9. Surah At-Tawba

التوبةThe Repentance · 129 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 9:81

فَرِحَ الْمُخَلَّفُوْنَ بِمَقْعَدِهِمْ خِلٰفَ رَسُوْلِ اللّٰهِ وَ كَرِهُوْۤا اَنْ یُّجَاهِدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ قَالُوْا لَا تَنْفِرُوْا فِی الْحَرِّ١ؕ قُلْ نَارُ جَهَنَّمَ اَشَدُّ حَرًّا١ؕ لَوْ كَانُوْا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:81 in the Quran reader

جو لوگ (غزوہ تبوک میں) پیچھے رہ گئے وہ پیغمبر خدا ﷺ (کی مرضی) کے خلاف بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے اور اس بات کو ناپسند کیا کہ (خدا کی راہ میں) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ اور (اوروں سے بھی) کہنے لگے کہ گرمی میں مت نکلنا (ان سے) کہہ دو کہ دوزخ کی آگ اس سے کہیں زیادہ گرم ہے۔ کاش یہ (اس بات کو) سمجھتے۔

(81) منافقین غزوہ تبوک میں نہ جاکر رسول اکرم ﷺ کے بعد خوش ہوگئے ان کو اطاعت خداوندی میں جہاد کرنا ناگوار ہوا اور ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ایسی سخت گرمی میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ غزوہ تبوک کے لیے مت جانا، آپ ان منافقوں سے فرما دیجیے کہ جہنم کی آگ اس سے زیادہ تیز اور گرم ہے، کیا خوب ہوتا اگر وہ سمجھتے اور اس کی تصدیق کرتے۔ شان نزول : (آیت) فرح المخلفون“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے لوگوں کو اپنے ساتھ چلنے کا حکم دیا اور یہ گرمی کا زمانہ تھا ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ گرمی بہت سخت ہے اور ہم ایسی گرمی میں چلنے کی طاقت نہیں لہٰذا اس سخت گرمی میں نہ نکلیے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ”قل نار جہنم“ الخ۔ یعنی آپ فرما دیجیے کہ جہنم کی آگ اس سے بھی زیادہ گرم ہے۔ نیز محمد بن کعب قرظی ؒ سے منقول ہے کہ رسول اکرم ﷺ سخت گرمی میں تبوک کی طرف روانہ ہوئے تو بنی سلمہ میں سے ایک شخص نے کہا کہ ایسی سخت گرمی میں مت نکلو، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، (آیت) ”قل نار جھنم اشد حرا“۔ الخ۔ اور امام بیہقی ؒ نے دلائل میں بواسطہ اسحاق، عاصم بن عمرو بن قتادہ اور عبداللہ بن ابی بکر بن حزم سے روایت کی ہے کہ منافقین میں سے ایک شخص نے کہا کہ ایسی سخت گرمی میں مت چلیے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 9:82

فَلْیَضْحَكُوْا قَلِیْلًا وَّ لْیَبْكُوْا كَثِیْرًا١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:82 in the Quran reader

یہ (دنیا میں) تھوڑا ساہنس لیں اور (آخرت میں) انکو ان اعمال کے بدلے جو کرتے رہے ہیں بہت سا رونا ہوگا۔

(82) اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں تھوڑے دن ہنس لیں اور آخرت میں بہت دنوں تک روتے رہیں جو ان معاصی اور گناوں کا بدلہ ہے۔
Ayah 9:83

فَاِنْ رَّجَعَكَ اللّٰهُ اِلٰى طَآئِفَةٍ مِّنْهُمْ فَاسْتَاْذَنُوْكَ لِلْخُرُوْجِ فَقُلْ لَّنْ تَخْرُجُوْا مَعِیَ اَبَدًا وَّ لَنْ تُقَاتِلُوْا مَعِیَ عَدُوًّا١ؕ اِنَّكُمْ رَضِیْتُمْ بِالْقُعُوْدِ اَوَّلَ مَرَّةٍ فَاقْعُدُوْا مَعَ الْخٰلِفِیْنَ Open ayah 9:83 in the Quran reader

پھر اگر خدا تم کو ان میں سے کسی گروہ کی طرف لیجائے اور وہ تم سے نکلنے کی اجازت طلب کریں تو کہہ دینا کہ تم میرے ساتھ ہرگز نہیں نکلو گے۔ اور نہ میرے ساتھ (مددگار ہو کر) دشمن سے لڑائی کرو گے۔ تم پہلی دفعہ بیٹھ رہنے سے خوش ہوئے تو اب بھی پیچھے رہنے والوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔

(83) اگر اللہ تعالیٰ آپ کو غزوۂ تبوک سے مدینہ منورہ ان منافقین کے کسی گروہ کے پاس واپس لائے اور وہ براہ خوشامد دوسرے جہاد پر آپ کے ساتھ چلنے کی اجازت مانگیں تو آپ یہ فرما دیجیے کہ غزوہ تبوک کے بعد تم کبھی بھی میرے ساتھ نہ چلو گے۔ تم نے غزوہ تبوک سے قبل ہی بیٹھنے کو پسند کیا، لہٰذا جہاد سے عورتوں اور بچوں کے ساتھ بیٹھے رہو۔
Ayah 9:84

وَ لَا تُصَلِّ عَلٰۤى اَحَدٍ مِّنْهُمْ مَّاتَ اَبَدًا وَّ لَا تَقُمْ عَلٰى قَبْرِهٖ١ؕ اِنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ مَاتُوْا وَ هُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 9:84 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ ان میں سے کوئی مر جاّئے تو کبھی اس کے جنازے پر نماز نہ پڑھنا نہ اس کی قبر پر جا کر کھڑے ہونا یہ خدا اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر کرتے رہے اور مرے بھی تو نافرمان (ہی مرے)۔

(84) ان منافقین میں سے عبداللہ بن ابی کے بعد کسی کے جنازہ پر یا عبداللہ بن ابی کے جنازہ پر نماز نہ پڑھیے اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوئیے یقیناً یہ نفاق وکفر ہی کی حالت میں مرے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ولا تصل علی احد منہم“۔ (الخ) حضرت امام بخاری ومسلم ؒ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب عبداللہ بن ابی منافق مرگیا تو اس کے بیٹے جو صحابی تھے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور درخواست کی کہ اپنی قمیص دے دیجیے کہ میں اس میں اپنے باپ کو کفنا دوں، آپ نے دے دی پھر درخواست کی کہ اس کے جنازے کی نماز بھی پڑھ دیجیے آپ پڑھنے کھڑے ہوئے تو حضرت عمر ؓ نے کھڑے ہو کر آپ کا کپڑا پکڑ لیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ اس کی نماز پڑھتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو منافقین پر نماز پڑھنے سے منع کیا ہے آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مجھے اختیار دیا ہے چناچہ یوں فرمایا ہے۔ (آیت) ”استغفرلھم اولا تستغفرلھم ان تستغفرلھم سبعین مرۃ“ (الخ) میں ستر بار سے زیادہ استغفار کروں گا، غرض کہ آپ نے اس کی نماز پڑھا دی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اس کے بعد پھر کبھی آپ نے منافقین کے جنازہ پر نماز نہیں پڑھی اور یہ حدیث حضرت عمر ؓ انس ؓ اور جابر ؓ سے بھی مروی ہے۔
Ayah 9:85

وَ لَا تُعْجِبْكَ اَمْوَالُهُمْ وَ اَوْلَادُهُمْ١ؕ اِنَّمَا یُرِیْدُ اللّٰهُ اَنْ یُّعَذِّبَهُمْ بِهَا فِی الدُّنْیَا وَ تَزْهَقَ اَنْفُسُهُمْ وَ هُمْ كٰفِرُوْنَ Open ayah 9:85 in the Quran reader

اور ان کے مال اور اولاد سے تعجب نہ کرنا۔ ان چیزوں سے خدا یہ چاہتا ہے کہ انکو دنیا میں عذاب کرے۔ اور (جب) ان کی جان نکلے تو (اس وقت بھی) یہ کافر ہی ہوں۔

(85) اور آپ کو ان کے اموال کی کثرت اور ان کی اولاد کی زیادتی کسی قسم کے تعجب میں نہ ڈالے کیوں کہ ان چیزوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ انکو دنیا میں بھی گرفتار عذاب رکھنا اور آخرت میں عذاب دینا چاہتا ہے اور یہ کہ ان کا خاتمہ کفر پر ہی ہو۔
Ayah 9:86

وَ اِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ اَنْ اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ جَاهِدُوْا مَعَ رَسُوْلِهِ اسْتَاْذَنَكَ اُولُوا الطَّوْلِ مِنْهُمْ وَ قَالُوْا ذَرْنَا نَكُنْ مَّعَ الْقٰعِدِیْنَ Open ayah 9:86 in the Quran reader

اور جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے کہ خدا پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ ہو کر لڑائی کرو۔ تو جو ان میں دولت مند ہیں وہ تم سے اجازت طلب کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تو رہنے ہی دیجئے کہ جو لوگ گھروں میں رہیں گے ہم بھی انکے ساتھ رہیں۔

(86) اور جب کبھی کوئی ٹکڑا قرآن کریم کا اس مضمون کے بارے میں نازل کیا جاتا ہے اور اس میں حکم دیا جاتا ہے کہ خلوص دل کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول کے ساتھ جہاد کرو تو محمد ﷺ ان منافقین یعنی عبداللہ بن ابی، جدی بن قیس، اور معتب بن قشیر میں سے مقدوروالے آپ سے رخصت مانگتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے محمد ﷺ ہمیں اجازت دیجیے ہم بھی یہاں ٹھہرنے والوں کے ساتھ رہ جائیں۔
Ayah 9:87

رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ وَ طُبِعَ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَفْقَهُوْنَ Open ayah 9:87 in the Quran reader

یہ اس بات سے خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو پیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں انکے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔ تو یہ سمجھتے ہی نہیں۔

(87) یہ لوگ خانہ نشین عورتوں اور بچوں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئے اور ان کے دلوں پر مہر لگ گئی جس کی وجہ سے حکم خداوندی کی تصدیق ہی نہیں کرتے۔
Ayah 9:88

لٰكِنِ الرَّسُوْلُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْخَیْرٰتُ١٘ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 9:88 in the Quran reader

لیکن پیغمبر ﷺ اور جو لوگ انکے ساتھ ایمان لائے سب اپنے مال اور جان سے لڑے انہی لوگوں کے لئے بھلائیاں ہیں اور یہی مراد پانے والے ہیں۔

(88) لیکن رسول اکرم ﷺ اور آپ کے خالص مسلمان ساتھی انہوں نے اطاعت خداوندی میں جہاد کیا ان ہی حضرات کیلیے دنیا میں مقبول نیکیاں ہیں یا یہ کہ آخرت میں خوبصورت حوریں ہیں اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب سے نجات حاصل کرنے والے ہیں۔
Ayah 9:89

اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۠ Open ayah 9:89 in the Quran reader

خدا نے ان کے لئے باغات تیار کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

(89) ان کیلیے اللہ تعالیٰ نے ایسے باغات مہیا کر رکھے ہیں جن کے درختوں اور محلات کے نیچے سے دودھ شہد، شراب اور پانی کی نہریں بہتی ہیں، وہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے جس کی بدولت جنت اور اس کی نعمتیں حاصل کیں اور دوزخ سے نجات پائی۔
Ayah 9:90

وَ جَآءَ الْمُعَذِّرُوْنَ مِنَ الْاَعْرَابِ لِیُؤْذَنَ لَهُمْ وَ قَعَدَ الَّذِیْنَ كَذَبُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 9:90 in the Quran reader

اور صحرا نشینوں میں سے بھی کچھ لوگ عذر کرتے ہوئے (تمہارے پاس) آئے کہ ان کو بھی اجازت دی جائے۔ اور جنہوں نے خدا اور اس کے رسول ﷺ سے جھُوٹ بولا وہ (گھر میں) بیٹھ رہے۔ سو جو لوگ ان میں سے کافر ہوئے انکو دکھ دینے والا عذاب پہنچے گا۔

(90) اے نبی اکرم ﷺ آپ کی خدمت میں قبیلہ غفار کے کچھ آدمی آئے، معذرون اگر تخفیف کے ساتھ ہو تو مطلب یہ کہ معذور لوگ آئے اور اس کو تشدید کے ساتھ پڑھا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ کچھ بہانہ باز لوگ آئے تاکہ رسول اکرم ﷺ ان کو غزوہ تبوک میں عدم شرکت کی اجازت مرحمت فرمادیں۔ اور ان لوگوں میں سے جنہوں نے خفیہ طریقہ پر جہاد کے بارے میں بغیر اجازت کے مخالفت کی تھی وہ بالکل ہی بیٹھ رہے ، ان منافقین میں سے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کو درد ناک عذاب ہوگا۔
Ayah 9:91

لَیْسَ عَلَى الضُّعَفَآءِ وَ لَا عَلَى الْمَرْضٰى وَ لَا عَلَى الَّذِیْنَ لَا یَجِدُوْنَ مَا یُنْفِقُوْنَ حَرَجٌ اِذَا نَصَحُوْا لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ١ؕ مَا عَلَى الْمُحْسِنِیْنَ مِنْ سَبِیْلٍ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:91 in the Quran reader

نہ تو ضعیفوں پر کچھ گناہ ہے اور نہ بیماروں پر اور نہ ان پر جنکے پاس خرچ موجود نہیں (کہ شریک جہاد ہوں یعنی) جبکہ خدا اور اسکے رسول ﷺ کے خیر اندیش (اور دل سے انکے ساتھ) ہوں۔ نیکو کاروں پر کسی طرح کا الزام نہیں ہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(91) بوڑھوں محتاجوں اور نوجوان لوگوں میں سے بیماروں پر اور ان لوگوں پر جن کو سامان جہاد کی تیاری میں خرچ کرنے کو میسر نہیں، عدم شرکت جہاد پر کوئی گناہ نہیں، جب کہ یہ لوگ دین الہی اور سنت رسول اکرم ﷺ کے بارے میں خلوص رکھیں، ان حضرات پر جو قول وعمل میں نیکوکار ہیں کوئی الزام نہیں جو شخص توبہ کرے اللہ تعالیٰ اسے معاف فرمانے والے ہیں اور جو توبہ پر مرے اللہ تعالیٰ اس پر بڑی رحمت فرمانے والے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”لیس علی الضعفآء ولا“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت زید بن ثابت ؓ سے روایت کی ہے فرماتے ہیں کہ میں رسول اکرم ﷺ کے سامنے لکھا کرتا تھا، چناچہ میں برأت کی آیتیں لکھتا تھا اور میں نے اپنے کان پر قلم رکھ رکھا تھا، کہ ہمیں قتال کا حکم دے دیا گیا، رسول اکرم ﷺ جو آپ پر نازل ہوا تھا اسے دیکھنے لگے، اتنے میں ایک نابینا حاضر خدمت ہوگئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ میں نابینا ہوں میرا کیا ہوگا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی کم طاقت لوگوں پر کوئی گناہ نہیں، نیز عوفی کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے اس طرح روایت منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ آپ کے ساتھ جہاد پر جانے کے لیے تیار ہوجائیں، صحابہ کرام میں سے ایک جماعت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی جن میں عبداللہ بن معقل مزنی بھی تھے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ہمیں سواری دیجیے، آپ نے فرمایا کہ میرے پاس تو کوئی چیز نہیں جس پر تمہیں سوار کراؤں یہ سن کر وہ اس حالت میں واپس ہوئے کہ عدم شرکت جہاد کی بنا پر وہ رو رہے تھے کیوں کہ نہ ان کے پاس نفقہ تھا اور نہ سواری، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (آیت) ”ولا علی الذین اذا ما اتوک“۔ (الخ) نازل فرمائی یعنی نہ ان لوگوں پر کہ جس وقت وہ آپ کے پاس اس واسطے آتے ہیں (الخ)
Ayah 9:92

وَّ لَا عَلَى الَّذِیْنَ اِذَا مَاۤ اَتَوْكَ لِتَحْمِلَهُمْ قُلْتَ لَاۤ اَجِدُ مَاۤ اَحْمِلُكُمْ عَلَیْهِ١۪ تَوَلَّوْا وَّ اَعْیُنُهُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ حَزَنًا اَلَّا یَجِدُوْا مَا یُنْفِقُوْنَؕ Open ayah 9:92 in the Quran reader

اور نہ ان (بےسروسامان) لوگوں پر (الزام) ہے کہ تمہارے پاس آئے کہ ان کو سواری دو اور تم نے کہا کہ میرے پاس کوئی ایسی چیز نہیں جس پر تم کو سوار کروں تو وہ لوٹ گئے اور اس غم سے کہ انکے پاس خرچ موجود نہ تھا۔ انکی آنکھوں سے آنسو بہ رہے تھے۔

(92) اور نہ ان لوگوں پر کوئی گناہ ہے کہ جس وقت وہ آپ کے پاس جہاد کیلیے خرچ وسواری کے لیے آتے ہیں جیسا کہ حضرت عبداللہ بن معقل بن یسار اور سالم بن عمیر انصاری اور ان کے ساتھی اور آپ ان سے فرما دیتے ہیں کہ میرے پاس تو جہاد پر جانے کے لیے کوئی چیز نہیں تو آپ کے ہاں سے ناکام اس حالت میں واپس چلے جاتے ہیں کہ انکی آنکھوں سے آنسو جاری ہوتے ہیں، اس غم میں کہ ان کو سامان جہاد کی تیاری میں خرچ کرنے کو کچھ میسر نہیں۔
Ayah 9:93

اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَى الَّذِیْنَ یَسْتَاْذِنُوْنَكَ وَ هُمْ اَغْنِیَآءُ١ۚ رَضُوْا بِاَنْ یَّكُوْنُوْا مَعَ الْخَوَالِفِ١ۙ وَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 9:93 in the Quran reader

الزام تو ان لوگوں پر ہے جو دولتمند ہیں اور (پھر) تم سے اجازت طلب کرتے ہے (یعنی اس بات سے) خوش ہیں کہ عورتوں کے ساتھ جو بیچھے رہ جاتی ہیں (گھروں میں بیٹھ) رہیں خدا نے انکے دلوں پر مہر کردی ہے۔ پس وہ سمجھتے ہی نہیں۔

(93) بس گناہ تو ان لوگوں پر ہے جو باوجود مال دار ہونے کے گھر رہنے کی اجازت چاہتے ہیں جیسا کہ عبداللہ بن ابی، جدی بن قیس، معتب بن قیشر اور ان کے ساتھی جن کی تعداد ستر کے قریب ہے۔ یہ لوگ خانہ نشین عورتوں اور بچوں کے ساتھ رہنے پر راضی ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی ہے جس سے وہ احکام خاوندی کو جانتے ہی نہیں اور نہ اس کی تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 9:94

یَعْتَذِرُوْنَ اِلَیْكُمْ اِذَا رَجَعْتُمْ اِلَیْهِمْ١ؕ قُلْ لَّا تَعْتَذِرُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ لَكُمْ قَدْ نَبَّاَنَا اللّٰهُ مِنْ اَخْبَارِكُمْ١ؕ وَ سَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ ثُمَّ تُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 9:94 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس واپس جاؤ گے تو تم سے عذر کریں گے۔ تم کہنا کہ عذر مت کرو ہم ہرگز تمہاری بات نہیں مانیں گے خدا نے ہم کو تمہارے (سب) حالات بتا دیئے ہیں۔ اور ابھی خدا اور اس کا رسول ﷺ تمہارے عملوں کو (اور) دیکھیں گے پھر تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور جو عمل تم کرتے رہے ہو وہ سب تمہیں بتائے گا۔

(94) غزوہ تبوک سے جب آنحضرت ﷺ مدینہ منورہ واپس تشریف لائیں گے تو یہ آپ کے سامنے عذر پیش کریں گے کہ ہم آپ کے ساتھ نہیں جاسکتے تھے، لہذا اے محمد ﷺ آپ ان کو صاف بتادیں کہ بس عدم شرکت کا بہانہ نہ پیش کرو جو تم باتیں کہتے ہو ہم کبھی تمہیں سچا نہیں جانیں گے کہ کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تمہاری اصل حالت اور تمہارے نفاق کے بارے میں اطلاع کرچکے ہیں۔ البتہ اس کے بعد بھی اگر تم توبہ کرلو گے تو تمہارے اعمال دیکھ لیں گے اور پھر آخرت میں اس کے پاس لوٹ کرجاؤ گے جو پوشیدہ اور ظاہر سب کا جاننے والا ہے اور پھر وہ تمہیں تمہاری نیکی اور بدی سب بتا دے گا، غیب جو بندوں سے چھپا ہوا یا یہ کہ جس کو بندے نہ جان سکیں یا یہ کہ جو ہوگا اور شہادہ جس کو بندے جانتے ہیں یا یہ کہ جو ہوچکا ہو۔
Ayah 9:95

سَیَحْلِفُوْنَ بِاللّٰهِ لَكُمْ اِذَا انْقَلَبْتُمْ اِلَیْهِمْ لِتُعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ فَاَعْرِضُوْا عَنْهُمْ١ؕ اِنَّهُمْ رِجْسٌ١٘ وَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 9:95 in the Quran reader

جب تم ان کے پاس لوٹ کر جاؤ گے تو تمہارے روبرو خدا کی قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے درگزر کرو۔ سو ان کی طرف التفات نہ کرنا یہ ناپاک ہیں اور جو کام یہ کرتے رہے ہیں ان کے بدلے ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔

(95) جب آپ کی غزوہ تبوک سے مدینہ منورہ واپسی ہوگی تو عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی آکر قسمیں کھائیں گے کہ ہم مجبور تھے۔
Ayah 9:96

یَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ١ۚ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 9:96 in the Quran reader

یہ تمہارے آگے قسمیں کھائیں گے تاکہ تم ان سے خوش ہوجاؤ۔ لیکن اگر تم ان سے خوش ہوجاؤ گے تو خدا تو نافرمان لوگوں سے خوش نہیں ہوتا۔

(96) تاکہ آپ ان کو معاف کردیں اور ان سے کوئی مواخذہ نہ کریں سو تم بھی انکو ان کے حال پر چھوڑ دو کیوں کہ وہ باکل بیہودہ ہیں اور آخرت میں ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ان کاموں کے بدلے میں جو کہ وہ کہتے اور کرتے تھے اور یہ آپ کی رضا حاصل کرنے کے لیے قسمیں کھائیں گے، بالفرض آپ ان کی جھوٹی قسموں سے ان سے راضی ہو بھی جائیں تو اللہ ان منافقین سے راضی نہیں ہوتا۔
Ayah 9:97

اَلْاَعْرَابُ اَشَدُّ كُفْرًا وَّ نِفَاقًا وَّ اَجْدَرُ اَلَّا یَعْلَمُوْا حُدُوْدَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى رَسُوْلِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:97 in the Quran reader

دیہاتی لوگ سخت کافر اور سخت منافق ہیں اور اس قابل ہیں کہ جو احکام (شریعت) خدا نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں ان سے واقف (ہی) نہ ہوں اور خدا جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

(97) اور ان منافقین میں اسد وغطفان کے دیہاتی سخت مزاجی کی وجہ سے کفر ونفاق میں بہت ہی پکے ہیں اور ان کو ایسا ہونا بھی چاہیے کیونکہ انھیں ان احکامات اور فرائض کا علم .... جو اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنے نبی ﷺ پر نازل فرمائے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان منافقین کے بارے میں خوب جانتے ہیں اور بڑی حکمت والے ہیں، ان سزاؤں پر جو ان کے لیے تجویز کی ہیں یا یہ کہ اس شخص کی جہالت کا علم رکھنے والے ہیں جو علم دین کے حصول کو چھوڑے اور اس فیصلہ فرمانے میں کہ جو علم کو چھوڑے وہ جاہل ہے، حکمت والے ہیں۔
Ayah 9:98

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یَّتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ مَغْرَمًا وَّ یَتَرَبَّصُ بِكُمُ الدَّوَآئِرَ١ؕ عَلَیْهِمْ دَآئِرَةُ السَّوْءِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:98 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے تاوان سمجھتے ہیں اور تمہارے حق میں مصیبتوں کے منتظر ہیں۔ انہی پر بری مصیبت (واقع) ہو اور خدا سننے والا (اور) جاننے والا ہے۔

(98) اور ان اسد و غطفان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو مسلمانوں کی خاطر جہاد کے موقع پر خرچ کرتے ہیں، اسے پیسے کا ضیاع سمجھتے ہیں اور مسلمانوں کے خاتمے کے منتظر رہتے ہیں، ان منافقین پر برا وقت پڑنے والا ہے اور ان کا انجام برا ہونے والا ہے، اللہ تعالیٰ ان کے کفر ونفاق کی باتوں کو سننے والے اور ان کی عاقبت جاننے والے ہیں،
Ayah 9:99

وَ مِنَ الْاَعْرَابِ مَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ یَتَّخِذُ مَا یُنْفِقُ قُرُبٰتٍ عِنْدَ اللّٰهِ وَ صَلَوٰتِ الرَّسُوْلِ١ؕ اَلَاۤ اِنَّهَا قُرْبَةٌ لَّهُمْ١ؕ سَیُدْخِلُهُمُ اللّٰهُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 9:99 in the Quran reader

اور بعض دیہاتی ایسے ہیں کہ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اس کو خدا کی قربت اور پیغمبر کی دعاؤں کا ذریعہ سمجھتے ہیں دیکھو وہ بےشبہہ ان کے لئے (موجب) قربت ہے۔ خدا ان کو عنقریب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(99) اور قبیلہ مزینہ جہنیہ اور اسلم میں سے بعض دیہاتی ایسے بھی ہیں کہ جو اللہ تعالیٰ اور روز جزا پر پورا پورا ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ جہاد وغیرہ پر خرچ کرتے ہیں، قرب الہی کا ذریعہ اور آنحضرت ﷺ کی دعا کا ذریعہ بناتے ہیں۔ یاد رکھو کہ ان کا یہ خرچ اللہ کی راہ میں کرنا بلاشبہ ان کے لیے اللہ کی قربت حاصل کرنے کا ذریعہ ہے، اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں جگہ دیں گے، وہ بڑے غفور و رحیم ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ومن الاعراب من یؤمن باللہ“۔ (الخ) ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجاہد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت بنی مقرن کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ جن کے بارے میں یہ آیت ”۔ ولا علی الذین اذا ما اتوک .... الخ نازل ہوئی تھی۔ نیز عبدالرحمن بن معقل مزنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا گیا ہے کہ ہم بن مقرن کے دس لوگ تھے، ہمارے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
Ayah 9:100

وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍ١ۙ رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:100 in the Quran reader

جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے) پہلے (ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکوکاری کے ساتھ ان کی پیروی کی خدا ان سے خوش ہے اور وہ خدا سے خوش ہیں۔ اور اس نے ان کے لئے باغات تیار کئے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ہمیشہ ان میں رہیں گے۔ یہ بڑی کامیابی ہے۔

(100) یعنی جو اولین ایمان لانے والے اور مقدم ہیں اور جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی ہے، اور بدر میں شریک ہوئے ہیں اور قیامت کے فرض ادا کرنے اور گناہ سے بچنے میں جتنے لوگ ان کے پیرو ہیں، اللہ رب العزت ان سب سے راضی ہوئے اور وہ سب اللہ رب العزت سے اجروثواب کے ملنے سے راضی ہوئے اور رب العزت کی طرف سے ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے درختوں اور مکانات کے نیچے سے دودھ، شہد، شراب اور پانی کی نہریں جاری ہوں گے، وہ جنت میں سدا رہیں گے، وہ موت وحیات کی کشمکش سے آزاد ہوں گے اور اللہ رب العزت کی خوشنودی اور باغات بہت بڑی کامیابی ہے۔
Ayah 9:101

وَ مِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنٰفِقُوْنَ١ۛؕ وَ مِنْ اَهْلِ الْمَدِیْنَةِ١ؔۛ۫ مَرَدُوْا عَلَى النِّفَاقِ١۫ لَا تَعْلَمُهُمْ١ؕ نَحْنُ نَعْلَمُهُمْ١ؕ سَنُعَذِّبُهُمْ مَّرَّتَیْنِ ثُمَّ یُرَدُّوْنَ اِلٰى عَذَابٍ عَظِیْمٍۚ Open ayah 9:101 in the Quran reader

اور تمہارے گرد ونواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں۔ اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے ہم جانتے ہیں۔ ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔

(101) اور قبیلہ اسد وغطفان کے کچھ لوگ اور مدینہ والوں میں سے عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھی ایسے منافق ہیں کہ جو نفاق کی آخری حدوں کو پہنچے ہوئے ہیں اور اس پر ثابت قدم ہیں، آپ بھی ان کے نفاق کو نہیں جانتے، ان کے نفاق کو بس ہم ہی جانتے ہیں ہم ان کو ایک بار ان کی جانیں قبض کرنے کے وقت اور دوسری بار ان کو عذاب قبردیں گے پھر یہ عذاب جہنم کی طرف بھیجے جائیں گے۔
Ayah 9:102

وَ اٰخَرُوْنَ اعْتَرَفُوْا بِذُنُوْبِهِمْ خَلَطُوْا عَمَلًا صَالِحًا وَّ اٰخَرَ سَیِّئًا١ؕ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 9:102 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں کہ اپنے گناہوں کا (صاف) اقرار کرتے ہیں۔ انہوں نے اچھے اور برے عملوں کو ملا جلا دیا تھا۔ قریب ہے کہ خدا ان پر مہربانی سے توجہ فرمائے۔ بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(102) اور اہل مدینہ میں سے کچھ اور لوگ ہیں یعنی ودیعتہ بن جزام انصاری، ابولبابہ بن عبد المنذر انصارنی، ابوثعلبہ انہوں نے اپنی غلطی کا اقرار کرلیا، جو ان سے غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے کی بنا پر سرزد ہوئی ہے، اس سے پہلے جو غزوات ہوچکے ہیں، اس میں تو وہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ شریک ہوئے اور اس غزوہ میں آپ کے ساتھ شرکت نہیں کی، سو اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہے کہ ان کی غلطی معاف کردی جائے گی، بیشک جو ان میں سے توبہ کرے، اللہ رب العزت اس کی بخشش کرنے والے اور جو توبہ پر مرے اس پر رحم کرنے والے ہیں (جب ان لوگوں کی توبہ قبول ہوگئی) تو رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں اپنا مال واسباب لیکر آئے اور عرض کیا کہ اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کیا جائے کیوں کہ ہم اس مال واسباب ہی کی وجہ سے غزوہ تبوک میں نہیں گئے تو رسول اکرم ﷺ نے ان سے مال واسباب نہیں لیا، جب تک کہ اللہ تعالیٰ نے اس چیز کا حکم نہیں دے دیا اور یہاں نہیں فرما دیا کہ کیا مال لینا چاہیے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ واخرون اعترفوا“۔ (الخ) ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عوفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ جہاد کے لیے تشریف لے گئے، ابولبابہ اور ان کے پانچ ساتھیوں نے جہاد میں شرکت نہیں کی، اس کے بعد حضرت ابولبابہ اور ان کے ساتھ دو مزید حضرات کو اپنے اس فعل سے ندامت ہوئی اور ان حضرات کو اپنی ہلاکت کا پکا یقین ہوگیا اور کہنے لگے کہ ہم سکون و اطمینان کے ساتھ عورتوں سے لذت اٹھا رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام ؓ جہاد میں مصروف ہیں، اللہ کہ قسم اب ہم اپنے آپ کو ستونوں سے باندھ دیں گے اور ان کو نہیں کھولیں گے یہاں تک کہ رسول اکرم ﷺ ہی خود کھولیں، چناچہ ان لوگوں نے ایسا ہی کیا اور تین لوگ اپنی حالت پر باقی رہ گئے، انہوں نے اپنے آپ کو ستونوں سے نہیں باندھا۔ جب رسول اکرم ﷺ جہاد سے واپس تشریف لائے اور پوچھا کہ یہ ستونوں کے ساتھ کون حضرات بندھے ہوئے ہیں تو ایک شخص نے کہا یہ ابو لبابہ ؓ اور اس کے ساتھی ہیں جو جہاد میں شریک نہیں ہوسکے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ عہد کرلیا ہے کہ اپنے آپ کو ستونوں سے نہیں کھولیں گے جب تک کہ آپ خود ان کو ستونوں سے نہ کھولیں، آپ نے یہ سن کر فرمایا میں تو اس وقت تک نہیں کھولوں گا جب تک کہ ان کے کھولنے کا مجھے حکم نہیں دیا جائے گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی کچھ اور لوگ ہیں جو اپنی خطا کا اقرار کرتے ہیں جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی آپ نے ان کو کھول دیا اور ان کے عذر کو قبول فرمایا۔ اور وہ تین حضرات باقی رہ گئے جنہوں نے اپنے آپ کو ستونوں کے ساتھ نہیں باندھا تھا، انہوں نے کوئی عذر نہیں بیان کیا یہ وہی حضرات ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اور کچھ لوگ ہیں جن کا معاملہ اللہ کے حکم کے آنے تک ملتوی ہے الخ۔ چناچہ ان تینوں حضرات کے بارے میں ایک جماعت کہنے لگی کہ یہ لوگ جب ان کے عذر کے بارے میں کوئی حکم الہی نازل ہوا تو یہ لوگ ہلاک ہوگئے اور دوسری جماعت کہتی تھی کہ ممکن ہے اللہ تعالیٰ ان حضرات کی توبہ قبول فرما لے یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ”و علی الثلاثۃ الذین“۔ الخ۔ اور ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے علی ابن ابی طلحہ ؓ کے ذریعے سے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کی ہے اس میں اتنا اضافہ ہے کہ جب ابولبابہ ؓ اور ان کے ساتھی کھول دیے گئے تو وہ اپنے مال لے کر حاضر خدمت ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ ہمارے اموال ہیں، ہم سے ان صدقہ قبول فرمالیجیے اور ہمارے لیے بخشش طلب فرمائیے، آپ نے فرمایا مجھے تمہارے اموال میں سے کسی چیز کے لینے کا حکم نہیں دیا گیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ”خذ من اموالہم صدقۃ“۔ (الخ) نیز یہ اتنی مقدار سعید بن جبیر، ؓ ضحاک ؓ زید بن اسلم ؓ وغیرہ سے بھی نقل کی ہے۔ اور عبد بن قتادہ ؓ سے روایت کی ہے کہ یہ آیت سات آدمیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں سے چار آدمیوں نے یعنی ابو لبابہ ؓ فرداس ؓ ، اوس بن جذام ؓ اور ثعلبۃ بن ودیعہ ؓ نے اپنے خود کو ستونوں سے باندھ لیا تھا۔ اور ابو الشیخ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ابن مندہ نے صحابہ کے بیان میں، ثوری، اعمش، ابوسفیان کے ذریعہ سے جابر ؓ سے روایت کی ہے کہ غزوہ تبوک میں جن حضرات نے نبی کریم ﷺ کے ساتھ شرکت نہیں کی، وہ چھ آدمی تھے، ابولبابہ ؓ اوس بن جذام ؓ ثعلبہ بن ودیعہ ؓ کعب بن مالک ؓ مرارہ بن ربیع ؓ ، ہلال بن امیہ ؓ ، چناچہ ابولبابہ ؓ ، اوس اور ثعلبہ نے آکرخود کو ستونوں سے باندھ لیا اور اپنے مال واسباب لے کر آئے اور عرض کیا یارسول اللہ ﷺ یہ جہاد میں شریک نہ ہونے کے عوض ہے، آپ نے فرمایا جب تک کہ قتال نہ ہو میں ان کو نہیں کھولوں گا، اس پر قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی اس روایت کی اسناد قوی ہیں۔ اور ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ایسی سند کے ساتھ جس میں واقدی ہے ام سلمہ ؓ سے روایت کی ہے، فرماتی ہیں کہ ابولبابہ ؓ کی توبہ میرے حجرے میں نازل ہوئی، میں نے سحر کے وقت رسول اکرم ﷺ کے ہنسنے کی آواز سنی تو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا کافر لوگ آپ کو ہنسا رہے ہیں، آپ نے فرمایا ابولبابہ کی توبہ قبول ہوگئی ، میں نے عرض کیا تو ان کو اطلاع کر دوں، آپ نے فرمایا جیسے تمہاری مرضی، تو میں حجرے کے دروازہ پر کھڑی ہوئی اور یہ (واقعہ پردہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے) میں نے کہا ابولباب ؓ آپ کے لیے خوشخبری ہے، اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول فرمائی، یہ سن کر صحابہ کرام ؓ ان کو کھولنے کے لیے دوڑے تو انہوں نے فرمایا جب تک رسول اکرم ﷺ مجھ کو نہ کھولیں کوئی اور نہ کھولے، جب آپ ﷺ صبح کی نماز کے لیے تشریف لے گئے تو آپ ﷺ نے ان کو کھول دیا اور یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ”واخرون اعترفوا“۔ (الخ) (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
Ayah 9:103

خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا وَصَلِّ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ صَلٰوتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 9:103 in the Quran reader

ان کے مال میں سے زکوٰۃ قبول کرلو کہ اس سے تم ان کو (ظاہر میں بھی) پاک اور (باطن میں بھی) پاکیزہ کرتے ہو اور ان کے حق میں دعائے خیر کرو کہ تمہاری دعا ان کے لیے موجب تسکین ہے۔ اور خدا سننے والا اور جاننے والا ہے۔

(103) چناچہ ارشاد فرمایا کہ آپ ان کے مالوں میں سے جو یہ لائے ہیں تیسرا حصہ صدقہ لے لیجے جس کے لینے سے آپ ان کو گناہ کے آثار سے پاک وصاف کردیں گے اور ان کے لیے استغفار بھی کیجیے اور دیا بھی فرمائیے کیوں کہ آپ کا استغفار اور آپ کی دعا ان کے لیے دلی سکون کا باعث ہے کہ ان کی توبہ قبول ہوگی، اللہ تعالیٰ ان کے قرار اور ان کی درخواست کو کہ ہمارا مال اللہ کی راہ میں خرچ کردیجیے، خوب سنتے اور ان کی توبہ اور نیت کو خوب جانتے ہیں۔
Ayah 9:104

اَلَمْ یَعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ هُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَاْخُذُ الصَّدَقٰتِ وَ اَنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ Open ayah 9:104 in the Quran reader

کیا یہ لوگ نہیں جانتے کہ خدا ہی اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتا اور صدقات (وخیرات) لیتا ہے ؟ اور بیشک خدا ہی توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

(104) کیا ان کو یہ خبر نہیں کہ اللہ ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور وہی صدقات کو قبول فرماتا ہے اور کیا ان کو خبر نہیں کہ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے کی صفت میں اور تائب پر رحمت فرمانے کی صفت میں کامل ہیں۔
Ayah 9:105

وَ قُلِ اعْمَلُوْا فَسَیَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ١ؕ وَ سَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 9:105 in the Quran reader

اور (ان سے) کہہ دو کہ عمل کئے جاؤ۔ خدا اور اس کا رسول اور مومن (سب) تمہارے عملوں کو دیکھ لیں گے۔ اور تم غائب وحاضر کے جاننے والے (خدائے واحد) کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ پھر جو کچھ تم کرتے رہے ہو (سب) تم کو بتائے گا۔

(105) نبی کریم ﷺ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ توبہ کے بعد جو چاہو نیک کام کرو، اول تو دنیا ہی میں اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اور مومنین تمہارے عمل کو دیکھے لیتے ہیں اور پھر مرنے کے بعد تمہیں ضرور اس کے پاس جانا ہے جو تمام اچھی اور کھلی چیزوں کو جاننے والا ہے، وہ تمہیں تمہاری سب نیکیوں اور برائیوں سے آگاہ کردے گا۔
Ayah 9:106

وَ اٰخَرُوْنَ مُرْجَوْنَ لِاَمْرِ اللّٰهِ اِمَّا یُعَذِّبُهُمْ وَ اِمَّا یَتُوْبُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ Open ayah 9:106 in the Quran reader

اور کچھ اور لوگ ہیں جن کا کام خدا کے حکم پر موقوف ہے۔ چاہے انکو عذاب دے اور چاہے معاف کر دے۔ اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

(106) اور مدینہ والوں میں سے کعب بن مالک، مرارہ بن ربیع اور ہلال بن امیہ یہ لوگ اور ہیں کہ جن کا معاملہ حکم الہی کے آنے تک ملتوی ہے، خواہ عدم شرکت غزوہ تبوک پر ان کو سزادے اور خواہ انھیں معاف فرما دے اور اللہ تعالیٰ ان کی توبہ کو خوب جاننے والا ہے اور اس فیصلہ فرمانے میں بڑی حکمت والا ہے۔
Ayah 9:107

وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مَسْجِدًا ضِرَارًا وَّ كُفْرًا وَّ تَفْرِیْقًۢا بَیْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ اِرْصَادًا لِّمَنْ حَارَبَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ لَیَحْلِفُنَّ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّا الْحُسْنٰى١ؕ وَ اللّٰهُ یَشْهَدُ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ Open ayah 9:107 in the Quran reader

اور (ان میں ایسے بھی ہیں) جنہوں نے اس غرض سے مسجد بنائی ہے کہ ضرر پہنچائیں اور کفر کریں اور مومنوں میں تفرقہ ڈالیں۔ اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے پہلے جنگ کرچکے ہیں ان کے لئے گھات کی جگہ بنائیں اور قسمیں کھائیں گے کہ ہمارا مقصود تو صرف بھلائی تھی مگر خدا گواہی دیتا ہے کہ یہ جھُوٹے ہیں۔

(107) عبداللہ بن ابی، جد بن قیس، معتب بن قثیر اور ان کے ساتھی جو کہ تقریبا سترہ ہیں، انہوں نے اس مقصد کے لے مسجد بنائی کہ اسلام اور مومنین کو نقصان پہنچائیں اور کفر ونفاق پر ثابت رہیں، اور اس وجہ سے کہ ایمان والوں میں نفاق ڈالیں کہ ایک جماعت ان کی مسجد میں نماز پڑھے اور ایک جماعت رسول اکرم ﷺ کی مسجد میں نماز پڑھے اور اس شخص کے قیام کا انتظار کریں جو ان سے پہلے ہی سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا دشمن ہے، مراد اس سے ابوعامر راہب ہے جس نے نعوذ باللہ رسول اکرم ﷺ کو فاسق کہا تھا اور پوچھو تو قسمیں کھائیں گے کہ اس مسجد کے بنانے سے ماسوا مسلمانوں کے ساتھ بھلائی اور نیکی کے ہماری اور کوئی نیت نہیں تاکہ جس کی مسجد قبا میں نماز رہ جائے اور اسے وہاں جماعت نہ مل سکے وہ اس مسجد میں آکر نماز پڑھ لے اور اللہ تعالیٰ گواہ ہے کہ اپنی قسموں میں جھوٹے ہیں۔
Ayah 9:108

لَا تَقُمْ فِیْهِ اَبَدًا١ؕ لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِ١ؕ فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ Open ayah 9:108 in the Quran reader

تم اس (مسجد) میں کبھی (جا کر) کھڑے بھی نہ ہونا۔ البتہ وہ مسجد جس کی بنیاد پہلے دن سے تقویٰ پر رکھی گئی ہے اس قابل ہے کہ اس میں جایا (اور نماز پڑھایا) کرو۔ اس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنے کو پسند کرتے ہیں۔ اور خدا پاک رہنے والوں کو ہی پسند کرتا ہے۔

(108) جب اس مسجد کی یہ حالت ہے تو آپ اس تفرقہ پیدا کرنے والی مسجد میں کبھی نماز نہ پڑھیے۔ البتہ مسجد قبا جس کی بنیاد جب سے رسول اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرماں برداری پر رکھی گئی ہے، وہ واقعی اس قابل ہے کہ آپ اس میں نماز پڑھیں اور کہا گیا ہے کہ یہ مدینہ منورہ کی سب سے پہلی مسجد ہے۔ اور مسجد قبا میں ایسے اچھے آدمی ہیں جو خوب پاک ہونے یعنی کہ پتھروں کے بعد پانی کے ساتھ استنجا کرنے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو ایسے ہی لوگ کو جو پانی کے ساتھ استنجا کرتے ہیں پسند ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”والذین اتخذوا مسجدا ضرارا (الخ)۔”لا تقم فیہ ابدا“۔ (الخ) ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابن اسحاق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے طریق سے روایت کیا ہے کہ ابن شہاب زہری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بواسطہ اکیمہ لیثی، ابورہم غفاری ؓ سے روایت کی ہے اور ابورہم غفاری ؓ ان حضرات میں سے ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے رسول اکرم ﷺ سے بیعت کی تھی، بیان کرتے ہیں کہ جنہوں نے مسجد ضرار بنائی تھی وہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ تبوک کی طرف روانگی کی تیاری کررہے تھے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ﷺ ہم نے یہ مسجد ضرورت مند اور حاجت مندوں اور سرد راتوں اور بارش والی راتوں کے لیے بنائی ہے اور ہماری یہ خواہش ہے کہ آپ ہمارے لیے اس مسجد میں تشریف لا کر نماز پڑھ دیجے۔ آپ نے فرمایا اس وقت تو ہم سفر کی تیاری میں ہیں، سفر سے واپسی پر آئیں گے تو انشاء اللہ تمہاری مسجد میں آکر نماز پڑھیں گے، جب آپ تبوک سے واپس ہوئے تو ذی ادان مقام پر پڑاؤ فرمایا، جہاں سے مدینہ منورہ کا ایک گھنٹے کا راستہ تھا، اس وقت اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائیں۔ تو آپ نے مالک بن وحش اور معن بن عدی یا اس کے بھائی عاصم بن عدی کو بلایا اور فرمایا اس مسجد کی طرف چلو جس کے بنانے والے ظالم ہیں اور اس کو گرا دو اور جلا دو چناچہ انہوں نے ایسا ہی کردیا۔ اور ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے عوفی کے ذریعے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم نے مسجد قباء بنائی تو انصار میں سے کچھ آدمی گئے، ان میں سے کچھ اختلاف کرتے تھے، چناچہ انہوں نے جا کر مسجد نفاق بنالی، اس پر رسول اکرم ﷺ نے فرمایا، تفرقہ پیدا کرنے لیے ایسا کیا ہے ہلاکت ہو ان کے لیے کیا اراداہ کیا، انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہمارا تو صرف نیکی ہی کا ارادہ ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ نیز ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے علی بن ابی طلحہ، کے ذریعے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ انصار میں سے کچھ لوگوں نے مسجد بنالی تو ابوعامر نے ان سے کہا کہ اپنی مسجد کو آباد رکھو اور جو تمہیں ہتھیاروں وغیرہ کی قوت حاصل ہوا اس سے مضبوط رہو میں قیصر روم کے بادشاہ کے پاس جاؤں گا اور روم سے لشکر لا کر محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں کو نکال دوں گا، چناچہ جب یہ لوگ اپنی مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے کہ ہم اپنی مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوگئے ہیں، اور یہ خواہش ہے کہ آپ اس میں نماز پڑھ لیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (آیت) ”لا تقم فیہ ابدا (الخ) واحدی نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب ابو عامر راہب آیا تو منافقین نے اس کے سامنے مسجد قباء کے مقابلہ میں کے لیے ایک مسجد بنانے کی پیشکش کی تاکہ وہ ان کا امام بنے، چناچہ جب وہ اس مسجد کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ہے کہ ہم نے ایک مسجد بنائی ہے آپ ﷺ اس میں آکر نماز پڑھ لیجیے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (آیت) ”لا تقم فیہ ابدا“۔ (الخ) ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ (آیت) ”فیہ رجال یحبون“۔ (الخ) یہ آیت اہل قبا کے متعلق نازل ہوئی، وہ حضرات پانی کے پانی کے ساتھ استنجا کرتے تھے، تو ان کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی۔ عمر بن شیبہ نے اخبار مدینہ میں بواسطہ ولید بن ابی سندر اسلمی، یحییٰ بن سہل، سہل انصاری ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت اہل قباء کے بارے میں آئی ہے، وہ حضرات قضاحاجت کے بعد پانی سے استنجا کرتے تھے۔ ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے عطا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ اہل قبا میں سے کچھ لوگوں نے پانی کے ساتھ استنجا کرنا شروع کردیا، ان کی فضیلت میں یہ آیت آئی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
Ayah 9:109

اَفَمَنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى تَقْوٰى مِنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٍ خَیْرٌ اَمْ مَّنْ اَسَّسَ بُنْیَانَهٗ عَلٰى شَفَا جُرُفٍ هَارٍ فَانْهَارَ بِهٖ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 9:109 in the Quran reader

بھلا جس شخص نے اپنی عمارت کی بنیاد خدا کے خوف اور اس کی رضامندی پر رکھی وہ اچھا ہے یا وہ جس نے اپنی عمارت کی بنیاد گر جانے والی کھائی کے کنارے پر رکھی کہ وہ اس کو دوزخ کی آگ میں لے گری ؟ اور خدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

(109) پھر سمجھ لو آیا ایسا شخص بہتر ہے جس نے اپنی عمارت یعنی مسجد قباء کی بنیاد اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری اور اس کی خوشنودی پر رکھی ہو، یا وہ شخص بہتر ہوگا جس نے اپنی عمارت یعنی مسجد شقاق کی بنیاد کسی گھاٹی یا غار کے کنارہ پر جو گرنے ہی کو ہورکھی، پھر وہ عمارت اس بانی کو لے کر آتش دوزخ میں گرپڑے، اللہ تعالیٰ ان منافقین کی نہ مغفرت فرماتے ہیں اور نہ ہی ان کو نجات دیتے ہیں۔
Ayah 9:110

لَا یَزَالُ بُنْیَانُهُمُ الَّذِیْ بَنَوْا رِیْبَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ اِلَّاۤ اَنْ تَقَطَّعَ قُلُوْبُهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌ حَكِیْمٌ۠ Open ayah 9:110 in the Quran reader

یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں (موجب) خلجان رہے گی (اور ان کو متردد رکھے گی) مگر یہ کہ انکے دل پاش پاش ہوجائیں اور خدا جاننے والا حکمت والا ہے۔

(110) ان کی یہ عمارت گرنے کے بعد اس کی حسرت وندامت ان کے دلوں میں ہمیشہ کھٹکتی رہے گی ہاں ان کی دل ہی فنا ہوجائیں تو خیر ! اور اللہ تعالیٰ ان کی مسجد ضرار بنانے اور ان کی نیتوں سے اچھی طرح واقف ہیں اور اس مسجد کو ختم کروانے اور اس کے جلادینے کا فیصلہ فرمانے میں بڑی حکمت والے ہیں۔ غزوہ تبوک سے جب حضور ﷺ تشریف لائے تو آپ نے عامر بن قیس ؓ اور مولی مطعم بن عدی ؓ کو روانہ کیا، انہوں نے اس مسجد ضرار کو گرا کر اسے جلا دیا۔
Ayah 9:111

اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ١ؕ یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیَقْتُلُوْنَ وَ یُقْتَلُوْنَ١۫ وَعْدًا عَلَیْهِ حَقًّا فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ وَ الْقُرْاٰنِ١ؕ وَ مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ مِنَ اللّٰهِ فَاسْتَبْشِرُوْا بِبَیْعِكُمُ الَّذِیْ بَایَعْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ Open ayah 9:111 in the Quran reader

خدا نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے مال خرید لئے ہیں (اور اس کے) عوض میں ان کے لئے بہشت (تیار کی) ہے۔ یہ لوگ خدا کی راہ میں لڑتے ہیں تو مارتے بھی ہیں اور مارے جاتے بھی ہیں۔ یہ تورات اور انجیل اور قرآن میں سچا وعدہ ہے جس کا پورا کرنا اسے ضرور ہے اور خدا سے زیادہ وعدہ پورا کرنے والا کون ہے ؟ تو جو سودا تم نے اس سے کیا ہے اس سے خوش رہو اور یہی بڑی کامیابی ہے۔

(111) اللہ تعالیٰ نے خالص مسلمانوں سے ان کی جانوں اور مالوں کو جنت کے بدلہ میں خرید لیا یعنی وہ لوگ اطاعت خداوندی میں لڑتے ہیں جس میں کبھی دشمن کو قتل کرتے ہیں اور کبھی دشمن ان کو قتل کردیتا ہے، اس قتال اور جہاد پر ان سے ایسا سچا وعدہ کیا گیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ ضرور پورا کریں گے، اور یہ بات طے شدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے زیادہ اپنے وعدہ کو کون پورا کرنے والا ہے تو اب تم اپنی تجارت پر جس کا تم نے اللہ تعالیٰ سے معاہدہ ٹھہرایا ہے جنت کی خوشخبری مناؤ اور جنت کا ملنا تمہارے حق بہت ہی بڑی کامیابی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”ان اللہ اشتری“۔ (الخ) ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے محمد بن کعب قرظی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ عبدالل بن رواحہ ؓ نے حضور اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ اپنے پروردگار کے لیے اور اپنی ذات کے لیے جو آپ چاہیں شرط قرار دیدیں، آپ نے فرمایا اپنے پروردگار کے لیے تو یہ شرط قرار دیتا ہوں کہ صرف اسی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک مت ٹھہراؤ اور اپنی ذات کے لیے یہ شرط قرار دیتا ہوں کہ جن سے اپنی حفاظت کرتے ہو ان سے میری حفاظت کرو، صحابہ کرام ؓ یہ سن کر بولے یہ تجارت تو بہت ہی کامیاب ہے نہ ہم اس کو واپس دیں گے اور نہ واپس لیں گے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں سے ان کی جانیں جنت کے بدلے میں خرید لی ہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
Ayah 9:112

اَلتَّآئِبُوْنَ الْعٰبِدُوْنَ الْحٰمِدُوْنَ السَّآئِحُوْنَ الرّٰكِعُوْنَ السّٰجِدُوْنَ الْاٰمِرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ النَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ الْحٰفِظُوْنَ لِحُدُوْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 9:112 in the Quran reader

توبہ کرنے والے عبادت کرنے والے حمد کرنے والے روزہ رکھنے والے رکوع کرنے والے سجدہ کرنے والے نیک کاموں کا امر کرنے والے اور بری باتوں سے منع کرنے والے خدا کی حدوں کی حفاظت کرنے والے (یہی مومن لوگ ہیں) اور (اے پیغمبر ﷺ مومنوں کو (بہشت کی) خوشخبری سنا دو۔

(112) اب اللہ تعالیٰ ان مجاہدین کی صفات کو بیان فرماتے ہیں کہ وہ ان اوصاف کمال کے ساتھ بھی موصوف ہیں۔ کہ گناہوں سے توبہ کرنے والے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے اور اس کی حمد وثناء بیان کرنے والے اور روزہ رکھنے والے اور پانچوں نمازوں میں رکوع و سجدہ کرنے والے اور توحید و احسان کا حکم کرنے والے اور کفر اور ان باتوں سے جن کا شریعت اور سنت میں کہیں ذکر نہیں باز رہنے والے اور فرائض خداوندی کو قائم کرنے والے ہیں آپ ایسے مسلمانوں کو جنت کی خوشخبری سنا دیجیے۔
Ayah 9:113

مَا كَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِیْنَ وَ لَوْ كَانُوْۤا اُولِیْ قُرْبٰى مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمْ اَنَّهُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 9:113 in the Quran reader

پیغمبر اور مسلمانوں کو شایاں نہیں کہ جب ان پر ظاہر ہوگیا کہ مشرک اہل دوزخ ہیں۔ تو ان کے لئے بخشش مانگیں گو وہ ان کے قرابت دار ہی ہوں۔

(113) حضور اکرم ﷺ اور ان حضرات کے لیے جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے والے ہیں یہ جائز نہیں کہ وہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں خواہ وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ یہ لوگ جہنمی ہیں، اس وجہ سے کہ یہ لوگ حالت کفر میں مرے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ماکان للنبی“۔ (الخ) حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ومسلم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت سعید بن مسیب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بواسطہ ان کے والد سے نقل کیا ہے کہ جب ابوطالب کی موت کا وقت قریب آیا تو رسول اکرم ﷺ ان کے پاس تشریف لے گئے، ابوطالب کے پاس ابوجہل اور عبداللہ بن ابی امیہ بیٹھا تھا، حضور اکرم ﷺ نے فرمایا، اے چچا کلمہ ”لا الہ الا اللہ“۔ پڑھ لو تاکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے تمہاری سفارش کرسکوں، یہ سن کر ابوجہل اور عبداللہ کہنے لگے اے ابوطالب کیا عبدالمطلب کے مذہب سے اعراض کرتے ہو، یہ دونوں مسلسل ابوطالب سے گفتگو کرتے رہے بالآخر ان کا آخری کلام یہی تھا کہ ملت عبدالمطلب پر مرتا ہوں۔ اس پر حضور اکرم ﷺ نے فرمایا میں تمہارے لیے برابر استغفار کرتا رہوں گا جب تک کہ مجھے اس سے روک نہ دیا جائے، تب یہ آیت اتری۔ اور ابوطالب ہی کے واقعہ میں یہ آیت بھی نازل ہوئی ہے۔ (آیت) ”انک لاتھدی من احببت“۔ (الخ) اس حدیث کا سیاق اس بات پر دلالت کررہا ہے کہ یہ آیت مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی۔ امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تحسین کے ساتھ اور امام حاکم نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ میں نے ایک شخص سے سنا کہ وہ اپنے والدین کے لیے استغفار کر رہا ہے حالانکہ وہ مشرک تھے، میں نے اس سے کہا کہ کیا اپنے مشرک والدین کے لیے بخشش طلب کرتے ہو، وہ کہنے لگا کہ ابراہیم ؑ نے بھی اپنے والد کے لیے بخشش طلب کی تھی، حالانکہ وہ مشرک تھے میں نے اس کا رسول اکرم ﷺ سے ذکر کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے۔ الخ۔ امام حاکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اور بیہقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دلائل میں اور ان کے علاوہ دیگر حضرات نے حضرت عبداللہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ ایک دن قبرستان تشریف لے گئے اور ایک قبر کے پاس بیٹھ کر بہت لمبی دعا فرمائی اس کے بعد روئے اور آپ کے رونے کے ساتھ میں بھی رویا، اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس قبر کے پاس میں بیٹھا تھا وہ میری ماں کی قبر تھی، میں نے اپنے پروردگار سے ان کے لیے دعائے مغفرت کی اجازت طلب کی، مگر مجھے اس کی اجازت نہیں ملی، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حضرت امام احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بریدہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں حضور اکرم ﷺ کے ساتھ تھا آپ نے مقام عسفان پر قیام فرمایا پھر اپنی ماں کی قبردیکھی تو وضور فرما کر نماز پڑھی اور روئے اس کے بعد آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں نے اپنے پروردگار سے ان کے لیے دعائے مغفرت کرنے کی اجازت مانگی تھی مگر اس کی مجھے اجازت نہیں ملی، چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حضرت امام طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اور ابن مردویہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ حضرت ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے باقی اس میں یہ ہے کہ یہ واقعہ تبوک سے واپسی کا ہے جب کہ آپ مکہ مکرمہ کی طرف عمرہ کا احرام باندھ کر تشریف لے جارہے تھے تو آپ نے عسفان کی گھاٹی پر ٹھہرے ، حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ممکن ہے کہ نزول آیت کے چند اسباب ہوں جن میں سے پہلا سبب ابو طالب کا واقعہ اور آخری سبب حضرت آمنہ کا واقعہ اور حضرت علی ؓ کا واقعہ ہو اور دیگر حضرات نے ان متعدد اسباب نزول کو جمع فرمادیا ہے۔ حضرت امام بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ وغیرہ نے حضرت کعب بن مالک رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے بدر کے علاوہ رسول اکرم ﷺ نے جو بھی غزوہ کیا ہے میں آپ سے پیچھے نہیں رہا، جب غزوہ کا وقت آیا اور یہ آخری جہاد ہے جو آپ ﷺ نے فرمایا اور لوگوں کو جہاد کے لیے روانہ ہونے کا اعلان فرمایا الخ۔ اس کے بعد پوری روایت بیان کی اور اس میں ہے، پھر اللہ تعالیٰ نے ہماری توبہ قبولیت نازل فرمائی یعنی اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کے حال پر توجہ فرمائی اور مہاجرین وانصار کے حال پر بھی نیز اسی میں ہے کہ ہمارے بارے میں یہ آیت بھی نازل ہوئی، (آیت) ”اتقوا اللہ وکونوا مع الصادقین“۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)
Ayah 9:114

وَ مَا كَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰهِیْمَ لِاَبِیْهِ اِلَّا عَنْ مَّوْعِدَةٍ وَّعَدَهَاۤ اِیَّاهُ١ۚ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَهٗۤ اَنَّهٗ عَدُوٌّ لِّلّٰهِ تَبَرَّاَ مِنْهُ١ؕ اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ لَاَوَّاهٌ حَلِیْمٌ Open ayah 9:114 in the Quran reader

اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لئے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کے سبب تھا جو وہ اس سے کرچکے تھے۔ لیکن جب انکو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے۔

(114) اور باقی رہا حضرت ابراہیم ؑ کا دعا کرنا تو وہ اسلام لانے کے وعدہ کی وجہ سے تھا، پھر جب ان کے والد کافر ہو کر فوت ہوئے تو وہ اپنے والد اور ان کے دین سے محض بےتعلق ہوگئے، واقعی حضرت ابراہیم ؑ بہت دعا فرمانے والے حلیم الطبع تھے۔ یا یہ رحیم المزاج یا یہ کہ سردار یا یہ کہ آہ وزاری کرنے والے یا یہ کہ آگ میں داخل ہونے سے پہلے آگ سے پناہ چاہی۔
Ayah 9:115

وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُضِلَّ قَوْمًۢا بَعْدَ اِذْ هَدٰىهُمْ حَتّٰى یُبَیِّنَ لَهُمْ مَّا یَتَّقُوْنَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 9:115 in the Quran reader

اور خدا ایسا نہیں کہ کسی قوم کو ہدایت دینے کے بعد گمراہ کر دے جب تک ان کو وہ چیز نہ بتادے جس سے وہ پرہیز کریں۔ بیشک خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

(115) اور اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کرتا کہ کسی قوم کو ہدایت اور ایمان کے بعد گمراہی میں ڈال دے یا یہ کہ کسی قوم کے عمل کو باطل قرار دے دے جب تک کہ ناسخ ومنسوخ کو واضح طور پر نہ بتلا دے، بیشک اللہ تعالیٰ ناسخ ومنسوخ کو اچھی طرح جاننے والے ہیں۔
Ayah 9:116

اِنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 9:116 in the Quran reader

خدا ہی ہے جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ وہی زندگنی بخشتا اور (وہی) موت دیتا ہے اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مددگار نہیں ہے۔

(116) بلاشک اللہ ہی کی سلطنت ہے آسمانوں کے تمام خزانوں یعنی چاند، سورج، ستاروں وغیرہ پر اور زمین کے تمام خزانوں یعنی درخت، جانور، پہاڑ اور دریاؤں وغیرہ پر وہی قبروں سے اٹھائے گا اور وہی دنیا میں موت دیتا ہے اور عذاب الہی سے نہ کوئی قریبہ رشتہ دار تمہاری حفاظت کرنے والا ہے اور نہ ہی کوئی مددگار۔
Ayah 9:117

لَقَدْ تَّابَ اللّٰهُ عَلَى النَّبِیِّ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ مِنْۢ بَعْدِ مَا كَادَ یَزِیْغُ قُلُوْبُ فَرِیْقٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّهٗ بِهِمْ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌۙ Open ayah 9:117 in the Quran reader

بیشک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ ان میں سے بعضوں کے دل جلد پھرجانے کو تھے۔ مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی فرمائی۔ بیشک وہ ان پر نہایت شفقت کرنے والا (اور) مہربان ہے۔

(117) اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ اور ان مہاجرین وانصار کے حال پر بھی توجہ فرمائی جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی اور بدر میں حاضر رہے۔ اب اللہ تعالیٰ ان حضرات کے اوصاف بیان کرتے ہیں کہ جنہوں نے تنگی اور سختی کے وقت میں رسول اکرم ﷺ کا ساتھ دیا، جس وقت کے زاد راہ اور سواریوں کی کمی اور تنگی تھی گرمی کی اور دشمن کی سختی تھی اور راستہ کی درازی کی سختی تھی، اس کے بعد مومنین مخلصین میں سے کچھ لوگوں کے دلوں میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ کے بارے میں تذبذب آگیا تھا مگر پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس تذبذب کو دور ر کردیا اور ان کے دلوں کو پختگی عطا فرمائی، آخرت کار وہ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ چلنے کے لیے آمادہ ہوگئے۔
Ayah 9:118

وَّ عَلَى الثَّلٰثَةِ الَّذِیْنَ خُلِّفُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا ضَاقَتْ عَلَیْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَ ضَاقَتْ عَلَیْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَ ظَنُّوْۤا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّاۤ اِلَیْهِ١ؕ ثُمَّ تَابَ عَلَیْهِمْ لِیَتُوْبُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ۠ Open ayah 9:118 in the Quran reader

اور ان تینوں پر بھی جن کا معاملہ ملتوی کیا گیا تھا۔ یہاں تک کہ جب زمین باجود فراخی کے ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی جانیں بھی ان پر دوبھر ہوگئیں اور انہوں نے جان لیا کہ خدا (کے ہاتھ) سے خود اس کے سوا کوئی پناہ نہیں۔ پھر خدا نے ان پر مہربانی کی تاکہ توبہ کریں۔ بیشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔

(118) اور ان تین حضرات یعنی حضرت کعب بن مالک ؓ اور ان کے ساتھیوں کی حالت پر بھی توجہ فرمائی جن کا توبہ کا معاملہ زیر التوا تھا، اس توبہ کی تاخیر سے زمین باوجود اتنی فراخی کے ان پر تنگی کرنے لگی اور وہ خود اپنی جانوں سے عاجز آگئے اور انہوں نے سمجھ لیا اور اس بات کا کامل یقین کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے کہیں پناہ نہیں مل سکتی نجات صرف اسی میں تھی کہ غزوہ تبوک میں شریک نہ ہونے پر سچی توبہ کرلی جائے، پھر ان کے حال پر توجہ فرمائی اور ان کو معاف فرمایا تاکہ آئندہ بھی جن سے اس قسم کی غلطی صادر ہوجائے وہ اسی کی طرف رجوع کیا کریں، بیشک اللہ تعالیٰ بہت توجہ فرمانے والے اور جو توبہ کرے اس کے حال پر بہت رحم فرمانے والے ہیں۔
Ayah 9:119

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 9:119 in the Quran reader

اے اہل ایمان ! خدا سے ڈرتے رہو اور راستبازوں کے ساتھ رہو۔

(119) یعنی حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھیوں اور دیگر مومنوں کو جن باتوں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ان باتوں میں اس کی اطاعت کرو اور اٹھنے بیٹھنے اور اس کے راستہ میں جانے میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر فاروق ؓ اور ان کے ساتھیوں کا ساتھ دو۔
Ayah 9:120

مَا كَانَ لِاَهْلِ الْمَدِیْنَةِ وَ مَنْ حَوْلَهُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ اَنْ یَّتَخَلَّفُوْا عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَرْغَبُوْا بِاَنْفُسِهِمْ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ لَا یُصِیْبُهُمْ ظَمَاٌ وَّ لَا نَصَبٌ وَّ لَا مَخْمَصَةٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ لَا یَطَئُوْنَ مَوْطِئًا یَّغِیْظُ الْكُفَّارَ وَ لَا یَنَالُوْنَ مِنْ عَدُوٍّ نَّیْلًا اِلَّا كُتِبَ لَهُمْ بِهٖ عَمَلٌ صَالِحٌ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 9:120 in the Quran reader

اہل مدینہ کو اور جو ان کے آس پاس دیہاتی رہتے ہیں انکو شایاں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو ان کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ یہ اس لئے کہ انہیں خدا کی راہ میں جو تکلیف پہنچتی ہے پیاس کی یا محنت کی یا بھوک کی یا وہ ایسی جگہ چلتے ہیں کہ کافروں کو غصہ آئے یا دشمنوں سے کوئی چیز لیتے ہیں تو ہر بات پر ان کے لئے عمل صالح لکھا جاتا ہے کچھ شک نہیں کہ خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

(120) مدینہ کے رہنے والوں کو قبیلہ مزینہ، جہینہ اور اسلم والوں کو یہ مناسب نہیں تھا کہ جہاد میں رسول اکرم ﷺ کا ساتھ نہ دیں اور نہ یہ درست تھا کہ یہ اپنی جانوں کو رسول اکرم ﷺ کی جان سے زیادہ قیمتی سمجھیں۔ ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ یا یہ کہ نہ یہ مناسب تھا کہ جہاد میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ چلنے اور آپ کا ساتھ دینے سے اپنی جانوں کی حفاظت کریں اور یہ ساتھ جانے کا ضروری ہونا اس بنا پر ہے کہ ان کو جہاد میں آنے جانے میں جو پیاس لگی اور جو ماندگی پہنچی اور جو بھوک لگی اور جس مقام پر چلے جو کفار کے لیے موجب غیظ ہوا ہو اور دشمنوں کو قتل کرکے اور ان کو شکست دے کر جو کچھ ان کی خبر لی تو جہاد میں سب پر ان کے نام ایک ایک نیک کام کا ثواب لکھا گیا کیوں کہ بیشک اللہ تعالیٰ جہاد میں مومنین مخلصین کا اجر ضائع نہیں فرماتے۔