18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 18:60–82

وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ لَاۤ اَبْرَحُ حَتّٰۤى اَبْلُغَ مَجْمَعَ الْبَحْرَیْنِ اَوْ اَمْضِیَ حُقُبًا Open ayah 18:60 in the Quran reader

اور جب موسیٰ نے اپنے شاگرد سے کہا کہ جب تک دو دریاؤں کے ملنے کی جگہ نہ پہنچ جاؤں ہٹنے کا نہیں خواہ برسوں چلتا رہوں

فَلَمَّا بَلَغَا مَجْمَعَ بَیْنِهِمَا نَسِیَا حُوْتَهُمَا فَاتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ سَرَبًا Open ayah 18:61 in the Quran reader

جب انکے ملنے کے مقام پر پہنچے تو اپنی مچھلی بھول گئے تو اس نے دریا میں سرنگ کی طرح اپنا راستہ بنا لیا

فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١٘ لَقَدْ لَقِیْنَا مِنْ سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا Open ayah 18:62 in the Quran reader

جب آگے چلے تو (موسی نے) اپنے شاگرد سے کہا کہ ہمارے لئے کھانا لاؤ اس سفر سے ہم کو بہت تکان ہوگئی ہے

قَالَ اَرَءَیْتَ اِذْ اَوَیْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّیْ نَسِیْتُ الْحُوْتَ١٘ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِیْهُ اِلَّا الشَّیْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ سَبِیْلَهٗ فِی الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا Open ayah 18:63 in the Quran reader

(اس نے) کہا کہ بھلا آپ نے دیکھا کہ جب ہم نے پتھر کے پاس آرام کیا تھا تو میں مچھلی (وہیں) بھول گیا اور مجھے (آپ سے) اسکا ذکر کرنا شیطان نے بھلا دیا اور اس نے عجب طرح سے دریا میں اپنا راستہ لیا

قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ Open ayah 18:64 in the Quran reader

(موسی نے) کہا یہی تو وہ (مقام) ہے جسے ہم تلاش کرتے تھے تو وہ اپنے پاؤں کے نشان دیکھتے دیکھتے لوٹ گئے

فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَیْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا Open ayah 18:65 in the Quran reader

(وہاں) انہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندہ دیکھا جس کو ہم نے اپنے ہاں سے رحمت (یعنی نبوت یا نعمت ولایت) دی تھی اور اپنے پاس سے علم بخشا تھا

قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا Open ayah 18:66 in the Quran reader

موسیٰ نے ان سے (جس کا نام خضر تھا) کہا کہ جو علم (خدا کی طرف سے) آپ کو سکھایا گیا ہے آپ اس میں سے مجھے کچھ بھلائی (کی باتیں) سکھائیں تو میں آپ کے ساتھ رہوں

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:67 in the Quran reader

(خضر نے کہا) کہ تم میرے ساتھ رہ کر صبر نہ کرسکو گے

وَ كَیْفَ تَصْبِرُ عَلٰى مَا لَمْ تُحِطْ بِهٖ خُبْرًا Open ayah 18:68 in the Quran reader

اور جس بات کی تمہیں خبر ہی نہیں اس پر صبر کر بھی کیونکر سکتے ہو ؟

قَالَ سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ صَابِرًا وَّ لَاۤ اَعْصِیْ لَكَ اَمْرًا Open ayah 18:69 in the Quran reader

(موسی نے) کہا خدا نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں آپ کے ارشاد کے خلاف نہیں کروں گا

قَالَ فَاِنِ اتَّبَعْتَنِیْ فَلَا تَسْئَلْنِیْ عَنْ شَیْءٍ حَتّٰۤى اُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا۠ Open ayah 18:70 in the Quran reader

(خضر نے) کہا اگر تم میرے ساتھ رہنا چاہو تو (شرط یہ ہے کہ) مجھ سے کوئی بات نہ پوچھنا جب تک میں خود اس کا ذکر تم سے نہ کروں

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا رَكِبَا فِی السَّفِیْنَةِ خَرَقَهَا١ؕ قَالَ اَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ اَهْلَهَا١ۚ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا اِمْرًا Open ayah 18:71 in the Quran reader

تو دونوں چل پڑے یہاں تک کہ جب کشتی میں سوار ہوئے تو (خضر نے) کشتی کو پھاڑ ڈالا (موسی نے) کہا کیا آپ نے اس کو اسلئے پھاڑا ہے کہ سواروں کو غرق کردیں ؟ یہ تو آپ نے بڑی عجیب بات کی

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:72 in the Quran reader

(خضر نے) کہا کہ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے

قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِیْ بِمَا نَسِیْتُ وَ لَا تُرْهِقْنِیْ مِنْ اَمْرِیْ عُسْرًا Open ayah 18:73 in the Quran reader

(موسی نے) کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجئے اور میرے معاملہ میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَا لَقِیَا غُلٰمًا فَقَتَلَهٗ١ۙ قَالَ اَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِیَّةًۢ بِغَیْرِ نَفْسٍ١ؕ لَقَدْ جِئْتَ شَیْئًا نُّكْرًا Open ayah 18:74 in the Quran reader

پھر دونوں چلے یہاں تک کہ (راستہ میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اسے مار ڈالا (موسی نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو (ناحق) بغیر قصاص کے مار ڈالا (یہ تو) آپ نے بری بات کی

قَالَ اَلَمْ اَقُلْ لَّكَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِیْعَ مَعِیَ صَبْرًا Open ayah 18:75 in the Quran reader

(خضر) نے کہا کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے ؟

قَالَ اِنْ سَاَلْتُكَ عَنْ شَیْءٍۭ بَعْدَهَا فَلَا تُصٰحِبْنِیْ١ۚ قَدْ بَلَغْتَ مِنْ لَّدُنِّیْ عُذْرًا Open ayah 18:76 in the Quran reader

انہوں نے کہا اگر میں نے اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے

فَانْطَلَقَا١ٙ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَتَیَاۤ اَهْلَ قَرْیَةِ اِ۟سْتَطْعَمَاۤ اَهْلَهَا فَاَبَوْا اَنْ یُّضَیِّفُوْهُمَا فَوَجَدَا فِیْهَا جِدَارًا یُّرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَهٗ١ؕ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَیْهِ اَجْرًا Open ayah 18:77 in the Quran reader

پھر وہ دونوں چلے یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے، اور ان سے کھانا طلب کیا، مگر انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کردیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی، خضرنے اس کو سیدھا کردیا (موسیٰ نے کہا) اگر آپ چاہتے تو (اس کام) کا معاوضہ لیتے (تاکہ) کھانے کا کام چلتا

قَالَ هٰذَا فِرَاقُ بَیْنِیْ وَ بَیْنِكَ١ۚ سَاُنَبِّئُكَ بِتَاْوِیْلِ مَا لَمْ تَسْتَطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا Open ayah 18:78 in the Quran reader

(خضر نے) کہا کہ اب تجھ میں اور مجھ میں علیحدگی ہے (مگر) جن باتوں میں تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں بھید بتادیتا ہوں

اَمَّا السَّفِیْنَةُ فَكَانَتْ لِمَسٰكِیْنَ یَعْمَلُوْنَ فِی الْبَحْرِ فَاَرَدْتُّ اَنْ اَعِیْبَهَا وَ كَانَ وَرَآءَهُمْ مَّلِكٌ یَّاْخُذُ كُلَّ سَفِیْنَةٍ غَصْبًا Open ayah 18:79 in the Quran reader

(کہ وہ جو) کشتی تھی، غریب لوگوں کی تھی جو دریا میں محنت (کر کے یعنی کشتیاں چلا کر گزارہ) کرتے تھے اور انکے سامنے کی طرف ایک بادشاہ تھا جو ہر ایک کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا تو میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں تاکہ وہ اسے غصب نہ کرسکے

وَ اَمَّا الْغُلٰمُ فَكَانَ اَبَوٰهُ مُؤْمِنَیْنِ فَخَشِیْنَاۤ اَنْ یُّرْهِقَهُمَا طُغْیَانًا وَّ كُفْرًاۚ Open ayah 18:80 in the Quran reader

اور وہ جو لڑکا تھا اس کے ماں باپ دونوں مومن تھے ہمیں اندیشہ ہوا کہ وہ (بڑا ہو کر بد کردار ہوگا کہیں) ان کو سرکشی اور کفر میں نہ پھنسا دے

فَاَرَدْنَاۤ اَنْ یُّبْدِلَهُمَا رَبُّهُمَا خَیْرًا مِّنْهُ زَكٰوةً وَّ اَقْرَبَ رُحْمًا Open ayah 18:81 in the Quran reader

تو ہم نے چاہا کہ ان کا پروردگار اس کی جگہ ان کو اور (بچہ) عطا فرمائے جو پاک طینتی اور محبت میں زیادہ قریب ہو

وَ اَمَّا الْجِدَارُ فَكَانَ لِغُلٰمَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِی الْمَدِیْنَةِ وَ كَانَ تَحْتَهٗ كَنْزٌ لَّهُمَا وَ كَانَ اَبُوْهُمَا صَالِحًا١ۚ فَاَرَادَ رَبُّكَ اَنْ یَّبْلُغَاۤ اَشُدَّهُمَا وَ یَسْتَخْرِجَا كَنْزَهُمَا١ۖۗ رَحْمَةً مِّنْ رَّبِّكَ١ۚ وَ مَا فَعَلْتُهٗ عَنْ اَمْرِیْ١ؕ ذٰلِكَ تَاْوِیْلُ مَا لَمْ تَسْطِعْ عَّلَیْهِ صَبْرًا٢ؕ۠ Open ayah 18:82 in the Quran reader

اور وہ جو دیوار تھی دو یتیم لڑکوں کی تھی جو شہر میں (رہتے تھے) اور اس کے نیچے ان کا خزانہ مدفون تھا، اور ان کا باپ ایک نیک بخت آدمی تھا تو تمہارے پروردگار نے چاہا کہ وہ اپنی جوانی کو پہنچ جائیں اور (پھر) اپناخزانہ نکالیں یہ تمہارے پروردگار کی مہربانی ہے اور یہ کام میں نے اپنی طرف سے نہیں کیے یہ ان باتوں کی حقیقت ہے جن پر تم صبر نہ کرسکے

(60 تا 82) اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت خضر ؑ کا واقعہ بیان فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کے دل میں یہ بات آئی کہ روئے زمین پر میرے سے بڑا کوئی عالم نہیں اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ سے بڑھ کر عابد اور عالم میرا ایک بندہ خضر ؑ موجود ہے، موسیٰ ؑ نے فرمایا پروردگار میری ان سے ملاقات کروائیے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا ایک نمکین مچھلی اپنے زاد راہ کے طور پر لے کر سمندر کے کنارہ پر چل دو ، ایک چٹان کے پاس جہاں عین حیات ہے اس مقام پر جاکر مچھلی زندہ ہوجائے گی اور وہیں تمہیں خضر ؑ ملیں گے، چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ وقت یاد کرو جب کہ موسیٰ ؑ نے یوشع بن نون سے فرمایا یہ بنی اسرائیل کے شرفاء میں سے تھے اور حضرت موسیٰ ؑ کی خدمت اور ان کی اتباع کیا کرتے تھے کہ میں مسلسل چلتا جاؤں گا یہاں تک کہ اس جگہ پر پہنچ جاؤں گا جہاں دو دریا شیریں اور نمکین، بحر فارس اور روم آپس میں ملتے ہیں، چناچہ جب چلتے چلتے دونوں دریاؤں کے جمع ہونے کے جگہ پر پہنچے اور کسی پتھر کے ساتھ لگ کر سو گئے اور اٹھنے کے بعد اس اپنی مچھلی کو دونوں بھول گئے مچھلی نے دریا میں اپنی ایک لکیر کی طرح راہ لی اور چل دی پھر جب دونوں اس پتھر سے آگے بڑھ گئے تو حضرت موسیٰ ؑ نے شاجردہ یعنی یوشع بن نون سے فرمایا ہمارا نانشتہ لاؤ ہمیں تو اس سفر میں بڑی تکلیف اور تھکان ہوئی ہے یوشع بن نون نے کہا موسیٰ ؑ لیجیے دیکھیے جب ہم اس پتھر کے قریب ٹھہرے تھے تو میں مچھلی کا عجیب واقعہ ذکر کرنا ہی آپ سے بھول گیا اور شیطان ہی نے مجھے بھلا دیا مچھلی نے تو اس مقام پر دریا میں عجیب راہ لی۔ موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ اس موقع کی تو ہمیں تلاش تھی کیوں کہ خضر ؑ سے ملاقات کی اللہ کی طرف سے یہی نشانی بیان کی گئی تھی، سو دونوں اپنے قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے اور واپس ہوئے اور اس پتھر کے پاس خضر ؑ کو پایا جن کو ہم نے نبوت کے ساتھ سرفراز فرمایا تھا اور ان کو علم اسرار کونیہ عطا کیا تھا، حضرت موسیٰ ؑ نے خضر ؑ سے فرمایا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں کہ جو علم مفید آپ کو اللہ کی جانب سے سکھلایا گیا ہے اس میں سے آپ مجھ کو بھی سکھلا دیں۔ انھوں نے جواب دیا کہ موسیٰ ؑ آپ سے میرے ساتھ رہ کر میرے افعال پر صبر نہیں ہو سکے گا حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا میں صبر کروں گا خضر ؑ نے فرمایا موسیٰ ؑ آپ بھلا ایسے امور پر صبر کریں گے جو آپ کے احاطہ علم سے باہر ہیں موسیٰ ؑ نے فرمایا انشاء اللہ آپ سے جو افعال ظہور پذیر ہوں گے آپ مجھے ان پر صابر پائیں گے اور میں کسی بات میں آپ کے حکم سے اختلاف نہیں کروں گا۔ خضر ؑ نے فرمایا موسیٰ ؑ اگر آپ میرے ساتھ رہنا چاہتے ہیں تو مجھ سے کسی بات کی نسبت کچھ سوال نہ کرنا جب تک کہ میں اس کے متعلق خود ہی آپ سے ذکر نہ کروں، غرض کہ حضرت موسیٰ ؑ اور خضر ؑ دونوں ایک طرف چل دیے، جب عبر کے قریب دونوں کشتی میں سوار ہوئے تو خضر ؑ نے کشتی کا ایک تختہ نکال دیا، حضرت موسیٰ ؑ نے حضرت خضر ؑ سے فرمایا کشتی والوں کو غرق کرنے کے لیے ایسا کیا ہے یہ قوم کو بہت ہی مشکل میں ڈال دیا ہے، خضر ؑ نے فرمایا، موسیٰ ؑ کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ آپ سے صبر نہ ہوسکے گا، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا آپ کے قول وقرار میں جو مجھ سے بھول چوک ہو اس پر گرفت نہ کیجیے اور نہ میرے معاملہ میں زیادہ سختی کیجیے، پھر دونوں کشتی سے اتر کر آگے چلے دو بستیوں کے درمیان ایک کمسن لڑکا ملا، خضر ؑ نے اس کو مار ڈالا، موسیٰ ؑ گھبرا کر کہنے لگے کہ آپ نے ایک بےگناہ معصوم بچے کو مار ڈالا اور وہ بھی کسی جان کے بدلے نہیں بیشک آپ نے یہ تو بڑی بےجا حرکت کی۔ حضر ؑ نے فرمایا موسیٰ ؑ میں نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ آپ سے میری باتیں دیکھ کر صبر نہ ہو سکے گا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا اگر اس مرتبہ کے بعد میں آپ پر کسی بات کے متعلق دریافت کروں تو آپ مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیے کیوں کہ اس کے بارے میں آپ میری طرف سے عذر کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں، پھر دونوں آگے چلے، یہاں تک کہ جب انطاکیہ شہر پر سے گزر ہوا تو وہاں کے رہنے والوں سے کھانے کو مانگا، سو انہوں نے ان کی مہمانی کرنے سے انکار کردیا، اتنے میں ان کو ایک جھکی ہوئی دیوار ملی جو گرنے والی تھی تو حضرت خضر ؑ نے اس کو سیدھا کردیا، حضرت موسیٰ ؑ بولے خضر ؑ اگر آپ چاہتے تو اس پر کچھ اجرت لے لیتے کہ اس کا کھانا لے کر کھالیتے۔ حضرت خضر ؑ نے فرمایا یہ وقت ہماری اور آپ کی علیحدگی کا ہے، باقی میں ان چیزوں کی حقیقت بتا دیتا ہوں جن پر آپ صبر نہ کرسکے۔ وہ کشتی جس کا میں نے تختہ نکالا تھا وہ چند غریب آدمیوں کی تھی کہ وہ اس کے ذریعے سے لوگوں کو کرایہ پر دریا سے پار کرتے تھے سو میں نے اس لیے عیب ڈالا کیوں کہ ان کے آگے ظالم جلندی نامی بادشاہ تھا جو ہر اچھی کشتی کو زبردستی پکڑ رہا تھا اور رہا وہ لڑکا اس کے والدین ایماندار اور اس بستی کے شرفاء میں سے تھے اور آپ کے پروردگار کو معلوم تھا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی وکفر اور جھوٹی قسموں سے اپنے والدین کو بڑے ہو کر تکلیف پہنچائے گا اس بنا پر میں نے اس کو مار ڈالا۔ سو ہمیں یہ منظور ہوا کہ بجائے اس کے ان کا پروردگار ان کو ایسی اولاد دے جو اس سے زیادہ نیکوکار اور زیادہ صلہ رحمی کرنے والی ہو۔ چناچہ بعد میں اللہ تعالیٰ نے ان والدین کو لڑکی عطا کی اور پھر اس لڑکی سے انبیاء کرام میں سے ایک نبی نے شادی فرمائی اور پھر اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک بنی پیدا فرمایا جس کے ذریعے سے بہت لوگوں کو ہدایت فرمائی، اور اس لڑکے کا نام جیسود تھا اور یہ کافر اور بڑا ڈاکو تھا اس واسطے خضر ؑ نے بحکم خداوندی اس کو قتل کیا۔ اور جہاں تک دیوار کا تعلق ہے تو وہ احرم، صریم دو یتیم لڑکوں کی تھی جو انطاکیہ شہر میں رہتے تھے اس دیوار کے نیچے ایک سونے کی تختی تھی جس میں علم اور حکمت کی باتیں مکتوب تھیں اور اس میں یہ عبارت لکھی ہوئی تھی، بسم اللہ الرحمن الرحیم“۔ تعجب ہے ایسے شخص پر جو موت کے یقین کے بعد پھر کیسے خوش رہتا ہے اور تعجب ہے۔ ایسے شخص پر جو تقدیر پر یقین رکھنے کے بعد کی سے غمگین رہتا ہے اور تعجب کے قابل ہے وہ شخص جو دنیا کے زوال اور دنیا والوں کے تبدل احوال پر یقین کرتے ہوئے پھر کیسے اطمینان کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے۔ لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ﷺ اور ان کا باپ کاشح ایک امانت دار آدمی تھا سو آپ کے رب نے اپنی مہربانی سے چاہا کہ وہ دونوں بالغ ہو کر اپنی اس تختی کو نکال لیں اور آپ کے پروردگار کی وحی کے مطابق میں نے ایسا کیا ہے اور ان میں سے کوئی کام میں نے اپنی رائے سے نہیں کیا یہ حقیقت ہے ان باتوں کی جن پر آپ سے صبر نہ ہوسکا۔
Ayahs 18:83–98

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنْ ذِی الْقَرْنَیْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَیْكُمْ مِّنْهُ ذِكْرًاؕ Open ayah 18:83 in the Quran reader

اور تم سے ذوالقرنین کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ میں اس کا کسی قدر حال تمہیں پڑھ کر سناتا ہوں

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِی الْاَرْضِ وَ اٰتَیْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَیْءٍ سَبَبًاۙ Open ayah 18:84 in the Quran reader

ہم نے اس کو زمین میں بڑی دسترس دی تھی اور ہر طرح کا سامان عطا کیا تھا

فَاَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:85 in the Quran reader

تو اس نے سفر کا ایک سامان کیا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِیْ عَیْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِیْهِمْ حُسْنًا Open ayah 18:86 in the Quran reader

یہاں تک کہ وہ سورج کے غروب ہونے کی جگہ پہنچے تو اسے ایسا پایا کہ ایک کیچڑ کی ندی میں ڈدوب رہا ہے اور اس (ندی) کے پاس ایک قوم دیکھی ہم نے کہا ذوالقرنین ! تم کو ان کو خواہ تکلیف دو خواہ ان (کے بارے) میں بھلائی اختیار کرو (دونوں باتوں) کی تم کو قدرت ہے

قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ یُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ فَیُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا Open ayah 18:87 in the Quran reader

(ذوالقرنین) نے کہا کہ جو (کفر و بدکاری سے) ظلم کرے گا اسے ہم عذاب دیں گے پھر (جب) وہ اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا جائے گا تو وہ بھی اسے برا عذاب دے گا

وَ اَمَّا مَنْ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَهٗ جَزَآءَ اِ۟لْحُسْنٰى١ۚ وَ سَنَقُوْلُ لَهٗ مِنْ اَمْرِنَا یُسْرًاؕ Open ayah 18:88 in the Quran reader

اور جو ایمان لائے گا اور عمل نیک کرے گا اس کے لیے بہت اچھا بدلہ ہے اور ہم اپنے معاملے میں (اس پر کسی طرح کی سختی نہیں کریں گے بلکہ) اس سے نرم بات کہیں گے

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:89 in the Quran reader

پھر اس نے ایک اور سامان سفر کا کیا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلٰى قَوْمٍ لَّمْ نَجْعَلْ لَّهُمْ مِّنْ دُوْنِهَا سِتْرًاۙ Open ayah 18:90 in the Quran reader

یہاں تک کہ سورج کے طلوع ہونے کے مقام پر پہنچا تو دیکھا کہ وہ ایسے لوگوں پر طلوع کرتا ہے جن کے لئے سورج کے اس طرف کوئی اوٹ نہیں بنائی تھی

كَذٰلِكَ١ؕ وَ قَدْ اَحَطْنَا بِمَا لَدَیْهِ خُبْرًا Open ayah 18:91 in the Quran reader

حقیقت الحال یوں (تھی) اور جو کچھ اس کے پاس تھا ہم کو اس کی خبر تھی

ثُمَّ اَتْبَعَ سَبَبًا Open ayah 18:92 in the Quran reader

پھر اس نے ایک اور سامان کیا

حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ بَیْنَ السَّدَّیْنِ وَجَدَ مِنْ دُوْنِهِمَا قَوْمًا١ۙ لَّا یَكَادُوْنَ یَفْقَهُوْنَ قَوْلًا Open ayah 18:93 in the Quran reader

یہاں تک کہ دو دیواروں کے درمیاں پہنچا تو دیکھا کہ ان کے اس طرف کچھ لوگ ہیں کہ بات کو سمجھ نہیں سکتے

قَالُوْا یٰذَا الْقَرْنَیْنِ اِنَّ یَاْجُوْجَ وَ مَاْجُوْجَ مُفْسِدُوْنَ فِی الْاَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلٰۤى اَنْ تَجْعَلَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَهُمْ سَدًّا Open ayah 18:94 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا کہ ذوالقرنین ! یاجوج اور ماجوج زمین میں فساد کرتے رہتے ہیں بھلا ہم آپ کے لئے خرچ (کا انتظام) کردیں کہ آپ ہمارے اور ان کے دریمان ایک دیوار کھینچ دیں ؟

قَالَ مَا مَكَّنِّیْ فِیْهِ رَبِّیْ خَیْرٌ فَاَعِیْنُوْنِیْ بِقُوَّةٍ اَجْعَلْ بَیْنَكُمْ وَ بَیْنَهُمْ رَدْمًاۙ Open ayah 18:95 in the Quran reader

(ذوالقرنین نے) کہا کہ خرچ کا جو مقدور خدا نے مجھے بخشا ہے وہ بہت اچھا ہے تم مجھے قوت (بازو) سے مدد دو میں تمہارے اور ان کے درمیان ایک مضبوط اوٹ بنادوں گا

اٰتُوْنِیْ زُبَرَ الْحَدِیْدِ١ؕ حَتّٰۤى اِذَا سَاوٰى بَیْنَ الصَّدَفَیْنِ قَالَ انْفُخُوْا١ؕ حَتّٰۤى اِذَا جَعَلَهٗ نَارًا١ۙ قَالَ اٰتُوْنِیْۤ اُفْرِغْ عَلَیْهِ قِطْرًاؕ Open ayah 18:96 in the Quran reader

تو تم لوہے کے (بڑے بڑے) تختے لاؤ (چنانچہ کام جاری کردیا گیا) یہاں تک کہ جب اس نے دونوں پہاڑوں کے درمیان (کا حصہ) برابر کردیا اور کہا کہ (اب اسے) دھونکو یہاں تک کہ جب اسکو (دھونک دھونک کر) آگ کردیا گیا تو کہا کہ (اب) میرے پاس (تانبا) لاؤ کہ میں اس پر پگھلا کر ڈال دوں

فَمَا اسْطَاعُوْۤا اَنْ یَّظْهَرُوْهُ وَ مَا اسْتَطَاعُوْا لَهٗ نَقْبًا Open ayah 18:97 in the Quran reader

پھر ان میں یہ قدرت نہ رہی کہ اس پر چڑھ سکیں اور نہ یہ طاقت رہی کہ اس میں نقب لگا سکیں

قَالَ هٰذَا رَحْمَةٌ مِّنْ رَّبِّیْ١ۚ فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ رَبِّیْ جَعَلَهٗ دَكَّآءَ١ۚ وَ كَانَ وَعْدُ رَبِّیْ حَقًّاؕ Open ayah 18:98 in the Quran reader

بولا کہ یہ میرے پروردگار کی مہربانی ہے جب میرے پروردگار کا وعدہ آپہنچے گا تو اس کو (ڈھا کر) ہموار کر دے گا اور میرے پروردگار کا وعدہ سچا ہے

(83 تا 98) اے محمد ﷺ مکہ والے آپ سے ذوالقرنین کا حال پوچھتے ہیں، آپ ان سے فرما دیجیے کہ میں اس کا ذکر ابھی تمہارے سامنے بیان کرتا ہوں ہم نے ان کو روئے زمین پر حکومت دی تھی اور ہم نے ان کو راستوں اور منزلوں کی معرفت عطا کی تھی ، چناچہ انہوں نے سفر کے لیے ایک راستہ اختیار کرلیا یہاں تک کہ جب غروب آفتاب کے موقع پر پہنچے تو آفتاب ان کو سیاہ رنگ کے پانی میں ڈوبتا ہوا دکھائی دیا اور اس موقع پر انہوں نے ایک کافر قوم دیکھی ، ہم نے بطور الہام کے کہا کہ ذوالقرنین یا تو ان کو قتل کرو، یہاں تک کہ یہ کلمہ لاالہ الا اللہ کے قائل نہ ہوجائیں یا ان کے ساتھ پہلے نرمی کا معاملہ کرو کہ ان کو معاف کر دو اور چھوڑ دو۔ ذوالقرنین نے عرض کیا بالکل ٹھیک لیکن جس نے ان میں سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کیا تو ہم اسے دنیا میں قتل کریں گے اور پھر وہ آخرت میں اپنے مالک حقیقی کے پاس پہنچایا جائے گا اور وہ اسے دوزخ کی سخت سزا دے گا۔ اور جو شخص ایمان لے آئے گا اور نیک عمل کرے گا اور نیک عمل کرے گا تو اسے آخرت میں بھی جنت ملے گی اور ہم بھی اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کریں گے۔ پھر ذوالقرنین نے ممالک مشرقیہ کے فتح کرنے کے ارادہ سے مشرق کی طرف راہ لی تو طلوع آفتاب کے موقع پر پہنچ کر انہوں نے آفتاب کو ایک ایسی قوم پر طلوع ہوتے ہوئے دیکھا کہ جن کے لیے ہم نے آفتاب سے اوپر پہاڑ درخت کپڑے وغیرہ کی کوئی آڑ نہیں رکھی تھی کہ حق بات سے بالکل عاری قوم تھی اور اس قوم کو تارج وتاویل اور منسک کہا جاتا تھا۔ غرض کہ ذوالقرنین جیسا کہ منتہائے مغرب تک پہنچے تھے، اسی طرح سفر کرتے منتہائے مشرق تک پہنچے اور ان کو جو کچھ واقعات وغیرہ کی خبر تھی۔ ہمیں اس کی پوری خبر ہے، پھر ذوالقرنین فتوحات کرتے ہوئے مشرق کی سمت میں روم کی طرف ہوئے۔ یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان میں پہنچے تو ان پہاڑوں سے اس طرف ایک قوم کو دیکھا جو دوسروں کی بات نہیں سمجھتے تھے، انہوں نے بذریعہ ترجمان کہا کہ اے ذوالقرنین ! یاجوج اس سر زمین میں بڑا فساد مچاتے ہیں، یعنی ہمارئے تروتازہ میوؤں کا کھاجاتے ہیں اور خشک کو لے جاتے ہیں اور ہماری اولاد کو قتل کر ڈالتے ہیں اور ہمارے آدمیوں کو کھاجاتے ہیں۔ یاجوج بھی ایک آدمی کا نام تھا اور ماجوج بھی ایک شخص کا اور یہ دونوں یافث بن نوح کی اولاد میں سے تھے اور کہا گیا ہے کہ اس قوم کی کثرت کی وجہ سے یہ اس کا نام پڑگیا۔ تو کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ ہم لوگ آپ کے لیے کچھ ضروری چیزیں جمع کردیں اس شرط پر کہ آپ ہمارے اور ان کے درمیان کچھ رکاوٹ بنادیں۔ ذوالقرنین نے جواب دیا کہ جس بادشاہت اور مال میں میرے پروردگار نے مجھے اختیار دیا ہے اور عطا کی ہے وہ اس مزدوری سے بہت زیادہ ہے، انہوں نے عرض کیا سو آپ کس قسم کی حمایت چاہتے ہیں، ذوالقرنین نے جواب دیا ہاتھ پیروں اور اوزاروں سے میری مدد کرو۔ میں تمہارے اور ان کے درمیان خوب مضبوط دیوار بنائے دیتا ہوں تم لوگ میرے پاس لوہے کی چادریں لاؤ، یہاں تک کہ جب ان دونوں پہاڑوں کے دونوں سروں کے خلاء کو پر کردیا تو ان کو حکم دیا دھونکو، چناچہ انہوں نے آگ جلا کر ان کو دھونکنا شروع کیا، یہاں تک کہ جب ان لوہے کی چادروں کو دھونکتے دھونکتے لال انگارا کردیا تو اس وقت حکم دیا کہ اب میرے پاس پگھلا ہوا تانبا لاؤ تاکہ اس پر ڈال دوں، چناچہ وہ تانبا اس پر ڈال دیا گیا۔ تو پھر یاجوج ماجوج اس پر چڑھ سکتے تھے اور نہ اس میں نیچے کی طرف سے لگا سکتے تھے تب ذوالقرنین نے فرمایا کہ یہ دیوار کی تیاری میرے پروردگار کی ایک خاص رحمت ہے جس وقت یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وقت آئے گا تو وہ اسے ڈھا کر برابر کر دے گا اور میرے رب کا وعدہ یاجوج ماجوج کے نکلنے کے بارے میں برحق ہے۔
Ayah 18:99

وَ تَرَكْنَا بَعْضَهُمْ یَوْمَئِذٍ یَّمُوْجُ فِیْ بَعْضٍ وَّ نُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَجَمَعْنٰهُمْ جَمْعًاۙ Open ayah 18:99 in the Quran reader

(اس روز) ہم ان کو چھوڑ دیں گے کہ (روئے زمین پر پھیل کر) ایک دوسرے میں گھس جائیں گے اور صور پھونکا جائے گا تو ہم سب کو جمع کرلیں گے

(99) اور ان کے نکلنے کے دن یا روم سے واپسی کے دن جب کہ یاجوج ماجوج اس سے نہیں نکل سکیں گے ہم ان کی یہ حالت کردیں گے کہ ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوجائیں گے اور صور پھونکے جانے کے بعد ہم سب کو جمع کرلیں گے۔