایا گیا ہے تو اے جلد باز منکرو ! میں عنقریب ہی وقت آنے پر تم کو دکھا دوں گا اپنی نشانیاں، پس تم مجھ سے جلدی مت مچاؤ۔2

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 21:38 in the Quran reader

اور کہتے ہیں کہ آخر کب پوری ہوگی تمہاری یہ دھمکی اگر تم سچے ہو !

49 انسان بڑا جلدباز واقع ہوا ہے : اسی لئے وہ عذاب کے لئے بھی جلد بازی سے کام لیتا ہے اور کہتا ہے کہ وہ عذاب جس سے ہمیں ڈرایا جاتا ہے فوراً آ کیوں نہیں جاتا۔ حالانکہ اللہ پاک کا معاملہ تو سراسر حکمت پر مبنی اور رحمت بھرا ہوتا ہے۔ وہاں جلد بازی کا کوئی مقام نہیں۔ ہر چیز کے لئے اس کے یہاں ایک خاص پیمانہ ہے ۔ { کُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہ بِمِقْدَار } ۔ (الرعد : 8) ۔ اور اس کا پیمانہ بھی بندوں کے پیمانوں سے کہیں بڑا اور بہت بڑا ہے۔ اس کے یہاں کا ایک دن ہمارے یہاں کے ایک ہزار سال کے برابر ہوتا ہے۔ چناچہ ارشاد ربانی ہے ۔ { وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّکَ کَاْلْفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ } ۔ (الحج : 47) ۔ سو اس کے یہاں اس کے متمرد و سرکش بندوں کے عذاب کا بھی ایک خاص وقت مقرر ہے۔ ورنہ ان لوگوں پر اس کا عذاب کبھی آچکا ہوتا۔ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَلَوْلَا کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رِّبِّکَ لَکَانَ لِزَامًا وَّاَجَلٌ مُّسَمّٰی } ۔ (طہٰ : 129) ۔ والعیاذ باللہ من کل زیغ و انحراف ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔ 50 پس تم لوگ عذاب کیلئے جلدی مت مچاؤ : بلکہ دنیاوی زندگی کی اس فرصت کو جو آج تمہیں دستیاب و میسر ہے اس کو غنیمت سمجھ کر اس عذاب سے بچنے کی فکر کرو کہ حیات دنیا کی یہ فرصت مستعار ہاتھ سے نکلنے کے بعد پھر کبھی اور کسی بھی قیمت پر دوبارہ ملنے والی نہیں۔ سو عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس عذاب سے بچنے کی فکر کرے اور فرصت حیات کو آخرت کی تیاری کیلئے غنیمت جانے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے ان جلد بازوں کی طرف سے عذاب کے لیے مچائی جانے والی جلد بازی کا جواب دیا گیا اور واضح فرمایا گیا کہ یہ تاخیر خداوند قدوس کی رحمت و عنایت کی بنا پر ہو رہی ہے۔ وہ رحمان و رحیم چاہتا ہے کہ جو لوگ اس فرصت سے فائدہ اٹھانا چاہیں وہ فائدہ اٹھا کر توبہ و اصلاح کرلیں اور انابت و رجوع الی اللہ کے ذریعے اپنی دنیا و آخرت سنوار لیں اور ہمیشہ کے عذاب اور دائمی رسوائی سے بچ جائیں۔ مگر یہ عقل کے اندھے اور مت کے مارے ایسے بدبخت ہیں کہ اس فرصت سے فائدہ اٹھانے کی بجائے عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور عافیت کی بجائے عذاب مانگتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کی ہر شکل سے محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 21:39

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

اگر کسی طرح جان لیتے کافر لوگ اس ہولناک وقت کو کہ جب یہ دوزخ کی لپکیں مارتی ہوئی اس آگ کو نہ روک سکیں گے نہ اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ہی ان کی کہیں سے کوئی مدد کی جائے گی تو ان کا حال کچھ اور ہی ہوتا

51 دولت ایمان و یقین سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ ایمان و یقین اور خاص کر آخرت کا ایمان و یقین دارین کی سعادت و سرخروئی کی اصل بنیاد ہے۔ اگر آخرت کا ایمان و یقین ان لوگوں کو ہوتا اور وہاں کے حال سے یہ کسی قدر واقف و آگاہ ہوتے تو ان کا حال یقینا اس سے یکسر مختلف ہوتا۔ یعنی " لو " شرطیہ کی جزاء یہاں پر محذوف ہے جو کہ بلاغت کا تقاضا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ کفار چونکہ آخرت کی سزا و جزاء پر ایمان نہیں رکھتے اس لئے اپنی غفلت و بیخبر ی اور لاپرواہی کی بناء پر یہ اس طرح کے سوال کرتے اور ایسی بےمقصد و لایعنی زندگی گزارتے ہیں۔ ورنہ اگر آخرت کے اس ہولناک دن اور وہاں کے عذاب کا کسی بھی قدر ان کو کوئی علم و اندازہ ہوجائے تو ان کی زندگی کے اطوار یکسر بدل جائیں۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ ایمان بالآخرۃ زندگی کی اصلاح کے لئے سب سے اہم اساس و بنیاد ہے اور اس سے محرومی ہر خیر سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور یہ ایک ظاہر بات ہے۔ کیونکہ آخرت کے ایمان و یقین سے محرومی کے بعد انسان کی زندگی بےمقصد اور لایعنی ہو کر رہ جاتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر ان کافروں کو اس وقت کا کچھ اندازہ ہوجاتا جبکہ آتش دوزخ ان کو ہر طرف سے اپنے گھیرے میں لیے ہوگی اور ان کی بےبسی کا حال یہ ہوگا کہ یہ نہ اس کو آگے سے دور کرسکیں گے نہ پیچھے سے اور نہ ان کے حمایتی اور خود ساختہ حاجت رواؤں اور مشکل کشاؤں کی طرف سے ان کی کوئی مدد ہو سکے گی اور نہ ان کی وہ پارٹی اور جمعیت ان کی کچھ کام آسکے گی جس پر انکو بڑا ناز ہے اور نہ ان کے ان خود ساختہ معبودوں اور شرکاء میں سے کوئی ان کا سہارا بن سکے گا جن پر آج یہ لوگ تکیہ کیے ہوئے ہیں۔ اگر یہ اس حال کو جان لیتے اور اس کا ان کو کچھ بھی اندازہ ہوتا تو ان کے لچھن یہ نہ ہوتے اور ان کا حال کچھ اور ہی ہوتا۔ کاش کہ یہ لوگ اس حقیقت کو جان لیتے اور یہ راہ راست پر آجاتے۔
Ayah 21:40

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

اور معاملہ کچھ ان کی فرمائش اور جلد بازی پر موقوف نہیں بلکہ وہ گھڑی تو ان پر اس طرح اچانک آپہنچے گی کہ ان کے ہوش اڑا کر رکھ دے گی پھر ان کو نہ تو اس کے لوٹا دینے کا یارا ہوگا اور نہ ہی ان کو کوئی مہلت ہی مل سکے گی3

52 قیامت بالکل اچانک آئے گی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کی وہ ہولناک گھڑی اچانک آپہنچے گی اور اپنے وقت پر اس نے بہرحال آ کر رہنا ہے۔ خواہ کوئی مانے یا نہ مانے۔ چاہے یا نہ چاہے۔ سو اس وقت ان لوگوں کا حال بہت برا ہوگا جنہوں نے زندگی بھر اس کا انکار کیا ہوگا۔ ایسے لوگوں کے ہوش اس وقت اڑ جائیں گے اور ان کی حسرت و مایوسی کی کوئی حد و انتہاء نہ رہے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور کسی کو پتہ نہیں کہ وہ ہولناک گھڑی کب اور کس حال میں آئیگی۔ کیونکہ وہ بالکل اچانک آئے گی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَا تَاْتِیْکُمْ الاَّ بَغْتَۃً } ۔ (الاعراف : 87) ۔ اور پھر کفار و منکرین تو چونکہ اس کو مانتے ہی نہیں اس لیے ان کے لیے وہ جب بھی آئیگی بالکل اچانک ہی آئیگی اور ایسی اچانک کہ ان کے ہوش اڑا کر رکھ دے گی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ وہ کہیں وقت بتا کر نہیں آئے گی بلکہ ایسی اچانک آئے گی کہ کسی کو اس کا کوئی اندازہ اور احساس تک نہ ہوگا جیسا کہ دنیا میں زلزلے آتے ہیں تو کہیں وقت بتا کر نہیں آتے بلکہ دن رات کے کسی بھی حصے میں اور کسی بھی حال میں آجاتے ہیں۔ جیسا کہ سورة اعراف کی آیت نمبر 97 تا 99 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ اس لیے عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اس کا وقت پوچھنے کی بجائے اس کے لیے تیاری کی جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 53 منکرین کیلئے پھر کوئی مہلت ممکن نہ ہوگی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ قیامت کی وہ گھڑی جب آپہنچے گی تو ان کے ہوش اڑا کر رکھ دے گی۔ پھر نہ تو ان لوگوں کے لیے اس کو لوٹا دینے کا یارا ہوگا اور نہ ہی ان کو کوئی مہلت ہی مل سکے گی۔ تاکہ یہ توبہ و اعتذار کا کوئی سامان کرسکیں بلکہ پھر تو انکو دائمی عذاب میں رہنا ہوگا۔ سو کیسے شقی و بدبخت ہیں یہ لوگ کہ دنیاوی زندگی کی اس قیمتی فرصت میں آخرت کے اس دائمی عذاب سے بچنے کی فکر و کوشش کرنے کی بجائے یہ الٹا اس کے آنے کے لئے جلدی مچاتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کفر و انکار کی ظلمت انسان کو کس قدر اندھا، بہرا اور کتنا غیر ذمہ دار اور لاپرواہ بنا دیتی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ وہ اپنے وقت پر بالکل اچانک آدھمکے گی۔ پھر یہ نہ اس کو ٹال سکیں گے اور نہ ہی انکے لیے کسی طرح کی کوئی مہلت ممکن ہوگی کہ یہ توبہ و اصلاح کرسکیں۔ سو ایسوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور فرصت حیات کو غنیمت سمجھ کر اپنی اصلاح کر لینی چاہیے قبل اس سے کہ وہ ان کے ہاتھ سے نکل جائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل -
Ayah 21:41

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ! آپ ان کی ٹھٹھا بازی سے دلگیر نہ ہوں کیونکہ یقینی طور پر آپ سے پہلے رسولوں کا بھی مذاق اڑایا گیا مگر انجام کار ان میں سے ان لوگوں کا جو مذاق اڑایا کرتے تھے گھیر لیا اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے1

54 اہل باطل کی طرف سے اہل حق کا مذاق و استہزاء : سو اہل باطل کی طرف سے اہل حق کا ہمیشہ ہی مذاق اڑایا گیا۔ یہاں تک کہ حضرات انبیاء و رسل کا بھی مذاق اڑایا گیا۔ تو آج کے ان فرزندان کفر و باطل کا یہ طریقہ و وطیرہ کوئی نئی اور انوکھی چیز نہیں بلکہ پہلے سے ایسا ہوتا آیا ہے۔ مگر اس کا وبال خود ان ہی پر پڑے گا۔ جیسا کہ ان سے پہلوں کے ساتھ ہوچکا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس اس ارشاد ربانی میں ایک طرف تو آنحضرت ۔ ﷺ ۔ کے لئے اور پھر آپ ﷺ کے واسطے سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کے لئے تسلی کا بڑا سامان ہے اور دوسری طرف اس میں منکرین و مکذبینِ حق کیلئے سخت تنبیہ و تذکیر بھی کہ وہ حق اور اہل حق سے مذاق اور استہزاء سے باز آجائیں اور اپنے احوال واطوار کی اصلاح کرلیں کہ حق اور اہل حق سے مذاق و استہزاء کا انجام بہت ہی برا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور اس کا نتیجہ بڑا ہولناک ہوتا ہے جیسا کہ اگلے حاشیے میں آ رہا ہے ۔ اللہ تعالیٰ ایسی ہر برائی اور اس کے ہر شائبے سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 55 حق سے مذاق اڑانے کا انجام نہایت برا ۔ والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق اور اہل حق سے مذاق و استہزاء کا انجام بہرحال بہت برا ہے جو ان کو بہرحال بھگتنا ہوگا۔ سو اس سے پہلے جن لوگوں نے حق کا مذاق اڑایا آخرکار ان کو گھیر لیا اسی چیز نے جس کا وہ مذاق اڑایا کرتے تھے۔ پس اس میں درس عبرت ہے دور حاضر کے ان کفار ناہنجاز کے لئے جو حق اور اہل حق کا مذاق اڑاتے ہیں کہ وہ اس سے سبق لیں اور اپنی اس روش بد سے باز آجائیں۔ ورنہ جو انجام ان کے ان بڑوں اور پیش رؤوں کا ہوچکا ہے وہ ان کا بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کیلئے یکساں اور ایک برابر ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حق اور اہل حق کا مذاق اڑانے والوں کا انجام بڑا ہی برا اور نہایت ہی ہولناک ہے۔ اور ربِّ رحمن اپنی رحمت بےپایاں سے جو ایسے بدبختوں کو ڈھیل دے رہا ہے اس سے ان کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے بلکہ اس کی طرف سے ملنے والی اس فرصت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے حال اور اپنی روش کی اصلاح کرلینی چاہیئے قبل اس سے کہ اس کا ہولناک انجام انکو اپنی گرفت میں لے لے۔ کیونکہ برائی کا برا انجام ایسے لوگوں کو بہرحال بھگتنا ہوگا ۔ { وَلاَ یَحِیْقُ الْمَکْرَ السَّیِّئُ الاَّ بِاَہْلِہ } (فاطر :43) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 21:42

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

اور ان بےانصافوں سے یہ تو پوچھو کہ بھلا کون ہے وہ جو رات اور دن تمہاری حفاظت کرتا ہے خدائے رحمان سے سوائے اسی کی رحمت و عنایت کے ؟ مگر یہ ہیں کہ اس کی احسان مندی وشکر گزاری کے بجائے اپنے رب کی یاد سے منہ موڑے ہوئے ہیں2

56 خدائے رحمان کی گرفت و پکڑ سے کوئی بھی نہیں بچا سکتا : سو استفہام تنبیہ و توبیخ کے طور پر فرمایا گیا۔ " بھلا کون ہے جو خدائے رحمن سے تمہاری حفاظت کرسکے ؟ "۔ اور اس کی پکڑ اور عذاب سے تمہیں بچا سکے ؟ ظاہر ہے کہ کوئی بھی ایسا نہیں سوائے اس کی رحمت بیکراں کے۔ تو پھر یہ کس قدر ظلم اور کتنی بڑی ناانصافی ہے کہ انسان اسی خدائے رحمن اور اس کی عبودیت اور عبادت و بندگی سے منہ موڑے جس کی رحمت و عنایت میں یہ سرتاپا ڈوبا ہوا ہے ؟ سو یہ سوال تقریع و توبیخ اور ان لوگوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑنے کیلئے ہے کہ جس خدائے رحمن کی رحمتوں میں تم لوگ سر تا پا ڈوبے ہوئے ہو اور جو محض اپنی رحمت و عنایت سے تمہیں ایسے تمام حوادث سے محفوظ رکھتا ہے تو اس سے منہ موڑنا اور غفلت و اعراض برتنا کتنا ظلم اور کس قدر بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ (محاسن التاویل، معارف، صفوہ اور فتح وغیرہ) ۔ 57 رب کی یاد سے اعراض و روگردانی باعث ہلاکت و تباہی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا اور ان لوگوں کے اصل مرض کی تشخیص کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ اپنے رب کی یاد سے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ نہ اس کی رحمتوں اور عنایتوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور نہ ہی اس کا حقِّ شکر ادا کرنے کی کوئی فکر و کوشش کرتے ہیں۔ بلکہ اس سے بڑھ کر یہ کہ یہ اس ظلم و بےانصافی کا ارتکاب کرتے ہیں کہ خدائے رحمن کی بخشی ہوئی ان طرح طرح کی نعمتوں کو اس کے سوا دوسری فرضی، وہمی ہستیوں اور خود ساختہ سرکاروں کی طرف منسوب کرتے اور انہی کے آگے جھکتے، ان کے نام جپتے، ان کے ناموں کی نذریں مانتے، نیازیں دیتے اور چڑھاوے چڑھاتے ہیں وغیرہ وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور پھر یہ اسی وحدہ لاشریک کی شان حلم و کرم ہے کہ اس سب کے باوجود اس نے ایسے لوگوں کو چھوٹ دے رکھی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ جو عذ 1 بِ الہی کے لیے اس قدر جلد بازی سے کام لے رہے ہیں ان سے پوچھو کہ اگر خدائے رحمان کا عذاب ان پر رات یا دن کے کسی بھی حصے میں آجائے تو پھر کون ہے جو ان کو اس کے اس عذاب اور اس کی گرفت و پکڑ سے بچا سکے ؟ تو پھر یہ لوگ آخر کس طرح اور کس بل بوتے پر اس کے عذاب کا اس جلد بازی اور بےفکری و لاپرواہی سے مطالبہ کر رہے ہیں۔ سو ایسی کوئی بھی بات نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ خداوند قدوس کی یاد دلشاد سے منہ موڑ کر غفلت و لاپرواہی کے ہولناک گڑھے میں گرے جا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 21:43

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے اور کچھ ایسے معبود ہیں ہمارے سوا جو ان کو بچائیں گے ہماری گرفت پکڑ سے ؟ اور بےچارے ان کو کیا بچائیں گے وہ تو خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان کو ہماری طرف سے کوئی تائید مل سکتی ہے

58 مشرکوں کے خود ساختہ معبودوں کی بےبسی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور یہ ان کے خودساختہ معبود تو خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے "۔ کہ وہ سراسر عاجز و بےبس اور بےجان ہیں۔ لکڑی پتھر وغیرہ کے بتوں میں تو سرے سے اس کی کوئی اہلیت اور صلاحیت ہی نہیں۔ اور قبروں میں دفن شدہ ہستیاں زندگی میں اگرچہ دعاء وغیرہ اسباب کے ذریعے کچھ کام آسکتی تھیں مگر اب ان کے بس میں یہ بھی نہیں رہا۔ تو اللہ پاک کے عذاب سے بچانے والا اس کی اپنی رحمت کے سوا اور کون ہوسکتا ہے ؟ سو جن لوگوں نے اپنے ایسے خودساختہ اور بےحقیقت معبودوں کے سہارے اس خدائے رحمن سے منہ موڑا ہے وہ بڑے ہی خسارے میں ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ یہ لوگ تو اپنے ان خود ساختہ اور من گھڑت معبودوں کو بہت کچھ بلکہ سب کچھ سمجھتے ہیں لیکن ان کی بےبسی کا عالم یہ ہے کہ وہ خود اپنی مدد بھی نہیں کرسکتے۔ چہ جائے کہ کسی دوسرے کی مدد کریں۔ سو مدد اللہ تعالیٰ ہی کی مدد ہے۔ اسی لیے حضرت رسول اکرم ﷺ نے صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا کہ " جب تمہیں سوال کرنا ہو تو اللہ ہی سے کرو اور جب تمہیں مدد مانگنا ہو تو اللہ ہی سے مانگو "۔ " اذا سالت فاسأل اللہ واذا استعنت فاستعن باللہ "۔ اور اسباب کے درجے میں اگر کسی اور سے مدد مانگی جائے تو اس کی اجازت ہے کہ یہ دنیا ہے ہی دار الاسباب لیکن ما فوق الاسباب اللہ کے سوا کسی اور سے مانگنا شرک ہوگا جو کہ کبیرہ گناہ بلکہ اکبر الکبائر ہے ۔ والعیاذ باللہ - 59 مشرک کو اللہ کی پناہ نہیں مل سکتی : کہ وہ اللہ کا باغی اور سرکش ہے۔ اس لیے اس کو اللہ کی طرف سے کوئی پناہ نہیں مل سکتی ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور نہ ہی ان کو ہماری طرف سے کوئی تائید اور پناہ مل سکتی ہے "۔ یعنی نہ ہماری طرف سے ان کو کوئی پناہ ملے گی اور نہ پناہ دہندہ۔ پھر یہ کسی کی کوئی مدد کیسے کرسکتے ہیں ؟ سو ایسے عاجزوں اور بےبسوں کو معبود قرار دینا اور ان کے آگے جھکنا اور ذلیل ہونا کس قدر حماقت و جہالت اور کتنا بڑا ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو { یَصْحَبُوْنَ } یہاں پر " یُجَارُوْنَ " کے معنی میں ہے کہ یہ لفظ اسی معنیٰ میں استعمال ہوتا ہے۔ چناچہ عرب کہتے ہیں " صبحک اللہ " تو اس سے ان کی مراد ہوتی ہے، " اَجَارَکَ اللّٰہُ وَسَلَّمَکَ " ( ابن جریر، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ سو مشرکوں کے ان خود ساختہ اور من گھڑت معبودوں کو جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی جوار اور پناہ حاصل نہیں تو یہ اللہ کے عذاب سے بچانے کے کام کس طرح آسکتے ہیں۔
Ayahs 21:44–46

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

ان میں سے کوئی وجہ بھی نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم زندگی کا سازو سامان دیتے رہے ان لوگوں کو بھی اور ان کے باپ دادا کو بھی اپنی رحمت و عنایت سے یہاں تک کہ ان پر ایک زمانہ گزر گیا اور یہ مست ہوگئے مگر کیا انھیں یہ نظر نہیں آرہا کہ ہم کم کرتے چلے رہے زمین کو اس کی مختلف سمتوں سے تو کیا یہ لوگ پھر بھی غالب آجائیں گے حق کے مقابلے میں ؟

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

ان سے صاف کہہ دو کہ میرا کام تو بس یہ ہے کہ میں تم کو خبردار کردوں تمہارے انجام سے وحی کی روشنی کے ساتھ مگر بہرے پکار کو نہیں سنا کرتے جب کہ ان کو خبردار کیا جائے مخاف و خطرات سے3

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

ان کی بڑکیں تو یہ ہیں مگر ان کی بلند ہمتی کا حال یہ ہے کہ اگر ان کو تیرے رب کے عذاب کا ایک جھونکا بھی چھو جائے تو یہ چیخ اٹھیں کہ ہائے ہماری کم بختی بیشک ہم لوگ ظالم تھے4

60 منکرین و مکذبین کے اعراض و استکبار کی اصل وجہ : سو اس سے منکرین و مکذبین کے اعراض و استکبار کی اصل وجہ کو واضح فرما دیا گیا کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی شان حلم و کرم اور اس کے امہال سے دھوکے میں پڑگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اللہ تعالیٰ کی شان کرم و حلم کو بھول کر یہ لوگ یہ سمجھ بیٹھے کہ یہ سب کچھ ہمارا حق ہے جو ہمیں اپنی محنت و قابلیت سے ملا ہے۔ اور یہ ہمارے پاس ہمیشہ اور ایسے ہی رہے گا ۔ { یَحْسَبُ اَنَّ مَالَہُ اَخْلَدَہُ } ۔ اور اس طرح یہ لوگ اپنے خالق ومالک اور اس کے حقِّ بندگی سے غافل ہو کر یہ لوگ راہ حق سے بھٹک گئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو دنیاوی ساز و سامان اور مال و متاع سے مست و مغرور ہونے کی بجائے اس کو اللہ تعالیٰ کا عطیہ و احسان اور ذریعہ امتحان سمجھ کر اپنے خالق ومالک کا دل و جان سے شکر ادا کرنا چاہیئے تاکہ اس طرح یہ مال و دولت سعادت دارین کا ذریعہ و وسیلہ بن جائے ۔ وباللہ التوفیق ۔ بہرکیف اس ارشاد سے منکرین و مکذبین کے اعراض و انکار کے اصل سبب کو آشکارا فرما دیا گیا کہ یہ لوگ خود اور ان کے باپ دادا ایک طویل عرصے تک اللہ کی نعمتوں سے بہرہ مند و سرشار ہوتے رہے جس کے نتیجے میں ان کے دل سخت اور سیاہ ہوگئے اور یہ لوگ بجائے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کے الٹا اس گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے کہ یہ سب کچھ ان کا حق اور ان کے باپ دادا کی میراث ہے۔ اور یہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے اور ایسی ہی مزے کرتے رہیں گے۔ اور اس طرح یہ لوگ قساوت قلبی میں مبتلا ہو کر نور حق و ہدایت سے محروم اور ہمیشہ کے خسارے میں مبتلا ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ فکر وعمل کی ہر کجی سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔ 61 منکرین قدرت کے شکنجہ گرفت میں : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو کم کرتے چلے آرہے ہیں اس کی مختلف سمتوں سے "۔ اہل حق کو فتح و غلبہ دے کر۔ جیسا کہ مدنی دور میں صحابہ کرام کو نصیب ہوا۔ اسی لئے اس آیت کریمہ کے بارے میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ مدنی ہے۔ بہرکیف اس میں فرمایا گیا کہ کس طرح ہم نے اس زمین کے مختلف حصوں کو فتوحات کے ذریعے مسلمانوں کو دے دیا اور پھر ان مختلف حصوں پر مسلمانوں کو قابض کردیا۔ یہاں تک کہ مکہ کے آس پاس کے سب علاقے مسلمانوں کے زیر نگیں ہوگئے۔ (المراغی، المحاسن وغیرہ) ۔ اور اس کے علاوہ اسلام اپنی صداقت و حقانیت کی بنا پر دنیا میں پھیلتا اور لوگوں کے دل و دماغ میں اترتا اور ان کو مسخر کرتا جا رہا ہے۔ آج تک ایسے ہی ہے اور قیامت تک ایسے ہی رہے گا ۔ انشاء اللہ ۔ کہ حق بہرحال یہی اور صرف یہی ہے۔ 62 کیا پھر بھی یہ لوگ غالب آئیں گے : یہ استفہام توبیخ و انکار کے لئے ہے کہ ایسی صورت میں ان منکروں کو غلبہ نصیب نہیں ہوگا بلکہ یہ اور بھی ذلیل و خوار ہوں گے۔ تو پھر یہ لوگ اس امر واقعہ کو کیوں نہیں سمجھتے اور عقل و ہوش کے ناخن کیوں نہیں لیتے ؟ سو ان کو اپنے ایسے ہر زعم و فاسد سے توبہ کرکے حق کی طرف رجوع کرنا چاہیئے قبل اس سے کہ فرصت حیات ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور ان کو ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف ان لوگوں کے ضمیروں کو جھنجھوڑتے اور ان پر دستک دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ ان قرائن و شواہد کو دیکھتے ہوئے بھی اس زعم فاسد میں مبتلا ہیں کہ غلبہ انہی کا ہے ؟ تو کیا یہ لوگ سوچتے اور غور وفکر سے کام نہیں لیتے کہ ان قرائن اور شواہد کی موجودگی میں غلبہ ان کا ہوگا یا علمبرداران حق کا ؟
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور ہم قیامت کے روز انصاف کے ایسے ترازو رکھیں گے کہ کسی بھی جان پر ذرہ برابر کوئی ظلم نہیں ہونے پائے گا اور اگر رائی کے دانے کے برابر بھی کسی کا کوئی عمل ہوگا تو ہم اس کو بھی لا حاضر کریں گے اور ہم کافی ہیں حساب لگانے والے۔1

65 قیامت کا قیام ظہور عدل کے لیے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قیامت کے روز کسی پر کوئی ظلم نہیں ہوگا " کہ نہ کسی کی کوئی نیکی کم کی جائے گی اور نہ کسی کے کھاتے میں کوئی ناکردہ برائی ڈالی جائے گی۔ بلکہ صحیح صحیح اور پورا پورا انصاف کیا جائے گا۔ اور ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لَا یُظُلَمُوْنَ } ۔ (آل عمران : 25) ۔ پس ہر کوئی اپنے بارے میں خود جائزہ لے اور دیکھ لے کہ اس نے کل کے اس یوم حساب کیلئے کیا سامان کر رکھا ہے۔ (الحشر : 18) ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ قیامت کا قیام و ظہور عدل کے لیے ہوگا۔ اسی لیے اس روز عدل کے ترازو نصب کیے جائیں گے تاکہ ہر کسی کو اس کے کیے کرائے کا صلہ و بدلہ کانٹے کے تول پر پورا پورا دیا جائے اور کسی سے کسی طرح کی کوئی زیادتی نہ ہونے پائے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید - 66 قیامت کے روز ہر کسی کو اس کے عمل کا پورا پورا بدلہ ملے گا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اگر کسی کا رائی کے دانے کے برابر بھی کوئی عمل ہوگا تو اس کو بھی حاضر کیا جائے گا "۔ تاکہ وہ اس کا بھی صلہ و بدلہ پا سکے۔ اور کسی کی کسی بھی طرح کی کوئی حق تلفی نہ ہونے پائے۔ اور ایسا کرنا اللہ پاک۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں کیونکہ کسی کا کوئی بھی عمل یا کوئی بھی چیز اس سے کسی بھی طرح مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی خواہ وہ کہیں آسمانوں کی بلندیوں میں پائی جاتی ہو یا زمین کی پستیوں میں کہیں مخفی و مستور ہو۔ اور اس کیلئے کسی بھی چیز کو حاضر کردینا کچھ بھی مشکل نہیں کہ اس کا معاملہ تو کاف اور نون کے درمیان ہے۔ یعنی اس کیلئے " کن " فرمایا اور وہ ہوگیا ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ لہذا وہ ہر کسی کے عمل کو اس روز حاضر کریگا تاکہ وہ اس کا بدلہ پاس کے۔ بہرکیف اس یوم حساب میں کانٹے کے تول پر ہر کسی کو اس کے ہر عمل کا پورا پورا صلہ و بدلہ دیا جائے گا۔ رائی کے دانے کے برابر بھی اگر کسی کا کوئی عمل ہوگا تو اس کو بھی اس روز حاضر کیا جائے گا ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید - 67 اور ہم کافی ہیں حساب لگانے والے : کہ ہمارا علم بھی کامل و لامحدود اور ہماری قدرت بھی کامل و لامحدود ہے۔ پس نہ کوئی ہمارے علم سے باہر ہوسکتا ہے اور نہ ہماری قدرت سے۔ سو اس ارشاد ربانی میں بڑی تنبیہ اور تذکیر ہے غافل انسانوں کے لئے ۔ فِایّاہُ نَسْاَلُ سُبَحَانَہ وَتَعَالٰی التّوفِیْقَ وَالسّدَادَ لِمَا یُحِبُّ وَیَرْضَی مِنَ الْقَوْلِ وَالْعَمَلِ فِی کُلِّ مَوْطِنٍ مِّنَ الْمَوَاطِنَ وَبِکُلِّ حَالٍ مِّنَ الاحوال ۔ پس اگر کوئی شخص دنیا میں اپنے کیے کرائے کے نتیجے اور اس کی پاداش سے بچ بھی گیا تو اس کو اس سے دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیئے کہ وہ آخرت کے اس جہان عدل و انصاف میں بہرحال اپنے کیے کرائے کے بھگتان سے نہیں بچ سکے گا۔ اور فرمایا گیا کہ ہم کافی ہیں حساب لینے کے لیے۔ ہمیں نہ کسی کی کسی طرح کی مدد و معاونت کی کوئی ضرورت ہوگی اور نہ کسی طرح کی مساعدت کی کوئی حاجت۔ بلکہ یہ سب کام ہم تنہا ہی انجام دیں گے۔ لہذا اگر کسی نے یہ گمان کر رکھا ہے کہ ساری مخلوق کا یہ حساب کتاب ہم کس طرح کریں گے تو یہ اس کے اپنے دماغ کی تنگی اور اس کا مغالطہ ہے۔ اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اس کے خود ساختہ اور من گھڑت شرکاء اور شفعاء کی ہمیں مدد درکار ہوگی تو یہ اس کے اپنے دماغ کی خرابی اور اس کا اپنا وہم ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayah 21:48

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم اس سے پہلے موسیٰ اور ہارون کو بھی حق اور باطل کے درمیان فیصلے کا وہ سامان دے چکے ہیں اور ایک عظیم الشان روشنی اور نصیحت بھی ان پرہیزگار لوگوں کے لئے

68 حضرت موسیٰ اور ہارون کے بعض اہم انعامات کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم نے موسیٰ اور ہارون کو بھی فرقان دیا۔ یعنی تورات۔ جو کہ اپنے دور میں حق وباطل، کفر و ایمان، حلال و حرام اور جائز و ناجائز کے درمیان فرق کرنے والی تھی۔ (ابن جریر، ابن کثیر، روح اور مراغی وغیرہ) ۔ اور جو کہ راہ حق و صواب کو واضح کرنے والی ایک عظیم الشان روشنی بھی تھی اور اہل ایمان وتقویٰ کے لئے ایک عظیم الشان ذکر اور نصیحت بھی۔ اور جو کہ اصل میں ملی تھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو۔ مگر حضرت ہارون بھی چونکہ ان کے نائب اور شریک کار تھے، اس لئے یہاں پر اس کی نسبت ان دونوں کی طرف کی گئی ہے اور اس کتاب سے جہالت وغوایت کے اندھیروں میں حق و ہدایت کی روشنی کی جانی تھی۔ بہرکیف اب یہاں سے حضرات انبیائے کرام کا تذکرہ شروع ہوتا ہے جس میں بڑے اہم درس ہائے عبرت و بصیرت ہیں اور اس سلسلے کا آغاز حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون کے ذکر سے فرمایا گیا ان کی امتیازی شان کی بناء پر۔ اور ان کو فرقان، ضیاء اور ذکر کی نعمتوں سے نوازنے اور ان سے سرفراز کرنے کا ذکر فرمایا گیا جو کہ راہ حق و ہدایت پر چلنے والوں کے لیے جلیل القدر انعامات اور عظیم الشان صفات ہیں۔ اور یہ تینوں صفتیں تورات کی ہیں۔ اور یہی شان ہر آسمانی کتاب کی ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ صفات قرآن حکیم کے لیے بھی کئی جگہ ذکر فرمائی گئی ہیں۔
Ayah 21:49

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے بن دیکھے اور ان کو کھٹکا لگا رہتا ہے قیامت کی اس ہولناک گھڑی کا

69 تقویٰ و پرہیزگاری وسیلہ نجات و سرفرازی : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ تقویٰ و پرہیزگاری سعادت دارین سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے۔ سو یہ ایک اہم اور بنیادی حقیقت ہے کہ تقویٰ و پرہیزگاری اور ایمان بالغیب دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کا ذریعہ و وسیلہ ہے کہ اس کتاب ہدایت سے فائدہ دراصل یہی لوگ اٹھا سکتے تھے۔ ورنہ اس کی ہدایت تو اپنے دور کے تمام ہی انسانوں کے لئے عام اور یکساں تھی۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ تقویٰ و پرہیزگاری اور ایمان بالغیب سب خوبیوں کی اصل اساس اور بنیاد ہے۔ اسی سے انسان انسان بنتا ہے اور اس کے اندر احساس ذمہ داری پیدا ہوتا ہے اور وہ بات کو غور اور توجہ سے سنتا اور اس پر کان دھرتا ہے۔ جبکہ اس سے محرومی کی صورت میں ۔ والعیاذ باللہ ۔ انسان ایک لاپرواہ اور غیر ذمہ دار انسان بن جاتا ہے اور وہ حق بات پر کان ہی نہیں دھرتا جس سے وہ محروم کا محروم رہ جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کتاب ہدایت کی تعلیم و تلقین سے مستفید و فیضیاب وہی لوگ ہوسکتے ہیں جن کے دل و دماغ ماؤف نہیں ہوئے اور ان کی عقل و فطرت کا نور بجھا نہیں۔ اور وہ اپنے دلوں کے اندر خدا کا خوف اور آخرت کا ڈر رکھتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayah 21:50

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ قرآن برکتوں بھرا ایک عظیم الشان ذکر ہے جسے ہم نے ہی اتارا ہے کیا پھر بھی تم لوگ اس کا انکار ہی کرتے ہو ؟2

70 قرآن حکیم کی منکروں کے دل و دماغ پر دستک : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا پھر بھی تم لوگ اس کا انکار ہی کرتے جاؤ گے ؟ " ۔ والعیاذ باللہ : اور اپنی محرومی کی اس روش پر تم لوگ پھر بھی اڑے ہی رہو گے ؟ جو کہ سب سے بڑی محرومی اور بدبختی ہے کہ اتنی بڑی اور اس قدرعظیم الشان نعمت کو اپنانا اور اس پر ایمان لانا دارین کی سعادت و سرخروئی کا ذریعہ ہے۔ اور اس سے منہ موڑنا سب سے بڑا خسارہ و نقصان اور تمام خرابیوں کی جڑ بنیاد ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ذکر سے منہ موڑتے ہو جو سراسر خیر و برکت اور ہدایت و نور ہے۔ اور اگر تم اس پر بھی ایمان نہیں لاؤ گے اور اس سے اعراض برتو گے تو پھر کس پر ایمان لاؤ گے ۔ { فَبِاَیِّ حَدِیْثٍ بَعْدَہُ یُؤمِنُوْنَ } ۔ بہرکیف اس ارشاد سے منکروں کے دل و دماغ پر دستک دیتے ہوئے ان سے فرمایا گیا کہ جس طرح حضرت موسیٰ کو تورات سے نوازا گیا تھا اسی طرح اب ہم نے آپ پر اے پیغمبر اس برکتوں بھری کتاب کو نازل فرمایا ہے۔ اور یہ اگرچہ باران رحمت کی طرح سراسر خیر و برکت ہے لیکن اس کی فیضباریوں سے مستفید و فیضیاب وہی لوگ ہوسکتے ہیں جن کے اندر اس کی صلاحیت موجود ہو۔ اور جن کے اندر یہ چیز نہیں ان کے لیے محرومی ہی محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 21:51–54

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور اس زمانہ موسوی سے پہلے ابراہیم کو بھی اس کی شان کے مطابق ہوش مندری عطا کرچکے تھے اور ہم اس کو خوب جانتے تھے

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

ان کا وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے کہ جب انہوں نے کفر و شرک کے ان گھٹا ٹوپ اندھیروں میں کلمہ حق بلند کرتے ہوئے اپنے مشرک باپ اور اس کی مشرک قوم سے کہا کہ کیا ہیں یہ بےجان مورتیاں جن کی پوچا و پرستش پر تم جمے بیٹھے ہو ؟

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

تو انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پوچا کرتے پایا تو ہم بھی اس میں لگ گئے

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

فرمایا کہ یقینا تم لوگ ایک کھلی گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہو تم بھی اور تمہارے یہ باپ دادا بھی

71 رشد و ہدایت میں حضرت ابراہیم کا خاص مرتبہ و مقام : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے اس سے پہلے ابراہیم کو بھی ان کی شان کے لائق رشد و ہدایت سے نوازا تھا اور ہم اس کو خوب جانتے تھے کہ وہ کن کن صلاحیتوں اور قابلیتوں کے مالک ہیں اور کیا کیا مکارم و محاسن ان کے وجود باجود کے اندر مخفی و مستور ہیں۔ اور وہ ہماری کن کن عنایتوں اور نوازشوں کے اہل اور مستحق ہیں۔ کیونکہ خالق سے مخلوق کی کوئی بھی حالت و کیفیت مخفی و مستور نہیں رہ سکتی ۔ { اَلاَ یَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَہُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ } ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت ابراہیم کو ہدایت و معرفت کے اس خاص درجہ و مرتبہ سے نوازا گیا تھا جو ان کے شایان شان تھا۔ ہدایت و معرفت کے درجات و مراتب مختلف ہیں۔ اللہ تعالیٰ جس کو بھی اس میں سے کوئی حصہ عطا فرماتا ہے وہ اس کی صلاحیتوں کو جانچ کر اس کے درجہ و مرتبہ کے مطابق عطا فرماتا ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayahs 21:55–56

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

(اس اعلان حق پر وہ لوگ تعجب میں ڈوب کر بولے) ابراہیم کیا تم سچ مچ یہ بات کہہ رہے ہو یا یوں ہی دل لگی کرنا مقصود ہے ؟

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

فرمایا دل لگی نہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تم سب کا رب وہی ہے جو کہ رب ہے آسمانوں اور زمین کی اس پوری کائنات کا جس نے پیدا فرمایا ہے ان سب کو اور میں ڈنکے کی چوٹ پر تمہارے سامنے اس بات کی گواہی دیتا ہوں3

74 اعلانِ حق سے مشرکوں کے اندر کھلبلی : سو حضرت ابراہیم کے اس اعلانِ حق سے مشرک قوم کے اندر بوکھلاہٹ اور کھلبلی مچ گئی۔ سو انہوں نے ابراہیم سے کہا کہ " تم دل لگی کرتے ہو جو اتنی بڑی بات کہہ رہے ہو " اور اپنے اور ہم سب کے آباؤ اجداد کو بھی گمراہ قرار دے رہے ہو ؟ سو یہ ہوتی ہے شان عقیدہ توحید کی۔ اور اس کے علمبردار صادق کی کہ تن تنہا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بغیر کسی لگی لپٹی کے بھرے مجمع میں ان سب کو گمراہ بلکہ گمراہی میں ڈوبا ہوا قرار دے دیا اور ڈنکے کی چوٹ اس کا صاف اعلان فرمایا دیا (علیہ الصلوۃ والسلام) اس سے وہ مشرک قوم اس طرح بوکھلا اٹھی اور انہوں نے حیرت زدہ ہو کر حضرت ابراہیم سے اس طرح پوچھا اور ان سے کہا کہ کیا تم سنجیدگی سے اور سچ مچ ایسی بات کہتے ہو یا یونہی دل لگی کر رہے ہو ؟ یعنی کیا یہ جوانی کی ترنگ اور لا ابالی کا نتیجہ ہے یا تم سچ مچ اور سنجیدگی سے ایسی بات کہہ رہے ہو ؟ کیونکہ یہ بات ان کے لیے بڑی ہی عجیب تھی۔
Ayah 21:57

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور اللہ کی قسم میں ضرور بالضرور خبر لے کر رہوں گا تمہارے ان بتوں کی اس کے بعد تم لوگ ان سے جا چکے ہو گے پیٹھ پھیر کر

77 حضرت ابراہیم کی طرف سے بت شکنی کا اعلان : سو آپ نے اس بارے قسم کھا کر ارشاد فرمایا " اور قسم ہے اللہ کی میں تمہارے ان جھوٹے معبودوں کی خبر لے کر رہوں گا جبکہ تم لوگ ان سے پیٹھ پھیر کر جا چکے ہوؤ گے "۔ تاکہ اس طرح ان کا بےحقیقت ہونا پوری طرح آشکارا ہوجائے۔ یہ بات یا تو حضرت ابراہیم نے اپنے دل میں کہی یا اتنی آہستہ کہی کہ وہ لوگ اس کو سن نہ سکے یا سن لینے کے باوجود انہوں نے اس کو قابل توجہ ہی نہ سمجھا۔ کہ اتنی بڑی جرات و جسارت کون کرسکتا ہے ؟ اس لیے انہوں نے اس کی پرواہ نہ کی۔ بہرکیف حضرت ابراہیم نے ان مشرکوں کے سامنے واضح لفظوں میں اعلانِ حق فرما دیا کہ میں موقعہ ملتے ہی تمہارے ان معبودوں کی خبر لے کر رہوں گا۔ اور پھر آپ نے عملی طور پر ایسا کر کے بھی دکھایا اور برائی کو اپنے ہاتھوں سے مٹا دیا جو کہ " فلیغیرہ بیدہ " کے ارشاد نبوی کے مطابق انکار منکر کا پہلا اور سب سے اہم اور بڑا ذریعہ ہے۔ سو آپ نے اپنے دست مبارک کی ضرب کاری سے ان کے ان تمام خود ساختہ اور من گھڑت معبودوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور اس طرح دست قدرت کا یہ معجزہ ظاہر ہوا کہ بت گر، بت پرست اور بت فروش باپ کے گھر میں ایسا بت شکن اور توحید کا علمبردار بیٹا پیدا ہوا جس نے قیامت تک آنے والی دنیا کی عبرت کے لیے درس توحید اور بت شکنی کے بےمثال اور انمٹ نقوش چھوڑے ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام ۔ اللہ تعالیٰ توحید کی علمبرداری اور شرک کے نشانوں کو مٹانے کی یہ سعادت ہمیں بھی نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayahs 21:58–60

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

چناچہ موقع ملتے ہی ابراہیم نے ٹکڑے ٹکڑے کرکے رکھ دیا ان سب کو سوائے ان کے ایک بڑے کے کہ اسے چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں1

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

میلے سے واپسی پر جب انہوں نے اپنے ان ٹھاکروں کی یہ درگت دیکھی تو انہوں نے کہا ہائے ہمارے ان خداؤں کا یہ حشر کس نے کیا ہے ؟ واقعی وہ بڑا ہی کوئی ظالم شخص ہے

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

ان میں سے بعض نے کہا کہ ہم نے ایک نوجوان کے بارے میں جس کو ابراہیم کہا جاتا ہے، یہ سنا ہے کہ وہ ان کی برائی کرتا رہتا ہے

78 مشرکوں کی تجہیل و تحمیق کے ایک اور معرکے کا انتظام : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حضرت ابراہیم نے موقعہ پاتے ہی ان کے ان تمام بتوں کو پاش پاش کردیا سوائے انکے بڑے کے۔ کہ اس کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور اس سے پوچھیں کہ یہ کیا بات ہے کہ یہ سب تو ٹوٹے پڑے ہیں اور تو صحیح سلامت ہے ؟ اور کلہاڑا بھی تو نے اٹھا رکھا ہے ؟۔ سو اس طرح ان بتوں کا عجز اور ان کی بےحقیقتی ان کے سامنے واضح ہوجائے گی۔ اور شاید اس طرح ان لوگوں کو راہ حق کی طرف رجوع نصیب ہوجائے۔ سو اس طرح حضرت ابراہیم نے ان مشرکوں کی تجہیل و تحمیق کے ایک موقعہ کا انتظام فرما دیا تاکہ ان کی جہالت اور حماقت سب کے سامنے اس طرح آشکارا ہوجائے کہ انکے لیے کسی انکار کی گنجائش باقی نہ رہے۔ کہ ان سے پوچھا جائے گا کہ تم لوگ خود اپنے ان ٹھاکروں سے پوچھ لو کہ تمہارا یہ حشر کس نے کیا ؟ تو اس کے جواب میں یہ لوگ یہی کہیں گے کہ یہ تو بول نہیں سکتے۔ تو اس موقع پر میں ان سے کہوں گا کہ تف ہے تم لوگوں پر بھی۔ اور تمہارے ان خود ساختہ اور من گھڑت معبودوں پر بھی جن کی پوجا پاٹ میں تم لگے ہوئے ہو۔ چناچہ بعد میں ویسے ہی ہوا۔ جیسا کہ آگے آ رہا ہے۔
Ayahs 21:61–62

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

کہنے لگے فوراً پکڑ لاؤ اسے ان سب لوگوں کے سامنے تاکہ یہ سب دیکھ لیں اس کے اس حشر اور انجام کو2

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

لانے کے بعد انہوں نے پوچھا ابراہیم کیا تم نے ہی ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ؟

79 ابراہیم کو سب لوگوں کے سامنے حاضر کرنے کا حکم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ابراہیم کا ذکر آنے پر انہوں نے کہا کہ لاؤ اس کو سب لوگوں کے سامنے تاکہ یہ سب دیکھ لیں۔ سو اس طرح علمبرداران کفر و شرک کی طرف سے حضرت ابراہیم کو سب لوگوں کے سامنے لانے کا حکم دے دیا گیا۔ سو مت کے مارے ان مشرکوں نے اپنے معبودوں کی اس درگت سے سبق لینے اور راہ حق و ہدایت کی طرف رجوع کرنے کی بجائے حضرت ابراہیم کے بارے میں حکم دیا کہ لے آؤ اس کو سب لوگوں کے سامنے تاکہ لوگ دیکھ لیں اس کے اس حشر وانجام کو جو اس کے ساتھ ہم کریں گے۔ نیز وہ گواہی دیں اس جرم کی جس کا ارتکاب اس شخص نے کیا ہے۔ یعنی یہ لفظ " شہود " سے بھی ہوسکتا ہے اور " شہادت " سے بھی۔ دونوں صورتوں میں معنیٰ صحیح بنتا ہے۔ (روح، مدارک، کشاف، مراغی اور محاسن وغیرہ ) ۔ سو اس سے کفر و شرک کی مت ماری کا ایک اور نمونہ سامنے آتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 21:63

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

فرمایا تم یہ کیوں نہیں فرض کرتے کہ میں نے نہیں بلکہ یہ حرکت ان کے اس بڑے گرو نے کی ہو تم خود ان سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہیں ؟3

80 حضرت ابراہیم کی مشرکوں کے ضمیروں پر ایک اور دستک : کہ آپ نے انکے سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ یہ کارروائی انکے اس بڑے گرو نے کی ہوگی جو کلہاڑا اٹھائے خود صحیح وسالم کھڑا ہے۔ اور باقی سب چورہ چورہ ہوچکے ہوئے ہیں۔ اور جب تم اس کو کرتا دھرتا مانتے اور اپنا حاجت روا و مشکل کشا سمجھتے ہو تو پھر اس کی موجودگی میں دوسروں کا یہ حشر ہوا تو آخر کیوں ہوا ؟ اور یہ کیوں کھڑا دیکھتا رہا ؟۔ تو اس طرح حضرت ابراہیم نے ان کے ضمیروں کو جھنجھوڑا اور ان کو ایک اور دستک دی تاکہ وہ سوچیں کہ وہ بت پرستی کے جس گھناؤنے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں وہ کس قدر سنگین جرم ہے۔ اور یہ انسانیت کی کس قدر توہین و تذلیل ہے۔ اور یہ ایسی بےحقیقت اور بےجان مورتیوں کے آگے جھک کر کیسی حماقت کا ارتکاب کرتے اور کس قدر ہولناک گڑھے میں گرتے جا رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 21:64

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

اس پر وہ پلٹے اپنے ضمیروں کی طرف اور اپنے دلوں میں کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ خود ہی ظالم ہو4

81 حضرت ابراہیم کی ضرب حق کا مشرکوں پر اثر : کہ اس سے انہوں نے اپنے دلوں میں خود اپنے آپ سے یا ایک دوسرے سے کہا کہ یقینا تم لوگ خود ہی ظالم ہو۔ یعنی { انفسہم } کے یہ دونوں مطلب بن سکتے ہیں۔ ایک یہ کہ وہ لوگ اپنے دلوں میں اس طرح سوچنے لگے۔ اور دوسرا مطلب یہ کہ انہوں نے باہم ایک دوسرے سے اس طرح کہا۔ سو اس طرح حضرت ابراہیم کی ضرب حق کا ان لوگوں پر وقتی طور پر اثر ہوا لیکن پھر بھی وہ اوندھے ہوگئے اور حق کی طرف لوٹنے کی بجائے کفر و شرک کے اسی مہیب اور تباہ کن گڑھے میں گرگئے ۔ والعیاذ باللہ - 82 مشرکوں کا اپنے ظلم کا اقرار و اعتراف : سو انہوں نے خود اپنے آپ کو یا ایک دوسرے کو خطاب کر کے کہا کہ یقینا تم لوگ خود ہی ظالم ہو جو ایسی بےجان مورتیوں کی پوجا کرتے ہو اور یہ نہیں سوچتے کہ یہ مورتیاں جو خود اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکتیں وہ دوسروں کے کیا کام آئیں گی ؟ اور جب یہ کسی نفع و نقصان کا بھی کوئی اختیار نہیں رکھتیں تو پھر ان کو معبود قرار دینے کی کیا تک ہوسکتی ہے بلکہ یہ تو حقیقت میں انسانیت کی انتہائی تحقیر و تذلیل ہے۔ سو حضرت ابراہیم کی طرف سے لگنے والی اس ٹھوکر سے وہ اپنے عقل و دل کی راہنمائی کی طرف متوجہ ہوئے اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ تم لوگ تو اس نوجوان کو ظالم کہتے ہو لیکن اس نے ثابت کردیا کہ ظالم وہ نہیں تم لوگ ہو جو ایسی بےحقیقت چیزوں کو پوجتے پکارتے اور ان کو اپنا معبود اور حاجت روا و مشکل کشا قرار دیتے ہو جو اتنی صلاحیت بھی نہیں رکھتے کہ خود اپنا بچاؤ کرسکیں یا اس کو کسی دوسرے کے آگے بیان ہی کرسکیں۔ تو پھر یہ مورتیاں تمہاری حاجت روا و مشکل کشا آخر کس طرح ہوسکتی ہیں ؟۔
Ayah 21:65

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر مارے ندامت کے وہ اوندھے ہوگئے اپنے سروں کو جھکا کر اور کھسیانے ہو کر ابراہیم سے کہنے لگے کہ تم خود اچھی طرح جانتے ہو کہ یہ بول نہیں سکتے

83 پھر وہ اوندھے ہوگئے اپنے سروں پر : یعنی زمین کی طرف سرجھکا کر ( ابن کثیر) اور لاجواب ہو کر عناد و ہٹ دھرمی اور دھمکیوں پر اتر آئے۔ اور مت مار دی گئی ان بدبختوں کی اور ان کو حق کی طرف رجوع کرنے کی توفیق پھر بھی نصیب نہ ہوسکی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ " نکس " کے معنیٰ کسی چیز کو اس طرح الٹ دینے کے ہوتے ہیں کہ اس کا سر نیچے اور پاؤں اوپر ہوجائیں۔ ( مدارک وغیرہ ) ۔ سو حضرت ابراہیم کی تنبیہ و تذکیر سے ان لوگوں نے ذرا دیر میں سہی پر آنکھیں کھولیں تو سہی۔ لیکن پھر اوندھے ہو کر بولے کہ ابراہیم تم اچھی طرح سے جانتے ہو کہ یہ بت بول نہیں سکتے تو پھر ہم ان سے اس بارے کس طرح پوچھیں۔ سو جن لوگوں کی مت مار دی جاتی ہے ان کا حال یہی ہوتا ہے کہ وہ ایک قدم صحیح سمت میں اٹھائیں گے اور پھر اسی الٹی اور اوندھی چال پر چل پڑتے ہیں جس پر وہ پہلے سے چل رہے ہوتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 84 معبودان من دون اللہ بےحقیقت اور بےبس : سو اس سے مشرکوں کی طرف سے اپنے معبودوں کی بےبسی کا اقرار و اعتراف ذکر فرمایا گیا ہے۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہ بت بول نہیں سکتے تو پھر ہم ان سے پوچھیں کیونکر ؟۔ مگر یہ بات پھر بھی ان لوگوں کی سمجھ میں نہ آسکی کہ جو اس قدر بےجان اور بےحقیقت ہیں وہ آخر ان کے خدا اور حاجت روا و مشکل کشا کیونکر ہوسکتے ہیں ؟ سو اس طرح مشرکوں نے اپنے معبودوں کی بےبسی اور ان کے عجز کا اعتراف تو کیا لیکن پھر بھی اندھے کے اندھے ہی رہے۔ اور یہی نتیجہ ہوتا عناد اور ہٹ دھرمی کا ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو جو لوگ اس طرح کی جہالتوں میں مبتلا ہوتے ہیں ان کے قلب و باطن پر جب کسی تنبیہ یا واقعے سے کچھ روشنی پڑتی ہے تو ان کو سیدھی راہ دکھائی دینے لگتی ہے مگر جہالت پھر ان کی مت مار دیتی ہے ۔ والعیاذ باللہ -
Ayahs 21:66–67

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا تو کیا تم لوگ اللہ کے سوا ان چیزوں کی پوجا کرتے ہو جو نہ تو تمہیں کچھ نفع دے سکیں اور نہ کوئی نقصان پہنچا سکیں ؟

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تف ہے تم پر بھی اور تمہارے ان معبودوں پر بھی جن کی پوجا تم لوگ کرتے ہو اللہ وحدہ لا شریک کے سوا کیا تم لوگ کام نہیں لیتے اپنی عقلوں سے ؟

85 حضرت ابراہیم کا مشرکوں پر بھرپور وار : ۔ سو مشرکوں کے اس اقرار و اعتراف کے بعد حضرت ابراہیم نے ان پر بھرپور وار کرتے ہوئے ان سے فرمایا کہ کیا تم لوگ ایسی بےحقیقت چیزوں کی پوجا کرتے ہو جو نہ کوئی نفع پہنچا سکیں اپنے پجاریوں کو ان کی پوجا پاٹ پر۔ تو پھر تم لوگ آخر ان کی پوجا کیوں کرتے ہو ؟ اور ایسی بےحقیقت چیزیں جو اپنے پجاریوں کے لیے بھی کسی نفع اور فائدہ کا اختیار نہ رکھتی ہوں ان کو معبود قرار دے کر ان کی پوجا پاٹ کرنا کتنی بڑی حماقت اور کس قدر ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ معبود کی عبادت و بندگی اسی لیے کی جاتی ہے کہ وہ عابد کے کام آسکے۔ اور عبادت و بندگی پر اس کو نفع و فائدہ پہنچا سکے۔ ورنہ اس کی عبادت و بندگی عبث و بیکار ہے۔ 86 معبودان باطلہ کی کمال بےبسی کا ذکر : سو اس سے معبودان باطلہ کی کمال بےبسی کو ظاہر فرما دیا گیا کہ وہ نہ تو اپنے پجاریوں کو کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی کوئی نقصان پہنچا سکتے ہیں ان سے منہ موڑنے پر اور ان کی اس قدر تحقیر و تذلیل کرنے پر۔ اور یہاں تک کہ اگر کوئی ان کو توڑ پھوڑ کر ٹکڑے ٹکڑے اور ریزہ ریزہ کر دے تو بھی یہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ بلکہ یہ خود اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکتے۔ تو پھر ایسوں کو معبود ماننا اور ان کو حاجت روا و مشکل کشا قرار دے کر ان کے آگے مراسم عبودیت بجا لانا کس قدر جہالت اور کتنی بڑی حماقت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -