Ayahs 19:80–81وَّنَرِثُهٗ مَا يَقُوْلُ ، یعنی جس مال اور اولاد کا یہ ذکر کر رہا ہے آخرت میں ملنے کا معاملہ تو بہت دور ہے دنیا میں بھی جو کچھ اس کو ملا ہوا ہے اس کو بھی چھوڑنا پڑے گا اور اس کے وارث آخر کار ہم ہوں گے یعنی یہ مال و اولاد اس سے چھین کر بالآخر اللہ کی طرف لوٹ جائے گا۔
وَيَاْتِيْنَا فَرْدًا، اور قیامت کے روز یہ اکیلا ہمارے دربار میں حاضر ہوگا نہ کوئی اولاد ساتھ ہوگی نہ مال۔
Ayah 19:82وَيَكُوْنُوْنَ عَلَيْهِمْ ضِدًّا، یعنی یہ خود تراشیدہ بت اور معبود باطل جن کی عبادت اس لئے کرتے تھے کہ یہ ان کے مددگار ثابت ہوں گے محشر میں اس کے برعکس یہ ان کے دشمن ہوجاویں گے اللہ تعالیٰ ان کو نطق و زبان عطا فرماویں گے اور یہ بولیں گے کہ یا اللہ ان کو عذاب و سزا دیجئے کہ انہوں نے تجھ کو چھوڑ کر ہمیں معبود بنا لیا تھا۔ (قرطبی)
Ayah 19:83خلاصہ تفسیر
(آپ جو ان کی گمراہی سے غم کرتے ہیں تو) کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ہم نے شیاطین کو کفار پر (ابتلاءً) چھوڑ رکھا ہے کہ وہ ان کو (کفر و ضلال پر) خوب ابھارتے (اور اکساتے) رہتے ہیں (پھر جو خود ہی اپنے اختیار سے اپنے بدخواہ کے بہکانے میں آجاوے اس کا کیوں غم کیا جاوے) سو (جب شیاطین ابتلاءً مسلط ہوئے ہیں اور تعجیل سزائے مستحق میں ابتلاء رہتا نہیں تو) آپ ان کے لئے جلدی (عذاب ہونے کی درخواست) نہ کیجئے ہم ان کی باتیں (جن پر سزا ہوگی) خود شمار کر رہے ہیں، (اور وہ سزا ان روز واقع ہوگی) جس روز ہم متقیوں کو رحمٰن (کے دار النعیم) کی طرف مہمان بنا کر جمع کریں گے اور مجرموں کو دوزخ کی طرف پیاسا ہانکیں گے (اور کوئی ان کا سفارشی بھی نہ ہوگا کیونکہ وہاں) کوئی سفارش کا اختیار نہ رکھے گا مگر ہاں جس نے رحمان کے پاس سے اجازت لی ہے (وہ انبیاء و صلحاء ہیں اور اجازت خاص ہے مومنین کے ساتھ پس کفار محل شفاعت نہ ہوئے)۔
معارف و مسائل
تَـــؤ ُ زُّهُمْ اَزًّا، عربی لغت میں لفظ ھَزَّ ، اَزَّ ، فَزَّ ، حَضَّ ، سب ایک معنی میں ہیں یعنی کسی کام کے لئے ابھارنا اور آمادہ کرنا۔ خفت و شدت اور کمی زیادتی کے لحاظ سے ان میں باہمی فرق ہے۔ لفظ اَزَّ کے معنی پوری قوت اور تدبیر و تحریک کے ذریعہ کسی شخص کو کسی کام کے لئے آمادہ بلکہ مجبور کردینے کے ہیں معنی آیت کے یہ ہیں کہ شیاطین ان کو اعمال بد پر ابھارتے رہتے ہیں اور ان کی خوبیاں ان کے دل پر مسلط کردیتے ہیں خرابیوں پر نظر نہیں ہونے دیتے۔
Ayah 19:84اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّا، مطلب یہ ہے کہ آپ ان کے عذاب کے بارے میں جلدی نہ کریں وہ تو عنقریب ہونے ہی والا ہے کیونکہ ہم نے ان کو گنے چنے ایام اور جو مدت دنیا میں رہنے کی دی ہے وہ بہت جلدی پوری ہونے والی ہے اس کے بعد عذاب ہی عذاب ہے نَعُدُّ لَهُمْ ، یعنی ہم ان کیلئے شمار کرتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کی کوئی چیز آزاد نہیں ان کی عمر کے دن رات گنے ہوئے ہیں، ان کے سانس، ان کی نقل و حرکت کا ایک ایک قدم، ان کی لذات ان کی زندگی کا ایک ایک لحظہ ہم گن رہے ہیں، یہ گنتی پوری ہوتے ہی ان پر عذاب ٹوٹ پڑے گا۔
مامون رشید نے ایک مرتبہ سورة مریم پڑھی۔ جب اس آیت پر پہنچے تو حاضرین مجلس جو علماء فقہاء تھے ان میں سے ابن سماک کی طرف اشارہ کیا کہ اس کے متعلق کچھ کہیں۔ انہوں نے عرض کیا کہ جب ہماری سانس گنے ہوئے ہیں ان پر زیادتی نہیں ہو سکتی تو یہ کس قدر جلد ختم ہوجائیں گے اسی کو بعض شعراء نے کہا ہے
حیاتک انفاس تعد فکلما مضی نفس منک انتقصت بہ جزءًا
یعنی تیری زندگی کے سانس گنے ہوئی ہیں، جب ایک سانس گزرتا ہے تو تیری زندگی کا ایک جز کم ہوجاتا ہے کہا جاتا ہے کہ انسان دن رات میں چوبیس ہزار سانس لیتا ہے۔ (قرطبی)
اور بعض حضرات نے فرمایا
وکیف یفرح بالدنیا ولذ تھا فتی یعد علیہ اللفظ والنفس
یعنی دنیا اور اس کی لذت پر وہ شخص کیسے مگن اور بےفکر ہوسکتا ہے جس کے الفاظ اور سانس گنے جارہے ہوں (روح)
Ayah 19:85يَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِيْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًا، لفظ وفا ایسے آنے والوں کے لئے بولا جاتا ہے جو کسی بڑے بادشاہ یا امیر کے پاس اکرام و اعزاز کے ساتھ جائیں بعض روایات حدیث میں ہے کہ یہ لوگ سواریوں پر سوار ہو کر پہنچیں گے اور سواری ہر شخص کی وہ ہوگی جس کو وہ دنیا میں اپنے لئے پسند کرتا تھا۔ اونٹ، گھوڑا یا دوسری سواریاں بعض حضرات نے فرمایا کہ ان کے اعمال صالحہ ان کی مرغوب سواریوں کی صورت اختیار کرلیں گے یہ روایات حدیث روح المعانی اور قرطبی نے نقل کی ہیں۔
Ayah 19:86اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًا، ورد کے لفظی معنے پانی کی طرف جانے کے ہیں اور ظاہر یہ ہے کہ پیاس ہی کے وقت کوئی آدمی یا جانور پانی پر جاتا ہے اس لئے وردا کا ترجمہ پیاسا کیا گیا۔
Ayah 19:87مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا، حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ عہد سے مراد شہادت لا الہ الا اللہ ہے، بعض نے فرمایا کہ عہد سے مراد حفظ کتاب اللہ ہے خلاصہ یہ ہے کہ شفاعت کرنے کا حق ہر ایک کو نہیں ملے گا بجز ان لوگوں کے جو ایمان کے عہد پر مضبوط رہے۔ (روح)
Ayahs 19:88–89خلاصہ تفسیر
اور یہ (کافر) لوگ کہتے ہیں کہ (نعوذ باللہ) اللہ تعالیٰ نے اولاد (بھی) اختیار کر رکھی ہے (چنانچہ نصارٰی کثرت سے اور یہود قلت سے اور مشرکین عرب اس عقیدہ فاسدہ میں مبتلا تھے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ) تم نے (جو) یہ (بات کہی تو) ایسی سخت حرکت کی ہے کہ اس کے سبب کچھ بعید نہیں کہ آسمان پھٹ پڑیں اور زمین کے ٹکڑے اڑ جاویں اور پہاڑ ٹوٹ کر گر پڑیں اس بات سے کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ کی طرف اولاد کی نسبت کرتے ہیں حالانکہ خدا تعالیٰ کی شان نہیں کہ وہ اولاد اختیار کرے (کیونکہ) جتنے کچھ بھی آسمانوں اور زمینوں میں ہیں سب خدا تعالیٰ کے روبرو غلام ہو کر حاضر ہوتے ہیں (اور) اس نے سب کو (اپنی قدرت میں) احاطہ کر رکھا ہے اور (اپنے علم سے) سب کو شمار کر رکھا ہے (یہ حالت تو ان کی فی الحال ہے) اور قیامت کے روز سب کے سب اس کے پاس تنہا حاضر ہوں گے (کہ ہر شخص خدا ہی کا محتاج اور محکوم ہوگا، پس اگر خدا کے اولاد ہو تو خدا ہی کی طرح وجوب وجود و لوازم وجوب کے ساتھ موصوف ہونا چاہئے اور خدا کی یہ صفات ہیں جو مذکور ہوئیں، عموم قدرت، عموم علم۔ اور غیر خدا کی یہ صفتیں ہیں افتقار وانقیاد جو ضد ہیں وجوب کے پھر ضدین کا اجتماع کیونکر ہوسکتا ہے)۔
بلا شبہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اللہ تعالیٰ (ان کو علاوہ نعم مذکورہ اخرویہ کے دنیا میں یہ نعمت دے گا کہ) ان کے لئے (خلائق کے دل میں) محبت پیدا کر دے گا سو (آپ ان کو یہ بشارت دیدیجئے کیونکہ) ہم نے اس قرآن کو آپ کی زبان (عربی) میں اس لئے آسان کیا ہے کہ آپ اس سے متقیوں کو خوشخبری سنا دیں اور (نیز) اس سے جھگڑالو آدمیوں کو خوف دلاویں اور (ان خوف کی چیزوں میں سے نقمت دنیویہ کا ایک یہ بھی مضمون ہے کہ) ہم نے ان کے قبل بہت سے گروہوں کو (عذاب و قہر سے) ہلاک کردیا ہے (سو) کیا آپ ان میں سے کسی کو دیکھتے ہیں یا ان (میں سے کسی) کی کوئی آہستہ آواز سنتے ہیں (یہ کنایہ ہے بےنام و نشان ہونے سے سو کفار اس نقمت دنیویہ کے بھی مستحق ہیں گو کسی مصلحت سے کسی کافر کے لئے اس کا وقوع نہ ہو مگر اندیشہ کے قابل تو ہے)۔
Ayahs 19:90–93معارف و مسائل
وَتَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّا، ان آیات سے معلوم ہوا کہ زمین اور پہاڑ اور اس کی تمام چیزوں میں ایک خاص قسم کا عقل و شعور موجود ہے اگرچہ وہ اس درجہ کا نہ ہو جس پر احکام الٰہی مرتب ہوتے ہیں جیسے انسان کی عقل و شعور۔ یہی عقل و شعور ہے جس کی وجہ سے دنیا کی ہر چیز اللہ کے نام کی تسبیح کرتی ہے جیسا کہ قرآن کریم کا ارشاد ہے (آیت) وَاِنْ مِّنْ شَيْءٍ اِلَّايُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ ، یعنی کوئی چیز دنیا میں ایسی نہیں جو اللہ کی حمد کے ساتھ تسبیح نہ کرتی ہو ان چیزوں کا یہی شعور و ادراک ہے جس کا ذکر ان آیات مذکورہ میں آیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک قرار دیتے خصوصًا اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد قرار دینے سے زمین اور پہاڑ وغیرہ سخت گھبراتے اور ڈرتے ہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ جن و انس کے علاوہ تمام مخلوقات خدا تعالیٰ کے ساتھ شرک سے بہت ڈرتی ہیں اور یہ خطرہ محسوس کرتی ہیں کہ وہ ریزہ ریزہ ہوجائیں۔ (روح المعانی)
Ayahs 19:94–95وَعَدَّهُمْ عَدًّا، یعنی حق تعالیٰ شانہ تمام افسانوں کے اشخاص و اعمال کا پورا علم رکھتے ہیں ان کے سانس ان کے قدم ان کے لقمے اور گھونٹ اللہ کے نزدیک شمار کئے ہوئے ہیں نہ کم ہو سکتے ہیں نہ زیادہ۔
Ayahs 19:96–97سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا، یعنی ایمان اور عمل صالح پر قائم رہنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کردیتے ہیں دوستی اور محبت، یعنی ایمان اور عمل صالح جب مکمل ہوں اور بیرونی عوارض سے خالی ہوں تو ان کا خاصہ یہ ہے کہ مومنین صالحین کے درمیان آپس میں بھی الفت و محبت ہوجاتی ہے۔ ایک نیک صالح آدمی دوسرے نیک آدمی سے مانوس ہوتا ہے اور دوسرے تمام لوگوں اور مخلوقات کے دلوں میں بھی اللہ تعالیٰ ان کی محبت پیدا فرما دیتے ہیں۔
بخاری، مسلم، ترمذی، وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ جب کسی بندے کو پسند فرماتے ہیں تو جبرئیل امین سے کہتے ہیں کہ میں فلاں آدمی سے محبت کرتا ہوں تم بھی ان سے محبت کرو۔ جبرئیل امین سارے آسمانوں میں اس کی منادی کرتے ہیں اور سب آسمان والے اس سے محبت کرنے لگتے ہیں پھر یہ محبت زمین پر نازل ہوتی ہے (تو زمین والے بھی سب اس محبوب خدا سے محبت کرنے لگتے ہیں) اور فرمایا کہ قرآن کریم کی یہ آیت اس پر شاہد ہے یعنی (آیت) اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَيَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا (روح المعانی) اور ہرم بن حیان نے فرمایا کہ جو شخص اپنے پورے دل سے اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ تمام اہل ایمان کے دل اس کی طرف متوجہ فرما دیتے ہیں۔ (قرطبی)
حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام نے جب اپنی اہلیہ ہاجرہ اور شیر خوار صاحبزادہ اسماعیل ؑ کو مکہ کے خشک پہاڑوں کے درمیان ریگستان میں بحکم خدا تعالیٰ چھوڑ کر ملک شام واپس جانے کا ارادہ فرمایا تو ان کے لئے بھی دعا مانگی تھی (آیت) فَاجْعَلْ اَفْىِٕدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْٓ اِلَيْهِمْ یعنی یا اللہ میرے بےکس اہل و عیال کے لئے آپ کچھ لوگوں کے قلوب کو مائل اور متوجہ فرما دیجئے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہزاروں سال گزر چکے ہیں کہ مکہ اور اہل مکہ کی محبت ساری دنیا کے دلوں میں بھر دی گئی ہے اور دنیا کے ہر گوشے سے بڑی بڑی محنت و مشقت اٹھا کر اور عمر بھر کی کمائی خرچ کر کے لوگ پہنچتے رہتے ہیں اور دنیا کے ہر گوشہ کی چیزیں مکہ معظمہ کے بازار میں دستیاب ہوتی ہیں۔
Ayah 19:98اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا، رکز وہ مخفی آواز ہے جو سمجھ میں نہ آئے جیسے مرنے والے کی زبان لڑکھڑانے کے بعد جو آواز ہوتی ہے مطلب آیت کا یہ ہے کہ یہ سب حکومت و سلطنت والے اور شوکت و حشمت اور طاقت و قوت والے جب اللہ کے عذاب میں پکڑے گئے اور فنا کئے گئے تو ایسے ہوگئے کہ ان کی کوئی مخفی آواز اور حس و حرکت بھی سنائی نہیں دیتی۔