7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 7:146

سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیْنَ یَتَكَبَّرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ١ؕ وَ اِنْ یَّرَوْا كُلَّ اٰیَةٍ لَّا یُؤْمِنُوْا بِهَا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الرُّشْدِ لَا یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ۚ وَ اِنْ یَّرَوْا سَبِیْلَ الْغَیِّ یَتَّخِذُوْهُ سَبِیْلًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ كَانُوْا عَنْهَا غٰفِلِیْنَ Open ayah 7:146 in the Quran reader

جو لوگ زمین میں ناحق غرور کرتے ہیں ان کو اپنی آیتوں سے پھیر دوں گا۔ اگر یہ سب نشانیاں بھی دیکھ لیں تب بھی ان پر ایمان نہ لائیں۔ اور اگر راستی کا راستہ دیکھیں تو (اپنا) راستہ نہ بنائیں۔ اور اگر گمراہی کی راہ دیکھیں تو اسے راستہ بنالیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا اور ان سے غفلت کرتے رہے۔

(146) اور میں اپنی آیات کے اقرار سے ایسے لوگوں کو برگشتہ رکھوں گا جو ناحق تکبر کیا کرتے تھے یا یہ معنی ہیں کہ اے محمد ﷺ میں عنقریب گنہگاروں کو ان کی جگہ اور قیام دکھاؤں گا جو مقام بدر ہے یا مکہ مکرمہ اور فرعون اور اس کی قوم یا ابوجہل اور اس کے ساتھی تمام نشانیاں دیکھ کر بھی ان پر ایمان نہ لائیں گے۔ اور اگر اسلام اور نیکی کا راستہ دیکھ لیں تو اسے اپنا راستہ نہ بنائیں اور اگر کفر وشرک کا راستہ دیکھ لیں تو اسے اپنا لیں، اور یہ برگشتگی اس بنا پر ہے کہ انہوں نے ہماری کتاب اور رسول اکرم ﷺ کی تکذیب کی اور وہ اس کے منکرہی تھے۔
Ayah 7:147

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ لِقَآءِ الْاٰخِرَةِ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ١ؕ هَلْ یُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 7:147 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں اور آخرت کے آنے کو جھٹلایا ان کے اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ یہ جیسے عمل کرتے ہیں ویسا ہی ان کو بدلہ ملے گا۔

(147) اور جو ہماری کتاب اور ہمارے رسول اور بعث بعد الموت (مرنے کے بعد جینے کی) تکذیب کرتے ہیں تو حالت شرک کی نیکیاں بھی انکی برباد ہیں انھیں آخرت میں ان کی کوئی جزاء نہیں ملے گی ،
Ayah 7:148

وَ اتَّخَذَ قَوْمُ مُوْسٰى مِنْۢ بَعْدِهٖ مِنْ حُلِیِّهِمْ عِجْلًا جَسَدًا لَّهٗ خُوَارٌ١ؕ اَلَمْ یَرَوْا اَنَّهٗ لَا یُكَلِّمُهُمْ وَ لَا یَهْدِیْهِمْ سَبِیْلًا١ۘ اِتَّخَذُوْهُ وَ كَانُوْا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 7:148 in the Quran reader

اور قوم موسیٰ نے موسیٰ کے بعد اپنے زیور کا ایک بچھڑا بنا لیا (وہ) ایک جسم (تھا) جس میں سے بیل کی آوازیں نکلتی تھی۔ ان لوگوں نے یہ نہ دیکھا کہ وہ نہ ان سے بات کرسکتا ہے اور نہ انکو راستہ دکھا سکتا ہے ؟ اسکو انہوں نے (معبود) بنا لیا اور (اپنے حق میں) ظلم کیا۔

(148) حضرت موسیٰ ؑ کے کوہ طور پر جانے کے بعد ان کی قوم نے سونے کا ایک چھوٹا جسم دار بچھڑا بنوایا جس کی آواز تھی۔ سامری نے انکو یہ بنا کردیا تھا اور حضرت موسیٰ ؑ کی قوم نے اتنا بھی نہ سمجھا کہ وہ ان سے کوئی بات تک نہیں کرسکتا تھا پھر جہالت کی وجہ سے اس کی پوجا شروع کردی۔
Ayah 7:149

وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْۤ اَیْدِیْهِمْ وَ رَاَوْا اَنَّهُمْ قَدْ ضَلُّوْا١ۙ قَالُوْا لَئِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:149 in the Quran reader

اور جب وہ نادم ہوئے اور دیکھا کہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں کرے گا اور ہم کو معاف نہیں فرمائے گا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔

(149) مگر اس کی پوجا سے وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچا رہے تھے، جب وہ اس بچھڑے کی پوجا پر شرمندہ ہوئے اور سمجھ گئے اور یقین ہوگیا کہ وہ حق اور ہدایت سے گمراہ ہوگئے ہیں۔
Ayah 7:150

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِیْ مِنْۢ بَعْدِیْ١ۚ اَعَجِلْتُمْ اَمْرَ رَبِّكُمْ١ۚ وَ اَلْقَى الْاَلْوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاْسِ اَخِیْهِ یَجُرُّهٗۤ اِلَیْهِ١ؕ قَالَ ابْنَ اُمَّ اِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُوْنِیْ وَ كَادُوْا یَقْتُلُوْنَنِیْ١ۖ٘ فَلَا تُشْمِتْ بِیَ الْاَعْدَآءَ وَ لَا تَجْعَلْنِیْ مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:150 in the Quran reader

اور جب موسیٰ اپنی قوم میں نہایت غصے اور افسوس کی حالت میں واپس آئے تو کہنے لگے کہ تم نے میرے بعد بہت ہی بداطواری کی۔ کیا تم نے اپنے پروردگار کا حکم (یعنی میرا اپنے پاس آنا) چلد چاہا ؟ (یہ کہا) اور شدت غضب سے (تورات کی) تختیاں ڈال دیں اور اپنے بھائی کے سر (کے بالوں) کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے۔ انہوں نے کہا کہ بھائی جان ! لوگ تو مجھے کمزور سمجھتے تھے اور قریب تھا کہ قتل کردیں۔ تو ایسا کام نہ کیجئے کہ دشمن مجھ پر ہنسیں اور مجھے ظالم لوگوں میں مت ملائیے۔

(150) حضرت موسیٰ ؑ اس فتنہ کا شور وشغف سن کر غمگین اور پریشان واپس آئے تو کہنے لگے میرے پہاڑ پر جانے کے بعد اس بچھڑے کی پوجا کرکے تم نے بہت ہی غلط کام کیا ہے، کیا اپنے رب کا حکم آنے سے پہلے ہی تم لوگوں نے اس بچھڑے کی پوجا شروع کردی اور بہت تیزی سے اپنے ہاتھ سے تختیاں رکھیں، جن میں وہ ٹوٹ گئیں، اور حضرت ہارون ؑ کے بال پکڑ کر کھینچنے لگے، ہارون ؑ نے عرض کیا اے میرے بھائی لوگوں نے مجھے کمزور سمجھا اور ان کی مخالفت پر قریب تھا کہ یہ مجھے قتل کردیں، آپ مجھ پر سختی کرکے دشمنوں کو مت ہنسواؤ اور ان بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کے ساتھ مجھے شریک نہ سمجھو۔
Ayah 7:151

قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ وَ لِاَخِیْ وَ اَدْخِلْنَا فِیْ رَحْمَتِكَ١ۖ٘ وَ اَنْتَ اَرْحَمُ الرّٰحِمِیْنَ۠ Open ayah 7:151 in the Quran reader

تب انہوں نے دعا کی کہ اے میرے پروردگار مجھے اور میرے بھائی کو معاف فرمادے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کر۔ تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔

(151) حضرت موسیٰ ؑ نے عرض کیا میں نے اپنے بھائی ہارون ؑ کے ساتھ جو سلوک کیا اور ہارون ؑ نے جو ان لوگوں کی سرکوبی نہیں کی اسے معاف فرما اور ہمیں اپنی جنت میں داخل فرما۔
Ayah 7:152

اِنَّ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ ذِلَّةٌ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُفْتَرِیْنَ Open ayah 7:152 in the Quran reader

(خدا نے فرمایا کہ) جن لوگوں نے بچھڑے کو (معبود) بنا لیا تھا ان پر پروردگار کا غضب واقع ہوگا اور دنیا کی زندگی میں ذلت (نصیب ہوگی) اور ہم افتراء پردازوں کو ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔

(152) جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی اور جن لوگوں نے اس میں ان کی پیروی کی، ان پر بہت جلد غضب اور جزیہ کی ذلت مسلط ہوگئی، جھوٹے کردار کے لوگوں کو ہم ایسے ہی سزا دیتے ہیں۔
Ayah 7:153

وَ الَّذِیْنَ عَمِلُوا السَّیِّاٰتِ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِهَا وَ اٰمَنُوْۤا١٘ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:153 in the Quran reader

اور جنہوں نے برے کام کئے پھر اس کے بعد توبہ کرلی اور ایمان لے آئے تو کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار اس کے بعد (بخش دیگا کہ وہ) بخشنے والا مہربان ہے۔

(153) اور جو لوگ شرک اور دیگرنافرمانیوں کے بعد توبہ کرکے توحید اور اللہ تعالیٰ پر ایمان لے آئے، اے موسیٰ ؑ یا اے محمد ﷺ توبہ و ایمان کے بعد آپ کا پروردگار گناہوں کو معاف فرما دیتا ہے۔
Ayah 7:154

وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ١ۖۚ وَ فِیْ نُسْخَتِهَا هُدًى وَّ رَحْمَةٌ لِّلَّذِیْنَ هُمْ لِرَبِّهِمْ یَرْهَبُوْنَ Open ayah 7:154 in the Quran reader

اور جب موسیٰ کا غصہ فرو ہوا تو (تورات کی) تختیاں اٹھا لیں اور جو کچھ ان میں لکھا تھا وہ ان لوگوں کے لئے جو اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ہدایت اور رحمت تھی۔

(154) جب حضرت موسیٰ ؑ کا غصہ چلا گیا تو ان بقیہ تختیوں میں یا ان دوتختیوں کی بجائے جو اور تختیاں دی گئیں ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے تھے گمراہی سے ہدایت اور عذاب سے رحمت تھی۔
Ayah 7:155

وَ اخْتَارَ مُوْسٰى قَوْمَهٗ سَبْعِیْنَ رَجُلًا لِّمِیْقَاتِنَا١ۚ فَلَمَّاۤ اَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ قَالَ رَبِّ لَوْ شِئْتَ اَهْلَكْتَهُمْ مِّنْ قَبْلُ وَ اِیَّایَ١ؕ اَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ السُّفَهَآءُ مِنَّا١ۚ اِنْ هِیَ اِلَّا فِتْنَتُكَ١ؕ تُضِلُّ بِهَا مَنْ تَشَآءُ وَ تَهْدِیْ مَنْ تَشَآءُ١ؕ اَنْتَ وَلِیُّنَا فَاغْفِرْ لَنَا وَ ارْحَمْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الْغٰفِرِیْنَ Open ayah 7:155 in the Quran reader

اور موسیٰ نے (اس میعاد پر جو ہم نے مقرر کی تھی) اپنی قوم کے ستر آدمی منتخب (کر کے کوہ طور پر حاضر) کئے جب ان کو زلزلے نے پکڑا تو (موسی نے) کہا کہ اے پروردگار ! اگر تو چاہتا تو ان کو اور مجھ کو پہلے ہی سے ہلاک کردیتا۔ کیا تو اس فعل کی سزا میں جو ہم میں سے بےعقل لوگوں نے کیا ہے ہمیں ہلاک کر دے گا ؟ یہ تو تیری آزمائش ہے۔ اس سے تو جس کو چاہے گمراہ کرے اور جسے چاہے ہدایت بخشے۔ تو ہی ہمارا کار ساز ہے۔ تو ہمیں (ہمارے گناہ) بخش دے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشنے والا ہے۔

(155) اپنی قوم میں سے ہمارے وقت مقرر کے لیے انتخاب کیا گیا کہ جب ان کو زلزلہ کی ہلاکت وغیرہ نے آگھیرا تو موسیٰ ؑ نے عرض کیا کہ اے پروردگار اس دن سے پہلے ان کو اور مجھے بھی قبطی کے قتل کرنے کی بنا پر ہلاک کردیتا، بھلا آپ چند بیوقوفوں کی بچھڑے کی پوجا سے ان کو ہلاک کیا جارہا ہے۔ یہ تو صرف ایک امتحان ہے، آپ ہی تو ہمارے خبر گیر ہیں، ہماری ان باتوں پر گرفت نہ کیجیے، آپ معاف کرنے والے ہیں، ہمارے لیے علم و عبادت اور گناہوں سے حفاظت اور جنت اور اس کی نعمتیں مقرر کردیجیے، ہم آپ سے توبہ کے لیے درخواست گزار ہیں۔
Ayah 7:156

وَ اكْتُبْ لَنَا فِیْ هٰذِهِ الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ اِنَّا هُدْنَاۤ اِلَیْكَ١ؕ قَالَ عَذَابِیْۤ اُصِیْبُ بِهٖ مَنْ اَشَآءُ١ۚ وَ رَحْمَتِیْ وَ سِعَتْ كُلَّ شَیْءٍ١ؕ فَسَاَكْتُبُهَا لِلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ وَ یُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِاٰیٰتِنَا یُؤْمِنُوْنَۚ Open ayah 7:156 in the Quran reader

اور ہمارے لئے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی۔ ہم تیری طرف رجوع ہوچکے۔ فرمایا کہ جو میرا عذاب ہے اسے تو جس پر چاہتا ہوں نازل کرتا ہوں اور جو میری رحمت ہے وہ ہر چیز کو شامل ہے۔ میں اس کو ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو پرہیزگاری کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

(156) اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری رحمت نیک وبد سب کے لیے عام ہے، اس پر شیطان کو غرور ہوا کہ میں بھی اس میں شامل ہوں، اللہ تعالیٰ نے اس کو اس رحمت سے خارج کردیا، اور فرمادیا کہ جو لوگ کفر وشرک اور فواحش سے بچتے اور زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ہماری کتاب اور ہمارے رسول پر ایمان لاتے ہیں، میں ان لوگوں کا نام ضرور لکھ لوں گا۔
Ayah 7:157

اَلَّذِیْنَ یَتَّبِعُوْنَ الرَّسُوْلَ النَّبِیَّ الْاُمِّیَّ الَّذِیْ یَجِدُوْنَهٗ مَكْتُوْبًا عِنْدَهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ وَ الْاِنْجِیْلِ١٘ یَاْمُرُهُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَ یُحِلُّ لَهُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیْهِمُ الْخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَ الْاَغْلٰلَ الَّتِیْ كَانَتْ عَلَیْهِمْ١ؕ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِهٖ وَ عَزَّرُوْهُ وَ نَصَرُوْهُ وَ اتَّبَعُوا النُّوْرَ الَّذِیْۤ اُنْزِلَ مَعَهٗۤ١ۙ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 7:157 in the Quran reader

وہ جو (محمد رسول اللہ ﷺ کی جو نبی امی ہیں پیروی کرتے ہیں۔ جن (کے اوصاف) کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ انہیں نیک کام کا حکم دیتے ہیں اور برے کام سے روکتے ہیں اور پاک چیزوں کو ان کے لئے حلال کرتے ہیں اور ناپاک چیزوں کو ان پر حرام تھیراتے ہیں اور ان پر سے بوجھ اور طوق جو ان (کے سے) پر (اور گلے میں) تھے اتار تے ہیں۔ تو جو لوگ ان پر ایمان لائے اور ان کی رفاقت کی اور انہیں مدد دی اور جو نور ان کے ساتھ نازل ہوا ہے اس کی پیروی کی وہی مراد پانے والے ہیں۔

(157) اس پر اہل کتاب کو تکبر ہوا اور کہنے لگے کہ ہم اہل تقوی اور اہل کتاب ہیں اللہ تعالیٰ نے انکو بھی اس سے خارج کردیا اور فرما دیا کہ میری رحمت ان لوگوں کے لیے ہے جو محمد ﷺ کے دین کی پیروی کرتے ہیں، آپ انھیں توحید اور احسان کا حکم دیتے اور کفر وشرک سے روکتے ہیں اور جن چیزوں کو کتاب اللہ میں حلال کیا ہے جیسا کہ اونٹ کا گوشت اور اس کا دودھ اور گائے، بکری کی چربی اس کو ان کے سامنے بیان کرتے ہیں۔ اب مردار خون اور سورکا گوشت وغیرہ کا حرام ہونا ان کے سامنے بیان کرتے ہیں اور جو ان لوگوں پر عہد تھے کہ جن کے توڑنے کی وجہ سے ان پر پاکیزہ چیزیں حرام ہوجاتی تھیں، ان کو اور جو سختیاں مثلا کپڑے وغیرہ پھاڑنا تھیں دور کرتے ہیں۔ عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی جو رسول اکرم ﷺ پر ایمان لاتے اور جان وتلوار سے آپ کی مدد کرتے اور قرآن کریم جو بذریعہ جبریل امین ؑ آپ پر اتارا گیا ہے اس کے حلال کو وہ حلال اور حرام کو وہ حرام سمجھتے ہیں ایسے ہی لوگ اللہ تعالیٰ کے غصہ اور عذاب سے نجات پانے والے ہیں۔
Ayah 7:158

قُلْ یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَیْكُمْ جَمِیْعَا اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ الَّذِیْ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ كَلِمٰتِهٖ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ Open ayah 7:158 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ کہہ دو کہ لوگوں ! میں تم سب کی طرف خدا کا بھیجا ہوا ہوں (یعنی اس کا رسول) (وہ) جو آسمانوں اور زمین کا بادشاہ ہے۔ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ وہی زندگانی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے تو خدا پر اور اسے رسول ﷺ پیغمبر امی ﷺ پر جو خدا پر اور اسکے (تمام) کلام پر ایمان رکھتے ہیں ایمان لاؤ اور ان کی پیروی کرو تاکہ ہدایت پاؤ۔

(158) اے محمد ﷺ آپ کہہ دیجیے کہ میں تمام لوگوں کی طرف اس اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں جو مرنے کے بعد زندہ کرتا اور دنیا میں موت دیتا ہے۔ رسول اکرم ﷺ بھی اللہ تعالیٰ اور اس کی کتاب کریم پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور کلمہ پڑھا جائے تو حضرت مراد ہوجائیں یعنی کہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ کن فرمانے سے وہ پیدا ہوگئے اور رسول اکرم ﷺ کے دین کی پیروی کرو تاکہ تمہیں گمراہی سے ایمان کی طرف ہدایت نصیب ہو۔
Ayah 7:159

وَ مِنْ قَوْمِ مُوْسٰۤى اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 7:159 in the Quran reader

اور قوم موسیٰ میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو حق کا راستہ بتاتے اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

(159) اور حضرت موسیٰ ؑ کی قوم میں ایک جماعت ایسی بھی ہے جو اللہ کے موافق عمل کرتی ہے اور وہ نہر رمل کے پرے رہنے والے لوگ ہیں۔
Ayah 7:160

وَ قَطَّعْنٰهُمُ اثْنَتَیْ عَشْرَةَ اَسْبَاطًا اُمَمًا١ؕ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اِذِ اسْتَسْقٰىهُ قَوْمُهٗۤ اَنِ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ١ۚ فَانْۢبَجَسَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَیْنًا١ؕ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَهُمْ١ؕ وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْهِمُ الْغَمَامَ وَ اَنْزَلْنَا عَلَیْهِمُ الْمَنَّ وَ السَّلْوٰى١ؕ كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ١ؕ وَ مَا ظَلَمُوْنَا وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:160 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو (یعنی بنی اسرائیل کو) الگ الگ کر کے بارہ قبیلے (اور) بڑی بڑی جماعتیں بنادیا۔ اور جب موسیٰ سے ان کی قوم نے پانی طلب کیا تو ہم نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ اپنی لاٹھی پتھر پر مار دو۔ تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور سب لوگوں نے اپنا اپنا گھاٹ معلوم کرلیا۔ اور ہم نے ان (کے سروں) پر بادل کو سائبان بنائے رکھا اور ان پر من وسلوی اتارتے رہے۔ (اور ان کے کہا کہ) جو پاکیزہ چیزیں ہم تمہیں دیتے ہیں انہیں کھاؤ اور ان لوگوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ (جو) نقصان (کیا) اپنا ہی کیا۔

(160) ہم نے بنی اسرائیل کو بارہ (12) خاندانوں میں تقسیم کردیا، نو (9) خاندان علاحدہ ہیں اور ڈیڑھ خاندان مشرق کی طرف چین کی نہر رمل پر ارون کے اندر ہے اور ڈھائی خاندان تمام دنیا میں ہیں۔ اور ہم نے موسیٰ ؑ کو حکم دیا کہ اس عصا کو فلاں پتھر پر مارو، چناچہ اس سے بارہ نہریں پھوٹ پڑیں اور ہر ایک خاندان نے اپنی نہر کو معلوم کرلیا اور وادی تیہ میں ان کو ابردن میں سورج کی شدت سے محفوظ رکھتا تھا اور رات کو چراغ کی طرح چمکتا تھا اور ہم نے انھیں من وسلوی دیا۔ مگر انہوں نے غلطی کی اور اس سے محروم ہوگئے انہوں نے ہمارا کچھ نقصان نہیں کیا بلکہ اپنا ہی نقصان کیا ہے۔
Ayahs 7:161–162

وَ اِذْ قِیْلَ لَهُمُ اسْكُنُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ وَ كُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ وَ قُوْلُوْا حِطَّةٌ وَّ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطِیْٓئٰتِكُمْ١ؕ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:161 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب ان سے کہا گیا کہ اس شہر میں سکونت اختیار کرلو اور اس میں جہاں سے جی چاہے کھانا (پینا) اور (ہاں شہر میں جانا تو) حِطَّۃٌ کہنا اور دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا۔ ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے۔ اور نیکی کر نیوالوں کو اور زیادہ دیں گے۔

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْهُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ۠ Open ayah 7:162 in the Quran reader

مگر جو ان میں ظالم تھے انہوں نے اس لفظ کو جس کا ان کو حکم دیا گیا تھا بدل کر اسکی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا تو ہم نے ان پر آسمان سے عذاب بھیجا اس لئے کہ ظلم کرتے تھے۔

(161۔ 162) یعنی اس بستی ”اریحاء“ میں جاکر رہو ”لاالہ الا اللہ“۔ یا توبہ توبہ کرتے ہوئے اریحاء کے دروازہ سے عاجزی کے ساتھ داخل ہو ان گنہگاروں نے جو ان کو کہنے کے لیے کہا گیا تھا تبدیلی کرلی اور حطہ (توبہ) کے بجائے حنطۃ (گیہوں) کہنا شروع کردیا، نتیجہ یہ ہو کہ ان کی وجہ سے ہم نے آسمان سے طاعون نازل کردیا
Ayah 7:163

وَ سْئَلْهُمْ عَنِ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ١ۘ اِذْ یَعْدُوْنَ فِی السَّبْتِ اِذْ تَاْتِیْهِمْ حِیْتَانُهُمْ یَوْمَ سَبْتِهِمْ شُرَّعًا وَّ یَوْمَ لَا یَسْبِتُوْنَ١ۙ لَا تَاْتِیْهِمْ١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ نَبْلُوْهُمْ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:163 in the Quran reader

اور ان سے اس گاؤں کا حال تو پوچھو جو لب دریا واقع تھا۔ جب یہ لوگ ہفتے کے دن کے بارے میں حد سے تجاوز کرنے لگے (یعنی) اس وقت کہ ان ہفتے کے دن مچھلیاں ان کے سامنے پانی کے اوپر آتیں اور جب ہفتہ نہ ہوتا تو نہ آتیں۔ اسی طرح ہم ان لوگوں کو انکی نافرمانیوں کے سبب آزمائش میں ڈالنے لگے۔

(163) محمد ﷺ آپ ان یہود سے بستی والوں کے متعلق بھی پوچھیے، کہ ہفتہ کے روز مچھلیاں پکڑنے میں شرعی حدود سے تجاوز کرتے تھے، اس دن پانی کی تہہ سے کنارا پر بہت زیادہ مچھلیاں آتی تھیں ان کی نافرمانیوں کے باعث اس طرح ان کی آزمایش کی گئی تھی۔
Ayah 7:164

وَ اِذْ قَالَتْ اُمَّةٌ مِّنْهُمْ لِمَ تَعِظُوْنَ قَوْمَا١ۙ اِ۟للّٰهُ مُهْلِكُهُمْ اَوْ مُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا١ؕ قَالُوْا مَعْذِرَةً اِلٰى رَبِّكُمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 7:164 in the Quran reader

اور جب ان میں سے ایک جماعت نے کہا کہ تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جن کو خدا ہلاک کرنے والا یا سخت عذاب دینے والا ہے ؟ تو انہوں نے کہا اس لیے کہ تمہارے پروردگار کے سامنے معذرت کرسکیں اور عجب نہیں کہ وہ پرہیزگاری اختیار کریں۔

(164) ایک جماعت کہنے لگی کہ ہلاک ہونے والے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو، انہوں نے کہا تاکہ تمہارے رب کے سامنے معذرت کرسکیں اور ممکن ہے کہ یہ لوگ ہفتہ کے روز مچھلیاں پکڑنے سے باز آجائیں۔
Ayah 7:165

فَلَمَّا نَسُوْا مَا ذُكِّرُوْا بِهٖۤ اَنْجَیْنَا الَّذِیْنَ یَنْهَوْنَ عَنِ السُّوْٓءِ وَ اَخَذْنَا الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِعَذَابٍۭ بَئِیْسٍۭ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ Open ayah 7:165 in the Quran reader

جب انہوں نے ان باتوں کو فراموش کردیا جن کی ان کو نصیحت کی گئی تھی تو جو لوگ برائی سے منع کرتے تھے ان کو ہم نے نجات دی اور جو ظلم کرتے تھے ان کو برے عذاب میں پکڑ لیا۔ کہ نافرمانی کئے جاتے تھے۔

(165) غرض کہ ان لوگوں کی تین جماعتیں تھیں، ایک جماعت تو خود بھی شکار کرتی تھی اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دیتی تھی، اور دوسری جماعت نہ خود شکار کرتی تھی اور نہ ہی لوگوں کو اس سے روکتی تھی، تیسر جماعت خود بھی شکار نہیں کرتی تھی، اور دوسرے لوگوں کو بھی اس سے منع کرتی تھی چناچہ پہلی شکاری جماعت کی شکلیں مسخ کردی گئیں اور بعد والی دونوں جماعتیں عذاب الہی سے بچ گئیں۔
Ayah 7:166

فَلَمَّا عَتَوْا عَنْ مَّا نُهُوْا عَنْهُ قُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِئِیْنَ Open ayah 7:166 in the Quran reader

غرض جن اعمال (بد) سے انکو منع کیا گیا تھا جب وہ ان (پر اصرار اور ہمارے حکم) سے گردن کشی کرنے لگے تو ہم نے ان کو حکم دیا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ۔

(166) جو ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کرتے تھے ان کو بچالیا اور مچھلیاں پکڑنے والوں کو سخت عذاب میں گرفتار کردیا اور ان کو کہہ دیا گیا کہ تم بندر ذلیل بن جاؤ۔
Ayah 7:167

وَ اِذْ تَاَذَّنَ رَبُّكَ لَیَبْعَثَنَّ عَلَیْهِمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَنْ یَّسُوْمُهُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ لَسَرِیْعُ الْعِقَابِ١ۖۚ وَ اِنَّهٗ لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 7:167 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تمہارے پروردگار نے (یہود کو) آگاہ کردیا تھا کہ وہ ان پر قیامت تک ایسے شخص کو مسلط رکھے گا جو انکو بری بری تکلیفیں دیتا رہے۔ بیشک تمہارا پروردگار جلد عذاب کرنے والا ہے۔ اور وہ بخشنے والا مہربان بھی ہے۔

(167) جس وقت ان کے پروردگار نے انہیں یہ بتلادیا کہ وہ ان پر ضرور ایسے شخص کو مسلط کرے گا جو انہیں سخت ترین سزا جزیہ وغیرہ کی دے گا وہ رسول اکرم ﷺ اور آپ کی امت ہے اللہ تعالیٰ نہ لانے والوں کو سخت ترین سزا جزیہ وغیرہ کی دے گا وہ رسول اکرم ﷺ اور آپ کی امت ہے اللہ تعالیٰ ایمان نہ لانے والوں کو سخت سزا دیتے ہیں، اور جو ایمان لائے اس کے گناہوں کو معاف فرماتے ہیں۔
Ayah 7:168

وَ قَطَّعْنٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اُمَمًا١ۚ مِنْهُمُ الصّٰلِحُوْنَ وَ مِنْهُمْ دُوْنَ ذٰلِكَ١٘ وَ بَلَوْنٰهُمْ بِالْحَسَنٰتِ وَ السَّیِّاٰتِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:168 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو جماعت جماعت کر کے ملک میں منتشر کردیا۔ بعض ان میں سے نیکو کار ہیں اور بعض اور طرح کے (یعنی بدکار) اور ہم آسائشوں اور تکلیفوں (دونوں) سے ان کی آزمائش کرتے رہے تاکہ (ہماری طرف) رجوع کریں۔

(168) اور ہم نے ان کو جدا جدا جماعتیں کردیا اور وہ ساڑھے نو خاندان وراء النہر کی طرف تھے اور بقیہ مومن خاندان بنی اسرائیل کے تھے یا یہ کہ بقیہ بنی اسرائیل کے خاندان کافر تھے اور ہم نے ان کی فراخی، خوشحالی اور قحط ہر قسم کی سختیوں سے آزمایش کی تاکہ وہ اپنی معصیت اور کفر سے رجوع کرسکیں۔
Ayah 7:169

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ وَّرِثُوا الْكِتٰبَ یَاْخُذُوْنَ عَرَضَ هٰذَا الْاَدْنٰى وَ یَقُوْلُوْنَ سَیُغْفَرُ لَنَا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِهِمْ عَرَضٌ مِّثْلُهٗ یَاْخُذُوْهُ١ؕ اَلَمْ یُؤْخَذْ عَلَیْهِمْ مِّیْثَاقُ الْكِتٰبِ اَنْ لَّا یَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ وَ دَرَسُوْا مَا فِیْهِ١ؕ وَ الدَّارُ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یَتَّقُوْنَ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 7:169 in the Quran reader

پھر ان کے بعد ناخلف ان کے قائم مقام ہوئے جو کتاب کے وارث بنے۔ یہ (بےتامل) اس دنیائے دنی کا مال و متاع لے لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم بخش دے جائیں گے۔ اور (لوگ ایسوں پر طعن کرتے ہیں) اگر ان کے سامنے بھی ویسا ہی مال آجاتا ہے تو وہ بھی اسے لے لیتے ہیں۔ کیا ان سے کتاب کی نسبت عہد نہیں لیا گیا کہ خدا پر سچ کے سوا اور کچھ نہیں کہیں گے ؟ اور جو کچھ اس (کتاب) میں ہے اسکو انہوں نے پڑھ بھی لیا ہے۔ اور آخرت کا گھر پر ہیزگاروں کے لئے بہتر ہے۔ کیا تم سمجھتے نہیں ؟

(169) نتیجتا ان نیکوکاروں کے بعد دوسرے بدترین یہودی پیدا ہوئے جنہوں نے تورات لی اور اس میں رسول اکرم ﷺ کی جو صفت تھی اسے چھپایا تاکہ آپ کی تعریف و توصیف چھپا کر دنیا میں رشوت وغیرہ کا حرام مال حاصل کریں۔ اور پھر یہ لوگ کہتے ہیں کہ جو گناہ ہم دن میں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی رات کو اور جو رات میں گناہ سرزد ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی دن میں بخشش فرمادیتے ہیں، حالانکہ جیسا پہلے ان کے پاس حرام مال آتا تھا آج بھی ویسا ہی آنے لگے تو اسے حلال سمجھ لیں، کیا ان سے سچ بولنیپر کتاب میں وعدہ نہیں لیا گیا تھا اور انہوں نے رسول اکرم ﷺ کی تعریف و توصیف میں تبدیلی سے بچتے ہیں، جنت کا گھر دنیا سے بہتر ہے، پھر نہیں سمجھتے کہ دنیا فانی اور آخرت باقی رہنے والی ہے۔
Ayah 7:170

وَ الَّذِیْنَ یُمَسِّكُوْنَ بِالْكِتٰبِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ١ؕ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ الْمُصْلِحِیْنَ Open ayah 7:170 in the Quran reader

اور جو لوگ کتاب کو مضبوط پکڑے ہوئے ہیں اور نماز کا التزام رکھتے ہیں (انکو ہم اجر دیں گے کہ) ہم نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتے۔

(170) اور جو لوگ جو کچھ کتاب میں ہے، اس پر عمل کرتے ہیں، اس کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام جانتے ہیں اور رسول اکرم ﷺ کی تعریف و توصیف کو بیان کرتے ہیں اور پانچوں نمازوں کو قائم کرتے ہیں ہم ایسے لوگوں کے عمل کو جو قول وعمل میں نیک ہوتے ہیں جیسا کہ عبداللہ بن سلام ﷺ اور ان کے ساتھی ضائع نہیں کرتے۔
Ayah 7:171

وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّةٌ وَّ ظَنُّوْۤا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ۚ خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّ اذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۠ Open ayah 7:171 in the Quran reader

اور جب ہم نے ان (کے سروں) پر پہاڑ اٹھا کھڑا کیا گویا وہ سائبان تھا۔ اور انہوں نے خیال کیا کہ وہ ان پر گرتا ہے تو (ہم نے کہا) جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے زور سے پکڑے رہو اور جو اس میں (لکھا) ہے اس پر عمل کرو تاکہ بچ جاؤ۔

(171) اور جس وقت ہم نے پہاڑ کو اکھاڑ کر چھت کی طرح اٹھا کر ان کے سروں پر لٹکا دیا اور انھیں پورا یقین ہوگیا کہ اگر ہم نے کتاب کو قبول نہ کیا تو ہمارے اوپر گرا دیا جائے گا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے کہا جو ہم نے تمہیں دیا ہے اس پر پوری مضبوطی اور استقامت سے عمل کرو اور ثواب و عذاب کو یاد رکھو یا یہ کہ اس کتاب میں جو اوامرو نواہی ہیں اسے محفوظ رکھو یا یہ کہ جو اس میں حلال و حرام ہیں، اس پر عمل کرو تاکہ غصہ اور عذاب سے نجات حاصل ہو اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہو۔
Ayah 7:172

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِیْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِیْنَۙ Open ayah 7:172 in the Quran reader

اور جب تمہارے پروردگار نے بنی آدم سے یعنی ان کی پیٹھوں سے انکی اولاد نکالی تو ان سے خود ان کے مقابلے میں اقرار کرا لیا (یعنی ان سے پوچھا کہ) کیا میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ وہ کہنے لگے کیوں نہیں ؟ ہم گواہ ہیں (کہ تو ہمارا پروردگار ہے) یہ اقرار اس لیے کرایا تھا کہ قیامت کے دن کہنے لگو کہ ہم کو تو اس کی خبر ہی نہ تھی۔

(172) اے محمد ﷺ وہ واقعہ بھی بیان کیجیے جب کہ انکی اولاد کو ان کی پشتوں سے نکالا اور ان ہی سے اقرار لیا تو سب نے اس بات کا اقرار کیا کہ بیشک آپ ہمارے پروردگار ہیں، تب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں سے کہا کہ ان پر گواہ رہو اور ان سے کہا تم بھی ایک دوسرے پر گواہ ہوجاؤ تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم سے وعدہ نہیں لیا گیا تھا ،
Ayah 7:173

اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّیَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ Open ayah 7:173 in the Quran reader

یا یہ (نہ) کہو کہ شرک تو پہلے ہمارے بڑوں نے کیا تھا اور ہم تو (انکی) اولاد تھے (جو) ان کے بعد (پیدا ہوئے) تو کیا جو کام اہل باطل کرتے رہے اس کے بدلے تو ہمیں ہلاک کرتا ہے ؟

(173) اور یہ نہ کہو کہ عہد شکنی تو ہم سے پہلے ہمارے بڑوں نے کی تھی اور ہم تو چھوٹے تھے ہم نے تو ان کی پیروی کرلی، تو کیا آپ ہمیں ہم سے پہلے ان مشرکوں کی بدعہدہ پر عذاب دیتے ہیں۔
Ayah 7:174

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 7:174 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم (اپنی) آیتیں کھول کھول کر بیان کرتے ہیں تاکہ یہ رجوع کریں۔

(174) اسی طرح ہم قرآن حکیم میں عہد ومیثاق کے واقعات بیان کرتے ہیں تاکہ یہ کفر وشرک سے میثاق اول کی طرف رجوع کریں۔
Ayah 7:175

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ الَّذِیْۤ اٰتَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا فَانْسَلَخَ مِنْهَا فَاَتْبَعَهُ الشَّیْطٰنُ فَكَانَ مِنَ الْغٰوِیْنَ Open ayah 7:175 in the Quran reader

اور ان کو اس شخص کا حال پڑھ کر سنا دو جس کو ہم نے اپنی آیتیں عطا فرمائیں (اور ہفت پارچہ علم شرائع سے مزین کیا) تو اس نے ان کو اتار دیا پھر شیطان اسکے پیچھے لگا تو وہ گمراہوں میں ہوگیا۔

(175) اے محمد ﷺ آپ ان کو اس شخص کا حال سنایئے جسے ہم نے اسم اعظم دیا اور پھر وہ اس سے بالکل نکل گیا اور گمراہ لوگوں میں داخل ہوگیا۔ ہو بلعم باعوراء ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسم اعظم کی بدولت اسے ہدایت دی تھی اس نے اس کے ذریعے حضرت موسیٰ ؑ کے خلاف بددعا کی تھی، اللہ تعالیٰ نے اس سے اس کا علم چھین لیا اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ یہ شخص امیہ ابن ابی الصلت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے علم اور کلام کے حسن کے ساتھ عزت دی تھی مگر جب یہ ایمان نہ لایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ دولت اس سے چھین لی، شیطان نے اس کو دھوکا دیا تو یہ گمراہ کافروں میں سے ہوگیا۔
Ayah 7:176

وَ لَوْ شِئْنَا لَرَفَعْنٰهُ بِهَا وَ لٰكِنَّهٗۤ اَخْلَدَ اِلَى الْاَرْضِ وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ١ۚ فَمَثَلُهٗ كَمَثَلِ الْكَلْبِ١ۚ اِنْ تَحْمِلْ عَلَیْهِ یَلْهَثْ اَوْ تَتْرُكْهُ یَلْهَثْ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ۚ فَاقْصُصِ الْقَصَصَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 7:176 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان آیتوں سے اس (کے درجے) کو بلند کردیتے مگر وہ تو پستی کی طرف مائل ہوگیا اور اپنی خواہش کے پیچھے چل پڑا تو اس کی مثال کتے کی سی ہوگئی۔ کہ اگر سختی کرو تو زبان نکا لے رہے اور یونہی چھوڑ دو تو بھی زبان نکالے رہے۔ یہی مثال ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ تو (ان سے) یہ قصہ بیان کردو تاکہ وہ فکر کریں۔

(176) اور ہم اسے اسم اعظم کی وجہ سے آسمان تک بلندی عطا کرتے اور دنیا والوں پر اسے بادشاہت عطا کرتے مگر یہ دنیا کی دولت اور بادشاہت کی خواہش اور دیگر نفسانیت کی طرف مائل ہوگیا تو بلعم باعوراء یا امیۃ بن ابی الصلت کی مثال کتے کی طرح ہوگئی تو اس پر حملہ کرے پھر بھی ہانپتا ہے اور حملہ نہ کرے پھر بھی زبان نکال کرہانپتا رہتا ہے۔ یہ مثال بلعم باعوراء اور امیہ ابن ابی الصلت کی ہے کہ انکو نصیحت کی جائے تو نصیحت حاصل نہیں کرتے اور خاموشی اختیار کی جائے تو خود سے عقل نہیں آتی، یہی یہود کی حالت ہے ان کو قرآن کریم پڑھ کر سنائیے تاکہ امثال قرآنی سے عبرت حاصل کریں۔
Ayah 7:177

سَآءَ مَثَلَا اِ۟لْقَوْمُ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اَنْفُسَهُمْ كَانُوْا یَظْلِمُوْنَ Open ayah 7:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں کی تکذیب کی ان کی مثال بری ہے اور انہوں نے نقصان (کیا تو) اپنا ہی کیا۔

(177) جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کے منکر ہیں ان کی مثال بہت بری ہے کیونکہ وہ کتے کی مثل ہیں، اور سزا کی وجہ سے اپنا نقصان کرتے ہیں۔
Ayahs 7:178–179

مَنْ یَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِیْ١ۚ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:178 in the Quran reader

جس کو خدا ہدایت دے وہی راہ یاب ہے۔ اور جس کو گمراہ کرے تو ایسے ہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔

وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجَهَنَّمَ كَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ١ۖ٘ لَهُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقَهُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِهَا١٘ وَ لَهُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ اُولٰٓئِكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 7:179 in the Quran reader

اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لئے پیدا کئے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھے نہیں اور اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ (بالکل) چارپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

(178۔ 179) جسے وہ (یعنی اللہ تعالیٰ) اپنے دین کی ہدایت دے، وہی ہدایت یافتہ ہے اور جسے وہ اپنے دین سے بےراہ کردے وہ عذاب کے وجوب سے خسارے میں ہے اور یہ سچی بات کو بالکل نہیں سمجھتے اور یہ سچی بات کو بالکل نہیں سمجھتے اور یہ سچائی کے سمجھنے میں چوپایوں سے بھی زیادہ بےراہ ہیں کیوں کہ یہ انکار کرنے والے ہیں۔ اور اس کے ساتھ ساتھ آخرت کو بھی نہیں مانتے۔
Ayah 7:180

وَ لِلّٰهِ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى فَادْعُوْهُ بِهَا١۪ وَ ذَرُوا الَّذِیْنَ یُلْحِدُوْنَ فِیْۤ اَسْمَآئِهٖ١ؕ سَیُجْزَوْنَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:180 in the Quran reader

اور خدا کے سب نام اچھے ہی ہیں تو اس کو اس کے ناموں سے پکار کرو۔ اور جو لوگ اس کے ناموں میں کجی (اختیار) کرتے ہیں ان کو چھوڑ دو۔ وہ جو کچھ کر رہے ہیں عنقریب اسکی سزا پائیں گے۔

(180) اعلی صفات یعنی علم وقدرت سمع وبصر سب اسی کے لیے ہیں اور جو اسمائے الہی اور اس کی صفات کے منکر یا ان کے اقرار سے اعراض کرتے ہیں یا کہ اس کے اسماء وصفات میں شرک کرتے ہیں یعنی اس کے اسماء کے ساتھ لات وعزی اور منات کو تشبیہ دیتے ہیں تو دنیا میں یہ جو شرآمیز باتیں کرتے تھے، آخرت میں ان کو ان کا بدلہ مل جائے گا۔
Ayah 7:181

وَ مِمَّنْ خَلَقْنَاۤ اُمَّةٌ یَّهْدُوْنَ بِالْحَقِّ وَ بِهٖ یَعْدِلُوْنَ۠ Open ayah 7:181 in the Quran reader

اور ہماری مخلوقات میں سے ایک وہ لوگ ہیں جو حق کا راستہ بتاتے ہیں اور اسی کے ساتھ انصاف کرتے ہیں۔

(181) اور امت محمدیہ ﷺ سچائی اور حق کا حکم دیتی ہے اور خود بھی حق پر عمل پیرا ہے۔
Ayah 7:182

وَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَیْثُ لَا یَعْلَمُوْنَۚۖ Open ayah 7:182 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم ان کو بتدریج اس طریق سے پکڑیں گے کہ ان کو معلوم ہی نہ ہوگا۔

(182) ابوجہل اور اس کے ساتھی جو رسول اکرم ﷺ کا انکار کرتے ہیں اور نزول عذاب کے بارے میں مذاق اڑاتے ہیں، تو ہم ان کو اس طرح عذاب سے پکڑیں گے کہ انھیں نزول عذاب کا علم بھی نہ ہوگا۔
Ayah 7:183

وَ اُمْلِیْ لَهُمْ١۫ؕ اِنَّ كَیْدِیْ مَتِیْنٌ Open ayah 7:183 in the Quran reader

اور میں ان کو مہت دیے جاتا ہوں۔ میری تدبیر (بڑی) مضبوط ہے۔

(183) چناچہ اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو ایک ہی دن میں ہلاک کردیا، کسی کو کسی کی ہلاکت کی خبر بھی نہ ہوئی، میں ان کو مہلت دیتا رہتا ہوں، میرا عذاب اور میری گرفت بہت سخت ہے۔
Ayah 7:184

اَوَ لَمْ یَتَفَكَّرُوْا١ٚ مَا بِصَاحِبِهِمْ مِّنْ جِنَّةٍ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 7:184 in the Quran reader

کیا انہوں نے غور نہیں کیا ؟ کہ ان کے رفیق محمد ﷺ کو (کسی طرح کا بھی) جنون نہیں ہے۔ تو وہ ظاہر ظہور ڈر سنانے والے ہیں۔

(184) کیا ان لوگوں نے آپس میں اس بات پر غور نہیں کیا کہ العیاذ باللہ رسول اکرم ﷺ نہ جادوگر ہیں اور نہ کاہن اور نہ مجنون، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہے کہ ان کے نبی کو تو جنون کا شائبہ تک بھی نہیں وہ تو رسول ہیں جو عذاب الہی سے اس زبان میں ڈراتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”اولم یتفکروا“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور ابو الشیخ ؒ نے قتادہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ ہم سے بیان کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر قریش کو بلوایا، آپ ایک ایک شاخ کو بلاتے تھے کہ ایے بنی فلاں میں تمہیں عذاب الہی سے ڈراتا ہوں، تو کسی کہنے والے نے کہا کہ تمہارے ساتھی مجنون ہیں، رات کو صبح تک مبہوت ہوگئے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔
Ayah 7:185

اَوَ لَمْ یَنْظُرُوْا فِیْ مَلَكُوْتِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ١ۙ وَّ اَنْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَدِ اقْتَرَبَ اَجَلُهُمْ١ۚ فَبِاَیِّ حَدِیْثٍۭ بَعْدَهٗ یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:185 in the Quran reader

کیا انہوں نے آسمان اور زمین کی بادشاہت میں اور جو چیز خدا نے پیدا کی ہیں ان پر نظر نہیں کی ؟ اور (اس بات پر خیال نہیں کیا) کہ عجب نہیں کہ ان (کی موت) کا وقت نزدیک پہنچ گیا ہو ؟ تو اس کے بعد وہ اور کس بات پر ایمان لائیں گے ؟

(185) جسے یہ لوگ سمجھتے ہیں، اہل مکہ نے سورج، چاند، تارے، بادل، اور زمین میں جو کچھ درخت، پہاڑ، سمندر اور جانور ہیں اور دوسری تمام چیزوں میں جن کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے، غور نہیں کیا اور اس بات میں کہ اللہ کی طرف سے ان کی ہلاکت و بربادی قریب آپہنچی ہے۔ یہ لوگ اگر کتاب اللہ پر ایمان نہیں لاتے تو اس کے بعد پھر کس کتاب پر ایمان لائیں گے۔