20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 20:99–110

كَذٰلِكَ نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ١ۚ وَ قَدْ اٰتَیْنٰكَ مِنْ لَّدُنَّا ذِكْرًاۖۚ Open ayah 20:99 in the Quran reader

(اے نبی ! ) ہم اس طرح سے آپ کو گزشتہ لوگوں کی کچھ خبریں سناتے ہیں اور آپ کو ہم نے اپنے ہاں سے ایک سمجھانے والی چیز بھی دی تھی

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وِزْرًاۙ Open ayah 20:100 in the Quran reader

(قرآن) جس نے اس سے منہ پھیرا سو وہ قیامت کے دن اس (گناہ) کا بوجھ آپ اٹھائے گا

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ١ؕ وَ سَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًاۙ Open ayah 20:101 in the Quran reader

جس میں سدا رہیں گے۔ اور ان کا یہ قیامت کے دن بہت ہی برا بوجھ ہے۔

یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَ نَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًاۚۖ Open ayah 20:102 in the Quran reader

جس دن کہ صور پھونکا جائے گا اور ہم سب گناہگاروں کو اس دن جمع کرلیں گے

یَّتَخَافَتُوْنَ بَیْنَهُمْ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا عَشْرًا Open ayah 20:103 in the Quran reader

(اور) ان کی دہشت سے نیلی آنکھیں ہوں گی، چپکے چپکے آپس میں کہتے ہوں گے کہ تم دنیا میں کیا ٹھہرے ہو مگر یہی دس دن۔

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُهُمْ طَرِیْقَةً اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا یَوْمًا۠ Open ayah 20:104 in the Quran reader

ہم خوب جانتے ہوں گے جو کچھ کہ وہ کہتے ہوں گے جبکہ ان میں کا بڑا سمجھ دار کہے گا کہ تم صرف ایک ہی روز ٹھہرے ہو۔

وَ یَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْجِبَالِ فَقُلْ یَنْسِفُهَا رَبِّیْ نَسْفًاۙ Open ayah 20:105 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) آپ سے پہاڑوں کا حال پوچھتے ہیں (سو) کہہ دو ان کو تو میرا رب ریتا کر کے اڑا دے گا۔

فَیَذَرُهَا قَاعًا صَفْصَفًاۙ Open ayah 20:106 in the Quran reader

پھر زمین کو چٹیل میدان کر چھوڑے گا

لَّا تَرٰى فِیْهَا عِوَجًا وَّ لَاۤ اَمْتًاؕ Open ayah 20:107 in the Quran reader

کہ جس میں (اے مخاطب ! ) تجھے نہ کوئی پستی دکھائی دے گی نہ بلندی۔

یَوْمَئِذٍ یَّتَّبِعُوْنَ الدَّاعِیَ لَا عِوَجَ لَهٗ١ۚ وَ خَشَعَتِ الْاَصْوَاتُ لِلرَّحْمٰنِ فَلَا تَسْمَعُ اِلَّا هَمْسًا Open ayah 20:108 in the Quran reader

اس روز پکارنے والے کے پیچھے سب ہی تو ہو لیں گے اور دہشت سے رحمن کے آگے سب کی آوازیں پست ہوجائیں گی۔ پھر اے مخاطب ! تجھے کچھ بھی سنائی نہ دے گا بجز پائوں کی آہٹ کے

یَوْمَئِذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا Open ayah 20:109 in the Quran reader

اس روز کسی کی سفارش فائدہ نہ بخشے گی مگر اس کی جس کو رحمن نے اجازت دی ہوگی اور اس کا بولنا پسند کرلیا جائے گا۔

یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ مَا خَلْفَهُمْ وَ لَا یُحِیْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا Open ayah 20:110 in the Quran reader

جو کچھ ان کے روبرو ہے اور جو کچھ ان کے بعد ہوگا۔ وہ سب کو جانتا ہے اور اس کو کسی کا علم بھی احاطہ نہیں کرسکتا۔

اس قصہ کو تمام کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ گزشتہ لوگوں کے تذکرے ہم یوں سناتے ہیں ہم نے تجھے ذکر یعنی قرآن دیا ہے پھر جو قرآن سے منہ پھیرے گا قیامت میں اس کا یہ حال ہوگا کہ قیامت میں اپنے گناہوں کی گٹھڑی آپ اٹھا وے گا اور جس روز صور پھنکے گا دوبارہ زندہ ہونے کے لیے تو یہ لوگ ایسی دہشت میں ہوں گے کہ آنکھوں کی رنگت پلٹ جائے گی نور اور سیاہی جا کر نیلی ہوجائے گی اور دنیا میں جو سالہا سال عیش کی ہے وہاں کے مصائب کے آگے اس کو دس روز سمجھیں گے اور جو ان میں زیادہ دانا ہے وہ تو ایک دن سمجھے گا۔ قیامت کے ذکر میں کسی نے آنحضرت ﷺ سے پہاڑوں سے سوال کیا کہ یہ کیا ہوں گے ویسئلونک الخ فرمایا فقل ینسفہا ربی کہ خدا ان کو ریتا کر کے اڑا دے گا اور زمین کو صاف میدان کر دے گا پھر آگے اور قیامت کے حالات بیان کرتا ہے کہ اس روز بجز اس کے کہ جس کو شفاعت کی اجازت ملی ہوگی اور اس کی بات بھی پسندیدہ خدا ہوگی اور شفاعت کارگر نہ ہوگی نہ ان فرضی معبودہوں کی جن کو وہ اس امید پر پوجتے ہیں اور اس آیت کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ جس کے لیے رحمان اجازت دے گا اور اس کے حق میں بولنا پسند کرے گا اس کے لیے شفاعت کارگر ہوگی نہ ہر کسی کے لیے۔ کس لیے کہ یعلم مابین ایدیہم الخ اس کو ہر ایک کا اگلا پچھلا سب حال معلوم ہے اس کا علم بہت وسیع ہے جس کو کوئی احاطہ نہیں کرسکتا کسی کا علم اس کے علم کے برابر نہیں۔ قابل شفاعت اس کو معلوم ہیں اور اس روز بڑے بڑے متکبروں کی اس کے آگے گردنیں جھک جائیں گی اور ظالم تباہ ہوں گے، ایمانداروں، نیکوکاروں کو ان کی دنیاوی کوشش کا پورا بدلہ ملے گا۔
Ayah 20:111

وَ عَنَتِ الْوُجُوْهُ لِلْحَیِّ الْقَیُّوْمِ١ؕ وَ قَدْ خَابَ مَنْ حَمَلَ ظُلْمًا Open ayah 20:111 in the Quran reader

اور حی وقیوم 1 ؎ کے آگے سب منہ جھک گئے ہوں گے اور جو ظلم کی گٹھڑی اٹھائے ہوگا وہ تباہ ہوگیا ہوگا

1 ؎ حی زندہ ‘ قیوم پایندہ ہمیشہ رہنے والا سب کا آسرا اور سب کی ہستی کی اصل اور پناہ۔ 12 منہ
Ayah 20:112

وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا یَخٰفُ ظُلْمًا وَّ لَا هَضْمًا Open ayah 20:112 in the Quran reader

اور جس نے اچھے کام کئے ہوں گے اور وہ مومن بھی ہوگا تو اس کو نہ ظلم کا خوف ہوگا 2 ؎ نہ حق تلفی کا۔

2 ؎ یعنی اس کو اس بات کا کچھ بھی خوف نہ ہوگا کہ اس بارگاہ کبریا میں کوئی ظلم ہوگا یا اس کی کوئی حق تلفی ہوگی۔ کس لیے کہ وہ بارگاہ عدالت ہے حاکم علیم وخبیر ہے کسی کی کوئی چالاکی اور جھوٹا دعویٰ کسی پر نہ چلے گا نہ اس پر کسی کا دباؤ ہوگا نہ وہ کسی سے رشوت لیتا ہے کہ اس سبب سے کسی کی حق تلفی ہوجائے نہ وہاں امیر و فقیر شریف و رذیل کا لحاظ ہوگا نہ اس کی ذات میں غضبانی جذبات ہیں نہ وہ متلون المزاج ہے اس ایک تھوڑے سے جملہ میں دربار حشر کی سب کیفیت بیان فرما دی۔ 12 منہ
Ayahs 20:113–125

وَ كَذٰلِكَ اَنْزَلْنٰهُ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا وَّ صَرَّفْنَا فِیْهِ مِنَ الْوَعِیْدِ لَعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ اَوْ یُحْدِثُ لَهُمْ ذِكْرًا Open ayah 20:113 in the Quran reader

اور جس طرح (کہ معنی میں اس کی خوبی رکھی ہے) اسی طرح لفظوں کے لحاظ سے بھی) ہم نے اس کو عربی میں نازل کیا ہے۔ اور اس میں (طرح طرح کی) خوف دلانے والی باتیں بھی بیان کیں ہیں تاکہ لوگ ڈریں یا ان کے لیے سمجھ پیدا کرے (اس میں خدا کا کوئی ذاتی نفع نہیں

فَتَعٰلَى اللّٰهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ١ۚ وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ یُّقْضٰۤى اِلَیْكَ وَحْیُهٗ١٘ وَ قُلْ رَّبِّ زِدْنِیْ عِلْمًا Open ayah 20:114 in the Quran reader

(کیونکہ) وہ بادشاہ برحق بلند برتر ہے (اور اے نبی ! آپ اس کی وحی تمام ہونے سے پیشتر جلدی نہ کیا کرو۔ اور دعا کیا کرو کہ اے رب ! مجھے اور زیادہ علم دے

وَ لَقَدْ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اٰدَمَ مِنْ قَبْلُ فَنَسِیَ وَ لَمْ نَجِدْ لَهٗ عَزْمًا۠ Open ayah 20:115 in the Quran reader

اور ہم نے پہلے آدم سے بھی عہد لیا تھا۔ پھر وہ بھول گیا اور ہم نے اس کو کچھ مضبوط نہ پایا

وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓئِكَةِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْۤا اِلَّاۤ اِبْلِیْسَ١ؕ اَبٰى Open ayah 20:116 in the Quran reader

اور جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا آدم کے آگے جھکو تو سب ہی جھکے مگر ابلیس کہ اس نے انکار کیا۔

فَقُلْنَا یٰۤاٰدَمُ اِنَّ هٰذَا عَدُوٌّ لَّكَ وَ لِزَوْجِكَ فَلَا یُخْرِجَنَّكُمَا مِنَ الْجَنَّةِ فَتَشْقٰى Open ayah 20:117 in the Quran reader

پھر ہم نے آدم سے کہا یہ (شیطان) تیرا اور تیری بیوی کا دشمن ہے پھر یہ نہ ہو کہ وہ تم کو جنت سے نکال دے کہ پھر تو خراب ہوجائے

اِنَّ لَكَ اَلَّا تَجُوْعَ فِیْهَا وَ لَا تَعْرٰىۙ Open ayah 20:118 in the Quran reader

تو اس بہشت میں نہ بھوکا رہے گا اور نہ ننگا

وَ اَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا فِیْهَا وَ لَا تَضْحٰى Open ayah 20:119 in the Quran reader

اور تو اس میں پیاسا بھی نہ رہے گا اور نہ دھوپ اٹھائے گا۔

فَوَسْوَسَ اِلَیْهِ الشَّیْطٰنُ قَالَ یٰۤاٰدَمُ هَلْ اَدُلُّكَ عَلٰى شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَ مُلْكٍ لَّا یَبْلٰى Open ayah 20:120 in the Quran reader

پھر شیطان نے اس کے دل میں وسوسہ ڈالا۔ کہا اے آدم ! تو کہے تو میں تجھے ایک ایسا درخت بتلائوں کہ جس کے کھانے سے تو ہمیشہ جیتا رہے اور لازوال سلطنت ملے۔

فَاَكَلَا مِنْهَا فَبَدَتْ لَهُمَا سَوْاٰتُهُمَا وَ طَفِقَا یَخْصِفٰنِ عَلَیْهِمَا مِنْ وَّرَقِ الْجَنَّةِ١٘ وَ عَصٰۤى اٰدَمُ رَبَّهٗ فَغَوٰى۪ۖ Open ayah 20:121 in the Quran reader

پھر آدم و حوا نے اس درخت سے کچھ کھالیا تو ان پر ان کی برہنگی ظاہر ہوگئی اور اپنے اوپر باغ کے پتے چپکانے لگے۔ اور آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی سو بہک گیا۔

ثُمَّ اجْتَبٰهُ رَبُّهٗ فَتَابَ عَلَیْهِ وَ هَدٰى Open ayah 20:122 in the Quran reader

آخرکار اس کے خدا نے سرفراز کیا پھر اس کی توبہ قبول کی

قَالَ اهْبِطَا مِنْهَا جَمِیْعًۢا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ١ۚ فَاِمَّا یَاْتِیَنَّكُمْ مِّنِّیْ هُدًى١ۙ۬ فَمَنِ اتَّبَعَ هُدَایَ فَلَا یَضِلُّ وَ لَا یَشْقٰى Open ayah 20:123 in the Quran reader

اور اس کی رہنمائی کی۔ حکم دیا کہ تم دونوں وہاں سے نکل جاؤ کہ تم میں ایک دوسرے کا دشمن ہے۔ پھر جو کبھی تمہارے پاس میری طرف سے کوئی ہدایت آئے پس جو میری ہدایت پر چلے گا تو وہ گمراہ نہ ہوگا اور نہ خراب ہوگا۔

وَ مَنْ اَعْرَضَ عَنْ ذِكْرِیْ فَاِنَّ لَهٗ مَعِیْشَةً ضَنْكًا وَّ نَحْشُرُهٗ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ اَعْمٰى Open ayah 20:124 in the Quran reader

اور جو میرے ذکر سے منہ پھیرے گا تو اس کی زندگی بھی تنگ ہوگی اور اس کو قیامت میں اندھا کر کے اٹھائیں گے۔

قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْۤ اَعْمٰى وَ قَدْ كُنْتُ بَصِیْرًا Open ayah 20:125 in the Quran reader

وہ کہے گا تو نے اے رب ! مجھے اندھا کرکے کیوں اٹھایا حالانکہ میں تو بینا تھا۔

تفسیر : وکذلک عطف ہے کذلک نقص پر یعنی جس طرح ہم نے اے نبی ! تم سے پہلوں کے راستی آمیز ہدایت خیز قصے بیان کئے اسی طرز پر تمام قرآن نازل کیا ہے جس کے دو وصف ہیں اول وہ عربی ہے جس کا سمجھنا قوم عرب کو آسان ہے۔ دوم صرفنا اس میں طرح طرح سے خوفناک باتیں بیان کی ہیں تاکہ لوگ پرہیزگاری اختیار کریں یا ان کو سمجھ بوجھ پیدا ہو۔ کلمہ اور منافات کے لیے نہیں ہے اور یہ قرآن اس خوبی کے ساتھ اس نے اس لیے نازل کیا ہے کہ جو بخل و جہل وغیرہ اوصاف سے بری ہے اس میں اس کا کوئی نفع و نقصان نہیں وہ ان باتوں سے پاک ہے اور حق ہے اس کا ملک اور اس کی ذات دائم و قائم ہے اس لیے اس نے ان کی بہبودی کے لیے ایسا قرآن نازل کیا چونکہ قرآن رحمت ِ آسمانی ہے اور تدریجاً نازل ہوا ہے ادھر آنحضرت ﷺ کے دل میں اس کی تبلیغ اور اس کے یاد کرنے اور اس کے مطالب واضح کرنے کا بمقتضائے نبوت بہت شوق اور ازحد ولولہ تھا اس لیے فرمایا لاتعجل بالقرآن الخ کہ وحی کے تمام ہوجانے سے پہلے قرآن کے پڑھنے یا لوگوں کے پڑھانے سمجھانے میں جلدی نہ کیا کرو جب ایک مضمون کی وحی جو فرشتہ لاتا ہے تمام ہوچکے تب آپ پڑھیں۔ اسی طرح کا مضمون اور جگہ بھی آیا لا تحرک بہ لسانک تعجل بہ ان علینا جمعہ و قرآن ہ اور رب سے دعا کرتے رہو کہ میرا علم زیادہ کر تاکہ وقتاً فوقتاً وحی آتی رہے آپ کا علم زیادہ ہوتا رہے اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ خزانہ ہمارے پاس ہے اس میں سے جس قدر ہم جس کو چاہتے ہیں عطا کرتے ہیں بندہ علام الغیوب نہیں ہوسکتا۔ اس کے بعد یہ چٹھی 1 ؎ بار حضرت آدم ( علیہ السلام) کا قصہ ایک آیندہ جملہ کے لیے بطور تمہید کے ذکر ہو اور وہ جملہ مقصود بالذات یہ ہے فاما یاتینکم منی ھدی اس کی شروع تمہید یہ ہے واذا قلنا للملائکۃ الخ کہ اس وقت کو یاد کرو جبکہ اے بنی آدم ہم نے تمہارے جد امجد کے لیے فرشتوں کو سجدہ تعظیم کا حکم دیا اور تاج خلافت ان کے سر پر رکھا گیا اس وقت سب فرشتوں نے سجدہ کیا مگر اس ابلیس نے (جس کے کہنے پر اکثر بنی آدم چل رہے ہیں قدیمی حاسد اور دشمن کو دوست بنا رکھا ہے) انکار کردیا پھر اس کے بعد ہم نے تمہارے جدِامجد کو ایک ایسے باغ میں رہنے کو جگہ دی کہ جہاں کھانے پینے کا ہم نے انتظام کردیا تھا اور ان مشقتوں سے نجات دے دی تھی اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا تھا کہ خبردار رہنا یہ شیطان تیرا اور تیری بیوی دونوں کا دشمن ہے اس کے کہنے میں آ کر مصیبت میں نہ پڑنا کہ یہاں سے نکالے جاؤ اور خراب و خستہ مارے پھرو مگر وہ مردود وہاں بہروپ بدل کر جا ہی پہنچا اور ناصح مشفق بن کر آدم ( علیہ السلام) کے دل میں خطرہ ڈال دیا اور کہنے لگا کہ اے آدم ! یہ تو تم پر بڑی مہربانی ہوئی مگر تمہاری حیات اور یہاں بادشاہانہ طور پر سدا رہنے کا کوئی بھی انتظام نہیں ہوا اس تمہید کے بعد کہا لو میں تمہیں اس باغ میں ایک ایسا پیٹر بتلاتا ہوں کہ جس کے کھانے سے ہمیشہ جیتے رہو اور بےزوال سلطنت تمہیں ملے۔ اس کا نام شجرۃ الخلد ہے۔ تمہارے خدا نے اس لیے تم کو اس کے کھانے سے منع کیا ہے حالانکہ ہم نے آدم سے اول ہی 1 ؎ اول بار سورة بقرہ میں پھر اعراف میں پھر حجر میں پھر شعراء میں پھر کہف میں پھر اس جگہ ذکر ہوا (ک) یہاں صرفنا فیہ من الوعید کی وضاحت کے لیے آیا۔ عہد لے لیا تھا مگر آدم اس کو بھول گئے اور اس کو کھالیا۔ ولم نجدلہ عزما اور ہم نے تمہارے دادا کی کوئی استقامت اور مضبوطی نہیں پائی۔ نہ ہمارے عہد کی حفاظت کی ‘ نہ قدیمی دشمن کو خیال کیا (اس میں بنی آدم کی کمزوری کی طرف اشارہ بلکہ تعریض ہے) پھر ان پر بھی باوجود اس مقبولیت کے نافرمانے کا لازمی نتیجہ پیش ہی آیا۔ کپڑے تن سے اتار دیے گئے، برہنگی ظاہر ہونے پر درختوں کے پتے بدن پر چمٹانے لگے اور آدم و حوا اور شیطان سب کے سب اس باغ سے نکال دیے گئے اور کہہ دیا گیا کہ ایک دوسرے کا دشمن رہے گا لیکن آدم ( علیہ السلام) روئے اور توبہ کی خدا نے اس کی توبہ قبول کی اور باردگر سرفرازی بخشی۔ جب باغ سے نکالے گئے تھے یا جب توبہ کی تھی تو آدم ( علیہ السلام) سے ہم نے کہہ دیا تھا کہ دنیا میں تمہارے پاس یعنی تمہاری اولاد کے پاس ہدایت آیا کرے گی۔ رسول اور آسمانی کتابیں پھر جو اس ہدایت پر چلے گا تو وہ اس سیدھے رستے سے جو انسان کو دارالخلد تک پہنچاتا ہے نہ بہکے گا نہ خراب ہوگا۔ ولایَشْقٰی یعنی شقاوت و بدبختی سے محفوظ رہے گا۔ شقاوت کی دو قسم ہیں ایک دنیاوی دوسری اخروی۔ ہدایتِ الٰہی کے طفیل ان دونوں سے محفوظ رہتا ہے اور جو اس ہدایت سے منہ پھیرے گا۔ اس کی دو سزائیں ہوں گی ایک دنیاوی فان لہ معیشہ ضنکا (وفانضک اصلہ الضیق والشدۃ وھو مصدر یوصف بہ فیقال منزل ضنک وعیش ضنک۔ کبیر) کہ اس کی زندگی تنگ ہوگی۔ عام مفسرین کے نزدیک زندگی سے دنیا کی تنگی مراد ہے کیونکہ کافر مال و جاہ پر حریص ہوتا ہے گو باعتبار قید حلال و حرام ہونے کے وہ جنت میں ہے جیسا کہ آیا ہے الدنیا سجن المؤمن وجنۃ الکافر مگر وہ کون ہے کہ جس کو تمام باتیں حسب دلخواہ حاصل ہوگئی ہوں۔ اس کی پریشانی میں کٹتی ہے اور مومن کی نظر دار آخرت پر ہوتی ہے اس کو کسی تکلیف میں تکلیف معلوم نہیں ہوتی۔ اور یوں بھی ہے کہ خدا کی ہدایت چھوڑنے سے دنیا میں بلائیں نازل ہوتی ہیں سینکڑوں قومیں ایسی ہیں کہ اسی سبب سے برباد ہوگئیں۔ جیسا کہ اسی کی تائید کے لیے اگلی آیت میں فرماتا ہے افلم یہدلہم کم اھلکنا قبلہم من القرون کہ کیا ان کو اس بات سے بھی رہنمائی نہیں ہوتی کہ ان کفار قریش سے پہلے ہم کتنی قوموں کو نافرمانی کی وجہ سے ہلاک کرچکے ہیں کہ جن کے اجڑے ہوئے مکانوں سے آج یہ چلتے پھرتے ہیں۔ عادثمود، بنی اسرائیل و قیاصرہ و شاہان بابل و شاہان مصر وغیرہ نے نافرمانی کی نافرمانی کر کے کوئی قوم اخیر تک سرسبز نہیں رہتی۔ بعض کہتے ہیں قبر کی تنگی ‘ بعض کہتے ہیں آخرت کی تنگی ‘ مراد ہے۔ دوسری یہ کہ اس کو قیامت میں اندھا کر کے اٹھاویں گے وہ کہے گا میں آنکھوں والا تھا آج اے رب ! اندھا کر کے کیوں اٹھایا ؟ جواب ملے گا تو بھی تو دنیا میں ہماری آیتوں سے اندھا ہوگیا تھا۔ آخرت میں اندھا ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ جسمانی تاریکی میں مبتلا ہوں گے نور روحانی نصیب نہ ہوگا پس اس سے ان کے لیے ظاہری آنکھیں ہونی اور ہیبت سے اوپر دیکھنے میں کچھ منافات نہیں۔
Ayahs 20:126–129

قَالَ كَذٰلِكَ اَتَتْكَ اٰیٰتُنَا فَنَسِیْتَهَا١ۚ وَ كَذٰلِكَ الْیَوْمَ تُنْسٰى Open ayah 20:126 in the Quran reader

فرمائے گا تو نے بھی اس طرح ہماری آیتوں کو جو تیرے پاس آئی تھیں فراموش کردیا اور اسی طرح 1 ؎ آج تو بھی بھلا یا گیا

وَ كَذٰلِكَ نَجْزِیْ مَنْ اَسْرَفَ وَ لَمْ یُؤْمِنْۢ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ١ؕ وَ لَعَذَابُ الْاٰخِرَةِ اَشَدُّ وَ اَبْقٰى Open ayah 20:127 in the Quran reader

اور جو کوئی حد سے گزر جائے اور اپنے رب کی آیتوں کو نہ مانے تو اس کو ہم ایسا ہی بدلہ دیا کرتے ہیں اور البتہ آخرت کا عذاب تو سخت تر اور بہت ہی دیرپا ہے۔

اَفَلَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:128 in the Quran reader

پھر کیا ان کو اس بات نے بھی رہنمائی نہ کی کہ ہم نے ان سے پہلی کتنی ایک قرنوں کو غارت کردیا ہے کہ جن کے مکانوں پر سے وہ چلتے پھرتے ہیں۔ بیشک اس میں تو عقل مندوں کے لیے (بڑی بڑی) نشانیاں ہیں

وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ لَكَانَ لِزَامًا وَّ اَجَلٌ مُّسَمًّىؕ Open ayah 20:129 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) اگر تمہارے رب کی طرف سے ایک بات قرار نہ پا چکی ہوتی اور وعدہ مقرر نہ ہوا ہوتا تو عذاب لازم ہوچکا ہوتا۔

1 ؎ تیری طرف نظر عنایت نہ رہی یعنی جس طرح تو نے دنیا میں آیات اللہ سے بےاعتنائی کی آج اسی طرح تم سے بھی بےاعتنائی کی گئی۔ ازانجملہ یہ کہ اس جہان میں تجھے بینائی عطا نہ کی کیونکہ دنیا میں بینائی دی تھی تو اس سے تو نے آیات قدرت کو نہ دیکھا تھا۔ 12 منہ تفسیر : پہلی قوموں کی ہلاکت بیان فرما کر یہ بات فرماتا ہے کہ اگر نوشتہ ازلی (کہ چند روز ہم ان کو دنیا میں رکھیں گے) مانع نہ آتا تو ان لوگوں پر یہی عذاب دنیا ہی میں آچکتا اس پر بھی اے نبی ! جو ہدایت پر نہیں آتے اور ستاتے ہیں تو صبر کرو اور اپنے لیے دار آخرت کی تیاری کرو تاکہ تو وہاں خوش وقت رہو فقال فاصبر علی مایقولون و سبح بحمد ربک قبل طلوع الشمس الخ تسبیح سے مراد اکثر علماء کے نزدیک نماز پنجگانہ ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں قبل طلوع الشمس سے مراد نماز فجر ہے اور قبل غروبھا سے ظہر و عصر و من انائِ اللیل سے مغرب و عشاء۔ اور قولہ و اطراف النھار دونوں نمازوں کے لیے جو دن کے اول و آخر ہوتی ہیں یعنی فجرومغرب تاکید کا جملہ ہے جیسا کہ الصلوٰۃ الوسطی عصر کے لیے گرچہ دن کی دو طرف ہوتی ہیں مگر ہر دن کے لحاظ سے اطراف جمع کا صیغہ آیا بعض کہتے ہیں اوقات مذکورہ میں جو تقرب کے اوقات ہیں انسان کو مشاغل دنیاویہ سے غفلت ہوجاتی ہے عموماً اس کی تسبیح و تقدیس کرنا مراد ہے جو نماز کو بھی شامل ہے۔ فائدہ : (1) فنسی ولم نجدلہ عزما سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آدم ( علیہ السلام) کا گناہ سہواً تھا وقت پر ممانعت یاد نہ رہی لیکن احتیاط نہ کی اس لیے عتاب ہوا۔ (2) آدمی کی جبلی عادت ہے کہ وہ اپنے باپ دادا کے کمالات پر نازاں ہوا کرتا ہے اور بسا اوقات اسی پر تکیہ کرلیتا ہے کہ ہم فلاں بزرگ کی اولاد ہیں ہمیں کیا غم ہے اس لیے آدم کے قصہ میں متنبہ کردیا کہ اس پر نازاں نہ ہونا خود تمہارے بزرگ سے نافرمانی پر کیا سلوک ہوا باوجودیکہ مسجود ملائکہ تھے اور پھر کس خواری سے نکالے گئے بجز توبہ کے ان کو چارہ نہ ہوا۔ یہ ہے وعید شدید۔
Ayah 20:130

فَاصْبِرْ عَلٰى مَا یَقُوْلُوْنَ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَ قَبْلَ غُرُوْبِهَا١ۚ وَ مِنْ اٰنَآئِ الَّیْلِ فَسَبِّحْ وَ اَطْرَافَ النَّهَارِ لَعَلَّكَ تَرْضٰى Open ayah 20:130 in the Quran reader

پھر جو کچھ وہ بکتے ہیں اس پر صبر کرو اور آفتاب 2 ؎ کے طلوع ہونے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے اپنے رب کی حمدوثناء کے ساتھ تقدیس کیا کرو اور رات کے وقتوں میں بھی تسبیح کیا کرو اور دن کے اول و آخر میں بھی تاکہ تم کو خوش کیا جائے۔

2 ؎ قبل طلوع الشمس سے مراد صبح کی نماز و قبل غروبہا سے ظہر وعصر کی ومن انائی الیل سے مغرب و عشاء و تہجد کی۔ و اطراف النہار عصر و صبح کی نماز مراد ہے بعض کہتے ہیں تسبیح سے گو نماز مراد ہوتی ہے مگر یہاں سبحان اللہ الحمدللہ یاسبحان اللہ بحمدہ کہنا ان اوقات میں مراد ہے۔ 12 منہ
Ayahs 20:131–135

وَ لَا تَمُدَّنَّ عَیْنَیْكَ اِلٰى مَا مَتَّعْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْهُمْ زَهْرَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۙ۬ لِنَفْتِنَهُمْ فِیْهِ١ؕ وَ رِزْقُ رَبِّكَ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى Open ayah 20:131 in the Quran reader

اور (اے نبی ! ) آپ ان چیزوں کی طرف نظر بھی نہ ڈالیے جو طرح بطرح کے سامان زندگی و دنیا کی آرائش ہم نے ان کو اس لیے دے رکھے ہیں کہ اس میں ہم ان کی آزمائش کریں اور تمہارے رب کا عطیہ بہتر اور دیر تک رہنے والا 1 ؎ ہے

وَ اْمُرْ اَهْلَكَ بِالصَّلٰوةِ وَ اصْطَبِرْ عَلَیْهَا١ؕ لَا نَسْئَلُكَ رِزْقًا١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكَ١ؕ وَ الْعَاقِبَةُ لِلتَّقْوٰى Open ayah 20:132 in the Quran reader

اور اپنے کنبے کو نماز کا حکم دیا کرو اور خود بھی اس پر قائم رہو۔ ہم تم سے کچھ رزق تو نہیں مانگتے۔ روزی تو ہم تمہیں دیتے ہیں اور عاقبت (بخیر تو) پرہیز گاروں کی ہے۔

وَ قَالُوْا لَوْ لَا یَاْتِیْنَا بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ اَوَ لَمْ تَاْتِهِمْ بَیِّنَةُ مَا فِی الصُّحُفِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:133 in the Quran reader

وہ کہتے ہیں کہ تو اپنے رب کی طرف سے ہمارے پاس کوئی نشانی کیوں نہیں لے آتا۔ کیا ان کے پاس پہلی کتابوں کی شہادت نہیں پہنچی۔

وَ لَوْ اَنَّاۤ اَهْلَكْنٰهُمْ بِعَذَابٍ مِّنْ قَبْلِهٖ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْ لَاۤ اَرْسَلْتَ اِلَیْنَا رَسُوْلًا فَنَتَّبِعَ اٰیٰتِكَ مِنْ قَبْلِ اَنْ نَّذِلَّ وَ نَخْزٰى Open ayah 20:134 in the Quran reader

اور اگر ہم اس سے پہلے ہی ان کو کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو ضرور کہتے کہ اے رب ! تو نے کس لیے ہمارے پاس اپنا کوئی رسول نہیں بھیجا کہ ہم رسوا اور ذلیل ہونے سے پہلے ہی تیری آیتوں پر چلتے

قُلْ كُلٌّ مُّتَرَبِّصٌ فَتَرَبَّصُوْا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ اَصْحٰبُ الصِّرَاطِ السَّوِیِّ وَ مَنِ اهْتَدٰى۠ Open ayah 20:135 in the Quran reader

ان سے کہہ دو کہ ہر ایک انتظار کرر ہا ہے سو تم بھی انتظار کرو۔ پھر تم کو خود معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے رستہ پر کون (اور غلط راہ والا کون ہے) اور ہدایت پانے والا کون (اور گمراہ کون ہے) ۔

1 ؎ یعنی عطیہ آخرت ان دنیاوی سامانوں اور آرائشوں سے بہتر ہے اس لیے کہ اس کے مقابلہ میں یہ چیزیں بےحقیقت ہیں اور باقی بھی ہے کس لیے کہ یہ چند روزہ وہ دائمی ہے۔ 12 منہ ولاتمدن الخ المد دراز کردن ‘ کشیدن۔ اور مراد رغبت اور حسرت کے ساتھ نگاہ کرنا۔ دارآخرت کے توشہ کی تعلیم کر کے جو نماز و عبادت ہے دنیا کے وہ اسباب و آرائش و تجمل جو کفار اور دولت مندوں کو دیے گئے ہیں۔ مکان اور عمدہ لباس عمدہ عورتیں اور سواریاں اور دیگر چیزیں ان کی طرف رغبت کی نگاہ سے منع کرتا ہے کیونکہ یہ چیزیں ان کے لیے فتنہ ہیں ان میں ان کی خدا تعالیٰ آزمائش کرتا ہے۔ سو وہ ان میں ایسے مصروف ہوتے ہیں کہ دارآخرت اور اس کے توشہ کا ان کے دل میں خیال بھی پیدا نہیں ہوتا جب اس جہاں سے جاتے ہیں تو خالی ہاتھ جاتے ہیں اور ادھر اس تجمل کے چھوڑتے وقت ان کی روح پر صدمہ عظیم ہوتا ہے۔ ؎ چشمش نگراں ست کہ ملکش بارگران ست۔ اس چند روزہ عیش کے مقابلہ میں وہ عذاب دائمی بڑا فتنہ ہے اور نیز اس دولت کی وجہ سے ظلم و ستم طرح طرح کے گناہوں میں بھی مبتلا ہوتے ہیں۔ حضرت ﷺ کی آنکھوں میں یہ سب ہیچ تھا مگر حضرت ﷺ سے خطاب کر کے اوروں کو سنایا جاتا ہے کہ اس طرف نظر پھیر کر بھی نہ دیکھنا۔ حرص ورغبت تو دوسری چیز ہے اس لیے کہ تمہارے درجاتِ آخرت بہتر اور ہمیشہ رہنے والی چیز ہے۔ ایسے عارف تارک الدنیا کے متعلقین غالباً نان و نفقہ اور دنیاوی سامان سے خالی رہا کرتے ہیں اور کچھ عجب نہیں کہ ان کے دل پر دوسروں کے سازوسامان دیکھ کر کچھ حسرت بھی پیدا ہوتی ہو اس لیے حضرت ﷺ سے فرمایا وامر اھلک بالصلوٰۃ کہ ان کو توشہ آخرت نماز کی تاکید کرو اور خود بھی اس پر جمے رہو آپ کو ہم رزق دینے کا حکم نہیں دیتے کیونکہ روزی ہم دیتے ہیں اور عاقبت کی بہتری پرہیزگاری سے حاصل ہوتی ہے اس لیے پرہیزگاری میں کوشش کرو۔ و قالو الولا ایسی باتوں کو سن کر کفار کہتے تھے کہ ہم کو کوئی بڑا معجزہ کیوں نہیں دکھاتے۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے جو کچھ معجزے یا نبوت آنحضرت ﷺ کے شواہد پہلے کتابوں میں ہیں کچھ کم ہیں ؟ پھر فرماتا ہے ہم چاہتے تو بغیر رسول بھیجے ان کے گناہوں پر انہیں ہلاک کردیتے مگر وہ عذر کرتے کہ رسول کیوں نہیں بھیجا کہ ہم اس کو مانتے۔ پھر فرماتا ہے ان سے کہو ذرا انتظار کرو مرنے کے بعد تم کو آپ معلوم ہوجائے گا کہ سیدھے رستہ پر کون ہے۔