16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayahs 16:41–42

وَ الَّذِیْنَ هَاجَرُوْا فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا ظُلِمُوْا لَنُبَوِّئَنَّهُمْ فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً١ؕ وَ لَاَجْرُ الْاٰخِرَةِ اَكْبَرُ١ۘ لَوْ كَانُوْا یَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:41 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ظلم سہنے کے بعد خدا کے لئے وطن چھوڑا ہم ان کو دنیا میں اچھا ٹھکانہ دیں گے۔ اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔ کاش وہ (اسے) جانتے۔

الَّذِیْنَ صَبَرُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:42 in the Quran reader

یعنی وہ لوگ جو صبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسا کرتے ہیں۔

(41۔ 42) اور جن حضرات نے اطاعت خداوندی میں مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی، بعد اس کے کہ ان کو مکہ والوں نے طرح طرح کی تکالیف دیں جیسا کہ حضرت عمار بن یاسر ؓ ، حضرت بلال ؓ ، حضرت صہیب ؓ اور ان کے ساتھی رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ ہم ان کو مدینہ منورہ میں ضرور خوب اچھا امن وامان اور غنیمت والا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا ثواب اس دنیاوی ثواب سے کئی درجے بہتر ہے، کاش یہ کفار بھی اس کو سمجھتے اور حضرت عمار بن یاسر ؓ اور ان کے ساتھی ایسے ہیں کہ کافر کی تکالیف پر صبر کرتے ہیں اور اپنے پروردگار کے علاوہ کسی دوسرے پر بھروسا نہیں کرتے۔
Ayah 16:43

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ اِلَّا رِجَالًا نُّوْحِیْۤ اِلَیْهِمْ فَسْئَلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَۙ Open ayah 16:43 in the Quran reader

اور ہم نے تم سے پہلے مردوں ہی کو پیغمبر بنا کر بھیجا تھا جن کی طرف ہم وحی بھیجا کرتے تھے۔ اگر لوگ نہیں جانتے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔

(43) اے محمد ﷺ ہم نے آپ سے پہلے ہی جیسے آدمیوں کو رسول بنا کر بھیجا، انہیں معجزات اور پہلے لوگوں کی خبریں دیں، اور ان پر اوامرو نواہی کے دلائل کی وحی کی، اور یہ بات تورات وانجیل میں بھی موجود ہے، اللہ تعالیٰ صرف انسانوں ہی کو رسول بنا کر بھیجتے ہیں۔
Ayah 16:44

بِالْبَیِّنٰتِ وَ الزُّبُرِ١ؕ وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَیْكَ الذِّكْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَیْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:44 in the Quran reader

(اور ان پیغمبروں کو) دلیلیں اور کتابیں دے کر (بھیجا تھا) اور ہم نے تم پر بھی یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو (ارشادات) لوگوں پر نازل ہوئے ہیں وہ ان پر ظاہر کردو تاکہ وہ غور کریں۔

(44) اور آپ پر بھی یہ قرآن حکیم جبریل امین ؑ کے ذریعے اتارا گیا ہے تاکہ لوگوں کے لیے قرآن حکیم میں جو احکام بیان کیے گئے، آپ ان کو ان کے سامنے بیان کردیں اور تاکہ وہ احکام قرآنیہ میں غور کیا کریں جو لوگ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔
Ayahs 16:45–46

اَفَاَمِنَ الَّذِیْنَ مَكَرُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ یَّخْسِفَ اللّٰهُ بِهِمُ الْاَرْضَ اَوْ یَاْتِیَهُمُ الْعَذَابُ مِنْ حَیْثُ لَا یَشْعُرُوْنَۙ Open ayah 16:45 in the Quran reader

کیا جو لوگ بری بری چالیں چلتے ہیں اس بات سے بےخوف ہیں کہ خدا ان کو زمین میں دھنسا دے یا (ایسی طرف سے) ان پر عذاب آجائے جہاں سے ان کو خبر ہی نہ ہو ؟

اَوْ یَاْخُذَهُمْ فِیْ تَقَلُّبِهِمْ فَمَا هُمْ بِمُعْجِزِیْنَۙ Open ayah 16:46 in the Quran reader

یا ان کو چلتے پھرتے پکڑ لے ؟ وہ (خدا کو) عاجز نہیں کرسکتے

(45۔ 46) کی پھر بھی اس بات سے بےفکر ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو زمین میں غرق کردے یا ان پر ایسے موقع سے عذاب آپڑے جہان انکو گمان بھی نہ ہو یا ان کو تجارت کے سفر کے لیے آنے جانے میں پکڑے یا لوگ اللہ کے عذاب کو ہٹا بھی نہیں سکتے۔
Ayah 16:47

اَوْ یَاْخُذَهُمْ عَلٰى تَخَوُّفٍ١ؕ فَاِنَّ رَبَّكُمْ لَرَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:47 in the Quran reader

یا جب ان کو عذاب کا ڈر پیدا ہوگیا ہو تو ان کو پکڑلے ؟ بیشک تمہارا پروردگار بہت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے۔

(47) یا ان کے سردار اور ان کے ساتھیوں کو گھٹاتے گھٹاتے ان کو پکڑے، اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے پر مہربان ہے یا کہ عذاب کے موخر کرنے میں مہربان ہے۔
Ayah 16:48

اَوَ لَمْ یَرَوْا اِلٰى مَا خَلَقَ اللّٰهُ مِنْ شَیْءٍ یَّتَفَیَّؤُا ظِلٰلُهٗ عَنِ الْیَمِیْنِ وَ الشَّمَآئِلِ سُجَّدًا لِّلّٰهِ وَ هُمْ دٰخِرُوْنَ Open ayah 16:48 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے خدا کی مخلوقات میں سے ایسی چیزیں نہیں دیکھیں جن کے سائے دائیں سے (بائیں کو) اور بائیں سے (دائیں کو) لوٹتے رہتے ہیں (یعنی) خدا کے آگے عاجز ہو کر سجدہ میں پڑے رہتے ہیں۔

(48) کیا مکہ والوں نے اللہ تعالیٰ کے پیدا کیے ہوئے ان درختوں اور ان جانوروں کو نہیں دیکھا کہ جن کے سائے صبح کو دائیں جانب کو اور شام کو بائیں جانب کو اس طور پر جھک جاتے ہیں گویا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہیں اور ان کے سائے بھی صبح وشام اللہ تعالیٰ کے سامنے سر بسجود ہیں۔
Ayah 16:49

وَ لِلّٰهِ یَسْجُدُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ مِنْ دَآبَّةٍ وَّ الْمَلٰٓئِكَةُ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 16:49 in the Quran reader

اور تمام جاندار جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہیں سب خدا کے آگے سجدہ کرتے ہیں اور فرشتے بھی۔ اور وہ ذرا غرور نہیں کرتے۔

(49) (اور وہ سایہ دار چیزیں بھی) اللہ تعالیٰ کی مطیع وفرمانبردار ہیں اور چاند وسورج ستارے اور حیوانات و پرندے اور وہ فرشتے بھی جو کہ آسمان و زمین میں ہیں سب اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہیں اور وہ اطاعت خداوندی سے تکبر نہیں کرتے۔
Ayah 16:50

یَخَافُوْنَ رَبَّهُمْ مِّنْ فَوْقِهِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ۠۩ Open ayah 16:50 in the Quran reader

اور پنے پروردگار سے جو ان کے اوپر ہے ڈرتے ہیں۔ اور جو ان کو ارشاد ہوتا ہے اس پر عمل کرتے ہیں۔

(50) اور وہ اپنے رب سے ڈرتے ہیں جو کہ ان پر بالادست ہے اور فرشتوں کو جو حکم دیا جاتا ہے اس کو وہ کرتے اور پہنچاتے ہیں۔
Ayah 16:51

وَ قَالَ اللّٰهُ لَا تَتَّخِذُوْۤا اِلٰهَیْنِ اثْنَیْنِ١ۚ اِنَّمَا هُوَ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَاِیَّایَ فَارْهَبُوْنِ Open ayah 16:51 in the Quran reader

اور خدا نے فرمایا ہے کہ دو دو معبود نہ بناؤ۔ معبود وہی ایک ہے تو مجھی سے ڈرتے رہو

(51) اللہ تعالیٰ نے فرمایا دو یا زیادہ معبودوں کی پوجا مت کرو، بس ایک ہی معبود وہی وحدہ لاشریک ہے تو ان بتوں کی پوجا کرنی میں مجھ سے خوف کرو۔
Ayah 16:52

وَ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَهُ الدِّیْنُ وَاصِبًا١ؕ اَفَغَیْرَ اللّٰهِ تَتَّقُوْنَ Open ayah 16:52 in the Quran reader

اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے اور اسی کی عبادت لازم ہے۔ تو تم خدا کے سوا اوروں سے کیوں ڈرتے ہو ؟

(52) تمام مخلوقات اور یہ عجیب چیزیں اسی کو ملک ہیں اور لازمی طور پر ہمیشہ خلوص کے ساتھ اطاعت بجالانا اسی کا حق ہے۔ کیا پھر بھی اللہ تعالیٰ کے علاوہ دوسروں کی پوجا کرتے ہو۔
Ayah 16:53

وَ مَا بِكُمْ مِّنْ نِّعْمَةٍ فَمِنَ اللّٰهِ ثُمَّ اِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فَاِلَیْهِ تَجْئَرُوْنَۚ Open ayah 16:53 in the Quran reader

اور جو نعمتیں تم کو میسر ہیں سب خدا کی طرف سے ہیں۔ پھر جب تم کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اسی کے آگے چلاتے ہو۔

(53) اور تمہارے پاس جو کچھ نعمت ہے وہ سب اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے، ان بتوں کی طرف سے نہیں، پھر جب تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ سے فریاد اور اس کے سامنے آہ وزاری کرتے ہو۔
Ayah 16:54

ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ Open ayah 16:54 in the Quran reader

پھر جب وہ تم سے تکلیف کو دور کردیتا ہے تو کچھ لوگ تم میں سے خدا کے ساتھ شریک کرنے لگتے ہیں

(54) پھر جب اللہ تعالیٰ تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو تم میں سے ایک جماعت اپنے رب کے ساتھ بتوں کو شریک کرنا شروع کردیتی ہے۔
Ayah 16:55

لِیَكْفُرُوْا بِمَاۤ اٰتَیْنٰهُمْ١ؕ فَتَمَتَّعُوْا١۫ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:55 in the Quran reader

تاکہ جو (نعمتیں) ہم نے ان کو عطا فرمائی ہیں ان کی ناشکری کریں تو (مشرکو) دنیا میں فائدے اٹھالو عنقریب تم کو (اسکا انجام) معلوم ہوجائیگا۔

(55) جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ہم نے جو ان کو نعمتیں عطا کی ہیں، اس کی ناشکری کرتے ہیں اور کہنے لگتے ہیں کہ ہمارے بتوں کی سفارش سے ایسا ہوا، خیر کفر و حرام کاموں میں چند روزہ عیش کرلو تمہیں پتہ چل جائے گا کہ تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گا۔
Ayah 16:56

وَ یَجْعَلُوْنَ لِمَا لَا یَعْلَمُوْنَ نَصِیْبًا مِّمَّا رَزَقْنٰهُمْ١ؕ تَاللّٰهِ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:56 in the Quran reader

اور ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے ایسی چیزوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کو جانتے ہی نہیں۔ (کفرو !) خدا کی قسم کہ جو تم افترا کرتے ہو اس کی تم سے ضرور پرسش ہوگی۔

(56) اور ہم نے جو ان کو کھیتیاں اور جانور دیئے ہیں یہ ان میں ان بتوں کا حصہ لگاتے ہیں جن کے معبود ہونے کا ان کو کچھ علم نہیں اور پھر اس میں سے صرف مردوں کا کھانے کی اجازت دیتے ہیں، قسم ہے اللہ کی تم سے تمہاری ان جھوٹوں کی قیامت کے دن بالضرور باز پرس ہوگی۔
Ayah 16:57

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ الْبَنٰتِ سُبْحٰنَهٗ١ۙ وَ لَهُمْ مَّا یَشْتَهُوْنَ Open ayah 16:57 in the Quran reader

اور یہ لوگ خدا کیلئے تو بیٹیاں تجویز کرتے ہیں (اور) وہ ان سے پاک ہے اور پنے لئے (بیٹے) جو مرغوب (و دل پسند) ہیں۔

(57) اور یہ لوگ فرشتوں کو اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں بتاتے ہیں اللہ تعالیٰ کی ذات تو اولاد اور شریک سے پاک ہے اور یہ لوگ خود اپنے لیے بیٹے پسند کرتے ہیں۔
Ayahs 16:58–59

وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ Open ayah 16:58 in the Quran reader

حالانکہ جب ان میں سے کسی کو بیٹی (کے پیدا ہونے) کی خبر ملتی ہے تو اس کا منہ (غم کے سبب) کالا پڑجاتا ہے اور اس کے دل کو دیکھو تو وہ اندوزناک ہوجاتا ہے

یَتَوَارٰى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوْٓءِ مَا بُشِّرَ بِهٖ١ؕ اَیُمْسِكُهٗ عَلٰى هُوْنٍ اَمْ یَدُسُّهٗ فِی التُّرَابِ١ؕ اَلَا سَآءَ مَا یَحْكُمُوْنَ Open ayah 16:59 in the Quran reader

اور اس خبر بد سے (جو وہ سنتا ہے) لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے (اور سوچتا ہے) کہ آیا ذلت برداشت کر کے لڑکی کو زندہ رہنے دے یا زمین میں گاڑ دے۔ دیکھو یہ جو تجویز کرتے ہیں بہت بری ہے۔

(58۔ 59) اور جب ان میں سے کسی کی بیٹی کی پیدایش کی خبر دی جاتی ہے تو غم وناراضگی میں اس کے چہرے کا نور غائب اور وہ سیاہ چہرے اور دل ہی دل میں کڑہتا رہتا ہے اور لڑکی پیدا ہونے کی جو اس کو خبر دی گئی ہے، اس کے اظہار کو برا سمجھتے ہوئے لوگوں سے چھپائے پھرتا ہے اور سوچتا ہے آیا اس لڑکی کو ذلت وعار کی حالت میں لیے رہے یا اس کو مٹی میں زندہ درگور کر دے، اچھی طرح سن لو، ان کی یہ تجویز بہت ہی بری ہے، کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں اور اپنے لیے لڑکوں کو پسند کرتے ہیں۔
Ayah 16:60

لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ مَثَلُ السَّوْءِ١ۚ وَ لِلّٰهِ الْمَثَلُ الْاَعْلٰى١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 16:60 in the Quran reader

جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے انہی کے لئے بری باتیں (شایان) ہیں۔ اور خدا کو صفت اعلی (زیب دیتی ہے) اور وہ غالب حکمت والا ہے۔

(60) جو لوگ مرنے کے بعد زندگی پر یقین نہیں رکھتے ان کے لیے جہنم ہے اور اللہ تعالیٰ کے لیے تو بڑے اعلی درجہ کے صفات یعنی الوہیت، ربوبیت، وحدت ثابت ہیں اور جو اس پر ایمان نہ لائے وہ اس کو سزا دینے میں بڑے زبردست ہیں اور حکمت والے بھی ہیں کہ اس چیز کا حکم دیا ہے کہ اس کے علاوہ اور کسی کی بھی پرستش نہ کی جائے۔
Ayah 16:61

وَ لَوْ یُؤَاخِذُ اللّٰهُ النَّاسَ بِظُلْمِهِمْ مَّا تَرَكَ عَلَیْهَا مِنْ دَآبَّةٍ وَّ لٰكِنْ یُّؤَخِّرُهُمْ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 16:61 in the Quran reader

اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں۔

(61) اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے کفر پر پکڑ کریں تو سطح زمین پر جن وانس میں سے کسی کو نہ چھوڑیں، لیکن ان کو ان کی متعین زندگیوں تک مہلت دے رہے ہیں، پھر جب ان کی ہلاکت کا وقت معین آپہنچے گا، اس وقت ایک گھڑی نہ اس سے پیچھے ہٹ سکیں گے اور نہ آگے بڑھ سکیں گے کہ وقت سے پہلے ہلاک ہوجائیں۔
Ayah 16:62

وَ یَجْعَلُوْنَ لِلّٰهِ مَا یَكْرَهُوْنَ وَ تَصِفُ اَلْسِنَتُهُمُ الْكَذِبَ اَنَّ لَهُمُ الْحُسْنٰى١ؕ لَا جَرَمَ اَنَّ لَهُمُ النَّارَ وَ اَنَّهُمْ مُّفْرَطُوْنَ Open ayah 16:62 in the Quran reader

اور یہ خدا کے لئے ایسی چیزیں تجویز کرتے ہیں جن کو خود ناپسند کرتے ہیں اور زبان سے جھوٹ بکے جاتے ہیں کہ ان کو (قیامت کے دن) بھلائی (یعنی نجات) ہوگی۔ کچھ شک نہیں کہ ان کیلئے (دوزخ کی) آگ (تیار) ہے اور یہ (دوزخ میں) سب سے آگے بھیجے جائیں گے۔

(62) (العیاذ باللہ) اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں جن کو خود اپنے لیے ناپسند کرتے ہیں اور پھر اس پر اپنی زبان سے جھوٹے دعوے کرتے جاتے ہیں کہ ہمارے لیے لڑکے یا یہ کہ ہمارے لیے جنت ہے، ان لوگوں کے لیے جنت کہاں سے ہوتی، یقینی بات ہے کہ ان کے لیے جہنم ہے اور یہ سب سے پہلے اس میں ڈالے جائیں گے یا یہ کہ یہ دوزخ کی طرف منسوب کیے جائیں گے اور یا یہ کہ یہ قول وفعل میں حد سے تجاوز کررہے ہیں۔
Ayah 16:63

تَاللّٰهِ لَقَدْ اَرْسَلْنَاۤ اِلٰۤى اُمَمٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَزَیَّنَ لَهُمُ الشَّیْطٰنُ اَعْمَالَهُمْ فَهُوَ وَلِیُّهُمُ الْیَوْمَ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:63 in the Quran reader

خدا کی قسم ہم نے تم سے پہلے امتوں کی طرف پیغمبر بھیجے تو شیطان نے ان کے کردار (ناشائستہ) ان کو آراستہ کر دکھائے تو آج بھی وہی ان کا دوست ہے اور وہ ان کے لئے عذاب الیم ہے۔

(63) بخدا آپ سے پہلے بھی دیگر امتوں کو شیطان نے ان کے اعمال کفریہ مستحسن کرکے دکھلائے اور وہ انبیاء کرام پر ایمان نہ لائے، وہ دنیا میں بھی ان کا رفیق تھا اور دوزخ میں بھی ان کے ساتھ ہوگا اور ان کے لیے آخرت میں دردناک عذاب مقرر ہے۔
Ayah 16:64

وَ مَاۤ اَنْزَلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ اِلَّا لِتُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِی اخْتَلَفُوْا فِیْهِ١ۙ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةً لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:64 in the Quran reader

اور ہم نے جو تم پر کتاب نازل کی ہے تو اس کے لئے کہ جس امر میں ان لوگوں کو اختلاف ہے تو اس کا فیصلہ کردو اور (یہ) مومنوں کے لئے ہدایت اور رحمت ہے۔

(64) اور ہم نے آپ پر یہ قرآن حکیم صرف اس لیے نازل کیا ہے کہ جن امور دین میں لوگوں میں اختلاف ہیں آپ لوگوں پر اس کو ظاہر کردیں اور اس پر ایمان لانے والوں کی گمراہیوں سے ہدایت اور عذاب سے رحمت کی غرض سے نازل فرمایا ہے۔
Ayah 16:65

وَ اللّٰهُ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً فَاَحْیَا بِهِ الْاَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّسْمَعُوْنَ۠ Open ayah 16:65 in the Quran reader

اور خدا ہی نے آسمان سے پانی برسایا پھر اس سے زمین کو اس مرنے کے بعد زندہ کیا۔ بیشک اس میں سننے والوں کے لئے نشانی ہے۔

(65) اللہ تعالیٰ نے بارش برسا کر اس سے زمین کو خشک ہوجانے اور قحط سالی کے بعد زندہ کیا، اس امر میں ان لوگوں کے لیے جو اطاعت کرتے اور تصدیق کرتے ہیں، بڑی دلیل توحید ہے۔
Ayah 16:66

وَ اِنَّ لَكُمْ فِی الْاَنْعَامِ لَعِبْرَةً١ؕ نُسْقِیْكُمْ مِّمَّا فِیْ بُطُوْنِهٖ مِنْۢ بَیْنِ فَرْثٍ وَّ دَمٍ لَّبَنًا خَالِصًا سَآئِغًا لِّلشّٰرِبِیْنَ Open ayah 16:66 in the Quran reader

اور تمہارے لئے چارپایوں میں بھی (مقام) عبرت (وغور) ہے کہ ان کے پیٹوں میں جو گوبر اور لہو ہے اس سے ہم تم کو خالص دودھ پلاتے ہیں جو پینے والوں کے لئے خوشگوار ہے۔

(66) اور مویشی میں سے ہم تمہارے لیے صاف مزے دار دودھ نکال کر تمہارے پینے کو دیتے ہیں۔
Ayah 16:67

وَ مِنْ ثَمَرٰتِ النَّخِیْلِ وَ الْاَعْنَابِ تَتَّخِذُوْنَ مِنْهُ سَكَرًا وَّ رِزْقًا حَسَنًا١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّعْقِلُوْنَ Open ayah 16:67 in the Quran reader

اور کھجور اور انگور کے میووں سے بھی (تم پینے کی چیزین تیار کرتے ہو) کہ ان سے شراب بناتے ہو اور عمدہ رزق (کھاتے ہو) جو لوگ سمجھ رکھتے ہیں ان کیلئے ان (چیزوں) میں (قدرت خدا کی) نشانی ہے

(67) اور کھجور اور انگوروں کے پھلوں سے تم لوگ نشہ کی چیز (اب یہ منسوخ ہے) اور عمدہ پاکیزہ کھانے کی چیز بناتے ہو جیسا کہ سرکہ، خرمائے خشک، کشمش وغیرہ ان مذکورہ باتوں میں ان کے لیے توحید کی بڑی دلیل ہے جو کہ تصدیق کرتے ہیں۔
Ayah 16:68

وَ اَوْحٰى رَبُّكَ اِلَى النَّحْلِ اَنِ اتَّخِذِیْ مِنَ الْجِبَالِ بُیُوْتًا وَّ مِنَ الشَّجَرِ وَ مِمَّا یَعْرِشُوْنَۙ Open ayah 16:68 in the Quran reader

اور تمہارے پروردگار نے شہد کی مکھیوں کو ارشاد فرمایا کہ پہاڑوں میں اور درختوں میں اور اونچی اونچی چھتریوں میں جو لوگ بناتے پیں گھر بنا۔

(68) اور آپ کے رب نے شہد کی مکھی کے دل میں یہ بات ڈالی کہ تو پہاڑوں میں اپنا چھتا بنالے اور درختوں میں بھی اور عمارتوں میں بھی چھتا بنا لے۔
Ayah 16:69

ثُمَّ كُلِیْ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ فَاسْلُكِیْ سُبُلَ رَبِّكِ ذُلُلًا١ؕ یَخْرُجُ مِنْۢ بُطُوْنِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ اَلْوَانُهٗ فِیْهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیَةً لِّقَوْمٍ یَّتَفَكَّرُوْنَ Open ayah 16:69 in the Quran reader

اور ہر قسم کے میوے کھا۔ اور اپنے پروردگار کے صاف راستوں پر چلی جا اس کے پیٹ سے پینے کی چیز نکلتی ہے جس کے مختلف رنگ ہوتے ہیں۔ اس میں لوگوں (کے کئی امراض) کی شفا ہے بیشک سوچنے والوں کے لئے اس میں بھی نشانی ہے۔

(69) پھر ہر قسم کے مختلف پھلوں سے چوستی پھر اور چوس کر واپس آنے کے لیے اپنے پروردگار کے بتائے ہوئے راستوں پر چل لیے بااعتبار چلنے کے اور یاد رہنے کے آسان ہیں، پھر شہد کی مکھیوں کے پیٹ میں سے سفید، زرد، سرخ، رنگ کا شہد نکلتا ہے، اس میں انسانوں کی بہت سی بیماریوں کے لیے شفا ہے یا یہ کہ قرآن کریم کے لیے بیان شافی ہے، ان مذکورہ چیزوں میں ایسے لوگوں کے لیے جو کہ مخلوقات خداوندی میں غور کرتے ہیں، بڑی دلیل اور عبرت ہے۔
Ayah 16:70

وَ اللّٰهُ خَلَقَكُمْ ثُمَّ یَتَوَفّٰىكُمْ١ۙ۫ وَ مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْ لَا یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 16:70 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو پیدا کیا پھر وہی تم کو موت دیتا ہے اور تم میں بعض ایسے ہوتے ہیں کہ نہایت خراب عمر کو پہنچ جاتے ہیں اور (بہت کچھ) جاننے کے بعد ہر چیز سے بےعلم ہوجاتے ہیں۔ بیشک خدا (سب کچھ) جاننے والا (اور) قدرت والا ہے۔

(70) اللہ تعالیٰ نے تمہیں پہلے پیدا کی اور پھر تمہاری عمریں ختم ہونے پر تمہیں موت دیتا ہے اور بعض لوگ تم میں سے وہ ہیں جو ناکارہ عمر تک پہنچائے جاتے ہیں جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ آدمی ایک چیز سے باخبر ہو کر پھر بیخبر ہوجاتا ہے، اللہ تعالیٰ مخلوق کی حالتوں کی تبدیلی کو جاننے والا ہے اور ایک حالت سے دوسری حالت میں تبدیل کرنے پر قادر ہے۔
Ayah 16:71

وَ اللّٰهُ فَضَّلَ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍ فِی الرِّزْقِ١ۚ فَمَا الَّذِیْنَ فُضِّلُوْا بِرَآدِّیْ رِزْقِهِمْ عَلٰى مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ فَهُمْ فِیْهِ سَوَآءٌ١ؕ اَفَبِنِعْمَةِ اللّٰهِ یَجْحَدُوْنَ Open ayah 16:71 in the Quran reader

اور خدا نے رزق (ودولت) میں بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے۔ وہ اپنا رزق اپنے مملوکوں کو تو دے ڈالنے والے ہی نہیں کہ (سب) اس میں برابر ہوجائیں۔ تو کیا یہ لوگ نعمت الہٰی کے منکر ہیں ؟

(71) اہل نجران اس بات کے قائل تھے کہ حضرت عیسیٰ ؑ اللہ تعالیٰ کے بیٹے ہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے بعض لوگوں کو بعض لوگوں پر رزق مال و دولت کے باب میں فضیلت دی ہے تو مال و دولت والے اپنے غلاموں کو اس طرح کبھی مال نہیں دیں گے، آقا اور غلام سب اس مال میں برابر ہوجائیں، اس چیز پر یہ لوگ کبھی راضی نہیں ہوسکتے کہ انکی ملکیت میں دوسرا شریک ہوجائے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں تو کیا میرے لیے اس چیز کو پسند کرتے و، جس کو اپنے لیے گوارا نہیں کرتے اور اتنے انعامات کے بعد بھی وحدانیت خداوندی کا انکار کرتے ہو۔
Ayah 16:72

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَنْفُسِكُمْ اَزْوَاجًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ اَزْوَاجِكُمْ بَنِیْنَ وَ حَفَدَةً وَّ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ١ؕ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَ بِنِعْمَتِ اللّٰهِ هُمْ یَكْفُرُوْنَۙ Open ayah 16:72 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم میں سے تمہارے لئے عورتیں پیدا کیں اور عورتوں سے تمہارے بیٹے اور پوتے پیدا کئے اور کھانے کو تمہیں پاکیزہ چیزیں دیں تو کیا یہ بےاصل چیزوں پر اعتقاد رکھتے اور خدا کی نعمتوں سے انکار کرتے ہیں ؟

(72) اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری ہی جنس میں سے تمہارے لیے بیویاں بنائیں اور پھر تمہاری عورتوں میں سے بیٹے اور پوتے پیدا کیے اور غلام، باندی اور داماد وغیرہ بھی پیدا کیے اور تمہیں جانوروں سے بہتریں چیزیں کھانے کو دیں کیا پھر بھی تم شیطان اور بتوں پر ایمان رکھو گے اور ان کی تصدیق کرو گے اور وحدانیت کا انکار کرتے رہو گے۔
Ayah 16:73

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقًا مِّنَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ شَیْئًا وَّ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَۚ Open ayah 16:73 in the Quran reader

اور خدا کے سوا ایسوں کو پوجتے ہیں جو ان کو آسمانوں اور زمین میں روزی دینے کا ذرا بھی اختیار نہیں رکھتے اور نہ (کسی اور طرح کا) مقدور رکھتے ہیں۔

(73) یعنی اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان بتوں کی عبادت کرتے رہیں گے کہ جو نہ آسمان سے پانی برسانے کا اختیار رکھتے ہیں اور نہ زمین میں سے کسی پیداوار پر قادر ہیں اور نہ اختیار حاصل کرنے کی قدرت رکھتے ہیں۔
Ayah 16:74

فَلَا تَضْرِبُوْا لِلّٰهِ الْاَمْثَالَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:74 in the Quran reader

تو (لوگو) خدا کے بارے میں (غلط) مثالیں نہ بناؤ (صحیح مثالوں کا طریقہ) خدا ہی جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔

(74) تو اب تم اس بطلان کے بعد اللہ تعالیٰ کے لیے لڑکا شریک اور نائب مت ٹھہراؤ اور اللہ تعالیٰ خوب جانتے ہیں کہ ان کے نہ کوئی لڑکا ہے اور نہ شریک اور اے گروہ کفار تم نہیں جانتے۔
Ayah 16:75

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوْكًا لَّا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ مَنْ رَّزَقْنٰهُ مِنَّا رِزْقًا حَسَنًا فَهُوَ یُنْفِقُ مِنْهُ سِرًّا وَّ جَهْرًا١ؕ هَلْ یَسْتَوٗنَ١ؕ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:75 in the Quran reader

خدا یک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ ایک غلام ہے جو (بالکل) دوسرے کے اختیار میں ہے اور کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔ اور ایک ایسا شخص ہے جس کو ہم نے اپنے ہاں سے (بہت سا) مال طیب عطا فرمایا ہے۔ اور وہ اس میں سے (رات دن) پوشیدہ اور ظاہر خرچ کرتا رہتا ہے تو کیا یہ دونوں شخص برابر ہیں ؟ (ہرگز نہیں) الحمد للہ لیکن ان میں سے اکثر لوگ نہیں سمجھ رکھتے۔

(75) اس کے بعد اللہ تعالیٰ مومن و کافر بندے کی ایک مثال بیان کرتے ہیں کہ ایک تو غلام ہے کسی کا مملوک کہ اموال وتصرفات وغیرہ میں اس کو کوئی اختیار نہیں، یہ حالت تو کافر کی ہے کہ کبھی اس سے کسی قسم کی بھلائی اور نیکی کا صدور نہیں ہوسکتا اور دوسرا ایک شخص ہے جس کو ہم نے اپنے پاس سے خوب مال و دولت دے رکھا ہے تو وہ اس میں سے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں خفیہ اور علانیہ جس طرح چاہتا ہے، خرچ کرتا ہے یہ مومن مخلص کی شان ہے کیا اس قسم کے حضرات ثواب لوٹنے اور اطاعت خداوندی میں برابر ہوسکتے ہیں۔ تمام قسم کی تعریفیں اللہ تعالیٰ ہی کے لیے لائق ہیں اور وحدانیت اسی ذات کے لیے ثابت ہے بلکہ ان میں سے اکثر قرآن کی مثالیں جانتے ہی نہیں اور کہا گیا ہے کہ یہ آیت حضرت عثمان بن عفان ؓ اور ایک عرب آدمی ابو العیض بن امیہ کے متعلق نازل ہوئی ہے۔
Ayah 16:76

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا رَّجُلَیْنِ اَحَدُهُمَاۤ اَبْكَمُ لَا یَقْدِرُ عَلٰى شَیْءٍ وَّ هُوَ كَلٌّ عَلٰى مَوْلٰىهُ١ۙ اَیْنَمَا یُوَجِّهْهُّ لَا یَاْتِ بِخَیْرٍ١ؕ هَلْ یَسْتَوِیْ هُوَ١ۙ وَ مَنْ یَّاْمُرُ بِالْعَدْلِ١ۙ وَ هُوَ عَلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ۠ Open ayah 16:76 in the Quran reader

اور خدا یک اور مثال بیان فرماتا ہے کہ دو آدمی ہیں ایک ان میں سے گونگا (اور دوسرے کی ملک) ہے (بےاختیار و ناتواں) کہ کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا اور اپنے مالک کو دوبھر ہو رہا ہے وہ جہاں اسے بھیجتا ہے (خیر سے کبھی) بھلائی نہیں لاتا۔ کیا ایسا (گونگا بہرا) اور وہ شخص جو (سنتا بولتا اور) لوگوں کو انصاف کرنے کا حکم دیتا ہے اور خود سیدھے راستے پر چل رہا ہے دونوں برابر ہیں ؟

(76) اللہ تعالیٰ اس کی مزید صراحت کے لیے بتوں کی ایک اور مثال بیان کرتے ہیں کہ دو شخص ہیں، ایک تو ان میں سے گونگا پتھر ہے، بات نہیں کرسکتا ہے جو ان کا بت ہے وہ اپنے مالک اور رشتہ دار پر ایک وبال جان ہے اور اس کو مشرق ومغرب کے جس کونے میں سے بھی پکارا جائے، کسی پکارنے والے کا جواب نہیں دے سکتا، یہ ان کے بتوں کی مثال ہے، کیا یہ بت اور ایسی ذات یعنی اللہ تعالیٰ جو توحید کی تعلیم کرتا ہو اور صراط مستقیم کی طرف لوگوں کو بلاتا ہو نفع پہنچانے اور تکالیف کے دور کرنے میں دونوں برابر ہوسکتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) وضرب اللہ مثلا الرجلین“۔ (الخ) اس آیت مبارکہ کے بارے میں ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت ایک قریشی اور اس کے غلام کے متعلق نازل ہوئی ہے، اور اگلی آیت ”۔ رجلین احدھما“۔ (الخ) یہ حضرت عثمان ؓ اور ان کے غلام ان دونوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی دو شخص ہیں ایک تو ان میں سے گونگا ہے۔ الخ۔
Ayah 16:77

وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 16:77 in the Quran reader

اور آسمانوں اور زمین کا علم خدا ہی کو ہے اور (خدا کے نزدیک قیامت کا آنا یوں ہے جیسے آنکھ کا جھپکنا بلکہ (اس سے بھی) جلد تر۔ کچھ شک نہیں کہ خدا ہر چیز پر قادر ہے۔

(77) تمام پوشیدہ باتیں جو بندوں میں سے کسی کو بھی معلوم نہیں، اللہ ہی کے ساتھ خاص ہیں قیامت ہے، اس کا معاملہ ایسا جھٹ پٹ ہوگا جیسا کہ آنکھ جھپکنا بلکہ اس سے بھی زیادہ جلدی اللہ تعالیٰ مرنے کے بعد کی زندگی وغیرہ ہر چیز پر قادر ہیں۔
Ayah 16:78

وَ اللّٰهُ اَخْرَجَكُمْ مِّنْۢ بُطُوْنِ اُمَّهٰتِكُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ شَیْئًا١ۙ وَّ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ۙ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 16:78 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تم کو تمہاری ماؤں کے شکم سے پیدا کیا کہ تم کچھ نہیں جانتے تھے۔ اور اس نے تم کو کان اور انکھیں اور دل (اور انکے علاوہ اور) اعضا بخشے تاکہ تم شکر کرو۔

(78) اور کیا اللہ تعالیٰ نے تمہاری ماں کے پیٹ سے تمہیں اس حالت میں نہ نکالا کہ تمہیں اشیا میں سے کسی چیز کی بھی خبر نہ تھی اور اس نے تمہیں نیک بات سننے کے لیے کان اور نیک بات دیکھنے کے لیے آنکھیں اور امور خیر کے سمجھنے کے لیے دل عطا کیے تاکہ تم نعمت خداوندی کا شکر کرو اور اس پر ایمان لاؤ۔
Ayah 16:79

اَلَمْ یَرَوْا اِلَى الطَّیْرِ مُسَخَّرٰتٍ فِیْ جَوِّ السَّمَآءِ١ؕ مَا یُمْسِكُهُنَّ اِلَّا اللّٰهُ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 16:79 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی ہوا میں گھرے ہوئے (اڑتے رہتے) ہیں ؟ ان کو خدا ہی تھامے رکھتا ہے۔ ایمان والوں کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔

(79) اے مکہ والو ! کیا تم نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ اس سے قدرت خداوندی اور اس کی توحید کو سمجھتے کہ وہ پرندے آسمان و زمین کے درمیان مسخر ہو کر اڑ رہے ہیں انکو اس اڑنے میں اللہ تعالیٰ کے سوا اور کوئی نہیں تھامتا ، پرندوں کے فضا میں رکے رہنے میں ان لوگوں کے لیے جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ ہی تھام رہے ہیں، وحدانیت الہی کی چند نشانیاں ہیں اب مزید اپنے انعامات یاد دلاتے ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں اور اس پر ایمان لائیں۔
Ayah 16:80

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْۢ بُیُوْتِكُمْ سَكَنًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنْ جُلُوْدِ الْاَنْعَامِ بُیُوْتًا تَسْتَخِفُّوْنَهَا یَوْمَ ظَعْنِكُمْ وَ یَوْمَ اِقَامَتِكُمْ١ۙ وَ مِنْ اَصْوَافِهَا وَ اَوْبَارِهَا وَ اَشْعَارِهَاۤ اَثَاثًا وَّ مَتَاعًا اِلٰى حِیْنٍ Open ayah 16:80 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تمہارے لئے گھروں کو رہنے کی جگہ بنایا اور اسی نے چوپایوں کی کھالوں سے تمہارے لئے ڈیرے بنائے جن کو تم سبک دیکھ کر سفر اور حضر میں کام لاتے ہو۔ اور ان کی اون اور ریشم اور بالوں سے تم اسباب اور برتنے کی چیزیں (بناتے ہو جو) مدت تک (کام دیتی ہیں)

(80) اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے حالت حضر میں تمہارے گھروں میں رہنے کی جگہ بنائی اور حالت سفر میں جانوروں کی کھالوں اور ان کی اون اور بالوں کے تمہارے لیے خیمے اور شامیانے بنائے جن کے بوجھ کو تم اپنے سفر کے دن اور اپنے ٹھہرنے کے دن ہلکا پھلکا پاتے ہو (اور مثلا) بکریوں کی اون اونٹوں کے روؤں اور دنبوں کے بالوں سے تمہارے گھر کے سامان نفع کی چیزیں ایک مدت یعنی ختم ہونے اور پرانے ہونے تک کے لیے بنائیں۔