47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 47:19

فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ وَ اسْتَغْفِرْ لِذَنْۢبِكَ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَ مَثْوٰىكُمْ۠ Open ayah 47:19 in the Quran reader

تو آپ اس کا یقین رکھئے کہ بجز اللہ کے اور کوئی لائق عبادت نہیں اور آپ اپنی خطا کی معافی مانگتے رہئے اور سب مسلمان مردوں اور سب عورتوں کے لئے بھی اور اللہ تمہارے چلنے پھرنے اور رہنے سہنے کی خبر رکھتا ہے

علماء کا اٹھ جانا علامت قیامت میں سے ہے : 104:۔ الحاکم (وصححہ) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب میری امت پر ایسازمانہ آئے گا کہ اس میں قاری زیادہ ہوں گے اور فقہاء کم ہوں گے اور علم کم ہوجائے گا ہرج ( یعنی قتل و غارت) زیادہ ہوجائے گی صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ہرج کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا آپس میں قتل و غارت پھر اس کے بعد ایسا زمانہ آئے گا کہ مرد قرآن پڑھیں گے مگر ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا (یعنی قرآن پر عمل نہیں ہوگا) پھر اس کے بعد ایسا زمانہ آئے گا کہ منافق کافر اور اللہ کے ساتھ شرک کرنے والا مؤمن قبضہ کرے گا اس طرح کہتے ہوئے جیسے مؤمن بندہ کہتا ہے۔ 105:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد والحاکم (صححہ) ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ درندے انسان سے بات کریں گے اور یہاں تک کہ آدمی بات کرے گا اپنی کوڑی کے بھندے سے اور اپنی جوتی کے تسمے سے اور اس کی ران اس کو بتائے گی جو کچھ اس کے بعد اس کے گھر والوں نے کیا۔ 106:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت کیا کہ ایسا فتنہ ہوگا پس لوگ اس کے مقابلے کے لئے کھڑے ہوجائیں گے اور اس کی جڑ کو کاٹیں گی۔ یہاں تک کہ وہ فتنہ ختم ہوجائے گا پھر دوسرا فتنہ کھڑا ہوگا پس لوگ اس کے مقابلے کے لئے کھڑے ہوں گے اور اس کی جڑ کو کاٹ دیں گے ہاں تک کہ وہ فتنہ ختم ہوجائے گا ایک اور فتنہ کھڑا ہوگا پس لوگ اس کے مقابلے کے لئے کھڑے ہوں گے اور اس کی جڑ کو کاٹ دیں گے ہاں تک کہ وہ فتنہ ختم ہوجائے گا ایک اور فتنہ کھڑا ہوگا پس لوگ اس کے مقابلے کے لئے کھڑے ہوں گے اور اس کی جڑ کو کاٹ دیں گے ہاں تک کہ وہ فتنہ ختم ہوجائے گا پھر پانچواں فتنہ کھڑا ہوگا اور یہ فتنہ بہت بڑا ہوگا اور وہ زمین سے اس طرح پھوٹ پڑے گا جیسے پانی پھوٹتا ہے۔ 107:۔ مسلم نے حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کی قسم ! میں لوگوں میں سب سے زیادہ جاننے والا ہوں ہر فتنہ کو جو ہونے والا ہے۔ میرے اور قیامت کے درمیان رسول اللہ ﷺ نے جو مجھ سے اس بارے میں مجھ پر کوئی ایسی چیز نہیں چھپائی جو میرے علاوہ کسی سے بیان فرمائی لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اور وہ ایک مجلس میں فتنوں کے بارے میں بیان فرما رہے تھے جس میں میں موجود تھا رسول اللہ ﷺ نے فتنوں کو شمار کرتے ہوئے فرمایا ان میں سے تین فتنے ایسے ہیں جو کسی چیز کو نہیں چھوڑیں گے ان میں سے کچھ فتنے موسم گرما کی ہواؤں کی طرح ہیں اس میں سے کچھ چھوٹے اور کچھ بڑے فتنے ہیں حذیفہ نے فرمایا میرے علاوہ وہ ساری جماعت چلی گئی۔ 108:۔ ابن ابی شیبہ (رح) و ابوداؤد نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس امت میں چارفتنے ہوں گے ان میں آخری دولت کا فتنہ ہے۔ 109:۔ احمد و ابوداؤد والحاکم (وصححہ) نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے فتنوں کا ذکر کیا گیا اور آپ نے کثرت سے ان کا ذکر فرمایا یہاں تک کہ آپ نے احلاس کے فتنے کا ذکر فرمایا ایک کہنے والے نے کہا یارسول اللہ ﷺ احلاس کا فتنہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ فتنہ حرب وہرب سا ہے۔ (یعنی لوگ آپس میں لڑیں گے اور ایک دوسرے کے خوف سے بھاگیں گے) پھر فتنہ سراء ہوگا اس کا دھواں ایک آدمی کے قدموں کے نیچے سے نکلے گا جو میرے اہل بیت میں سے ہوگا (یعنی وہ فتنہ کا بانی ہوگا وہ یہ گمان کرے گا کہ وہ مجھ سے ہے حالانکہ وہ مجھ سے نہ ہوگا بلاشبہ میرے دوست تو متقی لوگ ہیں پھر لوگ ایک شخص کے ہاتھ پر رضامندی اور بیعت کا اظہار کریں گے جو کہ کو ل ہے کے اوپر کی پسلی کی طرح ہوگا (یعنی وہ غیر مستقل مزاج ہوگا پھر اسکے بعد ” فتنہ الدھیما “ (یعنی سیاہ تاریک فتنہ) ظاہر ہوگا اس امت میں سے کسی کو نہیں چھوڑے گا مگر اس کو طمانچہ لگائے گا (یعنی کوئی بھی اس فتنہ سے محفوظ نہیں رہے گا یہاں تک جب یہ کہا جائے گا کہ فتنہ ختم ہوچکا ہے تو پھر وہ دوبارہ لوٹ آئے گا اس فتنہ کے دوران صبح کو آدمی مؤمن ہوگا اور شام کو کافر ہوجائے گا یہاں تک کہ لوگ دو خیموں (دو حصوں) میں بٹ جائیں گے ایک خیمہ ایمان کا ہوگا اس میں نفاق نہ ہوگا اور ایک خیمہ نفاق کا ہوگا جس میں ایمان نہ ہوگا جب تمہارے ساتھ ایسا ہو تو تم دجال کا انتظار کرو اس دن یا دوسرے دن۔ 110:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) ومسلم و ابوداؤد والنسائی وابن ماجہ (رح) نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم ایک سفر میں رسول اللہ ﷺ نے ساتھ تھے ایک منزل پر ہم اترے ہم میں سے بعض اپنا خیمہ لگانے لگے اور بعض تیراندازی کا مقابلہ کرنے لگے۔ اچانک رسول اللہ ﷺ کے منادی نے آواز دی ” الصلاۃ جامعہ “ کہ جماعت تیار ہے پس میں آپ کی طرف گیا اور آپ لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے اور فرما رہے تھے اے لوگو ! مجھ سے پہلے کوئی نبی نہیں گزرا مگر یہ کہ اس پر واجب تھا کہ اپنی امت کو وہ بات بتادے جس کو وہ جانتا ہے کہ یہ بات ان کے لئے خیر کا باعث ہوگی اور جو وہ جانتا ہے کہ یہ بات ان کے لئے شر کا باعث ہوگی تو اس بات سے ان کو ڈرائے خبردار جان لو کہ اس امت کی عافیت اس کی اللہ اور اس کے پہلے لوگوں میں ہے اور عنقریب اس کے آخری لوگوں کو مصیبت اور فتنہ پہنچے گا اور ہو مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوئے ہوں گے ایک فتنہ آئے گا تو مؤمن کہے گا یہ مجھے ہلاک کردے (مگر) وہ فتنہ دور ہوجائے گا پھر (اور فتنہ) آئے گا تو مؤمن پھر اسی طرح کہے گا (کہ مجھے ہلاک کردے گا) پھر (اور) فتنہ آئے گا تو مؤمن پھر اسی طرح کہے گا پھر وہ فتنہ دور ہوجائے گا پھر سو جو شخص اس بات کو پسند کرے کہ اس آگ سے دور ہوجائے اور جنت میں داخل کرلیا جائے اور وہ اپنی آواز کو پالے گا اس حال میں کہ وہ ایمان رکھتا ہو اللہ پر اور آخرت کے دن پر اور وہ لوگوں کے ساتھ ایساسلوک کرے جیسا وہ خود پسند کرتا ہے کہ اس کے ساتھ کیا جائے اور جس نے کسی امام کی بیعت کی اس کو اپنے ہاتھ کا وعدہ اور اپنے دل کا پھل تو پھر اس کو چاہئے کہ اپنی طاقت کے مطابق اس کی اطاعت کرے۔ 111:۔ ابن خزیمہ والحاکم نے عداء بن خالد ؓ سے روایت کیا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے پاس تھے اچانک آپ ایک جماعت کے پاس تشریف لے گئے اور آپ ان کو ڈرانے لگے پھر آپ واپس لوٹ آئے اور فرمایا میں تم کو تین دجالوں سے ڈراتا ہوں۔ ابن مسعود ؓ نے فرمایا یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ہم کو آپ نے کانے دجال اور سب سے زیادہ جھوٹ بولنے والے کے بارے میں تو آپ سے بتاچکے ہیں۔ اور یہ تیسرا کون ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ ایک آدمی قوم میں سے ظاہر ہوگا ان کے پہلے لوگ بھی ہلاک ہوئے ہیں اور ان کے آخری لوگ بھی ہلاک ہوئے ہیں ان پر بعثت ہے اور وہ فتنہ جارفہ ہمہ گیر موت دینے والا میں مبتلا ہوں گے اور وہ دجال اکیس ہوگا وہ اللہ کے بندوں کو کھائے گا محمد نے کہا اور وہ تمام لوگوں سے بڑھ کر آپ ﷺ کے طریقوں سے دور ہوگا امام ذھنی نے فرمایا یہ حدیث مرہ کی وجہ سے منکر ہے۔ 112:۔ الحاکم (وصححہ) نے جابر بن سمرہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ ضرور تمہارے لئے کسری کے خزانے کھول دیئے جائیں گے چاہے وہ ایبض ہوں یا ابیض میں ہوں (یعنی سفید محل میں) اے مسلمانوں کے گروہ۔ 113:۔ الحاکم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رمضان کے مہینے میں دھماکا ہوگا نیند کرنے والے کو جگادے گا اور اور جاگنے والے کو خوفزدہ کر دے گا پھر ایک جماعت ظاہر ہوگی شوال میں پھر ذوالحجہ میں لوہے یا لکڑی کا گرز ہوگا اور وہ محارم کی آبرور یزی کریں گے پھر صفر میں موت ہوگی پھر قبائل ربیع میں آئیں گے پھر مکمل طور پر خود پسندی اور تکبر ہوگا جمادی اور رجب کے درمیان پھر محرم میں پالان باندھی ہوئی اونٹنی ہوگی جو محل نما عمارت سے بہتر ہوگی ایک لاکھ بھی کم ہوجائے گی، حاکم نے فرمایا کہ یہ روایت متن کے لحاظ سے غریب ہے اور ذھبی نے فرمایا یہ حدیث موضوع ہے۔ 114:۔ احمد وابویعلی والحاکم (وصححہ) نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بجیلہ کا ایک آدمی پہاڑی شیطان کو اتارے گا جس کو اشھب یا ابن اشھب راعی انجیل کہا جاتا ہے اس کا غلام قوم میں بہت زیادہ ظلم کرے گا، ذھبی نے فرمایا کہ یہ روایت صحت سے بہت دور ہے اور آپ نے اس کو منکر کہا۔ 115:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ارقم بن یعقوب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عبداللہ ؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ تم کس طرح ہو گے جب تم اپنی اس زمین سے نکالے جاؤ گے جزیرۃ عرب اور منابت الشیخ کی طرف میں نے عرض کیا ہم کو کون نکالے گا ؟ فرمایا اللہ کا دشمن۔ 116:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ گویا میں ان کو دیکھ رہا ہوں فرات کے دونوں کناروں پر ان کے گھوڑوں کے کانوں کو اور ان کے بغلوں کے اندرونی حصوں کو۔ قومیت عصبیت فتنہ ہے : 117:۔ الحاکم (وصححہ) نے معیقیب ونعیم بن حماد سے اور انہوں نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ میری امت ہرگز ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ ان میں تمایزتمایل اور مقامع ظاہر ہوجائے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ تمایز کیا ہے ؟ فرمایا اس سے مراد وہ عصبیت ہے جو میرے بعد اسلام کے بارے میں لوگوں میں ظاہر ہوجائے گی پھر میں نے عرض کیا تمایل کیا ہے ؟ فرمایا ایک قبیلہ دوسرے قبیلہ کی طرف مائل ہوگا اور اس کی محرمات کو حلال سمجھے گا۔ پھر میں نے عرض کیا مقامع کیا ہے ؟ فرمایا بڑے علماء بعض کی طرف چلیں گے اور جنگ میں ان کی جماعتیں مختلف ہوں گی۔ 118:۔ ابن ماجہ والحاکم (وصححہ) وابن عساکر (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سن جب جنگ واقع ہوں گی تو غلاموں میں سے ایک جماعت دمشق سے نکلے گی عربوں میں ان کے گھوڑے بہترین ہوں گے اور ان کے بہت عمدہ ہتھیار ہوں گے ان کے ذریعہ اللہ تعالیٰ اس دین کی مدد کریں گے۔ 119:۔ الحاکم (وؔ صححہ) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ عنقریب فتنے برپا ہوں گے لوگ ان سے اس طرح نکلیں گے جیسے سونا کان سے نکلتا ہے تم اہل شام کو برا نہ کہو اور ان کے ظلم کرنے والوں کو برا کہو کیونکہ ان میں ابدال رہتے ہیں اور عنقریب اللہ تعالیٰ آسمان بارش بھیجیں گے اور ان کو غرق کردیں گے یہاں تک کہ اگر ان کے ساتھ لومڑیوں نے بھی جنگ کی تو ہو ان پر غالب آجائیں گے۔ پھر اس وقت اللہ تعالیٰ انکے پاس ایک آدمی کو رسول ﷺ کے اہل بیت سے ایک آدمی بھیجیں گے بارہ ہزار لشکر کے ساتھ ان کی تعداد کم ہوگی۔ یا پندرہ ہزار کا لشکر ہوگا اگر ان کی تعداد زیادہ ہوئی ان کی نشانی یہ ہے کہ تین جھنڈوں پر ان کے اونچے اونچے نشانیاں ہوں گی ان کے ساتھ سات جھنڈوں والے ان سے لڑیں گے جن میں ہر جھنڈا اٹھانے والا صرف ملک میں وصی اور لالچ رکھتا ہوگا۔ وہ ان سے لڑیں گے اور ان کو شکست دیں گے پھر ھاشمی ظاہر ہوگا پھر اللہ تعالیٰ ان لوگوں پر ان کی محبت اور دوستی اور ان کی نعمتوں کو واپس لوٹادیں گے۔ لوگ اس حال پر ہوں گے یہاں تک کہ دجال نکل آئے گا۔ 120:۔ ابن ابی الدنیا نے دم الملاھی میں جبیر بن نفیر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا البتہ زمین مشکل میں گھر جائے گی۔ اپنے رہنے والوں کے ساتھ یہاں تک کہ اس کی پشت پر مٹی کے گھروں اور خیموں میں رہنے والے نہیں رہیں گے۔ اس امت کے آخری لوگ زلزلوں میں مبتلا کردیئے جائیں گے اگر انہوں نے توبہ کرلی تو ان کی توبہ قبول کی جائے گی اگر انہوں نے دوبارہ گناہوں کا ارتکاب کیا تو اللہ بھی ان پر لوٹا دے گا زلزلے پتھروں کی بارش صورتیں مسخ ہوجائے۔ اور بجلی کی کڑک کو۔ 121:۔ احمد نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تم کو مہدی کی خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کو میری امت میں اس وقت بھیجیں گے جب زمانے کے فسادات اور زلزلے کثرت ہوں گے اور وہ زمین کو انصاف سے اس طرح بھردیں گے جیسے اس سے پہلے (زمین) ظلم اور زیادتی سے بھری ہوئی تھی اور ان سے آسمان اور زمین کے رہنے والے راضی اور خوش ہوجائیں گے اور زمین میں ضحاح تقسیم کریں گے ایک آدمی نے ان سے کہا ضحاح کیا ہے ؟ فرمایا لوگوں کے درمیان مساوات قائم کرنا اور محمد ﷺ کی امت کے دلوں کو غنا سے بھر دیں گے اور ان میں اس کا عدل وسیع ہوجائے گا یہاں تک کہ ایک آواز لگانے والے کو حکم دیں گے اور وہ کہے گا کون ہے جس کو مال میں کوئی ضرورت ہے (تو وہ آجائے) اور اسے کہو کہ مھدی تجھ کو حکم دیتا ہے کہ تم مجھ کو مال دے دو وہ اس سے کہے گا گن کر دو یہاں تک کہ جب وہ اس کی گود میں ڈالے گا۔ اور مال اس پر ظاہر کردے گا تو نادم ہوجائے گا پھر وہ کہے گا میں مہدی کی امت میں زیادہ مریض اور لالچی تھا۔ اپنی ذات کے لئے وہ مال جو ان کی وسعت رکھتا ہے اس نے میری طاقت نہ رکھی راوی نے کہا کہ وہ مال کو رد کردے گا۔ اور اس سے قبول نہیں کرے گا پھر اس سے کہا جائے گا ہم کوئی چیز نہیں لیں گے جو تم نے دی ہے۔ اسی طرح کے سات یا آٹھ سال یا نوسال ہوں گے پھر اس کے بعد زندگی میں کوئی خیر نہیں ہوگی اور فرمایا پھر اس کے بعد زندگی میں کوئی خیر نہیں ہوگی۔ 122:۔ احمد و ابوداؤد نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ ایک آدمی میرے گھر والوں میں سے زمین پر حاکم بن جائے گا اور وہ کشادہ پیشانی والا اور بلند ناک والا ہوگا۔ ابوداؤد کے الفاظ یوں ہیں۔ مھدی مجھ سے ہے اس کی پیشانی کشادہ اور ناک اونچی ہے جو زمین کو انصاف سے اس طرح بھر دے گا جیسا کہ اس سے پہلے ظلم اور زیادتی سے بھر گئی تھی اور وہ سات سال تک رہے گا۔ 123:۔ احمد والترمذی (وحسنہ) وابن ماجہ نے ابوسعید خدری ؓ روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا میری امت میں مھدی (علیہ السلام) پانچ یا سات سال خروج فرمایں گے ابوالجوزی نے شک کیا ہم نے کہا کہ اس پانچ یا سات سے کیا مراد ہے ؟ تو آپ نے فرمایا پانچ یا سات سال پھر آسمان ان پر موسلادھار بارش برسائے گا۔ اور زمین اپنی سرسبزی میں کچھ چیز بھی اپنے اندر چھپا کر نہ رکھے گی۔ اور مال اکٹھا ہوجائے گا ایک آدمی ان کی طرف آئے گا اور کہیے گا اے مھدی مجھ کو دیجئے وہ اس کا اس کے کپڑے میں اتنا مال ڈال دیں گے۔ جتنا وہ اٹھا سکے گا۔ 124:۔ احمد اور مسلم نے بیان کیا کہ آخری زمانہ میں خلیفہ ہوگا مال کو تقسیم کرے گا اور اس کا شمار نہیں کرے گا۔ 125:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا آخری زمانہ میں ایک خلیفہ آئے گا جو بغیر شمار کے حق میں ادا کرے گا۔ 26:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میرے گھروالوں میں سے ایک آدمی زمانے کے ختم ہونے کے وقت اور فتنے کے ظاہر ہونے کے وقت نکلے گا تو اس کی عطا مٹھی بھر بھر کر ہوگی۔ (یعنی بغیر گنے ہوئے) 127:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے واحمد وابو داؤد نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر دنیا میں سوائے ایک دن کے کچھ بھی باقی نہ رہا تو بھی اللہ تعالیٰ ہم میں سے ایک آدمی کو ضرور بھیجیں گے جو زمین کو انصاف سے بھر دے گا جیسے ظلم سے بھری ہوئی تھی۔ 128:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے واحمد وابن ماجہ نے علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مھدی ہمارے اہل بیت میں سے ہوگا اللہ تعالیٰ ایک ہی رات میں ان کو درست کردے گا (یعنی اللہ تعالیٰ ان کی توبہ قبول فرمائیں گے کیا تو ان کو دین کی سمجھ دیں گے اور ان کو سیدھے راستے کا الھام فرمائیں گے بعد اس کے کہ وہ اس طرح نہ تھے) 129:۔ ابوداؤد نے ابو اسحاق سے روایت کیا کہ علی نے اپنے بیٹے حسن کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ میرا یہ بیٹا سردار ہے جیسے رسول اللہ ﷺ نے ان کو سردار فرمایا ہے اور وہ عنقریب ان کی صلب میں سے ایک ایسا آدمی پیدا ہوگا جس کا نام تمہارے نبی کریم ﷺ کے نام پر ہوگا جو اخلاق (یعنی سیرت) میں ان کے مشابہ ہوگا اور نہ مشابہ ہوگا شکل و صورت میں اور وہ زمین کو انصاف سے بھر دے گا۔ قرب قیامت امام مہدی کا ظہور : 130:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد و ابوداؤد والترمذی والحاکم (وصححہ) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر نہ باقی ہوگا دنیا میں سے مگر ایک دن تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کردیتے یہاں تک کہ اس میں مجھ سے یا میرے گھر والوں میں سے ایک آدمی کو بھیجتے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے۔ دن اور رات نہیں جائیں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت میں سے ایک آدمی عرب کا مالک ہوگا اس کا نام میرے نام سے اور اس کے والد کا نام میرے والد کے نام سے موافق ہوگا۔ زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا جیسے وہ ظلم اور زیادتی سے بھر گئی۔ 131:۔ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر دنیا میں سے سوائے ایک دن کے باقی کچھ بھی نہ رہا تو اللہ تعالیٰ اس دن کو لمبا کردیں گے یہاں تک کہ ایک آدمی میرے اہل بیت میں سے والی بن جائے گا اور اس کا نام میرے نام سے موافق ہوگا۔ 132:۔ ابوداؤد وابن ماجہ والطبرانی والحاکم نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا مہدی میرے کنبے میں اور فاطمہ کی اولاد میں سے ہوگا۔ 133:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد و ابوداؤد وابویعلی والطبرانی نے ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا خلیفہ کی موت کے وقت اختلاف ہوگا اور اس وقت اہل مدینہ میں سے ایک آدمی بھاگ کر مکہ کی طرف آئے گا اہل مدینہ میں سے کچھ لوگ اس کے پاس آئیں گے اور اس کو امامت کیلئے کہیں گے۔ حالانکہ وہ اس کو ناپسند کرے گا پھر وہ لوگ اس سے رکن اور مقام کے درمیان بیعت کریں گے اور اس کی طرف ایک لشکر شام کے ابدال اور اہل عراق کی جماعتیں آئیں گی اور اس کی بیعت کریں گے پھر ایک آدمی قریش میں سے پیدا ہوگا جس کے ننہیال کلب قبیلہ سے وہ ان کی طرف ایک لشکر کو بھیجے گا وہ ان پر غلبہ پائیں گے اور یہ قبیلہ کلب کا لشکر ہوگا اور خسارے میں وہ رہے گا جو قبیلہ کلب کے غنیمت کے مال میں حاضر نہ ہوا پھر وہ مال تقسیم کرے گا اور لوگوں میں نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق عمل کرے گا اور اسلام ساری زمین میں عام کردے گا وہ سات سال تک اسی طرح رہے گا، پھر وہ فوت ہوں گے اور ان پر مسلمان نماز پڑھیں گے۔ 134:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابن ماجہ نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ اس درمیان کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اچانک بنوہاشم میں سے ایک نوجوان حاضرہوا جب رسول اللہ ﷺ نے دیکھا آپ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ اور آپ کا رنگ تبدیل ہوگیا میں نے عرض کیا میں برابر آپ کے چہرے مبارک میں ایسی چیز دیکھ رہا ہوں کہ ہم اس کو ناپسند کرتے ہیں آپ نے فرمایا ہم اہل بیت نے ہمارے لئے آخرت کو اختیار کیا ہے دنیا پر بلاشبہ میرے اہل بیت عنقریب میرے بعد مصیبتوں کو اور بھاگنے کو نکال دیا جس میں آزمائشوں میں ڈالے جائیں گے یہاں تک کہ ایک قوم مشرق کی طرف سے آئے گی۔ انکے ساتھ کالے جھنڈے ہوں گے وہ خیر کا سوال کریں گے لیکن وہ ان کو نہ دی جائے گی اور ان سے قتال کیا جائے گا پھر وہ مدد کئے جائیں گے اور ان کو عطا کیا جائے گا جو انہوں نے سوال کیا وہ اس کو قبول نہ کریں گے یہاں تک کہ وہ ایک آدمی کو دیں گے جو میرے اہل بیت میں سے ہوگا تو وہ اس زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جیسے اس کو بھرا تھاْ ظلم کے ساتھ پس جو شخص تم میں سے اس کو پائے۔ چاہئے کہ ان کے پاس آئے اگرچہ برف پر گھسٹ کر آنا پڑے۔ مشرق سے سیاہ جھنڈے والے نکلیں گے : 135:۔ ابن ماجہ والحاکم (وصححہ) نے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمہارے خزانے کے پاس تین آدمی لڑیں گے سب خلیفہ کے بیٹے ہوں گے پھر وہ ان میں سے کسی ایک کے پاس بھی نہیں رہے گا پھر کالے جھنڈے مشرق کی جانب سے نکلیں گے وہ تم سے ایسا قتال کریں گے کہ کسی قوم نے ایسا قتال نہ کیا ہوگا آپ نے کچھ چیزوں کو ذکر فرمایا جن کو میں محفوظ نہیں کرسکا۔ راوی نے کہا جب تم اس کو دیکھو تو اس کی پیروی کرو اگرچہ سرین کے بل برف پر جانا پڑے۔ کیونکہ وہ اللہ کا خلیفہ مہدی ہوگا۔ 136:۔ الترمذی ونعیم بن حماد ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آخری زمانہ میں میری امت پر شدید بلائیں اتریں گی ان کے بادشاہ کی جانب سے یہاں تک کہ ان پر زمین تنگ ہوجائے گی پھر اللہ تعالیٰ میرے کنبہ میں سے ایک آدمی کو بھیجیں گے وہ زمین کو انصاف سے بھردے گا جیسے ظلم اور زیادتی سے بھری ہوئی تھی اس سے آسمان و زمین کے رہنے والے راضی ہوں گے۔ زمین اپنے بیچ میں سے کوئی چیز نہیں چھپائے گی مگر اس کو باہر نکال دے گی اور آسمان بھی اپنی بارش میں سے قطرہ بھی نہیں چھپائے گا مگر اس کو انڈیل دے گا اور وہ ان لوگوں میں سات سال یا آٹھ یا نوسال تک زندہ رہے گا۔ 137:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے مجاہد (رح) نے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ کے اصحاب میں سے ایک آدمی نے مجھ سے بیان کیا کہ مھدی ظاہر نہیں ہوں گے یہاں تک کہ پاکیزہ جان کو قتل کیا جائے گا جب پاکیزہ جان قتل کردی جائے گی تو ان پر وہ مخلوق جو آسمان میں اور زمین میں غضبناک ہوجائے گی تو لوگ مہدی (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے وہ آپ کو اس طرح شوق کے ساتھ بھیجیں گے جیسے دلہن شادی کی رات اپنے خاوند کی طرف بھیجی جاتی ہے۔ اور وہ بھردے گا زمین کو عدل انصاف سے اور زمین اپنا سبزہ نکالے گی اور آسمان اپنی بارش برسائے گا اور اس کی حکومت میں میری امت اتنی خوشحال ہوگی کہ کبھی اتنی خوشحال نہیں ہوئی ہوگی۔ 138:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابومجلز (رح) سے روایت کیا کہ ایک فتنہ ہوگا اس کے بعد دوسرا فتنہ ہوگا۔ اور آخر میں یہ کیفیت ہوگی کوڑے کے سرے کی کرہ کے پیچھے تلوار کی دھار ہوگی پھر اس کے بعد بھی فتنہ ظاہر ہوگا کہ جس میں سب حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کرلیا جائے گا پھر زمین میں نیک اور افضل آدمی کی خدمت آئے گی جو زمین والوں کے لئے بہتر ہوگی حالانکہ وہ اپنے گھر میں بیٹھا ہوگا۔ 139:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عاصم بن عمرو بجلی (رح) سے روایت کیا کہ البتہ ضرور پکارا جائے گا ایک آدمی کو نام کے ساتھ آسمان سے کہ کوئی ذلیل اس کا انکار نہیں کرے گا اور کوئی دلیل اس کو نہیں روک سکے گی۔ 140:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ثابت بن عطیہ کے طریق سے عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ لازم پکڑو اس اطاعت اور جماعت کو کیونکہ وہ اللہ کی رسی ہے جس کا حکم دیا گیا اور جو کچھ تم ناپسند کرو گے جماعت میں وہ بہتر ہیں ان چیزوں میں سے جو تم پسند کرتے ہو حالت افتراق میں بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز پیدا نہیں فرمائی مگر اس کے لئے انتہا بنادی ہے، اور بلاشبہ دین پورا ہوچکا ہے اور وہ جارہا ہے نقصان اور کمی کی طرف اور اس کی نشانی یہ ہوگی کہ رحموں کو قطع کیا جائے گا اور ناحق مال کو لیا جائے گا اور خون بہایا جائے گا اور قرابت والا اپنی قرابت کی شکایت کرے گا۔ تو کوئی چیز اس پر لوٹ کر آئے گی امت یا سائل چکر لگاتا رہے گا اس کے ہاتھ میں کوئی چیز نہیں رکھی جائے گی پس لوگ اس حال میں ہوں گے کہ اچانک زمین آواز دے گی۔ گائے کی آواز کی طرح انسان یہ خیال کرے گا کہ زمین نے ان کی وجہ سے آواز نکالی ہے۔ اور لوگ اسی حال میں ہوں گے اچانک زمین اپنا سینہ چیر کر سونے اور چاندی کو باہر پھینک دے گی اور اس کے بعد نہیں نفع دے گی کوئی چیز سونے اور چاندی میں سے۔ مال کی کثرت بھی علامت قیامت ہے : 141:۔ احمد نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا اور آپ وضو فرما رہے تھے آپ نے میری طرف سر اٹھا کر دیکھا اور فرمایا چھ چیزیں تم میں سے ہوں گی اس کی پہلی نشانی تمہارے نبی کی موت ہے یہ سن کر میرا دل اپنی جگہ پر قائم نہ رہا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ ایک نشانی ہے پھر فرمایا اور تمہارے اندر مال بہے گا یہاں تک کہ ایک آدمی گو دس ہزار دس ہزار دیا جائے گا تو ہو اس سے ناراض ہوجائے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ دوسری نشانی ہے اور فرمایا فتنہ تم میں سے ہر آدمی کے گھر میں داخل ہوگا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ تیسر نشانی ہے پھر فرمایا اور موت بکریوں کی قصاص (یعنی گردن توڑ) بیماری کی طرح ہوگی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ چوتھی نشانی ہے اور صلح ہوجائے گی تمہارے اور بنو اصغر کے درمیان وہ تمہارے لئے جمع رہیں گے نو ماہ عورت کے حمل (کی مدت) کے بقدر تم میں سے معاہد توڑ دینا افضل سمجھیں گے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا یہ پانچویں نشانی اور مدینہ (شہر) فتح ہوگا میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ کون سا شہر فرمایا قسطنطنیہ۔ 142:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے واحمد والبخاری وابو داؤد وابن ماجہ نے عوف بن مالک اشجعی ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس غزوہ تبوک میں آیا اور آپ چمڑے کے خیمہ میں تشریف فرما تھے آپ نے فرمایا قیامت سے پہلے چھ چیزوں کو گن لو، میری موت پھر بیت المقدس کا فتح ہونا پھر دو موتیں تم کو پکڑیں گی جیسے بکریوں کی عقاص (یعنی گردن توڑ بیماری) پھر مال کا بہنا یہاں تک کہ ایک آدمی کو سودینار دیں گے تو وہ ناراض ہوجائے گا۔ پھر فتنہ ہوگا عرب کا کوئی گھر باقی نہیں رہے گا مگر وہ اس میں داخل ہوجائے گا پھر صلح تمہاری اور بنو اصغر کے درمیان ہوگی پھر وہ اسے توڑ دیں گے اور وہ تمہارے پاس اسی جھنڈوں کے نیچے تم پر حملہ آور ہوں گے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے، احمد نے زیادہ کیا کہ مسلمانوں کے خیمے اس دن جس زمین میں ہوں گے اس کو غوطہ کہا جاتا ہے۔ جو دمشق میں واقع ہے۔ 143:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے واحمد والطبرانی نے معاویہ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا چھ چیزیں قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں میری موت، بیت المقدس کا فتح ہونا، اور موت پکڑے گی لوگوں کو بکریوں کی قصاص بیماری کی طرح اور ایسا فتنہ ہوگا کہ اس کی گرمی ہر مسلمان کے گھر میں داخل ہوگی اور آدمی کو ہزار دینار دیا جائے گا تو وہ اس دینے سے ناراض ہوجائے گا (کہ کتنے تھوڑے پیسے دیئے) اور رومیوں کا معاہدہ توڑنا اور وہ اسی جھنڈوں کے ساتھ چلیں گے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار (افراد) ہوں گے۔ 144:۔ ابوداؤد والحاکم وصححہ نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمانوں کے خیمے بڑی جنگ کے دن شہر کی جانب غوطہ میں ہوں گے اس شہر کو دمشق کہا جاتا ہے۔ جو (دمشق) کے بہترین شہروں میں سے ہے۔ 145:۔ الحاکم نے ابو ثعلبہ خشنی (رح) سے روایت کیا کہ جب تو دیکھے کسی آدمی اور اس کے گھروالوں کے قبضے میں (کسی جنگل بیابان) کو دیکھے تو اس وقت قسطنطنیہ فتح ہوگا۔ فتح قسطنطنیہ کا ذکر : 146:۔ مسلم والحاکم (رح) نے ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم نے ایسے شہر کے بارے میں سنا کہ اس کی ایک جانب خشکی ہے اور ایک جانب سمندر ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا ہاں یارسول اللہ ﷺ پھر آپ نے فرمایا قیامت نہ ہوگی یہاں تک کہ بنواسحاق میں سے ستر ہزار افراد اس کے رہنے والوں سے جنگ کریں گے یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو وہ اس کے قریب نازل ہوجائیں گے اور ان کے ساتھ ہتھیاروں سے نہیں لڑیں گے اور تیر نہیں پھینکیں گے اور وہ کہیں گے ” لا الہ الا اللہ واللہ اکبر “ تو اس کی ایک جانب گرجائے گی پھر وہ دوسری مرتبہ کہیں گے ” لا الہ الا اللہ واللہ اکبر “ تو وہ اس کی دوسری جانب گرجائیگی پھر وہ تیسری مرتبہ کہیں گے ” لا الہ الا اللہ واللہ اکبر “ تو ان کا راستہ کھل جائے گا اور وہ شہر میں داخل ہوجائیں گے وہ لوگ غنیمت کا مال لیں گے اس دوران کہ وہ آپس میں تقسیم کررہے ہوں گے غنیمت کے مالوں میں کو اچانک ان کے پاس ایک آدمی چیختے چلاتے آئے گا کہ دجال نکل آیا ہے وہ سب چیزوں کو چھوڑ دیں گے اور وہ لوٹ جائیں گے۔ حاکم نے فرمایا کہا جاتا ہے کہ یہ شہر قسطنطنیہ ہے اور یہ صحیح ہے کہ اس کی فتح قیامت کے قائم ہونے کے ساتھ مرتب ہوگی۔ 147:۔ احمد و ابوداؤد ابن ماجہ وابویعلی (رح) ونعیم بن حماد فی الفتن والطبرانی والبیہقی فی البعث الضیاء المقدس نے المختارہ میں عبداللہ بن بسر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنگ اور قسطنطنیہ کی فتح کے درمیان دو سال کا فاصلہ ہے اور دجال ساتویں سال میں نکلے گا۔ 148:۔ الترمذی نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ قسطنطنیہ کی فتح قیامت کے قائم ہونے کے قریب ہوگی۔ 149:۔ مسلم والحاکم (وصححہ) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ رومی اعماق میں اتریں ان کی طرف اس دن مدینہ طیبہ سے زمین بہترین اور اعلیٰ لوگوں پر مشتمل لشکر آئے گا جب وہ صف باندھیں گے تو روم والے کہیں گے راستہ چھوڑ دو ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان جنہوں نے ہمارے لوگوں کو کہا قید رہنا یا ہم ان سے لڑیں گے تو مسلمان کہیں گے اللہ کی قسم ! ایسا نہیں ہوسکتا پس وہ ان سے جنگ شروع کردیں گے اور اس میں سے ایک تہائی شکست کھا کر بھاگ جائیں گے اللہ تعالیٰ ان کی کبھی بھی توبہ قبول نہیں فرمائیں گے اور ان کے ایک تہائی شہادت پاجائیں گے جو اللہ کے نزدیک افضل شہداء ہوں گے اور ایک تہائی ایسے ہوں گے جو کبھی بھی فتنہ میں نہ ڈالے جائیں گے اور وہ قسطنطنیہ پہنچ جائین گے اور اس کو فتح کرلیں گے اس درمیان کہ وہ اپنے غنیمت کے مالوں کو تقسیم کررہے ہوں گے اور وہ اپنے ہتھیارلٹکا چکے ہوں گے زیتوں (کے درختوں) کے ساتھ اچانک شیطان چیخ کرک ہے گا اور وہ یہ کہ مسیح دجال تمہارے پیچھے تمہارے گھروالوں میں آچکا ہے اور وہ جھوٹ ہوگا جب وہ شام آئیں گے تو وہ نکل جائیں گے اس درمیان کہ ہو لڑنے کی تیاری کررہے ہوں گے اور اپنی صفوں کو سیدھا کررہے ہوں گے اور وہ صبح کی نماز کھڑی ہوجائے گی تو عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نازل ہوں گے اور ان کی امامت کرائیں گے جب اللہ کا دشمن اس کو دیکھے گا تو وہ پگھل جائے گا جیسے نمک پگھلتا ہے۔ اگر آپ نے اسے چھوڑ دیا تو وہ پگھلتا ہی رہے گا یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجائے گا لیکن اللہ تعالیٰ اس کو اپنے ہاتھ سے قتل کر ائیگا پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے نیزے پر اس کا خون لوگوں کو دکھائیں گے۔ 150:۔ ابن ماجہ الحاکم نے کثیر بن عبداللہ مزنی (رح) سے روایت کیا کہ اور انہوں نے اپنے باپ دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ کو میں نے یہ فرماتے ہوئے سنا دنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ تم بنو اصفر والوں سے لڑو وگے حجاز والوں کے ان مؤمنین کی ایک جماعت ان کی طرف نکلے گی۔ جو اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور اللہ کے بارے میں کسی ملامت کی پرواہ نہیں کریں گے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان پر قسطنطنیہ اور روم کو فتح فرمائیں گے تسبیح اور تکبیر کے ساتھ اور اس کے قلعے گرجائیں گے وہ مثالی عظیم فتح حاصل کریں گے جسکی مثل کسی نے نہیں دیکھی۔ یہاں تک کہ وہ ڈھال کے ساتھ مال تقسیم کریں گے پھر ایک چیخنے والا بلند آواز سے چیخے گا اور کہے گا اے اہل اسلام کہ دجال تمہارے شہروں اور تمہاری اولاد میں آگیا ہے پس لوگ مال چھوڑ کر چلے جائیں گے بعض مال لینے والے ہوں گے اور بعض چھوڑنے والے ہوں گے۔ جو لے گا وہ بھی نادم ہوگا اور جو چھوڑے گا وہ بھی نادم ہوگا۔ 151:۔ ابن شیبہ (رح) واحمد (رح) و ابوداؤد والحاکم (وصححہ) نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بیت المقدس کی آبادی یثرب کی خرابی اور تباہی کا باعث بنے گی اور یثرب کی خرابی جنگ کا سبب ہے جنگ کا شروع ہونا قسطنطینہ کی فتح کا سبب بنے گی اور قسطنطنیہ کا فتح ہونا دجال کے ظاہر ہونے کا سبب بنے گی پھر معاذ نے حضرت عمر کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا اللہ کی قسم ! یہ بات البتہ حق ہے جیسے آپ بیٹھے ہوئے ہیں۔ 152:۔ احمد و ابوداؤد والترمذی (وحسنہ) وابن ماجہ نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بڑی جنگ اور قسطنطنیہ کا فتح ہونا اور دجال کا نکلنا سات مہینوں میں ہوگا۔ 153:۔ احمد و ابوداؤد وابن ماجہ وابن حیان والحاکم (وصححہ) ذی مخمرین اخی النجاشی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا عنقریب تم سے روم امن کی صلح کریں گے یہاں تک کہ تم اور وہ آپس میں جنگ کروگے پس تمہاری مدد کی جائے گی اور تم غنیمت کا مال پاؤ گے اور پھر تم واپس لوٹ آؤ گے اور مسلمانوں میں سے ایک کہنے والا کہے گا بلکہ اللہ تعالیٰ غالب آگئے پس وہ باری باری اس کا تکرار کریں گے مسلمان دوڑ کر جائے گا ان کے صلیب کی طرف اور وہ ان سے زیادہ دور نہیں ہوں گے اور وہ اس کو توڑ دے گا اور روم والے حملہ آور ہوں گے صلیب توڑنے والے پر تاکہ وہ اس کو قتل کردیں اور مسلمان بھی دوڑ کر جائیں گے اپنے اسلحہ کی طرف اور وہ لڑیں گے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی اس جماعت کو شہادت سے سرفراز فرمائیں گے رومی حاکم کو کہیں گے ہم تجھ کو کافی ہیں عرب کی حد تک تو وہ مسلمان سے علیحدہ ہوجائیں گے اور جمع کرنا شروع کردیں گے اور اسی جھنڈے والوں کے تحت تم پر حملہ کریں گے ہر جھنڈے کے نیچے بارہ ہزار افراد ہوں گے۔ 154:۔ احمد والبخاری والبزار وابن خزیمہ والطبرانی والحاکم (وصححہ) عبداللہ بن بشیر غنوی (رح) سے روایت کیا کہ مجھے میرے والد نے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ تم ضرور فتح کرو گے قسطنطنیہ کو پس اس امیر کی امارت کتنی اچھی ہوگی اور کتنا اچھا وہ لشکر ہوگا۔ 155:۔ احمد والحاکم (وصححہ) نے ابو قبیل (رح) سے روایت کیا کہ قسطنطنیہ اور رومیہ کی فتح کا تذکرہ ہوا ان میں سے کون ساپہلے فتح ہوگا ؟ عبداللہ بن عمر ؓ نے صندوق منگوایا اس کو کھولا اس میں سے ایک کتاب نکالی پھر فرمایا ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھ کر لکھا کرتے تھے پھر آپ سے پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ دوشہروں میں سے کونسا شہر پہلے فتح ہوگا قسطنطنیہ یارومیہ ! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ھرقل کا شہر پہلے فتح ہوگا اور آپ نے اس سے قسطنطنیہ مراد لیا۔ مدینہ منورہ کی ویرانی کا ذکر : 156:۔ الحاکم وصححہ نے عوف بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ان کے پاس تشریف لائے اور کچھ خوشے لٹکے ہوئے تھے اور اس میں سے ایک خوشہ ردی کھجوروں کا تھا اور آپ کے ساتھ لاٹھی تھی آپ لاٹھی سے اس خوشے کو مارا اور فرمایا اگر یہ صدقہ کرنے والا چاہے تو اس سے بہتر اور یہ اچھی کھجوروں کا صدقہ اس صدقہ کا مالک ردی کھجوریں ہی کھائے گا قیامت کے دن (لیکن) اللہ کی قسم ! اے اہل مدینہ تم چالیس سال تک اس شہر کو (پرندوں اور درندوں) کے لئے چھوڑ دو ہم نے کہا اللہ اور اس کا رسول ہی زیادہ جانتے ہیں آپ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہوں عوافی کیا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں۔ فرمایا پرندے اور درندے۔ 157:۔ الحاکم (وصححہ) نے ابوہریرہ ؓ نے مرفوعا روایت کیا کہ تم ضرور مدینہ کو چھوڑ دو گے بہتر اور اچھی حالت پر اور اس سے پرندے اور درندے کھائیں گے۔ 158:۔ الحاکم (وصححہ) نے محجن بن اور ع ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ احد پر چڑھے اور میں بھی آپ کے ساتھ چڑھا آپ اپنے چہرہ مبارک کے ساتھ مدینہ کی طرف متوجہ ہوئے اور اس کے لئے ایک بات فرمائی پھر فرمایا ہلاک ہو تیری ماں یا ہلاک ہو اس کی ماں یہ بستی (یعنی مدینہ منورہ) اس کو اس کے رہنے والے چھوڑ دیں گے جبکہ اس کے پھل پکے ہوئے ہوں گے اور ان کو آزاد کھومنے والے پرندے اور درندے کھائیں گے اور اس میں دجال داخل نہ ہوگا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے چاہا جب وہ اس میں داخل ہونے کا ارادہ کرے گا تو اس کو اس کے راستوں میں سے ہر راستے پر ایک بہادر فرشتہ ملے گا جو اس کو داخل ہونے سے روک دے گا۔ 159:۔ الحاکم (وصححہ) نے واثلہ بن اسقع ؓ سین روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا قیامت قائم نہ ہوگی۔ یہاں تک کہ دس نشانیاں ظاہر ہوں گی زمین میں دھنسنا مشرق کی جانب اور مغرب کی جانب زمین میں دھنسنا اور جزیرہ عرب میں دھنسنا اور دجال کا (نکلنا) اور یاجوج ماجوج کا ظاہر ہونا اور دابۃ کا نکلنا اور مغرب سے سورج کا نکلنا۔ اور قعر عدن سے آگ کا نکلنا جو محشر کی طرف لوگوں کو ہانک کرلے جائے چھوٹی اور بڑی چیونٹی کو بھی جمع کردے گی۔ 160:۔ ابویعلی (رح) نے الرویانی وابن قانع والحاکم (وصححہ) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی ایک ہوا جس کو وہ سو سال کے اختتام پر قیامت کے قریب بھیجے گا (جس میں) ہر مؤمن کی روح قبض کرلی جائے گی۔ 161:۔ احمد والطبرانی والحاکم (وصححہ) نے عیاشی بن ابی ربیعہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا قیامت سے پہلے ایک ہوا آئے گی اور جس میں مؤمن کی روح قبض کرلی جائے گی۔ 162:۔ مسلم والحاکم (رح) (وصححہ) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ یمن سے ایک ہوا کو بھیجیں گے جو ریشم سے زیادہ نرم اور راحت بخش ہوگی اور کسی کو نہیں چھوڑے گی۔ کہ جس کے دل میں ایک رائی کے دانے کے برابر ایمان ہوگا مگر اس کو قبض کرلے گی۔ 163:۔ مسلم والحاکم (رح) علیہ (وصححہ) عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا رات اور دن نہیں جائیں گے یاں تک کہ لات اور عزی کی عبادت کی جائے گی۔ اور اللہ تعالیٰ ایک پاک ہوا کو بھیجیں گے۔ تو وہ شخص فوت ہوجائے گا جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر خیر ہوگی (پھر) وہ آدمی باقی بچے گا کہ جس میں خیر نہ ہوگی اور وہ لوگ اپنے آباؤ اجداد کے دین کی طرف لوٹ جائیں گے۔ 164:۔ الحاکم (رح) (وصححہ) نے عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میری امت میں سے ایک جماعت اللہ تعالیٰ کے حکم پر مسلسل جنگ لڑتی رہے گی اور وہ دشمن پر غلبہ پائیں گے جو ان کی مخالفت کرے گا ان کو تکلیف نہیں پہنچا سکے گا یہاں تک کہ ان کے پاس قیامت آجائے گی اور وہ اسی حال پر ہوں گے عبداللہ بن عمر ؓ نے فرمایا ہاں اللہ تعالیٰ ایک ہوا کو بھیجیں گے اس کی خوشبو مشک جیسی ہوگی اور اس کا چھونا ریشم کے چھونے کی طرح (نرم) ہوگا۔ اور کسی ایسے آدمی کو نہیں چھوڑے گی جس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر ایمان ہوگا مگر اس کو قبض کرلے گی پھر برے لوگ باقی رہ جائیں گے جن پر قیامت قائم ہوگی۔ قیامت قائم ہونے سے قبل ہر مؤمن کو موت : 165:۔ الحاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ قیامت قائم نہ ہوگی حتی کہ اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجیں گے جو کسی کو نہ چھوڑے گی جس کے دل میں ذرہ کے برابر تقوی یا عقل ہوگی مگر اس کو قبض کرے گی۔ اور ہر قوم اس کے ساتھ مل جائے گی کہ جن کی آباؤ اجداد جاہلیت میں عبادت کیا کرتے تھے اور بیوقوف اور گھٹیا قسم کے لوگ باقی رہ جائیں گے۔ جو نیکی کا حکم نہیں کریں گے اور نہ برائی سے روکیں گے راستوں میں نکاح کریں گے جب یہ بات ہوگی تو اللہ تعالیٰ غصہ زمین والوں پر سخت ہوجائے گا اور وہ قیامت قائم کردے گا۔ 166:۔ البخاری ومسلم (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ فرات دریا سے سونے کا ایک پہاڑ ظاہر ہوگا اس پر لوگ آپس میں لڑیں گے ہر سو میں سے ننانوے قتل ہوجائیں گے اور ہر آدمی اس میں سے یہ کہے گا شائد میں زندہ بچ جاؤں اور نجات پاجاؤں۔ 167:۔ مسلم نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا عنقریب فرات دریا سونے کے ایک پہاڑ کو ظاہر کردے گا جب لوگ اس کو سنیں گے تو اس کی طرف چل دیں گے اور جو اس کے پاس ہوگا وہ کہے گا اگر ہم نے لوگوں کو چھوڑ دیا کہ وہ اس میں سے لے لیں تو سب کا سب لے جائیں گے۔ پھر فرمایا کہ وہ اس پر لڑیں گے اور ہر سو میں سے ننانوے قتل کردیئے جائیں گے۔ 168:۔ والحاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ مختلف کانیں نکلیں گی اس میں سے ایک کان حجاز سے قریب ہوگی اس کے پاس لوگوں میں سے شریر زمین پر آئے گا اس کو فرعون کہا جاتا ہے اس درمیان کہ وہ اس کام کررہے ہوں گے اچانک اس میں سے سونا ظاہر ہوگا پس اس کا نکلنے کو تعجب میں ڈال دے گا۔ اچانک اس کو یا اس کو دھنسا دیا جائے گا۔ 169:۔ احمد (رح) وابن ماجہ (رح) والحاکم (وصححہ) نے عبداللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں زمین دھنسنا پتھروں کی بارش اور ؔ صورتوں کا مسخ ہوجانا ہوگا۔ 170:۔ احمد والبغوی وابن قانع والطبرانی والحاکم (وصححہ) نے عبداللہ بن صحارا لعبدی سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ عرب کے قبیلے زمین میں دھنس جائیں گے اور کہا جائے گا وہ بنو فلاں ہیں۔ 171:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ وہ لوگ ضرور دھنسائے جائیں ایک گھر کو دوسرے گھر کے پہلو میں اور اسے آگے والے گھر کے پہلو میں دھنسا دیا جائے گا جہاں جہاں مظالم ہوں گے۔ 172:۔ ابن سعد نے ابو عاصم عطفانی (رح) سے روایت کیا کہ حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک حدیث بیان فرماتے تھے جس کو لوگ برا سمجھتے تھے ان سے کہا گیا قریب ہے کہ آپ ہم کو بیان کریں گے کہ عنقریب ہم میں مسخ ہوگا فرمایا ہاں البتہ ضرور ہوگا تمہارے اندر بندر اور سور کی صورت میں شکلوں کا بگاڑ ہوگا۔ 173:۔ ابن ابی الدنیا نے ذم الملاھی میں فرقد السجی (رح) سے روایت کیا کہ میں نے تورات میں پڑھا جو جبرائیل (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس لے آئے البتہ ضرور ہوگا شکلوں کا بگڑجانا، پتھروں کی بارش ہونا اور زمین میں دھنسنا محمد ﷺ کی امت میں جو اہل قبلہ ہے۔ کہا گیا اے ابو یعقوب انکے اعمال کیا ہوں گے ؟ فرمایا وہ گانے بجانے کے آلات بنائیں گے اور دف بجائیں گے اور ان کا لباس ریشم اور سونا ہوگا اور تو ہرگز غائب نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ تو یہ ازلی اعمال دیکھ لے گا۔ تعریفیں کرلے اور تیاری کر اور اپنے آپ کو بچا پوچھا گیا وہ کون ساعمل ہوگا ؟ فرمایا مرد مردوں سے اور عورت عورتوں سے اپنی خواہش پوری کریں گے اور عرب کے لوگ عجم کے برتنوں میں رغبت کریں گے پھر فرمایا اللہ کی قسم کہ مردوں پر آسمان سے ضرور پتھر برسائے جائیں گے جن کے ذریعہ چاہیں گے اپنے راستوں اور اپنے قبائل میں جیسے لوط (علیہ السلام) کی قوم کے ساتھ کیا گیا اور ضرور صورتیں بدل جائیں گی دوسرے لوگوں کی بندروں اور سوروں میں جیسے بنی اسرائیل کے ساتھ کیا گیا اور ایک قوم کو دھنسایا جائے گا جیسے قارون کو دھنسایا گیا۔ 174:۔ ابن ابی الدنیا نے سالم بن ابی جعد ؓ سے روایت کیا کہ ضرور آئے گا لوگوں پر ایسا زمانہ کہ لوگ اس میں ان میں سے ایک آدمی کے دروازہ پر جمع ہوں گے اور انتظار کریں گے اس کے باہر نکلنے کا تاکہ اس سے اپنی حاجت کا مطالبہ کریں وہ ان کی طرف نکلے گا (اس حال میں) کہ اس کی شکل بندر یا خنزیر میں تبدیل ہوچکی ہوگی اور ضرور گزرے گا ایک آدمی دوسرے آدمی کے پاس اس کی دکان پر جائے گا اور اسے کچھ بیچے گا اور پھر وہ اس پر لوٹے گا تو وہ بندر یا سور (کی شکل میں) مسخ کردیا گیا ہوگا۔ 175:۔ ابن ابی الدنیا نے ابو الزاھر یہ (رح) سے روایت کیا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دو آدمی ایک کام کی طرف چلیں گے اور وہاں دونوں کام کریں گے کہ ان میں سے ایک بندر یا سور (کی شکل میں) مسخ کردیا جائے گا ان میں سے جو محفوظ رہا وہ اپنے ساتھی کو اس حالت میں بچا سکے گا جس کو اس نے دیکھا پس وہ اپنے اس کام کی طرف چلا جائے گا یہاں تک کہ وہ اپنی حاجت پوری کرے گا۔ اور یہ کہ دو آدمی ایک کام کی طرف چلیں گے اور وہ اس کام کر رہے ہوں گے کہ ان میں سے ایک بندر یا سور (کی شکل) میں مسخ کردیا جائے گا ان میں سے جس نے نجات پائی وہ اپنے ساتھی کو اس حالت سے نہیں بچا سکے گا جو اس نے دیکھا پس وہ اپنے اس کام کو پورا کرلے گا یہاں تک کہ اس سے اپنی حاجت پوری کرے گا۔ 176:۔ ابن ابی الدنیا نے عبدالرحمن بن غنم (رح) سے روایت کیا کہ عنقریب دو لونڈیاں چکی پر بیٹھیں گی اور گیہوں کو پیسیں گی۔ ان میں سے ایک مسخ کردی جائے گی اور دوسری انتظار کرے گی۔ 177:۔ ابن ابی الدنیا نے ابن غنم (رح) سے روایت کیا کہ عنقریب دو خیمے ہوں گے ایک دوسرے کے پڑوس میں کہ ان کے درمیان نہر جاری ہوگی ان دونوں اس کے ایک حصے سے پیئیں گے اور ان میں سے بعض بعض کو حاصل کرلیں گے۔ پھر وہ دونوں ایک دن (اس حال میں) صبح کریں گے کہ ان میں سے ایک زمین میں دھنس جائیگ اور دوسرا زندہ ہوگا۔ 178:۔ ابن ابی الدنیا نے مالک بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ آخری زمانہ میں ایک ہوا اور تاریکی ہوگی تو لوگ گھبرا کر اپنے علماء کے پاس آئیں گے ان کو پائیں گے کہ وہ مسخ کئے جاچکے ہوں گے۔ 179:۔ الترمذی نے نوادرالاصول میں ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں گھبراہٹ ہوگی لوگ اپنے علماء کے پاس چلیں گے تو وہ ان کو بندر اور سور کی شکل میں پائیں گے۔ 180:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ تم ضرور بنی اسرائیل کے اعمال کی طرح عمل کرو گے ان میں کوئی چیز نہ ہوگی مگر اس کی طرح تم میں بھی ہوگی ایک آدمی نے کہا ہم میں بندر اور سور بھی ہوں گے آپ نے فرمایا کون تجھ کو اس سے بچا سکتا ہے تیرا قصد ہی نہیں کیا گیا۔ قرب قیامت صورت مسخ ہونا : 181:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جب تم پر ایسا زمانہ آئے گا کہ ان میں سے کوئی ایک اپنے آراستہ کمرہ سے نکلے گا اپنے باغ کی طرف لوٹے گا تو وہ بندر (کی شکل) میں مسخ کردیا جائے گا۔ 182:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والبخاری (رح) وابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن سلام ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ قیامت کی نشانیوں میں سے کونسی پہلی نشانی ہوگی فرمایا آگ لوگوں کو مشرق سے مغرب کی طرف اکٹھا کردے گی۔ 183:۔ الدارقطنی فی الافراد والطبرانی والحاکم (صححہ) نے عبداللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اہل مشرق پر آگ بھیجی جائے گی تو وہ ان کو مغرب کی طرف اکٹھا کردے گی ان کے ساتھ رات گزارے گی۔ جہاں لوگ رات گزاریں گے اور ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی جہاں وہ قیلولہ کریں گے جو کوئی ان میں سے گرگیا اور پیچھے رہ گیا وہ اس کے لئے ہوگا وہ ان کو اس طرح ہانکے گی جیسے لنگڑے اونٹوں کو چلاتا ہے۔ 184:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد والترمذی نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن سے پہلے بحرحضرموت میں سے ایک آگ عنقریب نکلے گی جو لوگوں کو جمع کردے گی صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ ہم کو کیا حکم فرماتے ہیں ؟ (کہ ہم کہاں چلے جائیں) فرمایا شام (کے ملک) کو لازم پکڑو (یعنی شام کے ملک چلے جاؤ) اما قولہ تعالیٰ : (آیت) ” فانی لھم اذاجآء تھم ذکرھم “ 185:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فانی لھم اذاجآء تھم ذکرھم “ (تو جب قیامت ان کے سامنے آکھڑی ہوگی اس وقت ان کو سمجھنا کہاں میسر ہوگا ؟ ) یعنی جب قیامت آئے گی تو اس وقت ان کو سمجھنا کب نصیب ہوگا۔ 186:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” فانی لھم اذاجآء تھم ذکرھم “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب ان کے پاس قیامت آجائے گی تو کس طرح ہوسکے گا ان کے لئے کہ وہ نصیحت حاصل کریں اور نیک عمل کریں (واللہ اعلم) أما قولہ تعالیٰ : (آیت ) ’ فاعلم انہ لا الہ الا اللہ “ 187:۔ الطبرانی وابن مردویہ والدیلمی (رح) نے عبداللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا افضل ذکر ” لا الہ الا اللہ ہے اور افضل دعا استغفار ہے پھر یہ (آیت) پڑھی ” فاعلم انہ لا الہ الا اللہ واستغفر لذنبک وللمؤمنین والمؤمنت “ (اور آپ یقین رکھیئے کہ بجز اللہ کے کوئی قابل عبادت نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ سے اپنے گناہ کی اور مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں کے لئے بخشش مانگئے) 188:۔ ابویعلی نے ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” لا الہ الا اللہ “ اور استغفار کو لازم پکڑو اور ان دونوں کو کثرت سے پڑھو کیونکہ ابلیس نے کہا میں نے لوگوں کو گناہوں سے ہلاک کردیا اور انہوں نے مجھے ” لا الہ الا اللہ “ اور استغفار سے ہلاک کردیا جب میں نے اس بات کو دیکھا تو میں نے ان کو خواہشات سے ہلاک کردیا اور وہ اپنے آپ کو ہدایت پر سمجھتے رہے۔ 189:۔ احمد والنسائی والطبرانی والحاکم والترمذی فی نوادرالاصول وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی بندے کو (اس حال میں) ہے اور دل سے اس پر پکا یقین رکھتا ہے تو وہ جنت میں داخل ہوگا اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ اللہ اس کی مغفرت فرمادیں گے۔ 190:۔ احمد والبزار وابن مردویہ (رح) والبیہقی (رح) نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنت کی چابی ” لا الہ الا اللہ “ کی گواہی دینا ہے۔ ماں کی دعاء براہ راست عرش تک پہنچتی ہے : 191:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی چیز ایسی نہیں مگر اس کے اور اللہ کے درمیان پردہ ہوتا ہے مگر ” لا الہ الا اللہ “ اور والدہ کی دعا کے درمیان کوئی پردہ نہیں (کہ یہ دونوں چیزیں سیدھی عرش تک پہنچ جاتی ہیں) 192:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بندہ اخلاص کے ساتھ ” لا الہ الا اللہ “ کہتا ہے تو اس کے لئے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں یہاں تک کہ یہ کلمہ عرش تک پہنچ جاتا ہے۔ 193:۔ احمد نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے معاذ بن جبل ؓ سے فرمایا تو جان لے کہ جو آدمی اس حال میں مراد کہ وہ ” لا الہ الا اللہ “ کی گواہی دیتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ 194:۔ احمد والبخاری ومسلم وابن ماجہ و بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں عتبان بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہرگز کوئی بندہ نہیں آئے گا جو ” لا الہ الا اللہ “ کہتا ہو اور اس سے اللہ کی رضامندی چاہتا ہو مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام کردیں گے۔ 195:۔ احمد (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ” لا الہ الا اللہ “ کی گواہی دی اور اس بات کی کہ بلاشبہ میں اللہ کا رسول ہوں تو ہرگز آگ اسے نہیں کھائے گی۔ 196:۔ احمد والطبرانی نے سہل بن البیضاء ؓ سے روایت کیا کہ ہم سفر میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے اور میں سواری پر آپ کے پیچھے بیٹھا ہوا تھا آپ نے فرمایا اے سہیل بن بیضاء اور آپ نے اپنی آواز کو بلند فرمایا تو لوگ جمع ہوگئے پھر آپ نے فرمایا کہ جس نے ” لا الہ الا اللہ “ کی گواہی دی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو آگ پر حرام کردیا اور اس کے لئے جنت کو واجب کردیا ہے۔ 197:۔ البیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں یحییٰ بن طلحہ بن عبید اللہ رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ طلحہ کو غمگین دیکھا گیا ان سے پوچھا گیا آپ کو کیا ہوا تو انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا بلاشبہ میں ایک کلمہ جانتا ہوں جو بندہ اپنی موت کے وقت اس کو کہے گا تو اللہ تعالیٰ اس سے مصیبت اور تکلیف کو دور کردے گا اور اس کا رنگ روشن کردے گا اور اسے وہ چیز دکھائے گا جو اس کو خوش کردے گی اور مجھے کسی چیز نے نہیں روکا تھا کہ میں اس سے اس بارے میں پوچھ لیتا مگر مجھے اس پر قدرت نہ ہوئی یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی۔ عمر ؓ نے فرمایا بلاشبہ وہ کلمہ میں جانتا ہوں پوچھا وہ کیا ہے ؟ فرمایا ہم کوئی ایسا کلمہ نہیں جانتے کہ جو اس کلمہ سے بڑا ہو کہ جس کا آپ نے اپنے چچا کو حکم فرمایا تھا (اور وہ ہے) ” لا الہ الا اللہ “ (یہ سن کر) طلحہ نے فرمایا اللہ کی قسم یہی وہ کلمہ ہے۔ 198:۔ احمد ومسلم والنسائی وابن حبان والبیہقی (رح) نے عثمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص مرگیا اور جانتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ 199:۔ البیہقی (رح) نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابوذر ؓ لوگوں کو خوشخبری دیدو کہ جس نے ” لا الہ الا اللہ “ کہا جنت میں داخل ہوگا۔ 200:۔ احمد ابو داؤد والطبرانی والحاکم ومسلم، والترمذی والنسائی وابن خزیمہ وابن حبان البیہقی نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا جس شخص نے ” لا الہ الا اللہ محمد الرسول اللہ “ کی گواہی دی اللہ تعالیٰ اس پر آگ کو حرام کردیں گے۔ ” لا الہ الا اللہ “ نجات دینے والا ہے : 201:۔ البیہقی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ” لا الہ الا اللہ “ کہا وہ اسے حوادث زمانہ سے نجات دے گا اور اس سے پہلے جو مصیبت پہنچ چکی سو وہ پہنچ چکی۔ 202:۔ البیہقی (رح) نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے ” لا الہ الا اللہ “ کہا تو یہ اس کے اعمال نامے میں سے سابقہ گناہوں کو مٹا دے گا یہاں تک کہ وہ دوبارہ ان گناہوں کو کرے۔ 203:۔ البیہقی (رح) علیہ نے حذیفہ ؓ سے روایت کی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص کا سچے دل سے ” لا الہ الا اللہ “ کی گواہی کے ساتھ خاتمہ ہوا (یعنی موت آئی) تو جنت میں داخل ہوگا اور جس شخص کو دن کے روزے کے ساتھ موت آئی کہ جس سے وہ اللہ کی رضا مندی کا ارادہ رکھتا تھا تو جنت میں داخل ہوگا اور جس شخص کی موت کے وقت مسکین کو کھانا کھلانے پر خاتمہ ہوا جس سے وہ اللہ کی رضا مندی کا ارادہ رکھتا تھا تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔ قولہ تعالیٰ : (آیت ) ” واستغفر لذنبک واللمؤمنین والمؤمنت “ 204:۔ عبدالرزاق (رح) وعبد بن حمید (رح) والترمذی (وصححہ) وابن المنذر وابن ابی حاتم (رح) وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت ) ” واستغفر لذنبک واللمؤمنین والمؤمنت “ (اور استغفار کیجئے اپنے گناہ اور ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کے لئے) کے بارے میں فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ سے دن میں ستر مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ 205:۔ احمد ومسلم والترمذی والنسائی (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) وابن مردویہ (رح) نے عبداللہ بن سرجس ؓ سے روایت کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کے پاس آیا میں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ آپ کی مغفرت فرمائے آپ نے فرمایا اور تیری بھی۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ اپنے لئے استغفار کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ہاں اور تمہارے لئے بھی اور یہ آیت پڑھی (آیت ) ” واستغفر لذنبک واللمؤمنین والمؤمنت “ 206:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والحاکم (رح) (وصححہ) وابن مردویہ (رح) نے عبید بن مغیرہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حذیفہ ؓ کو اللہ تعالیٰ کا ارشاد تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ یعنی (آیت ) ” فاعلم انہ لا الہ الا اللہ فاستغفر لذنبک “ (آپ جان لیجئے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اپنے گناہ کی مغفرت طلب کیجئے) پھر فرمایا کہ میں اپنے اہل و عیال پر تیز زبان تھا۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میں ڈرتا ہوں کہ میری زبان مجھے آگ میں داخل کردے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تو استغفار کیوں نہیں کرتا بلاشبہ میں اللہ تعالیٰ سے ہر دن میں سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ روزانہ سو مرتبہ استغفار : 207:۔ ابن ابی شیبہ : والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ والطبرانی نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں نے کبھی کوئی صبح نہیں کی مگر میں اس میں سے اللہ تعالیٰ سے سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں۔ 208:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد (رح) والطبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) نے مہاجرین میں سے ایک آدمی جس کو اغر کہا جاتا تھا سے روایت کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اے لوگو ! اللہ سے استغفار کرو اور اس کی طرف توبہ کرو۔ بلاشبہ میں ہر روز اللہ تعالیٰ سے سو مرتبہ استغفار کرتا ہوں اور اس کی طرف توبہ کرتا ہوں۔ 209:۔ ابن ابی شیبہ (رح) ومسلم و ابوداؤد والنسائی ابن حبان (رح) وابن مردویہ (رح) نے اغرالمذلی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک میرے دل پر بھی میل سی آجاتی ہے یہ ان تک کہ میں ہر روز سو مرتبہ اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں۔ 210:۔ ابن ابی شیبہ (رح) وابوداؤد والترمذی (وصححہ) والنسائی وابن ماجہ وابن مردویہ (رح) اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ ہم مجلس میں رسول اللہ ﷺ کو سو مرتبہ (یہ دعا کرتے ہوئے) شمار کرتے تھے ” رب اغفرلی وتب علی انک انت التواب الرحیم “ (اے میرے رب مجھے بخش دیجئے اور میری توبہ قبول کیجئے بلاشبہ آپ ہی توبہ قبول کرنے والے اور رحم کرنے والے ہیں اور دوسرے لفظ میں یوں ہے ” التواب والغفور “ (یعنی توبہ قبول کرنے والا اور بخشنے والا) 211:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والترمذی وابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ میں اللہ تعالیٰ سے دن میں سومرتب استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔ اما قولہ تعالیٰ : (آیت ) ” واللہ یعلم متقلبکم ومثوکم “ 212:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) وابن ابی حاتم (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” واللہ یعلم متقلبکم ومثوکم “ (اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے تمہارے چلنے پھرنے کو) یعنی دنیا میں ’(آیت ) ” ومثوکم “ (اور تمہارے رہنے وسہنے کو) یعنی آخرت میں جانتا ہے۔ 213:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) ” واللہ یعلم متقلبکم ومثوکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے ہر جانور کو چلنا پھرنا رات کو دن کو (اللہ تعالیٰ جانتے ہیں)