21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 21:87–88

وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَیْهِ فَنَادٰى فِی الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّیْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَۚۖ Open ayah 21:87 in the Quran reader

اور مچھلی والے کو یاد کرو جبکہ وہ غصہ ہو کر چل دیئے سو انہوں نے گمان کیا کہ ہم ان کے ساتھ تنگی والا معاملہ نہ کریں گے سو انہوں نے اندھیروں میں یوں پکارا (آیت ) ” لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ۙ وَ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْغَمِّ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نُـْۨجِی الْمُؤْمِنِیْنَ Open ayah 21:88 in the Quran reader

سو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں غم سے نجات دے دی اور ہم اسی طرح ایمان والوں کو نجات دیتے ہیں۔

حضرت یونس (علیہ السلام) کا واقعہ : 1:۔ ابن جریر اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وذالنون اذ ذھب مغاضبا “ سے مراد ہے کہ وہ اپنی قوم پر غصہ ہوئے۔ (آیت) ” فظن ان لن نقدر علیہ “ یعنی (انہوں نے گمان کیا) کہ ہم ان کو سزا دینے پر قادر نہیں جو انہوں نے اپنی قوم پر ناراضگی کا اظہار کیا اور وہاں سے بھاگ گئے روای ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ ان کو یہ سزا ملی کہ انکو مچھلی نے پکڑ لیا۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے (آیت) ” وذالنون اذ ذھب مغاضبا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ اپنی قوم پر غصہ ہوئے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے عمرو بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ انبیاء (علیہم السلام) اکھٹے ہوتے تھے اور ان پر ایک ایسا ہوتا تھا کہ جس کی طرف وحی کی جاتی تھی کہ فلاں کو بنو فلاں کی طرف بھیجا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” اذ ذھب مغاضبا “ یعنی اس نبی سے ناراض ہو کر گئے۔ 4:۔ ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے (آیت) ” فظن ان لن نقدر علیہ “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے گمان کیا کہ اسے وہ عذاب نہیں پہنچے گا جو ان کو پہنچنا تھا۔ 5:۔ احمد نے زہد میں عبد بن حمید اور ابن منذر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” اذ ذھب مغاضبا “ یعنی وہ بھاگ کھڑے ہوئے (آیت) ” فظن ان لن نقدر علیہ “ اور ان کا خیال تھا کہ ہم اس پر قادر نہیں ہیں حضرت ذوالنون (علیہ السلام) کا پہلے نیک عمل تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس عمل کو نہیں چھوڑا اور اسی عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا کو قبول فرمایا اور ان کی مدد فرمائی۔ 6:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم نے اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” فظن ان لن نقدر علیہ “ (گمان کیا کہ ہم اس وجہ سے ان کو ہرگز سزا نہ دیں گے) 7:۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے (آیت) ” فظن ان لن نقدر علیہ “ کے بارے میں فرمایا کہ (انہوں نے گمان کیا) کہ ہم ان کے خلاف ہرگز فیصلہ نہ کریں گے۔ 8:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فظن ان لن نقدر علیہ “ یعنی انہوں نے گمان کیا کہ ہم ہرگز انکے خلاف سزا کا فیصلہ نہ کریں گے اور نہ کسی مصیبت کا اس کے غصہ کے سبب جو انہوں نے اپنی قوم پر کیا تھا پھر اپنی قوم کو چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کی تسبح : 9:۔ عبد بن حمید نے عبداللہ بن حارث (رح) سے روایت کیا کہ جب مچھلی نے حضرت یونس (علیہ السلام) کو نگل لیا تو اس نے ان کو سمندر کی تہہ میں ڈال دیا تو انہوں نے زمین کی تسبیح کو سنا اور وہ چیز تھی جو ان کی حاجت تھی پھر انہوں نے اس تسبیح کے ساتھ اللہ کو پکارا۔ 10:۔ بیہقی نے الاسماء والصفات میں حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فظن ان لن نقدر علیہ “ یعنی انہوں نے گمان کیا کہ ہم ہرگز ان کو سزا نہیں دیں گے (آیت) ” فنادی فی الظلمت “ (یعنی تین اندھیروں میں اللہ کو پکارا) رات کا اندھیرا سمندر کا اندھیرا اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا (آیت) ” لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین “ (یہ تسبیح سن کر) فرشتوں نے کہا کہ یہ جانی پہچانی آواز ہے جو اجنبی زمین سے آرہی ہے۔ 11:۔ ابن جریر نے قتادہ اور کلبی دونوں حضرات سے روایت کیا کہ (آیت) ” فظن ان لن نقدر علیہ “ سے مراد ہے کہ انہوں نے گمان کیا کہ ہم ہر گزان کے خلاف کسی سزا کا فیصلہ نہیں کریں گے۔ 12:۔ ابن جریرنے سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فنادی فی الظلمت “ سے مراد ہے رات کا اندھیرا سمندر کا اندھیرا اور مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا۔ ابن جریر نے محمد بن کعب عمرو بن میمون اور قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ احمد نے زہد میں سعید بن جبیر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 13:۔ احمد نے زہد میں ابن ابی الدنیا نے کتاب الفرج بعد الشدۃ میں ابن ابی حاتم اور حاکم نے (حکاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” فنادی فی الظلمت “ سے مراد ہے رات کا اندھیرا مچھلی کے پیٹ کا اندھیرا اور سمندر کا اندھیرا۔ 14:۔ ابن جریر نے سالم بن ابی الجعد (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مچھلی کی طرف وحی بھیجی کہ تو نے یونس (علیہ السلام) کو تکلیف نہیں پہنچائی نہ ان کے گوشت کو اور نہ ان کی ہڈی کو پھر اس مچھلی کو دوسری مچھلی نے نگل لیا پھر فرمایا (آیت) ” فنادی فی الظلمت “ یعنی ایک مچھلی کا اندھیرا، پھر دوسری مچھلی کا اندھیرا، پھر دریا کا اندھیرا۔ 15:۔ ابن منذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ہر تسبیح سے مراد قرآن میں نماز ہے مگر اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ” سبحنک انی کنت من الظلمین “۔ سے مراد نماز نہیں ہے۔ 16:۔ زبیر بکار نے موفقیات میں کلبی کے طریق سے ابو صالح سے اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ معاویہ ؓ نے ایک دن ان سے فرمایا گذشتہ رات میں قرآن مجید کی دو آیتوں کے بارے میں مضطرب ہوا اور میں نے انکی حقیقت کو نہیں جانا پوچھا وہ کون سی آیتیں ہیں ؟ فرمایا اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ” وذالنون اذ ذھب مغاضبافظن ان لن نقدر علیہ “۔ اور (دوسرا) اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ” حتی اذا استیئس الرسل وظنوا انہم قد کذبوا “ (یوسف آیت 110) حضرت معاویہ ؓ نے فرمایا کہ حضرت یونس (علیہ السلام) ایسا کس طرح گمان کرسکتے تھے اور یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انہوں نے گمان کیا کہ جو ان سے وعدہ کیا گیا تھا وہ ٹھیک نہ تھا ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یونس (علیہ السلام) نے یہ گمان فرمایا (کہ بغیر اجازت چلے جانے میں) وہ ایسی غلطی نہیں پہنچے کہ اللہ تعالیٰ اس پر سزا کا فیصلہ فرمائیں گے اور ان کو کوئی شک نہیں تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ اس سزا کا ارادہ فرمائیں گے تو وہ اس پر قادر ہوں گے اور دوسری آیت کا مطلب یہ ہے کہ بلاشبہ رسول مایوس ہوگئے اپنی قوم کے ایمان سے اور انہوں نے گمان کرلیا کہ جس شخص نے ان کی نافرمانی کی ظاہر میں راضی کرتے ہوئے تو تحقیق اور اندر سے انہوں نے جھٹلایا اور یہ ان پر لمبی مصیبت آجانے کی وجہ سے ہوا اور رسول اللہ کی مدد سے مایوس نہیں ہوئے تھے اور نہ انہوں نے گمان کیا تھا کہ ان سے وعدہ کیا گیا تھا وہ ٹھیک نہ تھا (یہ جواب سن کر) معاویہ ؓ نے فرمایا اے ابن عباس ؓ تو نے میری مشکل حل کردی اللہ تعالیٰ تیری مشکلات حل کردے۔ قوم یونس سے عذاب کا ٹلنا : 17:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب یونس (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو دعوت دی (اور انہوں نے جھٹلایا) تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی کہ صبح کے وقت ان پر عذاب آجائے گا آپ نے قوم کو عذاب کا بتادیا تو ان لوگوں نے کہا یونس (علیہ السلام) نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور ٓصبح کو ہم پر عذاب آجائے گا اب (سب) آجاویہاں تک کہ ہم ہر چیز میں سے کمزور چیزیں نکالیں پس ہم (ہر ایک کو) ان کے بچوں کے ساتھ ملادیں شاید کہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم فرمائیں پھر انہوں نے اپنی عورتوں اور بچوں کو ساتھ نکالا اور اونٹوں کو ان کے بچوں کے ساتھ نکالا اور گایوں کو ان کے بچوں کے ساتھ نکالا اور بکریوں کو ان کے بچوں کے ساتھ نکالا اور ان بچوں کو ان کے آگے رکھا اور عذاب کا سامنے کرنے لگے جب انہوں نے (عذاب کو) آتے دیکھا تو اللہ کی طرف گڑگڑانے لگے اور دعا کرنے لگے عورتیں اور بچے رونے لگے اونٹ اور ان کے بچے بلبلانے لگے گائے اور اس کے بچے آواز دینے لگے بکریاں اور ان کے بچے ممیانے لگے (اس حال میں) اللہ تعالیٰ نے ان پر رحم فرمایا اور ان سے عذاب کو ہٹادیا (عذاب نہ آیا) تو یونس (علیہ السلام) غصہ ہوگئے اور کہا مجھے جھٹلایا جائے گا وہ غصہ کے عالم میں سمندر کی طرف چلے گئے سی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” اذ ذھب مغاضبا “ پھر دریا کی طرف چلے گئے قوم کی کشتی لنگر انداز تھی یونس (علیہ السلام) نے فرمایا مجھے اپنے ساتھ سوار کرلو۔ 18۔ ابن ابی شیبہ اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب مچھلی نے یونس (علیہ السلام) کو نگل لیا تو ان کو لے کر چلی یہاں تک کہ ساتویں زمین پر جا ٹھہری یونس (علیہ السلام) نے زمین کی تسبح کو سنا آپ کو اس کی تسبیح کا شوق پیدا ہوا اور فرمایا (آیت) ” لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین “ (توتسبیح پڑھنے پر مچھلی نے) ان کو زمین پر ڈال دیا یہاں تک کہ ان کو (اس حال میں) زمین پر ڈال دیا کہ ان نے بال تھے نہ ان کے ناخن تھے نوزائیدہ بچے کی طرح تھے آپ کے اوپر کدو کی بیل پیدا فرما دی جو ان پر سایہ کررہی تھی آپ اس کے نیچے حشرات الارض کھاتے تھے اس درمیان وہ سو رہے تھے کہ اچانک ان کے اوپر ایک پتہ گرا جو خشک ہوچکا تھا انہوں نے اپنے رب سے اس کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو غم کررہا ہے اس درخت پر جو خشک ہوگیا ہے اور تجھ کو غم نہیں ہے ایک لاکھ یا اس سے زیادہ لوگوں پر جو عذاب دیئے جاتے۔ 19:۔ ابن ابی حاتم اور ابن الدنیا نے کتاب الفرج میں اور ابن مردویہ نے انس ؓ نے مرفوع روایت کیا کہ یونس (علیہ السلام) کے لئے جب یہ بات ظاہر ہوگئی کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ان کلمات کے ساتھ دعا کریں جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کو مچھلی کے پیٹ میں پکارا تھا اے اللہ (آیت) ” لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین “ تو ان کی دعانے عرش کو گھیر لیا اور فرشتوں نے کہا یہ پہچانی ہوئی کمزور آواز ہے اجنبی شہر سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیا تم اس کو نہیں پہنچانتے ؟ فرشتوں نے کہا اے ہمارے رب وہ کون ہے :؟ فرمایا وہ میرا بندہ یونس ہے فرشتوں نے کہا آپ کا بندہ یونس ہے جس کے مقبول عمل ہمیشہ بلند ہوتے ہیں اور جس کی دعا مقبول ہوتی ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہاں میرا وہ بندہ یونس ہے فرشتوں نے عرض کیا اے ہمارے رب کیا آپ رحم نہیں فرماتے اس عمل کی وجہ سے جو وہ آسودہ زندگی میں کیا کرتا تھا تو تاکہ اسے مصیبت سے نجات عطا فرما اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیوں نہیں اور مچھلی کو حکم فرمایا تو اس نے ان کو ایک چٹیل میدان میں پھینک دیا اور اللہ تعالیٰ نے ان پر کدو کی بیل پیدا فرما دی۔ 20:۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں عبد بن حمید، ابن مردویہ اور ابن عساکر نے حضرت علی ؓ سے ایک مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ کسی بندے کو یہ لائق نہیں کہ وہ یوں کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں کہ انہوں نے اندھیروں میں اللہ کی تسبیح بیان کی۔ 21:۔ احمد، ترمذی، نسائی، حکیم نے نوادرالاصول میں حاکم، ابن جریر، ابن ابی حاتم، بزار، ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب میں (حاکم نے صحیح بی کہا ہے) سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مچھلی والے (یعنی یونس (علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ میں پکارا (آیت) ” لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین “ کوئی مسلمان ان کلمات کے ساتھ کسی چیز کے بارے میں دعا کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی دعا کو قبول فرماتے ہیں۔ دعاء یونس (علیہ السلام) : 22:۔ ابن جریر نے سعد ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ تعالیٰ کے وہ نام جس کے ذریعہ دعا کی جائے تو وہ قبول ہوتی ہے اور جب سوال کیا جائے تو دیا جاتا ہے وہ یونس بن متی (علیہ السلام) کی دعا ہے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ دعا یونس (علیہ السلام) کے لئے خاص ہے یہ مسلمانوں کی جماعت کے لئے ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا وہ یونس (علیہ السلام) کے لئے خاص ہے اور ایمان والوں کے لئے بھی ہے جب وہ اس کے ذریعہ دعا کریں۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا (آیت) ” وکذلک ننجی المومنین “ اور وہ شرط ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس شخص کے لئے جو اس سے دعا کرے۔ 23:۔ ابن مردویہ اور دیلمی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ (آیت) ” لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین انبیاء کے لئے پناہ گاہ ہے اس کے ذریعہ یونس (علیہ السلام) نے مچھلی کے پیٹ کے اندھیرے میں دعا فرمائی تھی۔ 24:۔ ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ اللہ کا اسم اعظم جس کے ذریعہ دعا کی جائے تو وہ قبول ہوتی ہے اور جب اس کے ذریعہ مانگا جائے تو عطا کیا جاتا ہے اور وہ دعا یہ ہے (آیت) ” لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین “۔ 25:۔ حاکم نے سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں تم کو اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم پر دلالت نہ کروں ؟ وہ یونس (علیہ السلام) کی دعا ہے (یعنی) (آیت) ” لا الہ الا انت سبحانک انی کنت من الظالمین “ جو مسلمان اس کے ذریعہ اپنی بیماری میں چالیس مرتبہ دعا کرے گا اور وہ پھر اسی بیماری میں مرجائے تو اس کو شہید کا اجردیا جائے گا اور اگر وہ صحت یاب ہوگیا تو بھی اس کی مغفرت ہوچکی ہوگی۔ 26:۔ حاکم نے (حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے یہ کہا کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں تو اس نے جھوٹ بولا۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کا تلبیہ پڑھنا : 27:۔ حاکم نے (اور آپ نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ ایک گھاٹی سے گذرے تو پوچھا یہ کون سی گھاٹی ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ فلاں گھاٹی ہے پھر فرمایا گویا میں دیکھ رہا ہوں یونس (علیہ السلام) کو کہ وہ ایک اونٹنی پر سوار ہیں جس کی مہار کھجور کے پتوں کی ہے اور وہ اونی جبہ پہنے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں ” لبیک اللہم لبیک۔ 28:۔ عبدالرزاق، بخاری مسلم، ابوداود اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی کے لئے یہ کہنا جائز نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں ان سے غلطی ہوگئی پھر رب تعالیٰ نے ان کو چن لیا۔ 29:۔ عبد بن حمید، بخاری، نسائی، اور ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ہرگز یوں نہ کہے کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہو۔ 30:۔ بخاری مسلم اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی کو یہ لائق نہیں کہ میں یونس بن متی سے بہتر ہوں۔ّ (واللہ اعلم )
Ayahs 21:89–90

وَ زَكَرِیَّاۤ اِذْ نَادٰى رَبَّهٗ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا وَّ اَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَۚۖ Open ayah 21:89 in the Quran reader

اور زکریا کا تذکرہ کیجئے جب کہ انہوں نے اپنے رب کو پکارا کہ اے میرے رب مجھ تنہا نہ چھوڑیئے اور آپ سب وارثوں سے بہتر وارث ہیں۔

فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١٘ وَ وَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى وَ اَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ وَ یَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا١ؕ وَ كَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ Open ayah 21:90 in the Quran reader

سو ہم نے ان کی دعا قبول کی اور انہیں یحییٰ عطا کردیا اور ان کی بیوی کو اولاد کے قابل بنادیا بلاشبہ یہ لوگ نیک کاموں میں جلدی کرتے تھے اور ہمیں رغبت کے ساتھ اور ڈرتے ہوئے پکارا کرتے تھے اور ہمارے سامنے خشوع سے رہتے تھے۔

حضرت زکریا (علیہ السلام) کی دعاء : 1:۔ حاکم نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے (آیت) ” واصلحنا لہ زوجہ “ کے بارے میں فرمایا کہ زکریا (علیہ السلام) کی بیوی کی زبان میں طول تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ٹھیک کردیا۔ 2:۔ عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم، خرائطی نے مساوی الاخلاق میں اور ابن عساکر نے عطاء ابن ابی رباح (رح) سے (آیت) ” واصلحنا لہ زوجہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ حضرت زکریا (علیہ السلام) کی بیوی کے اخلاق اچھے نہ تھے اور اس کی زبان دراز تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس کی اصلاح فرمادی (یعنی اس کو ٹھیک کردیا) 3:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن عساکر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے (آیت) ” واصلحنا لہ زوجہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس کے اخلاق میں کوئی چیز تھی (یعنی وہ خوش اخلاق نہ تھی ) 4:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن عساکر نے سعید بن جبیر (رح) سے (آیت) ” واصلحنا لہ زوجہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ زکریا (علیہ السلام) کی بیوی بچے نہ جنتی تھی۔ 5:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” واصلحنا لہ زوجہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ بچہ نہ جنتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو ٹھیک کردیا۔ 6:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” واصلحنا لہ زوجہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ ہم نے اسی بیوی سے انکو ایک لڑکا عطا فرمایا۔ 7:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” واصلحنا لہ زوجہ “ کے بارے میں فرمایا کہ زکریا (علیہ السلام) کی بیوی بانجھ تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس کو بچہ پیدا کرنے والی بنادیا اور اس میں سے ان کو یحییٰ (علیہ السلام) عطا فرمایا اور (آیت) ” وکانوا لنا خشعین “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ (اللہ کے سامنے) عجز ونیاز کرنے والے تھے۔ 8:۔ ان جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن جریج (رح) سے (آیت) ” ویدعوننا رغبا ورھبا “ میں رغبا سے مراد ہے طمع اور خوف سے ہم کو پکارا کرتے تھے طمع اور خوف میں سے ہر ایک کا دوسرے سے جدا ہونا مناسب نہیں۔ 9:۔ ابن مبارک نے حسن (رح) سے (آیت) ” ویدعوننا رغبا ورھبا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے دائمی خوف دل میں ہونا۔ اللہ تعالیٰ سے خوف وامید : 10:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویدعوننا رغبا ورھبا “ کے بارے میں فرمایا کہ ہمیشہ ان کا خوف ہوتا ہے اپنے رب سے اور اس کا خوف ان کے دلوں سے جدا نہ ہوتا اگر ان پر کوئی رغبت نازل ہوتی ہے تو وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ یہ کہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے استدراج نہ ہو اگر کوئی خوف ان پر نازل ہوتا ہے تو وہ اس بات سے ڈرتے ہیں کہ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے پکڑنے کا حکم نہ فرمایا ہو ان کے بعض سابقہ گناہوں کی وجہ سے۔ 11:۔ ابن مردویہ نے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” ویدعوننا رغبا ورھبا “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا رھبا اس طرح سے ہے اور آپ نے اپنی ہتھیلیوں کو پھیلایا اشارہ کرتے ہوئے۔ 12:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابونعیم نے حلیہ میں حاکم (حاکم نے تصحیح بھی کی ہے) اور بیہقی نے شعب الایمان میں عبداللہ بن حکیم (رح) سے روایت کیا کہ ابوبکر صدیق ؓ نے ہم کو خطبہ دیا اللہ کی حمد وثنا بیان فرمائی پھر فرمایا میں تم کو اللہ کے تقوی کی اور اس کی شان کے لائق اس کی تعریف کرنے کی وصیت کرتا ہوں اگر تم ملا لو امید کو خوف کے ساتھ (تو بہت اچھا ہے) کیونکہ اللہ تعالیٰ نے زکریا (علیہ السلام) اور ان کے گھروالوں کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا (آیت) ” انہم کانوا یسرعون فی الخیرات ویدعوننا رغبا ورھبا، وکانوا لنا خشعین “۔ 13:۔ ابن ابی شیبہ عبد بن حمید ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکانوا لنا خشعین “ سے مراد ہے تواضع اختیار کرنے والا۔ 14:۔ ابن ابی شیبہ نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وکانوا لنا خشعین “ یعنی اللہ کے لئے عاجزی کرنے والے۔
Ayah 21:91

وَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهَا مِنْ رُّوْحِنَا وَ جَعَلْنٰهَا وَ ابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:91 in the Quran reader

اور اس عورت کو یاد کیجئے جس نے اپنے ناموس کو محفوظ رکھا سو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اسے اور اس کے بیٹے کو جہان والوں کے لئے نشانی بنادیا۔

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ قیصر نے معاویہ ؓ کی طرف لکھا آپ پر سلام ہو اما بعد مجھے بتائیے کہ اللہ کے بندوں میں کون سب سے زیادہ عزت والا ہے اور اس کی بندیوں میں سے کون سب سے زیادہ عزت والی ہے ؟ تو انہوں نے (جواب دیتے ہوئے) ان کی طرف لکھا اما بعد تو نے میری طرف لکھا اور مجھ سے سوال کیا تو میں کہتا ہوں کہ اس کے بندوں میں سے سب سے زیادہ عزت والے آدم (علیہ السلام) ہیں (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے) ان کو اپنے ہاتھ سے پیدا فرمایا اور ان کو سارے نام سکھائے اور بندیوں میں سے سب سے زیادہ عزت والی مریم بنت عمران ہے کہ ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت ) ’ التی احصنت فرجھا “ یعنی جس نے اپنی ناموس کو محفوظ رکھا۔ 2:۔ عبدالرزاق اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے (آیت) ” فنفخنا فیھا من روحنا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس کے گریبان میں پھونک دیا گیا۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ ان کی فرج میں پھونک مار دی گئی۔
Ayahs 21:92–95

اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً١ۖ٘ وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْنِ Open ayah 21:92 in the Quran reader

بلاشبہ یہ تمہارا دین ہے جو ایک ہی طریقہ ہے اور میں تمہارا رب ہوں سو تم میری عبادت کرو

وَ تَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَیْنَهُمْ١ؕ كُلٌّ اِلَیْنَا رٰجِعُوْنَ۠ Open ayah 21:93 in the Quran reader

اور اپنے دین میں اختلاف کرکے لوگ ٹکڑے ٹکڑے ہوگئے سب کو ہماری طرف لوٹنا ہے۔

فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَ هُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْیِهٖ١ۚ وَ اِنَّا لَهٗ كٰتِبُوْنَ Open ayah 21:94 in the Quran reader

اور جو شخص نیک عمل کرے اس حال میں کہ وہ مومن ہو سو اس کی محنت کی راہ کی ناقدری نہیں اور بلاشبہ ہم اسے لکھ لیتے ہیں۔

وَ حَرٰمٌ عَلٰى قَرْیَةٍ اَهْلَكْنٰهَاۤ اَنَّهُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:95 in the Quran reader

اور یہ بات ضروری ہے کہ ہم نے جس بستی کو ہلاک کیا وہ رجوع نہیں کریں گے۔

1:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے کہ یہ تمہارا دین ایک دین ہے۔ ابن جریر نے مجاہد سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 2:۔ عبد بن حمید ابن منذر، اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے کہ تمہارا دین ایک اور رب تمہارا ایک ہے اور شریعت مختلف ہے۔ 3:۔ عبد بن حمید نے کلبی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ان ھذہ امتکم امۃ واحدۃ “ سے مراد ہے تمہاری زبان ایک ہی زبان ہے۔ 4:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وتقطعوا امرھم بینہم “ سے مراد ہے کہ انہوں نے دین میں اختلاف ہے 5:۔ عبدبن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” وحرم علی قریۃ “ پڑھا ہے۔ 6:۔ عبد بن حمید نے ابن الزبیر (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے بچے یہاں یوں پڑھتے ہیں (آیت) ” وحرم علی قریۃ “ اور حالانکہ وہ (آیت) ” وحرم علی قریۃ “ ہے۔ 7:۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحرم علی قریۃ “ الف کے ساتھ پڑھتے تھے۔ 8:۔ فریابی، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحرم علی قریۃ اھلکنھا “ سے مراد ہے کہ اس بستی کا ہلاک کرنا واجب ہے پھر فرمایا ہم نے ان کو ہلاک کردیا (آیت) ” انہم لایرجعون “ یعنی اب وہ نہیں لوٹیں گے دنیا کی طرف۔ 9:۔ سعید بن منصور، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ، نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے (آیت) ” وحرم علی قریۃ “ پھر فرمایا اس بستی کا ہلاک کرنا واجب تھا (آیت) ” اھلکنھا انہم لا یرجعون “ ‘ (ہم نے ان کو ہلاک کردیا اب وہ نہ لوٹیں گے) جیسے فرمایا (آیت) ” الم یروا کم اھلکنا قبلھم من القرون انہم الیہم لا یرجعون (21) “ (یسین آیت : 31) عبد بن حمید نے عکرمہ اور سعید بن جبیر سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ 10:۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) کے طریق سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ اس حرف کو یوں پڑھتے تھے (آیت) ” وحرم علی قریۃ “ سعید سے کہا گیا ” حرم “ کیا چیز ہے تو انہوں نے فرمایا اس سے مراد ہے ” یحرم “۔ 11:۔ ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ” وحرم “ سے مراد ہے وجب یعنی واجب ہے (آیت) ” علی قریۃ اھلکنھا “ (یعنی بستی والوں پر کہ ہم ان کو ہلاک کردیں) (پھر) فرمایا کہ ہم نے ان پر ہلاک ہونا لکھ دیا ہے ان کے دین میں (آیت) ” انہم لا یرجعون “ (یعنی وہ کبھی نہیں لوٹیں گے) اس نظریہ سے جس پر قائم ہیں۔ 12:۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحرم “ سے مراد ہے وجب حبشی زبان میں۔ 13:۔ ابن منذر اور ان ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحرم علی قریۃ “ یعنی ان پر واجب ہے کہ جب وہ ہلاک ہوجائیں تو پھر اپنی دنیا کی طرف نہ لوٹیں۔
Ayahs 21:96–97

حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ Open ayah 21:96 in the Quran reader

یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کھول دیئے جائیں گے اور وہ ہر اونچی جگہ سے جلدی جلدی چلے آئیں گے۔

وَ اقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا هِیَ شَاخِصَةٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ یٰوَیْلَنَا قَدْ كُنَّا فِیْ غَفْلَةٍ مِّنْ هٰذَا بَلْ كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:97 in the Quran reader

اور سچا وعدہ قریب آجائے گا تو جن لوگوں نے کفر کیا ان کی آنکھیں اوپر کو اٹھی ہوئی رہ جائیں گی اور وہ کہیں گے ہائے ہماری کم بختی ہم اس کی طرف سے بیخبر تھے بلکہ ہم ظلم کرنے والے تھئے۔

یاجوج ماجوج کا خروج : 1:۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” حتی اذا فتحت “ کو تخفیف کے ساتھ پڑھا اور (آیت) ” یاجوج وماجوج “ کو ہمزہ کے ساتھ۔ 2:۔ عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے (آیت) ” وھم من کل حدب ینسلون “ کے بارے میں روایت کیا قیامت کے دن سب لوگ ہر جگہ سے آئیں گے وہ بلند ہوگی۔ 3:۔ عبدالرزاق، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کل حدب “ سے مراد ہے ہر ٹیلے سے نیچے اتریں گے۔ 4:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” من کل حدب “ سے مراد ہے ہر اونچی جگہ سے (آیت) ” ینسلون “ کہ وہ چلے آئیں گے۔ 5:۔ طستی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول (آیت) ” من کل حدب ینسلون “ کے بارے میں بتائیے فرمایا اس سے مراد ہے کہ وہ پھیل جائیں گے زمین کے جوف میں ہر طرف سے پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا آپ نے طرفہ کو نہیں سنا کہ وہ کہتا ہے : فاما یومہم فیوم سوء تخطفھمن بالحدب الصقور ترجمہ : وہ دن برادن تھا جس میں شکاری پرندے ان کو بلندی سے اچک رہے تھے۔ 6:۔ ابن جریر نے ابن زیدرحمۃ اللہ علیہ سے (آیت) ” حتی اذا فتحت یاجوج وماجوج “ کے بارے میں سے روایت کیا کہ یاجوج ماجوج کا نکلنا قیامت کے دن کا آغاز ہوگا۔ 7:۔ حاکم نے ابن مسعود ؓ روایت کیا کہ انہوں نے (آیت) ” من کل حدب “ جیم اور ثاء کے ساتھ پڑھا اس قول کی طرح (آیت) ” فاذا ھم من الاجداث الی ربھم ینسلون “ (یسین آیت 51) اس میں اجداث سے مراد ہے قبریں۔ یاجوج ماجوج کا فتنہ : 8:۔ احمد، ابویعلی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن منذر ابن حبان، حاکم اور ابن مردویہ نے (حاکم نے صحیح بھی کہا ہے) ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا، یاجوج ماجوج کو کھولا جائے گا اور وہ لوگوں پر نکلیں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” من کل حدب ینسلون “ وہ لوگوں کو ڈھانک لیں گے اور مسلمان ان سے بھاگ جائیں گے اپنے شہروں اور اپنے قلعوں کی طرف اپنے مویشی بھی اپنے ساتھ ملالیں گے اور زمین کا پانی پی جائیں گے یہاں تک کہ اس کو خشک کردیں گے ان میں سے بعض لوگ اس نہر سے گذریں گے تو کہیں گے یہاں پانی تھا اور لوگوں میں سے کوئی باقی نہیں رہے گا مگر وہ قلعہ یا شہر میں بند ہوگا ان میں ایک کہنے والا کہے گا یہ زمین والے تھے ہم ان سے فارغ ہوگئے اور اب آسمان والے باقی رہ گئے پھر ان میں سے ایک اپنے نیز کو ہلائے گا پھر اس کو آسمان کی طرف پھینکے گا تو وہ اس کی طرف خون آلود ہو کر واپس آئے گا (ان کے) فتنے اور آزمائش کے طور پر وہ اسی حال میں ہوگے اچانک اللہ تعالیٰ ایک کیڑا ان کی گردنوں میں پیدا فرمائے گا مکڑی کے کیڑے کی طرح اور صبح کو ہو سب مرجائیں گے ان کی کوئی آہٹ سنائی نہیں دے گی مسلمان کہیں گے کیا کوئی آدمی ایسا نہیں ہے جو ہمارے لئے اپنی جان کی قربانی دے اور ایکھے ان دشمنوں کو کیا ہوا ؟ ان میں سے ایک آدمی ثواب کی نیت سے نکلے گا جبکہ وہ اپنے قتل کا یقین کرچکا ہوگا وہ نیچے اترے گا تو ان کے بعض کو بعض پر مرا ہوا پائے گا تو وہ مسلمانوں کی جماعت کو آواز دے گا کہ خوشخبری ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے تمہارے دشمن کو ملیا میٹ کردیا ہے تو مسلمان نکل آئیں گے اپنے شہروں سے اور اپنے قلعوں سے اور اپنے جانوروں کو چرائیں گے اور ان کے لئے کوئی چراگاہ نہ ہوگی سوائے یاجوج ماجوج کے گوشت کے اور پس وہ (اللہ تعالیٰ کا) شکر ادا کریں گے پس وہ اس کا ایسا شکر ادا کریں گے جو انہوں نے نباتات کے ملنے پر بھی کبھی ادا نہ کیا ہوگا جو ان کو پہلے ملتی تھی۔ 9:۔ ابن ابی شیبہ، احمد، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن منذر، حاکم ابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ معراج کی رات میں ابراہیم، موسیٰ اور عیسیٰ (علیہم السلام) سے میری ملاقات ہوئی انہوں نے قیامت کے معاملے میں آپس میں تذکرہ کیا پھر انہوں نے اپنا معاملہ ابراہیم (علیہ السلام) کی طرف لوٹایا تو انہوں نے فرمایا مجھے اس کا کوئی علم نہیں پھر انہوں نے اپنا معاملہ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹایا تو انہوں نے فرمایا مجھے اس کا کوئی علم نہیں پھر انہوں نے اپنا معاملہ عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف لوٹایا تو انہوں نے فرمایا اس کا واقع ہونا اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا لیکن میرے رب نے مجھے یہ بتایا ہے کہ دجال نکلے گا اور میرے پاس دو چھڑیاں ہوں گی جب وہ دیکھے گا تو اس طرح پگھل جائے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو ہلاک کردے گا جب وہ مجھے دیکھے گا یہاں تک کہ پتھر اور درخت کہے گا اے مسلمان، میرے نیچے کافر (چھپا ہوا) ہے آؤ اور اسے قتل کردے (پھر) اللہ تعالیٰ ان (سب) کو ہلاک کردے گا پھر لوگ اپنے شہروں کی طرف لوٹ آئیں گے پھر (یاجوج ماجوج) جس چیز پر آئیں گے اس کو ہلاک کردیں گے اور جس پانی پر گذریں گے اس کو پی ڈالیں گے پھر لوگ لوٹیں گے اور ان کی شکایت کریں گے پھر وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کو ہلاک کردیں گے یہاں تک کہ زمین ان کی بدبو سے بھر جائے گی پھر اللہ تعالیٰ بارش کو نازل فرمائیں گے وہ ان کے جسموں کو بہا کرلے جائے گی یہاں تک کہ انکو سمندر میں پھینک دے گی اور مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے جب یہ ہوگا تو قیامت اس حاملہ عورت کی طرح ہوگی جو بچہ جننے کے قریب ہو اور اس کے گھروالے نہیں جانتے کہ کب اچانک اس کا بچہ رات یا دن میں پیدا ہوجائے (اسی طرح قیامت بھی اچانک قائم ہوجائے گی) ابن مسعود ؓ نے فرمایا کہ میں نے اس بات کی تصدیق اللہ کی کتاب میں پائی (اور وہ یہ ہے) (آیت) ” حتی اذا فتحت یاجوج وماجوج وھم من کل حدب ینسلون (96) واقترب الوعد الحق “ پھر فرمایا سب لوگ ہر جگہ جس سے قیامت کے دن آئیں گے وہ بلند جگہ ہوگی۔ 10:۔ احمد، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے خالد بن عبداللہ بن حرملۃ کے طریق سے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے خطبہ ارشاد فرمایا اس حال میں کہ آپ بچھو کے ڈنک مارنے کی وجہ سے اپنی انگلی مبارک کو لپیٹے ہوئے تھے آپ نے فرمایا تم کہتے ہو کہ تمہارا کوئی دشمن نہیں اور تم ہمیشہ دشمن سے لڑوگے یہاں تک کہ یاجوج ماجوج آئیں گے چوڑے چہروں اور چھوٹی آنکھوں والے سرخ پلکوں والے ہر اونچی جگہ سے چلے آئیں گے ان کے چہرے گویا چمڑے کی چوڑی ڈھالیں ہیں۔ 11:۔ ابن جریر نے عبداللہ بن ابی یزید (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباسؓ نے بچوں کو کھیلتے ہوئے دیکھا کہ بعض بچے بعض پر کود رہے تھے ابن عباس ؓ نے فرمایا اسی طرح یاجوج ماجوج نکلیں گے۔ 12:۔ احمد، مسلم ابوداود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن جریر، ابن منذر اور بیہقی نے البعث میں نواس بن سمعان ؓ سے راویت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن دجال کا ذکر فرمایا گفتگو کے درمیان کبھی آواز پست ہوجاتی اور کبھی بلند ہوجاتی آپ کے وعظ سے یوں محسوس ہونے لگا گویا وہ (دجال) کھجوروں کے جھنڈ میں ہے فرمایا دجال کے علاوہ بھی میں تم پر خوف کرتا ہوں اگر وہ نکل آئی اور میں تمہارے درمیان موجود ہوں تو میں اس سے جھگڑا کروں گا تمہاری طرف سے اگر وہ نکلا اور میں تمہارے درمیان میں نہ ہوا تو ہر آدمی خود اس کا مقابلہ کرے گا اور اللہ تعالیٰ میرا خلیفہ ہے ہر مسلمان پر وہ دجال سخت گھنگھریالے بالوں والا ہوں گا اور اس کی آنکھ ابھری ہوئی ہوگی اور اس کے گھوڑے شام اور عراق کے درمیان نکلیں گے اور وہ دائیں اور بائیں فساد پھیلائے گا اے اللہ کے بندو ثابت قدم رہو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ وہ کتنی مدت زمین میں رہے گا ؟ فرمایا چالیس دن، ایک دن ایک سال کی طرح اور ایک دن ایک ماہ کی طرح اور ایک دن ایک جمعہ کی طرح اور پھر سب دن تمہارے دنوں کی طرح ہوں گے ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! وہ دن جو سال کی طرح ہوگا کیا ہمارے لئے اس میں ایک دن کی نمازیں کافی ہوں گی ؟ فرمایا نہیں بلکہ تم اندازے سے نماز ادا کرنا ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ دجال کتنا جلدی چلے گا زمین میں ؟ آپ نے فرمایا جیسے بارش کہ جس کے ساتھ تیز ہوا چلے (یعنی تیز ہوا کی طرح وہ زمین میں چلے گا) وہ ایک قبیلہ کے پاس سے گذرے گا اور ان کو دعوت دے گا وہ اس پر ایمان لے آئیں گے وہ آسمان کو حکم دے گا تو وہ بارش برسائے گا اور زمین کو حکم دے تو وہ (کھیتی) اگائے گی ان کے مویشی انکے پاس شام کے وقت آئیں گے تو ان کی کوہانیں لمبی ہوں گی پہلے کی نسبت اور ان کے تھن بھرے ہوئے ہوں گے اور ایک اور قبیلے سے گذرے گا ان کو دعوت دے گا تو وہ اس کی دعوت کو رد کردیں گے تو ان کے مال اس کے پیچھے چلے جائیں گے اور صبح کے و قت وہ ہلاک ہوجائیں گے (اس طرح پر) کہ ان کے مال میں کچھ بھی باقی نہ ہوگا پھر وہ ایک ویران جگہ سے گذرے گا اس سے کہے گا اپنے خزانے باہر نکال دے تو زمین کے خزانے دجال کے ساتھ اس طرح ہوجائیں گے جیسے شہد کی مکھیاں اپنے سرداروں کے پاس اکٹھی ہوجاتی ہیں اور وہ ایک آدمی کو حکم دے اس کو تلوار سے قتل کرکے اس کے دو ٹکڑے کردے گا پھر اس کو بلائے گا تو وہ (زندہ ہوکر) اس کی طرف چلا آئے گا وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ اچانک مسیح بن مریم کو بھیجیں گے وہ سفید منارہ کے پاس دمشق کے شرقی جانب نازل ہوں گے دو فرشتوں کے پروں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے ہوں گے دجال کے پیچھے جائیں گے اس کو پالیں گے اور اس کو لد کے شرقی دروازے کے پاس قتل کردیں گے وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائیں گے کہ میں اپنے بندوں میں سے ایسے بندوں کو نکالنے والا ہوں کہ ان سے لڑنے کی کسی کو طاقت نہ ہوگی میرے بندوں کو کوہ طور پر اکٹھا کرلو تو اللہ تعالیٰ یاجوج ماجوج کو بھیجیں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” من کل حدب ینسلون “ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے اصحاب عاجزی و انکساری سے اللہ تعالیٰ سے (یاجوج ماجوج کے ہلاک ہونے کی) دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی گردنوں میں ایسے کیڑے بھیج دیں گے تو وہ صبح کو (سب) مرجائیں گے ایک آدمی کے مرنے کی طرح عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی زمین کی طرف اترآئیں گے اور ان کی بدبو کو پائیں گے پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے ساتھی عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر اونٹ کی گردونوں کی طرح پرندے بھیجیں گے جو ان (کی لاشوں) کو جہاں اللہ تعالیٰ چاہیں گے وہاں پھینک دیں گے پھر اللہ تعالیٰ بارش کو بھیجیں گے کہ جس سے کوئی مٹی کا اور نہ بالوں کا گھر بچے گا کہ ساری زمین کو دھو دے گی یہاں تک کہ اس کو آئینہ (کی طرح) صاف کردے گی پھر زمین سے کہا جائے گا اپنے پھل اگادے تو اس دن ایک جماعت ایک انار کو کھائے گی اور اس کے یعنی چھلکے کے نیچے سایہ حاصل کریں گے اور اونٹوں میں برکت ہوجائے گی یہاں تک کہ بہت دودھ دینی والی اونٹنی کا دودھ ایک بڑی جماعت کو کافی ہوجائے گا اور بہت دودھ دینے والی گائے کئی گروہوں کے لئے کافی ہوگی اور ایک بکری کا دودھ گھر کو کافی ہوگا وہ لوگ اسی حال میں ہوں گے کہ اچانک اللہ تعالیٰ ایک پاکیزہ ہوا ان کی بغلوں کے نیچے بھیجیں گے اور ہر مسلمان کی روح پرواز کرجائے گی اور برے لوگ باقی رہ جائیں گے جو گدھوں کی طرح لڑتے ہوں گے اور ان پر قیامت قائم ہوگی۔ 13:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یاجوج ماجوج کہ نکلنے کے وقت گھوڑی بچہ جن دے گی اور اس کے بچے پر سواری نہیں کی جائے گی کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ 14:۔ ابن جریر نے حذیفہ بن یمان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا پہلی نشانی (قیامت کی) یہ ہوں گی دجال کا نکلنا، عیسیٰ (علیہ السلام) کا نازل ہونا، عدن کی گہرائی سے آگ کا نکلنا جو لوگوں کو محشر کی طرف ہانک لے جائے گی جب لوگ قیلولہ کریں گے تو یہ بھی ان کے ساتھ قیلولہ کرے گی (یعنی دوپہر کو ٹھہر جائے گی) جب وہ کہیں گے اور ان کے ساتھ رات گذارے گی جب وہ رات گذاریں گے اور دھویں ( کا چھا جانا) اور جانور کا نکلنا اور یاجوج ماجوج (کانکلنا ) ۔ حذیفہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ یاجوج ماجوج کون ہیں ؟ فرمایا یاجوج ماجوج امتیں ہیں ہر امت چار لاکھ امت ہے ان میں سے کوئی آدمی نہیں مرتا یہاں تک کہ اپنی صلب سے ہزار آنکھ اپنے سامنے چلتے ہوئے دیکھتا ہے اور وہ آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں وہ دنیا کی خرابی کی طرف چلیں گے ان کے آگے کا حصہ شام میں ہوگا اور ان کا پچھلا حصہ عراق میں ہوگا وہ دنیا کی نہروں کے پاس سے گذریں گے اور فرات دجلہ اور بحیرہ طبریہ (کے پانی) کو پی جائیں گے یہاں تک کہ وہ بیت المقدس میں آئیں گے اور کہیں گے ہم نے دنیاوالوں کو قتل کردیا (ہم) ان کو قتل کریں گے جو آسمان میں ہیں وہ آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے تو ان کے تیر خون آلود ہو کر آئیں گے تو وہ کہیں گے کہ ہم نے ان کو قتل کردیا جو آسمان میں ہیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) اور مسلمان طور سینا پر ہوں گے تو اللہ تعالیٰ عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی فرمائیں گے میرے بندوں کو اور ایلہ والوں کو جو ان سے ملے ہوئے ہیں (یعنی ان کے قریب رہتے ہیں) ان سب طور پر اکٹھا کرلو پھر عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف اٹھائیں گے اور مسلمان آمین کہیں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر ایک کیڑا مسلط کردے گا جسے النغف کہا جاتا ہے وہ ان کی نتھنوں میں داخل ہوجائے گا جس سے یہ سب (یاجوج ماجوج) مرجائیں گے شام سے لے کر مشرق تک یہاں تک کہ ان کی لاشوں سے زمین بدبودار ہوجائے گی پھر اللہ تعالیٰ آسمان کو حکم فرمائیں گے وہ بارش برسائے گا گویا کہ مشکیزوں کے منہ کھل گئے ہیں اور زمین کو ان کی لاشوں اور ان کی بدبو سے دھودے گی اس وقت سورج مغرب سے طلوع ہوگا۔ یاجوج ماجوج کا فساد : 15:۔ ابن جریر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ یاجوج ماجوج نکلیں گے اور زمین میں سمندر کی موجوں کی طرح آئیں گے اور اس میں فساد برپا کریں گے پھر ابن مسعود ؓ نے یہ (آیت) ” من کل حدب ینسلون “ پڑھی پھر اللہ تعالیٰ ان پر نغف کیڑے کی طرح ایک جانور مسلط کریں گے وہ ان کے کانوں میں اور ان کے نتھنوں میں گھس جائیں گے جس سے یہ (سب) مرجائیں گے اس سے زمین بدبودار ہوجائے گی پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا اور وہ زمین کو پاک کردے گا۔ 16:۔ ابن جریر نے عطیہ کے طریق سے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ یاجوج ماجوج نکلیں گے اور کسی کو نہیں چھوڑیں گے مگر اس کو قتل کردیں گے سوائے قلعوں والوں کے (کہ وہ بچ جائیں گے) وہ بحیرہ طبریہ پر گذریں گے اور اس کو پی جائیں گے ایک گذرنے والا کہے گا کہ یہاں پانی تھا پھر اللہ تعالیٰ ان پر نغف کیڑے کو مسلط کردے گا یہاں تک کہ وہ ان کی گردنوں کو توڑ دے گا اور وہ ہلاک ہوجائیں گے قلعوں والے کہیں گے اللہ کے دشمن ہلاک ہوگئے وہ کسی آدمی کو بھیجیں گے تاکہ وہ دیکھ آئے اور وہ ان پر شرط لگائے گا کہ اگر ان کو زندہ پائیں گے پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی اتارے گے وہ ان ( کی لاش) کو سمندر میں پھینک دے گا اور زمین ان سے پاک ہوجائے گی ان کے بعد لوگ درخت اور کھجوریں لگائیں گے اور زمین اپنے پھل نکالے گی جیسے یاجوج ماجوج کے زمانے میں نکالا تھا۔ 17:۔ ابن جریر نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ یاجوج ماجوج کے خروج کا وقت جب ہوگا تو وہ دیوار کو کھودیں گے یہاں تک کہ قریب والے لوگ ان کی ہتھوڑوں کی آواز کو سنیں گے جب شام ہوگی تو وہ کہیں گے کل ہم آئیں گے تو ہم نکل جائیں گے اللہ تعالیٰ اس دیوار کو پہلے کی طرح بنادیں گے جیسے وہ تھی وہ دوسرے دن آئیں گے تو پھر دیوار کھودیں گے یہاں تک کہ وہ کہ قریب والے ان کے ہتھوڑوں کی آواز کو سنیں گے جب رات ہوگی تو کہیں گے کہ ہم کل کو آئیں گے تو ہم باہر نکل جائیں گے وہ جب کل کو آئیں گے تو دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے اس دیوار کو ویسا ہی بنادیا ہے جیسے وہ تھی پھر وہ دیوار کو کھودیں گے یہاں تک کہ قریب والے ان کے ہتھوڑوں کی آواز کو سنیں گے جب رات ہوگی تو اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک آدمی کی زبان پر یہ بات ڈالیں گے کہ ہو کہے گا ہم کل کو آئیں گے اور ہم انشاء اللہ نکل جائیں گے پھر وہ کل کو آئیں گے تو اس کو پائیں گے جیسے وہ چھوڑ کر گئے تھے وہ (پردے کو) پھاڑدیں گے اور (باہر) نکل پڑیں گے پہلا گروہ بحیرہ کے پاس سے گذرے گا تو اس کا پانی پی جائے گا پھر دوسرا گروہ گذرے گا تو اس کی مٹی چاٹے گا پھر تیسرا گروہ گذرے گا تو وہ کہیں گے یہاں پانی تھا ان سے لوگ بھاگیں گے کوئی چیز بھی ان کے سامنے نہ ٹھہرے گی وہ اپنے تیروں کو آسمان کی طرف پھینکیں گے وہ خون آلود ہو کر واپس آئیں گے تو وہ کہیں گے کہ ہم نے غلبہ پالیا زمین کو آسمان والوں پر عیسیٰ (علیہ السلام) ان پر بدعا کریں گے اور عرض کریں گے اے اللہ (ہماری) کوئی طاقت نہیں (ان کے مقابلہ میں) تو خود ہماری طرف سے ان کو کفایت فرما تو اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک کیڑا مسلط فرمائے گا جس کو نغف کہا جاتا ہے پس وہ ان کی گردنوں کو توڑ دے گا پھر اللہ تعالیٰ نے ان پر پرندوں کو بھیجے گا جو ان کو پانی چونچوں میں اٹھاکر سمندر میں پھینک دیں گے پھر اللہ تعالیٰ بارش برسائے گا جس کو حیاۃ یعنی زندگی کہا جاتا ہے وہ زمین کو ان کے جسموں سے پاک کردے گی اور زمین اپنا اناج اگائے گی (پھلوں میں ایسی برکت ہوگی) کہ اس میں سے ایک انار سے السکن سیر ہوگا کہا اے کعب السکن کیا ہے ؟ فرمایا ایک گھرانہ کعب نے فرمایا لوگ اس حال میں ہوں گے کہ اچانک ان کے پاس چیخنے والا آئے گا اور کہے گا کہ پتلی پنڈلیوں والا بیت اللہ کو گرانے کے ارادہ سے آچکا ہے پھر عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ سات سو یا سات سو اور آٹھ سو فرشتوں کے درمیان بھیجیں گے جب وہ راستہ پر ہوگا تو اللہ تعالیٰ دائیں طرف سے پاکیزہ ہوا چلائے گا تو اس میں ہر مومن کی روح کو قبض کرلیا جائے گا پھر بدکردار لوگ باقی رہ جائیں گے جو ایک دوسرے پر جفتی کریں گے جیسے جانور ایک دوسرے پر جفتی کرتے ہیں قیامت کی مثال اس آدمی کی مثال کی طرح ہے جو اپنی گھوڑی کے گرد گھومتا ہے اور اس کو دیکھتا ہے کہ کب وہ بچہ جنتی ہے۔ 18۔ ابن ابی حاتم نے عبداللہ بن عمر بن العاص ؓ سے روایت کیا کہ جب سے دنیا وجود میں آئی ہے اس کے ہر سو سال پر ایک نیا حادثہ رونما ہوتا ہے پھر فرمایا یاجوج اور ماجوج نکلیں گے اور وہ اس طرح نکلیں گے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” من کل حدب ینسلون “ ان کا پہلا گروہ نہر عجاج پر آئے گا اور اس کا سارا پانی پی لے گا یہاں تک کہ اس میں سے ایک قطرہ بھی باقی نہ رہے گا پھر دوسرا گروہ آئے گا وہ وہاں سے گذرے گا تو کہے گا یہاں پر پانی ہوا کرتا تھا وہ زمین میں فساد کریں گے اور الیا شہر میں ایمان والوں کا گھیراؤ کریں گے پھر کہیں گے کہ زمین میں کوئی باقی نہیں رہا مگر ہم ان سب کو ذبح کردیا ہے (پھر وہ ایک دوسرے کو کہیں گے) آجاؤ ہم ان پر تیر پھینکیں جو آسمان میں ہیں پھر وہ آسمان کی طرف تیر پھینکیں گے تو وہ خون آلود ہو کر واپس آئیں گے تو (اس پر) وہ کہیں گے کہ کوئی بھی نہ زمین میں باقی ہے اور نہ آسمان میں مگر یہ کہ ہم نے اس کو قتل کردیا ہے ایمان والے لوگ کہیں گے اے روح اللہ ان پر بددعا کیجئے اللہ تعالیٰ سے چناچہ وہ ان پر بددعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے کانوں میں نغف کیڑا پیدا فرمادیں گے جو ان سب کو ایک ہی رات میں قتل کردے گا یہاں تک کہ ان کی لاشوں سے زمین بدبودار ہوجائے گی تو ایمان والے لوگ کہیں گے اے روح اللہ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ ہم ڈرتے ہیں کہ ہم لاشوں کی بدبو سے مر نہ جائیں عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر آسمان سے بارش بھیج دیں گے اور اس کو سیلاب بنادیں گے جو ان کی لاشوں کو سمندر میں پھینک دے گا۔ 19:۔ ابن جریر نے حذیفہ ؓ سے روایت کیا کہ اگر کوئی آدمی یاجوج ماجوج کے نکلنے کے بعد گھوڑے کا بچہ (پالنے کے لئے) رکھا ہوگا اس پر سواری نہیں کرے گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ 20:۔ ابن ابی شیبہ، احمد، بخاری، ابویعلی اور ابن منذر نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ضرور حج اور عمرہ کیا جائے گا اس گھر کا یاجوج ماجوج نکلنے کے بعد بھی۔ 21:۔ ابن ابی حاتم نے زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واقترب الوعد الحق “ سے مراد ہے کہ قیامت کا دن قریب آگیا۔ 22:۔ ابن ابی حاتم نے ربیع (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” واقترب الوعد الحق “ سے مراد ہے کہ اس وقت ان پر قیامت قائم ہوگی۔