33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsفی ظلال القرآن

Ayahs 33:37–40

وَ اِذْ تَقُوْلُ لِلَّذِیْۤ اَنْعَمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ اَنْعَمْتَ عَلَیْهِ اَمْسِكْ عَلَیْكَ زَوْجَكَ وَ اتَّقِ اللّٰهَ وَ تُخْفِیْ فِیْ نَفْسِكَ مَا اللّٰهُ مُبْدِیْهِ وَ تَخْشَى النَّاسَ١ۚ وَ اللّٰهُ اَحَقُّ اَنْ تَخْشٰىهُ١ؕ فَلَمَّا قَضٰى زَیْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنٰكَهَا لِكَیْ لَا یَكُوْنَ عَلَى الْمُؤْمِنِیْنَ حَرَجٌ فِیْۤ اَزْوَاجِ اَدْعِیَآئِهِمْ اِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ مَفْعُوْلًا Open ayah 33:37 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، یاد کرو وہ موقع جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا کہ ” اپنی بیوی کو نہ چھوڑو اور اللہ سے ڈرو “۔ اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا ، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حق دار ہے کہ تم اس سے ڈرو۔ پھر جب زید اس سے اپنی حاجت پوری کرچکا تو ہم نے اس (مطلقہ خاتون) کا تم سے نکاح کردیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے تھا

مَا كَانَ عَلَى النَّبِیِّ مِنْ حَرَجٍ فِیْمَا فَرَضَ اللّٰهُ لَهٗ١ؕ سُنَّةَ اللّٰهِ فِی الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ وَ كَانَ اَمْرُ اللّٰهِ قَدَرًا مَّقْدُوْرَا٘ۙ Open ayah 33:38 in the Quran reader

نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کردیا ہو۔ یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے

اِ۟لَّذِیْنَ یُبَلِّغُوْنَ رِسٰلٰتِ اللّٰهِ وَ یَخْشَوْنَهٗ وَ لَا یَخْشَوْنَ اَحَدًا اِلَّا اللّٰهَ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ حَسِیْبًا Open ayah 33:39 in the Quran reader

(یہ اللہ کی سنت ہے ان لوگوں کے لیے) جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور محاسبہ کے لئے بس اللہ ہی کافی ہے

مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَاۤ اَحَدٍ مِّنْ رِّجَالِكُمْ وَ لٰكِنْ رَّسُوْلَ اللّٰهِ وَ خَاتَمَ النَّبِیّٖنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا۠ Open ayah 33:40 in the Quran reader

(لوگو) محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں ، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے

واذ تقول للذی ۔۔۔۔۔۔۔۔ کان اللہ بکل شیء علیما (37 – 40) اس سورة کے آغاز ہی میں معبنی بنانے کی رسم کو ختم کردیا گیا تھا اور یہ حکم دے دیا گیا تھا کہ ایسے لوگوں کو اب ان کے حقیقی آباء کی طرف منسوب کردیا جائے اور عائلی تعلقات حقیقی نسب پر قائم ہوں گے ، کہا گیا تھا۔ وما جعل ادعیآء کم ۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (33: 4 – 5) ” نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے ۔ یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو۔ مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو نبی پر حقیقت ہے اور وہی صحیح طریقے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو۔ یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہاں کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔ نادانستہ جو بات تم کہو ، اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے لیکن اس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا دل سے ارادہ کرو۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے “۔ عربی سوسائٹی میں منہ بولے بیٹوں کے پختہ رسم و رواج تھے اور گہرے آثار تھے۔ ان آثار کو منانا اس قدر آسان نہ تھا جس قدر نفس معبنی کو مٹانا آسان تھا۔ اس لیے کہ اجتماعی رسم و رواج دلوں پر گہرے اثرات چھوڑتے ہیں۔ اس لیے اس قسم کی رسومات کو مٹانے کے لیے ان کے بالمقابل سخت اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے۔ بالعموم پہلے پہل جو اقدامات کیے جاتے ہیں ان کے خلاف شوروغل بھی ہوتا ہے اور ابتدا میں اس کے اثرات بھی نفوس پر پڑتے ہیں۔ اس سے قبل یہ بات آگئی ہے کہ حضرت نبی ﷺ نے زید ابن حادثہ کی شادی کرائی تھی۔ یہ آپ کے معبنی تھے اور ان کو زید ابن محمد کہا جاتا تھا۔ اس کے بعد زید ابن حارثہ کہلانے لگا۔ یہ شادی زینب بنت جحش سے کرائی گئی تھی جو آپ کی پھوپھی زاد تھیں ، مقصد یہ تھا کہ غلاموں کو عرب سوسائٹی میں جو دوسرے درجے کا انسان سمجھا جاتا تھا ، اسے دور کردیا جائے اور اللہ تعالیٰ نے شرافت و کرامت کا جو اصول مقرر فرمایا ہے اسے بروئے کار لایا جائے۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقالکم ” تمہارے اندر زیادہ شریف وہی ہے ، جو زیادہ متقی ہے “۔ اور یہ مثال عملاً قائم کی جائے جو فی الواقعہ مثال ہو۔ اس کے بعد مشیت الہیہ کا تقاضا یوں ہوا کہ رسالت کی ذمہ داریوں میں اس ذمہ داری کا اضافہ کردیا جائے کہ معبنی کی مطلقہ کے ساتھ نکاح کی مثال بھی حضور ﷺ خود قائم کریں تاکہ معبنی کی رسم کے جو گہرے آثار تھے ، وہ بھی مٹ جائیں اور حضور ﷺ یہ نمونہ معاشرے کے سامنے پیش کریں۔ ان حالات میں کہ کسی اور کی ہمت اس کام کے لیے نہ ہوسکتی تھی اگرچہ رسم معبنی قانوناً اور شرعاً اس سے قبل ختم ہوگئی تھی۔ اللہ نے حضرت نبی ﷺ کو بذریعہ وحی بتا دیا کہ زید عنقریب اپنی بیوی کو طلاق دے دیں گے اور آپ کو یہ نکاح کرنا ہوگا۔ یہ تقاضائے حکمت الہیہ ہے۔ اس دوران زید اور زینب کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے اور آثار بتا رہے تھے کہ یہ نکاح قائم نہیں رہ سکتا۔ حضرت زید بار بار رسول اللہ ﷺ سے یہ شکایت کر رہے تھے کہ ان کی زندگی زینب کے ساتھ بہت مضطرب ہے اور یہ کہ وہ مزید ان کے ساتھ گزارہ نہیں کرسکتے۔ رسول اللہ ﷺ بڑی بےباکی سے اسلامی نظریہ حیات کی تبلیغ فرماتے تھے اور اس سلسلے میں کسی کی پرواہ نہ فرماتے تھے لیکن زینب کے ساتھ نکاح کرنے کے معاملے میں آپ بھی متامل تھے۔ اس سلسلے میں آپ بھی عوام کا سامنا کرنے سے گھبراتے تھے اور آپ ہمیشہ زید سے کہتے ، جن پر اللہ کا انعام ہوا تھا کہ وہ مسلمان ہوئے اور پھر رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوئے اور رسول اللہ ﷺ آپ سے محبت فرماتے تھے اور یہ محبت ایسی تھی کہ بلا استثناء سب سے زیادہ تھی۔ پھر رسول اللہ نے ان پر یہ مہربانی کی کہ انہیں آزاد کردیا۔ ان کی تربیت کی اور ان سے بہت پیار کرتے۔ حضرت زید سے رسول اللہ ﷺ یہی کہتے۔ امسک علیک زوجک واتق اللہ (33: 37) ” کہ اپنی بیوی کو نہ چھوڑو اور اللہ سے ڈرو “۔ اور دراصل حضور اکرم ﷺ اس طرح اس عظیم معاملے کو موخر کرنا چاہتے تھے جس کے وقوع کے بعد آپ کو عوام کا سامنا کرنے میں تردد تھا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے تصریح فرمائی۔ وتخفی فی نفسک ۔۔۔۔۔۔ ان تخشہ (33: 37) ” اس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا۔ تم لوگوں سے ڈر رہے تھے جس کا اللہ نے آپ کو یہ سبب بتا دیا تھا کہ اگر حضرت زید ان کو طلاق دیں گے تو آپ ﷺ کو نکاح کرنا ہوگا۔ یہ معاملہ صریح حکم نہ تھا ، ورنہ حضور ﷺ اس میں تردد نہ فرماتے ، نہ موخر کرتے اور نہ یہ کوشش کرتے کہ کسی طرح ٹل جائے اور حضور ﷺ اس وقت اس کا اعلان کردیتے۔ نتائض جو بھی ہوتے ، البتہ حضور ﷺ کے دل میں بطور الہام یہ بات ڈال دی گئی تھی اور حضور ﷺ اس وقت پریشان تھے کہ لوگ غوغا آرائی کریں گے یہاں تک کہ خدا کے حکم سے زید نے طلاق دے دی اور یہ تصور نہ زید کا تھا اور نہ زینب کا کہ اس کے بعد حضور ﷺ سے نکاح ہوگا کیونکہ عربوں میں یہ قانونی رواج تھا کہ منہ بولے بیٹے کی مطلقہ کے ساتھ نکاح جائز نہ تھا۔ یہاں تک کہ معبنی بنانے کے قانون اور رواج کو ختم کردینے کے بعد بھی لوگ مطلقہ معبنی کو حرام سمجھتے تھے اور ابھی ان کے حلال ہونے کا حکم بھی نہ آیا تھا۔ صرف اس واقعہ سے یہ رسم ختم ہوئی لیکن یہ واقعہ بہرحال اس سوسائٹی میں ایک دھماکہ اور ایک انوکھی اور نئی بات تھی۔ اس تفسیر سے وہ تمام روایات ختم ہوجاتی ہیں جن پر اعتماد کرکے دشمنان اسلام نے قدیم دور میں بھی اور جدید دور میں بھی افسانے تصنیف کیے ہیں اور حاشیہ آرائیاں کی ہیں۔ معاملہ بس اس قدر تھا۔ فلما قضی زید۔۔۔۔۔ منھن وطرا (33: 37) ” پھر جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کرلی تو ہم نے اس کا تم سے نکاح کردیا تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملے میں کوئی تنگی رہے جب کہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں “۔ اور یہ واقعہ رسالت کی ان بھاری ذمہ داریوں میں سے ایک تھا جو رسول اللہ ﷺ نے خود اٹھایا۔ یوں آپ نے ایک ایسے معاملے میں جاہلی معاشرے کی ایک رسم متانے میں نمونہ پیش کیا جسے ایام جاہلیت میں ایک مکروہ فعل سمجھا جاتا تھا۔ یہ فعل اس قدر مکروہ سمجھا جاتا تھا کہ حضور اکرم ﷺ نے اسلامی نظریہ حیات کے حوالے سے بڑی بڑی باتوں میں تامل نہ فرمایا تھا مگر اس میں مترو و تھے۔ مثلاً عربوں کے خود ساختہ الٰہوں کی مذمت آپ نے بےدھڑک فرمائی اور یہ آپ نے بر ملا اعلان فرمایا کہ ہمارے آباء و اجداد غلطی پر تھے۔ وکان امر اللہ مفعولا (33: 37) ” اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے تھا “۔ حضرت زینب سے حضور اکرم کا نکاح عدت پوری ہونے کے بعد طے ہوا تھا “۔ یعنی اسے ردنہ کیا جاسکتا تھا اور نہ اس سے کوئی مفر تھا۔ یہ ایک حقیقت تھی اور اٹل حقیقت تھی اور اس سے کوئی پہلو تہی نہ کرسکتا تھا۔ آپ کا نکاح زینب سے عدت گزر جانے کے بعد ہوا اور حضور ﷺ نے ان کو انہیں حضرت زید کے ذریعہ پیغام بھیجا تھا۔ یہ زید حضور ﷺ کو بہت ہی محبوب تھے۔ یہ گئے اور انہوں نے حضور ﷺ کا پیغام ان کو دیا۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ جب زینب کی عدت ختم ہوگئی تو حضور ﷺ نے زید ابن حارثہ سے کہا ” آپ جائیں اور زینب کو میرے لیے پیغام دیں “۔ زید گئے ، اس وقت وہ آٹے میں خمیر ڈال رہی تھی۔ کہتے ہیں کہ جب میں نے اسے دیکھا تو میرا انکے ساتھ سامنا کرنا مشکل ہوگیا۔ میں ان کو دیکھ نہ سکا اور نہ کہہ سکا کہ رسول اللہ ﷺ نے آپ کا تذکرہ کیا ہے میں نے ان کی طرف اپنی پیٹھ پھیرلی اور واپس جاتے ہوئے یہ کہا ” اے زینب تمہارے لیے خوشخبری ہے ، حضور ﷺ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے کہ میں ان کا پیغام آپ تک پہنچا دوں “۔ اس نے کہا ” میں کوئی بات اس وقت تک کرنے والی نہیں ہوں جب تک میں اپنے رب کے ساتھ اس معاملے میں مشورہ نہ کرلوں۔ وہ اٹھی اور اپنی جائے نماز پر نماز پڑھنے لگی “۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ اس کے بعد اس سے اجازت لینے کے بغیر اس کے پاس آگئے۔ (روایت احمد ، مسلم اور نسائی بطریقہ سلیمان ابن مغیرہ) ۔ بخاری شریف میں حضرت انس کی روایت ہے کہ حضرت زینب دوسری ازواج مطہرات پر یہ فخر کرتی تھی کہ تمہارا نکاح تمارے رشتہ داروں نے کیا ہے اور میرا نکاح اللہ نے سات آسمانوں کے اوپر کیا ہے۔ یہ معاملہ اسی طرح آسانی سے طے نہ پا گیا بلکہ اسلامی سوسائٹی میں اس کی وجہ سے ایک بھونچال آگیا اور منافقین کو ایک مسئلہ مل گیا کہ حضور ﷺ نے اپنے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرلیا ہے۔ چونکہ یہ معاملہ اسلامی معاشرے میں قانون اصلاحات سے متعلق تھا اور اسلامی معاشرے کے لیے ایک نیا اصول طے کرنا تھا۔ اس لیے اللہ نے اس کی تاکید مزید کردی اور پھر اس میں لوگوں کے نزدیک جو انوکھا پن تھا اسے یوں زائل کیا اور معاملات کو اپنی اصل حقیقت کی طرف لوٹا دیا۔ ما کان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ (33: 38) ” نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کردیا ہو “۔ اللہ نے نبی پر فرض کردیا تھا کہ زینب کے ساتھ اس کا نکاح ہوتا کہ یہ جاہلی رسم ٹوٹے کہ کسی کا نکاح ان کے منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نہیں ہوسکتا جبکہ اس نے اسے طلاق دے دی ہو یا مر گیا ہو ، اور یہ کہ نبی ﷺ کوئی پہلے رسول نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ایسا ہوتا رہا ہے۔ سنۃ اللہ فی الذین خلوا من قبل (33: 38) ” یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملے میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں “۔ تو یہ معاملہ سنت الہیہ کے مطابق جا رہا ہے اور اس میں کوئی تغیر اور تبدل نہیں ہوتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ ان رسوم اور رواجات کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکتا رہا ہے جو معاشرے میں رائج رہی ہیں اور جن کی کوئی حقیقت و افادیت نہ تھی۔ وکان امر اللہ قدرا مقدورا (33: 38) ” اور اللہ کا حکم قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے “۔ اللہ کا حکم نافذ ہوتا ہے اور اسے نافذ کیا جانا ہی چاہئے۔ اس کے سامنے کوئی بھی چیز رکاوٹ نہیں بن سکتی اور نہ بننا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ تمام امور کو نہایت مہارت سے طے کرتا ہے ، نہایت حکمت سے طے کرتا ہے اور اس کی تہہ میں وہ مقاصد ہوتے ہیں جو اللہ کے پیش نظر ہوتے ہیں۔ اللہ ہی ان احکام کی ضرورت اور کسی زمان و مکان میں ان کی اہمیت کو جانتا ہے اور اللہ نے رسول اللہ کو حکم دے دیا ہے کہ وہ اس عادت کو محو کردیں ، اس کے عملی آثار کا بھی قلع قمع کردیں اور یہ کام وہ بنفس خود کریں۔ اللہ کے حکم کے نفاذ میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جاسکتی اور اللہ کے رسولوں کی یہ سنت رہی ہے۔ تمام گزرے ہوئے رسولوں کی : الذین یبلغون رسلت۔۔۔۔۔۔۔ الا اللہ (33: 39) ” جو لوگ اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اس سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے “۔ ایسے لوگوں کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ کے نظام کو عملاً قائم کرتے ہیں اور لوگوں کی باتوں سے نہیں ڈرتے۔ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔ اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔ وہ اللہ کے احکام پہنچاتے ہیں اور نافذ کرتے ہیں۔ وکفی باللہ حسیبا (33: 39) ” اور محاسبہ کے لیے اللہ ہی کافی ہے “۔ حساب و کتاب نیک و بد کا اللہ ہی لے گا اور لوگوں کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ اپنے نبی کا محاسبہ کریں۔ ما کان محمد ابآ احد من رجالکم (33: 40) ” محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں “۔ لہٰذا زینب محمد کے کسی بیٹے کی مطلقہ نہیں ہے۔ زید ابن محمد دراصل زید ابن حارثہ ہیں۔ لہٰذا اس میں کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے اگر حقیقت پسند انہ نظروں سے دیکھا جائے حضرت محمد ﷺ اور تمام لوگوں کا آپس میں تعلق نبی اور قوم کا تعلق ہے وہ ان میں سے کسی کا باپ نہیں ہے۔ ولکن رسول اللہ وخاتم النبین (33: 40) ” وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں “۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ قانون بناتے ہیں۔ اور یہ دائمی اور آخری شریعت ہے اور یہ قیامت تک رہنی ہے۔ اس کے بعد ان قوانین میں کوئی تغیر و تبدل ہونے والا نہیں۔ وکان اللہ بکل شئ علیما (33: 40) ” اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے “۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ انسانیت کیلئے کون سا قانون مفید ہے۔ یہ اللہ ہی ہے جس نے نبی پر یہ کام کرنا فرض کیا اور اس کیلئے یہ آسائش مقرر کی تاکہ لوگوں کے لیے منہ بولے بیٹوں کے معاملہ میں پابندی ختم ہو۔ جبکہ وہ کسی بیوی کو طلاق دت چکے ہوں اور ان سے اپنی ضرورت پوری کرچکے ہوں اور ان کو آزاد کرچکے ہوں۔ اللہ نے اپنے علم کے مطابق فیصلہ فرمایا ہے اور اللہ ہی ہے جو اپنی حکمت اور علم کے مطابق قانون بنانے والا ہے۔ اب سیاق کلام میں اللہ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرنے کی ہدایت کی جاتی ہے کہ اللہ کو یاد کرو ، صبح و شام ، اس کے سامنے سجدہ ریز ہوتے رہو۔ وہی تو ہے جس نے اپنی مہربانی اور رحمت سے تمہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی میں داخل کیا۔ وہ مومنین پر کس قدر رحیم ہے۔ جب یہ مومنین قیامت میں حاضر ہوں گے تو ہر طرف سے مبارک سلامت ہوگی۔
Ayahs 33:41–44

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوا اللّٰهَ ذِكْرًا كَثِیْرًاۙ Open ayah 33:41 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، اللہ کو کثرت سے یاد کرو

وَّ سَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 33:42 in the Quran reader

اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓئِكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِ١ؕ وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا Open ayah 33:43 in the Quran reader

وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے ، وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے

تَحِیَّتُهُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَهٗ سَلٰمٌ١ۚۖ وَ اَعَدَّ لَهُمْ اَجْرًا كَرِیْمًا Open ayah 33:44 in the Quran reader

جس روز وہ اس سے ملیں گے ، ان کا استقبال سلام سے ہوگا اور ان کے لیے اللہ نے بڑا باعزت اجر مہیا کر رکھا ہے

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ لھم اجرا کریما (41 – 44) اللہ کا ذکر انسان کو اللہ کے ساتھ مربوط رکھتا ہے۔ اور انسان کا دل اللہ کی فکر اور سوچ میں رہتا ہے کہ اللہ کی ذات ہی سب کچھ کرنے والی ہے۔ صرف زبان ہی سے اللہ اللہ کرنا ذکر نہیں ہے۔ نماز قائم کرنا بھی ذکر الٰہی کی ایک شکل ہے بلکہ خصوصی قرآن و سنت میں ذکر کا مطلب قریب قریب نماز ہی ہے۔ امام ابو داؤد اور ابن ماجہ نے اعمش کی روایت نقل کی ہے کہ انہوں نے اغر ، ابو سعید اور ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو رات کے وقت جگایا اور دونوں نے دو رکعت نماز پڑھی تو دونوں اس پوری رات میں ذاکرین اور ذاکرات میں شمار ہوں گے “۔ اگرچہ ذکر الٰہی نماز سے عام ہے لیکن ہر وہ صورت جس میں بندہ خدا کو یاد کرے ، وہ ذکر الٰہی ہے۔ جس میں بندے کا دل رب سے مربوط ہو ، چاہے زبان سے وہ ادا کرے یا نہ کرے۔ اصل بات یہ ہے کہ قلبی اور روحانی لحاظ سے انسان اللہ سے مربوط ہوجائے۔ جب انسان اللہ سے غافل ہو ، تو اس کا دل خالی ہوتا ہے ، وہ لاپرواہ ہوتا ہے اور وہ حیران و پریشان ہوتا ہے۔ جب وہ اللہ تک پہنچ جاتا ہے اور اللہ کو یاد کرتا ہے تو وہ مانوس اور پرسکون ہوجاتا ہے۔ اب اس کا قلب بھرا ہوا ہوتا ہے۔ وہ سنجیدہ بن جاتا ہے۔ اسے قرار و سکون مل جاتا ہے۔ اسے زندگی کی راہ معلوم ہوجاتی ہے ، وہ اپنے منہاج سے باخبر ہوتا ہے۔ اسے پتہ ہوتا ہے کہ وہ کہاں ہے ، اسے کہاں جانا ہے اور اس کی راہ کون سی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید ذکر الٰہی پر بہت زور دیتا ہے۔ بہت ہی تاکید کی جاتی ہے کہ اللہ کو یاد کرو ، چناچہ قرآن مجید ذکر الٰہی کو انسان کے مصروف ترین اوقات اور حالات سے مربوط کرتا ہے تاکہ کسی بھی مصروفیت میں انسان ذکر الٰہی سے غافل نہ ہوجائے ۔ اس کے وہ اوقات اور حالات بھی وسیلہ یاد الٰہی بن جائیں اور یوں انسان حالات اور اوقات کے حوالے سے بھی اللہ سے مربوط ہوجائے۔ وسبحوہ بکرۃ واصیلا (33: 42) ” صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو “۔ صبح و شام کے اوقات میں ایک خاصیت ہے۔ وہ یہ کہ ان اوقات میں انسانی قلب اللہ کی طرف مائل ہوتا ہے ۔ کیونکہ ان اوقات میں انسان کے حالات اور دن اور رات کے اصول بدلتے ہیں جبکہ اللہ لازوال ہے اور اس کے سوا ہر چیز تغیر پذیر اور زوال پذیر ہے۔ اس کے بعد یہ کہا جاتا ہے کہ جس ذات کو تم یاد کرتے ہو ، اور جس کی تسبیح کرتے ہو ، وہ لازوال ہونے کے ساتھ تم پر بہت ہی رحیم و کریم ہے اور وہی ہے جو تمہاری تخلیق کرتا ہے۔ تمہاری بہتری چاہتا ہے ، حالانکہ وہ غنی بادشاہ ہے اور تم محتاج ہو۔ اس کو کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ تو محض اس کا فضل و کرم ہے۔ ھو الذی یصلی ۔۔۔۔۔ بالمومنین رحیما (33: 43) ” وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے اور وہ مومنین پر بہت مہربان ہے “۔ اللہ بہت بلند ہے ، اس کی رحمتیں بہت زیادہ ہیں۔ اس کا فضل و کرم بہت ہی عظیم ہے۔ اللہ اپنے ان ضعیف اور محتاج بندوں پر رحمت فرماتا ہے جو کمزور اور بےقرار ہوتے ہیں ، ان کو نصیحت کرتا ہے ، ان پر رحم و کرم کرت ا ہے۔ اس کے فرشتے انسانوں کے لیے دعا کرتے ہیں اور ان کو بھلائی سے یاد کرتے ہیں۔ یوں پھر پوری کائنات بھی بندوں کر یاد کرتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ فرماتے ہیں جس نے مجھے یاد کیا اپنے دل میں ، میں اسے دل میں یاد کرتا ہوں۔ جس نے مجھے لوگوں میں یاد کیا میں اسے ان سے اچھے لوگوں میں یاد کرتا ہوں “۔ یہ ایک عظیم قسمت ہے جس کا تصور انسان کے لئے ممکن نہیں کہ انسان اور یہ زمین اس کائنات کا ایک حقیر ذرہ ہیں اور یہ افلاک اور یہ پوری کائنات اللہ کی لاتعداد مخلوقات و املاک کا حقیر حصہ ہیں جو کن فیکون سے پیدا ہوئے۔ ھو الذی یصلی ۔۔۔۔۔ الی النور (33: 43) ” وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی کی طرف لے آئیں۔ اللہ کا نور ایک ہے ، وہ ہر کسی کے شامل حال ہے اور عام ہے۔ اللہ کے نور کے سوا جس قدر افکار و خیالات بھی ہیں ، وہ ظلمات ہیں۔ جب بھی لوگ اللہ کے نور سے نکلیں گے وہ تاریکیوں میں ہوں گے۔ جزوی تاریکی ہوگی یا کلی تاریکی ہوگی۔ اور یہ تاریکی صرف ایک ہی ذریعہ سے دور ہو سکتی ہے کہ کسی کے دل میں نور آفتاب طلوع ہوجائے۔ اس کی روح بدل جائے ، وہ فطرت کی طرف لوٹ آئیں۔ یہی کائنات کی فطرت ہے اور یہی رحمت الٰہی ، دعائے ملائکہ اور یہی وہ راہ ہے جس کے ذریعے انسان ظلمات سے نکل آتا ہے لیکن جب اس کا دل کھل جائے۔ وکان بالمومنین رحیما (33: 43) ” اللہ مومنوں پر بہت مہربان ہے “۔ یہ تو ہے دنیا میں اہل ایمان کا معاملہ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ دنیا دار العمل ہے۔ رہی آخرت جو دار الجزاء ہے تو وہاں بھی اللہ کا فضل و کرم ان کے شامل حال رہے گا اور اللہ کی رحمت وہاں بھی ان کو ڈھانپے ہوئے ہوگی۔ وہ ان کے لیے بہت ہی اعزاز ہوگا ، بہت ہی خصوصی کرم ہوگا اور اجر عظیم ان کے لیے وہاں تیار ہے۔ تحیتھم یوم یلقونہ سلم واعدلھم اجرا کریما (33: 44) ” جس روز وہ اس سے ملیں گے ، ان کا استقبال سلام سے ہوگا اور ان کے لیے اللہ نے باعزت اجر تیار کر رکھا ہے “۔ ان کے لئے ہر خوف و خطر سے سلامتی ہوگی۔ ہر تھکاوٹ سے وہ دور ہوں گے۔ ان کے لئے کوئی مشکل نہ ہوگی۔ اللہ کی طرف سے مبارک و سلامت کے پیغامات فرشتوں نے اٹھائے ہوئے ہوں گے۔ یہ فرشتے ان کے پاس ہر طرف سے آتے ہوں گے اور اللہ کی جانب سے سلام پہنچا رہے ہوں گے۔ یہ سلام ان باعزت اجر و معاوضات کے علاوہ ہوگا جو ابھی سے تیار ہیں۔ یہ ہے وہ رب کریم جو لوگوں کے لیے قانون بناتا ہے جو ان کے لیے راہ پسند کرتا ہے۔ لہٰذا کون بدبخت ہوگا جو ایسے رب کے اختیار کردہ نظام سے منہ موڑے گا۔ رہے نبی ﷺ جو ان لوگوں تک اللہ کے پسند کردہ قوانین اور ضوابط پہنچاتے ہیں اور کود اپنی سنت اور اپنے اسوہ اور نمونہ کے ذریعے وہ راستے متعین فرماتے ہیں تو یہاں ان کے بارے میں بھی بتا دیا جاتا ہے کہ ان کے فرائض کیا ہیں۔ آپ کس مشن پر مامور ہیں اور ان کے ذریعے اس دنیا میں اللہ مومنین پر کس قدر فضل کر رہے ہیں۔
Ayahs 33:45–48

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ Open ayah 33:45 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، ہم نے تمہیں بھیجا ہے گواہ بنا کر ، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر

وَّ دَاعِیًا اِلَى اللّٰهِ بِاِذْنِهٖ وَ سِرَاجًا مُّنِیْرًا Open ayah 33:46 in the Quran reader

اللہ کی اجازت سے اس کی طرف دعوت دینے والا بنا کر اور روشن چراغ بنا کر

وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا Open ayah 33:47 in the Quran reader

پشارت دے دو ان لوگوں کو جو (تم پر) ایمان لائے ہیں کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے

وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 33:48 in the Quran reader

اور ہرگز نہ دبو کفارومنافقین سے ، کوئی پروانہ کرو ان کی اذیت رسانی کی اور بھروسہ کرلو اللہ پر ، اللہ ہی اس کے لئے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کر دے

یایھا النبی انا ارسنک ۔۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (45 – 48) نبی کا فریضہ منصبی یہ ہے کہ آپ لوگوں پر گواہ ہوں لہٰذا لوگوں کو ایسا عمل کرنا چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ اچھی شہادت دینے کے قابل ہوں کیونکہ آپ نے سچی شہادت دینی ہے۔ اصل واقعہ سے کوئی تغیر و تبدیلی آپ نے نہیں کرنی ہے۔ رسول تو خوشخبری دینے والے ہیں ان لوگوں کو جو اچھے کام کرتے ہیں۔ نیک لوگوں کے لیے اللہ کی رحمت انتظار میں ہے اور غافل اور بےراہ رو لوگوں کو ڈرانے والے ہیں کہ ان کیلئے سخت عذاب ہے تاکہ وہ بیچارے غفلت میں نہ مارے جائیں اور اگر سزا دی جائے تو وارننگ کے بعد۔ وداعیا الی اللہ (33: 46) ” اور اللہ کی طرف بلانے والا بنا کر بھیجا ہے “۔ اس لیے نہیں بھیجا کہ صرف تمہاری دنیا اچھی ہے۔ تم دنیا میں برتر ہوجاؤ اور قومی وقار تمہارا بلند ہو۔ نہ جاہلی عصبیات کے لئے اسے داعی بنایا ہے۔ نہ مال غنیمت کے حصول کے لئے اٹھایا ہے۔ نہ نظام مملکت کا قیام مطلوب ہے۔ صرف دعوت الی اللہ ان کا منشور و مطلوب ہے اور یہ کام اللہ کے حکم سے انہوں نے شروع کیا ہے۔ نہ یہ اپنی طرف سے ہے اور نہ رضا کارانہ ہے۔ نہ آپ اپنی طرف سے یہ کام بطور رضا کار کرتے ہیں۔ یہ سب کام اللہ کے حکم سے ہے۔ وسراجا منیرا (33: 46) ” آپ روشن چراغ ہیں “۔ آپ ظلمتوں کو دور کرنے والے ہیں۔ شہادت کو قائم کرتے ہیں۔ راستہ متعین کرتے ہیں اور لوگوں کے لیے ایسے رہنما ہیں جس طرح سراج منیر ہوتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ اسی طرح روشنی لے کر آئے ۔ یہ روشنی ایک واضح تصور تھا ، ایک واضح نظریہ اور عقیدہ تھا ، جس نے پوری کائنات کو منور کردیا۔ اس کائنات اور انسان کا ربط واضح کردیا اور اس کائنات میں انسان کے مقام و مرتبہ کو متعین کیا۔ ان اقدار کی وضاحت کی جن پر یہ کائنات قائم ہے۔ انسان کا مقصد ، اس کی غرض ، اور اس کے حصول کا طریقہ متعین کیا۔ نہایت ہی واضح اسلوب میں اور نہایت ہی فطری انداز میں۔ اس طرح کہ بات انسان کے دل کی گہرائیوں تک اتر جاتی ہے۔ مشکل سے مشکل مسائل اور زندگی کے نشیب و فراز میں پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کو آسان ترین طریقوں سے حل کردیا گیا ہے۔ مکرر اس بات کی تفصیل دی جاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذمہ داریوں میں اس بات کا اضافہ کیا جاتا ہے کہ آپ مومنین کے لیے مبشر ہیں۔ وبشر المومنین بان لھم من اللہ فضلا کبرا (33: 47) ” بشارت دے دو ان لوگوں کو جو تم پر ایمان لائے کہ ان کے لیے اللہ کا بہت بڑا فضل ہے “۔ اس سے قبل آیت یایھا النبی انا ارسلنک شاھدا ومبشرا ونذیرا (33: 45) ” اے نبی ﷺ ، ہم نے آپ ﷺ کو گواہ ، مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے) میں مجملاً آپ ﷺ کو مبشر کہا گیا تھا اور یہ تفصیل اس لیے دی ہے کہ مومنین یقین کرلیں کہ ان پر اللہ کا بہت بڑا فضل و کرم ہوگا اور یہ جو ان کے لیے قوانین اور ضوابط تیار ہو رہے ہیں اور نبی اپنے عمل سے ان کے لیے جو راہ و رسم وضع کر رہے ہیں یہ آخر کار ان کے لیے خوشخبری اور عظیم فضل و کرم کی بشارت ہوں گے۔ اس خطاب میں نبی ﷺ کو اس بات سے منع کیا گیا ہے کہ آپ کافروں اور منافقوں کی کسی معاملے میں اطاعت کریں اور مومنین اور آپ ﷺ کو یہ لوگ جو اذیت دیتے ہیں اس کی بھی کوئی پرواہ نہ کریں۔ صرف اللہ وحدہ پر توکل کریں۔ وہی تمہارے لیے کافی مددگار ہے۔ ولا تطع الکفرین ۔۔۔۔۔ وکفی باللہ وکیلا (33: 48) ” اور ہرگز نہ دبو کافروں اور منافقین سے ، کوئی پرواہ نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی۔ اور بھروسہ کرلو اللہ پر ، اللہ ہی اس کے لئے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کردے “۔ یہ وہی خطاب ہے جو سورة کے آغاز میں بھی تھا ۔ اس سے قبل کہ وہاں قانون سازی کا آغاز کیا جاتا اور جدید انتظامی ہدایات دی جاتیں ۔ یہاں البتہ یہ بات زیادہ ہے کہ اے نبی ﷺ آپ کافروں اور منافقوں کی اذیت رسانی کی کوئی پرواہ نہ کریں اور نہ ان کی پیروی کسی معاملے میں کریں اور نہ کسی معاملے میں ان پر اعتماد کریں۔ کیونکہ اللہ وحدہ قابل اعتماد ہے۔ وکفی باللہ وکیلا (33: 48) ” اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اس کے سپرد کر دے “۔ یوں زید اور زینب ؓ کے واقعہ اور منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے ساتھ نکاح کے جواز کے مسئلہ کی تمہید اور تبصرہ دونوں طویل ہیں اور یہ عملی مثال جسے پیش کرنے کے فریضے کو حضور ﷺ بھی بہت بھاری محسوس سمجھ رہے تھے۔ اس لیے اس میں اللہ کی طرف سے تشریح اور لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت تھی۔ ان معاملات میں تعلق باللہ کو مضبوط کرنے کی ضرورت تھی تاکہ بندہ اللہ کے احسان اور رحمت کا گہرا شعور حاصل کرلے اور ان احکام کو خوشدلی سے وصول کرے ، قبول کرے اور تسلیم و رضا کے ساتھ ان پر عمل پیرا ہو۔
Ayah 33:49

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوْهُنَّ مِنْ قَبْلِ اَنْ تَمَسُّوْهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَیْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّوْنَهَا١ۚ فَمَتِّعُوْهُنَّ وَ سَرِّحُوْهُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:49 in the Quran reader

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو ، اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کرسکو۔ لہٰذا انہیں کچھ مال دو اور بھلے طریقے سے رخصت کر دو

درس نمبر 192 ایک نظر میں اس سبق کے ابتدائی حصہ میں عام خاندانی اور عائلی قانون سازی ہے۔ مطلقہ جسے رخصتی سے قبل طلاق ہوچکی ہو ، اس کا حکم عدت وغیرہ۔ اس کے بعد حضور ﷺ کی خاندانی زندگی کے لیے ہدایات ، ازواج کے ساتھ آپ کے تعلقات ، اور رواج کے دوسرے لوگوں سے رابطے کی ضابطہ بندی اور مسلمانوں کا رسول کے گھرانے سے تعلق ، اور پھر اس گھرانے پر درود وسلام۔ پھر پردے کا عام حکم جس میں رسول اللہ ﷺ کی بیٹیاں ، بیویاں اور مومنین کی تمام عورتیں شامل ہیں یہ کہ جب وہ قضائے حاجت کے لیے باہر نکلیں تو اپنی اوڑھنیاں سینوں پر لٹکا لیا کریں تاکہ وہ اس لباس کے ساتھ پہچانی جاسکیں اور ان کے ساتھ تعرض نہ کیا جاسکے۔ کیونکہ منافقین ، فساق و فجار اور مدینہ میں افواہیں پھیلانے والے اوباش عورتوں سے چھیڑ خانی کرتے تھے۔ آخر میں ایسے لوگوں کو دھمکی دی جاتی ہے کہ اگر یہ لوگ اپنی ان کاروائیوں سے باز نہ آئے تو ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔ یہ تمام قانونی ، معاشرتی اور امن وامان کے اقدامات اس لئے تھے کہ مدینہ کی سوسائٹی کو مکمل اسلامی خطوط پر منظم کیا جائے۔ جو ہدایات نبی ﷺ کے گھر کے بارے میں ہیں ، وہ اس لیے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس گھرانے کو قیامت تک کے لئے آنے والی نسلوں کے لیے کھلی کتاب کے طور پر باقی رکھنا چاہتے تھے کیونکہ یہ کتاب تو قیامت تک پڑھی جانے والی تھی اور پھر یہ ہدایت اور کتاب الٰہی میں ان کا ثبت کیا جانا اس گھر کے لیے ایک اعزاز بھی تھا کہ خود اللہ اس کی تربیت کر رہے ہیں اور قیامت تک کے لیے نمونہ بنا رہے ہیں۔ درس نمبر 192 تشریح آیات 49 ۔۔۔ تا۔۔۔ 62 یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ سراجا جمیلا (49) ” “۔ سورة بقرہ میں یہ احکام اس عورت کے بارے میں گزر گئے تھے جس کو قبل از رضصتی طلاق دے دی گئی ہو۔ لا جناح علیکم ان طلقتم ۔۔۔۔۔ ان اللہ بما تعملون بصیر (2: 237 – 238) ” تم پر کچھ گناہ نہیں اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو۔ اس صورت میں انہیں کچھ نہ کچھ ضرور دینا چاہئے۔ خوشحال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور ۔۔۔ اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے۔ یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔ اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو مگر مہر مقرر کیا جاچکا ہو تو اس صورت میں نصف مہر دینا ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ عورت نرمی برتے۔ یا وہ مرد جس کے ہاتھ میں عقد نکاح ہے نرمی سے کام لے اور تم نرمی سے کام لو ، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو ، تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے “۔ ایسی مطلقہ جس کی رخصتی نہ ہوئی ہو اگر مہر مقرر ہو تو نصف مہر ادا کرنا ہوگا اور گر مہر مقرر نہ ہو تو اس کے لئے کچھ نہ کچھ سامان دینا لازمی ہے۔ مالدار پر اس کی حیثیت کے مطابق اور غریب پر اس کی حالت کے مطابق۔ اس آیت میں عدت کے مسئلے کا اضافہ کردیا گیا جو وہاں نہ تھا۔ فیصلہ یہ ہوا کہ چونکہ رخصتی نہیں ہوئی ہے اس لیے عدت نہ ہوگی۔ کیونکہ ان لوگوں کے درمیان چونکہ ہم بستری نہیں ہوئی اس لیے عدت کے ذریعے رحم کو پاک کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ سابقہ نکاح کے آثار ہی موجود نہیں تاکہ نسب کا اختلاط نہ ہو اور کسی آدمی کی طرف دو بچہ منسوب نہ ہو جو دراصل اس کا نہ ہو۔ یا ایک شخص کا بچہ ہو اور وہ اس سے محروم ہوجائے لیکن رخصتی نہ ہونے کی صورت میں تو رحم پاک ہے۔ لہٰذا نہ عدت ہے اور نہ انتظار ہے۔ فما لکم علیھن من عدۃ تعتدونھا (33: 49) ” تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کرو “۔ فمتعوھن ” انہیں کچھ مال دو “۔ اگر مہر مقرر ہو تو نصف مہر ہے۔ اور اگر نہ ہو تو بھی کچھ دو ، اپنی مالی حالت کے مطابق۔ وسرحوھن سراحا جمیلا (33: 49) ” اور بھلے طریقے سے رخصت کر دو “۔ نہ روکے رکھو ، نہ اذیت دو ، نہ بغض رکھو اور نہ ان کو جدید ازدواجی زندگی گزارنے سے روکو۔ اس سورة میں یہ عام حکم ہے اور پوری اسلامی سوسائٹی کیلئے ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ کو یہ بتایا جاتا ہے کہ آپ کیلئے کون سے عورتیں حلال کی گئی ہیں اور وہ خصوصیات جو آپ کی ذات اور آپ کے اہل بیت کے لیے ہیں۔ یہ احکام سورة نساء کی آیت (مثنی و ثلاث و رباع) کے بعد آئے۔ وہاں مسلمانوں کے لیے چار عورتوں سے زیادہ کرنا حرام کردیا گیا تھا۔ نبی ﷺ کے حرم میں 9 بیویاں تھیں۔ ہر ایک کے ساتھ نکاح ایک خاص ضرورت کے تحت ہوا تھا۔ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ ، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر ؓ کی بیٹیاں تھیں۔ یہ آپ کے قریبی ساتھی تھے۔ ام حبیبہ ابو سفیان کی بیٹی تھی۔ ام سلمہ ، سودہ بنت زمعہ ، زینب بنت خزیمہ ان لوگوں میں سے تھیں جو خاوندوں سے محروم ہوگئی تھیں اور حضو ﷺ نے ان کی حوصلہ افزائی اور عزت افزائی فرمائی۔ زینب بنت جحش ؓ کا قصہ تو ابھی گزرا ہے۔ چونکہ آپ ﷺ نے اصرار پر ان کو زید ابن حارثہ غلام کے ساتھ بیاہ دیا تھا اور یہ شادی کامیاب نہ ہوسکی تو اللہ نے حضور ﷺ سے ان کا نکاح کردیا۔ ان کی دل جوئی کیلئے اور متنبی بنانے کی رسم کے آثار کو ختم کرنے کے لئے تفصیلات گزر چکی ہیں۔ جویریہ بنت الحارث بنی المصطلق اور صفیہ بنت حیی ابن اخلب ، دونوں غلام ہوکر آئیں اور حضور ﷺ نے ان کو آزاد کرکے نکاح میں لے لیا تاکہ ان قبائل سے تعلقات قائم ہوں اور ان دونوں دختران سردار ان کی عزت ہو۔ یہ دونوں اسلام لاچکی تھیں اگرچہ ان کی اقوام کے ساتھ سخت سلوک ہوا۔ یہ سب عورتیں وہ تھیں جنہوں نے امہات المومنین کا مقام پایا اور جب آیت تخییر نازل ہوئی تو ان سب نے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو اختیار کیا اور دنیا پر آخرت کو اختیار کرلیا۔ نیز جب عورتوں کی تعداد کو چار کے اندر محدود کردیا گیا تو ان ازواج نبی کے لیے حضور اکرم ﷺ ۔۔ ہونا شاق گزرا۔ اللہ نے ان پر نظر کرم فرمائی اور بقرہ کی آیت سے حضور ﷺ کو مستثنیٰ کردیا اور ان تمام عورتوں کو اپنے پاس رکھنے کی اجازت دے دی۔ ان سب کو آپ کے لیے حلال کردیا لیکن اس کے بعد یہ حکم بھی دے دیا کہ آپ ان پر اضافہ نہیں کرسکتے۔ نہ ان میں سے کسی ایک کے بدلے دوسری لاسکتے ہیں۔ یہ اجازت صرف موجودہ ازواج تک محدود ہے تاکہ وہ شرف زوجیت رسول ﷺ سے محروم نہ ہوجائیں جبکہ اس سے قبل وہ اللہ کے رسول اور دار آخرت کو ترجیح دے چکی تھیں۔ یہی موضوعات ہیں ان آیات کے۔
Ayahs 33:50–52

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِنَّاۤ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِیْۤ اٰتَیْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَ مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ مِمَّاۤ اَفَآءَ اللّٰهُ عَلَیْكَ وَ بَنٰتِ عَمِّكَ وَ بَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَ بَنٰتِ خَالِكَ وَ بَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِیْ هَاجَرْنَ مَعَكَ١٘ وَ امْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِیِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِیُّ اَنْ یَّسْتَنْكِحَهَا١ۗ خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِیْنَ١ؕ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَیْهِمْ فِیْۤ اَزْوَاجِهِمْ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُمْ لِكَیْلَا یَكُوْنَ عَلَیْكَ حَرَجٌ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:50 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، ہم نے تمہارے لیے حلال کردیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں ، اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں ، اور تمہاری وہ چچا زاد اور پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے اور وہ مومن عورت جس نے اپنے آپ کو نبی ﷺ کے لیے ہبہ کیا ہو اگر نبی اسے نکاح میں لینا چاہے۔ یہ رعایت خالصتا تمہارے لیے ہے۔ دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے۔ ہم کو معلوم ہے کہ عام مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں ہم نے کیا حدود عائد کیے ہیں۔ تمہیں ان حدود سے ہم نے اس لیے مستثنیٰ کیا ہے تاکہ تمہارے اوپر کوئی تنگی نہ رہے ، اور اللہ غفورورحیم ہے

تُرْجِیْ مَنْ تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَ تُئْوِیْۤ اِلَیْكَ مَنْ تَشَآءُ١ؕ وَ مَنِ ابْتَغَیْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكَ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ تَقَرَّ اَعْیُنُهُنَّ وَ لَا یَحْزَنَّ وَ یَرْضَیْنَ بِمَاۤ اٰتَیْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَلِیْمًا Open ayah 33:51 in the Quran reader

تم کو اختیار دیا جاتا ہے کہ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہو ، اپنے سے الگ رکھو ، جسے چاہو اپنے ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلا لو۔ اس معاملہ میں تم پر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اس طرح زیادہ متوقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گی اور جو کچھ بھی تم ان کو دو گے اس پر وہ سب راضی رہیں گی۔ اللہ جانتا ہے کہ جو کچھ تم لوگوں کے دلوں میں ہے ، اور اللہ علیم و حلیم ہے

لَا یَحِلُّ لَكَ النِّسَآءُ مِنْۢ بَعْدُ وَ لَاۤ اَنْ تَبَدَّلَ بِهِنَّ مِنْ اَزْوَاجٍ وَّ لَوْ اَعْجَبَكَ حُسْنُهُنَّ اِلَّا مَا مَلَكَتْ یَمِیْنُكَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ رَّقِیْبًا۠ Open ayah 33:52 in the Quran reader

اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں ، اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ خواہ ان کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند ہو ، البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے۔ اللہ ہر چیز پر نگران ہے

یایھا النبی انا احللنا ۔۔۔۔۔۔ علی کل شیء رقیبا (50 – 52) نبی ﷺ کے لیے اس آیت میں مذکورہ عورتوں کو حلال قرار دیا گیا۔ اگرچہ وہ چار کی تعداد سے زیادہ ہوں جبکہ دوسرے مسلمانوں پر چار سے زیادہ تعداد حرام ہے۔ یہ اقسام یہ ہیں : وہ ازواج جن کو مہر دے کر آپ نے نکاح فرمایا۔ وہ عورتیں جو غلام بن کر آجائیں۔ چچا زاد اور خالہ زاد عورتیں ۔ پھوپھی زاد اور ماموں زاد عورتیں ۔ ان میں سے صرف وہ جو آپ کے ساتھ ہجرت کرکے آئیں۔ یہ ان مہاجرات کی عزت افزائی کے لیے ہے۔ نیز وہ عورت بھی جو اپنے نفس کو نبی ﷺ کے لیے بخش دے ، بغیر مہر کے اگر نبی اس کے ساتھ نکاح کرنا چاہیں۔ (روایات میں اضطراب ہے کہ آیا اس قسم کی عورتوں میں سے کسی کے ساتھ حضور ﷺ نے نکاح فرمایا یا نہیں۔ راجح بات یہ ہے کہ جب عورتوں نے اپنے آپ کو حضور ﷺ کے لیے پیش کیا آپ ﷺ نے ان کے ساتھ نکاح کیا) ۔ یہ اقسام حضور ﷺ کے لیے بطور خصوصیت جائز کی گئیں کیونکہ حضور ﷺ مومنین اور مومنات کے ولی بھی تھے۔ رہے دوسرے لوگ تو وہ اپنی بیویوں اور لونڈیوں کے معاملے میں اللہ کے جاری کردہ قوانین کے پابند تھے۔ یہ استثناء اس لیے کی گئی کہ حضور ﷺ اپنے شخصی اور اجتماعی حالات کی وجہ سے مشکلات میں مبتلا نہ ہوں۔ اس کے بعد یہ اختیار بھی حضور اکرم ﷺ کو دے دیا کہ اگر کوئی اپنی ذات کے بارے میں حضور ﷺ کو پیش کش کرے تو حضور اسے اپنے حرم میں لے لیں یا موخر کردیں۔ اور جن کے معاملے کو آپ نے موخر کردیا تو بعد میں اسے حرم میں داخل کردیں۔ یہ بھی اختیار سے دیا کہ جن عورتوں کو الگ کردیں انہیں دوبارہ ساتھ بلالیں۔ ذلک ادنی ان ۔۔۔۔۔ بما اتیتھن کلھن (33: 51) ” اس طرح زیادہ متوقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں۔ اور جو کچھ بھی تم ان کو دو گے اس پر وہ سب راضی ہوں گی “۔ گویا یہ حضور اکرم ﷺ کے خاص حالات کے تحت اجازت دی گئی۔ کیونکہ سب عورتیں آپ کی طرف راغب تھیں اور آپ کے ساتھ رابطہ چاہتی تھیں۔ اللہ کو ان حالات کا سب سے زیادہ علم تھا۔ واللہ یعلم ۔۔۔۔۔ علیما حلیما (33: 51) ” اللہ جانتا ہے جو تم لوگوں کے دلوں میں ہے اور اللہ علیم و حلیم ہے “۔ اس کے بعد یہ حکم ہے کہ آپ کے حرم میں جو عورتیں ہیں ، وہ ذاتی طور پر آپ کے لئے جائز ہیں۔ تعداد مطلوب نہیں ہے۔ اس لیے آپ ان میں سے کسی کے بدلے کسی دوسری عورت کو نہیں لاسکتے۔ یہ معلوم نہیں ہے کہ آیا حضور ﷺ نے اس آیت کے نزول سے قبل کسی عورت کا اضافہ کیا تھا۔ لا یحل لک النسآء ۔۔۔۔۔۔ اعجبک حسنھن (33: 52) ” اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویاں لے آؤ، خواہ ان کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند ہو۔ اس میں کوئی استثناء نہیں الا ما ملکت یمینک (33: 52) ” البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے “۔ لونڈیاں جس قدر چاہیں رکھ سکتے ہیں۔ وکان اللہ علی کل شئ رقیبا (33: 52) ” اور اللہ ہر چیز پر نگران ہے “۔ حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ یہ حرمت بھی حضور اکرم ﷺ کی وفات سے قبل اٹھالی گئی تھی لیکن اجازت کے باوجود حضور اکرم ﷺ نے ان کے سوا کسی عورت کے ساتھ نکاح نہ کیا اس لیے وہی امہات المومنین رہیں۔ اس کے بعد نبی ﷺ کے گھرانے اور عام مسلمانوں کے تعلقات و روابط کی ضابطہ بندی کی گئی ہے کہ آپ کی زندگی میں لوگوں کا ربط آپ کی ازواج کے ساتھ کیسا ہوگا اور آپ کی وفات کے بعد کیا تعلق ہوگا۔ یہ احکام اس وقت کے واقعی حالات کے مطابق آئے۔ کیونکہ بعض منافقین اور بعض مریض اخلاق والے لوگ نبی ﷺ کو آپ کی ازواج کے بارے میں اذیت دیتے تھے۔ اس لیے ان آیات میں ان کو سخت دھمکی دی جاتی ہے اور یہ بتایا جاتا ہے کہ اللہ کے نزدیک ان کی حرکات بہت ہی گھناؤنی ہیں یہ لوگوں سے تو چھپ سکتے ہیں مگر اللہ سے نہیں چھپ سکتے۔ اللہ ان کی شرارتوں کو بھی جانتا ہے اور نیتوں کو بھی۔
Ayah 33:53

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتَ النَّبِیِّ اِلَّاۤ اَنْ یُّؤْذَنَ لَكُمْ اِلٰى طَعَامٍ غَیْرَ نٰظِرِیْنَ اِنٰىهُ١ۙ وَ لٰكِنْ اِذَا دُعِیْتُمْ فَادْخُلُوْا فَاِذَا طَعِمْتُمْ فَانْتَشِرُوْا وَ لَا مُسْتَاْنِسِیْنَ لِحَدِیْثٍ١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ یُؤْذِی النَّبِیَّ فَیَسْتَحْیٖ مِنْكُمْ١٘ وَ اللّٰهُ لَا یَسْتَحْیٖ مِنَ الْحَقِّ١ؕ وَ اِذَا سَاَلْتُمُوْهُنَّ مَتَاعًا فَسْئَلُوْهُنَّ مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ١ؕ ذٰلِكُمْ اَطْهَرُ لِقُلُوْبِكُمْ وَ قُلُوْبِهِنَّ١ؕ وَ مَا كَانَ لَكُمْ اَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَنْ تَنْكِحُوْۤا اَزْوَاجَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖۤ اَبَدًا١ؕ اِنَّ ذٰلِكُمْ كَانَ عِنْدَ اللّٰهِ عَظِیْمًا Open ayah 33:53 in the Quran reader

اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، نبی کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو۔ نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ۔ مگر جب کھانا کھالو تو منتشر ہوجاؤ۔ باتیں کرنے میں نہ لگے رہو۔ تمہاری یہ حرکتیں نبی ﷺ کو تکلیف دیتی ہیں ، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کتے۔ اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا۔ نبی ﷺ کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو۔ یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے۔ تمہارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ کو تکلیف دو ، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو ، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے ۔ تم خواہ کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ کو ہر بات کا علم ہے

یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔ اللہ کان بکل شئ علیما (53 – 54) امام بخاری نے حضرت انس ابن مالک کی روایت نقل فرمائی ہے کہ حضور ﷺ نے جب زینب بنت جحش سے شادی کی تو روٹی اور گوشت کی دعوت دی اور مجھے بلانے کے لیے بھیجا گیا۔ لوگ آتے اور کھانا کھا کر چلے جاتے۔ میں نے سب کو بلایا یہاں تک کہ کوئی نہ رہا۔ تو میں نے کہا حضور اکرم ﷺ کوئی رہ نہیں گیا۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا اب دسترخوان اٹھالو۔ کمرے میں تین آدمی بیٹھ گئے جو باتیں کر رہے تھے۔ حضور اکرم ﷺ نکلے اور حضرت عائشہ ؓ کے کمرے میں گئے۔ اور فرمایا السلام علیکم اہل البیت ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ آپ نے فرمایا وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ۔ اے رسول خدا ﷺ آپ کی نئی بیوی کیسی ہیں۔ اللہ آپ کے لیے اسے مبارک کرے۔ آپ ﷺ اپنی ازواج کے ہاں گئے اور ایسا ہی مکالمہ کہا جس طرح عائشہ ؓ سے ہوا اور سب نے ایسا ہی جواب دیا۔ جب حضور ﷺ واپس ہوئے تو یہ تین افراد اسی طرح بیٹھے ہوئے تھے۔ حضور ﷺ نہایت ہی حیا دار تھے۔ تو حضور ﷺ حضرت عائشہ ؓ کے کمرے میں چلے گئے۔ معلوم نہیں کہ حضرت عائشہ ؓ نے حضور ﷺ کو اطلاع دی کہ لوگ چلے گئے یا کسی اور نے اطلاع دی۔ جب حضور ﷺ واپس ہوئے اور اپنا پاؤں دروازے کو چوکھٹ سے اندر رکھا اور دوسرا باہر تھا تو میرے اور اپنے درمیان پردہ گرا دیا اور اس وقت حجاب کی آیت نازل ہوئی۔ اس آیت میں وہ آداب مذکور ہیں جو دور جاہلیت میں ناپید تھے۔ یہاں تک کہ حضور ﷺ کے گھر میں بھی یہ ناپید تھے۔ لوگ گھروں میں بغیر اجازت کے داخل ہوجاتے تھے جیسا کہ سورة نور کی آیت استیذان کی تشریح میں تفصیلات گزر گئیں اور حضور اکرم ﷺ کے گھر میں میں تو ان آداب کا بالکل خیال نہ رکھا جاتا تھا اس لئے کہ آپ کا گھر ایک مقام اجتماع تھا اور وہاں لوگ ہر وقت علم و حکمت کے حصول کے لیے بیٹھے رہتے تھے۔ بعض لوگ آتے اور دیکھتے کہ کچھ پک رہا ہے تو وہ بیٹھ جاتے تاکہ بغیر دعوت کی کھالیں۔ بعض لوگ کھاپی لینے کے بعد بھی بیٹھے رہتے۔ چاہے دعوت دی گئی یا خود گھس آئے ہوں۔ پھر باتوں میں لگ جاتے اور نہ سمجھتے کہ اس سے حضور اکرم ﷺ کو کس قدر تکلیف ہو رہی ہے۔ بعض روایات میں آیا ہے کہ یہ تین افراد جب باتیں کر رہے تھے تو اس وقت حضور ﷺ کی دلہن اسی کمرے میں منہ دیوار کی طرف کرکے بیٹھی تھی اور حضور ﷺ اس بات سے حیا کرتے تھے کہ وہ ان لوگوں کو بتا دیں کہ وہ آپ کے لیے کس قدر بوجھ ہیں۔ محض اس لیے کہ وہ شرمندہ نہ ہوں۔ چناچہ اللہ نے رسول اللہ ﷺ کی جانب سے یہ اعلان فرمایا۔ واللہ لا یستحی من الحق (33: 53) ” اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا “۔ روایات میں آتا ہے کہ حضرت عمر ؓ اپنی غیرت کی بنیاد پر اور حساس ہونے کی وجہ سے حضور ﷺ کے سامنے یہ تجویز رکھا کرتے تھے کہ حجاب نافذ ہوجائے اور یہ تمنا بھی کرتے تھے یہاں تک کہ آیت حجاب نازل ہوگئی۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا ” حضور ﷺ آپ کے پاس تو نیک و بد سب آتے ہیں۔ اے کاش کہ آپ ﷺ امہات مومنین کو پردے کا حکم دیتے “۔ اس آیت میں یہ تعلیم دی گئی کہ لوگ نبی کے گھر میں بغیر اجازت کے داخل نہ ہوں۔ جب کسی دعوت طعام کے لیے بلایا جائے تو داخل ہوں۔ اگر بلائے نہ گئے ہوں تو جلدی میں نہ آئیں اور کھانے کے پکنے کا انتظار جائے دعوت میں جا کر نہ کریں۔ پھر جب ان کو کھانا کھلا دیا جائے تو چلے جائیں اور کھانا کھانے کے بعد محض گپ شپ کے لیے بیٹھ نہ جائیں۔ نبی ﷺ کے زمانے کے مقابلے میں آج مسلمان آداب کے زیادہ محتاج ہیں کیونکہ اس ترقی کے دور میں بھی ہم ان آداب سے دور ہیں کیونکہ جن لوگوں کو دعوت پر بلایا جاتا ہے وہ کھانے کے بعد بھی جم جاتے ہیں بلکہ کھانا کھاتے وقت ہی وہ طویل باتیں کرتے ہیں اور گھر والے جو اسلام کے احکام حجاب سے بعض احکام ہی کی پیروی کرتے ہیں وہ قید ہوتے ہیں اور مہمان اپنی باتوں میں غرق ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی آداب ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے مفید ہیں لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلامی اور خدائی آداب اختیار کرنے کے لیے تیار ہوں۔ اس کے بعد نبی ﷺ کے اہل بیت اور عام لوگوں کے درمیان حجاب کی بات سامنے آتی ہے۔ واذا سالتموھن ۔۔۔۔۔ حجاب (33: 53) ” نبی کی بیویوں سے اگر تم نے کچھ مانگنا ہے تو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو “۔ اور یہ حجاب تمہارے دلوں کے لئے زیادہ پاکیزہ ہے۔ ذلکم اطھر لقلوبکم وقلوبھن (33: 53) ” یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے مناسب طریقہ ہے “۔ لہٰذا کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اللہ کی اس بات کے سوا کوئی اور بات کہے۔ اس لیے کسی کو یہ نہیں کہنا چاہئے کہ اختلاط ، بےپردگی ، بےباک باتیں ، بےقید ملاقاتیں ، ہم نشینی اور جنیں کے درمیان اشتراک دلوں کو پاک کرتا ہے اور اس طریقے سے ضمیر زیادہ عفیف ہوتے ہیں۔ اس طرح میلانات اور خواہشات دب جاتی ہیں۔ انسانی سلوک اور شعور شفاف ہوجاتے ہیں۔ یہ ہیں بعض وہ خرافات جو اللہ کی مخلوق میں سے گرے ہوئے لوگ کہتے ہیں۔ میں مشورہ دوں گا کہ کسی کو یوں نہیں کہنا چاہئے جبکہ اللہ فرماتے ہیں۔ واذا سالتموھن متاعا ۔۔۔۔۔۔ لقلوبکم و قلوبھن (33: 53) ” نبی کی بیویوں سے اگر تم نے کچھ مانگنا ہے تو پردے کے پیچھے سے مانگو ، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے نہایت مناسب طریقہ ہے “۔ یہ حضور اکرم ﷺ کی بیویوں کے بارے میں کہا جا رہا ہے جو امہات المومنین ہیں اور ان لوگوں سے کہا جا رہا ہے جو زمین کا نمک ہیں۔ رسول کے ساتھی ہیں جن کی ہمسری کا کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ جب اللہ بات کرتا ہے اور دوسری جانب سے اللہ کی مخلوق ایک بات کرتی ہے تو بات اللہ کی ہوتی ہے اور دوسروں کی باتیں خرافات ہوتی ہیں۔ اللہ کے مقابلے میں انسانوں کی باتوں کو اہمیت وہی شخص دے سکتا ہے جو یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ ایک انسان اللہ سے زیادہ جانتا ہے۔ سالوں کے تجربات نے یہ ثابت کردیا ہے کہ اللہ نے جو کچھ کہا ، وہ زیادہ سچا تھا اور یہ چھوٹے اور بونے لوگ جو کچھ کہتے ہیں ، انکے سالوں اور صدیوں کے تجربات نے غلط ثابت کردیا ہے۔ آج مغرب میں جہاں عورت و مرد کا اختلاط اپنی انتہاؤں کو چھو رہا ہے کیا تمام لوگوں کے دل پاک و صاف ہوگئے ہیں۔ امریکہ اس میدان میں سب سے عروج پر ہے۔ ذرا اسی کے حالات کا مطالعہ کرلو۔ اس آیت میں یہ بتایا گیا ہے کہ بلانے سے بھی پہلے آجانا اور کھانے کے پکنے کا انتظار کرنا اور پھر کھانے سے فارغ ہونے کے بعد دور دراز کی باتیں کرنا حضرت نبی ﷺ کے لیے تکلیف دہ تھا اور آپ ازروئے حیا چشمی خاموش تھے۔ حالانکہ مسلمانوں کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ حضرت بنی ﷺ کو اذیت دیں یا آپ کے بعد آپ کی ازواج سے نکاح کریں۔ جبکہ وہ ان کی ماؤں جیسی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے مقام و مرتبے کا یہ تقاضا ہے کہ آپ کے بعد کوئی ان کے ساتھ نکاح نہ کرے ، اس گھرانے کی حرمت اور عزت کو قائم کرنے کے لئے۔ وما کان لکم ۔۔۔۔۔ بعدہ ابدا (33: 53) ” تمہارے لیے ہرگز جائز نہیں ہے رسول کو تکلیف دو اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو “۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ بعض منافقین یہ کہتے تھے کہ وہ اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ حضور ﷺ کی وفات ہو اور وہ عائشہ ؓ سے نکاح کریں۔ ان ذلکم کان عند اللہ عظیما (33: 53) ” یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے “۔ اور جو گناہ اللہ کے ہاں عظیم ہو وہ کس قدر ہولناک ہوگا۔ صرف یہی نہیں بلکہ اس کے بعد مزید دھمکی دی جاتی ہے جو بہت شید ہے۔
Ayah 33:54

اِنْ تُبْدُوْا شَیْئًا اَوْ تُخْفُوْهُ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمًا Open ayah 33:54 in the Quran reader

تم خواہ کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ کو ہر بات کا علم ہے

ان تبدوا شیئا ۔۔۔۔۔۔ شئ علیما (33: 54) ” “۔ لہٰذا یہ سب معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے۔ وہ ہر ظاہر اور چھپے کا جاننے والا ہے۔ ہر تدبیر اور ہر سوچ کو جانتا ہے اور یہ معاملہ اس کے ہاں ہے بھی گناہ کبیر۔ اگر کوئی پھر بھی اس کے ساتھ الجھتا ہے تو وہ اللہ کے ساتھ جنگ کرتا ہے اور جس نے اللہ سے جنگ کی وہ مٹ گیا۔ اس عام حجاب کے بعد ازواج مطہرات کے لیے بعض محرمات سے پر وہ نہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے کہ وہ ان کے سامنے آسکتی ہیں۔
Ayah 33:55

لَا جُنَاحَ عَلَیْهِنَّ فِیْۤ اٰبَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآئِهِنَّ وَ لَاۤ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اِخْوَانِهِنَّ وَ لَاۤ اَبْنَآءِ اَخَوٰتِهِنَّ وَ لَا نِسَآئِهِنَّ وَ لَا مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُهُنَّ١ۚ وَ اتَّقِیْنَ اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدًا Open ayah 33:55 in the Quran reader

ازواج نبی ﷺ کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ان کے باپ ، ان کے بیٹے ، ان کے بھائی۔ ان کے بھتیجے ، ان کے بھانجے ، ان کے میل جول کی عورتیں اور ان کے مملوک گھروں میں آئیں (اے عورتو) تمہیں اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرنا چاہئے اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے

لاجناح علیھن ۔۔۔۔۔ کل شئ شھیدا (55) ” “۔ یہ وہی محرم ہیں جن کے سامنے تمام مسلمان عورتوں کو حجاب نہ کرنے کی اجازت ہے۔ یہ معلوم نہیں کہ ان دو آیات میں سے کون سے پہلے نازل ہوئی ہے۔ یعنی یہ آیت جو ازواج نبی کے ساتھ مخصوص ہے یا سورة نور کی وہ عام آیت جو تمام مسلم عورتوں کے لیے ہے۔ راجح بات یہ ہے کہ پہلے حکم ازواج مطہرات کے لیے آیا اور پھر عام مسلم عورتوں کے لیے اور یہ اللہ کی طرف سے فرائض عائد کیے جانے کے مزاج کے مطابق ہے۔ اس اجازت کو بھی خدا کے خوف کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ ہر چیز سے خبردار ہے۔ تقویٰ اور اللہ کی نگرانی کو ذہن میں رکھنا ایسے مقامات پر بالعموم زکوہ ہوتا ہے کیونکہ تقویٰ ہر برائی سے بچنے کی آخری ضمانت ہے۔ یہ وہ نگران ہے جو ہر وقت دل و دماغ کی نگرانی کرتا ہے۔ سیاق کلام لوگوں کو اس بات سے ڈرانے میں ذرا مزید آگے بڑھتا ہے کہ وہ رسول اللہ کو اذیت نہ دیں ۔ نہ آپ کی ذات کے معاملے میں اور نہ آپ کے خاندان کے معاملے میں۔ اس کام کے گھناؤ نے پن کو مزید وضاحت سے بیان کیا جاتا ہے اور یہ بات دو طریقوں سے بیان کی جاتی ہے۔ پہلے طریقہ یہ اختیار کیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعریف کی گئی ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ حضور ﷺ اکرم اللہ کے ہاں کس قدر بلند مرتبہ ہیں اور دوسرا طریقہ یہ کہ براہ راست یہ کہا گیا کہ حضور اکرم کو ایذا دینے والے دراصل اللہ کو ایذا دیتے ہیں اور اس کی سزا اللہ کے ہاں یہ ہے کہ ان کو اللہ کی رحمت سے دور کردیا جاتا ہے اور وہ دنیا اور خرت میں محروم ہوں گے اور ان کو یہ عذاب دیا جائے گا۔
Ayahs 33:56–57

اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓئِكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّ١ؕ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا Open ayah 33:56 in the Quran reader

اللہ اور اس کے ملائکہ نبی ﷺ پر درود بھیجے ہیں ، اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم بھی ان پر دوروسلام بھیجو۔

اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 33:57 in the Quran reader

جو لوگ اور اس کے رسول ﷺ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کردیا ہے

ان اللہ وملئکتہ یصلون علی النبی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ واعد لھم عذاب مھینا (56 – 57) اللہ کی طرف سے رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کا مطلب یہ ہے کہ عالم بالا میں نبی کی تعریف کی جاتی ہے اور فرشتوں کی طرف سے درود کے معنی یہ ہیں کہ وہ نبی ﷺ کے لیے دعا کرتے ہیں۔ کیا ہی عظیم مرتبہ ہے حضور ﷺ کا اللہ کے ہاں کہ یہ پوری کائنات آپ کے لیے دعا گو ہے۔ اس کے ذریعہ پوری کائنات منور ہوجاتی ہے اور اللہ کی جانب سے یہ ثنا اور تعریف ہوتی ہے اور جو باقی ہے اور ازلی اور ابدی ہے اور پوری کائنات اس کی ہمقدم ہے۔ اس نعمت اور تکریم سے بڑی اور نعمت کیا ہوسکتی ہے۔ ہم انسانوں کے درودوسلام کا اللہ اور پوری کائنات کے درود وسلام سے کیا مقابلہ۔ انسانوں سے صلوۃ وسلام کا مطالبہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ان کی یہ حقیر آواز بھی کائنات کی گونج سے مل کر اس عظیم ثنا میں شریک ہوجائے اور اس طرح انسان بھی اس بڑی تقریب میں شرکت کے مدعی بن جائیں جبکہ اللہ کی جانب سے صلوٰۃ وسلام تو ازلی اور ابدی ہوگا۔ اس عظیم حمد و ثنا کو دیکھتے ہوئے جس میں رب تعالیٰ ، فرشتے ، کائنات اور انسان بھی شریک ہیں۔ اگر کوئی بدبخت نبی ﷺ جیسے ممدوح کائنات اور رب کائنات کو اذیت دیتا ہے تو اسکا یہ فعل کس قدر گھناؤنا ، کسی قدر قبیح اور قابل ملامت ہوجاتا ہے ان الذین یوذون اللہ ۔۔۔۔۔۔۔ واعدلھم عذابا مھینا (33: 57) ” جو لوگ اللہ اور رسول اللہ ﷺ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا و آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کردیا ہے۔ یہ فعل اور بھی قبیح ہوجاتا ہے کہ ایک مخلوق اپنے خالق کو اذیت دیتی ہے۔ حالانکہ لوگ اللہ کو اذیت دے ہی نہیں سکتے۔ بلکہ انداز کلام یہ بتاتا ہے کہ وہ رسول اللہ کو اس قدر سخت اذیت دیتے ہیں جس سے گویا اللہ جل و شانہ کو اذیت پہنچتی ہے۔ لہٰذا ان کی یہ حرکت بہت بری ، بہت قبیح اور نہایت گھناؤنی ہے۔ اس کے بعد مومنین و مومنات کی ایذا کا ذکر آتا ہے ان کو اذیت دینا ، ان پر بہتان باندھنا ، کہ ان میں کوئی عیب نہیں جیسے یہ منافقین ان کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
Ayah 33:58

وَ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ بِغَیْرِ مَا اكْتَسَبُوْا فَقَدِ احْتَمَلُوْا بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا۠ Open ayah 33:58 in the Quran reader

اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بےقصود اذیت دیتے ہیں انہوں نے ایک بڑے بہتان اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے

والذین یؤذون ۔۔۔۔۔۔ واثما مبینا (58) اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت مدینہ میں ایک ایسا طبقہ موجود تھا جو اس طرح مومنین اور مومنات کو اذیت رسانی کے مشغلے میں مصروف تھا۔ مومنین کے بارے میں بری باتیں رات اور دن منسوب کی جاتی تھیں۔ ان کے خلاف سازشیں کرتے ، تہمتیں لگاتے ، جس طرح ہر زمان و مکان میں اسلامی تحریکات کے خلاف ہوا کرتا ہے۔ بدکار اور اشرار کے ہر معاشرے میں مومنین اور مومنات کے ساتھ ہمیشہ یہی سلوک ہوا ہے۔ مریض دل لوگ اور منافقین کا کسب ہمیشہ یہی ہوتا ہے ۔ اللہ نے مومنات کا دفاع یہاں اپنے ذمہ لیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ ان کے دشمن جھوٹے اور جہنمی ہیں اور اللہ سے سچا اور کون ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد حکم دیا جاتا ہے کہ اے نبی اپنی بیویوں ، لڑکیوں اور مومنین کی عورتوں کو یہ ہدایت کرو کہ وہ جب باہر نکلیں تو اپنی اوڑھنیاں اپنے سینوں پر ڈال لیا کریں تاکہ وہ پہچان لی جائیں کہ وہ شریف زادیاں ہیں۔ اس طرح کہ ان کے سر ، چہرے اور سینے پوشیدہ ہوں۔ جیوب ۔۔۔ جیب ہے اور یہ قمیص کا کھلا شگاف ہوتا ہے جو سینے پر ہوتا ہے۔ اس دور میں لوگ عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے تھے۔ اس لیے اس طرح کے لباس سے اس قسم کے شرپسند ذرا سہم جائیں گے اور سمجھ جائیں گے کہ یہ خواتین شرم و حیا والی ہیں لہٰذا وہ دست درازی کی جرأت نہ کرسکیں گے۔
Ayah 33:59

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ وَ بَنٰتِكَ وَ نِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْهِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِهِنَّ١ؕ ذٰلِكَ اَدْنٰۤى اَنْ یُّعْرَفْنَ فَلَا یُؤْذَیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 33:59 in the Quran reader

اے نبی ﷺ اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہل ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں۔ یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے

یایھا النبی قل ۔۔۔۔۔۔ غفورا رحیما (59) ” “۔ سدی کہتے ہیں کہ مدینہ میں ایسے فساق موجود تھے جو اس دور میں رات کو نکلتے تھے ، اس وقت جب اندھیرا گہرا ہوجاتا تھا اور مدینہ کی تنگ گلیوں میں عورتوں سے چھیڑ چھاڑ کرتے تھے۔ کیونکہ لوگوں کے گھر تنگ تھے اور قضائے حاجت کے لیے عورتوں کو باہر نکلنا پڑتا تھا۔ یہ فساق ان عورتوں کے پیچھے پڑتے تھے۔ جب وہ دیکھتے کہ کسی عورت نے حجاب کیا ہوا ہے تو وہ یہ کہتے کہ یہ آزاد عورت ہے اس لیے۔ اس سے رک جاتے۔ اور جب وہ دیکھتے کہ پردہ نہیں ہے تو یہ اس پر ٹوٹ پڑتے۔ مجاہد کہتے ہیں کہ معنی یہ ہے کہ اپنے اوپر جلباب ڈال لیں تاکہ معلوم ہو کہ یہ آزاد عورتیں ہیں تاکہ کوئی فاسق ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کرے یا شک نہ کرے اور یہ کہ۔ کان اللہ غفورا رحیما (33: 59) ” اور اللہ غفور ورحیم ہے “۔ یعنی بام جاہلیت میں جو کچھ ہوتا ہے اللہ اس سے درگزر فرمائے گا کیونکہ اس وقت ان کو یہ حکم تھا اور نہ علم تھا۔ یوں ہم دیکھتے ہیں کہ عرب کے گندے معاشرے کو اسلام آہستہ آہستہ پاک کر رہا تھا اور فتنہ و فساد اور جنسی بےراہ روی کی ایک ایک راہ کو بند کرتا چلا جاتا اور بدی کا دائرہ تنگ کیا جا رہا تھا تاکہ اسلام کی پاک رسم و راہ آہستہ آہستہ اسلامی معاشرے میں جڑ پکڑتی چلی جائے۔ آخر میں مدینہ کے ان ناپسندیدہ عناصر کو تحت دھمکی دی جاتی ہے کہ منافقین ، بیمار اخلاق کے لوگ اور ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے اگر باز نہ آئے اور جن کاروائیوں میں وہ مصروف ہیں ان کو ترک نہ کیا تو ان کے خلاف رسول اللہ کو سخت کاروائی کرنے کا حکم دے دیا جائے گا۔ نبی اور مومنین اور مومنات ان پر مسلط کر دئیے جائیں گے جس طرح یہودیوں پر نبی اور مسلمانوں نے مکمل اقتدار حاصل کرلیا ہے۔ پھر ان کے لیے مدینہ میں رہنا مشکل ہوجائے گا اور ان کو بھی ملک بدر کردیا جائے گا۔ ان کے خلاف کاروائی یہ ہوگی کہ مومنین و مومنات و اذیت دینے والے مباح الدم ہیں جہاں ملیں ان کا سر قلم کردیا جائے جس طرح یہودیوں کا حشر انہوں نے دیکھ دیا ہے اور جس طرح ازمنہ ماضیہ میں غیر یہودی فساق و فجار کا یہی حشر انبیائ کے ہاتھوں ہوتا رہا ہے۔