4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 4:81

وَ یَقُوْلُوْنَ طَاعَةٌ١٘ فَاِذَا بَرَزُوْا مِنْ عِنْدِكَ بَیَّتَ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ غَیْرَ الَّذِیْ تَقُوْلُ١ؕ وَ اللّٰهُ یَكْتُبُ مَا یُبَیِّتُوْنَ١ۚ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:81 in the Quran reader

اور یہ لوگ منہ سے تو کہتے ہیں کہ (آپ کی) فرمانبرداری (دل سے منظور) ہے لیکن جب تمہارے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان میں سے بعض لوگ رات کو تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتے ہیں اور جو مشورے یہ کرتے ہیں خدا ان کو لکھ لیتا ہے تو ان کا کچھ خیال نہ کرو اور خدا پر بھروسہ کرو اور خدا ہی کافی کار ساز ہے

(81) اور یہ منافقین کا گروہ وہ گروہ ہے جو ظاہرا یہ کہتے ہیں کہ ہمارا کام آپ ﷺ کی اطاعت کرنا ہے، لہٰذا جو چاہو ہمیں حکم کرو اور جب یہ منافق آپ ﷺ کے پاس سے چلے جاتے ہیں تو ان کی جماعت جو کہتی ہے یہ اس کے مشورے کے مطابق اس میں تبدیلی کرلیتے ہیں۔ لہذا آپ ﷺ ان سے دور رہیے اور ان کے مشوروں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیے، اللہ تعالیٰ آپ کی مدد فرمائے گا اور ان منافقین وان کی تمام تر سازشوں کا مناسب طریقہ پر خاتمہ کردے گا۔
Ayah 4:82

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ١ؕ وَ لَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَیْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِیْهِ اخْتِلَافًا كَثِیْرًا Open ayah 4:82 in the Quran reader

بھلا یہ قرآن میں غور کیوں نہیں کرتے ؟ اگر یہ خدا کے سوا کسی اور کا (کلام) ہوتا تو اس میں (بہت سا) اختلاف پاتے

(82) کیا یہ لوگ قرآن کریم میں غور نہیں کرتے کہ بعض احکام بعض کے مشابہ ہیں اور بعض بعض کی تصدیق کرتے ہیں اور جن باتوں کا رسول اکرم ﷺ حکم دیتے ہیں وہ قرآن کریم میں موجود ہیں۔ اور اگر یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت تضاد اور ٹکراؤ ہوتا اور بعض احکام کا بعض کے ساتھ کوئی تناسب نہ ہوتا۔
Ayah 4:83

وَ اِذَا جَآءَهُمْ اَمْرٌ مِّنَ الْاَمْنِ اَوِ الْخَوْفِ اَذَاعُوْا بِهٖ١ؕ وَ لَوْ رَدُّوْهُ اِلَى الرَّسُوْلِ وَ اِلٰۤى اُولِی الْاَمْرِ مِنْهُمْ لَعَلِمَهُ الَّذِیْنَ یَسْتَنْۢبِطُوْنَهٗ مِنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَاتَّبَعْتُمُ الشَّیْطٰنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:83 in the Quran reader

اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر پہنچتی ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں اور اگر اس کو پیغمبر اور اپنے سرداروں کے پاس پہنچا دیتے تو تحقیق کرنے والے اس کی تحقیق کرلیتے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو چند اشخاص کے سوا سب شیطان کے پیرو ہوجاتے

(83) اور ان منافقین کی خیانت اور بددیانتی کا یہ حال ہے کہ جب کسی لشکر کی کامیابی اور غنیمت ملنے کی ان کو اطلاع ملتی ہے تو حسد میں اسے چھپا لیتے ہیں اور اگر مجاہدین کے لشکر کے بارے میں کسی پریشان مثلا شکست کھاجانے وغیرہ کی خبران کو پہنچتی ہے تو سب جگہ اس کی تشہیر کرتے پھرتے ہیں۔ اور اگر یہ اس لشکر کی خبر کو رسول اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق ؓ وغیرہ کے حوالے کردیتے ہیں، جو ایسی باتوں کو پوری گہرائی کے ساتھ سمجھتے ہیں تو اس خبر کے غلط و صحیح ہونے کو وہ حضرات پہچان ہی لیتے ہیں جو ان اہل ایمان میں ان امور کی تحقیق کرلیا کرتے ہیں تو پھر صحیح خبر ان لوگوں کو بھی معلوم ہوجاتی اور اگر اللہ کی طرف سے یہ توفیق خاص نہ ملی ہوتی تو چند لوگوں کے سوا سب ہی اس فتنہ میں گرفتار ہوجاتے۔ شان نزول : (آیت) ”واذا جآء ھم“۔ (الخ) امام مسلم ؒ نے حضرت عمر فاروق ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات سے علیحدگی اختیار فرمائی تو میں مسجد نبوی میں گیا، وہاں صحابہ کرام ؓ کو دیکھا کہ وہ کنکریوں سے کھیل رہے ہیں (یہ اضطراب اور پریشانی کے اظہار کا ایک اضطراری طریقہ ہے) اور یہ کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ازواج مطہرات کو طلاق دے دی، چناچہ میں نے مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہو کر بہت باآواز بلند کہا کہ آپ نے اپنی ازواج کو طلاق نہیں دی اور تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور جب ان لوگوں کو کسی امر کی خبر پہنچتی ہو، خواہ امن ہو یا خوف تو اسے مشہور کردیتے ہیں، عمر فاروق ؓ فرماتے ہیں اہل ایمان کو میں پہلا وہ شخص ہوں جس نے اس راز کو پہچانا۔
Ayah 4:84

فَقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ لَا تُكَلَّفُ اِلَّا نَفْسَكَ وَ حَرِّضِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّكُفَّ بَاْسَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ اَشَدُّ بَاْسًا وَّ اَشَدُّ تَنْكِیْلًا Open ayah 4:84 in the Quran reader

تو (اے محمد ﷺ تم خدا کی راہ میں لڑو تم اپنے سوا کسی کے ذمہ دار نہیں ہو اور مومنوں کو بھی ترغیب دو قریب ہے کہ خدا کافروں کی لڑائی کو بند کر دے اور خدا لڑائی کے اعتبار سے بہت سخت ہے اور سزا کے لحاظ سے بھی سخت ہے

(84) اے نبی کریم ﷺ آپ تو بدر صغری کی طرف اللہ تعالیٰ کے راستے میں جہاد کے لیے روانہ ہونے کی ترغیب بھی دیجیے اللہ تعالیٰ کی جانب سے بہت امید ہے کہ وہ کفار مکہ زور جنگ کو اپنی تدبیر خاص سے روک دیں گے اور اللہ تعالیٰ بہت سخت سزا دیتے ہیں۔
Ayah 4:85

مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً یَّكُنْ لَّهٗ نَصِیْبٌ مِّنْهَا١ۚ وَ مَنْ یَّشْفَعْ شَفَاعَةً سَیِّئَةً یَّكُنْ لَّهٗ كِفْلٌ مِّنْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقِیْتًا Open ayah 4:85 in the Quran reader

جو شخص نیک بات کی سفارش کرے تو اس کو اس (کے ثواب) میں حصہ ملے گا اور جو بری بات کی سفارش کرے تو اس کو اس کے (عذاب) میں سے حصہ ملے گا اور خدا ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

(85) چناچہ جو شخص توحید کا قائل ہو اور خیر خواہی وعدل کے ساتھ دو آدمیوں میں صلح کرائے تو اسے اس نیکی کا ثواب ملے گا اور جو شرک کرے اور اس کا مقصد بھی غلط ہو اسے اس کا گناہ ملے گا اور اللہ تعالیٰ ہر ایک نیکی و برائی کا بدلہ دینے پر یا یہ کہ ہر ایک چیز کو روزی دینے پر قادر ہے۔
Ayah 4:86

وَ اِذَا حُیِّیْتُمْ بِتَحِیَّةٍ فَحَیُّوْا بِاَحْسَنَ مِنْهَاۤ اَوْ رُدُّوْهَا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ حَسِیْبًا Open ayah 4:86 in the Quran reader

اور جب تم کو کوئی دعا دے تو (جواب میں) تم اس سے بہتر (کلمے) سے (اسے) دعا دو یا انہیں لفظوں سے دعا دو ، بیشک خدا ہر چیز کا حساب لینے والا ہے

(86) اور جس وقت تمہارے مذہب والا تمہیں سنت کے مطابق سلام کرے تو اس سے بہترین اور اچھے الفاظ میں اس کو سلام کا جواب دو اور جب کوئی غیر مذہب والا سلام کرے تو ان ہی الفاظ میں اس کا سلام کا جواب دے دو۔ اللہ کی جانب سے سلام اور اس کے جواب پر جزا دی جائے گی، یہ آیت کریمہ ایسے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو سلام کرنے میں بخل کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز (جس کے واقع ہونے میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں) میدان حشر میں سب کو جمع کریں گے۔
Ayah 4:87

اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ؕ لَیَجْمَعَنَّكُمْ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ اَصْدَقُ مِنَ اللّٰهِ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:87 in the Quran reader

خدا (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ قیامت کے دن تم سب کو ضرور جمع کرے گا اور خدا سے بڑھ کر بات کا سچا کون ہے ؟

(87) منافقین میں سے دس آدمیوں کی جماعت دین اسلام سے مرتد ہو کر مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ چلی گئی، اس کے بارے میں جو اختلاف رائے ہوا اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔
Ayahs 4:88–89

فَمَا لَكُمْ فِی الْمُنٰفِقِیْنَ فِئَتَیْنِ وَ اللّٰهُ اَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوْا١ؕ اَتُرِیْدُوْنَ اَنْ تَهْدُوْا مَنْ اَضَلَّ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا Open ayah 4:88 in the Quran reader

تو کیا سبب ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو ہے ہو حالانکہ خدا نے ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کردیا ہے ؟ کیا تم چاہتے ہو کہ جس شخص کو خدا نے گمراہ کردیا ہے اس کو راستے پر لے آؤ ؟ اور جس شخص کو خدا گمراہ کر دے تم اس کے لیے کبھی بھی راستہ نہ پاؤ گے

وَدُّوْا لَوْ تَكْفُرُوْنَ كَمَا كَفَرُوْا فَتَكُوْنُوْنَ سَوَآءً فَلَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ اَوْلِیَآءَ حَتّٰى یُهَاجِرُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ وَجَدْتُّمُوْهُمْ١۪ وَ لَا تَتَّخِذُوْا مِنْهُمْ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۙ Open ayah 4:89 in the Quran reader

وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ

(88۔ 89) مسلمانو ! تم ان مرتدین کے باب میں دو گروہ کیوں ہوگئے، ایک گروہ تو ان کے اموال اور خون کو حلال سمجھتا ہے اور دوسرا گروہ اس کو حرام کہتا ہے، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کے نفاق اور نیت کے فتور کی وجہ سے کفر کی طرف واپس پھیر دیا ہے۔ کیا تم ایسے گمراہوں کو دین الہی کی طرف ہدایت کرنا چاہتے ہو، جس کو اللہ تعالیٰ اس کے اعمال بد کے سبب گمراہ کر دے اس کو نہ پھر کوئی دین ملتا ہے اور نہ کوئی دلیل ، (اللہ تعالیٰ جسے گمراہ کردے، یعنی اللہ گمراہ اسے ہی کرتا جو ہدایت کے باب میں اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کو اپنی بدکرداری وبداعمالی کے سبب ضائع کردے۔ فرمایا (سو جب ان کے دل ٹیڑھے ہوگئے تو اللہ نے بھی ان کے دلوں کو ٹیڑھا کردیا) (مترجم) وہ منافق تو اس تمنا میں ہیں کہ تم بھی ان کے ساتھ شرک میں شرک ہوجاؤ، ان میں سے دین اور مدد میں کوئی دوستی مت کرنا تاوقتیکہ دوبارہ ایمان نہ لے آئیں اور راہ اللہ میں ہجرت نہ کریں۔ شان نزول : (آیت) ”فمالکم فی المنافقین“۔ (الخ) امام بخاری ؒ ومسلم ؒ وغیرہ نے زید بن ثابت سے روایت کیا ہے کہ رسول ﷺ احد کے لیے تشریف لے گئے کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ روانہ ہوئے تھے، وہ واپس لوٹ گئے تو ان لوٹنے والوں کے بارے میں صحابہ کرام کی دو جماعتیں ہوگئیں، ایک جماعت کہتی تھی کہ ہم ان کو قتل کریں گے اور دوسری جماعت ان کے قتل کی منکر تھی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی پھر تمہیں کیا ہوا، کہ ان منافقین کے بارے میں تم میں اختلاف رائے ہوا۔ سعید بن منصور اور ابن ابی حاتم نے سعد بن معاذ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کے درمیان خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا کہ جو شخص مجھے تکلیف دیتا ہے اس کی کون سرکوبی کرے گا، یہ سن کر حضرت سعد بن معاذ ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ اگر وہ قبیلہ اوس سے ہوگا تو ہم اس کی گردن اڑا دیں گے اور اگر ہمارے بھائیوں خزرج سے ہوگا تو آپ حکم دیں ہم آپ کی اطاعت کریں گے، یہ سن کر سعد بن عبادہ کھڑے ہوئے اور بولے ابن معاذ ؓ رسول اللہ ﷺ کی اطاعت میں کیا باتیں کررہے ہو، میں تمہارا مقصد جان چکا ہوں، پھر اسید بن حضیر کھڑے ہوئے اور فرط جذبات میں بولے ابن عبادہ ؓ تم منافق ہو اور منافقین سے محبت رکھتے ہو ، اس کے بعد محمد بن سلمہ نے کھڑے ہو کر کہا، لوگو ! خاموش ہوجاؤ ہمارے درمیان رسول اکرم ﷺ موجود ہیں، آپ جیسا حکم دیں گے، ہم وہ کریں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی ، اور امام احمد نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا ہے کہ مدینہ منورہ میں عرب کی ایک جماعت رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اسلام قبول کیا ان کو مدینہ منورہ کی آب وہوا سے بخار چڑھ گیا، وہ بیعت توڑ کر مدینہ منورہ سے چلے گئے، صحابہ کرام ؓ کی ایک جماعت نے ان کا تعاقب کیا اور ان سے لوٹنے کا سبب دریافت کیا وہ بولے ہمیں مدینہ منورہ کی وباء لگ گئی ہے، صحابہ کرام ؓ نے فرمایا کیا تمہارے لیے رسول اکرم ﷺ کی ذات بابرکت میں بہترین نمونہ موجود نہیں، غرض کہ ان لوگوں کے بارے میں حضرات کا اختلاف ہوگیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی کہ تم لوگ دو گروہ کیوں ہوگئے۔ اس روایت کی سند میں تدلیس اور انقطاع ہے۔
Ayah 4:90

اِلَّا الَّذِیْنَ یَصِلُوْنَ اِلٰى قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ اَوْ جَآءُوْكُمْ حَصِرَتْ صُدُوْرُهُمْ اَنْ یُّقَاتِلُوْكُمْ اَوْ یُقَاتِلُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَیْكُمْ فَلَقٰتَلُوْكُمْ١ۚ فَاِنِ اعْتَزَلُوْكُمْ فَلَمْ یُقَاتِلُوْكُمْ وَ اَلْقَوْا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ١ۙ فَمَا جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ عَلَیْهِمْ سَبِیْلًا Open ayah 4:90 in the Quran reader

مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز ضرور نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے پھر اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لئے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی

(90) اور اگر وہ ایمان اور ہجرت سے اعراض کریں تو ہر حالت میں ان کو پکڑو اور قتل کرو اور ان کو کسی سطح پر بھی اپنی ساتھی اور مددگار مت بناؤ ، مگر ان دس منافقین میں سے جو ہلال بن عویمر اسلمی کی قوم کے ساتھ جاملے ہیں کہ جن سے تمہارا عہد و صلح ہے یا ہلال بن عویمر کی قوم تمہارے پاس ایسی حالت میں آئے کہ ان کا دل عہد کی بنا پر تم سے اور اپنی قوم سے قرابت کی وجہ سے لڑنے پر آمادہ نہ ہو تو انکا معاملہ جدا ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو فتح مکہ کے دن ہلال بن عویمر کی قوم کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ اپنی قوم کے ساتھ تم سے لڑتے اور اگر وہ تم سے دور رہیں اور فتح مکہ کے دن اپنی قوم کے ساتھ ہو کر تم سے نہ لڑیں اور تم سے صلح اور سلامتی رکھیں، تو پھر ایسی حالت میں ان کو قتل وقید کرنے کی کوئی اجازت نہیں۔ شان نزول : (آیت) ”الا الذین یصلون الی قوم“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور ابن مردویہ ؒ نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ سراقہ بن مالک مدلجی نے ان سے بیان کیا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کو بدر واحد کے کفار پر غلبہ حاصل ہوگیا اور اطراف کے لوگوں نے اسلام قبول کرلیا، (سراقہ بیان کرتے ہیں) تو مجھے یہ اطلاع ملی کہ رسول اللہ ﷺ میری قوم بنی مدلج کی طرف حضرت خالد بن ولید کو بھیج رہے ہیں اور میں اس حوالے سے بات کرنے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ میں آپ کو رب کی قسم دیتا ہوں مجھے یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ میری قوم کی طرف خالد ؓ کو روانہ کررہے ہیں اور میری مرضی یہ ہے کہ ابھی آپ ان کو رہنے دیں کیوں کہ اگر آپ کی قوم اسلام لے آئے گی تو وہ سب اسلام لے آئیں گے اور اسلام میں داخل ہوجائیں گے اور اگر انہوں نے اسلام قبول نہ کیا تو آپ کی قوم کا غلبہ ان کے اوپر سود مند نہ ہوگا، یہ سن کر رسول اکرم ﷺ نے حضرت خالد ؓ کا ہاتھ کر فرمایا سراقہ کے ساتھ جاؤ اور جو ان کی مرضی ہو ویسا کرو۔ چناچہ اسی صلحہ نامہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی، (آیت) ”الا الذین یصلون“۔ (الخ)۔ مگر جو لوگ ایسے ہیں جو کہ ایسے لوگوں سے جاملتے ہیں الخ چناچہ جو شخص ان کے پاس چلا جاتا تھا وہ بھی ان کے عہد میں شریک ہوجاتا تھا۔ اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ہلال بن عویمر اسلمی ؒ ، سراقہ بن مالک مدلجی ؒ اور بنی جذیمہ بن عامر بن عبد مناف کے بارے میں نازل ہوئی ہے، نیز مجاہد سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ہلال بن عویمر اسلمی کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ ان کے اور مسلمانوں کے درمیان عہد وصلح تھی اور ان کی قوم کے کچھ لوگوں نے اس عہد وصلح کے خلاف کرنا چاہا تھا تو انہوں نے اس بات کو اچھا نہیں سمجھا کہ اپنا عہد و پیمان توڑ کر مسلمانوں کے ساتھ قتال کیا جائے اور پھر جواب اسی طرح ان کی قوم کے ساتھ بھی قتال ہو۔
Ayah 4:91

سَتَجِدُوْنَ اٰخَرِیْنَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّاْمَنُوْكُمْ وَ یَاْمَنُوْا قَوْمَهُمْ١ؕ كُلَّمَا رُدُّوْۤا اِلَى الْفِتْنَةِ اُرْكِسُوْا فِیْهَا١ۚ فَاِنْ لَّمْ یَعْتَزِلُوْكُمْ وَ یُلْقُوْۤا اِلَیْكُمُ السَّلَمَ وَ یَكُفُّوْۤا اَیْدِیَهُمْ فَخُذُوْهُمْ وَ اقْتُلُوْهُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْهُمْ١ؕ وَ اُولٰٓئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَیْهِمْ سُلْطٰنًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:91 in the Quran reader

تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہی کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امین میں رہیں لیکن جب فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گرپڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے

(91) اور قوم ہلال، غطفان اور اسد کے علاوہ ایسے بھی لوگ ہیں کہ وہ تم سے بھی تمہارے حامی بن کر جان ومال کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں اور اپنی قوم سے بھی کفر کا اظہار کرتے ہیں مگر جب ان لوگوں کو شرک اور کسی شرارت کی طرف بلایا جاتا ہے تو فورا اس میں شریک ہوجاتے ہیں۔ سو اگر یہ لوگ فتح مکہ کے دن تم سے نہ کنارہ کش ہوں اور نہ صلح کو باقی رکھیں اور نہ تمہارے قتال سے اپنے ہاتھوں کو روکیں، تو ان کو حل وحرم ہر جگہ قید کرو اور قتل کر دو اور ایسے لوگوں کے قتل کے لیے ہم نے تمہیں واضح حجت دی ہے۔ (حدود حرم کے اندر کی جگہ کو بھی حرم کہتے ہیں، یہاں بہت سے جائز و حلال امور بھی حرام ہوجاتے ہیں جو باہر حلال ہیں، سو مراد ہے کہ یہ فتنہ گر لوگ حدود حرم کے اندر ہوں یا باہر ان کے ساتھ سختی کا معاملہ روا رکھو)۔ (مترجم)
Ayah 4:92

وَ مَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ اَنْ یَّقْتُلَ مُؤْمِنًا اِلَّا خَطَئًا١ۚ وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَئًا فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَّ دِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّصَّدَّقُوْا١ؕ فَاِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍۭ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ مِّیْثَاقٌ فَدِیَةٌ مُّسَلَّمَةٌ اِلٰۤى اَهْلِهٖ وَ تَحْرِیْرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ١ۚ فَمَنْ لَّمْ یَجِدْ فَصِیَامُ شَهْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ١٘ تَوْبَةً مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:92 in the Quran reader

اور کسی مومن کو شایان نہیں کہ مومن کو مار ڈالے مگر بھول کر اور جو بھول کر بھی مومن کو مار ڈالے تو (ایک تو) ایک مسلمان غلام آزاد کریں اور (دوسرے) مقتول کے وارثوں کو خون بہادے ہاں اگر وہ معاف کریں (تو ان کو اختیار ہے) اگر مقتول تمہارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہے اور اگر مقتول ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں اور تم میں صلح کا عہد ہو تو وارثان مقتول کو خون بہا دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہے اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ متواتر دو مہینے متواتر روزے رکھے یہ (کفارہ) خدا کی طرف سے (قبول) توبہ (کے لیے) ہے اور خدا (سب کچھ) جانتا (اور) بڑی حکمت والا ہے

(92) عیاش بن ربیعہ مومن کو حارث بن زید مومن کا قتل کرنا جائز نہیں اور اگر غلطی سے ایسا ہوجائے تو قاتل پر ایک مسلمان غلام یا باندی کا آزاد کرنا واجب ہے اور مقتول کے وارثوں کو پورا خون بہا دینا بھی واجب ہے مگر یہ کہ اولیاء مقتول (مقتول کے وارث) معاف کردیں۔ اور اگر مقتول تمہاری دشمن قوم سے ہو تو قاتل پر صرف غلام کا آزاد کرنا واجب اور حارث بن یزید ؓ کی قوم رسول اللہ ﷺ کی دشمن تھی اور اگر مقتول کی قوم معاہدہ وصلح والی ہو تو مقتول کے وارثوں کو پوری دیت دینا بھی اور ایک مومنہ باندی یا غلام کا آزاد کرنا بھی واجب ہے اور جسے آزاد کرنے کو نہ ملے تو وہ لگاتار دو ماہ کے روزے اسطرح رکھے کہ ایک دن کا روزہ بھی درمیان میں نہ چھوڑے، یہ غلطی سے قتل کرنیوالے کی منجانب اللہ توبہ ہے، اللہ قتل کی یہ سزا متعین کرنے میں حکمت والا ہے۔ شان نزول : (آیت) وماکان لمومن ان یقتل“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ حارث بن یزید بنی عامر بن لوی سے تھے، یہ ابوجہل کے ساتھ عیاش بن ابی ربیعہ کو سخت تکالیف دیا کرتے تھے، پھر حارث بن یزید ہجرت کرکے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آگئے مقام حرہ میں ان کو عیاش ملے، انہوں نے یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ کافر ہیں قتل کردیا، اس کے بعد رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر واقعہ بیان کیا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور کسی مومن کی شان نہیں کہ وہ کسی مومن کو بلاتحقیق قتل کرے، لیکن غلطی سے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:93

وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا Open ayah 4:93 in the Quran reader

اور جو شخص مسلمان کو قصدا مار ڈالے گا تو اس کی سزا دوزخ ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا اور خدا اس پر غضبناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور ایسے شخص کے لیے اس نے بڑا (سخت) عذاب تیار کر رکھا ہے

(93) یہ آیت مقیس بن صبابہ کے بارے میں نازل ہوئی، اس نے اپنے بھائی ہشام بن صبابہ کی دیت وصول کرنے کے بعد رسول اکرم ﷺ کے قاصد فہری شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کے بعد دین اسلام سے مرتد ہو کر مکہ مکرمہ چلا گیا، اس پر دیت وصول کرنے کے بعد اپنے بھائی کے قاتل کے علاوہ کسی اور کو قتل کرنے پر اللہ تعالیٰ کا غصہ اور لعنت ہے اور اس دلیری اور شرک پر اللہ کی جانب سے زبردست عذاب ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ومن یقتل مومن ا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے بواسطہ ابن جریج عکرمہ ؒ سے روایت کیا ہے کہ ایک انصاری شخص نے مقیس بن صبابہ کے بھائی کو قتل کردیا، نبی اکرم ﷺ نے اس کو دیت دے دی، اس کے بعد اس نے اپنے بھائی کے قاتل (کی بجائے کسی اور) کو قتل کردیا۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اس شخص کو حل وحرم میں سے کسی مقام پر بھی امن نہیں دوں گا چناچہ (کیونکہ یہ شخص، قاتل، بدعہد اور فتنہ گر ہے اسے مہلت دینا دیگر انسانوں کو معرض ہلاکت میں ڈالنے کے مترادف ہے، اور فتنہ کے متعلق فرمایا (آیت) ”والفتنہ اشدا من القتل“۔ (فتنہ قتل سے بھی بڑھ کر جرم ہے) (مترجم) فتح مکہ کے دن اس کو قتل کردیا گیا، ابن جریج ؓ فرماتے ہیں کہ اسی کے بارے میں آیت کریمہ نازل ہوئی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:94

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَتَبَیَّنُوْا وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰۤى اِلَیْكُمُ السَّلٰمَ لَسْتَ مُؤْمِنًا١ۚ تَبْتَغُوْنَ عَرَضَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١٘ فَعِنْدَ اللّٰهِ مَغَانِمُ كَثِیْرَةٌ١ؕ كَذٰلِكَ كُنْتُمْ مِّنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ فَتَبَیَّنُوْا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:94 in the Quran reader

مومنو ! جب تم خدا کی راہ میں باہر نکلا کرو تو تحقیق سے کام لیا کرو اور جو شخص تم سے سلام علیک کرے اس سے یہ نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو اور اس سے تمہاری غرض یہ ہو کہ دنیا کی زندگی کا فائدہ حاصل کرو سو خدا کے پاس بہت سی غنیمتیں ہیں تم بھی تو پہلے ایسے ہی تھے پھر خدا نے تم پر احسان کیا تو (آئندہ) تحقیق کرلیا کرو اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو سب کی خبر ہے

(94) یہ آیت اسامہ بن زید ؓ کے بارے میں نازل ہوئی جب کہ انہوں نے لڑائی میں مرد ان بن نھیک فراری کو (غلط فہمی کی بنا پر) کافر سمجھ کر مار دیا تھا اور یہ مومن تھے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہاد میں کسی کے اس طرح مل جانے پر تحقیق کرلیا کرو تاکہ معلوم ہوجائے کہ کون مومن ہے اور کون کافر اور جو تمہارے سامنے کلمہ طیبہ پڑھ لیا کرے یا جہاد میں مسلمانوں کے طریقہ پر سلام کرلیا کرے تو اسے مال غنیمت کی امید میں کافر سمجھ کر قتل مت کرو۔ اللہ کی ہاں اسے شخص کے لیے جو کسی مسلمان کے قتل سے کنارہ کش ہو، بہت بڑا ثواب ہے۔ ہجرت سے پہلے تم بھی ایک زمانہ میں اپنی قوم میں مسلمانوں اور رسول اکرم ﷺ سے کلمہ طیبہ پڑھ کر امن حاصل کیا کرتے تھے، پھر ہجرت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان کیا، لہٰذا مسلمانوں کے قتل نہ کرنے پر جمے رہو اور اپنی پچھلی حالت پر غور کرو۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوا اذا ضربتم“۔ (الخ) امام بخاری ؒ ، ترمذی ؒ اور حاکم وغیرہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے بنی سلیم کے ایک آدمی کا گزر صحابہ کرام ؓ کی جماعت پر سے ہوا۔ وہ اپنی بکریاں لے کر جارہا تھا، اس نے صحابہ کرام ؓ کو سلام کیا، صحابہ کرام ؓ میں سے چند ایک نے کہا کہ اس نے اس لیے سلام کیا ہے۔ (یعنی کوئی مسلمان تمہارے ہاتھوں غلط فہمی سے بھی نہ مارا جائے، تم صرف برسر مقابلہ یا فتنہ گر کافروں کو ہی قتل کرو، جو ظاہرا بھی کسی وجہ سے کلمہ پڑھ لے تو بنا تحقیق وتفتیش اس پر ہاتھ نہ اٹھاؤ) (مترجم) تاکہ ہم اس سے کسی قسم کا کوئی تعرض نہ کریں، چناچہ صحابہ کرام ؓ نے اس کو پکڑ کر کفر کے شبہہ میں قتل کردیا اور اس کی بکریاں رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں لے کر آئے، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ ایمان والو جب تم جہاد کے لیے روانہ ہو، الخ۔ اور بزاز نے ابن عباس ؓ سے دوسرے طریقہ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک چھوٹا سا لشکر روانہ کیا، اس میں مقداد بھی تھے، جب یہ لوگ کافروں کی قوم کے پاس آئے تو وہ سب متفرق ہوگئے اور ایک آدمی باقی رہ گیا، جس کے پاس بہت مال تھا وہ صحابہ کرام ؓ کو دیکھ کر کہنے لگا، اشھد ان الا الا اللہ“۔ اسکی ظاہری حالت زبان حال اسلام سے مناسبت نہ رکھتی تھی اس لیے اسے کافر ہی سمجھتے ہوئے مقداد نے قتل کردیا۔ رسول اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا کہ قیامت کے دن کلمہ لا الہ الا اللہ“۔ کے مقابلے میں کیا جواب دو گے اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور امام احمد اور طبرانی وغیرہ نے عبداللہ بن ابی الدرداء اسلمی ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انھیں رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں کی ایک جماعت میں بھیجا جس میں ابوقتادہ اور محکم بن جثامہ بھی تھے، ہمارے پاس سے عامر بن احبط اشجعی گزرے، انہوں نے ہمیں سلام کیا، محکم نے اس سلام کو ان کا حیلہ سمجھا اور اسے کافر گردانتے ہوئے ان پر حملہ کیا اور ان کو قتل کردیا۔ جب ہم رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اور آپ ﷺ کو واقعہ کی اطلاع دی تو ہمارے بارے میں قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی۔ ابن جریر ؒ نے ابن عمر ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور ثعلبی نے بواسطہ کلبی، ابوصالح، ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے، کہ مقتول کا نام مرداس بن لہیک تھا اور یہ اہل فدک سے تھے اور قاتل کا نام اسامۃ بن زید ؓ تھا اور اس لشکر کے امیر غالب بن فضالۃ تھے کیوں کہ مرداس ؓ کی قوم جب شکست کھاگئی تو صرف مرداس باقی رہ گئے اور یہ اپنی بکریوں کو ایک پہاڑ پر سے لے جارہے تھے جب صحابہ کرام ؓ ان کے پاس پہنچے تو انہوں نے کلمہ طیبہ پڑھا اور کہا اسلام علیکم مگر اسامۃ بن زید نے غلط فہمی سے ان کو قتل کردیا، جب صحابہ کرام ؓ مدینہ منورہ آئے، تب یہ آیت نازل ہوئی ، نیز ابن جریر ؒ نے سدی ؒ اور عبد نے قتادہ ؒ کے واسطہ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور ابن ابی حاتم ؒ نے بواسطہ ابن بعیعہ، ابو زبیر، جابر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جو اطاعت ظاہر کرے اسے یہ نہ کہہ دیا کرو کہ تم مومن نہیں مرداس ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، یہ روایت حسن ہے، ابن مندہ نے جزء بن حدرجان ؓ سے روایت کیا ہے کہ میرے بھائی قداد ؓ یمن سے رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے، راستہ میں انھیں رسول اکرم ﷺ کے ایک لشکر کا سامنا ہوا انہوں نے لشکر سے کہا کہ میں مسلمان ہوں مگر لشکر نے کچھ قرائن کے سبب اس بات کو درست خیال نہ کیا اور ان کو قتل کردیا۔ مجھے اس چیز کی اطلاع ملی میں رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں فورا روانہ ہوا، تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، نبی اکرم ﷺ نے مجھے میرے بھائی کی دیت دی۔
Ayahs 4:95–96

لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ وَ الْمُجٰهِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ١ؕ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ دَرَجَةً١ؕ وَ كُلًّا وَّعَدَ اللّٰهُ الْحُسْنٰى١ؕ وَ فَضَّلَ اللّٰهُ الْمُجٰهِدِیْنَ عَلَى الْقٰعِدِیْنَ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:95 in the Quran reader

جو مسلمان (گھروں میں) بیٹھ رہتے اور لڑنے سے جی چراتے ہیں اور کوئی عذر نہیں رکھتے اور وہ جو خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے لڑتے ہیں وہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے مال اور جان سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر اللہ نے درجے میں فضیلت بخشی ہے اور (گو) نیک وعدہ سب سے ہے لیکن اجر عظیم کے لحاظ سے خدا نے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر کہیں فضیلت بخشی ہے

دَرَجٰتٍ مِّنْهُ وَ مَغْفِرَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:96 in the Quran reader

(یعنی) خدا کی طرف سے درجات میں اور بخشش میں اور رحمت میں اور خدا بڑا بخشنے والا (اور) مہربان ہے

(95۔ 96) یہاں سے اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کے ثواب کو بیان کر رہے ہیں یعنی معذورین جن کو تنگی اور ضعف بدن اور ضعف بصر کی شکایت ہو، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم اور حضرت عبداللہ بن بخش اسدی ان کے علاوہ اور حضرات ان لوگوں کے برابر نہیں جو اپنی جان ومال سے جہاد کرتے ہیں۔ اور مجاہدین اور قاعدین (کی وجہ سے جہاد میں نہ جانے والے ہر ایک کو ایمان پر جنت ملے گی، مگر مجاہدین کو، بغیر عذر کے جہاد نہ کرنے والوں پر جنت میں بہت بلند مقام ملے گا اور ان کو ثواب ومغفرت کے عظیم درجات ملیں گے اور جو جہاد کے لیے روانہ ہو اور نہ روانہ ہونے پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے اور اسی حالت ندامت و استغفار میں انتقال کر جائے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والے اور رحم کرنے والے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”لا یستوی القاعدون“۔ (الخ) بشارت خداوندی ! امام بخاری ؒ نے براء بن عازب ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جس وقت (آیت) ”لا یستوی القاعدون“۔ (الخ) یہ آیت کریمہ نازل ہوئی تو رسول اکرم ﷺ نے فرمایا، فلان کو بلاؤ، چناچہ وہ آئے اور ان کے ساتھ دوات، تختی اور قلم تھا، آپ نے ارشاد فرمایا، کہ آیت لکھو (آیت) ”لایستوی القاعدون من ال مومنین“۔ (الخ) رسول اکرم ﷺ کے پیچھے ابن ام مکتوم موجود تھے، انہوں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میں نابینا ہوں تو پھر اللہ کی جانب سے (آیت) ”غیر اولی الضرر“۔ لفظ بھی نازل ہوگیا۔ نیز امام بخاری ؒ نے زید بن ثابت ؓ سے اور طبرانی نے زید بن ارقم سے اور ابن حبان نے فلتان بن عاصم سے اسی طرح روایت نقل کی ہے اور امام ترمذی ؒ نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے مگر اس میں اتنا اضافہ ہے کہ عبداللہ بن جحش ؓ اور ابن ام مکتوم ؓ نے عرض کیا کہ ہم دونوں نابینا ہیں۔ اور ابن جریر ؒ نے بہت سے طریقوں سے اسی طرح مرسل روایتیں نقل کی ہیں۔ یہاں سے اللہ تعالیٰ مجاہدین کے ثواب کو بیان کررہے ہیں یعنی معذورین جن کو تنگی اور ضعف بدن اور ضعف بصر کی شکایت ہو، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن ام مکتوم اور حضرت عبداللہ بن جحش اسدی ان کے علاوہ اور حضرات ان لوگوں کے برابر نہیں جو اپنی جان ومال سے جہاد کرتے ہیں۔ اور مجاہدین اور قاعدین (کی وجہ سے جہاد میں نہ جانے والے ہر ایک کو ایمان پر جنت ملے گی، مگر مجاہدین کو، بغیر عذر کے جہاد نہ کرنے والوں پر جنت میں بہت بلند مقام ملے گا اور ان کو ثواب ومغفرت کے عظیم درجات ملیں گے، اور جو جہاد کے لیے روانہ ہو اور نہ روانہ ہونے پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے اور اسی حالت ندامت و استغفار میں انتقال کرجائے تو اللہ تعالیٰ معاف فرمانے والے اور رحم کرنے والے ہیں۔
Ayah 4:97

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

جو لوگ اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں جب فرشتے ان کی جان قبض کرنے لگتے ہیں تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں تھے وہ کہتے ہیں کہ ہم ملک میں عاجز و ناتواں تھے فرشتے کہتے ہیں کیا خدا کا ملک فراخ نہیں تھا کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے ؟ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے

(97) پچاس آدمی مکہ مکرمہ میں اسلام لانے کے بعد مرتد ہوگئے تھے، وہ غزوہ بدر میں کفار کے ساتھ ان کے حلیف بن کر آئے اور سب کے سب مارے گئے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسے لوگوں کی بدر کے دن جب فرشتے جان قبض کرتے ہیں، تو فرشتے اس قبض کے وقت ان سے کہتے ہیں کہ تم مکہ مکرمہ کیا کرتے تھے وہ جوابا کہتے ہیں کہ ہم مکہ مکرمہ میں کفار کے ہاتھوں ذلیل اور پریشان تھے فرشتے ان سے کہتے ہیں تو کیا مدینہ منورہ کی سرزمین امن والی نہیں تھی کہ تم اس سرزمین میں ہجرت کرکے چلے جاتے، ان لوگوں کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ شان نزول : (آیت) ”ان الذین توفہم“۔ (الخ) امام بخاری ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ کچھ منافق لوگ مسلمانوں کے روب میں مشرکین کے ساتھ مل کر رسول اکرم ﷺ کے مقابلے میں مشرکین کی جماعت بڑھاتے تھے۔ چناچہ (غزوہ بدر میں) جب ان بدترین لوگوں میں سے کوئی تیر مارتا تو وہ بطور مسلمانوں کی تائید الہی کے سبب ان ہی کے لگ جاتا، جس کی وجہ سے وہ مرجاتا یا اور کوئی تیر لگ جاتا جس کی بنا پر وہ ختم ہوجاتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی، بیشک جب ایسے مرتد لوگوں کی جان فرشتے قبض کرتے ہیں الخ اور ابن مردویہ نے اپنی روایت میں ان لوگوں کے نام بھی روایت کیے ہیں کہ یہ لوگ قیس بن ولید بن مغیرہ، ابوقیس بن فاکہہ، ولید بن عتبہ، عمروبن امیہ، علی بن امیہ تھے اور ان لوگوں کے متعلق یہ روایت کیا ہے کہ جب یہ لوگ غزوہ بدر کی طرف روانہ ہوئے اور مسلمانوں کی کمی کو دیکھا تو ان کے دلوں میں شک پیدا ہوگیا اور کہنے لگے کہ ان لوگوں کو اپنے دین کے بارے میں (نعوذ باللہ) دھوکہ ہوگیا ہے، چناچہ یہ سب بدر کے دن مارے گئے۔ اور ابن ابی حاتم ؒ نے حارث بن زمعہ ؒ اور عاص بن منبہ ؒ کا نام روایت کیا ہے اور طبرانی ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مکہ کے کچھ لوگ اسلام لے آئے تھے، جب رسول اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت فرمائی تو ان لوگوں کو ہجرت کرنا شاق ہوئی اور یہ لوگ ڈرے، ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور ابن منذر اور ابن جریر ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ مکہ والوں میں سے کچھ لوگ اسلام لے آئے تھے مگر وہ اسلام کو آسان سمجھتے تھے، غزوہ بدر میں مشرکین ان کو اپنے ساتھ لے آئے۔ (ان میں سے اکثر مومنین مخلصین نہ تھے بلکہ ان کی حالت کچھ اس طرح سے تھی جیسا کہ قرآن کریم میں ہے (آیت) ”قالت الاعراب امنا، قل لم تؤمنوا ولکن قولوا اسلمنا ولما یدخل الایمان فی قلوبکم“۔ (یہ چند دیہاتی یعنی غیر سنجیدہ لوگ کہتے ہیں ہم ایمان لے اے نبی مکرم آپ ان سے کہہ دیں تم حقیقتا ایمان نہیں لائے، بلکہ تم نے (کسی وجہ سے) محض ظاہرا اسلام قبول کیا ہے اور ایمان کی حقیقت ابھی تمہارے دلوں میں اتری ہی نہیں وگرنہ مومنین مخلصین کے ”ایمان“ لانے کے بعد واپس کفر کی طرف پلٹنے کی مثالیں انتہائی کم ہیں اور الشاذ کلمعدوم کے درجے میں ہیں (اتنی کم کہ گویا ہیں ہی نہیں) (مترجم) چناچہ ان لوگوں میں سے بعض مارے گئے صحابہ کرام ؓ نے دیکھ کر کہا یہ لوگ تو مسلمان تھے اور ان کو ایک گرانی ہوئی، چناچہ صحابہ کرام ؓ نے ان کے لیے دعائے مغفرت کی، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی مکہ مکرمہ میں ایسے لوگوں میں سے جو باقی رہ گئے تھے ان کے پاس یہ آیت لکھ کر روانہ کردی گئی ، اور یہ کہ اب ان کا کوئی عذر قابل قبول نہیں، چناچہ یہ لوگ وہاں سے نکلے، پھر ان کو مشرکین نے پکڑ لیا اور ان کو فتنہ میں ڈال دیا، یہ پھر لوٹ گئے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (آیت) ”ومن الناس من یقول امنا باللہ فاذا اوذی فی اللہ جعل فتنۃ الناس کعذاب اللہ“۔ مسلمانوں نے یہ آیت بھی ان کے پاس لکھ کر روانہ کردی جس سے وہ غمگین ہوئے اس کے بعد (آیت) ”ثم ان ربک للذین ھاجرو من بعد مافتنو“۔ (الخ) یہ آیت نازل ہوئی، یہ بھی مسلمانوں نے ان کے پاس لکھ کر روانہ کردی، چناچہ وہ مکہ سے نکلے، پھر انکو پکڑ لیا تو جو بچا اس نے نجات حاصل کی اور جس کو قتل ہونا تھا وہ قتل ہوگیا، ابن جریر ؒ نے بہت سے طریقوں سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayahs 4:98–99

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

ہاں جو مرد اور عورتیں اور بچے بےبس ہیں کہ نہ کوئی چارہ کرسکتے ہیں اور نہ راستہ جانتے ہیں

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

قریب ہے کہ خدا ایسوں کو معاف کر دے اور خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

(98۔ 99) البتہ کمزور بچے، بوڑھے اور عورتیں جو کہ ہجرت کرنے پر قادر نہ ہوں کوئی تدبیر کرسکتے ہوں اور نہ راستہ ہی سے واقف ہوں، امید ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ان سے غلطی ہوئی اور اس پر انہوں نے توبہ کی تو اپنے کرم سے اس کو معاف فرما دیں۔
Ayah 4:100

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو شخص خدا کی راہ میں گھر بار چھوڑ جائے اوہ زمین میں بہت سی جگہ اور کشائش پائے گا اور جو شخص خدا اور رسول کی طرف ہجرت کر کے گھر سے نکل جائے پھر اس کو موت آپکڑے تو اس کا ثواب خدا کے ذمے ہوچکا اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(100) اطاعت خداوندی میں ہجرت کرنے پر مدینہ منورہ کی زمین میں اظہار دین اور معیشت کے لیے بہت گنجائش ملے گی، یہ آیت کریمہ اکثم بن صیفی کے بارے میں نازل ہوئی، جندع بن ضمرہ ؓ بہت بوڑھے تھے، یہ مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے لیے روانہ ہوئے راستہ میں مقام تنعیم پر انتقال فرماگئے، ان کو ثواب مہاجرین کے برابر ملا اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ جو مکہ مکرمہ سے اطاعت خداوندی میں مدینہ منورہ رسول اللہ ﷺ کی طرف ہجرت کرتا ہے اور راستے میں موت آجاتی ہے، انھیں ہجرت کا ثواب ہوگیا، ان سے زمانہ شرک میں جو گناہ سرزد ہوئے اور زمانہ اسلام میں جن امور کی تکمیل نہیں ہوئی، اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے۔ شان نزول : (آیت) ”ومن یخرج من بیتہ“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور ابویعلی ؒ نے عمدہ سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ سمرۃ بن جندب ؓ اپنے گھر سے ہجرت کے ارادہ سے روانہ ہوئے اور اپنے گھروالوں سے کہا کہ مجھے سوار کرا دو اور مشرکین کی زمین سے رسول اکرم ﷺ کی طرف روانہ کردو مگر رسول اکرم ﷺ کے پاس پہنچنے سے پیشتر ہی راستہ میں انتقال فرماگئے ان کی شان میں بذریعہ وحی آپ پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ جو اپنے گھر سے اس نیت سے نکل کھڑا ہو کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کروں گا۔ الخ۔ نیز ابن ابی حاتم ؒ نے بواسطہ سعید بن جبیر ؓ ابن ضمرۃ زرقی سے روایت کیا ہے کہ وہ مکہ مکرمہ میں تھے جب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی لیکن جو مرد اور عورتیں اور بچے قادر نہ ہوں کہ نہ کوئی تدبیر کرسکتے ہوں اور نہ راستہ سے واقف ہوں الخ تو ابن ضمرۃ فرماتے ہیں کہ مالدار بھی تھا اور صاحب تدبیر بھی، چناچہ ابن ضمرۃ نے رسول اکرم ﷺ کی طرف ہجرت کی تیاری کی مگر مقام تنعیم میں انتقال کرگیا ان کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ اور ابن جریر ؒ نے یہ روایت اسی طرح سعید بن جبیر ؓ عکرمہ ؒ ، قتادہ ؓ اور سدی سے روایت کی ہے۔ بعض روایتوں میں ان کا نام ضمرۃ بن العیص یا عیص ابن ضمرہ اور بعض میں جندب بن ضمرہ الجدعی اور بعض میں ضمری اور بعض میں بنی ضمرہ کے ایک شخص اور بعض میں بنی خزاعہ کے ایک اور بعض میں بنی لیث کے ایک شخص اور بعض روایتوں میں بنی بکر کے ایک شخص نے بیان کیا ہے۔ اور ابن سعد نے طبقات میں یزید بن عبداللہ بن قسط ؓ سے روایت کیا ہے کہ جندع بن ضمرہ ضمری مکہ مکرمہ میں تھے، اچانک بیمار ہوئے تو اپنی سے فرمایا کہ مجھے مکہ مکرمہ سے نکال دو ، مجھے اس چیز کے غم نے ہلاک کردیا ہے، اولاد نے پوچھا کہ کس مقام پر جانا چاہتے ہیں، حضرت جندع بن ضمرہ نے اپنے ہاتھ سے ہجرت کے ارادہ سے مدینہ منورہ کی جانب اشارہ کیا، چناچہ ان کی اولاد ان کو لے کر روانہ ہوئی، جب بنی غفار کے پڑاؤ کے پاس پہنچے تو انتقال فرماگئے، اللہ تعالیٰ نے ان کی فضیلت میں یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی۔ نیز ابن ابی حاتم ؒ ، ابن مندہ ؒ اور دیگر نے صحابہ کرام ؓ کے بیان میں ہشام بن مروہ بواسطہ والد روایت نقل کی ہے۔ کہ زبیر بن عوام ؓ نے فرمایا کہ خالد بن حرام نے سرزمین حبشہ کی طرف ہجرت کی، ان کو راستے میں اچانک ایک سانپ نے ڈس لیا، جس کی وجہ سے وہ انتقال فرما گئے ان کے بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔
Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم سفر کو جاؤ تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ نماز کو کم کر کے پڑھو بشرطیکہ تم کو خوف ہو کہ کافر لوگ تم کو ایذا دیں گے بیشک کافر تمہارے کھلے دشمن ہیں

(101) سفر کی حالت میں رباعی (چار رکعتوں والی) نماز میں قصر کردینے میں کوئی گناہ نہ سمجھو اور اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ نماز کی حالت میں کفار تمہیں قتل کردیں گے کیوں کہ وہ کھلے دشمن ہیں تو اس طرح نماز خوف ادا کرو، جس طرح کہ اللہ نے بتلائی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”واذا ضربتم فی الارض فلیس علیکم“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ بنی نجار نے رسول اکرم ﷺ سے دریافت کیا یا رسول اللہ ﷺ ہم سفر میں کس طرح نماز پڑھیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ حکم نازل فرمایا یعنی جب تم سفر کرو سو تمہیں اس میں کوئی گناہ نہیں ہوگا کہ تم نماز کو کم کردو۔ اس کے بعد وحی بند ہوگئی پھر جب ایک سال کے بعد رسول اکرم ﷺ نے جہاد کیا اور ظہر کی نماز پڑھی تو مشرکین نے کہا کہ اس وقت محمد ﷺ اور ان کے ساتھیوں پر پیچھے کی جانب سے حملہ کرنے کا یہ مناسب موقع ہے تو پھر کیوں نہ زبردست قسم کا حملہ کردیں تو ان میں سے کسی نے کہا ان لوگوں کے مجاہدین کی اتنی جماعت ان کی حفاظت میں بھی کھڑی ہے۔ اس پر دونوں نمازوں کے درمیان اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”ان خفتم“۔ سے لے کر ”عذابا مھینا“۔ تک یہ آیات نازل فرمائیں، چناچہ اس وقت نماز خوف کا حکم نازل ہوگیا۔
Ayah 4:102

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور (اے پیغمبر ﷺ جب تم ان (مجاہدین کے لشکر) میں ہو اور ان کو نماز پڑھانے لگو تو چاہیے کہ ان کی ایک جماعت تمہارے ساتھ مسلح ہو کر کھڑی رہے جب وہ سجدہ کر چکیں تو پرے ہوجائیں پھر دوسری جماعت جس نے نماز نہیں پڑھی (ان کی جگہ) آئے اور ہوشیار اور مسلح ہو کر تمہارے ساتھ نماز ادا کرے کافر اس گھات میں ہیں کہ تم ذرا اپنے ہتھیاروں اور سامانوں سے غافل ہوجاؤ تو تم پر یکبارگی حملہ کردیں اگر تم بارش کے سبب تکلیف میں ہو یا بیمار ہو تو تم پر کچھ گناہ نہیں کہ ہتھیار اتار رکھو مگر ہوشیار ضرور رہنا خدا نے کافروں کے لیے ذلت کا عذاب تیار کر رکھا ہے

(102) لہٰذا جب آپ تشریف فرما ہوں تو پھر آپ ہی ان کی امامت فرمائیں اور نماز شروع کرنے کے لیے تکبیر فرمائیں اور یہ آپ کے ساتھ تکبیر کہیں گے، لہٰذا اس وقت ایک جماعت تو آپ کے ساتھ ایک رکعت پڑھ لے اور دوسرا گروہ دشمن کی نگرانی کے لیے کھڑا ہوجائے اور اب یہ جماعت نگرانی کے لیے چلی جائے اور جو جماعت دشمن کے مقابلہ پر کھڑی ہے جس نے آپ کے ساتھ پہلی رکعت نہیں پڑھی، وہ اب آکر دوسری رکعت پڑھ لے اور دشمن سے بچاؤ کے لیے اپنے ہتھیار بھی رکھیں۔ بنی انمار تو یہ چاہتے ہیں کہ ذرا تم اپنے ہتھیار وغیرہ سے غافل ہو تو تم پر نماز کی حالت میں ایک دم حملہ کردیں اور اگر تم بارش کی شدت اور زخموں وغیرہ کی حالت میں ہتھیار اتار کر رکھنا چاہا تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، باقی اپنے دشمن سے اپنی اچھی طرح حفاظت کرو اور بنی انمار جیسے مخالفین اسلام کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔ شان نزول : (آیت) ”واذا کنت فیہم“ (الخ) اور امام احمد اور حاکم نے صحت کے ساتھ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عیاش زرقی سے روایت کیا ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عسفان میں تھے۔ سامنے سے مشرک آئے جن کے خالد بن ولید امیر تھے اور جو مشرک ہمارے اور قبلہ کے درمیان تھے، رسول اکرم ﷺ نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی تو مشرک کہنے لگے کہ اس وقت یہ ایسی حالت پر ہیں کہ ہم ان پر حملہ کرکے ان سب کو ختم کرسکتے ہیں، پھر وہ خود بولے کہ اب ان کی ایسی نماز کا وقت آئے گا جو انھیں اپنی جانوں اور اپنی اولاد سے بھی زیادہ عزیز ہے، چناچہ جبریل ؑ ظہر اور عصر کے درمیان یہ آیتیں لے کر نازل ہوگئے اور امام ترمذی نے بھی اسی طرح ابوہریرہ ؓ سے اور ابن جریر ؓ نے بھی اسی طرح جابر بن عبداللہ اور ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے اور امام بخاری ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آیت کریمہ ”۔ ان کان بکم اذی“۔ (الخ) عبدالرحمن بن عوف کے بارے میں نازل ہوئی ہے جب یہ زخمی تھے۔
Ayah 4:103

فَاِذَا قَضَیْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْكُرُوا اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِكُمْ١ۚ فَاِذَا اطْمَاْنَنْتُمْ فَاَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ١ۚ اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا Open ayah 4:103 in the Quran reader

پھر جب تم نماز تمام کر چکو تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حالت میں) خدا کو یاد کرو پھر جب خوف جاتا رہے تو (اس طرح سے) نماز پڑھو (جس طرح امن کی حالت میں پڑھتے ہو) بیشک نماز کا مومنوں پر اوقات (مقررہ) میں ادا کرنا فرض ہے

(103) اہل ایمان تم جب نماز خوف سے فارغ ہوجاؤ تو اللہ تعالیٰ کی یاد میں اگر تندرست ہو تو کھڑے ہوکر، بیمار ہو تو بیٹھ کر اور زخمی ہو تو جس کی حالت نازل ہو وہ لیٹ کر نماز کی ادائیگی میں لگ جائے اس کے بعد سفر ختم کرکے اپنی منزل پر پہنچ جاؤ تو حسب سابق پوری نماز پڑھو، یقیناً نماز فرض ہے، مسافر پر دو رکعتیں اور مقیم پر چار۔
Ayah 4:104

وَ لَا تَهِنُوْا فِی ابْتِغَآءِ الْقَوْمِ١ؕ اِنْ تَكُوْنُوْا تَاْلَمُوْنَ فَاِنَّهُمْ یَاْلَمُوْنَ كَمَا تَاْلَمُوْنَ١ۚ وَ تَرْجُوْنَ مِنَ اللّٰهِ مَا لَا یَرْجُوْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا۠ Open ayah 4:104 in the Quran reader

اور کفار کے پیچھا کرنے میں سستی نہ کرنا اگر تم بےآرام ہوتے ہو تو جس طرح تم بےآرام ہوتے ہو تو اسی طرح وہ بھی بےآرام ہوتے ہیں اور تم خدا سے ایسی ایسی امیدیں رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھ سکتے اور خدا سب کچھ جانتا (اور) بڑے حکمت والا ہے

(104) غزوہ احد کے بعد ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے تعاقب کا رسول اکرم ﷺ نے جو حکم دیا تھا اللہ تعالیٰ اس کی ترغیب فرمارہا ہے، کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں کے تعاقب میں ہمت مت ہارو اگر تم الم رسیدہ اور غمگین ہو تو وہ بھی الم رسیدہ ہیں اور تمہیں اللہ کی طرف سے ثواب کی امید ہے اور ان کو تو عذاب الہی کا ڈر ہے، اللہ تعالیٰ تمہارے زخموں سے واقف ہے اس نے تمہیں حکمت کے تحت دشمنوں کے تعاقب کا حکم دیا ہے، یہاں سے اللہ تعالیٰ طعمہ بن ابیرق زرہ کے چرانے والے اور زید بن سمین یہودی کا جس نے اس چیز کو شہرت دی کا تذکرہ فرماتا ہے۔
Ayah 4:105

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ لِتَحْكُمَ بَیْنَ النَّاسِ بِمَاۤ اَرٰىكَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَا تَكُنْ لِّلْخَآئِنِیْنَ خَصِیْمًاۙ Open ayah 4:105 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ ہم نے تم پر سچی کتاب نازل کی ہے تاکہ خدا کی ہدایات کے مطابق لوگوں کے مقدمات کا فیصلہ کرو اور (دیکھو) دغا بازوں کی حمایت میں کبھی بحث نہ کرنا۔

(105) اللہ تعالیٰ نے بذریعہ جبریل امین ؑ حق اور باطل کو واضح کردینے کے لیے قرآن کریم نازل کیا ہے تاکہ آپ ﷺ طعمہ اور زید بن سمین کے درمیان اس چیز کے مطابق جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو قرآن کریم میں بتلایا ہے فیصلہ کردیں اور آپ طعمہ کی طرفداری نہ کیجیے۔ شان نزول : (آیت) ”انا انزلنا الیک“۔ (الخ) امام ترمذی ؒ اور حاکم ؒ وغیرہ نے قتادہ بن نعمان سے روایت نقل کی ہے، فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں میں سے ایک گھرانے کو بنو ابیرق کہا جاتا تھا، یعنی بشر، بشیر، مبشر، مگر بشیر منافق آدمی تھا، رسول اکرم ﷺ کی ہجو میں خود اشعار کہتا اور پھر اہل عرب میں سے کسی اور کی طرف منسوب کردیتا تھا اور پھر کہتا کہ فلاں نے ایسا کہا ہے۔ صحابہ کرام ؓ جب اس کے شعر کو سنتے تو فرماتے اللہ کی قسم اس خبیث کے سوا یہ شعر کسی اور کا نہیں ہوسکتا اور یہ گھرانہ زمانہ جاہلیت اور اسلام میں غربت اور فاقہ مستی والا تھا اور لوگوں کی اس تنگی کے زمانہ میں خوراک جو اور کھجوریں تھیں، چناچہ میرے چچا رفاعۃ بن زید نے ایک آٹے کی بوری خریدی اور اس کو ایک کمرہ میں رکھ دیا، جہاں ہتھیار، زرہ اور تلوار وغیرہ بھی رکھی ہوئی تھی تو کسی نے نیچے کی جانب سے اس کمرہ میں نقب لگائی اور وہ کھانا اور ہتھیار چرا کرلے گیا، جب صبح ہوئی تو میرے چچا رفاعۃ پریشانی کے عالم میں میرے پاس آئے اور بولے بھتیجے اس رات تو ہم پر کسی نے بہت ظلم کیا ہے کوئی ہمارے کمرے میں نقب لگا کر ہمارا کھانا اور ہتھیار لے گیا ہے، ہم نے گھروالوں سے اس کی تحقیق اور تلاش شروع کی، ہم سے کہا گیا کہ ہم نے بنو البیرق کو اس رات آگ روشن کرتے ہوئے دیکھا ہے اور ہم نے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں دیکھا یعنی کہ وہ چور ہے اور اب ہم نے اس کو تمہارے کھانے پر دیکھا ہے۔ ہم گھر میں اس چیز کی تحقیق کر ہی رہے تھے کہ اتنے میں بنو البیرق کہنے لگے کہ واللہ ہم لبید بن سہل کے اوپر چور ہونے کا گمان رکھتے ہیں اور لبید بن سہل ؓ ہم لوگوں سے بہت نیک مسلمان شخص تھے، لبید ؓ نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے اپنی تلوار سونت لی اور فرمایا اگر میں چوری کروں گا تو اللہ کی قسم میں اس تلوار سے اپنی گردن اڑا دوں گا، ورنہ اس چوری کے مسئلے کو میرے سامنے واضح بیان کردیں تو وہ لوگ کہنے لگے آپ کو ہم نہیں کہہ رہے آپ ایسے شخص نہیں، چناچہ ہم نے گھر میں اس چیز کی تحقیق کی، ہمیں اس قسم کا کوئی شک باقی نہیں رہا کہ وہ ایسے لوگ ہیں، میرے، چچا نے مجھ سے کہا، بھتیجے اگر تم رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس چیز کا تذکرہ کر دو تو اچھا ہو، چناچہ میں حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا کہ ہمارے پڑوسی ظالم ہیں، انہوں نے میرے چچا کے کمرہ میں نقب لگائی اور ہتھیار اور کھانا لے گئے بہتر ہے کہ ہو ہمارے ہتھیار واپس کردیں، کھانے کی تو کوئی بات نہیں رسول اکرم ﷺ نے فرمایا، اچھا میں اس کی تحقیق کرتا ہوں، بنوالبیرق نے جب یہ سنا تو ان میں سے ایک شخص اسیر بن عروہ نامی حضور ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ سے اس چیز کے بارے میں گفتگو کی، اس بارے میں گھر والوں میں سے بہت سے لوگ جمع ہوگئے اور بولے یارسول اللہ ﷺ قتادہ اور اس کے چچا نے ہمارے گھروالوں کو جو جو مسلمان اور نیک آدمی ہیں، بغیر گواہ اور ثبوت کے چوری کا الزام لگانے کا ارادہ کیا ہے ؟ قتادہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے ارشاد فرمایا مسلمان اور نیک گھرانے پر بغیر گواہ اور ثبوت کے تم نے چوری کی تہمت لگانے کا ارادہ کیا ہے ؟ یہ سن کر میں واپس آیا اور اپنے چچا کو آکر اس چیز سے مطلع کیا، چچا نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہی مددگار ہے ہمیں اس پر تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اتنے میں قرآن کریم کی ”انا انرلنا“۔ سے اخیر تک یہ آیات نازل ہوگئیں یعنی آپ بنو البیرق کے حمایتی نہ بنیے اور قتادہ ؓ سے جو کچھ آپ نے فرمایا اس پر استغفار کیجیے۔
Ayah 4:106

وَّ اسْتَغْفِرِ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 4:106 in the Quran reader

اور خدا سے بخشش مانگنا بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے

(106) اور آپ نے یہودی کو سزا دینے کا جو ارادہ کیا ہے اس سے استغفار کیجیے جو آپ کے دل میں خیال آیا، اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمانے والا ہے۔
Ayahs 4:107–109

وَ لَا تُجَادِلْ عَنِ الَّذِیْنَ یَخْتَانُوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ خَوَّانًا اَثِیْمًاۚۙ Open ayah 4:107 in the Quran reader

اور جو لوگ اپنے ہم جنسوں کی خیانت کرتے ہیں ان کی طرف سے بحث نہ کرنا کیونکہ خدا خائن اور مرتکب جرائم کو دوست نہیں رکھتا

یَّسْتَخْفُوْنَ مِنَ النَّاسِ وَ لَا یَسْتَخْفُوْنَ مِنَ اللّٰهِ وَ هُوَ مَعَهُمْ اِذْ یُبَیِّتُوْنَ مَا لَا یَرْضٰى مِنَ الْقَوْلِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا یَعْمَلُوْنَ مُحِیْطًا Open ayah 4:108 in the Quran reader

یہ لوگوں سے تو چھپتے ہیں اور خدا سے نہیں چھپتے حالانکہ جب وہ راتوں کو ایسی باتوں کو مشورے کیا کرتے ہیں جن کو وہ پسند نہیں کرتا تو ان کے ساتھ ہوا کرتا ہے اور خدا ان کے (تما م) کاموں پر احاطہ کئے ہوئے ہے

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ جٰدَلْتُمْ عَنْهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١۫ فَمَنْ یُّجَادِلُ اللّٰهَ عَنْهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَمْ مَّنْ یَّكُوْنُ عَلَیْهِمْ وَكِیْلًا Open ayah 4:109 in the Quran reader

بھلا تم لوگ دنیا کی زندگی میں تو ان کی طرف سے بحث کرلیتے ہو قیامت کو ان کی طرف سے خدا کیساتھ کون جھگڑے گا ؟ اور کون انکا وکیل بنے گا ؟

(107۔ 108۔ 109) اللہ تعالیٰ ایسے فاجر، کذاب اور بےقصور لوگوں پر بہتان لگانے والوں کو نہیں چاہتے جن کی حالت یہ ہے کہ چوری کی بنا پر لوگوں سے تو شرماتے ہیں، مگر اللہ تعالیٰ سے نہیں شرماتے، حالانکہ اللہ تعالیٰ ان کی تمام باتوں سے باخبر ہے، جس وقت پر یہ لوگ ایسی باتیں کہہ رہے تھے کہ جن کو نہ اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے اور نہ یہ خود پسند کرتے ہیں اور جو یہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کا جاننے والا ہے، قوم طعمہ یعنی بنی ظفر دنیاوی زندگی میں تو تم نے طعمہ کی طرف سے جھگڑا کرلیا، لیکن اللہ تعالیٰ کو طعمہ کی جانب سے کون جواب دے گا یا طعمہ پر عذاب خداوندی کا کون ذمہ دار ہوگا۔
Ayah 4:110

وَ مَنْ یَّعْمَلْ سُوْٓءًا اَوْ یَظْلِمْ نَفْسَهٗ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰهَ یَجِدِ اللّٰهَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:110 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی برا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرلے پھر خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا (اور) مہربان پائے گا

(110) اور جو چوری کرے اور جھوٹی قسم کھا کر بہتان باندھ کر اپنے آپ کو نقصان پہنچائے، پھر گناہوں سے اللہ تعالیٰ سے توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ کو قبول فرمائے گا،
Ayah 4:111

وَ مَنْ یَّكْسِبْ اِثْمًا فَاِنَّمَا یَكْسِبُهٗ عَلٰى نَفْسِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:111 in the Quran reader

اور جو گناہ کرتا ہے تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا ہے (اور) حکمت والا ہے

(111) اور جو شخص چوری کرکے پھر اس پر جھوٹی قسم کھاتا ہے تو اس کی سزا وہ خود بھگتتا ہے اور اللہ تعالیٰ زرہ کے چوری کرنے والے کو اچھی طرح جاننے والا ہے اور وہ حکیم ہے کہ اس چور پر ہاتھ کاٹے جانے کا فیصلہ کیا ہے۔
Ayah 4:112

وَ مَنْ یَّكْسِبْ خَطِیْٓئَةً اَوْ اِثْمًا ثُمَّ یَرْمِ بِهٖ بَرِیْٓئًا فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:112 in the Quran reader

اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بےگناہ کو متہم کر دے تو اس بہتان اور صریح گناہ کو بوجھ اپنے سر پر رکھا

(112) اور جو شخص چوری کرے یا اس پر جھوٹی قسم کھائے اور لبید بن سہل ایسے نیک اور بےگناہ پر ایسا الزام لگائے تو اس نے خود اپنے اوپر ایک بہتان عظیم اور اس گناہ کی سزا لادلی ہے۔
Ayah 4:113

وَ لَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ وَ رَحْمَتُهٗ لَهَمَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ اَنْ یُّضِلُّوْكَ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَضُرُّوْنَكَ مِنْ شَیْءٍ١ؕ وَ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَیْكَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ١ؕ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا Open ayah 4:113 in the Quran reader

اور اگر تم پر خدا کا فضل اور مہربانی نہ ہوتی تو ان میں سے ایک جماعت تم کو بہکانے کا قصد کرچکی تھی۔ اور یہ اپنے سوا (کسی کو) بہکانے نہیں سکتے اور نہ تمہارا کچھ بگاڑ سکتے ہیں اور خدا نے تم پر کتاب اور دانائی نازل فرمائی ہے اور تمہیں وہ باتیں سکھائی ہیں جو تم جانتے نہیں تھے اور تم پر خدا کو بڑا فضل ہے

(113) اور اگر آپ ﷺ پر نبوت اور جبریل امین ؑ کو آپ کے پاس بھیج کر اللہ کی طرف سے فضل اور رحمت نہ ہوتی تو طعمہ کی قوم نے تو آپ کو صحیح حکم سے غلطی میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا تھا۔ لیکن اس کا نقصان اسی پر ہے جو جھوٹی گواہی دے اور ہم نے آپ ﷺ پر بذریعہ جبریل امین ؑ قرآن کریم نازل کیا، جس میں حلال و حرام اور تمام فیصلوں کو بیان کردیا ہے اور آپ کو بذریعہ قرآن حکیم ان احکام وحدود سے آگاہ کیا جن سے آپ نزول قرآن سے پہلے آگاہ نہ تھے اور نبوت کی وجہ سے آپ پر بڑا فضل ربی ہے۔
Ayah 4:114

لَا خَیْرَ فِیْ كَثِیْرٍ مِّنْ نَّجْوٰىهُمْ اِلَّا مَنْ اَمَرَ بِصَدَقَةٍ اَوْ مَعْرُوْفٍ اَوْ اِصْلَاحٍۭ بَیْنَ النَّاسِ١ؕ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:114 in the Quran reader

ان لوگوں کی بہت سی مشورتیں اچھی نہیں ہاں (اس شخص کی مشورت اچھی ہوسکتی ہے) جو خیرات یا نیک بات یا لوگوں میں صلح کرنے کو کہے اور جو ایسے کام خدا کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے کرے گا تو ہم اس کو بڑا ثواب دیں گے

(114) قوم طعمہ کی سرگوشیوں میں کوئی خیر اور برکت نہیں، البہت جو مساکین کو صدقہ و خیرات دینے یا کسی شخص کو قرض دینے یا طعمہ اور زید بن سمین کے درمیان باہم اصلاح کرنے کی ترغیب کرے تو ایسی صلاح پر مبنی سرگوشیوں کی بھی گنجایش ہے سو جو شخص محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے یہ باتیں کرے تو ہم اس کو جنت میں پورا ثواب دیں گے۔
Ayah 4:115

وَ مَنْ یُّشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُ الْهُدٰى وَ یَتَّبِعْ غَیْرَ سَبِیْلِ الْمُؤْمِنِیْنَ نُوَلِّهٖ مَا تَوَلّٰى وَ نُصْلِهٖ جَهَنَّمَ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًا۠ Open ayah 4:115 in the Quran reader

اور جو شخص سیدھا راستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر ﷺ کی مخالفت کرے اور مومنوں کے راستے کے سوا اور راستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے ادھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے

(115) اور جو شخص توحید اور امر حق کے ظاہر ہونے کے بعد رسول اکرم ﷺ کی ان باتوں میں مخالفت کرے یعنی طعمہ اور مسلمانوں کے دین پر مشرکین مکہ کے دین کو ترجیح دے اور اس راستہ کو اختیار کرے، سو دنیا میں جو طریقہ اس نے اختیار کیا ہے یعنی کفر، اسی پر ہم اسے چھوڑ دیتے ہیں اور آخرت میں دوزخ میں داخل کریں گے ، شان نزول : (آیت) ”ومن یشاقق الرسول“۔ (الخ) جب قرآن کریم کا یہ حکم نازل ہوا تو رسول اکرم ﷺ ہتھیار لے کر آئے اور رفاعہ ؓ کو دے دیے اور بشیر منافق مشرکوں کے ساتھ جا کر مل گیا اور سلافہ بنت سعد کے پاس جاکر اترا، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں، امام حاکم ؒ فرماتے ہیں امام مسلم کی شرط کے مطابق یہ حدیث صحیح ہے۔ اور ابن سعد ؒ نے طبقات میں اپنی سند کے ساتھ محمود بن لبید سے روایت نقل کی ہے کہ بشیر بن حارث نے قتادہ بن نعمان ؓ کے چچا علیتہ رفاعۃ بن زید پر زیادتی کی اور اس کے گھر میں نقب لگا کر ان کا کھانا اور دو زرہیں چرالیں، قتادہ ؓ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو واقعہ بتایا، آپ نے بشیر کو بلایا اور اس سے اس کی تحقیق کی، اس نے اسی گھرانے میں سے لبید بن سہل کو جو حسب و نسب والے تھے مہتم کیا، چناچہ آیات قرآنیہ بشیر کی تکذیب اور لبید ؓ کی برأت میں نازل ہوگئیں جب آیات قرآنیہ بشیر کی تکذیب میں نازل ہوئیں تو وہ مرتد ہو کر مکہ مکرمہ سے بھاگ گیا اور سلافہ بنت سعد کے پاس پڑاؤ کیا اور وہاں رسول اکرم ﷺ اور مسلمانوں کی ہجو میں اشعار کہنا شروع کیے۔ (سازش کے طور پر مسلمان ہوا تھا اب ظاہری اسلام کا پردہ اتار کر اپنے اصل روپ میں سامنے آگیا جو ارتداد و کفر کا تھا وگرنہ حضور ﷺ کی تربیت پایا ہوا کوئی شخص اسلام سے نہیں پھرا، یہ شخص حضور ﷺ کا گستاخ تھا اس کا اسلام تھا ہی نہیں (مترجم) تب اس کے بارے میں (آیت) ”ومن یشاقق الرسول“۔ (الخ) یہ آیت نازل ہوئی اور حضرت حسان بن ثابت ؓ نے اس کی ہجو کی یہاں تک کہ وہ وہاں سے لوٹ آیا۔ اور یہ واقعہ ماہ ربیع 4 ھ میں پیش آیا۔
Ayah 4:116

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ ضَلَّ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:116 in the Quran reader

خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اسکے سوا (اور گناہ) جس کو چاہے گا بخش دیگا اور جس نے خدا کے ساتھ شریک بنایا وہ راستے سے دور جا پڑا

(116) طعمہ کے طریقہ پر جو حالت شرک پر مرجائے گا، اس کی مغفرت نہ ہوگی اور شرک سے کم جو گناہ ہوں گے جو اس کا اہل ہوگا تو اس کی مغفرت فرما دیں گے۔
Ayah 4:117

اِنْ یَّدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖۤ اِلَّاۤ اِنٰثًا١ۚ وَ اِنْ یَّدْعُوْنَ اِلَّا شَیْطٰنًا مَّرِیْدًاۙ Open ayah 4:117 in the Quran reader

یہ جو خدا کے سوا پرستش کرتے ہیں تو عورتوں ہی کی اور پکارتے ہیں تو شیطان سرکش ہی کو

(117) اہل مکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ لات، عزی، مناۃ ایسے بتوں کو پوجتے ہیں کہ جن میں کچھ بھی جان نہیں گویا یہ صرف شیطان کی پوجا کرتے ہیں جو کہ سخت قسم کا سرکش ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ نے ہر ایک خیر سے دور کردیا ہے۔
Ayahs 4:118–120

لَّعَنَهُ اللّٰهُ١ۘ وَ قَالَ لَاَتَّخِذَنَّ مِنْ عِبَادِكَ نَصِیْبًا مَّفْرُوْضًاۙ Open ayah 4:118 in the Quran reader

جس پر خدا کی لعنت کی ہے (جو خدا سے) کہنے لگا میں تیرے بندوں سے (غیر خدا کی نذر دلوا کر مال کا) ایک مقرر حصہ لے لیا کروں گا

وَّ لَاُضِلَّنَّهُمْ وَ لَاُمَنِّیَنَّهُمْ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُبَتِّكُنَّ اٰذَانَ الْاَنْعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّهُمْ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلْقَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّخِذِ الشَّیْطٰنَ وَلِیًّا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَقَدْ خَسِرَ خُسْرَانًا مُّبِیْنًاؕ Open ayah 4:119 in the Quran reader

اور ان کو گمراہ کرتا اور امید دلاتا رہوں گا اور یہ سکھاتا رہوں گا کہ جانوروں کے کان چیرتے رہیں اور (یہ بھی) کہتا رہوں گا کہ وہ خدا کی بنائی ہوئی صورتوں کو بدلتے رہیں اور جس شخص نے خدا کو چھوڑ کر شیطان کو دوست بنایا وہ صریح نقصان میں پڑگیا

یَعِدُهُمْ وَ یُمَنِّیْهِمْ١ؕ وَ مَا یَعِدُهُمُ الشَّیْطٰنُ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 4:120 in the Quran reader

وہ ان کو وعدے دیتا ہے اور امیدیں دلاتا ہے اور جو کچھ شیطان انہیں وعدے دیتا ہے وہ دھوکا ہی دھوکا ہے

(118۔ 119۔ 120) اس ابلیس ملعون نے کہا تھا کہ ضرور ایک بڑے حصے کو تیری اطاعت سے بےراہ کرکے اپنا حصہ اس سے لوں گا یا یہ کہ ہزار میں سے نو سو ننانوے کو دوزخ میں داخل کراؤں گا اور ہدایت سے گمراہی پر لاؤں گا اور جو شخص شیطان کی پوجا کرتا ہے وہ دنیا وآخرت کے برباد ہونے کی وجہ سے کھلے نقصان میں ہے۔ شیطان ان سے یہ وعدے کرتا ہے کہ جنت اور دوزخ کچھ نہیں اور یہ جھوٹی امید دلاتا ہے کہ دنیا کا خاتمہ نہیں ہوگا۔