19. Surah Maryam

مريمMary · 98 ayahsتفسیرِ حقانی

Ayahs 19:41–43

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ١ؕ۬ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا Open ayah 19:41 in the Quran reader

اور کتاب میں ابراہیم کا ذکر کرو بیشک وہ ایک نبی صادق تھے

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ یٰۤاَبَتِ لِمَ تَعْبُدُ مَا لَا یَسْمَعُ وَ لَا یُبْصِرُ وَ لَا یُغْنِیْ عَنْكَ شَیْئًا Open ayah 19:42 in the Quran reader

جبکہ اس نے اپنے باپ سے کہا کہ اے میرے باپ ! آپ اس چیز کی کیوں عبادت کرتے ہو کہ جو نہ سن سکتی ہے اور نہ دیکھ سکتی ہے اور جو نہ آپ کے کسی کام آسکتی ہے۔

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْ قَدْ جَآءَنِیْ مِنَ الْعِلْمِ مَا لَمْ یَاْتِكَ فَاتَّبِعْنِیْۤ اَهْدِكَ صِرَاطًا سَوِیًّا Open ayah 19:43 in the Quran reader

اے میرے باپ ! بیشک مجھے وہ علم حاصل ہوا ہے جو آپ کو حاصل نہیں ہوا سو آپ میرے کہنے پر چلیے تاکہ میں آپ کو سیدھا رستہ دکھائوں۔

تفسیر … ابراہیم (علیہ السلام) کا قصہ : یہ تیسرا تذکرہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ہے۔ یہ ان کی اس وقت کی ثابت قدمی اور خدا پرستی مذکور ہے کہ جب ابتدائِ شباب میں انہوں نے بت پرستی کو حقیر جان کر اپنے باپ کو اس سے منع کیا اور آخر کار محض اللہ کے لیے اپنے باپ کو چھوڑا کہ جس کی محبت نے ابراہیم کو اس لیے خدا سے معافی مانگنے پر آمادہ کیا اور اس کے لیے ابراہیم (علیہ السلام) نے وعدہ بھی کرلیا پھر مہاجرت کے بعد خدا تعالیٰ نے اس کو اسحاق اور اسحاق کو یعقوب برگزیدہ پیغمبر فرزند عطا کیا۔ یہ نتیجہ ہے خدا کی فرمانبرداری کا۔ یعقوب (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پوتے ہیں لیکن ایسا اولوالعزم پوتا بھی دادا کا نام روشن کرنے والا گویا دادا کو فرزند ارجمند عطا کرنا ہے اس لیے وھبنالہ اسحاق و یعقوب فرمایا اسحاق کے بعد اس کے لیے علاوہ اور صدہا چیزیں خدا نے یعقوب و اسحاق و ابراہیم کو عطا کیں تھیں اور سب سے بڑھ کر لسان صدق علیا عطا کی یعنی ان کی ثنا وصف لوگ ان کے پیچھے کرتے رہیں گے۔ لسان صدق ثنائِ حسن ذکر جمیل۔ چونکہ یہ زبان سے پایا جاتا ہے اس لیے اس کو زبان سے تعبیر کیا گیا جیسا کہ جو احسان ہاتھ سے کئے جاتے ہیں ان کو ید سے تعبیر کرتے ہیں۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دعا کی تھی واجعل لی لسان صدق فی الاخرین۔ خدا تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کرلی جس کا اثر یہ ہے کہ آج تک حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تخمیناً دو ثلث سے زائد بنی آدم کے پیشوا مانے جاتے ہیں۔ یہود عیسائی وغیرہم ان کو بڑائی سے یاد کرتے ہیں۔ اہل اسلام پنج وقتہ نماز میں ان پر درود بھیجتے ہیں۔ اپنے نبی خاتم المرسلین (علیہ السلام) کے ساتھ اللہم صلی علی محمد و علٰی آل محمد کما صلیت علیٰ ابراہیم و… وعلیٰ آل ابراھیم انک حمید مجید کہتے ہیں۔ آل ابراہیم میں اسحاق و اسماعیل و یعقوب (علیہم السلام) کی طرف اشارہ ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کے تذکرہ میں خدا تعالیٰ عرب کے مشرکوں کو یہ سمجھاتا ہے کہ تم جو باپ دادا کی تقلید کر کے بت پرستی کرتے ہو ایسا نہ چاہیے کیونکہ ابراہیم کہ جس کو تم بھی بزرگ مانتے ہو انہوں نے باپ کا کہنا نہ مانا ان کی تقلید نہ کی اور نیز یہ بھی ہے کہ اگر باپ دادا کی تقلید کرنی ہے تو ابراہیم کی اور ان کی اولاد کی کیوں نہیں کرتے ؟ ملیامدۃ طویلۃ وقیل سالما ابراہیم ( علیہ السلام) نے باپ کے لیے استغفار کا وعدہ کیا تھا اس کے موجب استغفار کیا مگر جب معلوم ہوا کہ اللہ کی مرضی نہیں پھر اس سے بری ہوگئے۔
Ayahs 19:44–45

یٰۤاَبَتِ لَا تَعْبُدِ الشَّیْطٰنَ١ؕ اِنَّ الشَّیْطٰنَ كَانَ لِلرَّحْمٰنِ عَصِیًّا Open ayah 19:44 in the Quran reader

اے میرے باپ ! شیطان کی عبادت 4 ؎ نہ کرو کیونکہ شیطان تو خدا کا نافرمان ہے۔

یٰۤاَبَتِ اِنِّیْۤ اَخَافُ اَنْ یَّمَسَّكَ عَذَابٌ مِّنَ الرَّحْمٰنِ فَتَكُوْنَ لِلشَّیْطٰنِ وَلِیًّا Open ayah 19:45 in the Quran reader

اے میرے باپ ! مجھے ڈر لگتا ہے کہ کہیں تم پر خدا تعالیٰ کا عذاب نہ آپڑے پھر تم بھی شیطان کے ساتھی ہوجائو۔

4 ؎ یعنی بت 12 4 ؎ یعنی اس کا کہنا نہ مان جو وہ بت پرستی کی ترغیب دل میں دلاتا ہے۔ 12 منہ
Ayah 19:46

قَالَ اَرَاغِبٌ اَنْتَ عَنْ اٰلِهَتِیْ یٰۤاِبْرٰهِیْمُ١ۚ لَئِنْ لَّمْ تَنْتَهِ لَاَرْجُمَنَّكَ وَ اهْجُرْنِیْ مَلِیًّا Open ayah 19:46 in the Quran reader

اس نے کہا اے ابراہیم ! کیا تو میرے معبودوں سے پھرا ہوا ہے اگر تو باز نہ آئے گا تو میں تجھے سنگسار ہی کر ڈالوں گا اور خیر سے میرے پاس سے جا دور ہو۔

ملیاز مانا طولم قال الکسائی مومن المسلاوۃ یقال ہجرۃ ملووۃ و ملادۃ وقال ابن جریر وھو المردی عن ابن عباس معناہ اعترلنی ساک العرض لا تصبکبہ منی مصرہ عقوبۃ 12 منہ۔
Ayahs 19:47–50

قَالَ سَلٰمٌ عَلَیْكَ١ۚ سَاَسْتَغْفِرُ لَكَ رَبِّیْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ بِیْ حَفِیًّا Open ayah 19:47 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا (بہتر) تو میرا آپ کو سلام ہے (پر) آپ کے لیے میں اپنے پروردگار سے مغفرت کی دعا ہی کروں گا کیونکہ وہ مجھ پر بڑا مہربان ہے

وَ اَعْتَزِلُكُمْ وَ مَا تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ اَدْعُوْا رَبِّیْ١ۖ٘ عَسٰۤى اَلَّاۤ اَكُوْنَ بِدُعَآءِ رَبِّیْ شَقِیًّا Open ayah 19:48 in the Quran reader

اور میں نے تمہیں بھی چھوڑا اور تمہارے ان معبودوں کو بھی کہ جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہو اور میں تو اپنے رب ہی کو پکارا کروں گا۔ امید ہے کہ میں اپنے رب کو پکار کر محروم نہ رہوں گا۔

فَلَمَّا اعْتَزَلَهُمْ وَ مَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ۙ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا نَبِیًّا Open ayah 19:49 in the Quran reader

پھر ابراہیم نے ان سے اور ان کے معبودوں سے کہ جن کو وہ اللہ کے سوا پوجا کرتے تھے کنارہ کیا۔ ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب عطا کیا اور ہم نے ہر ایک کو نبی بنایا

وَ وَهَبْنَا لَهُمْ مِّنْ رَّحْمَتِنَا وَ جَعَلْنَا لَهُمْ لِسَانَ صِدْقٍ عَلِیًّا۠ Open ayah 19:50 in the Quran reader

اور ہم نے اپنی رحمت سے بہت کچھ بخشا اور ان کے لیے ہم نے ذکر خیر کا آوازہ بلند کیا (کہ ابد تک لوگ ان کو عزت سے یاد کریں گے)

حفیا قال الکسائی یقال جفی بی حفادۃ وعقوۃ ای اعتنی ای وبالغ فی اکرامی وقدیحیٰ بمعنی المشتقصی فی السوال ومنجی قولہ تعالیٰ کا حصی عنہھا۔ 12 منہ
Ayahs 19:51–63

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ مُوْسٰۤى١٘ اِنَّهٗ كَانَ مُخْلَصًا وَّ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّا Open ayah 19:51 in the Quran reader

اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر (یاد) کرو کیوں وہ خاص بندے اور نبی صاحب کتاب تھے

وَ نَادَیْنٰهُ مِنْ جَانِبِ الطُّوْرِ الْاَیْمَنِ وَ قَرَّبْنٰهُ نَجِیًّا Open ayah 19:52 in the Quran reader

اور ہم نے اس کو کوہ طور کے دائیں طرف سے پکارا اور رازداری کے لیے پاس بلایا

وَ وَهَبْنَا لَهٗ مِنْ رَّحْمَتِنَاۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ نَبِیًّا Open ayah 19:53 in the Quran reader

اور اس کو اپنی رحمت سے ان کے بھائی ہارون کو نبی بنا کر عطا کیا

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِسْمٰعِیْلَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صَادِقَ الْوَعْدِ وَ كَانَ رَسُوْلًا نَّبِیًّاۚ Open ayah 19:54 in the Quran reader

اور کتاب میں اسماعیل کا بھی ذکر (یاد) کرو کیونکہ وہ وعدہ کے سچے اور نبی بنا کر بھیجے گئے تھے

وَ كَانَ یَاْمُرُ اَهْلَهٗ بِالصَّلٰوةِ وَ الزَّكٰوةِ١۪ وَ كَانَ عِنْدَ رَبِّهٖ مَرْضِیًّا Open ayah 19:55 in the Quran reader

اور وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیا کرتے تھے اور اپنے رب کے نزدیک بڑے پسندیدہ تھے

وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِدْرِیْسَ١٘ اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّاۗۙ Open ayah 19:56 in the Quran reader

اور کتاب میں ادریس کا بھی ذکر (یاد) کرو بیشک وہ بڑے سچے نبی تھے

وَّ رَفَعْنٰهُ مَكَانًا عَلِیًّا Open ayah 19:57 in the Quran reader

اور ہم نے ان کو بلند جگہ بٹھایا۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ مِنْ ذُرِّیَّةِ اٰدَمَ١ۗ وَ مِمَّنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوْحٍ١٘ وَّ مِنْ ذُرِّیَّةِ اِبْرٰهِیْمَ وَ اِسْرَآءِیْلَ١٘ وَ مِمَّنْ هَدَیْنَا وَ اجْتَبَیْنَا١ؕ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُ الرَّحْمٰنِ خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ بُكِیًّا۩ Open ayah 19:58 in the Quran reader

یہ ہیں وہ انبیاء کہ جن پر اللہ نے کرم کیا تھا آدم کی نسل سے اور ان کی نسل سے کہ جن کو ہم نے نوح کے ساتھ سوار کیا تھا اور ابراہیم اور اسرائیل کی نسل میں سے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے کہ جن کو ہم نے راہ راست دکھائی اور برگزیدہ کیا تھا جب ان کے سامنے اللہ کی آیتیں پڑھی جایا کرتی تھیں تو سجدہ میں گر پڑا کرتے تھے اور روتے جاتے تھے

فَخَلَفَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ خَلْفٌ اَضَاعُوا الصَّلٰوةَ وَ اتَّبَعُوا الشَّهَوٰتِ فَسَوْفَ یَلْقَوْنَ غَیًّاۙ Open ayah 19:59 in the Quran reader

پھر ان کے بعد وہ ناخلف پیدا ہوئے کہ جنہوں نے نمازیں غارت کردیں اور نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑگئے پھر ان کی گمراہی بھی بہت جلد ان کے آگے آئے گی،

اِلَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَاُولٰٓئِكَ یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ شَیْئًاۙ Open ayah 19:60 in the Quran reader

مگر جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھے کام کئے سو یہی وہ لوگ ہیں کہ جو جنت میں داخل ہوں گے اور ان کا کوئی حق تلف نہ کیا جائے گا

جَنّٰتِ عَدْنِ اِ۟لَّتِیْ وَعَدَ الرَّحْمٰنُ عِبَادَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ وَعْدُهٗ مَاْتِیًّا Open ayah 19:61 in the Quran reader

اور وہ باغ ہمیشہ رہنے کے باغ ہیں جن کا رحمن نے غائبانہ اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے بیشک اس کا وعدہ پیش آ کر رہے گا

لَا یَسْمَعُوْنَ فِیْهَا لَغْوًا اِلَّا سَلٰمًا١ؕ وَ لَهُمْ رِزْقُهُمْ فِیْهَا بُكْرَةً وَّ عَشِیًّا Open ayah 19:62 in the Quran reader

وہ بہشت کہ جس میں کوئی خراب بات سننے میں نہ آئے گی مگر باہمی سلام کی آوازیں اور وہاں صبح و شام ان کے لیے کھانا تیار ملے گا

تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْ نُوْرِثُ مِنْ عِبَادِنَا مَنْ كَانَ تَقِیًّا Open ayah 19:63 in the Quran reader

یہ ہے وہ جنت کہ جس کا ہم اپنے بندوں میں سے اس کو وارث کرتے ہیں جو پرہیزگار ہوتا ہے۔

تفسیر : یہ چوتھا قصہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے کہ خدا نے ان کو کوہ طور کی جانب سے پکارا یعنی اننی انا اللہ الخ کے ساتھ موسیٰ کو خطاب کر کے کلام کیا اور اس شرف کے بعد دوسرا شرف یہ بخشا کہ ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو بھی ان کی مدد کے لیے نبی بنایا۔ واذکر فِی الکتاب اسماعیل یہ پانچواں تذکرہ حضرت اسماعیل ذبیح اللہ (علیہ السلام) کا ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے تھے چونکہ یہ ایک مستقل رتبہ کے شخص تھے اس لیے ان کو ان کے باپ کے ذیل میں ذکر نہ کیا بلکہ جداگانہ۔ ان کا پہلا وصف یہ ہے کہ کان صادق الوعد وعدے کے بڑے سچے تھے۔ مروی ہے کہ ایک شخص سے وعدہ کیا تھا کہ میں تمہارا فلاں جگہ انتظار کروں گا وہ اتفاقاً ایک برس تک نہ آیا آپ وہیں کھڑے رہے تو یہ ان کے صادق الوعد ہونے کی ایک ادنیٰ بات۔ دوم کان رسولاً نبیا یعنی صرف نبوت ہی حاصل نہ تھی بلکہ صاحب شریعت بھی تھے اور اسی لیے کان یامر الخ اپنے اہل و عیال کو جس میں علما کے نزدیک ان کی امت بھی شامل ہے نماز روزہ کی تاکید کیا کرتے تھے کامل و مکمل تھے اور اسی لیے کان عند الخ اپنے خدا کے نزدیک پسندیدہ بھی تھے پس اے قوم عرب تم کو اسماعیل کا اقتدالازم ہے جو تمہارا جدِّامجد تھا نہ اور بےہودہ جاہل باپ دادا کا۔
Ayahs 19:64–65

وَ مَا نَتَنَزَّلُ اِلَّا بِاَمْرِ رَبِّكَ١ۚ لَهٗ مَا بَیْنَ اَیْدِیْنَا وَ مَا خَلْفَنَا وَ مَا بَیْنَ ذٰلِكَ١ۚ وَ مَا كَانَ رَبُّكَ نَسِیًّاۚ Open ayah 19:64 in the Quran reader

(ملائکہ نے کہا) اور ہم آپ کے رب کے حکم کے بغیر اتر کر نہیں آیا کرتے۔ اسی کا ہے جو کچھ کہ ہمارے سامنے اور ہمارے پیچھے اور اس کے درمیان ہے اور آپ کا رب بھولنے والا نہیں۔

رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَیْنَهُمَا فَاعْبُدْهُ وَ اصْطَبِرْ لِعِبَادَتِهٖ١ؕ هَلْ تَعْلَمُ لَهٗ سَمِیًّا۠ Open ayah 19:65 in the Quran reader

وہ آسمانوں اور زمین کا رب ہے۔ اور ان چیزوں کا بھی جو ان کے بیچ میں ہیں۔ سو اسی کی عبادت کرو اور اسی کی عبادت کی تکلیف برداشت کیا کرو بھلا تمہارے علم میں اس جیسا کوئی اور بھی ہے۔

تفسیر : واذکر فی الکتاب اور یہ چھٹا قصہ حضرت ادریس ( علیہ السلام) کا ہے جو نوح (علیہ السلام) کے پردادا تھے (نوح بن ملک بن متوسلح بن حنوک) یا اخنوخ ان کا نام اور ادریس لقب تھا بوجہ کثرت درس صحف ِ آسمانی کے۔ وہ صدیق نبی تھے یعنی بہت برگزیدہ۔ اس لیے رفعناہ مکانا علیا اس کے معنی بعض مفسرین کے نزدیک یہ ہیں کہ ان کو بلند مرتبہ کیا۔ وہ رفعت منزلت مراد لیتے ہیں جیسا کہ آنحضرت ﷺ کی نسبت آیا ہے ورفعنا لک ذکرک اور ایک گروہ کہتا ہے اس کے معنی یہ ہیں کہ ان کو بلند مکان میں اٹھا لیا۔ اول تقدیر میں یوں کہا جائے گا کہ خدا نے ادریس ( علیہ السلام) کا بلند مرتبہ کیا تیس صحیفے ان پر نازل کئے بہت سے علوم اور صنعتیں ان کے ہاتھ سے ایجاد ہوئیں دوسری صورت پر بعض کہتے ہیں کہ خدا نے ان کو زندہ آسمان پر بلا لیا اور جنت میں داخل کردیا۔ بعض کہتے ہیں کہ صرف آسمانوں پر بلایا۔ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) اور ادریس ( علیہ السلام) زندہ آسمانوں پر ہیں والعلم عنداللہ۔ توریت سفر پیدائش کے 5 باب 23 درس میں یہ ہے اور حنوک کی ساری عمر تین سو پینسٹھ برس کی ہوئی (24) اور حنوک خدا کے ساتھ چلتا تھا اور غائب ہوگیا اس لیے کہ خدا نے اسے لے لیا۔ ان درسوں کی شرح میں علمائِ اہل کتاب کے بھی ایسے اقوال ہیں کہ جیسا اوپر بیان ہوا۔ ان سب بزرگواروں کا ذکر خیر کر کے فرماتا ہے اولئک الذین انعم اللہ علیہم کہ یہ انبیاء اور وہ لوگ ہیں کہ جن پر خدا نے کرم و فضل کیا تھا آدم اور ابراہیم اور نوح کے ساتھ والے اور اسرائیل کی نسل اور دیگر لوگ کہ جن کو خدا نے ہدایت دی اور برگزیدہ کیا ان کا یہ حال تھا کہ اللہ کی آیتیں سن کر سجدہ میں روتے ہوئے گر پڑا کرتے تھے اور خدا کے نہایت فرمان بردار نیک کردار بندے تھے۔ اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جو لوگ ان کو خدا جانتے ہیں وہ بھی غلطی پر ہیں اور جو لوگ ان کی نسبت فسق و فحش کی باتیں منسوب کرتے ہیں جیسا کہ کتب یہودو نصاریٰ میں ہے وہ بھی غلطی پر ہیں ان کا یہ مرتبہ خدا کی اطاعت سے ہوا۔ پھر ان کے بعد ناخلف پیدا ہوئے جو نماز و عبادت چھوڑ کر خواہش نفسانی کے درپے ہوگئے بجز کھانے پینے جماع کرنے کے اور کوئی بات ان میں نہ رہی۔ انہوں نے طریق بگاڑ دیا سو وہ اپنے کئے کا برا نتیجہ دیکھیں گے اور جو توبہ کر گئے اور نیک ہوگئے وہ جنت میں رہیں گے جس کے یہ اوصاف ہیں کہ وہاں کوئی خراب بات ‘ دل شکن رنج دہندہ ان کی یا ان کے اعزہ و احباء کی موت یا وہاں سے نکالے جانے کی یا کسی نعمت کے زوال ہونے کی خبر یا گالی گلوچ، بدکلامی، غیبت، بدگوئی سنائی نہ دے گی۔ سلام سلام کی آوازیں سنائی دیں گی۔ آپس کا تحیہ سلام یا فرشتوں کی طرف سے سلامتی کا مژدہ یعنی تعظیم و تکریم کے کلمات۔ دوم بلامحنت و مشقت ہمہ وقت بالخصوص صبح و شام ان کو تیار روزی ملے گی روحانی و جسمانی پھر یہ بہشت ہر ایک کا حصہ اور ورثہ نہیں بلکہ ہمارے بندوں میں سے صرف انہیں کا جو پرہیزگار ہیں دراصل وہی آدم کے حقیقی فرزند ہیں اور جنت آدم کو مل چکی ہے یہی اپنے جد کا ورثہ پانے کے مستحق ہیں۔ وما نتنزل الا بامر ربک یہاں سے ایک جداگانہ کلام شروع ہوتا ہے جس کے شان نزول میں بخاری نے ابن عباس ؓ سے یوں روایت کیا کہ آنحضرت ﷺ نے جبرئیل ( علیہ السلام) سے فرمایا کہ آپ میرے پاس جلدی جلدی کیوں نہیں آیا کرتے۔ اس کے جواب میں یہ آیت نازل ہوئی گویا خدا تعالیٰ نے جبرئیل ( علیہ السلام) کی طرف سے یہ جواب دیا کہ خود نہیں آتے بلکہ تمہارے رب کے حکم سے آیا کرتے ہیں۔ وہ مصلحت وقت سے خوب واقف ہے اس کو آگے اور پیچھے کا سب حال معلوم ہے یعنی ابتداء اور انتہا اور حال سب جانتا ہے وہ جب مصلحت جانتا ہے ہم کو بھیجتا ہے دیر کر آنے میں کوئی یہ خیال نہ کرے کہ خدا تعالیٰ آپ کو بھول گیا کیونکہ وہ بھولنے والا نہیں وہ رب ہے آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کا اور رب وقتاً فوقتاً پرورش کیا کرتا ہے جس کو علم ہمہ وقت لازم ہے پس اے نبی ! اس کی عبادت کرو اور ہمارے دیر کر آنے سے ملول نہ ہونا بلکہ اس کے لیے عبادت میں تکالیف برداشت کرتے رہو کیوں کہ وہ یکتا ہے اس کا کوئی ہمنام بھی نہیں یعنی ایسا دوسرا نہیں جو اس بےقراری کو دفع کرسکے۔ جنت عالم قدس کے بعد یہ جملہ جبرئیل ( علیہ السلام) کی طرف سے بیان ہونا جو عالم قدس میں رہتے اور وہاں کی خبریں لایا کرتے ہیں ایک عمدہ مناسبت رکھتا ہے۔
Ayahs 19:66–72

وَ یَقُوْلُ الْاِنْسَانُ ءَاِذَا مَا مِتُّ لَسَوْفَ اُخْرَجُ حَیًّا Open ayah 19:66 in the Quran reader

اور انسان (منکر) کہا کرتا ہے کیوں جی جب میں مر جائوں گا تو کیا پھر کیا زندہ کر کے قبر سے باہر نکالا جائوں گا۔

اَوَ لَا یَذْكُرُ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ قَبْلُ وَ لَمْ یَكُ شَیْئًا Open ayah 19:67 in the Quran reader

کیا وہ انسان اس بات کو یاد نہیں کرتا کہ پہلے بھی اس کو ہم نے ہی پیدا کیا تھا اور وہ کچھ بھی نہیں تھا

فَوَرَبِّكَ لَنَحْشُرَنَّهُمْ وَ الشَّیٰطِیْنَ ثُمَّ لَنُحْضِرَنَّهُمْ حَوْلَ جَهَنَّمَ جِثِیًّاۚ Open ayah 19:68 in the Quran reader

(اے رسول ! ) ہمیں قسم ہے آپ کے رب کی کہ ہم ان کو اور ان کے شیطانوں کو جمع کر کے رہیں گے پھر ان کو جہنم کے کنارہ حاضر کریں گے۔ گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوں گے

ثُمَّ لَنَنْزِعَنَّ مِنْ كُلِّ شِیْعَةٍ اَیُّهُمْ اَشَدُّ عَلَى الرَّحْمٰنِ عِتِیًّاۚ Open ayah 19:69 in the Quran reader

پھر ہر گروہ میں سے ہم ان کو گھسیٹ لائیں گے جو خدا سے بہت اکڑتے تھے۔

ثُمَّ لَنَحْنُ اَعْلَمُ بِالَّذِیْنَ هُمْ اَوْلٰى بِهَا صِلِیًّا Open ayah 19:70 in the Quran reader

پھر ہم کو خوب معلوم ہوگا کہ ان میں سے کون جہنم میں گرنے کے قابل ہے

وَ اِنْ مِّنْكُمْ اِلَّا وَارِدُهَا١ۚ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِیًّاۚ Open ayah 19:71 in the Quran reader

اور تم میں سے ایسا کوئی بھی نہ ہوگا جو اس پر سے ہو کر نہ گزرے۔ آپ کے رب نے اس کا پورا کرنا لازمی کرلیا ہے۔

ثُمَّ نُنَجِّی الَّذِیْنَ اتَّقَوْا وَّ نَذَرُ الظّٰلِمِیْنَ فِیْهَا جِثِیًّا Open ayah 19:72 in the Quran reader

پھر پرہیزگاروں کو تو بچا لیں گے اور ظالموں کو اس میں پڑا اوندھا گرنے دیں گے

تفسیر : ویقول الانسان یہاں سے ان ناخلفوں کے عقائد بیان فرماتا ہے کہ جن کا اوپر ذکر ہوا ہے انسان سے کسی شخص خاص کی طرف اشارہ نہیں بلکہ عموماً حشر کے منکر مراد ہیں وہ تعجب سے کہتے ہیں کہ کیا جب ہم مرجائیں گے تو پھر زندہ ہوں گے ؟ اس بات کو محال اور خدا کی قدرت سے باہر جانتے تھے اس لیے رسول کی تکذیب کرتے تھے اس کے جواب میں فرماتا ہے کہ ابن آدم یہ بات یاد نہیں کہ وہ کچھ بھی نہ تھا ہم نے اس کو موجود کردیا پس جو نیست محض کو موجود کردیتا ہے اس کے نزدیک دوبارہ زندہ کردینا کیا مشکل ہے۔ اس دلیل کے بعد قسم کھا کر وعدہ مستحکم کرتا ہے کہ ہم ان کو مرنے کے بعد ضرور جمع کریں گے اور شیاطین کو بھی جو انہیں گمراہ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد ان سب کو جہنم کے کنارہ پر حاضر کریں گے اور یہ گھٹنوں کے بل بیٹھیں ہوں گے جس طرح غم و فکر میں بیٹھتے ہیں۔ پھر کفار کے ہر فریق میں سے متکبر و گمراہ کنندوں کو چھانٹ چھانٹ کر بہت خواری کے ساتھ جہنم میں داخل کریں گے (شیعۃ فعلۃ کفرقۃ دفیہ الطائفۃ التی شاعت) وان منکم الا واردھا الی قولہ جثیا بعض مفسرین کہتے ہیں کہ منکم سے مراد کفار ہیں ان کو اولاً غائب کے صیغوں سے یاد کیا تھا پھر حاضر کے صیغوں سے خطاب کیا کیونکہ اہل ایمان دوزخ میں وارد یعنی داخل نہ ہوں گے لقولہ تعالیٰ اولئک عنہا مبعدون وقولہ لایسمعون حسیسہا لیکن اکثر کہتے ہیں کہ مومن و کفار سب کے لیے خطاب عام ہے مگر اہل ایمان کا ورود اس میں داخل ہونا نہیں بلکہ اس کا ملاحظہ اور معائنہ کرنا اور اس کے پاس سے ہو کر گزر جانا ہے جیسا کہ جملہ ثم ننجی الذین اتقوا الخ دلالت کرتا ہے اور بہت سی روایت صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے اور یہ اس لیے کہ اہل ایمان جنت میں اس تکلیف کے مکان کو یاد کر کے زیادہ شکریہ ادا کریں اور تاکہ جنت کی لذت بھی ان کو خوب معلوم ہو کیونکہ راحت کا مزہ تکلیف کے مقابلہ میں معلوم ہوا کرتا ہے و اذا یتلی الخ حشر کے ان دلائل کے بعد مشرکین عرب یہ کہا کرتے تھے کہ اگر ایسا بھی ہوا تو وہاں بھی ہم ہی اچھے رہیں گے جس طرح کہ یہاں مسلمانوں سے زیادہ ہم کو راحت و ثروت ہے وہاں بھی ہوگی۔ اس کے جواب میں فرماتا ہے وکم اھلکنا الخ کہ دنیا میں ان سے بھی زیادہ دولت مند قومیں تھیں جن کو ہم نے ہلاک کیا جس سے معلوم ہوسکتا ہے کہ دولت دنیا کچھ عنداللہ عزت کی بات نہیں پھر فرماتا ہے کہ دنیا میں ہمارا طریق خالقیت یہ ہے کہ گمراہوں کو جلدی نہیں پکڑتے بلکہ فلیمدد ولہ الرحمن (یہ صیغہ امر وجوب تحقیق کے لیے بمعنی مضارع ہے) اس کو اور ترقی دیتے ہیں یہاں تک کہ یا تو دنیا میں یا قبر میں مصیبت دیکھ لیتے ہیں یا قیامت میں۔
Ayahs 19:73–75

وَ اِذَا تُتْلٰى عَلَیْهِمْ اٰیٰتُنَا بَیِّنٰتٍ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا١ۙ اَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ خَیْرٌ مَّقَامًا وَّ اَحْسَنُ نَدِیًّا Open ayah 19:73 in the Quran reader

اور جب ان کو ہماری کہی ہوئی آیتیں سنائی جاتی ہیں تو کافر ایمانداروں سے کہتے ہیں کہ بتاؤ کون سا فریق ہم میں اور تم میں سے مرتبہ میں بہتر اور مجلس 1 ؎ کے لحاظ سے عمدہ ہے

وَ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنْ قَرْنٍ هُمْ اَحْسَنُ اَثَاثًا وَّ رِءْیًا Open ayah 19:74 in the Quran reader

حالانکہ ان سے پہلے ہم بہت سی ایسی جماعتیں ہلاک کرچکے ہیں کہ جو اسباب اور نمود میں ان سے کہیں بہتر تھے۔

قُلْ مَنْ كَانَ فِی الضَّلٰلَةِ فَلْیَمْدُدْ لَهُ الرَّحْمٰنُ مَدًّا١ۚ۬ حَتّٰۤى اِذَا رَاَوْا مَا یُوْعَدُوْنَ اِمَّا الْعَذَابَ وَ اِمَّا السَّاعَةَ١ؕ فَسَیَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضْعَفُ جُنْدًا Open ayah 19:75 in the Quran reader

کہہ دو جو کوئی گمراہی میں پڑا ہوا ہے سو خدا بھی اس کو (دنیا میں) ڈھیل ہی دیتا جاتا ہے (بہکائے جاتا ہے) یہاں تک کہ جس کا انہیں وعدہ دیا گیا ہے جب اس کو دیکھیں گے یا تو عذاب کو یا قیامت کو تب معلوم ہوجائے گا کہ کون برے درجہ میں ہے اور کس کی فوج کمزور ہے

1 ؎ یعنی ہم تم سے بلحاظ اعوان و انصار کے بہتر ہیں ہماری مجلسیں اعزہ و انصار سے بھری رہتی ہیں تم ذلیل و بیکس ہو پھر آخرت میں کیا تم ہم سے بڑھ کر ہو گے اور یہ معنی بھی ہیں کہ ہمارے مکانات عمدہ اور مجلسیں شاندار ہماری ہیں یا تمہاری۔ 12 منہ
Ayah 19:76

وَ یَزِیْدُ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اهْتَدَوْا هُدًى١ؕ وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ مَّرَدًّا Open ayah 19:76 in the Quran reader

اور جو راست پر ہیں اللہ ان کو اور زیادہ ہدایت دیتا جاتا ہے اور باقی رہنے والی نیکیاں آپ کے رب کے نزدیک ثواب اور انجام کے لحاظ سے بہت ہی بہتر 2 ؎ ہیں۔

2 ؎ یعنی وجاہت اور سامان جس پر کافروں کو ناز ہے کچھ بھی نہیں چند روزہ ہے ہاں نیک اعمال ہی تادیر باقی رہتے ہیں اور خدا کے پاس جزا اور بدلہ کے لحاظ سے بہت ہی بہتر ہیں نیکوں کو آخرت میں نیک بدلہ اور عمدہ مرتبہ اور بہتر مکان ملے گا جو سدا رہے گا۔ 12 منہ