7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 7:41

لَهُمْ مِّنْ جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَّ مِنْ فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 7:41 in the Quran reader

ایسے لوگوں کے لیے (نیچے) بچھونا بھی (آتش) جہنم کا ہوگا اور اوپر سے اوڑھنا بھی (اسی کا) اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں۔

(41) ان مشرکین کے لیے آگ کا بستر اور اوڑھنا ہوگا ان مشرکوں کی یہی سزا ہے۔
Ayah 7:42

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاۤ١٘ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ١ۚ هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ Open ayah 7:42 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائیں اور عمل نیک کرتے رہیں اور ہم عملوں کیلئے کسی آدمی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے۔ ایسے ہی لوگ اہل بہشت ہیں کہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔

(42) یعنی رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم پر ایمان لائے اور حقوق اللہ کی بجاآوری کی اور ہم اعمال کا مکلف اس کی طاقت سے زیادہ نہیں بناتے یہ مومن جنت والے ہیں یہ جنت میں ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کو وہاں موت آئے گی اور نہ اس سے نکالے جائیں گے۔
Ayah 7:43

وَ نَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ١ۚ وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ هَدٰىنَا لِهٰذَا١۫ وَ مَا كُنَّا لِنَهْتَدِیَ لَوْ لَاۤ اَنْ هَدٰىنَا اللّٰهُ١ۚ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ؕ وَ نُوْدُوْۤا اَنْ تِلْكُمُ الْجَنَّةُ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 7:43 in the Quran reader

اور جو کینے ان کی دلوں میں ہونگے ہم سب نکال ڈالیں گے۔ انکے محلوں کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی۔ اور کہیں خدا کا شکر ہے جس نے ہمیں یہاں کا راستہ دکھایا۔ اور اگر خدا ہمیں یہ راستہ نہ دکھاتا تو ہم راستہ نہ پاسکتے۔ بیشک ہمارے خدا کے رسول حق بات لیکر آئے تھے۔ اور اس روز منادی کردی جائے گی کے تم ان اعمال کے صلے میں جو دنیا میں کرتے تھے اس بہشت کے وارث بنادئے گئے ہو

(43) دنیا میں جو کچھ ان کے دلوں میں بغض، حسد اور دشمنی تھی، سب کو ہم نکال دیں گے، آخرت میں ان کے محلات اور تختوں کے نیچے سے شہد، دودھ، پانی، شراب کی نہریں جاری ہوں گی۔ جب یہ حضرات اپنے مقامات اور حیات جاودانی کے چشمے پر پہنچیں گے تو کہیں گے اللہ کا بہت احسان ہے جس نے اس مقام اور چشمہ پر پہنچایا اور تفسیر بھی کی گئی ہے کہ جب یہ حضرات ایمان کی بدولت اس اعزاز واکرام کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ اللہ تعالیٰ کا بہت شکر و احسان ہے کہ اس نے ہمیں اس دین اسلام کی ہدایت عطا فرمائی اور دین اسلام پر ہماری کبھی رسائی نہ ہوتی اگر ہمیں اللہ تعالیٰ ہدایت نہ فرماتے۔ واقعی پیغمبر سچائی اور ثواب کرامت کی خوشخبری لے کر آئے، ان سے کہا جائے گا تمہارے دنیاوی اعمال صالحہ کی وجہ سے چیزیں تمہیں دی گئی ہیں۔
Ayahs 7:44–45

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ اَصْحٰبَ النَّارِ اَنْ قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدْتُّمْ مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا١ؕ قَالُوْا نَعَمْ١ۚ فَاَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَیْنَهُمْ اَنْ لَّعْنَةُ اللّٰهِ عَلَى الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 7:44 in the Quran reader

اور اہل بہشت دوزخیوں سے پکار کر کہیں گے کہ جو وعدہ ہمارے پروردگار نے ہم سے کیا تھا اس کو ہم نے سچا پالیا۔ بھلا جو وعدہ تمہارے پروردگار نے تم سے کیا تھا تم نے بھی اسے سچ پایا ؟ وہ کہیں گے ہاں تو اس وقت ایک پکارنے والاپکار دے گا کہ بےانصافوں پر خدا کی لعنت۔

الَّذِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ یَبْغُوْنَهَا عِوَجًا١ۚ وَ هُمْ بِالْاٰخِرَةِ كٰفِرُوْنَۘ Open ayah 7:45 in the Quran reader

جو خدا کی راہ سے روکتے اور اس کی کجی ڈھونڈتے اور آخرت سے انکار کرتے تھے۔

(44۔ 45) یعنی ہم نے تو ثواب اور کرامت واضح طور پر دیکھ لیا، اے اہل جہنم ! کیا تم نے بھی عذاب اور ذلت کو صحیح پایا۔ پھر اہل جنت اور اہل دوزخ کے درمیان ایک پکارنے والا پکارے گا کہ ان کافروں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب اور لعنت نازل ہو، جو لوگوں کو دین الہی اور اطاعت خداوندی سے روکا کرتے تھے اور دین میں کجی کی باتیں پیدا کرتے تھے اور مرنے کے بعد جینے کے بھی منکر تھے۔
Ayah 7:46

وَ بَیْنَهُمَا حِجَابٌ١ۚ وَ عَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ كُلًّۢا بِسِیْمٰىهُمْ١ۚ وَ نَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ١۫ لَمْ یَدْخُلُوْهَا وَ هُمْ یَطْمَعُوْنَ Open ayah 7:46 in the Quran reader

ان دونوں بہشتیوں اور دوزخیوں کے درمیان اعراف کا نام ایک دیوار ہوگی اور اعراف پر کچھ آدمی ہونگے جو سب کو ان کی صورتوں سے پہچان لیں گے تو وہ اہل بہشت کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلامتی ہو۔ یہ لوگ ابھی بہشت میں داخل تو نہیں ہونگے مگر امید رکھتے ہونگے۔

(46) اور جنت اور دوزخ کے درمیان ایک آڑ ہوگی اور اس آڑ اور دیوار (اعراف) پر بہت لوگ ہوں گے جن کی حسنات اور سیئات میزان میں برابر ہوں گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایسے عالم فقہا ہوں گے جو رزق کے معاملے میں شک کرتے تھے۔ یہ لوگ دونوں جماعتوں کو یعنی اہل جنت میں اور اہل دوزخ کو ان کے قیافہ سے پہچان لیں گے کیوں کہ دوزخیوں کی صورتیں سیاہ اور ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی، اور جنت میں داخل ہونے والوں کے چہرے سفید، چمک دار، اور نورانی ہوں گے۔ اور اصحاب اعراف اہل جنت کو کہیں گے السلام علیکم ! مگر یہ ابھی تک جنت میں داخل نہیں ہوں گے اور اس کے امیدوار ہوں گے۔
Ayah 7:47

وَ اِذَا صُرِفَتْ اَبْصَارُهُمْ تِلْقَآءَ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۙ قَالُوْا رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَ۠ Open ayah 7:47 in the Quran reader

اور جب ان نگاہیں پلٹ کر اہل جھنم کی طرف جائیں گی تو عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ہم کو ظالم لوگوں میں داخل نہ کیجئے۔

(47) اور جب اصحاب اعراف کی دوزخیوں پر نظر پڑے گی تو کہیں گے پروردگار ہمیں ان مشرکوں کے ساتھ عذاب میں نہ شامل کیجیے۔
Ayah 7:48

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ الْاَعْرَافِ رِجَالًا یَّعْرِفُوْنَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ قَالُوْا مَاۤ اَغْنٰى عَنْكُمْ جَمْعُكُمْ وَ مَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 7:48 in the Quran reader

اور اہل اعراف اہل جھنم میں سے جن کی صورت سے پہچانیں گے پکاریں گیں اور کہیں گے کہ آج کے دن نہ تو تمہاری جماعت ہی تمہارے کوئی کام آئی اور نہ تمہارا تکبر ہی سودمند ہوا

(48) اور یہ اصحاب اعراف بہت سے کافروں کو ان کی سیاہ اور بدنما صورتوں اور نیلی آنکھوں کی وجہ سے دوزخ میں داخلہ کے وقت پہچان کر کہیں گے مثلا اے ولید بن مغیرہ، اے ابوجہل، اے امیہ بن خلف، اے ابی بن خلف، اے اسود بن عبدالمطلب، اے رؤسا، کفار ! تمہارا مال و دولت اور رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے سے تکبر کرنا آج تمہارے کچھ کام نہ آسکا۔
Ayah 7:49

اَهٰۤؤُلَآءِ الَّذِیْنَ اَقْسَمْتُمْ لَا یَنَالُهُمُ اللّٰهُ بِرَحْمَةٍ١ؕ اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَیْكُمْ وَ لَاۤ اَنْتُمْ تَحْزَنُوْنَ Open ayah 7:49 in the Quran reader

پھر مومنوں کی طرف اشارہ کرکے کہیں گے کیا یہ وہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تم قسمیں کھایا کرتے تھے کہ خدا اپنی رحمت سے ان کی دستگیری نہیں کرے گا ؟ تو مومنوں تم بہشت میں داخل ہوجاؤ۔ تم کو کچھ خوف نہیں اور نہ تم کچھ رنج واندوہ ہوگا۔

(49) پھر ان اصحاب اعراف کی جنت والوں پر نظر پڑے گی وہاں حضرت سلمان فارسی ؓ ، حضرت صہیب ؓ، حضرت عمار ؓ اور تمام ضعیف اور مساکین نظر آئیں گے، تو کہیں گے اے گروہ کفار ! جنت میں وہی کمزور لوگ ہیں جن کے بارے میں تم دنیا میں قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کو جنت میں نہیں بھیجے گا۔
Ayahs 7:50–51

وَ نَادٰۤى اَصْحٰبُ النَّارِ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ اَنْ اَفِیْضُوْا عَلَیْنَا مِنَ الْمَآءِ اَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى الْكٰفِرِیْنَۙ Open ayah 7:50 in the Quran reader

اور دوزخی بہشتیوں سے گڑگڑا کر کہیں گے کہ کسی قدر ہم پر پانی بہاؤ یا جو رزق خدا نے تمہیں عنایت فرمایا ہے ان میں سے کچھ ہمیں بھی عطا کرو وہ جواب دیں گے کہ خدا نے بہشت کا پانی اور رزق کافروں پر حرام کردیا ہے

الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَهُمْ لَهْوًا وَّ لَعِبًا وَّ غَرَّتْهُمُ الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا١ۚ فَالْیَوْمَ نَنْسٰىهُمْ كَمَا نَسُوْا لِقَآءَ یَوْمِهِمْ هٰذَا١ۙ وَ مَا كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یَجْحَدُوْنَ Open ayah 7:51 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا رکھا تھا اور دنیا کی زندگی نے ان کو دھوکے میں ڈال رکھا تھا، تو جس طرح یہ لوگ اس دن کے آنے کو بھولے ہوئے تھے اور ہماری آیتوں سے منکر ہو رہے تھے اسی طرح آج بھی انہیں بھلا دیں گے۔

(50۔ 51) پھر اللہ تعالیٰ اصحاب اعراف سے فرمائے گا، جنت میں داخل ہوجاؤ آج عذاب کا تم پر کوئی خوف نہیں اور دوزخی جنتیوں سے کہیں گے کہ ہم پر کچھ پانی ڈالو اور کچھ جنت کے میوے دے دو ، اہل جنت کہیں گے کہ جنت کے میوے ایسے لوگوں پر، جنہوں نے دین کو مذاق بنا لیا تھا حرام کردیے گئے ہیں۔ (یعنی اللہ تعالیٰ نے حرام کردیئے ہیں) اور جو دنیاوی فراخیوں میں مست تھے، قیامت کے دن ہم ایسے لوگوں کو دوزخ میں اسی طرح چھوڑتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے اس دن کے اقرار کو چھوڑ دیا تھا اور وہ ہمارے رسولوں کی تکذیب کیا کرتے تھے۔
Ayah 7:52

وَ لَقَدْ جِئْنٰهُمْ بِكِتٰبٍ فَصَّلْنٰهُ عَلٰى عِلْمٍ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:52 in the Quran reader

اور ہم نے ان کے پاس کتاب پہنچادی ہے جس کو علم دانش کے ساتھ کھول کھول کر بیان کردیا ہے اور وہ مومنون کیلئے ہدایت اور رحمت ہے۔

(52) اور ہم نے ان لوگوں کی طرف رسول اکرم ﷺ کو ایسا قرآن حکیم دے کر بھیجا ہے، جسے ہم نے اپنے علم کامل سے بہت ہی واضح کیا ہے، وہ گمراہی سے ذریعہ ہدایت اور عذاب سے ذریعہ رحمت ہے، ایسے حضرات کے لیے جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہوں۔
Ayah 7:53

هَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا تَاْوِیْلَهٗ١ؕ یَوْمَ یَاْتِیْ تَاْوِیْلُهٗ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ نَسُوْهُ مِنْ قَبْلُ قَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ١ۚ فَهَلْ لَّنَا مِنْ شُفَعَآءَ فَیَشْفَعُوْا لَنَاۤ اَوْ نُرَدُّ فَنَعْمَلَ غَیْرَ الَّذِیْ كُنَّا نَعْمَلُ١ؕ قَدْ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ۠ Open ayah 7:53 in the Quran reader

کیا یہ لوگ اس کے وعدہ عذاب کے منتظر ہیں ؟ جس دن وہ وعدہ آئے گا تو لوگ اس کو پہلے سے بھولے ہوئے ہونگے وہ بول اٹھے گے کہ بیشک ہمارے پروردگار کے رسول حق لے کر آئے تھے۔ بھلا آج ہمارے کوئی سفارشی ہیں کہ ہماری سفارش کریں۔ یا ہم دنیا میں پھر دوبارہ لوٹادیئے جائیں کہ جو عمل بد ہم پہلے کیا کرتے تھے وہ نہ کریں بلکہ ان کے سوا کوئی نیک عمل کریں۔ بیشک ان لوگوں نے اپنا نقصان کیا اور جو کچھ یہ افتراء کیا کرتے تھے ان سے سب جاتا رہا۔

(53) اہل مکہ کو کسی اور بات کا انتظار نہیں کہ وہ جو ایمان نہیں لاتے مگر اس چیز کے انجام کا انتظا رہے جس کا ان سے قرآن حکیم میں وعدہ کیا گیا ہے اور وہ قیامت کا دن ہے، جب اس وعدہ کا انجام ان کے سامنے آئے گا تو وہ لوگ جو اس دن کے اقرار کو پہلے ہی سے دنیا میں بھولے بیٹھے تھے کہیں گے بیشک رسول (بعث بعد الموت) جنت اور دوزخ کے بیان لے کر آئے، مگر ہم نے ان کو جھٹلایا تو اب عذاب سے نجات دلانے والا کوئی ہے یا دنیا ہی میں ہم کو لوٹا دیا جائے تو ہم شرک کو چھوڑ کر ایمان لائیں اور نیک اعمال کریں، ان لوگوں نے خود جنت کے ضائع کرنے اور دوزخ کو اپنے اوپر لازم کرنے کی وجہ سے اپنے آپ کو دھوکا دیا ہے ان کو جھوٹے معبدوں نے انکو اس چیز سے منع کردیا۔
Ayah 7:54

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ تمہارا پروردگار خدا ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ پھر عرش پر ٹھہرا۔ وہی دن کو رات کا لباس پہناتا ہے کہ وہ اس کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے۔ اور اسی نے سورج چاند اور ستاروں کو پیدا کیا۔ سب اسی کے حکم کے مطابق کام میں لگے ہوئے ہیں۔ دیکھو سب مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکم بھی اسی کا ہے یہ خدائے رب العالمین بڑی برکت والا ہے۔

(54) اللہ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا جس کے ایک دن کی درازی ایک ہزار سال کے برابر تھی، پھر تخت شاہی پر قائم ہوا، رات کو دن سے اور دن کو رات سے چھپا دیتا ہے بایں طور پر رات تیزی سے جاتی ہے اور دن تیزی سے آجاتا ہے، اسی طرح دن تیزی سے جاتا ہے اور رات آجاتی ہے اور سورج وغیرہ کو پیدا کیا کہ سب اپنی رفتار میں اسی کے حکم کے تابع ہیں۔ اللہ ہی نے تمام آسمانوں اور زمینوں کو پیدا کیا اور وہی قیامت کے دن تمام مخلوق کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا آقا اور ان کی نگرانی کرنے والا برکتوں اور بلندیوں والا ہے۔
Ayah 7:55

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

لوگو ! اپنے رب سے عاجزی اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو۔ وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں بناتا۔

(55) ظاہری اور پوشیدہ طور پر یا یہ کہ ڈر اور عاجزی ظاہر کرکے دعا کیا کرو وہ دعا میں ایسی باتوں کو پسند کرتا ہے جو ان کے لیے نیکوکاروں کے خلاف جائز نہیں۔
Ayah 7:56

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنے اور خدا سے خوف کھاتے ہوئے اور امید رکھتے ہوئے دعائیں مانگتے رہنا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا کی رحمت نیکی کرنے والوں سے قریب ہے۔

(56) اللہ کی نافرمانداری اور دین الہی کی دعوت کے بعد گناہ اور غیر اللہ کی عبادت مت کرو اور اللہ تعالیٰ سے اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہو اور جنت کے امیدوار ہو، اس کی عبادت کرو، اللہ تعالیٰ جنت میں ایسے مومنوں سے جو قول وعمل کے اعتبار سے محسن ہوں قریب ہے۔
Ayah 7:57

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہی تو ہے جو اپنی رحمت یعنی مینہ سے پہلے ہواؤں کو خوشخبری بنا کر بھیجتا ہے۔ یہاں تک کہ جب وہ بھاری بھاری بادلوں کو اٹھالاتی ہے تو ہم اس کو ایک مری ہوئی سی بستی کی طرف ہانک دیتے ہیں۔ پھر بادل سے مینہ برساتے ہیں پھر مینہ سے ہر طرح کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ اسی طرح ہم مردوں کو زمین سے زندہ کر کے باہر نکالیں گے یہ آیات اس لئے بیان کی جاتی ہیں تاکہ تم نصیحت پکڑو۔

(57) وہ بارش سے قبل ہوا کو خوشی کا باعث بنا کر بھیجتا ہے جب وہ ہوائیں ایسے بادلوں کو جو پانی سے وزنی ہوں اٹھالیتی ہیں، پھر ہم ایسی جگہ پر جہاں سبزہ نہیں ہوتا، اسے برسادیتے ہیں اور اس بارش کے ذریعے اس جگہ مختلف قسموں کے پھل اگاتے ہیں۔ جیسا کہ ہم چٹیل زمین میں سبزیاں اگاتے ہیں، اسی طرح ہم مردوں کو قبروں سے نکال کھڑا کریں گے تاکہ تم لوگ نصیحت حاصل کرو۔
Ayah 7:58

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

جو زمین پاکیزہ ہے اس میں سے سبزہ بھی پروردگار کے حکم سے نفیس ہی نکلتا ہے۔ اور جو خراب ہے اس میں سے جو کچھ نکلتا ہے ناقص ہوتا ہے۔ اس طرح ہم آیتوں کو شکر گزاروں کیلئے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔

(58) جو زمین بنجر نہیں ہوتی زرخیز ہوتی ہے اس میں اللہ کے حکم سے بغیر کسی مشکل کے خوب پیداوار ہوتی ہے اسی طرح خالص مومن احکام الہی خوش دلی کے ساتھ بجالاتا ہے اور جو جگہ خراب اور بنجر ہوتی ہے، وہاں پیداوار بہت مشکل سے اور کم ہوتی ہے اسی طرح منافق زبردستی اللہ تعالیٰ کے احکام کی کچھ بجا آوری کرتا ہے، ہم قرآن کریم میں مومنوں کے لیے منکروں اور ماننے والوں کی مثالیں بیان کرتے ہیں۔
Ayahs 7:59–62

لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا اِلٰى قَوْمِهٖ فَقَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:59 in the Quran reader

ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا۔ تو انہوں نے اس کو کہا اے میری برادری کے لوگوں خدا کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ مجھے تمہارے بارے میں بڑے دن کے عذاب کا بہت ہی ڈر ہے۔

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 7:60 in the Quran reader

تو جو ان کی قوم میں سردار تھے وہ کہنے لگے کہ ہم تمہیں صریح گمراہی میں دیکھتے ہیں

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ ضَلٰلَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:61 in the Quran reader

انہوں نے کہا اے قوم ! مجھ میں کسی قسم کی کوئی گمراہی نہیں ہے بلکہ میں پروردگار عالم کا پیغمبر ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنْصَحُ لَكُمْ وَ اَعْلَمُ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:62 in the Quran reader

تمہیں اپنے پروردگار کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہاری خیر خواہی کرتا ہوں۔ اور مجھ کو خدا کی طرف سے ایسی باتیں معلوم ہیں جن سے تم بیخبر ہو۔

(59۔ 60۔ 61۔ 62) حضرت نوح ؑ نے کہا اللہ تعالیٰ کی توحید بیان کرو، اس کے سوا جن کو تم لوگ پکارتے ہو وہ کچھ نہیں، میں یہ بات اچھی طرح جانتا ہوں کہ اگر تم ایمان نہ لاتے تو تم پر بڑے دن کے عذاب کا خدشہ ہے۔ سردار کہنے لگے نوح ؑ تم تو ایک صریح غلطی میں مبتلا ہو، حضرت نوح ؑ نے فرمایا میں تمہیں اوامرو نواہی کی تبلیغ کرتا اور اللہ کے عذاب سے ڈراتا ہوں اور ایمان اور توبہ کی طرف بلاتا ہوں اگر تم ایمان نہ لائے تو تم پر عذاب نازل ہوگا۔
Ayah 7:63

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ وَ لِتَتَّقُوْا وَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ Open ayah 7:63 in the Quran reader

کیا تم اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تم کو ڈرائے۔ اور تاکہ تم پرہیزگار بنو اور تاکہ تم پر رحم کیا جائے ؟

(63) بلکہ تمہیں اس سے تعجب ہورہا ہے کہ تمہارے جیسے انسان پر نبوت آگئی ہے کہ وہ تمہیں ڈرائے تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور غیر اللہ سے بچو، تاکہ اس کی وجہ سے تم پر رحم کیا جائے اور عذاب سے نجات ملے ،
Ayah 7:64

فَكَذَّبُوْهُ فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ فِی الْفُلْكِ وَ اَغْرَقْنَا الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمًا عَمِیْنَ۠ Open ayah 7:64 in the Quran reader

مگر ان لوگوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو ہم نے نوح کو اور ان کیساتھ جو کشتی میں سوار تھے انکو بچالیا اور جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا انہیں غرق کردیا۔ کچھ شک نہیں وہ اندھے لوگ تھے۔

(64) انہوں نے (یعنی کافروں نے) حضرت نوح ؑ کی تکفیر کی ہم نے سب کشتی والوں کو غرق اور عذاب سے نجات دی اور جنہوں نے ہماری کتاب اور ہمارے رسول نوح ؑ کی تکذیب کی، ان کو غرق کردیا، یعنی پانی میں ڈبو دیا، بیشک وہ ہدایت سے بےبہرہ اور کافر تھے۔
Ayah 7:65

وَ اِلٰى عَادٍ اَخَاهُمْ هُوْدًا١ؕ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ Open ayah 7:65 in the Quran reader

اور اسی طرح قوم عاد کی طرف انکے بھائی ھود کو بھیجا۔ انہوں نے کہا کہ بھائیوں خدا ہی کی عبادت کرو۔ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ کیا تم ڈرتے نہیں ؟

(65) اور قوم عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی کو نبی بنا کر بھیجا تاکہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے قائل ہوجاؤ اور جن ماسوا اللہ چیزوں کو پکارتے ہو ان کی عبادت سے ڈرو اور باز آؤ۔
Ayah 7:66

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖۤ اِنَّا لَنَرٰىكَ فِیْ سَفَاهَةٍ وَّ اِنَّا لَنَظُنُّكَ مِنَ الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 7:66 in the Quran reader

تو ان کی قوم کے سردار جو کافر تھے کہنے لگے کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمہیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔

(66) قوم کے سردار کہنے لگے ہود ؑ ہم تمہیں کم عقل اور تمہیں اپنی باتوں میں جھوٹا سمجھتے ہیں۔
Ayahs 7:67–68

قَالَ یٰقَوْمِ لَیْسَ بِیْ سَفَاهَةٌ وَّ لٰكِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:67 in the Quran reader

انہوں نے کیا کہ بھائیوں ! مجھ میں حماقت کی کوئی بات نہیں بلکہ میں رب العالمین کا پیغمبر ہوں۔

اُبَلِّغُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ اَنَا لَكُمْ نَاصِحٌ اَمِیْنٌ Open ayah 7:68 in the Quran reader

میں تمہیں خدا کے پیغام پہنچاتا ہوں اور تمہارا امانتدار خیر خواہ ہوں۔

(67۔ 68) ہود ؑ نے فرمایا میں کم عقل نہیں ہوں، بلکہ تمہیں اوامرو نواہی کی تبلیغ کرتا ہوں اور عذاب الہی سے ڈراتا اور توبہ ایمان کی دعوت دیتا ہوں، میں احکام الہی کے پہنچانے میں امین ہوں یا یہ کہ اس سے قبل تو میں تم لوگوں میں امین تھا، اب پھر آج تم مجھے تہمت کیوں لگاتے ہو۔
Ayah 7:69

اَوَ عَجِبْتُمْ اَنْ جَآءَكُمْ ذِكْرٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَلٰى رَجُلٍ مِّنْكُمْ لِیُنْذِرَكُمْ١ؕ وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ قَوْمِ نُوْحٍ وَّ زَادَكُمْ فِی الْخَلْقِ بَصْۜطَةً١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 7:69 in the Quran reader

کیا تم کو اس بات سے تعجب ہوا ہے کہ تم میں سے ایک شخص کے ہاتھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس نصیحت آئی تاکہ وہ تمہیں ڈرائے ؟ اور یاد کرو جب اس نے تمہیں قوم نوح کے بعد سردار بنایا اور تمہیں پھیلاؤ زیادہ دیا۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو تاکہ نجات حاصل کرو۔

(69) کیا تم ہی کو اس بات پر تعجب ہے کہ تمہارے جیسا ہی ایک آدمی تمہارے پاس نبوت لے کر آیا ہے تاکہ تمہیں اللہ کے عذاب سے ڈرائے، اس وقت کو یاد کرو، جب تمہیں حضرت نوح ؑ کی قوم کے ہلاک ہونے کے بعد آباد کیا اور جسامت میں ایک خاص فضیلت بھی دی، اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یاد کرکے اس پر ایمان لاؤ تاکہ تمہیں عذاب الہی سے نجات ملے۔
Ayahs 7:70–71

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَ نَذَرَ مَا كَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا١ۚ فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:70 in the Quran reader

وہ کہنے لگے کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم اکیلے خدا کی عبادت کریں اور جن کو ہمارے باپ دادا پوجتے آئے ہیں انکو چھوڑ دیں ؟ تو اگر سچے ہو تو جس چیز سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ

قَالَ قَدْ وَ قَعَ عَلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّ غَضَبٌ١ؕ اَتُجَادِلُوْنَنِیْ فِیْۤ اَسْمَآءٍ سَمَّیْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ١ؕ فَانْتَظِرُوْۤا اِنِّیْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِیْنَ Open ayah 7:71 in the Quran reader

ہود نے کہا کہ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب کا نازل ہونا مقرر ہوچکا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں چھگڑا کرتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے اپنی طرف سے رکھ لئے ہیں جن کی خدا نے کوئی سند نازل نہیں کی ؟ اور تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔

(70۔ 71) وہ کہنے لگے کیا ہم اپنے ان معبودوں کو چھوڑدیں، انہوں نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا غصہ اور عذاب تم پر نازل ہونے والا ہے کیا تم مجھ سے ان معبودوں کے بارے میں جھگڑتے ہو جن کی پرستش پر اللہ کی جانب سے کوئی حجت اور دلیل نازل نہیں ہوئی، بس اب تو تم ہلاک ہونے کا انتظار کرو۔
Ayah 7:72

فَاَنْجَیْنٰهُ وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَ قَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ مَا كَانُوْا مُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 7:72 in the Quran reader

پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ ان کے ساتھ تھے انکو نجات دی اور جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔ اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں۔

(72) چناچہ ہم نے حضرت ہود ؑ اور ان کے ساتھیوں کو بچا لیا اور ان لوگوں کو جنہوں نے ہماری کتاب اور ہمارے رسول ہود ؑ کی تکذیب کی تھی ہلاک کردیا اور جن لوگوں کو ہم نے ہلاک کیا وہ سب کے سب منکر اور انکار کرنے والے تھے۔
Ayah 7:73

وَ اِلٰى ثَمُوْدَ اَخَاهُمْ صٰلِحًا١ۘ قَالَ یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَیْرُهٗ١ؕ قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ هٰذِهٖ نَاقَةُ اللّٰهِ لَكُمْ اٰیَةً فَذَرُوْهَا تَاْكُلْ فِیْۤ اَرْضِ اللّٰهِ وَ لَا تَمَسُّوْهَا بِسُوْٓءٍ فَیَاْخُذَكُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 7:73 in the Quran reader

اور قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا تو صالح نے کہا اے قوم ! خدا کی عبادت کرو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں۔ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک معجزہ آچکا ہے یعنی یہی خدا کی اونٹی تمہارے لئے معجزہ ہے۔ تو اسے آزاد چھوڑ دو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے اور تم اسے بری نیت سے ہاتھ بھی نہ لگانا ورنہ عذاب الیم تم کو پکڑلے گا۔

(73) اور قوم ثمود کی طرف ہم نے انھی میں سے نبی بھیجا اور کہا گیا ہے کہ حضرت صالح ؑ ان کے نسبی بھائی تھے، دینی بھائی نہیں تھے، انہوں نے فرمایا توحید خداوندی کے قائل ہوجاؤ اور جس اللہ پر میں تمہیں ایمان لانے کا حکم دیتا ہوں، اس کے علاوہ اور کوئی عبادت کے لائق نہیں، تمہارے پروردگار کی طرف سے میرے رسول ہونے پر یہ اونٹنی ایک واضح دلیل بھی موجود ہے اس اونٹنی کو چھوڑ دو کہ یہ چرتی رہے اور اس کے پیر مت کاٹنا، کیوں کہ ایسا کرنے کے بعد تمہیں عذاب الہی آگھیرے گا۔
Ayah 7:74

وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ جَعَلَكُمْ خُلَفَآءَ مِنْۢ بَعْدِ عَادٍ وَّ بَوَّاَكُمْ فِی الْاَرْضِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْ سُهُوْلِهَا قُصُوْرًا وَّ تَنْحِتُوْنَ الْجِبَالَ بُیُوْتًا١ۚ فَاذْكُرُوْۤا اٰلَآءَ اللّٰهِ وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:74 in the Quran reader

اور یاد تو کرو جب اس نے تم قوم عاد کے بعد سردار بنایا۔ اور زمین پر آباد کیا کہ نرم زمین سے مٹی لے کر محل تعمیر کرتے ہو اور پہاڑوں کو تراش تراش کر گھر بناتے ہو۔ پس خدا کی نعمتوں کو یاد کرو۔ اور زمین میں فساد نہ کرتے پھرو۔

(74) اور وہ وقت بھی یاد کرو جب قوم عاد کے ہلاک کرنے کے بعد ہم نے تمہیں زمین میں آباد کیا اور یہ لوگ گرمیوں کے لیے نرم زمین میں اور سردیوں کے لیے پہاڑوں پر مکانات بناتے تھے اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں کو یاد کرکے اس پر ایمان لاؤ اور زمین میں غیر اللہ کی پرستش اور دیگر گناہ کے کاموں کو مت کرو۔
Ayah 7:75

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لِلَّذِیْنَ اسْتُضْعِفُوْا لِمَنْ اٰمَنَ مِنْهُمْ اَتَعْلَمُوْنَ اَنَّ صٰلِحًا مُّرْسَلٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قَالُوْۤا اِنَّا بِمَاۤ اُرْسِلَ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:75 in the Quran reader

تو ان کی قوم میں سردار لوگ جو غرور تھے غریب لوگوں جو ان میں سے ایمان لے آئے تھے کہنے لگے بھلا تم یہ یقین کرتے ہو صالح اپنے پروردگار کی طرف سے بھجے گئے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں جو چیز وہ دے کر بھجے گئے ہیں ہم اس پر بلاشبہ ایمان رکھتے ہیں۔

(75) ان رئیسوں نے جو کہ منکر تھے غریب لوگوں سے کہا، کیا تم صالح ؑ کی رسالت کے قائل ہو، انہوں نے کہا ہم تو بیشک ان کی تصدیق کرنے والے ہیں۔
Ayahs 7:76–77

قَالَ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا بِالَّذِیْۤ اٰمَنْتُمْ بِهٖ كٰفِرُوْنَ Open ayah 7:76 in the Quran reader

تو سرداران مغرور کہنے لگے جس چیز پر ایمان لائے ہو اہم اس کو نہیں مانتے۔

فَعَقَرُوا النَّاقَةَ وَ عَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّهِمْ وَ قَالُوْا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ Open ayah 7:77 in the Quran reader

آخر انہوں نے اونٹی کی کونچوں کو کاٹ ڈالا اور اپنے پروردگار کے حکم کی سرکشی کی اور کہنے لگے کہ صالح جس چیز سے تم ہمیں ڈراتے ہو اگر تم خدا کے پیغمبر ہو تو اسے ہم پر لے آؤ۔

(76۔ 77) وہ منکر اور کافر بولے ہم تو اس کی رسالت کا انکار کرتے ہیں، چناچہ انہوں نے اونٹنی کو مار ڈالا اور اپنے پروردگار کے اس حکم کی بجا آوری سے جس کا حضرت صالح ؑ نے ان کو حکم دیا تھا انکار کردیا، اور بطور استہزاء اور مذاق کے بولے اچھا عذاب لے آؤ۔
Ayah 7:78

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَ Open ayah 7:78 in the Quran reader

تو ان کو بھونجال نے پکڑ لیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہے

(78) چناچہ ان لوگوں کو زلزلہ کے عذاب اور فرشتہ کی چیخ نے پکڑ اور وہ اپنے شہروں میں مردہ پائے گئے کہ ان میں کوئی حس و حرکت ہی باقی نہیں رہی۔
Ayah 7:79

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسَالَةَ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ وَ لٰكِنْ لَّا تُحِبُّوْنَ النّٰصِحِیْنَ Open ayah 7:79 in the Quran reader

پھر صالح ان سے نامید ہو کر پھرے اور کہا اے میری قوم میں نے تم کو خدا کا پیغام پہنچادیا اور تمہاری خیر خواہی کی اور تم ایسے ہو خیرخواہوں کو دوست نہیں رکھتے۔

(79) حضرت صالح ؑ ان کی ہلاکت سے پہلے ان کے درمیان سے نکلے (یاہلاک ہونے کے بعد اور بطور حسرت کے) کہا میں نے تمہیں احکام الہی کی تبلیغ کی اور عذاب الہی سے ڈرا کر توبہ ایمان کی طرف بلایا مگر تم تو خیر خواہوں کی پیروی نہیں کرتے تھے۔