9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 9:121

وَ لَا یُنْفِقُوْنَ نَفَقَةً صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً وَّ لَا یَقْطَعُوْنَ وَادِیًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ لِیَجْزِیَهُمُ اللّٰهُ اَحْسَنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:121 in the Quran reader

اور (اسی طرح) وہ جو خرچ کرتے ہیں تھوڑا بہت یا کوئی میدان طے کرتے ہیں تو یہ سب کچھ انکے لئے (اعمال صالحہ میں) لکھ لیا جاتا ہے تاکہ خدا ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دے۔

(121) نیز جو کچھ آنے جانے میں کم یا زیادہ جو کچھ انہوں نے خرچ کیا اور دشمن کی تلاش میں جتنے میدان ان کو طے کرنے پڑے یہ سب بھی ان کے نام نیکیوں کے ثواب میں لکھا گیا تاکہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے جہاد میں سب کاموں کا نیک بدلہ دے۔
Ayah 9:122

وَ مَا كَانَ الْمُؤْمِنُوْنَ لِیَنْفِرُوْا كَآفَّةً١ؕ فَلَوْ لَا نَفَرَ مِنْ كُلِّ فِرْقَةٍ مِّنْهُمْ طَآئِفَةٌ لِّیَتَفَقَّهُوْا فِی الدِّیْنِ وَ لِیُنْذِرُوْا قَوْمَهُمْ اِذَا رَجَعُوْۤا اِلَیْهِمْ لَعَلَّهُمْ یَحْذَرُوْنَ۠ Open ayah 9:122 in the Quran reader

اور یہ تو ہو نہیں سکتا کہ مومن سب کے سب نکل آئیں۔ تو یوں کیوں نہ کیا کہ ہر ایک جماعت میں سے چند اشخاص نکل جاتے تاکہ دین (کا علم سیکھتے اور اس) میں سمجھ پیدا کرتے اور جب اپنی قوم کی طرف واپس آتے تو ان کو ڈر سناتے تاکہ وہ حذر کرتے۔

(122) اور ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کو یہ بھی نہ چاہیے کہ جہاد کے لیے سب کے سب ہی نکل کھڑے ہوں اور (آپ کے زمانہ میں) نبی اکرم ﷺ کو تنہا مدینہ منورہ میں چھوڑ دیں۔ ایسا کیوں نہ کیا جائے کہ ان کی ہر ہر بڑی جماعت میں سے ایک ایک چھوٹی جماعت (یعنی کچھ لوگ) جہاد میں جایا کریں اور کچھ جماعت مدینہ منورہ میں رہ جایا کرے تاکہ یہ باقی ماندہ لوگ رسول اکرم ﷺ سے آپ کے وقت میں (اور آپ کے بعد علماء شہر سے) دینی معلومات حاصل کرتے رہیں اور تاکہ یہ لوگ اس قوم کو جو جہاد میں گئی ہے، جب کہ وہ جہاد سے ان کے پاس آئیں ان کو دین کی باتیں سنا کر اللہ کی نافرمانی سے ڈرادیں تاکہ ان کو معلوم ہوجائے کہ کن کن باتوں کا حکم دیا گیا ہے اور کن کن باتوں سے منع کیا گیا ہے۔ اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت کریمہ بنی اسد کے بارے میں نازل ہوئی وہ قحط سالی میں گرفتار ہوئے، تو مدینہ منورہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر مدینہ منورہ میں چیزیں مہنگی کردیں اور فسادات سے مدینہ منورہ کے رستوں کو خراب کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کی ممانعت فرمادی۔ نیز حضرت عبداللہ بن عبید بن عمیر ؓ سے روایت کیا گیا ہے کہ مومنین جہاد کے جذبہ وشوق میں جب رسول اکرم ﷺ کسی لشکر کو روانہ فرماتے تو سب کے سب نکل کھڑے ہوتے۔ اور رسول اکرم ﷺ کو مدینہ منورہ میں چند کمزور آدمیوں کے ساتھ چھوڑ جاتے، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ شان نزول : (آیت) وما کان المومنون لینفروا“۔ (الخ) ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب یہ آیت ”الا تنفروا یعذبکم عذابا الیما“۔ نازل ہوئی اور دیہات میں سے کچھ لوگ جہاد میں نہیں گئی تھے اور اپنی قوم کو دین کی باتیں سکھا رہے تھے، اس پر منافقین کہنے لگے کہ دیہاتیوں میں سے کچھ لوگ جہاد میں نہیں گئے، یہ دیہاتی ہلاک ہوگئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
Ayah 9:123

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَاتِلُوا الَّذِیْنَ یَلُوْنَكُمْ مِّنَ الْكُفَّارِ وَ لْیَجِدُوْا فِیْكُمْ غِلْظَةً١ؕ وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:123 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! اپنے نزدیک کے (رہنے والے) کافروں سے جنگ کرو۔ اور چاہئے کہ وہ تم میں سختی (یعنی محنت وقوت جنگ) معلوم کریں۔ اور جان رکھو کہ خدا پرہیزگاروں کے ساتھ ہے۔

(123) رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والو بنی قریظہ، نضیر، فدک اور خیبر سے لڑو اور ان کو تماہرے اندر سختی پانا چاہیے اور اے مومنین کی جامعت یہ یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کا انکے دشمنوں کے مقابلہ کے وقت مددگار ہے۔
Ayah 9:124

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ فَمِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ اَیُّكُمْ زَادَتْهُ هٰذِهٖۤ اِیْمَانًا١ۚ فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فَزَادَتْهُمْ اِیْمَانًا وَّ هُمْ یَسْتَبْشِرُوْنَ Open ayah 9:124 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو بعض منافق (استہزا کرتے اور) پوچھتے ہیں کہ اس سورت نے تم میں سے کس کا ایمان زیادہ کیا ہے ؟ سو جو ایمان والے ہیں ان کا تو ایمان زیادہ کیا اور وہ خوش ہوتے ہیں۔

(124) اور جب کوئی نئی سورت اتاری جاتی ہے اور رسول اکرم ﷺ ان لوگوں کو پڑھ کر سناتے ہیں تو بعض منافقین بعض غریب مسلمانوں سے کہتے ہیں کہ کہو اس نئی سورت یا آیت نے کس کے خوف، ایمان، امید ویقین میں اضافہ کیا ہے جیسا کہ محمد ﷺ کہتے تھے کہ جو ایمان دار ہیں اس سورت نے انکے تو ایمان ویقین کو خوف وامید میں ترقی دی اور وہ قرآن کریم کی اس سورت کے نزول سے خوش ہورہے ہیں۔
Ayah 9:125

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ فَزَادَتْهُمْ رِجْسًا اِلٰى رِجْسِهِمْ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:125 in the Quran reader

اور جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہے ان کے حق میں خبث پر خبث زیادہ کیا اور وہ مرے بھی تو کافر کے کافر۔

(125) اور جن کے دلوں میں شک ونفاق کا مرض ہے تو اس نازل ہونے والی سورت نے ان کے شک کے ساتھ اتنا ہی اور شک بڑھا دیا اور وہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا کفر کرنے ہی کی حالت میں مرگئے۔
Ayah 9:126

اَوَ لَا یَرَوْنَ اَنَّهُمْ یُفْتَنُوْنَ فِیْ كُلِّ عَامٍ مَّرَّةً اَوْ مَرَّتَیْنِ ثُمَّ لَا یَتُوْبُوْنَ وَ لَا هُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 9:126 in the Quran reader

کیا یہ دیکھتے نہیں کہ یہ ہر سال ایک یا دو بار بلا میں پھنسا دیئے جاتے ہیں پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ نصیحت پکڑتے ہیں ؟

(126) اور کیا ان منافقین کو سمجھائی نہیں دیتا کہ یہ اپنے مکروخیانت اور بدعہدی کی وجہ سے ہر سال میں ایک بار دو بار کسی نہ کسی آفت میں پھنسے رہتے ہیں مگر پھر بھی ان خیانتوں اور یہ بدعہدوں سے باز نہیں آتے اور نہ کچھ سمجھتے ہیں۔
Ayah 9:127

وَ اِذَا مَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ نَّظَرَ بَعْضُهُمْ اِلٰى بَعْضٍ١ؕ هَلْ یَرٰىكُمْ مِّنْ اَحَدٍ ثُمَّ انْصَرَفُوْا١ؕ صَرَفَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:127 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ بھلا تمہیں کوئی دیکھتا ہے ؟ پھر پھرجاتے ہیں۔ خدا نے انکے دلوں کو پھیر رکھا ہے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں کہ سمجھ سے کام نہیں لیتے۔

(127) اور جس وقت بذریعہ جبریل امین ؑ کوئی نئی سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں ان منافقین کی غلط حرکات کا ذکر ہوتا ہے اور رسول اکرم ﷺ وہ سورت ان کے سامنے پڑھ کر سناتے ہیں تو منافقین ایک دوسرے کو دیکھنے لگتے ہیں (اور اشارہ سے باتیں کرتے ہیں) کہ کہیں تمہیں صحابہ کرام ؓ میں سے تو کوئی نہیں دیکھ رہا اور پھر نماز اور خطبہ حق وہدایت سے اٹھ کر چلے جاتے ہیں اللہ تعالیٰ نے بھی ان کا دل حق و ہدایت سے پھیر دیا ہے یا یہ کہ حق وہدایت سے انہوں نے روگردانی کی ہے تو اس روگردانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو حق وہدایت سے پھیر دیا اس بنا پر کہ وہ نہ احکام خداوندی کو سمجھتے ہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayahs 9:128–129

لَقَدْ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْكُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:128 in the Quran reader

(لوگو) تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک پیغمبر آئے ہیں۔ تمہاری تکلیف انکو گراں معلوم ہوتی ہے اور تمہاری بھلائی کے بہت خواہشمند ہیں۔ (اور) مومنوں پر نہایت شفقت کرنیوالے (اور) مہربان ہیں۔

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُلْ حَسْبِیَ اللّٰهُ١ۖۗ٘ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ وَ هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 9:129 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ پھرجائیں اور (نہ) مانیں تو کہہ دو کہ خدا مجھے کفایت کرتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔

(128۔ 129) اے لوگو ! اور خصوصیت سے مکہ والو ! تمہارے پاس عربی پیغمبر تشریف لائے ہیں جو تمہاری جنس سے ہیں جن کو تمہارے نقصان کی بات نہایت گراں گزرتی ہے، تمہاری منفعت اور ایمان کے بڑے خواہشمند رہتے ہیں پھر خاص کر تمام اہل ایمان کے ساتھ تو بہت ہی شفیق اور مہربانی فرمانے والے ہیں۔ پھر اس کے بعد بھی اگر یہ لوگ ایمان لانے، توبہ کرنے اور آپ کی پیروی کرنے سے اعراض کریں تو آپ کہہ دیجئے میرا کوئی نقصان نہیں میرے لیے تو اللہ تعالیٰ حافظ وناصر کافی ہے، اسی پر میں نے بھروسہ کرلیا اور وہ بڑے عرش کا مالک ہے۔