3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 3:161

وَ مَا كَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَّغُلَّ١ؕ وَ مَنْ یَّغْلُلْ یَاْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا كَسَبَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 3:161 in the Quran reader

اور کبھی نہیں ہوسکتا کہ پیغمبر (خدا) خیانت کریں اور خیانت کرنے والوں کو قیامت کے دن خیانت کی ہوئی چیز (خدا کے روبرو) لا حاضر کرنی ہوگی پھر ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور بےانصافی نہیں کی جائے گی

(161) مجاہدین نے احد کے دن غنیمت کے حاصل کرنے میں جو مورچہ چھوڑ دیا تھا اور بعض منافقوں کا گمان تھا کہ رسول اللہ ﷺ مال غنیمت میں کچھ تقسیم نہیں کرتے، اس کی تردید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کسی بھی نبی کے لیے یہ چیز ہرگز جائز نہیں کہ وہ مال غنیمت میں اپنی امت کے ساتھ خیانت کرے اور اگر کوئی بھی غنیمت میں سے کسی چیز کو رکھ لے گا تو وہ قیامت کے دن اپنی گردن پر لاد کر لائے گا اور وہاں اس کی سزا ملے گی، جہاں نہ کسی کی نیکیاں کم کی جائیں گی اور نہ گناہوں میں اضافہ کیا جائے گا ، شان نزول : (آیت) ”وما کان لنبی ان یغل“۔ (الخ) ابوداؤد ؒ اور ترمذی ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ غزوہ بدر میں ایک سرخ چادر گم ہوگئی تو بعض لوگ کہنے لگے کہ شاید رسول اللہ ﷺ نے لے لی ہو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ کہ نبی کی یہ شان نہیں کہ وہ خیانت کرے اور طبرانی نے کبیر میں سند صحیح کے ساتھ حضرات ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ کیا، اس کا جھنڈا لوٹا دیا گیا پھر دوبارہ روانہ کیا پھر لوٹا دیا گیا، تیسری مرتبہ روانہ کیا تو ہرنی کے سر کے برابر سونے کی خیانت کی بنا پر جھنڈا قائم نہ ہوسکا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
Ayah 3:162

اَفَمَنِ اتَّبَعَ رِضْوَانَ اللّٰهِ كَمَنْۢ بَآءَ بِسَخَطٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ مَاْوٰىهُ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 3:162 in the Quran reader

بھلا جو شخص خدا کی خوشنودی کا تابع ہو وہ اس شخص کی طرح (مرتکب خیانت) ہوسکتا ہے ؟ جو خدا کی ناخوشی میں گرفتار ہو اور جس کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے

(162) اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے پھر اپنے خصوصی انعام کا تذکرہ فرماتے ہیں کہ اس نے ان ہی میں سے ان جیسا ایک قریشی عرب معروف النسب ذات کو رسول بنا کر بھیجا جو مسلمانوں کو قرآنی احکام پڑھ کر سناتے ہیں اور ان کو توحید کے ذریعہ شرک سے اور زکوٰۃ لے کر گناہوں سے پاک صاف کرتے ہیں اور قرآن اور حلال و حرام کی تعلیم دیتے ہیں اور یقیناً رسول اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے اور قرآن کریم کے نزول سے قبل یہ لوگ کھلی گمراہی میں گرفتار تھے۔
Ayahs 3:163–164

هُمْ دَرَجٰتٌ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:163 in the Quran reader

ان لوگوں کے خدا کے ہاں (مختلف اور متفاوت) درجے ہیں اور خدا ان کے سب اعمال کو دیکھ رہا ہے

لَقَدْ مَنَّ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ اِذْ بَعَثَ فِیْهِمْ رَسُوْلًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ یَتْلُوْا عَلَیْهِمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُزَكِّیْهِمْ وَ یُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ١ۚ وَ اِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 3:164 in the Quran reader

خدا نے مومنوں پر بڑا احسان کیا ہے کہ ان میں انہیں میں سے ایک پیغمبر بھیجے جو ان کو خدا کی آیتیں پڑھ پڑھ کر سناتے اور ان کو پاک کرتے اور (خدا کی) کتاب اور دانائی سکھاتے ہیں۔ اور پہلے تو یہ لوگ صریح گمراہی میں تھے

(163۔ 164) جو ذات اقدس خمس لینے اور خیانت کے چھوڑنے میں رضائے حق میں تابع ہو وہ کیا اس شخص کی طرح ہوجائے گا جس پر خیانت کی بنا پر اللہ کا غصہ نازل ہوا۔ جو خیانت چھوڑے گا اس کے لیے جنت میں بلند درجات ہوں گے اور جو خیانت کا ایسا کام کرے گا اس کی اللہ کے ہاں سخت گرفت ہوگی۔
Ayah 3:165

اَوَ لَمَّاۤ اَصَابَتْكُمْ مُّصِیْبَةٌ قَدْ اَصَبْتُمْ مِّثْلَیْهَا١ۙ قُلْتُمْ اَنّٰى هٰذَا١ؕ قُلْ هُوَ مِنْ عِنْدِ اَنْفُسِكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 3:165 in the Quran reader

(بھلا یہ) کیا (بات ہے کہ) جب (احد کے دن کفار کے ہاتھ سے) تم پر مصیبت واقع ہوئی حالانکہ (جنگ بدر میں) اس سے دو چند مصیبت تمہارے ہاتھ سے ان پر پڑچکی ہے تو تم چلا اٹھے کہ (ہائے) آفت (ہم پر) کہاں سے آپڑی کہہ دو کہ یہ تمہاری ہی شامت اعمال ہے (کہ تم نے پیغمبر کے حکم کے خلاف کیا) خدا ہر چیز پر قادر ہے

(165) اور اب پھر احد کے دن کی پریشانی کا اللہ تعالیٰ تذکرہ فرماتے ہیں تمہیں احد میں ایسی شکست ہوئی جس سے دو چند مکہ والوں کو بدر میں ہوئی تھی اور پھر حیرانی سے کہتے ہیں کہ ہم تو مسلمان ہیں، پھر اس قدر پریشانی کہاں سے ہوئی اے محمد ﷺ آپ فرما دیجیے کہ مورچہ چھوڑ کر جو تم سے لغزش ہوئی اس بنا پر عارضی شکست ہوئی، اللہ تعالیٰ سزا وغیرہ سب پر قادر ہے۔ شان نزول : (آیت) ”اولما اصابتکم“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت عمر فاروق ؓ سے روایت نقل کی ہے انہوں نے فرمایا کہ بدر کے قیدیوں کو فدیہ لے کر جو چھوڑدیا تھا اس کی گرفت احد میں ہوئی کہ ستر صحابہ کرام ؓ شہید ہوئے رسول اکرم ﷺ کے سامنے کے دندان مبارک شہید ہوئے کہ آپ کے سرمبارک پر خود ٹوٹ گیا جس سے آپ کے چہرہ انور پر سے خون بہنے لگا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayahs 3:166–167

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ فَبِاِذْنِ اللّٰهِ وَ لِیَعْلَمَ الْمُؤْمِنِیْنَۙ Open ayah 3:166 in the Quran reader

اور جو مصیبت تم پر دونوں جماعتوں کے مقابلے کے دن واقع ہوئی سو خدا کے حکم سے واقع ہوئی اور (اس سے) یہ مقصود تھا کہ خدا مومنوں کو اچھی طرح معلوم کرلے

وَ لِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ نَافَقُوْا١ۖۚ وَ قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا قَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوِ ادْفَعُوْا١ؕ قَالُوْا لَوْ نَعْلَمُ قِتَالًا لَّا اتَّبَعْنٰكُمْ١ؕ هُمْ لِلْكُفْرِ یَوْمَئِذٍ اَقْرَبُ مِنْهُمْ لِلْاِیْمَانِ١ۚ یَقُوْلُوْنَ بِاَفْوَاهِهِمْ مَّا لَیْسَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یَكْتُمُوْنَۚ Open ayah 3:167 in the Quran reader

اور منافقوں کو بھی معلوم کرلے اور جب ان سے کہا گیا کہ آؤ خدا کے راستے میں جنگ کرو یا (کافروں کے) حملوں کو روکو تو کہنے لگے کہ اگر ہم کو لڑائی کی خبر ہوتی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ رہتے یہ اس دن ایمان کی نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے منہ سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہیں اور جو کچھ یہ چھپاتے ہیں خدا اس سے خوب واقف ہے

(166۔ 167) رسول اکرم ﷺ اور ابو سفیان کی باہم جنگ میں جو تمہیں زخم اور شہادت وغیرہ ہوئی وہ سب اللہ تعالیٰ کے حکم اور ارادہ سے ہوئی تاکہ مومنین کی جہاد پر بہادری اور منافقین کے راستہ ہی سے مدینہ لوٹ جانے کا اللہ تعالیٰ مظاہرہ کرا دے اور ان منافقوں سے عبداللہ بن جبیر ؓ نے کہا تھا کہ میدان جہاد میں آؤ اور دشمنوں کو اپنے گھروں اور بال بچوں سے دور کرو اور منافق ایمان اور مسلمانوں سے قریب تر ہونے کی بجائے کفر سے زیادہ قریب ہوگئے اور کافر ان منافقین سے ان دنوں بہت زیادہ قریب تھے، یہ منافقین صرف اپنی زبانوں سے اسلام کی حمایت کی باتیں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اہل کفر اور منافقین کو اچھی طرح جانتے ہیں۔
Ayah 3:168

اَلَّذِیْنَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ وَ قَعَدُوْا لَوْ اَطَاعُوْنَا مَا قُتِلُوْا١ؕ قُلْ فَادْرَءُوْا عَنْ اَنْفُسِكُمُ الْمَوْتَ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:168 in the Quran reader

یہ خود تو (جنگ سے بچ کر) بیٹھ رہے تھے مگر (جنہوں نے راہ خدا میں جانیں قربان کردیں) اپنے (ان) بھائیوں کے بارے میں بھی کہتے ہیں کہ اگر ہمارا کہا مانتے تو قتل نہ ہوتے کہہ دو کہ اگر سچے ہو تو اپنے اوپر سے موت کو ٹال دینا

(168) اور یہ منافقین مدینہ منورہ میں بیٹھے ہوئے بطور بزدلی اور سازش کے یہ باتیں بنا رہے تھے کہ اگر محمد ﷺ اور آپ کے ساتھی بھی مدینہ ہی میں بیٹھے رہتے تو جہاد میں مارے نہ جاتے، محمد ﷺ آپ ان منافقین سے فرما دیجیے اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو جہاد سے بھاگنے کے باوجود اپنے سے موت کو دور کرو۔
Ayah 3:169

وَ لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا١ؕ بَلْ اَحْیَآءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ یُرْزَقُوْنَۙ Open ayah 3:169 in the Quran reader

اور جو لوگ خدا کی راہ میں مارے گئے ان کو مرے ہوئے نہ سمجھنا (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ خدا کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے

(169) بدر اور احد میں جو حضرات شہید کردیئے گئے ان کو دیگر تمام مردوں کے طریقہ پر مت سمجھو، بلکہ وہ شہداء ایک ممتاز حیات کے ساتھ ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”قتلوا فی سبیل اللہ امواتا“۔ (الخ) ابوداؤد ؒ اور حاکم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب غزوہ احد میں صحابہ کرام شہید ہوگئے تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرات کی روحوں کو سبز پرندوں کے پوٹوں میں کردیا ہے، وہ جنت کی نہروں سے پانی پیتے اور اس کے پھل کھاتے اور سونے کے قنادیل میں عرش الہی کے سایہ میں رہتے ہیں۔ جب وہاں جاکر ان حضرات نے اپنے کھانے پینے اور کلام کی پاکیزگی کو دیکھا تو کہنے لگے کاش ہمارے بھائی بھی ان انعامات کو جان لیتے جو اللہ تعالیٰ نے ہم پر نازل فرمائیے ہیں تاکہ وہ جہاد فی سبیل اللہ سے کبھی بھی دریخ نہ کرتے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں تمہارا پیغام ان کو پہنچا دیتا ہوں چناچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں۔ حدیث کا اخیر کا حصہ امام ترمذی ؒ نے حضرت جابر ؓ سے روایت کیا ہے۔
Ayahs 3:170–171

فَرِحِیْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ١ۙ وَ یَسْتَبْشِرُوْنَ بِالَّذِیْنَ لَمْ یَلْحَقُوْا بِهِمْ مِّنْ خَلْفِهِمْ١ۙ اَلَّا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَۘ Open ayah 3:170 in the Quran reader

جو کچھ خدا نے ان کو اپنے فضل سے بخش رکھا ہے اس میں خوش ہیں اور جو لوگ ان سے پیچھے رہ گئے اور (شہید ہو کر) ان میں شامل نہیں ہو سکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں (قیامت کے دن) ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے

یَسْتَبْشِرُوْنَ بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ١ۙ وَّ اَنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ٤ۚۛ۠ Open ayah 3:171 in the Quran reader

اور خدا کے انعامات اور فضل سے خوش ہو رہے ہیں اور اس سے کہ خدا مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا

(170۔ 171) اور اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے جو انعامات ان کو عطا فرماتا ہے وہ اس سے خوش ہیں اور جو ان کے بھائی دنیا میں رہ گئے اور ان تک نہیں پہنچے وہ ان کی بھی اس حالت پر خوش ہیں کیوں کہ اللہ تعالیٰ نے انکو اس کی خوشخبری دی ہے نیز وہ انعامات خداوندی اور بلند درجات کی وجہ سے بھی خوش ہیں۔ جہاد میں جو تکالیف لاحق ہوتی ہیں، انکو اللہ تعالیٰ ضائع نہیں کرتا۔
Ayah 3:172

اَلَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ مِنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَصَابَهُمُ الْقَرْحُ١ۛؕ لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوْا مِنْهُمْ وَ اتَّقَوْا اَجْرٌ عَظِیْمٌۚ Open ayah 3:172 in the Quran reader

جنہوں نے باوجود زخم کھانے کے خدا و رسول (کے حکم) کو قبول کیا جو لوگ ان میں نیکوکار اور پرہیزگار ہیں ان کے لئے بڑا ثواب ہے

(172) بدر صغری لڑائی کے لیے تمام صحابہ کرام ؓ رسول اللہ ﷺ کے فرمانے پر فورا کمر بستہ ہوگئے تھے۔ اللہ تعالیٰ اسی کا تذکرہ فرماتے ہیں کہ جن حضرات نے باوجودیکہ ان کو احد میں زخم لگا ہوا تھا، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کے فرمانے پر بدر صغری کے لیے فورا تیار ہوگئے، ایسے حضرات جو رسول اللہ ﷺ کا ساتھ دیں اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور اس کے رسول کی مخالفت سے بچیں ان کے لیے جنت میں بڑا ثواب ہے۔ شان نزول : الذین استجابوا للہ والرسول“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے عوفی کے ذریعہ سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ احد کے واقعہ کے بعد اللہ تعالیٰ نے ابوسفیان کے دل میں رعب ڈال دیا وہ مکہ مکرمہ لوٹا، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ابوسفیان تم لوگوں سے گھبرا گیا ہے اور مکہ وہ جس وقت لوٹا اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا اور احد کا واقعہ شوال میں پیش آیا تھا اور تاجر ذی قعدہ میں مدینہ منورہ آتے تھے اور راستہ میں بدر صغری میں قیام کرتے تھے، چناچہ وہ احد کے واقعہ کے بعد آئے اور مسلمان زخمی اور تھکے ہوئے تھے۔ رسول اکرم ﷺ نے لوگوں میں اعلان کیا کہ آپ ﷺ کے ساتھ چلیں، شیطان نے آکر اپنے دوستوں کو ڈرایا کہ کفار نے بہت بڑا لشکر تیار کر رکھا ہے اور کچھ لوگوں نے حضور اکرم ﷺ کے ساتھ چلنے سے انکار کروا دیا آپ نے ارشاد فرمایا کہ میں جہاد کے لیے ضرور جاؤں گا اگرچہ میرے ساتھ کوئی بھی نہ جائے۔ اس پر حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر فاروق ؓ ، حضرت عثمان غنی ؓ ، حضرت علی مرتضی ؓ، حضرت زبیر، حضرت سعد ؓ حضرت طلحہ ؓ ، حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ ، حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ ، حضرت حذیفہ بن یمان ؓ ، حضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ غرض کہ ستر صحابہ کرام ؓ نے آپ ﷺ کے ساتھ چلنے پر لبیک کہی چناچہ یہ حضرات رسول اکرم ﷺ کے ساتھ ابوسفیان کی تلاش میں نکلے تاآنکہ مقام صغری پر پہنچے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ نیز امام طبرانی ؒ نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب مشرکین احد سے واپس ہوئے تو آپس میں کہنے لگے کہ نہ محمد ﷺ کو تم نے قتل کیا اور نہ لڑکیوں کو تم نے قید کیا تم تو بہت ہی ناکامی کے ساتھ واپس آرہے ہو پھر لوٹو، رسول اکرم ﷺ کو ان کی اس گفتگو کی اطلاع ہوئی آپ ﷺ نے صحابہ کرام ؓ میں جہاد کا اعلان کیا، سب نے آپ ﷺ کے اعلان پر لبیک کہا، چناچہ سب روانہ ہو کر حمرارالاسد یا ابوعتبہ کے کنوئیں پر پہنچے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ،“ کہ جن حضرات نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے فرمان پر لبیک کہی اور ابوسفیان رسول اکرم ﷺ سے کہہ گیا تھا کہ آئندہ سال میدان بدر میں جدھر تم نے ہمارے ساتھیوں کو مارا تھا مقابلہ ہوگا، چناچہ بزدل تو ڈر کر بھاگ گئے، اور بہادر لڑائی اور تجارت کی تیاری کی وجہ سے چلے گئے۔ غرض یہ کہ جب آپ ﷺ صحابہ کرام ؓ کے ساتھ اس مقام پر پہنچے تو وہاں کوئی بھی نہ ملا، صحابہ کرام ؓ نے اس مقام پر بازار لگایا اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، (آیت) ”فانقلبوبنعمۃ من اللہ“۔ (الخ) اور ابن مردویہ نے ابو رافع سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی ؓ کی قیادت میں ایک جماعت ابو سفیان کے تعاقب کے لیے روانہ فرمائی راستہ میں ان کو ایک عرابی ملا اور کہنے لگا مکہ والوں نے تم لوگوں کے لیے بہت بڑا لشکر تیار کیا ہے، انہوں نے کہا (آیت) ”حسبنا اللہ ونعم الوکیل“۔ اللہ تعالیٰ نے اسی طرح ان حضرات کے بارے میں یہ کلمات نازل فرمائے۔
Ayah 3:173

اَلَّذِیْنَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ اِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوْا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ اِیْمَانًا١ۖۗ وَّ قَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَ نِعْمَ الْوَكِیْلُ Open ayah 3:173 in the Quran reader

(جب) ان سے لوگوں نے آ کر بیان کیا کہ کفار نے تمہارے (مقابلے کے) لئے (لشکر کثیر) جمع کیا ہے تو ان سے ڈرو تو ان کا ایمان اور زیادہ ہوگیا اور کہنے لگے ہم کو خدا کافی ہے اور وہ بہت اچھا کارساز ہے

(173) اگلی آیت بھی ان حضرات کے بارے میں نازل ہوئی ہے، نعیم بن مسعود اشجعی نے ان حضرات سے کہہ دیا تھا کہ ابوسفیان اور اس کے ساتھیوں نے مکہ مکرمہ کے قریب لطیمہ نامی بازار میں ایک لشکر تمہارے مقابلے کے لیے تیار کیا ہے مگر صحابہ کرام ؓ میں یہ خبر سن کر اور جرأت پیدا ہوگئی، اور انہوں نے یہ کہہ کر بات ختم کردی کہ اللہ تعالیٰ سب مہمات میں ہمارے لیے کافی ہیں اور جو کچھ کفار نے بازار میں اسباب جمع رکھے تھے، ان کو اور مال غنیمت اور اللہ تعالیٰ کی طرف ثواب لے کر لوٹ آئے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی ؒ
Ayah 3:174

فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ وَ فَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْهُمْ سُوْٓءٌ١ۙ وَّ اتَّبَعُوْا رِضْوَانَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَظِیْمٍ Open ayah 3:174 in the Quran reader

پھر وہ خدا کی نعمتوں اور اس کے فضل کے ساتھ (خوش وخرم) واپس آئے ان کو کسی طرح کا ضرر نہ پہنچا اور وہ خدا کی خوشنودی کے تابع رہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

(174) اور اس جانے آنے میں ان حضرات کو نہ لڑائی کا سامنا ہوا اور نہ کسی قسم کی کوئی شکست ہوئی ان حضرات نے بدر صغری میں رسول اکرم ؓ کی اطاعت وپیروی کی اور اللہ تعالیٰ بڑے انعام و احسان والا ہے، ان سے دشمنوں کو دور کردیا۔
Ayah 3:175

اِنَّمَا ذٰلِكُمُ الشَّیْطٰنُ یُخَوِّفُ اَوْلِیَآءَهٗ١۪ فَلَا تَخَافُوْهُمْ وَ خَافُوْنِ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:175 in the Quran reader

یہ (خوف دلانے والا) تو شیطان ہے جو اپنے دوستوں سے ڈراتا ہے تو اگر تم مومن ہو تو ان سے مت ڈرنا اور مجھ ہی سے ڈرتے رہنا

(175) بات یہ ہے کہ تم لوگوں کو نعیم بن مسعود اشجعی نے (اللہ تعالیٰ نے اس کو شیطان فرمایا) اپنے کافر دوستوں سے آکر ڈرانا چاہا، لہٰذا باہر نکلنے میں ان سے مت ڈرو اور گھروں میں بیٹھے رہنے میں مجھ سے ڈرو، اگر تم میری تصدیق کرنے والے ہو۔
Ayah 3:176

وَ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ١ۚ اِنَّهُمْ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ یُرِیْدُ اللّٰهُ اَلَّا یَجْعَلَ لَهُمْ حَظًّا فِی الْاٰخِرَةِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:176 in the Quran reader

اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں ان (کی وجہ) سے غمگین نہ ہونا یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکتے۔ خدا چاہتا ہے کہ آخرت میں ان کو کچھ حصہ نہ دے۔ اور ان کے لئے بڑا عذاب (تیار) ہے

(176) منافقین نے یہود کا ساتھ دے کر جو بےوفائی کی، اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں رسول اکرم ﷺ کی تسلی فرما رہے ہیں کہ منافقین کا یہودیوں کے ساتھ ملنے میں سبقت کرنا آپ کے لیے غم کا باعث نہ ہونا چاہیے۔ یقیناً ان منافقین کا یہودیوں کے ساتھ مل جانے میں سبقت کرنا دین خداوندی کو ذرہ برابر نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہے کہ یہود اور منافقوں کو جنت میں قطعا کوئی حصہ نہ دے اور ان کی سختی سے زیادہ اللہ کیونکہ اللہ تعالیٰ کو منظور ہے کہ یہود اور منافقوں کو جنت میں قطعا کوئی حصہ نہ دے اور ان کی سختی سے زیادہ اللہ کہ ہاں ان کی سخت سزا ملے گی ،
Ayah 3:177

اِنَّ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الْكُفْرَ بِالْاِیْمَانِ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:177 in the Quran reader

جن لوگوں نے ایمان کے بدلے کفر خریدا وہ خدا کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

(177) اسی طرح جن لوگوں نے ایمان کو چھوڑ کر کفر کو اختیار کرلیا ہے اور وہ منافق ہیں، ان کے کفر اختیار کرلینے میں اللہ تعالیٰ کا کچھ نقصان نہیں ہوگا اور ان لوگوں کے لیے آخرت میں ایسا درد ناک عذاب ہوگا کہ اس کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی ،
Ayah 3:178

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ خَیْرٌ لِّاَنْفُسِهِمْ١ؕ اِنَّمَا نُمْلِیْ لَهُمْ لِیَزْدَادُوْۤا اِثْمًا١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّهِیْنٌ Open ayah 3:178 in the Quran reader

اور کافر لوگ یہ نہ خیال کریں کہ ہم جو ان کو مہلت دیے جاتے ہیں تو یہ انکے حق میں اچھا ہے (نہیں بلکہ) ہم ان کو اس لئے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کرلیں اور آخرکار ان کو ذلیل کرنے والا عذاب ہوگا

(178) منافقین کو ان کے کفر میں جو اللہ تعالیٰ عذاب کے نازل کرنے سے کچھ مہلت دے رہے ہیں، اس کا تذکرہ فرماتے ہیں کہ منافقین ویہود اس سے یہ نہ سمجھیں کہ ہم انھیں مہلت دے رہے ہیں اور اموال اولاد دے رہے ہیں یہ تمام چیزیں اس لیے دے رہے ہیں تاکہ جرم اور گناہ میں اور ترقی ہوجائے اور ایک بارپوری پوری سز مل جائے اور روزانہ اور ایک ایک گھڑی کے بعد آخرت میں ان کو ذیل و خوار کیا جائے گا، اور ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ احد کے دن یہ آیات مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔
Ayah 3:179

مَا كَانَ اللّٰهُ لِیَذَرَ الْمُؤْمِنِیْنَ عَلٰى مَاۤ اَنْتُمْ عَلَیْهِ حَتّٰى یَمِیْزَ الْخَبِیْثَ مِنَ الطَّیِّبِ١ؕ وَ مَا كَانَ اللّٰهُ لِیُطْلِعَكُمْ عَلَى الْغَیْبِ وَ لٰكِنَّ اللّٰهَ یَجْتَبِیْ مِنْ رُّسُلِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١۪ فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ۚ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَلَكُمْ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 3:179 in the Quran reader

(لوگو !) جب تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ نہ کر دے مومنوں کو اس حال میں جس میں تم ہو ہرگز نہیں رہنے دے گا اور اللہ تم کو غیب کی باتوں سے بھی مطلع نہیں کرے گا البتہ خدا اپنے پیغمبروں میں سے جسے چاہتا ہے انتخاب کرلیتا ہے تو تم خدا پر اور اس کے رسولوں پر ایمان لاؤ۔ اور اگر ایمان لاؤ گے اور پرہیزگاری کرو گے تو تم کو اجر عظیم ملے گا۔

(179) مشرکین نے رسول اکرم ؓ سے کہا کہ آپ ہم سے یہ کہتے ہیں کہ تم میں کافر بھی ہیں اور مومن بھی تو بتایئے کہ ہم میں سے کون مومن ہے اور کون کافر، اللہ تعالیٰ جواب میں فرماتے ہیں اے گروہ منافقین اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس حالت عدم امتیاز پر جس پر تم سب ہو کر نہیں رکھنا چاہتا کہ مومن کافر اور کافر مومن معلوم ہو بلکہ مشیت الہی میں یہ ہے کہ شقی سعید (نیک بخت، بدبخت) سے اور کافر مومن سے اور منافق مخلص سے ممتاز اور نمایاں ہوجائے، کفار مکہ کو اللہ تعالیٰ حکمت کے تحت ایسے امور پر مطلع نہیں کرتا کہ کون ایمان لائے گا اور کون انکار کرے گا لیکن اس ذات الہی نے اپنی مشیت سے رسول اکرم ﷺ کو اس چیز کے لیے منتخب فرمایا ہے کہ بذریعہ وحی آپ کو بعض امور سے اللہ تعالیٰ آگاہ فرما دیتے ہیں لہٰذا (اے مشرکین ! تم اپنی ضد اور شرک چھوڑ کر) تمام رسولوں اور تمام کتابوں پر ایمان لاؤ اور اگر تم تمام کتابوں اور تمام رسولوں پر ایمان لے آؤ گے اور اس کے ساتھ کفر وشرک سے بھی بچو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں عظیم الشان ثواب عطا فرمائے گا۔
Ayah 3:180

وَ لَا یَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ بِمَاۤ اٰتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ فَضْلِهٖ هُوَ خَیْرًا لَّهُمْ١ؕ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَّهُمْ١ؕ سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ وَ لِلّٰهِ مِیْرَاثُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ۠ Open ayah 3:180 in the Quran reader

جو لوگ مال میں جو خدا نے اپنے فضل سے ان کو عطا فرمایا ہے بخل کرتے ہیں وہ اس بخل کو اپنے حق میں اچھا نہ سمجھیں (وہ اچھا نہیں) بلکہ ان کے لیے برا ہے۔ وہ جس مال میں بخل کرتے ہیں قیامت کے دن اس کا طوق بنا کر ان کی گردنوں میں ڈالا جائے گا۔ اور آسمانوں اور زمین کا وارث خدا ہی ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو خدا کو معلوم ہے۔

(180) کفار ومنافقین کو اللہ تعالیٰ نے جو مال و دولت عطا فرمایا تھا اس میں وہ بخل کرتے تھے اللہ تعالیٰ اس کی مذمت فرماتے ہیں کہ یہ لوگ یہ نہ سمجھیں کہ عطا خداوندی پر یہ بخل ان کے لیے اچھا ہوگا ہرگز نہیں، بلکہ اللہ کی جانب سے ان کے اس بخل کے سبب یہ خالص سزا ہوگی کہ جہنم میں ان کی گردنوں میں قیامت کے دن ان کے سونے اور چاندی کے طوق ڈالے جائیں گے۔ آسمانوں اور زمینوں کے تمام خزانے اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں یا یہ کہ اس دن تمام آسمان و زمین والے فنا ہوجائیں گے اور صرف واحد قہار کی بادشاہت باقی رہ جائے گی وہ ان کے بخل اور سخاوت کو بخوبی جانتا ہے۔
Ayah 3:181

لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ فَقِیْرٌ وَّ نَحْنُ اَغْنِیَآءُ١ۘ سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَ قَتْلَهُمُ الْاَنْۢبِیَآءَ بِغَیْرِ حَقٍّ١ۙ وَّ نَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِیْقِ Open ayah 3:181 in the Quran reader

خدا نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ خدا فقیر ہے اور ہم امیر ہیں۔ یہ جو کہتے ہیں ہم اس کو لکھ لیں گے اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اس کو بھی (قلمبند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتشِ) دوزخ کے مزے چکھتے رہو۔

(181) فخاص بن عاز وراء اور اس کے ساتھیوں نے کہا تھا کہ العیاذ باللہ اللہ تعالیٰ مفلس ہے، ہم سے قرض چاہتا ہے اور ہم اس کے قرض کے محتاج نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ہم ان کے اس قول کو نامہ اعمال میں محفوظ کرکے رہیں گے اور اسی طرح ان کا حضرات انبیاء کو ناحق قتل کرنا اور زمانہ یہودیت میں جو کچھ انہوں نے کیا ہے اس کے عوض سخت ترین عذاب چکھائیں گے۔ شان نزول : (آیت) ”لقد سمع اللہ“۔ (الخ) ابن اسحاق ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے یہودیوں کو فخاص نامی ایک شخص کے پاس جمع پایا وہ شخص کہنے لگا اے ابوبکر ؓ ہمیں اللہ کی طرف کسی قسم کی احتیاج نہیں وہ ہمارا محتاج ہے اور اگر وہ غنی ہوتا تو وہ ہم سے کیوں قرض لیتا، جیسا کہ تمہارا صاحب (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہتا ہے یہ سن کر حضرت ابوبکر صدیق ؓ غصہ میں آگئے اور اس یہودی کے مونہہ پر ایک چانٹا مارا، فخاص رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں آیا، کہنے لگا دیکھیے آپ ﷺ کے ساتھی نے میرے ساتھ کیا معاملہ کیا، رسول اکرم ﷺ نے حضرت ابوبکر ﷺ سے فرمایا کہ تم نے ایسا کیوں کیا، حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اس نے بہت بری بات کہی یہ کہتا ہے کہ العیاذ باللہ تعالیٰ مفلس ہے اور یہ لوگ مال دار ہیں، فخاص اپنے قول سے پھر گیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی بیشک اللہ تعالیٰ نے ان گستاخ لوگوں کا قول سن لیا ہے، نیز ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت یہ آیت نازل ہوئی (آیت) ”من ذالذی یقرض اللہ“۔ (الخ) تو یہود حضور ﷺ کی خدمت میں آئے اور کہنے لگے کہ اے محمد ﷺ تمہارا رب العیاذ باللہ محتاج ہے اپنے بندوں سے مانگتا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 3:182

ذٰلِكَ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَیْسَ بِظَلَّامٍ لِّلْعَبِیْدِۚ Open ayah 3:182 in the Quran reader

یہ ان کاموں کی سزا ہے جو تمہارے ہاتھ آگے بھیجتے رہے ہیں اور خدا تو بندوں پر مطلق ظلم نہیں کرتا۔

(182) اور ہم بغیر جرم کے پکڑ نہیں کرتے۔
Ayahs 3:183–184

اَلَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ عَهِدَ اِلَیْنَاۤ اَلَّا نُؤْمِنَ لِرَسُوْلٍ حَتّٰى یَاْتِیَنَا بِقُرْبَانٍ تَاْكُلُهُ النَّارُ١ؕ قُلْ قَدْ جَآءَكُمْ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِیْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ بِالَّذِیْ قُلْتُمْ فَلِمَ قَتَلْتُمُوْهُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 3:183 in the Quran reader

جو لوگ کہتے ہیں کہ خدا نے ہمیں حکم بھیجا ہے کہ جب تک کوئی پیغمبر ہمارے پاس ایسی نیاز لے کر نہ آئے جس کو آگ آ کر کھاجائے تب تک ہم اس پر ایمان نہ لائیں گے۔ (اے پیغمبر ﷺ ان سے) کہہ دو کہ مجھ سے پہلے کئی پیغمبر تمہارے پاس کھلی ہوئی نشانیاں لے کر آئے اور وہ (معجزہ) بھی لائے جو تم کہتے ہو تو اگر سچے ہو تو تم نے ان کو قتل کیوں کیا ؟

فَاِنْ كَذَّبُوْكَ فَقَدْ كُذِّبَ رُسُلٌ مِّنْ قَبْلِكَ جَآءُوْ بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ وَ الْكِتٰبِ الْمُنِیْرِ Open ayah 3:184 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ تم کو سچا نہ سمجھیں تو تم سے پہلے بہت سے پیغمبر کھلی ہوئی نشانیاں اور صحیفے اور روشن کتابیں لے کر آ چکے ہیں اور لوگوں نے ان کو بھی سچا نہیں سمجھا۔

(183۔ 184) اور یہود جھوٹ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں کتاب میں اس بات کا حکم دیا ہے کہ ہم کسی رسول کی تصدیق نہ کریں جب تک کہ جیسا کہ انبیاء کرام کے زمانہ میں غیب سے آگ آکر نذر ونیاز خداوندی کو کھاجایا کرتی تھی اسی طرح اب بھی یہ بات ظاہر نہ کرو۔ اے نبی کریم ﷺ آپ ان یہودیوں سے فرما دیجیے کہ بہت سے انبیاء کرام مثلا حضرت زکریا ؑ اور حضرت یحییٰ ؑ اوامرو نواہی، اور بہت سے دلائل اور خصوصیات کے ساتھ یہ قربانی والا معجزہ بھی لے کر آئے پھر کیوں تم نے حضرت یحییٰ ؑ اور زکریا ؑ کو قتل کیا۔ یہود بولے ہمارے آباؤ اجداد نے تو انبیاء کو ظلما قتل نہیں کیا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، اے نبی کریم ﷺ ان کی تکذیب سے غم نہ کیجیے کیونکہ بہت سے انبیاء جو ان کے پاس اوامرو نواہی، دلائل نبوت اور پہلے لوگوں کے واقعات اور حلال و حرام کو ظاہر کردینے والی کتاب لے کر آئے تھے مگر ان کی قوم واضح اور کھلی نشانیاں دیکھنے کے بعد پھر بھی انھیں جھٹلایا۔
Ayah 3:185

كُلُّ نَفْسٍ ذَآئِقَةُ الْمَوْتِ١ؕ وَ اِنَّمَا تُوَفَّوْنَ اُجُوْرَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَ اُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 3:185 in the Quran reader

ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے اور تم کو قیامت کے دن تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ تو جو شخص آتش جہنم سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا وہ مراد کو پہنچ گیا اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے۔

(185) سنیے کہ مرنے کے وقت اور ان کے بعد ان کا کیا انجام ہوگا یقیناً ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہوگا اور پھر تمہارے اعمال کی پوری جزا ملے گی سو جو شخص توحید اور عمل صالح کی وجہ سے دوزخ سے بچالیا گیا، سو وہ جنت اور اس کی نعمتیں اور دوزخ اور اس کے عذاب سے نجات ملنے کی بنا پر حقیقتا کامیاب ہوگیا۔ دنیا میں کسی قسم کی کوئی نعمت نہیں دنیا کی مثال، صرف گھر کے سامان اور اس کے سنگریزوں کی طرح ہے۔
Ayah 3:186

لَتُبْلَوُنَّ فِیْۤ اَمْوَالِكُمْ وَ اَنْفُسِكُمْ١۫ وَ لَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ مِنَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْۤا اَذًى كَثِیْرًا١ؕ وَ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ ذٰلِكَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ Open ayah 3:186 in the Quran reader

(اے اہل ایمان) تمہارے مال و جان میں تمہاری آزمائش کی جائے گی۔ اور تم اہل کتاب سے اور ان لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے۔ تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بہت بڑی ہمت کے کام ہیں۔

(186) کفار رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کو جو تکالیف پہنچاتے تھے اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں۔ اپنے اموال کے ختم ہوجانے بیماریوں اور قتل ہر قسم کی تکالیف سے آزمائے جاؤ گے اور یہود و نصاری اور مشرکین عرب سے گالی گلوچ طعن وتشنیع اور اللہ تعالیٰ پر الزامات سنو گے، اگر ان الزامات اور اس طرح کی دیگر تکالیف میں صبر کرکے اللہ کی نافرمانی سے بچو گے تو یہ صبر بہترین کاموں اور بہت تاکیدی امور سے ہے۔ شان نزول : (آیت) ”ولتسمعن من الذین“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور ابن منذر ؒ نے سند حسن کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ (آیت) ”ان اللہ فقیرا“۔ سے یہاں تک حضرت ابوبکرصدیق ؓ اور فخاص کے مابین جو معاملہ پیش آیا اس کے بارے میں یہ آیتیں نازل ہوئی ہیں۔ اور عبدالرزاق ؒ نے بواسطہ معمر، زہری، کعب بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ کعب بن اشرف یہودی رسول اکرم ﷺ اور حضرات صحابہ ؓ کی شان میں ہجو (توہین و گستاخی) کے اشعار کہا کرتا تھا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 3:187

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ لَتُبَیِّنُنَّهٗ لِلنَّاسِ وَ لَا تَكْتُمُوْنَهٗ١٘ فَنَبَذُوْهُ وَرَآءَ ظُهُوْرِهِمْ وَ اشْتَرَوْا بِهٖ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ فَبِئْسَ مَا یَشْتَرُوْنَ Open ayah 3:187 in the Quran reader

اور جب خدا نے ان لوگوں سے جن کو کتاب عنایت کی گئی تھی اقرار لیا کہ (اس میں جو کچھ لکھا ہے) اسے صاف صاف بیان کرتے رہنا۔ اور اس (کی کسی بات) کو نہ چھپانا تو انہوں نے اس کو پس پشت پھینک دیا اور اس کے بدلے تھوڑی سی قیمت حاصل کی۔ یہ جو کچھ حاصل کرتے ہیں برا ہے۔

(187) اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت بیان کرنے کا جو عہد لیا تھا اس کا تذکرہ فرماتے ہیں جن لوگوں کو توریت وانجیل دی گئی تھی، ان سے عہد و پیمان لیا گیا تھا کہ اپنی کتابوں میں رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت کو نہیں چھپائیں گے مگر انہوں نے کتاب اور اس عہد کو بھی فراموش کردیا اور اس کی قدر نہ کی بلکہ رسول اکرم ﷺ کی نعت واوصاف چھپا کر اس کے مقابلہ کم حقیقت کھانے پینے کی معمولی سی چیز لی، ان لوگوں کا ایسا کرنا اور یہودیت کو اپنے لیے پسند کرنا بہت ہی بری اختیار کردہ چیز ہے۔
Ayah 3:188

لَا تَحْسَبَنَّ الَّذِیْنَ یَفْرَحُوْنَ بِمَاۤ اَتَوْا وَّ یُحِبُّوْنَ اَنْ یُّحْمَدُوْا بِمَا لَمْ یَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّهُمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:188 in the Quran reader

جو لوگ اپنے (ناپسند) کاموں سے خوش ہوتے ہیں اور (پسندیدہ کام) جو کرتے نہیں ان کے لیے چاہتے ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے ان کی نسبت خیال نہ کرنا کہ وہ عذاب سے رستگار ہوجائیں گے اور انہیں درد دینے والا عذاب ہوگا۔

(188) یہود جو نیک کام نہیں کرتے تھے اس پر خواہ مخواہ تعریف اور ستائش کے طلب گار ہوتے تھے۔ اے محمد ﷺ آپ ان لوگوں کا ہرگز نہ خیال کیجیے جنہوں نے کتاب میں آپ کی نعت وصفت میں تبدیلی کردی اور وہ اب اس بات کے متمنی ہیں کہ ان کی تعریف کی جائے اور ملت ابراہیمی اور فقرا کے ساتھ احسان کرنے کے بھی دعویدار ہیں، حالانکہ ذرہ برابر بھی ان میں کوئی ایسی نیکی نہیں کہ جس کے سبب وہ عذاب الہی سے چھٹکارا حاصل کرسکیں۔ شان نزول : (آیت) ”لا تحسبن الذین یفرحون“۔ (الخ) بخاری ؒ ومسلم ؒ نے حمید بن عبدالرحمن بن عوف ؒ کے ذریعہ سے روایت کیا ہے کہ مروان نے اپنے دربان سے کہا کہ رافع، ابن عباس ؓ کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ ہم میں سے ہر ایک شخص جو چیز اس کو دی گئی ہے اس پر خوش ہے اور یہ چاہتا ہے کہ جو کام وہ نہیں کرسکتا، اس پر بھی اس کی تعریف کی جائے، ایسے شخص کو اگر عذاب ہوگا تو پھر سب عذاب میں گرفتار ہوجائیں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا تم لوگوں کو اس آیت سے کیا واسطہ یہ آیت تو اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی ہے ان لوگوں سے رسول اکرم ﷺ نے کسی چیز کے متعلق دریافت کیا تھا انہوں نے اس بات کو تو چھپا لیا اور دوسری بات بتلا دی اور پھر آپ کے پاس سے آکر یہ ظاہر کیا جو آپ ﷺ نے پوچھا تھا وہ ہی آپ ﷺ کو بتلایا ہے اور بڑی ڈھٹائی سے اس پر اپنی تعریف بھی چاہی اور آپ ﷺ کے سوال کے جواب کو جو چھپا لیا تھا اس پر آپس میں خوش ہوئے۔ اور بخاری ؒ و مسلم ؒ نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ جہاد پر تشریف لے جاتے تو منافقین میں سے کچھ لوگ آپ کے ساتھ نہ جاتے اور حضور ﷺ کی عدم موجودگی میں نہ جانے پر خوش ہوتے اور جب آپ واپس تشریف لاتے تو معذرت کرتے اور قسمیں کھاتے اور یہ چاہتے کہ جو کام انہوں نے نہیں کیا، اس پر ان کی تعریف کی جائے تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ، عبدابن حمید ؒ نے اپنی تفسیر میں زید بن اسلم ؒ سے روایت نقل کی ہے کہ رافع بن خدیج ؓ اور زید بن ثابت ؓ دونوں مروان کے پاس تھے۔ مروان کہنے لگا، رافع (آیت) ”لا تحسبن الذین“۔ (الخ) یہ آیت کس چیز کے بارے میں نازل ہوئی ہے، رافع بولے یہ منافقین میں سے کچھ لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ رسول اکرم ﷺ جب باہر تشریف لے جاتے تو یہ عذر کرتے اور کہتے کہ ہمیں کام ہے اور حقیقت میں ہماری خواہش یہ ہے کہ ہم آپ کے ساتھ جائیں، اس پر یہ آیت نازل ہوئی، مروان نے اس واقعہ کو روایت کیا، اس پر رافع ناراض ہو کر زید بن ثابت ؓ سے بولے کہ میں تمہیں اللہ کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کیا تم جانتے ہو جو میں کہہ رہا ہوں زید بن ثابت نے کہا جی ہاں، حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ اس روایت اور ابن عباس ؓ کے فرمان میں مطابقت اس طرح ہے کہ ہوسکتا ہے یہ آیت دونوں قسم کے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور فراء نے روایت کیا ہے کہ یہ آیت یہود کے قول کے بارے میں نازل ہوئی ہے اور اس بات کے مدعی تھے کہ ہم پہلے ہی سے کتاب والے نماز والے اور اہل طاعت ہیں اور اس کے باوجود رسول اکرم ﷺ پر ایمان نہیں لاتے تھے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 3:189

وَ لِلّٰهِ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 3:189 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہی خدا ہی کو ہے اور خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

(189) آسمان و زمین کے تمام خزانے اس کی ملکیت میں داخل ہیں اور تمام آسمان و زمین والے اس کے مملوک ہیں۔
Ayah 3:190

اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّیْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی الْاَلْبَابِۚۙ Open ayah 3:190 in the Quran reader

بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔

(190) کفار مکہ رسول اکرم ﷺ سے کہتے تھے جس چیز کے تم دعویدار ہو اس کے ثبوت کے لیے کوئی واضح دلیل لے کر آؤ اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں اپنے دلائل قدرت بیان فرماتے ہیں کہ جو کچھ آسمانوں میں فرشتے، چاند، سورج، ستارے اور بادل پیدا کیے گئے اور زمین کے پیدا کرنے اور اس میں جو کچھ پہاڑ، دریا، سمندر، درخت وجانور ہیں اور رات دن کے آنے میں عقل سلیم والوں کے لیے اس کی توحید کے بےپناہ دلائل موجود ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ان فی خلق السموت والارض“۔ (الخ) طبرانی ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ قریش یہود کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ موسیٰ ؑ تمہارے پاس کیا معجزات لے کر آئے، انہوں نے کہا عصا اور یدبیضاء اور اس کے بعد نصاری کے پاس آئے، ان سے بھی حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا کہ آپ مادر زاد اندھے کو اور برص کے بیمار کو اچھا کردیتے تھے اور مردوں کو زندہ کردیا کرتے تھے ، پھر یہ لوگ رسول اکرم ﷺ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ اپنے پروردگار سے دعا کرو کہ وہ ہمارے لیے صفا پہاڑی کو سونے کا کردے، آپ نے دعا فرمائی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayahs 3:191–192

الَّذِیْنَ یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰى جُنُوْبِهِمْ وَ یَتَفَكَّرُوْنَ فِیْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هٰذَا بَاطِلًا١ۚ سُبْحٰنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ Open ayah 3:191 in the Quran reader

جو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے (ہر حال میں) خدا کو یاد کرتے اور آسمان اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے (اور کہتے ہیں) اے پروردگار تو نے اس (مخلوق) کو بےفائدہ نہیں پیدا کیا۔ تو پاک ہے تو (قیامت کے دن) ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائیو۔

رَبَّنَاۤ اِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ اَخْزَیْتَهٗ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 3:192 in the Quran reader

اے پروردگار جس کو تو نے دوزخ میں ڈالا اسے رسوا کیا اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔

(191۔ 192) جن کی حالت یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جب کھڑے ہونے کی طاقت رکھتے ہیں کھڑے ہو کر اور جب اس کی طاقت نہ ہو تو بیٹھ کر اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو لیٹ کریاد کرتے یعنی کسی حالت میں اس کی یاد سے غافل نہیں ہوتے اور نمازیں پڑھتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ان چیزوں کو تو نے بےکار نہیں پیدا کیا، ہم اس کے ہر طرح کے شرک سے تجھ کو پاک ومنزہ سمجھتے ہیں، اے ہمارے رب ! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچائے رکھ اور خدا پر ایمان رکھنے والے ان مومنین کے بالمقابل ان مشرکوں کا دنیا وآخرت میں کوئی بھی مددگار نہیں۔
Ayah 3:193

رَبَّنَاۤ اِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِیًا یُّنَادِیْ لِلْاِیْمَانِ اَنْ اٰمِنُوْا بِرَبِّكُمْ فَاٰمَنَّا١ۖۗ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ كَفِّرْ عَنَّا سَیِّاٰتِنَا وَ تَوَفَّنَا مَعَ الْاَبْرَارِۚ Open ayah 3:193 in the Quran reader

اے پروردگار ! ہم نے ایک ندا کرنے والے کو سنا کہ ایمان کے لیے پکار رہا تھا (یعنی اپنے) پروردگار پر ایمان لاؤ تو ہم ایمان لے آئے اے پروردگار ہمارے گناہ معاف فرما اور ہماری برائیوں کو ہم سے محو کر۔ اور ہم کو دنیا سے نیک بندوں کے ساتھ اٹھا۔

(193) اور اہل ایمان کہتے ہیں کہ ہمارے پروردگار ہم نے حضرت محمد ﷺ کو سنا وہ توحید کی طرف بلاتے ہیں ہم آپ پر اور آپ کی کتاب اور آپ کے رسول پر ایمان لے آئے، لہٰذا ہمارے بڑے گناہوں کو معاف فرمائیے اور اسکے ساتھ ساتھ چھوٹے گناہوں سے بھی درگزر فرمائیے، ہمارے روحوں کو حالت ایمان پر قبض فرمائیے اور انبیاء کرام اور صالحین کے ساتھ ہمارا حشر فرمائیے۔
Ayah 3:194

رَبَّنَا وَ اٰتِنَا مَا وَعَدْتَّنَا عَلٰى رُسُلِكَ وَ لَا تُخْزِنَا یَوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ اِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ Open ayah 3:194 in the Quran reader

اے پروردگار تو نے جن جن چیزوں کے ہم سے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے وعدے کیے ہیں وہ ہمیں عطا فرما اور قیامت کے دن ہمیں رسوا نہ کیجیو۔ کچھ شک نہیں کہ تو خلاف وعدہ نہیں کرتا۔

(194) اور وہ حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ ہمارے پروردگار آپ نے جس چیز کا رسول اکرم ﷺ کی زبان پر وعدہ فرمایا ہے اس سے ہمیں بہرہ ور فرمائیے اور کفار کی طرف ہمیں عذاب نہ دیجیے، یقیناً آپ بعث بعد الموت (موت کے بعد دوبارہ جی اٹھنے) اور مومنین سے وعدہ فرمانے میں ہرگز خلاف نہیں کریں گے۔
Ayah 3:195

فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ اَنِّیْ لَاۤ اُضِیْعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنْكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى١ۚ بَعْضُكُمْ مِّنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَالَّذِیْنَ هَاجَرُوْا وَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اُوْذُوْا فِیْ سَبِیْلِیْ وَ قٰتَلُوْا وَ قُتِلُوْا لَاُكَفِّرَنَّ عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاُدْخِلَنَّهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۚ ثَوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عِنْدَهٗ حُسْنُ الثَّوَابِ Open ayah 3:195 in the Quran reader

تو ان کے پروردگار نے ان کی دعا قبول کرلی (اور فرمایا) کہ میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو مرد ہو یا عورت ضائع نہیں کرتا۔ تم ایک دوسرے کی جنس ہو تو جو لوگ میرے لیے وطن چھوڑ گئے اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور لڑے اور قتل کیے گئے میں ان کے گناہ دور کر دونگا اور ان کو بہشتوں میں داخل کرلوں گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ (یہ) خدا کے ہاں سے بدلا ہے اور خدا کے ہاں اچھا بدلہ ہے۔

(195) ان کی درخواست کو منظور کیا کیوں کہ عادت مستمرہ میری یہی ہے کہ میں کسی کے نیک کام کے ثواب کو ضائع نہیں کرتا، جب کہ ایک دوسرے کے دین کی مدد ونصرت میں حامی ہوں، اب مہاجرین کے اعلی درجات کو اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں کہ جن حضرات نے رسول اکرم ﷺ کے ساتھ اور آپ کے بعد مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی اور کفار مکہ نے ان کو ان کے مکانات سے نکال دیا اور جہاد فی سبیل اللہ میں دشمنوں کو قتل کیا اور خود بھی شہید ہوئے تو میں ان کی تمام خطاؤں کو معاف کردوں گا اور ایسے باغات میں داخل کروں گا جہاں محلات اور درختوں کے نیچے سے شہد دودھ، پانی اور شراب طہور کی نہریں بہتی ہوں گی اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے بہترین انعام اور بدلہ ہے۔ ؛ شان نزول : (آیت) ”فاستجاب لہم“۔ (الخ) عبدالرزاق ؒ ، سعید بن منصور ؒ ، ترمذی ؒ ، حاکم ؒ اور ابن ابی حاتم ؒ نے ام سلمہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ، اللہ تعالیٰ نے ہجرت کے بیان میں عورتوں کا کوئی ذکر نہیں فرمایا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی درخواست کو منظور کرلیا خواہ وہ مرد ہوں یا عورت۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayahs 3:196–197

لَا یَغُرَّنَّكَ تَقَلُّبُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فِی الْبِلَادِؕ Open ayah 3:196 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ کافروں کا شہروں میں چلنا پھرنا تمہیں دھوکا نہ دے۔

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۫ ثُمَّ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمِهَادُ Open ayah 3:197 in the Quran reader

(یہ دنیا کا) تھوڑا سا فائدہ ہے پھر (آخرت میں) تو ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

(196۔ 197) اور دنیا فانی ہے اس سے اعراض کرنا چاہیے (دل نہیں لگانا چاہیے) اور آخرت کی طلب و جستجو میں کوشاں رہنا چاہیے اور اے مخاطب ان مشرکین اور یہود کے تجارتی سفر تجھ مغالطہ میں نہ ڈال دیں یہ دنیا کے چکاچوند اور چہل پہل یہ چند روزہ بہار ہے، اس کے بعدان کا ان کا بدترین ٹھکانا جہنم ہے۔
Ayah 3:198

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا نُزُلًا مِّنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ لِّلْاَبْرَارِ Open ayah 3:198 in the Quran reader

لیکن جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے رہے ان کے لیے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں (اور) ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ (یہ) خدا کے ہاں سے (انکی) مہمانی ہے اور جو کچھ خدا کے ہاں ہے وہ نیکوکاروں کے لیے بہت اچھا ہے

(198) لیکن جو حضرات کفر سے تائب ہو کر توحید خداوندی کے قائل ہوگئے ان کو اللہ کی طرف بطور انعام ایسے باغات ملیں گے جہاں محلات اور درختوں کے نیچے سے دودھ، شہد، پانی اور شراب طہور کی نہریں بہتی ہوں گی اور ان کا جنت میں قیام میں ہمیشہ ہمیشہ کیلئے ہوگا نہ وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ وہاں سے کبھی نکالے جائیں گے اور اسکے مقابلے میں کفار کو جو کچھ دنیا میں دیا گیا وہ بہت معمولی ہے نیک بندوں کا یہ ثواب اس سے کئی گنا بہتر ہے۔
Ayah 3:199

وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ Open ayah 3:199 in the Quran reader

اور بعض اہل کتاب ایسے بھی ہیں جو خدا پر اور اس (کتاب) پر جو تم پر نازل ہوئی اور اس پر جو ان پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں۔ اور خدا کے آگے عاجزی کرتے ہیں اور خدا کی آیتوں کے بدلے تھوڑی سی قیمت نہیں لیتے۔ یہی لوگ ہیں جن کا صلہ ان کے پروردگار کے ہاں تیار ہے اور خدا جلد حساب لینے والا ہے۔

(199) یعنی قرآن کریم اور توریت پر بھی اعتقاد رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں پوری طرح مستعد ہیں اور اس کے حضور عجز کرتے ہیں، کم حقیقت معاوضہ کے بدلہ توریت میں رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت کو نہیں چھپاتے جیسا کہ عبداللہ بن سلام اور اس کے دیگر ساتھی ہیں۔ ان حضرات کو جنت میں ثواب ملے گا اور اللہ تعالیٰ جب حساب لیں گے تو بہت جلدی یعنی آسانی کے ساتھ حساب کردیں گے، آگے اللہ تعالیٰ جہاد اور تکالیف پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب فرماتے ہیں کہ قرآن کریم اور رسول اکرم ﷺ پر ایمان رکھنے والو ! اپنے نبی کے ساتھ جہاد میں اس قدر ثابت قدم رہو کہ دشمنوں کو مغلوب کردو۔ شان نزول : (آیت) ”وان من اھل الکتب“۔ (الخ) امام نسائی ؒ نے حضرت انس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ جب شاہ حبش اصمحہ نجاشی ؓ کے انتقال کی خبر آئی تو رسول اکرم ؓ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا ان پر نماز پڑھو، صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ایک عبدحبشی کی نماز پڑھیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ابن جریر ؒ نے جابر ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ اور مستدرک میں عبداللہ بن زبیر ؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت شاہ نجاشی ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 3:200

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ Open ayah 3:200 in the Quran reader

اے اہل ایمان (کفار کے مقابلوں میں) ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور (مورچوں پر) جمے رہو اور خدا سے ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو۔

(200) اور اپنے نفسوں کو دشمنوں کے مقابلہ کے لیے مستعد و تیار رکھو اور ایک یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ فرائض کی ادائیگی اور گناہوں سے بچنے پر جمے رہو، اور خواہشات نفس کی پیروی کرنے والوں اور بدنیتوں کا خاتمہ کردو اور اپنے گھوڑوں کو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے تیار رکھو۔ اور جن باتوں کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے ان کو بجا لاؤ اور ہرگز ان سے اعراض (بےتوجہی) مت کرو تاکہ عذاب الہی اور غصہ خداوندی سے نجات حاصل کرو۔