19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayah 19:36

وَ اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 19:36 in the Quran reader

اور عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی کہا کہ بلاشبہ اللہ ہے رب میرا بھی اور تمہارا بھی، پس تم لوگ اسی کی بندگی کرو کہ خالص توحید والا یہی ہے سیدھا راستہ۔1

45 بلاشبہ اللہ ہی رب ہے سب کا : سو حضرت عیسیٰ نے کہا کہ " بلاشبہ اللہ ہی رب ہے میرا بھی اور تم سب کا بھی "۔ پس ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی کا حق ہے کہ سب کا خالق ومالک اور معبود برحق وہی وحدہ لاشریک ہے ۔ سبحان اللہ ۔ حضرت عیسیٰ نے کس قدر صاف اور صریح طور پر توحید خداوندی کی دعوت دی اور تبلیغ فرمائی کہ معبود برحق اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ ہر قسم کی عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ لیکن اس کے باوجود آپ کے ماننے کے دعویداروں نے شرک کا ارتکاب کیا۔ یہاں تک کہ دین توحید کو دین تثلیث بنادیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور انہوں نے تین ایک میں اور ایک تین میں کا وہ بیہودہ گورکھ دھندہ گھڑا جو نہ سمجھنے کا نہ سمجھانے کا ۔ والعیاذ باللہ - 46 سیدھا راستہ توحید کا راستہ ہی ہے : سو حضرت عیسیٰ نے فرمایا کہ یہی ہے سیدھا راستہ یعنی توحید کا راستہ کہ رب سب کا اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ جس پر چلنے سے اس دنیا میں بھی سکون وسعادت والی زندگی ملتی ہے اور آخرت کی حقیقی اور دائمی کامیابی بھی نصیب ہوتی ہے۔ اور اس سے محرومی دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی اور سب سے بڑا خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حضرت عیسیٰ نے صاف وصریح طور پر اور تاکیدی کلمات کے ساتھ ارشاد فرمایا کہ اللہ ہی رب ہے میرا بھی اور تمہارا بھی۔ پس تم سب لوگ اسی وحدہ لا شریک کی عبادت و بندگی کرو۔ سو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ویکتائی اور اس کی عبادت و بندگی کا یہ راستہ جو کہ توحید کا راستہ ہے یہی نجات و سلامتی کا واحد راستہ ہے۔ ورنہ ہلاکت ہی ہلاکت ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 19:37

فَاخْتَلَفَ الْاَحْزَابُ مِنْۢ بَیْنِهِمْ١ۚ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ مَّشْهَدِ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 19:37 in the Quran reader

پھر بھی مختلف جماعتیں آپس میں اختلاف میں پڑگئیں۔ سو بڑی خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر و انکار کیا ایک بڑے دن کے آنے سے

47 حق کے واضح ہوجانے کے باوجود لوگوں کا باہمی اختلاف : سو یہ امر پوری طرح واضح ہوگیا کہ حق و ہدایت اور سلامتی و نجات کا راستہ صرف توحید کا راستہ ہے۔ یہ مختلف جماعتیں پھر بھی آپس میں اختلاف میں پڑگئیں۔ چناچہ کچھ نے ان کو خدا اور خدا کا بیٹا قرار دیا اور پھر کفارہ کا خود ساختہ عقیدہ گھڑا۔ اور کچھ نے آپ (علیہ السلام) کے نسب طاہر میں طعن کیا اور آپ کو ولدالزنا قرار دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ حالانکہ آپ کے بارے میں اصل حقیقت بیان کردی گئی کہ وہ خدا کے برگزیدہ بندے اور اس کے سچے رسول تھے۔ جو باپ کے بغیر اللہ تعالیٰ کے کلمہ " کن " سے پیدا ہوئے تھے اور بس۔ اسی لیے آپ کو " کلمۃ اللہ " اور " روح اللہ " کہا جاتا ہے۔ اور اس حق کو ماننے اور چاہنے کی توفیق اور سعادت صرف مسلمانوں کو نصیب ہوئی جو کہ عین راہ حق و صواب پر ہیں۔ اور باقی سب بہکے بھٹکے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو حق و ہدایت صدق و صواب اور توحید و وحدانیت کی اس راہ نجات سے ہٹ کر یہود بےبہبود نے حضرت عیسیٰ کی پاکیزہ ہستی کو ولد الزنا اور آنجناب کے گہوارے کے معجزانہ کلام کو ان بدبختوں نے سحر کا کرشمہ قرار دیا۔ اور نبوت سے سرفرازی کے بعد آپ کے معجزات کی بنا پر آپ کو ساحر کہا۔ ( معارف القرآن وغیرہ ) ۔ اور اس طرح ان بدبختوں نے اپنی لعنت کے ٹھپے کو اور پکا کیا جبکہ دوسری طرف اس کے برعکس نصاریٰ نے آپ کو خدا اور خدا کا بیٹا قرار دیا۔ ( ابن کثیر اور معارف وغیرہ ) ۔ اور اس طرح وہ راہ حق و ہدایت سے ہٹ کر کفر و شرک کی راہ پر چل پڑے۔ اور پھر آگے خود عیسائیوں کے اندر مختلف گروہ آپس میں اختلاف میں پڑ گیے۔ کسی نے کچھ کہا اور کسی نے کچھ۔ کسی نے کوئی عقیدہ گھڑ لیا اور کسی نے کچھ اور۔ سو توحید کی شاہراہِ حق سے منحرف ہونے والے یہ سب ہی گروہ ہلاکت و تباہی کی مختلف پکڈنڈیوں میں پڑگئے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 48 کافروں کے لیے قیامت کے روز بڑی ہی ہولناک خرابی ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی خرابی ہے کافروں کیلئے ایک بڑے ہی ہولناک دن کے آنے سے۔ یعنی قیامت کے دن کے آنے سے جبکہ سب کچھ سامنے آجائے گا اور ہر کسی کو اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پھل ملے گا۔ سو وہ دن کافروں پر بڑا ہی سخت ہوگا۔ ایسا سخت کہ اس کے عذاب اور اس کی شدت کا اس دنیا میں کسی کیلئے تصور کرنا بھی ممکن نہیں۔ اور وہ ایسا سخت اور اس قدر ہولناک دن ہوگا کہ اس دن انسان کے خود اپنے اعضاء وجوارح اس کے خلاف گواہی دیں گے۔ اور وہ ایسا سخت اور اس قدر ہولناک دن ہوگا کہ کافروں کیلئے اس کے عذاب سے بچ نکلنے کی اور تلافی مافات کی پھر کوئی صورت ان کافروں کیلئے ممکن نہیں ہوگی۔ کیونکہ حیات دنیا کی فرصت انکے ہاتھ سے نکل چکی ہوگی۔ اور اس روز کافر رہ رہ کر افسوس کریں گے اور مارے افسوس کے اپنے ہاتھ کاٹ کھائیں گے۔ مگر اس کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس ارشاد ربانی سے سب کفار و منکرین کو بالعموم اور نصاریٰ کو بالخصوص خبردار فرمایا گیا ہے جو حضرت عیسیٰ کو خدا اور خدا کا بیٹا مانتے ہیں کہ اس یوم عظیم میں تمہارے لیے بہت بڑی خرابی ہے۔ جبکہ حضرت عیسیٰ اپنے ان جھوٹے اور مشرک پیروکاروں کے خلاف گواہی دیں گے اور ان سے اپنی براءت و بیزاری کا اعلان کریں گے۔ جیسا کہ سورة مائدہ کی آیات نمبر 116 اور 117 میں اس کی تصریح فرمائی گئی ہے۔ اس لیے تم لوگ اپنی اصلاح کرلو قبل اس سے کہ حیات دنیا کی یہ فرصت تمہارے ہاتھ سے نکل جائے اور تمہیں ہمیشہ کا عذاب برداشت کرنا پڑے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ تعالیٰ زیغ وضلال کے ہر شائبے سے ہمشہ محفوظ رکھے ۔ آمین۔
Ayah 19:38

اَسْمِعْ بِهِمْ وَ اَبْصِرْ١ۙ یَوْمَ یَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْیَوْمَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 19:38 in the Quran reader

کیا ہی خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے یہ لوگ اس دن جس دن کہ یہ ہمارے پاس آئیں گے مگر آج یہ ظالم حق سے آنکھ اور کان بند کر کے کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں2

49 کفار و منکرین کا بےوقت کا سننا ماننا بےسود و لاحاصل : سو ارشاد فرمایا گیا " کیا ہی خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے یہ منکر لوگ اس دن جس دن کہ یہ ہمارے پاس آئیں گے "۔ سو وہاں پر یہ لوگ خوب خوب سنتے اور دیکھتے ہوں گے۔ وہاں کے احوال و اَھوال کو۔ اور جس کے بعد یہ ایمان بھی لے آئیں گے مگر وہ ایمان قابل قبول نہیں ہوگا کہ وہ ایمان بالمشاہدہ ہوگا۔ جبکہ مطلوب و معتبر ایمان بالغیب ہے اور وہ ان کو وہاں میسر نہیں آسکے گا کہ اس کے کمانے اور حاصل کرنے کی جگہ یہ دنیا ہی تھی جو انکے ہاتھ سے نکل چکی ہوگی ۔ { وَاَنّٰی لَہُمُ التَّنَاوُشُ مِنْ مَّکَانٍ بَعِیْدٍ } ۔ تب وہ رہ رہ کر وہاں پر یہ تمنا و آرزو کریں گے کہ اے کاش کہ ہمیں دنیا میں دوبارہ جانے کا موقع مل جائے تو ہم نئے سرے سے آخرت کی اس ابدی زندگی کے لئے کام کریں۔ مگر اس کا موقعہ اب کہاں اور کیونکر ؟ سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ دنیاوی زندگی کی یہ فرصت جو آج ہمیں یہاں میسر ہے کتنی بڑی نعمت ہے ۔ اللہ تعالیٰ اس کے ایک ایک لمحے سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی توفیق بخشے ۔ آمین۔ اور اسی سے یہ اندازہ بھی کیا جاسکتا ہے کہ جو لوگ حیات دنیا کی اس فرصت محدود کو لہو ولعب اور دوسرے بیکار مشاغل میں ضائع کرتے ہیں وہ اپنا کس قدر ہولناک نقصان کرتے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمایا گیا کہ آج تو یہ منکر لوگ حق بات کو سننے ماننے کو تیار نہیں ہو رہے لیکن جب ان کو اس یوم عظیم کے مشہد عظیم سے سابقہ پیش آئے گا تو اس روز ان کے کانوں کے پردے بھی کھل جائیں گے اور ان کی آنکھوں کی پٹیاں بھی اتر جائیں گی۔ اور اس وقت ظاہر ہوجائے گا کہ ان سے زیادہ کوئی بینا اور شنوا نہیں۔ لیکن بےوقت کی اس بینائی و شنوائی سے ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا سوائے یاس و حسرت کے کڑوے گھونٹ بھرنے اور مارے افسوس کے اپنے سر پیٹنے کے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 19:39

وَ اَنْذِرْهُمْ یَوْمَ الْحَسْرَةِ اِذْ قُضِیَ الْاَمْرُ١ۘ وَ هُمْ فِیْ غَفْلَةٍ وَّ هُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 19:39 in the Quran reader

اور خبردار کرتے رہو ان کو اے پیغمبر ! حسرت کے اس دن سے جب کہ فیصلہ کردیا جائے گا معاملے کا عملی اور آخری طور پر اور یہ ہیں کہ غفلت میں پڑے ایمان نہیں لاتے۔3

50 یوم حسرت کے بارے میں خبردار کرتے رہنے کا حکم وارشاد : سو ارشاد فرمایا گیا اور خبردار کرتے رہو ان کو حسرت کے اس دن سے "۔ جس دن کہ ہر کوئی افسوس کر رہا ہوگا۔ نیک بھی اور بد بھی۔ نیک اس لئے کہ اس نے نیکیاں اور زیادہ کیوں نہ کمائیں اور بد اس لئے کہ وہ بدی سے باز کیوں نہ آیا۔ جیسا کہ صحیح حدیث میں حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے مروی ہے۔ اور اس حسرت و یاس کی آخری شکل اور کامل صورت وہ ہوگی جبکہ کافروں اور منکروں کیلئے دوزخ میں ہمیشہ رہنے کا اعلان کردیا جائے گا۔ جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں حضرت ابوسعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا موت کو ایک دنبے کی شکل میں لاکر اہل جنت اور اہل دوزخ دونوں کو دکھایا جائے گا۔ اور ان سے پوچھا جائے گا کہ جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ تو وہ کہیں گے ہاں یہ موت ہے۔ پھر اس کو ان سب کے سامنے ذبح کردیا جائے گا۔ اور دونوں فریقوں میں سے ہر ایک کو سنا دیا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ اسی حال میں رہو جس میں اب ہو۔ اب تمہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ پھر آپ ﷺ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی۔ سو وہ دن اہل جنت کیلئے سب سے زیادہ خوشی کا دن ہوگا ۔ اللہ ہمیں نصیب فرمائے ۔ اور دوزخیوں کے لیے وہ دن سب سے زیادہ حسرت اور افسوس کا باعث ہوگا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو حسرت کے اس دن ان کی آنکھیں تو کھل جائیں گے اور پوری طرح کھل جائیں گی مگر اس روز توبہ و اصلاح اور سعی و عمل کے سب دروازے بند ہوجائیں گے۔ اس لیے ان کو خبردار کرو تاکہ اس سے پہلے ایمان و عمل کی دولت سے سرفراز ہو سکیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی رضا اور خوشنودی کی راہوں پر مستقیم وثابت قدم رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 19:40

اِنَّا نَحْنُ نَرِثُ الْاَرْضَ وَ مَنْ عَلَیْهَا وَ اِلَیْنَا یُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 19:40 in the Quran reader

اور بلاشبہ آخرکار ہماری ہی ہو کر رہے گی یہ زمین اور وہ سب بھی جو اس کے اوپر ہیں اور ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ان سب نے،

51 مالک اور وارث سب کا اللہ تعالیٰ ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا " اور بلاشبہ ہم ہی وارث ہوں گے زمین کے اور ان سب کے جو اس کے اوپر ہیں "۔ کہ یہ سب لوگ مر مٹ کر ختم ہوجائیں گے۔ اور یہ زمین اور اس کی طرح طرح کی وہ نعمتیں جو اس کے اوپر پائی جاتی ہیں۔ اور جن کے آج یہ مالک بنے ہوئے ہیں وہ سب کچھ یونہی رہ جائے گا۔ اور ان سب نے اس سب ساز و سامان دنیا کو چھوڑ چھاڑ کر ہماری ہی طرف لوٹنا اور ہمارے ہی پاس واپس آنا ہے۔ تب ہم ہر کسی کو اس کے زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ دیں گے۔ نیکی کا بدلہ نیک اور برائی کا برا۔ اور کسی سے کوئی ظلم نہیں ہوگا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ سو زمین اور اہل زمین سب کا مالک اللہ وحدہ لا شریک ہی ہے۔ ان سب کی پیشی اسی وحدہ لا شریک کے یہاں ہوگی۔ سب کو بہرحال اسی کے حضور حاضر ہونا اور اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ وہاں کوئی نہیں ہوگا جو ان کے کچھ کام آسکے۔ اور اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر کسی کی کوئی سفارش کرسکے۔ پس عقل وخرد کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس دنیائے فانی کے لیے جینے اور اس کی خاطر جوڑنے اور جمع کرنے کی بجائے آخرت کی اس اصل حقیقی اور ابدی زندگی کو بنانے اور اس کے لیے جوڑنے اور جمع کرنے کی فکر و کوشش کرے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویریدو ہو الہادی الی سواء السبیل ۔ سبحانہ وتعالی - 52 سب کا رجوع اللہ ہی کی طرف : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ سب کا رجوع بہرحال اللہ تعالیٰ ہی کی طرف ہوگا۔ سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہماری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے ان سب کو "۔ اہل ایمان تو خوشی خوشی آئیں گے تاکہ اپنے ربِّ مہربان کی طرف سے ملنے والی ابدی اور سدا بہار نعمتوں سے فیضیاب و سرفراز ہوسکیں اور اپنے خالق ومالک کے انعام سے متمتع اور بہرہ ور ہوسکیں ۔ جَعَلَنَا اللّٰہُ مِنْہُمْ ۔ جبکہ کفار و مشرکین کو مجبوراً آنا ہوگا تاکہ وہ اپنے زندگی بھر کے کفر و شرک کا بدلہ پاس کیں۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔ سو اس میں ابنائے دنیا کے لیے بڑا درس عبرت و بصیرت ہے کہ جس دنیا کو آج یہ لوگ اپنا مقصود و معبود بنائے ہوئے ہیں اس کو انہوں نے بہرحال چھوڑ کر یہاں سے خالی ہاتھ رخصت ہونا ہے۔ اور اس وقت اور اس موقعہ پر یہ دنیا ان کے کچھ کام نہ آسکے گی۔ پس اس کا وبال ان کی گردنوں پر ہوگا اور بس۔ اور { یُرْجَعُوْنَ } کے صیغہ مجہول سے یہ درس دیا گیا ہے کہ ایسا بہرحال ہو کر رہے گا اور ان کا اس کے مقابلے میں کوئی زور اور بس نہیں چل سکے گا ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 19:41

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور ان کو اے پیغمبر اس کتاب میں ابراہیم کا قصہ بھی پڑھ کر سناؤ، بیشک وہ بڑے ہی راست باز اور عظیم الشان پیغمبر تھے

53 اسوہ ابراہیمی کی تذکیر و یاددہانی : " بیشک ابراہیم بڑے راست باز اور عظیم الشان پیغمبر تھے "۔ جنہوں نے راہ ِحق میں بےمثال قربانیاں دیں اور مصائب برداشت کئے۔ حق کی خاطر اپنے باپ، اپنی قوم اور اپنے ملک سب کو چھوڑا۔ حق کی خاطر وقت کے جابر حاکم سے ٹکر لی اور کسی کی کوئی پرواہ نہ کی۔ جن کے تعمیر کردہ بیت اللہ کا ہزاروں سال گزر جانے کے باوجود آج تک برابر اور مسلسل و لگاتار طواف کیا جا رہا ہے۔ جو اپنے بعد آنے والے تمام انبیائے کرام کے جدِّا مجد قرار پائے اور جن کی عظمت شان کا یہ عالم ہے کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب سب ہی ان کو اپنا مقتداء و پیشوا مانتے ہیں۔ اور مسلمان تو ہیں ہی ملت ابراہیمی کے پیروکار۔ اور جن سے منسوب درود ابراہیمی ہر مسلمان اپنی ہر نماز میں ہمیشہ پڑھتا ہے۔ جن کی یاد گار قربانیوں کے صلے میں صفا ومروہ کی سعی، منٰی کی قربانی اور رمی جمار کو ہمیشہ کے لیے حج وعمرہ جیسی مقدس عبادات کے مناسک و ارکان میں سے قرار دے دیا گیا۔ جن کی نسل میں خاتم الانبیاء و امام الرسل ﷺ کو مبعوث فرمایا گیا اور جن کو ۔ { فَاتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفًا } ۔ کے امر سے آپ (علیہ السلام) کی ملت کی اتباع و پیروی کا حکم دیا گیا ۔ سبحان اللہ !۔ کیا کہنے اس عظمت شان کے اور کیا ٹھکانے واہب مطلق حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کی قدر دانی اور اس کی بخشش و عطا کے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جس کی ہر صفت و شان کی طرح اس کی صفت بخشش وعطاء بھی لامحدود اور ناپیداکنار ہے ۔ اللہ ہمیں بھی اپنے کرم خاص سے نوازے ۔ یاذالجلال والاکرام ۔ سو اس سے یہود و نصاریٰ اور مشرکین مکہ کو اسوئہ ابراہیمی کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے تاکہ اس کی روشنی میں یہ اپنے عمل و کردار کا جائزہ لے سکیں کہ جس ابراہیم کی نسبت پر یہ لوگ فخر کرتے ہیں وہ کیسے اور کیا تھے اور یہ لوگ کیا ہیں اور کہاں کھڑے ہیں ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید -
Ayahs 19:42–43

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

اور خاص کر یاد کرو کہ جب انہوں نے درد بھرے انداز میں اپنے باپ سے کہا، ابا جان آپ کیوں ایسی چیزوں کی پوجا کرتے ہیں جو نہ سنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ ہی وہ آپ کے کچھ کام آسکتی ہیں ؟

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

ابا جان، میرے پاس ایسا علم آگیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، لہذا آپ میرے کہنے پر چلیں، میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا،

54 سیدھی راہ پیغمبر کی اتباع ہی سے نصیب ہوسکتی ہے : سو حضرت ابراہیم نے اپنے مشرک باپ آزر سے کہا " اباجان آپ میری پیروی کرو میں آپ کو سیدھا راستہ بتاؤں گا "۔ ایسا سیدھا راستہ جو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ ور کرنے والا راستہ ہے۔ اور یہ راستہ میں ہی آپ کو بتاؤں گا۔ کیونکہ میرے پاس علم کی روشنی ہے جو آپ کے پاس نہیں۔ سو معلوم ہوا کہ عظمت اور شرف و فضیلت کا دار و مدار علم و آگہی کی روشنی اور اتباع حق پر ہے نہ کہ عمر اور سالوں کی کمی بیشی پر۔ جیسا کہ کہا گیا ہے ۔ بزرگی بعقل است نہ بسال ۔ تونگری بدل است نہ بمال ۔ اور علم سے بھی وہ علم مراد ہے جو وحی خداوندی سے مستفاد ہو کہ وہی علم انسان کو راہ حق و ہدایت سے سرفراز و سرشار کرسکتا ہے نہ کہ وہ علم جو انسانی تجربات اور عقل انسانی سے حاصل ہوتا ہے کہ یہ سب کچھ ناقص ہے اور اس کا اعتبار بھی تب ہی ہوسکتا ہے جبکہ یہ نور وحی سے منور ہو۔ ورنہ یہ مزید محرومی اور اندھیروں کا باعث بنتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو اس سے یہ امر پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ سیدھی راہ پیغمبر کی اطاعت و اتباع ہی سے نصیب ہوسکتی ہے ورنہ اندھیرے ہی اندھیرے ہیں ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayahs 19:44–46

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

ابا جان، آپ شیطان کی بندگی مت کریں، کیونکہ شیطان تو بلاشبہ خدائے رحمان کا نافرمان ہے،

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

ابا جان مجھے تو اس بات کا سخت ڈر ہے کہ کہیں آپ پر خدائے رحمان کی طرف سے کوئی ایسا عذاب آپڑے کہ آپ ہمیشہ کے لیے شیطان کے ساتھی بن کر رہ جائیں

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

یہ سب کچھ سن لینے کے بعد اس نے کہا ابراہیم کیا تم میرے معبودوں سے پھر رہے ہو ؟ سن لو اگر تم باز نہ آئے تو میں تمہیں سنگسار کردوں گا اور تم دور ہوجاؤ مجھ سے ہمیشہ کے لیے۔1

56 مشرک باپ کی موحد بیٹے کو قتل و سنگسار کی دھمکی : سو حضرت ابراہیم کے مشرک باپ نے اپنے موحد بیٹے کو قتل اور سنگسار کرنے کی دھمکی دی اور کہا کہ " الگ ہوجاؤ تم مجھ سے ہمیشہ کے لیے " تاکہ میں تمہاری شکل بھی دیکھنے نہ پاؤں۔ سو یہ حال اور مآل ہوتا ہے اس شخص کا جس کے رگ و پے میں کفر و شرک کی نحوست و نجاست سرایت کرجاتی ہے۔ کل بھی یہی تھا اور آج بھی یہی ہے۔ کل کی طرح آج بھی اس کے نمونے جگہ جگہ اور طرح طرح سے دیکھنے میں آتے ہیں اور آئندہ بھی آئیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو آج بھی جگہ جگہ اہل شرک کی طرف سے اہل توحید کے ساتھ اسی طرح کی قسوت اور شدت کا برتاؤ کیا جاتا ہے۔ اور ان کو طرح طرح سے ستایا جاتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو مشرک کے لیے موحد کا وجود ناقابل برداشت ہوجاتا ہے اور وہ اس کو دیکھنے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا۔ اسی لیے حضرت ابراہیم کے باپ نے آپ کے ساتھ یہ سلوک کیا۔
Ayahs 19:47–48

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا اچھا تو سلام ہو آپ پر البتہ میں آپ کے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا کہ میرا رب بلاشبہ وہ مجھ پر بڑا ہی مہربان ہے

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور میں آپ لوگوں سے بھی کنارہ کشی اختیار کرتا ہوں اور ان سب چیزوں سے بھی جن کو تم لوگ پوجتے پکارتے ہو اللہ کے سوا، اور میں تو بہرحال اپنے رب کو ہی پکارتا رہوں گا، امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کر کبھی محروم نہیں رہوں گا،2

58 حضرت ابراہیم کی دردمندی اور دلسوزی کا ایک اور مظہر : سو یہاں سے حضرت ابراہیم کی دردمندی اور دلسوزی کا ایک اور مظہر سامنے آتا ہے کہ آپ نے علیحدگی کے اس موقعہ پر باپ سے کہا " اور میں آپ کیلئے اپنے رب سے بخشش کی دعا کرتا رہوں گا " کہ وہ آپ کو ہدایت و ایمان کی دولت سے سرفراز فرما دے تاکہ آپ کی بخشش کا سامان ہو سکے۔ لیکن جب آپ (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ اب اس شخص کو ایمان ملنے والا نہیں تو آپ نے اس وعدہ سے اظہار و اعلان براءت فرما دیا۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { وَمَاکَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرَاہِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَۃٍ وَّعَدَہَآ اِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہٗ اَنَّہُ عَدُوٌّ لِّلّٰہِ تَبَرَّأ مِنْہُ } ۔ کیونکہ جو کفر و شرک پر مرجائے اس کے لیے بخشش کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ کیونکہ مرنے کے بعد اس کیلئے ایمان سے مشرف ہونے کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہ سکتا ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو باپ کے اس قدر سنگدلانہ رویے کے باوجود حضرت ابراہیم کا اس کے لیے دعائے مغفرت کا وعدہ کرنا آنجناب کی انتہائی دردمندی، دلسوزی اور رقت قلبی کا ایک اور عظیم الشان نمونہ و مظہر ہے۔ لیکن اس دردمندی و دلسوزی کے ساتھ ساتھ حق و ہدایت کی غیرت و حمیت کا جو تقاضا تھا آپ نے اس میں بھی کوئی فرق نہ آنے دیا اور مروت یا خوف سے مغلوب و متاثر ہو کر اپنی دعوت توحید میں کسی طرح کی کسی لچک یا مداہنت کو گوارا نہ کیا بلکہ اس موقعہ پر اس بارے صاف اور صریح طور پر اعلان کردیا کہ میں آپ لوگوں سے بھی علیحدہ ہوتا ہوں اور آپ کے ان خود ساختہ معبودان باطلہ سے بھی جن کی پوجا پاٹ تم لوگ اللہ کے سوا کرتے ہو۔ 59 مشرکوں اور ان کے من گھڑت معبودوں سے علیحدگی کا اعلان : سو اس سے مشرکوں اور ان کے من گھڑت معبودوں سب سے علیحدگی و بیزاری کے اظہار و اعلان کا درس ملتا ہے۔ سو حضرت ابراہیم نے اپنی مشرک قوم اور ان کے خودساختہ معبودوں سب سے علیحدگی اور کنارہ کشی کا اعلان کردیا اور کہا " میں تم سے بھی علیحدہ ہوتا ہوں اور تمہارے ان خودساختہ معبودوں سے بھی جن کو تم لوگ پوچتے پکارتے ہو " اپنا حاجت روا و مشکل کشا جان کر۔ سو میں ان سب سے الگ ہو کر ایک اللہ ہی کی عبادت و بندگی کرتا رہوں گا جو کہ سب کا خالق ومالک اور معبود برحق ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ جو اس ساری کائنات کا خالق ومالک اور اس میں حاکم و متصرف ہے۔ اور وہ ایسا یکتا ہے کہ نہ اس کی صفت خلق و ایجاد میں کوئی اس کا شریک وسہیم ہے اور نہ ہی اس کی صفت امر و ارشاد میں۔ وہ ہر اعتبار سے اور ہر لحاظ سے وحدہ لاشریک ہے۔ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق اور اسی کی شان اختصاص و امتیاز ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کے ساتھ تمام تر ہمدردی اور دلسوزی کے باوجود اپنے پیغام حق و ہدایت سے متعلق اپنے موقف میں ذرہ برابر کسی لچک یا مداہنت کو گوارا نہیں فرمایا۔ اور ان لوگوں کے رو در رو اور صاف اور صریح طور پر یہ اعلان فرما دیا کہ میں تم سب سے بھی بری و بیزار ہوں اور تمہارے ان تمام خود ساختہ معبودان باطلہ سے بھی جن کو تم لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا پوجتے پکارتے ہو۔ اور میں امید رکھتا ہوں کہ میں اپنے رب کو پکار کر کبھی محروم نہیں رہوں گا۔ اور اس طرح آپ نے صرف آزر ہی سے نہیں بلکہ اس کے تمام حواریوں ہمنواؤں اور اس کے پورے خاندان سے بھی اعلان براءت کردیا اور ان کے ساتھ انکے خود ساختہ مبعودوں کو بھی لات مار دی ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Ayah 19:49

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

پھر جب وہ الگ ہوگئے ان سے اور ان کے ان تمام معبودان باطلہ سے جن کو وہ پوجتے پکارتے تھے خدا کے سوا، تو ہم نے انھیں اسحاق جیسا بیٹا بھی عطا کیا اور یعقوب جیسا پوتا بھی اور ان میں سے ہر ایک کو ہم نے نبوت سے سرفراز کیا3

60 مشرکوں اور ان کے شرک سے علیحدگی کی برکات کا ظہور : سو مشرک قوم اور اس کے شرک سے علیحدگی اور کنارہ کشی اختیار کرنے پر حضرت ابراہیم کو ملنے والے بعض اہم انعامات کا ذکر فرمایا گیا کہ جب حضرت ابراہیم نے اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کے دین کی خاطر اپنے مشرک خاندان کو چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی جزاء اور قدر دانی میں آپ (علیہ السلام) کو ان عظیم الشان نعمتوں سے نوازا۔ پس اس سے واضح ہوگیا کہ جو کوئی اخلاص اور صدق نیت کے ساتھ حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ کے لئے قربانی دے گا اس کو وہ واہب مطلق ۔ جل جلالہ ۔ ایسا نوازے گا کہ کوئی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ یہاں دیکھئے کہ حضرت ابراہیم نے اپنے باپ کی بنی بنائی مشرکانہ گدی کو اپنے رب کی رضا کی خاطر لات ماری تو ربِّ شکور و غفور نے آپکو کیسی عظمت اور سچی ناموری سے سرفراز فرمایا۔ جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال کہیں نہیں مل سکتی۔ اور قیامت تک اور دن رات کے چوبیس گھنٹوں میں لگاتار اور مسلسل ملنے والے اجر غیر ممنون کی جس دولت سے آپ کو نوازا اس کی عظمت شان کے کہنے ہی کیا ۔ سبحان اللہ ۔ ربِّ ذو الجلال والاکرام نے اپنے بندے حضرت ابراہیم کو کیسی بےمثل و لازوال دولت سے بہرہ مند و سرفراز فرمایا ۔ فَیَا لَہٗ مِنْ کَرَمٍ وَ عَطَائٍ مِنْ رَبٍّ شکُوْرٍ کَرِیْمٍ ۔ فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ رَبِّ السَّمٰواتِ وَالاَرْضِیْنَ ۔ سو مشرک اور مشرک لوگوں کے مشرکانہ اور نجس ماحول سے اپنے رب کی رضا کیلئے اور اپنے دین و ایمان کی خاطر علیحدگی اور کنارہ کشی اختیار کرنے پر حضرت ابراہیم کو ان کے رب نے دین و دنیا دونوں کی عظیم الشان عنایتوں سے سرفراز فرمایا۔ پاکیزہ نسل اور برکت والی اولاد ملی۔ قبولیت دعا اور ذکر جمیل کی نعمت سے سرفراز فرمایا گیا وغیرہ وغیرہ۔ بہرکیف ارشاد فرمایا گیا کہ جب حضرت ابراہیم الگ ہوگئے ان مشرکوں سے بھی اور ان کے ان معبودان باطلہ سے بھی جن کی پوجا وہ لوگ کر رہے تھے اللہ کے سوا تو ہم نے ان کو اسحاق جیسے عظیم الشان فرزند سے بھی نوازا اور یعقوب جیسے پوتے سے بھی۔ اور مزید یہ کہ ان میں ہر ایک کو ہم نے تاج نبوت سے بھی سرفراز کیا۔ سو اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی خاطر اپنے گھر در اپنے خویش و اقارب اور اپنی قوم قبیلہ کو چھوڑنے اور محض اللہ کی رضا کے لیے مشرکوں اور ان کے مشرکانہ ماحول سے علیحدگی اور کنارہ کشی اختیار کرنے پر اللہ تعالیٰ ایسے ہی نوازتا ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید -
Ayahs 19:50–52

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

ہم نے ان سب کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سرفراز کیا سچی ناموری سے،

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور اس کتاب میں اے پیغمبر ان کو موسیٰ کا قصہ بھی سناؤ بیشک وہ بھی ہمارے ایک چنے ہوئے بندے اور بھیجے ہوئے پیغمبر تھے،

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو پکارا طور کی دائیں جانب سے اور ان کو اپنے قرب سے نوازا راز کی باتیں کرنے کے لیے،

61 حضرت موسیٰ کی نداء و پکار کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے موسیٰ کو پکارا دائیں جانب سے "۔ یعنی حضرت موسیٰ کے اعتبار سے کہ وہ آپ کی دائیں جانب واقع تھا۔ ورنہ بذات خود پہاڑ کی تو کوئی دائیں اور بائیں جانب نہیں ہوسکتی۔ اور بعض نے کہا کہ یہ لفظ یمین سے نہیں یمن سے ماخوذ و مشتق ہے جس کے معنیٰ خیر و برکت کے آتے ہیں۔ یعنی ہم نے ان کو اس برکت والے مقام سے پکارا اور اس وادی کو تقدس کا یہ مرتبہ و شرف اس لیے حاصل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی جلوہ گاہ ہونے کا شرف بخشا۔ اور یہاں پر حضرت موسیٰ سے کلام فرمایا ۔ وَالْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰہِ سُبْحَانَہٗ وَتَعَالٰی ۔ بہرکیف اس میں حضرت موسیٰ کو عطا فرمائے جانے والے خاص شرف اور مرتبہ کا ذکر ہے کہ جب آپ کا مدین سے مصر واپس جاتے ہوئے وہاں سے گزر ہوا اور آپ (علیہ السلام) نے کوہ طور پر ایک آگ سی جلتی دیکھی تو آپ (علیہ السلام) اس سے آگ حاصل کرنے کیلئے وہاں پہنچے تو آگے ہم نے آپ کو منصب نبوت اور شرف کلام سے نوازا۔ (المراغی، محاسن التاویل وغیرہ) ۔ اور حضرت موسیٰ کے اس خاص شرف و امتیاز کی وضاحت کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اس موقعہ پر حضرت موسیٰ کو قرب خاص سے نواز کر راز و نیاز اور سرگوشی کے انداز میں کلام فرمایا۔ اور یہ اس لیے ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے عام طور پر حضرات انبیائے کرام سے اپنے مقرب و معتمد فرشتے حضرت جبریل امین ہی کے ذریعے ہی کلام فرمایا۔ حضرت جبریل کے واسطے کے بغیر حضرت حق ۔ جل مجدہ ۔ نے اس سے پہلے کسی سے بھی اس طرح کلام نہیں فرمایا۔ یہ شرف حضرت موسیٰ ہی کو حاصل ہوا کہ آپ سے اس طرح بغیر واسطے کے براہ راست کلام فرمایا گیا۔ بیچ میں تیسرا کوئی حائل نہیں تھا۔ اسی لیے آپ کا لقب " کلیم اللہ " قرار پایا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام ۔ اس لیے حضرت موسیٰ کے ذکر کا حکم وارشاد فرمایا گیا۔
Ayah 19:53

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور ہم نے ان کی مدد کے لیے ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو بھی اپنی مہربانی سے نبی بنادیا،

62 حضرت ہارون کی نبوت سے سرفرازی کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا " اور ہم نے اپنی رحمت سے آپ کے بھائی ہارون کو نبی بنادیا "۔ آپ کی اس دعاء کو قبول کرتے ہوئے جو کہ آپ نے اپنے بھائی ہارون کی نبوت کے لئے کی تھی۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَاجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَہْلِیْ ، ہٰرُوْنَ اَخِیْ } (طٓہ : 29-30) ۔ اور اس کے جواب میں آپ کو فرمایا گیا تھا ۔ { قَدْ اُوْتِیْتَ سُوْلَکَ یَا مُوْسٰی } ۔ (طٓہ : 36) " موسیٰ آپ کی دعا و درخواست قبول کرلی گئی "۔ سو اس سے بھی حضرت موسیٰ کی عظمت شان کے چند اہم پہلو اجاگر ہوتے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ کی دعاء کو اس طرح شرف قبولیت سے نواز دیا گیا۔ اور دوسرے یہ کہ آپ کو ایسی بڑی اور بےمثال سفارش اور دعاء کرنے کی توفیق وسعادت نصیب ہوئی جو آپ کے علاوہ اور کسی کو نصیب نہیں ہوئی کہ آپ کی دعا کی بدولت آپ کے بھائی کو شرف نبوت سے مشرف و سرفراز فرما دیا گیا۔ حالانکہ روایات کے مطابق وہ عمر میں آپ سے چالیس سال بڑے تھے۔ (المراغی وغیرہ) ۔ تیسرے یہ کہ آپ کے بھائی کو بنی بنا کر راہ حق میں آپ کا وزیر اور معاون و مساعد بنادیا گیا وغیرہ وغیرہ ۔ والحمدللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے حضرت موسیٰ کے لیے حق تعالیٰ کے ایک اور خاص فضل و کرم کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ کار نبوت کی انجام دہی میں معاونت و مساعدت کے لیے آپ کی دعاء و درخواست پر حضرت ہارون کو بھی آپ کا وزیر اور مددگار بنایا گیا۔ اور ان کی یہ مدد محض رضاکارانہ نہیں تھی بلکہ خداوند قدوس کے ایک مامور و مسؤل نبی کی حیثیت سے تھی۔ کسی رسول کی مدد کے لیے کسی نبی کا وزیر اور شریک کار کی حیثیت سے مقرر کیا جانا ایک ایسا خاص شرف و امتیاز ہے جو حضرات انبیاء و رسل کی پوری تاریخ میں حضرت موسیٰ کے سوا اور کسی کو نصیب نہیں ہوا ۔ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام -
Ayah 19:54

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور اس کتاب میں ان کو اسماعیل (علیہ السلام) کا ذکر بھی سناؤ، بلاشبہ وہ بھی وعدے کے سچے اور ہمارے بھیجے ہوئے پیغمبر تھے۔

63 حضرت اسماعیل اور ان کی ایک امتیازی صفت کا ذکر : حضرت اساعیل کا ذکر " صادق الوعد " کی صفت سے فرمایا گیا۔ سو صدق وعدہ حضرت اسماعیل کی ایک امتیازی شان تھی۔ سو اس سے معلوم ہوا کہ اس وصف یعنی صدق و صفاء میں وہ خاص درجہ اور مقام رکھتے تھے۔ چناچہ آپ کے والد ماجد نے جب آپ سے اپنا خواب بیان فرمایا کہ " میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تمہیں ذبح کر رہا ہوں اب بتاؤ تمہاری اس بارے کیا رائے ہے " ۔ { یٰبُنَیَّ اِِنّیِْ اَرٰی فِی الْمَنَامِ اَنِّیْ اَذْبَحُکَ فَانْظُرْ مَاذَا تَریٰ } ۔ تو آپ (علیہ السلام) نے سر تسلیم خم کردیا اور اپنے والد ماجد کو جواب دیا کہ " ابا جان آپ اپنا خواب پورا کرلیجئے مجھے آپ انشاء اللہ صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے " ۔ { یَا اَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ سَتَجِدُنِیْ اِنْشَائَ اللّٰہُ مِنَ الصَّابِرِیْنَ ۔ (الصافات : 102) ۔ سو یہاں سے صدق و صفائی اور وعدہ وفائی کی عظمت و اہمیت کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ رسالت و نبوت کے ساتھ اسی صفت کو بیان فرمایا گیا ہے۔ اور قرآن و سنت کی بیشمار نصوص کریمہ میں اس کو طرح طرح سے واضح فرمایا گیا ہے۔ اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ " مومن بزدل اور بخیل وغیرہ تو ہوسکتا ہے مگر جھوٹا نہیں ہوسکتا "۔ نیز صحیحین وغیرہ کی روایت میں آپ نے منافق کی تین نشانیاں بتلائیں کہ " جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔ جب وعدہ کرتا ہے تو اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اور جب اس کے پاس امانت رکھی جاتی ہے تو وہ اس میں خیانت اور بددیانتی سے کام لیتا ہے "۔ " اِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَاِذَا وَعَدَ اَخْلَفَ وَاِذَا ائْتُمِنَ خَانَ " اور ہمارے حضور کی سچائی اور وعدہ وفائی کی نبوت ملنے سے پہلے بھی ایسی منفرد اور امتیازی شان تھی کہ اس کا کوئی نمونہ اور مثال بھی کہیں نہیں مل سکتی۔ چناچہ سنن ابوداؤد وغیرہ میں حضرت عبد اللہ بن ابوالحمساء سے مروی ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے آپ کی بعثت سے پہلے ایک سودا کیا جس میں کچھ ادائیگی میرے ذمے باقی رہ گئی تھی۔ تو میں نے آپ سے کہا کہ آپ یہیں ٹھہرئیے میں لے کر آتا ہوں۔ مگر بعد میں میں بھول گیا۔ یہاں تک کہ تیسرے دن جب مجھے یاد آیا تو میں وہ لے کر آپ کی خدمت میں اسی مقام پر حاضر ہوا تو آپ کو وہیں انتظار میں پایا۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا " جوان تم نے مجھے مشقت میں ڈالے رکھا۔ میں اب تک یہاں تمہارا انتظار کرتا رہا "، " یَا فَتَی لَقَدْ شَفَقْتَ عَلَیَّ اَنَا ھٰھُنَا مُنْذُ ثلٰثٍ اَنْتَظِرُکَ "۔ اسی طرح حضرت اسماعیل کے بارے میں منقول ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے بھی کئی کئی دن تک وعدہ وفائی کے لئے انتظار کیا۔ بلکہ بعض روایات میں ہے کہ سال بھر تک انتظار کیا۔ (ابن کثیر، فتح القدیر وغیرہ) ۔ بہرکیف صدق و صفاء کا خصال حمیدہ میں ایک خاص درجہ اور امتیازی مرتبہ ہے۔ اور حضرت اسماعیل ۔ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام ۔ اس میں ایک خاص شان کے مالک تھے۔ اسی لیے یہاں پر رب تعالیٰ نے ان کے اسی خاص وصف کا بطور خاص ذکر فرمایا۔ یعنی وہ وعدے کے بڑے ہی سچے اور پابند تھے۔ سو صدق وعد مومن کے امتیازی کردار اور اس کی انفرادی شان کی ایک اور جامع تعبیر ہے ۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید وہو الہادی الی سواء السبیل - 64 شرف نبوت و رسالت سے بڑا شرف : سو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نبوت و رسالت کا وصف و شرف سب سے بڑا وصف و شرف ہے۔ اسی لیے حضرت اسماعیل کے ذکر کے آخر میں اسی کا ذکر فرمایا گیا ہے اور ان کے علاوہ دوسرے حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلوۃ والسلام ۔ کے ذکر میں بھی ان کی نبوت کا خاص طور پر اور باربار تذکرہ فرمایا گیا ہے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ وصف یعنی وصف نبوت و رسالت سب سے اہم اور اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ محبوب وصف ہے۔ اور ظاہر ہے کہ یہ اللہ پاک کی طرف سے ملنے والا وہ سب سے بڑا اعزازو انعام ہے جس سے وہ اپنے کسی بندے کو محض اپنی رحمت و عنایت سے نوازتا ہے۔ اہل بدعت کے بعض بڑے اس لفظ کا ترجمہ ہر جگہ غیب کی خبریں بتانے والے سے کرتے ہیں تاکہ اس طرح یہ لوگ علم غیب کلی کے اپنے شرکیہ عقیدے کے لئے دلیل کشید کرسکیں۔ حالانکہ اس سے ان کا کام بن نہیں سکتا۔ کیونکہ نفس علم غیب جس کا حصول پیغمبر کے منصب کے لئے ضروری ہوتا ہے اس کا تو کسی کو انکارہوسکتا ہی نہیں کہ پیغمبر کا معنیٰ ہی ہے " پیغام لانے والا " اور علم غیب کلی جس کے اہل بدعت مدعی ہیں وہ اس سے ثابت نہیں ہوسکتا۔ پس ثابت کا انکار نہیں اور جس کا دعویٰ ایسے لوگ کرتے ہیں وہ اس سے ثابت ہوتا نہیں۔ بہرکیف حضرت اسماعیل اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے نبی اور رسول تھے اور آپ کو بنو جرہم کی طرف مبعوث فرمایا گیا تھا جنہوں نے مکہ میں سکونت اختیار کرلی تھی۔ اور حضرت اسماعیل نے بھی اپنی والدہ ماجدہ کے ساتھ وہیں ان ہی لوگوں کے ساتھ سکونت اختیار فرما لی تھی۔ (المراغی، المحاسن اور المعارف وغیرہ) ۔ اور مشرکین مکہ زعم اور گھمنڈ تو رکھتے تھے ان کی اولاد اور ان کے وارثو جانشیں ہونے کا لیکن تھے ایسے ناخلف کہ آنجناب کے عمل و کردار اور اخلاق وصفات کے اعتبار سے بالکل صفر۔ بلکہ اس کے برعکس وہ کفر و شرک اور اخلاق رذیلہ کی طرح طرح کی گندگیوں میں لتھڑے ہوئے تھے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayahs 19:55–57

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

وہ اپنے گھر والوں کو خاص طور پر حکم دیا کرتے تھے نماز اور زکوٰة کا، اور وہ اپنے رب کے یہاں ایک پسندیدہ انسان تھے۔1

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور اس کتاب میں ان کو ادریس کا ذکر بھی سناؤ بلاشبہ وہ بھی ایک بڑے ہی سچے پیغمبر تھے

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور ہم نے انھیں ایک بڑے بلند مرتبے تک پہنچا دیا تھا،

65 حضرت ادریس کے رفع کا مطلب ؟ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ہم نے ان کو ایک بڑے بلند مرتبے تک پہنچا دیا تھا "۔ یعنی اس رفع سے مراد حسی رفع نہیں بلکہ معنوی رفع ہے۔ جس طرح کہ کئی اصحاب علم و فضل کا کہنا ہے۔ سو اس " علوّ " سے مراد مراتب و درجات کی وہ بلندی ہے جس سے آنجناب کو شرف نبوت و رسالت اور قرب و زلفیٰ کے ذریعے نوازا اور سرفراز کیا گیا تھا۔ ( مدارک التنزیل، محاسن التاویل اور صفوۃ التفاسیر وغیرہ) ۔ جبکہ بعض دوسرے حضرات کا کہنا ہے کہ اس سے مراد حسی اور جسمانی رفع ہی ہے کہ حضرت ادریس (علیہ السلام) کو جسمانی طور پر آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا۔ اور اسی دوسرے قول کی تائید صحیحین کی اس روایت سے ہوتی ہے جس میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ نبیء اکرم ﷺ نے شب معراج میں حضرت ادریس کو چوتھے آسمان میں دیکھا ۔ واللہ اعلم ۔ اس بارے میں جو ایک خاص قصہ اور جو بہت سی روایات وارد ہیں وہ سب کچھ اسرائیلیات میں سے ہے جن کا کوئی اعتبار نہیں۔ محقق ابن کثیر (رح) نے ان کی تنقید و تجریح کی ہے۔ بہرکیف حضرت ادریس کو بھی اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت اور بلندی و مرتبت اور رفعت شان کے ایک خاص شرف و مقام سے نوازا تھا ۔ اللہ ہمیں ہمیشہ راہ حق و ہدایت پر ثابت قدم رکھے ۔ آمین۔
Ayah 19:58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ حضرات جن کا ذکر ہوا وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے خاص انعام فرمایا اولاد آدم کے پیغمبروں میں سے اور ان لوگوں کی نسل میں سے جن کو ہم نے سوار کیا تھا نوح کے ساتھ ان کی کشتی میں اور ابراہیم (علیہ السلام) اور اسرائیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے اور یہ سب ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت سے نوازا تھا اور ان کو چن لیا تھا مگر اس قدر مرتبہ و مقام کے باوجود ان کی شان عبدیت و بندگی کا عالم یہ تھا کہ جب ان کو پڑھ کر سنائی جاتیں خدائے رحمان کی آیتیں، تو یہ سنتے ہی اس کے حضور سجدے میں گرپڑتے روتے ہوئے

66 حضرات انبیائے کرام کی شان عبدیت و خشیت خداوندی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان قدسی صفات حضرات کی شان عبدیت و بندگی کا عالم یہ تھا کہ جب ان کو خدائے رحمان کی آیات کریمہ پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو یہ سنتے ہی اپنے رب کے حضور روتے ہوئے سجدہ ریز ہوجاتے تھے ۔ صلوات اللہ وسلامہ علیہم اجمعین ۔ اس کے خوف و خشیت اور شوق ورغبت کی بناء پر۔ اسی لئے اس آیت کریمہ پر سجدئہ تلاوت واجب ہے ہر پڑھنے والے اور سننے والے پر۔ بہرکیف اس سے حضرات انبیائے کرام ۔ علیھم الصلوۃ والسلام ۔ کی شان عبدیت اور خشیت خداوندی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ یہ حضرات اس قدر شرف و مقام اور درجہ و فضیلت رکھنے کے باوجود اپنے رب کی آیات سنتے ہی روتے ہوئے اس کے حضور سجدے میں گرپڑتے تھے۔ سو اللہ پاک کے حضور سجدہ کرتے ہوئے رونا ایک امر مطلوب و محمود ہے۔ اسی لیے حدیث شریف میں فرمایا گیا کہ " قرآن پڑھا کرو اور رویا کرو۔ اور اگر رونا نہ آئے تو رونے کی کوشش کیا کرو "۔ سو اس ارشاد ربانی سے حضرات انبیائے کرام ۔ علیہم الصلاۃ والسلام ۔ کی سرگزشتیں سنانے کے اصل مقصود کو واضح فرما دیا گیا کہ یہ حضرات کیسے تھے اور ان کی شان عبدیت و بندگی اور خوف و خشیت خداوندی کی کیفیت کیا تھی۔ اور ان کی نسبت کا دعویٰ اور گھمنڈ رکھنے والے ان کے پیروکاروں کا حال کیا ہے۔ ان کے عمل و کردار کا نمونہ کیا تھا اور ان کے نام لیوا یہود و نصاریٰ اور مشرکین کی دین دشمنی حق اور اہل حق سے عداوت و دشمنی کا حال کیا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Ayah 19:59

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ان کے ایسے ناخلف جانشین ہوئے جنہوں نے ضائع کردیا نماز کو، اور وہ پیچھے لگ گئے اپنی خواہشات کے، سو وہ پا کر رہیں گے انجام اپنی گمراہی کا،

67 برے جانشینوں کا برا انجام ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر ان کے بعد ان کے ایسے ناخلف جانشیں بنے جنہوں نے ضائع کردیا نماز کو اور وہ پیچھے لگ گئے اپنی خواہشات کے۔ سو وہ پہنچ کر رہیں گے اپنی گمراہی کے انجام کو۔ سو برے جانشیں اپنی گمراہی کا انجام پاکر رہیں گے۔ آخرت کے عذاب الیم میں مبتلا ہو کر۔ حالانکہ یہ سب تھے انبیائے کرام کی نسل میں سے۔ پس معلوم ہوا کہ جب تک اپنا ایمان و عقیدہ صحیح اور کردار و عمل درست نہ ہو تو محض بڑوں کی اولاد ہونے سے کچھ نہیں بنتا۔ جس طرح کہ آج کے اہل زیغ و ضلال کا کہنا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ " خلف " کا لفظ جب لام کے سکون کے ساتھ آتا ہے تو اچھے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا بلکہ برے اخلاف کے لیے آتا ہے۔ سو حضرات انبیائے کرام کے ساتھ کسی کی نسبت محض وراثت اور خاندان کی بنا پر حاصل نہیں ہوتی بلکہ ان کے لائے ہوئے دین اور ان کی پیش کردہ شریعت کے حامل اور اس پر عامل ہونے کی بنا پر حاصل ہوئی ہے۔ جبکہ ان بدبختوں کا حال یہ تھا کہ انہوں نے نماز کو ضائع کردیا اور یہ خواہشات کے پیچھے لگ کر ہلاکت و تباہی کے گڑھے میں جا گرے ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ زیغ و ضلال کی ہر شکل سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین۔
Ayahs 19:60–61

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

ہاں مگر جنہوں نے توبہ کرلی، اور وہ ایمان لے آئے سچے دل سے اور انہوں نے کام بھی اچھے کیے تو وہ داخل ہوں گے جنت میں اور ان کی ذرہ برابر کوئی حق تلفی نہ ہوگی،

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

یعنی ہمیشہ رہنے والی ان عظیم الشان جنتوں میں جن کا وعدہ فرما رکھا ہے خدائے رحمان نے اپنے بندوں سے بن دیکھے، بلاشبہ اس کے وعدہ نے بہرحال پورا ہو کر رہنا ہے۔

68 نیکو کاروں کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتوں کی خوشخبری : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ جنہوں نے توبہ اور رجوع الی اللہ کی راہ کو اپنایا ان کے لیے خدائے رحمان نے بن دیکھی جنتوں سے سرفرازی کا وعدہ فرما رکھا ہے۔ یعنی ان جنتوں کو انہوں نے دیکھا نہیں مگر اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے ارشادات کے مطابق ان کو مانتے اور ان پر ایمان رکھتے ہیں کہ اصل مطلوب و معتبر یہی ایمان بالغیب ہی ہے۔ (المراغی، المحاسن، المعارف وغیرہ) ۔ اور غیب کی وہ جنتیں ایسی عظیم الشان اور بےمثال ہونگی کہ اس دنیا میں ان کی کوئی نظیر و مثال ممکن ہی نہیں ہوسکتی۔ نہ کمیت میں اور نہ کیفیت میں اور نہ کسی بھی صفت اور شان کے اعتبار سے۔ اور خاص کر اس اعتبار سے کہ وہ ہمیشہ رہنے والی اور دائمی ہونگی۔ نہ ان کیلئے کوئی فنا ہوگی نہ زوال ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین، ثم آمین یا رب العالمین ویا ارحم الراحمین ویا ذا الجلال والاکرام -
Ayah 19:62

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

وہاں یہ خوش نصیب کوئی بےہودہ بات نہ سننے پائیں گے۔ بجز سلامتی کی دلنواز صداؤں کے اور وہاں ان کو ان کا رزق صبح و شام ملتا رہے گا۔

69 جنت میں سلامتی ہی سلامتی کا دور دورہ ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں پر وہ کوئی لغو اور بیکار بات نہیں سنیں گے سوائے سلام کے "۔ سو وہاں پر سلامتی ہی سلامتی ہوگی اور وہ سلام ہی کے کلمات سنیں گے۔ وہ آپس میں خود بھی ایک دوسرے کو سلام کریں گے۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { تَحِیَّتُہُمْ فِیْہَا سَلامٌ } ۔ (ابراہیم : 23) فرشتے بھی ان کو سلام کر رہے ہوں گے۔ جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ۔ { وَالْمَلَئِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ علیہم من کل باب، سلام علیکم بما صبرتم } ۔ (الرعد :13-14) اور اللہ تعالیٰ شانہ کی طرف سے بھی ان کو سلام کا شرف نصیب ہوگا۔ جیسا کہ فرمایا گیا ۔ { سَلامٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ } ۔ (یس : 51) ۔ اَللّٰہُمَّ شَرِّفْنَا بِہَا بِمَحْضِ مَنِّکَ وَکَرَمِکَ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ ۔ سو اس ارشاد ربانی میں اہل جنت کے لیے عظیم الشان بشارت اور خوشخبری ہے کہ آج ان کو اس دنیا میں اعدائے حق اور دشمنان دین کی طرف سے دلآزار باتیں سننا پڑ رہی ہیں۔ یہ سب ختم ہوجائیں گی اور ان کو وہاں پر دعاء وسلام کی دلنواز صدائیں ہی سننے کو ملیں گی ۔ اللہ نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ 70 اہل جنت کے لیے رزق کا ذکر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہاں ان کو ان کا رزق صبح و شام ملتا رہے گا۔ یعنی ان کو وہاں پر صبح و شام کا کھانا اور جو کچھ وہ چاہیں گے ہمیشہ ملے گا بغیر کسی انقطاع کے۔ اور بدوں کسی کدو کاوش اور محنت و مشقت کے ملے گا۔ اور صبح وشام سے مراد یہاں پر جنت کے صبح وشام ہیں جنکی حقیقت وہیں معلوم ہو سکے گی اور ان کے ان دونوں وقتوں کے کھانے کے درمیان اتنا اور اسی طرح کا فاصلہ اور وقفہ ہوگا جتنا کہ دنیا میں ان کے دونوں وقت کے کھانوں کے درمیان ہوا کرتا تھا۔ ورنہ جنت میں نہ تو اس طرح کے شب و روز ہوں گے اور نہ ہی صبح و شام کے یہ مشہور و معروف سلسلے۔ (ابن کثیر، فتح القدیر، صفوہ اور مراغی وغیرہ) ۔ اور اہل ایمان کے لیے وہاں پر اصل رزق تو خداوند قدوس کا دیدار ہوگا اور اس کا سلام و کلام اور التفات و اکرام۔ یہ چیز ان کو وہاں برابر حاصل رہے گی ۔ اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے ۔ آمین ثم آمین۔ مگر اس کے ساتھ جنت کی دوسری عظیم الشان نعمتوں سے بھی ان کو سرفرازی نصیب ہوگی۔
Ayahs 19:63–65

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہ ہے وہ جنت جس کا وارث بنادیں گے ہم اپنے بندوں میں سے ان لوگوں کو جو پرہیزگار رہے ہوں گے۔

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور اے پیغمبر ﷺ ہم فرشتے تو آپ کے رب کے حکم کے بغیر نہیں اتر سکتے اسی کا ہے وہ سب کچھ جو کہ ہمارے سامنے ہے اور وہ سب کچھ بھی جو کہ ہمارے پیچھے ہے اور جو اس کے درمیان ہے اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں1

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

وہ رب ہے آسمانوں اور زمین کا اور ان سب چیزوں کا جو کہ ان دونوں کے درمیان ہیں پس تم اسی کی بندگی کرو اور پکے رہو اس کی عبادت و بندگی پر کیا تمہارے علم میں ہے کوئی ایسی ہستی جو اس کی ہم پایہ ہو ؟

72 اللہ کا کوئی ہمسر نہیں ۔ سبحانہ وتعالی : سو استفہام انکاری کے طور پر فرمایا گیا کہ " ہے تمہارے علم میں اس کا کوئی ہمسر "۔ اور جب نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر عبادت و بندگی اسی وحدہ لاشریک کی کرو کہ اس کا نہ کوئی شریک ہے نہ ہوسکتا ہے۔ وہ ہر قسم کے شرک اور اس کے شوائب سے پاک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ ۔ اور اس پوری کائنات میں جو بھی کچھ ہے وہ سب اسی وحدہ لاشریک کا پیدا کردہ اور اسی کا دیا بخشا ہے۔ پس عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لاشریک کا حق ہے۔ اور جب اس کا کوئی نظیر و مثیل اور شریک و ہمسر نہیں تو پھر کون ہے جو اس کے ارادے میں اس کا مزاحم ہو سکے ؟ یا اس کا ہاتھ پکڑ سکے ؟ پس آپ اسی کے بھروسہ و اعتماد پر کام کیے جاؤ۔ وہ آپ کی ہر مشکل کو آسان فرما دے گا اور اپنے ہر ارادے کو بروئے کار لے آئے گا کہ اس کی شان بہت بلند وبالا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے جو چاہے کرے ۔ سبحانہ وتعالیٰ -
Ayah 19:66

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور آخرت کا منکر انسان کہتا ہے کہ کیا واقعی جب میں مر چکوں گا تو پھر زندہ کر کے نکال لایا جاؤں گا ؟

73 منکرین کا بعث بعد الموت پر تعجب : سو ارشاد فرمایا گیا کہ منکر انسان بعث بعد الموت پر تعجب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ کیا جب میں مرجاؤں گا تو کیا واقعی مجھے پھر زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ یعنی یہ بہت عجیب امر ہے کہ جب میں مرمٹ کر ختم ہوجاؤنگا تو نئے سرے سے زندہ کرکے پھر اٹھایا جاؤنگا۔ یعنی ایسا نہیں ہوسکتا۔ سو منکر انسان چونکہ اپنی محدود قدرت اور ناقص علم کے اعتبار سے دیکھتا اور سوچتا ہے اس لیے اس کو یہ تعجب اور اچنبھا ہوتا ہے کہ مرمٹ جانے کے بعد ان کو دوبارہ کس طرح زندہ کر کے اٹھایا جائے گا۔ ورنہ حقیقت کے اعتبار سے اس میں تعجب اور اچنبھے کی کوئی وجہ نہیں کہ اس خالق ومالک کی شان ۔ { علی کل شئی قدیر } ۔ کی شان ہے۔ وہ جو چاہے اور جب اور جیسے چاہے کرے۔ اس کیلئے کچھ بھی مشکل نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے یہاں تو صرف حکم وارشاد فرمانے کی دیر ہوتی ہے اور بس۔ جس چیز کے بارے میں حکم فرمایا وہ ہوگئی۔ سو لوگوں کے دوبارہ اٹھانے کے بارے میں بھی صرف اس کی ایک ڈانٹ اور جھڑکی کی دیر ہوگی اور بس۔ جونہی حکم ہوگا یہ سب نکل کر میدان میں موجود ہوں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر صاف اور صریح طور پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { فَاِنَّمَا ہِیَ زَجْرَۃٌ وَّاحِدَۃٌ فَاِذَا ہُمْ بالسَّاہِرَۃِ } ۔ ( النازعات : 13-14) ۔ اللہ تعالیٰ یقین کامل کی دولت سے نوازے اور ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے ۔ آمین۔
Ayah 19:67

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا ایسے انسان کو خود اپنے بارے میں یہ حقیقت یاد نہیں کہ ہم اس سے پہلے خود اس کو پیدا کرچکے ہیں جب کہ یہ کچھ بھی نہ تھا ؟

74 انسان کا خود اپنا وجود بعث بعد الموت کے لیے ایک ٹھوس دلیل : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ انسان کا خود اپنا وجود بعث الموت کیلئے ایک ٹھوس، قوی اور واضح دلیل ہے۔ سو جب ہم معدوم سے موجود اور نیست سے ہست کرسکتے ہیں، پردہ عدم سے نکال کر خلعت وجود سے نواز سکتے ہیں، تو پھر دوبارہ پیدا کردینا ہمارے لئے کیا اور کیونکر مشکل ہوسکتا ہے ؟ سو انسان اگر صحیح طریقے سے خود اپنی ذات اور اپنی جان ہی کے بارے میں غور و فکر سے کام لے تو اس کو بعث بعد الموت کی قوی، واضح اور ٹھوس دلیل خود اپنے وجود ہی سے مل سکتی ہے۔ سو اسکا وجود خود اس کی دلیل ہے۔ بشرطیکہ انسان اپنے بارے میں صحیح طور پر غور وفکر سے کام لے ۔ وباللہ التوفیق -
Ayah 19:68

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

پس سن لیں یہ لوگ کہ قسم ہے تمہارے رب کی ہم ضرور بالضرور اکٹھا کر لائیں گے ان سب کو بھی، اور ان کے شیطانوں کو بھی پھر ہم حاضر کریں گے ان سب کو جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل گھسٹتا ہوا

75 حشر کی قطعیت کا ذکر وبیان : سو حشر کی قطعیت کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " قسم ہے آپ کے رب کی کہ ہم ضرور اکٹھا کرلائیں گے ان کو بھی اور ان کے سب شیطانوں کو بھی "۔ جو ان کو گمراہ کیا کرتے تھے اور جن کے پیچھے لگ کر یہ لوگ اپنے لئے دوزخ کا سامان کیا کرتے تھے۔ سو ان سب کو اس روز ہم اکٹھا کر لائیں گے تاکہ ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا بدلہ پاس کے اور بھگتان بھگت سکے۔ عدل و انصاف کے تقاضے اپنی آخری شکل میں پورے ہو سکیں اور تخلیقِ کائنات کی حکمت ظہور پذیر ہوسکے۔ اور شیاطین سے مراد عام ہے۔ خواہ وہ شیاطین انس ہوں یا وہ شیاطینِ جن۔ ان سب کو اس روز اکٹھا کر کے لایا جائے گا تاکہ وہ اپنے کئے کرائے کا بھگتان بھگتیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اللہ تعالیٰ ہر قسم کے شیاطین کے ہر قسم کے شرور سے ہمیشہ محفوظ اور اپنی پناہ میں رکھے ۔ آمین ثم آمین۔
Ayah 19:69

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہم چھانٹ کر نکال لائیں گے ہر گروہ میں سے ہر ایسے شخص کو جو خدائے رحمان کے مقابلے میں سب سے زیادہ سرکش بنا ہوا تھا

76 مجرموں کی جہنم کے گرد مجرمانہ شکل میں حاضری ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سب کو حاضر ہونا ہے جہنم کے گرد گھٹنوں کے بل "۔ کہ شدت ہول و خوف کی بناء وہ کھڑے نہیں ہو سکیں گے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر فرمایا گیا ۔ { وَتَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً } ۔ (الجاثیۃ : 28) ۔ یا ان کا یہ حشر ان کی تذلیل کیلئے ہوگا کہ انہوں نے دنیا میں تکبر اور اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں حق سے منہ موڑا تھا۔ تو اس کے بدلے میں ان کو اس ذلت اور رسوائی سے دوچار کیا جائے گا کہ جزا جنس عمل سے ہوگی ۔ والعیاذ باللہ ۔ " جثی " جمع ہے " جاث " کی جو کہ مشتق و ماخوذ ہے " جثوا " سے۔ جس کے معنیٰ دوزانو اور اکڑوں بیٹھنے کے ہیں۔ اور ایسا بیٹھنا مجرموں اور ذلت و رسوائی کا بیٹھنا ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جس طرح مجرم لوگ اپنا فیصلہ سننے کے لیے کسی حکمران کے سامنے خوف و دہشت کے مارے محکومانہ اور غلامانہ انداز میں بیٹھتے ہیں۔ سو پوری تاکید کے ساتھ اور قسم کھا کر ارشاد فرمایا گیا کہ ہم ان مجرموں اور ان کے شیطانوں اور گمراہ کن لیڈروں کو اس طرح اکٹھا کریں گے کہ یہ جہنم کے گرد اس طرح مجرمانہ انداز میں بیٹھے اپنے فیصلے کا انتظار کر رہے ہوں گے کہ جہنم کے کس وارڈ میں جانے کا حکم صادر ہوتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم - 77 گمراہ کن لیڈروں کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان : سو اس سے گمراہ کن لیڈروں کی چھانٹی اور ان کے ہولناک انجام کا ذکر وبیان فرمایا گیا ہے ۔ والعیاذ باللہ : سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ ایک روز ہر بڑے سرکش کو ان سب سے چھانٹ کر نکالا جائے گا جو خدا اور اس کے رسول کے سب سے زیادہ مخالف اور سرکش تھے۔ تاکہ وہ اپنے تمردو سرکشی کا قرار واقعی صلہ و بدلہ پا سکے ۔ والعیاذ باللہ ۔ کہ اس نے اس خدائے رحمن کے مقابلہ میں سرکشی کا ارتکاب کیا تھا ۔ والعیاذ باللہ ۔ جس کی رحمتوں اور عنایتوں میں یہ سر تا پا ڈوبا ہوا تھا۔ سو جو بدبخت خدا اور اس کے رسول کی مخالفت و نافرمانی میں سب سے آگے اور پیش پیش تھے اور وہ حق اور اہل حق کے خلاف تحریکیں چلانے اور لیڈریاں کرتے تھے ان سب کو اس روز چھانٹ کر الگ کردیا جائے گا کہ جس طرح انہوں نے دنیا میں لوگوں کو گمراہ کرنے کی مہم میں ان کی قیادت کی تھی اسی طرح اس روز وہ اپنے پیرؤوں کی قیادت و پیشوائی کریں گے اور اپنی قیادت و پیشوائی میں وہ ان کو سیدھے لے جا کر جہنم کے اس ہولناک گڑھے میں ڈالیں گے جس کی ہولناکی کا تصور کرنا بھی اس دنیا میں کسی کے بس میں نہیں۔ سو دنیا میں ضلالت و گمراہی کے قائد اس روز جہنم میں لے جانے میں بھی ان کے قائد ہوں گے۔ جیسا کہ فرعون کے بارے میں دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { یقدم قومہ یوم القیامۃاور دہم النار } ۔ (ہود : 98) یعنی " قیامت کے روز وہ ملعون اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا یہاں تک کہ وہ ان کو دوزخ میں جھونک کر چھوڑے گا " ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا من کل زیغ و ضلال -
Ayah 19:70

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

پھر یہ نہیں کہ اس چھانٹی کے سلسلہ میں ہمیں کسی تحقیق کی ضرورت ہوگی کہ ہم خود ہی خوب جانتے ہیں ان لوگوں کو جو سب سے زیادہ حق دار ہوں گے دوزخ میں جھونک دئیے جانے کے

78 دوزخیوں کے بارے میں پورا علم اللہ ہی کو : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " پھر ہم خوب جانتے ہوں گے کہ کون زیادہ حقدار ہے دوزخ میں جھونکے جانے کا " کہ ہم اپنے علم کامل کے مطابق ان کے ظاہر و باطن کو ایک برابر جانتے ہیں اور ہمیں پوری طرح معلوم ہے کہ کس کا ظلم کتنا ہے اور کس کی سرکشی کس قدر ہے ؟ اور کون کس قدر عذاب و سزا کا مستحق ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو اس وحدہ لاشریک سے کوئی انسان اور اس کا کوئی عمل اور اس کے ظاہر و باطن کی کوئی کیفیت کسی بھی طرح مخفی نہیں رہ سکتی کہ اس کی شان ہے ۔ { علیم بذات الصدور } ۔ یعنی " سینوں کے بھیدوں کو بھی پوری طرح جاننے والا " ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس بندے کو چاہیئے کہ وہ ہمیشہ اس فکر اور کوشش میں رہے کہ اس کے ساتھ اس کے ظاہر و باطن دونوں کا معاملہ صحیح رہے ۔ وباللہ التوفیق ۔ سو وہ وحدہ لاشریک اگر راضی ہوگیا تو سب کام بن گیا۔ نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ دوزخیوں کے بارے میں پورا علم اللہ تعالیٰ ہی کو ہے۔ وہی جانتا ہے کہ کس کو سب سے پہلے دوزخ میں جھونکا جائے اور کس کو دوزخ کے کس طبقے میں رکھا جائے۔ سو اس سے مشرکانہ عقیدئہ شفاعت کی جڑ نکال دی گئی ۔ والعیاذ باللہ جل وعلا -
Ayah 19:71

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور تم میں سے کوئی بھی نہیں جس کا دوزخ پر سے گزر نہ ہو، تمہارے رب کے ذمے ایک لازم اور طے شدہ امر ہے

79 ہر کسی کو دوزخ کے اوپر سے گزرنا ہوگا : سو ارشاد فرمایا گیا " اور تم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں جس کا دوزخ پر سے گزرنا ہو " کہ اہل جنت کو بھی اس کے اوپر سے گزرنا پڑے گا۔ کیونکہ پل صراط کو دوزخ کے اوپر قائم کیا گیا ہوگا مگر مومن صادق کے لئے وہ آگ ٹھنڈی ہوجائے گی۔ اور وہ اس کیلئے اسی طرح برد وسلام بن جائے گی جس طرح کہ نمرود کی آگ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے بن گئی تھی۔ اور اہل ایمان اس سے بحفاظت پار ہوجائیں گے اور ان کے گزرنے کی رفتار بھی ان کے ایمان و یقین کی قوت و ضعف اور اعمال کے درجات کی بناء پر مختلف ہوگی۔ کوئی بجلی کی چمک کی طرح گزر جائے گا۔ کوئی تیز ہوا کی طرح۔ کوئی تیز گھوڑے کی طرح وغیرہ وغیرہ۔ جیسا کہ احادیث میں تفصیل سے وارد ہے۔ اور کفر و باطل والے اس کے اوپر سے گر کر واصل بجہنم ہوجائیں گے ۔ والعیاذ باللہ ۔ سو لفظ " ورود " کے بارے میں حضرات اہل علم کا اختلاف ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ " ورود " کا لفظ یہاں پر " دخول " کے معنیٰ میں ہے۔ سو ہر کسی کو خواہ وہ نیک ہو یا بد اس میں داخل ہونا ہوگا۔ پھر مومن کے لیے تو وہ برد اور سلام بن جائے گی جیسا کہ حضرت ابراہیم کے لیے بن گئی تھی۔ اور حضرت ابن مسعود اور قتادہ وغیرہ کے نزدیک " ورود " کا لفظ یہاں پر " مرور و اجتیاز " کے معنیٰ میں ہے۔ " الورود المرور علی الصراط " ( مدارک وغیرہ ) ۔ اور یہی قول راجح لگتا ہے۔ جیسا کہ ابھی اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ اور حدیث میں وارد ہے کہ دوزخ کی آگ مومن سے کہے گی کہ تو جلدی جلدی گزر جا کہ تیرے نور نے میرے شعلوں کو ٹھنڈا کردیا ہے " جُزْ یَا مومن فان نورک اطفا لہبتی " ( المدارک، الصفوۃ، المراغی، ابن کثیر اور معارف وغیرہ ) ۔