47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 47:20–21

وَ یَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَوْ لَا نُزِّلَتْ سُوْرَةٌ١ۚ فَاِذَاۤ اُنْزِلَتْ سُوْرَةٌ مُّحْكَمَةٌ وَّ ذُكِرَ فِیْهَا الْقِتَالُ١ۙ رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْهِ مِنَ الْمَوْتِ١ؕ فَاَوْلٰى لَهُمْۚ Open ayah 47:20 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان والے ہیں وہ کہتے ہیں کہ کوئی سورت کیوں نہ نازل ہوئی سو جس وقت کوئی محکم سورت نازل ہوتی ہے اور اس میں جہاد کا ذکر ہوتا ہے تو جن لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے آپ ان لوگوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت کی بیہوشی طاری ہوگئی ہو، سو عنقریب ان کی کم بختی آنے والی ہے

طَاعَةٌ وَّ قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ١۫ فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ١۫ فَلَوْ صَدَقُوا اللّٰهَ لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْۚ Open ayah 47:21 in the Quran reader

ان کی اطاعات اور بات چیت معلوم ہے، پھر جب مضبوطی کے ساتھ حکم آگیا تو اگر یہ لوگ اللہ سے سچا وعدہ کرتے تو ان کیلئے بہت ہی بہتر ہوتا

1:۔ عبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ویقول الذین امنوا لولا نزلت سورة فاذا انزلت سورة محکمۃ “ (اور وہ لوگ کہتے ہیں جو ایمان لاتے ہیں کیوں نہیں اتاری گئی سورت پھر جب اتاری گئی محکم سورة یعنی ہر سورت جس میں جہاد کا حکم نازل کیا گیا تو ہو محکم سورة ہے اور منافقین سے قرآن کی (یہ سورت) سخت ہوتی ہے۔ 2:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) ” ویقول الذین امنوا “ کے بارے میں روایت کیا کہ ایمان والے لوگ کتاب اللہ کی طرف شوق رکھتے تھے اور اس بیان کی طرف جو اس پر اس بارے میں نازل ہوتا تھا جب کوئی ایس سورة نازل ہوتی جس میں قتال کا ذکر کیا جاتا اے محمد تو منافقین کو دیکھتا ہے (آیت) ” ینظرون الیک نظر المغشی علیہ من الموت، فاولی لھم “ (کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے ہیں جیسے کسی پر موت کی غشی طاری ہورہی ہو سو عنقریب ان کی کم بختی آنے والی ہو۔ یعنی یہ ڈراتا ہے ان کیلئے اللہ کی طرف سے۔ 3:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فاولی لھم “ یعنی یہ (ان کا) ڈرانا ہے۔ پھر کلام منقطع ہوگیا فرمایا (آیت ) ” طاعۃ وقول معروف “ (ان کی اطاعت اور بات چیت معلوم ہے) یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت اور بھلائی کی بات کہنا حقائق الامور کے وقت ان کے لئے بہتر ہے۔ 4:۔ الفریابی وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” طاعۃ وقول معروف “ سے مراد ہے کہ اللہ عزوجل نے اس کا منافقین کو حکم فرمایا اور (آیت ) ” فاذا عزم الامر “ کا معنی ہے جب مضبوطی کے ساتھ حکم آیا۔ 5:۔ الحاکم (رح) نے عبداللہ بن مغفل ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ پڑھتے ہوئے سنا (آیت ) ” فھل عسیتم ان تولیتم “ (سو اگر تم کنارہ کش رہو ) 6:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فھل عسیتم ان تولیتم “ (الآیہ) یعنی تم اس قوک کو کیسے دیکھتے ہو جو اللہ تعالیٰ کی کتاب سے پھرگئے کیا انہوں نے حرام خون کو نہیں بہایا اور رحموں کو قطع نہیں کیا اور رحمن کی نافرمانی نہیں کی۔ 7:۔ عبد بن حمید (رح) نے بکر بن عبداللہ مزنی (رح) سے (آیت ) ” فھل عسیتم ان تولیتم “ کے بارے میں روایت کیا کہ میرا خیال ہے کہ یہ آیت حروریہ کے بارے میں نازل ہوئی (حروری خارجیوں کا ایک گروہ تھا ) ۔ 8:۔ ابن المنذر والحاکم (رح) (وصححہ) نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ میں حضرت عمر ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا اچانک ایک چیخنے والے کو سنا عمر نے فرمایا اے یرفا دیکھ لو یہ آواز کیسی ہے اس نے جا کر دیکھا پھر آیا تو کہا کہ قریش کی ایک بچی کی ماں کو بیچا جا رہا ہے (اس لئے چیخ رہی ہے) عمر ؓ نے فرمایا مہاجرین اور انصار کو بلاؤ تھوڑی دیر میں گھر اور حجرہ بھر گیا حضرت عمر ؓ نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی تعریف بیان کرنے کے بعد فرمایا اما بعد کیا تم جانتے ہو کہ شریعت محمدیہ میں قطع رحمی کا کیا حکم ہے، صحابہ نے عرض کیا نہیں پھر عمر نے فرمایا اسی وجہ سے یہ تم میں پھیل چکی ہے پھر یہ (آیت) پڑھی ” فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم “ (سو اگر تم کنارہ کش رہو تو کیا تم کو یہ احتمال بھی ہے کہ تم دنیا میں فساد کرو گے اور آپس میں قطع تعلق کردو پھر فرمایا قطع رحمی اس سے زیادہ کیا ہوگی کہ تمہارے اندر کسی شخص کی ماں فروخت کی جائے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے فراخی عطا فرما رکھی ہے۔ حاضرین نے کہا پھر آپکی جو رائے ہو کیجئے۔ اس کے بعد حضرت عمر نے اطراف ملک میں لکھ بھیجا کہ کسی آزاد شخص کی ماں کو فروخت نہ کیا جائے یہ قطع رحمی ہے جو جائز نہیں ہے۔ رحم کی فریاد اور بارگاہ الہی سے جواب : 9:۔ عبد بن حمید (رح) والبخاری ومسلم والنسائی والحکیم الترمذی وابن جریر (رح) وابن حبان (رح) والحاکم (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پیدا فرمایا یہاں تک کہ جب ان سے فارغ ہوئے تو رحم کھڑا ہوگیا اور رحمن کی کمرکو پکڑ لیا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ٹھہر جا رحم نے کہا یہ مقام ہے آپ کی پناہ لینے کا قطع رحمی سے فرمایا ہاں کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ میں اس کو ملاؤں گا جو تجھ کو ملائے گا اور میں اس کا کاٹوں کا جو تجھ کو کاٹے گا رحم نے کہا کیوں نہیں فرمایا یہ تیرے لئے ہے پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم چاہو تو یہ پڑھ لو۔ (آیت ) ” فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم (22) اولٓئک الذین العنہم اللہ فاصمھم واعمی ابصارھم (23) افلا یتدبرون القرآن ام علی قلوب اقفالھا (24) (سو اگر تم کنارہ کش رہو تو کیا تم کو یہ احتمال بھی ہے کہ تم دنیا میں فساد مچادو اور آپس میں قطع قرابت کرو یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے اپنی رحمت سے دور کردیا پھر ان کو بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا) 10:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والبخاری والبیہقی (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رحم عرش کے ساتھ لٹکا ہوا ہے اور کہتا ہے جس نے مجھ کو ملایا اللہ بھی اس کو ملائیں گے اور جس نے مجھے کاٹا اللہ بھی اس کو کاٹ دیں گے۔ 11:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کے دن عرش کے نیچے رحم کے لئے زبان ہوگی وہ کہے گا اے میرے رب میں کاٹی گئی اے میرے رب ! میں ظلم کی گئی اے میرے رب مجھ سے برائی کی گئی اس کا رب اس کو جواب دیگا کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے میں اس کو ملاؤں گا جو تجھ کو ملائے گا اور میں اس کو کاٹوں گا جو تجھ کو کاٹے گا۔ 12:۔ البیہقی (رح) نے عبداللہ بن عمرو بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رحم کے لئے قیامت کے دن تیز زبان ہوگی (اور کہے گی) اے میرے رب اس کو ملائیے جس نے مجھے ملایا اور اس کو کا ٹئے جس نے مجھے کاٹا۔ 13:۔ عبدالرزاق (رح) ولبیہقی (رح) نے طاؤس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رحم رحمن میں سے ایک حصہ ہے وہ قیامت کے دن شور کرتے ہوئے عرش کے نیچے آئے گی تیز زبان سے بات کرے گی جس کی طرف وہ ملانے اشارہ کرے گی اللہ تعالیٰ اس کو ملالیں گے اور جس کی طرف کاٹنے کا اشارہ کرے گی اللہ تعالیٰ اس کو کاٹ دیں گے۔ 14:۔ البیہقی (رح) نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رحم عرش کے ساتھ لٹکا ہوا ہے اس کی تیز زبان ہوگی اور کہے گی اے اللہ اس کو ملائیے جس نے مجھ کو ملایا اور اس کو کا ٹئے جس نے مجھے کاٹا۔ 15:۔ ابن ابی شیبہ (رح) و ابوداؤد والترمذی والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں رحمن ہوں میں رحم کو پیدا کیا اور میں نے اپنے نام میں سے اس کا نام نکالا جس نے اس کو ملایا میں اس کو ملاؤں گا اور جس نے اس کو قطع کیا تو میں بھی اس کو قطع کردوں گا اور جس نے اس کو کاٹا میں بھی اس کو کاٹ دوں گا۔ قطعی رحمی کرنے کی سزاء 16:۔ البیہقی (رح) نے عبداللہ بن ابی روفی ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حلقہ بنا کر بیٹھے ہوئے تھے عرفہ کی شام کو آپ نے فرمایا ہم میں کسی آدمی کے لئے یہ حلال نہیں کرتے کہ وہ قطع رحمی کرے مگر یہ کہ وہ ہم سے کھڑا ہوجائے تو ایک نوجوان کے علاوہ کوئی نہ اٹھا جو حلقہ کے آخر میں بیٹھا ہو اتھا وہ اپنی خالہ کے پاس آیا تو اس نے پوچھا تو کس لئے آیا ؟ تو اس نے وہ بات بتائی جو نبی کریم ﷺ نے فرمائی پھر وہ لوٹ آیا اور اپنی جگہ میں بیٹھ گیا نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا تجھ کو کیا ہوا میں نے کسی کو نہیں دیکھا جو حلقہ سے کھڑا ہوا تیرے علاوہ تو اس نے آپ کو وہ کچھ بتایا جو اس نے اپنی خالہ سے کہا تھا۔ آپ نے فرمایا بیٹھ جا تو نے بہت اچھا کام کیا خبردار کیونکہ کسی قوم پر رحمت نازل نہیں ہوتی جس میں قطع رحمی کرنے والے ہوں۔ 17:۔ احمد والبیہقی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بنی آدم (یعنی انسان) کے اعمال ہر خمیس کی شام کو پیش کئے جاتے ہیں تو قطع رحمی کرنے والے کے اعمال کو قبول نہیں کیا جاتا۔ 18:۔ الحاکم (وصححہ) نے عمرو بن عبسہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے پاس سب سے پہلے آیا جب آپ کی بعثت ہوئی اور آپ مکہ میں تھے میں نے پوچھا آپ کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں نبی ہوں میں نے پھر پوچھا آپ کون سی چیز کے ساتھ بھیجے گئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا کہ تو اللہ کی عبادت کرے اور بتوں کو توڑ دے اور رشتہ داروں کے ساتھ نیکی اور احسان کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔ 19:۔ الحاکم (وصححہ) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا میں رحمن ہوں اور یہ رحم ہے جس نے اس کو ملایا میں اس کو ملاؤں گا اور جس نے اس کو کاٹا میں اس کو کاٹ دوں گا۔ 20:۔ الحاکم (وصححہ) نے سعید بن زید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رحم رحمن میں سے ایک شاخ ہے جس نے اس کو ملایا اللہ اس کو ملائیں گے اور جس نے اس کو کاٹا اللہ اس کو کاٹ دیں گے۔ 21:۔ البخاری ومسلم والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رحم اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک حصہ ہے جس نے اس کو ملایا اللہ اس کو ملائیں گے اور جس نے اس کو کاٹا اللہ تعالیٰ اس کا کاٹ دیں گے۔ 22:۔ ابن ابی شیبہ (رح) و ابوداؤد والترمذی والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے عبداللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ رحم کرنے والوں پر رحمن رحم فرمائیں گے۔ تم زمین والوں پر رحم کرو آسمان والا تم پر رحم کرے گا رحم رحمن کی ایک شاخ ہے جس نے اس کو ملایا اللہ اس کو ملائیں گے اور جس نے اس کو کاٹا (اللہ) اس کو کاٹ دیں گے۔ 23:۔ الحاکم (رح) (وصححہ) نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ سرخ چمڑے کے خیمے میں تقریبا چالیس آدمیوں کے درمیان تشریف فرما تھے آپ نے فرمایا کہ بیشک تمہارے لئے فتوحال ہوں گے اور تم مدد کئے جاؤ گے اور تم ملک اور مال غنیمت حاصل کروگے بس جو شخص تم میں سے اس کو پائے تو اس کو چاہئے اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اس کو چاہئے کہ نیک کاموں کا حکم کرے اور برے کاموں سے روکے اور اس کو چاہئے کہ صلہ رحمی کرے اور اس آدمی کی مثال جو اپنی قوم کی غیر حق پر مدد کرتا ہے اس اونٹ کی طرح ہے جو کنویں میں گرتا ہے اور وہ اپنی دم کے ساتھ ہی گرتا ہے۔ 24:۔ الحاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ مجھے وصیت کیجئے آپ نے فرمایا نماز قائم کر زکوٰۃ ادا کر رمضان کے روزے رکھ اور بیت اللہ کا حج کر اور عمرہ کر اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کر اور صلہ رحمی کر اور مہمان کی عزت کر اور نیکی کا حکم کر اور برائی سے روک اور حق کے ساتھ رہے جہاں وہ رہے۔ جنت میں لے جانے والے چار اعمال : 25:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والحاکم (وصححہ) نے عبداللہ بن سلام ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سلام کو پھیلاؤ کھانا کھلاؤ اور صلہ رحمی کرو اور رات کو نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ 26:۔ الحاکم (رح) (وصححہ) والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن نصرنی الصلاۃ وابن حبان نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ جب میں آپ کو دیکھتا ہوں میرا دل خوش ہوجاتا ہے اور میری آنکھیں ٹھنڈی ہوجاتی ہیں۔ مجھے ہر چیز کے بارے میں بتائیے آپ نے فرمایا ہر چیز کو پانی سے پیدا کیا گیا پھر میں نے عرض کیا مجھے ایسے کام کے بارے میں بتائیے جب میں اس پر عمل کروں تو جنت میں داخل ہوجاؤں آپ ﷺ نے فرمایا سلام کو پھیلاؤ کھانا کھلاؤ صلہ رحمی کرو اور رات کو کھڑے ہوجاؤ (یعنی تہجد پڑھو) اور لوگ سو رہے ہوں پھر تو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ 27:۔ الطبرانی والحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عمر دیتے ہیں (یعنی عمر میں برکت ڈال دیتے ہیں) اور ان کے لئے مال کی کثرت کردیتے ہیں) حالانکہ ان کی طرف نہ دیکھا تھا جب سے ان کو پیدا فرمایا تھا ان سے دشمنی رکھتے ہوئے۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ یہ کیسے ہوا ؟ آپ نے فرمایا ان کی صلہ رحمی کرنے کی وجہ سے۔ 28:۔ الطیالسی والحاکم (وصححہ) والبیہقی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے نسبوں کو پہچانو (تاکہ) تم صلح رحمی کرو کیونکہ یہ رحم کے لحا ظ سے زیادہ قریب ہے جب تو رشتہ داری کو کاٹے اگرچہ وہ قریب کی رشتہ داری ہوگی اور اس کیلئے دوری نہیں ہے۔ جب اس کو ملائے گا جس نے اس کو ملایا اور اس کو کاٹے گا جس نے اس کو کاٹا۔ 29:۔ ابن ابی شیبہ والحاکم (وصححہ) نے عبداللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن رحم آئے گا چرخہ کے تکلے کی طرح چرپ زبانی سے بات کرے گا اس کو ملائے گا جس نے اس ملایا اور اس کو کاٹے گا جس نے اس کو کاٹا۔ 30:۔ البزار والبیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین چیزیں عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں رحم کہے گا اے اللہ میں آپ کے ساتھ ہوں میں رشتہ داری کو نہیں کاٹوں گی اور امانت کہے گی۔ اے اللہ میں آپ کے ساتھ ہوں میں خیانت نہیں کروں گی اور نعمت کہے گی اے اللہ میں آپ کے ساتھ ہوں میں ناشکری نہیں کروں گی ، 31:۔ الحکیم ترمذی عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین چیزیں عرش کے نیچے ہیں ایک قرآن مجید اس کا ظاہر بھی ہے اور باطن بھی ایسے بندوں پر حجت بنایا جائے گا اور رحم آواز دے گا اس کو ملائیے جس نے مجھے ملایا اور اس کو کا ٹئے جس نے مجھے کاٹا اور تیسری امانت ہے۔ 32:۔ الحکیم ترمذی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رحم عرش کے ساتھ معلق ہے جب اس کے پاس جوڑنے والا آتا ہے اس کو خوشخبری دیتی ہے اور اس سے بات کرتی ہے۔ اور جب اس کے پاس کاٹنے والا (یعنی قطع تعلق کرنے والا) آتا ہے تو اس سے پردہ کرلیتی ہے۔ 33:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) وابن حبان والطبرانی والبیہقی والحکیم الترمذی نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ رحم شاخ ہے جو عرش کے ساتھ معلق ہے۔ 34:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والطبرانی نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رحم ایک شاخ ہے جو رحمن کی کرم کو پکڑے ہوئے ہے اور اس سے اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہے۔ کہ میں اس کو ملاؤں گا جس نے تجھ کو ملایا اور میں اس کو کاٹ دوں گا جس نے تجھ کو کاٹا، جس نے تجھ کو ملایا یقینی بات ہے کہ اس نے مجھ کو ملایا اور جس نے تجھ کو کاٹا تو اس نے (گویا) مجھ کو کاٹا (یعنی میرے ساتھ تعلقات منقطع کرلئے ) ۔
Ayah 47:22

فَهَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَ تُقَطِّعُوْۤا اَرْحَامَكُمْ Open ayah 47:22 in the Quran reader

سو اگر تم والی بن جاؤ تو آیا تم کو یہ احتمال بھی ہے کہ دنیا میں فساد مچا دو اور آپس میں قطع رحمی کردو

جنت سے محروم افراد : 35:۔ الطبرانی والخرائطی نے مساوی الاخلاق میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیشہ شراب پینے والا جنت میں داخل نہ ہوگا اور والدین کی نافرمانی کرنے والا اور احسان جتانے والا ابن عباس ؓ نے فرمایا یہ بات ایمان والوں پر بھاری گزری کہ وہ گناہ کرتے رہیں یہاں تک کہ وہ کتاب اللہ کے مطابق عاق (یعنی نافرمانوں) میں پائے جاتے ہیں (آیت ) ” فھل عسیتم ان تولیتم ان تفسدوا فی الارض وتقطعوا ارحامکم، (اور فرمایا) ” ولا تبطلوا صدقتکم بالمن والاذی “ (اپنے صدقوں کو ضائع نہ کرو و احسان جتانے اور تکلیف دینے کے ساتھ )
Ayah 47:23

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فَاَصَمَّهُمْ وَ اَعْمٰۤى اَبْصَارَهُمْ Open ayah 47:23 in the Quran reader

یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے دور کردیا، پھر ان کو بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا

36:۔ احمد فی الزھد وعبد بن حمید (رح) وابن ابی حاتم (رح) عن سلمان موقوفا والحسن بن سفیان والطبرانی وابن عساکر سلمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب قول غالب آجائے اور عمل کو چھپالیا جائے اور زبانیں آپس میں الفت کرنے لگ جائیں اور دل مختلف ہوجائیں اور ہر رشتہ دار کی رشتہ داری سے قطع تعلق کیا جائے تو اس کے بارے میں فرمایا (آیت ) ” لعنہم اللہ فاصمہم واعمی ابصارھم “ (اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی ان کو بہرا کردیا اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔ 37:۔ ابن ابی الدنیا نے کتاب العلم میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب لوگ علم کو ظاہر کریں اور عمل کو ضائع کریں گے اور زبانوں کے ساتھ آپس میں دوستی کریں گے اور دلوں کے ساتھ ایک دوسرے سے بغض رکھیں گے اور قطع رحمی کریں گے اس وقت اللہ تعالیٰ ان پر لعنت بھیجیں گے اسی فرمایا (آیت) ” فاصمھم واعمی ابصارھم “
Ayah 47:24

اَفَلَا یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰى قُلُوْبٍ اَقْفَالُهَا Open ayah 47:24 in the Quran reader

سو کیا یہ لوگ قرآن میں غور نہیں کرتے یا دلوں پر ان کے قفل ہیں

اماقولہ تعالیٰ : (آیت ) ” افلا یتدبرون القران ام علی قلوب اقفالھا “۔ 38:۔ اسحاق بن راھویہ وابن جریر ابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے عروہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) ” افلا یتدبرون القران ام علی قلوب اقفالھا “ (کیا وہ قرآن میں غور وفکر نہیں کرتے یا دلوں پر تالے لگ رہے ہیں (یمن والوں میں سے ایک نوجوان نے کہا بلکہ اس پر تالے لگادیئے گئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی ان کو کھولیں گے یا اس کو کشادہ کردیں گے یہ سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا تو نے سچ کہا وہ نوجوان حضرت عمر ؓ کے دل میں رہا یہاں تک جب آپ ولی بنائے گئے آپ نے اس سے مدد طلب کی۔ 39:۔ الدار قطنی فی الافراد وابن مردویہ (رح) نے سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (آیت ) ” افلا یتدبرون القران ام علی قلوب اقفالھا “ اس وقت ایک نوجوان نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر تھا اس نے کہا بلکہ اللہ کی قسم ان پر تالے لگادیئے گئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی ہوں گے جو ان کو کھولیں گے جب عمر والی بنائے گئے تو انہیں نے اس نوجوان کے بارے میں پوچھا تاکہ وہ اس کو والی مقرر کریں تو کہا گیا کہ وہ وفات پاگئے۔ 40:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” افلا یتدبرون القران “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی قسم اللہ کی نافرمانی کرنے سے قرآن مجید میں رجز وتوبیخ موجود ہے۔ پھر فرمایا کہ قوم نے اس میں غور و نہیں کیا کہ اس کو سمجھتی لیکن انہوں نے قرآن کے متشابہات کو پکڑا اور اس کے سبب وہ ہلاک ہوگئے۔ 41:۔ ابن جریر (رح) وابن المنذر نے خالد بن معدان ؓ سے روایت کیا کہ نہیں ہے کوئی بندہ مگر اس کی چار آنکھیں ہوتی ہیں دو آنکھیں اس کے چہرہ میں ہیں جن سے وہ دیکھتا ہے اپنی دنیا میں اور ان چیزوں کو بھی دیکھتا ہے۔ جو اس کی معیشت کی اصلاح کرتی ہے اور دو آنکھیں اس کے دل میں ہوتی ہے جن کے ذریعہ وہ اپنے دین کو دیکھتا ہے اور جن چیزوں کا اللہ تعالیٰ نے غیب سے اس کا وعدہ فرمارکھا ہے۔ ان کو بھی دیکھتا ہے جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتے ہیں تو اس کی آنکھوں کو کھول دیتے ہیں جو اس کے دل میں ہوتی ہیں پس وہ ان کے ذریعہ ان چیزوں کو دیکھتا ہے جو غیب سے اس کے ساتھ وعدہ کیا گیا اور جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ برائی کا ارادہ فرماتے ہیں تو دل کو اسی حالت پر چھوڑ دیتے ہیں جس حالت میں وہ ہے اور آپ نے یہ (آیت ) ” ام علی قلوب اقفالھا “ پڑھی اور کوئی بندہ ایسا نہیں مگر اس کیلئے ایک چھپا ہوا شیطان ہوتا ہے جو اپنی گردن کو اس کی گردن پر مونڈھے ہوئے اس کی پیٹھ پر سوار ہوتا ہے پھر اپنے منہ کو اس کے دل پر رکھے ہوتا ہے (اور وسوسے اس دل میں ڈالتارہتا ہے) 42:۔ الدیلمی (رح) نے مسند الفردوس میں معاذ بن جبل ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول تک اور یہ (آیت) پڑھی ” ام علی قلوب اقفالھا “ 43:۔ الدیلمی نے مسند الفردوس میں معاذ بن جبل ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول تک اور یہ (آیت) پڑھی ” ام علی قلوب اقفالھا “ الدیلمی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ قرآن ان کے دلوں پر پرانا ہوجائے گا اور وہ گرتے ہی جائیں گے پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ ان کا گرانا کیا ہے ؟ فرمایا ان میں سے کوئی قرآن کو پڑھے گا اور اس کی ملامت اور لذت کو نہیں پائے گا ان میں سے کوئی ایک سورة کو شروع کرے گا اور اس کے ساتھ جو دوسرا ہے وہ اسے آخر سے پڑھے گا۔ اگر وہ عمل کریں گے تو کہیں گے اے ہمارین رب ہم کو بخش دے اور اگر وہ فرائض کو چھوڑ دیں گے تو کہیں گے ہم کو اللہ تعالیٰ عذاب نہیں دیں گے کیونکہ ہم اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے اس کا معاملہ امیدورخاء کا ہے اور ان میں سے کوئی خوف نہیں ہوگا۔ (آیت ) ” اولئک الذین لعنہم اللہ فاصمہم واعمی ابصارھم (23) افلا یتدبرون القران ام علی قلوب اقفالھا “ (24) ۔
Ayahs 47:25–28

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

بیشک جو لوگ پشت پھیر کر پلٹ گئے اس کے بعد کہ ان کیلئے ہدایت ظاہر ہوگئی تھی شیطان نے ان کے سامنے مزین کردیا اور انہیں تاخیر والی باتیں سمجھا دیں

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے ان لوگوں سے کہا جنہوں نے اللہ نے نازل کئے ہوئے فرمانک و ناپسند کیا کہ ہم بعض کاموں میں تمہاری اطاعت کریں گے اور اللہ ان کے خفیہ باتیں کرنے کو جانتا ہے

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

سو ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جانوں کو قبض کرتے ہوئے ان کے چہروں اور ان کے پشتوں پر مار رہے ہوں گے

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اس چیز کا اتباع کیا جس نے اللہ کو ناراض کیا اور انہوں نے اللہ کی رضا کو ناپسند کیا تو اللہ نے ان کے اعمال کو ضائع کردیا

1:۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین ارتدوا علی ادبارھم من بعد ما تبین لھم الھدی “ (بیشک جو لوگ پشت کے بل دین سے لوٹ گئے بعد اس کے کہ سیدھا راستہ ان کو صاف معلوم ہوگیا) فرمایا وہ اہل کتاب اللہ کے دشمن ہیں جو محمد ﷺ اور آپ کے اصحاب کی صفات کو پہچانتے ہیں جو اپنے پاس تو رات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں پھر وہ اس کا انکار کرتے ہیں (آیت ) ” الشیطن سول لھم “ (شیطان نے ان کو چقمہ دیا) یعنی ان کے لئے (برے اعمال) مزین کردیا (آیت ) ” ذلک بانہم قالوا للذین کرھوا مانزل اللہ “ (یہ اس سبب سے ہے کہ لوگوں نے ان اشخاص سے جو اللہ کے اتارے ہوئے احکام کو ناپسند کرتے ہیں) فرمایا کہ وہ منافق ہیں۔ 2:۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین ارتدوا علی ادبارھم من بعد ما تبین لھم الھدی “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہودی ہدایت کے راستے سے پھرگئے بعد اس کے کہ انہوں نے پہچان لیا کہ محمد ﷺ اللہ کے نبی ہیں (آیت ) ” الشیطن سول لھم، واملی لھم “ (کہ شیطان نے ان کو چقمہ دیا اور ان کو دور دور کی سوجھائی ہے) یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کو لمبی زندگی کی امید دلائی اس لئے کہ انہوں نے ان لوگوں کو کہا جنہوں نے اللہ کے اتارے ہوئے احکام کو ناپسند کیا پھر فرمایا کہ یہودی منافقین سے کہتے ہیں جو نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے تھے اور وہ اس کے ساتھ یہ مشورے چھپے ہوئے کرتے ہیں فرمایا (آیت ) ” سنطیعکم فی بعض الامر “ (کہ ہم بعض باتوں میں تمہارا کہنا مان لیں گے) یعنی ہم تمہاری ایک بات میں اطاعت کریں گے اور وہ جانتے تھے کہ محمد ﷺ نبی ہیں اور انہوں نے کہا کہ یہودیت بھی ایک دین ہے اور منافق یہودیوں کی ان باتوں میں اطاعت کریں گے جن کے بارے میں یہودیت نے ان کو حکم دیا ہے (آیت ) ” واللہ یعلم اسرارھم “ (اور اللہ تعالیٰ ان کے رازوں کو جانتا ہے) یعنی اللہ تعالیٰ ان کے مخفی مشوروں کو جانتا ہے۔ (آیت ) ” فکیف اذا توفتھم المآئکۃ یضربون وجوھہم وادبارھم “ (سو ان کا کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کی جانیں قبض کرتے ہوں گے اور ان کے چہروں اور پشتوں پر مارتے جاتے ہوں گے۔ یعنی موت کے وقت۔ 3:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ان الذین ارتدوا علی ادبارھم “ (سے لے کر) واللہ یعلم اسرارھم “ تک کہ ان سے اہل نفاق مراد ہیں۔ 4:۔ ابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یضربون وجوھہم وادبارھم “ کے فرشتے ان کے چہروں کو اور ان کی سرینوں کو ماریں گے لیکن اللہ تعالیٰ کریم ہیں کہ وہ کنایہ بیان فرماتے ہیں۔
Ayahs 47:29–32

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے خیال کیا ہے جن کو دلوں میں مرض ہے کہ اللہ ان کے کینوں کو نکالنے گا

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو آپ کو انہیں دکھا دیتے سو آپ انہیں ان کی نشانی سے پہچان لیتے اور آپ انہیں ضرور بالضروربات کرنے کے ڈھنگ سے پہچان لیں گے اور اللہ تمہارے اعمال کو جانتا ہے

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

اور بلاشبہ ہم ضرور تم کو آزمائیں گے تاکہ ہم تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو جان لیں اور تاکہ ہم اعمال کو جانچ لیں

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی اس کے بعد کہ ان کے لئے ہدایت ظاہر ہوگئی یہ لوگ اللہ کو کچھ بھی نقصان نہ پہنچا سکیں گے اور وہ عنقریب ان کے اعمال کو اکارت کردے گا

منافقین کے بارے میں آگاہی : 1:۔ ابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ام حسب الذین فی قلوبھم مرض ان لن یخرج اللہ اضغانہم “ (کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے یہ خیال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کبھی ان کی دلی عداوتوں کو ظاہر نہ کرے گا) یعنی کیا اللہ تعالیٰ ظاہر نہیں کرے گا ان کے خبث اور حسد کو جو ان کے دلوں میں ہے پھر اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بارے میں نبی اکرم ﷺ کو آگاہ فرمایا اور آپ ﷺ منافقین میں سے ہر آدمی کو ان کے نام لے کر پکارتے تھے۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) وابن عساکر (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولتعرفنہم فی لحن القول “ (اور آپ اس کو طرز کلام سے ضرور پہچان لیں گے) یعنی علی بن ابی طالب سے ان کے بغض کی وجہ سے۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں منافقین کو نہیں پہچانتے تھے مگر ان کے بغض کی وجہ سے علی بن ابی طالب ؓ سے۔ 4:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولنبلونکم حتی نعلم المجھدین “ (اور ہم ضرور تم کو آزمائیں گے یہاں تک کہ ہم مجاہدین کو جان لیں گے) پڑھی اور فرمایا اے اللہ ! ہم کو عافیت دے اور ہمارے گناہوں کو چھپا دے اور ہماری خبروں کو ظاہر نہ کیجئے۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا ” ولیبلونکم “ یاء کے ساتھ ” حتی یعلم “ یاء کے ساتھ ” ویبلوا “ یاء کے ساتھ اور واو کے نصب کے ساتھ (واللہ اعلم
Ayahs 47:33–34

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

اے ایمان والوں اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول اللہ ﷺ کی اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستہ سے روکا پھر وہ اس حال میں مرگئے کہ وہ کافر تھے تو ہرگز اللہ ان کی مغفرت نہ فرمائے گا

1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ جو شخص تم میں سے یہ طاقت رکھتا ہو کہ وہ اپنے نیک عمل کو ضائع نہ کرے برے عمل کے ساتھ تو اس کو چاہئے کہ ایسا کرے اور قوت نہیں ہے مگر اللہ کی مدد سے کیونکہ نیکی برائی کو مٹادیتی ہے۔ بلاشبہ اعمال کا مداران کے خاتمہ پر ہے 2:۔ عبد بن حمید (رح) ومحمد بن نصر المروزی فی کتاب الصلاۃ وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ؓ یہ گمان کرتے تھے کہ ” لا الہ الا اللہ “ کے ساتھ کوئی گناہ نقصان نہیں دیتا جیسے شرک کے ساتھ کوئی عمل نفع نہیں دیتا یہاں تک کہ یہ ( آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول ولا تبطلوا اعمالکم “ (اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو باطل نہ کرو) نازل ہوئی (اس پر) صحابہ کو خوف ہوا کہ گناہ سے نیک عمل باطل ہوتا ہے۔ عبد بن حمید (رح) کے الفاظ یوں ہیں کہ وہ بڑے گناہوں سے خوف کرنے لگے کہ وہ تمہارے اعمال کو ضائع کردیں گے۔ 3:۔ ابن نصر وابن جریر (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم محمد ﷺ کے اصحاب کی جماعت یہ خیال کرتے تھے کہ نیکیوں میں سے ہر چیز قبول ہوجاتی ہے یہاں تک کہ یہ ( آیت) ” اطیعوا اللہ واطیعوا الرسول ولا تبطلوا اعمالکم “ نازل ہوئی جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم نے کہا کونسی چیز ہے جو ہمارے اعمال کو باطل کردیتی ہے تو آپ نے فرمایا ثابت ہونے والے بڑے گناہ اور بےحیائی کے کام اب جب ہم کسی کو دیکھتے کہ اس نے ان (بڑے گناہوں) میں سے کسی کا ارتکاب کیا تو ہم کہتے کہ وہ ہلاک ہوگیا یہاں تک کہ یہ (آیت ) ” ان اللہ لا یغفر ان یشرک بہ ویغفر مادون ذلک لمن یشآء “ (سورۃ النساء آیت 45) (بلاشبہ اللہ تعالیٰ نہیں بخشیں گے جو ان کے ساتھ شرک کرے گا اور اس کے علاوہ کو بخش دیں گے جس کے لئے چاہیں گے) نازل ہوئی۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ہم اس بات سے رک گئے۔ پھر جب ہم کسی کو دیکھتے تھے کہ کسی نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا تو ہم اس پر خوف کرتے اور اگر وہ ان میں سے کسی (گناہ) کا ارتکاب نہ کرتا تو ہم اس کیلئے مغفرت کی امید رکھتے۔
Ayahs 47:35–38

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

سو تم سست نہ بنو اور صلح کی طرف مت بلاؤ اور تم غالب رہوں گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال میں ہرگز کمی نہ کرے گا

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

دنیا والی زندگی بس لہو ولعب ہے اور اگر تم ایمان پر جمے رہے اور تم نے تقوی اختیار کیا تو وہ تمہیں تمہارے اجور عطا فرمادے گا اور وہ تم سے تمہارے مال طلب نہ فرمائے گا

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اگر وہ تم سے مال طلب کرے پھر انتہا درجہ تک طلب فرمائے تو تم بخل کرنے لگوگے اور اللہ تعالیٰ تمہارے دلوں کی ناگواری کو ظاہر فرمادیگا

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

خبردار تمہیں اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے سو تم میں سے بعض لوگ بخل کرتے ہیں اور جو شخص بخل کرتا ہے تو وہ اپنی جان کی طرف سے بخل کرتا ہے اور اللہ غنی ہے تم محتاج ہو اور اگر تم روگردانی کرو گے تو اللہ تمہارے بدلہ دوسری قوم کو لے آئے گا پھر وہ تمہارے جیسے نہ ہوں گے

:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) ابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فلا تھنوا وتدعوا الی السلم “ وانتم الاعلون “ (سو تم ہمت نہ ہارو اور صلح کی طرف مت بلاؤ اور تم ہی غالب رہو گے یعنی دو جماعتوں میں سے پہلے نہ جاؤ کہ جس کے ساتھیوں کو پچھاڑ دیا گیا اور ان کو دشمنی چھوڑ کر صلح کی پیشکش کرلی اور تم زیادہ قریب ہو اللہ کے نزدیک ان کی نسبت (آیت ) ” ولن یترکم اعمالکم “ (اور وہ تمہارے اعمال میں ہرگز کمی نہیں کرے گا) یعنی وہ ہرگز تم پر ظلم نہیں کرے گا۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فلاتھنوا “ یعنی تم کمزور نہ ہوجاؤ (آیت ) ” وانتم الاعلون “ (اور تم ہی غالب رہوگے) یعنی تم ہی غلبہ پاؤ گے (آیت ) ” ولن یترکم “ یعنی وہ ہرگز تم کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ 6:۔ ابن جریر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یترکم “ یعنی وہ تم پر ظلم نہیں کرے گا۔ 7:۔ الخطیب نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھی (آیت ) ” فلا تھنوا وتدعوا الی السلم “ (اور تم ہمت نہ ہارو اور صلح کی طرف مت بلاؤ) محمد بن المنتر نے لفظ اسلام میں سین کو نصب دیا۔ 8:۔ ابونصر السنجری نے الابانۃ میں عبدالرحمن بن ربزی ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ ان تمام آیات میں السلم کی سین کو نصب کے ساتھ پڑھتے تھے (آیت ) ” ادخلوا فی السلم “ (البقرہ آیت 208) (آیت ) ” وان جنحوا للسلم “ (الانفال آیت 61) (آیت ) ” وتدعوا الی السلم “ 9:۔ عبد الرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت ) ” ان یسئلکموھا “ اگر وہ تم سے تمہارے مال طلب کرے کے بارے میں روایت کی کہ اللہ تعالیٰ اموال کے بارے میں سوال کرنے میں تمہاری ناگواریوں کے اظہار کر جانتا ہے۔ قولہ تعالیٰ : (آیت ) ” وان تتولوا “ الآیہ۔ سلمان فارسی ؓ کی فضیلت : 10:۔ سعید بن منصور وابن جریر وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت (آیت ) ” وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم “ (اگر تم نے روگردانی کی تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ اور لوگوں کو لے آئے گا) پوچھا گیا وہ کون ہیں (جن کو اللہ لے آئے گا) اور سلمان ؓ ان کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے آپ نے فرمایا وہ فارسی والے یعنی یہ اور اس کی قوم ہے (کہ اللہ تمہارے بدلے میں ان کو لے آئے گا) 11:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) والترمذی (رح) وابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) والطبرانی فی الاوسط اور بیہقی (رح) نے دلائل میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ (آیت) تلاوت فرمائی ” وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم ثم لایکونوا امثالکم “ (اگر تم نے روگردانی کی تو اللہ تمہارے علاوہ دوسرے لوگوں کو تبدیل فرما دے گا پھر وہ تمہاری طرح نہ ہوں گے) صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یہ کون ہیں کہ اگر ہم نہ روگردانی کی تو ہمارے بدلے دوسرے لوگوں کو تبدیل کردے گا پھر وہ ہماری طرح نہ ہوں گے پھر رسول اللہ ﷺ نے سلمان ؓ کا کاندھے پر ہاتھ مارا پھر فرمایا یہ اور اس کی قوم مراد ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا پر بھی معلق ہوا تو فارس کے لوگ اس کو پالیں گے۔ 12:۔ ابن مردویہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی (آیت ) ” وان تتولوا یستبدل قوما غیرکم “ تو پوچھا گیا وہ کون ہیں ؟ فرمایا وہ فارس والے ہیں اگر دین ثریا ستارے پر بھی ہوا تو اس کو فارس کے لوگ پالیں گے۔ 13:۔ عبد بن حمید (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یستبدل قوما غیر کم “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے بدلے میں جو قوم چاہے گا لے آئے گا۔ الحمد للہ سورة محمد مکمل ہوئی :