4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 4:160–161

فَبِظُلْمٍ مِّنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا عَلَیْهِمْ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتْ لَهُمْ وَ بِصَدِّهِمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَثِیْرًاۙ Open ayah 4:160 in the Quran reader

تو ہم نے یہودیوں کے ظلموں کے سبب (بہت سی) پاکیزہ چیزیں جو ان کو حلال تھیں ان کو حرام کردیں اور اس سبب سے بھی کہ وہ اکثر خدا کے راستے سے (لوگوں کو) روکتے تھے۔

وَّ اَخْذِهِمُ الرِّبٰوا وَ قَدْ نُهُوْا عَنْهُ وَ اَكْلِهِمْ اَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِیْنَ مِنْهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:161 in the Quran reader

اور اس سبب سے بھی کہ باوجود منع کئے جانے کے سود لیتے تھے اور اس سبب سے بھی کہ لوگوں کا مال ناحق کھاتے تھے اور ان میں سے جو کافر ہیں ان کے لئے ہم نے درد دینے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔

(160۔ 161) اور ان یہودیوں کے ظلم کرنے اور دین خداوندی سے روکنے اور سود کو حلال سمجھنے کی وجہ سے اللہ ان پر ناراض ہے حالانکہ توریت میں ان تمام امور کی صراحتا ممانعت کردی گئی تھی اور پھر مزید یہ کہ ظلم اور رشوت کے زریعے لوگوں کا مال کھانے کی وجہ سے وہ پاکیزہ چیزیں جو تمہارے لیے حلال تھیں اللہ کی طرف سے حرام کردی گئیں جیسا کہ چربیاں، اونٹ کا گوشت اور اس کا دودھ وغیرہ۔ اور ان یہودیوں کے لیے ایسا عذاب ہے کہ اس کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کر جائے گی۔
Ayah 4:162

لٰكِنِ الرّٰسِخُوْنَ فِی الْعِلْمِ مِنْهُمْ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَ الْمُقِیْمِیْنَ الصَّلٰوةَ وَ الْمُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَ الْمُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ سَنُؤْتِیْهِمْ اَجْرًا عَظِیْمًا۠ Open ayah 4:162 in the Quran reader

مگر جو لوگ ان میں سے علم میں پکے ہیں اور جو مومن ہیں وہ اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں (سب پر) ایمان رکھتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور خدا اور روز آخرت کو مانتے ہیں۔ ان کو ہم عنقریب اجر عظیم دیں گے۔

(162) لیکن جو اہل علم توریت کا صحیح علم رکھتے ہیں جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی وہ قرآن کریم اور تمام کتب سماویہ پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا اقرار کرتے ہیں، اگرچہ دوسرے یہودی اس کا اقرار نہ کریں ، اور تمام مومن قرآن کریم اور تمام آسمانی کتب کا اقرار کرتے ہیں اور پانچوں نمازوں کو ادا کرتے اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ دیتے ہیں، نیز تمام آسمانی کتب کا اقرار کرتے ہیں اور پانچوں نمازوں کو ادا کرتے اور اپنے مالوں کی زکوٰۃ دیتے ہیں، نیز تمام آسمانی کتب اور قرآن کریم پر ایمان کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ اور بعث بعد الموت پر بھی ایمان رکھتے ہیں اگرچہ یہود اس کا اقرار نہ کریں اور ہم ایسے اہل ایمان کو جنت میں اجر عظیم عطا فرمائیں گے ،
Ayah 4:163

اِنَّاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ كَمَاۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى نُوْحٍ وَّ النَّبِیّٖنَ مِنْۢ بَعْدِهٖ١ۚ وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ وَ الْاَسْبَاطِ وَ عِیْسٰى وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْنُسَ وَ هٰرُوْنَ وَ سُلَیْمٰنَ١ۚ وَ اٰتَیْنَا دَاوٗدَ زَبُوْرًاۚ Open ayah 4:163 in the Quran reader

(اے محمد) ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح اور ان سے پچھلے پیغمبروں کیطرف بھیجی تھی۔ اور ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اولاد یعقوب اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو بھی وحی بھیجی تھی اور داؤد کو ہم نے زبور بھی عنایت کی تھی۔

(163) ہم نے آپ کے پاس بذریعہ جبریل امین قرآن کریم بھیجا ہے جیسا کہ نوح ؑ کے بعد اور انبیاء کے پاس اور ابراہیم ؑ کے پاس بھی جبریل امین کو اور اسی طرح اولاد یعقوب کے پاس بھی وحی بھیجی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”انا اوحینا الیک“۔ (الخ) ابن اسحاق ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عدی بن زید نے کہا ہمیں نہیں معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کے بعد کسی اور شخص پر کوئی چیز نازل کی ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 4:164

وَ رُسُلًا قَدْ قَصَصْنٰهُمْ عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ وَ رُسُلًا لَّمْ نَقْصُصْهُمْ عَلَیْكَ١ؕ وَ كَلَّمَ اللّٰهُ مُوْسٰى تَكْلِیْمًاۚ Open ayah 4:164 in the Quran reader

اور بہت سے پیغمبر ہے جن کے حالات ہم تم سے پیشتر بیان کرچکے ہیں اور بہت سے پیغمبر ہیں جن کے حالات تم سے بیان نہیں کئے۔ اور موسیٰ سے تو خدا نے باتیں بھی کیں۔

(164) اور ان انبیاء کرام (علیہم السلام) کے پاس بھی جن کا اس سورت سے پہلے ہم آپ کو نام بتا چکے ہیں اور ان تمام رسولوں کو ہم نے اس لیے بھیجا ہے تاکہ مومنوں کو جنت کی خوشخبری سنادیں اور کافروں کو دوزخ کے عذاب سے ڈرا دیں۔
Ayah 4:165

رُسُلًا مُّبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ لِئَلَّا یَكُوْنَ لِلنَّاسِ عَلَى اللّٰهِ حُجَّةٌۢ بَعْدَ الرُّسُلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:165 in the Quran reader

(سب) پیغمبروں کو (خدا نے) خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے (بنا کر بھیجا تھا) تاکہ پیغمبروں کے آنے کے بعد لوگوں کو خدا پر الزام کا موقع نہ رہے۔ اور خدا غالب حکمت والا ہے۔

(165) رسولوں کو لوگوں کی طرف اس لیے بھیجا ہے تاکہ وہ قیامت کے دن یہ عذر پیش نہ کریں کہ رسولوں کو ہمارے پاس کیوں نہیں بھیجا جو انبیاء کرام کی تبلیغ پر لبیک نہ کہے، حالانکہ اللہ نے لوگوں کو انبیاء کی دعوت کو قبول کرنے کا حکم دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس انکار رسل پر نافرمانوں سے انتقام لینے میں بہت زبردست اور حکیم ہیں۔
Ayah 4:166

لٰكِنِ اللّٰهُ یَشْهَدُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اِلَیْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ یَشْهَدُوْنَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًاؕ Open ayah 4:166 in the Quran reader

لیکن خدا نے جو (کتاب) تم پر نازل کی ہے اسکی نسبت خدا گواہی دیتا ہے کہ اس نے اپنے علم سے نازل کی ہے اور فرشتے بھی گواہی دیتے ہیں اور گواہ تو خدا ہی کافی ہے۔

(166) اہل مکہ نے کہا کہ ہم نے اہل کتاب سے آپ ﷺ کے متعلق دریافت کیا تھا تو کسی نے بھی آپ کے نبی مرسل ہونے کی شہادت نہیں دی، اللہ تعالیٰ ان یہودونصاری کی تردید میں فرماتے ہیں کہ اگرچہ جبریل امین کے ذریعے سے نزول قرآن کی کوئی گواہی یہ کیوں نہ دے مگر اللہ تعالیٰ کی حضور ﷺ کے رسول برحق ہونے کی گواہی اس سے بھی بڑھ کر اور کافی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”لکن اللہ یشہد“۔ (الخ) ابن اسحاق ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہودیوں کی ایک جماعت رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں گئی، آپ نے ان سے فرمایا اللہ کی قسم تم یہ اچھی طرح جانتے ہو کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں وہ بولے ہم نہیں جانتے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، یعنی اللہ تعالیٰ اس بات کی گواہی دے رہے ہیں۔
Ayahs 4:167–169

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ قَدْ ضَلُّوْا ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:167 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکا وہ راستے سے بھٹک کر دور جا پڑے۔

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ ظَلَمُوْا لَمْ یَكُنِ اللّٰهُ لِیَغْفِرَ لَهُمْ وَ لَا لِیَهْدِیَهُمْ طَرِیْقًاۙ Open ayah 4:168 in the Quran reader

جو لوگ کافر ہوئے اور ظلم کرتے رہے خدا ان کو بخشنے والا نہیں اور نہ انہیں راستہ ہی دکھائے گا۔

اِلَّا طَرِیْقَ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 4:169 in the Quran reader

ہاں دوزخ کا راستہ جس میں وہ ہمیشہ (جلتے) ہیں گے۔ اور یہ (بات) خدا کو آسان ہے۔

(167۔ 168۔ 169) جو لوگ اس کے بعد بھی رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کا انکار کرتے ہیں اور لوگوں کو دین الہی اور اطاعت خداوندی سے روکتے ہیں تو وہ ہدایت سے بہت دور ہیں اور جو لوگ کفر اور شرک میں مبتلا ہیں تو جب تک وہ اپنی ان باتوں پر قائم رہیں گے تو اللہ نہ ان کی مغفرت فرمائے گا اور نہ ہدایت کے راستہ کی جانب ان کی رہنمائی فرمائے گا وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے نہ تو وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ وہ اس جہنم سے نکالے جائیں گے اور یہ عذاب دینا اللہ تعالیٰ پر بہت آسان ہے۔
Ayah 4:170

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمُ الرَّسُوْلُ بِالْحَقِّ مِنْ رَّبِّكُمْ فَاٰمِنُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:170 in the Quran reader

لوگو ! خدا کے پیغمبر تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی طرف سے حق بات لے کر آئے ہیں تو (ان پر) ایمان لاؤ۔ (یہی) تمہارے حق میں بہتر ہے اور اگر کفر کرو گے تو (جان رکھو کہ) جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے۔ اور خدا سب کچھ جاننے والا (اور) حکمت والا ہے۔

(170) خصوصا مکہ والو ! رسول اکرم ﷺ تمہارے لئے توحید اور قرآن پاک لے کر آئے ہیں، تمہاری پچھلی حالت جاہلیت کی گمراہی کے مقابلے میں سے آپ کی اور قرآن کی ہدایت کی تصدیق کرنا تمہارے لیے بہتر ہے اور اگر تم حضور اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کر بھی دو تو یاد رکھو ! یہ سب رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان اللہ تعالیٰ کے حکم کے غلام ہیں، وہ رب کریم ایماندار اور غیر ایماندار سے بخوبی واقف ہیں اور اس بات کا حکم دینے میں کہ اس کے علاوہ کسی اور کی عباد نہ کی جائے وہ از حد حکیم ہیں۔
Ayah 4:171

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَا تَغْلُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ وَ لَا تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ اِنَّمَا الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ وَ كَلِمَتُهٗ١ۚ اَلْقٰىهَاۤ اِلٰى مَرْیَمَ وَ رُوْحٌ مِّنْهُ١٘ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١۫ۚ وَ لَا تَقُوْلُوْا ثَلٰثَةٌ١ؕ اِنْتَهُوْا خَیْرًا لَّكُمْ١ؕ اِنَّمَا اللّٰهُ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ سُبْحٰنَهٗۤ اَنْ یَّكُوْنَ لَهٗ وَلَدٌ١ۘ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا۠ Open ayah 4:171 in the Quran reader

اے اہل کتاب اپنے دین (کی بات) میں حد سے نہ بڑھو اور خدا کے بارے میں حق کے سوا کچھ نہ کہو۔ مسیح (یعنی) مریم کے بیٹے عیسیٰ (نہ خدا تھے نہ خدا کے بیٹے بلکہ) خدا کے رسول اور اس کلمہ (بشارت) تھے جو اس نے مریم کی طرف بھیجا تھا اور اس کی طرف سے ایک روح تھے تو خدا اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور (یہ) نہ کہو (کہ خدا) تین (ہیں۔ اس اعتقاد سے) باز آؤ کہ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے۔ خدا ہی معبود واحد ہے اور اس سے پاک ہے کہ اس کی اولاد ہو۔ جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور خدا ہی کارساز کافی ہے۔

(171) یہ آیات نجران کے عیسائیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، ان میں سے نسطوریہ فرقہ اس بات کا دعویدار تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ ابن اللہ ہیں اور یعقوبیہ فرقہ کہتا تھا کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ ہیں اور مرتوسیہ کا عقیدہ تھا کہ عیسیٰ ؑ ثالث ثلاثہ ہیں اور مالکانیہ گروہ یہ کہتا تھا یہ حضرت عیسیٰ ؑ اور خدا دونوں آپس میں شریک ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ حد سے باہر مت نکلو یہ چیزیں صحیح نہیں، کیونکہ حضرت عیسیٰ ؑ تو صرف اللہ تعالیٰ کے ایک کلمہ کی پیدایش ہیں اور اس کے حکم سے معجزاتی طور پر بغیر باپ کے پیدا ہوئے ہیں۔ اے اہل کتاب ! تم حضرت عیسیٰ ؑ اور تمام رسولوں پر ایمان لاؤ ولد، والد اور زوجہ تینوں کو خدا مت کہو، اپنی مشرکانہ باتوں سے باز رہو اور اللہ کے حضور سچی توبہ کرو، یہی چیز تمہارے لیے بہتر ہے، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تو وحدہ لاشریک ہیں، نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ اس کی خدائی میں کوئی شریک ہے۔ اس کی ذات ان تمام چیزوں سے پاک ہے، وہ تمام مخلوق کا اللہ ہے اور ان مشرکانہ خرافات سے نمٹنے کے لیے کافی ہے۔
Ayah 4:172

لَنْ یَّسْتَنْكِفَ الْمَسِیْحُ اَنْ یَّكُوْنَ عَبْدًا لِّلّٰهِ وَ لَا الْمَلٰٓئِكَةُ الْمُقَرَّبُوْنَ١ؕ وَ مَنْ یَّسْتَنْكِفْ عَنْ عِبَادَتِهٖ وَ یَسْتَكْبِرْ فَسَیَحْشُرُهُمْ اِلَیْهِ جَمِیْعًا Open ayah 4:172 in the Quran reader

مسیح اس بات سے عار نہیں رکھتے کہ خدا کے بندہ ہوں اور نہ مقرب فرشتے عار رکھتے ہیں اور جو شخص خدا کا بندہ ہونے کو موجب عار سمجھے اور سرکشی کرے تو خدا سب کو اپنے پاس جمع کرلے گا۔

(172) حضرت عیسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا اقرار کرنے میں ہرگز عار نہیں کریں گے، عیسائیوں نے کہا تھا محمد ﷺ آپ جو بیان کرتے ہیں یہ ہم لوگوں کے لیے عار ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اس چیز میں کوئی عار نہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں اور فرشتے بھی اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا اقرار کرنے میں عار نہیں کرتے۔ اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبودیت کا اقرار کرنے سے عار اور ایمان لانے سے تکبر کرے تو ہم قیامت کے روز مومن و کافر سب کو جمع کریں گے۔ (اور مومنوں کو کافروں کا انجام دکھا دیں گے)
Ayahs 4:173–174

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ۚ وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اسْتَنْكَفُوْا وَ اسْتَكْبَرُوْا فَیُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا١ۙ۬ وَّ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 4:173 in the Quran reader

تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کرتے رہے وہ ان کا پورا بدلہ دے گا۔ اور اپنے فضل سے کچھ زیادہ بھی عنایت کرے گا اور جنہوں نے (بندہ ہونے سے) عار وانکار اور تکبّر کیا ان کو وہ تکلیف دینے والا عذاب دے گا۔ اور یہ لوگ خدا کے سوا اپنا حامی اور مددگار نہ پائیں گے۔

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ قَدْ جَآءَكُمْ بُرْهَانٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكُمْ نُوْرًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:174 in the Quran reader

لوگو ! تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارے پاس دلیل (روشن) آچکی ہے۔ اور ہم نے (کفر اور ضلالت کا اندھیرا دور کرنے کو) تمہاری طرف چمکتا ہوا نور بھیج دیا ہے۔

(173۔ 174) سو جنہوں نے ایمان کے ساتھ حقوق اللہ کی پوری بجاآوری کی ہوگی تو ہم ان کو جنت میں کامل ثواب عطا کریں گے اور اپنے فضل سے اور بھی زیادہ عطا کریں گے اور جن لوگوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لانے میں عار اور تکبر کیا تو ہم ان کو ایسی دردناک سزا دیں گے کہ نہ کوئی رشتہ دار اس وقت ان کے کام آئے گا اور نہ کوئی یار وتعلق دار ہی عذاب الہی سے بچائے گا۔
Ayah 4:175

فَاَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ اعْتَصَمُوْا بِهٖ فَسَیُدْخِلُهُمْ فِیْ رَحْمَةٍ مِّنْهُ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ یَهْدِیْهِمْ اِلَیْهِ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًاؕ Open ayah 4:175 in the Quran reader

پس جو لوگ خدا پر ایمان لائے اور اس (کے دین کی رسّی) کو مضبوط پکڑے رہے۔ ان کو وہ اپنی رحمت اور فضل (کے بہشتوں) میں داخل کرے گا اور اپنی طرف (پہنچنے کا) سیدھا راستہ دکھائے گا۔

(175) اے اہل مکہ تمہارے پاس تمہارے پروردگار کی جانب سے رسول اکرم ﷺ تشریف لاچکے ہیں اور ان پر ہم نے ایسی کتاب بھیجی ہے جو حلال و حرام کو واضح طور پر بیان کرے والی ہے۔ لہذا جو حضرات ان پر ایمان لائے اور توحید خداوندی کے سختی سے قائل ہوئے، ہم ان کو اپنے فضل سے جنت میں داخل کریں گے، اور دنیا میں ان کو سیدھی راہ پر قائم رکھیں گے یا یہ کہ دنیا میں ان کو ایمان پر ثابت قدم رکھیں گے اور آخرت میں جنت میں داخل کریں گے۔
Ayah 4:176

یَسْتَفْتُوْنَكَ١ؕ قُلِ اللّٰهُ یُفْتِیْكُمْ فِی الْكَلٰلَةِ١ؕ اِنِ امْرُؤٌا هَلَكَ لَیْسَ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَهٗۤ اُخْتٌ فَلَهَا نِصْفُ مَا تَرَكَ١ۚ وَ هُوَ یَرِثُهَاۤ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّهَا وَلَدٌ١ؕ فَاِنْ كَانَتَا اثْنَتَیْنِ فَلَهُمَا الثُّلُثٰنِ مِمَّا تَرَكَ١ؕ وَ اِنْ كَانُوْۤا اِخْوَةً رِّجَالًا وَّ نِسَآءً فَلِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ١ؕ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمْ اَنْ تَضِلُّوْا١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ۠ Open ayah 4:176 in the Quran reader

(اے پیغمبر) لوگ تم سے (کلالہ کے بارے میں) حکم (خدا) دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا کلالہ کے بارے میں یہ حکم دیتا ہے کہ اگر کوئی ایسا مرد مرجائے جس کے اولاد نہ ہو (اور نہ ماں باپ) اور اس کے بہن ہو تو اس کے بہن کو بھائی کے ترکے میں سے آدھا حصہ ملے گا اور اگر بہن مرجائے اور اسکے اولاد نہ ہو تو اس کے تمام مال کا وارث بھائی ہوگا اور اگر (مرنیوالے بھائی کی) دو بہنیں ہوں تو دونوں کو بھائی کے ترکے میں سے دو تہائی۔ اور اگر بھائی اور بہن یعنی مرد اور عورتیں ملے جلے وارث ہوں تو مرد کا حصہ دو عورتوں کے حصے کے برابر ہے۔ (یہ احکام) خدا تم سے اسلئے بیان فرماتا ہے کہ بھٹکتے نہ پھرو۔ اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔

(176) یہ آیت جابر بن عبداللہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہوں نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا تھا یا رسول اللہ ﷺ میری ایک بہن ہے اس کے مرنے پر مجھے کیا حصہ ملے گا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت میراث نازل فرمائی کہ محمد ﷺ آپ سے کلالہ کی میراث کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے کلالہ کی میراث بیان فرماتا ہے، کلالہ وہ ہے، جس کے نہ اولاد ہو اور نہ ماں باپ ہوں، اگر کوئی شخص مرجائے جس کے نہ اولاد ہو اور نہ ماں باپ ہو اور ایک عینی یا علاتی بہن ہو تو اس بہن کو مرنے والے کے کل ترکہ میں سے آدھا ملے گا اور اگر یہ کلالہ بہن مرجائے تو وہ شخص اس بہن کے تمام ترکہ کا وارث ہوگا، اور اگر علاتی یا عینی دو بہنیں ہوں تو ان کو مرنے والے کے کل ترکہ میں سے دو تہائی ملیں گے اور اگر اس کلالہ کے چند عینی یا علاتی بھائی بہن ہوں تو پھر میراث کی تقسیم اس طرح ہوگی کہ بھائی کو دہرا اور بہن کو اکہرا حصہ ملے گا (مگر عینی بھائی سے علاتی بہن بھائی سب ساقط ہوجاتے ہیں اور عینی بہن سے کبھی وہ ساقط ہوجاتے ہیں اور کبھی حصہ گھٹ جاتا ہے) اور اللہ تعالیٰ یہ چیزیں اس لیے بیان فرماتے ہیں تاکہ تم میراث وغیرہ کی تقسیم میں غلطی نہ کرو اور وہ ان تمام باتوں کو جاننے والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”یستفتونک قل اللہ“۔ (الخ) امام نسائی ؒ نے ابو الزبیر ؓ کے واسطہ سے حضرت جابر ؓ سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ میں بیمار ہوا تو رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اپنی بہنوں کے لیے تہائی مال کی وصیت کرنا چاہتا ہوں، آپ نے فرمایا بہت اچھا ہے، پھر میں نے عرض کیا کہ آدھے مال کی وصیت کرنا چاہتا ہوں، آپ نے فرمایا بہت ہی اچھا ہے، اس کے بعد آپ باہر تشریف لے گئے پھر میرے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ میرا خیال ہے کہ تمہیں اس بیماری موت نہیں آئے گی اور تمہاری بہنوں کو جو حصہ ملنا چاہیے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم نازل فرمادیا اور وہ دو ثلث ہے۔ حضرت جابر ؓ فرمایا کرتے تھے کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یعنی لوگ آپ سے حکم دریافت کرتے ہیں، آپ فرمادیجیے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں کلالہ کے بارے میں حکم دیتا ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں، اس سورت کے شروع میں جو حضرت جابر ؓ کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ یہ اس کے علاوہ دوسرا واقعہ ہے۔ اور ابن مردویہ ؒ نے حضرت عمر ؓ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ کلالہ کی میراث کا کیا ہوگا، اس پر اللہ تعالیٰ یہ آیت نازل فرمائی کہ لوگ آپ سے حکم دریافت کرتے ہیں۔ (الخ) جب تم اس سورت کی تمام آیات کے ان اسباب نزول پر غور کرو گے تو ہم نے بیان کیے ہیں تو اس قول کی تردید سے اچھی طرح واقف ہوجاؤ گے جو سورة نساء کو مکی سورت کہتا ہے۔ (یعنی یہ مدنی سورة ہے نہ کہ مکی)