16. Surah An-Nahl

النحلThe Bee · 128 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 16:81

وَ اللّٰهُ جَعَلَ لَكُمْ مِّمَّا خَلَقَ ظِلٰلًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الْجِبَالِ اَكْنَانًا وَّ جَعَلَ لَكُمْ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمُ الْحَرَّ وَ سَرَابِیْلَ تَقِیْكُمْ بَاْسَكُمْ١ؕ كَذٰلِكَ یُتِمُّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تُسْلِمُوْنَ Open ayah 16:81 in the Quran reader

اور خدا ہی نے تمہارے (آرام کے) لئے اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں کے سائے بنائے اور پہاڑوں میں غاریں بنائیں اور کرتے بنائے جو تم کو گرمی سے بچائیں اور (ایسے) کرتے (بھی) جو تم کو (اسلحہ) جنگ (کے ضرر) سے محفوظ رکھیں۔ اسی طرح خدا پنا احسان تم پر پورا کرتا ہے تاکہ تم فرماں بردار بنو۔

(81) اور اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے درختوں، پہاڑوں اور دیواروں کے سائے بنائے، جن سے گرمی میں اپنی حفاظت کرتے ہو اور تمہارے لیے پہاڑوں میں پناہ کے مقامات اور غار بنائے اور تمہارے لیے ایسے کرتے بنائے جو گرمی سے گرمی میں اور سردی سے سردی میں تمہارے حفاظت کرتے ہیں۔ اور زرہیں بنائیں جو تمہارے دشمن کے ہتھیار لگنے سے حفاظت کرتی ہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ تم پر اپنی نعمتیں پوری کرتا ہے، اگر تم اس کا اقرار کرکے اس کے فرمانبردار ہوجاؤ یا یہ کہ ان زر ہوں کی وجہ سے زخم لگنے سے محفوظ رہو۔
Ayah 16:82

فَاِنْ تَوَلَّوْا فَاِنَّمَا عَلَیْكَ الْبَلٰغُ الْمُبِیْنُ Open ayah 16:82 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ اعراض کریں تو (اے پیغمبر) تمہارا کام فقط کھول کر سنا دینا ہے۔

(82) اور اگر یہ لوگ ایمان لانے اعراض کریں تو آپ کی ذمہ داری تو احکام خداوندی کا زبان عربی میں صاف طور پر پہنچا دینا ہے۔
Ayah 16:83

یَعْرِفُوْنَ نِعْمَتَ اللّٰهِ ثُمَّ یُنْكِرُوْنَهَا وَ اَكْثَرُهُمُ الْكٰفِرُوْنَ۠ Open ayah 16:83 in the Quran reader

یہ خدا کی نعمتوں سے واقف ہیں مگر (واقف ہو کر) ان سے انکار کرتے ہیں اور یہ اکثر ناشکرے ہیں۔

(83) چناچہ جب رسول اکرم ﷺ نے کفار کو یہ نعمتیں یاد دلائیں تو کہنے لگے بیشک محمد ﷺ یہ سب نعمتیں اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہیں، اس کے بعد پھر اس چیز کے منکر ہوگئے اور کہنے لگے ہمارے بتوں کی سفارش سے یہ نعمتیں ملی ہیں، اسی چیز کو اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں کہ خود اقرار کر رہے ہیں کہ یہ سب نعمتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں مگر پھر کہتے ہیں کہ ہمارے بتوں کی سفارش سے ایسا ہوا ہے ان اللہ تعالیٰ کے منکر اور کافر ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ یعرفون نعمت اللہ“۔ (الخ) ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے مجاہد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ ایک اعرابی رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اس نے آپ سے کچھ پوچھا، آپ نے اس کے سامنے یہ آیت تلاوت فرمائی۔ (آیت) ”واللہ جعل لکم من بیوتکم“۔ (الخ) وہ کہنے لگا ٹھیک ہے، پھر آپ نے اس کے سامنے اگلی آیت ”۔ وجعل لکم من جلود الانعام بیوتا“۔ تا۔ ویوم اقامتکم“۔ (الخ) تلاوت فرمائی، وہ پھر کہنے لگا ٹھیک ہے، پھر آپ نے اس کے سامنے اور آیتیں پڑھیں ہر ایک آیت پر وہ کہتا تھا ٹھیک ہے، یہاں تک کہ آپ اس آیت پر پہنچے۔ (آیت) ”کذالک یتم نعمۃ علیکم لعلکم تسلمون“۔ یہ سن کر وہ اعرابی رخ پھیر کرچلایا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت مبارکہ نازل فرمائی یعنی اللہ تعالیٰ کی نعمت کو پہچانتے ہیں، پھر اس کے منکر ہوتے ہیں اور زیادہ ان میں ناشکرگزار ہیں۔
Ayah 16:84

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ Open ayah 16:84 in the Quran reader

اور جس دن ہم ہر امت میں سے گواہ (یعنی پیغمبر) کھڑا کریں گے تو نہ تو کفار کو (بولنے کی) اجازت ملے گی اور نہ ان کے عذر قبول کئے جائیں گے۔

(84) اور جس دن ہم ہر ایک قوم میں سے ان کے پیغمبر کو ان پر تبلیغ احکام کے لیے گواہ قائم کریں گے پھر ان کفار کو کلام کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ یہ توبہ کے لیے دنیا میں واپس بھیجے جائیں گے۔
Ayah 16:85

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوا الْعَذَابَ فَلَا یُخَفَّفُ عَنْهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 16:85 in the Quran reader

اور جب ظالم لوگ عذاب دیکھ لیں گے تو پھر نہ تو ان کے عذاب ہی میں تحفیف کی جائیگی اور نہ ان کو مہلت ہی دی جائے گی

(85) اور نہ ان کفار سے عذاب کم کیا جائے گا اور نہ عذاب کم جائے گا اور نہ عذاب خداوندی میں ان کو کچھ مہلت دی جائے گی۔
Ayah 16:86

وَ اِذَا رَاَ الَّذِیْنَ اَشْرَكُوْا شُرَكَآءَهُمْ قَالُوْا رَبَّنَا هٰۤؤُلَآءِ شُرَكَآؤُنَا الَّذِیْنَ كُنَّا نَدْعُوْا مِنْ دُوْنِكَ١ۚ فَاَلْقَوْا اِلَیْهِمُ الْقَوْلَ اِنَّكُمْ لَكٰذِبُوْنَۚ Open ayah 16:86 in the Quran reader

اور جب مشرک اپنے (بنائے ہوئے) شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ پروردگار ! یہ وہی ہمارے شریک ہیں جن کو ہم تیرے سوا پکارا کرتے تھے۔ تو وہ (ان کے کلام کو مسترد کردیں گے اور) ان سے کہیں گے کہ تم تو جھوٹے ہو۔

(86) اور جب یہ مشرک اپنے معبودوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے اے ہمارے پروردگار ہمارے معبود یہی ہیں کہ آپ کو چھوڑ کر ہم ان کی پوجا کیا کرتے تھے اور انہوں نے ہمیں اپنی پوجا کرنے کا حکم دیا تھا وہ بت فورا ان کو جواب دیں گے کہ تم جھوٹے ہو، ہم نے تمہیں اس چیز کا حکم نہیں دیا اور ہمیں تمہاری پوجا کی بھی خبر نہیں۔
Ayah 16:87

وَ اَلْقَوْا اِلَى اللّٰهِ یَوْمَئِذِ اِ۟لسَّلَمَ وَ ضَلَّ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَفْتَرُوْنَ Open ayah 16:87 in the Quran reader

اور اس دن خدا کے سامنے سرنگوں ہوجائیں گے اور جو طوفان وہ باندھا کرتے تھے سب ان سے جاتا رہے گا۔

(87) اور یہ مشرک لوگ اور ان کے معبود اس روز اللہ تعالیٰ کے سامنے اطاعت کی باتیں کرنے لگیں گے اور جو کچھ جھوٹ بولا کرتے تھے وہ سب باطل ہوجائیں گے یا یہ کہ اپنے جھوٹے معبودوں سے الجھنے لگیں گے۔
Ayah 16:88

اَلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ زِدْنٰهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یُفْسِدُوْنَ Open ayah 16:88 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور (لوگوں کو) خدا کے راستے سے روکا ہم ان کو عذاب پر عذاب دیں گے اس لئے کہ شرارت کیا کرتے تھے۔

(88) جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کا انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو بھی دین الہی اور اطاعت خداوندی سے منع کرتے ہیں تو ہم دوزخ کے عذاب میں سانپوں، بچھوؤں، بھوک اور پیاس اور زمہریر وغیرہ کی اور ان پر زیادتی کردیں گے، بمقابلہ ان کی نافرمانیوں اور ان کے اقوال وافعال شرکیہ کے۔
Ayah 16:89

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ فِیْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا عَلَیْهِمْ مِّنْ اَنْفُسِهِمْ وَجِئْنَا بِكَ شَهِیْدًا عَلٰى هٰۤؤُلَآءِ١ؕ وَ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ الْكِتٰبَ تِبْیَانًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ۠ Open ayah 16:89 in the Quran reader

اور (اس دن کو یاد کرو) جس دن ہم ہر امت میں سے خود ان پر گواہ کھڑے کریں گے اور (اے پیغمبر ﷺ تم کو ان لوگوں پر گواہ لائیں گے۔ اور ہم نے تم پر (ایسی) کتاب نازل کی ہے کہ (اس میں) ہر چیز کا بیان (مفصل) ہے اور مسلمانوں کے لئے ہدایت اور رحمت اور بشارت ہے۔

(89) اور جس دن ہم ہر ہر امت میں ایک ایک گواہ جو ان ہی میں سے ہوگا یعنی ان کے نبی کو قائم کریں گے اور محمد ﷺ آپ کی امت کے لیے آپ کو گواہ بنا کر لائیں گے یا یہ کہ ان سب کے مقابلہ میں ان کی صفائی کے لیے آپ کو گواہ بنا کر لائیں گے اور میں نے بذریعہ جبریل امین ؑ آپ پر قرآن پاک اتارا جو حلال و حرام اوامرو نواہی میں سے ہر ایک بات کو بیان کرنے والا ہے اور مسلمانوں کے لیے گمراہی سے بڑی ہدایت اور عذاب سے بڑی رحمت اور جنت کی خوشخبری سنانے والے ہیں۔
Ayah 16:90

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُ بِالْعَدْلِ وَ الْاِحْسَانِ وَ اِیْتَآئِ ذِی الْقُرْبٰى وَ یَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ وَ الْبَغْیِ١ۚ یَعِظُكُمْ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 16:90 in the Quran reader

خدا تم کو انصاف اور احسان کرنے اور رشتہ داروں کو (خرچ سے مدد) دینے کا حکم دیتا ہے اور بےحیائی اور نامعقول کاموں اور سرکشی سے منع کرتا ہے (اور) تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔

(90) یقیناً اللہ تعالیٰ توحید اور فرائض کی ادائیگی یا یہ کہ لوگوں کے ساتھ احسان اور صلہ رحمی کا حکم فرماتے ہیں اور تمام گناہ اور ایسی باتوں سے جن کی شریعت اور سنت میں کوئی بنیاد نہیں اور ظلم و زیادتی کرنے سے منع فرماتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ تمہیں ان باتوں سے اس لیے روکتے ہیں تاکہ تم قرآن کے احکام سے نصیحت حاصل کرو۔
Ayah 16:91

وَ اَوْفُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ اِذَا عٰهَدْتُّمْ وَ لَا تَنْقُضُوا الْاَیْمَانَ بَعْدَ تَوْكِیْدِهَا وَ قَدْ جَعَلْتُمُ اللّٰهَ عَلَیْكُمْ كَفِیْلًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ Open ayah 16:91 in the Quran reader

اور جب خدا سے عہد واثق کرو تو اس کو پورا کرو۔ اور جب پکی قسمیں کھاؤ تو ان کو مت توڑو کہ تم خدا کو اپنا ضامن مقرر کرچکے ہو۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو جانتا ہے۔

(91) اور تم اللہ تعالیٰ کے وعدے کو پورا کرو، جب کہ تم اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر اس کے پورا کرنے کو اپنے ذمہ لے لو، یہ آیت مبارکہ مراد اور کندہ کے بارے میں نازل ہوئی اور اپنے درمیان ان وعدوں کو پختہ کرنے کے بعد مت توڑو اور تم اللہ تعالیٰ کو گواہ بھی بنا چکے ہو، مطلب یہ کہ یہ کہا کرو کہ ہماری دونوں جماعتوں میں جو عہد و پیمان ہوا ہے اس پر اللہ تعالیٰ گواہ ہے اور خواہ وفا عہد ہو یا نقص عہد، اللہ تعالیٰ کو سب معلوم ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ وافوا بعہد اللہ (الخ) ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بریدہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مبارکہ رسول اکرم ﷺ نے جو بیعت فرمائی ہے اس کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 16:92

وَ لَا تَكُوْنُوْا كَالَّتِیْ نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْۢ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًا١ؕ تَتَّخِذُوْنَ اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ اَنْ تَكُوْنَ اُمَّةٌ هِیَ اَرْبٰى مِنْ اُمَّةٍ١ؕ اِنَّمَا یَبْلُوْكُمُ اللّٰهُ بِهٖ١ؕ وَ لَیُبَیِّنَنَّ لَكُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ مَا كُنْتُمْ فِیْهِ تَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 16:92 in the Quran reader

اور اس عورت کی طرح نہ ہونا جس نے محنت سے تو سوت کاتا پھر اس کو توڑ توڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ کہ تم اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ بنانے لگو کہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے زیادہ غالب رہے۔ بات یہ ہے کہ خدا تمہیں اس سے آزماتا ہے۔ اور جن باتوں میں تم اختلاف کرتے ہو قیامت کو اس کی حقیقت تم پر ظاہر کر دے گا۔

(92) اور تم عہد شکنی کرکے رائطہ نامی دیوانی عورت کی طرح مت بنو کہ جس نے اپنا سوت کاتنے کے بعد پھر ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا کہ تم بھی اپنے وعدوں کو مکرو فریب اور فساد کا ذریعہ بنانے لگو، محض اس وجہ سے کہ ایک جماعت دوسری جماعت سے زیادہ ہوجائے پس اس زیادہ ہونے سے یا اس نقص عہد سے اللہ تعالیٰ تمہاری آزمائش کرتا ہے اور دین میں جو کچھ اختلاف کرتے ہو، اس کی حقیقت قیامت کے دن تمہارے اوپر ظاہر کر دے گا۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ولا تکونوا کالتی نقضت (الخ) ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ابوبکر بن ابی حفص سے روایت کیا ہے کہ سعیدیہ اسدیہ دیوانی ایک عورت تھی، جو بالوں کو اور سوت کو جمع کرتی اور کات کر پھر توڑ دیتی تھی، اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ تم مکہ کی اس دیوانی عورت کی طرح مت بنو۔
Ayah 16:93

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّضِلُّ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ لَتُسْئَلُنَّ عَمَّا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:93 in the Quran reader

اور اگر خدا چاہتا تو تم سب کو ایک ہی جماعت بنا دیتا لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے۔ اور جو عمل تم کرتے ہو (اس دن) ان کے بارے میں تم سے ضرور پوچھا جائیگا۔

(93) اور اگر اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتا تو تم سب کو ایک ہی ملت اسلامی کا پیروکار بنادیتے لیکن جو دین الہی کا اہل نہیں ہوتا۔ اس کو اس سے گمراہ کرتے ہیں اور جس میں دین خداوندی کی صلاحیت ہوتی ہے، اسے راہ پر چلاتے ہیں اور تم حالت کفر میں کیا برائیاں کر رے ہو اور حالت ایمان میں کیا کیا نیکیاں کرتے ہو یا یہ کہ وفائے عہد اور نقص عہد سب اعمال کی قیامت کے دن پوچھ گچھ ہوگی۔
Ayah 16:94

وَ لَا تَتَّخِذُوْۤا اَیْمَانَكُمْ دَخَلًۢا بَیْنَكُمْ فَتَزِلَّ قَدَمٌۢ بَعْدَ ثُبُوْتِهَا وَ تَذُوْقُوا السُّوْٓءَ بِمَا صَدَدْتُّمْ عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ وَ لَكُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:94 in the Quran reader

اور اپنی قسموں کو آپس میں اس بات کا ذریعہ نہ بناؤ کہ (لوگوں کے) قدم جم چکنے کے بعد لڑکھڑا جائیں اور اس وجہ سے کہ تم نے لوگوں کو خدا کے راستے سے روکا تم کو عقوبت کا مزا چکھنا پڑے اور بڑا سخت عذاب ملے۔

(94) اور تم لوگ اپنے عہدوں کو فساد اور مکرو فریب اور آپس میں دھوکہ دہی کا ذریعہ نہ بناؤ کہیں دوسرے اطاعت خداوندی سے نہ پھسل جائیں جیسا کہ چلتے ہوئے آدمی کا قدم جمنے کے بعد پھسل جاتا ہے اور پھر تمہیں اس وجہ سے کہ تم نے دوسروں کو دین الہی اور اطاعت خداوندی سے روکا جہنم کی تکلیف بھگتنا پڑے اور تمہیں کو آخرت میں سخت عذاب ہوگا۔
Ayah 16:95

وَ لَا تَشْتَرُوْا بِعَهْدِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اِنَّمَا عِنْدَ اللّٰهِ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:95 in the Quran reader

اور خدا سے جو تم نے عہد کیا ہے (اس کو مت بیچو اور) اسکے بدلے تھوڑی سی قیمت نہ لو (کیونکہ ایفائے عہد کا) جو (صلہ) خدا کے ہاں مقرر ہے وہ اگر سمجھو تو تمہارے لئے بہتر ہے۔

(95) اور تم لوگ جھوٹی قسمیں کھا کر دنیا کا معمولی سا فائدہ مت حاصل کرو، تمہارے پاس جو متاع دنیوی ہے، اس سے ثواب آخرت کئی درجے بہتر ہے، جب کہ تم ثواب خداوندی کو سمجھنا چاہو۔
Ayah 16:96

مَا عِنْدَكُمْ یَنْفَدُ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ بَاقٍ١ؕ وَ لَنَجْزِیَنَّ الَّذِیْنَ صَبَرُوْۤا اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:96 in the Quran reader

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجاتا ہے جو خدا کے پاس ہے وہ باقی ہے (کہ کبھی ختم نہیں ہوگا) اور جن لوگوں نے صبر کیا ہم ان کو ان کے اعمال کا بہت اچھا بدلہ دیں گے۔

(96) یا یہ کہ جب تم اس کی تصدیق کرنا چاہو اور جو مال و دولت تمہارے پاس ہے وہ ختم ہوجائے گا اور ثواب خداوندی باقی رہے گا اور جو لوگ وفائے عہد وغیرہ پر ثابت قدم ہیں۔ ہم ان کے دنیا کے اچھے کاموں کے بدے میں آخرت میں ان کو اس کو ثواب دیں گے۔
Ayah 16:97

مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَكَرٍ اَوْ اُنْثٰى وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّهٗ حَیٰوةً طَیِّبَةً١ۚ وَ لَنَجْزِیَنَّهُمْ اَجْرَهُمْ بِاَحْسَنِ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 16:97 in the Quran reader

جو شخص نیک عمل کرے گا مرد ہو یا عورت اور وہ مومن بھی ہوگا تو ہم اس کو (دنیا میں) پاک (اور آرام کی) زندگی سے زندہ رکھیں گے اور (آخرت میں) ان کے اعمال کا نہایت اچھا صلہ دیں گے۔

(97) اور جو شخص بھی خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی اچھا کام کرے گا اور اللہ تعالیٰ پر یقین قائم رکھے گا، بشرطیکہ مومن مخلص ہو تو ہم اس کو لطف والی زندگی دیں گے یعنی طاعت میں یا قناعت میں یا یہ کہ جنت میں اور ان کے دنیاوی اچھے کاموں کے بدلہ ان کو آخرت میں ثواب دیں گے، یہ آیت مبارکہ عبدان بالاشوع اور امرء القیس کندگی کے متعلق نازل ہوئی ہے، ان دونوں میں ایک زمین کا جھگڑا تھا۔
Ayah 16:98

فَاِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ Open ayah 16:98 in the Quran reader

اور جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان مردود سے پناہ مانگ لیا کرو

(98) اور اے محمد ﷺ جب آپ قرآن کریم پڑھنا چاہیں خواہ نماز کی پہلی رکعت میں یا نماز کے علاوہ تو شیطان لعین سے جو کہ رحمت خداوندی سے مردود ہے پناہ مانگ لیا کریں۔
Ayah 16:99

اِنَّهٗ لَیْسَ لَهٗ سُلْطٰنٌ عَلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَ Open ayah 16:99 in the Quran reader

کہ جو مومن ہیں اور اپنے پروردگار پر بھروسا رکھتے ہیں ان پر اس کا کچھ زور نہیں چلتا۔

(99) اس کا قابو ان لوگوں پر نہیں چلتا جو کہ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان رکھتے اور اپنے تمام کاموں میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھتے ہیں، اس کے علاوہ اور کسی پر بھروسہ نہیں رکھتے۔
Ayah 16:100

اِنَّمَا سُلْطٰنُهٗ عَلَى الَّذِیْنَ یَتَوَلَّوْنَهٗ وَ الَّذِیْنَ هُمْ بِهٖ مُشْرِكُوْنَ۠ Open ayah 16:100 in the Quran reader

اس کا زور انہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو رفیق بناتے ہیں اور اس کے (وسو سے کے) سبب (خدا کے ساتھ) شریک مقرر کرتے ہیں۔

(100) اس کا بس تو صرف ان لوگوں پر چلتا ہے جو کہ اس کی اطاعت کرتے ہیں اور ان لوگوں پر جو کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔
Ayah 16:101

وَ اِذَا بَدَّلْنَاۤ اٰیَةً مَّكَانَ اٰیَةٍ١ۙ وَّ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا یُنَزِّلُ قَالُوْۤا اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُفْتَرٍ١ؕ بَلْ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ Open ayah 16:101 in the Quran reader

اور جب ہم کوئی آیت کی جگہ بدل دیتے ہیں اور خدا جو کچھ نازل فرماتا ہے اسے خوب جانتا ہے تو (کافر) کہتے ہیں کہ تم تو (یونہی) اپنی طرف سے بنا لاتے ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ان میں اکثر نادان ہیں۔

(101) اور جب ہم ایک منسوخ کرے اس کے بدلہ بذریعہ جبریل دوسرا حکم ناسخ بھیجتے ہیں، حالانکہ بندوں کو کس چیز کا حکم دینا چاہیے اس کی مصلحت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتے ہیں تو یہ کفار مکہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ آپ اپنی جانب سے ایسا کہہ رہے ہیں۔ بلکہ ان ہی میں سے اکثر لوگ اس بات سے بیخبر ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ان ہی کاموں کا حکم دیتے ہیں جن میں ان کے لیے مصلحت اور بھلائی ہوتی ہے۔
Ayah 16:102

قُلْ نَزَّلَهٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّكَ بِالْحَقِّ لِیُثَبِّتَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ هُدًى وَّ بُشْرٰى لِلْمُسْلِمِیْنَ Open ayah 16:102 in the Quran reader

کہہ دو کہ اس کو روح القدس تمہارے پروردگار کی طرف سے سچائی کے ساتھ لیکر نازل ہوئے ہیں تاکہ یہ (قرآن) مومنوں کو ثابت قدم رکھے اور حکم ماننے والوں کے لئے تو (یہ) ہدایت اور بشارت ہے۔

(102) اے محمد ﷺ آپ سے کہہ دیجیے کہ اس قرآن کریم کو حضرت جبریل امین ؑ اپ کے رب کے طرف سے ناسخ ومنسوخ کی طرح لاتے رہتے ہیں۔ تنزل کے صیغہ کو تشدید کے ساتھ ذکر کیا ہے کیوں کہ تھوڑا تھوڑا حکمت کے مطابق قرآن حکیم نازل ہوا ہے تاکہ ایمان والوں کے دلوں کو ایمان پر ثابت قدم اور خوش رکھے اور مسلمانوں کے لیے گمراہی سے ہدایت اور جنت کی خوشخبری کا ذریعہ ہوجائے۔
Ayah 16:103

وَ لَقَدْ نَعْلَمُ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ اِنَّمَا یُعَلِّمُهٗ بَشَرٌ١ؕ لِسَانُ الَّذِیْ یُلْحِدُوْنَ اِلَیْهِ اَعْجَمِیٌّ وَّ هٰذَا لِسَانٌ عَرَبِیٌّ مُّبِیْنٌ Open ayah 16:103 in the Quran reader

اور ہمیں معلوم ہے کہ یہ کہتے ہیں کہ اس (پیغمبر) کو ایک شخص سکھا جاتا ہے۔ مگر جس کیطرف (تعلیم کی) نسبت کرتے ہیں اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔

(103) اور اے محمد ﷺ یہ کفار مکہ دوسری بات یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کو یہ قرآن کریم تو جبیر و یساریہ دو آدمی آکر سکھا جاتے ہیں جس شخص کی طرف اس کو منسوب کرتے ہیں، اس کی زبان تو (عجمی) عبرانی ہے اور یہ قرآن کریم تو صاف عربی زبان میں ہے۔ جس کو یہ جانتے ہیں۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ولقد نعلم انہم یقولون“۔ (الخ) ابن جریر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سند ضعیف کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ مکہ مکرمہ میں بلعام نامی ایک لوہار تھا اور رسول اکرم ﷺ اس کو جانتے تھے اور آپ اس لوہار کے پاس آتے جاتے رہتے تھے اور مشرکین آپ کی آمد و رفت کو دیکھتے تھے، اور اس لوہار کی زبان عجمی تھی تو یہ دیکھ کر مشرکین کہنے لگے کہ یہ قرآن کریم آپ نے بلعام سے سیکھا ہے، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی یعنی اور ہم کو جانتے ہیں کہ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کو تو آدمی سکھا جاتا ہے جس شخص کی طرف اس کو منسوب کرتے ہیں، اس کی زبان تو عجمی ہے اور یہ قرآن کریم صاف عربی ہے، نیز ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حصین کے طریق سے عبداللہ بن مسلم حضرمی سے روایت کیا ہے کہ ہمارے دو غلام تھے، ایک کا نام ”یسار“ اور دوسرے کا ”جبیر“ تھا، دونوں لوہار تھے، دونوں اپنی کتاب پڑھتے اور اپنا علم سکھایا کرتے تھے، رسول اکرم ﷺ ادھر سے گزرتے اور ان کی قرأت کو سنتے تھے تو اس پر مشرکین کہنے لگے کہ حضور ﷺ نے ان سے یہ قرآن سیکھا ہے اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Ayah 16:104

اِنَّ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۙ لَا یَهْدِیْهِمُ اللّٰهُ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:104 in the Quran reader

یہ لوگ خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے ان کو خدا ہدایت نہیں دیتا اور ان کے لئے عذاب الیم ہے۔

(104) جو لوگ رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے، اللہ تعالیٰ ان کو کبھی اپنے دین کی ہدایت نہیں کریں گے جو کہ اس کے دین کو اہل نہیں ہوگا یا یہ کہ ان کو حجت کی طرف رہنمائی نہیں فرمائے گا اور نہ ان کو دوزخ سے نجات دے گا، اور ان کے لیے دردناک سزا ہوگی۔
Ayah 16:105

اِنَّمَا یَفْتَرِی الْكَذِبَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰذِبُوْنَ Open ayah 16:105 in the Quran reader

جھوٹ افترا تو وہی لوگ کیا کرتے ہیں جو خدا کی آیتوں پر ایمان نہیں لاتے۔ اور وہی جھوٹے ہیں۔

(105) سو جھوٹ اور بہتان لگانے والے تو یہی لوگ ہیں جو رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان نہیں لاتے اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھنے والے ہیں۔
Ayah 16:106

مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ اِیْمَانِهٖۤ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَ قَلْبُهٗ مُطْمَئِنٌّۢ بِالْاِیْمَانِ وَ لٰكِنْ مَّنْ شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَیْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّٰهِ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 16:106 in the Quran reader

جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کیساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو (دل سے اور) دل کھول کر کفر کرے تو ایسوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا۔

(106) جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کرے تو اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہے مگر جس پر کلمہ کہنے پر زبردستی کی جائے بشرطیکہ اس کا دل مضبوطی کے ساتھ ایمان پر قائم ہو یہ آیت حضرت عمار بن عاسر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ لیکن ہاں جو دانستہ کلمہ کفر کہے تو ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہوگا اور ان کو دنیاوی سزا سے زیادہ سخت سز اہو گی۔ شان نزول : (آیت) ”۔ الا من اکرہ“۔ (الخ) ابن ابی حاتم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہنے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم ﷺ نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارشاد فرمایا تو مشرکین نے حضرت بلال ؓ ، حضرت خباب ؓ اور حضرت عمار بن یاسر ؓ کو پکڑ لیا، چناچہ حضرت عمار نے کفار کے مجبور کرنے پر ظاہری طور پر کفار کی مرضی کی بات کہہ دیا تو کفار نے ان کو چھوڑ دیا، جب وہ رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ ﷺ سے واقعہ بیان کیا آپ نے فرمایا جب تم نے یہ بات کہی تھی تو تمہارے دل کی کیا کیفیت تھی کیا تمہارا دل تمہاری اس بات پر مطمئن تھا، حضرت عمار ؓ نے عرض کیا ہرگز نہیں، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی مگر جس شخص پر زبردستی کی جائے بشرطیکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن و۔ نیز مجاہد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت مکہ کے چند لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے اسلام قبول کرلیا تھا چناچہ چند صحابہ کرام ؓ نے مدینہ منورہ سے ان کو لکھا کہ ہجرت کرکے چلے آؤ، چناچہ وہ مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے ارادہ سے روانہ ہوئے راستے میں ان کو قریش نے پکڑ لیا، غرض کہ مجبورا زبردستی انہوں نے اپنی زبانوں سے اس قسم کے کلمات کہہ دیے ان میں ان ہی حضرات کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ اور ابن سعد نے طبقات میں عمر بن حکم ؓ سے روایت کیا ہے حضرت عمار بن یاسر ؓ کو کفار کی طرف سے اس قدر تکلیف دی جاتی تھی کہ ان کو یہ احساس تک نہیں رہتا تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں اور حضرت صہیب ؓ کو بھی اسی طرح تکلیف دی جاتی تھی اور ان کی بھی یہی حالت ہوجاتی تھی اور حضرت ابو فکیھۃ کو بھی اسی شدت کے ساتھ تکلیف دی جاتی تھی اور اس کی بھی یہی حالت ہوجاتی تھی۔
Ayah 16:107

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اسْتَحَبُّوا الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا عَلَى الْاٰخِرَةِ١ۙ وَ اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 16:107 in the Quran reader

یہ اس لئے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے میں عزیز رکھا۔ اور اس لئے کہ خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔

(107) اور یہ عذاب اس وجہ سے ہوگا کہ انہوں نے دنیوی زندگی کو آخرت کے مقابلہ میں عزیز رکھا اور کفر کو ایمان پر ترجیح دی، اور اللہ تعالیٰ جو اس کے دین کا اہل نہ ہو اسے اپنے دین کی طرف ہدایت دیتا ہے اور نہ اس کو اپنے عذاب سے نجات دیتا ہے۔
Ayah 16:108

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ وَ سَمْعِهِمْ وَ اَبْصَارِهِمْ١ۚ وَ اُولٰٓئِكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ Open ayah 16:108 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔

(108) اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور یہ لوگ آخرت کے کام سے بالکل غافل ہیں اور اس کو انھوں نے پس پشت ڈال رکھا ہے اور توحید سے غافل اور اس کے منکر ہیں۔
Ayah 16:109

لَا جَرَمَ اَنَّهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ Open ayah 16:109 in the Quran reader

کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والے ہوں گے۔

(109) اے محمد ﷺ یہ یقینی بات ہے کہ آخرت میں یہ لوگ بالکل نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوں گے یہ آیت مبارکہ مذاق اڑانے کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
Ayah 16:110

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا مِنْۢ بَعْدِ مَا فُتِنُوْا ثُمَّ جٰهَدُوْا وَ صَبَرُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:110 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے ایذائیں اٹھانے کے بعد ترک وطن کیا پھر جہاد کئے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بیشک ان (آزمائشوں) کے بعد بخشنے والا (اور ان پر) رحمت والا ہے۔

(110) اے محمد ﷺ بیشک آپ کا رب ایسے لوگوں کے لیے جیسا کہ حضرت عمار بن یاسر اور اس کے ساتھی جنہوں نے اہل مکہ کی تکالیف اٹھا کر پھر مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ ہجرت کی پھر دشمنوں سے جہاد فی سبیل اللہ کیا اور رسول اکرم ﷺ کے ساتھ تکالیف پر ثابت قدم رہے تو آپ کا رب ہجرت کے بعد بعد ایسے لوگوں کی بڑی بخشش کرنے والا اور ان پر بڑی رحمت فرمانے والا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”۔ ان ربک للذین ھاجروا“۔ (الخ) حضرت بلال ؓ حضرت عامر بن فہیرہ ؓ اور مسلمانوں کی ایک جماعت کو تکالیف دی جاتی تھیں انھی حضرات کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی، یعنی آپ کے رب ایسے لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر میں مبتلا ہونے کے بعد ایمان لا کر ہجرت کی پھر جہاد کیا۔
Ayah 16:111

یَوْمَ تَاْتِیْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَ تُوَفّٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ Open ayah 16:111 in the Quran reader

جس دن ہر متنفس اپنی طرف سے جھگڑا کرنے آئے گا اور ہر شخص کو اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا اور کسی کا نقصان نہیں کیا جائے گا۔

(111) یعنی قیامت کے دن ہر ایک نیک وبد اپنی ہی طرفداری میں اور اپنے شیطان یا اپنی روح کے ساتھ گفتگو کرے گا اور ہر ایک نیک وبد کو اس کے اعمال کا خواہ نیک ہوں یا بدپورا بدلہ ملے گا، یعنی نیکی کے بدلہ میں کمی نہ ہوگی اور بدی کے بدلہ میں زیادتی نہ ہوگی۔
Ayah 16:112

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا قَرْیَةً كَانَتْ اٰمِنَةً مُّطْمَئِنَّةً یَّاْتِیْهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّنْ كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَ الْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 16:112 in the Quran reader

اور خدا ایک بستی کی مثال بیان فرماتا ہے کہ (ہر طرح) امن چین سے بستی تھی ہر طرف سے رزق بافراغت چلا آتا تھا مگر ان لوگوں نے خدا کی نعمتوں کی ناشکری کی تو خدا نے ان کے اعمال کے سبب ان کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا کر (ناشکری کا) مزہ چکھا دیا۔

(112) اللہ تعالیٰ مکہ والوں یعنی ابوجہل اور اس کے ساتھیوں کی ایک کیفیت بیان فرماتا ہے کہ وہ دشمن قتل، بھوک اور قید وغیرہ تمام چیزوں سے بڑے امن اور اطمینان کے ساتھ رہتے تھے اور ان کے کھانے لیے پھل ان کے پاس ہر طرف سے بڑی فراغت اور وسعت کے ساتھ پہنچا کرتے تھے، چناچہ وہاں کے رہنے والوں نے رسول اکرم ﷺ اور قرآن کریم کے ساتھ کفر کیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو سات سالہ قحط اور رسول اکرم ﷺ اور صحابہ کرام سے لڑائی کا مزہ چکھایا ان کی نا غلط حرکات کی وجہ سے جو کہ وہ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ کیا کرتے تھے۔
Ayah 16:113

وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُوْلٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوْهُ فَاَخَذَهُمُ الْعَذَابُ وَ هُمْ ظٰلِمُوْنَ Open ayah 16:113 in the Quran reader

اور ان کے پاس انہی میں سے ایک پیغمبر آیا تو انہوں نے اس کو جھٹلا سو ان کو عذاب نے آپکڑا اور وہ ظالم تھے۔

(113) اور ان کے پاس ان ہی میں سے ایک عربی رسول یعنی محمد ﷺ آئے تو جو احکامات آپ ان کے پاس لے کر آئے تھے، ان کو اس قوم نے جھٹلا دیا تب ان پر بھوک، قتل اور قید کا عذاب اللہ کی طرف سے نازل ہوا، جب کہ وہ کفر پر بالکل ہی کمر بستہ ہوگئے۔
Ayah 16:114

فَكُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا١۪ وَّ اشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ Open ayah 16:114 in the Quran reader

پس خدا نے جو تم کو حلال طیب رزق دیا ہے اسے کھاؤ اور اللہ کی نعمتوں کا شکر کرو اگر اسی کی عبادت کرتے ہو۔

(114) سو کھیتیاں اور جانور اور نعمتیں کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو یعنی اگر تم کھیتیوں اور جانوروں کو خود اپنے اوپر حرام کرلینے میں اللہ کی عبادت سمجھتے ہو تو ان چیزوں کو اپنے اوپر حلال کرلو کیوں کہ اللہ کی عبادت ان کے حلال سمجھنے میں ہے۔
Ayah 16:115

اِنَّمَا حَرَّمَ عَلَیْكُمُ الْمَیْتَةَ وَ الدَّمَ وَ لَحْمَ الْخِنْزِیْرِ وَ مَاۤ اُهِلَّ لِغَیْرِ اللّٰهِ بِهٖ١ۚ فَمَنِ اضْطُرَّ غَیْرَ بَاغٍ وَّ لَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 16:115 in the Quran reader

اس نے تم پر مردار اور لہو اور سور کا گوشت حرام کردیا ہے اور جس چیز پر خدا کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے (اس کو بھی) ہاں اگر کوئی ناچار ہوجائے تو بشرطیکہ گناہ کرنے والا نہ ہو اور نہ حد سے نکلنے والا تو خدا بخشنے والا مہربان ہے۔

(115) تم پر تو صرف مردار کو حرام کیا ہے اور بہتے ہوئے خون کو اور خنزیر کے گوشت کو اور جو کہ غیر اللہ کے نام پر یا بتوں کے نام ذبح کیا جائے پھر جو شخص فاقے کی وجہ سے ان چیزوں کے کھانے پر جن کو اللہ تعالیٰ حرام کردیا ہے بالکل مجبور ہوجائے، بشرطیکہ مسلمانوں سے بغض نہ رکھتا ہو مطلب یہ ہے کہ مردار کے گوشت کو حلال نہ سمجھتا ہو اور نہ یہ کہ بغیر شدید ضرورت کے کھانے کا ارادہ رکھتا ہو تو اس قدر شدید ضرورت کے وقت مردار کے کھانے کی اجازت دی۔
Ayah 16:116

وَ لَا تَقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ هٰذَا حَلٰلٌ وَّ هٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ اِنَّ الَّذِیْنَ یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ لَا یُفْلِحُوْنَؕ Open ayah 16:116 in the Quran reader

اور یونہی جھوٹ جو تمہاری زبان پر آجائے مت کہہ دیا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام ہے کہ خدا پر جھوٹ بہتان باندھنے لگو۔ جو لوگ خدا پر جھوٹ بہتان باندھتے ہیں ان کا بھال نہیں ہوگا۔

(116) اور جن چیزوں کے بارے میں محض تمہارا زبانی جھوٹا دعوی ہے ان کے بارے میں مت کہہ دیا کرو کہ مثلا یہ کھیتی اور جانور مردوں پر حلال ہیں اور عورتوں پر حرام ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر محض بہتان لگا دو گے۔ جو لوگ اللہ پر بہتان لگاتے ہیں وہ عذاب الہی سے فلاح اور نجات نہیں پائیں گے۔
Ayah 16:117

مَتَاعٌ قَلِیْلٌ١۪ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 16:117 in the Quran reader

(جھوٹ کا) فائدہ تو تھوڑا سا ہے مگر (اسکے بدلے) ان کو عذاب الیم بہت ہوگا۔

(117) ان کی دنیا میں یہ عیش چند روزہ ہے اور پھر آخرت میں درد ناک سزا ہے۔
Ayah 16:118

وَ عَلَى الَّذِیْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَیْكَ مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ مَا ظَلَمْنٰهُمْ وَ لٰكِنْ كَانُوْۤا اَنْفُسَهُمْ یَظْلِمُوْنَ Open ayah 16:118 in the Quran reader

اور جو چیزیں ہم تم کو پہلے بیان کرچکے ہیں وہ ہم نے یہودیوں پر حرام کردی تھیں۔ اور ہم نے ان پر کچھ ظلم نہیں کیا بلکہ وہی اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے۔

(118) صرف یہودیوں پر ہم نے وہ چیزیں حرام کردیں تھیں جس کا بیان ہم آپ سے اس سورت سے پہلے سورة انعام میں کرچکے ہیں، چربیاں اور گوشت جو چیزیں ہم نے ان حرام کی تھیں ان کو حرام کرکے ہم نے ان پر کوئی زیادتی نہیں کی تھی لیکن انہوں نے گناہ کر کے خود ہی اپنے آپ کو نقصان پہنچایا جس کی وجہ سے یہ چیزیں اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام فرمائیں۔
Ayah 16:119

ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ عَمِلُوا السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوْا مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ وَ اَصْلَحُوْۤا١ۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْۢ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 16:119 in the Quran reader

پھر جن لوگوں نے نادانی سے برا کام کیا پھر اس کے بعد توبہ اور نیکو کار ہوگئے تو تمہارا پروردگار (ان کو) توبہ کرنے اور نیکوکار ہوجانے کے بعد بخشنے والا اور (ان پر) رحمت کرنے والا ہے۔

(119) پھر محمد ﷺ آپ کا رب ایسے لوگوں کے لیے جنہوں نے جہالت سے جان بوجھ کر یا اس سے ناواقف ہو کر کوئی برا کام کرلیا ہو اور اس کے بعد توبہ کرلی اور نیک اعمال پرکار بند ہوگئے تو آپ کا رب اس توبہ کے بعد بڑی مغفرت کرنے والا اور ان پر بڑی رحمت کرنے والا ہے۔
Ayah 16:120

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا١ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ Open ayah 16:120 in the Quran reader

بیشک ابراہیم (لوگوں کے) امام (اور) خدا کے فرمانبرادار تھے۔ جو ایک طرف کے ہو رہے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔

(120) حضرت ابراہیم ؑ بڑے رہنما تھے اور اللہ تعالیٰ کے پورے فرمانبردار تھے اور سچے مسلمان تھے اور وہ مشرکین کے ساتھ ان کے دین پر نہیں تھے۔