Ayahs 21:98–1041:۔ فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ، ابوداود نے ناسخ میں حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) کئی طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم، انتم لھا وردون “۔ نازل ہوئی تو مشرکین نے کہا کہ فرشتے عیسیٰ (علیہ السلام) اور عزیر (علیہ السلام) کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے کیا یہ بھی دوزخ میں جائیں گے تو پھر یہ (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون “ نازل ہوئی کہ جس سے مراد ہیں عیسیٰ (علیہ السلام) ، عزیر اور فرشتے (کہ ان کو جہنم سے دور رکھا جائے گا (
2:۔ ابن مردویہ اور ضیاء نے مختارہ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عبداللہ بن الزبعری نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر یہ آیت اتاری ہے۔ (آیت) ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم، انتم لھا وردون “۔ پھر کہنے لگا سورج کی چاند کی فرشتوں کی عزیر کی اور عیسیٰ بن مریم کی عبادت کی جاتی ہے کیا یہ سب ہمارے خدا وں کے ساتھ آگ میں جائیں گے تو یہ آیت ” ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون (57) وقالواء الھتنا خیر ام ھو ما ضربوہ لک الا جدلا، بل ھم قوم خصمون (58) “ الزخرف) اور پھر یہ (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون “ نازل ہوئی۔
باطل خدا وں کا جہنم میں جلنا :
3:۔ ابوداود نے ناسخ میں ابن منذر، ابن مردویہ، طبرانی نے دوسری سند سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ (آیت) ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم، انتم لھا وردون “۔ نازل ہوئی تو یہ آیت مکہ والوں پر بھاری گذری اور انہوں نے کہا ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہا گیا ابن الزبعری نے کہا میں تمہارے لئے محمد ﷺ سے جھگڑا کروں گا میرے لئے ان کو بلاوپس آپ کو بلایا گیا تو اس نے اے محمد ﷺ کیا یہ حکم ہمارے معبودوں کے لئے خاص ہے ؟ یا ہر اس معبود کے لئے ہے جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے آپ نے فرمایا بلکہ ہر اس شخص کے لئے ہے جس کی عبادت کی جاتی ہے۔ ابن الزبعری نے کہا تجھ سے میں جھگڑا کروں گا اس کعبہ کے رب کی قسم اے محمد ﷺ کیا تو گمان نہیں کرتا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نیک بندے تھے عزیر (علیہ السلام) بھی نیک بندے تھے اور فرشتے بھی نیک سیرت (مخلوق) ہے تو آپ نے کہا کیوں نہیں تو اس نے کہا یہ عیسائی عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کرتے ہیں اور یہ یہود عزیر (علیہ السلام) کی عبادت کرتے ہیں اور یہ بنو ملیح فرشتوں کی عبادت کرتے ہیں اہل مکہ نے شور مچایا اور خوش ہوئے تو یہ (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون “ یہ لوگ جن ہم سے دور رکھے جائیں گے اور یہ آیت بھی نازل ہوئی یت ” ولما ضرب ابن مریم مثلا اذا قومک منہ یصدون (الزخرف 57) اور کہا کہ یہ صحیح روایت ہے۔
4:۔ بزار نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ (آیت) ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم، انتم لھا وردون “ نازل ہوئی پھر اس کو (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون “ نے منسوخ کردیا یعنی عیسیٰ (علیہ السلام) اور جو ان کے ساتھ ہیں (ایمان والے لوگ ان کو اللہ تعالیٰ جہنم سے دور رکھیں گے)
5:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم، انتم لھا وردون “ یعنی (جھوٹے) معبود اور جو ان کی عبادت کرتا تھا۔
6:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” حصب جھنم “ سے مراد ہے اس کا ایندھن۔
7:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” حصب جھنم “ سے مراد ہے جہنم کے درخت۔
8:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” حصب جھنم “ سے مراد ہے جہنم کا ایندھن زنجیہ زبان میں۔
9:۔ عبد بن حمید اور ابن جریر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” حصب جھنم “ سے مراد ہے جہنم کا ایندھن۔
10:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” حصب جھنم “ سے مراد ہے کہ وہ جہنم میں پھینکے جائیں گے۔
11:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے راویت کیا کہ (آیت) ” حصب جھنم “ سے مراد ہے اس کی لکڑیاں، بعض قراء نے کہا (آیت) ” حصب جھنم “ عائشہ ؓ کی قرأت میں ہے۔
12:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” حصب جھنم “ سے مراد ہے جہنم کو ان معبودوں کے ساتھ بھڑکایا جائے گا اور ہو پھینکنا ہے فرماتے ہیں کہ ان کو جہنم میں پھینکا جائے گا۔
13:۔ ابن جریر نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حصب جھنم “ کو ضاد کے ساتھ پڑھا ہے۔
14:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن ابی الدنیا نے صفۃ النار میں طبرانی اور بیہقی نے بعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آگ میں صرف وہ باقی رہ جائیں گے جن کو ہمیشہ اس میں رہنا ہے تو مشرکین کے معبودوں کو آگ کے لوہے کے صندوقوں میں ڈال دیا جائے گا جس میں آگ کے لوہے کی کیلیں ہوں گی پھر ان صندوقوں کو لوہے کے اور صندوقوں میں ڈال دیا جائے گا پھر ان کو جہنم کے نچلے درجے میں پھینک دیا جائے گا وہ ان میں سے کسی ایک کو نہ دیکھے گا کہ اس کے علاوہ بھی کوئی آگ میں عذاب دیا جارہا ہے پھر ابن مسعود ؓ نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” لھم فیھا زفیر وھم فیھا لایسمعون “۔
15:۔ ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی “ سے عیسیٰ فرشتے اور عزیر (علیہ السلام) مراد ہیں۔
16:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے راویت کیا کہ (آیت) ” اولئک عنھا مبعدون “ سے عیسیٰ (علیہ السلام) عزیر (علیہ السلام) اور فرشتے مراد ہیں۔
17:۔ ابن ابی حاتم نے اصبغ کے طریق سے علی ؓ سے روایت کیا کہ اس (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی “ سے مراد ہے کہ ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا عبادت کی جاتی ہے وہ آگ میں ہوگی سوائے سورج اور چاند اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے (کہ وہ آگ میں نہ ہوں گے)
انبیاء اولیاء سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ :
18۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی “۔ سے اولیاء اللہ مراد ہیں جو پل صراط پر گذریں گے اور وہ بجلی سے زیادہ تیز رفتار ہوں گے تو ان کو آگ نہیں پہنچے گی اسی کو فرمایا (آیت) ” لا یسمعون حسیسھا “ (کہ وہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے) اور کفار اس میں قیدی ہو کر باقی رہ جائیں گے۔
19:۔ ابن ابی حاتم، ابن عدی اور ابن مردویہ نے نعمان بن بشیر (رح) سے روایت کیا کہ علی ؓ نے یہ (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون “ پڑھی اور فرمایا میں ان میں سے ہوں اور عمران میں سے ہیں اور عثمان ان میں سے ہیں اور زبیر اور طلحہ اور سعد اور عبدالرحمن ان میں سے ہیں۔
20:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابوعثمان نہدی (رح) سے (آیت) ” لایسمعون حسیسھا “ کے بارے میں فرمایا کہ پل صراط پر سانپ ہوں گے جو کفار کا کاٹیں گے جب وہ ان کو دسیں گے تو ہو کہیں گے حس حس۔
21:۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پل صراط پرسانپ ہیں جو حس حس کہتے ہیں۔
22:۔ ابن مردویہ، ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے سعادت مندی۔
23:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، اور ابن جریر نے محمد بن حاطب (رح) سے روایت کیا کہ علی ؓ سے اس آیت (آیت) ان الذین سبقت لھم منا الحسنی “ کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا اس سے عثمان ؓ اور اس کے اصحاب مراد ہیں۔
24:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” لا یسمعون حسیسھا “ کے بارے میں روایت کیا کہ جنت والے دوزخ والوں کی آہٹ کو بھی نہ سنیں گے جب وہ جنت کے گھروں میں آکر ٹھہریں گے۔
25:۔ عبد بن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سفیان ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لایسمعون حسیسھا “ سے مراد ہے اس کی آواز۔
26:۔ ابن جریر نے عکرمہ ؓ اور حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ سورة انبیاء میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جھنم، انتم لھا وردون “ سے لے کر (آیت) ” وھم فیھا لایسمعون “ تک پھر اس میں سے استثناء کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون “ کیونکہ اللہ کے علاوہ فرشتے عزیر اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی عبادت کی گئی لیکن ہو اس عبادت کو پسند نہیں کرتے تھے اس لئے ان کو مستثنی کردیا گیا۔
27:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں میں سے کچھ لوگ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ان الذین سبقت لھم منا الحسنی اولئک عنھا مبعدون “ تو اس سے سب لوگ مراد ہیں حالانکہ اس طرح نہیں ہے (بلکہ) جو شخص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا ہے اور وہ اللہ کے لئے فرمانبرداری کرنے والا مثلا عیسیٰ (علیہ السلام) ان کی والدہ اور عزیر (علیہ السلام) اور فرشتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان معبودان باطلہ سے الگ کردیا ہے۔
28:۔ ابن ابی الدنیا نے صفۃ النار میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لایحزنھم الفزع الاکبر “ سے مراد ہے کہ جب جہنم کو جہنمیوں پر بند کردیا جائے گا۔
29:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لایحزنھم الفزع الاکبر “ سے مراد ہے دوسرا صورپھونکا جانا۔
30:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر ؓ سے (آیت) ” لایحزنھم الفزع الاکبر “ کے بارے میں فرمایا کہ جب کفار پر دوزخ کو بند کردیا جائے۔
31:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” لایحزنھم الفزع الاکبر “ سے مراد ہے جب آگ کو کفار پر بند کردیا جائے گا (تو یہ بڑی گھبراہٹ ہوگی) ،
32:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” لایحزنھم الفزع الاکبر “ سے مراد ہے بندے کا لوٹنا (جہنم کی طرف) جب اس کو حکم دیا جائے گا آگ کی طرف (تو یہ بڑی گھبراہٹ ہوگی)
33:۔ ابن جریر (رح) نے فرمایا کہ (آیت) ” لایحزنھم الفزع الاکبر “ سے مراد ہے (بڑی گھبراہٹ جب ہوگی) جب کہ جہنم کو بند کیا جائے گا اور فرمایا جب موت کو ذبح کیا جائے گا (تو گھبراہٹ ہوگی ) ۔
34:۔ بزار اور ابن مردویہ نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مہاجرین کے لئے سونے کے ممبر ہوں گے قیامت کے دن ان پر بیٹھیں گے اور گھبراہٹ سے امن میں ہوں گے۔
35:۔ طبرانی نے اوسط میں ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تاریکی میں چلنے والے (نماز کی طرف) ان کے لئے قیامت کے دن نور ہوگا منابر کی خوشخبری ہے اس دن لوگ گھبرا رہے ہوں گے اور وہ نہیں گھبرائیں گے۔
36:۔ طبرانی نے اوسط میں ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک دوسرے سے محبت کرنے والے اللہ کے لئے اس دن اللہ کے عرش کے سایہ میں ہوں گے جب ان کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا اور وہ نور کے منبروں پر ہوں گے لوگ گھبرا رہے ہوں گے اور وہ نہیں گھبرائیں گے۔
37:۔ احمد اور ترمذی نے (ترمذی نے حسن بھی کہا ہے) ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تین آدمی مشک کے ٹیلوں پر ہوں گے ان کو بڑی گھبراہٹ پریشان نہیں کرے گی قیامت کے دن ایک وہ آدمی جس نے اپنی قوم کی اعانت کی اور وہ اس سے راضی رہے دوسرا وہ آدمی جو ہر دن اور رات میں اذان دیتا ہے اور وہ غلام جس نے اللہ تعالیٰ کا حق ادا کیا اور اپنے آقا کا بھی حق ادا کیا۔
38:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ وتتلقھم الملئکۃ “ سے مراد ہے کہ ان سے فرشتے ملاقات کریں گے قیامت کے دن جو ان کے ساتھی تھے دنیا میں اور وہ کہیں گے ہم تمہارے ساتھی تھے دنیا میں اور آخرت میں بھی تمہارے ساتھی ہیں ہم تم سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ تم جنت میں داخل نہ ہوجاؤ۔
39:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” ھذا یومکم الذی کنتم تو عدون “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ (کہاجائے گا) ان کے جنت میں داخل ہونے سے پہلے۔
40:۔ عبد بن حمید نے علی ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” کطی السجل “ سے مراد ہے فرشتہ۔
41:۔ عبد بن حمید نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کطی السجل “ ایک فرشتہ کا نام ہے۔
42:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” یوم نطوی السمآء کطی السجل للکتب “ میں السجل سے مراد ہے فرشتہ جب وہ استغفار کے ساتھ اوپر چڑھتا ہے تو فرماتے ہیں اس کو نور لکھ دو ۔
43:۔ ابن ابی حاتم اور ابن عساکر نے ابوجعفر باقر (رح) سے روایت کیا کہ سجل ایک فرشتہ ہے اور ھاروت ماروت اس کے مددگاروں میں سے تھے اس کے لئے ہر دن تین لمحات ایسے ہوتے ہیں جس میں وہ ان کو ام الکتاب میں دیکھتا تھا ایک دفعہ اس نے دیکھا جب کہ اس وقت اس کو دیکھنے کی اجازت نہ تھی اس نے دیکھا کہ آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا جائے گا اس کے کاموں کو بھی دیکھا اس نے یہ بات چپکے سے ھاروت ماروت کو پہنچا دی جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ’ ’ انی جاعل فی الارض خلیفۃ، قالوا اتجعل فیھا من یفسد فیھا “ (البقرہ آیت 30) تو کہا یہ (انسانوں کا) غالب آنا ہے فرشتوں پر۔
44:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ سجل ایک فرشتہ ہے جو مقرر کیا گیا ہے اعمال نامہ پر جب کوئی انسان فوت ہوتا ہے تو اس کی کتاب یعنی اعمال نامہ فرشتے کے حوالے کیا جاتا ہے وہ اسے لپیٹ دیتا ہے اور قیامت کے دن تک اس کو رکھ دیتا ہے۔
45:۔ عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ سجل سے مراد ہے اعمال نامہ۔
46:۔ ابوداود، نسائی، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مندہ نے معرفہ میں ابن مردویہ اور بیہقی نے سنن میں (بیہقی نے صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ السجل نبی کریم ﷺ کے ایک کاتب تھے۔
47:۔ ابن منذر، ابن عدی اور ابن عساک نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سجل رسول اللہ ﷺ کے ایک کاتب تھے جن کو سجل کہا جاتا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اس قول (آیت) ” یوم نطوی السمآء کطی السجل للکتب “ سے یہی مراد ہے۔
48:۔ نسائی، ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ اور ابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سجل ایک آدمی ہے اور ابن مردویہ نے یہ زیادہ کیا کہ یہ حبشہ کی لغت ہے۔
49:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” کطی السجل للکتب “ کے بارے میں فرمایا کہ جیسے صحیفہ لپیٹا جاتا ہے کتاب پر۔
50:۔ ابن جریرنے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” کما بدانا اول خلق نعیدہ “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم ہلاک کردیں گے ہر چیز کو جیسے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اسی طرح دوسری مرتبہ پیدا کردیں گے۔
51:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” کما بدانا اول خلق نعیدہ “ سے مراد ہے کہ ہم ان کو ننگے بدن ننگے پاوں اور غیر مختون لوٹائیں گے۔
کیا بڑھیا جنت میں نہ جائے گی ؟
52:۔ ابن جریر نے عائشہ ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور اس وقت میرے پاس بنوعامر میں سے ایک بڑھیا بیٹھی ہوئی تھی آپ نے پوچھا اے عائشہ یہ بڑھیاکون ہے ؟ عرض کیا میری خالاوں میں سے ایک خالہ ہے اس بڑھیا نے کہا اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ مجھے جنت میں داخل کردے آپ نے فرمایا جنت میں کوئی بڑھیا داخل نہ ہوگی (یہ بات سن کر) وہ بڑھیا انتہائی پریشان ہوئی (اور رونے لگی) تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ بوڑھیوں کو نئے سرے سے پیدا فرمائے گا تم دوبارہ اٹھوگے تو تم ننگے پاوں ننگے بدن اور بغیر ختنہ کے ہوں گے بڑھیا نے کہا پاک ہے اللہ سے یہ بہت دور ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے (آیت) ” کما بدانا اول خلق نعیدہ وعدا علینا انا کنا فعلین “ سب سے پہلے ابراھیم خلیل الرحمن کو لباس پہنایا جائے گا۔
53:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آدم (علیہ السلام) کے قد پر اور ان کے جسم پر اٹھائیں گے اور ان کی زبان سریانی ہوگی (لوگ) ننگے بدن ننگے پاوں اور بغیر ختنہ کے ہوں گے جیسے (پہلی بار ماں کے پیٹ سے) پیدا کئے گئے۔
Ayahs 21:105–1081:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر “ سے مراد ہے قرآن (اور) الارض سے مراد جنت کی زمین۔
2:۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر “ میں بالذکر سے مراد ہے کہ ہم نے قرآن میں لکھ دیا تورات کے بعد اور الارض سے مراد ہے جنت کی زمین۔
3:۔ ابن جریر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر “ میں بالذکر سے مراد ہے تورات اور بالزبور سے مراد ہے تورات کے بعد کی کتابیں۔
4:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور “ سے مراد ہے کتابیں اور ” من بعد الذکر “ سے مراد ہے تورات۔
توراۃ، انجیل، زبور :
5:۔ سعید بن منصور اور ابن مردویہ نے ابن عباسؓ اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں الزبور سے مراد تورات، انجیل اور قرآن اور الذکر سے مراد وہ اصل ہے جس سے یہ کتابیں نقل کی گئیں اور وہ اصل آسمان و زمین میں ہے اور الارض سے جنت کی زمین مراد ہے۔
6:۔ ھناد، عبد بن حمید، اور ابن جریر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور “ میں الزبور سے مراد ہے تورات، انجیل، قرآن ،” من بعد الذکر “ میں الذکر سے مراد وہ ہے جو آسمان میں ہے۔
7:۔ عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں فرمایا کہ زبور سے مراد ہے کتابیں اور ذکر سے مراد ہے لوح محفوظ جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور زمین سے مراد ہے جنت کی زمین۔
8:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ زبور سے مراد وہ کتابیں جو انبیاء پر نازل ہوئیں اور ذکر سے مراد ہے ام الکتاب کہ جس میں اس سے پہلے اشیاء لکھی گئیں۔
9:۔ فریابی، ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ان الارض یرثھا عبادی الصلحون “ میں زمین سے مراد ہے جنت کی زمین۔
10:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اس (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ سبحانہ نے خبر دی ہے تورات میں اور زبور میں اور ان کا علم آگے بڑھ گیا آسمانوں اور زمین کے ہونے سے پہلے کہ اللہ تعالیٰ وارث بنائے گا محمد ﷺ کی امت کو زمین کا اور انکو جنت میں داخل کرے گا اور وہ نیک لوگ ہوں گے (اور فرمایا) (آیت) ” لبلغا لقوم عبدین “ کہ اس میں عابدین سے مراد ہے عالمین یعنی جاننے والے۔
11:۔ بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکران الارض یرثھا عبادی الصلحون “ سے مراد ہے جنت کی زمین اور اس کا ان لوگوں کو وارث بنائیں گے جو جماعت کے ساتھ پانچوں نمازیں پڑھتے ہیں۔
12:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد کتبنا فی الزبور من بعد الذکر “ میں الزبور سے مراد داود (علیہ السلام) کی کتاب ہے اور الذکر سے مراد تورات ہے (آیت) ” ان الارض یرثھا “ یعنی جنت (کی زمین ) ۔
عبد بن حمید وابن ابی حاتم سے عکرمہ ؓ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔
13:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے داود (علیہ السلام) کی زبور میں یہ لکھ دیا تورات کے بعد۔
14:۔ ابن جریر نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان الارض یرثھا “ سے مراد ہے جنت۔
15:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ان الارض یرثھا عبادی الصلحون “ سے مراد ہے جنت اور یہ آیت پڑھی۔ (آیت) ” وقالوا الحمد للہ الذی صدقنا وعدہ واورثنا الارض نتبوا من الجنۃ حیث نشآء “ (الزمر آیت 74) پھر فرمایا کہ جنت وہ ہے کہ اس کا شروع ہونا زمین میں ہے پھر اس کے درجات بلند ہیں اور آگ وہ ہے کہ اس کی ابتداء بھی زمین میں ہے اور ان کے درمیان پردہ ہے اور ایک دیوار ہے کوئی اس کو نہیں جانتا وہ دیوار کیسی ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی ” باب، باطنہ فیہ الرحمۃ وظاہرہ من قبلہ العذاب “ (الحدید آیت 12) پھر فرمایا کہ اس کے درجے نیچے چلے جاتے ہیں زمین میں اور جنت کے درجے آسمان میں اوپر چلے جاتے ہیں۔
مومنین کی روحوں کا اکٹھے ہونا :
16:۔ ابن جریر نے صفوانؓ سے روایت کیا کہ میں نے عامر بن عبداللہ ابوالیمان ؓ سے پوچھا کیا ایمان والوں کی روحیں جمع ہوں گی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ولقد کتبنا فی الزبور من بعدالذکر ان الارض یرثھا عبادی الصلحون “ یعنی اس آیت میں جب زمین کا ذکر ہے اس میں تمام مومنیں کی روحیں جمع ہوں گی یہاں تک کہ دوبارہ اٹھنا ہوگا۔
17:۔ بخاری نے تاریخ میں اور ابن ابی حاتم نے ابودرداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ان الارض یرثھا عبادی الصلحون “ اور ہم صالحون (یعنی نیک لوگ) ہیں۔
18۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان فی ھذا لبلغا القوم عبدین “ سے مراد ہے کہ ہر ایک کے بارے میں کہا گیا بلاشبہ اس سورت میں اور اس قرآن مجید میں جو احکام ہیں وہ جنت میں داخل ہونے کا سبب ہیں۔
19:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” ان فی ھذا لبلغا القوم عبدین “ کے بارے میں فرمایا کہ اس قرآن سے البتہ نفع ہے اور علم ہے (آیت) ” لقوم عبدین “ یعنی عبادت کرنے والی قوم کے لئے اور یہ پہچانے والا ہے (جنت میں)
20:۔ ابن جریر نے کعب بن احبار ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان فی ھذا لبلغا القوم عبدین “ سے مراد محمد ﷺ کی امت ہے۔
21:۔ ابن جریر نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان فی ھذا لبلغا القوم عبدین “ میں قوم سے مراد محمد ﷺ کی امت ہے جو رمضان کے روزے رکھتے ہیں اور پانچوں نمازیں ادا کرتے ہیں۔
22:۔ سعید بن منصور اور ابن منذر نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان فی ھذا لبلغا القوم عبدین “ سے مراد ہے پانچوں نمازوں میں عبادت کے لئے مشغول ہونے والے۔
23:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے یہ آیت (آیت) ” لبلغا القوم عبدین “ پڑھی اور فرمایا کہ پانچوں نمازوں کو مسجد حرام میں جماعت کے ساتھ پڑھنے والے۔
24:۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں محمد بن کعب (رح) نے فرمایا (آیت) ” ان فی ھذا لبلغا القوم عبدین “ سے مراد ہے پانچوں نمازیں۔
25:۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے (آیت) ” لقوم عبدین “ کے بارے میں فرمایا کہ جو لوگ پانچوں نمازوں کو باجماعت کے ساتھ ہمیشہ ادا کرنے والے۔
26:۔ قتادہ ؓ نے روایت کیا کہ (آیت) ” لقوم عبدین “ سے مراد ہے عمل کرنے والے۔
27:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم، ابن مردویہ، طبرانی اور بیہقی نے دلائل میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین “ کے بارے میں روایت کیا کہ جو ایمان لے آیا اس کے لئے رحمت پوری ہوگئی دنیا میں اور آخرت میں اور جو شخص ایمان نہیں لایا تو اسے رسول اللہ کی رحمت سے یہ حصہ ملا کہ وہ صورتیں مسخ ہونے سے اور زمین میں دھنس جانے اور پتھر برسنے جیسے عذاب سے محفوظ ہوگیا یہ عذاب پہلی امتوں کو جلدی دیئے گئئے اور وہ عذابوں سے بچالیا گیا۔
28:۔ مسلم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ پوچھا گیا یا رسول اللہ ﷺ مشرکین پر بددعا کیجئے آپ نے فرمایا میں لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا ہوں بلاشبہ میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں۔
29:۔ ابونعیم نے دلائل میں ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور ہدایت بنا کر بھیجا ہے متقین کے لئے۔
رسول اللہ ﷺ کا رحمت ہونا :
30:۔ احمد ابوداود اور طبرانی نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میرے امت میں سے میں نے کسی آدمی کو برا بھلا کہا ہو اپنے غصے میں یا اس کو لعنت کی ہو کیونکہ میں ایک آدمی ہوں آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے میں اس طرح غصہ ہوتا ہوں جس طرح تم غصہ ہوتے ہو (اللہ تعالیٰ نے) مجھے جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے اور (اللہ تعالیٰ ) اس کو ( یعنی میرے برا بھلا کہنے کو اور میری لعنت کرنے کو) اس پر رحمت بنادیں گے قیامت کے دن۔
31:۔ بیہقی نے دلائل میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ میں اللہ کی وہ رحمت ہوں جو اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تحفہ کے طور پر عطا فرمائی ہے۔
32:۔ عبد بن حمید نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ کہا گیا کہ یارسول اللہ ﷺ کیا آپ ان قریش پر لعنت نہیں کرتے جو (برے ارادے سے) آپ کے پاس آتے ہیں آپ نے فرمایا مجھے لعنت کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا بلاشبہ میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت) ” وما ارسلنک الا رحمۃ للعلمین “
Ayahs 21:109–1101:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” علی سوآء “ سے مراد ہے ” علی مہل “ (یعنی میں نے تم کو پوری طرح آگاہ کردیا ہے )
Ayahs 21:111–1121:۔ ابن ابی شیبہ اور ابن عساکر نے ربیع بن انس ؓ سے روایت کیا کہ جب نبی اکرم ﷺ کو معراج نصیب ہوئی (یعنی آپ آسمانوں پر تشریف لے گئے) تو اللہ تعالیٰ نے یہ (آیت) ” وان ادری لعلہ فتنۃ لکم ومتاع الی حین “ اتاری پھر فرماتے ہیں کہ اس سے مراد فرشتہ ہے۔
حضرت حسن و معاویہ ؓ میں صلح :
2:۔ ابن سعد، ابن ابی شیبہ اور بیہقی نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ جب حسن بن علی ؓ جب معاویہ ؓ کے حق میں دستبردار ہوگئے معاویہ ؓ نے ان سے فرمایا کھڑے ہوجائیے خطبہ ارشاد فرمائیے تو انہوں نے اللہ کی حمد اور ثناء بیان کی پھر فرمایا میں نے یہ حکومت چھوڑ دی ہے معاویہ ؓ کے حق میں مسلمانوں کی اصلاح کا ارادہ کرتے ہوئے اور ان کے خونوں کو روکتے ہوئے (اور یہ آیت پڑھی (آیت) ” وان ادری لعلہ فتنۃ لکم ومتاع الی حین “ پھر استغفار پڑھا اور (منبر سے) اتر آئے۔
3:۔ بیہقی نے زہری (رح) سے روایت کیا کہ حسن ؓ نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے فرمایا اما بعد اے لوگو اللہ تعالیٰ نے ہم کو ہدایت دی ہمارے پہلے لوگوں کے ذریعہ اور تمہارے خونوں کو محفوظ فرمایا ہمارے پچھلے لوگوں کے ذریعہ اور بلاشبہ اس حکومت کے لئے ایک مدت ہے اور دنیا کا معاملہ گردش میں رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کے لئے فرمایا (آیت) ” وان ادری لعلہ فتنۃ لکم (سے لے کر) ومتاع الی حین “ تک یعنی سارا زمانہ اور اللہ تعالیٰ کا قول (آیت ) ’ ھل اتی علی الانسان حین من الدھر “ (الدھر آیت 1) زمانے سے مراد ہے سارا زمانہ اور اللہ تعالیٰ کا قول (آیت ) ’ ’ توتی اکلھا کل حین باذن ربھا “ (ابراہیم آیت 25) فرمایا اس سے کھجور مراد ہے جب وہ پھل دے اس کے توڑنے تک اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول بھی ہے (آیت ) ’ لیسجننہ حتی حین “ (یوسف آیت 36) ۔
4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وان ادری لعلہ فتنۃ لکم “ کے بارے میں روایت کیا کہ میں نے تم کو جو عذاب اور قیامت کی خبردی ہے ہوسکتا ہے وہ کچھ مدت تم سے موخر فرما دے۔
5:۔ ابن جریر اور ابن منذرنے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” قل رب احکم بالحق “ کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نہیں فیصلہ فرماتے مگر حق کے ساتھ اور نبی اکرم ﷺ تمہارے لئے وہ دنیا میں جلدی طلب کرتے ہیں اور وہ اپنی قوم پر اپنے رب کا سوال کرتے ہیں۔
6:۔ عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ جب حاضر ہوتے تھے (کافروں سے) لڑنے کئے تو یہ فرماتے تھے (آیت) ” رب احکم بالحق “۔
7:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ انبیاء (علیہم السلام) (یہ دعا) فرمایا کرتے تھے (آیت ) ’ ربنا افتح بیننا وبین قومنا بالحق وانت خیرالفتحین “ (الاعراف آیت 89) پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم فرمایا کہ یوں کہو (آیت) ” رب احکم بالحق “ یعنی فیصلہ کیجئے حق کے ساتھ اور رسول اللہ ﷺ جانتے تھے کہ وہ حق پر ہیں اور ان کے دشمن باطل ہیں پھر بھی دشمن سے مقابلہ ہوتا تو (یہ دعا) فرماتے (آیت ) ’‘’ رب احکم بالحق “ (اے میرے رب حق کے ساتھ فیصلہ فرمائیے) واللہ اعلم۔
الحمد للہ
سورۃ الانبیاء کے ساتھ جلد 5 مکمل ہوئی :