47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 47:18

فَهَلْ یَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِیَهُمْ بَغْتَةً١ۚ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا١ۚ فَاَنّٰى لَهُمْ اِذَا جَآءَتْهُمْ ذِكْرٰىهُمْ Open ayah 47:18 in the Quran reader

سو یہ لوگ بس قیامت کے منتظر ہیں کہ وہ اس پر دفعۃ آپڑے سو اس کی علامتیں تو آچکی ہیں سو جب قیامت انکے سامنے آکھڑی ہوئی اس وقت ان کو سمجھنا کہاں میسر ہوگا ؟

اما قولہ تعالیٰ : فھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ فقد جآء اشراطھا “۔ 9:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فقد جآء اشراطھا “ (یقینی بات ہے کہ اس کی نشانیاں آچکی ہیں) سے مراد ہے قیامت قریب آگئی۔ 10:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فقد جآء اشراطھا “ سے مراد ہے قیامت کی ابتدائی نشانیاں۔ 11:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فقد جآء اشراطھا “ سے مراد ہے کہ محمد ﷺ بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ 12:۔ البخاری نے سہل بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ اپنی درمیانی اور ساتھ والی انگلی مبارک کے ساتھ اس طرح (اشارہ) کرکے فرما رہے تھے کہ میری بعثت اور قیامت ان دونوں انگلیوں کی طرح ملی ہوئی ہیں۔ 13:۔ احمد والبخاری ومسلم والترمذی (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ میری بعثت اور قیامت دونوں اس طرح ہیں آپ نے شہادت اور درمیان والی انگلیوں کے ساتھ اشارہ فرمایا۔ 14:۔ ابن مردویہ (رح) نے سعید بن ابی عروبہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” فھل ینظرون الا الساعۃ ان تاتیھم بغتۃ فقد جاء اشراطھا “ (وہ نہیں انتظار کررہے مگر قیامت کا کہ ان کے پاس اچانک آجائے اور یقینی بات کہ اس کی نشانیاں آچکی ہیں) قتادہ ؓ فرمایا کرتے تھے کہ یقینی بات ہے قیامت قریب آچکی ہے۔ تمہاری جان سے فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی کریم ﷺ نے عصر کی بعد اپنے اصحاب کو خطبہ ارشاد فرمایا یہاں تک کہ سورج غروب ہوگیا اور اس میں سے بالکل تھوڑا ساباقی رہ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے نہیں ہے مثال جو دنیا سے (وقت) گزر چکا اور جو باقی ہے اس میں سے مگر مثل اس وقت کے جو گزر چکا تمہارے اس دن میں سے اور جو باقی ہے اس میں سے اور نہیں باقی ہے اس میں سے مگر تھوڑا سا یعنی عصر سے پہلے بہت وقت گزر چکا اور عصر کے بعد تھوڑا سا وقت باقی ہے گویا اب دنیا کا وقت تھوڑا سا باقی ہے زیادہ وقت گزرچکا ہے۔ 15:۔ احمد نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا میں اور قیامت اکھٹے بھیجے گئے قریب تھا کہ وہ مجھ سے سبقت کی جاتی۔ 16:۔ البخاری وابن ماجہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں اور قیامت ان انگلیوں کی طرح (اکھٹے) بھیجے گئے۔ 17:۔ ابن ابی الدنیا نے ابو جہیرہ بن ضحاک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے ہلاک کرنے والی زہر (یعنی قیامت) میں بھیجا گیا۔ علم کا اٹھ جانا علامات قیامت میں سے ہے : 18:۔ ابن ابی شیبہ واحمد والبخاری (رح) ومسلم (رح) وابن مردویہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے علم اٹھا لیا جائے گا اور جہالت ظاہر ہوگی اور شراب پی جائے گی اور زنا زیادہ ہوجائے گا۔ مرد کم اور عورتیں زیادہ ہوجائیں گی یہاں تک کہ پچاس عورتیں کے مقابلے میں ایک مرد ہوگا۔ 19:۔ ابن ابی شیبہ (رح) والبخاری ومسلم وابن ماجہ (رح) وابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن لوگوں کے پاس باہر تشریف لائے اور ایک آدمی آپ کے پاس آیا اور کہا یارسول اللہ ﷺ قیامت کب ہوگی ؟ آپ نے فرمایا جس سے سوال کیا گیا۔ وہ سوال کرنے والے سے زیادہ جانتا ہے۔ لیکن میں تجھ کو اس کی نشانیاں بیان کردیتا ہوں۔ جب لونڈی اپنی مالکہ کو جنم دے گی، تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے، اور جب ننگے پاؤں ننگے بدن بکریاں چرانے والے لوگوں کے سردار ہوں گے یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے اور جب بکریاں چرانے والے لمبی لمبی عمارتیں بنانے لگیں تو یہ بھی اس کی نشانیوں میں سے ہے۔ 20:۔ البخاری نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک دیہاتی نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ قیامت کب ہوگی ؟ آپ نے فرمایا جب امانت ضائع ہونے لگیں تو پھر قیامت کا انتظار کرو اس نے کہا یارسول اللہ اور اس کا ضیاع کیسے ہوگا ؟ آپ نے فرمایا جب معاملات ایسے لوگوں کے سپرد کردیئے جائیں جو اس کے اہل نہ ہوں تو قیامت کا انتظار کر۔ 21:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا یارسول اللہ ! قیامت کب ہوگی ؟ آپ نے فرمایا جس سے سوال کیا گیا وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا ہے اس نے کہا (اگر) آپ ہم کو اس کی نشانیاں ہی بتادیں آپ نے فرمایا ایک نشانی تقارب الاسواق ہے میں نے عرض کیا تقارب الاسواق کا کیا مطلب ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ امانت دار کی قلت۔ اور غیبت پھیل جائے گی اور مالداروں کی تعظیم کی جائے گی اور فاسق لوگوں کی آوازیں مساجد سے بلند ہوں گی اور گناہ کرنے والے زیادہ ہوجائیں گے اور ظلم کرنے والے ظاہر ہوں گے۔ رشتہ داروں سے قطع تعلق کرنا، قیامت کی نشانیوں میں سے ہے : 22:۔ ابن مردویہ (رح) والدیلمی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کی نشانیوں میں سے پڑوسی کا برا ہونا، رشتہ داروں کے ساتھ قطع تعلق کرنا جہاد سے تلواروں کا رک جانا، اور دین کے سبب دنیا کو اختیار کرنا۔ 23:۔ ابن مردویہ (رح) نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ سعادت مند دنیا کے لحاظ سے کمینہ بیٹا کمینہ کا ہوگا۔ 24:۔ احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دنیا ہرگز ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ وہ کمینہ بیٹا کمینہ کے لئے ہوجائے۔ 25:۔ احمد والبخاری وابن ماجہ نے عمروبن تغلب ؓ سے روایت کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ تم ایسی قوم سے لڑو گے کہ ان کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور قیامت کی نشانیوں میں یہ بھی ہے کہ تم ایک ایسی قوم سے لڑو گے کہ ان کے چہروں کی چوڑائی ایسی ہوگی گویا کہ ان کے چہرے تہ بہ تہ چڑھائی ہوئی ڈھالیں ہوں گی۔ 26:۔ النسائی نے عمر وبن تغلب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم اٹھا لیا جائے گا مال عام ہوجائے گا۔ اور تجارت پھیل جائے گی اور قلم اٹھ جائے گا عمرو نے کہا اگر یہ آدمی کوئی چیز بیچے گا تو وہ کہے گا کہ میں بنی فلاں کے تاجر سے مشورہ کرلوں۔ اور وہ آس پاس کے بڑے بڑے گھروں میں کوئی کاتب تلاش کرے گا لیکن وہ اس کو نہیں پائے گا۔ 27:۔ احمد والبخاری ومسلم وابن ماجہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا قیامت سے پہلے کچھ ایسے دن ہوں گے کہ اس میں علم کو اٹھالیا جائے گا اور اس میں جہالت نازل ہوگی اور ان میں سے فتنہ و فساد بڑھ جائے گا۔ 28:۔ عبدالرزاق نے المصنف میں عبداللہ بن ربیب الجندلی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے ابوالولید یا عبادہ بن صامت ؓ جب تو صدقہ کو دیکھے کہ اس کو چھپادیا گیا اور اس میں خیانت کی گئی ہے اور جہاد میں اجرت لی گئی۔ اور کھنڈرات کو آباد کردیا گیا اور آبادی کو ویران کردیا اور آدمی اپنی امانت سے اس طرح کھیلنے لگا جیسے اونٹ درخت سے کھیلتا ہے (یعنی منہ مارتا ہے) پھر تو اور قیامت دونوں اس طرح سے ہیں اور آپ نے شہادت والی انگلی اور ساتھ والی انگلی کے ساتھ ارشاد فرمایا۔ 29:۔ احمد و ابوداؤد والنسائی وابن ماجہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ لوگ مساجد میں آپس میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔ 30:۔ احمد والترمذی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ زمانہ قریب آجائے گا ایک سال ایک ماہ کے برابر ہوجائے گا اور مہینہ ایک ہفتے کے برابر اور ایک ہفتہ ایک دن کے برابر اور ایک دن ایک ساعت کے برابر ہوجائے گا اور ایک ساعت آگ کی چنگاری کی طرح ہوجائے گی۔ 31:۔ احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ زمانہ قریب آجائے گا۔ ایک سال ایک ماہ کی طرح ہوگا اور ایک ماہ جمعہ (یعنی ہفتہ) کی طرح ہوگا ایک جمعہ ایک دن کی طرح ہوگا۔ اور ایک دن ایک گھڑی کی طرح ہوگا اور ایک گھڑی کھجور کی ایک شاخ کے چلنے کی طرح ہوجائے گی۔ 32:۔ مسلم والحاکم (وصححہ) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی کہ عرب کی سرزمین چراگاہوں اور نہروں کی طرف لوٹ آئے گی۔ 33:۔ البخاری ومسلم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دو جماعتیں آپس میں لڑیں گی ان کے درمیان بڑی لڑائی ہوگی ان دونوں کا ایک ہی دعوی ہوگا۔ یہاں تک کہ تین کے قریب جھوٹے دجال بھیجے جائیں گے ان میں سے ہر ایک یہ گمان کرے گا کہ وہ اللہ کا رسول ہے یہاں تک کہ علم اٹھالیا جائے گا اور زلزلے کثرت سے ہوں گے اور زمانہ قریب آجائے گا اور فتنے ظاہر ہوں گے اور ھرج بہت ہوگا یعنی قتل و غارت اور یہاں تک کہ تمہارے اندر مال کی کثرت ہوجائے گی۔ اور وہ اتنا بڑھے گا کہ مال والا یہ وہم کرے گا کہ کون اس کے صدقہ کو قبول کرتا ہے یہاں تک کہ (کسی آدمی کو) مال پیش کرے گا تو وہ کہے گا مجھے اس کی ضرورت نہیں اور یہاں تک کہ لوگ عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے اور یہاں تک کہ ایک آدمی کسی آدمی کی قبر سے گزرے گا اور کہے کا اے کاش میں اس کی جگہ پر ہوتا اور یہاں تک کہ سورج اپنے مغرب سے طلوع ہوگا جب طلوع ہوگا لوگ اس کو دیکھیں گے تو سب ایمان لائیں گے اور اس وقت اس کا ایمان نفع نہیں دے گا اگر پہلے سے ایمان نہ لایا ہوگا۔ یا اس نے اپنے ایمان میں کوئی اچھا عمل نہ کمایا ہوگا اور ضرور قیامت قائم ہوگی۔ (اس حال میں) کہ دو آدمی اپنے درمیان ایک کپڑا پھیلائیں گے اور وہ اس کی خریدوفروخت ابھی نہ کریں گے اور نہ اس کو لپیٹیں گے کہ (قیامت قائم ہوجائے گی) اور ایک آدمی اپنی اونٹنی کا دودھ (دوہنے سے) فارغ ہوگا اور ابھی اس کو نہ پیئے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور ایک آدمی اپنے حوض پر آئے گا اور اس میں سے ابھی نہ پیئے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی اور ایک آدمی لقمہ کو اٹھا کر اپنے منہ میں رکھے گا ابھی اس کو نہیں کھائے کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ 34:۔ الحاکم وصححہ نے عبداللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فحش بات کہنے والے اور باتکلف فحش بات کہنے والے کو پسند نہیں فرماتے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک کہ برائی فحش اور براہمسایہ اور احمقوں کو قطع کرنا ظاہر ہوں گے اور یہاں تک کہ امانت دار خیانت کریں گے اور خیانت کرنے والے کو امین بنایاجائے گا پھر فرمایا مؤمن کی مثال سرخ سونے کے ٹکڑے کی طرح ہے جو آگ میں داخل کیا جائے اور اس پر پھونکا جائے تو اس کا رنگ تبدیل نہیں ہوتا اور اگر اس کا وزن کیا جائے تو وہ کم نہیں ہوتا۔ 35:۔ احمد والحاکم صححہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی لوگ عام بارش برسائیں گے مگر زمین کوئی چیز نہیں اگائے گی۔ 36:۔ ابن ابی شیبہ واحمد (رح) نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت سے پہلے کذاب ظاہر ہوں گے اس میں سے ایک صاحب الیمامہ (دوسرا عسی صنعاوالا اور ان میں سے حمیر والا بھی ہے اور ان میں سے دجال ہوگا اور وہ ان سب سے فتنہ کے لحاظ سے سب سے بڑا ہوگا۔ 37:۔ احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت سے پہلے تیس دجالوں کے قریب ہوں گے ہر ایک ان میں سے کہے گا میں نبی ہو میں نبی ہوں۔ 38:۔ احمد (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عنقریب میری امت میں دجال کذاب ظاہر ہوں گے تمہارے پاس ایسی نئی نئی باتیں لائیں گے جو تم نے اور تمہارے آباؤ اجداد نے نہ سنی ہوگی پس تم بھی بچو اور ان کو بھی بچاؤ (ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو کسی فتنہ میں مبتلا کردیں ) 39:۔ احمد والطبرانی (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا قیامت کے دن سے پہلے مسیح دجال ظاہر ہوگا اور تیس یا اس سے زیادہ کذاب بھی ظاہر ہوں گے۔ 40:۔ ابویعلی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت میں ستر سے زائد (نبوت کا) دعوی کرنے والے ہوں گے ان میں سے ہر ایک آگ کی طرف بلائے گا اگر میں چاہوں تو تم کو ان کے نام اور ان کے قبیلے بتادوں۔ عبداللہ سبائی کا جھوٹا ہونا : 41:۔ ابویعلی نے ابوالجلاس (رح) سے روایت کیا کہ میں نے حضرت علی ؓ عنہکو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ وہ عبداللہ السبائی کو یہ فرما رہے تھے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت سے پہلے تیس کذاب ہوں گے اور بلاشبہ تو ان میں سے ایک ہوگا۔ 42:۔ ابویعلی (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دجال کے نکلنے سے پہلے ستر سے کچھ زائد اور دجال ظاہر ہوں گے۔ 43:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ قیامت سے پہلے چھہتر (76) دجال ظاہر ہوں گے۔ 44:۔ احمد والبزار نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ آسمان سے بارش برسے گی اس میں سوائے بالوں کے گھروں کے مٹی کا بنا ہوا کوئی گھر محفوظ نہ رہے گا۔ 45:۔ البیہقی (رح) نے البعث والنشور میں حسن ؓ سے روایت کیا کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا میں علم کی طلب میں نکلا اور کوفہ آیا میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے ملا میں نے کہا اے ابوعبد الرحمن (یہ عبداللہ بن مسعود ؓ کی کنیت ہے) کیا قیامت کے بارے میں سوال کیا تھا آپ نے فرمایا قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ بچہ سخت غصہ میں ہوگا اور بارش سخت گرم ہوگی اور پانی کے بہنے کی طرح برے رگ پھیل جائیں گے۔ جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی خائن کو امین بنایا جائے گا اور امانتدار خیانت کریں گے اور ہر قبیلہ اور ہر بازار میں فاسق فاجر کو سردار بنایا جائے گا محرابوں کو آراستہ کیا جائے گا اور دل فاسد ہوجائیں گے مرد مردوں کے ساتھ اور عورتیں عورتوں کے ساتھ اکتفا کریں گے (یعنی ہر کوئی اپنے ہم جنس سے خواہش پوری کرے گا) دنیا کے آباد مقامات کھنڈر بن جائیں گے اور ویران جگہیں آباد ہوجائیں گی۔ اور فتنے ظاہر ہوں گے اور سود کھایا جائے گا اور گانے بجانے کے آلات اور زمین میں دفن شدہ خزانہ اور شراب کا پینا عام ہوجائے گا اور شرط لگانے والے طعنہ مارنے والے اور چغلی کھانے والوں کی کثرت ہوگی۔ قرب قیامت برائیوں کا عام ہونا : 46:۔ ابونعیم نے الحلیہ میں حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے قریب بہتر قسم کی خصلتیں عام ہوں گی جب تم لوگوں کو دیکھو کہ لوگ نماز کو چھوڑ دیتے ہیں اور امانت کو ضائع کرتے ہیں اور سود کھاتے ہیں اور جھوٹ کو حلال سمجھتے ہیں اور خون بہانے کو ہلکا سمجھتے ہیں اور بلند عمارتیں بنانے لگے ہیں اور دین کو دنیا کے بدلے میں بیچتے ہیں اور قطع رحمی کرتے ہیں اور حاکم کمزور ہوجائے گا اور جھوٹ کو سچ سمجھا جائے گا اور ریشم لباس بن جائے گا ظلم عام ہوچکا طلاق اور اچانک موت کی کثرت ہوجائے گی خائن کے پاس امانت رکھی جائے اور امانتدار خیانت کرے گا جھوٹے کی تصدیق کی جائے گا سچ بولنے والے کو جھٹلایا جائے گا اور تہمت لگانے کی کثرت ہوجائے گی اور بارش شدت کی گرمی کا باعث بن جائے اور بچہ سخت غصہ میں ہے بخل اور کنجوسی پانی کی طرح بہنے لگے اور عزت و تکریم کم ہوجائے گی اور امراء اور وزراء جھوٹ بولیں گے اور امانتدار خیانت کرنے لگے اور عرفاء ظلم کرنے لگیں گے اور قراء فاسق ہوں گے جب وہ بھیڑ کی کھال پہنتے ہیں تو ان کے دل بدبودار ہوجائیں گے بدبودار لاش سے زیادہ اور ایلوا سے زیادہ کڑوے ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کو ہر جانب سے فتنہ سے ڈھانک دیں گے جس میں اس طرح مبتلا ہوں گے جس طرح یہودی ظلم میں مبتلا ہیں اور سونا یعنی دنانیر عام ہوجائیں گے اور چاندی کو تلاش کا جائے گا اور بدامنی بہت ہوگی اور امن کم ہوجائے گا مصاحف کو زیور پہنایا جائے گا (خوب آراستہ کیا جائے گا) اور مساجد میں تصویریں بنائی جائیں گی مناروں کو اونچا کیا جائے گا دلوں کو فاسد کردیا جائے گا اور شرابوں کو پیا جائے گا اور حدود کو معطل کردیا جائے گا اور لونڈی اپنے آقا کو جنے گی اور تو دیکھے گا کہ ننگے پاؤں ننگے بدن والے بادشاہ بن جائیں گے اور عورت اپنے شوہر کی تجارت میں شریک ہوجائے گی مرد عورتوں کی اور عورتیں مردوں کی شکل و صورت اختیار کریں گے اور غیر اللہ کی قسمیں کھائیں گے اور مؤمن کسی معاملہ پر گواہ بنائے بغیر گواہی دے گا اور سلام کرے گا پہچان کے لئے۔ اور اللہ کے دین کی نیت اور ارادہ کے بغیر وہ تفقہ حاصل کرے گا اور آخرت کے علم کے بدلہ میں دنیا کو طلب کرے گا اور غنیمت کے مال کو دولت اور امانت کو غنیمت بنالے گا اور زکوٰۃ کو تاوان اور قوم کے سردار ان میں سب سے رذیل آدمی اور آدمی اپنے باپ کی نافرمانی اور ماں پر سختی کرے گا۔ اپنے دوست کو نقصان پہنچائے گا اور اپنی بیوی اطاعت کرے گا اور مسجدوں میں فاسقوں کی آوازیں بلند ہوں گی بناؤ سنگار کرنے والی لونڈیاں اور گانے بجانے کے آلات بنائے جانے لگیں گے اور راستوں میں شرابیں پی جانے لگیں اور ظلم کو بطور فخر کے اپنایا جائے گا اور انصاف کو بیچا جائے گا شرط لگانے کی کثرت ہوگی اور قرآن کو گانے بجانے کی چیز بنالیا جائے گا۔ اور درندوں کی کھالوں کے موزے بنائیں گے اور اس امت کے آخری لوگ اپنے پہلے لوگوں کو بعثت کریں گے پھر اس وقت لوگ انتظار کریں گے اور سرخ ہوا زلزلہ اور زمین میں دھنسنے اور صورت مسخ ہونے اور پتھروں کی بارش اور دوسری نشانیوں کا انتظار کریں۔ 47:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے سوال کیا کہ قیامت کب آئے گی ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے مجھ سے ایسے کام کے بارے میں سوال کیا ہے جس کو جبرائیل (علیہ السلام) اور میکائیل (علیہ السلام) بھی نہیں جانتے لیکن اگر تم چاہوں تو میں تم کو کچھ چیزوں کے بارے میں بتادوں گا جب وہ ہوں گے تو قیامت میں زیادہ وقفہ نہ ہوگا (یعنی جلدی آجائے گی) جب زبانیں نرم ہوجائیں اور دل چٹانوں (کی طرح سخت) ہوجائیں اور لوگوں کے لئے دنیا (کمانے میں) رغبت بڑھ جائے اور زمین پر (بڑی بڑی) عمارتیں ظاہر ہوں گی اور بھائی آپس میں اختلاف کریں اور ان کی خواہش متفرق ہوجائیں اور اللہ کے حکم کو کھلے بندوں بیچا جائے گا۔ 48:۔ ابن ابی شیبہ نے سلمان الفارسی ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کے قریب آجانے (کی نشانیوں میں سے) یہ ہوگا کہ زمین پر (بڑی بڑی) عمارتیں ظاہر ہوں گی اور قطع رحمی ہوجائے اور پڑوسی اپنے پڑوسی کو تکلیف دے۔ 49:۔ ابن ابی شیبہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ کہ برائی اور فحش گوئی عام ہوجائے اور بدخلقی اور پڑوسیوں کے ساتھ بدسلوکی ظاہر ہوجائے۔ 50:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عبد اللہ بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ بات ظاہر ہوجائے اور عمل رک جائے شریر اور برے لوگ بلند مرتبہ ہوجائیں اور نیک لوگوں کو پست اور حقیر جانا جائے اور ان پر مثالیں پڑی جائے اور کوئی بھی ان میں اسے یاد نہ کرے عرض کیا مثالیں کیا ہے ؟ فرمایا اللہ کی کتاب کے علاوہ ہر کتاب مثالی ہے۔ 51:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے رجابن حیوہ (رح) سے روایت کیا کہ قیامت قائم نہ ہوگی کہ کھجور کے درخت نہیں اٹھائے گا سوائے ایک کھجور کے۔ 52:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے قیس (رح) سے روایت کیا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ گائے کے سر کی قیمت اوقیہ کے ساتھ لگائی جائے گی۔ 53:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے وداک (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے قریب چاندی کا بلند ہونا بھی ہے۔ 54:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے قریب آنے میں یہ بھی ہے کہ چاند سامنے دکھائی دے گا تو اس کو ابن الیلتین کہا جائے گا۔ 55:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے قریب آنے میں سے یہ ہے کہ سامنے پہلی کا چاند دیکھا جائے گا پھر اسے اپنی تیلتین کہا جائے گا۔ 56:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوموسی ؓ سے روایت کیا کہ قیامت سے پہلے کچھ وقت جہالت نازل ہوگی اور علم اٹھالیا جائے گا، یہاں تک کہ ایک آدمی جہالت کی وجہ سے اپنی ماں کے پاس کھڑا ہو کر تلوار سے اس پر حملہ کرے گا۔ 57:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ وہ اکٹھے ہو کر مسجدوں میں نماز پڑھیں گے اور ان میں کوئی مؤمن نہ ہوگا۔ 58:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ علم جہالت بن جائے گا اور جہالت علم بن جائے گا۔ 59:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں پر ضرور ایسا زمانہ آئے گا کہ عورتوں کو راستے میں پھینکی ہوئی ایک جوتی کی طرح پائیں گے بعض بعض سے کہے گی کہ ایک مرتبہ جوتی فلاں مرد کیلئے تھی۔ 60:۔ ابن ابی الدنیا والبزار نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا قیامت کب آئے گی رسول اللہ ﷺ نے اس کو جھڑکا یہاں تک کہ آپ نے فجر کی نماز پڑھی اپنا سرمبارک آسمان کی طرف اٹھاتے ہوئے فرمایا اے پیدا کرنے والی ذات اسے جو اے بلند کرنے والی اسے بدلنے والی اور اسے اس طرح لپیٹنے والی ذات جیسے کتاب کو لپیٹا جاتا ہے وہ ذات پاک ہے اور مقدس ہے پھر آپ نے زمین کی طرف توجہ کرتے ہوئے فرمایا وہ ذات پاک ہے جو اس کو پیدا کرنے والی ہے اور جو اس کو بچھانے والی ہے اور جو اس کو بلدنے والی ہے اور جو اس کو لپیٹنے والی ہے جیسے کتاب کو لپیٹا جاتا ہے پھر فرمایا قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے۔ قوم کے آخر میں سے ایک آدمی اپنے گھٹنوں کے بل کھڑا ہوا اور وہ عمر بن خطاب ؓ تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (قیامت قائم ہوگی) جبکہ پیشوا ظلم کریں گے تقدیر کو جھٹلایا جائے گا ستاروں پر ایمان لایا جائے گا اور قوم امانت کو غنیمت کا مال اور زکوٰۃ کو تاوان اور برائی کے ارتکاب کو ملاقات قرار دیں گے الفاحشۃ زیادہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فاسق لوگوں میں سے دو آدمی ہوں گے ان میں سے ایک کھانا اور پینا تیار کرے گا اور وہ ایسے ایک عورت کے پاس لے کر آئے گا اور وہ کہے گی میرے لئے بھی (ایسا کھانا پینا تیار کر جیسے میں نے تیار کیا وہ اسی وجہ سے ایک دوسرے سے ملاقات کریں گے پھر فرمایا اے خطاب کے بیٹے اس وقت میری امت ہلاک ہوجائے گی۔ مسجد کو گزر گاہ بنانا علامت قیامت میں سے ہے : 61:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ جان پہچان پر سلام ہوگا اور مسجدوں کو راستہ بنالیا جائے گا اور کوئی بھی اس میں اللہ کے لئے سجدہ نہیں کرے گا یہاں تک کہ مسجد سے گزر جائے گا اور یہاں تک کہ کسی نوعمر لڑکے کو بڑی عمر لڑکے کو بڑی عمر والے شیخ کے ساتھ دو وافقوں کے درمیان برید برید بھیجا جائے۔ اور یہاں تک کہ کوئی بدکار کسی بدکار کسی بڑھنے والی زمین کی طرف چلے گا اور وہ اس میں کوئی فضیلت کو نہیں پائے گا۔ 62:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے الوداعی حج ادا فرمایا پھر کعبہ کے دروازے کے حلقہ کو پکڑ کر فرمایا اے لوگو ! کیا میں تم کو قیامت کی نشانیوں کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ سلمان ؓ ان کی طرف کھڑے ہوئے اور عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں یا رسول اللہ ﷺ ہم کو ارشاد فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کی نشانیوں میں سے ہے نماز کا ضائع کرنا اور مائل ہونا (تیری) خواہش کے ساتھ۔ مال والے کی عزت کرنا، سلمان نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ بھی آپ نے فرمایا، فرمایا ہاں اور اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد ﷺ کی جان ہے اسے سلمان اس وقت زکوٰۃ تاوان ہوگی اور امانت کا مال غنیمت کا مال ہوگا۔ اور جھوٹے کی تصدیق کی جائے گی اور سچے کی تکذیب کی جائے گی۔ اور خیانت کرنے والے کے پاس امانت رکھی جائے گی۔ اور امین خیانت کرے گا اور رویضہ بات کرے گا پوچھا رویضہ کیا ہے ؟ فرمایا لوگوں میں وہ آدمی بات کرے گا جس نے کبھی بات نہ کی تھی اور دس لوگوں میں سے نوا اقرار حق کا انکار کریں گے اسلام ختم ہوجائے گا مگر اس کا نام باقی رہے گا اور قرآن ختم ہوجائے گا مگر اس کی رسم باقی رہ جائے گی اور مصاحف کو سونے کے ساتھ مزین کیا جائیگا اور میری امت کے مرد موٹے ہوجائیں گے اور لونڈیوں (یعنی عورتوں کے ساتھ مشورے ہوں گے) اور منبروں پر لڑکے خطبہ دیں گے اور عورتوں کو خطاب کرنے والی عورت ہوگی اس وقت مسجدوں کو آراستہ کیا جائے گا جیسے کہ یہودیوں کے عبادت خانے اور عیسائیوں کے گرجا گھر آراستہ کئے جاتے ہیں۔ اور میناروں کو اونچا کیا جائے گا اور صفوں کی کثرت ہوگی دلوں میں ایک دوسرے کے بغض ہوگا زبانیں ایک دوسرے کے خلاف ہوں گی اور خواہشات بیشمار ہوں گی۔ سلمان ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ایسا ہوگا ؟ فرمایا ہاں قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں محمد کی جان ہے اس وقت اے سلمان ان میں مؤمن امت میں سے لونڈی سے زیادہ ذلیل ہوگا اس کا دل اس کا پیٹ اس طرح پگھلے گا جیسا کہ نمک پانی میں پگھلتا ہے ایسی برائی اور بےحیائی کے سبب جس کو وہ دیکھے گا اس کو بدل نہیں سکے گا اکتفا کریں گے مرد مردوں کے ساتھ اور عورتیں اور عورتوں کے ساتھ (یعنی مرد مردوں کے ساتھ اور عورتیں عورتوں کے ساتھ خواہش پوری کریں گے) اور لڑکوں پر اس طرح غیرت کی جائے گی جیسے کنواری لڑکی پر غیرت کی جاتی ہے اس وقت اے سلمان حکمران فاسق اور وزراء بدکارہوں گے اور امانتدار خیانت کرنے والے ہوں گے۔ جو نمازوں کو ضائع کریں گئے اور خواہشات کے پیچھے چلیں گے اگر تم ان کو پاؤ تو تم اپنی نماز اپنے وقت پر ادا کرنا اس وقت ایسے مسلمان آئیں گے کچھ قیدی مشرق سے اور کچھ قیدی مغرب سے اور ان کے بدن انسانوں کے بدنوں کی طرح ہوں گے اور ان کے دل شیاطین کے دلوں کی طرح ہوں گے نہ چھوٹوں پر رحم کریں گے اور نہ بڑوں کی عزت کریں گے اس وقت اے سلمان ! لوگ اس بیت حرام کا حج کریں گے ان کے بادشاہ اور حکمران کھیل اور تفریح کے لئے حج کریں گے اور ان کے مالدار تجارت کے لئے اور ان کے غریب لوگ لوگوں سے مانگنے کے لئے حج کریں گے اور ان کے قاری ریا کاری اور شہرت کے لئے حج کریں گے سلمان نے کہا یارسول اللہ ﷺ کیا ایسا ہوگا ؟ فرمایا ہاں اور قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے اس وقت اے سلمان جھوٹ پھیل جائے گا اور ستارہ دم والا ظاہر ہوگا اور عورت اپنے خاوند کے ساتھ تجارت میں شریک ہوگی اور بازار قریب ایک دوسرے کے قریب ہوجائیں گے پوچھا ان کا قریب ہونے کا کیا مطلب ہے فرمایا اپنے کاروبار کا مزا ہونا۔ اور اس کا نفع تھوڑا کے سبب وہ ایک دوسرے کے قریب ہوں گے اے سلمان اللہ تعالیٰ ہوا کو بھیجیں گے اس میں زردرنگ کے سانپ ہوں گے اور وہ علماء کے سرداروں کو اٹھالیں گے جب ہو کسی گناہ کو دیکھیں گے تو اس کو نہیں بدلیں گے سلمان نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ایسا ہوگا ؟ فرمایا ہاں اس ذات کی قسم جس نے محمد ﷺ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے۔ 63:۔ عبد الرزاق نے المصنف میں حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کی قسم قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم پر ایسا حاکم ہوگا جس کا وزن قیامت کے دن دس مچھروں کے برابر بھی نہ ہوگا۔ نماز میں امام کا نہ ملنا علامت قیامت میں سے ہے : 64:۔ احمد وابن ماجہ والطبرانی نے سلامۃ بن حر ؓ سے رویت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگ کچھ دیر کے لئے کھڑے ہوں گے اور کسی امام کو نہ پائیں گے جو ان کو نماز پڑھائے۔ 65:۔ احمد نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دجال کے دن دھوکے کے سال ہوں گے جس میں سچ بولنے والا جھوٹ بولے گا اور جھوٹ بولنے والاسچ بولے گا اور اس میں امانتدار خیانت کریں گا۔ اور خیانت کرنے والا امانت رکھے گا۔ اور رویضہ اس میں بات کرے گا پوچھا گیا رویضہ کیا ہے ؟ فرمایا کہ فاسق آدمی عام معاملات میں بات کرے گا۔ 66:۔ احمد نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت سے پہلے کئی سال دھوکے کے ہوں گے جس میں سچ بولنے والا جھوٹ بولے گا اور جھوٹ بولنے والا سچ بولے گا اور اس میں امانتدار خیانت کرے گا اور خیانت کرنے والے کو امین بنایا جائے گا اور معاملات کے بارے میں رویضہ (یعنی فاسق) بات کرے گا۔ 67:۔ احمد ابویعلی والحاکم والبیہقی (رح) نے البعث والضیاء میں بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت کو ایک چوڑے چہروں والی قوم ہانکے گی چھوٹی آنکھوں والے گویا کہ ان کے چہرے ڈھالیں ہیں اور آپ نے یہ جملہ تین بار فرمایا یہاں تک کہ ان کو جزیرہ عرب کے ساتھ ملادیں گے ان میں سے پہلا گروہ نجات پاجائے گا جو ان میں بھاگ جائیں گے اور دوسرے فتنہ میں بعض ہلاک ہوں گے اور بعض نجات پائیں گے اور تیسرے گروہ میں تمام کے تمام ہلاک و برباد ہوجائیں گے جو ان میں سے باقی بچیں گے صحابہ نے عرض کیا وہ کون ہوں گے ؟ فرمایا وہ ترک ہوں گے۔ 68:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عبداللہ بن عمر و بن عاص ؓ سے روایت کیا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں کہ لوگ راستوں میں گدھوں کے باہم جفتی کرنے کے عمل کی طرح کا عمل کرنے لگیں گے اور دوسرے لفظ میں یوں ہے کہ یہاں تک کہ راستوں میں گدھوں کے حملہ آور ہونے کی طرح ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں گے ان کے پاس ابلیس آئے گا اور ان کو بتوں کی عبادت کی طرف پھیرے گا۔ 69:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے لڑوگے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے اور قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے لڑو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے۔ اور قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ تم ایسی قوم سے لڑو گے جو تو چھوٹی آنکھوں والی چپٹی ناک والے ہوں گے گویا کہ ان کے چہرے تہ بہ تہ چڑھائیں ہوئی ڈھالیں ہیں۔ 70:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے والحاکم (وصححہ) نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ لوگ رسول اللہ ﷺ سے خیر کے بارے میں سوال کرتے تھے اور شر کے بارے میں سوال کرتا تھا تاکہ میں اس کو پہچان لوں اور پھر اس سے بچوں میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ آپ بتائیے کہ یہ خیر جو ہم کو اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی اس کے بعد شر ہوگا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! میں نے عرض کیا اس سے بچاؤ کیسے ہوگا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تلوار سے۔ میں نے عرض کیا کیا تلوار سے بھی کوئی چیز باقی رہ جانے والی ہے ؟ فرمایا ہاں میں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا پھر ایک جماعت کا جھوٹ اور تہمت لگانے میں مکروفریب کرنا ہے اگر اس دن اللہ کی جانب سے کوئی خلیفہ ہو تو وہ تیری پیٹھ کو مارے گا اور تیرے مال کو لے لے گا اور اپنی بات سنوا کر اسے تسلیم کرائے تو بہتر ہے کہ تو سن اور اطاعت کر، ورنہ دانتوں سے کاٹتے ہوئے مرجانا درخت کے کونے میں، میں نے عرض کیا اور کیا ہوگا فرمایا دجال نکلے گا اس کے ساتھ نہر اور آگ ہوگی جو شخص اس کی آگ میں واقع ہوگیا پس وہ گرگیا اور اس کا بوجھ بھی گرگیا اور جو شخص اس کی نہر میں واقع ہوگیا تو اس کا بوجھ ثابت ہوگیا اور اس کا اجر گرگیا میں نے عرض کیا پھر کیا ہوگا ! آپ نے فرمایا بلاشبہ وہ قیامت کا قائم ہونا ہوگا۔ قامت بدترین لوگوں پر قائم ہوگی : 71:۔ احمد ومسلم والترمذی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ زمین پر اللہ اللہ نہ کیا جائے۔ 72:۔ الحاکم (وصححہ) نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک کہ زمین میں اللہ اللہ نہ کیا جائے۔ 73:۔ احمد وابو یعلی والحاکم (وصححہ) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت قائم نہ ہوگی جب تک زمین میں اللہ اللہ نہ کیا جائے اور یہاں تک کہ ایک عورت جوتے کے ایک ٹکڑے کے پاس سے گزرے اور کہے گی کہ اس کے لئے کبھی آدمی تھا اور یہاں تک کہ ایک آدمی پچاس عورتوں کی حفاظت کرنے والا ہوگا اور یہاں تک کہ آسمان سے بارش ہوگی۔ اور زمین سے کچھ نہ اگے گا۔ 74:۔ الحاکم (وصححہ) نے انس ؓ سے روایت کیا کہ آپ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ ایسے آدمی پر قیامت قائم نہیں ہوگی جو ” لا الہ الا اللہ “ کہتا ہو اور بھلائی کا حکم کرتا ہو اور برائی سے روکتا ہو۔ 75:۔ الحاکم (وصححہ) اور الذھبی نے (اس کو ضعیف کہا اور) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ زمین پر کوئی ایسا آدمی باقی نہ رہے گا۔ جس میں اللہ کا خوف اور ڈر ہو اور یہاں تک کہ ایک عورت کو دن کے وقت کھلے عام پکڑ لیا جائے گا راستے کے درمیان اس سے نکاح کیا جائے گا اور کوئی اس سے منع نہیں کرے گا اور ان کی مثال لوگوں میں جو یہ کہے گا اگر تو تھوڑا سا اس کو راستے سے ایک طرف لے جاتا تو (اچھا تھا) اور یہ آدمی ان میں ابوبکر وعمر ؓ کی طرح ہوگا۔ 76:۔ احمد والحاکم (وصححہ) نے علباء سلمی (رح) سے مرفوعا روایت ہے کہ قیامت قائم ہوگی مگر گھٹیا اور رذیل لوگوں پر۔ 77:۔ احمد ومسلم نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ ! زمانہ مجھے نہیں پائے گا اور قیامت قائم نہیں ہوگی مگر شریر اور برے لوگوں پر۔ 78:۔ احمد نے سہل بن ساعدی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے اللہ نہ زمانہ مجھے پائے گا اور نہ تم اس زمانہ کو پاؤ گے کہ جس میں کسی علم والے کی پیروی نہیں کی جائے گی اور کسی حلیم سے حیا نہیں کیا جائے گا ان کے دل عجمیوں کے دلوں کی طرح ہوں گے اور ان کی زبانیں عربوں کے زبانوں کی طرح ہوں گی۔ 79:۔ احمد والبخاری ومسلم (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ دوس قبیلے کی عورتوں کے چوتڑ ذوالخلصہ پر حرکت کریں گے اور ذوالخلصہ دوس قبیلہ کے سرکش اور شیطان ہیں زمانہ جاہلیت میں اس کی عبادت کی جاتی تھی۔ 80:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ بتوں کے اردگرد عورتوں کے چوتر حرکت کریں گے (یعنی بتوں کے سامنے عورتیں اپنے چوتڑوں کو مٹکائیں گی) 81:۔ الطبرانی (رح) نے عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کی نشانیوں میں سے عقلیں غائب ہوجائیں گی اور حلم وبردباری کم ہوجائے گی۔ 82:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا ہے قیامت کے قریب اچانک موت ہوگی۔ 83:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے موت کا جلدی آنا بھی ہے۔ 84:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم یہ بات کرتے تھے کہ عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس کے باشندوں میں بہترہو گا جو خیر کو دیکھے گا مگر اس کے قریب ہونے سے بچے گا۔ 85:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے والبیہقی (رح) نے البعث میں طلحہ بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کی نشانیوں میں عربوں کا ہلاک ہونا۔ 86:۔ والحاکم (وصححہ) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ مسجدوں کو راستہ بنالیا جائے گا اور یہاں تک کہ ایک آدمی کسی آدمی کو پہچان رکھنے کے سبب سلام کرے گا اور یہاں تک کہ عورت اپنے خاوند کے ساتھ مل کر تجارت کرے گی اور یہاں تک کہ گھوڑے اور عورتیں مہنگے ہوجائیں گے پھر سستے ہوجائیں گے اور قیامت کے دن مہنگے نہ ہوں گے۔ 87:۔ احمد والبخاری (رح) فی الادب المفرد والحاکم (وصححہ) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت سے پہلے خاص لوگوں کو سلام کیا جائے گا اور تجارت پھیل جائے گی یہاں تک کہ عورت تجارت پر اپنے خاوند کی مدد کرے گی قطع رحمی ہوگی قلم پھیل جائے گا (یعنی کتابیں زیادہ لکھی جائیں گی) اور جھوٹ کی گواہی ظاہر ہوگی اور سچی گواہی چھپائی جائے گی۔ 88:۔ ابن مردویہ اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ ایک آدمی مسجد میں سے گزرے گا اس میں دو رکعت نہیں پڑیگا اور اس آدمی سے سلام کرے گا جس سے پہچان ہوگی اور بچہ بوڑھے اپنے فقر کے سبب کمزور اور ناتواں کردے گا۔ اور ننگے پیر ننگے بدن بکریاں چرانے والے بڑی عمارتوں میں ایک دوسرے پر فخر کریں گے۔ 89:۔ احمد والحاکم (وصححہ) نے عبداللہ بن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہیں ہوگی یہاں تک ہ اللہ تعالیٰ زمین پر سے اچھے اور شریف لوگوں کا گروہ اٹھالے گا اور کمینے اور بدمعاش لوگ رہ جائیں گے نہ وہ اچھی بات کو اچھا سمجھیں گے نہ بری بات کو برا مانیں گے۔ 90:۔ احمد ومسلم والحاکم (وصححہ) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا اگر تیری مدت (زندگی) لمبی ہوجائے تو عنقریب تو ایک قوم کو دیکھے گا جو اللہ کے غصہ میں صبح کریں گے اور اللہ کی لعنت میں شام کریں گے ان کے ہاتھوں میں گائے کی دموں کی طرح (کوڑے) ہوں گے۔ عورتوں کا بےپردہ ہونا علامت قیامت میں سے ہے : 91:۔ الحاکم (صححہ) ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اس امت کے آخر میں ایسے مرد ہوں گے جو میاثر (یعنی بڑی بڑی زینوں پر سواری کریں گے یہاں تک مسجدوں کے دروازے پر آئیں گے ان کی عورتیں جو بظاہر کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی پھر بھی ننگی ہوں گی ان کے سروں پر بختی لاغر اونٹوں کے کوہانوں کی طرح جوڑے ہوں گے تم ان پر لعنت کرو کیونکہ ان پر لعنت کی گئی ہے اگر تمہارے پیچھے امتوں میں سے کوئی امت ہوتی تو وہ ان کی خدمت کرتیں جیسے تمہاری خدمت کی پہلی امتوں کی عورتوں نے تم سے پہلے میں نے اپنے والد سے عرض کیا میاثر کیا ہے ؟ فرمایا س سے مراد ہے بڑی زینیں۔ 92:۔ احمد والحاکم وصححہ نے ابوامامہ ؓ سے مرفوعا روایت کیا کہ اس امت کے آخری زمانے میں کچھ ایسے لوگ نکلیں گے ان کے پاس کوڑے ہوں گے گویا کہ وہ گائے کی دمیں ہیں وہ صبح کریں گے اللہ کے غصہ میں اور شام کریں گے اس کی لعنت میں۔ 93:۔ البزار والحاکم نے ضعیف سند کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ بھیجا ہے یہ دنیا ختم نہیں ہوگی یہاں تک کہ ان پر زمین میں دھنسا اور شکلوں کا بگڑ جانا اور پتھروں کا برسنا ہوگا صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! یہ کب ہوگا ؟ فرمایا جب تم عورتوں کو دیکھو کہ وہ بڑی بڑی زینوں پر سوار ہیں اور کثرت سے گانے بجانے والی عورتیں ہوگئیں ہیں اور جھوٹی گواہیاں عام ہونے لگیں اور نماز پڑھنے والے اہل شرک کے سونے چاندی کے برتنوں میں پینے لگے اور مستغنی ہوگئے ہیں مرد مردوں کے ساتھ اور عورتیں عورتوں کے ساتھ (یعنی مرد مردوں سے اور عورت عورتوں سے اپنی خواہش پورا کریں گے) پھر تم آگے بڑھنے کی کوشش کرو اور خوب تیاری کرو۔ 94:۔ الطبرانی (وصححہ) نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی حکم نہیں بڑھے گا شدت کی طرف اور کوئی مال نہیں بڑھے گا اضافہ کی طرف اور قرأت قائم نہ ہوگی مگر اس کی مخلوق کے برے لوگوں پر۔ 95:۔ ابن ابی شیبہ (رح) واحمد والحاکم (وصححہ) نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے جب ہم واپس ہوئے تو کچھ لوگوں نے جلدی کی اور مدینہ منورہ میں داخل ہوگئے۔ نبی کریم ﷺ نے ان کے بارے میں پوچھا تو آپ کو بتایا گیا کہ انہوں نے مدینہ کی طرف جلدی کی۔ آپ نے فرمایا قریب ہے کہ اسے چھوڑ دیں گے حالانکہ وہ اس سے بہتر حالات میں ہوگا جس میں وہ آج ہے کاش مجھ کو معلوم ہوتا مذاق پہاڑ سے کب آگ نکلے گی اس کے سبب بصری میں روشن ہوجائیں گے بخت کے اونٹوں میں کی گردنیں اور وہ اسے دیکھیں گی دن کی روشنی کی طرح۔ 96:۔ احمد والحاکم نے رافع بن بشر السلمی (رح) سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حبس سیل سے آگے نکلے گی عمدگی کے ساتھ چلے گی رات کو چھپ جائے گی اور دن کو چلے گی صبح کو اور شام آتے جاتے رہیں گے کہا جائے گا اے لوگو آگ آگئی سو تم نکل جاؤ آگ کہے گی اے لوگو ٹھہر جاؤ آگ واپس چلی گئی پس تم بھی واپس آجاؤ جس کو آگ نے پالیا اس کو کھالے گی۔ 97:۔ الحاکم نے ابوالبدا ح بن عاصم انصاری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم سے اس واقعہ کے بارے میں پوچھا جو ابھی پیش نہیں آیا تو آپ نے فرمایا کہ حبس سیل کہاں ہے۔ ہم نے عرض کیا ہم نہیں جانتے پھر بنو سلیم میں سے ایک آدمی میرے پاس سے گزرا میں نے کہا تو کہاں سے آیا اس نے کہا حبس سیل سے اور میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ آدمی بتارہا کہ اس کے اہل و عیال حبس سیل کے مقام پر ہیں نبی کریم ﷺ نے اس سے پوچھا اور فرمایا اپنے اہل و عیال کو وہاں سے نکال لے عنقریب وہاں سے آگ نکلے گی جس کی وجہ سے بصری میں اونٹوں کی گردنیں روشن ہوجائیں گی۔ 98:۔ البخاری ومسلم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ حجاز کی زمین سے آگ نکلے گی جس سے بصری کے اونٹوں کی گردنیں روشن ہوجائیں گی۔ 99:۔ احمد (وصححہ) اور الذھبی نے (اس کو ضعیف کہا اور) معاذ بن انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا امت برابر شریعت پر رہے گی۔ جب تک ان میں سے تین چیزیں ظاہر نہ ہوں گی۔ جب تک ان میں سے علم قبض نہ ہوگا اور ناپاک (یعنی حرامی اولاد کی کثرت نہ ہوگی) اور جب تک ان میں ستاروں ظاہر نہ ہوجائیں گے صحابہ نے عرض کیا ستاروں سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا آخری زمانہ میں ایسے آدمی ہوں گے جو آپس میں سلام کریں گے جبکہ ایک دوسرے پر لعنت کرنے لئے ملاقات کریں گے۔ 100:۔ احمد والحاکم (وصححہ) نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت کے قریب کڑک کے سبب مرنے والے زیادہ ہوجائیں گے لوگ صبح کریں گے تو کہیں گے گزشتہ رات کون کون مرے تو کہیں گے فلاں اور فلاں کڑک کے سبب مرگئے۔ 101:۔ البزار ابویعلی (رح) وابن ابی حبان والحاکم (وصححہ) نے ابوسعید ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا قیامت قائم نہ ہوگی یہاں تک کہ بیت اللہ کا حج نہیں کیا جائے گا۔ 102:۔ الحاکم (وصححہ) جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میری امت میں ایسا خلیفہ ہوگا جو مال دیتا رہے گا اور اس کو شمار نہیں کرے گا۔ پھر فرمایا اس ذات کی قسم کے قبضہ میں میری جان ہے ضرور ضرور لوٹ آئے گا کامل (یعنی دین) جہاں سے شروع ہوا تھا کامل ایمان ضرور لوٹ آئے گا مدینہ کی طرف۔ جیسے مدینہ میں شروع ہوا تھا یہاں تک کہ کل ایمان مدینہ میں ہوگا پھر فرمایا کوئی آدمی کو لے آئیں گے) اور لوگ بھائی کے سستا ہونے اور کھوٹے دراہم کے بارے میں خبر سنیں گے تو وہ اس کے پیچھے لگیں گے اور مدینہ چھوڑ دیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہے۔ اگر وہ جان لیتے۔ 103:۔ الحاکم (وصححہ) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم اپنے سے پہلے ان لوگوں کے طریقوں پر چلوگے یعنی بالشت کے مقابلے میں بالشت اور داغ کے مقابلے میں داغ (یعنی پورے کے پورے ان کے نقش قدم پر چلو گے۔ یہاں تک کہ اگر ان میں سے کوئی کسی گوہ کے سوراخ میں داخل ہوا تھا تو تم بھی داخل ہوگے اور یہاں تک کہ ان میں سے کسی نے اپنی بیوی سے راستے میں جماع کیا تھا تو تم بھی ایسا کروگے۔