21. Surah Al-Anbiyaa

الأنبياءThe Prophets · 112 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayahs 21:39–41

لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ Open ayah 21:39 in the Quran reader

اگر کافر لوگ اس وقت کو جان لیتئے جب اپنے چہروں سے آگ کو نہ روک سکیں گے اور نہ اپنی پشتوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی

بَلْ تَاْتِیْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 21:40 in the Quran reader

بلکہ وہ آگ اچانک ان کے پاس آجائے گی، سو وہ انہیں بدحواس کردے گی، سو وہ اسے نہ ہٹاسکیں گے اور نہ انہیں مہلت دی جائے گئی

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 21:41 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ آپ سے پہلے رسولوں کے ساتھ تمسخر کیا گیا سو جن لوگوں نے ان کا تمسخر کیا انہیں وہ چیز پہنچ گئی جس کا وہ استہزاء کیا کرتے تھے۔

1:۔ بخاری اور مسلم نے عدی بن حاتم (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے کہ عنقریب اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن (اس حال میں) کلام فرمائیں گے کہ اس کے اور ان کے درمیان کوئی پردہ نہ ہوگا اور نہ کوئی ترجمان ترجمانی کرے گا پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا میں نے تجھ کو مال نہ دیا تھا ؟ کہے گا کیوں نہیں (آپ نے مال دیا تھا) پھر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا میں نے تیری طرف رسول نہ بھیجا تھا ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں (آپ نے رسول بھیجا تھا) پس بندہ اپنے داہنی طرف دیکھے گا تو آگ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا اور اپنے بائیں طرف دیکھے گا تو آگ کے سوا کچھ نہ دیکھے گا پس چاہئے کہ تم میں سے ہر ایک آگ سے بچے اگرچہ کھجور کے ایک ٹکڑے (کے صدقہ) کے ساتھ ہی کیوں نہ ہو اگر صدقہ کے لئے کچھ نہ پائے تو اچھی بات (یعنی نیکی کی بات) کے ساتھ بچنا چاہئے۔
Ayahs 21:42–46

قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِ١ؕ بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ Open ayah 21:42 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے وہ کون ہے جو رات میں اور دن میں رحمن سے تمہاری حفاظت کرتا ہے۔ بلکہ وہ لوگ اپنے رب کی توحید سے اعراض کئے ہوئے ہیں۔

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ Open ayah 21:43 in the Quran reader

کیا ہمارے سوا ان کے لئے ایسے معبود ہیں جو ان کی حفاظت کرتے ہوں ؟ وہ اپنی جانوں کی حفاظت نہیں کرسکتے اور نہ ہمارے مقابلہ میں کوئی شخص ان کا ساتھ دے سکتا ہے !

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُ١ؕ اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا١ؕ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ Open ayah 21:44 in the Quran reader

بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو خوب سامان دیا یہاں تک کہ ان پر ایک عرصہ دراز گرر گیا۔ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹا رہے ہیں کیا وہ غالب آنے والے ہیں ؟

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ١ۖ٘ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ Open ayah 21:45 in the Quran reader

آپ فرما دیجئے بات یہی ہے کہ تمہیں وحی کے ذریعہ ڈراتا ہوں اور گونگے لوگ پکار کو نہیں سنتے جبکہ وہ ڈرائے جاتے ہیں۔

وَ لَئِنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ Open ayah 21:46 in the Quran reader

اور اگر آپ کے رب کی طرف سے انہیں عذاب کا ایک جھونکا لگ جائے تو ضرور یوں کہیں گے کہ ہائے ہماری کم بختی واقعی ہم ظالم تھے۔

1:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل من یکلوکم “ یعنی (کون) تمہاری حفاظت کرے گا (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ مدد نہیں کئے جائیں گے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ مدد نہیں کئے جائیں گے۔ 3:۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قل من یکلوکم “ یعنی (کون) تمہاری حفاظت کرے گا۔ 4:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ پناہ نہیں دیئے جائیں گے۔ 5:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی وہ روکے نہیں جائیں گے (آگ سے) 6:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ام لھم الھۃ تمنعہم من دوننا لا یستطیعون نصرانفسہم “ یعنی (ان کے معبود) ان کی مدد نہیں کرسکیں گے (آیت) ” ولا ھم منا یصحبون “ یعنی اللہ کی طرف سے ان کو خیر میسر نہیں آئے گی (آیت) ” افلا یرون انا ناتی الارض ننقصھا من اطرافھا “ راوی نے کہا حسن ؓ فرمایا کرتے تھے اس سے مراد ہے کہ نبی کریم ﷺ زمینوں کو ہر طرف سے فتح کیا اور قوموں پر غلبہ حاصل کیا (آیت) ” افھم الغلبون “ یعنی وہ غالب آنے والے نہیں ہیں لیکن رسول اللہ ﷺ غالب آنے والے ہیں (آیت) ” قل انما انذرکم بالوحی “ یعنی میں تم کو ڈراتا ہوں) اس قرآن کے ذریعہ (آیت) ” ولا یسمع الصم الدعآء اذا ماینذورن “ یعنی کافر بہرے ہیں اللہ کی کتاب سے کہ نہ اس کو سنتے ہیں اور نہ اس سے نفع اٹھاتے ہیں اور نہ اس کو سمجھتے ہیں جیسے اس کو ایمان والے سنتے ہیں (آیت) ” ولئن مستھم نفحۃ “ یعنی اگر ان کو سزا پہنچ جائے (اللہ کے عذاب سے ) ۔
Ayah 21:47

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَا١ؕ وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ Open ayah 21:47 in the Quran reader

اور قیامت کے دن ہم عدل والی میزان قائم کردیں گے۔ سو کسی پر ذرا سا ظلم بھی نہ ہوگا اور اگر کوئی عمل رائی کے دانہ کے برابر بھی ہوگا تو ہم اسے حاضر کردیں اور ہم حساب لینے والے کافی ہیں۔

1:۔ احمد ترمذی اور ابن جریر نے تہذیب میں ابن منذر ابن ابی حاتم ابن مردویہ اور بیہقی نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ ﷺ بلاشبہ میرے چند غلام ہیں جو مجھ سے جھوٹ بولتے ہیں اور میری خیانت کرتے ہیں اور میری نافرمانی کرتے ہیں میں ان کو مارتا ہوں اور میں ان کو گالیاں دیتا ہوں تو میں اس سے کیسا ہوں گا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا جتنا انہوں نے تیری خیانت کی اور تیری نافرمانی کی اور تجھ سے جھوٹ بولا اس کا اور تیرا ان کو سزا دینے کا حساب کیا جائے گا سو اگر تیرا ان کو سزا دینا ان کے جرائم سے کم ہوا تو تیرے لئے زیادتی کا فائدہ ہوگا اور اگر تیرا ان کو سزادینا ان کے جرائم کے برابر ہوا تو معاملہ برابر سرابر ہوجائے گا نہ تجھے اجر ملے گا نہ تجھے اجر ملے گا نہ تجھے سزا ملے گی اور اگر تیرا ان کو سزادینا ان کے جرائم سے زیادہ ہوا تو تجھ سے زیادتی کا بدلہ لیاجائے گا (یہ سن کر) وہ آدمی رونے لگا اور چیخنے لگا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تو اللہ کی کتاب کو نہیں پڑھا (آیت) ” ونضع الموازین القسط لیوم القیمۃ فلا تظلم نفس شیئا وان کان مثقال حبۃ میں خردل اتینا بھا، وکفی بنا حسبین “۔ 2:۔ حکم ترمذی نے نوادرالاصول میں اور ابن ابی حاتم نے رفاعہ بن رافع زرقی (رح) سے روایت کیا کہ ایک شخص نے کہا یارسول اللہ ﷺ ہم اپنے غلاموں کی پٹائی کرتے ہیں اس بارے میں ہم سے سوال ہوگا ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان کے جرائم اور تمہاری سزاوں کا موازنہ ہوگا اگر سزائیں جرائم سے زیادہ ہوں تو تم سے حساب لیا جائے گا پھر پوچھا ہم جو ان کو گالی اور ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہیں اس کا کیا حکم ہے ؟ یہاں ان کے جرائم اور تمہاری سزاوں کا موازنہ ہوگا اگر تمہاری سزائیں زیادہ ہوئیں تو تم سے حساب لیاجائے گا۔ پوچھا کیا اپنی اولاد کی پٹائی کرتا ہوں اس کا کیا حکم ؟ ارشاد فرمایا ان پر تہمت لگا کر اپنے دل کو خوش مت کرو ایسا نہ کرو کہ خود کھاؤ اور ان کو بھوکا رکھو، خود پہنو ان کو ننگا رکھو۔ 3:۔ حکیم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ ﷺ غلاموں کو مارنے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اگر کوئی سزا کی وجہ ہوگی تو ٹھیک ورنہ تم سے قیامت کے دن بدلہ لیاجائے گا پھر پوچھا گیا یا رسول اللہ ! ان کو گالیاں دینے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اسی طرح اس کا بھی یہی حکم ہے پھر پوچھا یارسول اللہ ﷺ ہم اپنی اولاد کو سزا دیتے ہیں اور ان کو گالیاں دیتے ہیں (اس کا کیا بنے گا) آپ نے فرمایا وہ غلام تمہاری اولاد کی طرح نہیں ہیں بلاشبہ تم اپنی اولاد کے بارے میں تہمت یا الزام نہیں دیئے جاوگے۔ ماتحتوں کو سزا دینے میں احتیاط ہونا چاہیے : 4:۔ حکیم نے زیاد بن ابی زیاد (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے کہا یارسول اللہ میرا مال ہے اور میرے غلام ہیں اور میں (ان پر) کبھی غصہ ہوتا ہوں اور کبھی ان سے بدخلقی کا اظہار کرتا ہوں کبھی ان کو گالیاں دیتا ہوں اور کبھی ان کو مارتا ہوں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان کے جرائم کا تیری سزا کے ساتھ وزن کیا جائے گا اگر ان کے جرائم تیری سزا کے برابر ہوئے تو تجھے جزاء سزا نہیں ملے گی اور اگر تیری سزا زیادہ ہوئی ان کے جرموں سے (اس کے بدلہ میں) تیری نیکیوں میں سے لیا جائے گا قیامت کے دن اس آدمی نے کہا اوہ اوہ میری نیکیوں میں سے لیاجائے ؟ یارسول اللہ میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میرے غلام آزاد ہیں میں کسی ایسی چیز کو نہیں روکوں گا کہ جس (کی وجہ) سے میری نیکیوں میں سے لیاجائے آپ نے پوچھا تو نے ایسا گمان کیا کیوں ؟ تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول (آیت) ’ ’ ونضع الموازین القسط “ کا قول نہیں سنا۔ 5:۔ ابن ابی شیبہ، احمد نے زہد میں اور بیہقی نے بعث میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ لوگوں کو قیامت کے دن ترازو کی طرف لایا جائے گا اور وہ اس کے پاس سخت جھگڑا کریں گے۔ 6:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ’ ’ ونضع الموازین القسط “ یہ ایسا قول ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے (آیت) ” والوزن یومئذالحق “ (الاعراف آیت : 8) 7:۔ سعید بن منصور، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے (آیت) ” وان کان مثقال حبۃ میں خردل اتینا بھا “ الف کی مد کے ساتھ مطلب یہ ہے کہ ہم اس کا بدلہ دیں گے۔ 8:۔ ابن ابی حاتم نے عاصم ابن ابی النجود (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے (آیت) ” وان کان مثقال حبۃ میں خردل اتینا بھا “۔ بغیر الف کی مد کے یعنی ہم اس کو لائیں گے۔ 9:۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے (آیت) ” وان کان مثقال حبۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ دائے وزن (کے برابر) ( اور فرمایا) (آیت) ” وکفی بنا حسبین “ یعنی شمار کرنے والے “ (ہم کافی ہیں )
Ayahs 21:48–50

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ Open ayah 21:48 in the Quran reader

اور یہ واقعی بات ہے کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون کو فیصلہ والی چیز اور روشنی اور نصیحت کی چیز عطاء کی جو متقیوں کے لئے نصیحت تھی

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ Open ayah 21:49 in the Quran reader

جو اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں اور وہ قیامت سے خوفزدہ ہیں

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُ١ؕ اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠ Open ayah 21:50 in the Quran reader

اور یہ ایک نصیحت ہے مبارک ہے جو ہم نے نازل کی ہے سو کیا تم پھر بھی اس کے منکر ہو۔

1:۔ سعید بن منصور اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے تھے (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ وھرون الفرقان وضیآء “ اور فرماتے تھے کہ اس واو کو لے لو اور یہاں رکھو (آیت) ” الذین قال لہم الناس ان الناس قد جمعوا لکم ‘ (آل عمران آیت 173) 2:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ نے (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ وھرون الفرقان وضیآء “ کے بارے میں میں فرمایا کہ اس واو کو یہاں سے نکال کر (آیت) ” الذین یحملون العرش ومن حولہ “ غافر آیت : 7) میں رکھو۔ 3:۔ عبد بن حمید نے ابو صالح (رح) سے (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ وھرون الفرقان وضیآء “ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے تورات شریف مراد ہے۔ 4:۔ ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ وھرون الفرقان وضیآء “ سے تورات شریف مراد ہے، اور اس کا حلال اور اس کا حرام ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے حق اور باطل کے درمیان فرق فرمادیا ہے۔ 5:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا موسیٰ وھرون الفرقان وضیآء “ میں الفرقان سے مراد وہ حق ہے جو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو دیا (کہ جس کے ذریعہ) ان دونوں اور فرعون کے درمیان فرق کیا ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ فرمایا یہ (آیت) ” وما انزلنا علی عبدنا یوم الفرقان “ (الانفال آیت 41) پڑھی پھر فرمایا کہ (آیت) ” یوم الفرقان “ سے بدر کا دن مراد ہے۔ کسی کے حق میں دو خوف جمع نہ ہونا : 6:۔ حکیم ترمذی نے نوادرالا صول میں حسن ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں میری عزت کی قسم کہ میرے بندے پر دو خوف کو جمع نہیں کروں گا اور اسی کے لئے دو امنوں کو بھی جمع نہیں کروں گا پس جو شخص مجھ سے دنیا میں ڈر گیا تو میں اس کو آخرت میں امن دوں گا۔ 7:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وھذا ذکر مبرک انزلنہ “ سے مراد ہے کہ قرآن۔ 8:۔ عبد بن حمید اور ابن ابی حاتم نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ دو خصلتیں ایسی ہیں کہ جن میں برکت ہے قرآن اور بارش اور یہ (آیتیں) پڑھیں (آیت) ” وانزلنا من السمآء “۔ (آیت) ” وھذا ذکر مبرک “ واللہ اعلم۔
Ayahs 21:51–56

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَاۤ اِبْرٰهِیْمَ رُشْدَهٗ مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا بِهٖ عٰلِمِیْنَۚ Open ayah 21:51 in the Quran reader

اور یہ بات واقعی ہے کہ ہم نے ابراہیم کو اس سے پہلے صحیح راہ عطا کی اور ہم ان کو جانتے تھے

اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَ قَوْمِهٖ مَا هٰذِهِ التَّمَاثِیْلُ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ Open ayah 21:52 in the Quran reader

جبکہ انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں کیا ہیں جن پر تم جمے بیٹھے ہو ؟

قَالُوْا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا لَهَا عٰبِدِیْنَ Open ayah 21:53 in the Quran reader

انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے دادوں کو ان کی عبادت کرتے ہوئے پایا ہے۔

قَالَ لَقَدْ كُنْتُمْ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ Open ayah 21:54 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کہ بلاشبہ تم اور تمہارے باپ دادے کھلی گمراہی میں ہیں

قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا بِالْحَقِّ اَمْ اَنْتَ مِنَ اللّٰعِبِیْنَ Open ayah 21:55 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ تم ہمارے پاس کوئی حق بات لے کر آئے ہو یا دل لگی کرنے والوں میں سے ہوں۔

قَالَ بَلْ رَّبُّكُمْ رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ الَّذِیْ فَطَرَهُنَّ١ۖ٘ وَ اَنَا عَلٰى ذٰلِكُمْ مِّنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 21:56 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا بلکہ تمہارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمینوں کا رب ہے جس نے تمہیں پیدا فرمایا اور میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں۔

1:۔ ابن ابی شبیہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا ابرھیم رشدہ “۔ سے مراد ہے کہ ہم نے بچپن ہی میں ہدایت دی اور (آیت) ” ما ھذہ التماثیل “ سے مراد ہے کہ یہ مورتیاں کیا ہیں ؟۔ 2:۔ ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ولقد اتینا ابرھیم رشدہ “۔ سے مراد ہے کہ ہم نے اس کو ہدایت دی۔ 3:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ التی انتم لھا عکفون “ یعنی جن کی تم عبادت کرتے ہو (آیت) ” قالوا وجدنا ابآءنا لھا عبدین “ یعنی ہم نے اپنے آباء و اجداد کو ایک دین پر پایا اور ہم ان کو پیروی کرتے ہیں اسی دین پر۔ 4:۔ ابن ابی شبیہ، عبد بن حمید، ابن ابی الدنیا نے ذم الملاہی میں ابن منذر، ابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ وہ ایک ایسی قوم پر گذرے جو شطرنج کے ساتھ کھیل رہے تھے تو انہوں نے فرمایا یہ کیا مورتیاں ہیں کہ جن پر تم بیٹھے ہوئے ہو ؟ تم میں سے کسی کا آگ کے انگارے کو پکڑنا یہاں تک کہ وہ اس کو بجھا دے شطرنج کو پکڑنے سے بہتر ہے۔ 5:۔ ابن عساکر نے حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ وہ چوسر اور شطرنج کھیلنے والوں کو سلام نہیں کرتے تھے۔
Ayahs 21:57–67

وَ تَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ Open ayah 21:57 in the Quran reader

اور اللہ کی قسم میں اس کے بعد ضرور ضرور تمہارے بتوں کے بارے میں کوئی تدبیر کروں گا جب تم پشت پھیر کر چلے جاؤ گے۔

فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 21:58 in the Quran reader

سو انہوں نے ان بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا سوائے ان کے ایک بڑے بت کے، شاید وہ اس کی طرف رجوع کریں۔

قَالُوْا مَنْ فَعَلَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَاۤ اِنَّهٗ لَمِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 21:59 in the Quran reader

وہ لوگ کہنے لگے کہ ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کس نے کیا ہے ؟ بیشک ایسا کرنے والا ظالموں میں سے ہے۔

قَالُوْا سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:60 in the Quran reader

کہنے لگے کہ ہم نے ایک نوجوان کو سنا تھا جو ان کا ذکر رہا تھا اس جوان کو ابراہیم کہا جاتا ہے۔

قَالُوْا فَاْتُوْا بِهٖ عَلٰۤى اَعْیُنِ النَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَشْهَدُوْنَ Open ayah 21:61 in the Quran reader

کہنے لگے اس جوان کو لوگوں کے سامنے لاؤ تاکہ وہ گواہ ہوجائیں کہنے لگے ،

قَالُوْۤا ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰذَا بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُؕ Open ayah 21:62 in the Quran reader

اے ابراہیم کیا تم نے ہمارے معبودوں کے ساتھ ایسا کیا ہے ؟

قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖۗ كَبِیْرُهُمْ هٰذَا فَسْئَلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:63 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا بلکہ یہ حرکت ان کے اس بڑے نے کی ہے سو تم ان سے پوچھ لواگروہ بولتے ہیں۔

فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ فَقَالُوْۤا اِنَّكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَۙ Open ayah 21:64 in the Quran reader

پھر وہ اپنے نفسوں کی طرف رجوع ہونے پھر کہنے لگے کہ بلاشبہ تم ہی ظلم کرنے والے ہو۔

ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ١ۚ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ Open ayah 21:65 in the Quran reader

پھر انہوں نے اپنے سروں کو جھکایا بیشک اے ابراہیم تم کو معلوم ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں۔

قَالَ اَفَتَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُكُمْ شَیْئًا وَّ لَا یَضُرُّكُمْؕ Open ayah 21:66 in the Quran reader

ابراہیم نے کہا کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اس چیز کی عبادت کرتے ہو جو تمہیں نہ کچھ نفع دے سکے نہ نقصان پہنچا سکے

اُفٍّ لَّكُمْ وَ لِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 21:67 in the Quran reader

تف ہے تم پر اور ان پر جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہو۔ کیا تم سمجھ نہیں رکھتے ہو ؟

1:۔ ابن ابی حاتم نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم اپنے میلے کی طرف نکلی تو یہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس سے گذرے اور کہنے لگے اے ابراہیم کیا تو ہمارے ساتھ میلہ میں نہیں جائے گا ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا میں بیمار ہوں آپ ایک دن پہلے بیمار تھے (آیت) ” وت اللہ لاکیدن اصنامکم بعد ان تولوا مدبرین “ کچھ لوگوں نے آپ کی یہ بات سن لی تھی جب وہ لوگ چلے گئے تو ابراہیم (علیہ السلام) اپنے گھروالوں کی طرف گئے کھانا اٹھایا پھر ان کے بتوں کی طرف چل دیئے کھانا ان کے قریب کیا اور فرمایا تم کیوں نہیں کھاتے ہو ؟ پھر ان کے بڑے بت کے علاوہ سب کو توڑ دیا پھر بڑے بت کے ہاتھ میں اس چیز کو باندھ دیا کہ جس سے ان کے بتوں کو توڑا تھا جب قوم اپنے میلہ میں سے واپس آئی (بت خانے میں) داخل ہوئے اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ ان کے بتوں کو توڑا دیا گیا تھا کہنے لگے ہمارے بتوں کے ساتھ ایسا (معاملہ) کس نے کیا ہے ؟ ان لوگوں نے کہا جنہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) سے سنا تھا (آیت) ” وت اللہ لاکیدن اصنامکم “ ہم نے سنا ایک نوجوان کو کہ وہ ہمارے (بتوں) کا برائی سے تذکرہ کرتا ہے پس اس وقت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان سے یہ مناظرہ کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) بت شکن ہیں : 2:۔ ابن ابی شیبہ عبدبن حمید ابن جریر اور ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وت اللہ لاکیدن اصنامکم “ یہ ابراہیم (علیہ السلام) کا قول ہے جب ان کی قوم نے ان کو اپنے میلہ کی طرف بلایا تو انہوں نے انکار کیا اور فرمایا میں بیمار ہوں اور جو آپ نے بتوں کے متعلق دھمکی دی تھی اس میں سے ایک آدمی نے سن لیا جو پیچھے رہ گیا تھا اور یہ وہی تھا جس نے کہا (آیت) ” سمعنا فتی یذکرھم یقال لہ ابرھیم “ اور ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کلہاڑے کو جس سے انہوں نے ان کے بتوں کو توڑا تھا ان کے بڑے بت کے سینے پر لٹکا دیا جس کو آپ نے چھوڑ دیا تھا۔ 3:۔ عبد بن حمید اور ابن منذر نے عکرمہ ؓ سے روایت کیا کہ ابراہیم خلیل الرحمن کے والد ان بتوں کو بناتے تھے پھر اس کو ایک رسی میں باندھتے تھے اور ابراہیم (علیہ السلام) اپنی گردن پر اس کو اٹھاتے تھے اور بازار میں بیچنے کے لئے اس کو گھماتے رہتے تھے ایک دفعہ ایک آدمی اس کو خریدنے کے لئے آیا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا جب تو اس کو خریدے گا تو اس کے ساتھ کیا کرے گا اس نے کہا میں اس کو سجدہ کروں گا ابراہیم (علیہ السلام) نے اس سے فرمایا تو شیخ ہے اور تو اس حقیر کو سجدہ کرتا ہے مناسب تو یہ تھا کہ چھوٹے کو چاہئے کہ بڑے کو سجدہ کرے اس وجہ سے انہوں نے کہا (آیت) ” سمعنا فتی یذکرھم یقال لہ ابرھیم “۔ 4:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وت اللہ لاکیدن اصنامکم “۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس وقت کہا تھا جب وہ سن نہیں رہے تھے (آیت) ” فجعلہم جذذا “ یعنی آپ نے بتوں کو ریزہ ریزہ کردیا (آیت) ” الا کبیرا لہم “ مگر ان کا بڑا معبود (یعنی بڑا بت) کہ اس کی بڑی عظمت تھی ان کے دلوں میں (اس کو نہ توڑا) (آیت ) “ لعلہم الیہ یرجعون “ آپ نے اس کے ساتھ تدبیر بنائی شاید کہ عبرت حاصل کریں اور غور فکر کریں (آیت) ” قالوا فاتوا بہ علی اعین الناس لعلھم یشھدون “ انہوں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ بغیر گواہ کے اس کو پکڑیں پھر کہا (آیت) ” ءانت فعلت ھذا بالھتنا یابرھیم ‘ سے انتم الظلمون “ اسی وجہ سے آپ نے بڑے بت کو چھوڑ دیا تھا کہ ان کی عقلوں کو جنجھوڑا جائے (آیت) ” ثم نکسواعلی رء وسھم “ یعنی بڑی غیرت نے قوم کو گھیر لیا کہنے لگے (آیت) ” لقد علمت ما ھولآء ینطقون “ (یعنی تو جانتا ہے کہ یہ بت نہیں بولتے ) ۔ 5:۔ ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جذذا “ سے مراد ہے حطاما (ریزہ ریزہ کرنا ) ۔ 6:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” جذذا “ سے مراد ہے فتاتا یعنی پھاڑنا۔ 7:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” بل فعلہ کبیرھم ھذا “ یعنی ان کا بڑا بت۔ 8:۔ ابوداود، ترمذی اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ابراہیم (علیہ السلام) نے کبھی بھی کسی چیز میں جھوٹ نہیں بولا مگر تین چیزوں میں ان میں سے ہر ایک اللہ کی رضا میں تھا ان کا کہنا کہ میں بیمار ہوں حالانکہ وہ بیمار نہ تھے اور ان کا کہنا اپنی بیوی سارہ کے لئے کہ وہ میری بہن ہے اور ان کا کہنا (آیت) ” بل فعلہ کبیرھم ھذا (یعنی بڑے بت نے یہ حرکت کی) جھوٹ بولنا حرام تو ریہ جائز ہے : 9:۔ ابویعلی نے ابوسعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا لوگ ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس آئیں گے اور ان سے کہیں گے ہمارے لئے اپنے رب سے سفارش کیجئے وہ کہیں گے میں نے تین جھوٹ بولے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس میں سے ایک بھی (حقیقۃ) جھوٹ نہ تھا مگر اس کے ذریعہ انہوں نے اللہ کے دین کا دفاع کیا ” قولہ انی سقیم “ (الصافات : 79) وقولہ (آیت) ” بل فعلہ کبیرھم ھذا۔ وقولہ لسارۃ انھا اختی “۔ 10:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” فرجعوا الی انفسہم “ یعنی وہ ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔ 11:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ثم نکسوا علی رء وسھم “ یعنی پھر وہ اپنے رائے پر اوندھے گرگئے۔ 12:۔ ابن ابی حاتم نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ اف یعنی ردی کلام۔
Ayahs 21:68–73

قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ Open ayah 21:68 in the Quran reader

کہنے لگے اس کو جلادو اور اپنے معبودوں کی مدد کرو اگر تمہیں کچھ کرنا ہے۔

قُلْنَا یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ Open ayah 21:69 in the Quran reader

ہم نے حکم دیا کہ اے آگ براہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی بن جا۔

وَ اَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْسَرِیْنَۚ Open ayah 21:70 in the Quran reader

اور ان لوگوں نے ابراہیم کے ساتھ برا، برتاؤ کرنا چاہا سو ہم نے انہیں ان میں سے کردیا جو بہت ہی زیادہ ناکام ہوتے ہیں۔

وَ نَجَّیْنٰهُ وَ لُوْطًا اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَكْنَا فِیْهَا لِلْعٰلَمِیْنَ Open ayah 21:71 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو اور لوط کو اس سرزمین کی طرف نجات دے دی جس میں ہم نے دنیا جہاں والوں کے لئے برکت رکھ دی ہے۔

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ١ؕ وَ یَعْقُوْبَ نَافِلَةً١ؕ وَ كُلًّا جَعَلْنَا صٰلِحِیْنَ Open ayah 21:72 in the Quran reader

اور ہم نے ابراہیم کو اسحاق اور یعقوب پوتا عطا کیا، اور ہم نے ان سب کو صالحین بنادیا۔

وَ جَعَلْنٰهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْهِمْ فِعْلَ الْخَیْرٰتِ وَ اِقَامَ الصَّلٰوةِ وَ اِیْتَآءَ الزَّكٰوةِ١ۚ وَ كَانُوْا لَنَا عٰبِدِیْنَۚۙ Open ayah 21:73 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں پیشوا بنادیا جو ہمارے حکم سے ہدایت دیتے تھے اور ہم نے ان کی طرف نیک کاموں کے کرنے اور نماز کی پابندی کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم بھیجا اور وہ ہماری عبادت کرنے والے تھے۔

1:۔ ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے یہ آیت عبداللہ بن عمر ؓ کے پاس تلاوت کی تو انہوں نے فرمایا اے مجاہد کیا تو جانتا ہے اس شخص کو جس نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ کے ساتھ جلانے کا مشورہ دیا میں نے کہا نہیں پھر انہوں نے فرمایا فارس کے دیہاتیوں میں سے ایک آدمی تھا یعنی اکراد۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے جمع کی گئی (لکڑی) اور ان کو آگ میں ڈالا گیا تو بارش کے فرشتے نے یہ کہنا شروع کیا کہ مجھے کب حکم ہوگا کہ میں بارش برساوں اور اللہ کا حکم بہت جلدی پہنچنے والا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” کونی برداوسلما “ تو زمین میں کوئی آگ باقی نہ رہی مگر وہ بجھ گئی۔ چھپکلی مارنا اجر وثواب کا کام ہے : 3:۔ احمد، طبرانی، ابویعلی اور ابن ابی حاتم نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابراہیم (علیہ السلام) کو جب آگ میں ڈالا گیا تو کوئی جانور زمین میں ایسا نہ تھا سوائے چھپکلی کے کہ وہ ان سے آگ کو بجھا رہا تھا کیونکہ وہ چھپکلی پھونک مار رہی تھی ابراہیم (علیہ السلام) پر تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم فرمایا۔ 4:۔ ابن مردویہ نے ام شریک ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ چھپکلیوں کے مارنے کا حکم فرمایا اور فرمایا کہ وہ ابراہیم (علیہ السلام) پر آگ کو بھڑکاتی تھی۔ 5:۔ عبدالرزاق نے مصنف میں معمر سے روایت کیا اور انہوں نے قتادہ ؓ سے اور قتادہ ؓ اپنے بعض سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مینڈک ابراہیم (علیہ السلام) سے آگ کو بجھا رہا تھا اور چھپکلی ان پر آگ کو پھونک رہی تھی اس لئے مینڈک کے قتل سے منع فرمایا اور اس (چھپکلی) کے قتل کا حکم دیا۔ 6:۔ ابن منذر نے روایت کیا کہ پس کہا ہمیں ابوسعید الشامی نے ابان سے بیان کیا اور ابان نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مینڈک کو برا بھلا مت کہو کیونکہ اس کی آواز تسبیح تقدیس اور تکبیر ہوتی ہے جانوروں نے اپنے رب سے اجازت طلب کی کہ ابراہیم (علیہ السلام) سے آگ کو بجھائیں تو مینڈک کو اجازت دے دی گئی پس آگ جب آپ پر تہہ بہ تہہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے آگ کے سمندر کو پانی کی ٹھنڈک میں بدل دیا۔ 7:۔ ابویعلی، ابو نعیم، خطیب اور ابن مردویہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب ابراہیم (علیہ السلام) آگ میں ڈالے گئے تو فرمایا اے اللہ بلاشبہ آپ آسمان میں اکیلے ہیں اور میں زمین میں اکیلا ہوں جو آپ کی عبادت کرتا ہوں۔ 8:۔ ابن ابی شیبہ نے مصنف میں اور ابن منذر نے ابن عمر و ؓ سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) آگ میں ڈالے جانے کے وقت سب سے پہلے یہ کلمہ کہا (آیت) ” حسبنا اللہ ونعم الوکیل “ (ہم کو اللہ کافی ہے اور بہترین کارساز ہے ) ۔ 9:۔ ابن ابی شیبہ، ابن منذر اور ابن جریر نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ سوائے رسی کے آگ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی کسی چیز کو نہیں جلایا جس سے آپ کو باندھا گیا تھا ،۔ آگ میں ڈالے جانے کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر : 10:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے منہال بن عمرورحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ مجھے یہ خبر دی گئی کہ ابراہیم (علیہ السلام) آگ میں ڈالے گئے تو آپ کی عمر پچاس یاچالیس سال تھی پھر (فرمایا) میری زندگی کے حسین اور عمدہ دن اسی عمر کے تھے جب میں چالیس اور پچاس کے درمیان تھا میں خواہش کرتا تھا کہ میری ساری زندگی اسی طرح ہو۔ 11:۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم خلیل الرحمن کو آگ میں ڈالا گیا تو بارش کے فرشتہ نے عرض کیا اے میرے رب ! بلاشبہ تیرا خلیل امید رکھتا ہے کہ اس کے لئے بارش برسانے کی اجازت دی جائے گی تو میں بارش بھیج دوں گا اور اللہ کا حکم اس سے جلدی نافذ ہونے والا تھا اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ینارکونی برداوسلما علی ابرھیم “ تو زمین پر کوئی آگ باقی نہ بچی مگر وہ بجھا دی گئی۔ 12:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے شعیب جبائی (رح) سے روایت کیا کہ جس شخص نے کہا تھا اس کو جلاد و تو وہ ھبون تھا تو اللہ تعالیٰ نے اس کو زمین میں دھنسا دیا اور اس میں قیامت کے دن تک دھنستا ہی رہے گا۔ 13:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” قلنا ینارکونی “ یعنی یہ کہنے والا جبرائیل (علیہ السلام) تھا۔ 14:۔ فریابی، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ بردا “ کے بعد ” وسلاما “ نہ فرماتے تو ابراہیم اس کی ٹھنڈ کی کی وجہ سے وصال کرجاتے اور اس دن زمین پر کوئی آگ نہ رہی مگر یہ کہ وہ بجھ گئی ہر آگ نے گمان کیا کہ مجھے حکم ہورہا ہے۔ 15:۔ فریابی ابن ابی شیبہ احمد نے زہد میں عبد بن حمید اور ابن منذر نے علی ؓ سے (آیت) ” قلنا ینارکونی بردا “ کے بارے میں روایت کیا کہ اگر (آیت) ” وسلم ا “ یعنی سلامتی والی نہ فرماتے تو اس کی ٹھنڈک ہی ان کو مار ڈالتی۔ 16:۔ ابن ابی حاتم نے شمر بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ جب ان لوگوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کا ارادہ کیا تو بارش کے فرشتے نے عرض کیا اے میرے رب تیرا خلیل امید کرتا ہے کہ اس کے لئے بارش برسانے کی اجازت دی جائے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ینارکونی برداوسلما علی ابرھیم “ پس اس دن زمین میں کوئی آگ باقی نہیں رہی مگر ٹھنڈی کردی گئی۔ 17:۔ احمد نے زہد میں اور عبد بن حمید نے ابوھلال کے طریق سے بکر بن عبداللہ مزنی (رح) سے روایت کیا کہ جب ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالیں عام مخلوق حاضر ہوئی اور کہنے لگی اے ہمارے رب ! تیرا خلیل آگ میں ڈالا جارہا ہے ہم کو اجازت دیجئے کہ ہم اس سے آگ کو بجھا دیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ میرا خلیل ہے اس کے علاوہ زمین میں میرا کوئی خلیل نہیں اور میں اور میں اس کا معبود ہوں میرے علاوہ اس کا کوئی معبود نہیں اگر وہ تم سے مدد طلب کرے تو تم اس کی ضرور مدد کرنا ورنہ اس کو میرے بھروسہ پر چھوڑ دو بارش کا فرشتہ آیا اور کہا اے میرے رب آپ کا خلیل آگ میں ڈالا جارہا ہے آپ اجازت فرمائیں تو میں اس (آگ) کو بارش سے بجھا دوں فرمایا وہ میرا خلیل ہے اس کے علاوہ زمین میں میرا کوئی خلیل نہیں اور میں اس کا معبود ہوں میرا علاوہ اس کا کوئی معبود نہیں اگر وہ تجھ سے مدد مانگے تو اس کی مدد کرو ورنہ اس کو چھوڑدو جب آگ میں ڈالے گئے تو انہوں نے دعا مانگی ابوہلال اس کو بھول گئے اللہ عزوجل نے فرمایا (آیت) ” ینارکونی برداوسلما علی ابرھیم “ راوی نے کہا کہ مشرق اور مغرب میں آگ ٹھنڈی ہوگئی اور اس دن کوئی آگ کسی جگہ میں نہ جلی۔ نمرود کی آگ اور ابراہیم (علیہ السلام) کی سلامتی : 18۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ کعب ؓ نے فرمایا زمین والوں میں سے اس دن کسی نے آگ سے نفع نہیں اٹھایا اور اس دن کسی چیز کو آگ نے نہیں جلایا سوائے ابراہیم (علیہ السلام) کی رسی کے جس سے ان کو باندھا گیا تھا اور قتادہ ؓ سے فرمایا کہ اس دن آگ بجھانے کے لئے ہر جانور آیا سوائے چھپکلی کے (کہ اس نے آگ کو بھڑکایا ) 19:۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ لوگ اس بات کا ذکر کرتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) آگ میں ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ تھے کہ آپ سے پسینہ پونچھ رہے تھے۔ 20:۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ جب ابراہیم کو آگ میں ڈالا گیا تو آپ اس میں بیٹھ گئے تو لوگوں نے اپنے بادشاہ کی طرف پیغام بھیجا وہ آیا اور تعجب کے ساتھ دیکھنے لگا آگ میں سے ایک چنگاری اڑی اور اس کے پاوں کے انگوٹھے پر گری تو وہ اس طرح جل گیا جس طرح اونی کپڑا جلتا ہے۔ 21:۔ ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) آگ میں سے (اس حال میں) نکلے کہ ان کو پسینہ آرہا تھا آگ نے نہیں جلایا مگر ان کی رسی کو لوگوں نے ان میں سے ایک بوڑھے کو پکڑا اس کو آگ میں ڈال دیا تو وہ جل گیا۔ 22:۔ عبد بن حمید نے سلیمان بن صردرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو پایا تھا کہ ابراہیم کو جب انہوں نے آگ میں ڈالنے کا ارادہ کیا تو انہوں نے لکڑیوں کو اکٹھا کرنا شروع کیا تو ایک بوڑھی عورت بھی اپنی پیٹھ پر لکڑیاں اٹھا کر لاتی تھی اس سے پوچھا جاتا تو کہاں کا ارادہ رکھتی ہے (یعنی یہ لکڑیاں کہاں لے جاری ہے) تو اس نے کہا میں اس آدمی کی طرف جارہی ہوں (یعنی اس کو جلانے کے لئے) جو ہماری خدا وں کو برابھلا کہتا ہے جب ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالنے کے لئے کر چلے تو فرمایا (آیت) ” انی ذاھب الی ربی سیھدین “ (الصافات آیت : 99) جب آپ کو آگ میں ڈالا گیا تو فرمایا (حسبنا اللہ ونعم الوکیل) مجھے اللہ کافی ہے اور بہترین کارساز ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” ینارکونی برداوسلما علی ابرھیم “ لوط (علیہ السلام) کے والد نے کہا اور وہ ان کے چچا تھے کہ میری قرابت کی وجہ سے ان کو آگ نے نہیں جلایا اللہ تعالیٰ نے آگ میں سے ایک گردن کو بھیجا جس نے اس کو جلا کر خاکستر کردیا 23:۔ فریابی، ابن ابی شیبہ اور ابن جریر نے علی بن ابی طالب ؓ نے (آیت) ” قلنا ینارکونی بردا “ کے بارے میں روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے آگ کو ٹھنڈا ہونے کا حکم دیا تو وہ آگ ٹھنڈی ہوگئی یہاں تک کہ قریب تھا کہ ان کو تکلیف دیتی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” وسلم ا “ یعنی ان کو تکلیف نہ دینا (تو ان کی تکلیف ختم ہوگئی ) ۔ 24:۔ فریابی اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کہ اگر ” وسلم ا “ نہ کہا ہوتا تو ان کو ٹھنڈک مار دیتی۔ س 25:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ سب سے اچھی بات جو ابراہیم (علیہ السلام) کے والدنے اس وقت کہی جب آپ سے طبق اٹھایا (اور وہ اس منظر کو دیکھ رہے تھے) جب ابراہیم (علیہ السلام) آگ میں تھے اور ان کو (اس حال میں) پایا کہ آپ اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کررہے تھے اس وقت انہوں نے کہا ٰ ” انعم الرب ربک یا ابراھیم “ کیا ہی اچھا رب ہے تیرا اے ابراہیم۔ 26:۔ ابن جریر نے شعیب جبائی (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو آگ میں ڈالا گیا اس وقت آپ کی عمر سولہ سال تھی اور اسحاق (علیہ السلام) کو ذبح کیا گیا اور وہ سات سال کے تھے۔ 27:۔ ابن جریر نے معتمر بن سلیمان تیمی (رح) سے روایت کیا کہ اور وہ اپنے بعض اصحاب سے روایت کرتے ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس اس حال میں آئے کہ وہ آگ میں ڈالنے کے لئے رسی سے بندھے ہوئے تھے فرمایا اے ابراہیم کیا آپ کو کوئی حاجت ہے ؟ فرمایا اگر تیری طرف سے ہے تو کوئی ضرورت نہیں۔ 28:۔ ابن جریر نے ارقم (رح) سے روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کو جب انہوں نے باندھنا شروع کیا آگ میں ڈالنے کے لئے تو انہوں نے (یہ کلمات) کہے : ” لا الہ الا انت سبحان رب العلمین لک الحمد ولک الملک لا شریک لک “ 29:۔ ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے (آیت) ” قلنا ینارکونی برداوسلما “ کے بارے میں فرمایا روایت کیا کہ اس سے مراد ہے ایسی سلامتی کی اس کی ٹھنڈک سے تکلیف نہ پہنچے اگر ’‘’ وسلم ا “ نہ فرماتے تو ٹھنڈک گرمی سے زیادہ تکلیف دینے والی بن جاتی۔ 30:۔ ابن جریر نے ابن جریج (رح) سے (آیت) ” وارادوا بہ کیدا فجعلنہم الاخسرین “ کے بارے میں فرمایا کہ انہوں نے ان میں سے ایک بوڑھے کو آگ میں ڈال دیا تاکہ اس کی نجات کو دیکھ لیں (یعنی اس کو بھی آگ نہیں جلائے گی) جیسے ابراہیم (علیہ السلام) کو نجات مل گئی (اور آگ نے نہ جلایا) مگر اس کو آگ نے جلادیا۔ 31:۔ ابن ابی شیبہ نے ابومالک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الی الارض التی برکنا فیھا للعلمین “ سے مراد شام کی سرزمین ہے۔ 32:۔ ابن ابی حاتم نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الی الارض التی برکنا فیھا للعلمین “ سے شام کی سرزمین مراد ہے میٹھا پانی اس چٹان سے نکلتا ہے جو بیت المقدس میں ہے آسمان سے پانی اس چٹان کی طرف اترتا پھر زمین میں پھیل جاتا ہے۔ 33:۔ ابن عساکر نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ شام میں سترہ سو انبیاء کی قبریں ہیں اور دمشق لوگوں کی پناہ گاہ ہوگی لڑائیوں سے آخری زمانے میں۔ 34:۔ حاکم نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے) ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) نے فرمایا کہ ابراہیم (علیہ السلام) میرے بھائی کے بیٹے تھے۔ 35:۔ ابن سعد نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کو ثی (مقام) سے بھاگے اور آگ سے نکل آئے تو ان دونوں آپ کی زبان سریانی تھی جب حران سے دریا فرات کو عبور کیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان کو تبدیل فرمایا دیا اور عبرانی زبان میں بدل دیا جب آپ نے فرات کو عبور کیا نمرود نے ان کی تلاش میں لوگوں کو بھیجا اور کہا کسی کو نہ چھوڑو جو سریانی زبان بولتا ہو مگر اس کو میرے پاس (پکڑ کر) لے آو وہ لوگ ابراہیم (علیہ السلام) سے ملے تو آپ عبرانی میں بات کرتے تھے تو انہوں نے آپ کو چھوڑ دیا اور آپ کی زبان کو نہ سمجھ سکے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) سے جنگ : 36:۔ ابن عساکر نے حسان بن عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ نبط کے بادشاہ نے لوط (علیہ السلام) پر دھاوا بولا (یعنی اچانک حملہ کیا) ان کو اور ان کے اہل و عیال کو قیدی بنالیا یہ بات ابراہیم (علیہ السلام) کو پہنچی تو اہل بدر کی تعداد برابر تین سوتیرہ آدمیوں کے ساتھ لوط (علیہ السلام) کی تلاش میں نکلے صحراء معفور میں نبطیوں سے مقابلہ ہوا ابراہیم (علیہ السلام) نے (اپنے لشکر) کو میمنہ میسرہ اور قلب (کی صورت میں) ترتیب دیا سب سے پہلے جنگ میں لشکر کی یہ ترتیب آپ نے دی ان سے لڑائی کی اور ان کو شکست دی ابراہیم (علیہ السلام) نے لوط (علیہ السلام) اور ان کے اہل و عیال کو خلاصی دلوائی۔ 37:۔ عبد بن حمید نے ابوالعالیہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونجینہ “ سے ابراہیم (علیہ السلام) مراد ہیں (آیت) ” ولوط الی الارض التی برکنا فیھا للعلمین “ سے وہ مقدس زمین مراد ہے کہ جس میں اللہ تعالیٰ نے تمام جہان والوں کے لئے برکتیں رکھی ہیں کیونکہ ہر میٹھا پانی زمین میں اسی زمین سے آتا ہے یعنی اس چٹان کی جڑ سے جو بیت المقدس میں ہے پانی آسمان سے اس چٹان کی طرف اترتا ہے پھر زمین میں پھیل جاتا ہے۔ 38:۔ عبد بن حمید، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن عساکر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ونجینہ ولوطا “ سے مراد ہے کہ دونوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) عراق کی سرزمین میں تھے پھر وہ شام کی زمین کی طرف چلے گئے اور شام کو عماد دارالہجرہ کہا جاتا ہے جو کچھ زمین میں سے کم ہوتا ہے شام میں زیادہ کردیا جاتا ہے اور جو شام میں سے کم ہوتا ہے وہ فلسطین میں زیادہ کردیا جاتا ہے اور کہا جاتا تھا کہ شام محشر کی زمین ہے اور اسی میں عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) نازل ہوں گے اور اسی میں اللہ تعالیٰ گمراہی کے سردار دجال کو ہلاک کریں گے۔ 39:۔ ابن منذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الی الارض التی برکنا فیھا “ سے شام کی سرزمین مراد ہے۔ 40:۔ ابن ابی حاتم نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” الی الارض التی برکنا فیھا “ سے حران کا علاقہ مراد ہے۔ 41:۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” ووھبنا لہ اسحق “ یعنی ہم نے ان کو بیٹا اسحاق عطا فرمایا (آیت) ” و یعقوب نافلۃ “ اور یعقوب پوتاعطا فرمایا۔ 42:۔ ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ووھبنا لہ اسحق “ سے مراد ہے کہ میں نے اس کو اسحاق عطا کیا (آیت) ” و یعقوب نافلۃ “ میں نافلہ سے عطیہ مراد ہے۔ 43:۔ عبدالرزاق اور ابن منذر نے کلبی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی ان کی دعا قبول کی گئی اور مزید یعقوب عطا فرمائے گئے۔ 44:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے حکم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” نافلۃ “ سے مراد ہے بیٹے کا بیٹا یعنی پوتا۔ 45:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وجعلنہم ائمۃ یھدون “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مقتدی بنایا کہ ان کی اقتداء کی جاتی ہے اللہ کے حکم سے۔
Ayahs 21:74–77

وَ لُوْطًا اٰتَیْنٰهُ حُكْمًا وَّ عِلْمًا وَّ نَجَّیْنٰهُ مِنَ الْقَرْیَةِ الَّتِیْ كَانَتْ تَّعْمَلُ الْخَبٰٓئِثَ١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فٰسِقِیْنَۙ Open ayah 21:74 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو حکم اور علم عطا کیا اور ہم نے انہیں اس بستی سے نجات دی جس کے رہنے والے برے کام کیا کرتے تھے بلاشبہ وہ لوگ بدذات تھے، بدکار تھے

وَ اَدْخَلْنٰهُ فِیْ رَحْمَتِنَا١ؕ اِنَّهٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ۠ Open ayah 21:75 in the Quran reader

اور ہم نے لوط کو اپنی رحمت میں داخل کردیا بلاشبہ وہ صالحین میں سے تھے۔

وَ نُوْحًا اِذْ نَادٰى مِنْ قَبْلُ فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ فَنَجَّیْنٰهُ وَ اَهْلَهٗ مِنَ الْكَرْبِ الْعَظِیْمِۚ Open ayah 21:76 in the Quran reader

اور نوح کو یاد کیجئے جب اس نے اس سے پہلے پکارا، سو ہم ان کی دعا قبول کی، پھر ہم نے انہیں اور ان کے گھروالوں کو بڑی بےچینی سے نجات دی۔

وَ نَصَرْنٰهُ مِنَ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ اِنَّهُمْ كَانُوْا قَوْمَ سَوْءٍ فَاَغْرَقْنٰهُمْ اَجْمَعِیْنَ Open ayah 21:77 in the Quran reader

اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ان سے نجات دینے کے لئے ہم نے نوح کی مدد کی، بلاشبہ وہ برے لوگ تھے سو ہم ان سب کو ڈبودیا۔

1:۔ ابن عساکر نے ا بوامامہ باہلی (رح) سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم میں دس عادتیں تھیں کہ جن کے ذریعہ ہو پہنچانے جاتے تھے کبوتروں سے کھیلنا، غلیل سے ڈھیلے پھینکنا، منہ سے سیٹیاں بجانا، مجلسوں میں بیٹھ کر کنکریاں پھینکنا، بالوں کو پھیلانا، مصطگی چبانا۔ چادر نیچے لٹکانا، برہنہ ہونا، مردوں سے بدکاری کرنا، شراب کی محفل سجانا اور عنقریب یہ امت ان برائیوں پر اضافہ کرے گی۔ 2:۔ ابن ابی الدنیا نے ذم الملاہی میں اور ابن عساکر نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ لوط (علیہ السلام) کی قوم کی عادات میں سے اس قوم میں چھ عادتیں ہیں غلیلیں چلانا، سیٹیاں مارنا، ڈھیلے پھینکنا، کنکریاں مارنا، برہنہ ہونا، اور گوند چبانا۔ 3:۔ اسحاق بن بشر، خطیب اور ابن عساکر نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دس عادتیں جن کو قوم لوط نے اپنایا اور ان کی وجہ سے ہلاک ہوئے اور میری امت اس پر ایک عادت کا اضافہ کرے گی مردوں کا مردوں سے بدکاری کرنا اور غلیلوں سے ڈھیلے پھینکنا اور کنکری پھینکنا اور ان کا کبوتروں کے ساتھ کھیلنا اور ڈھول بجانا اور شرابیں پینا اور داڑھی کٹوانا اور مونچھوں کو لمبا کرنا اور سیٹیاں بجانا، تالیاں پیٹنا اور ریشم پہننا اور میری امت ان برائیوں پر ایک خصلت زیادہ کرے گی اور وہ عورتوں کا عورتوں کے ساتھ بدکاری کرنا ہے۔ 4:۔ ابن عساکر نے زبیر (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قوم لوط کے سارے طریقے ختم ہوگئے مگر تین باقی ہیں تلواروں کے سرے لٹکانا، ناخنوں کو توڑنا دانتوں سے اور شرم گاہ کا کھولنا۔ 5:۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وادخلنہ فی رحمتنا “ سے مراد اسلام ہے یعنی ہم نے اس کو اسلام میں داخل کیا۔