9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 9:41

اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّ ثِقَالًا وَّ جَاهِدُوْا بِاَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:41 in the Quran reader

تم سبکبار ہو یا گراں بار (یعنی مال و اسباب تھوڑا رکھتے ہو یا بہت گھروں سے) نکل آؤ اور خدا کے راستے میں مال اور جان سے لڑو۔ یہی تمہارے حق میں بہتر ہے بشرطیکہ سمجھو !

(41) یعنی اپنی نبی کریم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کیلے بوڑھے اور جوان یا یہ کہ تھوڑے مال کے ساتھ اور زیادہ مال کے ساتھ نکل کھڑے ہو اور اطاعت خداوندی میں جہاد کرو، یہ جہاد بیٹھے رہنے سے بہتر ہے بشرطیکہ تم اس کو جانتے اور اس کی تصدیق کرتے ہو۔ شان نزول : (آیت) ”انفروخفافا وثقالا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے حضرمی سے روایت کیا ہے کہ ان سے ذکر کیا گیا کہ کچھ لوگ بیمار تھے اور کچھ بوڑھے تو ان میں سے کچھ کہنے لگے کہ ہم گنہگار نہیں ہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 9:42

لَوْ كَانَ عَرَضًا قَرِیْبًا وَّ سَفَرًا قَاصِدًا لَّاتَّبَعُوْكَ وَ لٰكِنْۢ بَعُدَتْ عَلَیْهِمُ الشُّقَّةُ١ؕ وَ سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَوِ اسْتَطَعْنَا لَخَرَجْنَا مَعَكُمْ١ۚ یُهْلِكُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۠ Open ayah 9:42 in the Quran reader

اگر مال غنیمت سہل اور سفر بھی ہلکا سا ہوتا تو تمہارے ساتھ (شوق سے) چل دیتے لیکن مسافت ان کو دور (دراز) نظر آئی (تو عذر کرنیگے) اور خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ ضرور نکل کھڑے ہوتے۔ یہ (ایسے عذروں سے) اپنے تئیں ہلاک کر رہے ہیں۔ اور خدا جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں۔

(42) اگر غنیمت ملنے کی توقع ہوتی اور سفر بھی آسان ہوتا تو یہ منافق بخوشی غزوہ تبوک کے لیے آپ ﷺ کے ساتھ چل پڑے تھے مگر ان کو تو شام تک سفر کرنا پڑتا ہے۔ اور ابھی جب تم لوگ غزوہ تبوک سے واپس آؤ گے تو یہ منافقین عبداللہ بن ابی اور جد بن قیس اور معتب بن قشیر جو غزوہ تبوک سے رہ گئے خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہمارے پاس سامان اور سواری ہوتی تو ہم ضرور غزوہ تبوک کے لیے نکلتے، یہ لوگ جھوٹی قسمیں کھا کر خود اپنے آپ کو برباد کررہے ہیں، اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ لوگ یقیناً جھوٹے ہیں، کیونکہ یہ جہاد پر جانے کی طاقت رکھتے تھے۔
Ayah 9:43

عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ١ۚ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ حَتّٰى یَتَبَیَّنَ لَكَ الَّذِیْنَ صَدَقُوْا وَ تَعْلَمَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 9:43 in the Quran reader

خدا تمہیں معاف کرے۔ تم نے پیشتر اس کے کہ تم پر وہ لوگ بھی ظاہر ہوجاتے جو سچے ہیں اور وہ بھی تمہیں معلوم ہوجاتے جو جھوٹے ہیں انکو اجازت کیوں دی ؟

(43) اے نبی اکرم ﷺ اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف کردیا، لیکن آپ نے ان منافقین کو شرکت نہ کرنے کی اتنی جلدی کیوں اجازت دے دی، جب تک کہ آپ کے ساتھ نکل کر ایمان والوں کی سچائی ظاہر نہ ہوجاتی، اور آپ ﷺ جھوٹے لوگوں کے ایمان کو معلوم کرلیتے کہ وہ بغیر آپ ﷺ کی اجازت کے جہاد رہ گئے۔ شان نزول : (آیت) ”عفا اللہ عنک“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے عمر بن میمون ازدی سے روایت کیا ہے کہ دو باتیں رسول اکرم ﷺ نے ایسی کیں جن میں اللہ کی طرف سے اس وقت تک کوئی صاف حکم نہیں دیا گیا تھا ایک تو منافقین کو عدم شرکت کی اجازت دے دی اور دوسری غزوہ بدر کے قیدیوں سے فدیہ لے لیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اللہ تعالیٰ نے آپ کو معاف تو فرما دیا لیکن (حیرت سے دریافت کیا کہ) آپ نے ان کو اجازت کیوں دی تھی۔
Ayah 9:44

لَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالْمُتَّقِیْنَ Open ayah 9:44 in the Quran reader

جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تم سے اجازت نہیں مانگتے (کہ پیچھے رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور خدا پرہیزگاروں سے واقف ہے۔

(44) غزوہ تبوک کے بعد جو ظاہر و باطن کے اعتبار سے کامل مومن ہیں، وہ جہاد نہ کرنے کی آپ سے کبھی رخصت نہ لیں گے اور اللہ تعالیٰ کفر وشرک سے بچنے والوں کو اچھی طرح جانتا ہے۔
Ayah 9:45

اِنَّمَا یَسْتَاْذِنُكَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ ارْتَابَتْ قُلُوْبُهُمْ فَهُمْ فِیْ رَیْبِهِمْ یَتَرَدَّدُوْنَ Open ayah 9:45 in the Quran reader

اجازت وہی لوگ مانگتے ہیں جو خدا پر اور پچھلے دن پر ایمان نہیں رکھتے۔ اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ سو وہ اپنے شک میں ڈانواڈول ہو رہے ہیں۔

(45) البتہ وہ لوگ جہاد میں نہ جانے کی رخصت مانگتے ہیں جو مومن نہیں اور ان کے دل میں کجی ہے سو وہ اپنے شکوک میں حیران ہیں۔
Ayah 9:46

وَ لَوْ اَرَادُوا الْخُرُوْجَ لَاَعَدُّوْا لَهٗ عُدَّةً وَّ لٰكِنْ كَرِهَ اللّٰهُ انْۢبِعَاثَهُمْ فَثَبَّطَهُمْ وَ قِیْلَ اقْعُدُوْا مَعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:46 in the Quran reader

اور اگر وہ نکلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لئے سامان تیار کرتے لیکن خدا نے انکا اٹھنا (اور نکلنا) پسند ہی نہ کیا تو ان کو ہلنے جلنے نہ دیا اور (ان سے) کہہ دیا گیا کہ جہاں (معذور) بیٹھے ہیں تم بھی ان کے ساتھ بیٹھے رہو۔

(46) اور اگر یہ منافق غزوہ تبوک میں آپ کے ساتھ چلنے کا ارادہ کرتے تو اس کے لیے سازو سامان اور کچھ ہتھیار تو تیار کرتے لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسے مفسدوں کا غزوہ تبوک میں آپ کے ساتھ جانا پسند ہی نہیں کیا، لہٰذا ان کو جانے کی توفیق ہی نہیں بخشی اور بحکم تکوینی یوں کہہ دیا کہ جو بغیر عذر کے شرکت نہیں کرتے تم بھی ان ہی کے ساتھ دھرے رہو۔ یہ چیز ان کے دلوں میں خود تھی،
Ayah 9:47

لَوْ خَرَجُوْا فِیْكُمْ مَّا زَادُوْكُمْ اِلَّا خَبَالًا وَّ لَاۡاَوْضَعُوْا خِلٰلَكُمْ یَبْغُوْنَكُمُ الْفِتْنَةَ١ۚ وَ فِیْكُمْ سَمّٰعُوْنَ لَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِالظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:47 in the Quran reader

اگر وہ تم میں (شامل ہو کر) نکل بھی کھڑے ہوتے تو تمہارے حق میں شرارت کرتے اور تم میں فساد ڈلوانے کی غرض سے دوڑے دوڑے پھرتے۔ اور تم میں انکے جاسوس بھی ہیں۔ اور خدا ظالموں کو خوب جانتا ہے۔

(47) اور اگر یہ آپ کے ساتھ شرک کر بھی لیتے تو اور دگنا شر و فساد برپا کرتے اور تمہارے درمیان اونٹوں پر شر و فساد اور ذلت وعیب جوئی کرنے کی فکر میں دوڑے دوڑے پھرتے اور اب بھی تمارے ساتھ ان کافروں کے جاسوس موجود ہیں اور ان منافقوں یعنی عبداللہ بن اوبی اور اس کے ساتھیوں کو اللہ تعالیٰ خوب سمجھے گا۔
Ayah 9:48

لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَ قَلَّبُوْا لَكَ الْاُمُوْرَ حَتّٰى جَآءَ الْحَقُّ وَ ظَهَرَ اَمْرُ اللّٰهِ وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:48 in the Quran reader

یہ پہلے بھی طالب فساد رہے ہیں اور بہت سی باتوں میں تمہارے لئے الٹ پھیر کرتے رہے ہیں۔ یہاں تک کہ حق آپہنچا اور خدا کا حکم غالب ہوا اور وہ برا مانتے ہی رہ گئے۔

(48) ان لوگوں نے تو غزوہ تبوک سے پہلے بھی فتنہ پھیلانا چاہا تھا اور آپ ﷺ کو نقصان پہنچانے کے لیے کافی تدابیر کرتے رہے یہاں تک کہ مومنین کی کثرت ہوگئی اور دین اسلام کا غلبہ ہوگیا اور ان کو ناگوار ہی گزرتا رہا۔
Ayah 9:49

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّقُوْلُ ائْذَنْ لِّیْ وَ لَا تَفْتِنِّیْ١ؕ اَلَا فِی الْفِتْنَةِ سَقَطُوْا١ؕ وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمُحِیْطَةٌۢ بِالْكٰفِرِیْنَ Open ayah 9:49 in the Quran reader

اور ان میں کوئی ایسا بھی ہے جو کہتا ہے کہ مجھے تو اجازت ہی دیجئے۔ اور آفت میں نہ ڈالئے۔ دیکھو یہ آفت میں پڑگئے ہیں اور دوزخ سب کافروں کو گھیرے ہوئے ہے۔

(49) اور ان منافقین میں سے جدی بن قیس ایسا ہے جو گھر رہنے کی اجازت مانگتا ہے اور کہتا ہے کہ روم کی لڑکیوں کی خرابی میں مجھے نہ ڈالیے، حالانکہ خود یہ لوگ شرک ونفاق کی خرابیوں میں مبتلا ہیں اور قیامت کے دن دوزخ ان کو گھیر لے گی ، شان نزول : (آیت) ”ومنہم من یقول“۔ (الخ) طبرانی ؒ ابونعیم ؒ اور مردویہ ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ نے غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہونے کا ارادہ ظاہر فرمایا تو آپ ﷺ نے جدی بن قیس سے بھی شرکت کے لیے کہا وہ کہنے لگا یارسول اللہ ﷺ میں عورتوں والا آدمی ہوں، جس وقت میں بنی اصغر کی عورتوں کو دیکھوں گا تو فتنہ میں پڑجاؤں گا، لہذا مجھے جہاد میں نہ جانے کی اجازت دیجیے اور فتنہ میں نہ ڈالیے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان میں ایک شخص ایسا ہے جو کہتا ہے کہ مجھ کو اجازت دیدیجئے۔ الخ۔
Ayah 9:50

اِنْ تُصِبْكَ حَسَنَةٌ تَسُؤْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْكَ مُصِیْبَةٌ یَّقُوْلُوْا قَدْ اَخَذْنَاۤ اَمْرَنَا مِنْ قَبْلُ وَ یَتَوَلَّوْا وَّ هُمْ فَرِحُوْنَ Open ayah 9:50 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ اگر تم کو آسائش حاصل ہوتی ہے تو انکو بری لگتی ہے۔ اور اگر کوئی مشکل پڑتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنا کام پہلے ہی (درست) کرلیا تھا۔ اور خوشیاں مناتے لوٹ جاتے ہیں۔

(50) اگر آپ ﷺ کو غزوہ بدر کی طرح فتح وغنیمت پیش آتی ہے تو وہ ان منافقین کے لیے غم کا سبب ہوتی ہے اور اگر آپ ﷺ پر غزوہ احد کی طرح قتل وہزیمت کا کوئی حادثہ آپڑتا ہے تو یہ منافقین یعنی عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی کہتے ہیں کہ اسی وجہ سے اس حادثہ کے پیش آنے سے پہلے ہم نے ساتھ نہ دے کر اپنی حفاظت کرلی تھی اور یہ کہہ کر غزوہ احد کے دن رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کو جو حادثہ پیش آیا، خوشی خوشی جہاد سے واپس چلے آتے ہیں۔ شان نزول : ان تصبک حسنۃ تسؤھم“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ جو منافقین مدینہ منورہ میں رہ گئے تھے اور انہوں نے جہاد میں شرکت نہیں کی تھی وہ لوگوں کو نعوذ باللہ رسول اکرم ﷺ کی طرف سے بری بری خبریں بیان کرتے تھے اور اس بات کی اشاعت کرتے تھے کہ نعوذ باللہ رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ سفر میں بہت ہی مشقت میں پڑگئے اور ہلاک ہوگئے جب ان لوگوں کی تکذیب اور رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی عافیت معلوم ہوگئی تو ان لوگوں کو بہت شاق اور ناگوار گزار اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔
Ayah 9:51

قُلْ لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَا١ۚ هُوَ مَوْلٰىنَا١ۚ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 9:51 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہم کو کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی بجز اسکے کہ جو خدا نے ہمارے لئے لکھ دی ہو۔ وہی ہمارا کارساز ہے اور مومنوں کو خدا ہی کا بھروسہ رکھنا چاہئے۔

(51) اے محمد ﷺ آپ ان منافقین سے فرمادیجیے کہ ہم کو جو اللہ نے ہمارے لیے مقدر فرمادیا ہے وہی حادثہ پیش آتا ہے وہی ہمارا مالک ہے اور مومنوں کو تو اپنے سب کام اللہ تعالیٰ ہی کے سپرد رکھنے چاہیں۔
Ayah 9:52

قُلْ هَلْ تَرَبَّصُوْنَ بِنَاۤ اِلَّاۤ اِحْدَى الْحُسْنَیَیْنِ١ؕ وَ نَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ یُّصِیْبَكُمُ اللّٰهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهٖۤ اَوْ بِاَیْدِیْنَا١ۖ٘ فَتَرَبَّصُوْۤا اِنَّا مَعَكُمْ مُّتَرَبِّصُوْنَ Open ayah 9:52 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم ہمارے حق میں دو بھلائیوں میں سے ایک کے منتظر ہو۔ اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا (یا تو) اپنے پاس سے تم پر کوئی عذاب نازل کرے یا ہمارے ہاتھوں سے (عذاب دلوائے) تو تم بھی انتظار کرو ہم بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتے ہیں۔

(52) اے محمد ﷺ آپ ان منافقوں سے فرمادیجیے کہ تم ہمارے لیے فتح وغنیمت یا قتل وشہادت میں سے کسی ایک کے منتظر رہتے ہو اور ہم اس کے منتظر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہماری ہلاکت کا اپنی طرف سے یا ہماری تلواروں سے تمہارے قتل کا انتظام فرما وے سو تم اپنے طور پر انتظار کرو، ہم بھی تمہاری تباہی اور موت کے منتظر ہیں۔
Ayah 9:53

قُلْ اَنْفِقُوْا طَوْعًا اَوْ كَرْهًا لَّنْ یُّتَقَبَّلَ مِنْكُمْ١ؕ اِنَّكُمْ كُنْتُمْ قَوْمًا فٰسِقِیْنَ Open ayah 9:53 in the Quran reader

کہہ دو کہ تم (مال) خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا۔ تم نافرمان لوگ ہو۔

(53) اے محمد ﷺ آپ ان منافقوں سے فرما دیجیے کہ تم اپنے مالوں کو خواہ خوشی خوشی خرچ کرو یا قتل کے ڈر سے خرچ کرویہ چیز ہرگز قبول نہیں تم لوگ منافق ہو۔ شان نزول : (آیت) ”قل انفقوا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جدی بن قیس کہنے لگا کہ میں عورتوں کو دیکھ کر صبر نہیں کرسکوں گا اور فتنہ میں پڑجاؤں گا لیکن میں اپنے مال سے آپ کی مدد ضرور کروں گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، یعنی آپ فرما دیجیے خواہ تم خوشی سے خرچ کرو یا ناخوشنی سیتم سے کسی طرح مال قبول نہیں کیا جائے گا، یہ اس کے قول کا جواب ہے۔
Ayah 9:54

وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ Open ayah 9:54 in the Quran reader

اور ان کے خرچ (اموال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوا اس کے کہ انہوں نے خدا سے اور اس کے رسول ﷺ سے کفر کیا اور نماز کو آتے ہیں تو سست و کاہل ہو کر اور خرچ کرتے ہیں تو ناخوشی سے۔

(54) اور یہ لوگ نماز کے لیے بھی ہارے ہوئے دل سے آتے ہیں اور اللہ کی راہ میں یہ لوگ کچھ خرچ نہیں کرتے مگر تنگ دلی کے ساتھ۔
Ayah 9:55

فَلَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیُعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:55 in the Quran reader

تم ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ خدا چاہتا ہے کہ ان چیزوں سے دنیا کی زندگی میں انکو عذاب دے۔ اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) وہ کافر ہی ہوں۔

(55) اے محمد ﷺ ان کے مالوں اور اولاد کی زیادیت آپ ﷺ کو تعجب میں نہ ڈالے، اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ ان کو آخرت میں عذاب دے اور حالت کفر میں ان کو موت آئے ہو جو اس نے کہا تھا کہ اپنے مال سے آپ ﷺ کی مدد کروں گا۔
Ayah 9:56

وَ یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ اِنَّهُمْ لَمِنْكُمْ١ؕ وَ مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لٰكِنَّهُمْ قَوْمٌ یَّفْرَقُوْنَ Open ayah 9:56 in the Quran reader

اور خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ وہ تمہیں میں سے ہیں۔ حالانکہ وہ تم میں سے نہیں ہیں اصل یہ ہے کہ یہ ڈرپوک لوگ ہیں۔

(56) یعنی عبداللہ بن ابی (منافق) اور اس کے ساتھی قسمیں کھاتے ہیں کہ ہم ظاہر و باطن سے تمہارے ساتھ ہیں، اصل میں یہ لوگ کسی طریقہ پر بھی تمہارے ساتھ نہیں، وہ تمہاری تلواروں سے ڈرتے ہیں۔
Ayah 9:57

لَوْ یَجِدُوْنَ مَلْجَاً اَوْ مَغٰرٰتٍ اَوْ مُدَّخَلًا لَّوَلَّوْا اِلَیْهِ وَ هُمْ یَجْمَحُوْنَ Open ayah 9:57 in the Quran reader

اگر ان کو کوئی بچاؤ کی جگہ (جیسے قلعہ) یا غار ومغار یا (زمین کے اندر) گھُسنے کی جگہ مل جائے تو اسی طرف رسیاں تڑاتے ہوئے بھاگ جائیں

(57) ان لوگوں کو اگر کوئی پناہ کی جگہ یا پہاڑوں میں غار یا زمین میں کوئی سرنگ مل جاتی تو یہ ضرور منہ اٹھا کر ادھر چل دیتے۔
Ayah 9:58

وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّلْمِزُكَ فِی الصَّدَقٰتِ١ۚ فَاِنْ اُعْطُوْا مِنْهَا رَضُوْا وَ اِنْ لَّمْ یُعْطَوْا مِنْهَاۤ اِذَا هُمْ یَسْخَطُوْنَ Open ayah 9:58 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ (تقسیم) صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر انکو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہوجائیں۔

(58) اور یہ منافقین ابو الاحوص اور اس کے ساتھی ایسے ہیں کہ صدقات تقسیم کرنے میں آپ پر طعن وتشنیع کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے درمیان برابری کے ساتھ کیوں نہیں تقسیم کرتے، اگر ان صدقات میں سے ان کو ان کی خواہش کے مطابق بہت زیادہ حصہ مل جاتا ہے تو پھر تقسیم پر راضی ہوجاتے ہیں اور اگر بہت زیادہ ان کو حصہ نہیں ملتا، تو پھر تقسیم پر ناراض ہوتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ومنہم من یلمزک“۔ (الخ) حضرت امام بخاری ؒ نے حضرت ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ مالوں کو تقسیم فرما رہے تھے، اتنے میں ذو یصرہ آیا اور کہنے لگا انصاف کرو، آپ نے فرمایا تیرے لیے ہلاکت ہو، اگر میں انصاف نہ کروں گا تو پھر کون انصاف کرے گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، یعنی ان میں بعض وہ لوگ ہیں جو صدقات کے بارے میں آپ پر طعن وتشنیع کرتے ہیں اور ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت جابر ؓ سے اسی طرح روایت کی ہے۔
Ayah 9:59

وَ لَوْ اَنَّهُمْ رَضُوْا مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١ۙ وَ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ سَیُؤْتِیْنَا اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ وَ رَسُوْلُهٗۤ١ۙ اِنَّاۤ اِلَى اللّٰهِ رٰغِبُوْنَ۠ Open ayah 9:59 in the Quran reader

اور اگر وہ اس پر خوش رہتے جو خدا اور اسکے رسول ﷺ نے ان کو دیا تھا۔ اور کہتے کہ ہمیں خدا کافی ہے اور خدا اپنے فضل سے اور اسکے پیغمبر ﷺ (اپنی مہربانی سے) ہمیں (پھر) دیدینگے (اور) ہمیں تو خدا ہی کی خواہش ہے (تو انکے حق میں بہتر ہوتا)

(59) اور ان منافقین کے لیے بہتر ہوتا اگر یہ اسی پر راضی ہوجاتے جو کچھ ان کو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے دلوادیا اور یہ کہتے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کا عطا کیا ہوا کافی ہے، آئندہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل اور روزی خاص سے ہمیں غنی کردے گا اور اس کے رسول عطا یا دیں گے ہم اللہ تعالیٰ ہی کی طرف راغب ہیں، اگر منافق یہ کہتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔
Ayah 9:60

اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْعٰمِلِیْنَ عَلَیْهَا وَ الْمُؤَلَّفَةِ قُلُوْبُهُمْ وَ فِی الرِّقَابِ وَ الْغٰرِمِیْنَ وَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ١ؕ فَرِیْضَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:60 in the Quran reader

صدقات (یعنی زکوٰۃ و خیرات) تو مفلسوں اور محتاجوں اور کارکنان صدقات کا حق ہے۔ اور ان لوگوں کا جن کی تالیف قلوب منظور ہے اور غلاموں کے آزاد کرانے میں اور قرضداروں (کے قرض ادا کرنے) میں اور خدا کی راہ میں اور مسافروں (کی مدد) میں (بھی یہ مال خرچ کرنا چاہئے یہ حقوق) خدا کی طرف سے مقرر کردیئے گئے ہیں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے

(60) اللہ تعالیٰ زکوٰۃ کے مستحقین کے متعلق میں فرماتے ہیں کہ وہ اصحاب صفہ اور ان محتاجوں کا حق ہے جو کہ سوال کرتے ہیں اور جو کارکن ان صدقات کی وصولی پر متعین ہیں اور عطیہ سے جن کی دل جوئی کرنا ضروری ہے، جیسا کہ حضرت ابوسفیان اور ان کے ساتھی جو کہ تقریبا پندرہ حضرات ہیں اور مکاتب غلاموں کی گردن چھڑانا اور اطاعت خداوندی میں قرض داروں کے جو قرضے ہیں ان کے چھڑانے میں اور جہاد فی سبیل اللہ کرنے والوں میں اور مسافروں کی امداد میں جو کہ راہ گزر ہوں یا کسی کے پاس مہمان ہو کر اترگئے ہوں خرچ کیا جائے گا ان لوگوں کے لیے یہ تقسیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے شدہ ہے اللہ تعالیٰ ان تمام لوگوں کو جاننے والے اور ان کے لیے جو فیصلہ فرمایا ہے اس میں بڑی حکمت والے ہیں۔
Ayah 9:61

وَ مِنْهُمُ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ النَّبِیَّ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ اُذُنٌ١ؕ قُلْ اُذُنُ خَیْرٍ لَّكُمْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ یُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللّٰهِ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:61 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں جو پیغمبر ﷺ کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے (ان سے) کہہ دو کہ (وہ) کان (ہے تو) تمہاری بھلائی کے لئے۔ اور خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے۔ اور جو لوگ تم میں ایمان لائے ہیں انکے لئے رحمت ہے۔ اور جو لوگ رسول خدا ﷺ کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لئے عذاب الیم (تیار) ہے۔

(61) اور ان منافقین میں سے جذام بن خالد، ایاس بن قیس، سماک بن یزید، عبید بن مالک طعن وتشنیع سے نبی کریم ﷺ کو تکلیف پہنچاتے ہیں اور بعض بعض سے کہتے ہیں کہ ہمارے متعلق ہر ایک بات سن لیتے ہیں اور جو بات ہم آپ سے کہتے ہیں اس کی آپ تصدیق کرلیتے ہیں، ہم نے تو آپ کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کی۔ اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ جو بات تمہارے حق میں بھلی ہو، اسی کو سنتا ہوں اور اسی کی تصدیق کرتا ہوں، جھوٹ بات کی تصدیق نہیں کرتا یا یہ کہ خوش خلقی کی وجہ سے میرا تمہاری باتوں کو سن لینا بھی تمہارے حق میں بہتر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ ارشاد خداوندی کی تصدیق کرلیتے ہیں، ہم نے تو آپ کے بارے میں کوئی ایسی بات نہیں کی ، اے محمد ﷺ آپ ان سے فرمادیجیے کہ جو بات تمہارے حق میں بھلی ہو، اسی کو سنتا ہوں اور اسی کی تصدیق کرتا ہوں، جھوٹ بات کی تصدیق نہیں کرتا یا یہ کہ خوش خلقی کی وجہ سے میرا تمہاری باتوں کو سن لینا بھی تمہارے حق میں بہتر ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آپ ارشاد خداوندی کی تصدیق کرتے ہیں، اور مومنین مخلصین کی باتوں کا یقین کرتے ہیں اور ان لوگوں کے حق میں جو تم میں سے ظاہر و باطن کے اعتبار سے مومن ہیں، عذاب سے باعث رحمت ہیں اور جو منافق غزوہ تبوک میں نہیں گئے جیسا کہ جلاس بن سوید، سواک بن عمرو، مخشی بن حمیر اور ان کے ساتھی ان کے لیے دنیا و آخرت میں بڑا درد ناک سزا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”ومنہم الذین یؤذون النبی“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبتل بن حارث رسول اکرم ﷺ کی مجلس میں آکر بیٹھتا اور آپ کے ارشادات سن کر پھر ان فرمانات کو منافقین تک پہنچاتا تھا، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، یعنی ان میں سے بعض ایسے ہیں کہ نبی کو ایذائیں پہنچاتے ہیں۔ (الخ)
Ayah 9:62

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِیُرْضُوْكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اَحَقُّ اَنْ یُّرْضُوْهُ اِنْ كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:62 in the Quran reader

(مومنو !) یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کردیں۔ حالانکہ اگر یہ (دل سے) مومن ہوتے تو خدا اور اسکے پیغمبر ﷺ خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں۔

(62) یہ لوگ جہاد میں نہ شریک ہو کر پھر اپنی صفائی کے لیے جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ آپ کو مطمئن کریں اگر یہ لوگ اپنے ایمان میں سچے ہیں تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو راضی کریں۔
Ayah 9:63

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّهٗ مَنْ یُّحَادِدِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَاَنَّ لَهٗ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِدًا فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْخِزْیُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:63 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا اور اس کے رسول ﷺ سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لئے جہنم کی آگ (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا ؟ یہ بڑی رسوائی ہے۔

(63) منافقوں کو اس بات کا پتہ نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا اس کے لیے بہت سخت عذاب ہے ،
Ayah 9:64

یَحْذَرُ الْمُنٰفِقُوْنَ اَنْ تُنَزَّلَ عَلَیْهِمْ سُوْرَةٌ تُنَبِّئُهُمْ بِمَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ قُلِ اسْتَهْزِءُوْا١ۚ اِنَّ اللّٰهَ مُخْرِجٌ مَّا تَحْذَرُوْنَ Open ayah 9:64 in the Quran reader

منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان (کے پیغمبر ﷺ پر کہیں کوئی ایسی سورت (نہ) اتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو ان (مسلمانوں) پر ظاہر کردے۔ کہہ دو کہ ہنسی کیے جاؤ جس بات سے تم ڈرتے ہو خدا اس کو ضرور ظاہر کردے گا۔

(64) عبداللہ بن ابی (منافق) اور اس کے (منافق) ساتھی اس بات سے خوف زدہ ہیں کہ مسلمانوں کے نبی کریم ﷺ پر کوئی ایسی سورت نازل ہوجائے جس میں ان کے نفاق پر اطلاع دے دے، اے محمد ﷺ آپ ودیعتہ بن جذام، جدی بن قیس اور جہیر بن حمیر سے فرما دیجیے کہ اچھا تم رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کے بارے میں چھپاتے ہو۔
Ayahs 9:65–66

وَ لَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَیَقُوْلُنَّ اِنَّمَا كُنَّا نَخُوْضُ وَ نَلْعَبُ١ؕ قُلْ اَبِاللّٰهِ وَ اٰیٰتِهٖ وَ رَسُوْلِهٖ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 9:65 in the Quran reader

اور اگر تم ان سے (اس بارے میں) دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم تو یوں ہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اسکی آیتوں اور اس کے رسول ﷺ سے ہنسی کرتے تھے ؟

لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِیْمَانِكُمْ١ؕ اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةًۢ بِاَنَّهُمْ كَانُوْا مُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 9:66 in the Quran reader

بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہوچکے ہو۔ اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دینگے۔ کیونکہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں۔

(65۔ 66) اے محمد ﷺ اگر استہزاء کے بارے میں آپ ان سے پوچھیں تو کہہ دیں گے کہ ہم تو ویسے ہی سواروں کی باتیں کررہے تھے اور آپس میں ہنسی مذاق کررہے تھے۔ اے نبی کریم ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ تم اس استہزاء پر عذر مت کرو تم تو خود اپنے آپ کو مومن کہہ کر کفر کرنے لگے اگر ہم جہیر بن حمیر کو معاف کردیں کیوں کہ اس نے خود ان کے ساتھ استہزاء نہیں کیا بلکہ ہنسا ہے تو ودیعۃ بن جزام اور جدی بن قیس کو ضرور سزا دیں گے کیوں کہ وہ تو پکے مشرک ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ولئن سالتہم“۔ (الخ) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ غزوہ تبوک میں ایک شخص نے ایک دن ایک مجلس میں کہا کہ میں نے ان مہمانوں جیسا اور نہ ان سے زیادہ خواہش والا اور نہ ان سے زیادہ جھوٹا اور نہ ان سے زیادہ دشمن کے مقابلے کے وقت بزدل کسی کو دیکھا ہے ایک شخص نے یہ سن کر کہنے لگا تو جھوٹا ہے اور یقیناً تو منافق ہے میں تیرے بارے میں رسول اکرم ﷺ کو مطلع کروں گا چناچہ رسول اکرم ﷺ کو اس کی اطلاع ہوگئی اور اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوگئی ، حضرت ابن عمر بیان فرماتے ہیں کہ میں نے اس شخص کو دیکھا کہ وہ رسول اکرم ﷺ کی اونٹنی کے پیچھے لٹکا ہوا تھا اور وہ کہہ رہا تھا یارسول اللہ ﷺ ہم تو محض مشغلہ اور خوش طبعی کررہے تھے اور رسول اکرم ﷺ فرما رہے تھے کہ کیا تم لوگ اللہ کے ساتھ اور اس کی آیات کے ساتھ اور اس کے رسول کے ساتھ ہنسی کرتے تھے۔ اس کے بعد دوسرے طریقہ پر حضرت ابن عمر ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اس روایت میں اس منافق کا نام عبداللہ بن ابی بیان کیا ہے نیز کعب بن مالک ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ مخشی بن حمیر نے کہا کہ میری یہ خواہش ہے کہ تم میں سے ہر ایک کے سو سو کوڑے لگانے کا فیصلہ کیا جائے تاکہ ہمیں اس بات سے نجات مل جائے کہ ہمارے بارے میں کوئی حکم قرآنی نازل ہو چناچہ رسول اکرم ﷺ کو اس بات کی اطلاع ہوگئی تو یہ منافقین عذر پیش کرنے کے لیے حاضر ہوئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ تم اب عذر مت کرو، تو ان لوگوں میں سے مخشی بن حمیر کو اللہ تعالیٰ نے معاف فرما دیا، چناچہ اس کا نام عبدالرحمن رکھا گیا اور اس نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ مجھے شہادت نصیب ہو اور میری شہادت کی جگہ کا کسی کو علم نہ ہو، چناچہ جنگ یمامہ میں وہ مارے گئے نہ ان کی شہادت کی جگہ کا علم ہوسکا اور نہ یہ معلوم ہوسکا کہ کس نے انکو شہید کیا ہے۔ نیز ابن جریر ؒ نے حضرت قتادہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ کچھ منافقین نے غزوہ تبوک میں کہا کہ یہ شخص (یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ چاہتے ہیں کہ شام کے قلعے اور محلات فتح ہوجائیں، کیسی نازیبا بات ہے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو ان کی اس بات پر مطلع کردیا، چناچہ یہ منافقین آپ کی خدمت میں آئے آپ نے فرمایا تم نے ایسی ایسی بات کی ہے وہ کہنے لگے کہ ہم تو محض ہنسی مذاق کررہے تھے چناچہ ان کے بارے میں یہ حکم نازل ہوا۔
Ayah 9:67

اَلْمُنٰفِقُوْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتُ بَعْضُهُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمُنْكَرِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمَعْرُوْفِ وَ یَقْبِضُوْنَ اَیْدِیَهُمْ١ؕ نَسُوا اللّٰهَ فَنَسِیَهُمْ١ؕ اِنَّ الْمُنٰفِقِیْنَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 9:67 in the Quran reader

منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے ہم جنس (یعنی ایک ہی طرح کے) ہیں کہ برے کام کرنے کو کہتے اور نیک کاموں سے منع کرتے اور (خرچ کرنے سے) ہاتھ بند کئے رہتے ہیں۔ انہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے بھی ان کو بھلا دیا۔ بیشک منافق نافرمان ہیں۔

(67) سب منافق مرد اور منافق عورتیں ایک دوسرے کے طریقے پر ہیں کفر اور رسول اکرم ﷺ کی مخالفت کی تعلیم دیتے ہیں ایمان اور رسول اکرم ﷺ کی پیروی سے روکتے ہیں اور نیک کاموں میں خرچ کرنے سے اپنے ہاتھوں کو روکتے ہیں، انہوں نے پوشیدگی کے ساتھ اطاعت خداوندی کو چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان کو دنیا میں ذلیل کیا اور آخرت میں آگ میں ڈال دیا، یقیناً یہ منافق پکے کافر ہیں۔
Ayah 9:68

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْكُفَّارَ نَارَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ هِیَ حَسْبُهُمْ١ۚ وَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌۙ Open ayah 9:68 in the Quran reader

اللہ نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں سے آتش جہنم کا وعدہ کیا ہے جس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے۔ وہی انکے لائق ہے اور خدا نے ان پر لعنت کردی ہے اور ان کے لئے ہمیشہ کا عذاب (تیار) ہے۔

(68) منافق مردوں اور عورتوں سے یہ عہد کر رکھا ہے کہ وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے، وہی ان کا اصل ٹھکانا ہے اللہ تعالیٰ ان کو ہمیشگی کا عذاب دے گا۔
Ayah 9:69

كَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْۤا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا١ؕ فَاسْتَمْتَعُوْا بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا١ؕ اُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 9:69 in the Quran reader

(تم منافق لوگ) ان لوگوں کی طرح ہو جو تم سے پہلے ہوچکے ہیں۔ وہ تم سے بہت طاقتور اور مال و اولاد کہیں زیادہ تھے۔ تو وہ اپنے حصے سے بہرہ یاب ہوچکے۔ سو جس طرح تم سے پہلے لوگ اپنے حصے سے فائدہ اٹھا چکے ہیں۔ اسی طرح تم نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھا لیا۔ اور جس طرح وہ باطل میں ڈوبے رہے اسی طرح تم باطل میں ڈوبے رہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں ضا ئع ہوگئے اور یہی نقصان اٹھانے والے ہیں۔

(69) ان لوگوں کے عذاب کے طریقہ پر جو ان منافقین سے پہلے ہوچکے ہیں تو انہوں نے آخرت کو چھوڑ کر اپنے دنیاوی حصہ سے خوب فائدہ حاصل کیا تھا اور تم بھی باطل اور رسول اکرم ﷺ کی تکذیب میں ایسے ہی جاداخل ہوئے جیسا کہ وہ باطل اور انبیاء کرام کی تکذیب میں داخل ہوئے تھے ان کی سب نیکیاں تباہ ہوگئیں اور یہ بڑے ہی نقصان اور خسارے میں ہیں۔
Ayah 9:70

اَلَمْ یَاْتِهِمْ نَبَاُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ عَادٍ وَّ ثَمُوْدَ١ۙ۬ وَ قَوْمِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اَصْحٰبِ مَدْیَنَ وَ الْمُؤْتَفِكٰتِ١ؕ اَتَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانَ اللّٰهُ لِیَظْلِمَهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 9:70 in the Quran reader

کیا ان کو ان لوگوں (کے حالات) کی خبر نہیں پہنچی جو ان سے پہلے تھے ؟ (یعنی) نوح ؑ اور عاد اور ثمود کی قوم اور ابراہیم ؑ کی قوم اور مدین والے اور الٹی ہوئی بستیوں والے۔ ان کے پاس پیغمبر نشانیاں لے کر آئے اور خدا تو ایسا نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا لیکن وہی اپنے آپ پر ظلم کرتے تھے۔

(70) کیا ان لوگوں کو اپنے سے پہلے لوگوں کی ہلاکت کی خبر نہیں کہ کس طرح ہم نے ان کو ہلاک کیا کہ حضرت نوح ؑ کی قوم کو پانی میں غرق کے ذریعے اور قوم ہود کو تیز آندھی کے ذریعے اور قوم صالح ؑ کو خوفناک چیخ سے اور قوم شعیب کو زلزلہ سے اور وہ جھٹلانے والی الٹی ہوئی بستیاں یعنی لوط ؑ کی قوم کی بستیوں کو ہم نے الٹا کردیا اور ان پر پتھروں کی بارش کی، ان کے پاس ان کے پیغمبر اور امر ونواہی اور صاف صاف نشانیاں لے کر آئے تھے مگر ان لوگوں نے انکار کردیا اور ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ نے انکو ہلاک کردیا، اللہ تعالیٰ نے انکو ہلاک کرکے ان پر ظلم نہیں کیا مگر یہ لوگ خود ہی کفر اور انبیاء کرم (علیہما السلام) کو جھٹلا کر اپنے اوپر ظلم کرتے تھے۔
Ayah 9:71

وَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بَعْضُهُمْ اَوْلِیَآءُ بَعْضٍ١ۘ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ یُطِیْعُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَیَرْحَمُهُمُ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:71 in the Quran reader

اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے اور خدا اور اس کے پیغمبر ﷺ کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بیشک خدا غالب حکمت والا ہے۔

(71) اور تصدیق کرنے والے مسلمان مرد اور عورتیں ظاہر و باطن کے اعتبار سے ایک دوسرے کے دینی رفیق ہیں، توحید اور پیروی رسول اکرم ﷺ کی تعلیم دیتے اور کفر وشرک اور رسول اکرم ﷺ کی مخالفت سے روکتے ہیں اور نمازوں کی پابندی کرتے ہیں اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں، ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ عذاب نہیں دیں گے، بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنی حکومت وسلطنت میں قادر مطلق ہے اور اپنے احکامات اور فیصلوں میں زبردست حکمت والا ہے۔
Ayah 9:72

وَعَدَ اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا وَ مَسٰكِنَ طَیِّبَةً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ١ؕ وَ رِضْوَانٌ مِّنَ اللّٰهِ اَكْبَرُ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:72 in the Quran reader

خدا نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے بہشتوں کا وعدہ کیا ہے۔ جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (وہ) ان میں ہمیشہ رہیں گے اور بہشت ہائے جاودانی میں نفیس مکانات کا (وعدہ کیا ہے) اور خدا کی رضامندی تو سب سے بڑھ کر نعمت ہے۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

(72) مسلمان مردوں اور عورتوں سے اللہ تعالیٰ نے ایسے باغات کا وعدہ فرما رکھا ہے جن کے درختوں اور محلات کے نیچے شراب طہور پانی، شہد اور دودھ کی نہریں بہتی ہوں گی، جنت میں یہ حضرات ہمیشہ رہیں گے اور ان سے نفیس مکانوں یا یہ کہ خوبصورت یا پاک یا یہ کہ بلند مکانوں کا وعدہ کر رکھا ہے جو مشک اور ریحان کی خوشبوؤں سے معطر ہوں گے جو جنت کے درجات عالیہ میں ہوں گے اور ان کے پروردگار کی رضامندی ان سب سے بڑی چیز ہے یہ جزا اور بدلہ انکی بہت بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 9:73

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 9:73 in the Quran reader

اے پیغمبر ﷺ ! کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو۔ اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

(73) کافروں سے تلوار کے ساتھ اور منافقین سے زبان کے ساتھ جہاد کیجیے اور ان دونوں جماعتوں پر قول وعمل کے ساتھ سختی کیجیے ان کا ٹھکانا جہنم ہے جہاں یہ جائیں گے وہ بہت بری جگہ ہے۔
Ayah 9:74

یَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ مَا قَالُوْا١ؕ وَ لَقَدْ قَالُوْا كَلِمَةَ الْكُفْرِ وَ كَفَرُوْا بَعْدَ اِسْلَامِهِمْ وَ هَمُّوْا بِمَا لَمْ یَنَالُوْا١ۚ وَ مَا نَقَمُوْۤا اِلَّاۤ اَنْ اَغْنٰىهُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَاِنْ یَّتُوْبُوْا یَكُ خَیْرًا لَّهُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّتَوَلَّوْا یُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ مَا لَهُمْ فِی الْاَرْضِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:74 in the Quran reader

یہ خدا کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے (تو کچھ) نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور یہ اسلام لانے کے بعد کافر ہوگئے ہیں اور ایسی بات کا قصد کرچکے ہیں جس پر قدرت نہیں پا سکے اور انہوں نے (مسلمانوں میں) عیب ہی کونسا دیکھا ہے سوا اس کے کہ خدا نے اپنے فضل سے اور اس کے پیغمبر ﷺ نے (اپنی مہربانی سے) ان کو دولتمند کردیا ہے ؟ تو اگر یہ لوگ توبہ کرلیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا اور اگر منہ پھیر لیں تو خدا ان کو دنیا اور آخرت میں دکھ دینے والا عذاب دیگا۔ اور زمین میں ان کا کوئی دوست اور مددگار نہ ہوگا۔

(74) جلاس بن سوید نے اللہ کی قسم کھائی کہ میرے متعلق عامر بن قیس نے جو بات پہنچائی ہے وہ میں نے نہیں کہی حالانکہ یقیناً انھوں نے کفر کی بات کہی تھی کیوں کہ جس وقت رسول اکرم ﷺ کا ذکر مبارک کیا گیا تو منافقین نے عیب جوئی کی اور کہا کہ اللہ کی قسم محمد ﷺ جو کچھ ہمارے بھائیوں میں باتیں بیان کرتے ہیں اگر آپ ان میں سچے ہیں تو ہم گدھوں سے زیادہ بدتر ہیں۔ جلاس بن سوید کی اس بات کی عامر بن قیس نے رسول اکرم ﷺ کو اطلاع دی تو اس نے اللہ کی قسم کھا کر کہا کہ میں نے کچھ نہیں کہا چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس کی قسم کی تکذیب کی کہ یقیناً اس نے کفر کی بات کہی ہے اور عیاذ باللہ انہوں نے رسول اکرم ﷺ کو قتل کرنے اور آپ کو جلاوطن کرنے کا ارادہ کیا ہے مگر ان کا بس نہ چل سکا ، اور انہوں نے رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو صرف اس بات کا بدلہ دیا ہے کہ ان کو اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے مال غنیمت سے مالدار کردیا، اگر اب بھی یہ کفر ونفاق سے باز آجائیں اور توبہ کرلیں تو ان کے لیے بہتر ہوگا۔ اور اگر یہ لوگ توبہ سے روگردانی کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو دردناک سزا دے گا اور نہ ان کا کوئی محافظ ہے اور نہ ان کی سزا کو کوئی ان سے ٹال سکتا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”یحلفون باللہ ما قالوا“ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جلاس بن سوید بن صامت نے غزوہ تبوک میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ شرک نہیں کی تھی اور اس نے کہا تھا کہ اگر یہ شخص یعنی نبی کریم ﷺ سچا ہو تو ہم گدھوں سے بھی بدتر ہیں، عمیر بن سعید نے اس چیز کی رسول اکرم ﷺ کو اطلاع کردی، جلاس نے اللہ کی قسم کھائی کہ میں نے یہ بات نہیں کہی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی وہ لوگ قسمیں کھاجاتے ہیں کہ ہم نے فلاں بات نہیں کہی۔ الخ۔ جلاس بن سوید نے توبہ کرلی تھی اور ان کی توبہ بھی قبول ہوئی، نیز کعب بن مالک ؓ سے اسی طرح روایت کیا گیا ہے اور ابن سعد نے طبقات میں اسی طرح عروہ سے روایت کیا ہے۔ اور ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت انس بن مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ خطبہ دے رہے تھے اس دوران حضرت زید بن ارقم نے منافقوں میں سے ایک شخص سے سنا کہ وہ کہہ رہا تھا کہ اگر رسول اکرم ﷺ سچے ہوں تو ہم گدھوں سے زیادہ بدتر ہیں، رسول اکرم ﷺ کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ کے پوچھنے پر اس کہنے والے نے انکار کردیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ نیز ابن جریر ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ ایک درخت کے سایہ میں تشریف رکھتے تھے، آپ نے فرمایا عنقریب تمہارے پاس ایسا شخص آئے گا جو شیطان کی دونوں آنکھوں سے دیکھتا ہے، چناچہ اتنے میں ایک نیلی آنکھوں والا شخص آیا، آپ نے اسے بلایا اور فرمایا کہ تو اور تیرے ساتھی مجھے کیوں برا کہتے ہیں۔ یہ سن کر وہ شخص چلا گیا اور اپنے ساتھیوں کو لے کر آیا، سب نے آکر قسمیں کھانی شروع کردیں کہ ہم نے ایسا نہیں کیا، چناچہ آپ نے انکو معاف کردیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ نیز حضرت قتادہ ؓ سے اسی طرح روایت کی گئی ہے کہ ود آدمی آپس میں لڑے، ایک ان میں سے قبیلہ جہینہ کا تھا اور دوسرا غفار کا اور جہینہ والے انصار کے حلیف تھے، غفاری جہنی پر غالب آگیا، اس پر عبداللہ بن ابی نے قبیلہ اوس سے کہا کہ اپنے بھائیوں کی مدد کرو، اللہ کی قسم، ہماری اور محمد ﷺ کی مثال اس قاتل کے قول کی طرح کہ تیرے کتے کی قیمت تجھ کو کھاگئی اگر ہم مدینہ منورہ لوٹ آئے تو ہم میں سے عزیز ذلیل کو نکال دے گا۔ یہ موشگافی سن کر مسلمانوں میں سے ایک شخص دوڑ کر رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا آپ نے یہ سن کر ابن ابی منافق کے پاس آدمی بھیجا اور اس اس سے دریافت کیا وہ اللہ کی قسمیں کھانے لگا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور طبرانی ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے کہ اسود نامی ایک شخص نے نعوذ باللہ رسول اللہ ﷺ کے قتل کا ارادہ کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی (آیت) وھموا بمالم ینالوا“۔ (الخ) اور جریر ؒ اور ابوالشیخ ؒ نے حضرت عکرمہ ؒ سے روایت کی ہے کہ مولی بن عدی بن کعب نے ایک انصاری شخص کو قتل کرڈالا، اس پر رسول اکرم ﷺ نے دیت ادا کرنے کے لیے بارہ ہزار درہم دینے کا فیصلہ فرمایا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 9:75

وَ مِنْهُمْ مَّنْ عٰهَدَ اللّٰهَ لَئِنْ اٰتٰىنَا مِنْ فَضْلِهٖ لَنَصَّدَّقَنَّ وَ لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 9:75 in the Quran reader

اور ان میں بعض ایسے ہیں جنہوں نے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر وہ ہم کو اپنی مہربانی سے (مال) عطا فرمائے گا تو ہم ضرور خیرات کیا کریں گے اور نیکو کاروں میں ہوجائیں گے۔

(75) منافقین میں سے ثعلبہ بن حاطب بن ابی بلتعہ نے قسم کھائی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے شام کا مال ہمیں دے دیا تو اس مال سے حقوق اللہ کی بجا آوری کریں گے اور صلہ رحمی کریں گے اور خوب نیک کام کریں گے۔ شان نزول : (آیت) ”ومنہم من عہد اللہ“۔ (الخ) طبرانی ؒ ، ابن مردویہ ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ اور بیہقی ؒ نے دلائل میں ضعیف سند کے ساتھ ابوامامہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ ثعلبہ بن حاطب نے کہا یارسول اللہ ؓ دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ہم کو مال دے، آپ نے فرمایا ثعلبہ دور ہوتھوڑا مال جس کا شکر ادا کیا جائے وہ اس زیادہ مال سے بہتر ہے کہ جس کے شکر کی طاقت نہ رکھے وہ کہنے لگا اللہ کی قسم اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے مال دے دیا تو پھر ہر ایک حق دار کا حق ادا کروں گا، آپ نے اس کے لیے دعا فرما دی۔ چناچہ اس نے بکریاں لیں وہ اتنی بڑھیں کہ اس پر مدینہ کی گلیاں تنگ ہوگئیں تو وہ مدینہ منورہ سے قرب و جوار کی چراگاہوں کی طرف چلا گیا، نمازوں میں آتا تھا اور پھر بکریوں کی طرف چلا جاتا تھا، پھر وہ بکریاں اور بڑھیں، یہاں تک کہ مدینہ کی چراگاہیں تنگ ہوگئیں تو وہ دور چلا گیا، اب صرف جمعہ کی نماز کے لیے آتا تھا اور پھر اپنی بکریوں میں چلا جاتا تھا اس کے بعد وہ بکریاں اور بڑھیں اور وہ اور دور چلا گیا اور وہ اس نے جمعہ وجماعت سب چھوڑ دی، اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ پر یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ”خذ من اموالھم صدقۃ تطھرھم“۔ (الخ) رسول اکرم ﷺ نے صدقات کی وصول یابی کے لیے دو آدمیوں کو عامل بنایا اور ان کو خط لکھ کردیا چناچہ وہ دونوں ثعلبہ کے پاس گئے اور اسے رسول اکرم ﷺ کا نامہ مبارک پڑھ کر سنایا، اس نے کہا کہ پہلے اور لوگوں کے پاس جاؤ جب وہاں سے فارغ ہوجاؤ تب میرے پاس آنا، چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا، جب اس کے پاس آئے تو وہ کہنے لگا یہ تو محض جزیہ کی ایک شاخ ہے، چناچہ وہ دونوں حضرات واپس چلے گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی کہ ان میں بعض آدمی ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے عہد کرلیتے ہیں الخ، نیز ابن جریر ؒ اور ابن مردویہ ؒ نے بھی مولی کے واسطہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ لین جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے اور (اپنے عہد سے) روگردانی کرکے پھر بیٹھے۔
Ayahs 9:76–77

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ بَخِلُوْا بِهٖ وَ تَوَلَّوْا وَّ هُمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 9:76 in the Quran reader

لیکن جب خدا نے ان کو اپنے فضل سے (مال) دیا تو اس میں بخل کرنے لگے۔ اور (اپنے عہد سے) روگردانی کر کے پھر بیٹھے

فَاَعْقَبَهُمْ نِفَاقًا فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلٰى یَوْمِ یَلْقَوْنَهٗ بِمَاۤ اَخْلَفُوا اللّٰهَ مَا وَعَدُوْهُ وَ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ Open ayah 9:77 in the Quran reader

تو خدا نے اس کا انجام یہ کیا کہ اس روز تک کے لئے جس میں وہ خدا کے رو برو حاضر ہوں گے ان کے دلوں میں نفاق ڈال دیا اس لئے کہ انہوں نے خدا سے جو وعدہ کیا تھا اس کے خلاف کیا اور اس لئے کہ وہ جھوٹ بولتے تھے۔

(76۔ 77) جب اللہ تعالیٰ نے ان کو شام والا مال دے دیا تو جو کچھ انہوں نے حقوق اللہ کی بجاآوری کا عہد کیا تھا اس میں بخل کرنے لگے تو اس وعدہ خلافی اور اس جھوٹ بولنے کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے قیامت تک ان کے دلوں میں نفاق کو قائم کردیا۔
Ayah 9:78

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَ نَجْوٰىهُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِۚ Open ayah 9:78 in the Quran reader

کیا ان کو معلوم نہیں کہ خدا ان کے بھیدوں اور مشوروں تک سے واقف ہے اور یہ کہ وہ غیب کی باتیں جاننے والا ہے ؟

(78) کیا ان منافقین کو یہ معلوم نہیں کہ اللہ کو ان کے دلوں کے راز اور ان کی سرگوشیاں سب معلوم ہیں اور جو باتیں بندوں سے پوشیدہ ہیں ان سب باتوں کو اللہ تعالیٰ جانتے ہیں ،
Ayah 9:79

اَلَّذِیْنَ یَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِیْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ فِی الصَّدَقٰتِ وَ الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَیَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ١ؕ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:79 in the Quran reader

جو (ذی استطاعت) مسلمان دل کھول کر خیرات کرتے ہیں اور (بیچارے غریب) صرف اتنا ہی کما سکتے ہیں جتنی مزدوری کرتے ہیں (اور اس تھوڑی سی کمائی میں سے بھی خرچ کرتے) ہیں ان پر جو (منافق) طعن کرتے اور ہنستے ہیں خدا ان پر ہنستا ہے۔ اور ان کے لئے تکلیف دینے والا عذاب (تیار) ہے۔

(79) منافقین حضرت عبدالرحمن اور ان کے ساتھیوں پر نفلی صدقات کے بارے میں طعن کیا کرتے تھے اور کہتے کہ یہ لوگ صدقات صرف دکھاوے اور ریا کے لیے دیتے ہیں اور ان لوگوں پر طعن وتشنیع کرتے تھے جن کو ماسوا محنت و مزدوری کے اور کچھ میسر نہیں ہوتا تھا اور یہ حضرت ابو عقیل عبدالرحمن بن تیمان تھے ان کو کھجور کا صرف ایک ہی صاع میسر آیا تھا اور اس کم صدقہ پر تمسخر کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ صرف دکھاوے کے لیے کر آئے ہیں ورنہ صدقہ تو اس سے زیادہ دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان کے تمسخر کا بدلہ دے گا ان کی جلن کے لیے دوزخ میں ایک دروازہ جنت کی طرف کھولے گا اور آخرت میں ان کو بڑی درد ناک سزا ملے گی ، شان نزول : (آیت) ”الذین یلمزون“۔ (الخ) حضرت امام بخاری ؒ ومسلم ؒ نے ابومسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب آیت صدقہ نازل ہوئی تو ہم اپنی پشتوں پر بوجھ لاد کر آتے تھے تو ہم میں سے کوئی شخص زیادہ صدقہ کرتا تو یہ منافق کہتے یہ ریاکار ہے اور کوئی صرف ایک ہی صاع لے کر آتا تو یہ منافق کہتے کہ اللہ تعالیٰ اس کے صدقہ سے غنی ہے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور اسی طریقہ پر حضرت ابوہریرہ ؓ ابوعقیل ؓ ابوسعید خدری ؓ ابن عباس ؓ عمیرہ، بنت سہیل بن رافع سے روایات مروی ہیں یہ تمام روایات ابن مردویہ نے روایت کی ہیں۔
Ayah 9:80

اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ١ؕ اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِیْنَ مَرَّةً فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 9:80 in the Quran reader

تم ان کے لئے بخشش مانگو یا نہ مانگو (بات ایک ہی ہے) اگر (ان کے لئے) ستر دفعہ بھی بخشش مانگو گے تو بھی خدا ان کو نہیں بخشے گا۔ یہ اسلئے کہ انہوں نے خدا اور اسکے رسول ﷺ سے کفر کیا اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

(80) آپ خواہ عبداللہ بن ابی، جدی بن قیس، معتب بن قشیر اور ان منافقین کے لیے جو تقریبا ستر ہیں استغفار کریں یا نہ کریں اللہ تعالیٰ ان منافقوں یعنی عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو معاف نہیں فرمائیں گے۔