16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 16:121

شَاكِرًا لِّاَنْعُمِهٖ١ؕ اِجْتَبٰىهُ وَ هَدٰىهُ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 16:121 in the Quran reader

اس کی نعمتوں کے شکر گزار تھے۔ خدا نے ان کو برگزیدہ کیا تھا اور (اپنی) سیدھی راہ پر چلایا تھا۔

(121) اور اللہ تعالیٰ نے جو ان پر انعامات فرمائے تھے وہ اس کے بڑے شکر گزار تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کو نبوت اورا سلام کے لیے جن لیا تھا اور ان کو سیدھے پسندیدہ راستے یعنی دین اسلام پر ثابت قدمی عطا فرمائی تھی۔
Ayah 16:122

وَ اٰتَیْنٰهُ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ اِنَّهٗ فِی الْاٰخِرَةِ لَمِنَ الصّٰلِحِیْنَؕ Open ayah 16:122 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبی دی تھی اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے۔

(122) اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی خوبیاں جیسے اولاد صالحہ، ان کی عمدہ تعریف اور تمام انسانوں میں ان کا ذکر اور ثناء حسن دی تھیں اور جنت میں بھی وہ انبیاء کرام کے ساتھ ہوں گے۔
Ayah 16:123

ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًا١ؕ وَ مَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 16:123 in the Quran reader

پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہہ دین ابراہیم کی پیروی اختیار کرو جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

(123) اے محمد ﷺ پھر ہم نے آپ کو حکم دیا کہ آپ دین ابراہیمی پر قائم رہیے جو کہ سچے مسلمان تھے اور وہ مشرکین کے دین پر نہیں تھے۔
Ayah 16:124

اِنَّمَا جُعِلَ السَّبْتُ عَلَى الَّذِیْنَ اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ؕ وَ اِنَّ رَبَّكَ لَیَحْكُمُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:124 in the Quran reader

ہفتے کا دن تو انہی لوگوں لے لئے مقرر کیا گیا تھا جنہوں نے اس میں اختلاف کیا۔ اور تمہارا پروردگار قیامت کے دن ان میں ان باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے تھے۔

(124) اور ہفتہ تعظیم تو ان ہی لوگوں پر لازم کی گئی تھی، جنہوں نے جمعہ کی تعظیم میں اختلاف کیا تھا اور آپ کا پروردگار قیامت کے دن یہودی ونصاری کے درمیان فیصلہ کردے گا جس دین میں یہ اختلاف کیا کرتے تھے۔
Ayah 16:125

اُدْعُ اِلٰى سَبِیْلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَ الْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَ جَادِلْهُمْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِهٖ وَ هُوَ اَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 16:125 in the Quran reader

(اے پیغمبر) لوگوں کو دانش اور نیک نصیحت سے اپنے پروردگار کے راستے کی طرف بلاؤ اور بہت ہی اچھے طریق سے ان سے مناظرہ کرو۔ جو اس کے راستے سے بھٹک گیا تمہارا پروردگار اسے بھی خوب جانتا ہے۔ اور جو راستے پر چلنے والے ہیں ان سے بھی خوب واقف ہے۔

(125) اور آپ اپنے پروردگار کے دین کی طرف قرآن حکیم اور قرآن حکیم کی نصیحت آمیز آیتوں کے ذریعے سے لوگوں کو بلائیے اور ان کے ساتھ قرآن کریم اور کلمہ لا الہ الا اللہ“۔ کے طریقہ سے بحث کیجیے آپ کا رب اس شخص کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو اس کے دین سے گمراہ ہوا اور وہی اپنے دین پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔
Ayah 16:126

وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖ١ؕ وَ لَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ Open ayah 16:126 in the Quran reader

اور اگر تم ان کو تکلیف دینی چاہو تو اتنی ہی تکلیف دو جتنی تکلیف تم کو ان سے پہنچی اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لئے بہت اچھا ہے۔

(126) اور اگر تم ان کی اموات کا بدلہ لینے لگو تو اسی قدر بدلہ لو جتنا کہ تمہارے ساتھ برتاؤ کیا گیا ہے اور اگر صبر کرو اور بدلہ نہ لو تو یہ چیز آخرت میں بڑے ثواب کا باعث ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وان عاقبتم فعاقبوابمثل“۔ (الخ) امام حاکم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے اور بیہقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے دلائل میں اور بزار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابوہریر ؓ سے روایت کیا ہے کہ جس وقت حضرت حمزہ ؓ شہید کر دے گئے تو رسول اکرم ﷺ ان کے پاس کھڑے ہوئے تھے اور مشرکین نے حضرت حمزہ ؓ کا مثلہ یعنی ناک دکان ڈالے تھے تو آپ نے یہ منظر دیکھ کر فرمایا میں ان کے بدلے میں کفار میں سے ستر آدمیوں کو قتل کروں اور تو آپ اسی حالت میں کھڑے تھے تو جبریل امین سورة نحل کی ان آخری آیتوں کو لے کر تشریف لائے یعنی اگر بدلہ لینے لگو تو اتنا ہی بدلہ لو جتنا کہ تمہارے ساتھ برتاؤ کیا گیا سو ان آیتوں کے نزول کے بعد رسول اکرم ﷺ نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ نیز امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے تحسین کے ساتھ اور امام حاکم نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے کہ غزوہ احد میں انصار میں سے چونسٹھ اور مہاجرین میں سے چھ حضرات شہید ہوئے ان میں حضرت حمزہ ؓ بھی تھے، سب کا مثلہ کردیا گیا تھا یہ منظر دیکھ کر انصار کہنے لگے کہ اگر آج کے کی طرح کسی دن ہمیں ان ان پر موقع مل گیا تو ہم ان کی اس سے زیادہ بری حالت کردی گے چناچہ جب فتح مکہ کا دن آیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس حدیث سے آیت کا نزول فتح مکہ تک موخر معلوم ہوتا ہے اور اس سے پہلے جو حدیث روایت کی ہے اس سے یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ یہ آیت غزوہ احد میں نازل ہوئی ہے۔ غرض کہ ابن حصار نے تمام روایتوں میں اس طرح تطبیق دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندوں کو یہ بات یاد دلانے کے لیے اس آیت کو دوبارہ نازل فرمایا ہے چناچہ اولا مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی اور پھر غزوہ احد میں اور پھر فتح مکہ کے دن نازل ہوئی ہے۔
Ayah 16:127

وَ اصْبِرْ وَ مَا صَبْرُكَ اِلَّا بِاللّٰهِ وَ لَا تَحْزَنْ عَلَیْهِمْ وَ لَا تَكُ فِیْ ضَیْقٍ مِّمَّا یَمْكُرُوْنَ Open ayah 16:127 in the Quran reader

اور صبر ہی کرو اور تمہارا صبر بھی خدا ہی کی مدد سے ہے اور ان کے بارے میں غم نہ کرو اور جو یہ بد اندیشی کرتے ہیں اس سے تنگ دل نہ ہونا

(127) اور اے محمد ﷺ آپ کفار کی تکالیف پر صبر کیجیے اور آپ کا صبر کرنا خاص اللہ ہی کی توفیق خاص سے ہے اور ان مذاق اڑانے والوں کی ہلاکت پر غم نہ کیجیے اور جو کچھ یہ تدبیریں کیا کرتے ہیں اس سے دل چھوٹا نہ کیجیے۔
Ayah 16:128

اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ الَّذِیْنَ هُمْ مُّحْسِنُوْنَ۠ Open ayah 16:128 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ جو پرہیزگار ہیں اور جو نیکو کار ہیں خدا ان کا مددگار ہے۔

(128) اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے جو کفر وشرک اور برائیوں سے بچنے والے ہوتے ہیں اور جو کہ قول و عمل ہر ایک اعتبار سے موحد ہوتے ہیں۔