18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 18:100–101

وَّ عَرَضْنَا جَهَنَّمَ یَوْمَئِذٍ لِّلْكٰفِرِیْنَ عَرْضَاۙ Open ayah 18:100 in the Quran reader

اور اس روز جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے

اِ۟لَّذِیْنَ كَانَتْ اَعْیُنُهُمْ فِیْ غِطَآءٍ عَنْ ذِكْرِیْ وَ كَانُوْا لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَمْعًا۠ Open ayah 18:101 in the Quran reader

جن کی آنکھیں میری یاد سے پردے میں تھیں اور وہ سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے

(100۔ 101) اور قیامت کے دن دوزخ کو کافروں کے سامنے ان کے داخل کرنے سے پہلے پیش کردیں گے جو ہماری توحید اور ہماری کتاب قرآن سے اندھے تھے اور وہ رسول اکرم ﷺ سے دشمنی کی وجہ سے قرآن کریم سن بھی نہیں سکتے تھے۔
Ayah 18:102

اَفَحَسِبَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ یَّتَّخِذُوْا عِبَادِیْ مِنْ دُوْنِیْۤ اَوْلِیَآءَ١ؕ اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا جَهَنَّمَ لِلْكٰفِرِیْنَ نُزُلًا Open ayah 18:102 in the Quran reader

کیا کافر یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہمارے بندوں کو ہمارے سوا (اپنا) کار ساز بنائیں گے (تو ہم خفا نہیں ہوں گے) ؟ ہم نے (ایسے) کافروں کے لئے جہنم کی (مہمانی) تیار کر رکھی ہے

(102) کیا پھر بھی ان لوگوں کو جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے منکر ہیں خیال ہے کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کی عبادت کریں اور دنیوی واخروی نفع میں ان کا اپنا کارساز سمجھیں یا یہ مطلب ہے کہ ان کافروں کو میری اطاعت وفرمانبرداری کے علاوہ میرے بندوں کی عبادت اور ان کو کار ساز سمجھنا کفایت کرجائے گا۔ ہم نے ان کی دعوت اور ٹھکانے کے لیے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔
Ayahs 18:103–104

قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ Open ayah 18:103 in the Quran reader

کہہ دو کہ ہم تمہیں بتائیں جو عملوں کے لحاظ سے بڑے نقصان میں ہیں

اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا Open ayah 18:104 in the Quran reader

وہ لوگ جن کی سعی دنیا کی زندگی میں برباد ہوگئی اور وہ یہ سمجھے ہوئے ہیں کہ اچھے کام کر رہے ہیں

(103۔ 104) اے نبی کریم آپ ان سے فرمائیے کہ کیا ہم آپ کو ایسے لوگوں کے بارے میں بتائیں جو آخرت میں خسارہ میں ہیں یہ وہ لوگ ہیں جن کی دنیا میں تمام محنت سب اکارت گئی، جیسا کہ خوارج اور گرجاؤں والے اسی خیال میں ہیں کہ وہ اچھا کام کر رہے ہیں
Ayah 18:105

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّهِمْ وَ لِقَآئِهٖ فَحَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فَلَا نُقِیْمُ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَزْنًا Open ayah 18:105 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے پروردگار کی آیتوں اور اس کے سامنے جانے سے انکار کیا تو ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور ہم قیامت کے دن ان کے لیے کچھ بھی وزن قائم نہیں کریں گے

(105) یہ وہ لوگ ہیں جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم اور مرنے کے بعد جی اٹھنے کا انکار کر رہے ہیں ان کے سارے نیک کام غارت گئے تو قیامت کے دن بمع ان کے نیک اعمال کا ذرا بھی وزن قائم نہ کریں گے یعنی قیامت کے دن ان کے نیک اعمال کا ذرہ برابر بھی وزن قائم نہیں کیا جائے گا۔
Ayah 18:106

ذٰلِكَ جَزَآؤُهُمْ جَهَنَّمُ بِمَا كَفَرُوْا وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ رُسُلِیْ هُزُوًا Open ayah 18:106 in the Quran reader

یہ انکی سزا ہے (یعنی) جہنم اس لیے کہ انہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں اور ہمارے پیغمبروں کی ہنسی اڑائی

(106) ان کی سزا جہنم ہوگی اس وجہ سے انہوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کیا تھا اور میری کتاب اور میرے رسول محمد ﷺ کا مذاق اڑایا تھا۔
Ayahs 18:107–108

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ كَانَتْ لَهُمْ جَنّٰتُ الْفِرْدَوْسِ نُزُلًاۙ Open ayah 18:107 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور عمل نیک کیے ان کے لئے بہشت کے باغ مہمانی ہوں گے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَا لَا یَبْغُوْنَ عَنْهَا حِوَلًا Open ayah 18:108 in the Quran reader

ہمیشہ ان میں رہیں گے (اور) وہاں سے مکان بدلنا نہ چاہیں گے

(107۔ 108) بیشک جو حضرات رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال کیے ان کی رہائش کے لیے فردوس کے باغات ہوں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور نہ وہ وہاں سے کہیں اور جانا چاہیں گے۔
Ayah 18:109

قُلْ لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ مِدَادًا لِّكَلِمٰتِ رَبِّیْ لَنَفِدَ الْبَحْرُ قَبْلَ اَنْ تَنْفَدَ كَلِمٰتُ رَبِّیْ وَ لَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهٖ مَدَدًا Open ayah 18:109 in the Quran reader

کہہ دو کہ اگر سمندر میرے پروردگار کی باتوں کے (لکھنے کے) لیے سیاہی ہو تو قبل اس کے کہ میرے پروردگار کی باتیں تمام ہوں سمندر ختم ہوجائیں اگرچہ ہم ویسا ہی اور (سمندر) اس کی مدد کو لائیں

(109) اور اے محمد ﷺ آپ خصوصا یہود سے بھی فرما دیجیے کہ اگر میرے پروردگار کی باتیں اور اس کے علم و کمالات لکھنے کے لیے سمندر کا پانی روشنائی کی جگہ ہو تو میرے رب کی باتیں ختم ہونے سے پہلے اس جیسا دوسرا سمندر بھی ختم ہوجائے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ قل لو کان البحر“۔ (الخ) امام حاکم ؒ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ قریش نے یہود سے کہا کہ ہمیں کچھ چیز بتاؤ جس کو ہم اس رسول سے پوچھیں، یہود نے کہا روح کے بارے میں سوال کرو، چناچہ قرآن نے آپ سے روح کے بارے میں سوال کیا، اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی (آیت) ”ویسئلونک عن الروح قل الروح من امر ربی وما اوتیتم من العلم الا قلیلا“ (الخ) اس پر یہود کہنے لگے کہ ہمیں بہت علم دیا گیا ہے ہمیں توریت دی گئی ہے اور جن کو توریت دی گئی ہو انھیں خیر کثیر دی گئی، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اگر میرے رب کی باتیں لکھنے کے لیے سمندر روشنائی ہو تو میرے رب کی باتیں ختم ہونے سے پہلے سمندر ختم ہوجائے۔
Ayah 18:110

قُلْ اِنَّمَاۤ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُكُمْ یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَمَنْ كَانَ یَرْجُوْا لِقَآءَ رَبِّهٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَّ لَا یُشْرِكْ بِعِبَادَةِ رَبِّهٖۤ اَحَدًا۠ Open ayah 18:110 in the Quran reader

کہہ دو کہ میں تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں (البتہ) میری طرف وحی آتی ہے کہ تمہارا معبود (وہی) ایک معبود ہے تو جو شخص اپنے پروردگار سے ملنے کی امید رکھے چاہئے کہ عمل نیک کرے اور اپنے پروردگار کی عبادت میں کسی کو شریک نہ بنائے

(110) اور آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں تم ہی جیسا آدمی ہوں میرے پاس بذریعہ جبریل امین ؑ یہ وحی آئی ہے کہ تمہارا معبود ایک ہی معبود ہے جس کا کوئی شریک نہیں سو جس شخص کو مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کو منہ دکھانے کا ڈر ہو وہ خلوص کے ساتھ نیک اعمال کرے اور اپنے رب کی اطاعت میں کسی کو شریک نہ کرے یہ آیت کریمہ جندب بن زہیر عامری کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ فمن کان یرجوا لقآء ربہ“۔ (الخ) ابن ابی حاتم ؒ اور ابن ابی الدنیا ؒ نے ”کتاب الاخلاص“ میں طاؤس سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول اکرم ﷺ سے عرض کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے لیے اعمال کرتا ہوں اور مجھے اس بات کی تمنا ہے کہ میرا ٹھکانا دکھادیا جائے، آپ نے اس کو کوئی جواب نہیں یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی یعنی سو جو شخص اپنے رب سے ملنے کی آرزو رکھے، وہ نیک کام کرتا رہے اور اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرے یہ روایت مرسل ہے اور امام حاکم نے اسی روایت کو متدرک میں بواسطہ طاؤس حضرت ابن عباس ؓ سے موصولا شرط شیخین پر روایت کیا ہے اور ابن ابی حاتم ؒ نے مجاہد سے روایت کیا ہے کہ مسلمانوں میں جہاد کرتا تھا اور اسے اس بات کی خواہش تھی کہ اس کا ٹھکانا دکھا دیا جائے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور ابو نعیم ؒ اور ابن عساکر ؒ نے اپنی تاریخ میں بواسطہ سدی صغیر ؒ، کلبی ؒ، ابو صالح ؒ، ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جندب بن زبیر نے کہا کہ جب آدمی نماز پڑھے یا روزہ رکھے یا کوئی صدقہ و خیرات کرے اور اس پر اس کی تعریف کی جائے اور پھر وہ لوگوں کی اس تعریف سے اپنی نیکیوں میں اضافہ کرے تو اس کا کیا حکم ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی یعنی جو شخص اپنے رب سے ملنے کی آزور رکھے وہ نیک کام کرتا رہے۔