20. Surah Taa-Haa

طهTaa-Haa · 135 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 20:25–43

قَالَ رَبِّ اشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْۙ Open ayah 20:25 in the Quran reader

عرض کیا کہ اے رب ! میرا دل کھول دے

وَ یَسِّرْ لِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:26 in the Quran reader

اور میرا کام آسان کر دے

وَ احْلُلْ عُقْدَةً مِّنْ لِّسَانِیْۙ Open ayah 20:27 in the Quran reader

اور میری زبان سے گرہ کھول دے

یَفْقَهُوْا قَوْلِیْ۪ Open ayah 20:28 in the Quran reader

تاکہ وہ میری بات سمجھیں

وَ اجْعَلْ لِّیْ وَزِیْرًا مِّنْ اَهْلِیْۙ Open ayah 20:29 in the Quran reader

اور میرے کنبہ میں سے کسی کو وزیر بھی کر دے

هٰرُوْنَ اَخِیۙ Open ayah 20:30 in the Quran reader

میرے بھائی ہارون کو۔

اشْدُدْ بِهٖۤ اَزْرِیْۙ Open ayah 20:31 in the Quran reader

اس سے میری کمر مضبوط کر دے

وَ اَشْرِكْهُ فِیْۤ اَمْرِیْۙ Open ayah 20:32 in the Quran reader

اور اس کو میرے کام میں شریک کر

كَیْ نُسَبِّحَكَ كَثِیْرًاۙ Open ayah 20:33 in the Quran reader

تاکہ ہم تیری تقدیس بہت کیا کریں

وَّ نَذْكُرَكَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 20:34 in the Quran reader

اور تجھ کو بہت یاد کیا کریں۔

اِنَّكَ كُنْتَ بِنَا بَصِیْرًا Open ayah 20:35 in the Quran reader

تو ہی تو ہے جو ہم کو خوب دیکھ رہا ہے۔

قَالَ قَدْ اُوْتِیْتَ سُؤْلَكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:36 in the Quran reader

فرمایا اے موسیٰ ! تیری درخواست منظور۔

وَ لَقَدْ مَنَنَّا عَلَیْكَ مَرَّةً اُخْرٰۤىۙ Open ayah 20:37 in the Quran reader

اور ہم تو تم پر باربار احسان کرچکے ہیں۔

اِذْ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰۤى اُمِّكَ مَا یُوْحٰۤىۙ Open ayah 20:38 in the Quran reader

جب کے تمہاری ماں کی طرف ہم نے جو کچھ الہام کرنے کا تھا الہام کیا تھا۔

اَنِ اقْذِفِیْهِ فِی التَّابُوْتِ فَاقْذِفِیْهِ فِی الْیَمِّ فَلْیُلْقِهِ الْیَمُّ بِالسَّاحِلِ یَاْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّیْ وَ عَدُوٌّ لَّهٗ١ؕ وَ اَلْقَیْتُ عَلَیْكَ مَحَبَّةً مِّنِّیْ١ۚ۬ وَ لِتُصْنَعَ عَلٰى عَیْنِیْۘ Open ayah 20:39 in the Quran reader

وہ یہ کہ اس کو (موسیٰ کو) صندوق میں بند کر کے دریا میں ڈال دے پھر دریا آپ اس کو کنارہ پر ڈال دے گا کہ اس کو میرا اور اس کا دشمن پکڑ لے گا (فرعون) ۔ اور اے موسیٰ تجھ پر ہم نے اپنی محبت ڈال دی تھی تاکہ جو دیکھے تجھ کو پیار کرے اور تاکہ میرے سامنے پرورش پائے

اِذْ تَمْشِیْۤ اُخْتُكَ فَتَقُوْلُ هَلْ اَدُلُّكُمْ عَلٰى مَنْ یَّكْفُلُهٗ١ؕ فَرَجَعْنٰكَ اِلٰۤى اُمِّكَ كَیْ تَقَرَّ عَیْنُهَا وَ لَا تَحْزَنَ١ؕ۬ وَ قَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّیْنٰكَ مِنَ الْغَمِّ وَ فَتَنّٰكَ فُتُوْنًا١۫۬ فَلَبِثْتَ سِنِیْنَ فِیْۤ اَهْلِ مَدْیَنَ١ۙ۬ ثُمَّ جِئْتَ عَلٰى قَدَرٍ یّٰمُوْسٰى Open ayah 20:40 in the Quran reader

جبکہ اے موسیٰ تمہاری بہن کہتی جا رہی تھی کہ میں تم کو ایسی انا بتائوں جو اس کو اچھی طرح پرورش کرے۔ پس اس طور سے اے موسیٰ ! ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غم نہ کھائے اور اے موسیٰ ! تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا پھر ہم نے تم کو اس غم سے نجات دلائی اور ہم نے تم کو باربار آزمائش میں ڈالا۔ پھر تو تم برسوں مدین کے لوگوں میں رہے۔ پھر تم اے موسیٰ ! مدت معین پر پھر آئے

وَ اصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِیْۚ Open ayah 20:41 in the Quran reader

اور تم کو میں نے خاص اپنے لیے پسند کرلیا ہے

اِذْهَبْ اَنْتَ وَ اَخُوْكَ بِاٰیٰتِیْ وَ لَا تَنِیَا فِیْ ذِكْرِیْۚ Open ayah 20:42 in the Quran reader

تم اور تمہارا بھائی دونوں میری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔

اِذْهَبَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ اِنَّهٗ طَغٰىۚۖ Open ayah 20:43 in the Quran reader

تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ کیونکہ اس نے سر اٹھا رکھا ہے۔

تفسیر : جب موسیٰ ( علیہ السلام) خدا تعالیٰ سے ہمکلام ہو کر شرف نبوت پا چکے تھے تو یہ چار چیزیں طلب کیں۔ (1) اشرح لی صدری الخ نبی کو عالم کی اصلاح کرنی پڑتی ہے ‘ طرح طرح کی سختیاں اٹھانی پڑتی ہیں، روحانی احکام کی تعلیم اور اخلاق حمیدہ کی ترغیب دینا اور اس کے تجمل کی آنکھوں میں حقارت پیدا کردینا ہوتا ہے۔ یہ سب باتیں ہوتی ہیں کہ جب خدا دل کو کھول دے۔ اس کے دل سے حجابات ظلمانیہ جو اس کی بستگی کا باعث ہیں اٹھ جائیں اس کو شرح صدر کہتے ہیں ویسرلی اسی کی تشریح ہے۔ (2) واحلل یہ ظاہری اصلاح کی دعا تھی جیسا کہ اول باطن سے متعلق تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی زبان پر لکنت تھی، بعض کہتے ہیں پیدائشی، بعض کہتے ہیں لڑکپن میں جبکہ کھیلتے ہوئے فرعون کو لکڑی مار بیٹھے یا اس کی ڈاڑھی نوچ لی تھی تو اس نے مارنے کا قصد کیا تھا۔ اس کی بیوی آسیہ نے سفارش کی کہ نادان بچہ ہے اس امتحان کے لیے آگ اور ایک طرف یاقوت رکھ دے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے آگ منہ میں ڈال لی جس سے زبان پر لکنت پیدا ہوگئی اور ممکن ہے کہ امرائِ شاہان جبار کے سامنے انسان کی زبان پر ہیبت میں آ کر گرہ لگ جایا کرتی ہے صاف صاف نہیں کہہ سکتا اس گرہ کھولنے کی دعا کی ہو۔ (3) واجعل لی کہ ہارون کو میرا وزیر یعنی کارکن کر دے اشدد یہ اسی کی تشریح ہے۔ (4) واشر کہ فی امری اس کو نبی کر دے۔ ان باتوں کو خدا تعالیٰ نے منظور کرلیا اور فرمایا کہ ہم نے تجھ پر اے موسیٰ دوبارہ احسان کیا۔ ایک یہ اور ایک بار وہ جس کا بیان اذا اوحینا الخ سے لے کر واصطنعتک لنفسی تک ہے۔ یہ احسانات موسیٰ ( علیہ السلام) کی ولادت اور فرعون کے گھر میں پرورش پانے اور قبطی کو مار کر مدین جا کر برسوں رہنے کے متعلق ہیں جن کی تفسیر ہم تفسیر سورة بقرہ میں کر آئے ہیں۔ والقیت علیک محبۃً منی اے کائنۃ منی قداودعتہافی القلوب بحیث لایکا دبصیر عنک من راءک (بیضاوی) یعنی تجھ کو محبوب کردیا فرعون بھی تجھ پر شیفتہ ہوگیا تھا منی القیت سے متعلق ہوگا تو یہ معنی ہوں گے کہ میں نے تجھ سے محبت کی ولتصنع علی عینی تربی ویحن الیک واناراعیک وراقیک ای تربی بحفظی والطعف علی علتہ مضمرۃ مثل لیتعطف علیک ثم جئت علی قدر قدر کے دو معنی ایک قدرت کے اے موسیٰ ! ہماری قدرت سے تو اس جگہ آیا یعنی ہم تجھ کو یہاں کلام کرنے کے موقع میں لائے۔ دوم مقدار معین کے یعنی مدت معین کے۔ بعد تو آیا میں نے تجھ کو اپنے لیے منتخب کرلیا ہے اب تم دونوں بھائی فرعون کے پاس جاؤ اور ہمارے آیات یعنی معجزات تمہاری شہادت کے لیے تمہارے ساتھ ہیں اور میری یاد میں سستی نہ کرنا۔ ذکرِ الٰہی میں ایک بڑی قوت ہے جس سے ہیبت اور وقار پیدا ہوتا ہے گردن کشوں کی گردنیں سامنے جھک جاتی ہیں ‘ دل میں قوت اور کام میں سہولت پیدا ہوتی ہے، روحانیت کا غلبہ رہتا ہے جس سے بڑے بڑے کام سرانجام پاتے ہیں۔ کلام تمام کر کے فرماتا ہے اذھب انت واخوک کہ اے موسیٰ ! تم اپنے بھائی ہارون کو ساتھ لے کر فرعون کے پاس جائو
Ayah 20:44

فَقُوْلَا لَهٗ قَوْلًا لَّیِّنًا لَّعَلَّهٗ یَتَذَكَّرُ اَوْ یَخْشٰى Open ayah 20:44 in the Quran reader

پس اس سے (جا کر نرمی) سے بات کرنا شاید وہ سمجھ جائے اور خدا سے ڈرے۔

اور فقولا لہ قولا لینا اس سے نرمی سے بات کرنا کیونکہ عموماً نرمی نصیحت کے لیے ایسی ہے کہ جیسا جسم کے لیے روح۔ سختی سے دل پر اثر نہیں ہوتا۔ خصوصاً جبار اور بھی بگڑ جاتے ہیں اس لیے فرمایا کہ لعلہ یتذکر اویخشیٰ موسیٰ ( علیہ السلام) نے ازخود اپنے بھائی کی طرف سے بھی (کیونکہ اس وقت ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) مصر میں تھے) عذر کیا کہ اس میں ان کے ظلم و سرکشی کا خوف ہے۔ قال ربنا الخ خدا تعالیٰ نے ان کی تسلی کی لا تخافا الخ کہ میں تمہارے ساتھ ہوں فاتیہ اس کے پاس جا کر فقولا یہ کہو انارسول ربک الخ یہاں سے لے کر من کذب وتولی تک اسی پیغام کی تقریر ہے۔ پھر قال فمن ربکما سے فرعون اور حضرت (علیہ السلام) کی گفتگو کا بیان ہے جو انہوں نے فرعون کے دربار میں کی تھی۔ اول فرعون نے پوچھا کہ تمہارا رب کون ہے ؟ فرعون فرقہ صابیہ میں تھا جو ستاروں کی پرستش کیا کرتے تھے اور اہل مصر کا بھی غالباً یہی مذہب تھا۔ وہ خدا تعالیٰ کے قائل تھے پھر جو وہ انا ربکم الاعلٰی کہتا ہے اور موسیٰ ( علیہ السلام) سے رب سے متعلق سوال کرتا تھا غالباً اس کی یہ وجہ تھی کہ وہ اپنی شوکت و دولت اور ان طلسمات کے زور پر جو اس عہد میں تھے رعیت پر رعب جمانے کے لیے اپنے آپ کو رب 1 ؎ کہتا تھا جیسا کہ قدیم زمانہ میں بعض بادشاہوں کا دستور تھا۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے یہ جواب دیا کہ ہمارا رب تو وہ ہے جس نے ہر ایک چیز کو اس کی مناسب صورت پر پیدا کیا۔ انسان اور اس کے ہر عضو کو۔ خیال کیجئے جس موقع پر آنکھوں کا لگانا مناسب تھا وہاں آنکھیں لگائیں، کان کی جگہ کان، ہر چیز میں یہی کاریگری ملحوظ ہے اعطٰی کل شیئٍ خلقہ کے یہی معنی ہیں اور اسی لیے اس کی جگہ خلق کل شیئٍ نہ کہا پھر جسم کے اندر تو یہ صنعت کی ہی تھی لیکن ان کے مصالح دنیا و آخرت کے لیے ان کو قوائے ظاہرہ و باطنہ بھی دیے کماقال ثم ھدی یہاں تک کہ مکھی اور مچھر بھی اپنی تدابیر سے غافل نہیں۔ پھر یہ باتیں بجزمدبر عالم کے اور کون کرسکتا ہے ؟ فرعون کو اس کا تو کچھ جواب نہ آیا مگر جاہلانہ طور پر یہ سوال کیا فما بال الخ کہ پہلے لوگ صدہا برس سے اسی مذہب پر تھے۔ بت پرستی کیا کرتے تھے پھر ان کا کیا حال ہوگا وہ تو سب گمراہ ٹھہرتے ہیں اور قابل عذاب۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کا مجملاً جواب دیا کہ ان کا حال تو خدا کو معلوم ہے پھر آگے اور چند اوصاف اللہ تعالیٰ کے ایسے بیان کئے کہ جن سے فرعون کو یہ معلوم ہوجائے کہ دراصل رب اور ہی کوئی ہے جس نے زمین بنائی، رستے نکالے، پانی برساتا ہے۔ 1 ؎ کل کا پرورش کرنے والا نہ کہ خدا جبار۔ بادشاہوں کا ایسا خیال کچھ بعید نہیں قوم ہنود کے راجہ ان داتا کہلاتے ہیں اور پوجے جاتے ہیں، نمرود کا بھی یہی حال تھا۔ 12 منہ۔
Ayahs 20:45–49

قَالَا رَبَّنَاۤ اِنَّنَا نَخَافُ اَنْ یَّفْرُطَ عَلَیْنَاۤ اَوْ اَنْ یَّطْغٰى Open ayah 20:45 in the Quran reader

دونوں نے عرض کی کہ اے رب ! ہمیں خوف ہے کہ کہیں وہ ہم پر زیادتی نہ کرے یا سرکشی کرنے لگے۔

قَالَ لَا تَخَافَاۤ اِنَّنِیْ مَعَكُمَاۤ اَسْمَعُ وَ اَرٰى Open ayah 20:46 in the Quran reader

فرمایا کہ ڈرو مت میں تو تمہارے ساتھ سنتا اور دیکھتا ہوں۔

فَاْتِیٰهُ فَقُوْلَاۤ اِنَّا رَسُوْلَا رَبِّكَ فَاَرْسِلْ مَعَنَا بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ١ۙ۬ وَ لَا تُعَذِّبْهُمْ١ؕ قَدْ جِئْنٰكَ بِاٰیَةٍ مِّنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ السَّلٰمُ عَلٰى مَنِ اتَّبَعَ الْهُدٰى Open ayah 20:47 in the Quran reader

پس تم دونوں اس کے پاس جاؤ اور کہو کہ ہم تیرے رب کی طرف سے پیغام لے کر آئے ہیں کہ ہمارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے دیجئے اور ان کو (کسی طرح کی) تکلیف نہ دو ۔ البتہ ہم آپ کے پاس آپ کے رب کی طرف سے نشانی لے کر آئے اور سلامتی اس کے لیے ہے جو راہ راست پر چلے۔

اِنَّا قَدْ اُوْحِیَ اِلَیْنَاۤ اَنَّ الْعَذَابَ عَلٰى مَنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى Open ayah 20:48 in the Quran reader

بیشک ہم کو حکم سنا دیا گیا ہے کہ عذاب اسی پر نازل ہوگا جو اللہ کے حکم کو جھٹلا دے اور منہ پھیر لے۔

قَالَ فَمَنْ رَّبُّكُمَا یٰمُوْسٰى Open ayah 20:49 in the Quran reader

فرعون نے کہا اے موسیٰ پھر تمہارا رب کون سا ہے۔

تفسیر : باہمی گفتگو کے بعد فرعون نے جبکہ دربار میں موسیٰ کے معجزے دیکھے یہ کہہ دیا کہ یہ جادوگر ہے۔ جادو کے زور سے لوگوں کو یہاں سے باہر لے جانا چاہتا ہے۔ سو ہم بھی اس کے مقابلہ میں ایسا ہی سحر لا ویں گے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) سے مقابلہ کی ٹھہری اور وقت مقرر کرایا۔ موسیٰ نے کہا یوم الزینۃ جشن کا دن۔ مصریوں کے ہاں سال بھر کے بعد ایک بڑا جشن ہوتا تھا جس طرح ہندوئوں کے میلے ہوتے ہیں، بتوں کی پرستش کے لیے یہ اس لیے کہ اسی روز مجمع عام ہوگا سب لوگوں کو امر حق معلوم ہوجائے گا۔ فرعون نے جابجا بڑے بڑے جادوگروں کے پاس آدمی بھیجے اور ان کو انعام کا وعدہ دیا اس عہد میں طلسم ونیر نجات کا ازحد چرچا تھا جیسا کہ مصر کی تاریخ اور فراعنہ کے تعمیر کردہ مکانات سے معلوم ہوتا ہے۔ کوئی کہتا تھا کہ یہ بھی ہمارے علم کا بڑا ماہر ہے۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے مقابلہ کے وقت انہیں سمجھایا کہ بدنصیبو ! ایسی باتیں نہ کرو اور اس بت پرستی کو خدا کی طرف منسوب نہ کرو کہ اس نے حکم دیا ہے کیونکہ خدا پر جھوٹی باتیں بنانے والا فلاح نہیں پاتا۔ آخرکار مجمع عام میں جادوگروں نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے کہا یا تو اول آپ اپنے عصا کا کچھ کرشمہ دکھائیے (کیونکہ معلوم ہوچکا تھا کہ فرعون کے دربار میں موسیٰ ( علیہ السلام) نے ہاتھ سے جب عصا ڈالا تو اژدہا بن گیا تھا) یا ہم ڈالیں۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا تمہیں ڈالو، ان کے ڈالنے سے ان کی وہ رسیاں اور لکڑیاں طلسم یا کسی شعبدہ کی وجہ سے موسیٰ ( علیہ السلام) کو حرکت کرتی ہوئی دکھائی دینے لگیں اور موسیٰ ( علیہ السلام) دل میں ڈر گئے۔ خدا تعالیٰ نے فرمایا مت ڈر تو ہی تو غالب رہے گا اور اپنا عصا تو بھی ہاتھ سے ڈال دے۔ چناچہ ڈالتے ہی اژدہا بن گیا اور ان کے سب سانپوں کو لقمہ کر گیا۔ فرماتا ہے کہ ساحر کو کہیں حق کے مقابلہ میں کامیابی اور فلاح ہوتی ہے۔ جادوگروں نے جب یہ دیکھا کہ موسیٰ کا یہ کام جادو اور طلسم کی قوت سے بڑھ کر ہے (اور ہر فن کو اس کا اہل ہی خوب جانا کرتا ہے اور اس لیے……
Ayahs 20:50–57

قَالَ رَبُّنَا الَّذِیْۤ اَعْطٰى كُلَّ شَیْءٍ خَلْقَهٗ ثُمَّ هَدٰى Open ayah 20:50 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ہمارا رب وہ ہے کہ جس نے ہر چیز کو اس کی صورت خاص عطا کی پھر رہنمائی 1 ؎ کی۔

قَالَ فَمَا بَالُ الْقُرُوْنِ الْاُوْلٰى Open ayah 20:51 in the Quran reader

فرعون نے کہا پھر پہلے قرن والوں کا کیا حال ہے۔

قَالَ عِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّیْ فِیْ كِتٰبٍ١ۚ لَا یَضِلُّ رَبِّیْ وَ لَا یَنْسَى٘ Open ayah 20:52 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا ان کی خبر تو میرے رب کے پاس کتاب میں ہے نہ میرا رب بہکتا ہے نہ بھولتا ہے۔

الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ مَهْدًا وَّ سَلَكَ لَكُمْ فِیْهَا سُبُلًا وَّ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ؕ فَاَخْرَجْنَا بِهٖۤ اَزْوَاجًا مِّنْ نَّبَاتٍ شَتّٰى Open ayah 20:53 in the Quran reader

وہ ہے کہ جس نے تمہارے لیے زمین کو فرش کردیا اور اس میں تمہارے لیے رستے چلائے اور آسمان سے پانی برسایا۔ پھر اس سے ہر قسم کے مختلف نباتات پیدا کئے

كُلُوْا وَ ارْعَوْا اَنْعَامَكُمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّاُولِی النُّهٰى۠ Open ayah 20:54 in the Quran reader

(اور اجازت دی) کہ کھاؤ اور اپنے چارپایوں کو بھی چرائو۔ بیشک عقلمندوں کے لیے اس میں بڑی نشانیاں ہیں۔

مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَ فِیْهَا نُعِیْدُكُمْ وَ مِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرٰى Open ayah 20:55 in the Quran reader

ہم نے تم کو زمین ہی سے پیدا کیا اور پھر تم کو اسی میں لے جائیں گے اور اسی سے تم کو باردگر نکالیں گے

وَ لَقَدْ اَرَیْنٰهُ اٰیٰتِنَا كُلَّهَا فَكَذَّبَ وَ اَبٰى Open ayah 20:56 in the Quran reader

اور البتہ ہم نے فرعون کو اپنی سب ہی نشانیاں تو دکھائیں پر وہ جھٹلاتا اور انکار ہی کرتا رہا۔

قَالَ اَجِئْتَنَا لِتُخْرِجَنَا مِنْ اَرْضِنَا بِسِحْرِكَ یٰمُوْسٰى Open ayah 20:57 in the Quran reader

کہنے لگا کہ اے موسیٰ ! تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم کو ہمارے ملک سے اپنے جادو کے زور سے نکال دے۔ پھر ہم بھی تیرے مقابلہ میں ویسا ہی جادو لاتے ہیں۔

1 ؎ ہر مخلوق کو ایک مناسب شکل دی ہے جو اس سے بہتر یا دوسرے جنام میں نہیں آسکتی اور تکمیل پیدائش کر کے ہر ایک کو اس کے مناسب اغراض کی رہنمائی کی۔ 12۔
Ayahs 20:58–62

فَلَنَاْتِیَنَّكَ بِسِحْرٍ مِّثْلِهٖ فَاجْعَلْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكَ مَوْعِدًا لَّا نُخْلِفُهٗ نَحْنُ وَ لَاۤ اَنْتَ مَكَانًا سُوًى Open ayah 20:58 in the Quran reader

پس تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وقت مقرر کرلے کہ جس سے نہ ہم خلاف کریں اور نہ تو ایک کھلے میدان میں مقابلہ ہوجائے۔

قَالَ مَوْعِدُكُمْ یَوْمُ الزِّیْنَةِ وَ اَنْ یُّحْشَرَ النَّاسُ ضُحًى Open ayah 20:59 in the Quran reader

موسیٰ نے کہا تمہارا وقت جشن کا دن ہے اور لوگوں کو دن چڑھے جمع کرلینا چاہیے۔

فَتَوَلّٰى فِرْعَوْنُ فَجَمَعَ كَیْدَهٗ ثُمَّ اَتٰى Open ayah 20:60 in the Quran reader

پھر فرعون نے اپنی جگہ پر جا کر اپنے مکر کا سب سامان فراہم کیا (اور وقت مقرر پر سب کو لے کر) آیا۔

قَالَ لَهُمْ مُّوْسٰى وَیْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوْا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا فَیُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ١ۚ وَ قَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰى Open ayah 20:61 in the Quran reader

موسیٰ نے (ان جادوگروں سے) کہا او کم بختو ! خدا پر بہتان نہ باندھو ورنہ وہ کسی عذاب سے تمہارا ستیاناس کر دے گا اور بیشک جس نے جھوٹ بنایا وہ غارت ہوا۔

فَتَنَازَعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ وَ اَسَرُّوا النَّجْوٰى Open ayah 20:62 in the Quran reader

پس جادوگروں کا باہم اختلاف ہوا اور چپکے چپکے سرگوشیاں کرنے لگے،

انتصاب مکاناسوی بفعل دل علیہ المصدر اوبانہ یدل من موعد اعلیٰ تقدیر مکان مضاف الیہ۔ 12 منہ