33. Surah Al-Ahzaab

الأحزابThe Clans · 73 ayahsفی ظلال القرآن

Ayah 33:9

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَآءَتْكُمْ جُنُوْدٌ فَاَرْسَلْنَا عَلَیْهِمْ رِیْحًا وَّ جُنُوْدًا لَّمْ تَرَوْهَا١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرًاۚ Open ayah 33:9 in the Quran reader

اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو ، یاد کرو اللہ کے احسان کو جو (ابھی ابھی) اس نے تم پر کیا ہے۔ جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں۔ اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اس وقت کر رہے تھے

درس نمبر 189 ایک نظر میں جنگلی حیات اور حادثات کے میدان کارزار میں اسلامی شخصیت کی تشکیل ہو رہی تھی۔ ہر نئے دن کے طلوع ہوتے کے بعد اور ہر نئے حادثے کے بعد یہ شخصیت واضح ہوتی جاتی تھی۔ اس کے خدوکال نکھر کر سامنے آتے تھے۔ جماعت مسلمہ ان شخصیات سے تشکیل پا رہی تھی جن کی خاص صلاحیتیں تھیں۔ ان کی خاص اقدار حیات تھیں اور تمام دوسری سوسائیٹوں سے اس کا رنگ ڈھنگ بالکل مختلف تھا۔ اس جماعت کے خلاف دور کوئی نہ کوئی واقعہ پیش آتا اور یہ واقعات جماعت کے لیے بڑا فتنہ بن جاتے اور یہ فتنہ اس طرح ہوتا تھا جس طرح سونے کا ” فتنہ “ ہوتا ہے۔ اس فتنے سے اصلی جوہر اور کھوٹ علیحدہ ہوجاتے تھے۔ انسانوں کی حقیقت اور ان کا اصل جوہر سامنے آجاتا تھا۔ جھاگ دور ہوجاتی تھی اور خالص سونا جدا ہوجاتا تھا۔ یوں اسلامی سوسائٹی سے ایسی قدریں ختم ہوجاتی تھیں جن میں ملاوٹ ہوتی تھی۔ ان ابتلاؤں میں قرآن کریم نازل ہوتا تھا یا واقعات و حادثات کے بعد ان پر تبصرہ ہوتا تھا۔ اس تبصرے میں واقعات بتائے جاتے ، ان پر روشنی ڈالی جاتی اور ان کے نشیب و فراز بتائے جاتے۔ یوں ہر ایک کا موقف سامنے آتا۔ ضمیر و شعور اور نیت و ارادے کی اصلاح ہوتی اور ان واقعات کی روشنی میں لوگوں کو ہدایت دی جائیں اور وہ ہدایات اچھی طرح ان کی سمجھ میں آجائیں لوگ ان ہدایات سے اچھی طرح متاثر ہوتے اور اپنی اصلاح کرتے۔ یوں اسلامی جماعت کی تربیت ہر دن کے بعد ہوتی رہتی اور ہر حادثے کے بعد اسے ہدایات ملتی رہتیں۔ اسلامی نظام حیات کے اہداف کے مطابق اس جماعت مسلمہ کی شخصیت بنتی اور وہ ان تبصروں سے تاثرات ملتے۔ یوں نہیں ہوا کہ تمام احکام اور ہدایات ایک ہی باز نازل کرکے مسلمانوں کے سامنے رکھ دئیے گئے ہوں اور پھر یہ کہا گیا ہو کہ جاؤ ان پر عمل کرو۔ بلکہ یہ ہدایات اور یہ قوانین واقعات کے بعد نازل ہوتے رہے ، آزمائش آتیں ، فتنے آتے اور واقعات پیش آتے ، ادھر سے وحی آجاتی کیونکہ اللہ خالق کریم کو یہ علم تھا کہ انسان اخلاق کو صرف تدرئج ہی کے ساتھ اچھی طرح نئے سانچے میں ڈھالا اور اچھی طرح پختہ کیا جاسکتا ہے۔ انسانی اخلاق کی نوک پلک صرف آزمائشوں اور واقعات و حادثات کی شکل میں درست کی جاسکتی ہے۔ یعنی واقعاتی تجربات کی صورت میں۔ کیونکہ عملی تجربات کے نتیجے میں بات دلوں کی تہ تک اتر جاتی ہے اور اعصاب بھی اس کے مطابق حرکت کرنے لگتے ہیں۔ یہ اعصاب پھر اس طرح جدید ردعمل ظاہر کرتے ہیں جس طرح معرکہ کا رزار میں یا واقعات اور حادثات میں انسان کا فطری ردعمل ہوتا ہے۔ ایسے واقعات میں جب قرآن نازل ہوتا تو وہ بتا دیتا کہ یہ واقعہ کیا ہے۔ اس کے پیچھے کیا عوامل ہیں اور اس میں ایک مسلمان کا اسلامی ردعمل کیا ہونا چاہئے۔ اس طرح اسلامی شخصیت آزمائشوں کی بھٹی سے صاف و ستھری ہوکر نکل آتی ، نکھر آتی ، آزمائش کی تپش اس کے اخلاقی جسم سے ہر قسم کا کھوٹ نکال کر رکھ دیتی اور اب اسلام جس سانچے میں چاہتا ، ان شخصیات کو ڈھال لیتا۔ یہ ایک عجیب دور تھا جو مسلمانوں نے نبی ﷺ کی قیادت میں گزارا۔ اس میں آسمانوں و زمین کے قلابے ملے ہوئے تھے۔ آسمان سے اہل زمین کا براہ راست رابطہ تھا۔ تمام واقعات اور تمام مکالمات میں آسمان سے ہدایت آجاتی۔ ہر مسلمان رات اور دن یوں زندگی بسر کر رہا تھا کہ اللہ دیکھ رہا ہے سن رہا ہے۔ ابھی کوئی ہدایت یا تبصرہ نہ آجائے۔ اس کا کوئی کلمہ ، اس کی کوئی حرکت بلکہ اس کا کوئی ارادہ نزول وحی کا سبب نہ بن جائے۔ لوگوں کے سامنے ظاہر نہ ہوجائے ، رسول اللہ کے پاس سے اس کے بارے میں کوئی تبصرہ نہ آجائے۔ گویا ہر مسلمان محسوس کرتا تھا کہ وہ رب تعالیٰ کے ساتھ براہ راست منسلک ہے۔ اگر اسے کوئی معاملہ درپیش ہوتا یا کوئی مشکل درپیش ہوتی تو وہ انتظار کرتا کہ اس کے بارے میں کوئی فتویٰ ، کوئی ہدایت ، کوئی فیصلہ آسمان سے آجائے اور اللہ بتا دے بذات خود ، اے فلاں تم نے یہ کہا ، تم نے یوں کہا ، تم نے یوں سوچا۔ یہ ظاہر کیا اور چھپایا ، یوں کرو ، یوں نہ کرو ، اور ایسا طرز عمل اختیار نہ کرو۔ یہ ایک عجیب دور تھا کہ اللہ کا ایک متعین حکم کسی متعین شخص کے بارے میں آپہنچتا۔ اور یہ حکم پھر اس کے لیے بھی ہوتا اور تمام اہل زمین کے لیے بھی ہوتا۔ زمین کے ذرے ذرے کے لیے ہوتا۔ پوری زمین کے لیے ہی ہوتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ عجیب دور تھا ۔ آج جب انسان اس کے بارے میں سوچتا ہے اس کے واقعات اور حادثات کو دہراتا ہے ، پڑھتا ہے ، پڑھاتا ہے تو وہ اچھی طرح ایک نقشہ ذہن میں لاسکتا ہے ، ایک منظر دیکھ سکتا ہے کہ کس قدر عجیب دور تھا یہ۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی تربیت صرف اس شعور کے ذریعہ ہی نہیں کی کہ ان کی شخصیت کو پختہ کردیا جائے بلکہ ان کو عملی تجربوں سے گزارا گیا۔ ان کو آزمائشوں میں مبتلا کیا گیا جس میں ان کا نقصان بھی ہوا لیکن فائدے بہت ہوئے اور یہ سب امور اللہ کی گہری حکمتوں کے مطابق سر انجام پاتے ، کیونکہ اللہ علیم وخبیر ہے اور وہ اپنی مخلوق کے بارے میں اچھی طرح جانتا ہے۔ یہ حکمت کیا تھی ؟ ہمیں اس پر ذرا طویل غوروفکر کرنا چاہئے تاکہ ہم اسے معلوم کرلیں ، پھر اس پر تدبر کریں۔ اور پھر ہم زندگی کے واقعات ، آزمائشوں پر اس کی روشنی میں غور کریں۔ اس سبق میں تحریک اسلامی کو پیش آنے والے ایک بڑے واقعہ کی تشریح کی گئی ہے۔ اور اسلامی تاریخ کے اس واقعہ میں جماعت مسلمہ کے لیے ایک بڑی آزمائش تھی اور یہ وقت امت مسلمہ پر بہت برا وقت تھا۔ بڑی مشکل دور سے تحریک گزر رہی تھی۔ یعنی غزوہ احزاب کا دور۔ یہ جنگ ہجرت کے پانچویں یا چوتھے سال میں پیش آئی۔ یہ اس نئی اٹھنے والی تحریک کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش تھی۔ تحریک اسلامی کی تمام اقدار اور تمام نظریات داؤ پر تھے۔ ان آیات پر غور کرنے سے غزوہ احزاب کے واقعہ کے پیش کرنے سے ، اس کے اسلوب بیان سے ، بعض واقعات پر تبصرے سے ، بعض لوگوں کی حرکتوں سے ، بعض افراد کی سوچ سے ، اور بعض لوگوں کے خدشات سے اور پھر اس جنگ میں سامنے آنے والی اقدار سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم کے ذریعہ امت مسلمہ کی تربیت کس خوش اسلوبی سے فرما رہے تھے۔ جنگ احزاب جیسے اہم واقعہ پر قرآن کریم کس انداز سے تبصرے کرتا ہے اور امت کو کس انداز سے ہدایات دیتا ہے۔ قرآنی نصوص کی تشریح سے پہلے ہم چاہتے ہیں کہ اس واقعہ کی پوری تفصیل ذرا اختصار سے کتب سیرۃ سے نقل کردی جائے۔ اس سے ہم تقابلی مطالعہ کرسکیں گے کہ انسان واقعات کو کس طرح بیان کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے تبصرہ کیسے ہوتا ہے۔ محمد ابن اسحاق نے اپنی سند کے ساتھ ایک جماعت سے نقل کیا ہے ۔۔۔ جنگ خندق کے واقعات میں یہ ہے کہ کچھ یہودی جن میں سے سلام ابن ابو الحقیق نضری ، یحی ابن اخطب نضری ، کنانہ ابن ابو الحقیق نضری ، ہودہ ابن قیس وائلی اور ابو عماد وائلی تھے اور ان کے ساتھ کچھ لوگ بنو نضیر ، کچھ لوگ بنی وائل کے بھی تھے۔ یہی لوگ تھے جنہوں نے رسول اللہ کے خلاف لشکر جمع کیے۔ یہ سب سے پہلے گھروں سے نکلے ، قریش سے ملے اور ان کو دعوت دی کہ رسول خدا کے خلاف جنگ کریں اور انہوں نے کہا کہ ہم تمہارا ساتھ اس وقت تک دیں گے جب تک اس کو بنیاد سے نہ اکھاڑ دیں۔ قریش نے کہا ، اے ملت یہود ، تم لوگ پہلی کتاب کے حاملین ہو اور تمہیں معلوم ہے کہ ہمارے اور محمد ﷺ کے درمیان کیا اختلاف ہے ، تم لوگ بتاؤ کہ اس کا دین اچھا ہے یا ہمارا۔ تو انہوں نے کہا اس کے دین سے تمہارا دین سچا ہے اور اس کے مقابلے میں تم زیادہ برحق ہو۔ یہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں یہ آیات اتریں : الم تر الی الذین ۔۔۔۔۔۔ امنوا سبیلا (4: 51) ” کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے اور ان کا حال یہ ہے کہ جبت اور طاغوت کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں “۔ یہاں سے لے کر آیات ام یحسدون الناس علی ما اتھم ۔۔۔۔۔۔۔ وکفی بجھنم سعیرا (4: 54 – 55) ” پھر کیا یہ دوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا اگر یہ بات ہے تو انہیں معلوم ہو کہ ہم نے تو ابراہیم کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملک عظیم بخش دیا۔ مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لائے اور کوئی اس سے منہ موڑ گیا اور منہ موڑنے والوں کے لیے تو جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے “۔ جب انہوں نے قریش کو یہ فتویٰ دیا تو وہ بہت خوش ہوئے اور جوش میں آگئے اور رسول اللہ کے خلاف لڑنے کی حامی بھرلی۔ یہ لوگ اب قریش کو چھوڑ کر غطفان کے پاس گئے ، جو قیس غیلان کی نسل سے ہیں۔ انہوں نے ان کو بھی دعوت دی کہ وہ حضرت محمد ﷺ کے خلاف لڑیں انہوں نے ان کو بتایا کہ وہ خود بھی ساتھ دیں گے اور قریش بھی ساتھ دیں گے۔ لہٰذا تم لوگ قریش کے ساتھ میٹنگ کرو۔ چناچہ قریش کا یہ لشکر ابو سفیان ابن حرب کی سر براہی میں ، غطفان اپنے سردار عبینہ ابن حنن بن فزاری کے ساتھ ، اور حارث ابن عوف بنی مروہ کے ساتھ اور مسعر ابن امیہ اپنے متعین بنی اشجع کے ساتھ نکلے۔ جب رسول اللہ ﷺ کو اس لشکر کشی کی اطلاعات ملیں تو آپ ﷺ نے مدینہ کے اردگرد خندق کھودنا شروع کردی۔ خندق کھودنے میں رسول اللہ ﷺ نے بھی کام کیا اور مسلمانوں نے بھی کام کیا۔ آپ نے بھی جانفشانی سے کام کیا اور مسلمانوں نے بھی سخت جانفشانی سے کام کیا۔ اس کام میں رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کے مقابلے میں بعض منافقین نے نہایت سست روی سے کام لیا۔ وہ بہت چھوٹے موٹے کاموں میں لگ جاتے اور بغیر اذن رسول ﷺ کے کھسک جاتے۔ وہ گھروں کو چلے جاتے اور رسول اللہ کو علم بھی نہ ہوتا۔ اور مسلمانوں کی روش یہ ہوتی کہ اگر کسی کا کوئی ضروری کام پیش آتا تو وہ رسول اللہ ﷺ سے اجازت لے کر چلا جاتا اور کام کرکے جلدی سے واپس آجاتا۔ اور نہایت ہی ذوق و شوق سے کام کرتا۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : انما المومنون باللہ ۔۔۔۔۔ ان اللہ غفور رحیم (24: 62) ” مومن تو اصل میں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو دل سے مانیں اور جب کسی اجتماعی کام کے موقعہ پر رسول کے ساتھ ہوں تو اس سے اجازت لیے بغیر نہ جائیں۔ اے نبی جو لوگ تجھ سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسول کے ماننے والے ہیں۔ پس وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں تو جسے چاہو ، اجازت دے دیا کرو۔ اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کیا کرو۔ اللہ غفور و رحیم ہے “۔ اس کے بعد اللہ نے ان لوگوں کے بارے میں کہا جو بغیر اجازت کے کھسک جاتے تھے اور کام چوری کرتے تھے۔ لاتجعلوا دعآء الرسول ۔۔۔۔۔۔ او یصیبھم عذاب الیم (24: 63) ” مسلمانوں ! اپنے درمیان رسول کے بلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بلا نا نہ سمجھ بیٹھو۔ اللہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑ لے کر چپکے سے کھسک جاتے ہیں۔ رسول کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ وہ فتنے میں گرفتار نہ ہوجائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آجائے “۔ جب رسول اللہ ﷺ خندق سے فارغ ہوئے تو قریش حبشیوں ، کنانہ اور تہامہ کا ایک بڑا لشکر حراپرلے کر پہنچ گئے۔ یہ مقام درمہ کے مجمع اسیال پر اترے اور عطفان اور ان کے تابع دوسرے کچھ قبائل احد کے پاس ذنب نقمی پر اترے۔ اور رسول اللہ ﷺ اور مسلمان تین ہزار کی تعداد میں تھے۔ اسلامی لشکر کی پشت کوہ سلع کی طرف تھی ۔ یہ لشکر یہاں اترا اور احزاب اور مسلمانوں کے لشکر کے درمیان خندو تھی۔ بچوں اور عورتوں کو حکم دیا کہ وہ قلعہ بند ہوجائیں۔ اللہ کا دشمن حیی ابن اخطب نضری ، کعب ابن اسد قرظی سے ملا۔ یہ صاحب تھے جنہوں نے بنی قریظہ کی طرف سے عہد کیا تھا اس نے اپنی قوم کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کو یقین دہانی کرائی تھی اور ان پر رسول اللہ ﷺ سے عہد و سمان کیا تھا۔ حبی کعب ابن اسد سے چپکا رہا اور اسے رسول اللہ ﷺ کے خلاف آمادہ کرتا رہا۔ اسے دھوکہ دینے کے لیے بار بار چکر لگاتا رہا۔ یہاں تک کہ اس نے اس سے بھی وعدہ لے لیا کہ اگر قریش اور عطفان واپس ہوگئے اور محمد پر حملہ آور نہ ہوئے تو میں تمہارے ساتھ تمہارے قلعہ میں رہوں گا تاکہ مجھے بھی وہ بات نہ پہنچ جائے جو تجھے پہنچے۔ ان یقین دہانیوں پر کعب ابن اسد نے حضور اکرم ﷺ سے کیے ہوئے عہد کو توڑ دیا اور اس کے اور رسول اللہ ﷺ کے درمیان جو عہد تھا ، اس سے براءت کا اظہار کردیا۔ اس پر مسلمانوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا اور خوف و ہراس پھیل گیا۔ اب اوپر سے بھی دشمن حملہ آور ہوگیا اور نیچے سے بھی۔ مسلمانوں نے ہر قسم کے خیالات دل میں دوڑانے شروع کر دئیے۔ بعض منافقین کا نفاق بھی ظاہر ہونا شروع ہوگیا ۔ ایک شخص مصعب ابن قیصر ، بنی عمر ابن عوف قبیلے کے فرد سے یہ کہتے سنا گیا ” محمد ﷺ تو ہم سے یہ وعدے کرتے تھے کہ قیصر و کسریٰ کے خزانے کھائیں گے اور آج ہماری حالت یہ ہے کہ ہم ، میں سے کوئی بےخوف ہو کر قضائے حاجت کے لیے نہیں جاسکتا “۔ اور قبیلہ بنی حارثہ کے ایک شخص اوس ابن قیظی کہنے لگا ” حضور ہمارے گھرغیر محفوظ ہیں اور یہ بات انہوں نے اپنی قوم کے سامنے کہی تو آپ ہمیں اجازت دے دیں کہ ہم لوگ اپنے گھروں کو چلے جائیں کیونکہ ہمارے گھر مدینہ سے باہر ہیں “۔ رسول اللہ ﷺ بھی ڈٹے رہے اور مشرکین بھی تقریباً ایک ماہ تک پڑے رہے۔ جنگ صرف تیروں اور محاصرے تک محدود رہی۔ جب لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا تو حضور ﷺ نے ایک وفد عبینہ ابن حصن اور حارث ابن عوف کی طرف بھیجا۔ یہ دونوں غطفان کے لیڈر تھے۔ ان کو یہ پیش کش کی کہ ہم مدینہ کی کھجوروں کا 3/1 حصہ ادا کریں گے اس شرط پر کہ تم لوگ اپنے آدمیوں کو لے کر واپس ہوجاؤ۔ صلح کے مذاکرات ہوئے ، ایک معاہدے کا مسودہ بھی تیار ہوگیا۔ شہادت اور دستخط ابھی نہ ہوئے تھے جب حضور ﷺ نے دستخط کرنا چاہئے تو آپ نے سعد ابن معاذ رئیس اوس اور سعد ابن عبادہ رئیس خزرج کو بلایا اور ان کے سامنے اس معاہدے کا تذکرہ کیا اور مشورہ طلب کیا۔ انہوں نے کہا حضور اکرم ﷺ اگر آپ اس معاہدے کو پسند کرتے ہیں تو آپ کی مرضی ہے ، دستخط کردیں۔ یا اگر اللہ کا حکم ہے تو سر آنکھوں پر۔ اور اگر یہ بات آپ ہمارے مفاد میں کرنا چاہتے ہیں تو بتائیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا میں یہ صرف تمہاری خاطر کرنا چاہتا ہوں۔ میں تو یہ اس لئے کر رہا ہوں کہ تمام عرب ایک ہی کمان سے تمہارے خلاف تیراندازی کر رہے ہیں اور ہر طرف سے تمہارے اوپر ٹوٹ پڑے ہیں۔ تو میں نے سوچا کہ ان کی قوت میں کچھ کمی کر دوں “۔ اس پر سعد ابن معاذ نے فرمایا ہم اور یہ لوگ سب شرک پر تھے۔ اور بتوں کی بندگی کرتے تھے۔ نہ اللہ کی بندگی کرتے تھے اور نہ اللہ کو پہچانتے تھے۔ یہ لوگ ہم سے کھجور کا ایک دانہ بھی نہ لے سکتے تھے الایہ کہ بیعہ خریدتے یا بطور مہمان نوازی کے ہم ان کو کھلاتے۔ اب جبکہ اللہ نے ہمیں اسلام کے ذریعہ عزت بخشی ہے اور ہمیں ہدایت دی ہے اور آپ کے ذریعہ ہمیں اعزاز دیا ہے تو کیا اب ہم ان کو اپنا دل دے دیں۔ ہمیں اس رعایت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ تلوار کرے گی۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا جو آپ کی مرضی ہو۔ سعد ابن معاذ نے وہ مسودہ لیا اور اس کے اندر جو کچھ لکھا تھا ، مٹا دیا۔ اس نے کہا وہ ہمارے خلاف جو کچھ کرنا چاہیں کریں۔ رسول اللہ ﷺ اور مسلمان نہایت خوف اور شدت کی حالت میں رہے۔ کیونکہ دشمن نے ہر طرف سے گھیر رکھا تھا اور اس کی قوت زیادہ تھی۔ یہودیوں نے ان کے ساتھ معاہدہ کرلیا تھا کہ وہ خیبر کی کھجوریں دیں گے ۔ اگر وہ اس موقعہ پر ان کی امداد کریں (تبریزی) ۔ حضرت ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ میں حضور ﷺ کے ساتھ کئی شدت اور سرخف کے مقامات پر رہی ہوں۔ غزوہ مریسع ، خیبر ، حدیبیہ ، فتح مکہ ، حنین۔ ان میں سے کسی جگہ حضور ﷺ نے تھکاوٹ محسوس نہیں کی۔ نہ زیادہ خائف ہوئے ، جس قدر تھکاوٹ اور خوف خندق میں تھا۔ بنی قریظہ عورتوں اور بچوں کے قریب تھے۔ مدینہ میں ساری رات پہرہ ہوتا تھا ۔ ہم مسلمانوں کا نعرہ تکبیر صبح تک سنتے رہے یہاں تک کہ اللہ نے خود بخود ان کو واپس کردیا۔ ایک اہم واقعہ یہ ہوا کہ ایک شخص نعیم ابن مسعود ابن عامر غطفانی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا۔ اس نے کہا رسول خدا ﷺ میں مسلمان ہوشکا ہوں لیکن میری قوم کو میرے اسلام کا پتہ نہیں۔ آپ جو خدمت میرے سپرد کریں ، اس وقت کرسکتا ہوں۔ حضور ﷺ نے فرمایا ” ہم میں آپ واحد آدمی ہیں تو جس طرح ہوسکے ، لوگوں کو ہمارے خلاف جنگ کرنے سے روک لیں کیونکہ جنگ ایک قسم کی چال ہوتی ہے۔ اس نے ایک ایسی کاروائی کی جس کی وجہ سے ان احزاب اور بنو قریظہ کے درمیان اعتماد ختم ہوگیا۔ اس کی تفصیلات کتب سیرت میں مفصلاً موجود ہیں ۔ اللہ نے احزاب کے اندر بھی بددلی پیدا کردی اور ایک ایسا طوفان بادوباراں بھیجا کہ سردیوں کی شدید ٹھنڈی رات میں ان کے خیمے اکھڑ گئے ، ان کی ہانڈیاں الٹ گئیں اور چولہے بجھ گئے۔ ۔ جب رسول اللہ ﷺ تک ان کے اختلافات پہنچے ، اور ان کی اجتماعیت ختم ہوگئی تو اس آخری رات کے حالات معلوم کرنے کے لئے حضور ﷺ نے حضرت حذیفہ ابن الیمان کو بھیجا۔ محمد ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ میرے سامنے زید ابن زیاد ابن محمد ابن کعب قرظی نے روایت کی ہے ” ایک کوفی باشندے نے حضرت حذیفہ ابن الیمان سے کہا : ابو عبد اللہ ! تم نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے اور آپ کے ساتھ صحبت کی ہے۔ تو اس نے کہا ہاں بھتیجے ، میں نے دیکھا اور صحبت کی۔ تو پھر تم کیا کرتے تھے ؟ خد ا کی قسم ہم بہت جدوجہد کرتے تھے تو اس شخص نے کہا خدا کی قسم اگر ہم رسول اللہ ﷺ کو پاتے تو اسے ہرگز زمین پر چلنے نہ دیتے۔ اور اپنی گردنوں پر انہیں اٹھائے رکھتے۔ اس پر حضرت حذیفہ نے فرمایا : بھتیجے ہم نے حضور ﷺ کے ساتھ جنگ خندق میں حصہ لیا۔ یوں ہوا کہ حضور ﷺ نے رات کے ایک حصے میں نماز پڑھی اور پھر ہماری جانب متوجہ ہوئے۔ کون ہے جو اٹھے اور جاکر معلوم کرے کہ یہ لوگ کیا کر رہے ہیں۔ پھر وہ واپس آجائے۔ اس کے لیے رسول اللہ ﷺ نے واپسی کی شرط لگائی۔ میں اللہ سے سوال کروں گا کہ وہ جنت میں میرا ساتھی ہو “۔ اس قدر شدید خوف تھا کہ کوئی نہ اٹھا۔ اس قدر بھوک تھی کہ کسی میں تاب نہ تھی اور سردی بھی شدید تھی۔ جب کوئی نہ اٹھا تو مجھے رسول اللہ ﷺ نے پکارا۔ جب حضور ﷺ نے میرا نام لیا تو میرے لیے اب کوئی چارہ کار نہ تھا۔ فرمایا ” حذیفہ جاؤ، ان لوگوں میں داخل ہوجاؤ، دیکھو وہ کیا کرتے ہیں اور کوئی بات نہ کرو جب تک ہمارے پاس نہ آجاؤ “۔ حذیفہ کہتے ہیں میں گیا۔ لشکر کے اندر داخل ہوگیا۔ طوفان اور اللہ کے لشکر ان کے ساتھ وہ کچھ کر رہے تھے جو کر رہے تھے۔ ہانڈیاں اپنی جگہ ٹھہر نہ سکتی تھیں۔ آگ سلک نہ سکتی تھی۔ ابوسفیان کھڑا ہوا ، حکم دیا کہ ہر شخص اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص کے بارے میں تسلی کرے۔ میں نے پہلے ہی اپنے ساتھ بیٹھے ہوئے شخص سے پوچھ لیا کون ہو ؟ تو اس نے بتایا فلاں ابن فلاں۔ اس کے بعد ابو سفیان نے کہا اہل قریش اب یہاں مزید نہیں رہ سکتے۔ گھوڑے اور اونٹ ہلاک ہوگئے۔ بنو قریظہ نے ہمارے ساتھ وعدہ خلافی کردی اور ان کی جانب سے ہمیں وہ جواب ملا جسے ہم ناپسند کرتے ہیں ، طوفان اس قدر ہے جو تم دیکھ رہے ہو۔ ہنڈیا اپنی جگہ قرار نہیں پکڑتی ، آگ نہیں جلتی ، خیمے اکھڑ گئے۔ لہٰذا کون کرو میں تو یہ گیا۔ یہ کہہ کر وہ اٹھا۔ اپنے اونٹ کو اٹھایا۔ وہ تین ٹانگوں پر کھڑا ہوگیا اور اس کا عقال اس نے کھڑے کھڑے کھولا۔ اگر مجھے رسول اللہ ﷺ نے یہ حکم نہ دیا ہوتا کہ کوئی بات نہ کرو جب تک میرے پاس نہ آجاؤ تو میں ایک ہی تیر مار کر ابو سفیان کا کام تمام کردینا۔ حذیفہ کہتے ہیں کہ میں جب واپس پہنچا تو دیکھا کہ حضور ﷺ کھڑے ہیں اور ایک ایسی چادر میں نماز پڑھ رہے ہیں جو لمبی تھی اور منقش تھی۔ یہ آپ ﷺ کی ازواج میں سے کسی کی تھی۔ جب آپ ﷺ نے مجھے دیکھا تو مجھے اپنے پاؤں کے نیچے چادر میں داخل کرلیا اور چادر کا ایک حصہ مجھ پر ڈال دیا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے رکوع کیا اور سجدہ کیا اور میں چادر ہی میں لپٹا رہا۔ جب آپ ﷺ نے سلام پھیرا تو میں نے آپ ﷺ کو پوری اطلاع دی۔ اب غطفان نے جب سنا کہ قریش نے یہ کام کیا ہے تو وہ بھی اپنے علاقوں کی طرف واپس ہوگئے۔ قرآن کے ان نصوص میں اشخاص کے نام نہیں لیے گئے۔ بلکہ لوگوں کے نمونے دئیے گئے ہیں اور واقعات کی تفصیلات اور جزئیات بھی قرآن نے چھوڑ دی ہیں۔ قرآن نے وہ اقدار ، وہ کردار اور وہ طرز عمل یہاں ریکارڈ کیے ہیں جو نمونہ ہیں اور ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ وہ کردار جو کسی واقعہ کے ساتھ مخصوص نہیں ، جو کسی شخص کے ساتھ مخصوص نہیں۔ جو حالات کے مٹ جانے سے مٹتے نہیں۔ وہ کردار اور وہ قدریں یہاں درج کردی ہیں جو آیندہ کی نسلوں کے لیے نمونہ عبرت ہیں اور ہر گروہ کیلئے معیار مطلوب ہیں۔ قرآن کریم تمام واقعات اور حادثات کو اللہ کی تدبیر اور تقدیر کے ساتھ منسلک کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ دست قدرت کس کس مرحلے پر مسلمانوں کا معاون رہا اس معرکے کے ہر مرحلے میں تدبیر الٰہی نے اپنا کام کیا اور قرآن نے ہر مرحلے کا تبصرہ پیش کیا قرآن کریم نے یہ قصہ ان لوگوں کے سامنے دہرایا۔ جو اس کے اندر موجود تھے جو اس کے کردار تھے۔ لیکن قرآن کریم وہ اسباب بھی ان کے سامنے کھول کر رکھ دیتا ہے جن کا انہیں علم نہ تھا۔ ان واقعات و حادثات کے وہ پہلو جو نظروں سے اوجھل تھے حالانکہ وہ اس کہانی کے کردار تھے۔ قرآن کریم نفس انسانی کے نشیب و فراز کو بھی کھول کر ان کے سامنے رکھ دیتا ہے۔ وہ لوگوں کے ضمیر کے میلانات بتاتا ہے اور بتاتا ہے کہ لوگوں کے دلوں کے اندر کیا کیا خلجانات پیدا ہوگئے تھے۔ ان باتوں کے علاوہ انداز بیان کی خوبصورتی ، اس کا رعب اور شوکت کلام ، بات کی قوت اور حرارت اور منافقین کے بارے میں مزاحیہ انداز ، اور ان کے نفاق کے پیچ و تاب اور مسلمانوں کی شجاعت اور ایمان ، صبر اور اللہ پر پورا بھروسہ ، غرض یہ سب باتیں قرآن نہایت خوبصورتی کے ساتھ قلم بند کرتا ہے۔ یہ نصوص قرآنی دراصل ہر پڑھنے والے کو عمل پر آمادہ کرتی ہیں۔ یہ صرف ان لوگوں کو آمادہ نہیں کرتیں جن لوگوں نے یہ معرکے لڑے اور ان میں ان کا بنیادی کردار رہا اور انہوں نے سب کچھ دیکھا بلکہ زمانہ مابعد کے تمام ادوار اور معاشروں میں بھی یہ نصوص ابھارنے والی ہیں ، جب بھی تحریک اسلامی کو ایسے ہی حالات سے واسطہ پڑتا ہے جیسا کہ ان لوگوں کو پڑا اگرچہ بہت زمانہ گزر چکا ہو۔ اگر جدید ترین متنوع معاشروں میں بھی ایسے حالات پیش ہوں تو بعینہ اسی طرح یہ نصوص ایک مومن کو متحرک رکھتی ہیں جس طرح قرون اول میں انہوں نے مسلمانوں کو متحرک رکھا۔ ان نصوص کو صحیح طرح وہی شخص سمجھ سکتا جس کے لیے ویسے ہی حالات درپیش ہوں جس طرح جنگ احزاب میں اس وقت کے مسلمانوں کو درپیش تھے۔ جب ایسے حالات ہوں پھر ان آیات سے ہدایات کے چشمے پھوٹتے ہیں اور اسلام کے لیے کام کرنے والوں کے دل ان کے معانی کے لیے کھل جاتے ہیں۔ اب قرآن کے کلمات اور سطریں قوت اور اسلحہ بن جاتی ہیں اور کارکن ایسے ہی معرکوں میں کود جاتا ہے۔ پھر یہ آیات زندہ ، بیدار ، آگے بڑھنے والے لوگ پیدا کرتی ہیں اور یہ لوگ ایک حقیقی تحریک لے کر آٹھتے ہیں ۔ قرآن کریم کی یہ نصوص عالم واقعہ میں چلتی پھرتی نظر آتی ہیں۔ یاد رہے کہ قرآن کریم محض تلاوت اور علمی مباحث کی کتاب نہیں ہے۔ یہ کام تو بہت ہوچکا ، یہ تو ایک زندگی ہے ، اچھلتی آگے بڑھتی زندگی۔ یہ تو نئے نئے واقعات کے لیے نئی نئی ہدایات ہیں۔ جب بھی کوئی دل ان نصوص کو سمجھے ان کے ہمقدم ہو کر چلے ، ان پر لبیک کہے تو ان نصوص کے اندر پوشیدہ قوت کے سرچشمے پھوٹ پڑتے ہیں ۔ یہ ہے اس کتاب کا راز کہ اس کے اندر انفجار و قوت کے ذخائر ہیں۔ ایک انسان ایک آیت کو ہزار بار پڑھتا ہے ، پھر وہ ایسے موقف اور ایسے حادثے کا شکار ہوتا ہے اور جب وہ اسی آیت کو پڑھتا ہے تو یہ وہ آیت نہیں ہوتی۔ یہ بالکل ایک نئی آیت ہوتی ہے۔ یہ اسے وہ کچھ بتلاتی ہے جو پہلے نہ بتلاتی تھی۔ یا اس کی سمجھ میں نہ آتی تھی۔ یہ حیران کن سوالات کا جواب دینے لگتی ہے۔ یہ پیچیدہ مشکلات حل کردیتی ہے۔ صاف صاف راستہ بتلاتی ہے۔ ایک سمت متعین کردیتی ہے اور وہ اس دل کو اس معاملے میں عزم بالجزم میں تبدیل کرکے رکھ دیتی ہے اور پڑھنے والے کو پورا پورا اطمینان ہوجاتا ہے۔ درس نمبر 189 تشریح آیات 9 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 27 قرآن کریم اس سورة کا آغاز یوں کرتا ہے کہ اے اہل ایمان اس بات کو ذرا یاد کرو کہ یہ لشکر تمہارے خلاف جمع ہوئے اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ تمہیں بیخ و بن سے اکھاڑ کر پھینک دیں اللہ نے محض اپنے کرم سے اور اپنی خاص فوجوں کی مدد سے ان کو نامراد واپس کردیا۔ چناچہ پہلی ہی آیت میں واقعہ کا مزاج ، اس کا آغاز اور اس کا انجام بتا دیا کریں ، اور ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ جائے کہ اللہ کا منشاء یہ ہے کہ تم اللہ ، رسول ﷺ اور وحی کی اتباع کرو ، اس پر توکل کرو ، اور کافرین اور منافقین کی اطاعت نہ کرو ، اور یہ کہ اللہ کی دعوت اور اس کے نظام پر جو لوگ عمل کرتے ہیں ، اللہ ان کا حامی و مددگار ہوتا ہے بمقابلہ کافرین اور منافقین کے۔ یایھا الذین امنوا ۔۔۔۔۔۔ بما تعملون بصیرا (9) ” “۔ یوں اس اجمالی آغاز ہی میں معرکہ کا آغاز اور انجام قلم بند کردیا گیا۔ اور وہ عناصر بھی بتا دئیے گئے جو اس معرکے میں فیصلہ کن رہے۔ یعنی احزاب کا جمع ہو کر ٹوٹ پڑتا ، اور طوفان باد باراں اور دوسری خدائی افواج کا آنا جو نظر نہ آتی تھیں ، اور اللہ کی نصرت جو اللہ کے علم و تدبیر پر مبنی تھیں اور وہ مسلسل نگرانی کر رہا تھا۔ اب اس کے بعد تفصیلات :
Ayahs 33:10–13

اِذْ جَآءُوْكُمْ مِّنْ فَوْقِكُمْ وَ مِنْ اَسْفَلَ مِنْكُمْ وَ اِذْ زَاغَتِ الْاَبْصَارُ وَ بَلَغَتِ الْقُلُوْبُ الْحَنَاجِرَ وَ تَظُنُّوْنَ بِاللّٰهِ الظُّنُوْنَا Open ayah 33:10 in the Quran reader

جب دشمن اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے ، جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں ، کلیجے منہ کو آگئے اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے

هُنَالِكَ ابْتُلِیَ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ زُلْزِلُوْا زِلْزَالًا شَدِیْدًا Open ayah 33:11 in the Quran reader

اس وقت ایمان لا نے والے خوب آزمائے گئے اور بری طرح ہلا مارے گئے۔

وَ اِذْ یَقُوْلُ الْمُنٰفِقُوْنَ وَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗۤ اِلَّا غُرُوْرًا Open ayah 33:12 in the Quran reader

یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو وعدے ہم سے کیے تھے ، وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے

وَ اِذْ قَالَتْ طَّآئِفَةٌ مِّنْهُمْ یٰۤاَهْلَ یَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَارْجِعُوْا١ۚ وَ یَسْتَاْذِنُ فَرِیْقٌ مِّنْهُمُ النَّبِیَّ یَقُوْلُوْنَ اِنَّ بُیُوْتَنَا عَوْرَةٌ١ۛؕ وَ مَا هِیَ بِعَوْرَةٍ١ۛۚ اِنْ یُّرِیْدُوْنَ اِلَّا فِرَارًا Open ayah 33:13 in the Quran reader

جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ ” اے یثرب کے لوگو ، تمہارے لیے اب ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ، پلٹ جاؤ “۔ جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبی ﷺ سے رخصت طلب کر رہا تھا کہ ” ہمارے گھر خطرے میں ہیں ، حالانکہ وہ خطرے میں نہ تھے ، دراصل وہ (محاذ جنگ سے) بھاگنا چاہتے تھے

اذ جاء وکم من فوقکم ۔۔۔۔۔۔ یریدون الا فرارا (10 – 13) یہ وہ ہولناک صورت حال ہے جس نے مدینہ کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ ہر شخص خوف اور کرب میں مبتلا تھا۔ اس صورت حال سے کوئی ایک شخص بھی غیر متاثر نہ تھا۔ قریش اور اس کے حوالی و موالی ، بنی غطفان اور ان کے زیر اثر قبائل ، اور یہودیاں بنی قریظہ ہر طرف سے اٹھ آئے تھے ، اوپر سے بھی اور نیچے سے بھی۔ ایسے حالات تھے کہ ان کا خوف ایک دل اور دوسرے دل میں جدا نہ تھا۔ اختلاف جو تھا وہ ردعمل میں تھا۔ اللہ کے بارے میں یقین میں اختلاف تھا۔ طرزعمل ، اقدار ، اسباب کے تصور اور نتائج کے ظہور میں اختلاف تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ایک ہمہ گیر آزمائش تھی اور اس نے مومنین اور منافقین میں بالکل جدائی کردی۔ آج ہم جب اپنے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو ہم اسی موقف میں کھڑے ہیں۔ وہی حالات ہیں ، وہی تاثرات ہیں ، وہی خلجانات ہیں ، وہی حرکات ہیں اور ان نصوص کے شیشے کے اندر ہمیں اپنے چہرے صاف صاف نظر آتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں اور یہ منظر ہمیں صاف صاف نظر آتا ہے۔ اذجآء وکم من فوقکم ومن اسفل منکم (33: 10) ” جب دشمن اوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے “۔ اور اس کے بعد لوگوں پر اس موقف کے اثرات۔ واذ زاغت الابصار وبلغت القلوب الحناجر (33: 10) ” جب خوف کے مارے آنکھیں پتھرا گئیں اور کلیجے منہ کو آنے لگے “۔ یہ ایک نہایت ہی مکمل تصویر ہے اس شخص کی جو انتہائی تنگی ، خوف اور کرب میں مبتلا ہو۔ اس تصویر میں چہرے کی حالت اور دلوں کی حرکت دونوں کو دکھایا گیا ہے۔ وتظنون باللہ الظنونا (33: 10) ” اور تم اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے “۔ ان گمانوں کی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ ان کو مجمل چھوڑ کر تمام حالات اضطراب ، تمام خلجانات اور تمام برے احساسات کو اس میں شامل کردیا گیا ہے۔ مختلف دلوں میں ظنون کی تفصیل مختلف ہوگی۔ اب ذرا اس خوفناک صورت حالات کو مزید کھولا جاتا ہے۔ اور اس کے خدوخال اور اس کی حرکات کو سامنے لایا جاتا ہے۔ ھنالک ابتلی المومنون وزلزلوا زلزالا شدیدا (33: 11) ” اس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بری طرح ہلا مارے گئے “۔ وہ خوف جو اہل ایمان کو ہلا مارتا ہے ، لازم ہے کہ وہ بہت ہی شدید اور ہولناک ہوگا۔ محمد ابن مسلمہ وغیرہ نے روایت کی کہ خندق میں ہماری رات بھی دن ہوتا تھا جبکہ مشرکین نے اپنے لیے باری مقرر کر رکھی تھی ۔ ایک دن ابوسفیان ابن حرب اپنے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کے لیے آتا ، ایک دن خالد ابن ولید اپنے ساتھیوں سے میت آتا ، اور ایک دن عمروابن عاص آتا ، ایک دن ہبیرہ ابن ابو وھب آتا اور ایک دن عکرمہ ابن ابو جہل آتا اور ایک دن ضرار ابن الخطاب۔ یہاں تک کہ یہ مصیبت بہت بڑھ گئی اور لوگوں کے اندر شدید خوف پھیل گیا۔ مقریزی نے اپنی کتاب امتاع الاسماع میں مسلمانوں کے حال کی تصویر کشی یوں کی ہے : ” مشرکین نے صبح کے تڑکے اچانک حملہ کیا اور حضور اکرم ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو تیار کیا۔ اس دن رات کے ایک حصے تک لڑائی رہی اور رسول اللہ ﷺ اور مومنین میں سے کوئی بھی اپنی جگہ سے ہل نہ سکا۔ حضور ﷺ ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی نماز نہ پڑھ سکے۔ آپ ﷺ کے ساتھی یہ کہنے لگے رسول ﷺ خدا ہم نے نماز نہیں پرھی۔ اس پر رسول ﷺ اللہ نے فرمایا ، خدا کی قسم میں نے بھی نماز نہیں پڑھی۔ یہاں تک کہ اللہ نے مشرکین کو ہٹا دیا۔ دونوں فریق اپنے اپنے ٹھکانوں پر چلے گئے۔ اسید ابن حضیر خندق کے کنارے پر دو سو آدمیوں کو لے کر کھڑے ہوئے ، خالد بن ولید کی سرکردگی میں مشرکین نے حملہ کردیا ، یہ اچانک حملہ کرنا چاہتے تھے ۔ تھوڑی دیر انہوں نے مقابلہ کیا۔ وحشی نے طفیل ابن نعمان ، ابن جنا انصاری سلمی کو ایک نیزے کے ساتھ مارا۔ اسے اسی طرح قتل کردیا جس طرح احد میں حضرت حمزہ کو قتل کیا تھا۔ اس دن حضور اکرم ﷺ نے فرمایا ” مشرکوں نے ہمیں درمیانی نماز ، نماز عصر سے مشغول رکھا اللہ ان کے دلوں اور پیٹوں کو آگ سے بھر دے “۔ یوں ہوا کہ مسلمانوں کے دو دستے رات کو نکلے۔ وہ آپس میں الجھ پڑے کسی کو علم نہ تھا کہ وہ آپس میں لڑ رہے ہیں۔ ہر ایک کا خیال تھا کہ ہم دشمن سے لڑ رہے ہیں۔ ان کے درمیان بھی قتل ہوئے اور بعض لوگ زخمی ہوئے۔ اس کے بعد انہوں نے اسلامی شعار سے پکارا۔ کو ڈورڈ تھا۔ (حم لا ینصرون) چناچہ وہ رکئے۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” تمہارا زخمی ہونا اللہ کے لیے ہے اور جو قتل ہوگیا وہ شہید ہے “۔ مسلمانوں پر شدید مشکلات اس وقت آئیں جب وہ خندق کے دہانے پر مصروف جنگ تھے۔ ادھر بنو قریظہ کی طرف سے خبریں آرہی تھیں کہ وہ وعدہ خلافی پر مائل ہوگئے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کو ہر وقت یہ ڈر رہتا تھا کہ کسی وقت بھی مشرکین کا لشکر خندق کی جانب سے حملہ آور ہو سکتا ہے اور پیچھے سے یہودی حملہ کرسکتے ہیں اور وہ ان عظیم لشکروں کے درمیان ایک قلیل تعداد میں ہیں۔ یہ لشکر آتے اس لیے ہیں کہ مسلمانوں کو بیخ وبن سے اکھاڑ پھینکیں اور یہ معرکہ فیصلہ کن اور آخری معرکہ ہو۔ یہ حالات اس کے علاوہ تھے۔ مدینہ میں منافقین سازشیں کر رہے تھے اور افواہیں پھیلا رہے تھے خود اسلامی صفوں میں بددلی پھیلائی جا رہی تھی۔ واذ یقول المنفقون ۔۔۔۔۔ الا غرورا (33: 12) ” یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا ، صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو وعدے ہم سے کیے تھے وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے “۔ ان شدید حالات میں ان لوگوں کو بھی موقع مل گیا کہ وہ اپنے خبث باطن کا اظہار کردیں جبکہ مسلمان شدید کرب میں مبتلا تھے اور کلیجے منہ کو آرہے تھے۔ ایسے حالات میں کوئی نہ تھا جو ان کو ملامت کرتا۔ ان لوگوں کو مسلمانوں کی توہین اور تذلیل اور شکوک پھیلانے کا موقع مل گیا۔ اور انہوں نے برملا کہنا شروع کردیا کہ اللہ اور رسول کے وعدے جھوٹے تھے حالانکہ اللہ اور رسول ﷺ کے وعدے تو پورے والے تھے۔ یہ منافقین یہ باتیں اس لیے کرتے تھے کہ ان حالات میں ان پر گرفت کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ کیونکہ بظاہر حالات ایسے تھے کہ ان کی بات درست معلوم ہوتی تھی۔ وہ اپنے خیال میں درست مو قف پر تھے ۔ مسلمان جن ہولناک حالات سے دوچار تھے ان کی وجہ سے ان منافقین کے چہروں پر ایک جو مہین پردہ تھا ، جس کی وجہ سے وہ رکھ رکھاؤ کرتے تھے وہ بھی اتر گیا۔ اور ان کے نفوس نے ان کو اس پر آمادہ کردیا کہ وہ اس ظاہری رواداری کو بھی ختم کردیں۔ چناچہ انہوں نے اپنے حقیقی شعور کا اظہار کردیا اور رکھ رکھاؤ کا پردہ چاک کردیا۔ اس قسم کے منافقین اور افواہیں پھیلانے والے ہر جماعت میں ہوتے ہیں اور مشکل حالات میں ان کا موقف بھی ایسا ہوتا ہے جیسا کہ ان کے بھائیوں کا موقف ہوتا ہے۔ لہٰذا اس قسم کے لوگ تمام نسلوں میں ایک مکرر نمونہ ہوتے ہیں۔ زمان و مکان کی قید کے بغیر اس قسم کے لوگ ہر جماعت میں ہوتے ہیں۔ واذ قالت طائفۃ ۔۔۔۔۔ لکم فارجعوا (33: 13) ” جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا : اے اہل یثرب ، تمہارے لیے اب ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ، پلٹ چلو “۔ اس کی کوشش یہ تھی کہ لوگ صف بندی کو ترک کرکے گھروں میں بیٹھ جائیں اور یہ کہہ دیں کہ خندق کے سامنے اس طرح صف بندی کر کے کھڑے رہنے کا کیا موقع و محل ہے۔ پیچھے سے گھروں کو خطرہ ہے۔ یہ ایک ایسی دعوت تھی جہاں سے لوگ متاثر ہو سکتے تھے کیونکہ عورتیں اور بچے خطرے میں تھے۔ خطرہ حقیقی تھا۔ خوف ہر طرف سے لاحق تھا اور حالات بہت ہی مخدوش تھے۔ کسی کا دل قرار نہ پکڑتا تھا۔ ویستاذن فریق ۔۔۔۔۔ عورۃ (33: 13) ” جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبی ﷺ سے اجازت مانگے کہ ہمارے گھر خطرے میں ہیں “۔ یعنی ہمارے گھر دشمن کے سامنے کھلے ہیں اور ان کا کوئی دفاع نہیں ہے۔ لیکن قرآن یہاں اصل حقیقت بھی کھول دیتا ہے : وما ھی بعورۃ (33: 13) ” حالانکہ وہ خطرے میں نہ تھے “۔ چناچہ یہاں صاف صاف کہہ دیا جاتا ہے کہ یہ بزدل ہیں۔ بھاگنا چاہتے ہیں اور اس کے لیے یہ جھوٹے حیلے گھڑتے ہیں۔ ان یریدون الا فرارا (33: 13) ” دراصل وہ بھاگنا چاہتے ہیں “۔ روایات میں آتا ہے کہ نبی حارث نے اوس ابن قیطی کو رسول اللہ ؐ کے پاس بھیجا اور یہ کہا کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں اور انصاریوں میں سے کسی کا گھر ہمارے گھروں کی طرف نہیں ہے۔ ہمارے اور خطفان کے درمیان کوئی نہیں ہے جو ان کو روک سکے۔ تو آپ ہمیں اجازت دیں کہ ہم گھروں کی طرف لوٹ جائیں تاکہ گھروں اور عورتوں کی حفاظت کرسکیں۔ حضور ﷺ نے ان کو اجازت دے دی۔ یہ بات سعد ابن معاذ تک پہنچی تو انہوں نے مشورہ دیا کہ حضور ﷺ ان کو اجازت نہ دیں کیونکہ ہمیں اور ان کو جب بھی کوئی مشکل پیش آتی ہے ، انہوں نے ایسا ہی کیا ہے خدا کی قسم ! چناچہ حضور ﷺ نے ان کو واپس کردیا۔ غرض قرآن ان کو ملامت کرتا ہے کہ یہ محض فرار چاہتے ہیں ، وہ تھے ہی ایسے۔ یہاں سیاق کلام قدرے رک جاتا ہے۔ ایک بہترین تصویر پر غور کرنے کے لیے جس میں اس وقت کے خوفناک اور پریشان کن حالات اور باہم حیلہ بازی کے موقف کی تصویر کشی کی گئی ہے تاکہ ان بیمار دلوں والے منافقین کی نفسیاتی تصویر بھی دکھا دی جائے۔ یہ ان کی داخلی تصویر ہے اور یہ حالت ان کی اس لیے ہے کہ ان کا عقیدہ اور نظریہ کمزور ہے۔ یہ بزدل ہیں اور اسلامی صفوں سے یہ لوگ ایک معمولی بہانہ اور عذر کی وجہ سے بھی بھاگنے کے لئے تیار ہوئے ہیں۔ یہ کسی موقف پر جمنے والے نہیں ہیں اور نہ ہی یہ اس سلسلے میں کوئی رکھ رکھاؤ کرنے والے ہیں۔
Ayah 33:14

وَ لَوْ دُخِلَتْ عَلَیْهِمْ مِّنْ اَقْطَارِهَا ثُمَّ سُئِلُوا الْفِتْنَةَ لَاٰتَوْهَا وَ مَا تَلَبَّثُوْا بِهَاۤ اِلَّا یَسِیْرًا Open ayah 33:14 in the Quran reader

اگر شہر کے اطراف سے دشمن گھس آئے ہوتے اور اس وقت انہیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی تو یہ اس میں جا پڑتے اور مشکل ہی سے انہیں شریک فتنہ ہونے میں کوئی تامل ہوتا

ولو دخلت علیھم ۔۔۔۔۔۔ الا یسیرا (14) یہ ہے ان منافقین کی اندرونی تصویر۔ دشمن ابھی تو مدینہ سے باہر ہے۔ ابھی تو وہ شہر کے اندر گھسنے نہیں پایا۔ اگرچہ حالات بہت ہی خوفناک تھے لیکن ابھی تو حملہ آور باہر ہی پڑے تھے۔ کوئی خطرہ ابھی واقع نہ ہوا تھا ۔ اگر لشکر مدینہ کے اطراف سے حمہ آور ہوجاتا اور پھر سئلوا الفتنۃ (33: 14) ” پھر ان کو فتنے کی دعوت دی جاتی یعنی ان سے مطالبہ کیا جاتا کہ تم مرتد ہوجاؤ تو یہ لوگ فوراً مرتد ہوجاتے اور کچھ دیر نہ کرتے اور نہ ہی کوئی تردد کرتا۔ الا قلیلا یعنی اگر دیر کرتے تو تھوڑی ہی دیر کرتے یا ان میں سے قلیل لوگ تردد کرتے۔ یعنی مرتد ہونے سے قبل کچھ دیر کے لیے سوچتے ۔ یہ ہے نقشہ ڈھیلے عقیدے اور نظریہ کا ہے۔ یہ گہری کمزوری ہے اس کے ساتھ یہ مقابلہ نہیں کرسکتے۔ یوں قرآن مجید ان کی حقیقت کا اظہار کرتا ہے اور ان کی اندرونی کیفیت سے پردہ اٹھا دیتا ہے اور اس کے بعد ان پر الزام لگایا جاتا ہے کہ انہوں نے عہد توڑ دیا اور وعدے کے خلاف ورزی کردی۔ یہ عہد کس کے ساتھ تھا ؟ یہ عہد انہوں نے اللہ کے ساتھ کیا تھا کہ بھاگیں گے نہیں۔ ان کے ساتھ یہ پہلے بھی ہوچکا ہے۔
Ayah 33:15

وَ لَقَدْ كَانُوْا عَاهَدُوا اللّٰهَ مِنْ قَبْلُ لَا یُوَلُّوْنَ الْاَدْبَارَ١ؕ وَ كَانَ عَهْدُ اللّٰهِ مَسْئُوْلًا Open ayah 33:15 in the Quran reader

ان لوگوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ یہ پیٹھ نہ پھیریں گے ، اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہی تھی

ولقد کانوا عاھدوا ۔۔۔۔۔۔ عھد اللہ مسئولا (15) ابن ہشام نے ابن اسحاق کی روایت اپنی سیرۃ میں نقل کی ہے کہ یہ لوگ بنو حارثہ تھے۔ یہی لوگ تھے جو احد کے دن بھی بھاگنا چاہتے تھے اور بنو مسلمہ اور ان دونوں نے واپسی کا فیصلہ کرلیا تھا ۔ لیکن بعد میں انہوں نے اللہ کے ساتھ عہد کرلیا تھا کہ وہ ایسا ہرگز نہ کریں گے۔ یہاں یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ تم نے خود یہ عہد اللہ کے ساتھ کیا تھا کہ آئندہ ایسا نہ کریں گے۔ احد کے دن تو اللہ کے فضل و کرم سے وہ بچ گئے تھے۔ اللہ نے ان کو ثابت قدمی دے دی تھی۔ اور ان کو فرار کے نتائج سے بچا لیا تھا۔ ابتدائی زمانے میں جہاد کے اسباق میں سے یہ ایک سبق تھا لیکن آج تو تحریک اسلامی پر طویل دورگزر گیا ہے۔ کافی تجربات ہوگئے ہیں۔ اس لیے قرآن کریم ان پر سخت تبصرہ کرتا ہے۔ آج جب انہوں نے عہد توڑ دیا۔ آج وہ خطرے سے بچنے کیلئے اور خوف کی حالت سے بھاگنے کے لیے عہد توڑ چکے ، تو قرآن کریم ان کو بتاتا ہے اور ہر وقت بتاتا ہے کہ اسلامی نظریہ حیات میں اعلیٰ قدر کیا ہے اور اسلامی تصور حیات میں موت اور زیست کا تصور کیا ہے۔ کیا فرار اور نقص عہد زندگی کا ضمان ہے ؟
Ayahs 33:16–17

قُلْ لَّنْ یَّنْفَعَكُمُ الْفِرَارُ اِنْ فَرَرْتُمْ مِّنَ الْمَوْتِ اَوِ الْقَتْلِ وَ اِذًا لَّا تُمَتَّعُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 33:16 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ان سے کہو اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ نفع بخش نہ ہوگا۔ اس کے بعد زندگی کے مزے لوٹنے کا تھوڑا ہی موقعہ تمہیں مل سکے گا

قُلْ مَنْ ذَا الَّذِیْ یَعْصِمُكُمْ مِّنَ اللّٰهِ اِنْ اَرَادَ بِكُمْ سُوْٓءًا اَوْ اَرَادَ بِكُمْ رَحْمَةً١ؕ وَ لَا یَجِدُوْنَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَلِیًّا وَّ لَا نَصِیْرًا Open ayah 33:17 in the Quran reader

ان سے کہو کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہو۔ اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر تم پر مہربانی کرنا چاہے۔ اللہ کے مقابلے میں تو یہ لوگ کوئی حامی و مددگار نہیں پاسکتے ہیں

قل لن ینفعکم ۔۔۔۔۔۔ ولیا ولا نصیرا (16 – 17) حقیقت یہ ہے کہ تمام واقعات اللہ کے نظام قضا و قدر کے مطابق وقوع پذیر ہوتے ہیں ۔ نظام قضا و قدر ان واقعات و نتائج کو آگے بڑھاتا جاتا ہے اور ہر معاملہ اس نظام کے مطابق انجام کو پہنچتا ہے۔ موت اور قتل ایک تقدیر ہے ، اس سے تو کوئی قرار ممکن نہیں ہے ۔ یہ وقت پر آتی ہے۔ ایک لحظہ پہلے اور بعد میں نہیں آتی۔ فرار کی وجہ سے موت موخر نہیں ہوتی۔ اگر کوئی جنگ سے بھاگ گیا تو اپنی موت مرجائے گا جس کا وقت بہت قریب ہے۔ دنیا کا تو ہر عرصہ قریب ہی ہے۔ نیز دنیا کا ہر سازوسامان بھی قلیل ہوتا ہے۔ بچانے والا کوئی نہیں ہے صرف یہ کہ اللہ کی مشیت کسی کی موت کی راہ میں حائل ہوجائے۔ یہ اللہ ہی ہے جو کسی کے بارے میں برائی کا فیصلہ کرتا ہے اور کسی کے بارے میں اچھائی کا فیصلہ کرتا ہے۔ اللہ کے سوا کوئی والی اور مددگار نہیں ہے۔ کوئی ایسا نہیں ہے جو کسی کو تقدیر الٰہی سے بچالے۔ لہٰذا سپردگی ، سپردگی ہے ، اطاعت ، اطاعت ہے ، وفا ، وفا ہے ، خواہ وہ سہولیات کے دور میں ہو یا مشکلات کے دور میں۔ تمام معاملات اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔ اللہ پر توکل کرنا چاہئے۔ وہ جو چاہتا ہے ، کرتا ہے۔ اب بات کا رخ ان لوگوں کی طرف مڑ جاتا ہے جو جنگ میں رکاوٹیں ڈالتے ہیں جو جہاد سے لاپرواہ ہوکر بیٹھ جاتے ہیں اور جو دوسروں کو بھی جہاد سے روکتے ہیں اور کہتے ہیں۔ لا مقام لکم فارجعوا (33: 13) ” تمہارے ٹھہرنے کی کوئی جگہ نہیں ہے ، لوٹ جاؤ “۔ اور ان کی عجیب تصویر یہاں کھینچی جاتی ہے۔ یہ تصویر سچی تصویر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین کارٹون ہے اور اس قسم کے لوگ ہر دور میں پائے جاتے ہیں ، بزدل ، پیچھے ہٹنے والے ، بہت چیخنے اور چلانے والے ، شدید حالات میں جزع و گزع کرنے والے اور پر امن حالات میں تیز و طرار بات کرنے والے ، ہر بھلائی کے معاملے میں کنجوس ، جدوجہد سے فراری۔ اگر ذرا بھی ڈر کا خطرہ ہو ، اگرچہ دور ہو تو ایک دم مضطرب ہونے والے۔ قرآن کا انداز تعبیر ایسا دلکش ہے کہ اس تصویر کے کسی رنگ کو بدلا نہیں جاسکتا۔ ذرا خود قرآنی رنگ میں پڑھئے :
Ayah 33:18

قَدْ یَعْلَمُ اللّٰهُ الْمُعَوِّقِیْنَ مِنْكُمْ وَ الْقَآئِلِیْنَ لِاِخْوَانِهِمْ هَلُمَّ اِلَیْنَا١ۚ وَ لَا یَاْتُوْنَ الْبَاْسَ اِلَّا قَلِیْلًاۙ Open ayah 33:18 in the Quran reader

اللہ تم میں سے ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جنگ کے کام میں) رکاوٹیں ڈالنے والے ہیں ، جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ” آؤ ہماری طرف جو لڑائی میں حصہ لیتے بھی ہیں تو بس نام گنانے کو

قد یعلم اللہ المعوقین ۔۔۔۔۔۔ ما قتلوا الا قلیلا (18 – 20) ” “۔ جو لڑائی میں حصہ لیتے بھی ہیں تو بس نام گنا نے کو ، جو تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں۔ خطرے کا وقت آجائے تو اس طرح دیدے پھرا پھرا کر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہو رہی ہے ، مگر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لیے تمہارے استقبال کو آجاتے ہیں۔ یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے ، اس لیے اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کر دئیے۔ اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ یہ سمجھ رہے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ پھر حملہ آور ہوجائیں تو ان کا جی چاہتا ہے کہ اس موقع پر کہیں صحرا میں بدوؤں کے درمیان جا بیٹھیں اور وہیں سے تمہارے حالات پوچھتے رہیں۔ تاہم اگر یہ تمہارے درمیان رہے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیں گے “۔ آغاز یوں ہوتا ہے کہ اللہ ان لوگوں کو اچھی طرح جانتا ہے جو لوگوں کو جنگ سے روکتے ہیں اور اس کی راہ میں روڑے اٹکاتے ہیں۔ جو اپنے بھائیوں کو مشورہ دیتے ہیں کہ جنگ میں شرکت نہ کریں ، گھروں میں بیٹھے رہیں۔ ولا یاتون الباس الا قلیلا (33: 18) ” “۔ یہ جہاد میں محض دکھا دے اور نام داخل کرنے کے لیے شریک ہوتے ہیں۔ اللہ کے نزدیک یہ معلوم لوگ ہیں اور ان کی مکاریاں بھی معلوم ہیں۔ اب اللہ اپنے معجزانہ قلم ان کے اور ان جیسے لوگوں کے خدوخال سے بڑی خوبصورتی سے رقم فرماتے ہیں :
Ayah 33:19

اَشِحَّةً عَلَیْكُمْ١ۖۚ فَاِذَا جَآءَ الْخَوْفُ رَاَیْتَهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ تَدُوْرُ اَعْیُنُهُمْ كَالَّذِیْ یُغْشٰى عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ۚ فَاِذَا ذَهَبَ الْخَوْفُ سَلَقُوْكُمْ بِاَلْسِنَةٍ حِدَادٍ اَشِحَّةً عَلَى الْخَیْرِ١ؕ اُولٰٓئِكَ لَمْ یُؤْمِنُوْا فَاَحْبَطَ اللّٰهُ اَعْمَالَهُمْ١ؕ وَ كَانَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرًا Open ayah 33:19 in the Quran reader

یہ تمہارا ساتھ دینے میں بہت بخلیل ہیں خطرے کا وقت آجائے تو دیدے پھرا پھرا کر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہو رہی ہو مگر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو یہی تمہارے استقبال میں قینچی کی طرح تیز زبانوں کے ساتھ آجاتے ہیں مال کے لئے بہت لالچی ہیں یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لاتے اس لیے اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے

اشحۃ علیکم (33: 19) ” “۔ ان کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف بغض اور دشمنی بھری ہوئی ہے۔ یہ مسلمانوں کے ساتھ جہاد میں بھی بخیل ہیں ، مالی امداد میں بھی بخیل ہیں اور اچھی نیت اور اچھی خواہشات میں بھی بخیل ہیں۔ فاذا جآء الخوف ۔۔۔۔۔ علیہ من لموت (33: 19) ” “۔ یہ ایک واضح تصویر ہے جس کے خدوخال واضح ہیں ، جس کے اعضاء متحرک ہیں ، لیکن ان خصوصیات کے ساتھ ساتھ یہ تصویر مضحکہ انگیز ہے۔ اس سے ان کی بزدلی ٹپکتی پڑتی ہے۔ اس قدر بزدل کہ مارے خوف کے ان کے اعضاء کانپ رہے ہیں اور ان کے پورے جسم پر رعشہ طاری ہے۔ لیکن جب خوف چلا جاتا ہے تو ان کی تصویر زیادہ مضحکہ انگیز ہوجاتی ہے۔ فاذا ذھب الخوف سلقوکم بالسنۃ حداد (33: 19) ” “۔ یہ سوراخوں سے نکل آتے ہیں ، ان کے آوازیں بلند ہوجاتی ہیں حالانکہ پہلے ان پر رعشہ طاری تھا۔ ان کی گردن کی رگیں پھول جاتی ہیں اور وہ اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں۔ پہلے تو سکڑ گئے تھے ، اب پھول گئے اور بغیر شرم و حیاء کے لمبے لمبے دعوے کرنے لگے کہ ہم نے یہ یہ مشقتیں برداشت کیں۔ یہ یہ جنگیں کیں اور یہ یہ فضائل اعمال کیے اور اس قدر شجاعت اور بہادری دکھائی۔ ۔۔ اور پھر یہ لوگ۔ اشحۃ علی الخیر (33: 19) ” “۔ یہ کسی بھلائی کے کام میں کچھ خرچ نہیں کرتے۔ نہ اپنی قوت ، نہ اپنا عمل ، نہ اپنی دولت اور نہ اپنی جان ۔۔۔ حالانکہ وہ بہت بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں ۔ ان کی زبان تیز ہے اور اپنے آپ کو بہت ہی بڑا سمجھتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ کسی ایک قوم قبیلے تک محدود نہیں ہیں۔ یہ ہمیشہ ہر معاشرے میں رہتے ہیں۔ اس قسم کے لوگ بڑے بہادر ، فصیح اللسان اور چیلنج کرنے والے ہوتے ہیں بشرطیکہ وہاں امن ہو۔ اور اگر خوف اور شدید خطرہ ہو تو یہ بخیل ، بزدل ، خاموش اور پیچھے پیچھے رہنے والے۔ یہ لوگ ہر بھلائی اور ہر خیر کے معاملے میں بہت ہی بخیل ہوتے ہیں بس زبانی کلامی یہ ہر کام میں حصہ لیتے ہیں۔ اولئک لم یومنوا فاحبط اللہ اعمالھم (33: 19) ” “۔ ان کی منافقت کا پہلا سبب یہ ہے کہ ایمان ان کے دلوں ہی میں نہیں اترا اور ایمان کی روشنی میں انہوں نے اپنا راستہ تلاش کیا۔ نہ یہ لوگ ایمان کے طریقوں پر چلنے والے ہیں ۔ اس لیے اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دئیے ہیں اور یہ کامیاب نہیں کیونکہ کامیابی کا اصلی مواد ہی ان کے پاس نہیں ہے۔ وکان ذلک علی اللہ یسیرا (33: 19) ” “۔ اللہ کے لیے کوئی کام مشکل نہیں ، بس سمجھ لو کہ ان کے اعمال ضائع ہوگئے۔ رہا یہ کہ یوم الاحزاب میں ان کی حالت کیا تھی اور ان کی سوچ کیا تھی۔
Ayah 33:20

یَحْسَبُوْنَ الْاَحْزَابَ لَمْ یَذْهَبُوْا١ۚ وَ اِنْ یَّاْتِ الْاَحْزَابُ یَوَدُّوْا لَوْ اَنَّهُمْ بَادُوْنَ فِی الْاَعْرَابِ یَسْاَلُوْنَ عَنْ اَنْۢبَآئِكُمْ١ؕ وَ لَوْ كَانُوْا فِیْكُمْ مَّا قٰتَلُوْۤا اِلَّا قَلِیْلًا۠ Open ayah 33:20 in the Quran reader

سمجھ رہے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں اور اگر وہ پھر حملہ آور ہوجائیں تو ان کا جی چاہتا ہے کہ اس موقع پر کہیں صحرا میں بدوؤں کے درمیان جا بیٹھیں اور وہیں سے تمہارے حالات پوچھتے رہیں تاہم اگر یہ تمہارے درمیان رہے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیں گے

یحسبون الاحزاب لم یذھبوا (33: 20) ” “۔ گویا یہ لوگ ابھی تک کانپ رہے ہیں ، ابھی تک جنگ سے چھپ رہے ہیں ، لوگوں کو روک رہے ہیں ، ان کو یقین ہی نہیں آرہا ہے کہ احزاب تو بھاگ گئے ہیں اور خوف ختم ہوگیا ہے اور امن وامان لوٹ آیا ہے۔ وان یات الاحزاب ۔۔۔۔۔ عن انبآئکم (33: 20) ” “۔ کیا سنجیدہ مزاح ہے ان کے ساتھ اور کس قدر بھونڈی تصویر ہے ان لوگوں کی۔ یوں جس طرح کارٹون ۔ اگر دوبارہ احزاب حملہ آور ہوں تو یہ لوگ چاہیں گے کہ یہ اہل مدینہ ہی نہ ہوں اور دور کہیں بدو باشندے ہوجائیں اور مدینہ والوں کی زندگی اور ذمہ داریوں میں شریک ہی نہ ہوں۔ ان کو معلوم ہی نہ ہو کہ وہاں کیا ہو رہا ہے۔ اس کے بارے میں ان کو پتہ ہی نہ ہو اور دوسروں سے اہل مدینہ کے حالات اس طرح پوچھیں جس طرح اجنبی ، اجنبی کے بارے میں پوچھتا ہے اور ان کو اہل مدینہ سے کوئی ذاتی تعلق نہیں ہے اور یہ بزدل جان بچا کر نکل آتے ہیں۔ یہ لوگ ایسی مضحکہ خیز تمنائیں کرتے ہیں ، یہ معرکے سے دور ہیں اور اس معرکے میں ذاتی طور پر شریک نہیں ہیں نہ براہ راست یہ لوگ اس معاملے کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ یہ دور سے بھی ڈرتے ہیں اور اس قدر بعید ہوکر بھی جزع و فزع کرتے ہیں۔ ولو کانوا فیکم ما قتلوا الا قلیلا (33: 20) ” “۔ یہ آخری لائن ہے جس کے کھینچنے سے یہ تصویر مکمل ہوجاتی ہے۔ یہ ہے تصویر ان منافقین کی جو مدینہ طیبہ میں اٹھنے والی اس نئی اسلامی جماعت کے اندر رہتے تھے۔ ایسے ہی لوگ قیامت تک اٹھنے والی ہر تحریک میں شامل ہوجاتے ہیں۔ یہی ہر دور کے منافقین کے خدوخال ہوتے ہیں۔ یہ تصویر یہاں ختم ہوتی ہے اور اہل ایمان کے دل میں ان کی تحقیر ، ان سے نفرت اور ان سے دوری اچھی طرح بٹھا دی جاتی ہے اور یہ لوگ اللہ کے ہاں بھی ہلکے ہوجاتے ہیں اور لوگوں کی نظروں میں بھی گر جاتے ہیں۔ یہ تو تھا حال ان لوگوں کا جو منافق تھے۔ جن کے دلوں میں روگ تھا ، جو اسلامی صفوں میں بددلی پھیلاتے تھے۔ یہ تھی ان کی مکروہ تصویر ، لیکن جنگ احزاب کے شدید اور ہلا مارنے والے خوف اور بدتر حالات نے تمام لوگوں کو اس طرح مکروہ الصورت نہ بنا دیا تھا۔ ان تاریک اور کربناک حالات میں کچھ روشن چہرے بھی موجود تھے۔ ان ہلا مارنے والے حالات میں ایسے لوگ بھی تھے جو چٹان کی طرح مضبوط کھڑے تھے۔ جن کا اپنے اللہ پر پورا بھروسہ تھا۔ اللہ کے فیصلوں پر راضی تھے۔ ان کو یقین تھا کہ اللہ کی نصرت آئے گی باوجود اس کے کہ بظاہر حالات بہت ہی مایوس کن تھے اور ہر طرف خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔