19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsمعارف القرآن

Ayah 19:41

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور مذکور کر کتاب میں ابراہیم کا بیشک تھا وہ سچا نبی

خلاصہ تفسیر اور (اے محمد ﷺ آپ اس کتاب (یعنی قرآن) میں (لوگوں کے سامنے حضرت) ابراہیم ؑ کا (قصہ) ذکر کیجئے (تاکہ ان کو توحید و رسالت کا مسئلہ زیادہ منکشف ہوجاوے) وہ (ہر قول فعل میں) بڑے راستی والے (تھے اور) پیغمبر تھے (اور وہ قصہ جس کا ذکر کرنا اس جگہ مقصود ہے اس وقت ہوا تھا) جب کہ انہوں نے اپنے باپ سے (جو کہ مشرک تھا) کہا کہ اے میرے باپ تم ایسی چیز کی کیوں عبادت کرتے ہو جو نہ کچھ سنے اور نہ کچھ دیکھے اور نہ تمہارے کچھ کام آسکے (مراد بت ہیں حالانکہ اگر کوئی دیکھتا سنتا کچھ کام آتا بھی ہو مگر واجب الوجود نہ ہو تب بھی لائق عبادت نہیں چہ جائے کہ ان اوصاف سے بھی عادی ہو تو وہ بدرجہ اولیٰ لائق عبادت نہ ہوگا) اے میرے باپ میرے پاس ایسا علم پہنچا ہے جو تمہارے پاس نہیں آیا (مراد اس سے وحی ہے جس میں احتمال غلطی کا ہو ہی نہیں سکتا پس میں جو کچھ کہہ رہا ہوں قطعاً حق ہے جب یہ بات ہے) تو تم میرے کہنے پر چلو میں تم کو سیدھا رستہ بتلاؤں گا (اور وہ توحید ہے) اے میرے باپ تم شیطان کی پرستش مت کرو (یعنی شیطان کو اور اس کی عبادت کو تو تم بھی برا سمجھتے ہو اور بت پرستی میں شیطان پرستی بالیقین لازم ہے کہ وہی یہ حرکت کراتا ہے۔ اور کسی کی ایسی اطاعت کرنا کہ حق تعالیٰ کے مقابلے میں بھی اس کی تعلیم کو حق سمجھے یہی عبادت ہے پس بت پرستی میں شیطان پرستی ہوئی اور) بیشک شیطان (حضرت) رحمان کا نافرمانی کرنے والا ہے (تو وہ کب اطاعت کے لائق ہوگا) اے میرے باپ، میں اندیشہ کرتا ہوں (اور وہ اندیشہ یقینی ہے) کہ تم پر کوئی عذاب نہ آپڑے (خواہ دنیا میں یا آخرت میں) پھر تم (عذاب میں) شیطان کے ساتھی ہوجاؤ (یعنی جب اطاعت میں اس کا ساتھ دو گے تو نفس عقوبت میں بھی اس کا ساتھ ہوگا گو شیطان کو دنیا میں عذاب نہ ہوا اور اس شیطان کی معیت اور مشارکت فی العقوبت کو کوئی اپنی بھلائی چاہنے والا پسند نہ کرے گا۔ ابرہیم ؑ کی یہ تمام تر نصائح سن کر) باپ نے جواب دیا کہ کیا تم میرے معبودوں سے پھرے ہوئے ہو اے ابراہیم (اور اس لئے مجھے بھی منع کرتے ہو یاد رکھو) اگر تم (اب بتوں کی مذمت سے اور مجھ کو ان کی عبادت سے منع کرنے سے) باز نہ آئے تو میں ضرور تم کو مار پتھروں کے سنگسار کر دوں گا (پس تم اس سے باز آجاؤ) اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مجھ (کو کہنے سننے) سے برکنار رہو، ابراہیم ؑ نے کہا (بہتر) میرا سلام لو (اب تم سے کہنا سننا بےسود ہے) اب میں تمارے لئے اپنے رب سے مغفرت کی (اس طرح) درخواست کروں گا (کہ تم کو ہدایت کرے جس پر مغفرت مرتب ہوتی ہے) بیشک وہ مجھ پر بہت مہربان ہے (اس لئے اسی سے عرض کروں گا جس کا قبول فرمانا یا نہ فرمانا دونوں مختلف اعتبار سے رحمت اور مہربانی ہے) اور (تم اور تمہارے مذہب جب میری حق بات کو بھی مانتے تو تم میں رہنا فضول ہے اس لئے) میں تم لوگوں سے اور جن کی تم خدا کو چھوڑ کر عبادت کر رہے ہو ان سے (بدناً بھی) کنارہ کرتا ہوں (جیسا قلباً پہلے ہی سے برکنار ہوں، یعنی یہاں رہتا بھی نہیں) اور (اطمینان سے علیحدہ ہو کر) اپنے رب کی عبادت کروں گا (کیونکہ یہاں رہ کر اس میں بھی مزاحمت ہوگی) امید (یعنی یقین) ہے کہ اپنے رب کی عبادت کر کے محروم نہ رہوں گا (جیسا بت پرست اپنے باطل معبودوں کی عبادت کر کے محروم رہتے ہیں، غرض اس گفتگو کے بعد ان سے اس طرح علیحدہ ہوئے کہ ملک شام کی طرف ہجرت کر کے چلے گئے) پس ان لوگوں سے اور جن کی وہ لوگ خدا کو چھوڑ کر عبادت کرتے تھے ان سے (اس طرح) علیحدہ ہوگئے (تو) ہم نے ان کو اسحاق (بیٹا) اور یعقوب (پوتا) عطا فرمایا (جو کہ رفاقت کے لئے ان کی بت پرست برادری سے بدرجہا بہتر تھے) اور ہم نے (ان دونوں میں) ہر ایک کو نبی بنایا اور ان سب کو ہم نے (طرح طرح کے کمالات دے کر) اپنی رحمت کا حصہ دیا اور (آئندہ نسلوں میں) ہم نے ان کا نام نیک اور بلند کیا (کہ سب تنظیم اور ثناء کے ساتھ ذکر کرتے ہیں اور اسحٰق کے قبل اسماعیل ان ہی صفات کے ساتھ عطا ہوچکے تھے) معارف و مسائل صدیق کی تعریف صِدِّيْقًا نَّبِيًّا، لفظ صدیق بکسر صاد قرآن کا ایک اصطلاحی لفظ ہے اس کے معنے اور تعریف میں علماء کے اقوال مختلف ہیں۔ بعض نے فرمایا کہ جس شخص نے عمر میں کبھی جھوٹ نہ بولا ہو وہ صدیق ہے اور بعض نے فرمایا کہ جو شخص اعتقاد اور قول و عمل ہر چیز میں صادق ہو یعنی جو دل میں اعتقاد ہو ٹھیک وہی زبان پر وہ اور اس کا ہر فعل اور ہر حرکت و سکون اسی اعتقاد اور قول کے تابع ہو۔ روح المعانی اور مظہری وغیرہ میں اسی آخری معنے کو اختیار کیا ہے اور پھر صدیقیت کے درجات متفاوت ہیں۔ اصل صدیق تو نبی و رسول ہی ہوسکتا ہے اور ہر نبی و رسول کے لئے صدیق ہونا وصف لازم ہے مگر اس کا عکس نہیں کہ جو صدیق ہو اس کا نبی ہونا ضروری ہو بلکہ غیر نبی بھی جو اپنے نبی و رسول کے اتباع میں صدق کا یہ مقام حاصل کرلے وہ بھی صدیق کہلائے گا۔ حضرت مریم کو خود قرآن کریم نے امہ صدیقہ کا خطاب دیا ہے حالانکہ جمہور امت کے نزدیک وہ نبی نہیں، اور کوئی عورت نبی نہیں ہو سکتی۔
Ayahs 19:42–46

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

جی کہا اپنے باپ کو اے باپ میرے کیوں پوجتا ہے اس کو جو نہ سنے اور نہ دیکھے اور نہ کام آئے تیرے کچھ

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

اے باپ میرے مجھ کو آئی ہے خبر ایک چیز کی جو تجھ کو نہیں آئی سو میری راہ چل دکھلا دوں تجھ کو راہ سیدھی

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

اے باپ میرے مت پوج شیطان کو بیشک شیطان ہے رحمن کا نافرمان

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

اے باپ میرے میں ڈرتا ہوں کہیں آ لگے تجھ کو ایک آفت رحمن سے پھر تو ہوجائے شیطان کا ساتھی

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

وہ بولا کیا تو پھرا ہوا ہے میرے ٹھاکروں سے اے ابراہیم اگر تو باز نہ آئے گا تو تجھ کو سنگسار کروں گا اور دور ہوجا میرے پاس سے ایک مدت

اپنے بڑوں کو نصیحت کرنے کا طریقہ اور اس کے آداب يٰٓاَبَتِ عربی لغت کے اعتبار سے یہ لفظ باپ کی تعظیم و محبت کا خطاب ہے۔ حضرت خلیل اللہ علیہ الصلوٰة والسلام کو حق تعالیٰ نے جو مقام جامعیت اوصاف و کمالات کا عطا فرمایا تھا، ان کی یہ تقریر جو اپنے والد کے سامنے ہو رہی ہے اعتدال مزاج اور رعایت اضداد کی ایک بےنظیر تقریر ہے کہ ایک طرف باپ کو شرک و کفر اور کھلی گمراہی میں نہ صرف مبتلا بلکہ اس کا داعی دیکھ رہے ہیں جس کے مٹانے ہی کے لئے خلیل اللہ پیدا کئے گئے ہیں، دوسری طرف باپ کا ادب اور عظمت و محبت ہے ان دونوں ضدوں کو حضرت خلیل اللہ نے کس طرح جمع فرمایا اول تو يٰٓاَبَتِ کا لفظ جو باپ کی مہربانی اور محبت کا داعی ہے ہر جملہ کے شروع میں اس لفظ سے خطاب کیا پھر کسی جملہ میں باپ کی طرف کوئی لفظ ایسا منسوب نہیں جس سے اس کی توہین یا دل آزاری ہو کہ اس کو گمراہ یا کافر کہتے بلکہ حکمت پیغمبرانہ کے ساتھ صرف ان کے بتوں کی بےبسی اور بےحسی کا اظہار فرمایا کہ ان کو خود اپنی غلط روش کی طرف توجہ ہوجائے۔ دوسرے جملہ میں اپنی اس نعمت کا اظہار فرمایا جو اللہ تعالیٰ نے ان کو علوم نبوت کی عطا فرمائی تھی تیسرے اور چوتھے جملے میں اس انجام بد سے ڈرایا جو اس شرک و کفر کے نتیجہ میں آنے والا تھا۔ اس پر بھی باپ نے بجائے کسی غور و فکر یا یہ کہ ان کی فرزندانہ گزارش پر کچھ نرمی کا پہلو اختیار کرتے پورے تشدد کے ساتھ خطاب کیا، انہوں نے تو خطاب يٰٓاَبَتِ کے پیارے لفظ سے کیا تھا جس کا جواب عرف میں یا بنی کے لفظ سے ہونا چاہئے تھا مگر آزر نے ان کا نام لے کر یا ابراہیم سے خطاب کیا اور ان کو سنگسار کرکے قتل کرنے کی دھمکی اور گھر سے نکل جانے کا حکم دے دیا۔ اس کا جواب حضرت خلیل اللہ کی طرف سے کیا ملتا ہے وہ سننے اور یاد رکھنے کے قابل ہے فرمایا
Ayah 19:47

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

کہا تیری سلامتی رہے میں گناہ بخشواؤں گا تیرا اپنے رب سے بیشک وہ ہے مجھ پر مہربان

سَلٰمٌ عَلَيْكَ ، یہاں لفظ سلام دو معنے کے لئے ہوسکتا ہے اول یہ کہ یہ سلام مقاطعہ ہو یعنی کسی سے قطع تعلق کرنے کا شریفانہ اور مہذب طریقہ یہ ہے کہ بات کا جواب دینے کے بجائے لفظ سلام کہہ کر علیحدہ ہوجائے جیسا کہ قرآن کریم نے اپنے مقبول و صالح بندوں کی صفت میں بیان فرمایا ہےوَّاِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا، یعنی جب جاہل لوگ ان سے جاہلانہ خطاب کرتے ہیں تو یہ ان سے دو بدو ہونے کے بجائے لفظ سلام کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ باوجود مخالفت کے میں تمہیں کوئی گزند اور تکلیف نہ پہنچاؤں گا۔ اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ یہاں سلام عرفی سلام ہی کے معنے میں ہو، اس میں فقہی اشکال یہ ہے کہ کسی کافر کو ابتداء سلام کرنا حدیث میں ممنوع ہے صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لا تبداء وا الیھود والنصارٰی بالسلام (یعنی یہود و نصارٰی کو ابتداءً سلام نہ کرو) مگر اس کے بالمقابل بعض روایات حدیث میں ایک ایسے مجمع کو ابتدائی سلام کرنا خود رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے جس میں کفار و مشرکین اور مسلمان سب جمع تھے جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم ہی میں حضرت اسامہ کی روایت سے ثابت ہے۔ اسی لئے فقہاء امت کا اس کے جواز و عدم جواز میں اختلاف ہوا۔ بعض صحابہ وتابعین اور امہ مجتہدین کے قول و عمل سے اس کا جواز ثابت ہوتا ہے بعض سے عدم جواز، جس کی تفصیل قرطبی نے احکام القرآن میں اسی آیت کے تحت بیان کی ہے۔ اور امام نخعی نے یہ فیصلہ فرمایا کہ اگر تمہیں کسی کافر یہودی نصرانی سے ملنے کی کوئی دینی یا دنیوی ضرورت پیش آجائے تو اس کو ابتدائی سلام کرنے میں مضائقہ نہیں اور بےضرورت سلام کی ابتداء کرنے سے بچنا چاہئیے۔ اس میں مذکورہ دونوں حدیثوں کو تطبیق ہوجاتی ہے واللہ اعلم۔ (قرطبی) سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّيْ ، یہاں بھی یہ اشکال ہے کہ کسی کافر کے لئے استغفار کرنا شرعاً ممنوع و ناجائز ہے۔ حضرت رسول اللہ ﷺ نے اپنے چچا ابو طالب سے فرمایا تھا کہ واللہ لاستغفرن لک مالم انہ عنہ (یعنی بخدا میں آپ کے لئے اس وقت تک ضرور استغفار یعنی دعا مغفرت کرتا رہوں گا جب تک اللہ کی طرف سے مجھے منع نہ فرما دیا جائے)۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ (یعنی نبی اور ایمان والوں کے لئے جائز نہیں ہے کہ مشرکین کے لئے استغفار کریں) اس آیت کے نازل ہونے پر آپ نے چچا کے لئے استغفار کرنا چھوڑ دیا۔ جواب اشکال کا یہ ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ کا باپ سے وعدہ کرنا کہ آپ کے لئے استغفار کروں گا یہ ممانعت سے پہلے کا واقعہ ہے اس کے بعد ممانعت کردی گئی سورة ممتحنہ میں حق تعالیٰ نے خود اس واقعہ کو بطور استشناء ذکر فرما کر اس کی اطلاع دے دی ہے (آیت) اِلَّا قَوْلَ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ لَاَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ اور اس سے زیادہ واضح سورة توبہ میں آیت مذکورہ (آیت) مَا كَان للنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا کے بعد دوسری آیت میں فرمایا وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِيْمَ لِاَبِيْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَھَآ اِيَّاهُ ۚ فَلَمَّا تَـبَيَّنَ لَهٗٓ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ جس سے معلوم ہوا کہ یہ استغفار اور اس کا وعدہ باپ کے کفر پر جمے رہنے اور خدا کا دشمن ثابت ہونے سے پہلے کا تھا جب یہ حقیقت واضح ہوگئی تو انہوں نے بھی براءت کا اعلان کردیا۔
Ayah 19:48

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور چھوڑتا ہوں تم کو اور جن کو تم پوجتے ہو اللہ کے سوا اور میں بندگی کروں گا اپنے رب کی، امید ہے کہ نہ رہوں گا اپنے رب کی بندگی کر کے محروم

وَاَعْتَزِلُكُمْ وَمَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَاَدْعُوْا رَبِّيْ ، ایک طرف تو حضرت خلیل اللہ ؑ نے باپ کے ادب و محبت کی رعایت میں یہ اتنہا کردی جس کا ذکر اوپر آچکا ہے دوسری طرف یہ بھی نہیں ہونے دیا کہ حق کے اظہار اور اس پر مضبوطی کو کوئی ادنی سی ٹھیس لگے، باپ نے جو گھر سے نکل جانے کا حکم دیا تھا اس کو اس جملہ میں بخوشی منظور کرلیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتلا دیا کہ میں تمہارے بتوں سے بیزار ہوں صرف اپنے رب کو پکارتا ہوں۔
Ayahs 19:49–50

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

پھر جب جدا ہوا ان سے اور جن کو وہ پوجتے تھے اللہ کے سوا بخشا ہم نے اس کو اسحاق اور یعقوب اور دونوں کو نبی کیا

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور دیا ہم نے ان کو اپنی رحمت سے اور کیا ان کے واسطے سچا بول اونچا۔

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَمَا يَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ ۙ وَهَبْنَا لَهٗٓ اِسْحٰقَ وَيَعْقُوْبَ ، اس جملے سے پہلے جملے میں ابراہیم ؑ کا یہ قول آیا ہے کہ میں امید کرتا ہوں کہ میں اپنے پروردگار سے دعا کرنے میں ناکام و نامراد نہیں ہوں گا۔ ظاہر یہ ہے کہ گھر اور خاندان سے جدائی کے بعد تنہائی کی وحشت وغیرہ کے اثرات سے بچنے کی دعا مراد تھی مذکورہ جملہ میں اس دعا کی قبولیت اس طرح بیان فرمائی گئی ہے کہ جب ابراہیم ؑ نے اللہ کے لئے اپنے گھر، خاندان اور ان کے معبودوں کو چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی مکافات اس طرح فرمائی کہ ان کو صاحبزادہ اسحٰق ؑ عطا فرمایا اور ساتھ ہی اس کا عمر دراز پانا اور صاحب اولاد ہونا بھی لفظ یعقوب بڑھا کر ذکر فرما دیا اور صاحبزادہ کا عطا ہونا اس کی دلیل ہے کہ اس سے پہلے نکاح ہوچکا تھا، تو اس کا حاصل یہ ہوا کہ باپ کے خاندان سے بہتر ایک مستقل خاندان دے دیا جو انبیاء صلحاء پر مشتمل تھا۔
Ayah 19:51

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور مذکور کر کتاب میں موسیٰ کا بیشک وہ تھا چنا ہوا اور تھا رسول نبی

خلاصہ تفسیر اور اس کتاب (یعنی قرآن) میں موسیٰ ؑ کا بھی ذکر کیجئے (یعنی لوگوں کو سنائیے ورنہ کتاب میں ذکر کرنے والا تو فی الحقیقت اللہ تعالیٰ ہے) وہ بلا شبہ اللہ تعالیٰ کے خاص کئے ہوئے (بندے) تھے اور وہ رسول بھی تھے، نبی بھی تھے اور ہم نے ان کو کوہ طور کی داہنی جانب سے آواز دی اور ہم نے ان کو راز کی باتیں کرنے کے لئے مقرب بنایا اور ہم نے ان کو اپنی رحمت (اور عنایت) سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر عطا کیا (یعنی ان کی درخواست کے موافق ان کو نبی کیا کہ ان کی مدد کریں) اور اس کتاب میں اسماعیل ؑ کا بھی ذکر کیجئے بلا شبہ وہ وعدے کے (بڑے) سچے تھے اور وہ رسول بھی تھے نبی بھی تھے اور پروردگار کے نزدیک پسندیدہ تھے اور اس کتاب میں ادریس ؑ کا بھی ذکر کیجئے بیشک وہ بڑی راستی والے نبی تھی اور ہم نے ان کو (کمالات میں) بلند رتبہ تک پہنچا دیا یہ (حضرات جن کا شروع سورت سے یہاں تک ذکر ہوا زکریا ؑ سے ادریس ؑ تک یہ) وہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے (خاص) انعام فرمایا ہے (چنانچہ نبوت سے بڑھ کر کون سی نعمت ہوگی) منجملہ (دیگر) انبیاء (علیہم السلام) کے (یہ وصف سب مذکورین میں مشترک ہے اور یہ سب) آدم ؑ کی نسل سے (تھے) اور بعض ان میں ان لوگوں کی نسل سے (تھے) جن کو ہم نے نوح ؑ کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا (چنانچہ بجز ادریس ؑ کے کہ وہ اجداد نوح ؑ کی نسل سے ہیں باقی سب میں یہ وصف ہے) اور (بعضے ان میں) ابراہیم ؑ اور یعقوب ؑ کی نسل سے (تھے چناچہ حضرت زکریا و یحییٰ و عیسیٰ و موسیٰ (علیہم السلام) دونوں کی اولاد میں تھے اور اسحاق و اسماعیل و یعقوب (علیہم السلام) صرف حضرت ابراہیم کی اولاد میں تھے) اور (یہ سب حضرات) ان لوگوں میں سے (تھے) جن کو ہم نے ہدایت فرمائی اور ان کو مقبول بنایا (اور باوجود اس مقبولیت و اختصاص کے ان سب حضرات موصوفین کی عبدیت کی یہ کیفیت تھی کہ) جب ان کے سامنے (حضرت) رحمٰن کی آیتیں پڑھی جاتی تھیں تو (غایت افتقار و انکسار وانقیاد کے اظہار کے لئے) سجدہ کرتے ہوئے اور روتے ہوئے (زمین پر) گر جاتے تھے۔ معارف و مسائل كَانَ مُخْلَصًا، مخلص بفتح لام وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے خالص کرلیا ہو یعنی جس کو غیر اللہ کی طرف التفات نہ ہو، اس نے اپنے نفس اور تمام خواہشات کو اللہ کی مرضی کے لئے مخصوص کردیا ہو۔ یہ شان خصوصی طور پر انبیاء (علیہم السلام) کی ہوتی ہے جیسا کہ قرآن میں دوسری جگہ ارشاد ہے اِنَّآ اَخْلَصْنٰهُمْ بِخَالِصَةٍ ذِكْرَى الدَّارِ ، یعنی ہم نے ان کو مخصوص کردیا ہے ایک خاص کام یعنی دار آخرت کی یاد کے لئے۔ امت میں جو حضرات کاملین انبیاء (علیہم السلام) کے نقش قدم پر ہوں ان کو بھی اس مقام کا ایک درجہ ملتا ہے اس کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ قدرتی طور پر گناہوں اور برائیوں سے بچا دئیے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی حفاظت ان کے ساتھ ہوتی ہے۔
Ayah 19:52

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور پکارا ہم نے اس کو داہنی طرف سے طور پہاڑ کی اور نزدیک بلایا اس کو بھید کہنے کو

مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ ، یہ مشہور پہاڑ ملک شام میں مصر اور مدین کے درمیان واقع ہے آج بھی اسی نام سے مشہور ہے حق تعالیٰ نے اس کو بھی بہت سی چیزوں میں ایک خصوصیت و امتیاز دیا ہے۔ الْاَيْمَنِ ، طور کی یہ داہنی جانب حضرت موسیٰ ؑ کے اعتبار سے بتلائی گئی ہے کیونکہ وہ مدین سے چلے تھے جب طور کے بالمقابل پہنچے تو طور ان کی داہنی جانب تھا۔ نَجِيًّا، سرگوشی اور خصوصی کلام کو مناجات اور جس شخص سے ایسا کلام کیا جائے اس کو نجی کہا جاتا ہے۔
Ayah 19:53

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور بخشا ہم نے اس کو اپنی مہربانی سے بھائی اس کا ہارون نبی

وَوَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَآ اَخَاهُ هٰرُوْنَ ، ھبہ کے لفظی معنے عطیہ کے ہیں، حضرت موسیٰ ؑ نے دعا کی تھی کہ ان کی امداد کے لئے حضرت ہارون کو بھی نبی بنادیا جائے دعا قبول کی گئی اسی کو لفظ وھبنا سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی ہم نے عطیہ دے دیاموسیٰ ؑ کو ہارون کا۔ اسی لئے حضرت ہارون کو ھبة اللہ بھی کہا جاتا ہے۔ (مظہری)
Ayah 19:54

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور مذکور کر کتاب میں اسماعیل کا وہ تھا وعدہ کا سچا اور تھا رسول نبی

وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِسْمٰعِيْلَ ، ظاہر یہی ہے کہ اس سے مراد حضرت اسماعیل بن ابراہیم ؑ ہیں مگر ان کا ذکر ان کے والد اور بھائی ابراہیم و اسحٰق کے ذکر کے ساتھ نہیں فرمایا بلکہ حضرت موسیٰ ؑ کا ذکر درمیان میں آنے کے بعد ان کا ذکر فرمایا۔ شاید اس سے مقصود ان کے ذکر کا خاص اہتمام ہو کہ ضمنی لانے کے بجائے مستقلاً ذکر کیا گیا اور یہاں جتنے انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر کیا گیا ہے ان میں ان کے زمانہ بعثت کی ترتیب نہیں رکھی گئی کیونکہ ادریس ؑ جن کا ذکر ان سب کے بعد آرہا ہے وہ زمانے کے لحاظ سے ان سب سے مقدم ہیں۔ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ ، ایفاء وعدہ ایک ایسا خلق حسن ہے کہ ہر شریف آدمی اس کو ضروری سمجھتا ہے اور اس کے خلاف کرنے کو ایک رذیل حرکت قرار دیا جاتا ہے حدیث میں وعدہ خلافی کو نفاق کی علامت بتلایا ہے، اسی لئے اللہ کا کوئی نبی و رسول ایسا نہیں جو صادق الوعد نہ ہو مگر اس سلسلہ کلام میں خاص خاص انبیاء (علیہم السلام) کے ذکر کے ساتھ کوئی خاص وصف بھی ذکر کیا گیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ وصف دوسروں میں نہیں بلکہ اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ ان میں یہ خاص صفت ایک امتیازی حیثیت رکھتی ہے جیسے ابھی حضرت موسیٰ ؑ کے ذکر کے ساتھ ان کا مخلص ہونا ذکر فرمایا ہے حالانکہ یہ صفت بھی تمام انبیاء (علیہم السلام) میں عام ہے مگر حضرت موسیٰ ؑ کو اس میں ایک خاص امتیاز تھا اس لئے ان کے ذکر میں اس کا ذکر فرمایا گیا۔ حضرت اسماعیل ؑ کا صدق وعدہ میں امتیاز اس بناء پر ہے کہ انہوں نے جس چیز کا وعدہ اللہ سے یا کسی بندہ سے کیا اس کو بڑی مضبوطی اور اہتمام سے پورا کیا، انہوں نے اللہ سے وعدہ کیا تھا کہ اپنے آپ کو ذبح کرنے کے لئے پیش کردیں گے اور اس پر صبر کریں گے اس میں پورے اترے۔ ایک شخص سے ایک جگہ ملنے کا وعدہ کیا وہ وقت پر نہ آیا تو اس کے انتظار میں تین دن اور بعض روایات میں ایک سال اس کا انتظار کرتے رہے (مظہری) اور ہمارے رسول ﷺ سے بھی ترمذی میں بروایت عبداللہ بن ابی الحمساء ایسا ہی واقعہ وعدہ کرکے تین دن تک اسی جگہ انتظار کرنے کا منقول ہے۔ (قرطبی) ایفائے وعدہ کی اہمیت اور اس کا درجہ ایفائے وعدہ انبیاء و صلحاء کا وصف خاص اور تمام شریف انسانوں کی عادت ہے اس کے خلاف کرنا فساق فجار رذیل لوگوں کی خصلت ہے۔ حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے العدة دین، وعدہ ایک قرض ہے یعنی جس طرح قرض کی ادائیگی انسان پر لازم ہے اسی طرح وعدہ پورا کرنے کا اہتمام بھی لازم ہے۔ دوسری ایک حدیث میں یہ الفاظ ہیں وای المومن واجب یعنی وعدہ مومن کا واجب ہے۔ حضرات فقہاء نے باتفاق یہ فرمایا ہے کہ وعدہ کا قرض ہونا اور ایفاء وعدہ کا واجب ہونا اس معنی میں ہے کہ بلا عذر شرعی اس کو پورا نہ کرنا گناہ ہے لیکن وہ ایسا قرض نہیں جس کی چارہ جوئی عدالت سے کی جاسکے اور زبردستی وصول کیا جاسکے جس کو فقہاء کی اصطلاح میں یوں تعبیر کیا جاتا ہے کہ دیانةً واجب ہے قضاء واجب نہیں۔ (قرطبی وغیرہ)
Ayah 19:55

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور حکم کرتا تھا اپنے گھر والوں کو نماز کا اور زکوٰة کا اور تھا اپنے رب کے یہاں پسندیدہ

مصلح کا فرض ہے کہ اصلاح کا کام اپنے اہل و عیال سے شروع کرے كَانَ يَاْمُرُ اَهْلَهٗ بالصَّلٰوةِ وَالزَّكٰوةِ ، حضرت اسماعیل ؑ کے خصوصی اوصاف میں ایک یہ بھی بیان فرمایا کہ وہ اپنے اہل و عیال کو نماز اور زکوٰة کا حکم دیتے تھے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ کام تو ہر مومن مسلمان کے ذمہ واجب ہے کہ اپنے اہل و عیال کو نیک کاموں کی ہدایت کرتا رہے قرآن حکیم میں عام مسلمانوں کو خطاب ہے قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا، یعنی بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے، پھر اس میں حضرت اسماعیل کی خصوصیت کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ یہ حکم اگرچہ عام ہے اور سبھی مسلمان اس کے مکلف ہیں لیکن حضرت اسماعیل ؑ اس کے اہتمام و انتظام میں امتیازی کوشش فرماتے تھے جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کو بھی یہ خصوصی ہدایت ملی تھی کہ وَاَنْذِرْ عَشِيْرَتَكَ الْاَقْرَبِيْنَ یعنی اپنے خاندان کے قریبی رشتہ داروں کو اللہ کے عذاب سے ڈرائیے آپ نے اس کی تعمیل میں اپنے خاندان کو جمع کر کے خصوصی خطاب فرمایا۔ دوسری بات یہاں قابل غور یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) سب کے سب پوری قوم کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوتے ہیں اور وہ سبھی کو پیغام حق پہنچاتے اور امر الہی کا پابند کرتے ہیں، اہل و عیال کی خصوصیت میں کیا حکمت ہے ؟ بات یہ ہے کہ دعوت پیغمبرانہ کے خاص اصول ہیں ان میں یہ اہم بات ہے کہ جو ہدایت عام خلق اللہ کو دی جائے اس کو پہلے اپنے گھر سے شروع کرے۔ اپنے گھر والوں کو اس کا ماننا اور منوانا نسبتہ آسان بھی ہوتا ہے اس کی نگرانی بھی ہر وقت کی جاسکتی ہے اور وہ جب کسی خاص رنگ کو اختیار کرلیں اور وہ اس میں پختہ ہوجاویں تو اس سے ایک دینی ماحول پیدا ہو کر دعوت کو عام کرنے اور دوسروں کی اصلاح کرنے میں بڑی قوت پیدا ہوجاوے گی۔ اصلاح خلق کے لئے سب سے زیادہ موثر چیز ایک صحیح دینی ماحول کا وجود میں لانا ہے۔ تجربہ شاہد ہے کہ ہر بھلائی یا برائی تعلیم و تعلم اور افہام و تفیہم سے زیادہ ماحول کے ذریعہ پھیلتی اور بڑھتی ہے۔
Ayah 19:56

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور مذکور کر کتاب میں ادریس کا وہ تھا سچا نبی

وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ اِدْرِيْسَ ، حضرت ادریس ؑ حضرت نوح ؑ سے ایک ہزار سال پہلے حضرت نوح ؑ کے اجداد میں سے ہیں (روح المعافی بحوالہ مستدرک حاکم) اور یہ حضرت آدم ؑ کے بعد پہلے نبی و رسول ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے تیس صحیفے نازل فرمائے (کمافی حدیث ابی ذر زمخشری) اور ادریس ؑ سب سے پہلے انسان ہیں جن کو علم نجوم اور حساب بطور معجزہ عطا کیا گیا (بحر محیط) اور سب سے پہلے انسان ہیں جنہوں نے قلم سے لکھنا اور کپڑا سینا ایجاد کیا ان سے پہلے لوگ عموماً جانوروں کی کھال بجائے لباس استعمال کرتے تھے اور سب سے پہلے ناپ تول کے طریقے بھی آپ نے ہی ایجاد فرمائے اور اسلحہ کی ایجاد بھی آپ سے شروع ہوئی۔ آپ نے اسلحہ تیار کر کے بنو قابیل سے جہاد کیا (بحر محیط، قرطبی، مظہری، روح)
Ayah 19:57

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور اٹھا لیا ہم نے اس کو ایک اونچے مکان پر

ڎوَّرَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِيًّا، یعنی ہم نے ادریس ؑ کو مقام بلند پر اٹھا لیا معنی یہ ہیں کہ ان کو نبوت و رسالت اور قرب الہٰی کا خاص مقام عطا فرمایا گیا۔ اور بعض روایات میں جو ان کا آسمان پر اٹھانا منقول ہے ان کے متعلق ابن کثیر نے فرمایا ھذا من اخبار کعب الاحبار الاسرائیلیات وفی بعضہ نکارة یہ کعب احبار کی اسرائیلی روایات میں سے ہے اور ان میں سے بعض میں نکارت و اجنبیت ہے۔ اور قرآن کریم کے الفاظ مذکورہ بہرحال اس معاملہ میں صریح نہیں کہ یہاں رفعت درجہ مراد ہے یا زندہ آسمان میں اٹھانا مراد ہے اس لئے ان کا رفع الی السماء قطعی نہیں اور تفسیر قرآن اس پر موقف نہیں۔ (بیان القرآن) فائدہ از بیان القرآن رسول اور نبی کی تعریف میں فرق اور باہمی نسبت رسول اور نبی کی تعریف میں متعدد اقوال ہیں، آیات مختلف میں غور کرنے سے جو بات احقر کے نزدیک محقق ہوئی وہ یہ ہے کہ ان دونوں کے مفہوم میں نسبت عموم و خصوص من وجہ کی ہے۔ رسول وہ ہے جو مخاطبین کو شریعت جدیدہ پہنچائے خواہ وہ شریعت خود اس رسول کے اعتبار سے بھی جدید ہو جیسے تورات وغیرہ یا صرف ان کی امت کے اعتبار سے جدید ہو جیسے اسماعیل ؑ کی شریعت وہ دراصل حضرت ابراہیم ؑ کی قدیم شریعت ہی تھی لیکن قوم جرہم جن کی طرف ان کو مبعوث فرمایا تھا ان کو اس شریعت کا علم پہلے سے نہ تھا، حضرت اسماعیل ؑ ہی کے ذریعہ ہوا۔ اس معنی کے اعتبار سے رسول کے لئے نبی ہونا ضروری نہیں جیسے فرشتے کہ وہ رسول تو ہیں مگر نبی نہیں ہیں یا جیسے حضرت عیسیٰ ؑ کے فرستادہ قاصد جن کو آیت قرآن ۘاِذْ جَاۗءَهَا الْمُرْسَلُوْنَ میں رسول گہا گیا ہے حالانکہ وہ انبیاء نہیں تھے۔ اور نبی وہ ہے جو صاحب وحی ہو خواہ شریعت جدیدہ کی تبلیغ کرے یا شریعت قدیمہ کی جیسے اکثر انبیاء بنی اسرائیل شریعت موسویہ کی تبلیغ کرتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک اعتبار سے لفظ رسول نبی سے عام ہے اور دوسرے اعتبار سے لفظ نبی بہ نسبت رسول کے عام ہے جس جگہ یہ دونوں لفظ ایک ساتھ استعمال کئے گئے جیسا کہ آیات مذکورہ میں رسولاً نبیاً ، آیا ہے وہاں تو کوئی اشکال نہیں کہ خاص اور عام دونوں جمع ہو سکتے ہیں کوئی تضاد نہیں لیکن جس جگہ یہ دو لفظ باہم متقابل آئے ہیں جیسے وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِيٍّ میں تو اس جگہ بقرینہ مقام لفظ نبی کو خاص اس شخص کے معنی میں لیا جائے گا جو شریعت سابقہ کی تبلیغ کرتا ہے۔
Ayah 19:58

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن پر انعام کیا اللہ نے پیغمبروں میں آدمی کی اولاد میں اور ان میں جن کو سوار کرلیا ہم نے نوح کے ساتھ اور ابراہیم کی اولاد میں اور اسرائیل کی اور ان میں جن کو ہم نے ہدایت کی اور پسند کیا جب ان کو سنائے آیتیں رحمن کی گرتے ہیں سجدہ میں اور روتے ہوئے۔

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِيّٖنَ مِنْ ذُرِّيَّةِ اٰدَمَ ، اس سے مراد صرف حضرت ادریس ؑ ہیں، وَمِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ اس سے مراد صرف ابراہیم ؑ ہیں، وَّمِنْ ذُرِّيَّةِ اِبْرٰهِيْمَ ، اس سے مراد اسماعیل و اسحٰق و یعقوب (علیہم السلام) ہیں، وَاِسْرَاۗءِيْلَ ۡ اس سے مراد حضرت موسیٰ و ہارون و حضرت زکریا و یحییٰ و عیسیٰ (علیہم السلام) ہیں۔ اِذَا تُتْلٰى عَلَيْهِمْ اٰيٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّبُكِيًّا، سابقہ آیات میں چند اکابر انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر خاص طور سے کیا گیا ہے جس میں ان کی عظمت شان کو بیان کیا گیا ہے، چونکہ انبیاء کی عظمت میں عوام سے غلو کرنے کا خطرہ تھا جیسے یہود نے حضرت عزیر کو اور نصارٰی نے حضرت عیسیٰ ؑ کو خدا ہی بنادیا اس لئے اس مجموعہ کے بعد ان سب کا اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ گزار اور خوف و خشیت سے بھرپور ہونا اس آیت میں ذکر فرما دیا گیا تاکہ افراط وتفریط کے درمیان رہیں۔ (بیان القرآن) تلاوت قرآن کے وقت بکاء یعنی آب دیدہ ہونا صفت انبیاء ہے اس سے معلوم ہوا کہ آیات قرآن کی تلاوت کے وقت بکاء (رونے) کی کیفیت پیدا ہونا محمود اور انبیاء (علیہم السلام) کا وصف ہے، رسول اللہ ﷺ سے اور صحابہ وتابعین اور اولیاء اللہ سے بکثرت اس کے واقعات منقول ہیں۔ قرطبی نے فرمایا کہ علماء نے اس بات کو مستحب قرار دیا ہے کہ قرآن کریم میں جو آیت سجدہ تلاوت کی جائے اس کے سجدے میں اس کے مناسب دعا کی جائے، مثلاً سورة سجدہ میں یہ دعا کریں اللھم اجعلنی من الساجدین لوجھک المسبحین بحمدک واعوذ بک ان اکون من المستکبرین عن امرک اور سبحان الذی کے سجدہ میں یہ دعا کریں اللھم اجعلنی من الباکین الیک الخاشعین لک اور آیت مذکورہ خَرُّوْا سُجَّدًا کے وجدہ میں یہ دعا کریں اللھم اجعلنی من عبادک المنعم علیہم المھدیین الساجدین لک الباکین عند تلاوة ایاتک (قرطبی)
Ayahs 19:59–61

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کی جگہ آئے ناخلف کھو بیٹھے نماز اور پیچھے پڑگئے مزوں کے سو آگے دیکھ لیں گے گمراہی کو

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

مگر جس نے توبہ کی اور یقین لایا اور کی نیکی سو وہ لوگ جائیں گے بہشت میں اور ان کا حق ضائع نہیں ہوگا

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

کچھ باغوں میں بسنے کے جن کا وعدہ کیا ہے رحمن نے اپنے بندوں سے ان کے بن دیکھے بیشک ہے اس کے وعدہ پر پہنچنا

خلاصہ تفسیر پھر ان (مذکورین) کے بعد (بعض) ایسے ناخلف پیدا ہوئے جنہوں نے نماز کو برباد کیا (خواہ اعتقاد کہ انکار کیا یا عملاً کہ اس کے ادا کرنے میں یا حقوق و آداب ضروریہ میں کوتاہی کی) اور (نفسانی جائز) خواہشوں کی پیروی کی (جو ضروری طاقت سے غافل کرنے والی تھیں) سو یہ لوگ عنقریب (آخرت میں) خرابی دیکھیں گے (خواہ ابدی ہو یا غیر ابدی) ہاں مگر جس نے (کفر و معصیت سے) توبہ کرلی (اور مطلب کفر سے توبہ کرنے کا یہ ہے کہ) ایمان لے آیا اور (معصیت سے توبہ کرنا یہ ہے کہ) نیک کام کرنے لگا سو یہ لوگ (بلاخرابی دیکھے) جنت میں جاویں گے اور (جزا ملنے کے وقت) ان کا ذرا نقصان نہ کیا جاوے گا (یعنی ہر نیک عمل کی جزا ملے گی یعنی) ان ہمیشہ رہنے کے باغوں میں (جاویں گے) جن کا رحمٰن نے اپنے بندوں سے غائبانہ وعدہ فرمایا ہے (اور) اس کے وعدہ کی ہوئی چیز کو یہ لوگ ضرور پہنچیں گے اس (جنت) میں وہ لوگ کوئی فضول بات نہ سننے پاویں گے (کیونکہ وہاں فضول بات ہی نہ ہوگی) بجز (فرشتوں اور ایک دوسرے کے) سلام (کرنے) کے (اور ظاہر ہے کہ سلام سے بہت ہی خوشی اور راحت ہوتی ہے تو وہ فضول نہیں) اور ان کو کھانا صبح و شام ملا کرے گا (یعنی یہ تو معین طور پر ہوگا اور یوں دوسرے وقت بھی اگر چاہیں گے ملے گا) یہ جنت (جس کا ذکر ہوا) ایسی ہے کہ ہم اپنے بندوں میں سے اس کا مالک ایسے لوگوں کو بناویں گے جو کہ خدا سے ڈرنے والے ہوں (جو مبنیٰ ہے ایمان اور عمل صالح کا) معارف و مسائل خَلف، یہ لفظ بسکون لام برے قائم بقام بری اولاد کے لئے اور بفتح لام اچھے قائم مقام اور اچھی اولاد کے لئے استعمال ہوتا ہے (مظہری) مجاہد کا قول ہے کہ یہ واقعہ قرب قیامت میں صلحاء امت کے ختم ہوجانے کے بعد ہوگا کہ نماز کی طرف التفات نہ رہے گا اور فسق و فجور کھلم کھلا ہونے لگے گا۔ نماز بےوقت یا بلا جماعت پڑھنا اضاعت نماز اور گناہ عظیم ہے اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ ، نماز کے ضائع کرنے سے مراد جمہور مفسرین عبداللہ بن مسعود، نخعی، قاسم، مجاہد، ابراہیم، عمر بن عبدالعزیز وغیرہ کے نزدیک نماز کو اس وقت سے موخر کر کے پڑھنا ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ نماز کے آداب و شرائط میں سے کسی میں کوتاہی کرنا جس میں وقت بھی داخل ہے اضاعت نماز میں شامل ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ اضاعت صلوٰۃ سے مراد بےجماعت کے گھر میں نماز پڑھ لینا ہے (قرطبی، بحر محیط) حضرت فاروق اعظم نے اپنے سب عمال حکومت کو یہ ہدایت نامہ لکھ کر بھیجا تھا ان اھم امرکم عندی الصلوٰة۔ فمن ضیعھا فھو لما سواھا اضیع (مؤ طاء مالک) میرے نزدیک تمہارے سب کاموں میں سب سے زیادہ اہم نماز ہے تو جو شخص نماز کو ضائع کرتا ہے وہ دوسرے تمام احکام دین کو بھی اور زیادہ ضائع کرے گا۔ حضرت حذیفہ نے ایک شخص کو دیکھا کہ نماز کے آداب اور تعدیل ارکان میں کوتاہی کرتا ہے تو اس سے دریافت کیا کہ تم کب سے یہ نماز پڑھتے ہو، اس نے کہا کہ چالیس سال سے، حضرت حذیفہ نے فرمایا کہ تم نے ایک بھی نماز نہیں پڑھی اور اگر تم اسی طرح نمازیں پڑھتے ہوئے مر گئے تو یاد رکھو کہ فطرت محمد ﷺ کے خلاف مرو گے۔ ترمذی میں حضرت ابو مسعود انصاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو نماز میں اقامت نہ کرے۔ مراد یہ ہے کہ جو رکوع اور سجدہ میں اور رکوع سے کھڑے ہو کر یا دو سجدوں کے درمیان سیدھا کھڑا ہونا یا سیدھا بیٹھنے کا اہتمام نہ کرے اس کی نماز نہیں ہوتی۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس شخص نے وضو اور طہارت میں کوتاہی کی یا نماز کے رکوع سجدے میں یا ان دونوں کے درمیان سیدھا کھڑے ہونے بیٹھنے میں جلد بازی کی اس نے نماز کو ضائع کردیا۔ حضرت حسن نے اضاعت صلوٰة اور اتباع شہوات کے بارے میں فرمایا کہ مسجدوں کو معطل کردیا اور صنعت و تجارت اور لذات و خواہشات میں مبتلا ہوگئے۔ امام قرطبی ان روایات کو نقل کر کے فرماتے ہیں کہ آج اہل علم اور معروف بالصلاح لوگوں میں ایسے آدمی پائے جاتے ہیں جو نماز کے آداب سے غافل، محض نقل و حرکت کرتے ہیں۔ یہ چھٹی ہجری کا حال تھا جس میں ایسے لوگ خال خال پائے جاتے تھے آج یہ صورت حال نمازیوں میں عام ہوگئی، الا ماشاء اللہ۔ نعوذ باللہ من شرور انفسنا واعمالنا وَاتَّـبَعُوا الشَّهَوٰتِ ، شہوات سے مراد دنیا کی وہ لذتیں ہیں جو انسان کو اللہ کی یاد اور نماز سے غافل کریں، حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ شاندار مکانوں کی تعمیر اور ایسی شاندار سواریوں کی سواری جس پر لوگوں کی نظریں اٹھیں، اور ایسا لباس جس میں عام لوگوں میں امتیاز کی شان نظر آئے شہوات مذکورہ میں داخل ہیں (قرطبی) فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا، لفظ غیّ عربی زبان میں رشاد کے بالمقابل ہے ہر بھلائی اور خیر کو رشاد اور ہر برائی اور شر کو غیّ کہا جاتا ہے حضرت عبداللہ بن مسعود سے منقول ہے کہ غیّ جہنم کے ایک غار کا نام ہے جس میں سارے جہنم سے زیادہ طرح طرح کے عذاب جمع ہیں۔ ابن عباس نے فرمایا کہ غیّ جہنم کے ایک غار کا نام ہے جس سے جہنم بھی پناہ مانگتی ہے اس کو اللہ تعالیٰ نے اس زنا کار کے لئے تیار کیا ہے جو اپنی زنا کاری پر مصر اور عادی ہے اور اس شراب خور کے لئے جو شراب کا عادی ہے اور اس سود خور کے لئے جو سود خوری سے باز نہیں آتا اور ان لوگوں کے لئے جو ماں باپ کی نافرمانی کریں اور جھوٹی شہادت دینے والوں کے لئے اور اس عورت کے لئے جو کسی دوسرے بچہ کو اپنے شوہر کا بچہ بنا دے۔ (قرطبی)
Ayahs 19:62–63

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

نہ سنیں گے وہاں بک بک سوائے سلام اور ان کے لئے ہے ان کی روزی وہاں صبح اور شام

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہ وہ بہشت ہے جو میراث دیں گے ہم اپنے بندوں میں جو کوئی ہوگا پرہیزگار۔

لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا، لغو سے مراد کلام باطل فضول اور گالی گلوچ اور ایذاء دینے والا کلام ہے کہ اہل جنت اس سے پاک صاف رہیں گے کوئی کلمہ ان کے کان میں ایسا نہ پڑے گا جو ان کو رنج و تکلیف پہنچائے۔ اِلَّا سَلٰمًا، یہ استشناء منقطع ہے مراد یہ ہے کہ وہاں جس کا جو کلام سننے میں آوے گا وہ سلامتی اور بھلائی اور خوشی میں اضافہ کرے گا۔ اصطلاحی سلام بھی اس میں داخل ہے جو اہل جنت آپس میں ایک دوسرے کو کریں گے اور اللہ کے فرشتے ان سب کو کریں گے۔ (قرطبی) وَلَهُمْ رِزْقُـهُمْ فِيْهَا بُكْرَةً وَّعَشِيًّا، جنت میں یہ نظام شمسی اور طلوع و غروب باللیل والنہار تو نہ ہوگا، ایک قسم کی روشنی ہمہ وقت رہے گی مگر رات اور دن اور صبح اور شام کے امتیازات کسی خاص انداز سے ہوں گے۔ اسی صبح و شام میں اہل جنت کا رزق ان کو پہنچے گا۔ یہ تو ظاہر ہے کہ اہل جنت کو جس وقت جس چیز کی خواہش ہوگی وہ اسی وقت بلا تاخیر پوری کی جاوے گی (وَلَهُمْ مَّا يَشْتَهُوْنَ) اعلان عام ہے پھر صبح و شام کی تخصیص کی وجہ انسانی عادت و فطرت کی بناء پر ہے کہ وہ صبح و شام کھانے پینے کا عادی ہوتا ہے۔ عرب کہتے ہیں کہ جس شخص کو صبح شام کی غذا پوری ملے وہ آرام و عیش والا ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ نے یہ آیت تلاوت فرما کر کہا کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مؤمنین کا کھانا دن میں دو مرتبہ ہوتا ہے صبح اور شام۔ اور بعض حضرات نے فرمایا کہ یہاں صبح شام کا لفظ بول کر عموم مراد ہے جیسے رات دن کا لفظ بھی یا مشرق مغرب کا لفظ عموم کے لئے بولا جاتا ہے کوئی خاص وقت یا جگہ مراد نہیں ہوتی تو مطلب یہ ہوگا کہ ان کا رزق ان کی خواہش کے موافق ہر وقت موجود رہے گا۔ واللہ اعلم (قرطبی)
Ayah 19:64

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

اور ہم نہیں اترتے مگر حکم سے تیرے رب کے اسی کا ہے جو ہمارے آگے ہے اور جو ہمارے پیچھے اور جو اس کے بیچ میں ہے اور تیرا رب نہیں ہے بھولنے والا

خلاصہ تفسیر شان نزول صحیح بخاری میں حدیث ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جبرئیل ؑ سے یہ آرزو ظاہر فرمائی کہ ذرا زیادہ آیا کرو، اس پر آیت نازم ہوئی اور (ہم آپ کی درخواست کا جبرئیل ؑ کی طرف سے جواب دیتے ہیں سنئے وہ یہ ہے کہ) ہم (یعنی فرشتے) بدون آپ کے رب کے حکم کے وقتاً فوقتاً نہیں آسکتے اسی کی (ملک) ہیں ہمارے آگے کی سب چیزیں (مکان ہو یا زمان، مکانی ہو یا زمانی) اور (اسی طرح) ہمارے پیچھے کی سب چیزیں اور جو چیزیں ان کے درمیان میں ہیں (آگے کا مکان تو جو منہ کے سامنے ہو اور پیچھے کا جو پشت کی طرف ہو اور مابین ذلک جو زمانہ حال ہو) اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں (چنانچہ یہ سب امور آپ کو پہلے سے معلوم ہیں مطلب یہ ہے کہ ہم تکویناً و تشریعاً مسخر امر ہیں اپنی رائے سے ایک مکان سے دوسرے مکان میں یا جب ہم چاہیں کہیں آجا نہیں سکتے لیکن جب ہمارا بھیجنا مصلحت ہوتا ہے تو حق تعالیٰ بھیج دیتے ہیں یہ احتمال نہیں کہ شاید کسی مصلحت کے وقت بھول جاتے ہوں) وہ رب ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان سب چیزوں کا جو ان دونوں کے درمیان میں ہیں سو (جب ایسا حاکم ومالک ہے تو اے مخاطب) تو اس کی عبادت (اور اطاعت) کیا کر اور (ایک آدھ بار نہیں بلکہ) اس کی عبادت پر قائم رہ (اور اگر اس کی عبادت نہ کرے گا تو کیا دوسرے کی عبادت کرے گا) بھلا تو کسی کو اس کا ہم صفت جانتا ہے (یعنی کوئی اس کا ہم صفت نہیں لائق عبادت بھی کوئی نہیں، پس اسی کی عبادت کرنا ضروری ہوا) اور انسان (منکر آخرت) یوں کہتا ہے کہ میں جب مرجاؤں گا تو کیا پھر زندہ کر کے قبر سے نکالا جاؤں گا (اللہ تعالیٰ جواب دیتے ہیں کہ) کیا (یہ) انسان اسی بات کو نہیں سمجھتا کہ ہم اس کو اس کے قبل (عدم سے) وجود میں لاچکے ہیں، اور یہ (اس وقت) کچھ بھی نہ تھا (جب ایسی حالت سے حیات کی طرف لانا آسان ہے تو دوبارہ حیات دینا تو بدرجہ اولیٰ آسان ہے) سو قسم ہے آپ کے رب کی ہم ان کو (قیامت میں زندہ کر کے موقف حشر میں) جمع کریں گے اور (ان کے ساتھ) شیاطین کو بھی (جو دنیا میں ان کے ساتھ رہ کر بہکاتے سکھاتے تھے جیسا دوسری آیت میں ہے قال قَرِيْنُهٗ رَبَّنَا مَآ اَطْغَيْتُهٗ) پھر ان (سب) کو دوزخ کے ارد گرد اس حالت سے حاضر کریں گے کہ (مارے ہیبت کے) گھٹنوں کے بل گرے ہوں گے پھر (ان کفار کے) ہر گروہ میں سے (جیسے یہود و نصارٰی و مجوس بت پرست) ان لوگوں کو جدا کریں گے جو ان میں سب سے زیادہ اللہ سے سرکشی کیا کرتے تھے (تاکہ ایسوں کو اوروں سے پہلے دوزخ میں داخل کریں) پھر (یہ نہیں کہ اس جدا کرنے میں ہم کو کسی تحقیقات کی ضرورت پڑے کیونکہ) ہم (خود) ایسے لوگوں کو خوب جانتے ہیں جو دوزخ میں جانے کے زیادہ (یعنی اول) مستحق ہیں (پس اپنے علم سے ایسوں کو الگ کر کے اول ان کو پھر دوسرے کفار کو دوزخ میں داخل کریں گے اور یہ ترتیب صرف اولیت میں ہے، اور آخریت نہ ہونے میں تو سب مساوی ہیں اور جہنم کا وجود ایسا یقینی ہے کہ اس کا معائنہ سب مومن و کافر کو کرایا جائے گا گو صورت اور غرض معائنہ کی مختلف ہوگی کفار کو بطور دخول کے اور تعذیب ابدی کے واسطے اور مؤمنین کو بطور عبور پل صراط اور زیادت شکر اور فرح کے واسطے کہ اس کو دیکھ کر جو جنت میں پہنچیں گے تو اور زیادہ شکر کریں گے اور خوش ہوں گے) اور (بعض گنہگاروں کو سزائے محدود کے لئے جو کہ درحقیقت تطہیر ہے اسی عموم معائنہ کی خبر دی جاتی ہے کہ) تم میں سے کوئی بھی نہیں جس کا اس پر گزر نہ ہو (کسی کا دخولاً اور کسی کا عبوراً) یہ (وعدہ کے موافق) آپ کے رب کے اعتبار سے (بطور) لازم (مؤ کد کے) ہے جو (ضرور) پورا ہو کر رہے گا پھر (اس جہنم پر عبور سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اس میں مومن و کافر برابر ہیں بلکہ) ہم ان لوگوں کو نجات دے دیں گے جو خدا سے ڈر (کر ایمان لائے) تھے، (خواہ اول ہی دفعہ میں نجات ہوجاوے جیسے مؤمنین کاملین کو اور خواہ بعد کسی قدر تکلیف کے جیسے کہ مؤمنین ناقصین کو) اور ظالموں کو (یعنی کافروں کو) اس میں (ہمیشہ کے لئے) ایسی حالت میں رہنے دیں گے کہ (مارے رنج و غم کے) گھٹنوں کے بل گر پڑیں گے۔
Ayahs 19:65–67

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

رب آسمانوں کا اور زمین کا اور جو ان کے بیچ ہے سو اسی کی بندگی کر اور قائم رہ اس کی بندگی پر کسی کو پہچانتا ہے تو

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور کہتا ہے آدمی کیا جب میں مر جاؤں تو پھر نکلوں گا زندہ ہو کر

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا یاد نہیں رکھتا آدمی کہ ہم نے اس کو بنایا پہلے سے اور وہ کچھ چیز نہ تھا

معارف و مسائل وَاصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ ، لفظ اضطبار کے معنے مشقت و تکلیف پر ثابت قدم رہنا ہے اس میں اشارہ ہے کہ عبادت پر دوام و ثبات مشقت چاہتا ہے عبادت گزار کو اس کے لئے تیار رہنا چاہیے۔ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِيًّا، لفظ سمی کے مشہور معنے ہم نام کے ہیں اور یہ عجیب اتفاق ہے کہ مشرکین اور بت پرستوں نے اگرچہ عبادت میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ بہت سے انسانوں، فرشتوں پتھروں اور بتوں کو شریک کر ڈالا تھا اور ان سب کو الٰہ یعنی معبود کہتے تھے مگر کسی نے لفظ اللہ معبود باطل کا نام کبھی نہیں رکھا۔ یہ ایک تکوینی اور تقدیری امر تھا کہ دنیا میں اللہ کے نام سے کوئی بت اور کوئی الٰہ باطل موسوم نہیں ہوا اس لئے اس معنے کے اعتبار سے بھی مضمون آیت کا واضح ہے کہ دنیا میں اللہ کا کائی ہمنام نہیں۔ اور اکثر مفسرین مجاہد، ابن جبیر، قتادہ، ابن عباس سے اس جگہ اس لفظ کے معنی مثل اور شبیہ کے منقول ہیں اس کا مطلب واضح ہے کہ صفات کمال میں اللہ تعالیٰ کا کائی مثیل و عدیل یا نظیر نہیں ہے۔
Ayah 19:68

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

سو قسم ہے تیرے رب کی ہم گھیر بلائیں گے ان کو اور شیطانوں کو پھر سامنے لائیں گے گرد دوزخ کے گھٹنوں پر گرے ہوئے

لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَالشَّيٰطِيْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ ، اس جگہ والشَّيٰطِيْنَ کا واؤ با معنی مَعَ ہے اور مراد یہ ہے کہ ہر کافر کو اس کے شیطان کے ساتھ ایک سلسلہ میں باندھ کر اٹھایا جائے گا اس صورت میں یہ صرف کافروں کے حشر کا بیان ہوگا، اور اگر مراد عام لی جائے جس میں مومن و کافر سب داخل ہیں تو شیاطین کے ساتھ ان سب کے حشر کا مطلب یہ ہوگا کہ ہر کافر تو اپنے شیطان کے ساتھ بندھا ہوا حاضر ہوگا اور مومنین بھی اس موقف حشر میں الگ نہیں ہوں گے اس لحاظ سے سب کے ساتھ شیاطین کا اجتماع ہوجائے گا۔ (قرطبی) حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِيًّا ابتدائے حشر کے وقت مومنین و کفار اور سعداء و اشقیاء سب جہنم کے گرد جمع کئے جاویں گے اور سب پر ہیبت طاری ہوگی سب گھٹنوں کے بل گرے ہوئے ہوں گے۔ پھر مومنین اور سعداء کو جہنم سے عبور کرا کر جنت میں داخل کیا جائے گا تاکہ اس منظر جہنم کو دیکھنے کے بعد ان کو مکمل خوشی اور دائمی اور مخالفین دین پر شماتت اور اس پر اللہ کا مزید شکر نصیب ہو۔
Ayahs 19:69–70

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر جدا کرلیں گے ہم ہر ایک فرقہ میں سے جونسا ان میں سے سخت رکھتا تھا رحمن سے اکڑ

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

پھر ہم کو خوب معلوم ہے جو بہت قابل ہیں اس میں داخل ہونے کے

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِيْعَةٍ ، لفظ شیعہ اصل لغت میں کسی خاص شخص یا خاص عقیدہ کے متبعین کو کہا جاتا ہے اس لئے بمعنی فرقہ بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ اور مراد آیت کی یہ ہے کہ کفار کے مختلف فرقوں میں جو سب سے زیادہ سرکش ہوگا اس کو ان سب میں ممتاز کر کے مقدم کیا جاوے گا۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ جہنم میں اس ترتیب سے داخل کیا جائے گا کہ جس کا جرم سب سے زیادہ ہوگا وہ سب سے پہلے اس کے بعد دوسرے اور تیسرے درجے کے مجرمین داخل جہنم کئے جاویں گے۔ (مظہری)
Ayahs 19:71–72

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور کوئی نہیں تم میں جو نہ پہنچے گا اس پر ہوچکا یہ وعدہ تیرے رب پر لازم مقرر

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر بچائیں گے ہم ان کو جو ڈرتے رہے اور چھوڑ دیں گے گنہگاروں کو اس میں اوندھے گرے ہوئے۔

وَاِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا، یعنی کوئی انسان مومن یا کافر ایسا نہ رہے گا جس کا ورود جہنم پر نہ ہو ورود سے مراد دخول نہیں بلکہ عبور ہے جیسا کہ ابن مسعود کی ایک روایت میں لفظ مرور بھی آیا ہے۔ اور اگر دخول مراد لیا جاوے تو مومنین متقین کا دخول اس طرح ہوگا کہ جہنم ان کے لئے برد وسلام بن جائے گی ان کو اس کی کوئی تکلیف محسوس نہ ہوگی جیسا کہ حضرت ابو سمیہ کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی نیک آدمی یا فاجر آدمی باقی نہ رہے گا جو ابتداء جہنم میں داخل نہ ہو مگر اس وقت مومنین متقین کے لئے جہنم برد وسلام بن جائے گی جیسے ابراہیم ؑ کے لئے نار نمرود برد وسلام بنادی گئی تھی۔ اس کے بعد مومنین کے یہاں سے نجات دے کر جنت میں لے جایا جائے گا یہی معنے آیت کے اس اگلے جملے کے ہیں ثُمَّ نُـنَجِّي الَّذِيْنَ اتَّقَوْا یہ مضمون حضرت ابن عباس سے بھی منقول ہے اور قرآن کریم میں جو لفظ ورود کا آیا ہے اگر اس کے معنے دخول کے بھی لئے جاویں تو دخول بطور عبور کے مراد ہوگا اس لئے کوئی تضاد نہیں۔
Ayahs 19:73–75

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب سنائے ان کو ہماری آیتیں کھلی ہوئی کہتے ہیں جو لوگ کہ منکر ہیں ایمان والوں کو دونوں فرقوں میں کس کا مکان بہتر ہے اور کس کی اچھی لگتی ہے مجلس

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

اور کتنی ہلاک کرچکے ہم پہلے ان سے جماعتیں وہ ان سے بہتر تھے سامان میں اور نمود میں

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

تو کہہ جو رہا بھٹکتا سو چاہئے اس کو کھینچ لے جائے رحمن لنبا یہاں تک کہ جب دیکھیں گے جو وعدہ ہوا تھا ان سے یا آفت اور یا قیامت سو تب معلوم کرلیں گے کس کا برا ہے مکان اور کس کی فوج کمزور ہے

خلاصہ تفسیر اور جب ان منکر لوگوں کے سامنے ہماری (وہ) کھلی کھلی آیتیں پڑھی جاتی ہیں (جن میں مومنین کا حق پر ہونا اور کفار کا باطل پر ہونا مذکور ہوتا ہے) تو یہ کافر لوگ مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ (یہ بتلاؤ ہم) دونوں فریقوں میں (یعنی ہم میں اور تم میں دنیا میں) مکان کس کا زیادہ اچھا ہے اور محفل کس کی اچھی ہے (یعنی ظاہر ہے کہ خانگی اور مجلسی ساز و سامان اور اہل و اعوان میں ہم بڑھے ہوئے ہیں۔ یہ مقدمہ تو محسوس ہے اور دوسرا مقدمہ عرفی ہے کہ انعام و احسان اور عطاء نعمت اس شخص کے لئے ہوتا ہے جو دینے والے کے نزدیک محبوب اور پسند ہو، ان دونوں مقدموں سے ثابت ہوا کہ ہم اللہ کے محبوب و مقبول ہیں اور تم مغضوب و مخذول۔ آگے اللہ تعالیٰ ایک جواب الزامی اور ایک تحقیقی دیتے ہیں۔ پہلا جواب تو یہ ہے کہ یہ لوگ ایسی بات کہتے ہیں) اور (یہ نہیں دیکھتے کہ) ہم نے ان سے پہلے بہت سے ایسے ایسے گروہ (ہیبت ناک سزاؤں سے کہ بالیقین عذاب تھے) ہلاک کئے ہیں جو سامان اور نمود میں ان سے بھی (کہیں زیادہ) اچھے تھے (اس سے معلوم ہوا کہ مقدمہ ثانیہ غلط ہے بلکہ کسی حکمت اور مصلحت سے نعمت دنیویہ مبغوض و مردود کو بھی دی جاسکتی ہے، آگے دوسرا جواب ہے کہ اے پیغمبر ﷺ آپ فرما دیجئے کہ جو لوگ گمراہی میں ہیں (یعنی تم) اللہ تعالیٰ ان کو ڈھیل دیتا چلا جا رہا ہے (یعنی اس نعمت دنیوی میں یہ حکمت ہے کہ مہلت دے کر اتمام حجت کر دے جیسا دوسری آیت میں ہے اَوَ لَم نُعَمِّرکُم مَّا یَتَذَکَّرُ فیہِ مَن تَذَ کَّرَ ، الخ اور یہ مہلت چند روزہ ہے) یہاں تک کہ جس چیز کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے جب اس کو دیکھ لیں گے خواہ عذاب کو (دنیا میں) خواہ قیامت کو (دوسرے عالم میں) سو (اس وقت) ان کو معلوم ہوجاوے گا کہ برا مکان کس کا ہے اور کمزور مددگار کس کے ہیں (یعنی دنیا میں جو اپنے اہل مجلس کو اپنا مددگار سمجھتے ہیں اور فخر کرتے ہیں وہاں معلوم ہوگا کہ ان میں کتنا زور ہے کیونکہ وہاں تو کسی کا کوئی زور ہوگا ہی نہیں۔ اسی کو اضعف فرمایا تھا اور (مسلمانوں کا یہ حال ہے کہ) اللہ تعالیٰ ہدایت والوں کو (دنیا میں تو) ہدایت بڑھاتا ہے (یعنی اصل سرمایہ یہ ہے کہ اگر اس کے ساتھ مال و دولت نہ ہو مضر نہیں) اور (آخرت میں ظاہر ہوگا کہ) جو نیک کام ہمیشہ باقی رہنے والے ہیں وہ تمہارے رب کے نزدیک ثواب میں بھی بہتر ہے اور انجام میں بھی بہتر ہیں (پس ان کو ثواب میں بڑی بڑی نعمتیں ملیں گی جن میں مکان اور باغات سب کچھ ہوں گے اور انجام ان اعمال کا ابدیت اور دوام ہے ان نعمتوں کا، پس کیفیةً وکمیةً مسلمانوں ہی کی حالت اخیرہ بہتر ہوگی اور اخیر ہی کا اعتبار بھی ہے)۔ معارف و مسائل خَيْرٌ مَّقَامًا وَّاَحْسَنُ نَدِيًّا، یہاں کفار نے مسلمانوں کو مغالطہ دینے کے لئے دو چیزیں پیش کیں۔ اول دنیا کا مال و دولت اور ساز و سامان دوسرے چشم خدم اور اپنا جتھہ اور جماعت کہ یہ بظاہر کفار کو بہ نسبت مسلمانوں کے زیادہ حاصل تھی اور یہی دو چیزیں ہیں جو انسان کے لئے نشہ کا کام کرتی ہیں اور ان کا فخر و غرور اچھے اچھے عقلمند ذہین لوگوں کو غلط راستوں پر ڈال دیتا ہے اور پچھلے دور کے بڑے بڑے سرمایہ داروں اور حکومت و سلطنت والوں کی عبرت خیز تاریخ سے غافل کر کے اپنے موجودہ حال کو اپنا ذاتی کمال اور دائمی راحت کا ذریعہ باور کرا دیتا ہے۔ بجز ان لوگوں کے جو قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق دنیا کے مال و دولت اور عزت و جاہ کسی کو اپنا ذاتی کمال یا دائمی ساتھی نہ سمجھیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر زبان سے بھی ادا کریں اور اس کی دی ہوئی نعمت کو خرچ کرنے میں بھی اس کے احکام کی پابندی کریں اور اس کے فنا یا کم ہوجانے کے خطرہ سے بھی کسی وقت غافل نہ ہوں تو وہی اس شر سے محفوظ رہتے ہیں۔ جیسے انبیاء (علیہم السلام) میں، حضرت سلیمان اور داؤد (علیہما السلام) اور صحابہ کرام میں بہت سے اغنیاء صحابہ اور اسی طرح امت میں لاکھوں اولیاء، صلحاء جن کو حق تعالیٰ نے دنیا کا مال و دولت بھی خوب عطا فرمایا اور دین کی دولت اور اپنا خوف بھی بےانتہاء۔ کفار کے اس مغالطہ کو قرآن حکیم نے اس طرح دور فرمایا کہ دنیا کی چند روزہ نعمت و دولت نہ اللہ کے نزدیک مقبول ہونے کی علامت ہو سکتی ہے نہ دنیا ہی میں وہ کسی ذاتی کمال کی علامت سمجھی جاتی ہے۔ کیونکہ بہت سے بےعقل جاہلوں کو دنیا میں یہ چیزیں عقلاء اور دانشمندوں سے زیادہ مل جاتی ہیں۔ پچھلی تاریخ اٹھا کر دیکھو تو یہ حقیقت کھل جائے گی کہ ایسی ایسی بلکہ ان سے بھی زیادہ کتنی دولتوں اور شوکتوں کے ڈھیر زمین پر ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ رہا حشم و خدم اور دوست و احباب کی کثرت سو اس کی حقیقت بھی اول تو دنیا ہی میں ظاہر ہوجاتی ہے کہ آڑے وقت میں کوئی کام نہیں آتا۔ پھر اگر دنیا میں وہ برابر خدمت کرتے بھی رہے تو وہ کَے دن کی، اس کے بعد محشر کے میدان میں ان کا کوئی ساتھی ہوگا ؟
Ayah 19:76

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور بڑھاتا جاتا ہے اللہ سوجھنے والوں کو سوجھ اور باقی رہنے والی نیکیاں بہتر رکھتی ہیں تیرے رب کے یہاں بدلہ اور بہتر پھرجانے کو جگہ۔

وَالْبٰقِيٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّخَيْرٌ مَّرَدًّا، باقیات صالحات کی تفسیر میں مختلف اقوال ہیں جس کی تفصیل سورة کہف میں گزر چکی ہیں اور مختار قول یہی ہے کہ اس سے مراد وہ تمام طاعات اور نیک کام ہیں جن کے فوائد باقی رہنے والے ہیں۔ مردا کا لفظ بمعنے مرجع ہے مراد انجام و عاقبت ہے۔ مراد آیت کی واضح ہے کہ اعمال صالحہ ہی اصل دولت ہیں جن کا ثواب بڑا اور انجام دائمی راحت ہے۔
Ayah 19:77

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

بھلا تو نے دیکھا اس کو جو منکر ہوا ہماری آیتوں سے اور کہا مجھ کو مل کر رہے گا مال اور اولاد

خلاصہ تفسیر (اے محمد ﷺ بھلا آپ نے اس شخص (کی حالت) کو بھی دیکھا جو ہماری آیتوں کے ساتھ (جن کا حق یہ ہے کہ ان پر ایمان لایا جاتا جن میں سے آیات بعث بھی ہیں) کفر کرتا ہے اور (علیٰ سبیل الاستہزاء) کہتا ہے کہ مجھ کو (آخرت میں) مال اور اولاد ملیں گے (مطلب یہ کہ اس کی حالت بھی قابل تعجب ہے آگے اس کا رد ہے کہ) کیا یہ شخص غیب پر مطلع ہوگیا ہے یا اس نے اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد (اس بات کا) لے لیا ہے (یعنی اس دعوے کا علم آیا بلا واسطہ اسباب ہوا ہے کہ علم غیب ہے یا بواسطہ اسباب ہوا ہے پھر چونکہ وہ دعویٰ حکم عقلی تو ہے نہیں بلکہ امر نقلی ہے۔ اس لئے صرف دلیل نقلی کہ اخبار خداوندی ہے اس کی دلیل ہو سکتی ہے سو دونوں طریق مفقود ہیں اول تو عقلاً بھی ممتنع ہے اور دوسرا وقوعاً منتفی ہے) ہرگز نہیں (محض غلط کہتا ہے اور) ہم اس کا کہا ہوا بھی لکھ لیتے ہیں (اور وقت پر یہ سزا دیں گے کہ) اس کے لئے عذاب بڑھاتے چلے جائیں گے اور اس کی کہی ہوئی چیزوں کے ہم مالک رہ جاویں گے (یعنی وہ تو دنیا سے مر جاوے گا اور اموال و اولاد پر کوئی اس کا اختیار نہ رہے گا ہم ہی سب کے مالک رہیں گے اور قیامت میں ہم اس کو نہ دیں گے بلکہ) وہ ہمارے پاس (مال و اولاد سے) تنہا ہو کر آوے گا اور لوگوں نے خدا کو چھوڑ کر اور معبود تجویز کر رکھے ہیں تاکہ ان کے لئے وہ (عند اللہ) باعث عزت ہوں (جیسا اس آیت میں حکایت ہے یَقُولُونَ ھٓوُلَآءِ شُفَعَآوُنَا عند اللّٰہِ سو ایسا) ہرگز نہیں ہوگا بلکہ وہ تو (قیامت میں خود) ان کی عبادت ہی کا انکار کر بیٹھیں گے (جیسا سورة یونس کے تیسرے رکوع میں گزر چکا قال شُرَکَآوُھُم مَا کُنتُم اِیَّانَا تَعبُدُونَ) اور (الٹے) ان کے مخالف ہوجاویں گے، (قالاً بھی جیسا گزرا اور حالاً بھی کہ بجائے عزت کے سبب ذلت ہوجاویں گے اور معبودین میں اصنام بھی ہوں گے سو ان کا ناطق ہونا جیسا یکفرون کا مقتضا ہے مثل نطق جوارح کے مستبعد و مستغرب نہیں) معارف و مسائل لَاُوْتَيَنَّ مَالًا وَّوَلَدًا، بخاری و مسلم میں حضرت خباب بن الارت کی روایت ہے کہ ان کا کچھ قرض عاص بن وائل کے ذمہ تھا یہ ان کے پاس تقاضہ کے لئے گئے اس نے کہا میں تو تمہارا قرض اس وقت تک نہیں دوں گا جب تک تم محمد ﷺ کے ساتھ کفر و انکار کا معاملہ نہ کرو۔ انہوں نے جواب دیا کہ میں یہ کام نہیں کرسکتا جب تک کہ تم مرو پھر زندہ ہو۔ عاص بن وائل نے کہا کہ اچھا کیا میں مر کر پھر زندہ ہوں گا۔ اگر ایسا ہے تو بس تمہارا قرض بھی اسی وقت چکاؤں گا جب دوبارہ زندہ ہوں گا کیونکہ اس وقت بھی میرے پاس مال اور اولاد ہوں گے۔ (قرطبی)
Ayahs 19:78–79

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا جھانک آیا ہے غیب کو، یا لے رکھا ہے رحمن سے عہد

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

یہ نہیں ہم لکھ رکھیں گے جو وہ کہتا ہے اور بڑھاتے جائیں گے اس کو عذاب میں لمبا

قرآن کریم نے اس احمق کے جواب میں فرمایا کہ اسے یہ کیسے معلوم ہوا کہ دوبارہ زندہ ہونے کے وقت بھی اس کے پاس مال اور اولاد ہوں گے، اَطَّلَعَ الْغَيْبَ ، کیا اس نے غیب کی باتوں کو جھانک کر معلوم کرلیا ہے، اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًا، یا اللہ رحمٰن سے اس نے مال و اولاد کے لئے کوئی عہد اور وعدہ لے لیا ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ ایسی کوئی بات ہوئی نہیں۔ پھر اس نے یہ خیال کیسے پکا لیا۔