7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 7:186

مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَا هَادِیَ لَهٗ١ؕ وَ یَذَرُهُمْ فِیْ طُغْیَانِهِمْ یَعْمَهُوْنَ Open ayah 7:186 in the Quran reader

جس شخص کو خدا گمراہ کرے اسکو کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ اور وہ ان (گمراہوں) کو چھوڑے رکھتا ہے کہ اپنی سرکشی میں پڑے بہکتے رہیں۔

(186) اور جسے وہ اپنے دین سے گمراہ کر دے تو اسے پھر اس کے دین کو راستہ کوئی بتانے والا نہیں اور وہ ان کے کفر و انکار اور ان کی گمراہیوں میں اندھوں کی طرح بھٹکتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے۔
Ayah 7:187

یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَیَّانَ مُرْسٰىهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ١ۚ لَا یُجَلِّیْهَا لِوَقْتِهَاۤ اِلَّا هُوَ١ؔۘؕ ثَقُلَتْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ لَا تَاْتِیْكُمْ اِلَّا بَغْتَةً١ؕ یَسْئَلُوْنَكَ كَاَنَّكَ حَفِیٌّ عَنْهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:187 in the Quran reader

(یہ لوگ) تم سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کے واقع ہونے کا وقت کب ہے ؟ کہہ دو اس کا علم تو میرے پروردگار ہی کو ہے۔ وہی اسے اس کے وقت پر ظاہر کر دے گا۔ وہ آسمان اور زمین میں ایک بھاری بات ہوگی۔ اور ناگہاں تم پر آجائے گی۔ یہ تم سے اس طرح دریافت کرتے ہیں کہ گویا تم اس سے بخوبی واقف ہو۔ کہو کہ اس کا علم تو خدا ہی کو ہے لیکن اکثر لوگ یہ نہیں جانتے۔

(187) اے محمد ﷺ اہل مکہ روز قیامت کے قائم ہونے اور اس کے وقت کے متعلق آپ سے پوچھتے ہیں کہ کب آئے گی، آپ فرما دیجیے کہ اس کا وقت مقرر صرف میرے رب کو معلوم ہے اس چیز کو بیان نہیں کیا گیا اس کا آنا اور اس کے واقع ہونے کا علم زمین و آسمان والوں پر بہت ہی بھاری حادثہ ہوگا اور وہ ایک دم آئے گی۔ اے محمد ﷺ ! وہ آپ سے قیامت کے واقع ہونے کے بارے میں اس طرح سوال کرتے ہیں جیسے آپ اس کی تحقیقات کرچکے ہیں یا اس سے غافل ہیں، آپ فرما دیجیے کہ اس کے آنے کا علم صرف اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے مگر اہل مکہ اس چیز کی تصدیق نہیں کرتے۔ شان نزول : یسئلونک عن الساعۃ۔“ (الخ) ابن جریر ؒ وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حمل بن ابی قثیر اور سموال بن زید نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ اگر آپ نبی ہیں تو ہمیں بتائیے کہ قیامت کب قائم ہوگی کیوں کہ ہم جانتے ہیں وہ کیا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ”یہ لوگ آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ وہ کب واقع ہوگی، نیز قتادہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ قریش نے یہ سوال کیا تھا۔
Ayah 7:188

قُلْ لَّاۤ اَمْلِكُ لِنَفْسِیْ نَفْعًا وَّ لَا ضَرًّا اِلَّا مَا شَآءَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ كُنْتُ اَعْلَمُ الْغَیْبَ لَا سْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَیْرِ١ۛۖۚ وَ مَا مَسَّنِیَ السُّوْٓءُ١ۛۚ اِنْ اَنَا اِلَّا نَذِیْرٌ وَّ بَشِیْرٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 7:188 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں اپنے فائدے اور نقصان کا کچھ بھی اختیار نہیں رکھتا مگر جو خدا چاہے۔ اور اگر میں غیب کی باتیں جانتا ہوتا تو بہت سے فائدے جمع کرلیتا۔ اور مجھ کو کوئی تکلیف نہ پہنچتی۔ میں تو مومنوں کو ڈر اور خوشخبری سنانے والا ہوں۔

(188) اے محمد ﷺ ! آپ اہل مکہ سے فرما دیجیے کہ میں نفع حاصل کرنے اور نقصان کو دور کرنے کی طاقت نہیں رکھتا مگر جس قدر اللہ تعالیٰ مجھے نفع ونقصان پہنچانا چاہے۔ اور اگر مجھے اس بات کا پتہ ہوتا کہ تمہارے اوپر عذاب کب نازل ہوگا تو اس کے شکریہ میں بہت سافائدہ حاصل کرلیتا اور تمہاری وجہ سے مجھے کسی قسم کا غم و پریشانی نہ ہوتی۔ اور ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ اگر مجھے غیب کی باتیں معلوم ہوتیں کہ میں کب انتقال کروں گا تو بہت ہی زیادہ نیکیاں کرلیتا اور مجھے کسی قسم کی پریشانی لاحق نہ ہوتی، یا یہ کہ مجھے اگر یہ معلوم ہوتا کہ قحط کب ہوگا اور اشیا کی گرانی کس وقت ہوگی تو میں بہت سی نعمتوں کو جمع کرلیتا اور مجھے کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچتی، میں محض جنت کی بشارت دینے والا اور دوزخ سے ڈرانے والا ہوں۔
Ayah 7:189

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

وہ خدا ہی تو ہے جس نے تم کو ایک شخص سے پیدا کیا۔ اور اس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس سے راحت حاصل کرے۔ سو جب وہ اسکے پاس جاتا ہے تو اسے ہلکا کا حمل رہ جاتا ہے اور وہ اسکے ساتھ چلتی پھرتی ہے۔ پھر کچھ بوجھ معلوم کرتی (یعنی بچہ پیٹ میں بڑا ہوتا) ہے تو دونوں (میاں بیوی) اپنے پروردگار خدائے عزوجل سے التجا کرتے ہیں کہ اگر تو ہمیں صحیح وسالم (بچہ) دیگا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔

(189) تم سب لوگوں کو آدم ؑ کے نفس سے پیدا کیا اور انھیں کے نفس سے ان کی بیوی حضرت حواء (علیہا السلام) کو پیدا کیا، پھر میاں بیوی نے قربت کی تو ہلکا ساحمل لیے ہوئے چلتی پھرتی رہی، پھر جب حمل بوجھل ہوا تو ابلیس کے وسوسہ سے یہ خیال پیدا ہوا کہ یہ کہیں کوئی جانور تو نہ ہو تو دعا کی کہ اگر یہ صحیح سالم اولاد ہو تو ہم اس پر خوب صبر کریں گے ،
Ayah 7:190

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

جب وہ ان کو صحیح وسالم (بچہ) دیتا ہے تو اس (بچے) میں جو وہ ان کو دیتا ہے اسکا شریک مقرر کرتے ہیں جو وہ شرک کرتے ہیں خدا (کا رتبہ) اس سے بلند ہے۔

(190) جب میاں بیوی کو صحیح سالم اولاد دے دی تو اس کے نام رکھنے میں ابلیس کو شریک ٹھہرانے لگے چناچہ عبداللہ اور عبدالحارث نام رکھا۔
Ayah 7:191

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا وہ ایسوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے اور خود پیدا کئے جاتے ہیں ؟

(191) اللہ تعالیٰ ان بتوں کے شرک سے بالکل پاک ہے، یہ بت کسی کو بھی پیدا نہیں کرسکتے۔
Ayah 7:192

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور نہ ان کی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

(192) اور یہ بت نہ اپنے آپ کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
Ayah 7:193

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اگر تم ان کو سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو تمہارا کہا نہ مانیں تمہارے لئے برابر ہے کہ تم ان کو بلاؤ یا چپکے رہو۔

(193) اے محمد ﷺ ! اگر آپ کافروں کی توحید کی طرف دعوت دیں تو یہ آپ کی بات کو نہیں مانیں گے اور یہ کافر اس بات سے خاموش ہیں یا یہ کہ اے منکروں کی جماعت اگر تم ان بتوں کو ہدایت کی طرف بلاؤ تو یہ تمہاری بات کا جواب نہیں دیں گے، خواہ ان کو بلاؤ یا خاموش رہو وہ کسی قسم کا جواب نہیں دیں گے اور نہ ہی تمہاری پکار کو سنیں گے کیوں کہ یہ مردہ ہیں۔
Ayah 7:194

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

(مشرکو) جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو تمہاری طرح کے بندے ہی ہیں (اچھا) تم ان کو پکارو اگر سچے ہو تو چاہئے کہ وہ تم کو جواب بھی دیں۔

(194) اور جو لوگ بتوں کی عبادت کرتے ہیں تو وہ بت بھی ان ہی جیسے ہیں تو تم ان بتوں کو پکار کر دیکھو اگر تم اپنی بات میں سچے ہو کہ وہ تمہیں نفع پہنچاتے ہیں پھر دیکھو کہ کیا تمہاری بات سنتے ہیں اور اس کا جواب دے سکتے ہیں۔
Ayah 7:195

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

بھلا ان کے پاؤں ہیں جن سے چلیں یا ہاتھ ہیں جن سے پکڑیں یا آنکھیں ہیں جن سے دیکھیں یا کان ہیں جن سے سنیں ؟ کہہ دو کہ اپنے شریکوں کو بلا لو اور میرے بارے میں جو تدبیر کرنی ہو کرلو اور مجھے کچھ مہلت بھی نہ دو پھر دیکھو کہ وہ میرا کیا کرسکتے ہیں۔

(195) کیا ان بتوں کے ہاتھ ہیں کہ وہ کسی چیز کو لے سکیں اور دے سکیں یا آنکھیں اور کان ہیں کہ وہ تمہاری عبادت کو دیکھ سکیں اور تمہاری آواز کو بھی سن سکیں۔ اے محمد ﷺ آپ مکہ کے مشرکوں سے فرما دیجیے اپنے بتوں سے مدد طلب کرو اور پھر تم اور تمہارے بت بھی میری ضرر رسانی کی تدبیر کریں اور مجھے ذرا مہلت بھی نہ دو۔
Ayah 7:196

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

اور میرا پروردگار تو خدا ہی ہے جس نے کتاب (بر حق) نازل کی اور نیک لوگوں کا وہی دوست دار ہے۔

(196) یقیناً میرا معین و مددگار اللہ ہے، جس نے بذریعہ جبریل ؑ مجھ پر کتاب اتاری ہے۔
Ayah 7:197

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور جن کو تم خدا کے سوا پکارتے ہو وہ نہ تمہاری ہی مدد کی طاقت رکھتے ہیں اور نہ خود اپنی ہی مدد کرسکتے ہیں۔

(197) اور تم جن بتوں کی پوجا کرتے ہو وہ تمہیں نہ فائدہ پہنچا سکتے اور نہ تم سے کسی چیز کو ٹال سکتے ہیں بلکہ وہ تو خود اپنے ہی اوپر سے کسی مصیبت کو نہیں ہٹا سکتے۔
Ayah 7:198

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم انہیں سیدھے راستے کی طرف بلاؤ تو سن نہ سکیں۔ اور تم انہیں دیکھتے ہو کہ (بظاہر) آنکھیں کھلے تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر (فی الواقع) کچھ نہیں دیکھتے۔

(198) اور اگر ان کو حق کی طرف بلاؤ تو چوں کہ وہ مردہ اور بےروح ہیں کسی بات کا بھی جواب نہیں دیں گے اور محمد ﷺ ! آپ ان بتوں کو دیکھتے ہیں گویا کہ آنکھیں کھول کر آپ کو دیکھ رہے ہیں مگر وہ تو بےجان ہیں۔
Ayah 7:199

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ عفو اختیار کرو اور نیک کام کرنے کا حکم دو اور جاہلوں سے کنارہ کرلو۔

(199) نیکی اور احسان کا حکم کیجیے اور ابوجہل اور اس کے ساتھی جو مذاق اڑاتے ہیں ان سے درگزر کیجیے۔
Ayah 7:200

وَ اِمَّا یَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّیْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ١ؕ اِنَّهٗ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ Open ayah 7:200 in the Quran reader

اور اگر شیطان کی طرف سے تمہارے دل میں کسی طرح کا وسوسہ پیدا ہو تو خدا سے پناہ مانگو بیشک وہ سننے والا (اور) سب کچھ جاننے والا ہے

(200) اور اگر کوئی وسوسہ غصہ کا آنے لگے تو شیطان کے وسوسہ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگیے وہ اچھی طرح سننے والا اور آپ کے وسوسہ کے خیالات کو جاننے والا ہے۔
Ayah 7:201

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا اِذَا مَسَّهُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیْطٰنِ تَذَكَّرُوْا فَاِذَاهُمْ مُّبْصِرُوْنَۚ Open ayah 7:201 in the Quran reader

جو لوگ پرہیزگار ہیں جب ان کو شیطان کی طرف سے کوئی وسوسہ پیدا ہوتا ہے تو چونک پڑتے ہیں اور (دل کی آنکھیں کھول کر) دیکھنے لگتے ہیں۔

(201) جو خدا سے ڈرتے ہیں جب ان کے دل میں کوئی خیال گزرتا ہے تو وہ اللہ کی یاد میں لگ جاتے ہیں اور گناہوں سے رک جاتے ہیں۔
Ayah 7:202

وَ اِخْوَانُهُمْ یَمُدُّوْنَهُمْ فِی الْغَیِّ ثُمَّ لَا یُقْصِرُوْنَ Open ayah 7:202 in the Quran reader

اور ان (کفار) کے بھائی انہیں گمراہی میں کھینچے جاتے ہیں (پھر اس میں کسی طرح کی) کوتاہی نہیں کرتے۔

(202) جو شیاطین اور مشرکوں کے بھائی بند ہیں تو وہ ان کو کفر وگمراہی اور گناہ میں گھسیٹ کرلے جاتا ہے پھر وہ اس سے باز نہیں آتے۔
Ayah 7:203

وَ اِذَا لَمْ تَاْتِهِمْ بِاٰیَةٍ قَالُوْا لَوْ لَا اجْتَبَیْتَهَا١ؕ قُلْ اِنَّمَاۤ اَتَّبِعُ مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ مِنْ رَّبِّیْ١ۚ هٰذَا بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:203 in the Quran reader

اور جب تم ان کے پاس (کچھ دنوں تک) کوئی آیت نہیں لاتے تو کہتے ہیں کہ تم نے (اپنی طرف سے) کیوں نہیں بنا لی ؟ کہہ دو کہ میں تو اسی حکم کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پروردگار کی طرف سے میرے پاس آتا ہے۔ یہ (قرآن) تمہارے پروردگار کی جانب سے دانش و بصیرت اور مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

(203) مکہ والوں کے مطالبہ پر جب کوئی نبی ؑ پر معجزہ ظاہر نہیں ہوتا تو کہتے ہیں کہ اللہ کی جانب سے معجزہ کوئی نہیں لائے یا اپنی طرف سے کیوں نہیں لائے۔ آپ ان سے کہہ دیجیے کہ میں اپنے قول وعمل میں اسی کی پیروی کرتا ہوں جو حکم میرے رب کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ یہہ قرآن حکیم اوامرو نواہی کو بیان کرتا ہے اور جو لوگ قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں ان کے لیے عذاب سے رحمت ہے۔
Ayah 7:204

وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:204 in the Quran reader

اور جب قرآن پڑھا جائے تو توجہ سے سنا کرو اور خاموش رہا کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔

(204) جب فرض نمازوں میں قرآن حکیم پڑھا جاتا ہے تو اس کی قرأت کو سنو اور خاموشی اختیار کیے رکھو۔ شان نزول : (آیت) ”واذا قریء القران“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ وغیرہ نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت نماز میں رسول اکرم ﷺ کے پیچھے آوازیں بلند کرنے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور مزید ابوہریرہ ؓ ہی سے روایت کیا ہے کہ ہم نماز میں کلام کرلیا کرتے تھے، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور جب قرآن کریم پڑھا جایا کرے، الخ، اور عبداللہ بن مغفل سے بھی اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اور ابن جریر ؒ نے بھی ان مسعود ؒ سے اسی طرح روایت کیا ہے نیز زہری ؒ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت انصار کے کچھ نوجوانوں کے متعلق نازل ہوئی کیوں کہ رسول اکرم ﷺ جب بھی کچھ پڑھتے تو وہ بھی پڑھتے تھے۔ اور سعید بن منصور ؒ نے اپنی سنن میں بواسطہ ابومعشر محمد بن کعب ؒ سے روایت ہے کہ صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کی قرأت کو بغور سنتے تھے، آپ جب بھی (نماز میں) قرأت فرماتے تو وہ بھی آپ کے ساتھ پڑھتے تھے یہاں تک کہ سورة اعراف کی یہ آیت اتر آئی، ان روایتوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت مدینہ میں آئی ہے۔
Ayah 7:205

وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ Open ayah 7:205 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف سے اور پست آواز سے صبح و شام یاد کرتے رہو اور دیکھنا غافل نہ ہونا۔

(205) اے محمد ﷺ اگر آپ امام ہوں تو صرف آپ ہی عاجزی اور خوف کے ساتھ قرأت کیجیے، زور کی آواز کی نسبت کم آواز کے ساتھ صبح وشام یعنی صبح کی نماز اور مغرب و عشاء کی نمازوں میں اور اگر آپ اکیلے ہوں یاتنہا نماز پڑھ رہے ہوں تو نماز میں قرآن حکیم کی قرأت کو نہ چھوڑیے۔
Ayah 7:206

اِنَّ الَّذِیْنَ عِنْدَ رَبِّكَ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یُسَبِّحُوْنَهٗ وَ لَهٗ یَسْجُدُوْنَ۠۩ Open ayah 7:206 in the Quran reader

جو لوگ تمہارے پروردگار کے پاس ہیں وہ اس کی عبادت سے گردن کشی نہیں کرتے اور اس پاک ذات کو یاد کرتے اور سجدہ کرتے رہتے ہیں۔

(206) اور فرشتے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اظہار عبودیت سے تکبر نہیں کرتے، ہر وقت اس کی اطاعت اور اس کے سامنے سر بسجود رہتے ہیں۔