Ayahs 19:72–7380 منکرین کا ایک زعم باطل : کہ چونکہ ہمیں دنیا ملی ہوئی ہے اس لیے ہم ٹھیک ہیں۔ سو کفار کا اپنے دنیاوی ساز و سامان کی بناء پر یہ گھمنڈ ان کی محرومی اور ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ سو کفار کا کہنا تھا کہ ہم دونوں گروہوں میں سے کس کی شان بڑی ہے اور کس کی مجلس شاندار۔ اور صاف ظاہر ہے کہ وہ ہم ہی ہیں کہ ہماری حالت بھی تم سے اچھی ہے اے ایمان والو۔ اور ہماری مجلس بھی تم لوگوں سے کہیں عمدہ اور شاندار ہے۔ سو اگر آخرت ہوئی بھی جیسا کہ تم لوگوں کا کہنا اور ماننا ہے تو وہاں بھی ہمارے ہی ٹھاٹھ باٹھ ہوں گے۔ اور ہمیں وہاں بھی یہ سب کچھ ملے گا جو آج یہاں ملا ہوا ہے۔ کیونکہ اگر ہم غلط ہوتے جیسا کہ تمہارا کہنا ہے تو پھر ہمیں دنیا میں یہ سب کچھ کیوں ملا ہوتا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ان کے اس گھمنڈ کو اس طرح بیان فرمایا گیا ہے ۔ { وَلَئِنْ رُّجِعْتُ اِلٰی رَبِّیْ اِنَّ لی عِنْدَہٗ لَلْحُسْنٰی } ۔ سو یہ باطل پرستوں کا بنیادی دھوکا اور قدیم مغالطہ ہے جس کی بناء پر یہ لوگ دنیائے دوں کے متاع قلیل اور حطام فانی و زائل کو اپنی حقانیت کا معیار سمجھتے ہیں۔ سو اس لحاظ سے مادی ترقی کا یہ پہلو انسان کیلئے اور زیادہ مضر اور خطرناک قرار پاتا ہے کہ اس کی بناء پر وہ نور حق و ہدایت سے مزید دور اور محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ حالانکہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے یہاں اس پوری دنیا کی قدر و قیمت بھی نصِّ صریح کے مطابق مچھر کے ایک پر کے برابر بھی نہیں۔ تو پھر اس کے چند ٹکوں کی اس کے یہاں حیثیت ہی کیا ہوسکتی ہے ؟ ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس میں سے ملنے والے کچھ ٹکوں کی بنا پر پھول جانا اور راہ حق و ہدایت سے منہ موڑنا اور اعراض کرنا و روگردانی برتنا کس قدر ہولناک خسارے کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 19:7481 دنیاوی مال و دولت اللہ تعالیٰ کے نزدیک معیار قبول نہیں : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ نہ تو دنیاوی مال و دولت کا ملنا اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہونے کی دلیل بن سکتا ہے اور نہ ہی یہ اللہ تعالیٰ کی گرفت و پکڑ سے چھڑا سکتا ہے۔ سو اس سے پہلے کتنی ہی مالدار اور ترقی یافتہ قوموں کو ہلاک اور ملیامیٹ کردیا گیا مگر جب ان پر عذاب آیا تو اس وقت ان لوگوں کو ان کا مال اور ان کی شان و شوکت اس عذاب کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکے۔ سو معلوم ہوا کہ دنیاوی مال و دولت اور شان و شوکت نہ اللہ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہونے کی دلیل ہے اور نہ ہی یہ اس کی پکڑ سے چھڑا سکتے ہیں۔ بلکہ کام آنے والی اصل اور حقیقی دولت ایمان و یقین اور عمل و کردار کی دولت ہے ۔ اَلّٰھُمَّ زِدْنَا مِنْہُ وَثَبِّتْنَا عَلَیْہِ وَشَرِّفْنَا بِمَرْضَاتِکَ وَبِمَا عِنْدَکٌ یا ذا الجلال والاکرام ۔ پس دنیاوی مال و دولت کی بنا پر کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ تاریخ میں ایسی قوموں کی کتنی ہی مثالیں موجود ہیں جو اپنے مال و دولت اور اپنی ظاہری چمک دمک کے اعتبار سے دور حاضر کے ان منکرین سے کہیں بڑھ کر تھیں لیکن جب انہوں نے اپنے خالق ومالک سے سرکشی کی تو آخر کار ان کو تباہ و برباد اور نیست و نابود کردیا گیا۔ اور اس وقت ان کی وہ مادی ترقی ان کے کچھ کام نہ آسکی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اصل چیز دنیاوی مال ودولت نہیں بلکہ متاع ایمان و یقین ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayah 19:7582 سرکشوں کے لیے خدائے رحمان کی سنت امہال کا ذکر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ خدائے رحمان گمراہوں کو فورا نہیں پکڑتا بلکہ ان کو ڈھیل دیئے جاتا ہے۔ جو کہ تقاضا ہے اس کے بےنہایت حلم اور بےپایاں کرم کا۔ تاکہ جس نے حق کی طرف رجوع کرنا ہو وہ رجوع کرلے اور اپنا معاملہ درست کرلے۔ اور جس نے رجوع نہ کرنا ہو وہ اپنا پلڑا برائیوں سے بھرلے تاکہ آخری اور حتمی انجام کو پہنچ سکے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { اِنَّمَا نُمْلِیْ لَہُمْ لِیَزْدُادُوْا اِثْمًا وَّلہُمْ عَذَابٌ مُّھِیْن } ۔ (آل عمران : 178) ۔ اور تاکہ ان پر حجت پوری ہوجائے اور ان کیلئے عذر و معذرت کی کوئی گنجائش باقی نہ رہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { اَوَ لَمْ نُعَمِّرْکُمْ مَّا یَتَذَکَّرُ فِیْہِ مَنْ تَذَکَّرَ وَجَائَکُمُ النَّذِیْرُ } (فاطر : 37) ۔ سو خدائے رحمن کی طرف سے دی گئی ڈھیل سے مست اور مغرور ہونے کی بجائے حق کی طرف رجوع کرنا چاہیئے ۔ وباللہ التوفیق ۔ (المحاسن، المعارف اور مراغی وغیرہ) ۔ اللہ تعالیٰ نفس و شیطان کے ہر مکر و فریب سے ہمیشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 19:7683 راہ راست والوں کی ہدایت میں ترقی و اضافہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ راہ راست اپنانے والوں کو اللہ ان کی ہدایت میں مزید اضافہ کرتا اور ترقی دیتا ہے۔ جس سے وہ ہمیشہ خیر کی طرف بڑھتے اور ترقی کرتے جاتے ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں وہ دنیا میں امن و سکون والی پاکیزہ زندگی سے ہمکنار ہوتے ہیں اور آخرت میں دائمی سعادت سے بہرہ ور ہوں گے اپنے خالق ومالک کے فضل و کرم سے۔ سو یہ ہے وہ اصل اور انمول دولت جس سے حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ اس دنیا میں اپنے خاص بندوں کو نوازتا ہے نہ کہ دنیا کا وہ فانی مال و دولت جس پر ابنائے دنیا مست و مغرور ہیں۔ اور وہ اس کے کمانے اور جوڑنے میں لگے ہوئے ہیں۔ اور وہ آخرت سے غافل و بیخبر ہو کر فرصت حیات کی متاع گرانمایہ کو اسی حطام دنیا کے لئے ضائع کر رہے ہیں۔ اور نہیں سمجھ رہے کہ اس طرح یہ لوگ اپنے لئے کس قدر ہولناک خسارے کا سامان کر رہے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ منکروں اور سرکشوں کو ڈھیل دیتا اور ان کی رسی دراز کرتا ہے اسی طرح وہ ہدایت اختیار کرنے والوں کی ہدایت میں بھی برابر اضافہ فرماتا جاتا ہے۔ سو عقلمند انسان کے نزدیک دیکھنے کی چیز یہ نہیں ہوتی کہ کس چیز کا فوری اور وقتی نفع کیا ہے بلکہ اس کی نظر اس پر ہوتی ہے اور اسی پر ہونی چاہیے کہ اجر وثواب اور مآل و انجام کے اعتبار سے بہتر کام کونسا ہے۔ سو ابنائے دنیا صرف دنیا کے نفع عاجل اور فوری و وقتی فوائد کو دیکھتے ہیں اور بس۔ ان کو اس کی کوئی پرواہ نہیں کہ مرنے کے بعد کیا ہونے والا ہے۔ جبکہ بندئہ مومن کے نزدیک اصل چیز آخرت کی اصل اور حقیقی زندگی اور اس کا نفع و نقصان ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
84 باقیات صالحات سے مراد اور ان کی اہمیت : اس سے مراد ہر وہ نیک عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی اور آخرت کی حقیقی اور دائمی زندگی کے لئے کیا جائے۔ جیسے نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ اور ذکر و اذکار وغیرہ وغیرہ۔ جو کہ ہمیشہ باقی رہنے والے اعمال صالحہ ہیں اور جو انسان کو دار آخرت کے اس ابدی جہان میں کام دیں گے جس کیلئے فناء وزوال نہیں۔ اس لئے حضرات اہل علم ان باقیات صالحات کی توضیح و تشریح میں فرماتے ہیں " اَیِ الْاَعْمِال الصَّالِحَاتُ الِّتْی تَبْقٰی لِصَاحِبِہا ذُخْرًا لَہٗ فِیْ الاٰخِرَۃ "۔ (صفوہ، محاسن اور مراغی وغیرہ) ۔ اور ان ہی اعمال صالحہ میں سے وہ اذکار مسنونہ بھی ہیں جو کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی امت کو تلقین فرمائے ہیں۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں ان کلمات شریفہ کو باقیات صالحات میں سے قرار دیا گیا ہے ۔ سُبْحَان اللّٰہِ وَالْحَمْْدُ لِلّٰہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاللّٰہُ اَکْبَرُ وَلاَ حَوْلَ وَ لاقُوَّۃَ اِلّا باللّٰہِ ۔ سو یہی باقیات صالحات ہیں جو انسان کا اصل سرمایہ اور حقیقی دولت ہیں۔ جو انسان کو آخرت کے اس حقیقی اور ابدی جہاں میں کام آئیں گی جبکہ مال و دولت وغیرہ کی وہ عارضی اور فانی چیزیں جو اسی دنیا میں رہ جائیں گی اور یہیں مٹ مٹا کر ختم ہوجائیں گی۔ سو قرآن حکیم میں جو اعمال صالحہ کو جگہ جگہ باقیات صالحات سے تعبیر فرمایا گیا ہے تو اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ جو اعمال اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے کیے جائیں وہی باقی رہنے والے اور پائیدار و غیر فانی ہیں۔ اور جو اعمال صرف دنیائے فانی اور اس کے چند روزہ فوائد کے لیے ہوتے ہیں وہ سب فانی اور غیر صالح ہیں کیونکہ یہ دنیا خود فانی ہے۔ لہذا جو اعمال اس دنیائے فانی ہی کو اصل مقصدبنا کر کیے جائیں گے وہ بھی فانی ہوں گے۔ باقی رہنے والے اعمال صرف وہ ہیں جو خداوند قدوس کی رضا اور آخرت کو مقصود بنا کر کیے جائیں۔ اس لیے کہ خداوند قدوس بھی غیر فانی ہے اور آخرت بھی ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ وہو الوہاب ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 19:7785 منکرین آخرت کے ایک زعم باطل کا ذکر وبیان : کہ اگر بالفرض آخرت ہوتی بھی تو وہاں بھی اسی کو مال و اولاد سے نوازا جائے گا۔ سو اس کا حال تعجب کے لائق اور عبرت کے قابل ہے کہ آخرت کے انکار سے آدمی کس درجہ ڈھیٹ، کتنا لاپرواہ اور کس قدر غافل و لا ابالی بن جاتا ہے کہ وہ اپنے انجام کار کی فکر کرنے کی بجائے حق اور حقیقت کا اس طرح مذاق اڑاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ صحیح بخاری (رح) ومسلم وغیرہ کی روایت کے مطابق یہ آیتیں عاص بن وائل کے بارے میں نازل ہوئیں کہ جب حضرت خباب ؓ نے اس سے اپنا حق مانگا تو اس پر اس ملعون نے کہا کہ میں تمہیں تمہارا حق نہیں دوں گا۔ یہاں تک کہ تم محمد کا انکار کرو۔ تو اس کے جواب میں حضرت خباب نے اس سے کہا کہ میں محمد کا انکار نہیں کروں گا یہاں تک تو میرے سامنے مر کر پھر زندہ ہوجائے تو اس پر اس نے از راہ تکبر وعناد اور بطور مذاق و استہزاء ان سے کہا کہ تمہارے کہنے کے مطابق جب میں مر کر دوبارہ اٹھا تو تمہیں تمہارا حق دے دوں گا۔ کیونکہ مرنے کے بعد جب میں دوبارہ اٹھوں گا تو وہاں بھی مجھے ہی مال واولاد سے نوازا جائے گا۔ تو اس پر اس ملعون کے اس زعم باطل کی تردید کے لیے یہ آیات کریمات نازل ہوئیں۔ (ابن کثیر، صفوۃ التفاسیر اور معارف وغیرہ) ۔ لیکن اس کے الفاظ اور اس کا حکم بہرحال عام ہے جو اس طرح کے ہر کافر کو شامل ہے " فَاِنِّ الْعِبْرَۃَ لِعُمُوْمِ اللَّفْظِ لَا لِخُصُوْصِ الْمَوْرِدِ " سو انکار آخرت جڑ بنیاد ہے جملہ مفاسد اور تمام خرابیوں کی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 19:78–7987 منکرین کے عذاب میں اضافے کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسی کوئی بات نہیں اور ایسے لوگوں کے لیے کسی طرح کی کوئی چھوٹ نہیں۔ بلکہ ان کی اس طرح کی تمام باغیانہ اور سرکشانہ باتوں کو ہم لکھتے اور ان کے نامہ ہائے اعمال میں درج کیے جا رہے ہیں۔ اور اس نتیجے میں ہم ایسے لوگوں کیلئے عذاب کو بڑھاتے جائیں گے جو اس کے کفر و انکار پر اڑے اور جمے رہنے کا لازمی نتیجہ اور طبعی تقاضا ہے۔ پس اگر کفر و شرک اور ذنوب و معاصی کے باوجود کسی کو دنیاوی مال و دولت ملتا جائے تو یہ اس کے لئے کوئی انعام و اکرام نہیں بلکہ عذاب میں اضافہ و بڑھاوا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو کفر و باطل کی راہ کو اپنانا اور اس پر اڑ اور جم جانا دارین کی ہلاکت و تباہی کا باعث ہے۔ اور ایسا کہ اس کے بعد دنیا ملے تو بھی عذاب اور نہ ملے تو بھی عذاب۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف چونکہ یہ لوگ اپنے جرم بغاوت و سرکشی اور کفر و انکار میں بڑھتے ہی جا رہے ہیں اور جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے ان کے کفر و انکار کی میل اور پکی اور سخت ہوتی جاتی ہے اور ان کے کفر و انکار کے زنگ سے ان کے دلوں کی دینا اور سیاہ اور مزید تباہ ہوتی جاتی ہے۔ پھر حق سے اعراض و روگردانی کے ساتھ ساتھ ایسے بدبخت لوگ حق کے ساتھ مذاق و استہزاء کے اپنے کافرانہ رویے سے اپنے کفر کی سیاہی کو مزید پکا کرتے جاتے ہیں۔ اس لیے ان کے عذاب میں یہ اضافہ ایک طبعی امر اور ان کے اس سرکشانہ اور باغیانہ وریے کا منطقی نتیجہ ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ نفس و شیطان کے ہر شر سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 19:8088 منکرین و متکبرین کے کبر و غرور پر ایک تازیانہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ایسے منکر انسان کو تن تنہا ہمارے یہاں آنا ہوگا اور اس کے اس مال و دولت، اہل و اولاد اور پارٹی و گروہ میں سے کچھ بھی اس کے ساتھ نہیں ہوگا جس کا آج اس کو اس قدر گھمنڈ ہے ۔ سبحان اللہ ۔ کس طرح قرآن کریم حق اور حقیقت کو پھیر پھیر کر صاف وصریح طور پر واضح کرتا اور بیان فرماتا ہے۔ مگر غافل انسان ہے کہ پھر بھی اس پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ الاماشاء اللہ ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو دنیاوی مال و دولت جس کا مادہ پرست انسان کو بڑا زعم اور گھمنڈ ہے سب یہیں رہ جائے گا۔ کچھ بھی اس کے ساتھ نہیں جائے گا۔ اور اس کو خالی ہاتھ اور تنہا اپنے خالق ومالک کے حضور حاضر ہونا اور زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا صلہ وبدلہ پانا ہوگا۔ سو بڑا ہی محروم اور بدنصیب ہے وہ انسان جو اپنے اس مصیر محتوم اور آخری انجام کو بھول کر دنیا ہی کا بن کر رہ جائے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ مال و اولاد وغیرہ کی جن جن چیزوں کا ایسے منکر انسانوں کو دعویٰ و گھمنڈ ہے یہ سب کچھ یہیں رہ جائے گا اور اس کے وارث ہم ہی ہوں گے۔ اور قیامت کے روز ایسوں کو یکہ و تنہا ہمارے یہاں حاضر ہونا ہوگا۔ نہ ایسے کسی شخص کے ساتھ اس کے اس سازوسامان میں سے کچھ ہوگا اور نہ ہی اس کے اعوان واَنصار اور من گھڑت و مزعومہ شرکاء و شفعاء میں سے کوئی اس کے ہمراہ ہوگا۔ جو کچھ ہم نے اس کو دیا بخشا تھا وہ سب یہیں رہ جائے گا۔ وہ سب ہم اس سے واپس لے لیں گے اور یہ جس طرح خالی ہاتھ اس دنیا میں آیا تھا اسی طرح خالی ہاتھ اس دنیا سے واپس ہمارے پاس پہنچ جائے گا۔ تو پھر یہ اکڑفوں کا ہے کی ؟ ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا من کل زیغ و ضلال -
Ayahs 19:81–8290 مشرکوں کے اس مشرکانہ زعم و گھمنڈ کی صریح تردید : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہرگز نہیں ایسا کچھ نہیں ہوگا بلکہ فیصلے کے اس روز وہ ان کی عبادت ہی کا انکار کردیں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے "۔ اور ان کے دشمن بن جائیں گے۔ اور ان کی پوجا پاٹ کا وہ صاف وصریح طور پر انکار کردیں گے ۔ { ویکونون علیہم ضدا } ۔ نیز جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاِذَا حُشِرَ النَّاسُ کَانُوْا لَہُمْ اَعْدَائً وَّکَانُوْا بِعِبَادَتَہِمْ کَافِرِیْنَ } ۔ (الاحقاف : 6) ۔ تب ان لوگوں کی حسرت دیکھنے کے قابل ہوگی کہ زندگی بھر کے تمام سہارے اس وقت ٹوٹ چکے ہوں گے۔ سو کتنا کرم و احسان ہے ہم پر اور پوری بنی نوع انسانیت پر اس کتاب حکیم قرآن مجید کا کہ اس نے یہ سب کچھ ہمیں پیشگی اس دنیا میں بتادیا۔ اور پوری صراحت اور وضاحت کے ساتھ بتادیا تاکہ کل کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے اس کی خبر نہ تھی ۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ الْعَالْمِیْنَ ۔ سو کس قدر ظالم اور کتنے بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس کتاب حکیم سے منہ موڑے ہوئے اور اس کی تکذیب کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس سے مشرکوں کے اس زعم و گھمنڈ اور ان کے مشرکانہ فلسفہ کی جڑ کاٹ دی گئی ۔ والحمد للہ جل وعلا -
Ayah 19:8391 شیطان کا کام اکسانا، بڑھکانا ۔ والعیاذ باللہ : پس شیطان کا کام محض اکسانا، بھڑکانا اور برائی کی ترغیب دینا ہے۔ نہ کہ مجبور کردینا۔ جیسا کہ قیامت کے روز وہ خود کہے گا ۔ { وَمَا کَانَ لِیَ عَلَیْکُم مِّنْ سُلْطَانٍ اِلَّا اَنْ دَعَوْتُکُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِیْ } ۔ (ابراہیم : 22) جس طرح کہ حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کا کام صرف حق کی دعوت دینا ہے اور خیر کی طرف بلانا ہے نہ کہ ایمان و اقرار پر مجبور کردینا۔ زمخشری کہتے ہیں کہ " اِزَّھَزَّ " اور " اسْتَفَرَّ " تینوں الفاظ قریب قریب ایک معنیٰ میں آتے ہیں۔ یعنی اکسانا، بھڑکانا اور انگیخت کرنا وغیرہ ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس ارشاد سے اس امر کو واضح فرمایا گیا ہے کہ یہ مشرک لوگ اللہ کی اس سنت کی زد میں آئے ہوئے ہیں کہ جو کوئی خدائے رحمان کی یاد دلشاد سے منہ موڑ کر اندھا بن جاتا ہے اس پر شیطان کو مسلط کردیا جاتا ہے۔ پھر وہی اس کا ساتھی اور دوست بن جاتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِ الرَّحْمٰنِ نُقَیِّضْ لَہُ شَیْطَانًا فَہُوَ لَہُ قَرِیْنٌ} ۔ (الزخرف :36) ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 19:8492 مجرموں کو ان کی انجام کے بارے میں آگہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم پوری طرح گن رہے ہیں ان کیلئے (ان کی مدت مہلت کو) "۔ سو جس دن ان کی مہلت کے دن پورے ہوجائیں گے، یہ خود عذاب میں دھر لئے جائیں گے۔ اور یہ اپنے کئے کا بھرپور بدلہ بہرحال پا کر رہیں گے۔ اس لئے آپ کو ان کے عذاب کے لئے جلدی کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کا کام پیغام حق پہنچا دینا ہے اور بس۔ اس سے آگے کا کام آپ ہم پر چھوڑ دیں۔ ہم ان سے خود ہی نمٹ لیں گے اور اچھی طرح اور پورے عدل و انصاف کے ساتھ نمٹیں گے۔ اور یہ لوگ اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگت کر رہیں گے اور ہماری گرفت و پکڑ سے بچ نکلنے کی کوئی صورت ان کیلئے کسی بھی طرح ممکن نہیں ہوگی ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس میں آنحضرت ﷺ کو صبر و انتظار کی تلقین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ آپ ان لوگوں کے بارے میں جلدی نہ کریں۔ ان کا پیمانہ اب لبریز ہوا چاہتا ہے۔ ہم ان کی مدت مہلت اور اس کے ایک ایک منٹ کو پورے اہتمام کے ساتھ گن رہے ہیں۔ اور یہ اپنے انجام کو بہرحال پہنچ کر رہیں گے۔ سو اس سے مجرموں کو ان کے انجام سے خبردار کردیا گیا ہے۔ تاکہ یہ اصلاح احوال کی فکر کرلیں۔
Ayah 19:8593 پرہیزگاروں کے انعام و اکرام کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جس دن کہ پرہیزگاروں کو ہم خدائے رحمن کے حضور اکٹھا کرلائیں گے مہمانوں کے طور پر۔ یعنی جس طرح کہ شاہی مہمان عزت و اکرام کے ساتھ لائے جاتے ہیں۔ جیسا کہ صحیحین وغیرہ کی روایات میں وارد ہے کہ ان کو سواریوں پر بٹھا کر اعزازو اکرام کے ساتھ خدائے رحمن کے حضور پیش کیا جائے گا ۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْہُمْ ۔ سو متقی اور پرہیزگار لوگوں کو اس روز نہایت عزت و احترام کے ساتھ خدائے رحمن کے حضور پیش کیا جائے گا تاکہ وہ اس روز اس واہب مطلق ۔ جل وعلا شانہ ۔ سے اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پھل اور بہترین صلہ و بدلہ پاس کیں ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ { وفدا } جمع ہے " وافد " کی۔ جیسے " رکب " جمع ہے " راکب " کی۔ اور " وفد " ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو بادشاہ وغیرہ بڑے لوگوں سے ملنے جاتے ہیں۔ اور جن کا خاص طور پر اکرام کیا جاتا ہے۔ (المراغی، المدارک، المحاسن اور المعارف وغیرہ) ۔ اللہ ہمیں انہی خوش نصیبوں میں سے کر دے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 19:8694 مجرموں کا حشر پیاسے جانوروں کی طرح ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا " اور مجرموں کو ہم ہانک کر دوزخ کی طرف لے جائیں گے پیاسے جانوروں کی طرح "۔ یعنی بڑی تذلیل و تحقیر کے ساتھ پاپیادہ۔ جس طرح پیاسے جانوروں کو ہانک کر پانی کی طرف لے جایا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ حق و ہدایت کے جس آب ِزلال سے انہوں نے اپنے آپ کو پیاسا رکھا تھا اور دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز کرنے والے جس آب حیات سے انہوں نے اپنے قلوب و بواطن کو جان بوجھ کر محروم رکھا تھا، اس کا لازمی نتیجہ اور طبعی انجام یہی ہوگا کہ اسے کشف حقائق کے اس جہاں میں ان کو اس طرح پیاسے جانوروں کی طرح دوزخ کی اس آگ میں پہنچایا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ " ورد " " وارد " کی جمع ہے۔ جس کے معنیٰ گھاٹ پر اترنے والے کے ہیں۔ ( محاسن التاویل وغیرہ ) ۔ سو جس طرح پیاسے اونٹ کو ہانک کر پانی کے گھاٹ پر لایا جاتا ہے اسی طرح ان بدبختوں کو اس روز نہایت ذلت اور رسوائی کے ساتھ ہانک کر دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ دوزخ سے اور دوزخ تک پہنچانے والے اعمال سے ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayah 19:8795 مشرکانہ تصور شفاعت کی نفی : سو انکے مزعومہ شفعاء میں سے کسی کو ان کیلئے کسی سفارش کی بھی اجازت نہیں ہوگی سوائے ان حضرات کے جنہوں نے خدائے رحمان کے یہاں اس کا عہد لے رکھا ہو۔ جیسا کہ حضرات انبیاء و صلحائے کرام کو اجازت دی جائے گی۔ اور ہمارے حضور ﷺ کو تو شفاعت کبرٰی کا اعزاز نصیب ہوگا۔ سو جنہوں نے ایمان و اخلاص اور اعمال صالحہ کے ساتھ زندگی گزاری ہوگی، ان کو شفاعت کے اس اعزاز سے نوازا جائے گا۔ اور جو نور ایمان و یقین سے محروم رہے ہوں گے وہ اس دن کی سفارش سے بھی محروم رہیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو استثناء یہاں پر منقطع ہے اور { یملکون } کی ضمیر کا مرجع ان کے وہ خود ساختہ معبودان باطلہ ہیں جن پر ان لوگوں نے بھروسہ اور اعتماد کر رکھا تھا کہ یہ ہمارا سب کام بنادیں گے۔ اور جن کا ذکر ابھی کچھ ہی اوپر آیت نمبر 81 میں آچکا ہے۔ سو اس مشرکانہ تصور شفاعت کی تردید فرما دی گئی کہ ان کے یہ خود ساختہ اور مزعومہ شرکاء و شفعاء انکے کچھ بھی کام نہیں آسکیں گے اور ان کو ان کے لیے کسی سفارش کا کوئی اختیار نہیں ہوگا سوائے ان کے جنہوں نے خدائے رحمان کے یہاں کوئی عہد لے رکھا ہو۔ اور عہد سے مراد ہے ایمان اور عمل صالح۔ جیسا کہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے۔ سو اس کے یہاں شفاعت حضرات انبیاء و رسل اور علماء و صلحاء وغیرہ فرمائیں گے۔ ( ابن کثیر، محاسن التاویل، مدارک التنزیل اور معارف وغیرہ ) ۔
Ayahs 19:88–9497 سب کچھ اللہ تعالیٰ کے احاطہ علم وقدرت میں ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اس نے احاطہ کر رکھا ہے ان سب کا گن کر "۔ پس نہ کوئی اس کے احاطہ علم وقدرت سے باہر ہوسکتا ہے اور نہ اس کی گرفت و پکڑ سے بچ سکتا ہے۔ بلکہ ہر کسی نے اپنے وقت موعود و محدد میں اپنے کئے کا بھگتان بہرحال بھگت کر رہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ ہر شخص کی عمر، اس کے انفاس اور اس کے اقوال و اَفعال کا اس نے پوری طرح احاطہ اور شمار کر رکھا ہے۔ اور ہر چیز کی اس کے یہاں ایک خاص حد اور انتہا ہے ۔ { کُلُّ شَیْئٍ عِنْدَہ بِمِقْدَارٍ } ۔ سو آسمان و زمین کی سب مخلوق اس کے کامل کنٹرول اور مکمل قابو میں ہے۔ ہر ایک کو اس قادر مطلق نے پوری طرح گن رکھا ہے۔ اس لیے اس بات کا کوئی امکان نہیں کہ کوئی اس کے کنٹرول سے باہر ہوجائے یا گنتی میں کوئی بھول چوک ہوجائے۔ سب کچھ اس کے احاطہ علم وقدرت میں ہے۔ اور قیامت کے روز ہر ایک کو یکہ و تنہا اس کے حضور حاضر ہونا ہوگا۔ نہ اس کے ساتھ اس کی اولاد و احفاد میں سے کوئی موجود ہوگا اور نہ اس کے اعوان و اَنصار میں سے اور نہ اس کے خود ساختہ اور من گھڑت شفعاء اور شرکاء میں سے کوئی اس کے کچھ کام آسکے گا۔ وہاں پر نفسی نفسی کا عالم ہوگا اور ہر ایک کو اپنی جوابدہی خود ہی کرنا ہوگی۔
Ayahs 19:95–9799 قرآن حکیم ذریعہ انذار وتبشیر : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ قرآن حکیم جھگڑالو اور ضدی لوگوں کے لیے انذار اور متقی و پرہیزگار لوگوں کے لیے عظیم الشان بشارت ہے۔ پس جو حق اور اہل حق کے خلاف ضد وعناد اور اپنے جھگڑالو پن اور ہٹ دھرمی سے کام لیتے ہیں ان کے لیے تو یہ انذار اور تنبیہ ہے۔ سو ان کو اس کلام حق و صدق ترجمان کے ذریعے ڈراتے اور خبر دار کرتے رہو تاکہ یہ راہ حق و صواب کی طرف لوٹ کر اپنے اس برے انجام سے بچ سکیں جس کی راہ پر یہ گامزن ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس انذار سے خود انہی کا بھلا مقصود ہے۔ پس اس کی تعلیمات مقدسہ کو اپنانے میں خود انہی لوگوں کا بھلا اور فائدہ ہے۔ اور اس سے اعراض و روگردانی میں خود انہی کا خسارہ و نقصان۔ اور ایسا ہولناک خسارہ و نقصان کہ ان کیلئے دارین کی ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ جبکہ دوسری طرف یہ کتاب حکیم ان متقی اور پرہیزگار لوگوں کے لیے دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی کی عظیم الشان خوشخبری ہے جو صدق دل سے اس پر ایمان لا کر ان کی تعلیمات مقدسہ کو حرز جان بناتے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل سبحانہ وتعالی -
Ayah 19:98100 تاریخ سے سبق لینے کی تعلیم و تلقین : سو اس سے ہلاک شدہ قوموں کی ہولناک تباہی سے درس عبرت لینے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ تو کیا تم اب ان بدبخت قوموں میں سے کسی بھی فرد کا کوئی وجود پاسکتے ہو ؟ یا ان کی کوئی بھنک ہی محسوس کرسکتے ہو۔ اور جب نہیں اور یقینا نہیں۔ تو پھر ان کے اس عبرتناک انجام سے دور حاضر کے ان کفار و منکرین کو سبق لینا چاہیئے جو اپنے کفر و باطل پر اڑے ہوئے ہیں کہ جو انجام ان سے پہلے کے ان منکروں کا ہوچکا ہے وہ ان کا بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کا قانون بےلاگ اور سب کے لئے ایک اور یکساں ہے۔ سو یہ راہ حق و ہدایت کو اپنا لیں قبل اس سے کہ عمر رواں کی فرصت محدود و مختصر ان کے ہاتھ سے نکل جائے اور پھر ہمیشہ کیلئے پچھتانا پڑے ۔ والعیاذ باللہ ۔ فَایَّاہُ اَسْألُ التَّوْفِیْقَ لِمَا یُحِبّ وَیَرْضَاہُ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی ۔ وَاٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلُّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْن -