4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 4:41

فَكَیْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۭ بِشَهِیْدٍ وَّ جِئْنَا بِكَ عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ شَهِیْدًا٢ؕؐ Open ayah 4:41 in the Quran reader

بھلا اس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے احوال بتانے والے کو بلائیں گے اور تم کو ان لوگوں کا (حال بتانے کو) گواہ طلب کریں گے

(41) کفار اس وقت کیا کریں گے جب کہ ہر قوم پر ان کا نبی احکام خداوندی پہنچانے کی گواہی دے گا اور یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اپنی امت کی گواہی دیں گے اور تصدیق کریں گے کیوں کہ دیگر انبیاء کرام کی قومیں جب ان کو جھٹلایں گی تو حضور ﷺ کی امت حضور ﷺ کی نبوت کی تصدیق کرنے کے ساتھ ساتھ ان انبیاء کی نبوت کی بھی تصدیق کرے گی۔
Ayah 4:42

یَوْمَئِذٍ یَّوَدُّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ عَصَوُا الرَّسُوْلَ لَوْ تُسَوّٰى بِهِمُ الْاَرْضُ١ؕ وَ لَا یَكْتُمُوْنَ اللّٰهَ حَدِیْثًا۠ Open ayah 4:42 in the Quran reader

اس روز کافر اور پیغمبر کے نافرمان آرزو کریں گے کہ کاش ان کو زمین میں مدفون کر کے مٹی برابر کردی جاتی اور خدا سے کوئی بات چھپا نہیں سکیں گے

(42) اور قیامت کے دن کفار اس بات کی تمنا کریں گے، کہ کاش ہم بھی جانوروں کی طرح خاک ہوجائیں اور ہمارا حساب کتاب بالکل نہ ہو۔
Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

مومنو ! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو جب تک (ان الفاظ کو) جو منہ سے کہو سمجھنے (نہ) لگو نماز کے پاس نہ جاؤ یہ آیت حرمت شراب کی آیت سے منسوخ ہے اور جنابت کی حالت میں بھی (نماز کے پاس نہ جاؤ) جب تک کہ غسل (نہ) کرلو ہاں اگر بحالت سفر راستے چلے جا رہے ہو (اور پانی نہ ملنے کے سبب غسل نہ کرسکو تو تیمم کر کے نماز پڑھ لو) اور اگر تم بیمار ہو یا سفر میں ہو یا تم میں سے بیت الخلا سے ہو کر آیا ہو یا تم عوتوں سے ہم بستر ہوئے ہو اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے منہ اور ہاتھ کا مسح (کر کے) تیمم کرلو بیشک خدا معاف کرنے والا (اور) بخشنے والا ہے

(43) شراب کی حرمت سے پہلے یہ حکم نازل ہوا ہے کہ مسجد نبوی میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایسی حالت میں مت آؤ بغیر غسل کے بھی جنابت کی حالت میں مسجد میں نہ آؤ کہ ماسوا تمہارے راہ گزر یا مسافر ہونے کی حالت کے یا جس نے اپنی بیوی کے ساتھ قربت کی ہو اور مذکورہ صورتوں میں اگر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرو، ایک مرتبہ مٹی پر ہاتھ مار کر اپنے چہروں پر پھیر لیاکرو، اور دوسری مرتبہ ہاتھ مار کر اپنے ہاتھوں پر پھیر لیاکرو، اللہ تعالیٰ دینی امور میں تمہیں اس طرح سہولت دیتا ہے اور اس میں جو تم سے کوتاہی ہوجائے اس کو معاف فرمانے والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوا لاتقربوا الصلوۃ“۔ (الخ) ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور حاکم نے حضرت علی ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ عبدالرحمن بن عوف نے ہمارا کھانا پکایا اور ہمیں کھانے کی دعوت دی اور شراب بھی پلائی جس کیوجہ سے ہمیں نشہ آگیا اور پھر نماز کا وقت آگیا۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ سب سے مجھے آگے کردیا۔ میں سورة کافروں پڑھی اور (آیت) ”لا اعبد ماتبدون“ کی بجائے ”ونحن نعبد ما تعبدون، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اے ایمان والو تم نماز کے پاس بھی ایسی حالت میں مت جاؤ، فریابی ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ولا جنبا“۔ مسافر کے بارے میں نازل ہوئی ہے کہ اگر اسے جنابت کی حالت لاحق ہوجائے تو وہ تیمم کر کے نماز پڑھ لے اور ابن مردویہ نے اسلم بن شریک سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی پر کجاوہ کسا کرتا تھا ایک بہت ٹھنڈی رات میں مجھے جنابت کی حالت پیش آگئی تو مجھے خوف ہوا کہ اگر اس قدر ٹھنڈے پانی سے غسل کروں گا تو مرجاؤں گا یا سخت نماز بیمار پڑجاؤں گا، غرض کہ اس چیز کا میں نے رسول اللہ ﷺ سے ذکر کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی اور طبرانی نے اسلع سے اس طرح روایت نقل کی ہے کہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کیا خدمت کیا کرتا تھا اور آپ کی اونٹنی پر کجاوہ کسا کرتا تھ۔ ایک دن آپ نے فرمایا اسلع کجاوہ کس دے میں نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے تو جنابت لاحق ہوگئی ہے۔ آپ یہ سن کر خاموش ہوگئے، ایسے میں آسمان سے حضرت جبریل امین تیمم کا حکم لے کر نازل ہوئے، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اسلع تیمم کرلو اور آپ نے مجھے تیمم کرنا سکھلایا کہ ایک مرتبہ مٹی پر ہاتھ مار کر چہرے پر ملو اور دوسری مرتبہ ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں پر کہنیوں سمیت ملو چناچہ میں نے کھڑے ہو کر تیمم کیا اور پھر آپ کے لیے کجاوہ کسا۔ ابن جریر ؒ نے یزید بن ابی حبیب ؓ سے روایت کیا ہے کہ کچھ انصاری لوگوں کے مکانوں کے دروازے مسجد میں تھے، چناچہ ان کو جنابت پیش آئی اور پانی ان کے پاس نہ ہوتا تھا اور پانی کے لیے وہ اپنے مکانوں سے نکلنا چاہتے تھے مگر مسجد کے علاوہ اور کوئی راستہ ان کو نہیں ملتا تھا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ”الا عابر سبیل“ کہ بجز راہ گزر کے اور ابن ابی حاتم ؒ نے مجاہد ؒ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ایک انصاری شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ سخت بیمار تھے، کھڑے ہو کر وضو کرنے کی ان میں ہمت نہیں تھی اور نہ ان کے پاس کوئی خادم تھا جو ان کو وضو کرا دیتا ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کا ذکر کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (آیت) ”وان کنتم مرضا“۔ اور اگر تم بیمار ہو۔ الخ۔ اور ابن جریر نے ابراہیم مخفی سے روایت نقل کی ہے کہ ایک غزوہ میں صحابہ کرام ؓ زخمی ہوگئے اور پھر ایسے میں جنابت کی حالت پیش آگئی انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اس چیز کی اطلاع کی، اس پر یہ آیت نازل ہوئی ،
Ayahs 4:44–45

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا تھا کہ وہ گمراہی کو خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستے سے بھٹک جاؤ

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اور خدا تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے اور خدا ہی کافی کارساز اور کافی مددگار ہے

(44۔ 45) کیا کتاب میں ان لوگوں سے آگاہی نہیں ہوئی جن کو توریت کا کچھ علم دیا گیا، اور انہوں نے یہودیت کا اختیار کیا اور کیا دین اسلام چھوڑنا چاہتے ہیں، اللہ تعالیٰ منافقین اور یہودیوں سے بخوبی آگاہ ہے۔ شان نزول : الم تر الی الذین اوتو“۔ (الخ) ابن اسحاق ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ علماء یہود میں سے رفاعہ بن زید جب رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کرتا تو کہتا ”۔ ارعنا سمعک حتی“۔ (ادھر متوجہ ہوں تاکہ میں آپ کی بات سنوں) لیکن وہ یہ بات توہین وتحقیر آمیز انداز میں کہتا، پھر اسلام میں طعن وتشنیع کرتا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ الم تر الی الذین“۔ کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب کا ایک بڑا حصہ ملا ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:46

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

اور یہ جو یہودی ہیں ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں کہ کلمات کو ان کے مقامات سے بدل دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا اور نہیں مانا اور سنیئے نہ سنوائے جاؤ اور زبان کو مروڑ کر اور دین میں طعن کی راہ (تم سے گفتگو کے وقت) راعنا کہتے ہیں اور اگر یوں کہتے کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور (صرف) اسمع اور (راعنا کی جگہ) انظرنا (کہتے) تو انکی حق میں بہتر ہوتا اور بات بھی درست ہوتی لیکن خدا نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے تو یہ کچھ تھوڑے ہی ایمان لاتے ہیں

(46) یہودیوں کے دوعالموں یسبع اور رافع بن حرملہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، انہوں نے عبداللہ بن ابی اور ان کے ساتھیوں کو اپنے دین کو دعوت دی تھی، مالک بن صیف یہودی اور اس کے ساتھی باوجود یہ کہ رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت توریت میں موجود ہے۔ مگر پھر بھی اس میں ترمیم کرتے اور چھپاتے ہیں اور رسول اکرم کی خدمت میں آکر اپنی زبانوں کو توہین کے لہجہ میں تبدیل کرکے اور دین میں عیب جوئی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ظاہرا تو آپ کی بات کو سنتے ہیں مگر حقیقت میں ہم اس کی نافرمانی کرتے ہیں اور اگر یہ یہودی ”سمعنا“ وغیرہ کہتے ہیں تو اگر یہ اس طرح کے تحقیری جملوں سے گریز کرتے تو یہ بات ان کے لیے بہتر ہوتی، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی سزا میں ان پر جزیہ مسلط کردیا ہے۔
Ayah 4:47

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ اٰمِنُوْا بِمَا نَزَّلْنَا مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّطْمِسَ وُجُوْهًا فَنَرُدَّهَا عَلٰۤى اَدْبَارِهَاۤ اَوْ نَلْعَنَهُمْ كَمَا لَعَنَّاۤ اَصْحٰبَ السَّبْتِ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 4:47 in the Quran reader

اے کتاب والو ! قبل اس کے کہ ہم لوگوں کے مونہوں کو بگاڑ کر ان کو پیٹھ کی طرف پھیر دیں یا ان پر اس طرح لعنت کریں جس طرح ہفتے والوں پر کی تھی ہماری نازل کی ہوئی کتاب پر جو تمہیں کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے ایمان لاؤ اور خدا نے جو حکم فرمایا سو (سمجھ لو کہ) ہوچکا

(47) ان لوگوں میں سے تو عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ہی ایمان قبول کریں گے جن کو توریت کا علم رسول اللہ ﷺ کی نعت و صفت میں بالکل موافق ہے، اس کا علم دیا گیا ہے اس سے پہلے کہ ان کے دل تبدیل ہو کر گمراہ ہوجائیں اور ہدایت کی روشنیوں سے پھرجائیں اور ان کی اور ان کی صورتیں پچھلی طرف ہوجائیں یا ان کی شکلیں ہم تبدیل کر کے ان کو بندر بنا دیں، ان کو ایمان لے آنا چاہئے، چناچہ اس آیت کے نازل ہونے کے بعد عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی مشرف بااسلام ہوئے۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین اوتو الکتب امنوا“۔ (الخ) ابن اسحاق ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علماء یہود عبداللہ بن صوریا اور کعب بن اسید سے گفتگو کی اور فرمایا اے گروہ یہود اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور ایمان لے آؤ اللہ کی قسم تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس جو چیز لے کر آیا ہوں، وہی سچ ہے وہ بولے اے محمد ﷺ ہم نہیں جانتے چناچہ ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، اے وہ لوگ جن کو کتاب دی گئی ہے تم اس کتاب قرآن پر ایمان لاؤ جس کو ہم نے نازل کیا ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:48

اِنَّ اللّٰهَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَكَ بِهٖ وَ یَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِكَ لِمَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدِ افْتَرٰۤى اِثْمًا عَظِیْمًا Open ayah 4:48 in the Quran reader

خدا اس گناہ کو نہیں بخشے گا کہ کسی کو اس کا شریک بنایا جائے اور اس کے سوا اور گناہ جس کو چاہے معاف کر دے اور جس نے خدا کا شریک مقرر کیا اس نے بڑا بہتان باندھا

(48) اگر تمہیں کفر پر موت آجائے تو تمہاری ہرگز مغفرت نہیں ہوگی، یہ آیت حضرت حمزہ ؓ رسول اکرم ﷺ کے چچا کے قاتل وحشی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ شان : (آیت) ”ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور طبرانی ؒ نے ابو ایوب انصاری ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آکر عرض کیا کہ میرا بھتیجا حرام کاموں سے باز نہیں آتا آپ نے فرمایا اس کا دین کیا ہے اس شخص نے کہا کہ وہ توحید خداوندی کا قائل ہے اور نماز پڑھتا ہے، حضور ﷺ نے فرمایا اس سے اس کا دین مفت مانگو اور اگر مفت دینے سے انکار کرے تو اس سے خرید لو (مفت سے مراد یہ ہے کہ اگر دین اس کے نزدیک بےقدر بےوقعت ہو تو وہ دین بمنزلہ مفت ہے اور خریدنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے ہاں دین کی قدر واہمیت پیسے کے مقابلے میں کتنی ہے) چناچہ اس شخص نے اپنے بھتیجے سے اس چیز کا مطالبہ کیا، اس نے انکار کردیا، اس شخص نے حضور سے آکر عرض کیا کہ میں نے اس کو دین پر پختہ پایا۔ تب یہ آیت نازل ہوئی، یعنی اللہ تعالیٰ شرک کے علاوہ اور گناہ جس کو چاہیں گے معاف کردیں گے مشرک کو معاف نہیں کریں گے (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayahs 4:49–50

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یُزَكُّوْنَ اَنْفُسَهُمْ١ؕ بَلِ اللّٰهُ یُزَكِّیْ مَنْ یَّشَآءُ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:49 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو اپنے تئیں پاکیزہ کہتے ہیں ؟ نہیں بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے پاکیزہ کرتا ہے اور ان پر دھاگے برابر بھی ظلم نہیں ہوگا

اُنْظُرْ كَیْفَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖۤ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 4:50 in the Quran reader

دیکھو یہ خدا پر کیسا جھوٹ (طوفان) باندھتے ہیں اور یہی گناہ صریح کافی ہے

(49۔ 50) یعنی بحیر ابن عمرو اور مرحب بن زید اپنے آپ کو مقدس بتاتے ہیں حالانکہ جو شخص اس کا اہل ہوگا اللہ تعالیٰ اس کو گناہوں سے پاک کردے گا، اور کھجور کی گٹھلی میں جو لیکر ہے یا انگلی کے درمیان جو میل کی دھاری سے پڑجاتی ہے، اس کے برابر بھی ان کے گناہوں میں کمی نہیں کی جائے گی۔ محمد ﷺ ذرا ان کا جھوٹ تو دیکھیے کہ کہتے ہیں کہ ہم دن میں جو گناہ کرتے ہیں، اللہ تعالیٰ رات کو ان کی مغفرت فرما دیتے ہیں اور جو رات کو کرتے ہیں تو دن میں ان کو معاف کردیتا ہے ان کا اللہ پر یہ غلط گمان ان کے مجرم ہونے کے لیے کافی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”الم تر الی الذین یزکون“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت یا کہ کچھ یہود اپنے بچوں کو لائے کہ وہ ان کی طرف سے نمازیں پڑھیں اور قربانی دیں اور یہ سمجھتے تھے کہ ان پر چھوٹے اور بڑے گناہ میں سے کوئی گناہ نہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ان لوگوں کو بھی دیکھو جو اپنے مقدس سمجھتے ہیں اور پھر یہ خلاف دین کام بھی کرتے ہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayahs 4:51–52

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یُؤْمِنُوْنَ بِالْجِبْتِ وَ الطَّاغُوْتِ وَ یَقُوْلُوْنَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا هٰۤؤُلَآءِ اَهْدٰى مِنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا سَبِیْلًا Open ayah 4:51 in the Quran reader

بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب کا حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطانوں کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے راستے پر ہیں

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ١ؕ وَ مَنْ یَّلْعَنِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:52 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے

(51۔ 52) محمد ﷺ آپ نے مالک بن صیف اور اس کے ساتھیوں کو (جن کی تعداد تقریبا ستر ہے) نہیں دیکھا کہ یہ لوگ حی بن اخطب اور کعب بن اشرف کی باتوں کو مانتے ہیں اور اس بات کے دعویدار ہیں کہ کفار مکہ حضور ﷺ کے پیروکاروں کی نسبت کے زیادہ صحیح راستہ پر ہیں۔ (نعوذ باللہ) ان کی اس گستاخانہ روش کے سبب ان لوگوں پر جزیہ نافذ کردیا گیا اور جن پر اللہ تعالیٰ دنیا وآخرت میں عذاب نازل فرمائے تو اللہ کے مقابلے میں ان کی عذاب الہی سے کون حفاظت کرسکتا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”الم تر الی الذین اوتوا“۔ (الخ) احمد اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب کعب بن اشرف یہودی مکہ آیا تو قریش نے اس سے کہا کہ اس شخص کو نہیں دیکھا جو اپنی قوم میں نبوت کا دعوی کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ہم سے بہتر ہے حالانکہ ہم حجاج ہیں سدانیہ اور سقایہ والے ہیں۔ کعب بولا کہ نہیں وہ نہیں بلکہ تم لوگ بہتر ہو۔ چناچہ ان کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئیں۔ ابن اسحاق ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش کے پاس جن قبیلوں نے جماعتیں روانہ کیں وہ غطفان اور بنی قریظہ تھے ، ، چناچہ انہوں نے حیی بن اخطب، سلام بن ابی الحقیق، ابورافع اور ربیع بن ابو الحقیق اور ابو عمارہ کو روانہ کیا اور بنی نضیر نے اپنے خطیب جو زۃ بن قیس کو روانہ کیا جب یہ لوگ قریش کے پاس پہنچے تو وہ بولے کہ یہ یہود کے علماء ہیں پہلی کتابوں کے جاننے والے ہیں، ان سے اپنے دین کے بارے میں پوچھو کہ ہمارا دین بہتر ہے یا محمد ﷺ کا، چناچہ قریش نے ان لوگوں سے دریافت کیا یہ کہنے لگے کہ تمہارا دین ان کے دین سے بہتر ہے اور تم ان سے اور ان کے متبعین سے زیادہ صحیح راستے پر قائم ہو۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayahs 4:53–54

اَمْ لَهُمْ نَصِیْبٌ مِّنَ الْمُلْكِ فَاِذًا لَّا یُؤْتُوْنَ النَّاسَ نَقِیْرًاۙ Open ayah 4:53 in the Quran reader

کیا ان کے پاس بادشاہی کا کچھ حصہ ہے کہ تم لوگوں کو تل برابر بھی نہ دیں گے

اَمْ یَحْسُدُوْنَ النَّاسَ عَلٰى مَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۚ فَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اٰلَ اِبْرٰهِیْمَ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ اٰتَیْنٰهُمْ مُّلْكًا عَظِیْمًا Open ayah 4:54 in the Quran reader

یا جو خدا نے لوگوں کو اپنے فضل سے دے رکھا ہے اس کا حسد کرتے ہیں تو ہم نے خاندان ابراہیم کو کتاب اور دانائی عنایت فرمائی تھی اور سلطنت عظیم بھی بخشی تھی

(53۔ 54) اگر یہود کے پاس سلطنت کا کچھ حصہ ہوتا تو یہ رسول اکرم ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام کو گٹھلی کے چھلکے کے برابر بھی اس میں سے نہ دیتے بلکہ آپ کو جو اللہ تعالیٰ نے کتاب ونبوت اور حرم نبوی کو جو بہترین عورتیں عطا کی ہیں۔ اس پر یہ حسد کرتے ہیں، ہم نے حضرت داؤد ؑ وسلیمان ؑ کو علم وفہم اور نبوت عطا کی اور نبوت واسلام کے ذریعے عزت عطا کی اور بنی اسرائیل کی بادشاہت دی چناچہ حضرت داؤد ؑ کی سو بیبیاں تھیں اور حضرت سلیمان ؑ کے ہاں سات سو باندیاں اور سو بیبیاں تھیں۔ شان نزول : (آیت) ”ام یحسدون“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے بواسطہ عوفی ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ اہل کتاب بولے محمد ﷺ سمجھتے ہیں کہ ان کو بڑی بادشاہت مل گئی اور ان کی نو ازواج مطہرات ہیں ان کا کام صرف شادی کرنا ہے تو اس سے افضل کون سی بادشاہت ہوگی اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ نازل فرمائی اور ابن سعد نے عمر مولی عفرہ سے اسی طرح اس سے مفصل روایت نقل کی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:55

فَمِنْهُمْ مَّنْ اٰمَنَ بِهٖ وَ مِنْهُمْ مَّنْ صَدَّ عَنْهُ١ؕ وَ كَفٰى بِجَهَنَّمَ سَعِیْرًا Open ayah 4:55 in the Quran reader

پھر لوگوں میں سے کسی نے تو اس کتاب کو مانا اور کوئی اس سے رکا (اور ہٹا) رہا تو ان نہ ماننے والوں (کے جلانے) کو دورزخ کی جلتی ہوئی آگ کافی ہے

(55) یعنی داؤد ؑ و سلیمان ؑ کی کتاب پر ایمان لائے ہیں، مگر کعب اور اس کے ساتھیوں کے لیے تو جہنم کی دہکتی ہوئی آگ ہے۔
Ayah 4:56

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِنَا سَوْفَ نُصْلِیْهِمْ نَارًا١ؕ كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُوْدُهُمْ بَدَّلْنٰهُمْ جُلُوْدًا غَیْرَهَا لِیَذُوْقُوا الْعَذَابَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَزِیْزًا حَكِیْمًا Open ayah 4:56 in the Quran reader

جن لوگوں نے ہماری آیتوں سے کفر کیا ان کو ہم عنقریب آگ میں داخل کریں گے جب ان کی کھالیں گل اور جل جائیں گی تو ہم اور کھالیں بدل دیں گے تاکہ (ہمشہ) عذاب (کا مزہ) چکھتے رہیں بیشک خدا غالب حکمت والا ہے

(56) اور جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں، ہم آخرت میں ان کو دوزخ میں داخل کریں گے، جب ان کے بدن جل جائیں گے تو ہم انہیں دوسری کھالیں دیں گے تاکہ درد کی شدت معلوم ہو، اللہ تعالیٰ ان کھالوں کی تبدیلی کرنے میں بڑی حکمت والے ہیں۔
Ayah 4:57

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَنُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ؕ لَهُمْ فِیْهَاۤ اَزْوَاجٌ مُّطَهَّرَةٌ١٘ وَّ نُدْخِلُهُمْ ظِلًّا ظَلِیْلًا Open ayah 4:57 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو ہم بہشتوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے وہاں ان کے لئے پاک بیبیاں ہیں اور ہم ان کو گھنے سائے میں داخل کریں گے

(57) اگلی آیت مومنین کے بارے میں نازل فرمائی کہ رسول اللہ ﷺ قرآں کریم اور تمام کتابوں اور رسولوں پر ایمان رکھتے ہیں اور خلوص کے ساتھ تمام احکام خداوندی کی بجا آوری کرتے ہیں، ایسے حضرات کو آخرت میں ایسے باغات ملیں گے، جن میں درختوں کے نیچے شہد، دودھ، پانی پاکیزہ، اور شراب کی نہریں جارہی ہوں گی وہ جنت میں رہیں گے نہ ان کو موت آئے گی، اور نہ وہ اس سے نکالے جائیں گے، حیض اور ہر قسم کی باتوں سے پاک عورتیں ہوں گی اور عزت کے ساتھ گھنے سایہ میں ہم ان کو داخل کریں گے۔
Ayah 4:58

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

خدا تم کو حکم دیتا ہے کہ امانت والوں کی امانتیں ان کے حوالے کردیا کرو اور جب لوگوں میں فیصلہ کرنے لگو تو انصاف سے فیصلہ کیا کرو خدا تمہیں بہت خوب نصیحت کرتا ہے بیشک خدا سنتا (اور) دیکھتا ہے

(58) رسول اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے دن حضرت عثمان ؓ بن بی طلحہ کلید بردار خانہ کعبہ سے کلید (چابی) کعبہ لی تھی تو اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کو اس آیت میں کلید خانہ کعبہ عثمان بن ابی طلحہ ؓ کو واپس کردینے کا حکم دیا ہے کہ ان کی امانت ان ہی کو واپس کردو۔ اور جب عثمان بن ابی طلحہ اور عباس بن عبد المطلب کے درمیان فیصلہ کرو تو کلید (چابی) حضرت عثمان ؓ کو دو اور سقایہ (زمزم شریف پلانے کی خدمت) حضرت عباس ؓ کے سپرد کردو۔ اللہ تعالیٰ امانتوں کی واپسی اور عدل کرنے کا حکم دیتا ہے اور وہ حضرت عباس ؓ کی اس درخواست کو کہ یارسول اللہ ﷺ سقایہ کے ساتھ کلید (چابی) بھی مجھے مرحمت فرما دیجیے، سن رہا ہے اور حضرت عثمان ؓ کے اس فعل کو بھی دیکھ رہا ہے جب کہ انہوں نے حضرت عباس ؓ کی درخواست پر بیت اللہ کی چابی دیتے ہوئے ہاتھ روک لیا تھا، پھر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس چابی کو اللہ تعالیٰ کی امانت میں لے لیجیے۔ شان نزول : (آیت) ”ان اللہ یامرکم“۔ (الخ) ابن مردویہ ؒ نے بواسطہ کلبی ؒ ، ابو صالح ؒ ، ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ مکرمہ فتح فرمایا تو عثمان بن طلحہ کو بلایا جب وہ آئے تو آپ ﷺ نے فرمایا خانہ کعبہ کی کلید (چابی) دو ، چناچہ وہ کلید (چابی) لے کر آئے جب انہوں نے دینے کے لیے ہاتھ بڑھایا، تو حضرت عباس ؓ نے کھڑے ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ سقایہ کے ساتھ کلید (چابی) بھی مجھے مرحمت فرمادیجیے یہ سن کر حضرت عثمان ؓ نے ہاتھ روک لیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ، ، عثمان کلید (چابی) لاؤ عثمان نے عرض کیا، اللہ تعالیٰ کی امانت مجھ سے لے لیجیے۔ چناچہ آپ نے کلید (چابی) لے کر بیت اللہ کا دروازہ کھولا، پھر باہر تشریف لاکر بیت اللہ کا طواف کیا اس کے بعد آپ کے پاس جبرئیل امین ؑ کلید واپس کردینے کا حکم لے کر تشریف لائے، آپ نے عثمان بن طلحہ کربلا کر کلید (چابی) واپس کردی، اس کے بعد آپ نے (آیت) ”ان اللہ یامرکم“۔ سے پوری آیت تلاوت فرمائی۔ اور شعبی ؒ نے اپنی تفسیر میں بواسطہ حجاج ابن جریج سے روایت نقل کی ہے کہ یہ آیت عثمان بن طلحہ ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ ان سے کلید خانہ کعبہ (خانہ کعبہ کی چابی) لے کر بیت اللہ میں تشریف لے گئے تھے، جب خانہ کعبہ سے باہر تشریف لائے تو اس آیت کو تلاوت کرتے ہوئے تشریف لائے پھر آپ نے عثمان ؓ کو بلا کر کلید خانہ کعبہ ان کو لوٹا دی۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ خانہ کعبہ سے اس آیت کو تلاوت کرتے ہوئے باہر تشریف لائے، اس حدیث کا ظاہر اس بات پر دلالت کررہا ہے کہ یہ آیت خانہ کعبہ کے درمیان میں نازل ہوئی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

مومنو ! خدا اور اس کے رسول کی کی فرمانبرداری کرو اور جو تم میں سے صاحب حکومت ہے ان کی بھی اور اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر خدا اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اس میں خدا اور اسکے رسول کے حکم کی طرف رجوع کرو اور یہ بہت اچھی بات ہے اور اس کا مآل بھی اچھا ہے

(59) عثمان بن طلحہ ؓ اور ان کے ساتھیوں، احکام خداوندی میں اس کا اور نیز حکام اور علماء کا کہنا مانو اور اگر کسی بات میں اختلاف ہوجائے تو اگر بعث بعد الموت پر ایمان رکھتے ہو تو اس چیز کو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کے حوالہ کردیا کرو۔ اس کا انجام اچھا ہوتا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”یایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ“۔ (الخ) حضرت امام بخاری ؒ وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت عبداللہ بن حذافیہ بن قیس کے بارے میں نازل ہوئی جب رسول اللہ ﷺ نے ان کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا تھا۔ داؤدی کہتے ہیں کہ یہ ابن عباس ؓ عنہپر جھوٹ ہے کیوں کہ عبداللہ بن حذافہ ایک لشکر کے امیر بن کر روانہ ہوئے، انھوں نے ناراض ہو کر آگ روشن کی اور لشکر کو بھی آگ روشن کرنے کا حکم دیا، چناچہ بعض نے اس سے کنارہ کش رہنے اور بعض نے حکم کی اطاعت کرنے کا ارادہ کیا اگر آیت اس واقعہ سے قبل نازل ہوئی ہے تو یہ عبداللہ بن حذیفہ کے ساتھ کیسے خاص ہوسکتی ہے۔ اور اگر آیت بعد میں نازل ہوئی ہے تو لوگوں کو تو امر بالمعروف میں اطاعت کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور اس موقع پر عدم اطاعت کی بنا پر ان سے کسی قسم کی باز پرس نہیں کی گئی۔ حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ مقصود یہ ہے کہ اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ہے (ان کی اطاعت کے بارے میں نازل نہیں ہوئی) کیوں کہ لشکر والے آگ سے بچنے کی وجہ سے حکم کی بجا آوری میں رائے میں اختلاف ہوا تو اس وقت اس حکم کا نازل ہونا مناسب ہوا کہ اس قسم کے اختلاف کے وقت لوگوں کو کس قسم کا طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے، اس کی جانب رہنمائی ہوجائے۔ اور وہ رہنمائی کا طریقہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ کی طرف کا معاملہ کا حوالہ کردیتا ہے اور ابن جریر ؒ نے روایت کیا ہے عمار بن یاسر ؓ نے بغیر ان کی اجازت کے ایک شخص کو پناہ دے دی اس پر دونوں میں اختلاف ہوا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:60

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعوی تو یہ کرتے ہیں کہ جو (کتاب) تم پر نازل ہوئی اور جو (کتابیں) تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب ہر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لیجا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں اور شیطان (تو یہ) چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر راستے سے دور ڈال دے

(60) اے محمد ﷺ کیا آپ کو ان لوگوں کی اطلاع نہیں جو قرآن کریم اور توریت کی پیروی کے دعویدار ہو کر بھی اپنے فیصلے کعب بن اشرف کے پاس لے جانا چاہتے ہیں، حالانکہ کہ قرآن کریم میں ان کو اس سے کنارہ کشی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ شان نزول : (آیت) ”الم ترالی الذین یزعمون“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور طبرانی ؒ نے سند صحیح کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ ابوبرزہ اسلمی کاہن تھے، یہودیوں کے جھگڑوں میں ان کے درمیان فیصلہ کیا کرتے تھے ، مسلمانوں میں سے کچھ لوگ بھی ان کے پاس گئے اس پر اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”الم تر الی الذین“۔ سے ”احسانا وتوفیقا“۔ تک یہ آیات نازل فرمائیں۔ اور ابن ابی حاتم ؒ نے عکرمہ ؒ یا سعید ؒ کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جلاس بن صامت، معتب بن قشیر اور رافع بن زید اور بشر، یہ لوگ اسلام کے دعویدار تھے، ان کی قوم کے کچھ مسلمانوں نے ایک جھگڑے میں ان لوگوں کو رسول اللہ ﷺ سے فیصلہ کرانے کی دعوت دی، مگر ان لوگوں نے زمانہ جاہلیت میں جو کاہن فیصلہ کیا کرتے تھے ان کی طرف مسلمانوں کو بلایا، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ، اور ابن جریر ؒ نے شعبی ؒ سے روایت نقل کی ہے کہ ایک یہودی اور ایک منافق میں جھگڑا ہوا، یہودی نے کہا آؤ تمہارے نبی سے فیصلہ کراتے ہیں، کیوں کہ وہ فیصلہ کرنے میں رشوت نہیں لیتے مگر دونوں میں اس پر جھگڑا ہوا، آخر کار قبیلہ جہینہ کے ایک کاہن سے فیصلہ کرانے پر رضا مند ہوئے اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:61

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اس کی طرف (رجوع کرو) اور پیغمبر کی طرف آؤ تو تم منافقوں کو دیکھتے ہو کہ تم سے اعراض کرتے اور رکے جاتے ہیں

(61) یہ آیت بشر نامی منافق شخص کے بارے میں نازل ہوئی، اس کا ایک یہودی سے جھگڑا تھا اور حضرت عمر فاروق ؓ نے اس کو قتل کردیا تھا۔
Ayah 4:62

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

تو کیسی (ندامت کی) بات ہے کہ جب ان کے اعمال (کی شامت) سے ان پر کوئی مصیبت واقع ہوتی ہے تو تمہارے پاس بھاگے آتے ہیں اور قسمیں کھاتے ہیں کہ واللہ ہمارا مقصود تو بھلائی اور موافقت تھا

(62) اور جس وقت منافقین سے جن کی حضرت زبیر بن العوام ؓ کے ساتھ لڑائی تھی حکم خداوندی اور حکم رسول کی طرف آنے کو کہا جاتا تھا، تو آپ کے حکم سے اعراض کرتے اور منہ بنانے لگتے ہیں، سو ان کا اس وقت کیا حشر ہوگا، جب اس کی پاداش میں گرفتار ہوں گے اور پھر یہ لوگ آپ کے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں کہ ہمارا مقصد صرف بھلائی تھا۔ ان کے دلوں میں جو نفاق ہے اللہ تعالیٰ اس کو اچھی طرح جانتے ہیں اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے کہ جب منافقین نے مسجد ضرار بنائی اور پھر ان کو اس کی سزا بھگتنی پڑی تو ان میں سے بعض قسمیں کھاتے ہوئے آئے کہ ہمارا مقصود تو صرف مسلمانوں کی مدد اور آپ کے دین کی موافقت تھی اس کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔
Ayah 4:63

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

ان لوگوں کے دلوں میں جو جو کچھ ہے خدا اس کو خوب جانتا ہے تم ان (کی باتوں) کا کچھ خیال نہ کرو اور انہیں نصیحت کرو۔ اور ان سے ایسی باتیں کہو جو ان کے دلوں پر اثر کر جائیں

(63) آپ ان لوگوں کو معاف فرمائیے اور اس مرتبہ ان پر گرفت نہ فرمائیے اور نصیحت فرما دیجیے کہ دوسری مرتبہ ایسا نہ کریں ورنہ سخت قسم کی گرفت کروں گا۔
Ayah 4:64

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:64 in the Quran reader

اور ہم نے جو پیغمبر بھیجا ہے اس لئے بھیجا ہے کہ خدا کے فرمان کے مطابق اس کا حکم مانا جائے اور یہ لوگ جب اپنے حق میں ظلم کر بیٹھتے تھے اگر تمہارے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور رسول (خدا) بھی ان کے لیے بخشش طلب کرتے تو خدا کو معاف کرنے والا (اور) مہربان پاتے

(64) یعنی بحکم خداوندی اس رسول کی اطاعت کی جائے اور اس کے حکم پر ناراضگی کا اظہار نہ ہو۔ مسجد ضرار والے، جنہوں نے مسجد ضرار بنائی اور آپ کے حکم پر منہ بنایا اگر یہ توبہ کے لیے حاضر ہو کر اپنے کاموں سے توبہ کرتے اور رسول اللہ ﷺ بھی ان کے لیے معافی کی دعا کرتے تو اللہ تعالیٰ توبہ کے بعد ان کے گناہوں کو معاف فرما دیتا۔
Ayah 4:65

فَلَا وَ رَبِّكَ لَا یُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى یُحَكِّمُوْكَ فِیْمَا شَجَرَ بَیْنَهُمْ ثُمَّ لَا یَجِدُوْا فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَیْتَ وَ یُسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 4:65 in the Quran reader

تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کردو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اس کو خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے

(65) آپ ﷺ کے پروردگار کی قسم ہے یہ لوگ عنداللہ ہرگز ایمان والے نہیں ہوسکتے جب تک کہ یہ لوگ اپنے باہمی جھگڑوں میں آپ ﷺ سے فیصلہ نہ کروائیں اور آپ ﷺ کے فیصلہ کے بعد ان کے دلوں میں کسی قسم کا کوئی شک وشبہ باقی نہ رہے اور اس فیصلے کو پوری طرح دل سے تسلیم کرلیں۔ شان نزول : آیت ”۔ فلا وربک لایؤمنون حتی“۔ (الخ) آئمہ ستہ نے حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت زبیر ؓ کا ایک شخص سے حرہ کی زمین کی سیرابی کے بارے میں کچھ جھگڑا ہوا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، اے زبیر اپنی زمین کو اولا خوب پانی دو اور پھر پانی اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑ دو ، وہ شخص کہنے لگا یہ فیصلہ اس لیے ہے کہ زبیر ؓ آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔ یہ سن کر حیرت اور غصہ کے مارے آپ ﷺ کے چہرۂ انور کا رنگ تبدیل ہوگیا، آپ نے فرمایا زبیر ! پانی دینے کے بعد روکے رکھو یہاں تک کہ پانی ڈولوں پر سے نکلنے لگے، اس کے بعد اپنے پڑوسی کے لیے چھوڑو، اس وقت رسول اللہ ﷺ نے صاف طور پر حضرت زبیر ؓ کو اس کا پورا حق دے دیا اور اس سے پہلے ایسی چیز کی طرف اشارہ فرمایا تھا جس میں دونوں کے لیے سہولت تھی، زبیر ؓ فرماتے ہیں یہ آیتیں اسی واقعہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ طبرائی ؒ نے کبیر میں اور حمیدی ؒ نے اپنی مسند میں ام سلمہ ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ حضرت زبیر ؓ کا ایک شخص سے جھگڑا ہوا، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئے، آپ ﷺ نے حضرت زبیر ؓ کے حق میں فیصلہ فرما دیا، وہ شخص کہنے لگا یہ فیصلہ آپ ﷺ نے اس لیے کیا ہے کہ حضرت زبیر ؓ آپ ﷺ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ قسم ہے آپ کے پروردگار کی یہ لوگ ایمان دارنہ ہوں گے ، (الخ) نیز ابن ابی حاتم نے سعید بن مسیب ؓ سے فرمان خداوندی (آیت) ”فل اور بک“۔ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت زبیر بن عوام ؓ اور ایک دوسرے شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے، دونوں میں پانی کے بارے میں تنازع تھا، رسول اللہ ﷺ نے یہ فیصلہ فرما دیا کہ پہلے بلندی والی زمین کو پانی دیا جائے اس کے بعد نچلی زمین کو۔ اور ابن ابی حاتم ؒ اور ابن مردویہ ؒ نے اسود سے روایت کیا ہے کہ دو شخص رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں جھگڑتے ہوئے آئے، آپ نے دونوں کے درمیان فیصلہ فرما دیا، جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا، وہ کہنے لگا کہ ہم حضرت عمر بن خطاب ؓ کے پاس فیصلہ لے کر جائیں چناچہ دونوں حضرت عمر ؓ کے پاس گئے، تو اس کا ساتھی کہنے لگا کہ میرے حق میں رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ فرما دیا تھا مگر یہ کہنے لگا کہ عمر ﷺ کے پاس ہم فیصلہ لے جائیں حضرت عمر ؓ نے اس دوسرے شخص سے پوچھا کیا ایسا ہی ہے اس نے کہا جی ہاں، حضرت عمر ؓ نے فرمایا اسی جگہ ٹھہرو، میں ابھی آکر تمہارا فیصلہ کردوں گا۔ چناچہ حضرت عمر ؓ ان دونوں کے پاس اپن تلوار سونت کر تشریف لائے اور اس شخص کو جس نے یہ کہا کہ حضرت عمر ؓ سے فیصلہ کروائیں گے، قتل کردیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یہ روایت مرسل غریب ہے۔ اور اس کی سند میں ابن لھیعہ ہے مگر اس روایت کے دیگر شواہد موجود ہیں، اسی روایت کو رحیم نے اپنی تفسیر میں عتبہ بن ضمرہ عن ابیہ کے حوالہ سے روایت کیا ہے
Ayahs 4:66–68

وَ لَوْ اَنَّا كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ اَنِ اقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْ اَوِ اخْرُجُوْا مِنْ دِیَارِكُمْ مَّا فَعَلُوْهُ اِلَّا قَلِیْلٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ فَعَلُوْا مَا یُوْعَظُوْنَ بِهٖ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَشَدَّ تَثْبِیْتًاۙ Open ayah 4:66 in the Quran reader

اور اگر ہم انہیں حکم دیتے کہ اپنے آپ کو قتل کر ڈالوا یا اپنے گھر چھوڑ کر نکل جاؤ تو ان میں سے تھوڑے ہی ایسا کرتے اور اگر یہ اس نصیحت پر کار بند ہوتے جو ان کو کیجاتی ہے تو ان کے حق میں بہتر اور (دین میں) زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا

وَّ اِذًا لَّاٰتَیْنٰهُمْ مِّنْ لَّدُنَّاۤ اَجْرًا عَظِیْمًاۙ Open ayah 4:67 in the Quran reader

اور ہم ان کو اپنے ہاں سے اجر عظیم بھی عطا فرماتے

وَّ لَهَدَیْنٰهُمْ صِرَاطًا مُّسْتَقِیْمًا Open ayah 4:68 in the Quran reader

اور سیدھا راستہ بھی دکھاتے

(66۔ 67۔ 68) جیسا کہ ہم نے بنی اسرائیل پر فرض کیا تھا اگر اسی طرح ان لوگوں پر بھی ہم یہ بات فرض کردیتے تو مخلص لوگوں کے علاوہ جن کے رئیس ثابت بن قیس بن شماس انصاری ہیں اور کوئی بھی اس کو خوشی سے بجا نہ لاتا۔ اور اگر یہ منافقین توبہ اور اخلاص پر عمل کرتے تو یہ چیز آخرت میں بھی ان کے لیے بہتر ہوتی اور دنیا میں بھی ان کے ایمان کو اور پختہ کرتی اور جس چیز کا ان لوگوں کو حکم دیا گیا تھا، اگر یہ اس کی بجا آوری کرتے تو جنت میں ہم ان کو اپنے پاس سے اجر عظیم عطا کرتے اور دنیا میں بھی ایسے دین کے یہاں پسندیدہ ہے یعنی دین اسلام پر ان کو پختگی عطا کرتے۔ شان نزول : (آیت) ”ولو انا کتبنا علیہم ان اقتلوا (الخ) ابن جریر ؒ نے سدی ؒ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی، تو ثابت بن قیس بن شماس انصاری اور ایک یہودی نے آپس میں فخر کیا، یہودی کہنے لگا اللہ کی قسم جب اللہ تعالیٰ نے ہم پر کود کشی فرض کی تو ہم نے خود کشی کرلی، ثابت بولے اللہ کی قسم اگر ہم پر بھی خود کشی فرض کی جاتی تو ہم ایسا کرلیتے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی ،
Ayahs 4:69–70

وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِكَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَ الصِّدِّیْقِیْنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ الصّٰلِحِیْنَ١ۚ وَ حَسُنَ اُولٰٓئِكَ رَفِیْقًاؕ Open ayah 4:69 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ قیامت کے دن ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر خدا نے بڑا فضل کیا یعنی انیباء اور صدیق اور شہد اور نیک لوگ اور ان لوگوں کی رفاقت بہت ہی خوب ہے

ذٰلِكَ الْفَضْلُ مِنَ اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ عَلِیْمًا۠ Open ayah 4:70 in the Quran reader

یہ خدا کا فضل ہے اور خدا جاننے والا کافی ہے

(69۔ 70) یہ آیت کریمہ حضرت ثوبان ؓ مولی رسول اکرم ﷺ کی فضیلت و بزرگی کے بیان میں نازل ہوئی کیونکہ ان کو رسول اکرم ﷺ سے حد درجہ محبت تھی، آپ کا دیدار کیے بغیر ان کو صبر نہیں آسکتا تھا، ایک مرتبہ یہ حاضر ہوئے اور رسول اکرم ﷺ نے ان کے چہرے کا رنگ فق دیکھا عرض کرنے لگے یا رسول اللہ مجھے اس بات کا ڈر ہے کہیں آخرت میں آپ کے دیدار سے محروم نہ ہوجاؤں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ جو فرائض میں اللہ تعالیٰ کی اور سنت میں رسول اللہ ﷺ کی اطاعت کرے گا وہ جنت میں رسول اکرم ﷺ اور دیگر انبیاء کرام اور افضل اصحاب نبی اکرم ﷺ اور شہداء وصالحین امت محمدیہ ﷺ کے ساتھ ہوگا اور جنت میں حضرات انبیاء کرام صدیقین اور شہداء اور صالحین کی معیت میں ہوگا، یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے انعام ہے، اور اللہ تعالیٰ حضرت ثوبان کی حضور ﷺ سے گہری محبت اور جنت میں ان کے مقام کو کافی جاننے والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”ومن یطع اللہ والرسول“۔ (الخ) طبرانی ؒ اور ابن مردویہ ؒ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا ہے فرماتی ہیں کہ ایک شخص نے آکر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ مجھے اپنی جان سے زیادہ محبوب ہیں اور آپ ﷺ مجھے اپنی اولاد سے بھی زیادہ پیارے ہیں اور میں جس وقت گھر میں ہوتا ہوں اور پھر آپ کی یاد آتی ہے تو آپ کا دیدار کیے بغیر ہرگز صبر نہیں آتا اور جس وقت اپنی موت اور آپ کے انتقال فرمانے کے بارے میں خیال کرتا ہوں تو سمجھتا ہوں کہ آپ جس وقت جنت میں تشریف لے جائیں گے تو آپ انبیاء کرام کے ساتھ درجات عالیہ میں تشریف فرما ہوں گے اور میں اس سے کہیں خاصی کم درجہ کی جنت میں جاؤں گا تو اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں آپ کے دیدار سے محروم نہ رہوں، (حضور ﷺ سے کس قدار والہانہ محبت ووابستگی کا اظہار ہے) رسول اکرم ﷺ نے اس بات کا فورا کوئی جواب نہیں دیا پھر جبریل امین اس آیت کریمہ کو لے کر آپ پر نازل ہوئے۔ اور ابن ابی حاتم ؒ نے مسروق سے روایت کیا ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا یا رسول اللہ ایک لمحہ کے لیے بھی ہمیں آپ سے علیحدہ ہونا گوارہ نہیں، اگر آپ کا وصال ہم سے پہلے ہوگیا تو آپ درجات عالیہ کی طرف بلائے جائیں گے اور ہم آپ کا دیدار نہیں کرسکیں گے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی نیز عکرمہ ؓ سے روایت کیا ہے۔ کہ ایک نوجوان رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ دنیا میں تو ہم آپ کے دیدار سے بہرہ ور ہوجاتے ہیں اور آخرت میں آپ کا دیدار نہ کرسکیں گے کیوں کہ آپ جنت میں درجات عالیہ میں ہوں گے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، تب رسول اکرم ﷺ نے اس نوجوان سے فرمایا کہ انشاء اللہ تعالیٰ تم جنت میں میرے ساتھ ہوگے۔ اور ابن جریر ؒ نے اسی طرح سعید بن حبیب ؓ ، مسروق ؓ ، ربیع ؓ ، قتادہ ؓ ، سدی ؓ سے مرسل روایات روایت کی ہیں۔
Ayah 4:71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا خُذُوْا حِذْرَكُمْ فَانْفِرُوْا ثُبَاتٍ اَوِ انْفِرُوْا جَمِیْعًا Open ayah 4:71 in the Quran reader

مومنو ! (جہاد کے لئے) ہتھیار لے لیا کرو پھر یا تو جماعت جماعت ہو کر نکلا کرو یا سب اکٹھے کوچ کیا کرو

(71) ان آیات میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جہاد فی سبیل اللہ کی تعلیم دیتے ہیں کہ اپنے دشمن سے پوری طرح احتیاط رکھو، علیحدہ علیحدہ مت نکلو، بلکہ اکٹھے ہو کر جماعتوں کی شکل میں نکلو یا سب کے سب رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلو۔
Ayah 4:72

وَ اِنَّ مِنْكُمْ لَمَنْ لَّیُبَطِّئَنَّ١ۚ فَاِنْ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالَ قَدْ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیَّ اِذْ لَمْ اَكُنْ مَّعَهُمْ شَهِیْدًا Open ayah 4:72 in the Quran reader

اور تم میں کوئی ایسا بھی ہے کہ (عمدا) دیر لگاتا ہے پھر اگر تم پر کوئی مصیبت پڑجائے تو کہتا ہے کہ خدا نے مجھ بڑی مہربانی کی کہ میں ان میں موجود نہ تھا

(72) نیزاہل ایمان کے اندر عبداللہ بن ابی منافق جیساشخص بھی ہے، جس کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے نکلنا بہت مشکل ہے اور وہ تمہاری پریشانیوں کا ہر وقت منتظر رہتا ہے، اگر مسلمانوں کے لشکر کو کوئی حادثہ اور شکست وغیرہ پیش آتی ہے تو وہ کہتا ہے کہ اللہ کی طرف سے مجھ پر بڑا احسان ہوا کہ میں اس لشکر میں شریک نہیں تھا۔
Ayahs 4:73–74

وَ لَئِنْ اَصَابَكُمْ فَضْلٌ مِّنَ اللّٰهِ لَیَقُوْلَنَّ كَاَنْ لَّمْ تَكُنْۢ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهٗ مَوَدَّةٌ یّٰلَیْتَنِیْ كُنْتُ مَعَهُمْ فَاَفُوْزَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 4:73 in the Quran reader

اور اگر خدا تم پر فضل کرے تو اس طرح سے کہ گویا تم میں اس میں دوستی تھی ہی نہیں (افسوس کرتا اور) کہتا ہے کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو مقصد عظیم حاصل کرتا

فَلْیُقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ الَّذِیْنَ یَشْرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا بِالْاٰخِرَةِ١ؕ وَ مَنْ یُّقَاتِلْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَیُقْتَلْ اَوْ یَغْلِبْ فَسَوْفَ نُؤْتِیْهِ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 4:74 in the Quran reader

جو لوگ آخرت (کو خریدتے اور اس) کے بدلے دنیا کی زندگی کو بیچنا چاہتے ہیں ان کو چاہئے کہ خدا کی راہ میں جنگ کریں اور جو شخص خدا کی راہ میں جنگ کرے پھر شہد ہوجائے یا غلبہ پائے ہم عنقریب اس کو بڑا ثواب دیں گے

(73۔ 74) اور اگر تمہیں کہیں فتح وغنیمت مل جاتی ہے تو ابن ابی منافق مال کے فوت ہونے پر افسوس کرکے کہتا تھا کہ میں ساتھ ہوتا تو مجھے بہت مال وغنیمت مل جاتی، اگر اسے غنیمت وغیرہ کی چیز کا شوق ہے تو اطاعت خداوندی میں ان لوگوں یعنی مومنین مخلصین سے جنہوں نے اس کو آخرت کے عوض خرید رکھا ہے مل کر جہاد کرے، نیز یہ معنی بیان کیے گئے ہیں اس آیت میں مومنین ہی کو کفار سے جہاد کرنے کی مزید تاکید کی گئی ہے، چناچہ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ ایسے حضرات کے ثواب کو بیان فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی راہ میں شہید ہوجائے یا وہ غالب آجائے دونوں صورتوں میں ہم جنت میں اسے اجر عظیم دیں گے۔
Ayah 4:75

وَ مَا لَكُمْ لَا تُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْ هٰذِهِ الْقَرْیَةِ الظَّالِمِ اَهْلُهَا١ۚ وَ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّا١ۙۚ وَّ اجْعَلْ لَّنَا مِنْ لَّدُنْكَ نَصِیْرًاؕ Open ayah 4:75 in the Quran reader

اور تم کو کیا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں ان بےبس مردوں اور عورتوں اور بچوں کی خاطر نہیں لڑتے جو دعائیں کیا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہم کو اس شہر سے جس کے رہنے والے ظالم ہیں نکال کر کہیں اور لے جا اور اپنی طرف سے کسی کو ہمارا حامی بنا اور اپنی ہی طرف سے کسی کو ہمارا مددگار مقرر فرما

(75) اب جہاد فی سبیل اللہ سے ان لوگوں کے اعراض کا اللہ تعالیٰ ذکر فرماتے ہیں کہ اطاعت خداوندی میں کفار مکہ کے ساتھ کیوں جہاد نہیں کرتے، مکہ مکرمہ میں کمزور لوگ ہیں جو یہ دعا کرتے ہیں کہ مکہ والے مشرک و ظالم ہیں اے اللہ ! یہاں سے ہمیں باہر نکال دے اور ہمارے لیے غیب سے کوئی مددگار اور کوئی حامی بھیج دے چناچہ اللہ تعالیٰ نیان کی دعا قبول کی اور رسول اکرم ﷺ نے ان کے لیے عتاب بن اسید ؓ کو معین ومحافظ بنا دیا ،
Ayah 4:76

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یُقَاتِلُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ الطَّاغُوْتِ فَقَاتِلُوْۤا اَوْلِیَآءَ الشَّیْطٰنِ١ۚ اِنَّ كَیْدَ الشَّیْطٰنِ كَانَ ضَعِیْفًا۠ Open ayah 4:76 in the Quran reader

جو مومن ہیں سو وہ تو خدا کے لئے لڑتے ہیں اور جو کافر ہیں وہ بتوں کے لئے لڑتے ہیں سو تم شیطان کے مدد گاروں سے لڑو (اور ڈرو مت) کیونکہ شیطان کا داؤ بود ہوتا ہے

(76) صحابہ کرام راہ اللہ میں جہاد کرتے ہیں اور ابوسفیان اور اس کے ساتھی شیطان کی اطاعت وپیروی میں لڑتے ہیں، لہذا شیطانی لشکر سے خوب خوب جہاد کرو، کیوں کہ شیطان تدابیر ذلت ورسوائی کی وجہ سے بیہودہ اور ناکام ہوتی ہیں، چناچہ بدر کے دن وہ ذلیل ورسوا ہوئے۔
Ayah 4:77

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ قِیْلَ لَهُمْ كُفُّوْۤا اَیْدِیَكُمْ وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ١ۚ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقِتَالُ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْهُمْ یَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْیَةِ اللّٰهِ اَوْ اَشَدَّ خَشْیَةً١ۚ وَ قَالُوْا رَبَّنَا لِمَ كَتَبْتَ عَلَیْنَا الْقِتَالَ١ۚ لَوْ لَاۤ اَخَّرْتَنَاۤ اِلٰۤى اَجَلٍ قَرِیْبٍ١ؕ قُلْ مَتَاعُ الدُّنْیَا قَلِیْلٌ١ۚ وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ لِّمَنِ اتَّقٰى١۫ وَ لَا تُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا Open ayah 4:77 in the Quran reader

بھلا تم ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو (پہلے یہ) حکم دیا گیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو (جنگ سے) روکے رہو اور نماز پڑھتے اور زکوٰۃ دیتے رہو پھر جب ان پر جہاد فرض کردیا گیا تو بعض لوگ ان میں سے لوگوں سے یوں ڈرنے لگے جیسے خدا سے ڈرا کرتے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ اور بڑ بڑانے لگے کہ اے خدا تو نے ہم پر جہاد (جلد) کیوں فرض کردیا ؟ تھوڑی مدت اور ہمیں کیوں مہلت نہ دی ؟ (اے پیغمبر ﷺ ان سے) کہہ دو کہ دنیا کا فائدہ بہت تھوڑا ہے اور بہت اچھی چیز تو پرہیزگار کے لئے (نجات) آخرت ہے اور تم پر دھاگے برابر ظلم نہیں کیا جائے گا

(77) یہاں سے اللہ تعالیٰ جہاد کے مشکل گزرنے اور بدر صغری میں رسول اکرم ﷺ کے ساتھ نکلنے کو گراں گزرنے کا ذکر فرماتے ہیں، چناچہ عبدالرحمن بن عوف ؓ سعدبن ابی وقاص ؓ زبیر ؓ قدامۃ بن مظعون ؓ ، مقداد بن اسود کندی ؓ طلحۃ بن عبید اللہ ؓ وغیرہ جب یہ حضرات مکہ مکرمہ میں کفار کی تکالیف سے پریشان ہورہے تھے تو ان سے کہا گیا تھا کہ ابھی لڑنے سے رکے رہو، کیوں کہ مجھے (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ابھی اللہ کی طرف سے جہاد کا حکم نہیں ہوا اور ایسے حالات میں مکہ مکرمہ کے ان مظلوم مسلمانوں کو یہ تلقین کی جارہی ہے کہ وہ پانچوں نمازوں کو اوقات کی پابندی کے ساتھ رکوع و سجود کے ساتھ ادا کرتے رہیں، نیز زکوٰۃ بھی دیتے رہیں۔ اور جب مدینہ منورہ میں ہجرت کے بعد اللہ کی طرف ان پر جہاد فرض ہوگیا تو طلحۃ بن عبیداللہ والی جماعت اہل مکہ سے ڈرنے لگی جیسے کوئی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ اور دل میں کہنے لگے اے اللہ ابھی جہاد فرض کردیا (یعنی ہم کمزور اور کم تعداد میں ہیں) موت تک ذرا عافیت و اطمینان کے ساتھ رہ لیتے۔ اے محمد ﷺ آپ ان سے فرما دیجیے کہ دنیاوی منافع آخرت کے بےپایاں اجر اعتبار سے بہت کم ہے اور آخرت کے منافع اس شخص کے لیے ہیں جو کفر وشرک اور فحش چیزوں سے بچے ایسی چیزوں سے گریز وبچاؤ ہر اعتبار سے بہتر ہے۔ اور وہاں اللہ کے پاس تمہاری نیکیوں میں دھاگے کے برابر بھی کمی نہیں کی جائے گی، فتیل گٹھلی کے بیچ میں جو لکیر ہوتی ہے یا یہ کہ انگلیوں کے جوڑوں میں جو میل کی لکیر سی ہوجاتی ہے کو کہتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”الم تر الی الذین قیل۔ (الخ) امام نسائی اور حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ اور ان کے ساتھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ہم جب شرک کرتے تھے تو ظاہرا عزت دار تھے اور جب ہم ایمان لے آئے تو مختلف دینی پابندیوں کے سبب کفار کے ہاتھوں ذلیل ہوگئے ، (لہذا جہاد کا حکم دیجیے) آپ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اللہ کی طرف سے ابھی معاف اور درگزر کرنے کا حکم دیا گیا ہے لہٰذا اپنی قوم سے مت لڑو، چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے ان کو مدینہ منورہ منتقل کردیا، تب جہاد کا حکم دیا تو بعض کو دشوار محسوس ہوا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کیا آپ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا کہ ان کو یہ کہا گیا تھا الخ۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 4:78

اَیْنَ مَا تَكُوْنُوْا یُدْرِكْكُّمُ الْمَوْتُ وَ لَوْ كُنْتُمْ فِیْ بُرُوْجٍ مُّشَیَّدَةٍ١ؕ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ حَسَنَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّقُوْلُوْا هٰذِهٖ مِنْ عِنْدِكَ١ؕ قُلْ كُلٌّ مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ فَمَالِ هٰۤؤُلَآءِ الْقَوْمِ لَا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ حَدِیْثًا Open ayah 4:78 in the Quran reader

(اے جہاد سے ڈرنے والو !) تم کہیں رہو موت تو تمہیں آ کر رہیں گی خواہ بڑے بڑے محلوں میں رہو اور اگر ان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو (اے محمد تم سے) کہتے ہیں کہ یہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر کوئی گزند پہنچتا ہے تو (اے محمد تم سے) کہتے ہیں کہ یہ (گزند) آپ کی وجہ سے (ہمیں پہنچا) ہے کہہ دو کہ (رنج و راحت) سب اللہ ہی کی طرف سے ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ بات بھی نہیں سمجھ سکتے ؟

(78) اے گروہ مومنین اور اے منافقین خواہ تم خشکی میں ہو یا تری میں، سفر میں ہو یا حضر میں خواہ مضبوط قلعوں میں ہی کیوں نہ ہوں، موت سے بچاؤ کی کوئی صورت نہیں موت ضرور آئے گی، یہود اور منافقین کہتے تھے کہ جب سے رسول اکرم ﷺ اور ان کے اصحاب مدینہ منورہ آئے ہیں ہمارے پھلوں اور کھیتوں میں کمی ہو وہی ہے، اللہ تعالیٰ ان کا قول نقل کرکے ان کی تردید فرماتے ہیں۔ یعنی اگر منافقین اور یہودیوں کو پیداوار اور بارش کی بہتات نظر آتی ہے تو بذعم خود کہنے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے کیوں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اندر نیکی دیکھتا ہے اور اگر قحط اور تنگی اور نرخ وغیرہ میں گرانی ہوتی ہے تو العیاذ باللہ رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام سے شگون لیتے ہوئے انکی طرف منسوب کرتے ہیں۔ اے محمد ﷺ آپ ان یہودیوں اور منافقین سے فرما دیجیے کہ فراخی اور تنگی یہ سب اللہ کے خاص قانون اور اس کی حکمت ہے انکو کیا ہوا کہ یہ بات بھی نہیں سمجھتے محمد ﷺ آپ کو جو کچھ فراخی پیداوار کی کثرت اور نرخ میں کمی آتی ہے۔ ، یہ سب اللہ تعالیٰ کے انعامات ہیں۔ اس مقام پر مخاطب رسول اکرم ﷺ ہیں مگر مراد تمام انسان ہیں اور جب آپ کو قحط سالی اور تنگی اور نرخ کی گرانی کا سامنا ہوتا ہے، یہ آپ کے نفس کی پاکیزگی کی وجہ سے ہے کہ اس آزمایش کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اہل ایمان کے نفس کو پاک کیا جاتا ہے۔
Ayah 4:79

مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ حَسَنَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ١٘ وَ مَاۤ اَصَابَكَ مِنْ سَیِّئَةٍ فَمِنْ نَّفْسِكَ١ؕ وَ اَرْسَلْنٰكَ لِلنَّاسِ رَسُوْلًا١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِیْدًا Open ayah 4:79 in the Quran reader

(اے آدم زاد) تجھ کو جو فائدہ پہنچے وہ خدا کی طرف سے ہے اور جو نقصان پہنچے وہ تیری ہی (شامت اعمال کی) وجہ سے ہے اور (اے محمد) ہم نے تم کو لوگوں (کی ہدایت) کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجا ہے اور (اس بات کا) خدا ہی گواہ کافی ہے

(79) اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے کہ فتح وغنیمت اللہ تعالیٰ کا انعام ہے اور ہزیمت اور قتل وغیرہ یہ اپنی غلطیوں اور مورچہ کو چھوڑنے کی وجہ سے ہوتی ہے جیسا کہ احد کے دن صحابہ کرام ؓ نے ایک غلط فہمی کی بنا پر مورچہ چھوڑ دیا تھا ، اور یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ نیکی کا جو کام ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی مدد کی وجہ سے ہوتا ہے اور برائی نفس کی ترغیبات اور اس کی اطاعت کی وجہ سے ہوتی ہے اور آپ صرف ان مخاطبین کی جانب ہی نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے تمام جن وانس کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ ان منافقین کی بات پر کہ خیر منجانب اللہ اور العیاذ باللہ برائی رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی طرف سے ہے، گواہ کافی ہے یعنی روز قیامت اس کا فیصلہ فرمائیں گے اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ یہ یہودی کہتے تھے کہ اپنے رسول ہونے پر کوئی گواہ لاؤ، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
Ayah 4:80

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ١ۚ وَ مَنْ تَوَلّٰى فَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًاؕ Open ayah 4:80 in the Quran reader

جو شخص رسول کی فرماں برداری کرے گا تو بیشک اس نے خدا کی فرماں برداری کی اور جو نافرمانی کرے تو (اے پیغمبر ﷺ تمہیں ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا ہے

(80) اور جس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (آیت) ”وما ارسلنا من رسول“۔ (الخ) یعنی ہم نے ہر ایک رسول کو اسی لیے بھیجا ہے کہ بحکم الہی اس کی اطاعت کی جائے تو عبداللہ بن ابی منافق نے اپنے دیرینہ بغض کی بنا پر کہا کہ محمد ﷺ ہمیں اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ کے بجائے ان کی اطاعت کریں تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ جس نے احکام میں رسول کی اطاعت کی تو اس نے اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت کی کیوں کہ رسول بغیر اللہ تعالیٰ کے حکم کے کسی چیز کا حکم نہیں دیتے۔ حاشیہ (وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی (النجم آیت 3، 4) (اور حضور ﷺ جو کام بھی فرماتے ہیں وہ اپنی مرضی سے نہیں بلکہ اللہ کی وحی کے مطابق فرماتے ہیں) (مترجم)