3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 3:121

وَ اِذْ غَدَوْتَ مِنْ اَهْلِكَ تُبَوِّئُ الْمُؤْمِنِیْنَ مَقَاعِدَ لِلْقِتَالِ١ؕ وَ اللّٰهُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 3:121 in the Quran reader

اور (اس وقت کو یاد کرو) جب تم صبح کو اپنے گھر سے روانہ ہو کر ایمان والوں کو لڑائی کے لیے مورچوں پر (موقع بہ موقع) متعین کرنے لگے اور خدا سب کچھ سنتا اور جانتا ہے

(121) (اور وہ وقت یاد کرو) کہ غزوہ احد کے دن جب آپ ﷺ مدینہ منورہ سے چلے اور احد پہنچ کر دشمنوں کے مقابلہ کے لیے مومنین کے مقامات جما رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری باتوں کو سننے والا اور جو تمہیں مورچہ چھوڑنے کی وجہ سے پریشانی ہوئی اس کا جاننے والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”واذ غدوت من اھلک“۔ (الخ) ابی حاتم ؒ اور ابو یعلی ؒ نے مسعود بن مخرمہ ؓ سے روایت کیا ہے بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبدالرحمن بن عوف سے کہا کہ غزوہ احد کے اپنے واقعہ کی مجھے تفصیل بتاؤ۔ انھوں نے فرمایا کہ سورة آل عمران میں ایک سو بیس آیات کے بعد پڑھو ہمارے واقعہ مل جائے گا۔ (آیت) ”واذ غدوت“۔ سے ”طآئفتن منکم ان تفشلا“۔ تک۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 3:122

اِذْ هَمَّتْ طَّآئِفَتٰنِ مِنْكُمْ اَنْ تَفْشَلَا١ۙ وَ اللّٰهُ وَلِیُّهُمَا١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:122 in the Quran reader

اس وقت تم میں سے دو جماعتوں نے جی چھوڑ دینا چاہا مگر خدا ان کا مددگار تھا اور مومنوں کو خدا ہی پر بھروسا رکھنا چاہئے

(122) اسی وقت یہ واقعہ بھی ہوا کہ مسلمانوں میں سے دو جماعتوں بنو سلمہ اور بنو حارث نے اپنے دلوں میں یہ سوچا کہ دشمن تو شکست کھاچکا ہے اس لیے اب ہم بھی احد کے دن (اس مرحلے پر) دشمنوں سے مقابلہ نہ کریں اللہ تعالیٰ اس خیال سے ان دونوں کی حفاظت فرمانے والا تھا (یعنی مجاہدین صحابہ کی ان دونوں جماعتوں نے دشمن کا ڈٹ کا مقابلہ کیا) اور مومنین پر تو یہ چیز لازم ہے کہ فتح ونصرت ہر ایک حالت میں اللہ تعالیٰ ہی پر انحصار کریں۔ شان نزول : (آیت) ”اذ ھمت طآئفتن منکم“۔ (الخ) بخاری ومسلم نے جابر ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ ہمارے قبائل میں سے بنو سلمہ اور بنی حارث کے بارے میں (آیت) ”اذ ھمت طآئفتن منکم“۔ (الخ) یہ آیت نازل ہوئی ہے اور ابن ابی شیبہ ؒ نے مصنف میں اور ابن ابی حاتم ؒ نے شعبی ؒ سے روایت کیا ہے کہ غزوہ بدر کے دن مسلمانوں کو یہ اطلاع ہوئی کہ کرزبن جابر محاربی مشرکین کو کمک روانہ کررہا ہے اس پر مسلمان پریشان ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”الن یکفیکم“۔ سے ”مسومین“۔ تک یہ آیات نازل فرمائیں، پھر کرز کو شکست کی اطلاع پہنچ گئی تو نہ مشرکین کے لیے کمک آئی اور نہ مسلمانوں کی امداد کے لیے پانچ ہزار فرشتے نازل ہوئے۔ جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کرکے مدد دے ،
Ayah 3:123

وَ لَقَدْ نَصَرَكُمُ اللّٰهُ بِبَدْرٍ وَّ اَنْتُمْ اَذِلَّةٌ١ۚ فَاتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 3:123 in the Quran reader

اور خدا نے جنگ بدر میں بھی تمہاری مدد کی تھی اور اس وقت بھی تم بےسروسامان تھے پس خدا سے ڈرو (اور ان احسانوں کو یاد کرو) تاکہ شکر کرو

(123) اور بدر میں بھی جب کہ تمہاری تعداد صرف تین سو تیرہ (یا کم وبیش) تھی تمہاری مدد کی لہٰذا لڑائی میں بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اس ذات کی مخالفت نہ کرو جو تمہارے ساتھ ہے تاکہ تم اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کے انعام پر شکر کرسکو۔
Ayahs 3:124–125

اِذْ تَقُوْلُ لِلْمُؤْمِنِیْنَ اَلَنْ یَّكْفِیَكُمْ اَنْ یُّمِدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلٰثَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُنْزَلِیْنَؕ Open ayah 3:124 in the Quran reader

جب تم مومنوں سے یہ کہہ (کر ان کے دل بڑھا) رہے تھے کہ کیا یہ کافی نہیں کہ پروردگار تین ہزار فرشتے نازل کر کے تمہیں مدد دے

بَلٰۤى١ۙ اِنْ تَصْبِرُوْا وَ تَتَّقُوْا وَ یَاْتُوْكُمْ مِّنْ فَوْرِهِمْ هٰذَا یُمْدِدْكُمْ رَبُّكُمْ بِخَمْسَةِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِكَةِ مُسَوِّمِیْنَ Open ayah 3:125 in the Quran reader

ہاں اگر تم دل کو مضبوط رکھو اور (خدا سے) ڈرتے رہو اور کافر تم پر جوش کے ساتھ دفعۃً حملہ کردیں تو پروردگار پانچ ہزار فرشتے جن پر نشان ہوں گے تمہاری مدد کو بھیجے گا

(124۔ 125) غزوہ احد کے دن جب آپ فرما رہے تھے کہ تمہارا پروردگار تین ہزار فرشتوں سے تمہاری اعانت فرمائے گا جو تمہاری مدد کے لیے تمہاری مدد کے لیے آسمان سے اتریں گے یہ تعداد تمہاری کفایت کرجائے گی اپنے نبی کے ساتھ لڑائی میں ثابت قدم رہو اور ان کی نافرمانی اور مخالفت سے ڈرتے رہو اور مکہ والے مکہ کی جانب سے تم پر اچانک حملہ کریں گے، اس وقت تمہارا رب پانچ ہزار فرشتے بھیجے گا جو خاص وضع بنائے ہوئے ہوں گے یا یہ کہ وہ عمامے باندھے ہوئے ہوں گے۔
Ayahs 3:126–127

وَ مَا جَعَلَهُ اللّٰهُ اِلَّا بُشْرٰى لَكُمْ وَ لِتَطْمَئِنَّ قُلُوْبُكُمْ بِهٖ١ؕ وَ مَا النَّصْرُ اِلَّا مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِۙ Open ayah 3:126 in the Quran reader

اور اس مدد کو تو خدا نے تمہارے لئے (ذریعہ) بشارت بنایا یعنی اس لئے کہ تمہارے دلوں کو اس سے تسلی حاصل ہو ورنہ مدد تو خدا ہی کی ہے جو غالب (اور) حکمت والا ہے

لِیَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَوْ یَكْبِتَهُمْ فَیَنْقَلِبُوْا خَآئِبِیْنَ Open ayah 3:127 in the Quran reader

(یہ خدا نے) اس لیے (کیا) کہ کافروں کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں ذلیل و مغلوب کر دے کہ (جیسے آئے تھے ویسے ہی) ناکام واپس جائیں

(126۔ 127) اور اللہ تعالیٰ نے اس کمک کا وعدہ محض تمہاری مدد اور سکینت کے لیے کیا ہے اور فرشتوں سے امداد بھی منجانب اللہ ہے اور جو اس ذات پر ایمان نہ لائے، اسے سزا دینے میں غالب اور حکیم ہے جس کی چاہے مدد فرمائے یا یہ کہ احد کے دن جو واقعہ تمہیں پیش آیا، اس میں بہت سے حکمت والے پہلو ہیں اور یہ مدد اسی لیے نازل کی گئی ہے تاکہ اللہ تعالیٰ کفار مکہ میں سے ایک جماعت کا بالکل خاتمہ کردے اور ایک جماعت کو شکست دے دے، پھر وہ کفار (فتح) دولت اور غنیمت سے مایوس ہو کر واپس ہوجائیں گے۔
Ayahs 3:128–129

لَیْسَ لَكَ مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ اَوْ یُعَذِّبَهُمْ فَاِنَّهُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 3:128 in the Quran reader

(اے پیغمبر ﷺ اس کام میں تمہارا کچھ اختیار نہیں (اب دو صورتیں ہیں) یا خدا ان کے حال پر مہربانی کر کے یا انہیں عذاب دے کہ یہ ظالم لوگ ہیں

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 3:129 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب خدا ہی کا ہے وہ جسے چاہے بخش دے اور جسے چاہے عذاب کرے اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(128۔ 129) اے نبی کریم ﷺ آپ کے قبضہ قدرت میں خود توبہ اور عذاب نہیں کہ آپ غزوہ احد کے شکست خوردہ یا ان کے تیراندازوں کے لیے بددعا کریں، اللہ تعالیٰ اگر چاہے گا تو ان پر اپنی مہربانی سے توجہ فرمائے گا اور ان کے گناہوں کو اسلام (مکمل اطاعت) کی توفیق دے کر معاف کردے گا اور جو اللہ کے ہاں مغفرت کا اہل ہوتا ہے اس کی مغفرت اور جو عذاب کا مستحق ہوتا ہے اسے عذاب دیتا ہے، کہا گیا ہے کہ یہ آیت دو قبیلوں عصیہ اور ذکوان کے بارے میں نازل ہوئی ہے، انہوں نے کچھ صحابہ کرام کو شہید کردیا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے بددعا فرمائی تھی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح) شان نزول : (آیت) ”لیس لک من الامر شیئی“۔ (الخ) حضرت امام احمد ؒ اور امام مسلم ؒ نے حضرت انس ؓ سے روایت کیا ہے کہ غزوہ احد کے دن رسول اکرم ﷺ کے سامنے کے چار دندان مبارک میں سے ایک دانت شہید ہوگیا اور آپ کا چہرہ مبارک بھی زخمی ہوگیا، چہرہ مبارک سے خون بہنے لگا، اس وقت آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”ایسی قوم کس طرح فلاح پا سکتی ہے جنہوں نے اپنے نبی کے ساتھ ایسا کیا حالانکہ وہ نبی ان کو اللہ کی طرف بلارہا ہے“۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی یعنی آپ کو کسی کے مسلمان ہونے یا کفار ہونے کے متعلق خود کوئی دخل نہیں، اور امام احمد ؒ اور بخاری ؒ نے ابن عمر ؓ سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرما رہے تھے۔ الہ العالمین فلاں پر لعنت نازل فرما، اے اللہ حارث بن ہشام پر لعنت فرما، اے اللہ سہیل بن عمرو پر لعنت فرما، اے اللہ صفوان بن امیہ پر لعنت فرما، اس پر اخیر تک یہ آیت نازل ہوئی اور پھر بعد میں ان سب کو اسلام کی توفیق ہوگئی نیز امام بخاری ؒ نے ابوہریرہ ؓ سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں، دونوں روایتوں میں مطابقت اس طرح ہے کہ ان مذکورہ لوگوں کے لیے آپ نے اپنی نماز میں جب کہ غزوہ احد میں آپ کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا، اس کے بعد بددعا فرمائی تو آیت ایک ساتھ ان دونوں واقعوں کے بارے میں نازل ہوئی، جو آپ کے ساتھ پیش آیا اور جو ان لوگوں نے صحابہ کے ساتھ کیا، فرماتے ہیں لیکن اس توجیہ پر صحیح مسلم کی اس حدیث سے اشکال پیدا ہوتا ہے جو ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ صبح کی نماز میں فرماتے تھے ”الہ العالمین رعل، ذکوان، عصیہ پر لعنت نازل فرما تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی اور اشکال کی وجہ یہ ہے کہ آیت احد کے واقعہ میں نازل ہوئی اور رعل وزکوان کا واقعہ بعد کا ہے مگر حدیث کی علت پھر بعد میں میری سمجھ میں آئی وہ یہ کہ اس روایت میں ادراج (اضافہ) ہے وہ یہ کہ حتی انزل اللہ علیہ کا جو مسلم میں متصلا لفظ مروی ہے، وہ امام زہری کی روایت میں موجود نہیں اور یہ بھی احتمال ہے کہ رعل وذکوان کا واقعہ اس کے بعد ہوا اور نزول آیت میں اپنے سبب سے کچھ تاخیر ہوگئی ہو، پھر آیت کریمہ تمام واقعات کے بارے میں نازل ہوئی ہو، امام سیوطی ؒ فرماتے ہیں کہ آیت کے سبب نزول کے بارے میں ایک روایت اور بھی ہے جو بخاری نے اپنی تاریخ میں اور ابن اسحاق نے سالم بن عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کی ہے۔ روایت یہ ہے کہ قریش میں سے ایک شخص رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ آپ گالی گلوچ سے منع کرتے ہیں اس کے بعد اس نے اپنا منہ آپ کی طرف سے پھیرلیا اور اپنی گدی آپ کی طرف کردی، تاآنکہ اس کی سرین کھل گئی تو اس پر رسول اللہ ﷺ نے لعنت فرمائی اور اس کے لیے بددعا کی تب یہ آیت لیس لک من الامر شئی“۔ نازل ہوئی پھر اس کے بعداس شخص کو اسلام کی توفیق ہوئی اور اس کا اسلام بھی اچھا ہوگیا، یہ روایت مرسل غریب ہے۔
Ayahs 3:130–131

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَاْكُلُوا الرِّبٰۤوا اَضْعَافًا مُّضٰعَفَةً١۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَۚ Open ayah 3:130 in the Quran reader

اے ایمان والو ! دگنا چوگنا سود نہ کھاؤ اور خدا سے ڈرو تاکہ نجات حاصل کرو

وَ اتَّقُوا النَّارَ الَّتِیْۤ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِیْنَۚ Open ayah 3:131 in the Quran reader

اور (دوزخ) کی آگ سے بچو جو کافروں کے لئے تیار کئی گئی ہے

(130۔ 131) ثقیف والو ! روپیہ پر مدت میں سود مت لو اور اللہ سے اس بارے میں ڈرتے رہو تاکہ تمہیں غصہ اور عذاب سے نجات حاصل ہو اور سود کھانے میں جہنم کی آگ سے ڈرو جو اللہ تعالیٰ نے حرمت سود کے منکرین کے لیے پیدا کی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح) شان نزول : یایھا الذین امنوا الا تاکلوا الربوا (الخ) فریابی ؒ نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ لوگ وقت مقرر پر ادھار چیزوں کو فرورخت کیا کرتے تھے یہ مدت پوری ہونے کے بعد قرض میں اضافہ کردیتے تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ ”اے ایمان والو کئی حصے کرکے سود مت کھاؤ“۔ اور فریابی ؒ نے عطا سے روایت کیا ہے کہ قبیلہ ثقیف، بنو نضیر سے زمانہ جاہلیت میں قرض کے طریقہ پر لین دین کیا کرتے تھے، جب قرض کی مدت آجاتی تو یہ لوگ کہتے کہ ہم تمہیں کو سود دیں گے، مدت میں اضافہ کر دو ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ،
Ayah 3:132

وَ اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۚ Open ayah 3:132 in the Quran reader

اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحمت کی جائے

(132) حرمت سود اور سود کے چھوڑ دینے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تابعداری کرو تاکہ تم پر اللہ کی رحمت ہو اور عذاب خداوندی سے تمہیں نجات ملے۔
Ayah 3:133

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُ١ۙ اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 3:133 in the Quran reader

اور اپنے پروردگار کی بخشش اور بہشت کی طرف لپکو جس کا عرض آسمان اور زمین کے برابر ہے اور جو (خدا سے) ڈرنے والوں کے لیے تیار کی گئی ہے

(133) سود اور تمام گناہوں سے توبہ کرنے میں اپنے پروردگار کی طرف پہل کرو، اور نیک اعمال کرکے اور سود کو چھوڑ کر جنت کی تیاری کرو جس کی وسعت تمام آسمانوں اور زمینوں کے برابر ہے، جو کہ کفر وشرک فواحش اور سود کے ترک کرنے والوں کے لیے بنائی گئی ہے۔
Ayah 3:134

الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ فِی السَّرَّآءِ وَ الضَّرَّآءِ وَ الْكٰظِمِیْنَ الْغَیْظَ وَ الْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَۚ Open ayah 3:134 in the Quran reader

جو آسودگی اور تنگی میں (اپنا مال خدا کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں اور غصے کو روکتے اور لوگوں کے قصور معاف کرتے ہیں اور خدا نیکو کاروں کو دوست رکھتا ہے

(134) اب اللہ تعالیٰ ایسے حضرات کی صفات بیان فرماتے ہیں کہ جو حضرات تنگی اور خوشحالی میں اپنے اموال کو راہ اللہ میں خرچ کرتے ہیں، اور غصہ کے جوش وہیجان کو ضبط کرتے ہیں اور غلاموں کی خطاؤں سے درگزر کرتے ہیں۔
Ayah 3:135

وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:135 in the Quran reader

اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی اور برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے رہو اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں اور خدا کے سوا گناہ بخش بھی کون کرسکتا ہے ؟ اور جان بوجھ کر اپنے افعال پر اڑے نہیں رہتے

(135) یہ آیت انصار میں سے ایک شخص کے بارے میں نازل ہوئی ہے جس نے قبیلہ ثقیف کی ایک عورت کی طرف دیکھا تھا اور ہاتھ وغیرہ لگا یا تھا (اس کے بعد ندامت اور سر پر مٹی ڈال کر توبہ و استغفار کرنے کے لیے دور نکل گیا) اور ایسے لوگ جب کوئی دیکھنے، چھونے کا کام جذبات میں آکر کرجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور فورا اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتے ہیں اور اللہ کے علاوہ کون توبہ قبول کرنے والا ہے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ کام اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا باعث ہے، اس پر قائم نہیں رہتے۔
Ayah 3:136

اُولٰٓئِكَ جَزَآؤُهُمْ مَّغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَا١ؕ وَ نِعْمَ اَجْرُ الْعٰمِلِیْنَؕ Open ayah 3:136 in the Quran reader

ایسے ہی لوگوں کا صلہ پروردگار کی طرف سے بخشش اور باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہیں (اور) وہ ان میں ہمیشہ بستے رہیں گے اور اچھے کام کرنے والوں کا بدلہ بہت اچھا ہے

(136) ان حضرات کے لیے بطور باغات ایسے باغات ہیں جہاں گھروں اور درختوں کے نیچے سے شہد، دودھ، شراب اور پانی کی نہریں ہیں، یہ لوگ جنت میں ہمیشہ رہیں گے تو بہ کرنے والوں کا نعم البدل جنت ہی ہے۔
Ayah 3:137

قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ١ۙ فَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 3:137 in the Quran reader

تم لوگوں سے پہلے بھی بہت سے واقعات گزر چکے ہیں تو تم زمین میں سیر کر کے دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا انجام ہو

(137) پہلی امتوں سے یہ طریقہ چلا آرہا ہے کہ توبہ کرنے والے کے لیے مغفرت وثواب ہے اور جو توبہ نہ کرے اس کے لیے ہلاکت و بربادی ہے، غور کرو جن لوگوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور اپنی اس تکذیب سے توبہ نہیں کی، ان کا آخری انجام کیا ہوا۔
Ayah 3:138

هٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:138 in the Quran reader

یہ (قرآن) لوگوں کے لیے بیان صریح اور اہل تقوی کے لئے ہدایت اور نصیحت ہے

(138) یہ قرآن کریم ان حضرات کے لیے جو کفر وشرک سے بچنے والے ہیں، حلال و حرام کو بیان کرنے والا اور نصیحت والا ہے۔
Ayah 3:139

وَ لَا تَهِنُوْا وَ لَا تَحْزَنُوْا وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:139 in the Quran reader

اور (دیکھو) بےدل نہ ہونا اور نہ کسی طرح غم کرنا اگر تم مومن (صادق) ہو تو تم ہی غالب رہو گے

(139) غزوہ احد میں مسلمانوں کو جو پریشانی لاحق ہوئی اللہ تعالیٰ اس کی تسلی فرماتے ہیں کہ دشمنوں کے مقابلہ میں کمزوری مت دکھاؤ، احد کے دن جو مال غنیمت وغیرہ تم سے چھوٹ گیا اور جو تمہیں پریشانی لاحق ہوئی اس پر دل چھو ٹا مت کرو اللہ تعالیٰ آخرت میں اس پر تمہیں ثواب دے گا اور دنیا میں غلبہ حاصل ہوگا بشرطیکہ اس بات پر یقین ہو کہ غلبہ اور غنیمت سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔
Ayahs 3:140–141

اِنْ یَّمْسَسْكُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُهٗ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَیَّامُ نُدَاوِلُهَا بَیْنَ النَّاسِ١ۚ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَتَّخِذَ مِنْكُمْ شُهَدَآءَ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 3:140 in the Quran reader

اگر تمہیں زخم (شکست) لگا ہے تو ان لوگوں کو بھی ایسا زخم لگ چکا ہے اور یہ دن ہیں کہ ہم ان کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں اور اس سے یہ بھی مقصود تھا کہ خدا ایمان والوں کو متمیز کر دے اور تم میں سے گواہ بنائے اور خدا بےانصافوں کو پسند نہیں کرتا

وَ لِیُمَحِّصَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ یَمْحَقَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:141 in the Quran reader

اور یہ بھی مقصود تھا خدا ایمان والوں کو خالص (مومن) بنادے اور کافروں کو نابود کر دے

(140۔ 141) اگر غزوہ احد کے دن تمہیں کوئی صدمہ پہنچ جائے تو اسی طرح کا صدمہ وغم مکہ والوں کو بدر کے دن پہنچ چکا ہے، کیوں کہ ہمارا دستور ہے کہ دنیا کے حالات کو ہم اسی طرح بدلتے رہتے ہیں، کبھی مسلمانوں کو کافروں پر غلبہ دے دیا اور کبھی کفار کو غلبہ دے دیا تاکہ میدان جہاد میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو دیکھ لیں، پھر جس کو وہ چاہیں شہادت کی وجہ سے عزت و شرافت عطا فرما دیں اور حق تعالیٰ مشرکین اور ان کے دین اور ان کی دولت کو پسند نہیں کرتے، اور تاکہ اللہ تعالیٰ جہاد میں جو باتیں پیش آئیں ان پر اللہ اہل ایمان کی مغفرت فرمائے اور لڑائی میں کفار کو ملیامیٹ کردے۔ شان نزول : (آیت) ”ویتخذ منکم شہدآء“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے عکرمہ ؒ سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں کہ جب عورتوں پر احد کے دن (غلط بات مشہور ہونے کے بعد) صورت حال کی تحقیق میں دیر ہوئی تو وہ معلومات کرنے کے لیے نکلیں دیکھا کہ دو آدمی اونٹ پر آرہے ہیں تو ایک عورت نے ان سے پوچھا کہ رسول اکرم ﷺ کے بارے میں کیا اطلاع ہے، ان سواروں نے کہا کہ آپ زندہ ہیں، تو وہ عورت بولی اگر حضور ﷺ سلامت ہیں تو) اب کسی بات کا فکر نہیں اللہ تعالیٰ جس قدر چاہے اپنے بندوں کو شہید کر دے تو اسی عورت کے الفاظ کے مطابق قرآن کریم کی یہ (آیت) ”ویتخذ منکم شھدآء“۔ نازل ہوگئی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 3:142

اَمْ حَسِبْتُمْ اَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللّٰهُ الَّذِیْنَ جٰهَدُوْا مِنْكُمْ وَ یَعْلَمَ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:142 in the Quran reader

کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے

(142) کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ جنت میں بغیر جہاد ہی کے داخل ہوجاؤ گے، ابھی اللہ تعالیٰ نے ظاہری طور پر تو ان لوگوں کو دیکھا (آزمایا) ہی نہیں، جنھوں نے احد کے دن خوب خوب جہاد کیا اور نہ ان لوگوں کو جو اپنے نبی کے ساتھ مل کر کفار کے مقابلہ میں ڈٹے رہے۔
Ayah 3:143

وَ لَقَدْ كُنْتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَلْقَوْهُ١۪ فَقَدْ رَاَیْتُمُوْهُ وَ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ۠ Open ayah 3:143 in the Quran reader

اور تم موت (شہادت) کے آنے سے پہلے اس کی تمنا کیا کرتے تھے سو تم نے اس کو آنکھوں سے دیکھ لیا

(143) تم (میں سے چند جوشیلے مسلمان) احد کے واقعہ سے پہلے (جذبہ جہاد کے سبب) لڑائی میں مرجانے (شہید ہوجانے) کی تمنا کر رہے تھے اور پھر احد کے دن کفار کی تلواریں دیکھ کر ان سے خوب لڑے بھی اور پھر بالاخر ان سے ظاہرا عارضی) شکست کھاگئے اور (باوجود کوشش کے) نبی کریم ﷺ کے ساتھ (پوری طرح) ثابت قدم نہ رہ سکے۔ شان نزول : (آیت) ”ولقد کنتم تمنون الموت“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے عوفی کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ صحابہ کرام میں سے کچھ حضرات کہتے تھے کاش ہم کفار کو پھر اس طرح قتل کریں جیسا کہ بدر کے دن قتل کیا تھا اور کاش بدر جیسا دن پھر پیش آئے اور اس میں ہم کفار کو تہہ تیغ کریں اور بہت زیادہ ثواب کمائیں یا شہادت اور جنت حاصل کریں یا زندگی اور مال غنیمت حاصل کریں چناچہ اللہ تعالیٰ نے احد کے دن کا مشاہدہ کرا دیا اور اس میں ان حضرات کے سوا جن کو اللہ تعالیٰ نے ثابت قدم رکھا کہ کوئی نہ جم سکا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ تم تو مرنے (یعنی شہید ہونے) کی تمنا کررہے تھے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 3:144

وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌ١ۚ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ١ؕ اَفَاۡئِنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن Open ayah 3:144 in the Quran reader

اور محمد ﷺ تو صرف (خدا کے) پیغمبر ہیں ان سے پہلے بھی بہت پیغمبر ہو گزرے ہیں بھلا اگر یہ مرجائیں یا مارے جائیں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟ (یعنی مرتد ہوجاؤ گے) اور جو الٹے پاؤں پھرجائے گا تو خدا کا کچھ نقصان نہیں کرسکے گا اور خدا ‌شکر گزاروں کو (بڑا) ثواب دے گا۔

(144) صحابہ کرام ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ احد کے دن ہمیں یہ اطلاع ملی کہ خدانخواستہ آپ شہید کردیے گئے آپکی جدائی کے عظیم صدمہ و پریشانی سے وقتی طور پر ہم حوصلہ چھوڑ گئے اور ظاہرا ہمیں شکست ہوگئی، اللہ تعالیٰ اس چیز کا تذکرہ فرما رہے ہیں کہ آپ ﷺ سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں، اسی طرح اگر آپ انتقال فرما جائیں یا شہید کردیے جائیں تو کیا تم اپنے پہلے والے دین کی طرف لوٹ جاؤ گے اور جو شخص اپنے سابقہ دین کی طرف پھرجائے گا تو اس کا یہ لوٹنا اللہ تعالیٰ کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا، اللہ تعالیٰ مومنین کو ان کے ایمان اور جہاد کے عوض جلد ہی نیک بدلہ دے گا۔ شان نزول : (آیت) ”وما محمد الا رسول“۔ (الخ) ابن منذر ؒ نے حضرت عمر فاروق ؓ سے روایت کیا ہے کہ احد کے دن ہم رسول اللہ ﷺ سے علیحدہ ہوگئے میں اچانک پہاڑ پر چڑھا، ایک یہودی سے یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول اکرم ﷺ شہید کردیے گئے، میں نے یہ عزم کیا کہ جس کسی کو بھی یہ کہتے ہوئے سنوں گا کہ محمد ﷺ شہید کردیے گئے تو اس کی گردن اڑا دوں گا، اچانک کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ تشریف لارہے ہیں اس وقت یہ آیت کریمہ نازل ہوئی۔ (آیت) ”وما محمد الا رسول“۔ (الخ) اور ابن ابی حاتم ؒ نے ربیع سے روایت کیا ہے کہ غزوہ احد میں جب مسلمان شہید اور زخمی ہوئے تو انہوں نے رسول اکرم ﷺ کی تلاش شروع کی تو کچھ بدبخت بولے کہ آپ شہید کردیے گئے، اس پر کچھ لوگوں نے کہا کہ اگر آپ ﷺ نبی ہیں تو آپ ﷺ کو کوئی شہید نہیں کرسکتا اور بعض لوگوں نے کہا کہ جس چیز پر تمہارے نبی نے جہاد کیا، اسی پر تم جہاد کرو یہاں تک کہ تمہیں فتح حاصل ہو یا یہ کہ تم شہید ہوجاؤ، اسی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ، اور بیہقی ؒ نے دلائل میں ابو نجیح سے روایت کیا ہے کہ مہاجرین میں سے ایک شخص ایک انصاری کے پاس سے گزرا اور وہ اپنے بدن سے خون صاف کررہے تھے، مہاجر کہنے لگا کہ تمہیں معلوم ہے کہ رسول اکرم ﷺ شہید کردیے گئے، انصاری نے کہا کہ اگر ایسا ہی ہے تو آپ ﷺ تو اپنے مقام اصلی پر پہنچ گئے تم اپنے دین کی حمایت میں لڑتے رہو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور ابن راہویہ نے مسند میں زہری سے روایت کیا کہ شیطان نے احد کے دن بلند آواز سے چیخ ماری کہ رسول اکرم ﷺ شہید کردیے گئے، کعب بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے میدان جنگ میں رسول اکرم ﷺ کو دور پہچانا، میں نے آپ کی آنکھوں کو خود نیچے سے دیکھا، دیکھتے ہی خوشی ومسرت میں بلند آواز کے ساتھ میں نے پکارا کہ اے صحابہ کرام ؓ رسول اللہ ﷺ یہ ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 3:145

وَ مَا كَانَ لِنَفْسٍ اَنْ تَمُوْتَ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ كِتٰبًا مُّؤَجَّلًا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ۚ وَ مَنْ یُّرِدْ ثَوَابَ الْاٰخِرَةِ نُؤْتِهٖ مِنْهَا١ؕ وَ سَنَجْزِی الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 3:145 in the Quran reader

اور کسی شخص میں طاقت نہیں کہ خدا کے حکم کے بغیر مرجائے (اس نے موت) کا وقت مقرر کر کے لکھ رکھا ہے اور جو شخص دنیا میں (اپنے اعمال) کا بدلہ چاہے اس کو ہم یہیں بدلہ دیں گے اور جو آخرت میں طالب ثواب ہو اس کو وہاں اجر عطا کریں گے اور ہم شکر گزاروں کو عنقریب بہت (اچھا) صلہ دیں گے

(145) کسی بھی شخص کو بغیر حکم خداوندی اور مشیت الہی کے موت آنا ممکن نہیں اس کی زندگی اور روزی کی میعاد لکھی ہوئی ہے، جس میں ایک کو دوسرے پر تقدیم وتاخیر نہیں ہوسکتی اور جو شخص اپنے عمل اور جہاد سے دنیاوی فائدہ حاصل کرنا چاہتا ہے تو ہم دنیا ہی میں اس کی نیت کے مطابق دے دیتے ہیں، البتہ آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہیں رہتا۔ اور جو اپنے عمل اور جہاد سے آخرت میں ثواب چاہتا ہے تو ہم اسے اس کی نیت کے موافق آخرت میں دیتے ہیں اور مومنین کو ہم ان کے ایمان اور جہاد کا جلد ہی نیک بدلا دیں گے۔
Ayah 3:146

وَ كَاَیِّنْ مِّنْ نَّبِیٍّ قٰتَلَ١ۙ مَعَهٗ رِبِّیُّوْنَ كَثِیْرٌ١ۚ فَمَا وَ هَنُوْا لِمَاۤ اَصَابَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ مَا ضَعُفُوْا وَ مَا اسْتَكَانُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الصّٰبِرِیْنَ Open ayah 3:146 in the Quran reader

اور بہت سے نبی ہوئے ہیں جن کے ساتھ ہو کر اکثر اہل اللہ (خدا کے دشمنوں سے) لڑے ہیں تو جو مصیبتیں ان پر راہ خدا میں واقع ہوئیں ان کے سبب انہوں نے نہ تو ہمت ہاری اور نہ بزدلی کی نہ (کافروں سے) دبے اور خدا استقلال رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

(146) اور آپ ﷺ سے پہلے بھی بہت سے نبی ہوچکے ہیں جن کے ساتھ اہل ایمان کی بڑی بڑی جماعتوں نے مل کر کفار کے ساتھ مقابلہ کیا ہے تو اس مقابلے میں قتل وزخم کی وجہ سے نہ انہوں نے کام سے ہمت ہاری اور نہ دشمنوں کے مقابلہ سے ان میں کسی قسم کی کوئی کمزوری آئی اور ایک یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ بہت سے نبی شہید کردیے گئے۔ حالانکہ ان کے ساتھ مسلمانوں کی بڑی بڑی جماعتیں بھی تھیں مگر جہاد فی سبیل اللہ میں جو ان کو پریشانیاں ہوئیں آزمائشیں آئیں اور ان کے نبی شہید کردیے گئے ان باتوں نے ان کو اطاعت خداوندی سے کمزور نہیں کیا۔ اور جو اہل ایمان انبیاء کرام کے ساتھ دشمنوں کے مقابلہ میں ثابت قدم رہتے ہیں اللہ تعالیٰ ایسے ہی لوگوں کو پسند فرماتے ہیں۔
Ayahs 3:147–149

وَ مَا كَانَ قَوْلَهُمْ اِلَّاۤ اَنْ قَالُوْا رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوْبَنَا وَ اِسْرَافَنَا فِیْۤ اَمْرِنَا وَ ثَبِّتْ اَقْدَامَنَا وَ انْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 3:147 in the Quran reader

اور (اس حالت میں) ان کے منہ سے کوئی بات نکلتی تو یہی کہ اے پروردگار ہمارے گناہ اور زیادتیاں جو ہم اپنے کاموں میں کرتے رہے ہیں معاف فرما اور ہم کو ثابت قدم رکھ اور کافروں پر فتح عنایت فرما

فَاٰتٰىهُمُ اللّٰهُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَ حُسْنَ ثَوَابِ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ۠ Open ayah 3:148 in the Quran reader

تو خدا نے انکو دنیا میں بھی بدلہ دیا اور آخرت میں بھی بہت اچھا بدلہ دے گا اور خدا نیکوکاروں کو دوست رکھتا ہے

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ تُطِیْعُوا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَرُدُّوْكُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ فَتَنْقَلِبُوْا خٰسِرِیْنَ Open ayah 3:149 in the Quran reader

مومنو ! اگر تم کافروں کا کہا مان لو گے تو وہ تم کو الٹے پاؤں پھیر (کر مرتد کر) دیں گے پھر تم بڑے خسارے میں پڑجاؤ گے

(147۔ 148۔ 149) اور ان مومنین کی تو اپنے نبی کے شہید ہوجانے کے بعد بارگاہ الہی میں یہ دعا تھی کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمارے صغیرہ اور کبیرہ گناہوں کو معاف فرما نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو دنیا میں بھی فتح وغنیمت دی اور آخرت میں بھی جنت عطا کی اور اللہ تعالیٰ ایسے مومنین کو جو جہاد میں ثابت قدم رہتے ہیں پسند فرماتے ہیں، ایک معنی یہ بھی بیان کئے گئے ہیں کہ حذیفہ ؓ اور عمار ؓ اگر تم کعب اور اس کے ساتھیوں کا کہا مانوگے تو وہ تمہیں تمہارے سابقہ دین کفر کی طرف واپس پھیر دیں گے اور اس لوٹنے کے بعد تم دنیا وآخرت کی بربادی اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤ گے بلکہ اللہ تعالیٰ تمہارا محافظ ہے۔
Ayahs 3:150–151

بَلِ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ خَیْرُ النّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:150 in the Quran reader

(یہ تمہارے مددگار نہیں) بلکہ خدا تمہارا مددگار ہے اور سب سے بہتر مددگار ہے

سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ كَفَرُوا الرُّعْبَ بِمَاۤ اَشْرَكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا١ۚ وَ مَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ وَ بِئْسَ مَثْوَى الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:151 in the Quran reader

ہم عنقریب کافروں کے دلوں میں تمہارا رعب بٹھا دیں گے کیونکہ یہ خدا کے ساتھ شرک کرتے ہیں جس کی اس نے کوئی بھی دلیل نازل نہیں کی ان کا ٹھکانہ ددزخ ہے وہ ظالموں کا بہت برا ٹھکانہ ہے

(150۔ 151) وہ ان کے مقابلہ میں تمہاری مدد فرمائے گا اور وہ بہت زیادہ مدد فرمانے والے ہیں، غزوہ احد کے انجام میں کفار کو پھر واپسی کے ارادہ پر جو راستہ میں شکست ہوئی اللہ تعالیٰ اس کا تذکرہ فرماتے ہیں کہ ہم نے کفار مکہ کے دلوں میں تمہارا ڈر بٹھا دیا یہاں تک کہ وہ شکست کھاگئے باوجودیکہ اس شرک پر بطور دلیل ان کے لیے نہ کوئی کتاب ہے اور نہ کوئی رسول اور ان کا اصلی ٹھکانا جہنم ہے۔
Ayah 3:152

وَ لَقَدْ صَدَقَكُمُ اللّٰهُ وَعْدَهٗۤ اِذْ تَحُسُّوْنَهُمْ بِاِذْنِهٖ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا فَشِلْتُمْ وَ تَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ وَ عَصَیْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَاۤ اَرٰىكُمْ مَّا تُحِبُّوْنَ١ؕ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الدُّنْیَا وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرِیْدُ الْاٰخِرَةَ١ۚ ثُمَّ صَرَفَكُمْ عَنْهُمْ لِیَبْتَلِیَكُمْ١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا عَنْكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُوْ فَضْلٍ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:152 in the Quran reader

اور خدا نے اپنا وعدہ سچا کردیا (یعنی) اس وقت جب کہ تم کافروں کو اس کے حکم سے قتل کر رہے تھے یہاں تک کہ جو تم چاہتے تھے خدا نے تم کو دکھا دیا اس کے بعد تم نے ہمت ہار دی اور حکم (پیغمبر) میں جھگڑا کرنے لگے اور اس کی نافرمانی کی بعض تو تم میں سے دنیا کے خواستگار تھے اور بعض آخرت کے طالب اس وقت خدا نے تم کو ان (کے مقابلے) سے پھیر (کر بھگا) دیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے اور اس نے تمہارا قصور معاف کردیا اور خدا مومنوں پر بڑا فضل کرنے والا ہے۔

(152) غزوہ احد کے بارے میں جو مسلمانوں سے وعدہ فرمایا تھا، اب اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں کہ جب احد کے دن ابتدائے قتال میں تم کفار کو اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کے حکم سے قتل کررہے تھے لیکن لڑائی کے آخری مرحلہ میں جب تم خود ہی اختلاف رائے کے سبب کمزور ہوگئے اور لڑائی کے مسئلہ میں اور رسول اللہ ﷺ کے حکم میں مورچہ چھوڑنے کے اندر مختلف ہوگے اس کے باوجود کہ فتح اور غنیمت تمہیں مل گئی تھی، بعض تیر انداز اس مرحلے پر مورچہ چھوڑ جہاد سے صرف مال غنیمت ہی حاصل کرنا چاہتے تھے اور بعض جہاد اور مورچہ پر کھڑے رہنے میں آخرت کے طلب گار تھے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ اور ان کے ساتھی اسی مورچہ پر جمے رہے (جس پر رسول اللہ ﷺ نے ان کو متعین کیا تھا یہاں تک کہ) شہید ہوگئے۔ پھر اس نے اپنی ایک خاص تدبیر و حکمت کے سبب تمہیں ان کفار پر غلبہ دینے سے اللہ تعالیٰ نے روک دیا، تاکہ تمہارے ایمان کی آزمائش فرمائے مگر اس ظاہری حکم عدولی کے باوجود تمہارے اخلاص کے سبب اس نے تمہیں معاف کردیا، اور ان تیراندازوں سے بھی کوئی مواخذہ نہیں کیا، کیونکہ انکی نیت بھی غلط نہ تھی۔
Ayah 3:153

اِذْ تُصْعِدُوْنَ وَ لَا تَلْوٗنَ عَلٰۤى اَحَدٍ وَّ الرَّسُوْلُ یَدْعُوْكُمْ فِیْۤ اُخْرٰىكُمْ فَاَثَابَكُمْ غَمًّۢا بِغَمٍّ لِّكَیْلَا تَحْزَنُوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا مَاۤ اَصَابَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 3:153 in the Quran reader

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب تم لوگ دور بھاگے جاتے تھے اور کسی کو پیچھے پھر کر نہیں دیکھتے تھے اور رسول اللہ تم کو تمہارے پیچھے کھڑے بلا رہے تھے تو خدا نے تم کو غم پر غم پہنچایا تاکہ جو چیز تمہارے ہاتھ سے جاتی رہی یا جو مصبیت تم پر واقع ہوئی ہے اس سے تم اندوہناک نہ ہو اور خدا تمہارے سب اعمال سے خبردار ہے

(153) دشمنوں کے ڈر سے غزوہ احد میں صحابہ رسول اکرم ﷺ سے جنگ کی افراتفری میں اچانک جو علیحدہ ہوئے تو اللہ تعالیٰ اس کا تذکرہ فرماتے ہیں کہ جب تم ظاہری شکست سے پہاڑ کی طرف بھاگ رہے تھے اور رسول اکرم ﷺ کی طرف بوجوہ توجہ نہیں کررہے تھے اور نہ آپ کے پاس کھڑے ہورہے تھے اور رسول اللہ ﷺ تمہارے پیچھے کی طرف سے جنگ کے اس شور وشغب میں بھی کمال حوصلہ سے تمہیں آوازیں دے رہے تھے، کہ مسلمانو ! ادھر آؤ میں رسول اللہ ﷺ ہوں مگر تم نے اپنی اس شدید پریشانی کے عالم میں، اس آوازئی رسول کو سنا ہی نہیں تو اس پاداش میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں غم پر غم دیا ایک غم خالد بن ولید کے دستہ کا اور دوسرا غم شکست کھا جانے اور زخمی ہوجانے کا (یعنی اپنے ساتھی صحابہ کرام ؓ کے شہید ہوجانے کا غم نہ کرو جیسے سید الشہداء حضرت حمزہ ؓ اور علم بردار اسلام حضرت معصب بن عمیر وغیرہ اور دیگر ستر کے قریب شہدائے اسلام کا اور اس طرح بہت سے زخمی مجاہدین کا بھی غم نہ کرو فتح ونصرت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے) زخمی اور قتل ہونے پر تم مغموم نہ ہوا کرو کیوں کہ اللہ تعالیٰ فتح وہزیمت سب کو جانتا ہے۔
Ayah 3:154

ثُمَّ اَنْزَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ الْغَمِّ اَمَنَةً نُّعَاسًا یَّغْشٰى طَآئِفَةً مِّنْكُمْ١ۙ وَ طَآئِفَةٌ قَدْ اَهَمَّتْهُمْ اَنْفُسُهُمْ یَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاهِلِیَّةِ١ؕ یَقُوْلُوْنَ هَلْ لَّنَا مِنَ الْاَمْرِ مِنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ اِنَّ الْاَمْرَ كُلَّهٗ لِلّٰهِ١ؕ یُخْفُوْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ مَّا لَا یُبْدُوْنَ لَكَ١ؕ یَقُوْلُوْنَ لَوْ كَانَ لَنَا مِنَ الْاَمْرِ شَیْءٌ مَّا قُتِلْنَا هٰهُنَا١ؕ قُلْ لَّوْ كُنْتُمْ فِیْ بُیُوْتِكُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ كُتِبَ عَلَیْهِمُ الْقَتْلُ اِلٰى مَضَاجِعِهِمْ١ۚ وَ لِیَبْتَلِیَ اللّٰهُ مَا فِیْ صُدُوْرِكُمْ وَ لِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 3:154 in the Quran reader

پھر خدا نے غم ورنج کے بعد تم پر تسلی نازل فرمائی (یعنی) نیند کہ تم میں سے ایک جماعت پر طاری ہوگئی اور کچھ لوگ جن کو جان کے لالے پڑ رہے تھے خدا کے بارے میں ناحق (ایام) کفر کے سے گمان کرتے تھے اور کہتے تھے بھلا ہمارے اختیار کی کچھ بات ہے ؟ تم کہہ دو کہ بیشک سب باتیں خدا ہی کے اختیار میں ہیں یہ لوگ (بہت سی باتیں) دلوں میں مخفی رکھتے ہیں جو تم پر ظاہر نہیں کرتے تھے کہتے تھے کہ ہمارے بس کی بات ہوتی تو ہم یہاں قتل ہی نہ کیے جاتے کہہ دو کہ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن کی تقدیر میں مارا جانا لکھا تھا وہ اپنی اپنی قتل گاہوں کی طرف ضرور نکل آتے اس سے غرض یہ تھی کہ خدا تمہارے سینوں کی باتوں کو آزمائے اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے اس کو خالص اور صاف کر دے اور خدا دلوں کی باتوں سے خوب واقف ہے

(154) اس غم کے بعد اللہ تعالیٰ نے تم پر احسان فرمایا کہ اہل صدق ویقین کو کفار سے بھاگنے کے بعد ایک اونگھ جیسے سکینت آگئی۔ (جنگ کی اس شدید افراتفری میں جب جسم وذہن پر شدید بوجھ ہوتا ہے اور جنگ کے مہیب شعلے اور تڑپتی لاشیں، زخمیوں کی چیخ و پکار کے اس سخت ترین ماحول میں کہ جب نیند اڑ جاتی ہے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو بطور سکینت نیند کے جھونکے دے کر تروتازہ کردیا۔ ابوطلحہ کا بیان ہے کہ میں بھی ان لوگوں میں تھا، جن پر احد کے روز نیند چھا رہی تھی، یہاں تک کہ میرے ہاتھ سے کئی بار تلوار گرگئی، حالت یہ تھی کہ وہ گرتی تھی اور میں پکڑتا تھا، پھر گرتی تھی اور میں پھر پکڑتا تھا۔ (صحیح بخاری جلد 2 صفحہ 852) جس سے انکا سارا غم دور ہوگیا اور دوسری معتب بن قشیر منافق کی جماعت کو اپنی جان کی فکروہی رہی تھی ان پر اونگھ طاری نہیں ہوئی یہ لوگ جاہلیت کے عقیدہ کے مطابق یہ سمجھے ہوئے تھے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کی مدد نہیں فرمائے گا اور یہ کہہ رہے تھے کہ ہمارا ہی سب کچھ اختیار چلتا ہے، محمد ﷺ آپ فرما دیجیے کہ دولت ونصرت سب اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ یہ منافق اپنے دلوں میں ایسی خطرناک سازش پوشیدہ رکھتے ہیں، جو آپ کے سامنے قتل ہونے کے ڈر سے ظاہر نہیں کرتے۔ اے محمد ﷺ آپ ان منافقین سے فرما دیجیے کہ اگر تم مدینہ منورہ میں بھی ہوتے تو جن کے مقدر میں قتل ہونا لکھا جا چکا تھا وہ ضرور احد کے میدان میں آتے یہ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ منافقین کے دلوں کی آزمائش کرتا اور ان کے نفاق کو سامنے لاتا ہے اور ان کے دلوں میں جو خیر و شر ہے، اللہ تعالیٰ اسے خوب جانتا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”انزل علیکم من بعد“۔ (الخ) ابن راہویہ نے حضرت زبیر ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ احد کے دن جب ہم پر دشمنوں کا خوف ہوا سمجھے دیکھتے کہ ہم میں سے ہر ایک پر ایک قسم کی اونگھ طاری ہوگئی اور میں خواب دیکھنے کی طرح معتب بن قشیر کا یہ قول سن رہا تھا کہ اگر اہمار اکچھ اور اختیار چلتا تو ہم یہاں مقتول نہ ہوتے، میں نے اس کے اس قول کو یاد کرلیا، اسی حوالے سے اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”ثم انزل“۔ سے ”۔ علیم بذات الصدور“۔ تک یہ آیات نازل فرمائیں۔
Ayah 3:155

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ یَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعٰنِ١ۙ اِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّیْطٰنُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوْا١ۚ وَ لَقَدْ عَفَا اللّٰهُ عَنْهُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ۠ Open ayah 3:155 in the Quran reader

جو لوگ تم میں سے (احد کے دن) جبکہ (مومنوں اور کافروں کی) دو جماعتیں ایک دوسرے سے گتھ گئیں (جنگ سے) بھاگ گئے تو ان کے بعض افعال کے سبب شیطان نے ان کو پھسلا دیا مگر خدا نے ان کا قصور معاف کردیا بیشک خدا بخشنے والا (اور) بردبار ہے

(155) غزوہ احد میں صحابہ کرام ؓ ظاہری شکست کھاکر متفرق ہورہے تھے ان میں حضرت عثمان بن عفان ؓ بھی تھے، جب کہ رسول اکرم ﷺ اور ابوسفیان کی جماعت کا مقابلہ ہورہا تھا اور اس طرح متفرق ہونے کی وجہ یہ تھی کہ شیطان نے آواز بنا کر کہہ دیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ قتل کردیے گئے تو اس غم میں کئی صحابہ بوجہ حب رسول، آپ ﷺ کو نہ پا کر حوصلہ ہار بیٹھے اس غم فراق رسول میں چھ ہاتھ کے برابر پیچھے ہٹ گئے اور یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس ظاہری لغزش کو کہ ان لوگوں نے مورچہ کو چھوڑ دیا تھا اپنے فضل اور صحابہ کرام ؓ کی حسن نیت کے سبب معاف کردیا۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی ؒ
Ayah 3:156

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قَالُوْا لِاِخْوَانِهِمْ اِذَا ضَرَبُوْا فِی الْاَرْضِ اَوْ كَانُوْا غُزًّى لَّوْ كَانُوْا عِنْدَنَا مَا مَاتُوْا وَ مَا قُتِلُوْا١ۚ لِیَجْعَلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یُحْیٖ وَ یُمِیْتُ١ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ Open ayah 3:156 in the Quran reader

مومنو ! ان لوگوں جیسے نہ ہونا جو کفر کرتے ہیں اور ان کے (مسلمان) بھائی (جب) خدا کی راہ میں سفر کریں (اور مرجائیں) یا جہاد کو نکلیں (اور مارے جائیں) تو ان کی نسبت کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس رہتے تو نہ مرتے اور نہ مارے جاتے ان باتوں سے مقصود یہ ہے کہ خدا ان لوگوں کے دلوں میں افسوس پیدا کر دے اور زندگی اور موت تو خدا ہی دیتا ہے اور خدا تمہارے سب کاموں کو دیکھ رہا ہے

(156) رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھنے والو ! لڑائی میں عبداللہ بن ابی منافق اور اس کے ساتھیوں کی طرح مت ہوجاؤ کہ وہ راستہ ہی میں سے مدینہ منورہ لوٹ گئے اور پھر اپنے منافق ساتھیوں سے آکر کہتے ہیں کہ اگر یہ لوگ (صحابہ کرام ؓ اجمعین) محمد ﷺ کے ساتھ کسی سفر یا جہاد میں نہ جاتے اور مدینہ میں ہمارے ساتھ رہتے تو سفر اور جہاد میں نہ مرتے اور نہ مارے جاتے۔ ان کا یہ خیال اللہ تعالیٰ نے ان ہی کے لیے افسوس و حسرت کا باعث کردیا، سفر میں بھی اللہ تعالیٰ زندہ رکھتا ہے اور اقامت میں بھی موت دے دیتا ہے۔
Ayah 3:157

وَ لَئِنْ قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ اَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رَحْمَةٌ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ Open ayah 3:157 in the Quran reader

اور اگر تم خدا کے راستے میں مارے جاؤ یا مرجاؤ تو جو (مال و متاع) لوگ جمع کرتے ہیں اس سے خدا کی بخشش اور رحمت کہیں بہتر ہے

(157) اے گروہ منافیقن اگر تم اپنے گھروں میں ہی میں ایمان قبول کرکے مرتے تو یہ چیز تمہارے گناہوں کی مغفرت اور رحمت خداوندی کا باعث ہوجاتی ؟ اور تمہارے دنیاوی اموال سے بہتر ہوتی۔
Ayah 3:158

وَ لَئِنْ مُّتُّمْ اَوْ قُتِلْتُمْ لَاۡاِلَى اللّٰهِ تُحْشَرُوْنَ Open ayah 3:158 in the Quran reader

اور اگر تم مرجاؤ یا مارے جاؤ خدا کے حضور میں ضرور اکٹھے کیے جاؤ گے

(158) یاد رکھو موت خواہ سفر یا اقامت یا جہاد کہیں بھی آئے مرنے کے بعد آخرکار تم سب اللہ تعالیٰ کے سامنے جمع کیے جاؤ گے۔
Ayah 3:159

فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّٰهِ لِنْتَ لَهُمْ١ۚ وَ لَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِیْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ١۪ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِی الْاَمْرِ١ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِیْنَ Open ayah 3:159 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ خدا کی مہربانی سے تمہاری افتاد مزاج ان لوگوں کے لئے نرم واقع ہوئی ہے اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے ہیں تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے ہوتے تو ان کو معاف کردو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو اور اپنے کاموں میں ان سے مشاورت لیا کرو اور جب (کسی کام کا) عزم مصمم کرلو تو خدا پر بھروسہ رکھو بیشک خدا بھروسا رکھنے والوں کو دوست رکھتا ہے

(159) اللہ ہی کی رحمت کی بنا پر آپ ان پر نرم دل رہے اور اگر آپ تند خویا سخت مزاج ہوتے تو یہ سب آپ ﷺ کے پاس سے منتشر ہوجاتے۔ لہذا آپ کے اصحاب سے حسن نیت کے باوجود ظاہر اجو لغزش ہوگئی آپ اس سے درگزر فرمائیے اور ان کے لیے استغفار کیجیے اور لڑائی میں ان سے مشورہ لیجیے جب آپ ایک جانب اپنی رائے پختہ کرلیں تو دولت ونصرت میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیجیے۔
Ayah 3:160

اِنْ یَّنْصُرْكُمُ اللّٰهُ فَلَا غَالِبَ لَكُمْ١ۚ وَ اِنْ یَّخْذُلْكُمْ فَمَنْ ذَا الَّذِیْ یَنْصُرُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ Open ayah 3:160 in the Quran reader

اگر خدا تمہارا مددگار ہے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو پھر کون ہے کہ تمہاری مدد کرے ؟ اور مومنوں کو چاہیے کہ خدا ہی پر بھروسا رکھیں

(160) غزوہ بدر کے طریقہ پر اللہ تعالیٰ تمہارا ساتھ دیں تو پھر تمہارا کوئی بھی دشمن تم پر غلبہ نہیں پاسکتا اور اگر احد کے طریقہ پر مغلوب کردیں تو کون ہے جو اس مغلوبیت کے بعد تمہارا ساتھ دے، مومنوں پر تو یہ چیز لازم ہے کہ فتح ونصرت میں اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ کریں۔