18. Surah Al-Kahf

الكهفThe Cave · 110 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 18:32–43

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلًا رَّجُلَیْنِ جَعَلْنَا لِاَحَدِهِمَا جَنَّتَیْنِ مِنْ اَعْنَابٍ وَّ حَفَفْنٰهُمَا بِنَخْلٍ وَّ جَعَلْنَا بَیْنَهُمَا زَرْعًاؕ Open ayah 18:32 in the Quran reader

اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت) کیے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگا دیئے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی

كِلْتَا الْجَنَّتَیْنِ اٰتَتْ اُكُلَهَا وَ لَمْ تَظْلِمْ مِّنْهُ شَیْئًا١ۙ وَّ فَجَّرْنَا خِلٰلَهُمَا نَهَرًاۙ Open ayah 18:33 in the Quran reader

دونوں باغ (کثرت سے) پھل لاتے اور اس (کی پیداوار) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی

وَّ كَانَ لَهٗ ثَمَرٌ١ۚ فَقَالَ لِصَاحِبِهٖ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَنَا اَكْثَرُ مِنْكَ مَالًا وَّ اَعَزُّ نَفَرًا Open ayah 18:34 in the Quran reader

اور (اس طرح) اس (شخص) کو (انکی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جبکہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال و دولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں

وَ دَخَلَ جَنَّتَهٗ وَ هُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهٖ١ۚ قَالَ مَاۤ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ هٰذِهٖۤ اَبَدًاۙ Open ayah 18:35 in the Quran reader

اور (ایسی شیخیوں سے) اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا کہنے لگا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہوگا

وَّ مَاۤ اَظُنُّ السَّاعَةَ قَآئِمَةً١ۙ وَّ لَئِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰى رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْهَا مُنْقَلَبًا Open ayah 18:36 in the Quran reader

اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو (وہاں) ضرور اس سے اچھی جگہ پاؤں گا

قَالَ لَهٗ صَاحِبُهٗ وَ هُوَ یُحَاوِرُهٗۤ اَكَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَكَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَةٍ ثُمَّ سَوّٰىكَ رَجُلًاؕ Open ayah 18:37 in the Quran reader

تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا کہ کیا تم اس (خدا) سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں پورا مرد بنایا

لٰكِنَّاۡ هُوَ اللّٰهُ رَبِّیْ وَ لَاۤ اُشْرِكُ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:38 in the Quran reader

مگر میں تو یہ کہتا ہوں کہ خدا ہی میرا پروردگار ہے اور میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا

وَ لَوْ لَاۤ اِذْ دَخَلْتَ جَنَّتَكَ قُلْتَ مَا شَآءَ اللّٰهُ١ۙ لَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ١ۚ اِنْ تَرَنِ اَنَا اَقَلَّ مِنْكَ مَالًا وَّ وَلَدًاۚ Open ayah 18:39 in the Quran reader

اور (بھلا) جب تم اپنے باغ میں داخل ہوئے تھے تو تم نے ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ کیوں نہ کہا ؟ اگر تم مجھے مال و اولاد میں اپنے سے کمتر دیکھتے ہو

فَعَسٰى رَبِّیْۤ اَنْ یُّؤْتِیَنِ خَیْرًا مِّنْ جَنَّتِكَ وَ یُرْسِلَ عَلَیْهَا حُسْبَانًا مِّنَ السَّمَآءِ فَتُصْبِحَ صَعِیْدًا زَلَقًاۙ Open ayah 18:40 in the Quran reader

تو عجب نہیں کہ میرا پروردگار مجھے تمہارے باغ سے بہتر عطا فرمائے اور اس (تمہارے باغ) پر آسمان سے آفت بھیج دے تو وہ صاف میدان ہوجائے

اَوْ یُصْبِحَ مَآؤُهَا غَوْرًا فَلَنْ تَسْتَطِیْعَ لَهٗ طَلَبًا Open ayah 18:41 in the Quran reader

یا اس (کی نہر) کا پانی گہرا ہوجائے تو پھر تم اسے نہ لاسکو

وَ اُحِیْطَ بِثَمَرِهٖ فَاَصْبَحَ یُقَلِّبُ كَفَّیْهِ عَلٰى مَاۤ اَنْفَقَ فِیْهَا وَ هِیَ خَاوِیَةٌ عَلٰى عُرُوْشِهَا وَ یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُشْرِكْ بِرَبِّیْۤ اَحَدًا Open ayah 18:42 in the Quran reader

اور اس کے میوؤں کو (عذاب نے) آن گھیرا اور وہ اپنی چھتریوں پر گر کر رہ گیا تو جو مال اس نے اس پر خرچ کیا تھا اس پر (حسرت سے) ہاتھ ملنے لگا اور کہنے لگا کہ کاش میں اپنے پروردگار کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناتا

وَ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ فِئَةٌ یَّنْصُرُوْنَهٗ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ مَا كَانَ مُنْتَصِرًاؕ Open ayah 18:43 in the Quran reader

(اس وقت) خدا کے سواء کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوئی اور نہ وہ بدلہ لے سکا

(32۔ 43) آپ اہل مکہ کے سامنے دو شخصوں کا حال بیان کیجیے کہ بنی اسرائیل میں دو بھائی تھے ایک مومن جس کا نام یہودا اور دوسرا کافر جس کا نام ابو فطروس تھا۔ کافر کو دو باغ ہم نے انگوروں کے دے رکھے تھے اور ان دونوں باغوں کا کھجور کے درختوں سے احاطہ بنارکھا تھا اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں کھیتی بھی لگا رکھی تھی۔ دونوں باغ ہر سال اپنا پورا پھل دیتے تھے اور کسی کے پھل میں ذرا بھی کمی نہ رہتی تھی اور ان دونوں باغوں کے درمیان میں نہر چلا رکھی تھی اور اس کے پاس باغ کا پھل تھا اور بھی تمول کا سامان تھا چناچہ ایک دن وہ اپنے مسلمان ساتھی سے اپنے مال پر فخر کرتا ہوا کہنے لگا کہ میرا مال بھی تجھ سے زیادہ ہے اور میرے خدم وحشم بھی بکثرت ہیں۔ اور پھر وہ اتفاق سے اپنے اوپر کفر کا جرم قائم کرتا ہوا اپنے باغ میں پہنچا اور کہنے لگا کہ میرا تو خیال نہیں ہے کہ یہ باغ کبھی بھی برباد ہو اور نہ میں سمجھتا ہوں کہ قیامت آئے گی اور اگر میں اپنے رب کے پاس پہنچایا گیا جیسا کہ تو کہا کرتا ہے تو اس باغ سے بہت زیادہ اچھی جگہ مجھے کو ملے گی۔ یہ سن کر اس کے مومن ساتھی نے اس کے کفر سے اعراض کرتے ہوئے کہا کیا تو اس ذات پاک کا انکار کرتا ہے جس نے تمہیں آدم کی اولاد سے پیدا کیا اور آدم ؑ کو مٹی سے پیدا کیا پھر تجھے تیرے باپ کے نطفہ سے پیدا کیا پھر تجھے صحیح وسالم انسان بنایا لیکن میرا عقیدہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ میرا رب حقیقی اور میرا خالق و رازق ہے اور میں ان بتوں میں سے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا اور جب وقت تو باغ میں داخل ہوا تھا تو نے یوں کیوں نہیں کہا، یہ سب اللہ تعالیٰ کا انعام ہے میری کیا حیثیت اور یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہے میری کیا طاقت ہے۔ اور اگر تو مجھ کو خدم وحشم میں کم تر سمجھتا ہے تو مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ مجھے آخرت میں تیرے اس دنیاوی باغ سے بہتر باغ دے دے اور تیرے اس باغ پر آگ بھیج دے کہ یہ اچانک چٹیل میدان ہو کر رہ جائے یا اسکا پانی بالکل اندر زمین میں اتر کر خشک ہوجائے اور پھر تو اس کے نکالنے کی کوئی کوشش بھی نہ کرسکے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے پھل اور سامان تمول کو آفت نے ہلاک کردیا پس اس نے جو کچھ اس باغ پر خرچ کیا تھا۔ اور جو اس کی آمدنی تھی اس پر حسرت و ندامت میں ہاتھ ملتا رہ گیا اور وہ باغ اپنی ٹٹیوں پر گرا ہوا پڑا تھا اور وہ قیامت کے دن بھی کہے گا کہ کیا ہی اچھا ہوتا کہ میں اپنے رب کے ساتھ ان بتوں کو شریک نہ ٹھہراتا۔ اور اس کے پاس کوئی ایسی طاقت نہ آئی کہ عذاب الہی سے اس کی حفاظت کرتی اور نہ وہ خود اپنے سے عذاب الہی کو ٹال سکا۔
Ayah 18:44

هُنَالِكَ الْوَلَایَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَیْرٌ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ عُقْبًا۠ Open ayah 18:44 in the Quran reader

یہاں (سے ثابت ہوا کہ) حکومت سب خدائے برحق ہی کی ہے اسی کا صلہ بہتر اور (اسی کا) بدلہ اچھا ہے .

(44) قیامت کے دن تمام بادشاہت اور سلطنت اللہ برحق ہی کے لیے ہوگی اور اس کا ثواب سب سے اچھا ہے۔
Ayah 18:45

وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِیْمًا تَذْرُوْهُ الرِّیٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ مُّقْتَدِرًا Open ayah 18:45 in the Quran reader

اور ان سے دنیا کی زندگی کی مثال بھی بیان کردو (وہ ایسی ہے) جیسے پانی جسے ہم نے آسمان سے برسایا تو اس کے ساتھ زمین کی روئیدگی مل گئی پھر وہ چورا چورا ہوگئی کہ ہوائیں اسے اڑاتی پھرتی ہیں اور خدا تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے

(45) آپ اہل مکہ سے دنیوی زندگی کی بقاء اور فنا کی حالت بیان کیجیے جیسا کہ ہم نے آسمان سے پانی برسایا ہو، پھر اس پانی کے ذریعے سے زمین کے نباتات خوب گنجان ہوگئے ہوں پھر وہ خشک ہو کر ریزہ ریزہ ہوجائے کہ اسے ہوا میں اڑائے پھرے اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہ رہے، یہی حالت اس دنیوی زندگی کی ہے کہ نیست ونابود ہوجائے گی اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہے گا، اور اللہ تعالیٰ کو دنیا کے فنا اور آخرت کی بقاء پر پوری قدرت حاصل ہے۔
Ayah 18:46

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا Open ayah 18:46 in the Quran reader

مال اور بیٹے تو دنیا کی زندگی کی (رونق و) زینت ہیں اور نیکیاں جو باقی رہنے والی ہیں وہ ثواب کے لحاظ سے تمہارے پروردگار کے ہاں بہت اچھی اور امید کے لحاظ سے بہت بہتر ہیں

(46) اس کے بعد دنیا کے ساز و سامان کا تذکرہ فرماتا ہے کہ اولاد یہ سب حیات دنیا کی ایک رونق ہے جیسا کہ گھاس پھوس میں سے کچھ باقی نہیں رہتا اسی طرح ان میں سے بھی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی، اور پانچویں نمازیں اور باقیات سے مراد وہ نیکیاں ہیں جن کا ثواب ہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والا ہے اور صالحات سے مراد (آیت) ”سبحان اللہ والحمد للہ ولا الہ الا اللہ واللہ اکبر“۔ ہے، یہ چیزیں آپ کے پروردگار کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے بھی ہزار درجہ بہتر ہیں اور امید کے اعتبار سے بھی یعنی اعمال صالحہ مثلا نماز پر جو بندوں کو امیدیں ہوتی ہیں وہ آخرت میں پوری ہوں گی۔
Ayah 18:47

وَ یَوْمَ نُسَیِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ Open ayah 18:47 in the Quran reader

اور جس دن ہم پہاڑوں کو چلائیں گے اور تم زمین کو صاف میدان دیکھو گے اور ان (لوگوں کو) ہم جمع کرلیں گے تو ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے

(47) اور جس دن ہم پہاڑوں کو زمین پر سے ہٹا دیں گے اور آپ زمین کو دیکھیں گے کہ پہاڑوں کے نیچے سے کھلا میدان ہے اور ہم سب کو قبروں سے اٹھا کر میدان حشر میں جمع کردیں گے اور ان میں سے کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے ،
Ayah 18:48

وَ عُرِضُوْا عَلٰى رَبِّكَ صَفًّا١ؕ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۭ١٘ بَلْ زَعَمْتُمْ اَلَّنْ نَّجْعَلَ لَكُمْ مَّوْعِدًا Open ayah 18:48 in the Quran reader

اور سب تمہارے پروردگار کے سامنے صف باندھ کر لائے جائیں گے (تو ہم ان سے کہیں گے کہ) جس طرح ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا (اسی طرح آج) تم ہمارے سامنے آئے لیکن تم نے تو یہ خیال کر رکھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے (قیامت کا) کوئی وقت مقرر نہیں کیا

(48) اور سب کے سب آپ کے رب کے سامنے پیش کیے جائیں گے اور ان سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا آخر تم ہمارے پاس آئے جیسا کہ پہلی مرتبہ بغیر مال واولاد کے ہم نے تمہیں پیدا کیا تھا بلکہ تم دنیا میں کہتے تھے کہ ہم تمہارے دوبارہ پیدا کرنے کے لیے کوئی وقت موعود نہیں لائیں گے۔
Ayah 18:49

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَا١ۚ وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا١ؕ وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠ Open ayah 18:49 in the Quran reader

اور (عملوں کی) کتاب (کھول کر) رکھی جائے گی تو تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں لکھا ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے کہ ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے اور نہ بڑی بات کو (کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھا ہے اور جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا

(49) اور نامہ اعمال مخلوقات کے دائیں اور بائیں ہاتھوں میں برف کی طرف پھسل کر کھلا رکھ دیا جائے گا پھر آپ مشرکین اور منافقین کو دیکھیں گے کہ اس نامہ اعمال میں جو کچھ لکھا ہوگا اس سے ڈرتے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی اس نامہ اعمال نے تو بغیر قلم بند کیے نہ کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا ہے اور نہ کوئی بڑا گناہ اور کہا گیا کہ صغیرہ سے مراد تبسم اور کبیرہ سے مراد (دینی امور پر) قہقہہ ہے۔ اور جو کچھ انہوں نے نیکی اور برائی کی ہوگی سب لکھا ہوا موجود پائیں گے اور آپ کا رب کسی پر ظلم نہیں کرے گا کسی کی نیکیوں میں کمی نہیں کرے گا اور کافر کا گناہ نہیں چھوڑے گا۔
Ayah 18:50

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ كَانَ مِنَ الْجِنِّ فَفَسَقَ عَنْ اَمْرِ رَبِّهٖ١ؕ اَفَتَتَّخِذُوْنَهٗ وَ ذُرِّیَّتَهٗۤ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِیْ وَ هُمْ لَكُمْ عَدُوٌّ١ؕ بِئْسَ لِلظّٰلِمِیْنَ بَدَلًا Open ayah 18:50 in the Quran reader

اور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کو سجدہ کرو تو سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس (نے نہ کیا) وہ جنات میں سے تھا تو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر ہوگیا کیا تم اس کو اور اس کی اولاد کو میرے سواء دوست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں (اور شیطان کی دوستی) ظالموں کے لئے (خدا کی دوستی کا) برا بدل ہے

(50) اور جب ہم نے ان فرشتوں کو بھی حکم دیا جو کہ زمین پر تھے کہ حضرت آدم ؑ کو سجدہ تحیت کرو تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے جو کہ سردار تھا اور جنات میں سے تھا اس نے اپنے آپ کو بڑا سمجھا اور اپنے پروردگار کی اطاعت سے سرکشی کی اور حضرت آدم ؑ کو سجدہ کرنے سے انکار کیا۔ کیا تم پھر بھی شیطان کی اور اس کے چیلوں کی اللہ تعالیٰ کے علاوہ پرستش کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارے کھلے ہوئے دشمن ہیں، مشرکین نے اطاعت کے لیے میرے علاوہ برا بدل اختیار کیا ہے۔ یا یہ کہ عبادت خداوندی کے بدلہ میں شیطان کی عبادت کو اختیار کرلیا یا یہ کہ ولایت خداوندی کے عوض شیطان کو ولی اور دوست بنالیا۔
Ayah 18:51

مَاۤ اَشْهَدْتُّهُمْ خَلْقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَا خَلْقَ اَنْفُسِهِمْ١۪ وَ مَا كُنْتُ مُتَّخِذَ الْمُضِلِّیْنَ عَضُدًا Open ayah 18:51 in the Quran reader

میں نے ان کو نہ تو آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا تھا اور نہ خود ان کے پیدا کرنے کے وقت اور میں ایسا نہ تھا کہ گمراہ کرنے والوں کو مددگار بناتا

(51) حالانکہ ان فرشتوں اور شیطان کو میں نے نہ تو آسمان و زمین کے پیدا کرنے کے وقت بلایا، یا یہ کہ نہ تو میں نے زمین و آسمان کی پیدایش کے وقت ان سے مدد طلب کی اور نہ خود ان ہی کے پیدا کرنے کے موقع پر ان سے مدد چاہی اور میں ایسا عاجز نہیں کہ ان کافروں اور ان یہود و نصاری اور ان بتوں کے پجاریوں کو اپنا دست وبازو بناتا۔
Ayah 18:52

وَ یَوْمَ یَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَآءِیَ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ یَسْتَجِیْبُوْا لَهُمْ وَ جَعَلْنَا بَیْنَهُمْ مَّوْبِقًا Open ayah 18:52 in the Quran reader

اور جس دن خدا فرمائے گا کہ (اب) میرے شریکوں کو جن کی نسبت تم گمان (الوہیت) رکھتے تھے بلاؤ تو وہ ان کو بلائیں گے مگر وہ انکو کچھ جواب نہ دینگے اور ہم ان کے بیچ میں ایک ہلاکت کی جگہ بنادیں گے

(52) اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان بتوں کے پجاریوں سے کہے گا کہ اپنے ان معبودوں کو یاد کرو جن کی تم عبادت کرتے اور میرا شریک ٹھہراتے تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ تمہیں میرے عذاب سے نجات دلا دیں گے سو وہ ان معبودوں کو پکاریں مگر یہ ان کو جواب نہ دیں گے اور ہم ان عابد و معبود کے درمیان دوزخ میں وادی حائل کردیں گے۔
Ayah 18:53

وَ رَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَ لَمْ یَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا۠ Open ayah 18:53 in the Quran reader

اور گنہگار لوگ دوزخ کو دیکھیں گے تو یقین کرلیں گے کہ وہ اس میں پڑنے والے ہیں اور اس سے بچنے کا کوئی راستہ نہ پائیں گے

(53) اور مشرکین دوزخ کو دیکھیں گے اور یقین کرلیں گے کہ ضرور ہم اس میں داخل ہوں گے اور اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔
Ayah 18:54

وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِلنَّاسِ مِنْ كُلِّ مَثَلٍ١ؕ وَ كَانَ الْاِنْسَانُ اَكْثَرَ شَیْءٍ جَدَلًا Open ayah 18:54 in the Quran reader

اور ہم نے اس قرآن میں لوگوں (کے سمجھانے کے) لئے طرح طرح کی مثالیں بیان کی ہیں لیکن انسان سب چیزوں سے بڑھ کر جھگڑالو ہے

(54) اور ہم نے مکہ والوں کے لیے اس قرآن کریم میں وعدے وعید کے عمدہ مضامین طرح طرح سے بیان کیے ہیں تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کرکے ایمان لائیں اور ابی بن خلف بھی باطل پر جھگڑے میں سب سے بڑھ کر ہے یا یہ آدمی جھگڑنے میں سب سے بڑھ کر ہے۔
Ayah 18:55

وَ مَا مَنَعَ النَّاسَ اَنْ یُّؤْمِنُوْۤا اِذْ جَآءَهُمُ الْهُدٰى وَ یَسْتَغْفِرُوْا رَبَّهُمْ اِلَّاۤ اَنْ تَاْتِیَهُمْ سُنَّةُ الْاَوَّلِیْنَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ قُبُلًا Open ayah 18:55 in the Quran reader

اور لوگوں کے پاس جب ہدایت آگئی تو ان کو کس چیز نے منع کیا کہ ایمان لائیں اور اپنے پروردگار سے بخشش مانگیں بجز اس کے کہ (اس بات کے منتظر ہوں کہ) انھیں بھی پہلوں کا سا معاملہ پیش آئے یا ان پر عذاب سامنے آموجود ہو

(55) اور اہل مکہ کو جو کہ بدر کے دن مارے گئے بعد اس کے کہ رسول اکرم ﷺ ان کے پاس قرآن کریم لے کر پہنچ چکے ہیں آپ پر اور قرآن کریم پر ایمان لانے اور کفر وشر سے توبہ کرنے سے اور کوئی امر مانع نہیں رہا، سوائے اس کے کہ ان کو اس کا انتظار رہا کہ اگلوں کے ساتھ ہلاکت و بربادی کا جیسا معاملہ کیا گیا ہے وہی ان کے ساتھ بھی کیا جائے یا یہ کہ بدر کے دن صحابہ کرام کی تلواریں ان کے سامنے نکل پڑیں۔
Ayah 18:56

وَ مَا نُرْسِلُ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّا مُبَشِّرِیْنَ وَ مُنْذِرِیْنَ١ۚ وَ یُجَادِلُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِالْبَاطِلِ لِیُدْحِضُوْا بِهِ الْحَقَّ وَ اتَّخَذُوْۤا اٰیٰتِیْ وَ مَاۤ اُنْذِرُوْا هُزُوًا Open ayah 18:56 in the Quran reader

اور ہم جو پیغمبروں کو بھیجا کرتے ہیں تو صرف اس لئے کہ (لوگوں کو خدا کی نعمتوں کی) خوشخبریاں سنائیں اور (عذاب سے) ڈرائیں اور جو کافر ہیں وہ باطل (کی سند) سے جھگڑا کرتے ہیں تاکہ اس سے حق کو پھسلا دیں اور انہوں نے ہماری آیتوں کو اور جس چیز کو انکو ڈرایا جاتا ہے ہنسی بنا لیا ہے

(56) اور رسولوں کو تو ہم صرف مسلمانوں کو جنت کی بشارت دینے اور کافروں کو دوزخ سے ڈرانے والا بنا کر بھیجا کرتے ہیں۔ اور رسولوں اور کتابوں کے منکر شرکیہ باتیں تراش کر جھگڑے نکالتے ہیں تاکہ اس باطل کے ذریعے حق اور ہدایت کو بچلا دیں اور انہوں نے میری کتاب اور میرے رسول کو اور جس عذاب سے ان کو ڈرایا گیا ہے محض دل لگی اور مذاق بنا رکھا ہے۔
Ayah 18:57

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ فَاَعْرَضَ عَنْهَا وَ نَسِیَ مَا قَدَّمَتْ یَدٰهُ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًا١ؕ وَ اِنْ تَدْعُهُمْ اِلَى الْهُدٰى فَلَنْ یَّهْتَدُوْۤا اِذًا اَبَدًا Open ayah 18:57 in the Quran reader

اور اس سے ظالم کون جس کو اسکے پروردگار کے کلام سے سمجھایا گیا تو اس نے اس سے منہ پھیرلیا اور جو اعمال وہ آگے کرچکا اسکو بھول گیا ہم نے انکے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں اور کانوں میں ثقل (پیدا کردیا ہے کہ سن نہ سکیں) اور اگر تم ان کو راستے کی طرف بلاؤ تو کبھی راستے پر نہ آئیں گے

(57) اور اس سے زیادہ کون ظالم ہوگا جس کو اس کے رب کی آیات سے نصیحت کی جائے اور پھر اس سے انکار کے ساتھ روگردانی کرے اور جو کچھ اپنے ہاتھوں گناہ سمیٹ رہا ہے اس کے نتیجہ کو بھول جائے، ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں تاکہ یہ حق اور ہدایت کی بات ہی نہ سمجھ سکیں اور ان باتوں کے سمجھنے سے ان کے کانوں میں ڈاٹ دے رکھے ہے اور اگر آپ ان کو توحید کی طرف بلائیں تو یہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔
Ayah 18:58

وَ رَبُّكَ الْغَفُوْرُ ذُو الرَّحْمَةِ١ؕ لَوْ یُؤَاخِذُهُمْ بِمَا كَسَبُوْا لَعَجَّلَ لَهُمُ الْعَذَابَ١ؕ بَلْ لَّهُمْ مَّوْعِدٌ لَّنْ یَّجِدُوْا مِنْ دُوْنِهٖ مَوْئِلًا Open ayah 18:58 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار بخشنے والا صاحب رحمت ہے اگر وہ ان کے کرتوتوں پر ان کو پکڑنے لگے تو ان پر جھٹ سے عذاب بھیج دے مگر ان کے لئے ایک وقت (مقرر کر رکھا ہے) کہ اس کے عذاب سے کوئی پناہ کی جگہ نہ پائیں گے

(58) اور آپ کا پروردگار بڑا مغفرت کرنے والا اور بڑی رحمت والا ہے کہ ان سے عذاب کو ٹال رکھا ہے، اگر ان سے ان کے شرک پر پکڑ کرنے لگتا تو ان ہی دنیا میں فوری عذاب نازل کردیتا بلکہ ان کی ہلاکت کے لیے ایک مقرر وقت ہے کہ اس عذاب الہی سے یہ کوئی پناہ کی جگہ نہیں پاسکتے۔
Ayah 18:59

وَ تِلْكَ الْقُرٰۤى اَهْلَكْنٰهُمْ لَمَّا ظَلَمُوْا وَ جَعَلْنَا لِمَهْلِكِهِمْ مَّوْعِدًا۠ Open ayah 18:59 in the Quran reader

اور یہ بستیاں (جو ویران پڑی ہیں) جب انہوں نے (کفر سے) ظلم کیا تو ہم نے انکو تباہ کردیا اور انکی تباہی کے لئے ایک وقت مقرر کردیا تھا

(59) اور یہ بستیوں والے گزشتہ لوگ جن کی ہلاکت کے قصے مشہور ہیں جب انہوں نے شرک کیا تو ہم نے ان کو ہلاک کردیا، اور ہم نے انکے ہلاک ہونے کے لیے وقت مقرر کیا تھا۔