33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 33:60–62

لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ وَّ الْمُرْجِفُوْنَ فِی الْمَدِیْنَةِ لَنُغْرِیَنَّكَ بِهِمْ ثُمَّ لَا یُجَاوِرُوْنَكَ فِیْهَاۤ اِلَّا قَلِیْلًا٤ۖۛۚ Open ayah 33:60 in the Quran reader

اگر منافقین اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے ، اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افوائیں پھیلانے والے ہیں ، اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کاروائی کرنے کے لیے تمہیں اٹھا کھڑا کریں گے ، پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے

مَّلْعُوْنِیْنَ١ۛۚ اَیْنَمَا ثُقِفُوْۤا اُخِذُوْا وَ قُتِّلُوْا تَقْتِیْلًا Open ayah 33:61 in the Quran reader

ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوگی ، جہاں کہیں پائے جائیں گے ، پکڑے جائیں گے اور بری طرح مارے جائیں گے

سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ۚ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا Open ayah 33:62 in the Quran reader

یہ اللہ کی سنت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آرہی ہے ، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے

لئن لم ینتہ المنفقون ۔۔۔۔۔۔۔ لسنۃ اللہ تبدیلا (60 – 62) ” اس تہدید سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی قریظہ کے قلع قمع کے بعد مدینہ میں مسلمان چیلنچ پاور بن گئے تھے اور اسلامی مملکت قوت سے اخلاقی تعلیمات نافذ کر رہی تھی اور منافقین کار۔۔ ہوگئے تھے۔ صرف خفیہ سازشیں کرتے تھے ، کھلے بندوں مسلمانوں کے خلاف ظاہر نہ ہوسکتے تھے بلکہ بظاہر وہ خائف اور سہمے ہوئے تھے۔
Ayah 33:63

یَسْئَلُكَ النَّاسُ عَنِ السَّاعَةِ١ؕ قُلْ اِنَّمَا عِلْمُهَا عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ تَكُوْنُ قَرِیْبًا Open ayah 33:63 in the Quran reader

لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی۔ کہو اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔ تمہیں کیا خبر ، شاید کہ وہ قریب ہی آلگی ہو

درس نمبر 193 ایک نظر میں یہ اس سورة کا آخری سبق ہے ، اس میں لوگوں کے اس سوال کا جواب دیا گیا ہے جو وہ قیامت کے بارے میں کرتے تھے اور قیام قیامت کے لیے مطالبے کرتے تھے بلکہ دراصل ان کو وقوع قیامت کے بارے میں شک تھا۔ جواب یہ دیا جاتا ہے کہ قیام قیامت کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ البتہ اس کا وقت بہت دور بھی ہے اور ممکن ہے کہ وہ اچانک ہی تمہیں آلے اور تم غفلت میں ڈوبے رہو۔ اس کے بعد مناظر قیامت میں سے ایک ایسا منظر پیش کیا جاتا ہے جو وقوع قیامت کا مطالبہ کرنے والوں کے لیے ہرگز مسرت بخش نہیں ہے۔ جب ان کے چہرے جہنم میں الٹ پلٹ کئے جائیں گے اور اس وقت وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی معصیت پر سخت نادم ہوں گے ، جب وہ اپنے لیڈروں اور پیشواؤں کے لیے دگنا عذاب طلب کریں گے۔ یہ اس قدر شرمسار کنندہ منظر ہے کہ کوئی شتابی کرنے والا ہرگز اسے پسند نہ کرے گا۔ اب اس منظر سے ان کو واپس لاکر پھر اس دنیا میں قوم موسیٰ کی مثال ان کے سامنے پیش کی جاتی ہے کہ اس قوم نے بھی موسیٰ (علیہ السلام) کو اذیت دی تھی اور پھر اللہ نے حضرت موسیٰ کو ان کے لگائے ہوئے الزام سے بری کردیا تھا ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک عملی واقعہ تھا۔ اشارہ اس طرح ہے کہ مدینہ میں جو لوگ حضور ﷺ کے خلاف باتیں کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے رینب کے ساتھ نکاح کرکے عربوں کے رواج کے خلاف کیا ہے۔ ایسا ہی کوئی الزام حضرت موسیٰ پر بھی تھا اور مومنین سے کہا جاتا ہے کہ وہ کسی بھی معاملے میں سیدھی بات کیا کریں اور اشارہ و کنایہ میں الزمات عائد نہ کیا کریں تاکہ اللہ تمہارے اعمال و اخلاق کو درست کر دے۔ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے اور جو اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کرے گا ، اللہ ان کو بہت بڑی کامیابنی عطا کرے گا۔ سورة کا خاتمہ ایک عظیم تبصرے پر ہوتا ہے یہ کہ زمین و آسمان نے دعوت قرآنی کی امانت کی ذمہ داری اٹھانے سے انکار کردیا لیکن انسان نے اس عظیم ذمہ داری کو قبول کرلیا تاکہ اللہ کی اسکیم پایہ تکمیل تک پہنچے۔ لوگوں کے اعمال پر جزاء و سزا مرتب ہو اور انسان اپنے لیے جو راہ اختیار کرتا ہے اس پر اس کا محاسبہ اور جزاء و سزا ہو۔ لیعذب اللہ المنفقین ۔۔۔۔۔ وکان اللہ غفوراً رحمیا (33: 73) ” تاکہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے اور مومن مردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے اور اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے “ درس نمبر 193 تشریح آیات 63 ۔۔۔ تا۔۔۔ 73 یسئلک الناس عن ۔۔۔۔۔۔ تکون قریبا (63) اہل مکہ مسلسل قیامت کے دن کے بارے میں رسول خدا سے پوچھتے رہتے تھے ، کیونکہ حضور ﷺ نے ان سے قیامت کے حالات بڑی تفصیل سے بیان کیے تھے اور ان کو قیامت سے بہت زیادہ ڈرایا تھا۔ اور قرآن کریم نے قیامت کے مناظر اس قدر طوالت سے ذکر کیے کہ یوں نظر آنے لگا کہ شاید یہ مناظر آنکھوں کے سامنے ہیں۔ اے پیغمبر ، آپ سے یہ لوگ قیامت کے وقت وقوع کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ ان کی خواہش یہ ہے کہ یہ جلدی واقع ہوجائے اور یہ لوگ جلدی اس لیے کر رہے تھے کہ ان کو دراصل اس کے وقوع میں شک تھا۔ یا جلدی کا مطالبہ کرکے دراصل وہ تکذیب کرنا چاہتے تھے یا قیامت کے ساتھ مزاح کرنا چاہتے تھے۔ ہر سائل کا سوال اس کی نفسیات کے اعتبار سے تھا ، جس کے جو خیالات تھے اور جس کے جو واعتقادات تھے وہ اپنے اعتقاد کے مطابق سوال کرتا۔ قیام قیامت کا علم ایک ایسا غیب ہے جو خاصہ خدا ہے اور اللہ نے اپنی مخلوقات میں سے کسی کو بھی اسکی اطلاع نہیں دی ، نہ رسولوں کو نہ ملائکہ مقربین کو۔ عبد اللہ ابن عمر سے جو حدیث حقیقت ایمان اور حقیقت اسلام کے بارے میں وارد ہے ، اس میں ہے کہ ہم لوگ حضور ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک ایک شخص نمودار ہوا ، بالکل سفید لباس میں۔ بالکل اس پر سفر کے آثار میں سے کوئی علالت نہ تھی ہم میں سے کوئی اسے نہ پہچانتا تھا۔ وہ رسول اللہ کے سامنے بیٹھ گیا اور اپنے زانو حضور ﷺ کے زانوؤں کے ساتھ ملا دئیے۔ اپنے ہاتھ آپ کو رانوں پر رکھ دئیے اور کہا اے محمد ! بتائیے اسلام کیا ہے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا اسلام یہ ہے کہ تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے اور محمد اللہ کے رسول ہیں۔ نماز پڑھے ، زکوٰۃ دے اور رمضان کے روزے رکھے اور حج کرے اگر راستے کی طاقت ہو تو اس نے کہا : ” آپ نے سچ کہا “۔ ہم نے تعجب کیا کہ عجیب شخص ہے خود پوچھتا ہے اور خود ہی تصدیق کرتا ہے۔ پھر اس نے پوچھا ایمان کیا ہے ؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا : یہ کہ تو اللہ پر ایمان لائے ، اس کے ملائکہ ، اس کی کتابوں ، اس کے رسولوں ، قیامت کے دن ، اور اچھی اور بری تقدیر پر ایمان لے آئے “۔ تو اس نے کہا : آپ نے درست کیا۔ اس کے بعد اس نے پوچھا ، پھر احسان کے معنی کیا ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا یہ کہ تو اپنے رب کی عبادت اس طرح کرے کہ تو اسے دیکھ رہا ہے ، اگر تو اسے نہیں دیکھ رہا تو وہ تو تجھے ہی دیکھ رہا ہے۔ پھر اس نے سوال کیا مجھے قیامت کے بارے میں بتائیے ؟ تو آپ نے فرمایا پوچھے جانے والا پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ جبرائیل (علیہ السلام) تھے اور یہ تمہارے پاس آئے تمہیں تمہارا دین سکھا رہے تھے۔ مسئول عنہا رسول اللہ ﷺ تھے اور سائل جبرئیل تھے۔ دونوں کا علم برابر تھا یعنی قیامت کے بارے میں دونوں نہ جانتے تھے۔ قل انما علمھا عند اللہ (33: 63) ” کہو اس کا علم اللہ ہی کو ہے “۔ اور یہ اللہ کی خصوصیت ہے اور اللہ اس کے بارے میں منفرد ہیں اور اللہ کی مخلوق میں سے کسی کو اس کا علم نہیں۔ یہ اللہ کی حکمت ہے کہ اس نے اس کا علم کسی کو نہیں دیا۔ ہماری سمجھ میں اسی قدر حکمت آتی ہے کہ لوگ اس سے ہر وقت ڈرتے رہیں اور ہر وقت اس کی توقع کرتے رہیں اور اس کے اچانک آجانے کی تیاری میں لگے رہیں۔ یہ تو ان لوگوں کے لیے ہے جن کو اللہ نے اس کے ذریعے بھلائی کی راہ کی طرف پھیر دیا اور اس کے دل میں قیامت کا ڈر پیدا کردیا۔ رہے وہ لوگ جو اس سے غافل ہیں اور ہر وقت اس کی تیاری میں لگے نہیں رہتے تو وہ لوگ اپنے آپ سے خیانت کرتے ہیں اور اپنے آپ کو آگ سے نہیں بچاتے۔ ایسے لوگوں کے سامنے اللہ نے اس کے مناظر رکھے ، اس سے ڈرایا اور اسے غیب قرار دیا جو رات اور دن کے کسی وقت بھی آسکتی ہے۔ وما یدریک لعل الساعۃ تکون قریبا (33: 63) ” شاید کہ وہ قریب ہی آلگی ہو “۔
Ayahs 33:64–68

اِنَّ اللّٰهَ لَعَنَ الْكٰفِرِیْنَ وَ اَعَدَّ لَهُمْ سَعِیْرًاۙ Open ayah 33:64 in the Quran reader

بہرحال یہ امر یقینی ہے کہ اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لئے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کردی ہے

خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًا١ۚ لَا یَجِدُوْنَ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًاۚ Open ayah 33:65 in the Quran reader

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، کوئی حامی و مددگار نہ پاسکیں گے

یَوْمَ تُقَلَّبُ وُجُوْهُهُمْ فِی النَّارِ یَقُوْلُوْنَ یٰلَیْتَنَاۤ اَطَعْنَا اللّٰهَ وَ اَطَعْنَا الرَّسُوْلَا Open ayah 33:66 in the Quran reader

جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کیے جائیں گے اس وقت وہ کہیں گے کہ ” کاش ہم نے اللہ اور رسول ﷺ کی اطاعت کی ہوتی

وَ قَالُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّاۤ اَطَعْنَا سَادَتَنَا وَ كُبَرَآءَنَا فَاَضَلُّوْنَا السَّبِیْلَا Open ayah 33:67 in the Quran reader

اور کہیں گے ” اب رب ہمارے ، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بےراہ کر دیا

رَبَّنَاۤ اٰتِهِمْ ضِعْفَیْنِ مِنَ الْعَذَابِ وَ الْعَنْهُمْ لَعْنًا كَبِیْرًا۠ Open ayah 33:68 in the Quran reader

اے رب ، ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر

ان اللہ لعن الکفرین ۔۔۔۔۔۔ من العذاب والعنھم لعنا کبیرا (64 – 68) ” ۔ یہ لوگ قیامت کے قیام کے بارے میں پوچھتے ہیں ، ذرا ان کو قیام قیامت کا ایک منظر ہی بتا دو ۔ ان اللہ لعن الکفرین واعدلھم سعیرا (33: 64) ” بیشک اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کردی ہے “۔ اللہ نے کافروں کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے اور ان کے لیے دہکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔ وہ ان کے لیے تیار اور حاضر ہے۔ خلدین فیھا (33: 65) ” اس میں وہ ہمیشہ رہیں گے “۔ اس قدر طویل عرصہ اس میں رہیں گے کہ اس کی طوالت کا علم اللہ ہی کو ہے۔ اس کی انتہا نہیں ہے الایہ کہ اللہ کے علم میں ہو ، جب وہ چاہے ختم کر دے۔ ان کے ساتھ کوئی بھی معاونت کرنے والا نہ ہوگا۔ کوئی مددگار نہ ہوگا۔ لہٰذا اس آگ سے نکلنے کی کوئی امید ان کو نہ ہوگی۔ لا یجدون ولیا ولا نصیرا (33: 65) ” کوئی حامی و مددگار وہ نہ پاسکیں گے “۔ اس عذاب میں ان کا منظر نامہ کیا ہوگا ؟ نہایت ہی بری حالت اور نہایت ہی المناک صورت حال : یوم تقلب وجوھھم فی النار (33: 66) ” جس روز ان کے چہرے آگ پر الٹ پلٹ کیے جائیں گے “۔ ہر طرف سے آگ ان کو ڈھانپ رہی ہوگی۔ یہاں ان کی حرکات کی تصویر یعنی فلم بنائی جا رہی ہے اور اسے مجسم کرکے پیش کیا جا رہا ہے۔ اس طرح کہ ان کے چہروں کے ہر حصے کو آگ جھلسائے گی اور اس طرح انہیں سخت سے سخت عذاب دیا جائے گا۔ یقولون یلیتنا اطعنا اللہ واطعنا الرسولا (33: 66) ” اس وقت وہ کہیں گے اے کاش ہم نے اللہ اور رسول کی اطاعت کی ہوتی “۔ یہ ان کی جانب سے بالکل بےکار تمنا ہوگی۔ کیونکہ تب اطاعت کا موقع و محل کہاں ہوگا۔ اس وقت تو کوئی موقع نہ ہوگا آزمائش کا۔ اب تو صرف حسرت ہی ہے ۔ اب ان کو اپنے سرداروں اور کبراء پر سخت غصہ آئے گا ، جنہوں نے دراصل ان کو گمراہ کیا تھا ، اور وہ اب اللہ کے مطیع فرمان بننے کی سعی کریں گے مگر ان اطاعت کو موقع ہی ختم ہوگیا۔ وقالوا ربنا انا اطعنا ۔۔۔۔۔۔ والعنھم لعنا کبیرا (33: 67 – 68) ” اور کہیں گے اے رب ہمارے ، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بےراہ کردیا۔ اے رب ان کو دہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر “۔ یہ ہے قیامت کا نمونہ۔ پوچھتے کیا ہو ؟ اس روز بیچنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اس کے لیے تیاریاں کرو ورنہ یہ المناک انجام تمہارے سامنے ہوگا۔ حضرت زینب کے ساتھ حضور ﷺ کا نکاح چونکہ جاہلیت کی ایک نہایت ہی گہری رسم کے خلاف تھا اور اسلام نے اسی لیے اس پر حضور اکرم ﷺ کے فعل کے ذریعے ضرب کاری لگائی تھی ، لیکن اس معاشرے نے درد محسوس کیے بغیر اپنے اندر سے اس رسم کا اکھاڑ پھینکنا قبول نہ کیا۔ منافقین اور مریض اخلاق کے لوگوں نے سخت غوغا آرائی شروع کردی۔ ان کے ساتھ ہاں میں ہاں ملانے والے ایسے مسلمان بھی تھے جن کے ذہنوں میں اسلامی تصور حیات ابھی اچھی طرح نہ بیٹھا تھا۔ چناچہ یہ عناصر طنز وتشنیع ، اعتراض و تنقید کرتے تھے۔ پورے شہر میں انہوں نے کانا پھوسی شروع کر رکھی تھی اور حضور اکرم ﷺ کے بارے میں بری باتیں کرتے تھے۔ منافقین اور افواہیں پھیلانے والے کب خاموش رہ سکتے تھے ۔ وہ کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے جس طرح غزوہ احزاب میں انہوں نے ایک زبردست مہم شروع کر رکھی تھی۔ ۔۔۔ کے معاملے میں وہ اس سے قبل تجربہ کرچکے تھے۔ مال غنیمت کی تقسیم میں وہ ایسی ہی مہم چلا چکے تھے۔ غرض ہر موقع و محل میں یہ لوگ نبی ﷺ کیلئے اذیت کا باعث تھے اور بالکل بےجواز۔ اس دور میں جبکہ بنی قریظہ اور سارے یہودیوں کو مدینہ سے نکالا گیا تھا ، مدینہ میں کوئی کافر اور مشرک نہ تھا۔ اہل مدینہ یا تو سچے مسلمان تھے اور یا منافق تھے اور اس قسم کی مہم یہ منافق ہی چلاتے تھے۔ یہ جھوٹی افواہیں پھیلاتے۔ بعض سادہ لوح مسلمانوں پر بھی ان کا اثر تھا جو ان کے ساتھ نافہمی کی وجہ سے شریک ہوجاتے تھے۔ اس لیے قرآن کریم نے اہل ایمان کو یہاں متنبہ کیا ہے کہ نبی ﷺ کے لیے باعث اذیت نہ بنو ، اس سے قبل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھی مومنین نے بھی حضرت موسیٰ کو اذیت دی تھی۔ اس لیے ان منافقین کی باتوں پر بلا تحقیق و تفتیش کان نہ دھرو۔ اللہ اور رسول اللہ کی اطاعت کرو ، تمہارے لیے یہ بڑی کامیابی ہوگی۔
Ayahs 33:69–71

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَكُوْنُوْا كَالَّذِیْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَرَّاَهُ اللّٰهُ مِمَّا قَالُوْا١ؕ وَ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ وَجِیْهًاؕ Open ayah 33:69 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، ان لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰ کو اذیتیں دی تھیں ، پھر اللہ نے ان کو بنائی ہوئی باتوں سے اس کی براءت فرمائی اور وہ اللہ کے نزدیک باعزت تھا

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ قُوْلُوْا قَوْلًا سَدِیْدًاۙ Open ayah 33:70 in the Quran reader

اے ایمان لانے والو ، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو

یُّصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوْبَكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا Open ayah 33:71 in the Quran reader

اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی

یایھا الذین امنوا لا تکونوا ۔۔۔۔۔۔۔ فاز فوزا عظیما (69 – 71) ” ۔ قرآن کریم نے اس ایذا کا تعین نہیں کیا جو حضرت موسیٰ کو دی گئی تھی۔ البتہ روایت میں اس کا تعین کیا گیا ہے۔ لہٰذا ہم اس بات کو مجمل ہی چھوڑتے ہیں جسے قرآن کریم نے مجمل چھوڑ دیا۔ یہاں مقصد اہل ایمان کو اس بات سے خبردار کرنا ہے کہ وہ حضرت نبی ﷺ کو اذیت نہ دیں۔ اللہ نے قرآن کریم میں بنی اسرائیل کی بدعملیوں اور بدکرداریوں کی کئی مثالیں دی ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ کردیا کہ انہوں نے اپنے نبی کو اذیت دی تھی۔ لہٰذا مسلمانوں کو ایس انہیں کرنا چاہئے تاکہ مسلمانوں کا شعور ایسا بن جائے کہ وہ کسی معاملے میں بھی بنی اسرائیل کے مماثل نہ ہوں۔ ان کے دلوں میں ان کی نفرت بیٹھ جائے کیونکہ یہ لوگ مجسم بدعمل ، بےراہ رو ، نبی کو ہر وقت تنگ کرنے والے تھے۔ بنی اسرائیل نے اپنے نبی پر جو الزم لگایا تھا اللہ نے ان کو اس سے بری کردیا تھا۔ وکان عند اللہ وجیھا (33: 69) ” اور وہ اللہ کے نزدیک باعزت تھا “۔ یعنی وہ اللہ کے نزدیک صاحب قدر و منزلت تھا۔ اللہ کی یہ سنت ہے کہ وہ اپنے رسولوں کو ہر قسم کے بہتان اور الزام سے علی روش الاشاد بری کرتا ہے اور محمد ﷺ تمام انبیاء سے افضل ہیں اس لیے اللہ ان کو بھی بری اور پاک کرتا ہے۔ قرآن کریم اہل ایمان کو ہدایت کرتا ہے کہ کسی معاملے میں منافقین اور دشمنوں کے ساتھ اتفاق کرنے سے قبل اس کی تحقیق اور درستگی کا پتہ کرنا فرض ہے۔ خصوصاً اپنے نبی ، مرشد اور ولی اور دوست کے بارے میں گمراہوں اور فساق و فجار کی باتوں پر کان دھرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ قرآن کریم ان کو ایک صالح بات کی ہدایت کرتا ہے جس کے نتیجے میں عمل صالح نمودار ہوتا ہے۔ جو لوگ سچے ہوتے ہیں اللہ ان کی نگہبانی کرتا ہے اور ان کی راہنمائی اعمال خیر کی طرف کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اچھی باتیں کرنے والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں کی مغفرت فرماتا ہے اور ان کی تقصیرات کو معاف کرتا ہے۔ کیونکہ تقصیرات سے کوئی آدمی محفوظ نہیں رہتا۔ ان تقصیرات سے آدمی صرف مغفرت الٰہی سے نکل سکتا ہے۔ من یطع اللہ ورسولہ فقد فاز فوزا عظیما (33: 71) ” جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔ اطاعت الٰہی بذات خود فوز عظیم ہے ، کیونکہ اطاعت سے انسان اللہ کی نہج پر قائم ہوتا ہے۔ اور اللہ کے طریقے پر استقامت انسان کے لئے نفع بخش ہوتی ہے۔ اور جسے اللہ کے سیدھے طریقہ اور راستے کی طرف ہدایت ہوجائے یہ بذات خود دائمی سعادت اور نیک بختی ہے۔ اگرچہ اس کے سوا اس کے لیے کوئی اجر و جزاء نہ ہو۔ کیونکہ جو شخص ٹھیک ٹھیک اپنی منزل مقصود کی طرف بڑھ رہا ہو ، اسے اپنا راستہ صاف نظر آرہا ہو اور اس کے اردگرد مخلوق اسی کے ساتھ معاون ہو وہ اس شخص کی طرح نہیں ہوسکتا جسے اپنی راہ معلوم نہ ہو ، پریشان ہو ، اور اس کی راہ کے اردگرد تمام کائنات اس سے متصادم ہو اور اس کے لیے اذیت ناک ہو۔ لہٰذا اللہ اور رسول کی اطاعت بذات خود احسن الجزاء ہے۔ یہی فوز عظیم ہے۔ یوم الحساب اور جنت نعیم سے بھی پہلے یہ کامیابی ہے۔ اخروی کامیابی تو فضل عظیم ہے اور یہ بونس ہے جو نعمت ملے گی اور یہ فضل اللہ جسے چاہتا ہے ، دیتا ہے۔ یہ اللہ کا فضل اس لیے ہے کہ حضرت انسان بہت ہی ضعیف ہیں۔ اور اللہ نے انسان کے کاندھوں پر جو ذمہ داری عائد کی ہے وہ بہت ہی بھاری ہے اور انسان نے اپنی نادانی کی وجہ سے اس قدر عظیم بوجھ اپنے اوپر لیا ہے جس کے اٹھانے سے آسمان ، زمین اور پہاڑوں نے معذرت کی تھی۔ حالانکہ اسے اپنی کمزوریاں معلوم تھیں۔ شہوات و میلانات کا دباؤ ، علم و ہنر کا قصور ، عمر کا اختصار اور زمان و مکان کی مشکلات اور مستقبل کے واقعات کی پیش بینی میں انسان کی کمزوری وغیرہ۔
Ayah 33:72

اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ Open ayah 33:72 in the Quran reader

ہم نے اس امانت کو آسمانوں ، اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے ، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا ، بیشک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے

انا عرضنا الامانۃ ۔۔۔۔۔۔ ظلوما جھولا (72) ” “۔ زمین و آسمان اور زمین کے اندر بڑے بڑے پہاڑ ، دراصل ایک عام انسان کے لیے عظیم مخلوق ہیں ، جن کا یہاں قرآن نے ذکر کیا ہے اور جن کے اندر انسان رہتا ہے ، ان کے مقابلے میں انسان بہت ہی ضعیف اور حقیر ہے۔ یہ مخلوقات اپنے خالق کو اچھی طرح جانتی ہے اور اللہ کے تکوینی نظام اور قانون کے مطابق چل رہی ہے۔ اللہ کے احکام کو براہ راست پاتی ہے اور ان پر عمل پیدا ہے۔ یہ اس ناموس فطرت کے مطابق چلتی ہے جو اللہ نے اس کے اندر جاری کیا ہے۔ آغاز تخلیق سے یہ کائنات یونہی ، نظام قضا و قدر کے مطابق جاری وساری ہے۔ نہ اللہ کی اطاعت سے نکلتی ہے اور نہ اللہ کے ناموس فطرت سے سرمو انحراف کرتی ہے اور نہ کرسکتی ہے۔ یہ سب مخلوق اپنا فریضہ منصبی ادا کر رہی ہے ، چاہے اسے شعور ہو یا نہ ہو۔ چاہے اس کا کوئی اختیار ہو یا نہ ہو۔ یہ سورج اپنے مدار میں گردش کر رہا ہے اور اس کے دورے میں کوئی خلل نہیں آتا۔ یہ چمک رہا ہے اور جہاں تک اللہ کا حکم ہوگا ، کائنات کو گرم اور روشن کرتا رہے گا۔ پھر اس سورج کا کنبہ بھی اس کے دائرے کے اندر ٹھیک ٹھیک اپنے اپنے فرائض سر انجام دے رہا ہے اور اپنا فریضہ منصبی ادا کر رہا ہے۔ یہ زمین اپنے مدار میں گردش کر رہی ہے۔ اس گردش کے نتیجے میں فصلیں اگتی ہیں۔ انسانوں کے رزق کا انتظام ہو رہا ہے ۔ یہ مردوں کو سمیٹتی ہے۔ اس کے اندر سے چشمے پھوٹتے ہیں اور یہ سب کام سنت الہیہ کے مطابق ہوتا ہے بغیر زمین کے ارادہ کے۔ یہ چاند اور یہ ستارے و سیارے ، یہ ہوائیں اور یہ بادل یا یہ پانی اور یہ سمندر ، یہ پہاڑ اور یہ میدان سب کے سب اپنے رب کے حکم سے اور اپنے خالق کی تقدیر سے اپنے اپنے فرائض سر انجام دیتے ہیں اور یہ تمام اشیاء یہ فرائض بغیر جہد و مشقت کے ادا کرتی ہیں۔ یہ ارکان کائنات نہ اٹھاسکے ، ڈر گئے اور سہم گئے۔ یہ اس عظیم امانت کو نہ اٹھا سکے۔ یہ امانت کیا تھی ، ذاتی ارادے اور اختیار سے اپنے فرائض کو سرانجام دینا اور اپنے اعمال اور افعال کا ذمہ دار ہونا۔ لیکن ! وجعلھا الانسان (33: 72) ” مگر انسان نے اسے اٹھا لیا “۔ انسان جو اللہ کو اپنے شعور اور اپنے ادراک سے جانتا ہے ، اپنے تدبر اور اپنی بصیرت سے ناموس قدرت کو معلوم کرتا ہے ، اور اپنی سعی و جدوجہد سے اس ناموس کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے ، وہ اپنے ارادے سے اللہ کی اطاعت کرتا ہے اور بالا رادہ ذمہ داریاں اٹھاتا ہے۔ اور اپنے میلانات اور خواہشات پر قابو پاتا ہے۔ اپنی زندگی کے ہر قدم پر وہ متحرک بالارادہ ہے۔ اپنی راہ کا ادراک رکھتا ہے۔ جان بوجھ کر اپنے لیے راہ اختیار کرتا ہے اور علی وجہ البصیرت کسی کی راہ پر چلتا ہے۔ یہ ہے وہ عظیم امانت جو اس انسان نے اٹھائی حالانکہ انسان بہت ہی ضعیف ، کمزور اور چھوٹا اور بےطاقت تھا۔ جس طرح اس کی قوت محدود تھی اس طرح اس کی عمر بھی محدود تھی اور پھر اس ضعیف انسان پر ہر طرف سے میلانات خواہشات اور طبیعی شہوات کی افواج حملہ آور تھیں۔ اس زوایہ سے اس ضعیف انسان نے اپنے کاندھوں پر ایک عظیم ذمہ داری اٹھالی۔ بیشک وہ ظالم اور جاہل تھا۔ اپنے نفس پر اس نے ظلم کیا کہ یہ بھاری بوجھ اس پر ڈالا اور اپنی قوت کی کمی سے وہ بیخبر تھا۔ لیکن جب انسان اس ذمہ داری کو پورا کرے جو اس نے اٹھائی اور جب وہ اپنی معرفت اور اپنے ادراک سے باری تعالیٰ تک پہنچ جائے تو وہ براہ راست ناموس الٰہی کی معرفت حاصل کرلیتا ہے ، اور پوری طرح اپنے رب کے ارادے کا مطیع ہوجاتا ہے۔ یہ معرفت ، یہ ہدایت اور یہ اطاعت اپنی حقیقت کے اعتبار سے اور اپنے آثار کے اعتبار سے ایک بلند مقام تک پہنچ جاتی ہے اور اس قدر خود کار طریقے سے کام کرتی ہے جس طرح آسمان اور زمین اور پہاڑ بڑی سہولت سے ، براہ راست ہدایت ، معرفت اور اطاعت پذیر ہوتے ہیں ، کیونکہ یہ تمام مخلوقات براہ راست اللہ کی معرفت حاصل کیے ہوئے ہوتی ہیں۔ براہ راست اللہ کی ہدایت کے تحت چلتے ہیں۔ براہ راست اطاعت کرتے ہیں اور ان کے اور باری تعالیٰ کے درمیان کوئی حائل اور کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی اور کوئی چیز ان کو اللہ کی اطاعت سے روکنے والی نہیں ہوتی ، تو جب انسان بھی اس پوری کائنات کی طرح اللہ کی معرفت ، ہدایت اور اطاعت کا پابند ہوجاتا ہے تو اس وقت وہ واصل باللہ ہوجاتا ہے اور تب اللہ کی مخلوقات میں اس کا مقام منفرد ہوجاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ارادہ ، ادراک اور اختیار اور ذمہ داری اٹھانا ہی انسان کی امتیازی خصوصیات ہیں اور انہی کی وجہ سے انسان ان ان مخلوقات کے اندر ایک ممتاز مقام رکھتا ہے۔ یہی وہ کرامت اور شرف ہے جس کا اعلان اللہ نے عالم بالا میں کیا تھا کہ فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ اس انسان کے سامنے سجدہ ریز ہوں اور قرآن کے اندر یہ اعلان قیامت تک ثبت کردیا۔ ولقد کرمان بنی آدم ” حقیقت یہ ہے کہ ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی “۔ انسان کو چاہئے کہ وہ اپنی اس تکریم کی اصلی وجہ سمجھے اور اللہ نے اس کے حوالے جو امانت کی ہے اور اس نے جسے قبول کیا ہے اور جس کے اٹھانے سے آسمانوں ، زمین اور پہاڑوں نے انکار کیا ، اور ڈرگئے اسے اچھی طرح ادا کرے۔ یہ امانت یا ذمہ داری اللہ نے انسان کے اوپر کیوں ڈالی ؟
Ayah 33:73

لِّیُعَذِّبَ اللّٰهُ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ الْمُنٰفِقٰتِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ وَ الْمُشْرِكٰتِ وَ یَتُوْبَ اللّٰهُ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 33:73 in the Quran reader

اس بار امانت کو اٹھانے کا لازمی نتیجہ ہے تاکہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے ، اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے

لیعذب اللہ المنفقین ۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (73) ” “۔ وہ خصوصیات کیا ہیں جو انسان نے اپنے کاندھوں پر اٹھائیں ؟ یہ کہ اپنے آپ کو پہچانے ، اپنی قوت عقلیہ سے معرفت کردار حاصل کرے۔ بذات خود عمل کرے اور خود خدا تک پہنچے۔ یوں وہ اپنے اختیار کو صحیح استعمال کرے اور اپنے اعمال کی سزا اور جزاء کا ذمہ دار ہو۔ اس طرح منافقین اور منافقات سزا کے مستحق ہوں ، مشرکین اور مشرکات اپنے انجام تک پہنچیں اور اللہ مومنین و مومنات کی امداد کرے اور ان سے جو تقصیرات ، کمزروریاں ، ناتوانیاں صادر ہوں ان کو معاف کرے۔ کیونکہ انسان کی راہ میں ضعف ، کمزوری ، شہوات ، جذبات ، میلانات اور معاشرے کے تاثرات کی بیشمار رکاوٹیں ہیں اور اس کو اللہ کی رحمت اور مغفرت کی بےحد ضرورت ہے اور اللہ ہے بھی غفور و رحیم۔ اس عظیم تبصرے اور عقل و خرد کی تاروں پر آخری اور شدید ضرب سے اس سورة کا خاتمہ ہوتا ہے جس کا آغاز اس مضمون سے ہوا تھا کہ اے نبی تم اللہ کی اطاعت کرو اور کفار اور منافقین کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ اللہ کی وحی اور اشاروں کے مطابق کام کرو ، اللہ پر بھروسہ کرو ، اور اللہ کے سوا کسی قوت پر تکیہ نہ کرو۔ اس کے بعد اسلامی نطام حیات کے لیے ضروری قانون سازی اور مملکت اسلامی کو عملی ہدایات دی گئی تھیں اور حکم تھا کہ اللہ کے قانون اور اللہ کی حکمت عملی پر چلو۔ اس آخری ضرب اور تبصرے میں یہ بتایا گیا کہ جو ذمہ داری انسان پر عائد ہو ، اس کا ذرا احساس کرے۔ یہ کس قدر عظیم ذمہ داری تھی ؟ کہ پہاڑ بھی اس کے اٹھانے سے کانپ اٹھے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح یہ کائنات اللہ کے ناموس کی مطیع ہے انسان طوعا اللہ کے ناموس تک رسائل حاصل کرکے مطیع ہوجائے اور اللہ کی مشیت کی اطاعت کرے۔ اس تبصرے پر سورة ختم ہوتی ہے ۔ اس کا آغاز اور اختتام دونوں باہم متناسب پاس اور پوری سورة اس آغاز اور اختتام کے رخ پر رواں دواں ہے۔ نہایت توافق کے ساتھ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہی ذات کریم اس کتاب کو بھیجنے والی ہے جو اس کائنات کو چلا رہی ہے۔