19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 19:77–95

اَفَرَءَیْتَ الَّذِیْ كَفَرَ بِاٰیٰتِنَا وَ قَالَ لَاُوْتَیَنَّ مَالًا وَّ وَلَدًاؕ Open ayah 19:77 in the Quran reader

بھلا تم نے اس کو بھی دیکھا کہ جو ہماری آیتوں کا منکر ہوگیا اور کہتا ہے کہ مجھے ضرور مال اور اولاد ملے گی

اَطَّلَعَ الْغَیْبَ اَمِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۙ Open ayah 19:78 in the Quran reader

کیا وہ غیب پر مطلع ہوگیا یا اس نے اللہ سے اقرار لے رکھا ہے

كَلَّا١ؕ سَنَكْتُبُ مَا یَقُوْلُ وَ نَمُدُّ لَهٗ مِنَ الْعَذَابِ مَدًّاۙ Open ayah 19:79 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! ہم لکھتے جاتے ہیں جو کچھ وہ کہتا ہے اور اس کے لیے عذاب بڑھاتے جاتے ہیں

وَّ نَرِثُهٗ مَا یَقُوْلُ وَ یَاْتِیْنَا فَرْدًا Open ayah 19:80 in the Quran reader

اور جو کچھ وہ کہتا ہے اس کے ہم وارث ہوجائیں گے اور ہمارے پاس تنہا آئے گا

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لِّیَكُوْنُوْا لَهُمْ عِزًّاۙ Open ayah 19:81 in the Quran reader

اور مشرکوں نے اللہ کے سوا معبود بنا رکھے ہیں تاکہ وہ ان کے لیے حامی و مددگار ہوں

كَلَّا١ؕ سَیَكْفُرُوْنَ بِعِبَادَتِهِمْ وَ یَكُوْنُوْنَ عَلَیْهِمْ ضِدًّا۠ Open ayah 19:82 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! وہ تو بہت جلد ان کی عبادت کا انکار کردیں گے اور ان کے مخالف ہوجائیں گے۔

اَلَمْ تَرَ اَنَّاۤ اَرْسَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ تَؤُزُّهُمْ اَزًّاۙ Open ayah 19:83 in the Quran reader

(اے نبی ! ) کیا تم نے اس بات کو نہیں دیکھا کہ ہم نے شیطانوں کو ان پر چھوڑ رکھا ہے کہ وہ ان کو ابھارتے رہتے ہیں

فَلَا تَعْجَلْ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ Open ayah 19:84 in the Quran reader

آپ ان کے لیے عذاب کی جلدی نہ کیجئے ہم خود ان کی مدت گن رہے ہیں۔

یَوْمَ نَحْشُرُ الْمُتَّقِیْنَ اِلَى الرَّحْمٰنِ وَفْدًاۙ Open ayah 19:85 in the Quran reader

جس روز کہ ہم پرہیزگاروں کو رحمان کے پاس مہمان بنا کر جمع کریں گے

وَّ نَسُوْقُ الْمُجْرِمِیْنَ اِلٰى جَهَنَّمَ وِرْدًاۘ Open ayah 19:86 in the Quran reader

اور گنہگاروں کو جہنم کی طرف پیاسا ہانکیں گے

لَا یَمْلِكُوْنَ الشَّفَاعَةَ اِلَّا مَنِ اتَّخَذَ عِنْدَ الرَّحْمٰنِ عَهْدًاۘ Open ayah 19:87 in the Quran reader

وہ سفارش کی قدرت نہ رکھیں گے مگر وہ شخص کہ جس نے رحمان کے پاس سے اجازت حاصل کی ہے۔

وَ قَالُوا اتَّخَذَ الرَّحْمٰنُ وَلَدًاؕ Open ayah 19:88 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ رحمان نے بیٹا بنا لیا ہے

لَقَدْ جِئْتُمْ شَیْئًا اِدًّاۙ Open ayah 19:89 in the Quran reader

(کہہ دو ) یہ تو تم ایسی سخت بات گھڑ لائے ہو

تَكَادُ السَّمٰوٰتُ یَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَ تَنْشَقُّ الْاَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ هَدًّاۙ Open ayah 19:90 in the Quran reader

کہ جس سے ابھی آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے اور پہاڑ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر پڑیں

اَنْ دَعَوْا لِلرَّحْمٰنِ وَلَدًاۚ Open ayah 19:91 in the Quran reader

اس بات پر کہ انہوں نے رحمان کے لیے بیٹا ثابت کیا

وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لِلرَّحْمٰنِ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًاؕ Open ayah 19:92 in the Quran reader

اور رحمان کی یہ شان ہی نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے

اِنْ كُلُّ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ اِلَّاۤ اٰتِی الرَّحْمٰنِ عَبْدًاؕ Open ayah 19:93 in the Quran reader

جو کچھ کہ آسمانوں اور زمین میں ہے ان میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جو رحمان کا بندہ بن کر نہ آئے۔

لَقَدْ اَحْصٰىهُمْ وَ عَدَّهُمْ عَدًّاؕ Open ayah 19:94 in the Quran reader

اللہ نے ان کو شمار کر رکھا ہے اور ان کی گنتی گن رکھی ہے

وَ كُلُّهُمْ اٰتِیْهِ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فَرْدًا Open ayah 19:95 in the Quran reader

اور ہر ایک ان میں سے قیامت کے دن اس کے پاس تن تنہا آئے گا۔

تفسیر : پہلے فرمایا تھا کہ ان بزرگواروں کے بعد ناخلف پیدا ہوئے اب یہاں ایک ناخلف کی کیفیت بیان فرماتا ہے جس کو افرایت سے شروع کرتا ہے جس کی بابت بخاری، مسلم وغیرہما نے روایت کیا ہے کہ خباب بن ارت ؓ کہتے ہیں کہ میں عاص بن وائل سہمی کے پاس تقاضے کے لیے گیا اس نے کہا تو محمد ﷺ کا منکر ہوجائے تو تیرا قرضہ دے دوں میں نے کہا ہرگز نہ ہوگا یہاں تک کہ تو مر کر بھی جی اٹھے۔ اس نے کہا میں مر کر جب زندہ ہوں گا تو وہاں بھی میرے پاس مال و اسباب ہوگا وہاں تجھ کو دے دوں گا اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی کہ وہ جو یہ کہتا ہے کیا اس کو علم غیب ہے یا خدا سے اس نے عہد لے لیا ہے۔ سو یہ ہرگز نہیں۔ ہم اس کے گناہ لکھتے جاتے ہیں اور دنیا کا مال و اسباب چھوڑ کر تنہا ہمارے پاس حاضر ہوگا اور جس طرح یہاں اس کو مال پر مال دیا جاتا ہے اس کی ناشکری میں عذاب پر عذاب دیا جائے گا اور اس افزائشِ اولاد و مال کو بتوں اور غیر اللہ کی پرستش کا نتیجہ سمجھتے ہیں اور اس لیے آخرت کی بھلائی کی بھی ان سے امید رکھتے ہیں اور وہاں کی عزت کے ان سے جویاں ہیں۔ کلا یہ ان کا غلط خیال ہے جس طرح دنیا میں غیر خدا کوئی بھی عالم پر تصرف نہیں کرسکتا اسی طرح اس عالم میں عزت دنیا تو درکنار ان کے وہ فرضی معبود ان کی عبادت ہی کا انکار کریں گے اور کہیں گے کہ ہم تمہیں نہیں جانتے بلکہ ان کے مخالف بن جائیں گے۔ یہ محض شیطانی خیالات ہیں جو ان مشرکوں کے دلوں میں شیطان ڈالتے ہیں اور ان کو بت پرستی کی طرف اکساتے رہتے ہیں۔ اس نمک حرامی کی سزا کا ان کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ اے نبی ! اس کی جلدی نہ کیجئے اور وہ جزاء و سزا کا اصلی وقت قیامت ہے۔ اب قیامت کا اجمالی حال بیان فرمایا جاتا ہے کہ پرہیزگار جوق در جوق خدا کی طرف انعام و اکرام کے لیے بلائے جائیں گے اور خدا کے مجرم اس کے سوا دوسروں کو پوجنے والے اس کی حکم عدولی کرنے والے جوق در جوق جہنم کی طرف ہانکے جائیں گے اور وہاں کوئی بھی کسی کے لیے سفارش کرنے میں لب کشائی نہ کرسکے گا مگر وہی کہ جس کے لیے خدا کے ہاں اقرار ہوچکا ہے حضرات انبیاء ‘ اولیاء ‘ صلحاء لیکن وہ بھی کس کے لیے صرف انہیں کے لیے جنہوں نے دنیا میں خدا پرستی و ایمان کے سبب اپنے خدا کے پاس عہد مغفرت قائم کرا لیا ہے۔ وقالو اتخذ الرحمن ولدا سے اور دیگر ناخلفوں کا بیان فرماتا ہے جو خدا تعالیٰ کے لیے بیٹا ثابت کرتے ہیں جیسا کہ نصاریٰ وغیرہ۔ فرماتا ہے یہ بڑی سخت بات ہے کہ جس سے آسمان پھٹ پڑیں اور زمین شق ہوجائے کیونکہ یہ اس کی شان ہی نہیں کہ وہ کسی کو بھی بیٹا بنائے۔ یہ اس کے تقدس اور وجوب وجود کے سراسرخلاف ہے کس لیے کہ آسمان و زمین کی سب مخلوق اس کے آگے غلاموں کی طرح دست بستہ ہے پھر اس کو بیٹا بنا کر اپنا پشت و پناہ بنانا فضول ہے۔ اس پر عتاب کرتا ہے کہ ہم نے ان سب کو شمار کر رکھا ہے مجرم ہماری نگاہوں میں ہیں۔ دربار قیامت میں ہر ایک تن تنہا حاضر ہوگا اولاد و مال اور ان کے معبود کوئی بھی ساتھ نہ ہوگا۔ اس کے بعد ایمان و اعمال صالحہ کی خوبی بیان فرماتا ہے ان الذین امنوا کہ ایمانداروں، نیکوکاروں میں خدا باہمی محبت پیدا کرے گا۔ دنیا میں بھی ایک دوسرے سے محبت رکھتا ہے اور آخرت میں بھی رکھے گا کس لیے کہ جس کا مقصد خدائے واحد ہے برخلاف بت پرستوں بدکاروں کے کہ ان کے اغراض مخالف ہیں۔ اس لیے وہاں بھی ان میں محبت حقیقی نہ ہوگی۔ ایک دوسرے پر لعنت کرے گا اس کے یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ خدا ان لوگوں سے محبت کرے گا اور مشرکوں کو بنظر قہر دیکھے گا اور یہ بھی معنی ہوسکتے ہیں کہ ان کی محبت مخلوق کے دل میں ڈالے گا۔ اہل مکہ کہتے تھے کہ عربی میں کیوں قرآن اترا اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ ان جھگڑالوں کو سمجھایا جائے اگر عربی زبان نہ ہوتی تو عرب کچھ بھی نہ سمجھتے۔ اس کے بعد ان کے غرور حشم پر تازیانہ مارتا ہے کہ ہم نے ان سے بھی بڑھ بڑھ کر قومیں غارت کردی ہیں بھلا ان کا کوئی بھی نام و نشان باقی ہے۔
Ayahs 19:96–98

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ سَیَجْعَلُ لَهُمُ الرَّحْمٰنُ وُدًّا Open ayah 19:96 in the Quran reader

بیشک جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے عنقریب ان کے لیے رحمان محبت 1 ؎ پیدا کرے گا۔

فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ لِتُبَشِّرَ بِهِ الْمُتَّقِیْنَ وَ تُنْذِرَ بِهٖ قَوْمًا لُّدًّا Open ayah 19:97 in the Quran reader

سو ہم نے قرآن کو آپ کی زبان میں اس لیے آسان کردیا ہے کہ آپ اس سے پرہیزگاروں کو مژدہ سنا دیں اور جھگڑالو قوم کو خوف دلائیں

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ١ؕ هَلْ تُحِسُّ مِنْهُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَوْ تَسْمَعُ لَهُمْ رِكْزًا۠ Open ayah 19:98 in the Quran reader

اور ان سے پہلے ہم کتنے ایک قرن ہلاک کرچکے ہیں۔ بھلا ان میں سے کوئی بھی تمہیں دکھائی دیتا ہے یا کسی کی کچھ آواز بھی سنائی دیتی ہے۔

1 ؎ وہ محبوب خلائق ہوجائیں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔ 12۔