33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 33:21

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ یَرْجُوا اللّٰهَ وَ الْیَوْمَ الْاٰخِرَ وَ ذَكَرَ اللّٰهَ كَثِیْرًاؕ Open ayah 33:21 in the Quran reader

در حقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول ﷺ میں ایک بہترین نمونہ تھا ، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخر کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے

اب قرآن مجید رسول اللہ ﷺ کو بطور نمونہ پیش کرکے ان روشن چہروں کے البم کا آغاز کرتا ہے اور دیکھئے رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو۔ لقد کان لکم ۔۔۔۔۔۔ وذکر اللہ کثیرا (31) ” “۔ اس خوفناک ڈر ، اور جان لیوا حالات کے باوجود رسول اللہ ﷺ لوگوں کے لیے امن و اطمینان کا سرچشمہ تھے اور آپ ﷺ کی ذات و ثوق ، اطمینان اور امیدوں کا سرچشمہ تھی۔ اس مشکل وقت میں رسول اللہ ﷺ نے جو کردار ادا کیا وہ دراصل تمام تحریکات اسلامی کے قائدین کے لیے مثال اور نمونہ ہے۔ ان تمام لوگوں کے لیے اسوہ حسنہ ہے جو صاف رضائے الٰہی اور یوم آخرت کے لیے کام کرتے ہیں اور جو اپنے آپ کو بہترین قائد ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ جو ہر وقت اللہ کو یاد رکھتے ہیں اور کبھی بھی اللہ کو نہیں بھولتے۔ ہمیں چاہئے کہ حضور اکرم ﷺ نے اس جنگ میں جو موقف فرمایا اس کی کچھ جھلکیاں یہاں سے دیں۔ پوری تفصیلات تو یہاں دینا ممکن ہی نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے اور عام مسلمانوں کے ساتھ خندق کھودنے لگے۔ آپ کدال سے زمین کھودتے اور بیلچے سے مٹی جمع فرماتے اور پھر ٹوکری میں بھر کر کناروں پر ڈالتے۔ کام کرنے والے جو رجز پڑھتے آپ بھی ان کے ساتھ شریک ہوتے۔ یہ لوگ اونچی آواز سے رجز پڑھتے ، رجز کے آخری لفظ کو دہراتے۔ وہ لوگ سادہ قسم کے ترانے گاتے تھے جن کا تعلق اس وقت کے واقعات سے ہوتا تھا۔ ایک شخص تھا جس کا نام جعیل تھا۔ حضور اکرم ﷺ کو یہ نام اچھا نہ لگا تو آپ ﷺ نے اس کا نام بدل کر عمرو رکھ دیا۔ اب مسلمانوں نے اس کے ساتھ رجز بنایا ، بہت ہی سادہ : سماہ من بعد جعیل عمرا وکان للبائس یوما ظھرا جب مسلمان یہ رجز پڑھتے اور ” عمرا “ کہتے تو رسول اللہ ﷺ بھی جواب میں ” عمرا “ فرماتے اور جب وہ دوسرے فقرے میں لفظ ” ظہرا “ پڑھتے تو آپ ﷺ بھی ان کے جواب میں ظہرا دہراتے۔ اب ذرا اس فضا کے بارے میں سوچئے اور اس جوش و خروش کا تصور کیجئے کہ حضور اکرم ﷺ رجز کے ساتھ مقطع دہراتے ہیں۔ ” عمرا “ اور ” ظہرا “۔ اور ساتھ ساتھ کدال بھی مار رہے ہیں۔ بیلچے سے مٹی بھی جمع کر رہے ہیں اور پھر ٹوکری میں مٹی اٹھا کر بھی لے جا رہے ہیں اور ساتھ ساتھ رجز کا جواب بھی دے رہے ہیں۔ یہ طرز عمل ان لوگوں کے جسم کے رونگٹے رونگٹے کو قوت سے بھر رہا ہوگا۔ ان کی ارواح کا پیمانہ کس قوت و شجاعت سے لبریز ہوگا اور کس قدر جرأت ، شجاعت اور اعتماد اور اعزار ان کو حاصل ہو رہا ہوگا۔ زید ابن ثابت مٹی لے جا رہے تھے تو حضور ﷺ نے فرمایا یہ ایک بہترین نوجوان ہے۔ اسے نیند آگئی اور خندق ہی میں سوگیا۔ بہت سردی ۔۔۔۔ حضرت عمارہ ابن جزم نے ان کا اسلحہ چپکے سے لے لیا ، اسے پتہ بھی نہ چلا۔ آنکھ کھلی تو اسلحہ ندارد۔ یہ پریشان ہوگئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اے ابو اماد (زیادہ سونے والے کے باپ) تم اس قدر سو گئے کہ اسلحہ ہی چلا گیا “ پھر آپ ﷺ نے فرمایا اسے دے دو اور اس کے بعد حکم دیا کہ مسلمان کی کوئی چیز بطور مزاح بھی نہ چھپاؤ۔ یہ واقعہ بھی بتاتا ہے کہ اسلامی صفوں میں جو لوگ تھے وہ بیدار مغز اور بیدار چشم تھے اور حضور ﷺ کی نظر ہر کسی پر تھی ، خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ، اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سنجیدہ مزاح اور خوش مزاجی ان مشکل حالات میں بھی قائد انقلاب کے ساتھ تھے۔ ” اے سونے والے کے باپ ، تم سو گئے اور اسلحہ چلا گیا “۔ اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان کن حالات میں تھے اور وہ نبی ﷺ کے کس قدر قریب تھے۔ آپ ﷺ کی روح دور دور تک اسلامی انقلاب کے نقوش دیکھ رہی تھی ۔ پتھروں کی چمک میں بھی اللہ آپ ﷺ کو اسلامی انقلاب کی وسعتوں کو دکھاتے تھے۔ پہلے دن سے آپ ﷺ نے خوشخبری سنائی تھی کہ قیصروکسریٰ کے خزانے تمہارے ہاتھ آئیں گے۔ لیکن جنگ احزاب جیسے مایوس کن حالات میں بھی جب کدال کی ضرب سے پتھر سے چمک نکلتی تو اس سے بھی حضور ﷺ کو مستقبل کا نقشہ بتا دیا جاتا اور آپ ﷺ فورا مسلمانوں کو بتا دیتے اور اس کی وجہ سے ان کے دلوں میں یقین اور امید کے چشمے پھوٹ نکلتے۔ ابن اسحاق لکھتے ہیں۔ سلمان فارسی کی یہ روایت مجھ تک پہنچی ہے کہ میں خندق کا ایک کونا کھود رہا تھا کہ ایک پتھر میرے لیے مشکل ہوگیا ۔ رسول اللہ اس وقت میرے قریب تھے ۔ آپ نے دیکھا کہ میں مسلسل وار کر رہا ہوں اور جگہ میرے لئے مشکل ہوگئی ہے۔ حضور ﷺ اترے اور میرے ہاتھ سے کدال لیا اور پتھر پر وار کیا۔ کدال کے نیچے سے ایک چمک اٹھی۔ پھر آپ ﷺ نے دوسری ضرب لگائی اور پھر پتھر سے ایک چمک اٹھی۔ پھر آپ ﷺ نے تیسری ضرب لگائی اور پتھر سے پھر چمک اٹھی۔ کہتے ہیں میں نے پوچھا رسول خدا ﷺ یہ چمک کیسی تھی جو میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ ﷺ جب مارتے ہیں تو کدال چمک اٹھتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا (سلمان تو نے یہ دیکھ لیا ہے) میں نے کہا ہاں۔ پہلی چمک میں یہ بات دکھائی گئی کہ میرے لیے یمن فتح ہوگیا ہے۔ دوسری چمک میں یہ دکھایا گیا کہ اللہ نے میرے لیے شام اور مغرب کا علاقہ فتح کردیا اور تیسری چمک میں یہ بات تھی کہ اللہ نے میرے لیے مشرق کو فتح کرلیا ہے۔ مقریزی نے لکھا ہے کہ یہ واقعہ حضرت عمر ؓ کو پیش آیا اور اس وقت سلمان فارسی بھی موجود تھے۔ ہمارے لیے سبق اس بات میں یہ ہے کہ اس قسم کے خوفناک ماحول میں بھی مسلمانوں کے دل و دماغ اعتماد سے بھرپور تھے۔ ذرا وہ وقت بھی یاد کیجئے کہ حذیفہ ؓ شدید سردی میں دشمن کے کیمپ سے نکل آئے ہیں۔ ان کے پاس اطلاعات ہیں۔ وہ سردی سے کانپ رہے ہیں اور رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں میں سے ایک کی لمبی شال میں نماز پڑھ رہے ہیں۔ حضور ﷺ نماز میں ہیں۔ اپنے رب کے ساتھ مناجات میں ہیں۔ آپ حضرت حذیفہ کو چھوڑ نہیں دیتے کہ وہ اس وقت تک کانپتے رہیں جب تک حضور ﷺ نماز سے فارغ نہیں ہوجاتے بلکہ آپ حذیفہ ؓ کو اپنے پاؤں ٹانگوں کے اندر دبا لیتے ہیں اور اپنی شال کا ایک کونہ ان پر ڈال دیتے ہیں کہ وہ گرم ہوجائیں اور آپ ﷺ نماز جاری رکھتے ہیں۔ نماز ختم ہوتی ہے۔ حذیفہ آپ ﷺ کو اطلاعات فراہم کرتے ہیں اور آپ ﷺ کو خوشخبری سناتے ہیں کیونکہ ۔۔۔۔۔ مبارک کہہ رہا تھا کہ آج کچھ ہونے والا ہے۔ حذیفہ اسے دیکھ کر آگئے۔ جہاں تک آپ ﷺ کی شجاعت ، ثابت قدمی اور اللہ پر بھروسے کا تعلق ہے تو وہ آپ کی سیرت سے عیاں ہیں اور اس پورے قصے سے بالکل عیاں ہیں۔ اور مشہور ہیں ، لہٰذا ہم یہاں تفصیلات نہیں دے سکتے۔ اللہ نے سچ کہا ” درحقیقت تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں ایک بہترین نمونہ تھا ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم آخرت کا امیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے “ رسول اللہ ﷺ کے بعد اب ایک سچے مومن کی تصویر ملاحظہ ہو۔ جو اللہ پر پورا پورا بھروسہ رکھتا ہے اور پوری طرح مبمئن ہے۔ یہ تصویر روشن ، چمکدار اور خوبصورت ہے۔ دیکھے ہر قسم کے ہولناک حالات کے مقابلے میں یہ مومن ڈٹا ہوا ہے۔ خطرات میں کود پڑتا ہے۔ ایسے خطرناک حالات میں چٹان کی طرح ڈٹا ہے جن میں عام لوگوں پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے اور خطرہ جس قدر شدید ہوتا ہے اسے اسی قدر زیادہ اطمینان ، اللہ پر زیادہ بھروسہ اور خوشخبری کا یقین ہوتا ہے۔
Ayah 33:22

وَ لَمَّا رَاَ الْمُؤْمِنُوْنَ الْاَحْزَابَ١ۙ قَالُوْا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ١٘ وَ مَا زَادَهُمْ اِلَّاۤ اِیْمَانًا وَّ تَسْلِیْمًاؕ Open ayah 33:22 in the Quran reader

اور سچے مومنوں (کا حال اس وقت یہ تھا) جب انہوں نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو پکار اٹھے کہ ” یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے ہم سے وعدہ کیا تھا ، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بات بالکل سچی تھی “۔ اس واقعہ نے ان کے ایمان اور ان کی سپردگی کو اور زیادہ بڑھا دیا

ولما را المؤمنون ۔۔۔۔۔ ایمانا وتسلیما (23) ” “۔ اس جنگ میں مسلمان جس خوف سے دوچار ہوئے وہ اس قدر عظیم تھا ، اور اس غزوہ میں جو دکھ ان کو پہنچا اس قدر شدید تھا ، اور اس واقعہ میں وہ جس بےچینی کا شکار ہوئے ، وہ اس قدر سخت تھی کہ وہ ہلا مارے گئے اور قرآن نے اس کے لیے زلزالا شدیدا (33: 11) کا لفظ استعمال کیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ھنالک ابتلی المومنون وزلزلوا زلزالا شدیدا (33: 11) ” یہاں مومنین کو آزمایا گیا اور وہ ہلا مارے گئے “۔ یہ لوگ بہرحال انسان تھے اور انسان کی قوت برداشت بہرحال محدود ہوتی ہے ۔ اللہ بھی انسان کو اس کی طاقت سے زیادہ کا مکلف نہیں بناتا۔ اگرچہ ان کو پورا پورا یقین تھا کہ آخری فتح ہماری ہی ہوگی۔ اور رسول اللہ نے ان کو بشارت بھی دے دی تھی اور یہ بشارت نہ صرف عرب بلکہ یمن ، شام اور مشرق و مغرب کی فتح کی تھی۔ لیکن ان حقائق کے باوجود موجودہ ہولناک حالات نے انہیں ہلا کر رکھ دیا تھا اور وہ مسلسل کرب اور خوف محسوس کرتے تھے۔ سلمان کن حالات میں تھے اور کس قدر سہمے ہوئے تھے ، اس کی تصویر حضرت حذیفہ ابن ایمان کی روایت سے بہت وضاحت سے معلوم ہوتی ہے ۔ اصحاب رسول ﷺ کی حالت کیا تھی اور ان کی اندرونی حالت کیا تھی۔ ” حضور ﷺ صحابہ ؓ سے کہتے ہیں کون ہے وہ شخص جو کھڑا ہو اور جائے اور دشمن کے لشکر کے اندر جاکر معلوم کرے کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ اس کے لیے شرط ہے کہ وہ واپس آئے گا۔ میں اللہ سے دعا کروں گا کہ اللہ اسے میرے ساتھ جنت میں رکھے “۔ باوجود اس کے کہ اس شخص کی واپسی کی بھی ضمانت ہے اور اس کے لیے جنت کی دعاء کی بھی ضمانت ہے ، لیکن کوئی بھی خود اٹھ کر نہیں آتا۔ اور حضور ﷺ تین بار دہراتے ہیں۔ آخر میں حضور ﷺ حضرت حذیفہ ؓ کا نام لے کر پکارتے ہیں اور حذیفہ ؓ بھی فرماتے ہیں کہ جب میرا نام لے لیا گیا تو اب میرے لیے جانے کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ صحابہ رسول ﷺ یہ موقف انتہائی خوف کی حالت ہی میں اختیار کرسکتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات ان کی طاقت سے زیادہ تھی۔ لیکن اس زلزال شدید کے باوجود ، اور آنکھیں پتھرانے کے باوجود جان کی بےچینی کے باوجود ، ان لوگوں کا اللہ کے ساتھ ایک غیر منقطع تعلق تھا۔ وہ سنن الہیہ کو اس حد تک جانتے تھے کہ وہ کسی وقت بھی ان نظروں سے اوجھل نہ ہوتی تھیں اور ان کو سنن الہیہ پر غیر متزلزل بھروسہ تھا کہ اللہ کے یہ سنن ناقابل تغیر ہیں اور جب ان کے مطابق اسباب فراہم ہوں تو نتائج ضرور ان کے مطابق نکلیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ مومنین نے یہ سمجھ لیا کہ اس شدید خوف اور ہلا مارنے کے بعد اب نصرت قریب آگئی ہے کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ اللہ نے فرمایا ہے۔ ام حسبتم ان تدخلوا ۔۔۔۔۔ نصر اللہ قریب (حوالہ) ” کیا تم یہ گمان رکھتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہوجاؤ گے اور تم پر دہ حالات نہ آئیں گے جو تم سے پہلے لوگوں پر آئے۔ ان پر سختیاں آئیں ، مصیبتیں آئیں اور وہ ہلا مارے گئے حتیٰ کہ وقت کا رسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔ ہاں اللہ کی مدد قریب ہے “۔ اور اب چونکہ وہ ہلا مارے گئے ہیں لہٰذا نصر الٰہی قریب ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے کہا : ” یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا اللہ اور اس کے رسول کی بات سچی تھی “۔ (اس واقعہ نے ان کے ایمان اور ۔۔۔ کو اور زیادہ کردیا) ۔ ھذا ما وعدنا اللہ ورسولہ (33: 22) ” یہ وہی چیز ہے جس کو اللہ اور رسول ﷺ نے ہم سے وعدہ کیا تھا “۔ یہ خوف ، یہ بےچینی ، اور یہ کپکپی ، یہ تنگی وہ چیزیں ہیں جن پر ہم سے نصرت کا وعدہ کیا گیا ہے۔ لہٰذا نصرت آنے ہی والی ہے۔ وصدق اللہ ورسولہ (33: 22) ” اور اللہ اور رسول کی بات بالکل سچی تھی “۔ یعنی اللہ اور رسول نے نصرت الٰہی کی آمد کے لیے جو علامات رکھی تھیں ، وہ سچ تھیں اور اب وہ علامات ظاہر ہو رہی ہیں تو بھی سچی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے دل اللہ کی نصرت کے آنے پر مطمئن ہوگئے۔ وما زادھم الا ایمانا وتسلیما (33: 22) ” اس واقعہ نے ان کے ایمان اور سپردگی کو اور زیادہ کردیا “۔ بہرحال وہ انسان اور بشر تھے اور بشری جذبات سے وہ بھی پا نہ ہوسکتے تھے۔ بشری کمزوریاں ان کے ساتھ بھی لگی ہوئی تھیں۔ ان سے شریعت کا مطالبہ یہ نہ تھا کہ وہ بشر سے زیادہ بوجھ اٹھائیں۔ دائرہ بشریت کے اندر ہی ان کو رہنا تھا۔ اور شریعت کی خصوصیات اور علامات کا ان کے اندر پایا جانا حکمت خداوندی تھا۔ اس لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا تاکہ وہ بشر ہوتے ہوئے کام کریں اور بشریت کے علاوہ کوئی اور جنس نہ ہوں۔ نہ ملائکہ ہوں اور نہ شیاطین ہوں۔ نہ جانور ہوں اور نہ پتھر ہوں۔ وہ بشر تھے۔ اس لیے ان پر خوف بھی طاری ہوتا تھا اور انہیں پریشانی بھی لاحق ہوتی تھی اور تنگی بھی محسوس کرتے تھے۔ اگر خطرہ حد برداشت سے زیادہ ہوجاتا تو ان پر پکپ کی بھی طاری ہوتی تھی ۔ لیکن ان کمزوریوں کے باوجود مضبوط رسی سے ان کا ربط تھا۔ وہ اللہ سے باندھے ہوئے تھے اور اللہ ان کو گرنے سے بچا رہا تھا۔ ازسرنو امیدیں ان کے اندر پیدا فرماتا ہے اور نا امیدی سے ان کو بچاتا تھا۔ اس لیے وہ انسانیت کی تاریخ میں ایک منفرد مثال تھے۔ ایسی مثال جس کی دوسری مثال نہیں ملتی۔ جس کی کوئی نظیر نہیں ہے۔ ہمیں چاہئے کہ اس حقیقت کا ادراک کریں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ پوری انسانی تاریخ کے انسانوں میں ایک ایسا نمونہ بھی تھا اور کبھی بشریت اس معیار تک بھی پہنچی تھی۔ یہ بشر تھے ، فرشتے نہیں تھے ، ان میں کمزوریاں بھی تھیں اور قوت بھی تھی اور ان کا اعزاز اور معیار یہ ہے کہ انہوں نے بشریت کو اس قدر اونچے معیار تک پہنچا دیا یوں کہ دائرہ بشریت کے اندر رہتے ہوئے وہ اس قدر بلند معیار تک پہنچ گئے۔ جن ہم دیکھیں کہ ہمارے اندر کمزوری آگئی ہے یا ہمارے قدم متزلزل ہوگئے ہیں ، یا ہم ڈرگئے ہیں ، یا ہم پر تنگی کا وقت آگیا ہے۔ ہولناک اور خطرناک حالات سے دوچار ہوگئے ہیں تو ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہئے اور ہمیں چیخ و پکار نہ شروع کردینا چاہئے کہ ہائے مارے گئے۔ لیکن ہمیں یہ موقف بھی نہ اختیار کرنا چاہئے کہ یہ کمزوریاں تو خیر القرون میں بھی تھیں اور یہ ہماری فطرت کا حصہ ہیں اور ہم بلکہ تمام انسانوں سے اچھے لوگوں میں بھی تھیں ، اس لیے کہ ایک مضبوط رسی بھی ہے ، یہ مضبوط رسی آسمان سے تعلق کی رسی ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اللہ پر بھروسہ کریں۔ اس کی رسی کو تھا میں اور اعتماد اور اطمینان کو واپس لوٹائیں اور ہمارے جب قدم متزلزل ہوجائیں تو ہم سمجھ لیں کہ اب اللہ کی نصرت آنے والی ہے تاکہ ہم ثابت قدم رہیں۔ ہمیں استقرار حاصل ہو اور نہایت ہی قوت سے ازسرنو راہ حق پر چل پڑیں۔ آغاز اسلام میں اللہ نے صحابہ کرام کی جو ٹیم تشکیل دی تھی اسے یہی توازن عطا کردیا گیا تھا۔ یہ ایک منفرد ٹیم تھی۔ اس ٹیم کی تعریف خود قرآن بار بار کرتا ہے کہ اس ٹیم نے کیا کیا کارنامے سر انجام دئیے ۔ کس طرح ثابت قدم رہے۔ ان میں سے بعض تو اللہ کے ہاں پہنچ گئے اور بعض انتظار میں ہیں۔
Ayah 33:23

مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِ١ۚ فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ وَ مِنْهُمْ مَّنْ یَّنْتَظِرُ١ۖ٘ وَ مَا بَدَّلُوْا تَبْدِیْلًاۙ Open ayah 33:23 in the Quran reader

ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کرچکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی

من المؤمنین رجال ۔۔۔۔۔ وما بدلوا تبدیلا (24) ” “۔ یہ نمونہ اس مکروہ نمونے کے بالمقابل ہے۔ یہ مکروہ نمونہ وہ ہے جس میں لوگوں نے اللہ تعالیٰ سے عہد کیا تھا کہ پیٹھ نہ پھیریں گے مگر بعد میں انہوں نے اپنا عہد و فا نہ کیا۔ وکان عھد اللہ مسؤلا ” اور اللہ کے عہد کے بارے میں تو پوچھا جاتا ہے “۔ امام احمد نے حضرت ثابت سے نقل کیا ہے کہ ” میرے چچا انس ابن نضر ؓ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بدر میں حاضر نہ ہوسکے تھے۔ ان پر یہ بات بہت شاق تھی۔ وہ کہتے تھے کہ یہ پہلا معرکہ تھا جس میں رسول خدا ﷺ شریک ہوئے اور میں غائب رہا۔ اگر اللہ نے مجھے رسول اللہ ﷺ کے ستاھ کسی معرکے میں شریک کیا تو اللہ تعالیٰ دیکھ لے گا کہ میں کیا کرتا ہوں۔ ان کے سوا اور کوئی یہ بات نہ کہہ سکا۔ یہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احد کے دن حاضر ہوئے۔ یہ سعد ابن معاذ ؓ کے سامنے آگئے۔ انس نے ان سے کہا ابو عمر ! واہ ! واہ ! جنت کی ہوا کیا خوب ہے۔ مجھے تو احد سے جنت کی ہوا آرہی ہے۔ کہتے ہیں اس نے ان کے ساتھ جنگ کی اور وہ قتل ہوگئے۔ ان کے جسم پر 80 سے اوپر زخم تھے۔ تیروں ، تلواروں اور نیزوں کے۔ ان کی بہن میری پھوپھی ربیع بنت نضر نے کہا میں نے اپنے بھائی کو اس کی انگلیوں کے پوروں سے پہچانا۔ کہتی ہیں ان پر یہ آیت نازل ہوئی : من المومنین رجال صدقوا (33: 23) صحابہ کرام ؓ کا خیال تھا کہ یہ آیت انس ابن نضر اور ان کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ بےمثال مومنین کی یہ نہایت ہی روشن تصویر ہے۔ یہاں ہم اس کا تذکرہ اس لیے کرتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ ایمان کی حقیقت کیا ہوتی ہے۔ اور نفاق کیا ہوتا ہے۔ وفائے عہد کیا ہوتا ہے اور نقص عہد کیا ہوتا ہے۔ یہ میداں تربیت گاہ کے درمیان تقابلی مطالعہ تھا۔ اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو ایسی آزمائشوں میں کیوں ڈالتا ہے اور جو لوگ وفائے عہد نہیں کرتے ان کا انجام کیا ہوتا ہے اور جو لوگ اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کردیتے ہیں ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔
Ayah 33:24

لِّیَجْزِیَ اللّٰهُ الصّٰدِقِیْنَ بِصِدْقِهِمْ وَ یُعَذِّبَ الْمُنٰفِقِیْنَ اِنْ شَآءَ اَوْ یَتُوْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۚ Open ayah 33:24 in the Quran reader

(یہ سب کچھ اس لیے ہوا) ” تاکہ اللہ سچوں کو ان کی سچائی کی جزا دے اور منافقوں کو چاہے تو سزا دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے ، بیشک اللہ غفور و رحیم ہے

لیجزی اللہ الصدقین ۔۔۔۔۔۔ کان غفورا رحیما (22) “۔ قرآن کریم میں واقعات و حادثات پر ایسا تبصرہ آتا رہتا ہے۔ مقصد یہ بتانا ہوتا ہے کہ تمام معاملات اللہ کے اختیار میں ہیں۔ ان واقعات کی حکمت بھی بتا دی جاتی ہے کہ کوئی واقعہ عبث یا یونہی پیش نہیں آجاتا۔ ہر واقعہ حکمت الہیہ کا حصہ ہوتا ہے اور مقررہ وقت پر آتا ہے۔ اس کے پیچھے بامقصد تدبیر ہوتی ہے اور اس کے مقررہ نتائج نکلتے ہیں۔ اللہ کے بندوں کے لئے رحمت اور فضل اس میں عیاں ہوتا ہے اور یہ جان لینا چاہئے کہ اللہ کی رحمت اور اس کا فضل ہمیشہ عیاں ہوتا ہے۔ ان اللہ کان غفورا رحیما (33: 24) ” بیشک اللہ غفور و رحیم ہے “۔ اور یہ عظیم واقعہ اس پر ختم ہوتا ہے کہ مومنین کا اپنے رب کے بارے میں جو یقین تھا وہ درست ثابت ہوا اور منافقین اور افواہیں پھیلانے والے غلط خیالات لیے ہوئے تھے۔ غرض ایمانی اقدار آخر کار کامیاب رہیں۔
Ayah 33:25

وَ رَدَّ اللّٰهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِغَیْظِهِمْ لَمْ یَنَالُوْا خَیْرًا١ؕ وَ كَفَى اللّٰهُ الْمُؤْمِنِیْنَ الْقِتَالَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ قَوِیًّا عَزِیْزًاۚ Open ayah 33:25 in the Quran reader

اللہ نے کفار کا منہ پھیر دیا ، وہ کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر اپنے دل کی جلن لیے یونہی پلٹ گئے اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لیے کافی ہوگیا ، اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے

ورد اللہ الذین ۔۔۔۔۔۔ وکان اللہ قویا عزیزا (25) ” “۔ اس معرکے کا آغاز ہوا۔ یہ آگے بڑھا۔ اپنے انجام تک پہنچا لیکن پورے دور میں اس کی باگیں اللہ کے ہاتھ میں تھیں۔ جس طرح اللہ چاہتا تھا ، واقعات کا رخ موڑ دیتا تھا۔ قرآن کریم اپنے انداز تعبیر کے ذریعہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے۔ جو بھی واقعات ہوئے ، وہ اللہ نے کرائے اور یہ بات اچھی طرح اہل ایمان کے دلوں میں بٹھا دی گئی۔ یوں اسلامی تصور حیات کو واضح کردیا گیا۔ اب اس لشکر کشی کا وبال صرف مشرکین قریش ، اور غطفان پر ہی نہ پڑا بلکہ مشرکین کے حلفاء بنی قریظہ بھی اس کی زد میں آگئے۔
Ayahs 33:26–29

وَ اَنْزَلَ الَّذِیْنَ ظَاهَرُوْهُمْ مِّنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ صَیَاصِیْهِمْ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ فَرِیْقًا تَقْتُلُوْنَ وَ تَاْسِرُوْنَ فَرِیْقًاۚ Open ayah 33:26 in the Quran reader

پھر اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا ، اللہ ان کی گڑھیوں سے انہیں اتار لایا اور ان کے دلوں میں اس نے ایسا رعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کر رہے ہو

وَ اَوْرَثَكُمْ اَرْضَهُمْ وَ دِیَارَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ وَ اَرْضًا لَّمْ تَطَئُوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرًا۠ Open ayah 33:27 in the Quran reader

اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ قُلْ لِّاَزْوَاجِكَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا وَ زِیْنَتَهَا فَتَعَالَیْنَ اُمَتِّعْكُنَّ وَ اُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِیْلًا Open ayah 33:28 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ، اپنی بیویوں سے کہو ، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں۔

وَ اِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الدَّارَ الْاٰخِرَةَ فَاِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْمُحْسِنٰتِ مِنْكُنَّ اَجْرًا عَظِیْمًا Open ayah 33:29 in the Quran reader

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول ﷺ اور دار آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کار ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے

وانزل الذین ظاھروھم ۔۔۔۔۔۔۔ علی کل شئ قدیرا (26 – 27) بنی قریظہ کا کیا قصہ تھا ؟ اس کا تعلق مسلمانوں اور یہودیوں کے باہم تعلقات سے ہے۔ مناسب ہے کہ یہاں اس کی وضاحت کردی جائے۔ یہودیوں نے اسلام کے ساتھ بہت ہی مختصر عرصہ کے لیے رواداری کا رویہ اپنایا۔ حالانکہ رسول اللہ ﷺ نے مدینہ آتے ہی ان کے ساتھ باہمی امن کا معاہدہ کرلیا تھا اور ذمہ داری قبول فرمائی تھی کہ مسلمان ان کی نصرت اور حمایت کریں گے بشرطیکہ وہ غداری نہ کریں ، فسق و فجور نہ کریں ، جاسوسی نہ کریں دشمن کی حمایت نہ کریں ، اور کسی مسلمان کو اذیت نہ دیں۔ بہت ہی تھوڑے دن گزرے تھے کہ یہودیوں نے یہ محسوس کیا کہ دین جدید ان کے لئے بھی خطرہ بن گیا ہے اور ان کی موروثی امتیازی حیثیت کہ وہ اہل کتاب ہیں ، اب ختم ہو رہی ہے۔ یہ لوگ اہل یثرب کے درمیان اپنی اس امتیازی حیثیت کی وجہ سے ایک اہم مقام رکھتے تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی قیادت میں مسلمانوں کی جدید صف بندی سے بھی خطرات محسوس کرلیے۔ اس سے قبل وہ اوس اور خزرج کے درمیان پائے جانے والے طویل اختلافات اور جنگوں سے خوب فائدہ اٹھاتے تھے۔ اس طرح مدینہ میں انہی کی بات ہوتی تھی۔ جب نبی کریم ﷺ کی قیادت میں اسلام نے ان روایتی دشمنوں کو باہم شیر و شکر کردیا تو یہودیوں کے وہ مفادات ختم ہوگئے جو وہ ان دونوں فریقوں سے حاصل کرتے تھے۔ جس بات نے جلتی پر تیل کا کام کیا وہ یہ تھی کہ ان کے عالم اور مذہبی راہنما عبد اللہ ابن سلام مسلمان ہوگئے۔ ان کا دل اسلام کے لیے کھل گیا۔ یہ مسلمان ہوگیا۔ اس نے اپنے خاندان سے بھی کہا تو وہ بھی مسلمان ہوگئے لیکن اس نے کہا کہ اگر وہ ایسے ہی اپنے اسلام کا اعلان کر دے تو یہودی الزام لگائیں گے تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے مطالبہ کیا کہ میرے بارے میں پہلے آپ ان سے پوچھ لیں۔ پہلے اس کے کہ میرے اسلام کا اعلان ہو ، تو انہوں نے کہا یہ ہمارے سردار ہیں ، سردار کے بیٹے ہیں۔ ہمارے حبر اور عالم ہیں۔ اس پر عبد اللہ ابن سلام نکلے اور ان سے کہا کہ ایمان لاؤ چناچہ انہوں نے اسے برا بھلا کہنا شروع کردیا اور تمام یہودی قبائل کو ان کے بارے میں آگاہ کردیا۔ اب انہوں نے محسوس کرلیا کہ ہمارے دین کو حقیقی خطرہ ہے۔ چناچہ انہوں نے اسلام اور نبی کریم ﷺ کے خلاف سازشیں شروع کردیں۔ ایسی سازشیں جو کبھی رکتی نہ تھیں۔ اس دن سے یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان جو جنگ شروع ہوئی وہ آج تک جاری ہے اور یہ میدان کا رزار آج تک ٹھنڈا نہیں ہوا۔ پہلے یہ سرد جنگ تھی اور جوں جوں ہمارے مسلمانوں کے حالات خراب ہوتے رہے ، یہ جنگ حضرت محمد ﷺ کی ذات اور اسلام کے خلاف جاری رہی۔ اس جنگ نے مختلف رنگ اور اسلوب اختیار کیے۔ پہلے انہوں نے جدید رسالت کے بارے میں شکوک و شبہات پھیلائے۔ پھر جدید عقیدے پر الزامات لگائے۔ پھر انہوں نے مسلمانوں کے درمیان عداوتیں ڈالنا شروع کردیں۔ اوس اور خزرج کو بار ہا لڑانا چاہا۔ انصار اور مہاجرین کے درمیان انہوں نے دشمنی ڈالی۔ یہ مسلمانوں کے خلاف مشرکین مکہ کے لیے جاسوسی بھی کرتے رہے۔ یہ پھر منافقین کے دوست بن گئے۔ ان منافقین کے ذریعے اسلامی صفوں میں فتنے ڈالتے۔ آخر کار یہ کھل کر سامنے آگئے اور انہوں نے مسلمانوں کے خلاف لشکر کشیاں کیں اور احزاب کو جمع کرنا شروع کردیا۔ مثلاً غزوہ احزاب کی شکل میں۔ ان کے اہم قبیلے بنی قینقاع اور بنی النضیر اور بنی قریظہ تھے۔ ان میں سے ہر ایک کا رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے ساتھ الگ الگ معاملہ تھا۔ بنو قینقاع یہودیوں میں سے بہت ہی دلیر تھے۔ ان کے دل تو اس وقت جل اٹھے جب مسلمانوں کو بدر میں کامیابی ہوئی۔ انہوں نے عہد کی خلاف ورزی شروع کردی بلکہ عہد سے انکار ہی کردیا اور ان کا خیال یہ تھا کہ حضرت محمد ﷺ تو کفار قریش کے ساتھ پہلے ہی معرکے میں کامیاب رہے ہیں لہٰذا اگر حالت یونہی رہی تو یہ ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں گے۔ ابن ہشام نے اپنی سیرت میں ابن اسحاق کے ذریعہ سے ان کہ حا لات درج کیے ہیں ۔ نبی قینقاع کا واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ نے ان کو قینقاع کے با زار میں جمع کیا اور کہا : اے اہل یہود ، اللہ سے ڈرو ، جس طرح اللہ نے قریش پر وبال نازل کیا ہے ، ویسا ہی حال تمہارا نہ ہوجائے۔ اسلام قبول کرلو ، تمہیں تو معلوم ہے کہ میں خدا کا رسول ہوں۔ یہ بات تمہاری کتاب کے اندر موجود ہے “۔ انہوں نے کہا اے محمد ﷺ ، تم یہ سمجھتے ہو کہ ہم قریش کی طرح ہیں۔ تم اس بات پر مغرور نہ ہوجاؤ کہ تم ایک ایسی قوم پر غالب آگئے جنہیں جنگ کا کوئی تجربہ نہیں ہے اور تم نے انہیں مار لیا۔ اگر ہم نے تمہارے ساتھ جنگ کی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ ہم کیسے لوگ ہیں۔ ابن ہشام نے بواسطہ عبد اللہ ابن جعفر نقل کیا ہے بنی قینقاع کا قصہ یوں ہوا کہ ایک عرب عورت دودھ لے کر آئی اور بنی قینقاع کے بازار میں اسے فروخت کیا ، اس کے بعد وہ ایک سنار کے ہاں زیور بنانے کے لیے بیٹھ گئی۔ انہوں نے یہ کوشش کی کہ اس عورت کے چہرے کو کھول دیں۔ اس نے انکار کیا۔ سنار نے جھٹ اس کے کپڑے کو اس کی پیٹھ کے ساتھ باندھ دیا۔ جب وہ اٹھی تو اس کی شرم گاہ ننگی ہوگئی۔ اس پر وہ خوب ین سے۔ اس نے چلا کر مدد کے لیے پکارا۔ ایک مسلمان سنار پر ٹوٹ پڑا اور اسے قتل کردیا۔ یہ یہودی تھا۔ تمام یہودی مسلمان پر ٹوٹ پڑے اور انہوں نے اسے قتل کردیا۔ آوازیں ہوئیں۔ تمام مسلمان قینقاع کے خلاف جمع کیے اور یوں ان کے درمیان شر شروع ہوا۔ ابن اسحاق نے بات یوں مکمل کی۔ حضور اکرم ﷺ نے ان کا محاصرہ کیا۔ ان لوگوں نے حضور ﷺ کے حکم پر ہتھیار ڈال دئیے۔ اس پر عبد اللہ ابی ابن السلول نے کہا : ” محمد ﷺ یہ لوگ میرے دوست ہیں ان کے ساتھ بھلائی کرو ، یہ خزرج کے دوست تھے۔ حضور ﷺ خاموش رہے۔ اس کے بعد اس نے دوبارہ یہ مطالبہ کیا کہ یہ میرے دوست ہیں ان کے ساتھ حسن سلوک کرو “۔ اس پر حضور ﷺ نے پھر اعراض فرمایا۔ اب اس نے حضور ﷺ کے ذرہ کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے کہا مجھے چھوڑ دو ۔ آپ ﷺ نے سخت غصہ میں فرمایا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرے پر غصے کے آثار نمودار ہوگئے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا بدبخت چھوڑ دو مجھے۔ اس پر اس نے کہا۔ خدا کی قسم میں آپ ﷺ کو اس وقت نہ چھوڑوں گا جب تک آپ ﷺ میرے دوستوں کے ساتھ احسان نہ کریں۔ یہ چار سو شہ سوار اور تین سو زرہ پوش ہیں۔ انہوں نے سرخ و سیاہ اقوام کے خلاف میری مدد کی ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ تم ان کو صبح کے تڑکے فصل کی طرح کاٹ دو ۔ میں ایک ایسا آدمی ہوں جو مشکلات سے ڈرتا ہوں۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم جو چاہتے ہو وہی ہوگا عبد اللہ ابن ابی ابھی تک اپنی قوم میں ذی حیثیت تھا۔ چناچہ رسول اللہ ﷺ نے اس کی سفارش قبول کرلی اور فیصلہ یہ ہوا کہ بنی قینقاع مدینہ سے نکل جائیں۔ وہ اپنے ساتھ اپنے مال کے جائیں ماسوائے اسلحہ کے۔ یوں مدینہ یہودیوں کی ایک ٹکڑی سے خالی ہوا۔ یہ رجمنٹ بڑی قوت والی تھی۔ رہے بنی نضیر تو حضور ﷺ غزوہ ٔ بدر کے بعد سن چار ہجری میں ان کے پاس گئے۔ آپ نے ان سے دو مقتولین کی دیت میں شرکت کا مطالبہ کیا۔ حسب عہد انہوں نے یہ ادائیگی کرنی تھی۔ جب حضور ﷺ آئے تو انہوں نے کہا ہاں ابو القاسم ہم آپ کی امداد حسب خواہش کریں گے۔ اس کے بعد یہ لوگ علیحدہ ہوکر مشورہ کرنے لگے کہ تم اس شخص کو کبھی ایسی حالت میں نہ پاؤ گے۔ اس وقت رسول ان کی ایک دیوار کے نیچے بیٹھے تھے۔ تو انہوں نے کہا کہ کون ہے جو جاکر ایک پتھر گرائے تاکہ اس شخص سے ہماری جان چھوٹے۔ چناچہ یہ لوگ اس سازش کو عملی جامہ پہنانے میں لگ گئے۔ رسول اللہ ﷺ کو بذریعہ وحی اس کی اطلاع دے دی گئی۔ حضور ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے اور مدینہ کی طرف لوٹ آئے۔ آپ نے حکم دیا کہ ان کے ساتھ جنگ کی تیاری کرو ، یہ لوگ قلعہ بند ہوگئے۔ عبد اللہ ابن ابی ابن السلول نے ان کو پیغام بھیجا کہ ڈٹ جاؤ۔ ہم تمہیں ان کے سپرد نہ کریں گے۔ اگر جنگ ہوئی تو ہم تمہارے ساتھ مل کر جنگ کریں گے۔ اگر تمہیں نکالا گیا ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے۔ لیکن منافقین نے اپنا یہ عہد پورا نہ کیا۔ بنی نضیر کو اللہ نے مرعوب کردیا۔ بلا حرب و قتال انہوں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ ان کو جلا وطن کردیں اور قتل نہ کریں۔ اونٹوں پر وہ اسلحہ کے سوا جو کچھ لے جاسکتے ہیں ، لے جائیں۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ یہ لوگ خیبر کو چلے گئے۔ بعض لوگ شام کو چلے گئے۔ حضور ﷺ نے یہ درخواست منظور کرلی۔ ان کے اشراف میں سے جو لوگ خیبر کو گئے ، یہ لوگ تھے۔ سلام ابن ابو الحقیق ، کہنانہ ابن ابرہہ ، حیی ابن اخطب۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے غطفان اور قریش کو جمع کیا مسلمانوں کے خلاف اور غزوہ احزاب برپا کیا۔ اب رہا بنی قریظہ کا قصہ۔ غزوہ احزاب میں انہوں نے جو کردار ادا کیا وہ معلوم ہوچکا ہے۔ یہ بھی مشرکین کے ساتھ جمع ہوگئے تھے۔ بنی نضیر کے زعماء کی تحریص اور آمادہ کرنے پر اور حیی ابن اخطب اس کام کا ذمہ دار تھا۔ بنی قریظہ کی عہد شکنی دوسرے احزاب کے مقابلے میں مسلمانوں پر بہت ہی گراں گزری۔ ان لوگوں کا رویہ کس قدر خطرناک تھا۔ اس کا اندازہ تم اس سے کرسکتے ہو کہ جب رسول اللہ ﷺ کو ان کی عہد شکنی کی اطلاعات ملیں تو آپ نے سعد ابن معاذ رئیس اوس کو ان کے پاس بھیجا۔ اور سعد ابن عبادہ رئیس حزوج بھی ساتھ ہوئے۔ ان کے ساتھ عبد اللہ ابن رواحہ اور خوات ابن جبیر بھی گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ ذرا جا کر دیکھو کہ ہم تک جو اطلاعات پہنچ رہی ہیں وہ درست ہیں یا نہیں ؟ اگر یہ اطلاعات درست ہوں تو میرے سامنے ایسے الفاظ میں رپورٹ دو کہ میں ہی سمجھوں اور مسلمانوں پر اس کا برا اثر نہ ہو اور اگر وہ وفا پر قائم ہوں تو پھر اعلانیہ کہہ دیتا۔ (اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کس طرح سمجھتے تھے کہ لوگوں پر اس خبر کا اثر کیا ہوگا) ۔ یہ وفد گیا تو دیکھا کہ یہ لوگ اطلاع سے بھی زیادہ خراب پوزیشن میں تھے۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو برا بھلا کہا۔ اور کہا کون رسول ، کس کی بات کرتے ہو۔ ہمارے اور محمد ﷺ کے درمیان کوئی عہد و معاہدہ نہیں ہے ، وفد آیا۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی۔ اشاروں کے ساتھ۔ رسول اللہ نے فرمایا اللہ اکبر ! مسلمانوں تمہیں خوشخبری دی ہے (حضور ﷺ نے یہ الفاظ مسلمانوں کو ثابت قدم بنانے کے لیے کہے) ۔ ابن اسحاق کہتے ہیں اب مصیبت دگنی ہوگئی۔ خوب پھیل گیا۔ اوپر اور نیچے سے دشمن آگئے اور اب مسلمانوں کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا ہوگئے۔ بعض منافقین کھل کر سامنے آگئے۔ معرکہ احد سے پہلے تو یہ صورت حالات تھی ۔ لیکن جب اللہ کے نبی کو جنگ احزاب میں اللہ کی نصرت ملی اور دشمنان مسلمانون خائب و خاسر ہوئے ، انہیں کچھ بھی ہاتھ نہ آیا۔ اللہ نے خود ہی مومنین کی طرف سے جنگ کی۔ حضور ﷺ مدینہ کی طرف کامیاب لوٹے۔ لوگوں نے اسلحہ رکھنا شروع کردیا۔ رسول اللہ ﷺ مسلسل جنگی حالت کی وجہ سے غسل کرنے لگے۔ آپ ام سلمہ کے گھر تھے تو جبریل (علیہ السلام) آگئے۔ ” حضور ﷺ آپ نے اسلحہ رکھ دیا ہے “۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ ” لیکن ملائکہ نے تو اسلحہ نہیں رکھا اور میں ابھی اس قوم کو پیچھا کرکے آرہا ہوں “۔ اس کے بعد حضرت جبریل نے فرمایا ” اللہ کا حکم ہے بنی قریظہ کی طرف پہنچو “۔ بنی قریظہ مدینہ سے کئی میل دور تھے۔ یہ واقعہ نماز ظہر کے بعد کا ہے۔ حضور ﷺ نے حکم دیا ” کوئی شخص نماز نہ پڑھے مگر دیار بنی قریظہ میں “ لوگ نکل پڑے۔ راستے میں نماز عصر کا وقت آگیا۔ بعض لوگوں نے راستہ ہی میں نماز پڑھ لی اور انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارادہ صرف یہ تھا کہ جلدی پہنچو لیکن دوسروں نے کہا کہ ہم بنی قریظہ کی بستیوں سے ادھر نماز نہ پڑھیں گے لیکن اس پر کسی نے ایک دوسرے کو ملامت نہ کی۔ حضور ﷺ ان کے بعد پہنچے۔ مدینہ میں ابن ام مکتوم صاحب۔ عبس وتولی ان جآء الاعمی کو والی مقرر کردیا۔ جھنڈا حضرت علی ؓ ابن ابو طالب کو دیا گیا۔ حضور ﷺ نے ان کا پچیس دنوں تک محاصرہ کیا اور ان کو کہا کہ ہتھیار ڈال دو ۔ جب ان پر معاملہ طویل ہوگیا تو انہوں نے سعد ابن معاذ رئیس اوس کے حکم پر ہتھیار ڈال دئیے۔ جاہلیت میں یہ ان کے خلفاء میں سے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ یہ ان کے ساتھ احسان کریں گے۔ جس طرح عبد اللہ ابن ابی ابن السلول نے اپنے دوستوں کے ساتھ کیا تھا اور ان کو رسول اللہ سے چھڑا لیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ سعد ابن معاذ بھی وہی کرے گا جو عبد اللہ ابن ابی نے کیا۔ ان کو معلوم نہ تھا کہ سعد کو ایک تیر بازو کی بڑی رگ میں لگا ہوا تھا۔ اور اگر یہ رگ کٹ جائے تو وہ زخمی ہرگز تندرست نہ ہوتا تھا ۔ یہ خندق کے ابتدائی دنوں ہی میں لگ گیا تھا۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے داغ دھوئے تھے اور مسجد کے اندر ہی ایک خیمے میں انہیں رکھا ہوا تھا تاکہ حضور ﷺ سہولت کے ساتھ ان کی تیمارداری کرسکیں اور سعدیہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ ! اگر آپ نے ہمارے اور قریش کے درمیان ابھی مزید جنگیں لکھی ہوئی ہیں تو مجھے زندہ رکھ اور اگر ہمارے ان کے درمیان جنگ ختم ہوچکی ہے تو پھر یہ زخم بہتا رہے اور پھر میری صرف یہ تمنا ہے کہ میری آنکھیں بنی قریظہ کے معاملے میں ٹھنڈی ہوجائیں۔ اللہ نے اس کی دعا قبول کی اور یہ مقدر کردیا کہ وہ انہیں کے فیصلے پر ہتھار ڈال دیں اور یہ درخواست خود انہوں نے اپنی خوشی سے کی۔ اب رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد کو مدینہ سے بلایا کہ وہ ان لوگوں کے بارے میں فیصلہ کریں۔ جب وہ آیا اور وہ ایک گدھے پر سوار تھا جو انہوں نے اس کے لیے خوب تیار کیا تھا تو اوس اس کے پاؤں پر پڑنے لگے۔ کہتے اے سعد ہم تیرے دوست ہیں۔ ان کے ساتھ احسان کرو ، وہ تو منتیں کر رہے تھے کہ اس کے دل کو ان کے لیے نرم کردیں۔ سعد ابن معاذ خاموش ہیں اور کچھ بھی نہیں کہہ رہے ۔ جب انہوں نے اصرار کرلیا تو انہوں نے جواب دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سعد اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے سے نہ ڈرے۔ تو انہوں نے جان لیا ہے کہ سعد درست فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں۔ جب سعد اس خیمے کے پاس گئے جو رسول اللہ کا خیمہ تھا ، تو حضور ﷺ نے فرمایا ” اٹھو اپنے سردار کے احترام و استقبال میں۔ مسلمان اٹھے اور اسے اتارا۔ بہت ہی اعزازو احترام اور اکرام کے ساتھ۔ تاکہ ان کا فیصلہ اچھی طرح نافذ ہو۔ جب سعد بیٹھے تو حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ان لوگوں نے اشارہ بنی قریظہ کی طرف تمہارے فیصلے پر ہتھیار ڈالے ہیں۔ لہٰذا آپ جو چاہیں ان کے بارے میں حکم دیں۔ تو اس پر اس نے کہا ” کیا میرا حکم ان پر نافذ ہوگا ؟ “ حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ ” اور ان تمام لوگوں پر نافذ ہوگا جو اس خیمے میں ہیں ؟ “ تو آپ ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ پھر انہوں نے کہا اور وہاں جو لوگ ہیں ان پر بھی (اس وقت سعد نے حضور اکرم ﷺ کی جگہ کی طرف اشارہ کیا جبکہ وہ خود اپنا منہ بوجہ حیاء اور احترام و اکرام پھیرے ہوئے تھے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” ہاں “۔ اس پر سعد ابن معاذ ؓ نے فرمایا : ” میں فیصلہ کرتا ہوں کہ ان کے جنگی لوگوں کو قتل کردیا جائے اور ان کے اموال اور اولاد کو مال غنیمت بنا دیا جائے۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا ” تم نے بیشک اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے اور اللہ نے یہ فیصلہ سبع سموات کے اوپر کردیا تھا “۔ پھر حضور ﷺ نے حکم دیا کہ زمین میں گڑھے کھودے جائیں اور یہ لوگ باندھے ہوئے لائے گئے۔ ان کی گردنیں اڑا دی گئیں۔ یہ لوگ سات آٹھ سو کے قریب تھے اور جو مرد عورتیں بالغ نہ تھے ان کو غلام بنا لیا گیا۔ مقتولین میں حبی ابن اخطب بھی تھا۔ یہ حسب معاہدہ ان کے ساتھ قلعہ بند ہوگیا تھا۔ اس وقت سے یہودی ذلیل ہوئے اور آج کے بعد مدینہ میں نفاق کی تحریک کمزور پڑگئی۔ منافقین کے سر نیچے ہوگئے اور اس سے قبل وہ جو کچھ کرتے تھے اب اس سے ڈر گئے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اس دن کے بعد کفار نے مسلمانوں پر حملہ کرنے کی جرأت نہ کی۔ بلکہ اب حملے مسلمانوں کی طرف سے ہوتے رہے۔ یہاں تک کہ مکہ اور طائف فتح ہوئے۔ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہودیوں ، مشرکین مکہ اور منافقین کی تحریکات کا تانا بانا ملا ہوا تھا اور جب یہودی مدینہ سے جلا وطن ہوئے تو یہ ریشہ دانیاں ختم ہوگئیں اور آج کے بعد اسلامی مملکت کی بنیاد مستحکم ہوگئی ۔ یہ ہے پس منظر اس قول ربانی کا۔ وانزل الذین ظاھر۔۔۔۔۔۔۔۔ علی کل شئ قدیرا (33: 26 – 27) ” پھر اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا ان کی گڑھیوں سے انہیں اتار لایا اور ان کے دلوں میں اس نے اب رعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کر رہے ہو ؟ اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ صیاصی سے مراد قلعے ہیں اور وہ زمین جو مسلمانوں نے پامال نہ کی تھی وہ ارض بنو قریظہ تھی جو ان کی مملوکہ تھی۔ ان کے محلے کے اردگرد اور یہ زمین بھی ان کے اموال کے ساتھ مسلمانوں کے ہاتھ آگئی۔ اور یہ اس طرح بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ بنی قریظہ نے بغیر قتال کے زمین دے دی اور پامال کرنے سے مراد جنگ ہے۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ وکان اللہ علی کل شئ قدیرا (33: 27) ان تمام واقعات سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ یعنی تمام امور اللہ کے اختیارات میں ہیں۔ اس پورے قصے میں تمام امور کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے اور تمام واقعات کو دست قدرت کا نتیجہ بناتا گیا ہے تاکہ باقی مسلمانوں کے دلوں میں اللہ واقعات کے ذریعے بٹھانا چاہتے ہیں اور واقعات کے بعد پھر قرآن کو نازل کرکے بٹھانا چاہتے ہیں کہ اسلامی تصور حیات صاف اور ستھرا دلوں میں بیٹھ جائے۔ یوں یہ عظیم حادثہ یہاں اختتام کو پہنچا۔ اس کے اندر بیشمار سنن الہیہ ، بیشمار اعلیٰ قدریں ، بیشمار ہدایات اور بیشمار اصول بیان کیے گئے تاکہ یہ چیزیں صاف صاف ہوکر جماعت مسلمہ کی زندگی کا حصہ بن جائیں۔ یوں یہ واقعات تربیت کے لیے ایک اچھا مواد ہیں اور قرآن میں ان کو جگہ دے کر اسلامی نمونہ حیات کے لئے معیار اور راہنما بنا دیا گیا ۔ ان آیات کو اسلامی جماعت کا رخ قرار دیا اور ان کے تصورات کو اچھی طرح ان کی زندگی کے اندر بٹھا دیا گیا۔ اسلامی جماعت کے لیے اعلیٰ قدریں واضح کردی گئیں اور ان ابتلاؤں اور آزمائشوں میں اسلامی کردار لکھ کر سامنے آگیا۔
Ayahs 33:30–31

یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ مَنْ یَّاْتِ مِنْكُنَّ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ یُّضٰعَفْ لَهَا الْعَذَابُ ضِعْفَیْنِ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:30 in the Quran reader

نبی ﷺ کی بیویو ، تم میں سے جو کسی صریح فحش حرکت کا ارتکاب کرے گی اسے دو ہرا عذاب دیا جائے گا ، اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے

وَ مَنْ یَّقْنُتْ مِنْكُنَّ لِلّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تَعْمَلْ صَالِحًا نُّؤْتِهَاۤ اَجْرَهَا مَرَّتَیْنِ١ۙ وَ اَعْتَدْنَا لَهَا رِزْقًا كَرِیْمًا Open ayah 33:31 in the Quran reader

اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی اس کو ہم دوہرا اجر دیں گے اور ہم نے اس کیلئے رزق کریم مہیا کر رکھا ہے

ینسآء النبی من یات ۔۔۔۔۔۔ لھا رزقا کریما (30 – 31) ” “۔ یہ اس بلند مقام کا تقاضا ہے جس پر وہ فائز ہیں۔ وہ سرور دو عالم کی بیویاں ہیں۔ ان کو امہات المومنین کا مرتبہ دیا گیا ہے اور یہ دونوں اعزاز ان پر بہت ہی بھاری ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں۔ ان کا پہلا تقاضا ہے کہ تم تمام فاحشات سے مکمل اجتناب کرو ، اگر بغرض محال ان میں سے کسی نے بھی فحاشی کا ارتکاب کیا تو اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا اور اس فرضی دھمکی کے ذریعے دراصل بتانا یہ مقصود ہے کہ وہ کس قدر بلند مقام پر فائز ہیں اور اس کے تقاضے کیا ہیں۔ وکان ذلک علی اللہ یسیرا (33: 30) ” اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے “۔ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں ہونے کے باوجود بھی اللہ کو کوئی نہیں روک سکتا کہ تمہیں سزا نہ دے۔ ذہن میں یہ بات آسکتی ہے کہ رسول مختار ﷺ کی بیویوں کو سزا دینے میں شاید کوئی رکاوٹ ہو ، اس لیے تردید کردی گئی۔ ومن یقنت منکن للہ ورسولہ وتعمل صالحا (33: 31) ” اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرے گی اور نیک کام کرے گی “۔ قنوت کے معنی طاعت اور خضوع و خشوع ہیں اور عمل صالح قنوت کا صحیح ترجمہ ہے۔ نو تھا اجرھا مرتین (33: 31) ” تو اس کو ہم دہرا اجر دیں گے “۔ جس طرح ان میں سے اگر کوئی فحاشی کا ارتکاب کرے تو سزا دگنی ہوگی۔ واعتدنا لھا رزقا کریما (33: 31) ” اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم مہیا کر رکھا ہے “۔ وہ حاضر ہے ، تیار ہے ، دوگنے اجر کے بعد رزق کریم مزید ہے ، یہ اللہ کا فضل و کرم ہوگا۔ اس کے بعد یہ بتایا جاتا ہے کہ نبی کی ازواج مطہرات عام عورتوں کی طرح نہیں ہیں لہٰذا لوگوں کے حوالے سے بھی ان کے کچھ فرائض ہیں اور اللہ کی بندگی کرنے میں بھی ان کے کچھ فرائض ہیں۔ گھروں میں بھی ان کے فرائض ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس عظیم گھرا نے کا نگہبان اللہ خود ہے۔ اللہ اس گھرانے کی زندگی کو پاک و صاف کرنا چاہتا ہے۔ ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہارے گھروں کے اندر جس حکمت اور آیات الہیہ کا نزول ہو رہا ہے اس کے حوالے سے تم پر خاص ذمہ داریاں ہیں اور یہ گھریلو ماحول تمہیں تمام جہان کی ازواج اور عورتوں سے ممتاز کرتا ہے۔