3. Surah Aal-i-Imraan

آل عمرانThe Family of Imraan · 200 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 3:41

قَالَ رَبِّ اجْعَلْ لِّیْۤ اٰیَةً١ؕ قَالَ اٰیَتُكَ اَلَّا تُكَلِّمَ النَّاسَ ثَلٰثَةَ اَیَّامٍ اِلَّا رَمْزًا١ؕ وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ كَثِیْرًا وَّ سَبِّحْ بِالْعَشِیِّ وَ الْاِبْكَارِ۠ Open ayah 3:41 in the Quran reader

(زکریا نے) کہا اے پروردگار کہ (میرے لئے) کوئی نشانی مقرر فرما (خدا نے) فرمایا نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے تین دن اشارے کے سوا بات نہ کرسکو گے تو (ان دنوں میں) اپنے پروردگار کی کثرت سے یاد اور صبح وشام اس تسبیح کرنا

(41) حضرت زکریا ؑ نے عرض کیا کہ اے میرے رب ! میری بیوی کے حمل ٹھہرجانے پر کوئی ظاہری نشانی مقرر فرما دیجیے، ارشاد باری ہوا کہ تمہاری بیوی کے حاملہ ہونے پر تمہارے لیے نشانی یہ ہے کہ تم لوگوں سے کچھ عرصہ تک بات نہ کرسکو گے اور اس میں گونگے ہونے کا کوئی عیب نہ ہوگا، سوائے ہونٹوں، آنکھوں اور ہاتھوں سے اشارہ کرنے کے یا یہ کہ زمین وغیرہ پر لکھ کر وضاحت کرنے کے۔ سو اپنے رب کو دل اور زبان سے بکثرت یاد کیجیے اور صبح وشام نماز پڑھتے رہنا جیسا کہ پڑھتے ہو۔
Ayah 3:42

وَ اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَ طَهَّرَكِ وَ اصْطَفٰىكِ عَلٰى نِسَآءِ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 3:42 in the Quran reader

اور جب فرشتوں نے (مریم سے) کہا کہ مریم خدا نے تم کو برگزیدہ کیا ہے اور پاک بنایا ہے اور جہان کی عورتوں میں منتخب کیا ہے

(42) جس وقت جبریل امین ؑ (اور فرشتوں نے) فرمایا، اے مریم اللہ تعالیٰ نے تمہیں اسلام اور عبادت کے لیے منتخب فرما لیا اور کفر وشرک اور تمام بری باتوں سے اور قتل وغیرہ سے پاک صاف فرما لیا اور تمام جہان بھر کی عورتوں کے مقابلہ میں تمہیں منتخب کرلیا۔
Ayah 3:43

یٰمَرْیَمُ اقْنُتِیْ لِرَبِّكِ وَ اسْجُدِیْ وَ ارْكَعِیْ مَعَ الرّٰكِعِیْنَ Open ayah 3:43 in the Quran reader

مریم اپنے پروردگار کی فرمانبرداری کرنا اور سجدہ کرنا اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرنا

(43) لہٰذا اس چیز کے شکر ادا کرنے کے لیے اپنے پروردگار کی اطاعت کرتی رہو، یہ بھی معنی بیان کیے گئے ہیں کہ اس چیز کے شکریہ میں نمازیں خوب لمبی پڑھو اور خشوع و خضوع والی اور نماز والوں کے ساتھ نماز میں رکوع و سجدہ میں یعنی اٹھتے بیٹھتے بھی عبادت میں مصروف رہو۔
Ayah 3:44

ذٰلِكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ الْغَیْبِ نُوْحِیْهِ اِلَیْكَ١ؕ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یُلْقُوْنَ اَقْلَامَهُمْ اَیُّهُمْ یَكْفُلُ مَرْیَمَ١۪ وَ مَا كُنْتَ لَدَیْهِمْ اِذْ یَخْتَصِمُوْنَ Open ayah 3:44 in the Quran reader

(اے محمد ﷺ یہ باتیں اخبار غیب میں سے ہیں جو ہم تمہارے پاس بھیجتے ہیں اور جب وہ لوگ اپنے قلم (بطور قرعہ) ڈال رہے تھے کہ مریم کا متکفل کون بنے تو تم ان کے پاس نہیں تھے اور نہ اس وقت ہی انکے پاس تھے جب وہ آپس میں جھگڑے رہے تھے

(44) اور حضرت مریم ؑ اور زکریا ؑ کے جو واقعات بیان کیے ہیں، یہ غیب کی ان خبروں میں سے ہیں کہ جن کو اے نبی کریم ﷺ ہم آپ پر بواسطہ جبرائیل امین وحی بھیجتے رہتے ہیں ورنہ آپ ان لوگوں کے پاس نہ اس وقت موجود تھے جب کہ وہ حضرت مریم ؑ کی تریبت کے بارے میں قرعہ اندازی کے لیے پانی میں اپنے قلموں کو ڈال رہے تھے اور نہ آپ اس وقت ہی ان کے لوگوں کے پاس موجود تھے جب کہ وہ قرعہ اندازی سے پہلے وہ حضرت مریم ؑ کی تربیت کے بارے میں جھگڑا کررہے تھے، (یعنی کہ یہ سینکڑوں برس پہلے واقعات کی یہ وہ غیب کی خبریں ہیں جو آپ کی صداقت نبوت کی واضح علامت ہیں)۔
Ayah 3:45

اِذْ قَالَتِ الْمَلٰٓئِكَةُ یٰمَرْیَمُ اِنَّ اللّٰهَ یُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ١ۖۗ اسْمُهُ الْمَسِیْحُ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ وَجِیْهًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ مِنَ الْمُقَرَّبِیْنَۙ Open ayah 3:45 in the Quran reader

(وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے) جب فرشتوں نے (مریم سے کہا) کہ مریم خدا تم کو اپنی طرف سے ایک فیض کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح (اور مشہور) عیسیٰ بن مریم ہوگا (اور جو) دنیا اور آخرت میں باآبرو اور (خدا کے) خاصوں میں سے ہوگا

(45) وہ وقت یاد کرو جب کہ فرشتوں نے مریم ؑ سے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو بشارت دیتے ہیں، ایک کلمہ کی جو منجانب اللہ ہوگا، اس کا نام مسیح عسی بن مریم ؑ ہوگا کیونکہ وہ تمام شہروں میں سیاحت کریں گے یا یہ کہ بادشاہت والے ہوں گے اس واسطے ان کا مسیح لقب ہوگا اور دنیا میں بھی لوگوں میں ان کی قدرومنزلت ہوگی اور آخرت میں بھی وہ باآبرو ہوں گے اور جنت عدن میں وہ منجانب اللہ مقربین میں سے ہوں گے
Ayah 3:46

وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 3:46 in the Quran reader

اور ماں کی گود میں اور بڑی عمر کا ہو کر (دونوں حالتوں میں) لوگوں سے (یکساں) گفتگو کرے گا اور نیکو کاروں میں ہوگا

(46) اور وہ گہوارہ (ماں کی گود) میں بھی جب کہ وہ چالیس دن کے ہوں گے تب بھی اور پھر نبوت ملنے کے بعد ایک ہی جیسا کلام کریں گے۔
Ayah 3:47

قَالَتْ رَبِّ اَنّٰى یَكُوْنُ لِیْ وَلَدٌ وَّ لَمْ یَمْسَسْنِیْ بَشَرٌ١ؕ قَالَ كَذٰلِكِ اللّٰهُ یَخْلُقُ مَا یَشَآءُ١ؕ اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا یَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:47 in the Quran reader

مریم نے کہا پروردگار میرے ہاں بچہ ہاں کیونکر ہوگا کہ انسان نے مجھے ہاتھ تک تو لگایا نہیں ؟ فرمایا کہ خدا اسی طرح جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے جب وہ کوئی کام کرنا چاہتا ہے تو ارشاد فرما دیتا ہے کہ ہوجا تو وہ ہوجاتا ہے

(47) حضرت مریم ؑ نے عرض کیا اے میرے پروردگار میرا لڑکا ہوگا جب کہ کسی بشر نے جائز یا ناجائز طریقہ پر مجھے ہاتھ تک نہیں لگایا تب اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین کے واسطہ سے کہا جیسا تم سے کہا گیا، تم اسی طرح یقین رکھو اسی طرح ہوگا (جیسے وہ مصور حقیقی چاہے گا) جب اللہ تعالیٰ تم سے بغیر باپ کے لڑکا پیدا کرنا چاہے گا تو کن کہتے ہی وہ پیدا ہوجائے گا۔
Ayah 3:48

وَ یُعَلِّمُهُ الْكِتٰبَ وَ الْحِكْمَةَ وَ التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَۚ Open ayah 3:48 in the Quran reader

اور وہ انہیں لکھا (پڑھنا) اور دانائی اور تورات اور انجیل سکھائے گا

(48) اور اللہ تاس مولود (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کو انبیاء کرام کی کتابوں کی تعلیم فرمائے گا اور حلال و حرام کی یا انبیاء سابقین کی حکمت اور ماں کے پیٹ میں توریت کی اور پیدا ہونے بعد انجیل کی نعمت سے نوازے گا۔
Ayah 3:49

وَ رَسُوْلًا اِلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ اَنِّیْ قَدْ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ۙ اَنِّیْۤ اَخْلُقُ لَكُمْ مِّنَ الطِّیْنِ كَهَیْئَةِ الطَّیْرِ فَاَنْفُخُ فِیْهِ فَیَكُوْنُ طَیْرًۢا بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُنَبِّئُكُمْ بِمَا تَاْكُلُوْنَ وَ مَا تَدَّخِرُوْنَ١ۙ فِیْ بُیُوْتِكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ Open ayah 3:49 in the Quran reader

اور (عیسی) بنی اسرائیل کی طرف سے پیغمبر (ہو کر جائیں گے اور کہیں گے) میں تمہارے پاس پروردگار کی طرف سے نشانی لے کر آیا ہوں وہ یہ کہ تمہارے سامنے مٹی کی مورت بہ شکل پرندہ بناتا ہوں پھر اس میں پھونک مارتا ہوں تو وہ خدا کے حکم سے (سچ مچ) جانور ہوجاتا ہے اور اندھے اور ابرص کو تندرست کردیتا ہوں اور خدا کے حکم سے مردے میں جان دیتا ہوں اور جو کچھ تم کھا کر آتے ہو اور جو اپنے گھروں میں جمع کر رکھتے ہو سب تم کو بتادیتا ہوں اگر تم صاحب ایمان ہو تو ان باتوں میں تمہارے لئے (قدرت) خدا کی نشانی ہے

(49) اور پھر تیس سال کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں تمام بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجیں گے، آپ عیسیٰ ؑ ان سے جا کر کہیں گے کہ میں تم لوگوں کے پاس اپنی نبوت پر کھلی اور روشن دلیل لے کر آیا ہوں وہ یہ کہ پرندے کی شکل کی طرح مٹی کی مصنوعی صورت تمہارے سامنے بنا کر اس میں پھونک مارتا ہوں اور وہ پرندہ بن کر بحکم الہی آسمان و زمین کے درمیان اڑنے لگے گا، چناچہ ان کے سامنے چمگاڈر بنادی وہ لوگ بولے یہ تو جادو ہے، اسے ہم نہیں مانتے اس کے علاوہ اور کوئی دلیل لاؤ، حضرت عیسیٰ ؑ بولے کہ میں پیدائشی نابینا اور کوڑھی کو اللہ کے حکم سے اچھا کردیتا ہوں تو اس پھر بھی وہ ہٹ دھرم لوگ کہنے لگے کہ یہ جادو ہے تب حضرت عیسیٰ ؑ نے فرمایا میں تمہیں وہ بھی بتا دیتا ہوں جو تم صبح وشام کھا کر آتے ہو اور جو صبح وشام کے لیے گھروں میں ذخیرہ کرکے آتے ہو اگر تم تصدیق کرنے والے ہو تو ان باتوں میں میری نبوت کے لیے کھلے دلائل موجود ہیں، (کہ جن سے ایک عقل مند کے لیے انکار کی گنجائش نہیں)
Ayah 3:50

وَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیَّ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ لِاُحِلَّ لَكُمْ بَعْضَ الَّذِیْ حُرِّمَ عَلَیْكُمْ وَ جِئْتُكُمْ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ١۫ فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِ Open ayah 3:50 in the Quran reader

اور مجھ سے پہلے جو تورات (نازل ہوئی) تھی اس کی تصدیق بھی کرتا ہوں اور (میں) اس لئے بھی (آیا ہوں کہ) بعض چیزیں جو تم پر حرام تھیں ان کو تمہارے لئے حلال کردوں اور میں تو تمہارے پروردگار کی طرف سے نشانی لی کر آیا ہوں تو خدا سے ڈرو اور میرا کہا مانو

(50) میں تمہارے پاس ایک ایسا دین اور توحید لے کر آیا ہوں جو توریت اور مجھ سے پہلی ساری کتابوں کے مطابق ہے، اور یہ شریعت اس لیے لے کر آیا ہوں کہ تم لوگوں کے لیے بعض ایسی چیزیں حلال کردوں جو تم پر پہلے حرام کردی گئی تھیں مثلا اونٹ کا گوشت اور گائے، بکری کی چربی اور ہفتہ کو شکار کھیلنا وغیرہ لہٰذا جن باتوں کا میں تمہیں حکم دیتا ہوں اس کی نافرمانی کرنے میں اللہ رب العزت سے ڈرو اور کفر وشرک سے توبہ کرو اور میرے دین اور میرے حکم کی اتباع کرو۔
Ayah 3:51

اِنَّ اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُ١ؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 3:51 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ خدا ہی میرا اور تمہارا پروردگار ہے تو اسی کی عبادت کرو یہی سیدھارستہ ہے

(51) بیشک اللہ تعالیٰ میرے بھی اور تمہارے بھی رب ہیں تم سب اسی کی توحید بیان کرو، کہ یہی سیدھے راستے پر چلانے والا اور اس رب کو خوش کرنے والا دین اسلام ہے۔
Ayahs 3:52–53

فَلَمَّاۤ اَحَسَّ عِیْسٰى مِنْهُمُ الْكُفْرَ قَالَ مَنْ اَنْصَارِیْۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ نَحْنُ اَنْصَارُ اللّٰهِ١ۚ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ١ۚ وَ اشْهَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:52 in the Quran reader

جب عیسیٰ ؑ نے ان کی طرف سے نافرمانی (اور نیت قتل) دیکھی تو کہنے لگے کہ کوئی ہے جو خدا کا طرفدار اور میرے مددگار ہو حواری بولے کہ ہم خدا کے (طرفدار آپکے) مددگار ہیں ہم خدا پر ایمان لائے اور آپ گواہ ہیں کہ ہم فرمانبردار ہیں

رَبَّنَاۤ اٰمَنَّا بِمَاۤ اَنْزَلْتَ وَ اتَّبَعْنَا الرَّسُوْلَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 3:53 in the Quran reader

اے پروردگار جو (کتاب) تو نے نازل فرمائی ہے ہم اس پر ایمان لے آئے اور (تیرے) پیغمبر کے متبع ہوچکے تو ہم کو ماننے والوں میں لکھ رکھ

(52۔ 53) سو جب حضرت عیسیٰ ؑ نے ان منکرین کی طرف سے اپنے قتل کی سازش محسوس کی یا یہ کہ ان کے انکار حق کو دیکھا تو بولے کچھ آدمی ایسے بھی ہیں جو دین حق اور کفر کے ابطال میں میرے رفیق و مددگار ہوں ؟ تب بار و مخلص آدمی بول اٹھے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کے دشمنوں کے مقابلے میں ہم آپ کے مددگار ہیں، اور آپ اے عیسیٰ ؑ ہمارے اقرار عبادت اور توحید پر گواہ رہیے، اے ہمارے پروردگار ہم (دیگر تمام آسمانی کتابوں اور) خصوصا انجیل پر ایمان لائے اور حضرت عیسیٰ ؑ کے سچے دین کی پیروی کی۔ سوہ میں ان سابقین اولین کے ساتھ لکھ دیجیے جنہوں نے ہم سے پہلے گواہی دی یا ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ تمہیں حق کی گواہی دینے میں سچے رسول اللہ ﷺ کی امت کے ساتھ شریک کردے۔
Ayah 3:54

وَ مَكَرُوْا وَ مَكَرَ اللّٰهُ١ؕ وَ اللّٰهُ خَیْرُ الْمٰكِرِیْنَ۠ Open ayah 3:54 in the Quran reader

اور وہ (یعنی یہود قتل عیسیٰ کے بارے میں ایک) چال چلے اور خدا بھی (عیسی کو بچانے کے لئے) چال چلا اور خدا خوب چال چلنے والا ہے

(54) یہودیوں نے حضرت عسی ؑ کو قتل کرنے اور ان کو سولی پر چڑھانے کی تدبیر کی اور اللہ تعالیٰ نے ان ہی کے لوگوں میں سے طیطانوس نامی ایک شخص کو حضرت عیسیٰ ؑ کی شکل میں تبدیل کرکے سولی پر چڑھوا دیا اور اللہ تعالیٰ جل شانہ سب تدبیریں کرنے والوں میں سے بہترین تدبیر فرمانے والے ہیں۔
Ayah 3:55

اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسٰۤى اِنِّیْ مُتَوَفِّیْكَ وَ رَافِعُكَ اِلَیَّ وَ مُطَهِّرُكَ مِنَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْكَ فَوْقَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُكُمْ فَاَحْكُمُ بَیْنَكُمْ فِیْمَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 3:55 in the Quran reader

اس وقت خدا نے فرمایا کی عیسیٰ میں تمہاری دنیا میں رہنے کی مدت پوری کرکے تم کو اپنی طرف اٹھالوں گا اور تمہیں کافروں (کی صحبت) سے پاک کردونگا اور جو لوگ تمہاری پیروی کریں گے ان کو کافروں پر قیامت تک فائق (و غالب) رکھوں گا پھر تم سب میرے پاس لوٹ کر آؤ گے تو جن باتوں میں تم میں اختلاف کرتے تھے اس دن تم میں ان کا فیصلہ کردونگا

(55) اللہ تعالیٰ نے اس وقت جب کہ حضرت عیسیٰ ؑ گرفتاری کے وقت پریشان ہوئے، فرمایا کچھ فکر نہ کرو میں تمہیں عالم بالا کی طرف اٹھانے والا ہوں اور تمہارے منکرین سے تمہیں پاک کرنے والا ہوں اور تمہارے پیروکاروں کو منکرین پر مدد اور حجت کے ساتھ غلبہ دینے والا ہوں اور پھر قیامت کے قریب آسمان سے اترنے کے بعد تمہیں فطری طریقہ کے مطابق موت دوں گا اور مرنے کے بعد سب کی واپسی میرے سامنے ہوگی، اس وقت میں سب کے درمیان ان امور دین میں جس میں تم باہم جھگڑتے تھے فیصلہ کردوں گا۔
Ayah 3:56

فَاَمَّا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَاُعَذِّبُهُمْ عَذَابًا شَدِیْدًا فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١٘ وَ مَا لَهُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ Open ayah 3:56 in the Quran reader

یعنی جو کافر ہوئے ان کو دنیا اور آخرت (دونوں) میں سخت عذاب دونگا اور ان کا کوئی مددگار نہ ہوگا

(56) چناچہ جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں بالخصوص حضور ﷺ اور حضرت عیسیٰ ؑ کے منکر تھے ان پر دنیا میں تلوار اور جزیہ مسلط کردیا (یعنی یا تو وہ مفتوح ہوگئے اور یا زیر تسلط آگئے ،) اور آخرت میں نار جہنم کی سخت ترین سزادوں گا اور وہ دنیا وآخرت میں کوئی تدبیر کرکے بھی عذاب الہی کو ٹال نہیں سکیں گے۔
Ayah 3:57

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُوَفِّیْهِمْ اُجُوْرَهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 3:57 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے ان کو خدا پورا پورا صلہ دیگا اور خدا ظالموں کو دوست نہیں رکھتا

(57) اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول، کتابوں پر ایمان رکھنے والے حضرات کو درآں حالیکہ انہوں نے خلوص کے ساتھ نیکی کام بھی کیے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن جنت میں ان کو پورا پورا ثواب دیں گے اور اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں سے ان کے ظلم اور شرک کی وجہ سے محبت نہیں رکھتے۔
Ayah 3:58

ذٰلِكَ نَتْلُوْهُ عَلَیْكَ مِنَ الْاٰیٰتِ وَ الذِّكْرِ الْحَكِیْمِ Open ayah 3:58 in the Quran reader

(اے محمد) یہ ہم تم کو (خدا کی) آیتیں اور حکمت بھری نصیحتیں پڑھ پڑھ کر سناتے ہیں

(58) ہم یہ اوامرو نواہی اور آیات قرآنیہ، بواسطہ جبریل امین آپ ﷺ پر نازل کرتے ہیں، اور یہ محکم (واضح) حلال و حرام جو کہ توریت وانجیل یہ یہ کہ لوح محفوظ کے موافق ہیں، آپ ﷺ کو سناتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”ذالک نتلوہ علیک“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے حضرت حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ نجران کے دو (عیسائی) راہب رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ایک میں سے بولا کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے والد کون ہیں ؟ اور رسول اکرم ﷺ جواب دینے میں جلدی نہیں فرماتے تھے تاوقتیکہ وحی الہی نہ آجاتی، چناچہ اللہ نے (آیت) ”ذلک نتلوہ“۔ ممترین“۔ تک یہ آیات آپ ﷺ پر نازل فرمائیں اور عوفی کے واسطہ سے ابن عباس ؓ سے اس طرح روایت نقل کی گئی ہے کہ نجران سے ایک جماعت رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس میں ان کے سردار اور پیرو بھی تھے اور بولے کہ آپ ہمارے صاحب کا کیا تذکرہ کرتے ہیں، آپ نے فرمایا کون ہیں، وہ بولے عیسیٰ ؑ آپ کا خیال ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بندے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا جی ہاں وہ بولے کیا عیسیٰ ؑ کو تم نے کوئی دیکھا ہے یا ان کے متعلق تمہیں کوئی اطلاع دی گئی ہے پھر اس کے بعد وہ لوگ آپ ﷺ کے پاس سے چلے گئے، اس کے بعد جبرئیل امین آپ ﷺ کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ جب وہ تمہارے پاس آئیں تو ان سے کہہ دو کہ بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک حضرت عیسیٰ ؑ کی منفرد معجزاتی حالت کوئی نئی نہیں بلکہ ان کا معاملہ اس سے پہلے حضرت آدم ؑ سے ملتا جلتا ہے کہ وہ ماں اور باپ دونوں کے بغیر پیدا ہوئے تھے ، اور بیہقی ؒ نے دلائل میں بواسطہ سلمہ ؒ ، عبد یشوع ؒ اور ان کے والد سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ پر یہ آیت نازل ہونے سے قبل آپ نے اہل نجران کے پاس یہ لکھ کر روانہ کیا کہ ابراہیم ؑ اسحاق، ؑ یعقوب ؑ کے اللہ کے نام سے یہ شروع کرتا ہوں اور نبی کریم محمد ﷺ کی جانب سے ہے الخ، اور آپ نے ان کی طرف شرجیل بن دواعہ ہمدانی اور عبداللہ بن شرجیل جبار حرثی کو بھی روانہ کیا چناچہ ان حضرات نے ان سے جاکر بولے کہ آپ حضرت عیسیٰ ؑ کے باے میں کیا فرماتے ہیں، آپ نے فرمایا ابھی تک میرے اوپر کوئی سورت وحی نازل نہیں ہوئی، اور میں بلا ہدایت ربانی کچھ کہتا نہیں، جس کی یہ لوگ اقتدا کریں لہٰذا یہ لوگ قیام کریں تاکہ میں ان کو وحی الہی سے آگاہ کردو، چناچہ اگلے دن صبح ہوگئی تب اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”ان مثل عیسیٰ“۔ سے کذبین“۔ تک یہ آیات نازل فرمائیں۔ اور ابن سعد نے طبقات میں ارزق بن قیس سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے پاس نجران کا ایک راہب اور اس کے پیروآئے، آپ نے ان پر اسلام کو پیش کیا وہ بولے ہم تو آپ سے پہلے ہی سے مسلمان ہیں۔ آپ نے فرمایا جھوٹ بولتے ہو تمہیں اسلام قبول کرنے سے تین چیزوں نے روک رکھا ہے، تمہارا یہ کہنا کہ العیاذ باللہ اللہ تعالیٰ نے لڑکا بنا لیا ہے، تمہارا سور کا گوشت کھانا تیسرے بتوں کو سجدہ کرنا، وہ لاجواب ہوگئے اور آپ کو زچ کرنے کے لیے وہ بولے کہ پھر حضرت عیسیٰ ؑ کے والد کون ہیں، آپ نے فی الحال بغیر وحی الہی کے ان کو کوئی جواب دینا مناسب نہ سمجھا تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ آیت نازل فرمائی اس کے بعد آپ نے ان کے لیے بلایا تو انہوں نے آنے سے انکار کردیا تو آپ نے اس طرح ان پر جزیہ لاگو کردیا اور وہ واپس ہوگئے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayahs 3:59–60

اِنَّ مَثَلَ عِیْسٰى عِنْدَ اللّٰهِ كَمَثَلِ اٰدَمَ١ؕ خَلَقَهٗ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 3:59 in the Quran reader

عیسیٰ کا حال خدا کے نزدیک آدم کا سا ہے کہ اس نے (پہلے) مٹی سے ان کا قالب بنایا پھر فرمایا کہ (انسان) ہوجاؤ تو وہ (انسان) ہوگئے

اَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُنْ مِّنَ الْمُمْتَرِیْنَ Open ayah 3:60 in the Quran reader

(یہ بات) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق سو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا

(59۔ 60) اب اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ ؑ کی بغیر باپ کے پیدائش کو بیان فرماتے ہیں کیوں کہ وفد بنی نجران نے رسول اکرم ﷺ سے کہا تھا کہ تم جو یہ کہتے ہو کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ کے بیٹے نہیں ہیں، اس پر کچھ ثبوت قرآنی لے کر آؤ تو اللہ تعالیٰ ان کے جواب میں فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی منفرد حالت حالت اللہ تعالیٰ کی تجویز ازلی میں حضرت آدم ؑ کی حالت عجیبہ کے طریقہ پر ہے کہ ان کو بغیر ماں باپ کے پیدا کیا اور پھر ان کے قالب کو کہا کہ پیدا ہوجا، سو وہ ہوگئے، اسی طرح کا معاملہ حضرت عیسیٰ ؑ کا ہے کہ ان کو بغیر باپ کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پیدا ہوجا سو وہ پیدا ہوگئے یہ کہنا کہ حضرت عیسیٰ ؑ العیاذ باللہ خدا تھے بالکل غلط ہے اور وہ عیسیٰ ؑ نہ اس اللہ کے بیٹے اور نہ اس کے شریک تھے، یہ بیان حقیقت آپ کے پروردگار کی طرف سے ہے، سو آپ عیسیٰ ؑ کی پیدائش میں شبہ کرنے والوں میں سے نہ ہوجائیے، (یہ کہنا امت کی تعلیم کے لیے ہے وگرنہ پیغمبر، صاحب یقین ہوتا ہے، وہاں شک کی گنجائش کہاں۔ مترجم)
Ayah 3:61

فَمَنْ حَآجَّكَ فِیْهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَنَا وَ اَبْنَآءَكُمْ وَ نِسَآءَنَا وَ نِسَآءَكُمْ وَ اَنْفُسَنَا وَ اَنْفُسَكُمْ١۫ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِیْنَ Open ayah 3:61 in the Quran reader

پھر اگر یہ لوگ عیسیٰ کے بارے میں تم سے جھگڑا کریں اور تم کو حقیقت الحال تو معلوم ہو ہی چلی ہے تو ان سے کہنا کہ آؤ ہم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلاؤیں تم اپنے بیٹوں اور عورتوں کو بلاؤ اور ہم خود بھی آئیں اور تم خود بھی آؤ پھر دونوں فریق (خدا سے) دعا والتجا کریں اور جھوٹوں پر خدا کی لعنت بھیجیں

(61) وفد بنی نجران نے جو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اس چیز کے بیان کردینے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں حضرت عیسیٰ ؑ کی مثال حضرت آدم ؑ کے طریقہ پر ہے جو مخاصمہ کیا اس کا اللہ تعالیٰ ذکر فرماتے ہیں۔ وہ لوگ بولے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جیسا کہ آپ کہتے ہیں کہ وہ نہ خدا ہیں اور نہ اس کے بیٹے اور نہ اس کے شریک ہیں ایسا نہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں جیسا کہ آپ کہتے ہیں کہ وہ نہ خدا ہیں اور نہ اس کے بیٹے اور نہ اس کے شریک ہیں ایسا نہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جو شخص حضرت عیسیٰ ؑ کے بارے میں آپ سے حجت کرے جب کہ آپ کے پاس علم واقعی آچکا کہ حضرت عیسیٰ ؑ نہ خدا ہیں اور نہ اس کے بیٹے اور نہ اس کے شریک ہیں تو اگر یہ دلیل سے نہیں جاننا چاہتے تو آپ فرما دیجیے کہ ہم بھی اپنے بیٹوں کو باہر نکالتے ہیں تم بھی نکال لو اور ہم بھی اپنے عورتوں کو باہر لاتے ہیں، تم بھی لے آؤ۔ اور ہم خود بھی آتے ہیں تم بھی آجاؤ پھر سب مل کر خوب کوشش اور آہ زاری کے ساتھ دعا کریں کہ حضرت عیسیٰ ؑ کے باے میں جو ہم میں سے جھوٹا ہو، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو۔
Ayahs 3:62–63

اِنَّ هٰذَا لَهُوَ الْقَصَصُ الْحَقُّ١ۚ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَهُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ Open ayah 3:62 in the Quran reader

یہ تمام بیانات صحیح ہیں اور خدا کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک خدا غالب اور صاحب حکمت ہے

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِالْمُفْسِدِیْنَ۠ Open ayah 3:63 in the Quran reader

تو اگر یہ لوگ پھرجائیں تو خدا مفسدوں کو خوب جانتا ہے

(62۔ 63) اے محمد ﷺ جو کچھ آپ کے سامنے حضرت عیسیٰ ؑ اور وفد نجران کے بارے میں بیان کیا گیا ہے، وہ ہی سچی بات ہے کہ حضرت عیسیٰ نہ خدا ہیں اور نہ خدا کے بیٹے اور نہ اس کے شریک ہیں اور وحدہ لاشریک کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور جو ایمان نہ لائے اس پر اللہ تعالیٰ غلبہ والے ہیں حکمت والے ہیں کہ اس کے علاوہ اور کسی کی عبادت نہ کی جائے اور حکیم کے یہ معنی بھی بیان کیے گئے ہیں کہ ان پر لعنت پختہ ہوگئی، اس لیے انہوں نے اس ہدایت سے انحراف کیا اور رسول اکرم ﷺ کے ساتھ مباہلہ کے لیے نہیں آئے کیوں کہ یہ جانتے تھے کہ ہم جھوٹے ہیں اور حضور ﷺ سچے ہیں اور آپ کے اوصاف اور تعریف خود ان کی کتابوں میں موجود ہیں، پھر اگر یہ آپ کے مباہلہ کے لیے بلانے کے باوجود بھی آپ کے ساتھ نہ نکلیں اور حق کو قبول نہ کریں تو اللہ تعالیٰ بنی نجران کے ان مفسد عیسائیوں کو خوب جاننے والے ہیں ،
Ayah 3:64

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ تَعَالَوْا اِلٰى كَلِمَةٍ سَوَآءٍۭ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ اَلَّا نَعْبُدَ اِلَّا اللّٰهَ وَ لَا نُشْرِكَ بِهٖ شَیْئًا وَّ لَا یَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا اَرْبَابًا مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوا اشْهَدُوْا بِاَنَّا مُسْلِمُوْنَ Open ayah 3:64 in the Quran reader

کہہ دو کہ اے اہل کتاب جو بات ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں (تسلیم کی گئی ہے) اس کی طرف آؤ وہ یہ کہ خدا کے سوا ہم کسی عبادت نہ کریں اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں اور ہم میں سے کوئی کسی کو خدا کے سوا کسی کو کار ساز نہ سمجھیں اگر یہ لوگ (اس بات کو) نہ مانیں تو (ان سے) کہہ دو کہ تم گواہ رہو کہ ہم (خدا کے) فرمانبردار ہیں

(64) اب ان کو توحید کی دعوت دی جاتی ہے کہ کلمہ (آیت) ”لا الہ الا اللہ“ کی طرف آؤ جو ہمارے اور تمہارے درمیان تسلیم شدہ ہے اور یہ کہ ہم اللہ تعالیٰ ہی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں اور ان میں سے کوئی کسی دوسرے کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں اپنا رب نہ بنائے، چناچہ انہوں نے اس کو تسلیم کرنے سے انکار کیا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں اگر وہ اعراض اور توحید کے اقرار سے انکار کریں تو تم کہہ دو کہ تم لوگ اس بات پر گواہ رہو کہ ہم اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی توحید کا اقرار کرنے والے ہیں، اب اللہ تعالیٰ ان نصاری کے مباحثہ کا ذکر فرماتے ہیں کہ یہ لوگ رسول اکرم ﷺ سے آکر مباحثہ کرنے لگے کہ ہم دین ابراہیم پر مسلمان ہیں اور توریت کو ثبوت میں پیش کرنے لگے۔
Ayahs 3:65–67

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مَاۤ اُنْزِلَتِ التَّوْرٰىةُ وَ الْاِنْجِیْلُ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 3:65 in the Quran reader

اے اہل کتاب تم ابراہیم کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہو حالانکہ تورات اور انجیل ان کے بعد اتری ہیں (اور وہ پہلے ہوچکے ہیں) تو کیا تم عقل نہیں رکھتے

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ حَاجَجْتُمْ فِیْمَا لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ فَلِمَ تُحَآجُّوْنَ فِیْمَا لَیْسَ لَكُمْ بِهٖ عِلْمٌ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:66 in the Quran reader

دیکھو ایسی بات میں تو تم نے جھگڑا کیا ہی تھا جس کا تمہیں کچھ علم تھا بھی مگر ایسی بات میں کیوں جھگڑتے ہو جس کا تمہیں کچھ بھی علم نہیں اور خدا جانتا ہے اور تم نہیں جانتے

مَا كَانَ اِبْرٰهِیْمُ یَهُوْدِیًّا وَّ لَا نَصْرَانِیًّا وَّ لٰكِنْ كَانَ حَنِیْفًا مُّسْلِمًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 3:67 in the Quran reader

ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ سب سے بےتعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور اسی کے فرمانبردار تھے اور مشرکوں میں نہ تھے

(65۔ 66۔ 67) چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیوں حضرت ابراہیم ؑ کے دین کے بارے میں حجت کرتے ہو، یہ کتابیں تو حضرت ابراہیم ؑ کے بہت بعد نازل ہوئی ہیں، توریت وانجیل میں کسی مقام پر یہ نہیں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ یہودی یا نصرانی تھے، اے گروہ یہود اور نصاری ! تم اپنی کتاب میں تو حجت کرچکے ہو جس میں یہ واضح طور پر موجود ہے کہ رسول اکرم ﷺ نبی مرسل ہیں اور حضرت ابراہیم ؑ نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور پھر تم اس بات کا انکار کرتے ہو تو پھر امور میں کیوں حجت کرتے ہو جو تمہاری کتابوں میں موجود نہیں اور پھر جھوٹ بولتے ہو کہ حضرت براہیم ؑ یہودی یا نصرانی تھے اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی اور تم نہیں جانتے کہ وہ یہودی تھے یا نصرانی، اب اللہ تعالیٰ صاف طور پر ان کے اقوال کی تکذیب فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم ؑ نہ دین یہود پر تھے اور نہ دین نصاری پر البتہ طریق مستقیم والے صاحب اسلام تھے۔ شان نزول : (آیت) ”یا اھل الکتاب لم تحاجون“۔ (الخ) ابن اسحاق ؒ نے اپنی متصل کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ نجران کے عیسائی اور یہود کے عالم رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آکر جھگڑنے لگے، یہود کے عالم بولے کہ حضرت ابراہیم ؑ یہودی تھے اور نجران کے عیسائی بولے حضرت ابراہیم ؑ عیسائی تھے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ حضرت ابراہیم ؑ کے بارے میں کیوں جھگڑتے ہوتوریت، انجیل تو ان کے بہت بعد نازل ہوئیں اس روایت کو بیہقی ؒ نے بھی دلائل میں روایت کیا ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 3:68

اِنَّ اَوْلَى النَّاسِ بِاِبْرٰهِیْمَ لَلَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ وَ هٰذَا النَّبِیُّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا١ؕ وَ اللّٰهُ وَلِیُّ الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 3:68 in the Quran reader

ابراہیم سے قرب رکھنے والے تو وہ لوگ ہیں جو ان کی پیروی کرتے ہیں اور یہ پیغمبر آخرالزمان اور وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور خدا مومنوں کا کارساز ہے

(68) اب اللہ تعالیٰ ان حضرات کے معاملے کو بیان فرماتے ہیں جو حضرت ابراہیم ؑ کے دین پر تھے، البتہ سب سے زیادہ دین ابراہیمی کے وہ حق دار ہیں، جنہوں نے ان کے زمانہ میں ان کا اتباع کیا اور اس طرح وہ اہل ایمان جو رسول اکرم ﷺ کے دین پر ہیں اور جو حضرات رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے وہ دین ابراہیمی پر ہیں اور اللہ تعالیٰ ہی ایمان والوں کا محافظ و مددگار ہے۔
Ayah 3:69

وَدَّتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَوْ یُضِلُّوْنَكُمْ١ؕ وَ مَا یُضِلُّوْنَ اِلَّاۤ اَنْفُسَهُمْ وَ مَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 3:69 in the Quran reader

(اے اہل اسلام) بعضے اہل کتاب اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ تم کو گمراہ کردیں مگر یہ (تم کو کیا گمراہ کریں گے) اپنے آپ کو ہی گمراہ کر رہے ہیں اور نہیں جانتے

(69) اصحاب رسول اکرم ﷺ میں سے حضرت معاذ حذیفہ اور عمار کو غزوہ احد کے دن کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے اپنے دین یہودیت کی دعوت دی کہ اسلام کو چھوڑ دیں اور اس کو قبول کو لیں، اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں، اہل کتاب کی جماعت اس بات کی آرزو کرتی ہے کہ تمہیں تمہارے دین اسلام سے گمراہ کر دین، مگر درحقیقت وہ خود دین الہی سے دور ہوچکے ہیں اور وہ یہ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اس چیز کی اطلاع کردے گا جن باتوں کا تم اپنی کتابوں میں قرار کرتے ہو۔
Ayah 3:70

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَكْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ اَنْتُمْ تَشْهَدُوْنَ Open ayah 3:70 in the Quran reader

اے اہل کتاب تم خدا کی آیتوں سے کیوں انکار کرتے ہو ؟ اور تم (تورات) کو مانتے تو ہو

(70) رسول اکرم ﷺ نبی مرسل ہیں، پھر کیوں انکار کرتے ہو، اور کیوں اپنی کتابوں میں حق بات کے ساتھ باطل کو ملاتے ہو۔
Ayahs 3:71–72

یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لِمَ تَلْبِسُوْنَ الْحَقَّ بِالْبَاطِلِ وَ تَكْتُمُوْنَ الْحَقَّ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۠ Open ayah 3:71 in the Quran reader

اے اہل کتاب تم سچ کو جھوٹ کے ساتھ خلط ملط کیوں کرتے ہو اور حق کو کیوں چھپاتے ہو ؟ اور تم جانتے بھی ہو

وَ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ اٰمِنُوْا بِالَّذِیْۤ اُنْزِلَ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَجْهَ النَّهَارِ وَ اكْفُرُوْۤا اٰخِرَهٗ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَۚۖ Open ayah 3:72 in the Quran reader

اور اہل کتاب ایک دوسرے سے کہتے ہیں کہ جو (کتاب) مومنوں پر نازل ہوئی ہے اس پر دن کے شروع میں تو ایمان لے آیا کرو اور اس کے آخر میں انکار کردیا کرو تاکہ وہ (اسلام سے) برگشتہ ہوجائیں

(71۔ 72) اور رسول اکرم ﷺ کی نعت وصفت میں تبدیلی کرتے ہو اور کیوں آپ کی نعت وصفت کو چھپاتے ہو حالانکہ کہ تم اپنی کتابوں میں اس اصل حقیقت کو جانتے ہو، تحویل قبلہ کے بعد کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں نے جو مشورہ کیا اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں ہیں، یعنی کعب وغیرہ سرداران یہود نے اپنے لوگوں سے کہا کہ محمد ﷺ اور قرآن کریم پر دن کے شروع میں یعنی صبح کی نماز کے وقت ایمان لے آؤ اور ظہر کی نماز کے وقت انکار کر بیٹھو، تو لوگ یہ دیکھ کر کہیں گے کہ اہل کتاب اس قبلہ پر ایمان لے آئے جس کی طرف منہ کر کے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے ساتھیوں نے صبح کی نماز پڑھی اور اس قبلہ سے انکار کیا جن کی طرف منہ کرکے ان لوگوں نے ظہر کی نماز پڑھی، شاید اس طرح دوسروں کو شک وشبہ میں ڈالنے سے عوام الناس تمہارے قبلہ اور تمہارے دین کی طرف پلٹ آئیں۔ شان نزول : (آیت) ”وقالت طائفۃ“ (الخ) ابن اسحاق ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ عبداللہ بن صیف، عدی بن زید اور حارث بن عوف ان لوگوں میں سے بعض نے بعض سے کہا کہ رسول اکرم ﷺ اور ان کے اصحاب جو احکام بیان کرتے ہیں ہم ان پر صبح کو ایمان لائیں اور شام کو ان کا انکار کردیں، تاکہ ان کے اصحاب بھی اسی طرح کرنے لگیں اور پھر ممکن ہے کہ ہماری اس تدبیر کے سبب یہ مسلمان ہمارے دین کی طرف لوٹ آئیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے (آیت) ”یا ھل الکتاب لم تلبسون الحق“ سے واسع علیم“۔ تک آیات نازل فرمائیں (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayahs 3:73–74

وَ لَا تُؤْمِنُوْۤا اِلَّا لِمَنْ تَبِعَ دِیْنَكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْهُدٰى هُدَى اللّٰهِ١ۙ اَنْ یُّؤْتٰۤى اَحَدٌ مِّثْلَ مَاۤ اُوْتِیْتُمْ اَوْ یُحَآجُّوْكُمْ عِنْدَ رَبِّكُمْ١ؕ قُلْ اِنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ١ۚ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌۚۙ Open ayah 3:73 in the Quran reader

اور اپنے دین کے پیرو کے سوا کسی اور کے قائل نہ ہونا (اے پیغمبر) کہہ دو کہ ہدایت تو خدا ہی کی ہدایت ہے (وہ یہ بھی کہتے ہیں) یہ بھی (نہ ماننا) کہ جو چیز تم کو ملی ہے ویسی کسی اور کو ملے گی یا وہ تمہیں خدا کے حضور قائل معقول کرسکیں گے یہ بھی کہہ دو کہ بزرگی خدا ہی کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور خدا کشائش والا (اور) علم والا ہے

یَّخْتَصُّ بِرَحْمَتِهٖ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 3:74 in the Quran reader

وہ اپنی رحمت سے جس کو چاہتا ہے خاص کرلیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

(73۔ 74) اور نبوت میں کسی کی بھی تصدیق مت کرو، مگر یہ کہ جو افراد یہودیت اور تمہارے قبلہ بیت المقدس کی پیروی کریں۔ اب اللہ تعالیٰ ان کی اس دلیل کے فضول ہونے کا اظہار فرماتے ہیں کہ محمد ﷺ آپ ان یہودیوں سے فرمادیجئے کہ دین الہی وہ تو اسلام ہے اور قبلہ خداوندی بیت اللہ ہے اور تم اے اہل کتاب ایسی باتیں اس لیے کرتے ہو کہ کسی اور کو ایسا دین اور ایسا قبلہ ملا ہے جیسا کہ اصحاب رسول اکرم ﷺ کو یہ بطور نعمت ملا ہے، ایک تفسیر یہ بھی ہے کہ یہود قیامت کے دن اس دین اور اس قبلہ میں تم سے دشمنی کرسکیں گے، آپ فرمادیجیے کہ بیشک نبوت واسلام اور قبلہ ابراہیمی کی عطا اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے اور وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اس نے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو اس نعمت عظمی کے ساتھ خاص فرمایا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بخششوں میں وسعت والا اور جس کو دے رہا ہے اس کو پوری طرح جاننے والا ہے اس نے اپنے دین کے لیے رسول اکرم ﷺ اور آپ کے اصحاب کو منتخب فرمایا اور اللہ تعالیٰ بڑے فضل والے ہیں کہ نبوت اسلام رسول اللہ کو عطا فرمائی۔ شان نزول : (آیت) ”قل ان الہدی ھدی اللہ“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ نے بواسطہ سدی ابو مالک ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہود کے علماء اپنے پیروکاروں سے کہتے تھے کہ جو تمہارے دین کی پیروی کرے اس پر ایمان لاؤ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayahs 3:75–76

وَ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مَنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِقِنْطَارٍ یُّؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ١ۚ وَ مِنْهُمْ مَّنْ اِنْ تَاْمَنْهُ بِدِیْنَارٍ لَّا یُؤَدِّهٖۤ اِلَیْكَ اِلَّا مَا دُمْتَ عَلَیْهِ قَآئِمًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لَیْسَ عَلَیْنَا فِی الْاُمِّیّٖنَ سَبِیْلٌ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:75 in the Quran reader

اور اہل کتاب میں سے کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے پاس ڈھیر امانت رکھ دو تو تم کو (فورا) واپس دیدے اور کوئی اس طرح کا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھو تو جب تک اس کے سر پر ہر وقت کھڑے نہ رہو تمہیں دے ہی نہیں۔ یہ اس لیے کہ وہ کہتے ہیں کہ امیوں کے بارے میں ہم سے مواخذہ نہیں ہوگا یہ خدا کو محض جھوٹ بولتے ہیں اور اسی بات کو جانتے بھی ہیں

بَلٰى مَنْ اَوْفٰى بِعَهْدِهٖ وَ اتَّقٰى فَاِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 3:76 in the Quran reader

ہاں جو شخص اپنے اقرار کو پورا کرے اور (خدا سے) ڈرے تو خدا ڈرنے والوں کو دوست رکھتا ہے

(75۔ 76) اب اہل کتاب کی امانت اور خیانت کو اللہ تعالیٰ واضح فرماتے ہیں، یہود میں سے حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ایسے ہیں کہ اگر سونے کی تھیلیاں اور انبار ان کے پاس بطور امانت رکھ دو تو وہ مانگتے ہی اسی طرح تمہیں لوٹا دیں اور ان میں ہی میں سے کوئی فرد ایسا بھی ہے کہ اگر ایک دینار بھی تم اس کو دو گے تو وہ بھی واپس نہیں دے گا مگر یہ کہ تم اس سے مسلسل تقاضہ کرتے رہو، اور یہ مثالی کعب اور اس ساتھیوں کی ہے۔ اور یہ دوسرے کے مالوں کا کھاجانا اور خیانت کرنا اس بنا پر ہے کہ وہ اس بات کے مدعی ہیں کہ اہل کتاب کے علاوہ عربوں کا مال کھا جانے میں کوئی گناہ نہیں اور وہ خود جانتے ہیں کہ وہ اس چیز میں جھوٹے ہیں، خائن پر الزام ضرور ہوگا کیوں کہ جو شخص عہد خداوندی اور لوگوں کے وعدوں کو پورا کرے اور خیانت اور عہد توڑنے سے ڈرے، تو یقیناً اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو محبوب رکھتے ہیں اور وہ عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھی ہیں۔ (جو ایسے اعلی کردار کے مالک ہیں)
Ayah 3:77

اِنَّ الَّذِیْنَ یَشْتَرُوْنَ بِعَهْدِ اللّٰهِ وَ اَیْمَانِهِمْ ثَمَنًا قَلِیْلًا اُولٰٓئِكَ لَا خَلَاقَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ وَ لَا یُكَلِّمُهُمُ اللّٰهُ وَ لَا یَنْظُرُ اِلَیْهِمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ لَا یُزَكِّیْهِمْ١۪ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 3:77 in the Quran reader

جو لوگ خدا کے اقراروں اور اپنی قسموں (کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان) کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ حصہ نہیں ان سے خدا نہ تو کلام کرے گا اور نہ قیامت کے روز ان کی طرف دیکھے گا اور نہ ان کو پاک کرے گا اور ان کو دکھ دینے والا عذاب ہوگا

(77) اب اس قسم کے یہودیوں کا انجام بیان فرماتے ہیں کہ جو لوگ اس عہد کو جو انہوں نے اللہ سے کیا اور اپنی ان قسموں کو جو انبیاء کرام کے ساتھ کھائیں حقیر سے کچھ دنیاوی نفع کے بدلے میں توڑتے ہیں تو ایسے لوگوں کے لیے جنت میں کوئی حصہ نہیں اور نہ ان عہد شکن لوگوں سے اللہ تعالیٰ کلام فرمائے گا اور نہ ان پر کسی بھی درجے میں رحمت فرمائے گا اور نہ یہودیت سے ان کو پاک صاف کرے گا اور ان کے لیے ایسا درد ناک عذاب ہوگا کہ اس کی شدت ان کے دلوں تک سرایت کرجائے گی اور کہا گیا کہ یہ آیت کریمہ عبدان بن اشوع اور امرأالقیس کے بارے میں نازل ہوئی ہے کیوں کہ ان دونوں میں باہمی خصومت (دشمنی) تھی۔ شان نزول : (آیت) ”ان الذین یشترون بعہد اللہ“ (الخ) امام بخاری ؒ ومسلم ؒ نے اشعت ؓ سے روایت کیا ہے کہ میری اور ایک یہودی کی مشترک زمین تھی، اس نے میرا حصہ دینے سے انکار کیا میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے مجھ سے فرمایا کیا تیرے پاس گواہ موجود ہیں، میں نے کہا نہیں پھر آپ نے اس یہودی سے کہا کہ قسم کھا، اس پر میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ تو جھوٹی قسم کھا کر میرا بھی حصہ لے جائے گا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح) اور امام بخاری ؒ نے عبداللہ بن ابی اوفی ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص بازار میں سامان لایا اور اللہ کی قسم کھائی کہ وہ جس قیمت پر فروخت کر رہا ہے اس پر دوسرا انہیں دے گا تاکہ مسلمانوں میں سے کوئی اس کی باتوں کے جال میں آجائے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ فتح الباری میں فرماتے ہیں کہ دونوں حدیثوں میں کسی قسم کا کوئی تضاد نہیں، کیوں کہ ممکن ہے کہ دونوں واقعے ایک ساتھ آیت کریمہ کے نزول کا سبب ہوں۔ اور ابن جریر ؒ نے عکرمہ ؒ نے روایت کیا ہے کہ یہ آیت کریمہ یہود میں سے حی بن اخطب اور کعب بن اشرف وغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اللہ تعالیٰ نے توریت میں جو رسول اکرم ﷺ کی تعریف اور صفت بیان فرمائی تھی، ان لوگوں نے اس کو چھپا لیا تھا اور اس میں تبدیلی کر کے قسمیں کھاتے تھے کہ یہی منجانب اللہ ہے، حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ فرماتے ہیں کہ اس آیت مبارکہ میں اس معنی کا بھی امکان ہے مگر زیادہ صحیح وہی شان نزول ہے جو بخاری میں مروی ہے۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)
Ayah 3:78

وَ اِنَّ مِنْهُمْ لَفَرِیْقًا یَّلْوٗنَ اَلْسِنَتَهُمْ بِالْكِتٰبِ لِتَحْسَبُوْهُ مِنَ الْكِتٰبِ وَ مَا هُوَ مِنَ الْكِتٰبِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ مَا هُوَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ١ۚ وَ یَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ Open ayah 3:78 in the Quran reader

اور ان (اہل کتاب) میں بعض ایسے ہیں کہ کتاب (تورات) کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہے اور کہتے ہیں کہ وہ خدا کی طرف سے (نازل ہوا) حالانکہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا اور خدا پر جھوٹ بولتے ہیں اور (یہ بات) جانتے بھی ہیں

(78) اور اسن میں کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں کی جماعت ہے جو توریت میں تبدیلی کرکے اپنی زبانوں کو کج (ٹیڑھی) کرلیتے ہیں تاکہ بیوقوف اس کو توریت سمجھیں حالانکہ کہ یہ خود جانتے ہیں کہ یہ تحریف اصل توریت میں نہیں ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت یہود کے دو عالموں کے بارے میں نازل ہوئی کیونکہ انہوں نے توریت میں جو رسول اکرم ﷺ کی صفت موجود تھی، اس میں انہوں نے تبدیلی کردی تھی ،
Ayahs 3:79–80

مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَهُ اللّٰهُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ كُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ لٰكِنْ كُوْنُوْا رَبّٰنِیّٖنَ بِمَا كُنْتُمْ تُعَلِّمُوْنَ الْكِتٰبَ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَدْرُسُوْنَۙ Open ayah 3:79 in the Quran reader

کسی آدمی کا شایان نہیں کہ خدا تو اسے کتاب اور حکومت اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ خدا کو چھوڑ کر میرے بندے ہوجاؤ بلکہ (اس کو یہ کہنا سزاوار ہے کہ اے اہل کتاب) تم (علمائے) ربانی ہوجاؤ کیونکہ تم کتاب (خدا) پڑھتے پڑھاتے رہتے ہو

وَ لَا یَاْمُرَكُمْ اَنْ تَتَّخِذُوا الْمَلٰٓئِكَةَ وَ النَّبِیّٖنَ اَرْبَابًا١ؕ اَیَاْمُرُكُمْ بِالْكُفْرِ بَعْدَ اِذْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ۠ Open ayah 3:80 in the Quran reader

اور اس کو یہ بھی نہیں کہنا چاہئے کہ تم فرشتوں اور پیغمبروں کو خدا بنالو بھلا جب تم مسلمان ہوچکے تو کیا اسے زیبا ہے کہ تمہیں کافر ہونے کو کہے ؟

(79۔ 80) انبیاء کرام میں سے کسی سے یہ نہیں ہوسکتا کہ دین کی فہم عطا ہونے کے بعد وہ کہے تو لوگ اللہ کو چھوڑ کر میرے بندے بن جاؤ۔ وہ تو یہی کہے گا کہ کہ تم علماء، فقہاء اللہ تعالیٰ کے تابعدار بندے ہوجاؤ کیوں کہ تم خود بھی کتاب الہی کو جانتے ہو اور دوسروں کو بھی اس کی تعلیم دیتے ہو، اے گروہ قریش ! یاد رکھو وہ اللہ کا بندہ (ربانی) یہود ونصاری کو ہرگز نہیں کہے گا کہ تم فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں بناؤ، اور یہی معاملہ حضرت ابراہیم ؑ کا بھی رہا کہ وہ ہر طرح کے شرک سے بیزار رہے گا اور وہ ابراہیم ؑ جب تمہیں اسلام کا حکم دے چکے کہ (آیت) ”فلا تموتن الا وانتم مسلمون (اور تمہاری موت اللہ کی توحید پر ہی آئے) پھر الیعاذ باللہ وہ کفر کے بارے میں کیسے حکم دیں گے ، اللہ تعالیٰ نے جس رسول ﷺ کو بھی بھیجا، اسے دعوت اسلام پر مامور کرکے بھیجا ہے، یہودیت نصرانیت اور بت پرستی کے لیے نہیں بھیجا، جیسا کہ یہ کفار بکتے ہیں اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت کریمہ یہودیوں کے مقولہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، وہ حضور ﷺ سے کہتے تھے کہ آپ ان باتوں کا اس لیے ہمیں حکم دیتے ہیں کہ ہم آپ سے محبت کریں اور جیسا کہ نصاری نے حضرت عیسیٰ ؑ کو معبود بنایا، اسی طرح آپ کو بھی معبود بنائیں، اسی طرح نصاری اور مشرکین کہتے تھے، شان نزول : (آیت) ”ماکان لبشر“ (الخ) ابن اسحاق ؒ اور بیہقی ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت اہل نجران میں سے یہود اور نصاری کے عالم رسول اکرم ﷺ کے پاس جمع ہوئے اور آپ نے سب کو اسلام کی دعوت دی تو رافع قرقلی بولا کہ محمد ﷺ آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کو معبود بنالیں، جیسا کہ نصاری نے حضرت عیسیٰ ؑ کو معبود بنایا آپ نے یہ سن کر فرمایا معاذ اللہ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی اور عبدالرزاق نے اپنی تفسیر میں حسن ؓ سے روایت کیا ہے وہ فرماتے ہیں کہ مجھ تک یہ بات پہنچی ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ ہم آپ کو اس طرح سلام کرتے ہیں جیسا کہ آپس میں کرتے ہیں تو کیا پھر آپ کو سجدہ کریں، آپ نے فرمایا نہیں، بلکہ اپنے نبی کی عزت کرو اور جو حق بات (اسلام) کہتا ہے اسے سمجھو، کسی کے لیے ہرگز یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے سامنے سرجھکائے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت کریمہ ماکان البشر، نازل فرمائی۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از علامہ سیوطی (رح)